Ayah 5:26ف 4 اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا بس اب یہ مقدس سر زمین ان پر چالیس سال کے لئے روک دی گئی اور یہ ملک چالیس سال تک ان کے ہاتھ نہ لگ سکے گا یہ زمین کے ایک خاص حصے میں یونہی سرمارتے پھریں گے یعنی چالیس سال تک نہ گھر واپس جاسکیں گے اور نہ ملک شام میں داخل ہونا نصیب ہوگا۔ لہٰذا اے موسیٰ ! تم اس نافرمان قوم کی حالت پر بالکل افسوس نہ کرو۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ جب موسیٰ نے اللہ تعالیٰ کی جانب میں دعا کی تو ارشاد ہوا اچھا ہم فیصلہ کئے دیتے ہیں اور وہ فیصلہ یہ ہے کہ چالیس سال تک نہ تو ان کو گھر جانا نصیب ہوگا اور نہ ملک شام ان کے ہاتھ آئے گا بلکہ یہ ایک حصہ زمین میں حیران و سرگرداں مارے مارے پھریں گے۔ حضرت موسیٰ نے اس فیصلے کو سن کر اور قوم کا انجام معلوم کر کے اپنے غم اور افسوس کا اظہار کیا تو اس پر ارشاد ہوا کہ موسٰی اس نافرمان قوم پر کسی قسم کے افسوس اور غم کا اظہار نہ کیجیے اور یہ جو فرمایا کہ وہ سر زمین ان پر حرام کردی گئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ تحریم شرعی نہیں ہے بلکہ تحریم تکوینی ہے جیسا کہ ترجمہ سے ظاہر ہوگیا ہوگا اسی طرح یہ تحریم کتب اللہ لکم کے بھی منافی نہیں ہے کیونکہ وہ کتب بھی تکوینی ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ کتب اللہ لکم مشروط تھا کہ اگر تم لوگوں نے اطاعت کی اور جہاد کیا تو وہ سر زمین تم کو ملے گی اور چونکہ ان لوگوں نے شرط کو پورا نہیں کیا اس لئے محروم رہے اور کتب اللہ لکم میں کسی مدت اور وقت کا ذکر نہیں ہے اور تحریم میں ایک خاص مدت کا ذکر ہے لہٰذا دونوں باتوں میں کوئی منافات نہیں ہے اور اگر یہ شبہ کیا جائے کہ سزا تو بنی اسرائیل کو دی گئی لیکن حضرت موسیٰ اور ہارون کو ان کے ساتھ کیوں رکھا گیا اور یوشع اور کالب کو ان کے ساتھ کیوں رکھا گیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ ارض تیہ میں حضرت موسیٰ اور ہارون اور ان کے ساتھیوں کا رہنا اس کو مستلزم نہیں کہ وہ بھی سزاء وہاں رکھے گئے تھے حضرت موسیٰ اور ہارون کا رہنا محض نگرانی کے لئے تھا جیسے جہنم میں فرشتے بھی ہوں گے یا جیل میں قیدیوں کی دیکھ بھال کے لئے محافظ و نگراں مقرر ہوتے ہیں اور ان کو جیل میں رہنا ہوتا ہے حالانکہ وہ قیدی نہیں ہوتے، اسی طرح موسیٰ اور ہارون بھی وہاں بنی اسرائیل کی ہدایت و اصلاح کے لئے رکھے گئے ارض تیہ میں ان کا رہنا سزاء نہ تھا۔ الغرض ! بنی اسرائیل چالیس سال تک اس ارضہ تیہ میں رہے اور ان کے کھانے پینے اور سایہ وغیرہ کا انتظام کردیا گیا۔ اس چالیس سال میں حضرت موسیٰ اور ہارون کی وفات ہوگئی اور اس قرن کے لوگ سب ختم ہوگئے اور ان کی اولاد جو ان ہوگئی حضرت یوشع ان پر نبی مقرر ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے حضرت یوشع کے ہاتھ پر ملک شام کو فتح کرا دیا اور اس طرح کتب اللہ لکم کی بات پوری ہوگئی بنی اسرائیل کی اس نئی نسل نے جہاد کیا اور حضرت یوشع کی اطاعت کی اور ملک شام کو فتح کرلیا۔
اس موقع پر بعض مفسرین نے عوج بنعنق کا ذکر کیا ہے لیکن ابن کثیر نے نہایت سختی کے ساتھ اس قبضے کا رد کیا ہے حضرت ہارون اور حضرت موسیٰ کی وفات کا قصہ ہم نے تطویل کے خوف سے ترک کردیا ہے۔ ان دونوں پیغمبروں کی وفات کا حال مفسرین نے بیان کیا ہے۔ بہرحال ! اس واقعہ میں چند امور قابل غور ہیں۔
-1 اللہ تعالیٰ کے فضل و انعام کا تقاضا یہ ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے اور اس کے پیغمبر جو حکم دیں اس کو مانا جائے لیکن افسوس بنی اسرائیل نے ایسا نہیں کیا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یعقوب کی اولاد میں بیشمار نبی پیدا کئے اور ان کی اولاد میں بیشمار لوگوں کو سرداری اور فرماں روائی کے منصب پر فائز کیا اور موسیٰ ہارون جیسے ابوالعزم پیغمبر عطا فرمائے لیکن انہوں نے ان تمام احسانات کی قدر نہ کی اور نافرمانی کے جرم کا ارتکاب کیا اور سزا میں مبتلا کئے گئے۔
-2 جہاد کا ترک کردینا قوم کو ذلیل اور خوار کردیتا ہے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرتے رہنا اللہ تعالیٰ کے کلمہ کو بلند کرتا ہے اور قوم کی عزت کا موجب ہوتا ہے۔
-3 انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام اور ان کے قائم مقام لوگوں کی مخالفت کرنا اور ان کی شان میں گستاخی کرنا موجب وبال اور باعث عقوبت ہوتا ہے۔
-4 انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو اپنی امت کے ساتھ غایت شفقت و محبت ہوتی ہے اور ان کو امت کی تکلیف سے رنج ہوتا ہے۔
-5 جب ایک قوم نافرمانی کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ دین و دنیا کی نعمت سے محروم کردیتا ہے اور ان کی جگہ دوسروں سے کام لیتا ہے خواہ وہ دوسرے امتی کی اولاد ہوں۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں اہل کتاب کو یہ قصہ سنایا اس پر کہ اگر تم رفاقت نہ کرو گے پیغمبر کی تو یہ نعمت اوروں کو نصیب ہوگی آگے اس پر قصہ سنایا ہابیل وقابیل کا کہ حسد مت کرو حسد والا مردود ہے۔ (موضح القرآن)
آگے کی آیتوں میں جو قصہ مذکور ہے اس کا ربط تو حضرت شاہ صاحب نے بھی بیان کردیا۔ بات یہ ہے کہ بنی اسرائیل کو بڑا گھمنڈ اس امر پر بھی تھا کہ ہم نبیوں کی اولاد ہیں اور ہم اللہ تعالیٰ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں ہم چاہے کچھ بھی کرتے پھریں ہم سے کوئی باز پرس نہ ہوگی۔ اس لئے آگے پیغمبر کی نسبی اولاد کا ذکر فرمایا تاکہ یہ معلوم ہو کہ ہابیل اور قابیل تو حضرت آدم کی اولاد تھے اور حوا کے بطن سے پیدا ہوئے تھے لیکن نافرمانی کی وجہ سے قابیل کا حشر کیسا ہوا اور نبی کی اولاد ہونا کچھ کام نہ آیا۔
اسی واقعہ کی آگے کی آیتوں میں تفصیل بیان فرمائی ہے ہابیل اور قابیل کے واقعہ کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں ایک لڑکا اور ایک لڑکی جو ڑواں ہوتے تھے اور اس وقت ضرورت کی وجہ سے بہن بھائی کی شادی آپس میں جائز تھی مگر فرق اتنا ہوتا تھا کہ ایک بطن کا لڑکا اور دوسرے بطن کی لڑکی اور ایک بطن کی لڑکی اور دوسرے بطن کا لڑکا یعنی بطن کے فرق کو نسب کے فرق حکا حکم دے دیا گیا تھا چناچہ حسب معمول ایک لڑکی ہابیل کے ساتھ پیدا ہوئی اور ایک قابیل کے ساتھ ہوئی حضرت آدم (علیہ السلام) نے ضابطے ک موافق جو لڑکی ہابیل کے ساتھ پیدا ہوئی تھی اس کا نکاح قابیل کے ساتھ اور قابیل کے ساتھ جو لڑکی پیدا ہوئی تھی اس کا نکاح ہابیل کے ساتھ کرنا چاہا مگر اتفاق سے جو لڑکی قابیل کے ساتھ پیدا ہوئی تھی وہ زیادہ حسین تھی اور ہابیل کے ساتھ جو لڑکی پیدا ہوئی وہ زیادہ خوبصورت نہ تھی اس لئے قابیل نے اس شادی پر اعتراض کیا اور اس امر کی خواہش کی کہ میں اس لڑکی سے شادی کروں جو میرے ہمراہ پیدا ہوئی ہے۔
حضرت آدم (علیہ السلام) نے بہت کچھ سمجھایا مگر قابیل رضا مند نہ ہوا اس پر حضرت آدم (علیہ السلام) نے جھگڑا ختم کرنی کی وجہ سے فرمایا تم دونوں بھائی اپنی اپنی کچھ نیاز اللہ تعالیٰ کی جناب میں پیش کرو جس کی نیاز قبول ہوجائے گی اس لڑکی کی شادی اس سے ہوجائے گی کیونکہ حضرت آدم (علیہ السلام) جانتے تھے کہ قابیل غلطی پر ہے اس کی نیاز قبول نہ ہوگی اور پھر یہ تکرار اور جھگڑے سے باز آجائے گا۔
چناچہ ہابیل ایک دنبہ لایا اور قابیل کچھ پھل لایا دونوں نے اپنی اپنی نیاز لا کر اس جگہ رکھ دی جو نیاز کے لئے مقرر تھی تب ایک آگ آسمان سے آئی اور ہابیل کی نیاز کھا گئی اور اس زمانے کے دستور کے مطابق ہابیل کی نیاز مقبول سمجھی گئی لیکن قابیل قائل نہ ہو اور ہابیل کے پیچھے پڑگیا اور اس کو قتل کرنے کے در پے ہوگیا اور بالآخر ہابیل کو قتل کردیا لیکن یہ سمجھ میں نہ آیا کہ اس کی لاش کو کہاں چھپائے اور کس طرح چھپائے کہ آدم (علیہ السلام) کو اطلاع نہ ہو۔
اس وقت ہابیل کی عمر بیس سال کی تھی قابیل اس کی لاش کو لئے لئے پھرا اور آخر ایک کوے کے ذریعے اس کو دفن کا طریقہ بتایا گیا تب کہیں اس نے ہابیل کی لاش کو دفن کیا۔ آگے کی آیتوں میں اسی قصے کا بیان ہے۔ ابن کثیر نے اس موقعہ پر بہت سی روایتیں اور بہت سے اقوال نقل کئے ہیں مگر ہم نے اس روایت کا خلاصہ نقل کردیا ہے جو ابن جریر نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے نقل کی یہ۔
بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ہابیل کے قتل کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب حضرت آدم (علیہ السلام) مکہ معظمہ گئے ہوئے تھے اور بعض نے کہا ہابیل کے آنے میں ایک روز تاخی ہوگئی تو حضرت آدم (علیہ السلام) نے قابیل کو بھیجا کہ اس کو دیکھ کر لائے چناچہ قابیل تلاش کرنے گیا اور ایک چھرا اپنے ہمراہ لے گیا اور راستے میں جب کہ ہابیل آ رہا تھا اس کو قتل کردیا۔ (واللہ اعلم) حق تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 5:27–28ف 5 اور اے پیغمبر ! آپ ان اہل کتاب کو حضرت آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں کا قصہ صحیح طور پر پڑھ کر سنایئے اور ہابیل و قابیل کا واقعہ ان کو ٹھیک ٹھیک طرح پڑھ کر سنا دیجیے۔ یہ قصہ اس وقت ظہور پذیر ہوا جب کہ ان دونوں نے اللہ تعالیٰ کے نام کی نیاز پیش کی ۔ سو ان دونوں میں سے ایک کی نیاز تو قبول ہوگئی یعنی ہابیل کی اور دوسرے کی مقبول نہیں ہوئی یعنی قابیل کی اس پر وہ دوسرا یعنی قابیل ہابیل سے کہنے لگا کہ میں ضرور تجھ کو قتل کر ڈالوں گا ۔ ہابیل نے جواب دیا میرا اس میں کیا قصور ہے اللہ تعالیٰ تو بس پرہیز گاروں ہی کا عمل قبول کیا کرتا ہے۔ (تیسیر)
نباء کے معنی خبر انباء کے معنی خبریں ہم نے ترجمہ میں واقعہ اور قصہ کہا ہے۔ علیھم سے مراد اہل کتاب ہیں اور ان ہی کو یہ قصہ بطور توبیخ و تہدید سنانا مقصود ہے اور ہوسکتا ہے کہ عام مسلمان یا عام انسان مراد ہوں کیونکہ ہر شخص کے لئے موعظت اور نصیحت کا سامان اس قصے میں موجود ہے۔ آدم سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں اگرچہ اور قول بھی ہے لیکن راجح یہی ہے کہ حضرت آدم مراد ہیں اور یہ قتل و خونریزی کا بنی نوع انسان میں پہلا واقعہ ہے۔
بالحق کا مطلب یہ ہے کہ متلبسا بالحق اور متضمنا بالحق یعنی وہ واقعہ جو مشتمل برحق اور سچ پر مبنی ہے۔ متقین کے معنی ہم نے پرہیز گار کئے ہیں ہوسکتا ہے کہ یہاں پرہیز گار سے وہ شخص مراد ہو جو باہمی نزاع میں حق کا طرفدار اور حق کا حامی ہو باطل کا طرفدار نہ ہو جو کسی دوسرے کا حق دبانے سے پرہیز کرے وہ متقی ہے۔
غرض ! آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے پیغمبر آپ ان لوگوں کو آدم کے دونوں بیٹوں کا قصہ جو صحیح اور حق ہے پڑھ کر سنا دیجیے وہ واقعہ اس وقت کا ہے جبکہ ان دونوں لڑکوں نے ایک ایک نیاز اللہ کے لئے پیش کی اور پہاڑ پر یا قربان گاہ پر لا کر رکھی اور ان میں سے ایک کی جو حق پر تھا مقبول ہوگئی دوسرے کی قبول نہ کی گئی کیونکہ وہ ناحق پر تھا اور اگر دونوں کی مقبول ہوجاتی تو حق و باطل کا فیصلہ نہ ہوتا اس سے وہ لڑکا جو ناحق پر تھا غصے اور حسد سے ناراض ہو کر بولا کہ میں ضرور تجھ کو قتل کر دوں گا اس پر اس نے کہا کہ بھائی اس میں میرا کیا قصور ہے قربانی کا قبول ہونا نہ ہونا تو تقویٰ اور پرہیز گاری پر ہے تو ناحق پر ہے اس لئے تیری نیاز مقبول نہیں ہوئی اور میں حق پر، خدا سے ڈرتا ہوں کسی کا حق مارنے سے پرہیز کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ پرہیز گاروں ہی کے عمل قبول فرماتا ہے، لیکن اگر باوجود ناحق پر ہونے کے بھی ایسا کیر گا تو تو ذمہ دار ہوگا ہابیل کا اپنے کو متقی کہنا تفاخر کے طور پر نہ تھا بلکہ تحدث نعمت کے لئے تھا۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں حضرت آدم کی اولاد ہونے لگی ایک حمل میں دو شخص بیٹا اور بیٹی اس وقت میں بہن بھائی کا ناکح روا تھا ضرورتاً حضرت آدم تو بھی احتیاط کرتے ایک حمل کے بھائی بہن نہ ملاتے ایک بیٹی حضرت آدم ہابیل کو دینے لگے اسی کو قابیل لگا مانگنے انہوں نے دونوں کی خاطر رکھی کہا تم دونوں اللہ کی نیاز کرو۔ ہابیل جو نبی کے حکم پر تھا اس کی نیاز غیب سے آتش آ کر جلا گئی یعنی قبول ہوئی قابیل کی نیاز چھوڑ گئی قابیل نے حسد سے چاہا کہ ہابیل کو مار ڈالے آخر مار ڈالا اب تک جہاں خون ناحق ہوتا ہے۔ اس پر بھی ایک وبال چڑھتا ہے موضح القرآن جب ہابیل کو یہ معلوم ہوگیا کہ قابیل مجھ کو ضرور قتل کرے گا تو انہوں نے فرمایا اس کو اللہ تعالیٰ آگے بیان فرماتا ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 5:29–30ف 1 اے قابیل اگر تو مجھے قتل کرنے کی غرض سے مجھ پر اپنا ہاتھ بڑھائے گا اور مجھ پر دست درازی کرے گا تب بھی میں تیرے قتل کرنے کے لئے تجھ پر اپنا ہاتھ نہیں اٹھائوں گا اور تجھ کو قتل کرنے کی غرض سے تجھ پر دست درازی نہ کروں گا کیونکہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں جو جملہ کائنات اور تمام عالموں کا رب ہے میں یہ چاہتا ہوں کہ تو اپنے گناہوں کے ساتھ میرے قتل کا گناہ بھی حاصل کرلے اور تو میرا گناہ اپنے گناہوں کے ساتھ اپنے سر پر رکھ لے پھر تو اہل دوزخ میں شامل ہوجائے اور یہ دوزخیوں میں شامل ہوجانا ہی ظلم کرنے والوں کا صحیح بدلہ ہے۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ جب ہابیل کی نیاز مقبول ہوگئی تو قابیل نے بجائے اس کے کہ شرمندہ ہو کر اپنے غلط اور ناجائز مطالبہ سے دست بردار ہوجاتا اور زیادہ گناہ پر دلیر ہوگیا۔ جیسا کہ قاعدہ ہے کہ ایک گناہ دوسرے گناہ کو اور ایک غلطی دوسرے غلطی کو اسی طرح بڑھاتی ہے جس طرح بد پرہیزی کرنے سے مرض میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ قابیل نے غصہ میں آ کر کہا کہ میں تجھ کو قتل کر ڈالوں گا۔ اس پر ہابیل نے قربانی کی قبولیت کا سبب تو یہ بیان کیا کہ اس میں تیری ہی غلطی ہے میرا تو کوئی قصور نہیں کیونکہ قاعدہ یہ ہے کہ جو لوگ آپس کے جھگڑوں اور ناحق سے بچتے اور ناجائز مطالبوں سے پرہیز کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ایسے ہی متقیوں اور پرہیز گاروں کی نیاز قبول فرماتا ہے اب تو خود غور کر کہ حق پر کون ہے اور ناحق پر کون ہے۔
رہی یہ بات ! کہ تو مجھ کو قتل کرے گا تو اچھا اگر تو نے یہ ارادہ کر ہی لیا ہے تو سن لے کہ اگر تو نے مجھے قتل کرنے کی غرض سے ہاتھ اٹھایا تو میں تجھ کو قتل کرنے کے لئے ہاتھ نہیں اٹھائوں گا تاکہ قاتل اور مقتول دونوں دوزخ میں نہ جائیں بلکہ میں صبر کروں گا کیونکہ میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا اور خوف کھاتا ہوں اور اس میرے صبر کرنے اور مظلوم قتل ہونے سے میرا مقصد یہ ہے کہ مجھ سے کوئی گناہ کی بات سر زد نہ ہو خواہ تو مجھ پر کتنا ہی ظلم کے اور تیرے ظلم اور میرے صبر کا یہ اثر ہو کہ تو میرا گناہ اور اپنے گناہ سب اپنے سر پر لادلے اور یہ تمام گناہ تجھ کو حاصل ہوجائیں اور تجھ پر پڑجائیں پھر تو اہل جہنم سے ہوجائے اور یہ جہنمی ہوجانا ہی ظلم کرنے والوں کا اصل بدلہ ہے۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں اگر کوئی ناحق کسی کو مارنے لگے تو اس کو رخصت ہے کہ ظالم کو مارے اور اگر صبر کرے تو شہادت کی ادرجہ ہے۔
فائدہ :- یعنی تیرے گناہ عمر کے تجھ پر ثابت رہیں اور میرے خون کا گناہ چڑھے اور میری عمر کے گناہ اتریں۔ (موضح القرآن) اس موقعہ پر چند امور قابل غور ہیں۔
(1) ہابیل کا یہ کہنا کہاں تک صحیح ہے کہ میں مدافعت بالکل نہیں کروں گا اور تجھ پر ہاتھ نہیں اٹھائوں گا۔ حضرات مفسرین نے اس کے کئی طرح جواب دیئے ہیں ہابیل کے اس کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ مجھ کو یہ حق ہے اور مجھ کو یہ جائز ہے کہ میں تجھ کو قتل کروں کیونکہ تو مجھے قتل کرنے کو آمادہ ہے لیکن میں اللہ تعالیٰ کے خوف ہے اور مجھ کو یہ جائز ہے کہ میں تجھ کو قتل کروں کیونکہ تو مجھے قتل کرنے کو آمادہ ہے لیکن میں اللہ تعالیٰ کے خوف سے ایسا نہیں کروں گا اور تجھے کسی وقت بھی قتل نہیں کروں گا۔
حضرت عبداللہ بن عمر و کا قول ہے کہ خدا کی قسم ہابیل طاقت و قوت میں قابیل سے زیادہ تھا لیکن اس نے محض اللہ تعالیٰ کے خوف سے بھائی پر ہاتھ نہیں اٹھایا اور یہ جواب بھی ہوسکتا ہے کہ اس شریعت میں مدافعت جائز نہیں تھی۔
حضرت مجاہد کا ق ول ہے کہ اس وقت ان کے لئے یہ حکم تھا کہ جب کوئی قتل کا ارادہ کرے تو اس کو رد کے نہیں اور صبر کرے یعنی قاتل کا مقابلہ نہ کرے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہابیل نے عزیمت پر عمل کیا ہو اگرچہ رخصت یہ تھا کہ مدافعت کرسکتا تھا لیکن ہابیل نے عزیمت پر عمل کیا۔
جیسا کہ ابن سعد نے طبقات میں نقل کیا ہے فرمایا نبی کریم ﷺ نے تو اللہ کا بندہ مقتول بن اور اللہ تعالیٰ کا بندہ قاتل نہ بن عبدالرزاق اور ابن جریر نے ایک اور روایت نقل کی ہے جس میں حضور ﷺ نے فرمایا ہے آدم کے دو لڑکوں کی مثال اس امت کے لئے بیان کی گئی ہے تم ان دونوں میں سے جو بہتر ہو اس کو اختیار کرنا۔
عبدبن حمید کے الفاظ یہ ہیں کہ ان دونوں میں سے بہتر اور نیک بھائی کی مشابہت اختیار کرنا برے اور شتری کی مشابہت اور تشبہ اختیار نہ کرنا سعد بن ابی وقاص سے مرفوعاً روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فتنوں کا ذکر فرماتے ہوئے کہا اس پر فتن دور میں بیٹھا انسان کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا اور کھڑا ہوا انسان چلنے والے سے بہتر ہ گا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا کسی نے پوچھا اگر کوئی شخص یا رسول اللہ ﷺ میرے گھر میں گھس آئے اور مجھ پر ہاتھ چلائے اور قتل کرنا چاہے آپ ﷺ نے فرمایا تو مثل ابن آدم کے ہوجا یعنی ایسے موقعہ پر ہابیل کی پیروی کر۔ ایک اور روایت صحیحین میں ہے فرمایا نبی کریم ﷺ نے قاتل اور مقتول دونوں آگ میں ہیں کسی نے کہا یا رسول اللہ ﷺ قاتل کا آگ میں جانا تو ظاہر ہے کہ قتل کی وجہ سے ہوا لیکن مقتول آگ میں کیوں جائے گا فرمایا وہ اپنے ساتھی کے قتل پر حریص تھا۔
مطلب یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے پر قتل کی نیت سے حملہ آور تھے۔ مگر یہ اتفاق کی بات ہے کہ ایک نے دور سے کو مار ڈالا بہرحال ! مدافعت جائز ہے لیکن مسلمانوں کی باہمی جنگ میں ہاتھ نہ اٹھانا اور مسلمان کے قتل سے بچنا اور خودقتل ہوجانا افضل اور عزیمت ہے۔ جیسا کہ حضرت یاوب سختیانی کا قول ابن کثیر نے نقل کیا ہے کہ سب سے پہلے امت میں جس شخص نے اس آیت پر عمل کیا وہ حضرت عثمان ذی النورین تھے کہ وہ خود شہید ہوگئے اور باغیوں پر حملہ کرنے کا حکم نہیں دیا اور اجازت مانگنے والوں کو نہایت سختی سے روکا جیسا کہ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت میں صراحتاً آیا ہے بعض لوگوں نے کہا مخصوص مدافعت جائز ہے مثلاً کہیں بھاگ جانا چھپ جانا حملہ آور کے ہاتھ پکڑ لینا اس کے ہاتھ سے ہتھیار چھین لینا البتہ ایسی مدافعت میں رخصت ہے جو قتل کے ارادے کو شامل ہو اور ایسی مدافعت کا ترک عزیمت ہے جیسا کہ ظاہری نص سے سمجھا جاتا ہے یعنی ہابیل نے یہ کہا کہ میں تیرے قتل کرنے کے لئے تجھ پر دست درازی نہ کروں گا۔ (واللہ اعلم)
فقیر عرض کرتا ہے کہ مسلمانوں کی باہمی خانہ جنگی اور قتل و قتال کی نوعیت اور ہے جیسا کہ امت پر اس قسم کے دور آتے رہتے ہیں اور ہر صدی میں کسی نہ کسی فتنے کے باعث مسلمان آپ س میں دست و گریباں ہوجاتے ہیں لیکن کافروں کی نوعیت اور ان کا حکم اور ہے اگر کافر حملہ آور ہوں اور مدافعت کی طاقت ہو تو مدافعت کرنا ضرور ہے اس زمانے کے بعض لوگوں نے اس آیت سے سیتاگرہ اور مقادمت مجہول پر استدلال کیا ہے اور بعض خوش فہم حضرات نے حضرت عثمان ؓ ک و اس امت کا پہلا سیتا گرہی کہا ہے ۔
فقیر عرض کرتا ہے کہ مقادمت مجہول کیلئے کسی خاص استدلال کی ضرورت نہیں بلکہ نبی کریم ﷺ کی مکی زندگی کافی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ مدافعت کی طاقت نہ ہو تو مظالم برداشت کرو اور مدافعت کی طاقت میسر ہو تو مدافعت کرو۔
(2) ہابیل کا انی ارید کہنا اور قابیل پر تمام گناہوں کے بار ڈالنے کی خواہش کرنا یہ کس طرح صحیح ہوسکتا ہے کیونکہ یہ خواہش ایک دوسرے شخص کے لئے کفر یا معصیت کرنے کی خواہش کرنا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ ارادے کا اصل تعلق اپنے بھائی کو گناہ کی برائی اور گناہ کے ترک کردینے پر تنبیہہ کرنا ہے، جیسا کہ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہاں ہابیل کو مجازاً ارادہ کرنے والا کہا گیا ہے کیونکہ جب اس نے یہ معلوم کرلیا کہ قابیل مجھ کو قتل کرنے والا ہے اور انہوں نے اپنے نفس کو سونپ دیا اور ثواب دیا اور ثواب کی غرض سے مدافعت کو ترک کردیا تو گویا وہ مجازً ارادہ کرنے والا ہوگیا اور بات بھی یہ ہے کہ جس استسلام اور انقیاد کا یہ نتیجہ ہونے والا تھا کہ قابیل اپنے گناہ اور ہابیل کے قتل کا گناہ سمیٹے تو اس کو انی ارید سے تعبیر فرمایا ہے ورنہ یہاں ارادے سے حقیقی مراد متحقق نہیں اور ہم نے جو ابھی نمبر ایک میں عرض کیا ہے کہ مدافعت بارا وہ قتل کا ترک عزیمت ہے اور ایسی مدافعت میں رخصت ہے جو قتل کے ارادے کو شامل ہو۔
یہ اس روایت کے منافی نہیں ہے جو ابھی اوپر مذکور ہوئی کہ قاتل اور مقتول دونوں دوزخ میں ہیں کیونکہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ابتدا ہی سے ایک دوسرے پر قتل کے ارادے سے حملہ آور ہوا اور ہماری عبادت کا مطلب یہ ہے کہ جب حملہ آور کے قتل کرنے کا یقین ہوجائے اور اس وقت مدافعت کرے اور یہ ارادہ ہو کہ میں اس کو قتل کردوں تو اس قسم کی مدافعت پر رخصت ہے۔
(3) ہابیل کا یہ کہنا باثمی واثمک بظاہر اس آیت کے منافی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کوئی بوجھ اٹھانے الا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ لوگوں نے اس شبہ کے بہت سے جواب دیئے ہیں آسان اور سہل وہ ہے جس کی جانب ہم نے ترجمہ اور تیسیر میں اشارہ کیا ہے یعنی اپنے سب گناہوں کے ساتھ میرے قتل کرنے کا گناہ بھی سمیٹ لے۔
ہابیل نے جو بات کہی وہ بالکل ایسی ہے جیسے آج کل بھی محاورے میں کہی جاتی ہے کہ میں تو کچھ کہوں گا نہیں یا میں تو ہاتھ اٹھائوں گا نہیں سب بوجھ بھار تیرے اوپر رہے گا وہی مطلب اس آیت کا بھی ہوسکتا ہے۔ حضرت حذیفہ جو مشہور صحابی ہیں اور آخری زمانے کے فتنوں کی ان کو بہت سی حدیثیں یاد تھیں ان کے جنازے پر ایک صاحب نے فرمایا کہ میں نے مرحوم سے سنا ہے یہ کہا کرتے تھے اگر تم آپس میں لڑو گے تو میں اپنے گھر میں سب سے اندر کے حصے میں چلا جائوں گا اور دروازے بند کر کے بٹیھ جائوں گا اگر وہاں بھی کوئی گھس آئے گا تو میں کہہ دوں گا۔ لے اپنا اور میرا گناہ اپنے سر پر رکھ لے اور میں اس طرح قوم کے ان دو بیٹوں میں سے اس کی طرح ہو جائوں گا۔ جو دونوں میں سے بہتر تھا مطلب یہ ہے کہ کوئی قتل کرنے آئیگا تو میں قتل ہو جائوں گا اور ہاتھ نہیں اٹھائوں گا اور کہہ دوں گا سب بوجھ بھار تیری گردن پر بعض حضرات نے کہا ہے باثمی سے مراد بمثل اثمی ہے یعنی اگر میں دست درازی کرتا تو جو گناہ مجھ پر ہوتا ویسا ہی گناہ تیری دست درازی سے تجھ پر ہوگا بعض لوگوں نے قیامت میں ظالم کی نیکیاں چھین کر مظلوم کو دلوائی جائیں گی اور اگر بدلہ پورا نہ ہوگا تو مظلوم کے گناہ اس پر رکھے جائیں گے یہاں تک کہ ظلم کا بدلہ پورا ہوجائے لہٰذا ہوسکتا ہے کہ کسی ظالم کا ظلم اتنا زیادہ ہو کہ مظلوم کے تمام گناہ اس پر لا د دیئے جائیں تب کہیں جا کر ظلم کا بدلہ پورا ہو ان سب معنی کے باوجود ابن جریر نے حضرت مجاہد کے اس معنی کو ترجیح دی ہے جو ہم نے اختیار کئے ہیں۔ ابن جریر نے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے اور گناہوں کے ساتھ میرے قتل کا گناہ بھی تجھ پر رکھ دیا جائے یہ مطلب نہیں ہے کہ میرے تمام گناہ تجھ پر لاد دیئے جائیں۔ (واللہ اعلم)
مسلم نے حضرت ابوہریرہ سے مرفوعاً نقل کیا ہے کہ میری امت کا مفلس شخص وہ ہوگا جو قیامت میں نماز، روزہ اور زکوۃ لے کر آئے گا مگر ایک شخص اس کے مقابلے میں آ کر کہے گا الٰہی ! اس نے مجھ کو گالی دی تھی میرا مال کھایا تھا اور اس نے مجھ کو مارا تھا اور اس نے مجھ کو قتل کیا تھا۔
ارشاد ہوگا اس ظالم کی تمام نیکیاں مظلوم کو دے دی جائیں اگر نیکیاں اس کے حق چکتہ نہ کرسکیں گی تو ارشاد ہوگا کہ مظلوم کے گناہ اس پر رکھ دیئے جائیں چناچہ اس کے بعد اس کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا خاتم المحدثین حضرت مولانا سید انور شاہ صاحب کا شمیری (رح) کی ایک توجیہہ فیض الباری میں نظر سے گذری جس کا خلاصہ یہ ہے کہ باء کا ترجمہ ہے رجع جیسا کہ ہم پہلے عرض کرچکے ہیں اور وباء و ابغضب من اللہ کے موقع پر بتا چکے ہیں نیز یہ کہ ایک حدیث شریف میں آتا ہے۔ السیف مماء الذنوب یعنی تلوار گناہوں کو مٹا ڈالنے والی ہو حدیث شریف کا مطلب یہ ہے کہ اگر مقتول قاتل کے قتل کا ارادہ نہ کرے تو مقتول کے تمام گناہ مٹا دیئے جاتے ہیں اور اس حدیث شریف کا یہی مورد ہے کیوں کہ القاتل والمقتول ھما فی النار کا مورد دوسرا ہے ۔ لہٰذا اب مطلب آیت کا یہ ہوا کہ میری خواہش یہ ہے کہ قابیل تو دوزخ میں اپنے گناہوں کی وجہ سے داخل ہوجائے اور اپنی تلوار سے میرے گناہ مٹا جائے اور جب اپنے گناہوں کے ساتھ اپنی تلوار اور اپنے فعل سے ہابیل کے گناہ مٹا دے گا تو گویا اس پر یہ بات صادق آجائے گی کہ وہ اپنے گناہوں کے ساتھ اپنے بھائی کا گناہ مٹا کر لوٹا یہ مطلب نہیں کہ بھائی کا گناہ اس پر ڈال دیا گیا گویا اپنے گناہ سر پر رکھ کرلے گیا اور بھائی کے گناہ اپنی تلوار اور اپنے قتل سے مٹا گیا اور اپنے ساتھ لے گیا۔
مزید تفصیل اگر مطلوب ہو تو فیض الباری کی پہلی جلد کا ص 121 ملاحظہ کیا جائے حافظ الحدیث حضرت مولانا انور شاہ صاحب نے بہت ہی باریک بات بیان فرمائی ہے یعنی جب ہابیل کو ظلماً قتل کر کے جائیتو اس حالت سے جائے کہ اپنے گناہ تو اپنے ہمراہ لے کر جائے اور اپنے بھائی کے گناہ مٹا کر جائے لہٰذا ایسی حالت میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اپنے گناہ اور اپنے بھائی کے گناہ ساتھ لے گیا۔ اپنے گناہ اپنے ساتھ لے گیا کا مطلب یہ ہے کہ اپنی گردن پر رکھ کرلے گیا اور بھائی کے گناہ ساتھ لے جانے کا مطلب یہ ہے کہ ہابیل کے گناہ ختم کر گیا۔ حضرت مولانا انور شاہ صاحب (رح) نے جس حدیث سے اس آیت کی تفسیر کی ہے وہ حدیث
السیف محاء الذنوب ہے اور یہ حدیث بزار کی ہے اور حضرت شاہ صاحب نے اس کو حدیث قوی کہا ہے ابن کثیر نے بھی اپنی تفسیر میں بزار سے اس حدیث کو نقل کیا ہے مگر اس کی صحت کا انکار کیا ہے اور اس کے ایک اور معنی بھی بیان کئے ہیں اور ان لوگوں کا رد کیا ہے جو اس حدیث کا یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ مقتول کے گناہ قاتل پر آجاتے ہیں۔
صاحب ابن کثیر فرماتے ہیں اس حدیث کا یہ مطلب ہے کہ قتل کی تکلیف کے باعث اللہ تعالیٰ مقتول کے تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے لکین اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ گناہ قاتل پر ڈال دیئے جاتے ہیں بہرحال حضرت شاہ صاحب نے جو لطیف اور محفوظ طریقہ شرح کا اختیار فرمایا ہے وہ حضرت (رح) کی اس سوجھ بوجھ اور صحیح فہم کا پتہ دیتا ہے جو حضرت حق تعالیٰ نے ان کو قرآن و حدیث کے بارے میں عطا فرمایا تھا۔
بہرحال ! ان تمامت شریحات کے بعد یہ بات سمجھ میں آگئی ہوگی کہ کوئی شخص سوائے اپنے جرائم کے دوسرے کے گناہوں کا ذمہ دار نہیں ہوتا رہا۔ وہ واقعہ نبی کریم ﷺ نے جب ہر قتل کو خط لکھا تو اس میں فرمایا تھا فعلیک اثم الیریسین تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تیرے ایمان نہ لانے سے جو تیری قوم ہلاک و برباد ہوگی اور تیرے حاشیہ نشین برباد ہوں گے تو ان کی تباہی و بربادی کا گناہ تجھ پر ہوگا۔ یہ مطلب نہیں کہ ان کے کفر کا گناہ بھی تجھ پر ہوگا اور سورة عنکبوت میں جو فرمایا ہے۔ ولیحملن اثقالھم واثقالا مع اثقالھم۔ اس کے متعلق انشاء اللہ تعالیٰ بشرط زندگی وہیں عرض کریں گے یہاں صرف اس قدر اشارہ کافی ہے کہ کسی بری رسم اور کسی برے طریقے کو جاری کرنے والے اور دوسروں کو گناہ کی ترغیب دینے والے پر بھی اس بری بات کے کرنے والوں کا گناہ ہوتا رہتا ہے۔ وہاں بوجھ سے وہی گناہ مراد ہیں جیسا کہ یہاں بھی آگے اسی قسم کا مضمون آتا ہے۔ بہرحال ! اب آگے قابیل کا اپنے بھائی کو قتل کرنے اور کوے سے تدفین کا حال معلوم کرنے کا ذکر ہے۔ (تسہیل)
Ayah 5:31ف 2 آخر کار قابیل کو اس کے نفس نے اپنے بھائی کا قتل آسان کردیا اور اس کو خوشنما اور خوش منظر دکھایا اور قابیل کو اس کے جی نے اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کردیا اور اس قابیل نے اس کو یعنی ہابیل کو قتل کر ڈالا لہٰذا وہ قابیل سخت نقصان اٹھانے والوں میں شامل ہوگیا پھر لالہ تعالیٰ نے ایک کوا بھیجا جو زمین کھودنے لگاتا کہ وہ کوا قابیل کو یہ بتادے اور یہ سکھا دے کہ وہ اپنے بھائی کی لاش کو کس طرح چھپائے قابیل کوے کی اس فراست کو دیکھ کر کہنے لگا ہائے افسوس میرے حال پر کہ میں اس قابل بھی نہ ہوسکا اور میں ا سے بھی گیا گذار ہوگیا کہ اس کوے ہی کے برابر ہوتا اور اس کوے ہی جیسا ہوتا اور اپنے بھائی کی لاش کو تو چھپا دیتا پھر قابیل اپنی اس زبوں حالی اور بدحالی پر شرمندہ ہوا اور پچھتانے لگا۔ (تیسیر)
طوعت ، طاوعت کے معنی مفسرین نے آمادہ کردیا آسان کردیا، آراستہ کردیا اور قتل کا قصور کرا دیا وغیرہ بیان کئے ہیں ہم نے تیسیر میں سب کی رعایت سے خلاصہ کیا ہے بحث کھودنا، کریدنا کسی آلہ سے یا چونچ اور پنجوں سے غراب کوا سوئۃ جسم کا وہ حصہ جس کے کھولنے کا حکم نہیں۔ شرمگاہ ، لاش، عیب
آیت کا مطلب یہ ہے کہ قابیل نے بھائی کے قتل کا اظہار تو پہلے ہی کردیا تھا آخر کار اس کے نفس نے اس کو قتل پر آمادہ ہی کردیا اور اس کے فوائد سمجھا دیئے کہ ہابیل کا کانٹا راستہ سے ہٹ جائے گا تو سب کام آسان ہوجائیں گے اس کا مار ڈالنا بہت اچھا ہوگا اور اس کا مارنا ہی کیا یہ تو مقابلہ کرے ہی گا نہیں جس طرح چاہے مار ڈالو۔ بہرحال ! جب اس کے نفس نے آمادہ کردیا تو وہ اس فعل شنیع کو کر گذارا۔
کہتے ہیں چھری سے مارا یا وہ سوتا تھا ایک بڑا پتھر اس کے سرپر دے مارا یا ایک پتھر نیچے رکھا اور ایک پتھر اوپر سے مارا جس سے اس کا سر کچلا کچلا ہوگیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ قتل کا طریقہ شیطان نے سکھایا اور ایک جانور کا سر پتھر سے کچل کر دکھلایا اور ہوسکتا ہے کہ درندے ک طرح قابیل نے دانتوں سے کاٹ کاٹ کر اور پھاڑ کر مارا ہو۔ (واللہ اعلم) شیطان نے اس قتل کی خبر حضرت حوا کو دی اور ان کو سمجھایا کہ مرنا ایسا ہوتا ہے وہ رونے لگیں حضرت حق تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ نقصان اٹھانیوالوں میں شامل ہوگیا یعنی دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی نقصان اٹھانے والا ہوا دنیا کا نقصان تو یہ ہوا کہ ہابیل کو قتل کرنے کے بعد اس کا دماغ بیکار ہوگیا اور پاگل ہوگیا اور آخرت کا نقصان یہ کہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ قیامت تک دنیا میں جس قدر ناحق قتل ہوتے رہیں گے ان میں سے ہر ایک قتل کا گناہ علاوہ قاتل کے قابیل کے ذمہ بھی لکھا جاتا رہے گا کیونکہ قابیل دنیا میں قتل کا پہلا بانی اور موسس ہے بہرحال ! قتل کرنے کو تو قتل کردیا اب فکر لاحق ہوئی کہ لاش کو کہاں چھپائے سب سے پہلا واقعہ لاش کو لئے لئے پھرتا رہا آخر اللہ تعالیٰ نے ایک کوے کو بھجیا جس نے زمین کو کھود کر ایک گڑھا سا کرلیا اور اس میں دور سے کوے کو جو مرا ہوا تھا یا دونوں کو ئوں نے لڑ کر آپس میں ایک دوسرے کو مارا تھا اس مرے ہوئے کوے کو گڑھے میں ڈال کر اس کو مٹی میں دبادیا تب قابیل نے سمجھا کہ لاش کو چھپانے کا طریقہ یہ ہے۔
اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ صرف کوے کے زمین کھونے سے قابیل نے سمجھ لیا ہو تب اس نے افسوس کے لہجے میں کہا کہ ہائے میں تو اس کوے سے بھی گیا گذرا ہوگیا کہ اپنے بھائی کی لاش کو چھپا دیتا۔ بہرحال ! اپنی حالت پر نادم اور شرمندہ ہوا اور ہوسکتا ہے کہ اس قتل پر نادم ہوا ہو لیکن یہ ندامت توبہ نہیں ہوسکتی کیونکہ یہ ندامت محض ان پریشانیوں کی وجہ سے تھی جو قتل کے بعد پیش آئیں نہ یہ کہ معصیت پر نادم ہوا۔
مفسرین نے ان واقعات کو مختلف الفاظ کے ساتھ نقل کیا ہے ہم نے تمام اقوال کا خلاصہ بیان کردیا ہے ہوسکتا ہے کہ قتل کے بعد قابیل کا تمام جسم سیاہ پڑگیا ہو درختوں میں کاٹنے نکل آئے ہوں پھل کھٹے ہونے لگے ہوں یہ باتیں سب کچھ مستبعد نہیں اگر روایات صحیحہ سے ثابت ہوں لیکن ہمیں افسوس ہے کہ اس بارے میں اکثر روایات ضعیفہ بلکہ موضوعہ کا استعمال کیا گیا ہے۔ (واللہ اعلم)
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں اس سے پہلے کوئی انسان مرا نہ تھا کہ معلوم ہو کہ مردے کا بدن کیا کرے قابیل ہابیل کو مار کر ڈرا کہ اس کا بدن پڑا رہے گا تو لوگ دیکھ کر مجھ کو پکڑیں گے اس کو پوٹ باندھ کر لئے پھرا کئی روز آخر اللہ تعالیٰ نے ایک کوا بھیجا اس نے زمین کو کریدا اس کو دکھا کر یہ سمجھایا کہ اس کے بدن کو دفن کر نا چاہئے اور نقل میں یوں آیا ہے کہ ایک کوئے نے زمین کو کرید کر دوسرے کوئے مردے کو دفن کیا اس نے دفن بھی دیکھا اور بھائی کی خیر خواہی دوسرے بھائی کے حق میں دیکھی اور اپنے فعل سے پشیمان ہوا۔ (موضح القرآن)
ہم ابھی عرض کرچکے ہیں کہ پچتانا اگر فعل قتل پر ہوا اگرچہ اس کی صراحت نہیں تب بھی وہی پچتانا مفید ہوسکتا ہے جسکے گناہ پر معذرت ہو آئندہ کے لئے اجتناب ہو اور تدارک کا فکر ہو ورنہ پچتانا گناہ کی معافی کے لئے کافی نہیں اور یہاں تو پچتانا بھی بظاہر اپنی بدحالی پر تھا گناہ پر نہ تھا اس لئے یہ ندامت محض طبعی تھی کوئی شرعی ندامت نہ تھی۔ (واللہ اعلم)
قابیل کے کفر کے متعلق کوئی صحیح چیز نظر سے نہیں گذری، بعض محققین نے اس کے مومن عاصی ہونے کا قول کیا ہے۔ صاحب تفسیر مظہری نے بیان کیا ہے کہ قابیل اپنی بہن اقلیمہ کو لے کر عدن کی طرف چلا گیا اور وہاں آتش پرستی کرنے لگا اور اس کی اولاد نے آلات لہو اور گانے کی چیزیں ایجاد کیں اور یہ سب لوگ نوح کے طوفان سے غرق ہوئے۔ (واللہ اعلم)
اس قصے کا ایک پہلو تو یہ تھا کہ بنی اسرائیل کو اس امر پر تنبیہہ تھیک ہ گناہ کے مواخذہ پر اور معاصی کی گرفت پر نسب کا کوئی اثر نہیں پڑتا جیسا کہ قابیل کو اس کا نسب کام نہ آیا دوسرا پہلو یہ ہے کہ قتل بہت بڑی چیز ہے دیکھو ! قابیل قتل کی وجہ سے کس قدر نقصان میں پڑا۔
چنانچہ آگے قتل کرنے اور خون گرانے کے انجام کا بیان ہے اور اس کے حرام ہونے کا اعلان ہے۔ چناچہ ارشادہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 5:32–33ف 1 اسی واقعہ کی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ فرمان لکھ دیا اور یہ حکم مقرر کردیا کہ جو شخص کسی انسان کو بلا کسی انسانی خون کے عوض جو اس نے ناحق کیا ہو یا بدون کسی شر و فساد کے جو اس نے ملک میں برپا کیا ہو قتل کر ڈالے تو یہ بےگناہ انسان کا قتل کر ڈالنا ایسا گناہ ہے گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کر ڈالا اور جس شخص نے کسی بےگناہ انسان کو قتل ہونے سے بچا لیا تو بےقصور شخص کو بچا لینا ایسا ثواب ہے گویا اس نے تمام انسانوں کو بچا لیا اور بلاشبہ ہمارے بہت سے رسول بنی اسرائیل کے پاس صاف صاف احکام اور واضح دلائل لے کر آتے رہے یعنی یہ فرمان جاری کرنے کے بعد ہمارے بہت سے رسولبھی اس فرمان کی تائید کرتے رہے اور اس فرمان کی تائید میں دلائل پیش کرتے رہے مگر باوجود اس قدر تاکید و تائید کے پھر بھی بنی اسرائیل میں سے اکثر لوگ زمین میں حد سے تجاوز کرنے والے اور زیادتیاں کرنے والے ہیں۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی اول روئے زمین میں بڑا گناہ یہی ہوا اس سے آگے رسم پڑی اسی سبب سے توریت میں اسیطرح فرمایا کہ ایک کو مارا جیسے سب کو مارا یعنی ایک کے کرنے سے اور دلیر ہوتے ہیں تو سب کے گناہ میں وہ اول بھی شریک ہے اور جیسا ایک کو جلایا سب کو جلایا یعنی ظالم کے ہاتھ سے بچا لیا (موضح القرآن)
من اجل ذلک کا تعلق کتبنا سے ہے اور اسی کا سبب ہے جیسا کہ ہم نے اختیار کیا ہے اور ہوسکتا ہے کہ اس کا تعلق نادمین سے ہو جیسا کہ بعض مفسرین نے اختیار کیا ہے اگر تعلق ناد میں سے ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ قابیل اس سبب سے پچھتانے لگا یعنی قتل کے بعد جو باتیں پیش آئیں ان کی وجہ سے پچھتانے لگا بنی اسرائیل پر قصاص کا فرمان جاری کرنے سے یہ مطلب نہیں کہ اور لوگوں پر یہ حکم نہیں تھا بلکہ یہ قصاص کا حکم تمام مکلفین پر جاری کیا گیا تھا بنی اسرائیل کا نام خاص طور پر اس لئے لیا گیا کہ چونکہ ان میں قتل کا رواج بہت زیادہ تھا۔ حتیٰ کہ انبیاء تک کو قتل کردیا کرتے تھے اس لئے توریت میں خاص طور پر قتل کی مذمت بیان فرمائی اور قتل ناحق کو اس قدر خطرناک فرمایا کہ ایک انسان کا قتل ایسا ہے گویا تمام انسانوں کے قتل کا دروازہ اس قاتل نے کھول دیا البتہ دو صورتوں کو مستثنیٰ فرما دیا جیسا کہ ہم دوسرے پارے میں مفصل عرض کرچکے ہیں کہ بعض مجرموں کی سزا ہی قتل ہے تو ان کا قتل کر ڈالنا نہ صرف جائز بلکہ واجب ہے اس لئے کہ اگر واجب القتل لوگوں کو سز ا نہ دی جائے تو جرائم کی روک تھام نہیں ہوسکتی اور زمین امن قائم نہیں ہوسکتا۔
اللہ تعالیٰ نے اس قصاص واجب کو ان الفاظ سے مستثنیٰ فرماتا ہے کہ بغیر نفس او فساد فی الارض یعنی قاتل نے جس شخص کو قتل کیا ہے وہ مقتول کسی کا قاتل نہ ہو اور یہ قتل قصاص کے طور پر نہ کیا ہو، بلکہ خواہ مخواہ کسی بےگناہ کو قتل کر ڈالا ہو اسی طرح جس شخص کو قتل کیا ہے وہ مقتول ملک میں فساد برپا کرنے والا بھی نہ ہو جس کی سزا قتل ہے۔
فساد کی تشریح ہم دوسرے پارے میں عرض کرچکے ہیں یہاں بھی ہر قسم کا وہ فساد مراد ہے جس کی سزا شریعت میں قتل رکھی گئی ہو مثلاً اہل حرب کا فساد، اہل بغاوت کا فساد، زنا، ارتداد و راہزنی، انبیاء (علیہم السلام) کی توہین وغیرہ یعنی مقتول ان جرائم کا مرتکب نہ ہو جن کی سزا شرعاً وجوب قتل ہے اگر کسی ایسے بےگناہ کو قتل کردیا تو گویا قاتل نے تمام انسانوں کو قتل کردیا اور اسی طرح جس نے کسی انسان کو ایک ایسے قتل سے بچا لیا جو غیر واجب قتل تھا اور شرعاً اس قتل کی اجازت نہ تھی تو گویا اس نے بنی نوع انسان کی زندگی کا سامان کردیا۔
بظاہر اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانی قتل سے عام انسانوں کے قتل پر لوگوں کو جرأت ہوجاتی ہے اور عام بدامنی کو تقویت پہونچتی ہ اس لئے ایک بےگناہ کا قتل ایسا ہی ہے جیسے تمام انسانوں کو قتل کیا اور اس کے مقابل کسی بےگناہ انسان کا بچانا بھی ایسا ہی ہے جیسے تمام انسانوں کو زندہ رکھا کیونکہ نوع انسانی کی ہلاکت اور نوع انسانی کا بقاء صرف جان کے احترام اور عدم احترام پر موقف ہے جس شخص کے دل میں انسانی جان کا احترام نہیں ہے وہ گویا انسانیت کا دشمن ہے اور جس کے دل میں انسانی جان کی بقاء کا جذبہ ہے وہ گویا انسانیت کا خیر خواہ اور انسانیت کا حامی ہے۔
بعض حضرات نے اس طرح مطلب بیان کیا ہے کہ چونک ایک بےگناہ کا قتل اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب ہی اور قاتل کے دوزخی ہونے کا سبب ہے تو یہ چیز ایک آدمی کے قتل میں اور ہزار انسانوں کے قتل میں مشترک ہے اس لئے فرمایا کہ ایک بےگناہ انسان کو قتل کرنا ایسا ہی ہے جیسے تمام انسانوں کو قتل کردیا اسی طرح ایک بےگناہ انسان کو بچانے کا ثواب بھی ایسا ہی ہے جیسا سب انسانوں کو بچا لیا۔
حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں فتنے کے زمانے میں حضرت عثمان کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے کہا میں آپ کی امداد کے لئے حاضر ہوا ہوں تاکہ آپکے باغیوں سے جنگ کروں حضرت عثمان نے کہا اے ابوہریرہ کیا تجھ کو یہ بات پسند ہے کہ تو سب لوگوں کو مار ڈالے اور ان کے ہمراہ مجھ کو بھی مار ڈالے۔ ابوہریرہ نے عرض کیا نہیں اس پر حضرت عثمان نے فرمایا اے ابوہریرۃ تو نے اگر ایک آدمی کو مارا تو یہ ایسا ہی ہے جیسے تو نے سب کو قتل کیا میں تجھ کو حکم دیتا ہوں کہ تو لوٹ جا اور کسی پر ہاتھ نہ اٹھا ابوہریرہ کہتے ہیں میں یہ سن کر میں قتال سے رک گیا۔ ابن عباس نے فرمایا سب کا زندہ کرنا یہ ہے کہ جس جان کا مارنا اللہ نے حرام کیا ہے تو اس کو قتل نہ کرے مجاہد نے کہا زندہ کرنا یہ ہے کہ قتل نہ کرے، سعید ابن جبیر فرماتے ہیں جس نے ایک شخص کا خون حلال سمجھا اس نے سب کا خون حلال سمجھا اور جس نے ایک شخص کا قتل حرام سمجھا اس نے سب کا خون حرام سمجھا۔ ابن عباس کا ایک قول یہ ہے کہ جس نے امام عادل یا نبی کو قتل کیا اس نے تمام انسانوں کو قتل کیا اور جس نے پیغمبر یا امام عادل کی مدد کی اور اس کو قوت پہنچائی تو اس نے تمام انسانوں کو زندہ رکھا۔
زید بن اسلم نے کہا جس نے ایک کو مارا اس نے سب کو مارا کیونکہ ایک کو ماریجب بھی قصاص ہے اور سب کو مارے تب بھی قصاص ہے جس نے قاتل کو معاف کیا اس نے گویا سب کو جلایا۔ مجاہد نے کہا جس نے کسی ایک شخص کو غرق ہونے سے ، جلنے سے یا ہلاکت سے بچایا تو گویا اس نے سب کو بچایا۔
سلیمان بن علی نے حضرت حسن ؓ سے دریافت کیا یہ آیت بنی اسرائیل کے لئے ہے یا ہمارے لئے بھی ہے انہوں نے جواب دیا اس خدا کی قسم جس کے سوا کوئی دوسرا معبود نہیں یہ آیت جیسی بنی اسرائیل کے لئے تھی ویسیہ ہی ہمارے لئے ہے کچھ بنی اسرائیل کی جان اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہماری جانوں سے زیادہ اکرم اور اعزنہ تھی واللہ علم
بالبینات سے مراد عام دلائل نبوت اور توحید ہیں ہم نے موقع کی رعایت سے تیسیر میں خلاصہ بیان کیا ہے یعنی ہمارے رسول بھی قتل نفس کی حرمت اور برائی کے دلائل پیش کرتے رہے اور سمجھاتے رہے کہ کسی انسان کا قتل بہت بری بات ہے اور اگر یہ سلسلہ روکا نہ جائیتو اس میں نسل انسانی کو بہت نقصان پہونچتا ہے اور اس قتل و غارت گری سے تمام نوع انسانی کے ختم ہ جانے کا اندیشہ ہے مگر باوجود اس فرمان کے اور باوجود انبیاء کے دلائل لے کر آنے کے پھر بھی بنی اسرائیل میں سے اکثر لوگ زمین میں شرارتیں کرتے رہے اور قتل و غارت گری سے باز نہ آئے یہاں تک کہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو انہوں نے قتل کر ڈالا۔
اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فی الارض مسرفون سے وہ زیادتیاں اور بد عنوانیاں مراد ہوں جو نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کے زمانے میں یہ لوگ کرتے رہتے تھے اور مسلمانوں کے عموماً اور نبی کریم ﷺ کے خصوصاً در پے آزاد رہتے تھے۔ (واللہ اعلم)
غرض آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ قابیل کی اس سفاکی کے باعث ہم نے سب لوگوں کو عموماً اور بنی اسرائیل کو خصوصاً یہ حکم دیدیا اور ان کے لئے یہ فرمان مقرر کردیا کہ دیکھو قتل بہت بری چیز ہے جو شخص کسی انسان کو بلا کسی انسان کے قتل کئے اور بیرون ملک میں فساد برپا کئے قتل کر ڈالے گا کیونکہ یہ دونوں باتیں تو یقینا اس قابل ہیں کہ ان میں سے کسی ایک یا دونوں کے مرتکب کو قتل کرنے کی اجازت ہے باقی ان کے علاوہ اگر کوئی شخص کسی بےگناہ کو قتل کرے گا تو یوں سمجھو کہ گویا اس نے ایک ایسا سلسلہ قائم کردیا کہ جس کی وجہ سے اس نے تمام انسانوں کو قتل کر ڈالا اور جس شخص نے کسی کو قتل سے بچا لیا اور ہلاکت سے چھڑا لیا تو یوں سمجھو کہ اس نے ایک ایسی بات کی جس سے تمام بنی نوع انسان کی بقا کا سامان ہوگیا اور ہم نے اس مضمون کی تاکید کے لئے دلائل بھی بھیجے اور ہمارے رسول اس قتل کی مذمت میں بڑے بڑے دلائل لے کر آ رہے ہیں لیکن با ایں ہمہ یہ لوگ اپنی شرارتوں اور بد عنوانیوں سے باز نہ آئے یہاں تک کہ نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کے زمانے میں بھیان لوگوں کی زیادتیاں اور حد سے نکل جانا برابر جاری ہے۔
اس آیت میں فساد فی الارض کا ذکر آیا تھا اور یہ فرمایا تھا کہ بدون فساد فی الارض کے کسی کو قتل کرنا حرام ہے اب آگے فساد فی الارض کی بعض صورتیں اور ان پر بعض سزائوں کا ذکر ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)