5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsکشف الرحمٰن

Ayahs 5:14–15

وَ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَصٰرٰۤى اَخَذْنَا مِیْثَاقَهُمْ فَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ١۪ فَاَغْرَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ سَوْفَ یُنَبِّئُهُمُ اللّٰهُ بِمَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 5:14 in the Quran reader

اور ہم نے ان لوگوں سے بھی ان کا عہد لیا تھا جو اپنے کو یوں کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں ۔ پھر انہوں نے بھی اس نصیحت آمیز تعلیم کا بہت بڑا حصہفراموش کردیا جو ان کو دی گئی تھی آخر کار ہم نے ان میں قیامت تک کے لئے باہمی دشمنی اور بغض کو لازم کردیا اور آگے چل کر اللہ تعالیٰ ان کو بتائے گا جو کچھ وہ کیا کرتے تھے۔3

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ كَثِیْرًا مِّمَّا كُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍ١ؕ۬ قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 5:15 in the Quran reader

اے اہل کتاب تمہارے پاس ہمارا یہ رسول آیا ہے جو تمہارے سامنے کتابالٰہی کی اکثر وہ باتیں جن کو تم چھپایا کرتے تھے صاف طور پر ظاہر کردیتا ہے اور بہت سی غیر ضروری باتوں کو در گزر بھی کردیتا ہے بیشک تمہارے پاس اللہ کی جانب سے ایک روشن چیز اور ایک واضح کتاب آچکی ہے

ف 3 اور ہم نے ان لوگوں سے بھی ان کا عہد لیا تھا جو یوں کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں پھر انہوں نے بھی اس نصیحت آمیز تعلیم کا ایک بہت بڑا حصہ فراموش کردیا جو ان کو دی گئی تھی اور اپنی بےعملی کے باعث ثواب کا ایک بہت بڑا حصہ فوت کر بیٹھے لہٰذا ہم نے ان کے مابین قیامت تک کے لئے باہمی دشمنی اور بغض ڈال دیا اور آگے چل کر یعنی قیامت میں اللہ تعالیٰ ان کو ان کاموں سے آگاہ کر دے گا اور ان کو جتا دے گا جو وہ کہا کرتے تھے۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ جس طرح یہود سے عہد لیا تھا اسی طرح ان لوگوں سے بھی جو اپنے کو نصاریٰ کہتے ہیں عہد لیا تھا یہ عہد انجیل کے واسطے سے یا عیسیٰ (علیہ السلام) کے واسطے سے لیا گیا اور عہد و میثاق کے متعلق جو تقریر ہم اوپر کرچکے ہیں اس سے مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کسی پیغمبر پر ایمان لانا اور کسی آسمانی کتاب پر اعتقاد رکھنا یہی عہد اور میثاق ہے اور یہ جو فرمایا کہ جو لوگ اپنے کو نصاریٰ کہتے ہیں اس میں اس امر کی جانب ایک لطیف اشارہ ہے کہ جنہوں نے نصرت دین کا دعویٰ کیا اور اپنا نام بھی اس دعویٰ کی بنا پر نصاریٰ رکھ لیا ان کی بھی یہ حلات ہے کہ وہ اپنے اس دعویٰ میں ناکام ہوئے اور جو عہد انہوں نے کیا تھا اس کو پورا نہ کرسکے۔ نصرت دین کا دعوے کا مطلب ی ہے کہ نحن انصار اللہ کہنے والے تھے یا ان کی اولاد میں اپنے کو سمجھتے تھے اس لئے اپنے کو نصاریٰ کہتے تھے اس لئے حضرت حق نے بطور تعریض فرمایا کہ جو اپنے آپ کو نصاریٰ کہتے ہیں ان کی بھی بےوفائی اور بد عہدی کا یہ عالم ہے کہ جو نصیحت آمیز تعلیم ان کو دی گئی تھی اس کا ایک بہت اہم حصہ فراموش کرچکے ہیں چونکہ انجیل میں جو باتیں ان کو تعلیم کی گئی تھیں اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے جو کچھ ان سے کہا تھا اور جن باتوں کا ان سے عہد لیا تھا ان میں سب سے اہم مسئلہ نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ پر ایمان لانے کا تھا جن کا نام حضرت عیسیٰ نے ان کو احمد بتایا تھا اور ان کے آنے کی بشارت دی تھی یہ لوگ اتنی اہم بات کو فراموش کرچکے ہیں اور نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ پر ایمان لا کر اور اس کی شریعت پر عمل کر کے جو منافع حاصل کرتے ان کو ضائع کر بیٹھے یں۔ بہرحال ! ان کو ان کی غفلت شعاری کی یہ سزا تو دنیا میں دی گئی کہ ان کے درمیان بغض و عداوت کا بیج بو دیا گیا جو قیامت تک ان میں نشو و نما ہوتا رہے گا اور قیامت تک ان کی باہمی عداوت ختم نہ ہوگی اگر بینھم سے مراد صرف نصاریٰ لئے جائیں تب تو یہی مطلب ہے جو ہم نے عرض کیا یعنی مذہبی جھگڑے ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ جیسا کہ سب کو معلوم ہے کہ ان میں بیشمار فرقے ہیں اور باہم اصول و فروع میں اتنا اختلاف ہے کہ ایک دوسرے کے سخت ترین دشمن ہیں رومن کیتھولک اور پروسٹنٹ کی لڑائیاں تو ابھی کل کی بات ہے اور ہر پڑھا لکھا آدمی جانتا ہے اور وہ عداوت آج بھی قائم ہے اور اگر کسی وقت سیاسی اتحاد ان میں نظر آتا ہے تو وہ مذہبی اختلاف کے منافی نہیں اگرچہ سیاسی اتحاد کی حالت بھی گزشتہ لڑائیوں میں معلوم ہوچکی ہے کہ ایک نے دوسرے کو تباہ و برباد کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی اور ابھی قیامت تک دیکھیے کہ اس عداوت و بغض کا اور کیا کیا مظاہرہ ہوتا ہے اور اگر بینھم سے مراد یہود و نصاریٰ ہوں تو کچھ عرض کرنے کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ یہود و نصاریٰ کی دشمنی اور باہم مذہبی اختلافات تو ظاہری ہیں اور یہ اختلافات بھی اگر کسی وقت سیاسی مصالح کے ماتحت دب جائیں تو ان کے دب جانے کا اعتبار نہیں جیسا کہ آجکل فلسطین کے معاملہ میں ہو رہا ہے۔ بہرحال ! دنیا میں یہ سزا دی گئی اور آخرت کی سزا کا ان الفاظ میں اظہار کیا گیا کہ وسوف ینبھم اللہ جداکانوا یصنعون یعنی جو کچھتم دنیا میں کفر و معاصی اور نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کی مخالفت اور حق بات کو چھپانے کی حرکات کرتے رہے ہو اس سب سے تم کو اللہ تعالیٰ عنقریب آگاہ کردے گا اور تم کو تمہارے تمام اعمال جتا دے گا۔ ینبھم میں بھی دونوں احتمال ہیں یا تو فقط نصاریٰ مراد ہیں یا یہود و نصاریٰ دونوں مراد ہیں کیونکہ عہد شکنی اور میثاق کی خلاف ورزی کے کم و بیش دونوں ہی مرتکب تھے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ جب اللہ کے کلام سیاثر پکڑنا اور حکم شرع پر محبت سے قائم رہنا چھوٹ جاوے اور فقط مذہب کا جھگڑا اور حمیت رہ جائے تو راہ سے بہکے ۔ (موضح القرآن) بہرحال آیت کا خلاصہ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اپنے کو نصاریٰ کہتے ہیں ہم نے ان سے بھی ان کا عہد لیا تھا اور ان سے بھی قول قرار لیا تھا مگر انہوں نے بھی اس نصیحت میں سے جو ان کو کی گئی تھی بہت بڑا حصہ فراموش کردیا پھر ہم نے ان میں عداوت و دشمنی قیامت تک کے لئے قائم کردی اور عنقریب ہم ان کو ان کی ان تمام کارروائیوں سے آگاہ کردیں گے جو وہ کرتے رہتے ہیں اور کسی عزم کو اس کے جرائم سے آگاہ کردینا ہی اس پر سزا کا حکم جاری کردینا ہے کیونکہ فرد جرم لگا دینے کے بعد سزا کا حکم ہی سنانا ہوتا ہے۔ اب آگے پھر تمام اہل کتاب کو مخاطب فرماتے ہیں جس سے ان پر ان کی بعض خیانتوں پر تنبیہہ فرمانا ہے نیز ان کو نبی کریم ﷺ پر ایمان لانے اور اسلام کے قبول کرنے کی ترغیب دینا ہے اور آپ ﷺ کی نبوت اور آپ ﷺ کی صداقت پر استدلال کرنا ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 5:16

یَّهْدِیْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ وَ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ بِاِذْنِهٖ وَ یَهْدِیْهِمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 5:16 in the Quran reader

جس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو اس کی رضا کے طالب ہیں سلامتی کی راہی بتاتا ہے اور اپنے حکم سے ان کو اندھیروں سے نکال کر اجالے میں لاتا ہے اور ان کو سیدھے رستے چلاتا ہے ۔1

ف 1 اے اہل کتاب تمہارے پاس ہمارا یہ رسول یعنی محمد رسول اللہ ﷺ لائے ہیں جن کی شان یہ ہے کہ کتاب یعنی توریت و انجیل کے ان مضامین میں سے جن کو تم چھپایا کرتے ہو اکثر مضامین ضروریہ اور علمیہ کو یہ تمہارے روبرو صاف صاف بیان فرما دیتے ہیں اور بہت سے غیر ضروری امور کو باوجود علم و اطلاع کے درگذر بھی فرما دیتے ہیں یقین جانو ! اللہ تعالیٰ کی جانب سے تمہارے پاس ایک روشنی اور ایک واضح کتاب آچکی ہے اس کتاب اور روشنی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو رضائے حق کے طالب اور تابع ہیں سلامتی کی راہیں بتاتا اور دکھاتا ہے اور ان طالبا نرضائے حق کو اپنے ارادے اور اپنی توفیق اور اپنے فضل سے کفر و شرک کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان اور اطاعت کی روشنی میں لے آتا ہے اور ان کو ہمیشہ سیدھی راہ چلاتا اور سیدھی راہ پر ثابت رکھتا ہے۔ (تیسیر) اہل کتاب سے مراد یہود و نصاریٰ یں یہ اہل کتاب اس امر کے عادی تھے کہ اپنی کتابوں کے مضامین چھپالیا کرتے تھے جیسے رحم اور سنگساری کے احاکم اور نبی کریم ﷺ کی صفت وثناء اور نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کی بشارت جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے بیان کی تھی غرض ایسے مضامین مراد ہیں جو اہل کتاب چھپاتے تھے اور اس کا اظہار کرنا اور ان کا اعلان کرنا ضروری تھا ان مضامین کو نبی کریم ﷺ صاف صاف بیان کردیتے ہیں جیسا کہ بعض مواقع پر آپ ﷺ نے توریت لا کر پڑھنے کا مطالبہ فرمایا اور جیسا کہ ابن صوریا نے احکام رجم کو چھپایا اور آپ ﷺ نے اس کو قسم دے کر دریافت کیا اور نبی کریم ﷺ کا باوجود امی ہونے اور توریت و انجیل کی تعلیم حاصل نہ کرنے کے ان کتابوں کے مضامین کا اظہار آپ کا معزاج تھا اور آپ کے نبی برحق ہونے کی دلیل تھی۔ علمی اعتبار سے تو آپ کی یہ شان تھی کہ جن کتب سماویہ کو کبھی پڑھانہ تھا ان کے مضامین بیان فرما دیتے تھے اور اخلاق کی یہ حالت کہ جن مضامین کا ظاہر کرنا غیر ضروری ہوتا تھا یعنی ایسے مضامین جن کا کسی شرعی مسئلہ سے تعلق نہ ہوتا تھا اور ان کے بیان کرنے سے اہل کتاب کی محض فضیحت و رسوائی ہوتی تھی ان کو درگزر فرما دیا کرتے تھے اور یہ آپ کی وسعت اخلاق بھی آپ کی نبوت کی دلیل کے لئے موید تھی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ویعفوا عن کثیر سے یہود و نصاریٰ کی کو تا ہیں اور ان کے گناہ مراد ہوں کہ ان کے ذاتی معاملات کی تشہیر کر کے ان کی رسوائی اور ان کو فضیحت نہیں فرماتے بلکہ جن مضامین کا تعلق شرعی احکام سے ہوتا ہے صرف اس کو صاف طور پر بیان فرماتے ہیں۔ یہ آپ کے علم اور آپ کے اخلاق کی انتہائی بلندی کا اظہار ہے نیز اس امر پر تنبیہہ بھی ہے کہ ایک ایسے رسول کی موجودگی میں اب مضامین حصہ اور مسائل شرعیہ کا چھپانا بےسود ہے اس کی تشریف آوری سے قبل جو گمراہی پھیلا چکے وہ پھیلا چکے اور اب چونکہ تمہاری تمام وہ مضحکہ خیز مکاریاں جو تم کرتے رہے ہو ظاہر ہوجائیں گی اس لئے اب تم کتاب الٰہی کی ان تحریفات سے باز آ جائو اور اس رسول پر ایمان لے آئو۔ نور سے مراد نبی کریم ﷺ اور کتاب سے مراد قرآن کریم ہے اور ہوسکتا ہے کہ نور سے مراد اسلام ہو اور کتاب سے مراد قرآن کریم ہو اور ہوسکتا ہے عطف تفسیری ہو اور یہ مطلب ہو کہ تمہارے پاس ایک روش چیز یعنی کتاب مبین آچکی ہے۔ بہ کی ضمیر کا مرجع نور اور کتاب دونوں کی طرف ہے چونکہ یہ دونوں اپنے مقصد کے اعتبار سے ایک ہی ہیں اس لئے مفرد کی ضمیر بیان فرمائی سلامتی کی راہوں سے مراد عذاب سے محفوظ رہنے کی راہیں ہیں یا جنت میں جانے کے راستے ہیں اور ہوسکتا ہے سلام سے مراد خود حضرت حق تعالیٰ کی ذات ہو اور مطلب یہ ہو کہ اس پیغمبر اور اس کتاب کی برکت سے ہم اپنے تک پہونچنے کی راہیں اس شخص پر نمایاں کردیتے ہیں جو ہماری رضا کا طالب ہو ، اور رضائے حق کا پیروی وہی شخص ہوسکتا ہے جو اس کا طالب ہو۔ اس لئے ہم نے بعض محققین کی تفسیر سے من اتبع رضوانہ کا ترجمہ رضائے حق کا طالب کیا ہے باذنہ سے مراد حضرت حق کی توفیق اور اس کا فضل ہے یھدیھم کا مطلب یہ ہے کہ ان کو ان راستوں پر چلاتا ہے اور ان کو ثابت رکھتا ہے ہم نے ترجمہ اور تسہیل میں سب اقوال کی رعایت رکھی ہے سبیل السلام کے کچھ ہی معنی کئے جائیں مگر مراد ان طریقوں سے عقائد و اعمال ہیں۔ غرض ! آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے یہود و نصاریٰ تم کو معلوم ہونا چاہئے کہ تمہارے پاس ہمارا وہ آخری رسول ﷺ جس کی بشارتیں اور جس کا تذکرہ تمہاری کتابوں میں موجود ہے آگیا ہے اور وہ ہمارا رسول مبعوث ہوچکا ہے اس کے علم کی شان یہ ہے کہ ا ن مضامین شرعیہ میں سے جن کو تم چھپاتے چلے آتے ہو وہ تمہارے سامنے بےتکلف صاف صاف بیان کردیتا ہے اور اس کے خلق عظیم کی یہ شان ہے کہ اکثر باتیں جن کا ظاہر کرنا محض تمہاری رسوائی اور فضیحت کا ہو جب ہو اور ان سے کوئی شرعی امر متعلق نہ ہو ان کو نظر انداز کر دیات ہے اور ان کی تشہیر نہیں کرتا۔ یہ اس کے علم اور اس کے عمل کی انتہائی بلندی ہے اور دیکھو تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی جانب سے پیغمبر اور قرآن کریم آچکا ہے اللہ تعالیٰ ان دونوں چیزوں کے ذریعہ ہر اس شخص ک نجات اور سلامتی کے طریقے بتاتا اور دکھاتا ہے جو اس کی رضا کے طالب ہوں اور رضائے حق کے جویاں ہوں اور ان کو کفر و معصیت کی گوناگوں تاریکیوں سے نکال کر ایک ایسے اجالے اور ایک ایسی روشنی میں لے آتا ہے جو صحیح عقائدو اعمال کی روشنی ہے اور یہ تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی جانب لے آنا اس کی توفیق اور اس کی مشیت وا رادے کے ماتحت ہوتا ہے اور نہ صرف یہ کہ صحیح راہ دکھا کر اپنی سرپرستی ہٹا لیتا ہے بلکہ ایسے لوگوں کی پوری سرپرستی فرماتا ہے اور ان کو صحیح راہ پر ثابت قدم رکھتا ہے۔ یہ بات رکھنی چاہئے کہ اگرچہ نبی کریم ﷺ اور قرآن کریم کے ذریعہ سے ہدایات کا حاصل ہونا تمام بنی نوع انسان کے لئے ہے مگر چونکہ طالبان حق اس سے حقیقی طور پر مستفید ہوتے ہیں اس لئے ان کا تذکرہ فرما دیا سل سلام کی ہدایت اور طریق مستقیم کی ہدایت میں تغایر و صفی کی رعایت سے ہم نے تفسیر کی ہے ۔ اگرچہ یہ تغایر و صفی تغایر ذاتی کے مرتبہ کردیا گیا ہے بہرحال جب کوئی بندہ حضرت حق تعالیٰ کی رضا کا طالب ہوتا ہے اور راہ حق کا جو یاں ہوتا ہی تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے ساتھ اس کی سرپرستی فرماتی ہیں اور اس کی ایسی رہنمائی کرتے ہیں کہ اس کو گرنے اور بھٹکنے نہیں دیتے جب کبھی گرتا ہے تو اس کو سنبھال لیتے ہیں ہرچند کہ راستہ سلامتی کا ایک ہی ہے مگر چوں کہ اس کے فنون اور اس کی شاخیں بہت سی ہیں اس لئے سبل فرمایا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب اب آگے نصاریٰ کے بعض عقائد فاسدہ کا ذکر اور ان کا رد فرماتے ہیں چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 5:17

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ١ؕ قُلْ فَمَنْ یَّمْلِكُ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ اَنْ یُّهْلِكَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّهٗ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ؕ وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 5:17 in the Quran reader

یقینا ان لوگوں نے کفر کیا جنہوں نے یوں کہا کہ مسیح (علیہ السلام) ابن مریم ہی عین خدا ہے اے پیغمبر ! ﷺ ان سے کہو اگر اللہ تعالیٰ مسیح (علیہ السلام) ابن مریم کو اور اس کی ماں کو اور سب زمین والوں کو ہلاک کرنا چاہے تو وہ کون ہے جو خدا کو اس کے ارادے سے ذرا بھی روک سکے2 حالانکہ اللہ ہی کی سلطنت ہے آسمانوں پر اور زمین پر اور جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے اس سب پر وہ جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر شئی پر پوری طرح قادر ہے ۔3

ف 2 بلاشبہ وہ لوگ کافر ہوگئے جنہوں نے یوں کہا کہ مسیح ابن مریم عین خدا ہے اور اللہ تعالیٰ تو وہی عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم ہے اے پیغمبر ﷺ ! آپ ان سے فرمائیے اگر یہ بات ہے جو تم کہتے ہو تو اچھا بتائو اگر اللہ تعالیٰ حضرت مسیح ابن مریم کو جن کو تم عین خدا کہتے ہو اور ان کی والدہ کو اور ان سب لوگوں کو روئے زمین پر آباد ہیں ہلاک کرنا چاہے تو وہ کون ہے جو اللہ تعالیٰ کو اس کے ارادے سے روک سکے اور کیا کوئی ایسا شخص ہے جو اللہ تعالیٰ سے ان کو ذرا بھی بچا سکے اور کیا اللہ تعالیٰ کے سامنے کس کا کچھ بس چل سکتا ہے۔ ہم نے عرض کیا تھا کہ نصاریٰ کے بیشمار فرقے ہیں انہی فرقوں میں سے کسی فرقے کا یہ عقیدہ ہے کہ مسیح ابن مریم ہی خدا ہے یعنی دونوں میں اتحاد اور حلول کے قائل ہیں ہوسکتا ہے کہ یہ عقیدہ فرقہ یعقوبیہ کا ہو اور ہوسکتا ہے کہ فرقہ للکانیہ کا ہو اور ہوسکتا ہے کہ دونوں کا ہو اس عقیدے کے قائلین کا دعویٰ یہ ہے کہ حضرت مسیح اور اللہ تعالیٰ دو چیزیں نہیں ہیں بلکہ جس کو مسیح ابن مریم کہا جاتا ہے وہی تو اللہ تعالیٰ ہے اللہ تعالیٰ نے دنیا میں مسیح کی شکل اختیار کرلی تھی یا مسیح میں اللہ تعالیٰ نے حلول فرما لیا تھا او چونکہ اس عقیدے میں توحید کا انکار ہے اس لئے کفر لازم آگیا۔ اسی لئے فرمایا ایسا کہنے والے اور مسیح ابن مریم کو عین خدا بتانے والے لوگ کافر ہیں ان کے کفر کا اظہار کرنے کے بعد پھر اس غلط عقیدے کا ابطال فرمایا اور ارشاد ہوا کہ اے پیغمبر ! ﷺ ان سے دریافت کیجیے کہ جس اللہ تعالیٰ کو یہ قدرت حاصل ہے کہ اگر وہ مسیح ابن مریم اور اس کی ماں بلکہ تمام روئے زمین کی تمام مخلوق کو ہلاک کرنے کا ارادہ فرما لے اور ان کو موت بھیج دے اور یہ مرجائیں تو اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں کوئی ذرا بھی یہ حق نہیں رکھتا کہ ان پر سے دفع کرسکے اور اللہ تعالیٰ کے ارادے اور اس کی مشیت میں دخل دے سکے تو جو مخلوق حضرت حق تعالیٰ کے ارادے اور اس کے حکم سے ہلاک ہوجائے اور مرجائے وہ خدا تعالیٰ کے عین اور اس کی شریک کس طرح ہوسکتی ہے اگرچہ ا ن کے کفر کا ابطال صرف مسیح ابن مریم کی موت کا تجت القدرت ہونے میں بھی ہوسکتا تھا لیکن حق تعالیٰ نے ان کی ماں کا ذکر بھی فرمایا تاکہ یہ بات معلوم ہو سکے کہ تم جس کو عین خدا سمجھ رہے ہو وہ تو ایک عورت سے پیدا ہوا ہے۔ نیز اس لئے کہ خود حضرت مسیح میں اس قدر استطاعت نہیں ہے کہ وہ اپنے کو یا اپنی ماں کو جن کے بڑے فرماں بردار اور اطاعت گذار تھے اللہ تعالیٰ کے ہلاکت آفریں ارادے سے محفوظ رکھ سکیں اور روئے زمین کی مخلوق کا ذکر اس لئے فرمایا کہ یہ بات ظاہر ہوجائے کہ مسیح ابن مریم بھی روئے زمین کی مخلوق کی طرح ہیں اور ان کی موت زیست بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت میں اسی طرح ہے جس طرح تمام مخلوق کی موت وحیات اس کے قبضہ میں ہے جب تک چاہے کسی کو زندہ رکھے اور جب چاہے کسی کو فنا اور ہلاک کر دے ہم نے تسہیل میں جو تشریح کی ہے وہ ہلاک کے دونوں معنی کے لحاظ سے کی ہے کیوں کہ ہلاک کے معنی موت کے بھی ہیں۔ جیسا کہ عام طور سے مفسرین بیان کرتے یں اور قرآن و حدیث میں بکثرت یہ لفظ موت کے معنی میں استعمال ہوا ہے اور ہلاک و اہلاک فنا کردینے اور معدوم کردینے کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے خواہ کوئی معنی کئے جائیں۔ ہر تقدیر پر ان عیسائیوں کے کفر یہ عقیدے کا ابطال مقصود ہے۔ آگے ایک دوسرے طریقہ سے اسی باطل عقیدے کا رد فرماتے ہیں چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل) 3 اور اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی کی خاص سلطنت ہے آسمانوں پر اور زمین پر اور جتنی چیزیں ان دونوں میں موجود ہیں ان سب پر ہے وہ جو چیز چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور جس طرح چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور اللہ ہر چیز پر پوری طرح قدرت رکھتا ہے۔ (تیسیر) آیت کے اس آخری حصہ کی تقریریوں ہے کہ ان کی تمام مخلوق ان کی محکوم و مملوک ہے پھر ان کے ساتھ شریک یا ان کا عین کس طرح ہوسکتی ہے اور یہ جو فرمایا کہ جو چیز جس طرح چاہتا ہے پیدا کرتا ہے یہ بھی توحید کا ایک استدلال ہے کہ کسی مخلوق کو مجال دم زدن نہیں وہ جس طرح چاہے پیدا کرے اور نیز اس شبہ کا جواب ہے کہ مسیح ابن مریم بن باپ کے پیدا ہوئے ہیں اس لئے اس خصوصیت کے باعث ان کو خدا سمجھا جائے یا اس کی ربوبیت میں شریک ٹھہرایا جائے تو یہ فرمایا کہ کسی خصوصیت کے باعث و مخلوق اور محکوم ہونے سے نہیں نکل سکتے وہ اپنی مخلوق کو جس طرح چاہتا ہے پیدا کرتا ہے خواہ کسی کو بن ماں باپ کے پیدا کر دے خواہ کسی کو بن ماں کے پیدا کرے خواہ کسی کو بن باپ کے پیدا کرے اور خواہ کسی کو ماں اور باپ دونوں سے پیدا کرے اس سے کوئی اثر نہیں پڑتا اور ہر مخلوق اللہ تعالیٰ کی محکوم و مملوک ہی رہتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی قدرت سے باہر نہیں ہوجاتی۔ ہر چند کہ اس آیت میں ایک خاص فرقہ کے عقائد با طلہ کا رد فرمایا ہے لیکن سچ تو یہ ہے کہ مسیح کے متعلق عیسائیوں کے … مختلف فرقوں کے اور ہر قسم کے کفر و شرک کا رد ہوگیا اور یہ بات ثابت ہوگئی کہ تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کے سامنے بےبس عاجز اور مجبور ہے اور مخلوقات میں سے کوئی فرد اس کی اہلیت نہیں رکھتا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی حیثیت سے بھی اس کو شریک ٹھہرایا جاسکے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں اللہ صاحب کسی جگہ نبیوں کے حق میں ایسی بات فرماتے ہیں تاکہ ان کی امت ان کو بندگی کی حد سے زیادہ نہ چڑھا دیں والد نبی اس لائق کا ہے کو ہیں ۔ (موضح القرآن) اب آگے اہل کتاب کے بعض اور عقائد فاسدہ کا ابطال فرماتا ہے ۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 5:18

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ وَ النَّصٰرٰى نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰهِ وَ اَحِبَّآؤُهٗ١ؕ قُلْ فَلِمَ یُعَذِّبُكُمْ بِذُنُوْبِكُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١٘ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 5:18 in the Quran reader

اور یہود و نصاریٰ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں آپ ان سے پوچھئے اچھا تو وہ تم کو تمہارے گناہوں پر عذاب کیوں کرتا ہے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ تم بھی ان عام انسانوں میں سے جن کو وہ پیدا کرتا ہے ایک انسان ہو جسے وہ چاہتا ہے بخشتا ہے اور جسے چاہتا ہے عذاب کرتا ہے اور اللہ ہی کی سلطنت ہے آسمانوں پر اور زمین پر اور اس پر جو ان دونوں کے مابین ہے اور بالآخر اسی کی طرف سب کو لوٹنا ہے۔4

ف 4 اور یہود و نصاریٰ دونوں اس امر کا دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے بیٹے اور اس کے محبوب اور پیارے ہیں اے پیغمبر ﷺ ! آپ ان سے دریافت کے لئے کہ ایسا ہے تو اچھا یہ تو بتائو کہ تم کو تمہارے گناہوں پر عذاب کیوں کرتا ہے ؟ اور تم کو قیامت میں تمہارے گناہوں کے عوض سزا کیوں دے گا ؟ جو کچھ تم کہتے ہو یہ بات نہیں ہے بلکہ تم بھی ان عام آدمیوں میں سے جن کو وہ پیدا کرتا ہے ایک معمولی آدمی ہو اللہ تعالیٰ جس کو چاہے بخش دے اور وہ جس کو چاہے سزا دے اور خاص اللہ تعالیٰ ہی کی سلطنت ہے آسمانوں پر بھی اور زمین پر بھی اور ان چیزوں پر بھی اور جو ان دونوں آسمان و زمین کے مابین ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری طرح قدرت رکھتا ہے۔ (تیسیر) اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں کے ساتھ جو تعلق ہے اور خالق کو اپنی مخلوق کے ساتھ جو نسبت ہے اس کا تصور ہر زمانہ کے پیغمبر نے اپنی اپنی قوم کے روبرو پیش کیا ہے نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کے دور میں یہ مسئلہ بالکل صاف اور واضح کردیا گیا ہے اور یہ بتادیا گیا ہے کہ ایک جانب انتہائی ربوبیت ہے جو ہر قسم کی محبت آمیز ترقی کی ضامن ہے اور دوسری طرف انتہائی عبودیت اور تذلل و عاجزی ہے جو ہر قسم کی فرماں برداری اور اطاعت شعاری کی ذمہ دار ہے اسی نظریہ کو مختلف پہلوئوں سے ہر نبی نے سمجھانے کی کوشش کی ہے لیکن ہر نبی نے اس محبت آمیز ربوبیت کو اپنی قوم کے ذہن اور فہم کا لحاظ رکھتے ہوئے سمجھایا ہے جیسا کہ کتب سماویہ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہیں اس نسبت کو باپ اور بیٹے کی تمثیل کے ساتھ بیان کیا ہے اور کہیں اس نسبت کو ایک عاشق اور معشوق کے تعلق کے ساتھ ذہن نشین کرایا ہے اور یہ بات سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے بہت محبت کرتا ہے اور اس کو پانے بندے بہت پیارے ہیں اور تمام انسان اس کی اولاد ہیں اللہ تعالیٰ کے متعلق یہی وہ تصورات اور خیالات ہیں جنہوں نے لوگوں کے قلوب میں ایک خاص شکل اختیار کر رکھی تھی اور بنی اسرائیل نے مختلف خیال اور مختلف نظریئے قائم کر رکھے تھے اور انبیاء (علیہم السلام) کی تعلیم کو اپنے نظریوں کے سانچوں میں ڈھال رکھا تھا اگر ایک گروہ اپنے کو اللہ کی اولاد سمجھتا تھا تو دوسرا فریق اپنے کو اللہ تعالیٰ کا محبوب اور پیارا تصور کرتا تھا اور بعض لوگ وہ تھے جو اپنے کو انبیاء (علیہم السلام) کی اولاد ہونے کی وجہ سے اللہ کے ساتھ اپنے خصوصی تعلقات کے مدعی تھے۔ جس طرح ہمارے زمانے کے بعض پیر زادے اور بزرگ زادے اس قسم کی گمراہی میں مبتلا ہیں یہی وہ احمقانہ تخیلات تھے جن کے بھروسہ پر باوجود بےعملی کے یہ سمجھتے تھے کہ ہم خدا کی اولاد ہیں خدا کے محبوب ہیں اور خدا کے برگزیدہ لوگ ہمارے بزرگ تھے اس لئے ہم اللہ تعالیٰ سے خصوصی تعلق رکھتے ہیں اور اس کے مقرب میں اور چونکہ یہ مراتب ہم کو حاصل ہیں اس لئے ہم اگر نافرمانی بھی کریں تو ہم سے اللہ تعالیٰ عام مجرموں اور گناہگاروں کی طرح مواخذہ نہ کرے گا بلکہ معمولی سی تنبیہہ اور تادیب کردی جائے گی اور وہی سلوک ہوگا جیسے کوئی حاکم اور فرماں روا اپنوں کے ساتھ کیا کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس گمراہی اور باطل ادعا کا رد فرمایا اور ارشاد ہوا کہ اے پیغمبر ! آپ ان سے فرمائیے اگر ایسا ہے تو اچھا پھر اللہ تعالیٰ تم پر عذاب کیوں کرتا ہے دنیا میں تو قتل اور قید کئے جاتے ہو اور مختلف سزائوں میں مبتلا ہوتے ہو اور آخرت میں تعذیب کا تم خود بھی اقرار کرتے ہو کہ لن تمسنا النار الا ٓ ایاماً معدودۃ اور انہ من یشرک باللہ فقد حرم اللہ علیہ الجنۃ وما واہ النار۔ جب کہ حضرت مسیح کا قول ہے اور جب تعذیب محقق ہے اور مختلف سزائوں میں مبتلا ہونا مشاہد ہے تو معلوم ہوا نحن ابناء اللہ واحباء کا دعویٰ غلط اور بلا دلیل ہے اور قیامت کے عذاب میں تو تنبیہہ اور تادیب کا احتمال بھی نہیں اس لئے کہ تنبیہہ اور تادیب تو اس لئے ہوتی ہے کہ آئندہ احتیاط کی جائے اور قیامت میں جو تعذیب ہے وہ واقعی تعذیب اور جرم کی سزا ہے کیوں کہ وہاں آئندہ کرنے نہ کرنے کا احتمال ہی نہیں اور جب یہ ثابت ہوگیا کہ تم کو اللہ تعالیٰ سے کوئی خصوصی تقرب اور تعلق حاصل نہیں تو تم بھی منجملہ انسانوں کے ایک انسان ہو بشیر اصل میں انسانی جلد کو کہتے ہیں لیکن تھوڑی سی مناسبت سے بشر کے معنی آدمی کے ہیں اور جب تم ایک معمولی آدمی ہو تو عام آدمیوں کی طرح تم کو بھی برائی اور بھلائی کا بدلہ ملنا ہے کیوں کہ جب تم عوام میں داخل ہو تو اسی عام قاعدے اور قانون کی زد میں تم بھی آتے ہو کہ وہ جس کی چاہے مغفرت فرما دے اور جس کو چاہے اپنے عدل و انصاف سے عذاب کرے۔ مغفرت اس کا فضل ہے اور سزا دینا اس کا عدل ہے اور چیز آسمانی قانون میں واضح ہوچکی ہے کہ مغفرت کی شرط ایمان ہے اور کفر کی سزا دائمی تعذیب ہے اور تمہارا کفر ظاہر ہی ہے کہ تم نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کی نبوت کے منکر ہو لہٰذا تم دائمی عذاب کے مستحق ہو اور اس کو اس کارروائی سے روک بھی کون سکتا ہے کیونکہ آسمان و زمین پر اور جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے اس سب پر اسی کی حکومت ہے اور سب کی بازگشت اسی کی جانب ہے اس لئے نہ اس سے کوئی شخص بھاگ کر پناہ لے سکتا ہے نہ اس کے ہاتھ سے کوئی چھڑا سکتا ہے نہ اس پر کسی کا دبائو ہے سبحان اللہ ! کیا ترتیب ہے اور کیا دلائل ہر جملہ ایک دوسرے کی دلیل بنتا چلا جاتا ہے اور اس کا لطف وہی لوگ حاصل کرسکتے ہیں جن کو علم سے بہرہ نصیب ہوا ہے۔ آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ یہود و نصاریٰ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے دوست اور چاہتے اور اس کے پیغمبروں کی اولاد ہیں اور ہم سے دوستوں اور پیاروں کا سا معاملہ ہوگا۔ اے پیغمبر ! ﷺ آپ ان سے دریافت کیجیے اگر یہ بات ہے تو پھر اللہ تعالیٰ تم کو دنیا میں مختلف سزائیں کیوں دیتا ہے اور آخرت میں تم کو عذاب کیوں کرے گا جس کا تم کو خود بھی اقرار ہے۔ نہیں ! تم نہ اس کے بیٹے ہو، نہ اس کے دوست اور پیارے ہو اور نہ صرف بڑوں کی اولاد ہونے کی وجہ سے تم کو کوئی تقرب حاصل ہے بلکہ تم منجملہ اور آدمیوں کے ایک معمولی آدمی ہو اور تم پر بھی الہل تعالیٰ کا یہ قانون نافذ ہے کہ وہ جس گناہ گار کو چاہے بخشدے بشرطیکہ وہ کفر کا مرتکب نہ ہو اور جس گناہگار کو چاہے عذاب کرے اور اس کو ایسا کرنے سے کوئی مانع نہیں کیونکہ تمام آسمانوں پر اور زمین پر اور جو موجودات ان دونوں کے مابین ہیں اس سب پر اسی کی حکومت ہے اور اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے اور سب کی بازگشت اسی کی طرف ہے اب آگے پھر اہل کتاب کو خطاب اور نبی کریم ﷺ کی رسالت پر ایمان لانے کی دعوت ہے ۔ چناچہ ارشاد ہتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 5:19

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ عَلٰى فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآءَنَا مِنْۢ بَشِیْرٍ وَّ لَا نَذِیْرٍ١٘ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَشِیْرٌ وَّ نَذِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 5:19 in the Quran reader

اے اہل کتاب تمہارے پاس ہمارا یہ رسول جو تم کو ہمارے احکام واضح طور پر بتاتا ہے ایسے وقت آیا ہے جبکہ رسولوں کا آنا ایک عرصہ سے بند تھا تاکہ کہیں تم یوں نہ کہو کہ ہمارے پاس کوئی خوشی سنانے والا اور ڈرانے والا نہیں آیا سو بلاشبہ اب تمہارے پاس بشیر اور نذیر آگیا اور اللہ پر ہر شئی پر پوری طر ح قادر ہے۔1

ف 1 اے اہل کتاب تمہارے پاس ہمارا یہ رسول یعنی محمد ﷺ جو تم کو ہمارے احکام صاف اور واضح طور پر بتاتا ہے ایسے وقت آیا ہے اور یہ رسول تمہارے پاس ایسے وقت میں پہنچا ہے جبکہ ایک عرصہ سے رسولوں کی تشریف آوری کا سلسلہ موقوف اور بند تھا تاکہ تم قیامت میں عذر کے طور پر یوں نہ کہنے لگو کہ ہمارے پاس کوئی خوشی سنانے والا اور ڈرانے والا نہیں آیا یعنی قیامت میں اپنی نافرمانی کے متعلق یہ عذر نہ پیش کرسکو کہ اے پروردگار ! ہمارے پاس کوئی رسول تو آیا ہی نہیں جو ہم کو شریعت کے احکام بتاتا اور ہم تیری اطاعت کرتے لہٰذا ! تم کو مطلع کیا جاتا ہے کہ تمہارے پاس اب وہ رسول آ پہونچا جو بشیر بھی ہے اور نذیر بھی ہے اور اللہ تعالیٰ ہر شئی پر پوری طرح قدرت رکھتا ہے۔ (تیسیر) عربی کا محاورہ کہ جب کسی شئی کی حرکت بند ہوجائے یا اس کی حرکت کم ہوجائے تو کہا کرتے ہیں فتر الشئی قرآن کریم نے اس علی فترۃ کو اس زمانہ کے لئے استعمال کیا ہے جو حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد ﷺ کے درمیان کا زمانہ ہے اور جس کی مقدار کم و بیش چھ سو سال ہے اور یہ وہ دور ہے کہ جس میں کوئی نبی مبعوث نہیں ہوا ۔ حضرت عیسیٰ کے آسمان پر اٹھا لینے کے بعد کوئی نبی نہیں بھیجا گیا جس طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) انبیاء بنی اسرائیل کے آخری نبی تھے اسی طرح نبی کریم ﷺ جملہ انبیاء کے لئے خاتم النبین اور آخری نبی ہیں حضرت عیسیٰ کے بعد ان کے جانشین اور ان کے وصی کام کرتے رہے یا وہ لوگ کام کرتے رہے جن کو وہ اپنی موجودگی میں مختلف مقامات پر تبلیغ کے لئے روانہ فرما گئے تھے جیسا کہ سورة یسیٰن میں ان کے بعض فرستادوں کا ذکر انشاء اللہ تعالیٰ آجائے گا۔ اس نفرت کے زمانہ میں ظاہر ہے کہ ایک عام جہالت اور گمراہی میں لوگ مبتلا ہوگئے اور توریت و انجیل کی تعلیم کو لوگوں نے مسخ کردیا عرب کی حالت کچھ سے کچھ ہوگئی دین ابراہیمی کا نام لوگں کی زبانوں پر تھا لیکن ملت ابراہیمی کی صحیح تصویر اور اس کے حقیقی تصور سے لوگ یکسر نا آشنا ہوچکے تھے اسی طرح یہود و نصاریٰ کا خال تھا کہ یہ لوگ موسیٰ اور عیسیٰ کا نام ضرور لیتے تھے لیکن مختلف قسم کے فسق و فجور اور ظلم وعدوان میں مبتلا تھے اور ان کی حالت اس امر کی مقتضی تھی کہ ان کی رہنمائی اور ان کی دستگیری کی جائے اور ایسی حالت میں کہ مرور زمانہ اور حوادثات و واقعات کی بنا پر انبیاء سابقہ کی شرائع تقریباً مفقود اور معدوم ہوچکی تھیں اور ان کے علم کا کوئی صحیح ذریعہ باقی نہیں رہا تھا۔ ٹھیک ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ نے یہ احسان فرمایا کہ نبی آخر الزماں ﷺ کو ان کی طرف مبعوث فرمایا تاکہ تم قیامت میں رب العالمین کے سامنے یہ عذر نہ کرسکو کہ ہمارے پاس کوئی رسول نہیں آیا جو ہم کو دین کی صحیح تعلیم دیتا اور صحیح عمل کرنے پر بشارت اور نہ کرنے پر عذاب سے متنبہ کرتا۔ اس لئے اے پروردگار ! ہم معذور ہیں لہٰذا تم کو خبردار کیا جاتا ہے کہ وہ بشیر و نذیر آگیا اور اب کسی عذر کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ واللہ علی کل شیء قدیر کا یہ مطلب ہے کہ ایک مدت تک رسولوں کے سلسلے کو روک دینے پر بھی قادر ہے اور پے در پے رسول بھیجنے پر بھی قادر ہے اور اس پر بھی قادر ہے کہ بشیر و نذیر کے نہ ماننے پر منکرین کو سزا دے اور عذاب کرے اور اس پر بھی قادر ہے کہ اگر تم نہ مانو ! تو کسی اور قوم کو تمہاری جگہ لے آئے اور وہ اس نبی پر ایمان لائے اور اس کی شریعت پر صحیح طور پر عمل کرے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں فرماتے ہیں حضرت عیسیٰ کے بعد کوئی رسول نہ آیا تھا سو فرمایا کہ تم افسوس کرتے کہ ہم رسولوں کے وقت میں نہ ہوئے کہ تربیت ان کی پاتے اب بعد مدت تم کو رسول کی صحبت میسر آئی غنیمت جانو اور اللہ قادر ہے اگر تم نہ قبول کرو گے اور خلق کھڑی کر دے گا تم سے بہتر جیسے حضرت موسیٰ کے ساتھ جہاد کرنا قبول نہ کیا ان کی قوم نے اللہ نے ان کو محروم کردیا اوروں کے ہاتھ ملک شام فتح کروا دیا۔ (موضح القرآن) غرض ! آیت زیر بحث کا خلاصہ ترجمہ یہ ہے اے اہل کتاب ہمارا یہ رسل جو شریعت کے احکام تم کو صاف صاف بتاتا ہے تمہارے پاس ایسے زمانہ میں آیا ہے جبکہ ایک مدت سے رسولوں کا تشریف لانا موقوف تھا ہم نے اپنے اس رسول کو اس ضرورت کے موقعہ پر اس لئے بھیجا تاکہ تم قیامت میں یہ نہ کہو کہ ہم امر حق کے بجا لانے میں اس لئے معذور رہے کہ ہمارے پاس کوئی خوشخبری دینے والا اور ڈر سنانے والا نہیں آیا جو ہم کو صحیح احکام سکھاتا اور بتاتا اور چونکہ انبیائے سابقہ کے احکام شرعیہ ضائع ہوچکے تھے اور کچھ مخلوط ہوگئے تھے اور حق و باطل کا امتیاز باقی نہ رہا تھا اس لئے ہم سے کوتاہیاں اور غلطیاں واقع ہوئیں اور اب ہم کو معذور سمجھا جائے لہٰذا ہم تم کو مطلع کرتے ہیں تم خوب اچھی طرح سن لو اور سمجھ لو ! کہ قیامت میں تمہارے لئے کوئی عذر کی گنجائش نہ ہوگی کیونکہ تمہارے پاس بشیر و نذیر آچکا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر شئی پر پوری طرح قادر ہے۔ بشیر و نذیر فرمانے کی شاید یہ وجہ بھی ہو کہ کتاب سماویہ میں آپ کی نعت اور آپ کی پشین گوئیوں کے سلسلے میں آپ کا لقب بشیر و نذیر مذکور ہے۔ (واللہ اعلم) اوپر بنی اسرائیل کی عہد شکنی کا ذکر آیا تھا اب یہود کی ایک خاص عہد شکنی کا ذکر فرماتے ہیں جو حضرت موسیٰ اور ہارون کے ساتھ انہوں نے کی اور جہاد کا حکم جو ان کو دیا گیا تھا اس کی خلاف و رزی کی اور کسی فریضہ کو نہ ادا کرنا اور جان بوجھ کر اس سے جان چرانا یہ کھلی عہد شکنی ہے جیسا کہ ابھی ہم اوپر عرض کرچکے ہیں چناں چہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 5:20

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْكُمْ اَنْۢبِیَآءَ وَ جَعَلَكُمْ مُّلُوْكًا١ۖۗ وَّ اٰتٰىكُمْ مَّا لَمْ یُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 5:20 in the Quran reader

اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا اے میری قوم اللہ کے ان احسانات کو جو اس نے تم پر کئے ہیں یاد کرو جبکہ اس نے تم میں بہت سے نبی پیدا کئے اور تم کو حکمراں بنایا اور تم کو کچھ چیزیں ایسی بھی عطا کیں جو اقوام عالم میں سے کسی اور کو عطا نہں کیا۔2

ف 2 اور وہ واقعہ بھی قابل ذکر ہے جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے ان احسانات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا تھا جو اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم پر کئے تھے اے میری قوم تم اللہ تعالیٰ کے اس احسان کو یاد کرو جو تم پر ہوا ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے تم میں ب ہت سے پیغمبر پیدا کئے اور تم کو صاحب ملک اور فرماں رواں بنایا اور تم کو بعض بعض چیزیں ایسیع طا فرمائیں جو دنیا جہان والوں میں سے کسی کو نہیں عطا کیں یعنی اقوام عالم میں سے کسی اور کو عطا نہیں فرمائیں۔ (تیسیر) بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے فرعون اور آل فرعون کو غرق کردیا اور بنی اسرائیل اطمینان کے ساتھ مصر پر قابض ہوچکے تو اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہوا کہ ان کو ملک شام میں جو ان کے بزرگوں کا وطن تھا واں پہنچائے اور وہاں کی حکومت ان کو تفویض کرے اور چوں کہ وہاں عمالقہ کا قبضہ تھا اس لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو جہاد کی ترغیب دی اور اسی ترغیب کے موقع پر حضرت موسیٰ نے ان کے سامنے یہ تقریر کی۔ اول اللہ تعالیٰ کے احسانات کا ذکر فرمایا او ان کو بتایا کہ دیکھوتم پر ظاہری اور باطنی احسانات اللہ تعالیٰ کے بیشمار ہیں تم کو نبوت اور سلطنت دونوں نعمتیں عطا فرمائی ہیں اور بعض ایسی ایسی چیزوں سے بھی نوازا ہے جو اوروں کو نصیب نہیں ہوئیں۔ مثلاً تمہارے دشمن کو غرق کیا۔ فرعون کی غلامی سے تم کو آزاد کیا ذلت و بےچارگی سے نکال کر بلندی پر پہنچایا اور تخت و تاج کا مالک بنایا اور با ایں ہمہ دنیوی انعام وا حسان کے اللہ تعالیٰ کا قرب میسر ہوا۔ غرض ! سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو جہاد کے ارادے سے لیکر چلے اور جب بیت المقدس کے قریب پہنچے تو ان بارہ سرداروں کو جن کا ذکر اوپر گذر چکا ہے عمالقہ کی حالت معلوم کرنے کی غرض سے خفیہ طور پر بھیجا اور ان کو سمجھا دیا کہ وہاں سے آ کر قوم عمالقہ کی قوت و شوکت کا ذکر ان لوگوں سے نہ کرنا البتہ شہر کی رونق اور باغات وغیرہ کا ذکر کرنا لیکن ہوا یہ کہ ان بارہ سرداروں میں سے سوائے یوشع بن نون اور کالب بن یوقنا کے باقی سب نے تفصیلی حالات بیان کردیئے اس پر بنی اسرائیل کی ہمت ٹوٹ گئی اور دل چھوٹ گیا اور مصر کو واپس جانے پر آمادہ ہوگئے اس پر حضرت موسیٰ نے جو کچھ فرمایا اور جو واقعات پیش آئے ان کا ذکر آگے کی آیات میں آئے گا آیت زیر بحث کا خلاصہ صرف اس قدر ہے کہ وہ واقعہ قابل ذکر ہے جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے میری قوم تم اللہ تعالیٰ کے ان احسانتا کو یاد کرو جو وہ تم پر وقتاً فوقتاً کرتا رہا ہے جب کہ اس نے تم میں بہت سے پیغمبر پیدا کئے مثلاً حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کی اولاد میں سے بہت سے لوگ اور تم کو صاحب مملکت اور فرماں روا بنایا اور تم کو بعض ایسی چیزیں بھی عطا کیں جو اقوام عالم میں سے او دوسری قوموں کو نہیں دیں اس آیت کے سلسلے میں دو تین باتیں محلوظ خاطر ہیں۔ (1) جعل فیکم انبیآء کا ترجمہ ہم نے اس طرح کیا ہے کہ اس نے تم میں بہت سے پیغمبر پیدا کئے جس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر خود ساخت ہ نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ کی نظر انتخاب جس کو منتخب کرلیتی ہے وہی نبی ہوتا ہے اور نبی ماں کے پیٹ سے نبی پیدا ہوتا ہے اس لئے کہ نبوت کوئی کسی چیز نہیں ہے۔ (2) وجعلکم ملوکا۔ میں قرآن کریم نے تھوڑا سا عکنوان بدل دیا ہے یا تو یہاں بھی فیکم منکم محذوف ہے اور یا اس غرض سے کہ بادشاہت اور نبوت میں فرق ہے کسی قوم میں سے اگر کوئی شخص بادشاہ ہوجائے تو پوری قوم کی بادشاہت سمجھی جاتی ہے جیسے پٹھانوں کی سلطنت اور مغلوں کی بادشاہت اور غلاموں کی سلطنت اور خلیجوں کی حکومت لیکن نبوت کو اس طرح نہیں کہہ سکتے کہ عربوں کی نبوت، یا عراقیوں کی نبوت، یا بنی اسرائیل کی نبوت۔ کیونکہ نبی ایک ہی شخص ہوتا ہے اور نبوت کو اس کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف منسوب نہیں کیا جاسکتا لیکن بادشاہت کی یہ حالت نہیں جیسا کہ اوپر کی مثالوں سے واضح ہوچکا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے وجعلکم ملوکا فرمایا اور یہی وجہ ہے کہ بادشاہ کے قرابت دار بھی کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم بادشاہ ہیں ہم سے کون آنکھ ملا سکتا ہے یا اس بنا پر یہ عنوان اختیار فرمایا ہو کہ ساری قوم فرعون کی غلام تھی اور آزاد ہونے کے بعد ہر شخص با اختیار ہوگیا۔ اس لئے فرمایا کہ تم کو بادشاہ بنایا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہر اس شخص کو جو صاحب منازل ہو اور کوئی اس کے گھر میں بلا اجازت کے داخل نہ ہو سکے اس کو ملک کہہ دیا کرتے ہیں یا اس شخص کو بھی ملک کہہ سکتے ہیں جس کے پاس خادم ہوں۔ عبداللہ بن عباس کا قول ہے کہ بنی اسرائیل میں جس شخص کے پاس بیوی، خادم اور مکان ہوتا اس کو ملک کہتے تھے ضحاک کا قول ہے کہ جس کے پاس وسیع مکان ہوتا اور اس میں نہر جاری ہوتی اس کو ملک کہتے تھے حضرت ابوخدری سے ابن ابی حاتم نے مرفوعاً نقل کیا ہے کہ بنی اسرائیل میں سے جس شخص کے پاس خادم، سواری اور بیوی ہوتی اس کو ملک کہا جاتا تھا۔ حضرت عمرو بن العاص کے صاحبزادے سے کسی نے دریافت کیا اے ابن عمرو کیا ہم فقراء مہاجرین میں سے نہیں ہیں انہوں نے جواب دیا کیا تیری بیوی ہے اس نے کہا ہاں بیوی ہے پھر انہوں نے کہا تیرے پاس رہنے کو مکان ہے اس نے کہا ہاں مکا ن بھی ہے ابن عمرو نے فرمایا تو اغنیاء میں سے ہے اس نے کہا میرے پاس ایک خادم بھی ہے صاحبزادے نے فرمایا تو ملوک میں سے ہے حضرت مجاہد نے جعلکم ملوکا کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو بیویاں دیں خادم دیئے اور رہنے کو مکان دیئے۔ حدیث شریف میں آتا ہے جس شخص نے ایسی حالت میں صبح کی کہ اس کا جسم تندرست ہے اور اس کا دل مطمئن ہے اور اس کے پاس اس دن کا کھانے کو ہے تو یوں سمجھو گویا اس کے پاس دنیا پوری کی پوری جمع کردی گئی ہے۔ (3) ہرچند کہ تفاسیر میں بہت سے اقوال ہیں لیکن بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ملوک سے یہاں صاحب ملک اور صاحب سلطنت مراد ہے … یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے نبوت اور ملوکیت دونوں کو احسان فرمایا ہے اور مدعا یہ ہے کہ روحانیت اور مادیت دونوں حالتوں سے بنی اسرائیل کو نوازا تھا جس طرح روحانیت کی بلندی جس کا منتہا نبوت ہے اللہ تعالیٰ کا احسان اور کرم ہے اسی طرح مادیت جس کو منتہا بادشاہت اور سلطنت ہے یہ بھی اللہ تعالیٰ کا احسان ہے شرطی کہ کوئی مادیت سے صحیح فائدہ حاصل کرے۔ (4) بنی اسرائیل کو جو کچھ ملا وہ کسی کو نہیں ملا اس کا مطلب ہم وانی فضلتکم علی العلمین کی تفسیر میں بیان کرچکے ہیں اور یہاں بھی اشارہ کردیا ہے کہ بعض خصوصی اشیاء سے بنی اسرائیل کو نوازا تھا یا یہ مطلب ہے کہ اس زمانے میں اور قوموں کو وہ خصوصیت میسر نہیں تھی جو بنی اسرائیل کو حاصل تھی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس تمہیدی تقریر کے بعد جو کچھ فرمایا اور قوم نے جو جواب دیا اب آگے اس کا مذکور ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 5:21

یٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِیْ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَرْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 5:21 in the Quran reader

اے میری قوم اس مقدس سر زمین میں داخل ہو جائو جو زمین اللہ تعالیٰ نے تمہارے حصہ میں لکھ دی ہے اور پیٹھ دکھا کر واپس مت جائو ورنہ سخت نقصان میں جا پڑو گے۔3

ف 3 اے میری قوم تم اس مقدس سر زمین اور متبرک ملک میں داخل ہو جائو کہ اس ملک کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے حصہ میں لکھ دیا ہے اور دیکھو پیٹھ پھیر کر واپس مت ہو اور وطن کی طرف مت لوٹو ورنہ یاد رکھو تم سخت خسارے میں جا پڑو گے۔ (تیسیر) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں حضرت ابراہیم اپنے باپ کا وطن چھوڑ نکلے اللہ کی راہ میں اور ملک شام میں آ کر ٹھہرے اور مدت تک ان کو اولاد نہ ہوئی تب اللہ تعالیٰ نے ان کو بشارت فرمائی کہ تیری اولاد بہت پھیلائوں گا اور زمین شام ان کو دوں گا اور نبوت اور دین اور کتاب اور سلطنت ان میں رکھوں گا پھر حضرت موسیٰ کے وقت وہ وعدہ پورا کیا بنی اسرائیل کو فرعون کی بیگار سے خلاص کیا اور اس کو غرق کیا اور ان کو فرمایا کہ تم جہاد کو عمالقہ سے ملک شام چھین لو پھر ہمیشہ وہ ملک شام تمہارے ہے۔ حضرت موسیٰ نے بارہ شخص بارہ قبیلہ بنی اسرائیل پر سردار کئے تھے ان کو بھیجا کہ اس ملک کی خبر لا دیں وہ خبر لائے تو ملک شام کی بہت خوبیاں بیان کیں اور وہاں مسلط تھے عمالقہ ان کی قوت و زور بھی بیان کیا۔ حضرت موسیٰ نے ان کو کہا کہ تم قوم کے پاس خوبی ملک بیان کرو اور قوت دشمن مت کہو ان میں دو شخص اس حکم پر رہے اور دس نہ رہے قوم نے سنا تو نامردی کرنے لگے اور چاہا کہ پھرا لئے مصر جاویں ، اس تقصیر سے چالیس برس فتح شام کو دیر لگی اس قدرت مدت جنگلوں میں پھرتے رہے جب اس قرآن کے لوگ مرچکے مگر دو شخص کہ وہی حضرت موسیٰ کے بعد خلیفہ ہوئے ان کے ہاتھ سے فتح ہوئی ۔ (موضح القرآن) ارض مقدس سے پورا ملک شام مراد ہے یا ارض فلسطین مراد ہے اور ہوسکتا ہے کہ طور اور اس کے آس پاس کے علاقے ہوں اور ہوسکتا ہے کہ ایلیا اور بیت المقدس مراد ہوں یا اریحا مراد ہو یا دمشق اور فلسطین اور شرق اردن کا کچھ مراد ہو۔ بہرحال ! ہم نے قتادہ کا قول اختیار کیا ہے اس ملک کو مقدس اور متبرک کہنے کی شاید یہ وجہ کہ یہ ملک ہمیشہ انبیاء علیہم الصلوۃ کا مسکن اور مدفن رہا ہے اور جہاں بیشمار انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام مدفون ہوں اس سر زمین کے تقدس میں کیا شک ہوسکتا ہے اور یہ شبہ نہ کیا جائے کہ اس سر زمین میں گناہگار مسلمان بھی تو مدفون ہوں گے اس کا جواب یہ ہے کہ نیک لوگوں کی وجہ سے جو تقدس حاصل ہوچکا وہ بعد میں گناہگاروں کے دفن سے زائل نہیں ہوتا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ جو فرمایا کہ اس ارض مقدسہ میں داخل ہو اس کا مطلب یہ ہے کہ جو قوم وہاں مسلط اور قابض ہے ان سے جہاد کرنے کے ارداے سے اس سر زمین میں داخل ہو۔ کتب اللہ لکم کے بھی کئی معنی مفسرین نے کئے ہیں اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو حکم دیا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نماز روزے کی طرح تم پر ہی کام فرض کردیا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ دیا ہے کہ اگر تم نے اطاعت کی اور ایمان پر قائم رہے تو یہ ملک تم کو مل جائے گا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تمہارے حصہ میں یہ ملک لکھ دیا ہے اگر تم اپنی قربانی کے باعث محروم رہو گے تو تم سے بعد کے آنے والوں کو فتح نصیب ہوگی اور ان کے ہاتھ پر اس ملک کو فتح کرا دیا جائے گا۔ ولا ترتد و اعلیٰ ادبارکم کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ میرے کلمہ کی مخالفت نہ کرو اور میری اطاعت سے پیٹھ نہ پھیرو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ عمالقہ کے مقابلہ میں بزدلی نہ دکھائو اور پیٹھ دکھا کر نہ ھباگو ہم نے آسان مطلب بیان کردیا ہے جو ان کی حالت کے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ پیٹھ دیکر اپنے وطن کی طرف واپس نہ جائو اور عام طور سے ایسا ہوتا ہے کہ انسان جہاد سے گھبرا کر اپنے گھر جانا چاہتا ہے اس لئے ان کی خواہش بھی یہ ہوگی کہ بجائے لڑنے اور ملک فتح کرنے کے مصر واپس چلو اور یہ جو فرمایا کہ اگر تم واپس ہوئے تو سخت خسارے میں پڑ جائو گے اور نقصان اٹھا کر لوٹو گے اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیوی اعتبار سے بھی نقصان میں رہو گے کیونکہ ملک قبضے میں نہ آئے گا اور دینی اعتبار سے بھی نقصان اٹھائو گے کہ فریضہ جہاد کے ترک کا گناہ ہوگا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تقریر کا خلاصہ یہ ہے اسے میری قوم ! جہاد کرنے کی نیت سے اس مقدس و متبرک سر زمین میں داخل ہو جائو اللہ تعالیٰ نے اس ملک کو تمہارے لئے مقدر کردیا ہے اور تمہارے حصہ میں لکھ دیا ہے اور دیکھو اپنے وطن کی طرف واپس نہ جائو اگر تم نے ایسا کیا یعنی گھروں کو لوٹے تو بڑے زیاں کار ہو کر لوٹو گے اور نہ دین کے رہو گے نہ دنیا کے اب آگے قوم کا جواب مذکور ہے۔ (تسہیل)
Ayah 5:22

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِنَّ فِیْهَا قَوْمًا جَبَّارِیْنَ١ۖۗ وَ اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَا حَتّٰى یَخْرُجُوْا مِنْهَا١ۚ فَاِنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَا فَاِنَّا دٰخِلُوْنَ Open ayah 5:22 in the Quran reader

بنی اسرائیل نے جواب دیا اے موسیٰ اس ملک میں تو بڑے زور آور لوگ ہیں اور جب تک وہ لوگ وہاں سے نکل نہ جائیں ہم تو وہاں ہرگز قدم بھی نہ رکھیں گے ہاں اگر وہ زور آور لوگ وہاں سے نکل جائیں تو ہم وہاں ضرور داخل ہوجائیں گے۔4

ف 4 بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ حکم سن کر جواب دیا کہ اے موسیٰ ! اس سر زمین میں تو بڑے زبردست اور زور آور قد آور لوگ رہتے ہیں اور جب تک وہ لوگ وہاں سے نکل نہ جائیں ہم تو اس سر زمین میں ہرگز قدم بھی نہ رکھیں گے ہاں ! اگر وہ زبردست اور زور آور لوگ اس سر زمین میں کس طرح نکل جائیں اور کہیں چلے جائیں تو بیشک ہم وہاں داخل ہوجائیں گے۔ (تیسیر) جہاد کے یہاں لوگوں نے مختلف معنی کئے ہیں ہم نے تیسیر میں سب معنی کی رعایت رکھی ہے اور یہ ہم ابھی عرض کرچکے ہیں کہ ان باروں سرداروں میں سے جن کو بطور جاسوس دریافت حال کے لئے بھیجا گیا تھا دس سرداروں نے تمام واقعات بیان کردیئے تھے اور عمالقہ کی حالت بیان کردی تھی کہ وہ لوگ نہایت زبردست اور آلات حرب سے پورے مسلح ہیں اور ہم تو ان کے آگے ٹڈے جیسے ہیں وہ بڑے قد آور اور جسیم ہیں یہ سن کر ان لوگوں کی ہمت پست ہوگئی اور سیدنا موسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام) کی تقریر سن کر کہنے لگے۔ جناب ہم میں ان لوگوں کے مقابلے کی طاقت نہیں ہے ہم تو اس وقت تک اس سر زمین میں قدم بھی نہیں رکھیں گے۔ اور جہاد کے ارادے سے داخل نہیں ہوں گے جب تک وہ لوگ وہاں سے کسی نہ کسی طرح نکل جائیں اور جب وہ وہاں سے نکل جائیں گے اور ارض مقدسہ کو خالی کردیں گے تو بیشک ہم وہاں داخل ہونے کو تیار ہیں اسی گفتگو کے دوران میں دو شخصوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تائید کی اور بنی اسرائیل کو ترغیب دی کہ تم ہمت کر کے شہر کے دروازے تک تو چلو اگر تم دروازے میں داخل ہوگئے تو یقین جانو ! تم پورے ملک پر قابض ہو جائو گے ان ہی دو شخصوں کا آگے مذکور ہے۔ (تسہیل)
Ayah 5:23

قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمَا ادْخُلُوْا عَلَیْهِمُ الْبَابَ١ۚ فَاِذَا دَخَلْتُمُوْهُ فَاِنَّكُمْ غٰلِبُوْنَ١ۚ۬ وَ عَلَى اللّٰهِ فَتَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:23 in the Quran reader

اس پر جو لوگ خدا سے ڈرنے والے تھے ان میں سے ان دو شخصوں نے جن پر خدا نے انعام کیا تھا بنی اسرائیل سے یوں کہا ہم ان لوگوں پر چڑھائی کر کے شہر کے دروازے میں گھس جائو، پھر جب تم دروازے میں داخل ہو جائو گے تو یقین مانو کہ تم ان پر غالب آ جائو گے اور اگر تم مومن ہو تو اللہ ہی پر بھروسہ رکھو ۔1

ف 1 بنی اسرائیل کے اس خشک جواب پر ان دو شخصوں نے جو اللہ کا خوف رکھتے تھے اور متقیوں میں سے تھے اور جن پر اللہ تعالیٰ نے نوازش فرمائی تھی ان دونوں نے بنی اسرائیل سے کہا کہ تم ان پر چڑھائی کر کے شہر کے دروازے سے گھس جائو پھر جب تم شہر کے دروازے میں داخل ہو جائو گے۔ اور دروازے کا محاصرہ کرلو گے تو یقین جانو ! کہ تم ان پر غالب آ جائو گے اور اگر تم ایمان رکھتے ہو تو اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھو۔ (تیسیر) ان دو شخصوں سے مراد بظاہر کالب اور یوشع ہیں جیسا کہ ہم نے عرض کیا ہے کہ ان بارہ سرداروں میں سے دوسردار اپنے عہد پر قائم رہے اور انہوں نے جبابرہ کی قوت و شوکت کا اظہار نہیں کیا انہی کو فرمایا ہے کہ وہ دونوں متقی اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے تھے اور ان پر اللہ تعالیٰ نے نوازش فرمائی تھی اور ان کو ثابت قدم رکھا تھا ان دونوں نے حضرت موسیٰ کی تائید کرتے ہوئے بنی اسرائیل کو سمجھایا کہ تم ایک دفعہ ہمت کر کے شہر پناہ کے دروازے تک پہنچ جائو پھر دیکھو کیا ہوتا ہے اور تم کس طرح ان پر غالب آجاتے ہو اور ان دونوں نے یہ یقین اس لئے دلایا کہ یا تو ان کو دشمن کی حالت معلوم ہوگی کہ ان کے جسم تو بڑے موٹے تازے ہیں لیکن دل کمزور ہیں اور یا تدبیر کے طور پر یہ رائے دی ہوگی کہ جب تم دروازے پر قبضہ کرلو گے اور وہ محصور ہوجائیں گے تو بہت جلدی ہتھیار ڈال دیں گے اور یا اس توقع پر کہا کہ دروازے پر قبضہ ہوتے ہی پھر معمولی سی لڑائی ہوگی اور تم غالب آ جائو گے یا اس امید پر کہا ہو کہ حضرت موسیٰ ہمارے ساتھ ہیں اور یہ امید دلا رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لئے یہ ملک لکھ چکا ہے تو پیغمبر کا فرمایا ٹل نہیں سکتا۔ یہ لوگ ضرور غالب ہوجائیں گے بس صرف اتنی بات ہے کہ پیغمبر کے حکم کی تعمیل کے لئے آمادہ ہوجائیں اور بڑھ چلیں اور حملہ کرنے کی نیت سے دروازے تک پہنچ جائیں پھر ضرور ان کی مدد ہوگی۔ اگر تم ایمان رکھتے ہو اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کے وعدے پر ایمان رکھتے ہو اور موسیٰ اور ہارون کی تصدیق کرتے ہو تو دشمن کی جانب نہ دیکھو بلکہ اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان دو شخصوں سے مراد کوئی اور دو آدمی ہوں اور یخافون کا یہ مطلب ہو کہ جو لوگ دشمنوں سے ڈر رہے تھے اور خوف کھا رہے تھے انہی میں سے دو آدمی جن کو اللہ نے اپنی توفیق سے نوازا تھا وہ بول اٹھے کہ تم گھبرائو نہیں بلکہ تم پیغمبر کے ارشاد کی تعمیل میں نکل کھڑے ہو اور دروازے تک پہنچ جائو پھر تم ہی اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے اور تمہاری فتح ہوگی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان دو شخصوں سے مراد عمالقہ کی قوم کے دو آدمی ہوں جو مسلمان ہوگئے ہو اور انہوں نے یہ امید دلائی ہو کہ ہم اپنی قوم کی حالت سے خوف واقف ہیں اگر تم نے ایک دفعہ بڑھ کر شہر کے دروازے پر قبضہ کرلیا اور شہر کو گھیر لیا تو یقین مانو ! کہ وہ ہتھیار ڈال دیں گے اور شکست قبول کرلیں گے۔ (واللہ اعلم) بہر حال بنی اسرائیل نے ان دونوں متقی اور پرہیز گار آدمیوں کے کہنے کی بھی کچھ پروا نہیں کی بلکہ بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں آدمیوں کو سنگسار کرنے اور پتھر مارنے پر آمادہ ہوگئے اور حضرت موسیٰ کو نہایت بےاعتنائی کے ساتھ گستاخانہ جواب دیا جو آگے بیان ہوتا ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 5:24

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِیْهَا فَاذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ Open ayah 5:24 in the Quran reader

مگر بنی اسرائیل نے پھر یہی جواب دیا کہ اے موسیٰ جب تک وہ لوگ وہاں موجود ہیں ہم اس سر زمین میں ہرگز کبھی داخل نہیں ہوں گے سوائے موسیٰ تو اور تیرا رب دونوں جائو اور ان سے جنگ کرو ہم تو یہیں بیٹھے ہیں ۔2

ف 2۔ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے جواب دیا اے موسیٰ ! جب تک وہ لوگ وہاں موجود ہیں ہم ہرگز کبھی بھی اس سرزمین میں قدم نہیں رکھیں گے اور اگر ان سے لڑنا ہی ہے تو اے موسیٰ ! تو اور تیرا رب دونوں جائو اور ان سے تم دونوں جا کر لڑو ہم تو یہیں بیٹھے ہیں اور ہم تو یہاں سے سرکنے والے نہیں۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ ہم تو کسی طرح اس سرزمین پر قبضہ اور تسلط رکھنے والوں سے لڑنے پر آمادہ نہیں ہیں اور اگر لڑنا ہی ہے اور ایسا کرنا ضروری ہے تو پھر اے موسیٰ تم چلے جائو اور تمہارا رب تمہاری مدد کرنے چلا جائے اور جا کر لڑ لو ہم تو یہاں سے قدم بڑھانے اور جہاد کرنے کو جانے والے نہیں بظاہر بنی اسرائیل کا یہ کہنا کفر ہے اور جو معنی ہم نے بیان کئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرنے کو جائے تب بھی ان کلمات کے فسق ہونے میں تو شک نہیں اور چونکہ حضرت ی موسیٰ ان لوگوں سے علیحدہ نہیں ہوئے۔ اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کافر نہیں ہوئے اور اسی بنا پر تفسیر مظہری نے یہ توجیہہ کی ہے جس کو ہم نے اختیار کیا ہے یعنی اذھب انت و ربک یعینک بہر حال ! جرم قابل توبہ تھا اور ہوسکتا ہے کہ حضرت ی موسیٰ نے ان سے توبہ کرائی ہو لیکن قرآن کریم میں کوئی تفصیل مذکور نہیں البتہ قواعد شرعیہ کی بنا پر یہ کہا جا سکات ہے کہ اس گستاخانہ اور فاسقانہ کلام پر ان سے توبہ ضرور کرائی گئی ہوگی۔ (واللہ اعلم) بنی اسرائیل کے اس گستاخانہ جواب سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بہت متاثر اور پریشان ہوئے اور حضرت حق تعالیٰ کی جناب میں دعا کی آگے اس دعا کا ذکر ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تہسیل)
Ayah 5:25

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ اِلَّا نَفْسِیْ وَ اَخِیْ فَافْرُقْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 5:25 in the Quran reader

اس پر موسیٰ نے کہا اے میرے رب میں سوائے اپنے اور اپنے بھائی کے اور کسی پر اختیار نہیں رکھتا ہو تو ہمارے اور اس بےحکم قوم کے درمیان فیصلہ کر دے ۔3

ف 3۔ بنی اسرائیل کے اس گستاخانہ جواب کو سن کر حضرت موسیٰ نے جناب باری میں عرض کیا اے میرے پروردگار ! میں سوائے اپنے اور اپنے بھائی کے اور کسی پر اختیار نہیں رکھتا یعنی میرا کسی پر بس نہیں چلتا مگر میری جان پر اور میرے بھائی پر بس چلتا ہے لہٰذا اب آپ ہمارے اور اس نافرمان قوم کے مابین فیصلہ فرما دیجئے۔ (تیسیر) یہ جو فرمایا الانفسی واخی اس میں علماء نے کم و بیش چھ طرح ترکیب بیان کی ہے ہم نے ایک شکل کو اختیار کرلیا ہے ایک مطلب اس کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اے میرے رب میں سوائے اپنی جان کے کسی اور پر اختیار نہیں رکھتا اور میرا بھائی سوائے اپنی جان کے کسی اور کا اختیار نہیں رکھتا…… بہر حال حضرت موسیٰ کا یہ کلام انتہائی حسرت و افسوس اور طلب نصرت و معونت کو ظاہر کرتا ہے ۔ رہا یہ شہ کہ اس موقع پر حضرت موسیٰ نے صرف اپنے بھائی کا نام لیا اور یوشع بن نون اور کالب بن یوقنا کا ذکر نہیں کیا۔ حالانکہ بارہ سرداروں میں سے یہ دوسردار وفادار ثابت ہوئے تھے اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ نے انتہائی پریشان کی حالت میں یہ دعا کی تھی اور پریشانی میں ایسا ہوجاتا ہے۔ یہ مطلب نہیں کہ وہ طبعاً بھی اس دعا میں شریک نہیں تھے اور ہوسکتا ہے کہ اخی عام ہو خواہ وہ نسبی بھائی ہو، یا دینی بھائی ہو جیسا کہ بعض نے اختیار کیا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بارہ میں سے دس نے خلاف ورزی کا ارتکاب کیا تھا اندیشہ ہوا ہو کہ نہ معلوم یہ دو بھی آگے چل کر کیسے ثابت ہوں اس لئے ان کا ذکر نہ کیا ہو اور ہارون چونکہ پیغمبر تھے۔ ان کی عصمت پر پورا اعتماد تھا اس لئے ان کا نام لے کر دعا میں شریک کرلیا ہو۔ فافرق کا یہ مطلب نہیں کہ ہم میں اور ہماری قوم میں جدائی ڈال دے اور ہم کو الگ الگ کر دے کیونکہ حضرت موسیٰ اور ہارون تادم وفات اپنی قوم میں رہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ ہم میں ایسا فیصلہ فرما دے جو ہر فریق کے حال کے مناسب اور اس کی شان کے شایان ہو۔ یا یہ مطلب ہو کہ اگر تو کوئی عذاب نازل کرے تو ہم کو جدا کر دیجیو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آخرت کی جانب اشارہ ہو کہ قیامت میں سزا دیتے وقت مجھ کو اور میرے بھائی کو الگ کر لیجیو۔ اگرچہ ان مختلف اقوال میں راجح دہی پہلا قول ہے۔ (واللہ اعلم) غرض ! دعا کا خلاصہ یہ ہے کہ اے میرے پروردگار ! قوم کی نافرمانی اور گستاخی تیرے سامنے ہے میں سوائے اپنی جان کے اور اپنے بھائی کے کسی اور پر زور نہیں رکھتا اور نہ سوائے اپنے اور اپنے بھائی کے کسی پر بس چلتا ہے، لہٰذا ہم میں اور اس سرکش و نافرمان قوم کے مابین کوئی ایسا مناسب فیصلہ کردیجیے جو ہر فریق کی شان کے شایاں اور ہر فریق کی حالت کے لائق ہو۔ اب آگے حضرت حق تعالیٰ کی جانب سے اس دعا کا جواب ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)