5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 5:93

لَیْسَ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُوْۤا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اَحْسَنُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 5:93 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور وہ نیک عمل کرتے رہے ان پر اس کا کوئی گناہ نہیں جو وہ عزت سے قبل کچھ کھا پی چکے جبکہ وہ حرام چیزوں سے پرہیز کرتے تھے اور ایمان پر قائم تھے اور نیک عمل کرتے تھے پھر انہوں نے پرہیز کیا اور ایمان لائے پھر پرہیز کیا اور نیک روش پر چلتے رہے اور اللہ نیک روش اختیار کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے ۔

-93 ان لوگوں پر جو حلال و حرام پر ایمان لائے اور نیک عمل کے پابند رہے اس کا کوئی گناہ نہیں جو وہ کسی شئی کو اس کی حرمت سے قبل کھاپی چکے جب کہ وہ حرام چیزوں سے پرہیز کرتے تھے اور ایمان پر قائم تھے اور نیک عمل کے پابند تھے پھر کوئی چیز اگر حرام ہوئی تو اس سے بھی انہوں نے پرہیز کیا اور اس کی حرمت پر ایمان لائے پھر کوئی شئی حرام کی گئی تو اس سے بھی اجتناب اور پرہیز کیا اور نیک روش پر چلتے رہے یعنی جو لوگ اہل ایمان ہیں اور عمل صالح کے پابند ہیں انہوں نے اگر کسی ایسی چیز کو اسعتمال کیا جو مباح تھی اور بعد میں اس کی حرمت نازل ہوگئی تو اس زمانہ مباح کے استعمال کا ان پر کوئی گناہ نہیں ہوگا پھر کوئی چیز حرام ہوئی تو اس کی حرمت پر بھی ایمان لائے اور اس کو ترک کردیا پھر کوئی ایسا موقعہ ہوا تو پھر اس کو بھی ترک کردیا اور ہمیشہ نیک روش پر چلتے رہے اور اللہ تعالیٰ ایسے نیک روش اختیار کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔
Ayah 5:94

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَیَبْلُوَنَّكُمُ اللّٰهُ بِشَیْءٍ مِّنَ الصَّیْدِ تَنَالُهٗۤ اَیْدِیْكُمْ وَ رِمَاحُكُمْ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّخَافُهٗ بِالْغَیْبِ١ۚ فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 5:94 in the Quran reader

اے ایمان والو ! یقینا اللہ تعالیٰ تم کو ایک معمولی سی شکار کی بات میں آزمائے گا جس کو تمہارے ہاتھ اور تمہارے نیزے حاصل کرسکیں گے تاکہ اللہ تعالیٰ یہ بات معلوم کرلے کہ کون شخص ا سے بن دیکھے ڈرتا ہے پھر جو شخص اس حکم ممانعت مقررہ حد سے بڑھے گا تو اس کو درد ناک عذاب ہوگا۔

-94 اے اہل ایمان یقینا اللہ تعالیٰ تم کو ایک حقیر اور معمولی سے شکار کے معاملہ میں آزمائے گا وہ شکار تم سے اس قدر قریب پھرتا ہوگا کہ تمہارے ہاتھ اور تمہارے نیزے اس شکار کو حاصل کرسکیں گے یعنی تمہارے آس پاس پھرتا ہوگا … چاہے تم نیزہ مار کر زخمی کردو خواہ ہاتھ سے شکار کرلو اس آزمائش کی وجہ یہ ہوگی تاکہ اللہ تعالیٰ اس بات کو جان لے کہ کون شخص اس کے ذاب اور اس کی پکڑے بن دیکھے ڈرتا ہے یعنی دیکھ کر تو اس کے عتاب سے سب ہی ڈریں گے محض وعدئہ عذاب سے کون کون ڈرنے والا ہے پھر جو شخص ممانعت کا حکم سننے اور اس کی حرمت معلوم کرلینے کے بعد حد سے آگے بڑھے گا اور حکم خداوندی سے بےپروا ہو کر شکار کا تعاقب کرے گا تو اس شخص کو درد ناک عذاب ہوگا۔
Ayah 5:95

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْتُلُوا الصَّیْدَ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ١ؕ وَ مَنْ قَتَلَهٗ مِنْكُمْ مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ یَحْكُمُ بِهٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ هَدْیًۢا بٰلِغَ الْكَعْبَةِ اَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسٰكِیْنَ اَوْ عَدْلُ ذٰلِكَ صِیَامًا لِّیَذُوْقَ وَ بَالَ اَمْرِهٖ١ؕ عَفَا اللّٰهُ عَمَّا سَلَفَ١ؕ وَ مَنْ عَادَ فَیَنْتَقِمُ اللّٰهُ مِنْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ Open ayah 5:95 in the Quran reader

اے ایمان والو جب تم احرام کی حالت میں ہو تو کسی شکار کو نہ مارو اور جو شخص تم میں سے قصداً شکار مارے گا تو اس پر اس شکار کے مساوی جس کو مارا ہے جو پایوں میں سے بدلہ واجب ہوگا جس کا تخمینہ تم میں سے دو معتبر اور صاحب بصیرت شخص کردیں اور وہ چوپایہ نیاز کے طور پر حرم کعبہ میں پہنچایا جائے یا کفارے میں بجائے چوپایہ کے اس کی قیمت کا مساکین کو کھانا دیدیا جائے یا مساکین کی تعداد کے برابر روزے رکھیں جائیں تاکہ شکار کرنیوالوں اپنے کئے کے وبال کا مزہ چکھے اب سے پہلے جو ہوچکا اسے اللہ نے درگذر کردیا اور جو شخص پھر ایسا کرے گا تو اللہ اس سے انتقام لے گا اور اللہ زبردست ہے بدلہ لینے والا ہے۔

-95 اے اہل ایمان جب تم احرام کی حالت میں ہو تو کسی وحشی شکار کو نہ مار و یعنی وحشی جانوروں کا شکار نہ کرو سوائے ان جانوروں کے جن کے قتل کو شریعت نے مستثنیٰ کردیا ہو لہٰذا جو شخص تم میں سے اب کسی شکار کو قصداًمارے گا تو اس پر اس شکار کی مثل اور اس شکار کے برابر جس کو مارا گیا ہے چوپایوں میں سے بدلہ اور فدیہ واجب ہوگا یعنی شکار کی قیمت کے برابر اونٹ یا گائے بھینس یا بھیڑ بکری کی قربانی واجب ہوگی جس کا تخمینہ تم میں سے دو معتبر اور صاحبان بصیرت لگا دیں اور مقرر کردیں دراں حالیکہ یہ جانور نیاز کے طور پر کعبہ کے حرم میں پہونچنے والا ہو یعنی حرم کعبہ میں لے کر اس جانور کو اللہ کے نام پر قربان کیا جائے یہ شکار کے کفارے کی ایک شکل ہوئی یا بجائے جانور کو ذبح کرنے کے اس کی قیمت سے مساکین کو کھانا دیا جائے یعنی صدقہ فطر کے برابر ایک ایک محتاج کو کھانا دیا جائے یا جتنے مساکین پر کھانا تقسیم ہوتا ہو اتنے ہی روزے رکھے جائیں یعنی ہر مسکین کے بدلے میں ایک روزہ تاکہ احرام کی حالت میں شکار کرنے والا اپنے کئے کی شامت کا مزہ چکھے اور اپنے کئے کا وبال بھگتے شکار کی تحریم سے پہلے جو کچھ ہوچکا اللہ تعالیٰ نے اس کو درگذر فرما دیا اور جو شخص پھر ایسا کرے گا اور دوبارہ قصداً کسی شکار ممنوع کو مارے گا تو اللہ تعالیٰ اس سے انتقام لے گا اور اللہ تعالیٰ کمال قوت کا مالک اور صاحب انتقام ہے یعنی بدلہ اور انتقام لے سکتا ہے۔
Ayah 5:96

اُحِلَّ لَكُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَ طَعَامُهٗ مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِلسَّیَّارَةِ١ۚ وَ حُرِّمَ عَلَیْكُمْ صَیْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 5:96 in the Quran reader

تمہارے لئے پانی کا شکار کرنا اور اس کا کھانا خود تمہارے اور مسافروں کے فائدے کی غرض سے حلال کردیا گیا ہے اور خشکی کا شکار جب تک تم حالت احرام میں رہو تم پر حرام کیا گیا ہے اور اس اللہ سے ڈرتے رہو جس کے پاس تم سب جمع کئے جائو گے۔

-96 حالت احرام میں تمہارے لئے پانی کا شکار کرنا اور اس کا کھانا خود تمہارے اورت مہارے قافلہ کے مسافروں کے فائدہ کی غرض سے حلال کردیا گیا ہے اور جنگل اور خشکی کے وحشی جانوروں کا شکار جب تک تم احرام کی حالت میں ہو تم پر حرام کردیا گیا ہے یعنی دریائی جانوروں کا شکار احرام کی حالت میں حلال ہے اور جنگل کے و حوش کا شکار حرام ہے اور اے اہل ایمان اس اللہ تعالیٰ کی گرفت سے ڈرتے رہو جس کے حضور میں تم جمع کئے جائو گے۔
Ayah 5:97

جَعَلَ اللّٰهُ الْكَعْبَةَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ قِیٰمًا لِّلنَّاسِ وَ الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَ الْهَدْیَ وَ الْقَلَآئِدَ١ؕ ذٰلِكَ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 5:97 in the Quran reader

اللہ نے کعبہ کو جو کہ محترم مکان ہے اور شہر حرام کو اور حرم کو جانے الی قربانی کو اور ان قربانیوں کو جن کے گلے میں قلاوہ پڑا ہو ان سب کو لوگوں کے لئے قیام مصالح کا موجب قرار دیا یہ اس لئے کیا تاکہ تم اس بات کو جان لو کہ جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے اللہ تعالیٰ اس سب کو جانتا ہے اور بلاشبہ اللہ ہر چیز سے خوب واقف ہے

-97 اللہ تعالیٰ نے کعبہ کو جو خدا تعالیٰ کا محترم مکان ہے اور حرمت والے مہینوں کو یعنی ذوالعقدہ ذوالحجہ محرم اور رجب کو اور حج کے موسم میں حرم کی طرف جانے والی قربانیوں کو اور ان قربانیوں کو جن کے گلے میں لٹکن اور قلاوہ پڑا ہوا ہوتا ہے اور جن کو حاجی لوگ اپنے ہمراہ حرم کی طرف لے جاتے ہیں ان سب کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے قیام مصالح مثلاً ام نو اطمینان کے قائم رکھنے کا سبب اور موجب کردیا ہے یہ اس لئے کیا تاکہ اس بات کو اچھی طرح جان لو اور سمجھ لو کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے ان سب کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہر چیز سے خوب واقف ہے یعنی اگر وہ واقف نہ ہوتا تو اپنے بندوں کی مصلحتوں کا کیسے انتظام کرتا اور ان کی رعایت کس طرح کرتا۔
Ayah 5:98

اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ وَ اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌؕ Open ayah 5:98 in the Quran reader

تم یقین جانو ! کہ اللہ تعالیٰ سخت عذاب کرنے والا بھی ہے اور بیشک اللہ بڑا بخشنے والا اور نہایت مہربان بھی ہے۔

-98 تیسیر القرآن تم یقین جانو ! کہ اللہ تعالیٰ سخت عذاب کرنے والا ہے اور اس کی پکڑ سخت ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا اور نہایت مہربان ہے۔
Ayah 5:99

مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 5:99 in the Quran reader

پیغمبر کے ذمہ تو صرف احکام پہونچا دینا ہے اور اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ تم پوشیدہ رکھتے ہو۔

-99 پیغمبر ﷺ کے ذمہ پر تو صرف پیام خداوندی کا پہونچا دینا ہے اور اللہ تعالیٰ تمہارے ان تمام اعمال کو جانتا ہے جو تم ظاہری طور پر کرتے ہو اور ان چیزوں کو بھی جانتا ہے جو تم پوشیدہ رکھتے ہو اور اپنے سینوں میں چھپائے رکھتے ہو یعنی خواہ اعمال جوارح ہوں خواہ افعال قلب ہوں وہ سب سے بخوبی واقف ہے۔
Ayah 5:100

قُلْ لَّا یَسْتَوِی الْخَبِیْثُ وَ الطَّیِّبُ وَ لَوْ اَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِیْثِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 5:100 in the Quran reader

اے پیغمبر آپ ان سے فرما دیجیے کہ ناپاک چیز اور پاک چیز دونوں برابر نہیں خواہ تم کو کسی ناپاک چیز کی کثرت بھلی ہی کیوں نہ معلوم ہوتی ہو تو اے عقل مندو ! خدا سے ڈرتے رہو تاکہ تم فلاح پائو۔

-100 اے پیغمبر آپ ان لوگوں سے فرما دیجیے کہ ناپاک چیز خواہ دو گنا ہو یا گناہ کرنے والا ہو یا کوئی حرام چیز ہو کسی پاک چیز کے خواہ وہ نیکی ہو یا نیکی کرنیوالا ہو یا کوئی حلال چیز ہو دونوں چیزیں خبیث اور طب برابر نہیں ہوسکتیں اگرچہ اے دیکھنے والے ناپاک کی اکثرت تجھ کو تعجب میں ہی کیوں نہ ڈالتی ہو تب بھی دونوں میں مساوات اور برابری نہیں ہوسکتی یعنی ناپاک کی بہتات اور اکثریت قابل تعجب اور خوش آئند نہیں ہے لیکن اگر کسی کے لئے تعجب انگیز ہو تب بھی طیب ار خبیث میں برابری نہیں ہوسکتی حرام خواہ کتنا ہی زیادہ ہو بہرحال حرام اور خبیث ہے اور حلال کتنا ہی کم ہو بہرحال حلال اور طیب ہے لہٰذا اے عقل مند واللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور ناپاک کی کثرت کو دیکھ کر اس کی جانب توجہ نہ کرو تاکہ تم فلاح پائو۔
Ayah 5:101

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْئَلُوْا عَنْ اَشْیَآءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَسْئَلُوْا عَنْهَا حِیْنَ یُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَكُمْ١ؕ عَفَا اللّٰهُ عَنْهَا١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ Open ayah 5:101 in the Quran reader

اے ایمان والو تم ایسی باتیں نہ پوچھا کرو کہ اگر وہ تم کو ظاہر کردی جائیں تو تم کو بری معلوم ہوں اور اگر تم ایسے زمانہ میں جبکہ نزول قرآن کا سلسلہ جاری ہے ایسی باتیں پوچھتے رہو گے تو اس کا قوی احتمال ہے کہ ان کو ظاہر کردیا جائے گزشتہ سوالات کو اللہ نے معاف کردیا اور اللہ بڑی مغفرت والا تحمل والا ہے۔

-101 اے اہل ایمان تم احکام یا واقعات کے متعلق ایسی باتیں نہ پوچھا کرو جن کا ظاہر کرنا اور جواب دنیا تمہارے لئے ناگواری خاطر کا موجب ہو۔ مثلاً سراقہ بن مالک کا سوال یا اپنے مرے ہوئے باپ کے متعلق سوال وغیرہ اور اگر ایسے زمانہ میں جبکہ قرآنی وحی کا نزول جاری ہے اس قسم کے سوالات کرو گے اور بےموقعہ باتیں دریافت کرو گے تو یہ بہت ممکن ہے کہ ان کو ظاہر کردیا جائے اور ان کا جواب دے دیا جائے اور اگر جواب دیدیا جائیتو تم کو برا معلوم ہوا اور تمہاری دل آزاری کا سبب ہو۔ گزشتہ حالات میں جو غیر محتاط سوال کرتے رہے اللہ تعالیٰ نے ان کو معاف فرما دیا اور اللہ تعالیٰ بڑی بخشش کرنے والا اور بڑے حلم والا ہے۔
Ayah 5:102

قَدْ سَاَلَهَا قَوْمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ ثُمَّ اَصْبَحُوْا بِهَا كٰفِرِیْنَ Open ayah 5:102 in the Quran reader

تم سے پہلے اور لوگو نے بھی اسی قسم کی باتیں پوجھی تھیں پھر ان کو بجا لانے سے انکار کرنے لگے۔

-102 بلاشبہ تم سے پہلے بھی بعض لوگوں نے اسی قسم کے بےموقعہ سوالات اپنے پیغمبروں سے کئے تھے پھر جواب ملنے پر عمل نہ کرسکے اور ان کا حق بجا لانے سے منکر ہوگئے یعنی سوال کا جب جواب دیا گای تو اس پر عمل نہ کرسکے اور منکر ہوگئے اس لئے احتیاط اسی میں ہے کہ بےموقع سوال نہ کیا کرو۔
Ayah 5:103

مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِنْۢ بَحِیْرَةٍ وَّ لَا سَآئِبَةٍ وَّ لَا وَصِیْلَةٍ وَّ لَا حَامٍ١ۙ وَّ لٰكِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ وَ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 5:103 in the Quran reader

اللہ نے نہ تو بحیرہ کو مقرر کیا اور نہ سائبہ کو اور نہ وصیلہ کو اور نہ حامی کو لیکن وہ لوگ جنہوں نے کفر کی روش اختیار کر رکھی ہے اللہ پر جھوٹی افترا پردازی کرتے ہیں ان کی حالت یہ ہے کہ ان میں سے اکثر صحیح عقل سے بےبہرہ ہیں۔

-103 اللہ تعالیٰ نے نہ تو بحیرہ کو مقرر کیا یعنی وہ اونٹنی جو پانچ بچے دے دے اس کا کان چیر کر بتوں کے نام پر چھوڑ دو اور اس کو قابل احترام سمجھو ورنہ اللہ تعالیٰ نے سائبہ کو مقرر کیا یعنی وہ اونٹنی جو دیوتائوں کے نام پر چھوڑ دی جائے اور اس کو متبرک سمجھ کر اس کی سواری یا اس کے بال کترنے کو ترک کردیا جائے نہ اس کا دودھ دوہا جائے اور نہ اللہ تعالیٰ نے وصیلہ کو شرعی طور پر مقرر کیا یعنی وہ بکری جو اوپر تلے دو مادہ بچے دے دے اس کو متبرک سمجھ کر چھوڑ دیا جائے اور اس کے دودھ یا اس کی اون کو استعمال نہ کیا جائے اور نہ اللہ تعالیٰ نے حامی کو مقرر کیا یعنی وہ اونٹ جس کی نسل سے دس بچے ہوجائیں اس کو متبرک سمجھ کر چھوڑ دینا اور اس کے استعمال کو ترک کردینا۔ بہرحال ! اللہ تعالیٰ نے ان بہائم میں سے کسی کو متبرک نہیں بنایا اور نہ متبرک بنانے اور ان کو استعمال سے مستثنیٰ کرنے کا حکم دیا لیکن یہ لوگ جو اسلام کی روشنی سے محروم ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ذمے جھوٹ باندھتے اور خدا تعالیٰ پر جھوٹے طوفان اور بہتان لگاتے ہیں اور ان منکرین کی حالت یہ ہے کہ ان میں سیا کثر صحیح عقل و فہم سے عاری اور بےبہرہ ہیں۔
Ayah 5:104

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ اِلَى الرَّسُوْلِ قَالُوْا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 5:104 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ اللہ نے نازل کیا ہے اس کی طرف اور رسول کی طرف آئو تو کہتے ہیں ہم نے جن طریقوں پر اپنے باپ دادا کو پایا ہے وہی طریقے ہم کو کافی ہیں کیا جب بھی کہ ان کے باپ دادا نہ کچھ سمجھ رکھتے ہو اور نہ وہ راہ یافتہ رہے ہوں

-104 اور جب ان منکرین سے کہا جائے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ان احاکم کی طرف اور رسول اللہ ﷺ کی طرف آئو تو کہتے ہیں ہم نے جسے طریقے پر اپنے باپ دادوں کو پایا ہے ہمارے لئے وہی طور طریقے کافی ہیں اپنے بڑوں کی رسم و راہ چھوڑ کر ہمیں اور راستہ اختیار کرنے کی ضرورت نہیں کیا ایسی حالت میں بھی ان کے بڑوں کا طریقہ ان کے لئے کافی ہے جبکہ ان کے بڑے اور ان کے باپ دادا نہ دین کی سمجھ رکھتے ہوں اور نہ وہ راہ یافتہ ہوں اور نہ کبھی ہدایت پر رہے ہوں۔
Ayah 5:105

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْكُمْ اَنْفُسَكُمْ١ۚ لَا یَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَیْتُمْ١ؕ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:105 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم پر اپنی جان کا فکر ضروری ہے جبتم ہدایت پر ہو تو تم کو کوئی گم کردہ راہ نقصان نہیں پہونچا سکتا تم سب کو اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے پھر وہ تم کو جو کچھ تم کیا کرتے تھے اس سے آگاہ کر دے گا۔

-105 اے اہل ایمان تم اپنی اصلاح کو لازم پکڑو اور اپنی جانوں کا فکر تم کو ضروری ہے اگر کوئی شخص باوجود تمہارے سمجھانے اور امر با لا معروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ کو ادا کرنے کے بعد بھی نصیحت نہیں قبول کرتا اور گمراہی پر جما رہتا ہے تو تم کو اس کی گمراہی سے کوئی نقصان نہیں پہونچ سکتا جب کہ تم ہدایت پر قائم رہوتم سب لوگوں کی بازگشت اور تم سب کی واپسی اللہ تعالیٰ ہی کی طرف ہے سو وہ تم کو ان تمام اعمال سے آگاہ اور باخبر کر دے گا جو تم یہاں کیا کرتے تھے یعنی ہدایت پر قائم رہنے والوں کو ان کا پھل ملے گا اور باوجود سمجھانے کے نہ ماننے والوں کو ان کے کئے کا بدلہ ملے گا۔
Ayah 5:106

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا شَهَادَةُ بَیْنِكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِیْنَ الْوَصِیَّةِ اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَیْرِكُمْ اِنْ اَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَاَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةُ الْمَوْتِ١ؕ تَحْبِسُوْنَهُمَا مِنْۢ بَعْدِ الصَّلٰوةِ فَیُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ اِنِ ارْتَبْتُمْ لَا نَشْتَرِیْ بِهٖ ثَمَنًا وَّ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ۙ وَ لَا نَكْتُمُ شَهَادَةَ١ۙ اللّٰهِ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الْاٰثِمِیْنَ Open ayah 5:106 in the Quran reader

اے ایمان والو جب تم میں سے کسی کے سامنے موت آ کھڑی ہو تو وصیت کے وقت تمہارے آپس میں دو ایسے معتبر اور امانت دار آدمیوں کا وصی ہونا مناسب ہے جو تم ہی میں سے ہوں یا اگر تم سفر میں ہوا ور تم کو موت کا حادثہ پیش آجائے تو ان دونوں شخصوں کا تمہارے غیروں میں سے ہونے کا بھی مضائقہ نہیں پھر اے وارثو اگر تم کو ان دو وں وصیوں کے بارے میں کچھ شک ہوجائے تو اے حکام ان دونوں وصیوں کو نماز کے بعد روک لو پھر وہ دونوں اس طرح اللہ کے نام کی قسم کھا کر کہیں کہ ہم اپنی اس قسم کے بدلے میں کوئی دنیوی نفع حاصل کرنا نہیں چاہتے خواہ ہمارے کسی قرابت داری کا معاملہ کیوں نہ ہو اور نہ ہم اللہ کی اس گواہی کو جس کے کہنے کا حکم ہے پوشیدہ رکھیں گے اگر ایسا کریں گے تو یقینا ہم گناہگاروں میں سے ہوں گے۔

-106 اے اہل ایمان جب تم میں سے کوئی مرنے لگے اور کسی کی موت سامنے آ کھڑی ہو اور وہ شخص وصیت کرنی چاہئے تو وصیت کے وقت آپس کی گواہی کے لئے تم میں سے دو ایسے شخص جو معتبر، امانت دار اور حق و انصاف والے ہوں ان دونوں کو گواہ یا وصی مقرر کرنا مناسب ہے اور اگر تم سفر میں ہو اور تم کو موت کا حادثہ پیش آجائے تو ان دونوں گواہوں یا وصیوں کا تمہارے غیروں میں سے ہونے کا بھی مضائقہ نہیں یعنی حضر میں ہو تب تو وہ دونوں گواہ یا وصی علی اختلاف الروایات مسلمان ہونے چاہئیں بلکہ اہل قرابت میں سے ہوں تو اور زیادہ بہتر ہے اور اگر سفر میں ہو جیسا کہ ایک صحابی کو یہ واقعہ پیش آیا تھا تب وصی یا گواہ غیر مسلموں کو بنا لینے کا بھی کچھ مضائقہ نہیں پھر اے وارثو ! اگر تم کو ان دونوں مقررہ اشخاص کی صداقت کے بارے میں کچھ شبہ اور شک ہوجائے تو حاکم وقت ان کو نماز کے بعد روک لے اور ان سے اللہ کی قسم کھلوا کر بیان لے یعنی یہ حلفیہ بیان عصر کی نماز کے بعد لیا جائے اور اگر وہ دونوں غیر مسلم ہوں تو جو وقت ان کی عبادت کا ہو اور وہ اس کا احترام کرتے ہوں اس وقت ان کا بیان لیا جائے اور وہ یوں کہیں کہ ہم اپنی اس قسم کے بدلے میں کوئی دنیوی نفع حاصل نہیں کرنا چاہتے خواہ ہمارے کسی قرابت دار ہی کا معاملہ کیوں نہ ہو اور نہ ہم اللہ تعالیٰ کی اس گواہی کو جس کے دینے کا ہم کو حکم ہے پوشیدہ رکھیں گے اور نہ کچھ چاہیں گے اگر ہم ایسا کریں تو یقینا ہم گناہگار ہوں گے یعنی ہم اللہ کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ہم بالکل صحیح بیان دیں گے۔
Ayah 5:107

فَاِنْ عُثِرَ عَلٰۤى اَنَّهُمَا اسْتَحَقَّاۤ اِثْمًا فَاٰخَرٰنِ یَقُوْمٰنِ مَقَامَهُمَا مِنَ الَّذِیْنَ اسْتَحَقَّ عَلَیْهِمُ الْاَوْلَیٰنِ فَیُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ لَشَهَادَتُنَاۤ اَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا وَ مَا اعْتَدَیْنَاۤ١ۖ٘ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 5:107 in the Quran reader

پھر اگر ان دونوں وصیوں کے متعلق یہ پتہ لگ جائے کہ وہ کسی حق کو دبا کر گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں تو پھر جن کا حق دبایا گیا ہے ان میں سے دو ایسے شخص جو باعتبار میراث میت سے قریب تر ہوں وہ ان کی جگہ کھڑے ہو کر اللہ کے نام کی قسم کھا کر اس طرح کہیں کہ یقینا ہماری گواہی ان دونوں وصیوں کی گواہی سے زیادہ پہنچی ہے اور ہم نے گواہی دینے میں بالکل زیادتی نہیں کی اگر ہم نے ایسا کیا ہو تو ہم یقینا ظالم ہوں گے۔

-107 پھر اگر ورثا کو یہ پتہ لگ جائے اور واقعات سے یہ معلوم ہوجائے کہ یہ دونوں شخص کسی حق کو دبا کر گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں جیسا کہ صحابی مذکور کے واقعہ میں ایسا ہی ہوا کہ دونوں نصرانیوں نے وصیت میں خیانت کی اور مال متروکہ میں سے ایک چاندی کا پیالہ بیچ کھایا تو ایسی حالت میں جن کا حق دبایا گیا ہے اور جھوٹا بیان دے کر جن کے حق کو پامال کیا گیا ہے ان میں سے دو شخصوں کو پہلے دو شخصوں کی جگہ کھڑا کیا جائے یہ دوسرے دو شخص باعتبار میراث کے میت سے زیادہ قریب ہوں اور وہ ان کی جگہ کھڑے ہو کر اللہ کی قسم کھا کر کہیں یہ یقینا ہماری گواہی ان دونوں کی گواہی سے زیادہ سچی اور درست ہے اور ہم نے گواہی دینے میں کوئی زیادتی نہیں کی اور اگر ہم نے ایسا کیا ہو تو یقینا ہم سخت ظالم ہوں گے یعنی پہلی گواہیاں ان دو شخصوں کی تھیں جو وصیت کے گواہ تھے یا وصی تھے ان کی گواہی میں شبہ ہوا اور ان کی خیانت کا پتہ لگا تو ورثا میں سے جو میت کے قریبی رشتہ دار تھے ان کو قسم کھا کر شہادت دینے کا حکم ہوا۔
Ayah 5:108

ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یَّاْتُوْا بِالشَّهَادَةِ عَلٰى وَجْهِهَاۤ اَوْ یَخَافُوْۤا اَنْ تُرَدَّ اَیْمَانٌۢ بَعْدَ اَیْمَانِهِمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اسْمَعُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 5:108 in the Quran reader

یہ حکم مذکور اس امر کیلئے قریب تر ذریعہ ہے کہ وہ اوصیا شہادت کو اس کی اصلی حالت پر ادا کیا کریں یا اس بات سے ڈریں کہ ان کی قسموں کے بعد ورثاء کی طرف قسمیں لوٹیں گی اور اللہ سے ڈرتے رہو اور پوری توجہ سے سنو اور اللہ نافرمانی لوگوں کی رہبری نہیں فرماتا۔

-108 یہ حکم مذکور اس امر کا قریب ترین ذریعہ ہے کہ وہ گواہ یا وصی شہادت کو اس کی اصل حالت اور اس کی صحیح کیفیت پر ادا کیا کریں اور عذاب آخرت کے خوف سے جھوٹی قسمیں نہ کھائیں یا اس بات سے ڈریں کہ ان کی قسموں کے بعد یہ قسمیں میت کے ورثاء پر لوٹائی جائیں گی اور دنیا میں رسوائی ہوگی اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور اس کے ہر حکم کو توجہ کے ساتھ سنو اور یہ بات یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نافرمانی کرنے والوں کی رہنمائی نہیں فرماتا اور ایسے لوگوں کی سرپرستی نہیں کرتا جو اطاعت خداوندی کی حدود سے باہر نکل جانے والے ہیں۔
Ayah 5:109

یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَیَقُوْلُ مَا ذَاۤ اُجِبْتُمْ١ؕ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ Open ayah 5:109 in the Quran reader

وہ دن یاد کرو جس دن اللہ تعالیٰ نے تمام پیغمبروں کو جمع کرے گا پھر سب سے کہے گا تم کو دعوت الی الحق کا کیا جواب ملا تھا وہ عرض کریں گے ہم کچھ علم نہیں تو ہی غیب کی باتوں کا خوب جاننے والا ہے ۔

-109 وہ دن قابل ذکر ہے جس دن اللہ تعالیٰ تمام رسولوں کو جمع کرے گا اور ان رسولوں کی امتوں کے سامنے بطور زجر و توبیخ ان رسولوں سے فرمائے گا تم کو دعوت حق کا کیسا جواب دیا گیا اور تم کو تمہاری امتوں کی جانب سے کیا جواب ملا وہ عرض کریں گے ہم کو کچھ علم نہیں یعنی ظاہری طور پر تو جو کچھ کہتے تھے وہ معلوم ہی ہے لیکن باطن میں ان کی حالت کیا تھی یا قیامت کی ہولناکی کے پیش نظر کچھ ان کو یاد نہ آئے گا یا یہ کہ جب تک ہم ان میں رہے اس وقت تک کا تو حال معلوم ہے لیکن جب آپ نے ہم کو ان میں سے اٹھا لیا تو اس کے بعد کی ہم کو کچھ خبر نہیں بلاشبہ آپ ہی ہر پوشیدہ بات کو خوب جاتنے ہیں اور آپ ہی علام الغیوب ہیں۔
Ayah 5:110

اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ اذْكُرْ نِعْمَتِیْ عَلَیْكَ وَ عَلٰى وَ الِدَتِكَ١ۘ اِذْ اَیَّدْتُّكَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١۫ تُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا١ۚ وَ اِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ١ۚ وَ اِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّیْنِ كَهَیْئَةِ الطَّیْرِ بِاِذْنِیْ فَتَنْفُخُ فِیْهَا فَتَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِیْ وَ تُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ بِاِذْنِیْ١ۚ وَ اِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتٰى بِاِذْنِیْ١ۚ وَ اِذْ كَفَفْتُ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَنْكَ اِذْ جِئْتَهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 5:110 in the Quran reader

اس دن حضرت عیسیٰ سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے عیسیٰ مریم کے بیٹے میرے وہ احسان یاد کر جو تجھ پر اور تیری والدہ پر ہوئے ہیں اس وقت کو یاد کر جب روح قدس کے ذریعہ میں نے تیری تائید کی تو لوگوں سے ماں کی گود میں بھی کلام کیا کرتا تھا اور پوری عمر کا ہو کر بھی اور جب کہ میں نے تجھ کو کتابت اور فہم و دانائی کی باتیں سکھائیں اور توریت و انجیل کی تعلیم دی اور وہ وقت یاد کر جبکہ تو میرے حکم سے مٹی کے گارے سے ایک پرندے کی سی صورت بناتا تھا پھر تو اس میں پھونک مار دیتا تھا وہ میرے حکم سے سچ مچ کا پرندہ ہوجاتا تھا اور جب تو میرے حکم سے مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو اچھا کردیا کرتا تھا اور جب تو میرے حکم سے مردوں کو نکال کھڑا کرتا تھا یعنی زندہ کردیا کرتا تھا اور اس احسان کو بھی یاد کر جبکہ میں نے تجھ سے بنی اسرائیل کو تیری ایذا رسانی سے اس وقت باز رکھا جبکہ تو ان کے پاس واضح دلائل لے کر آیا تھا تو ان میں سے کافروں نے کہا تھا کہ یہ کھلے ہوئے جادو کے ہوا اور کچھ نہیں ہے۔

-110 جب اس دن اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے فرمائے گا اے عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم میرے وہ احسان یاد کر جو میں نے تجھ پر اور تیری ماں پر کئے ہیں وہ وقت یاد کر جب ایک پاک روح کے ساتھ میں نے تیری تائید کی اور تیری مدد فرمائی تو ماں کی گود میں جب بالکل بچہ تھا لوگوں سے کالم کرتا تھا اور بڑی عمر کا ہو کر بھی کلام کرتا تھا یعنی جب پنگورے میں تھا اور جب پوری عمر کا ہوگیا دونوں حالتوں میں لوگوں سے یکساں کلام کرتا تھا اور یاد کر جب میں نے تجھ کو کتابت اور لکھنا سکھایا اور حکمت و دانائی کی باتیں سکھائیں اور توریت و انجیل کی تجھ کو تعلیم دی یعنی کتابت سکھائی یا توریت و انجیل کے علاوہ دوسری کتاب آسمانی کی تعلیم دی اور یاد کر جب تو میرے حکم سے مٹی کے گارے کی ایک شکل بناتا تھا جیسے پرندے کی ہئیت ہوتی ہے پھر تو اس میں پھونک مارتا تھا پھر وہ واقعی میرے حکم سے پرندہ ہوجاتا تھا اور تو میرے حکم سے مادر زا اندھے اور کوڑھی کو اچھا کردیا کرتا تھا اور جب میرے حکم سے تو مردوں کو ان کے قبروں سے نکال کھڑا کرتا تھا اور جب میں نے بنی اسرائیل میں سے تیرے مخالف گروہ کو تیرے خلاف جارحانہ کارروائی سے روکا اور تیری ایذا رسانی سے ان کو اس وقت باز رکھا جبکہ تو ان کے پاس روشن اور واضح دلائل لیکر آیا اور ان کو معجزات دکھائے پھر ان میں سے جو لوگ منکر تھے انہوں ں نے ان سب دلیلوں کو دیکھ کر کہا کہ سوائے کھلے جادو کے اور کچھ نہیں ہے یعنی دشمنوں سے اشتعال کے وقت تیری حفاظت فرمائی۔
Ayah 5:111

وَ اِذْ اَوْحَیْتُ اِلَى الْحَوَارِیّٖنَ اَنْ اٰمِنُوْا بِیْ وَ بِرَسُوْلِیْ١ۚ قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ اشْهَدْ بِاَنَّنَا مُسْلِمُوْنَ Open ayah 5:111 in the Quran reader

اور یاد کر جبکہ میں نے حواریوں کی طرف اس بات کا حکم بھیجا کہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لائو تو ان حواریوں نے عرض کیا ہم ایمان لائے اور اے خدا تو گواہ رہ کہ ہم پورے فرمانبردار ہیں۔

-111 اور جب میں نے تیرے مخلص معتقدوں کو حکم دیا کہ مجھ پر اور میرے فرستادوں پر ایمان لائو یعنی انجیل میں یہ حکم دیا اور یا تیری زبانی ان کو کہلاتا اور یا ان کے دل میں توفیق ڈالی تو ا ن حواریوں یعنی مخلص شاگردوں نے کہا ہم ایمان لائے اور اے خدا تو ہمارا گواہ رہ کر ہم پورے فرمانبردار ہیں۔
Ayah 5:112

اِذْ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ هَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّكَ اَنْ یُّنَزِّلَ عَلَیْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ١ؕ قَالَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:112 in the Quran reader

وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جبکہ حواریوں نے کہا اے عیسیٰ (علیہ السلام) مریم کے بیٹے کیا میرا رب ایسا کرسکتا ہے کہ ہم پر آسمان سے ایک خوان کھانے کا نازل کرے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا اگر تم ایمان والے ہو تو خدا سے ڈو

-112 اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب ان حواریوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے درخواست کی کہ اے عیسیٰ (علیہ السلام) مریم کے بیٹے کیا تیرا رب ایسا کرسکتا ہے کہ ہم پر آسمان سے کھانے کا بھرا ہوا ایک خوان نازل فرمائے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا اگر تم اہل ایمان ہو تو اللہ تعالیٰ کی جناب میں اس قسم کی بےموقع فرمائشیں کرنے سے احتیاط بر تو۔
Ayah 5:113

قَالُوْا نُرِیْدُ اَنْ نَّاْكُلَ مِنْهَا وَ تَطْمَئِنَّ قُلُوْبُنَا وَ نَعْلَمَ اَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا وَ نَكُوْنَ عَلَیْهَا مِنَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 5:113 in the Quran reader

ان حواریوں نے کہا ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم اس خوان میں سے کچھ کھائیں بھی اور ہمارے قلوب کو اطمیان بھی ہو اور ہم کو اس بات کا پورا یقین ہوجائے کہ تو نے ہم سے سچ کہا ہے اور ہم اس نزول مائدہ پر گواہی دینے والوں میں سے ہوجائیں۔

-113 ان حواریوں نے عرض کیا ہماری اس مانگ اور ہماری اس فرمائش کا صرف مقصد یہ ہے کہ ہم اس نازل شدہ خاون میں سے کچھ کھائیں بھی اور ہمارے قلوب کو اطمینان بھی ہو اور ہماری پختہ ایمانی میں یہ خوان زیداتی کا سبب ہو اور ہم اس امر کو اچھی طرح جان لیں کہ تو نے ہم سے سچ کہا یعنی اللہ تعالیٰ ہماری دعائوں کو سنتا اور قبول کرتا ہے اور ہم اس مائدہ اور کھانے کے خوان پر گواہی دینے والوں میں سے ہوجائیں اور نزول مائد ہ پر گواہ رہیں۔
Ayah 5:114

قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوْنُ لَنَا عِیْدًا لِّاَوَّلِنَا وَ اٰخِرِنَا وَ اٰیَةً مِّنْكَ١ۚ وَ ارْزُقْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 5:114 in the Quran reader

اس پر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بن مریم نے دعا کی کہ اے اللہ اے ہمارے پروردگار ہم پر آسمان سے ایک کھانے کا خوان نازل فرما کہ وہ خوان ہمارے پہلوں اور ہمارے بعد والوں کے لئے سب کے لئے خوشی کی بات قرار پائے اور تیری قدرت کا یہ مائدہ ایک نشان ہوجائے اور ہم کو روزی عطا فرما تو ہی سب سے بہترین روزی دینے والا ہے۔

-114 اس پر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم نے یوں دعا کی اے ہمارے معبود اے ہمارے پروردگار ہم پر آسمان سے کھانے کا بھرا ہوا ایک خوان نازل فرماتا کہ وہ خوان ہمارے موجودہ اور ہمارے بعد کے آنے والوں کے لئے خوشی کا دن ہوجائے … یعنی وہ ہمارے اگلوں پچھلوں کے لئے عید کا دن مقرر ہوجائے اور آپ کی قدرت کاملہ کا یہ مائدہ ایک نشان ہوجائے اور ہم کو روزی اور روزی پر توفیق شکر عطا فرما اور تو ہی سب سے بہتر روزی دینے والا ہے۔
Ayah 5:115

قَالَ اللّٰهُ اِنِّیْ مُنَزِّلُهَا عَلَیْكُمْ١ۚ فَمَنْ یَّكْفُرْ بَعْدُ مِنْكُمْ فَاِنِّیْۤ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُهٗۤ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 5:115 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں تم پر وہ کھانے کا خوان نازل کرنیوالا ہوں مگر جو شخص تم میں سے اس کے بعد ناسپاسی کرے گا تو میں اس کو سزا بھی ایسی سخت دوں گا کہ اقوام عالم میں سے کسی کو اس جیسی سخت سزا نہ دوں گا

-115 اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا یقینا میں تم پر وہ کھانے کا خوان اتارنے والا ہوں مگر دیکھو جو شخص اس نزول مائدہ کے بعد تم میں سے ناسپاسی اور ناشکری کا مرتکب ہوگا تو میں اس کو ایسی سخت سزا دوں گا اور ایسا عذاب کروں گا کہ ویسا عذاب اقوام عالم میں سے کسی اور کو نہ کروں گا۔
Ayah 5:116

وَ اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ ءَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَ اُمِّیَ اِلٰهَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ سُبْحٰنَكَ مَا یَكُوْنُ لِیْۤ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَیْسَ لِیْ١ۗ بِحَقٍّ١ؐؕ اِنْ كُنْتُ قُلْتُهٗ فَقَدْ عَلِمْتَهٗ١ؕ تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَ لَاۤ اَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِكَ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ Open ayah 5:116 in the Quran reader

اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے ۔ جب اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے عیسیٰ (علیہ السلام) بن مریم کیا تو نے ان لوگوں سے کہا تھا کہ خدا کے علاوہ مجھ کو اور میری ماں کو دو معبود قرار دو عیسیٰ (علیہ السلام) جواب دے گا اے خدا تو پاک ہے میرے لئے یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ میں ایسی بات کہتا جس کے کہنے کا مجھے کوئی حق نہ ہو اگر میں نے ایسا کہا ہوگا تو تجھے یقینا اس کا علم ہوگا تو تو میرے دل کی ہر ایک بات سے آگاہ ہے اور میں تیری پوشیدہ معلومات سے بالکل واقف نہیں ہوں بلاشبہ تمام غیب کی باتیں تو ہی خوب جانتا ہے ۔

-116 اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے کہ جب اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ ابن مریم سے فرمائے گا اے عیسیٰ مریم کے بیٹے کیا تو نے ان لوگوں یعنی نصاریٰ سے کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ مجھ کو اور میری ماں کو دوم عبود قرار دو یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ دو معبود اور بنائو اور دو خدا اور تسلیم کرو اور مجھ کو اور ایک میری ماں کو نصاریٰ کو یہ عقیدہ تو نے تعلیم کیا ہے۔ حضرت عیسیٰ عرض کریں گے اے خدا میں تیری پاکی بیان کرتا ہوں بھلا میں ایسی بات کس طرح کہہ سکتا تھا جس کے کہنے کا مجھے کوئی حق حاصل نہیں ۔ مجھے ہرگز یہ زیبا نہیں کہ میں کوئی ایسی بات زبان سے نکالوں جس کے کہنے کا مجھے کوئی حق نہ ہو اگر میں نے کوئی ایسی بات کہی ہوگی تو آپ کو یقینا اس کا علم ہوگا آپ تو میرے دل کی ہر ایک بات سے آگاہ اور واقف ہیں اور میں آپ کی پوشیدہ معلومات سے بالکل واقف نہیں ہوں بلاشبہ آپ ہی تمام غیوب کو جاننے والے ہیں۔
Ayah 5:117

مَا قُلْتُ لَهُمْ اِلَّا مَاۤ اَمَرْتَنِیْ بِهٖۤ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبَّكُمْ١ۚ وَ كُنْتُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْهِمْ١ۚ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ اَنْتَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 5:117 in the Quran reader

میں نیتو ان سے سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہا جس کے کہنے کا تو نے مجھے حکم کیا تھا وہ یہ کہ تم اللہ ہی کی عبادت کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے اور میں جب تک ان میں رہا ان کے احوال سے باخبر رہا پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان کے حالات کا نگران تھا اور تو ہر چیز سے پوری طرح باخبر ہے۔

-117 میں نے تو ان لوگوں سے سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہا جو تو نے مجھے ان سے کہنے کا حکم دیا تھا اور وہ یہی کہ اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کیا کرو جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار ہے اور میں جب تک ان میں رہا ان کے احوال اور ان کے حالات سے باخبر رہا اور ان کی حالت پر گواہ تھا پھر جب تو نے مجھ کو ان میں سے اٹھا لیا تو تو ہی ان کی دیکھ بھال کرنے والا اور ان پر نگراں حال تھا اور تو ہی ان کا نگہبان تھا اور تو ہر چیز سے باخبر ہے اور ہر چیز کی خبر رکھتا ہے۔
Ayah 5:118

اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ١ۚ وَ اِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 5:118 in the Quran reader

اگر تو ان کو سزا دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو ان کو معاف کر دے تو یقینا تو کمال قوت اور کمال حکمت کا مالک ہے۔

-118 اگر تو ان کو سزا دے اور ان کو عذاب کرنا چاہے تو وہ تیرے بندے ہیں اور تو ان کو عذاب کرسکتا ہے اور اگر تو ان کی مغفرت کر دے اور ان کو بخشش دے اور ان کو م عاف کر دے تو یقینا تو کمال قوت اور کمال حکمت کا مالک ہے یعنی تیرے کام میں کوئی مداخلت کرنے والا نہیں ہے۔
Ayah 5:119

قَالَ اللّٰهُ هٰذَا یَوْمُ یَنْفَعُ الصّٰدِقِیْنَ صِدْقُهُمْ١ؕ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 5:119 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا آج وہ دن ہے کہ جو لوگ سچے تھے ان کو ان کا سچ کام آئے گا ان کے لئے ایسے باغ میں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں وہ ان باغوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اللہ تعالیٰ ان سے خوش ہوا اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی اور خوش ہیں یہ دخول جان اور حصول رضوان بڑی بھاری کامیابی ہے

-119 اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ سچ بولنے والوں کو ان کی سچائی نفع دے گی اور ان کا سچ ان کے کام آئے گا ان کے لئے ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں یہ صادقین ان باغوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اللہ تعالیٰ ان سے راضی اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی اللہ تعالیٰ ان سے خوش اور وہ اس سے خوش یہ جنت میں داخل ہونا اور ایک کا دور سے سے راضی ہوجانا بہت بڑی کامیابی ہے۔
Ayah 5:120

لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا فِیْهِنَّ١ؕ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 5:120 in the Quran reader

آسمانوں کی اور زمین کی اور جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے سب کی سلطنت کا مالک اللہ ہی ہے اور وہ ہر شئی پر پوری طرح قادر ہے۔

-120 اللہ ہی کے لئے بادشاہت ہے آسمانوں کی اور زمین کی اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اس کی یعنی آسمانوں کی اور زمین کی سلطنت اسی کی ہے اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اس کی سب کی بادشاہت بھی اسی کے لئے ہے اور کائنات و ارضی و سماوی کا راج اسی کیلئے ہے اور وہ ہر شئی پر پوری طرح قادر ہے۔