Ayah 5:44ف 3 یقینا ہم نے توریت نازل فرمائی تھی جس میں ہدایت اور روشنی تھی یعنی عقائد صحیحہ کی بھی تفصیل تھی اور اعمال کی بھی وضاحت تھی …… انبیائے بنی اسرائیل جو اللہ تعالیٰ کے مطیع اور فرمانبردار تھے یہود کو اسی توریت کے موافق حکم دیا کرتے تھے اور اسی طرح اہل اللہ اور علماء بھی توریت ہی کے موافق حکم دیا کرتے تھے اور ان لوگوں کا توریت کے موافق حکم کرنا اس بنا پر تھا کہ ان کو کتاب اللہ کی حفاظت اور نگہداشت کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا اور وہ اس کتاب الٰہی پر نگہبان تھے۔ لہٰذا اے یہود تم لوگوں سے نہ ڈرو اور یہ اندیشہ نہ کرو کہ اگر ہم اسلام قبول کرلیں گے تو لوگوں کی نظروں میں ذلیل ہوجائیں گے۔ تم صرف مجھ ہی سے ڈرو اور دیکھو میرے احکام کے عوض دنیا کا قلیل فائدہ حاصل نہ کرو اور یاد رکھو جو لوگ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام کے مطابق حکم نہ کریں اور قصداً جان بوجھ کر غیر شرعی حکم کو شرعی حکم بتا کر اس کے موافق حکم کریں تو ایسے ہی لوگ کافر ہیں یعنی یہ لوگ ایمان سے خارج ہیں۔ (تیسیر)
ھدی و نور آسمانی کتابیں عقائد اور اعمال صحیحہ کی وضاحت کرتی ہیں اس لئے ہم نے یہی تفسیر اختیار ہوسکتا ہے کہ ہدایت سے ہدایت الی الحق مراد ہو اور نور سے نبی کریم ﷺ کی وہ بشارت مراد ہو جو توریت میں مذکور تھی یا نور سے وہ تعلیم مراد ہو جو قلوب کو منکشف کرنے والی اور سخت دلوں کو نرم بنانے والی ہو۔
انبیاء سے مراد حضرت موسیٰ اور ا ن کے بعد آنے والے نبی ہیں انبیاء کے ساتھ اسلموا کی قید شاید اس وجہ سے لگائی کہ عام مسلمانوں سے ان میں اطاعت وانقیاد زیادہ ہوتا ہے یا یہ وجہ ہو کہ انبیاء باوجود مطاع اور مقتدا ہونے کے اور باوجود اس کے کہ لاکھوں مسلمان ا ن کے تابع اور فرمانبردار ہوتے ہیں پھر بھی وہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں مطیع اور اطاعت گذار ہوتے ہیں۔
ربانی اور احبار کی تفصیل پہلے گذر چکی ہے مراد با خدا بزرگ اور علماء ہیں۔ بما استحفظوا سے مراد یا تو سب انبیاء اور صلحا اور علماء ہیں یا فقط صلحا اور علماء ہیں دونوں احتمال ہیں۔
بہرحال ! انبیاء کی ذمہ داری اور نگہداشت تو بلا واسطہ ہے اور صلحاء اور علماء کی ذمہ داری بواسطہ انبیاء (علیہم السلام) ہوتی ہے کیونکہ یہی لوگ انبیاء کے جانشین اور صحیح وارث ہوتے ہیں۔ شھداء کا ترجمہ ہم نے نگہبان کیا ہے یعنی یہ لوگ اس استحفاظ من اللہ یا کتاب اللہ پر نگہبان ہیں اور ہوسکتا ہے کہ شھداء کا ترجمہ اقرار کرنے والے ہوں اور مطلب یہ ہو کہ انبیاء اور علماء و صلحا نے اس ذمہ داری کا اقرار بھی کرلیا ہے لاتشتروا بایتی کا مطلب کئی بار عرض کیا جا چکا ہے ہوسکتا ہے کہ یہاں ثمن قلیل سے مراد رشوت ہو اصل میں علماء یہود کی حرص و ہوا کا رد کرنا ہے کہ میرے احکام کو معمولی منافع پر اور تھوڑی سی قیمت پر فروخت نہ کرتے پھرو۔
ومن لم یحکم کا جو مطلب ہم نے بیان کیا وہ حضرت عکرمہ سے منقول ہے اور اس طرح فاولئک ہم الکفرون میں کسی مزید توجیہہ کی ضرورت نہیں ہے جیسا کہ اکثر مفسرین نے اس موقعہ پر اختیار کی ہے اور یہود کی حالت کے یہی معنی مناسب ہیں کیونکہ غیر شرعی کو شرعی بتا کر لوگوں کو حکم دیا کرتے تھے اور جان بوجھ کر غلط حکم دیتے تھے اور اس طرح لوگوں سے رشوت اور عزت حاصل کرتے تھے۔
غرض ! آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر توریت نازل کی تھی جس میں عقائد صحیحہ اور اعمال شرعیہ کی تعلئیم تھی اس توریت کے موافق انبیاء (علیہم السلام) جن کی اطاعت گذاری اور فرماں برداری سب سے بڑھی ہوتی ہے یہود کو حکم دیا کرتے تھے اور یہ توریت کے مطابق یہود کو حکم دینا صرف انبیائپر موقوف نہیں بلکہ ان کی امت کے با خدا اور علماء بھی یہودیوں کو توریت ہی کے موافق حکم دیا کرتے تھے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ کتاب الٰہی کی حفاظت کے ذمہ داری بنائے گئے تھے اور وہ اس حفاظت یا کتاب اللہ پر نگہبان تھے اور جب یہ سب لوگ جو تمہارے بڑے تھے توریت کے موافق حکم دیتے رہے ہیں تو تم جو نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کے عہد میں اس توریت کے موافق لوگوں کو کیوں حکم نہیں دیتے اور اس بات سے کیوں ڈرتے ہو کہ اگر ہم لوگوں کو اسلام لانے اور نبی کریم ﷺ پر ایمان رکھنے کو کہیں اور خود بھی توریت کے اس حکم پر جس میں نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ پر ایمان لانے کو کہا گیا ۔ عمل کریں گے تو عام لوگوں میں ہماری عزت و آبرو ختم ہوجائے گی اور ہم لوگوں کی نگاہوں میں ذلیل و رسوا ہوجائیں گے۔
لہٰذا سے یہود ! تم لوگوں سے نہ ڈرو اور صرف مجھ ہی سے ڈرتے رہو اور میرے احکام کو دنیا کے معمولی فائدے اور موہوم منافع کے عوض فروخت نہ کرو اور چند روزہ جاہ و مال کی خاطر میرے احکام کو تبدیل نہ کرو اور جو لوگ اللہ کے احکام کے خلاف جان بوجھ کر حکم کریں گے جیسا کہ تم کر رہے ہو کہ غیر شریعت کو شریعت بتا کر لوگوں سے عمل کرنے کو کہتے ہو تو جو لوگ خلاف ما انزل اللہ عمداً حکم کریں گے تو ایسے ہی لوگ حقیقی کافر اور ایمان سے خارج ہیں ہم نے کافروں کی تفسیر ایمان سے خارج ہونے کے ساتھ کی ہے اور جیسا کہ ہم نے عرض کیا ہے کہ یہ تفسیر حضرت عکرمہ سے منقول ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کافرون کے معنی فاسقون ہوں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کافرون کے معنی حق کو چھپانے والے ہوں یہ معنی اس تقدیر پر ہوسکتے ہیں جبکہ خلاف ما انزل اللہ کا حمک دینے والا جاحد اور منکر نہ ہو اور شریعت کی توہین مقصود نہ ہو اور خلاف حق فیصلے کو صحیح نہ سمجھتا ہو آگے اسی قتل اور قصاص کے سلسلے میں توریت کے بعض اور مسائل کا بیان ہے اور چونکہ قاعدہ یہ ہے کہ شرائع سابقہ کے جو احکام ہماری شریعت میں منقول ہوں اور صاحب شریعت نے ان پر کوئی انکار نہ کیا ہو اور نہ کو کوئی ترمیم فرمائی ہو تو وہی احکام اس شریعت کے احکام سمجھنے چاہئیں۔ لہٰذا توریت کا وہ حکم جو آگے آتا ہے یہی حکم اس شریعت کا بھی سمجھنا چاہئے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 5:45ف 1 اور ہم نے یہود پر توریت میں یہ بات فرض کردی تھی اور حکم لکھ دیا تھا کہ اگر کوئی کسی کو ناحق قصداً قتل کر دے تو جان کے بدلے میں جا ن ہوگی یعنی مقتول کے قصاص میں قاتل کو قتل کیا جائے گا اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور اسی طرح خاص زخموں کا بھی بدلہ ہے پھر جو شخص اس بدلے اور قصاص کو معاف کر دے تو یہ تصدق اور معاف کردینا اس معاف کرنے والے کے لئے کفارہ گناہ اور موجب اجر وثواب ہوگا اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احاکم کے موافق حکم نہ کریں تو یہی لوگ ظالم اور ناانصاف ہیں۔ (تیسیر)
چونکہ اوپر کی آیت میں یہود کی تحریفات کا ذکر تھا کہ وہ غیر شرعی احکام کو شرعی احکام بتا کر فیصلہ کیا کرتے تھے اور خلاف ما انزل اللہ فیصلے دیتے تھے اس لئے ان کو کافر فرمایا تھا اسی سلسلے میں بعض اور احکام کا تذکرہ فرمایا تاکہ توریت کے بعض احکام کا مزید حال معلوم ہوجائے اور سننے والوں کو ان کی خیانت اور تحریف و تبدیل کا صحیح اندازہ ہوجائے کہ توریت میں کیا ہے اور یہ کس دلیری سے احکام خداوندی کے خلاف امیر و غریب میں فرق کر رہے ہیں اور غریبوں کے ساتھ انصاف نہ کرنے کی وجہ سے ظالم اور بےانصاف ہیں۔ ہم کئی مرتبہ عرض کرچکے ہیں کہ جن جرائم میں قصاص کا حکم دیا گیا ہے ان میں مماثلت شرط ہے اگر مماثلت کہیں متحقق نہ ہوسکتی ہو تو پھر بجائے قصاص کے دیت پر فیصلہ کیا جائے گا۔ مثلاً یہ صورت عام طریقہ سے زخموں میں پیش آتی ہے۔ کوئی زخم کتنا گہرا ہے اتنا ہی زخم لگانا مشکل ہوجاتا ہے اور کمتی بڑھتی کا امکان ہوتا ہے اس لئے جہاں اس قسم کی شکل پیش آئے وہاں بجائے قصاص کے دیت پر فیصلہ ہ وگا۔
یہ بات ہم پانچویں پارے میں عرض کرچکے ہیں کہ نفس کے قتل میں وہیں قصاص جاری ہوگا جہاں قتل ناحق ہو اور جان بوجھ کر قتل کیا ہو ایسے قتل میں قصاص ضروری ہوگا اور شریف رذیل مرد عورت آزاد غلام بلکہ مسلمان اور ذمی میں بھی کوئی امتیاز نہیں کیا جائے گا۔
قتل کے علاوہ دیگر اعضاء میں قصاص کی یہ شکل ہوگی کہ آنکھ کے بدلے میں آنکھ پھوڑی جائے گی اور ناک کے بدلے میں ناک کاٹی جائے گی۔ کان کے بدلے میں کان کاٹا جائے گا اور دانت کے بدلے میں دانت اکھاڑا جائے گا اور ہر قصاص میں مماثلت کی رعایت رکھی جائے گی اور اسی طرح ایسے زخموں میں بھی جہاں مماثلت کا امکان ہو وہاں قصاص ہوگا اور نہ پھر حکومت عدل سے فیصلہ کرایا جائے گا جیسا کہ کتب فقہ میں مذکور ہے مزید تفصیل تفسیر مظہری میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے اور یہ جو فرمایا فمن مصدق بہ فھو کفارۃ لہ بظاہر اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص صاحب حق اپنے حق کو صدقہ کر دے یعنی معاف کر دے تو تصدق صاحب حق کے لئے کفارئہ ذنوب کا سبب ہوگا۔
حضرت عبادہ بن الصامت کی روایت میں ہے فرمایا نبی کریم ﷺ نے جس نے اپنے جسم کے کسی حصہ کو صدقہ کردیا تو اللہ تعالیٰ اس کے موافق اس کے گناہ کم کر دے گا یعنی اگر کسی نے نصف قصاص یا نصف دیت کو معاف کردیا تو معاف کرنے والے کی آدھی خطائیں معاف ہوجائیں گی اور اگر کسی نے چوتھائی معاف کیا تو اس کی چوتھائی خطائیں حضرت حق معاف فرما دیں گے قتل میں تو اولیائے مقتول کو معافی کا حق ہے اور مقطوع و مجروح کو خود معاف کردینے کا حق ہے اس موقعہ پر تصدق کا لفظ بطور ترغیب فرمایا گیا ہے۔
حضرت سنجرہ ؓ سے ایک مرفوعاً روایت طبرانی اور بیہقی میں ہے فرمایا نبی کریم ﷺ نے جو شخص کسی مصیبت میں مبتلا کیا گیا اور اس نے صبر کیا اور اسی حالت میں اللہ تعالیٰ کا شکر بجالا یا اس پر ظلم کیا گیا اور اس نے ظالم کو معاف کردیا اس نے خود ظلم کیا پھر اللہ تعالیٰ سے استغفار کیا تو ایسے لوگ صاحبان امن اور صحیح راہ یافتہ ہیں یعنی بلا میں مبتلا ہوں تو صبر و شکر بجا لائیں کوئی ان پر ظلم کرے تو ظالم کو معاف کردیں اور اگر ان سے خود کبھی ظلم سر زد ہوجائے تو توبہ استغفار کریں ایسے لوگ ہیں جو مامون بھی ہیں اور راہ یافتہ بھی ہیں۔
بعض حضرات نے فھو کفارۃ لہ کا مطلب اس طرح بیان کیا ہے کہ اگر کسی قاتل کو اولیائے مقتول یا کسی قاطع کو مقطوع یا کسی جارح کو مجروح معاف کردیں تو یہ معاف کردینا مجرم کے لئے کفارہ ہوجائے گا اور قیامت میں اس جانی سے کوئی مواخذہ نہ ہو جس طرح قصاص کے بعد مجرم پر مواخذہ نہیں رہتا اسی طرح مستحقین کے معاف کردینے سے بھی مواخذئہ اخروی ختم ہوجائیگا صاحب حق کے معاف کردینے کے بعد قیامت میں بھی مواخذہ نہ ہوگا یہ قول حضرت عبداللہ عباس حضرت مجاہد اور حضرت مقاتل ؓ اجمعین کا ہے۔ اس قول کی بنا پر یہ بات باقی رہ جاتی ہے کہ معاف کرنے والے کو کیا صلہ عطا ہوگا۔ جب معاف کرنے والے کے معاف کرنے سے قاتل یا قاطع یا جارح جرم سے سبکدوشی ہوجائے گا تو اس معاف کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک ہوگا اس کا جواب یہ ہے کہ معاف کرنے والے کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے جیسا کہ فرمایا ۔ فمن عفاد اصلح فاجرہ علی اللہ اس آیت کا تعلق یہود سے تھا ۔ اب آگے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور انجیل کا ذکر فرماتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayah 5:46ف 2 اور ہم نے ان انبیائے مذکورہ کے بعد جن کی طرف یحکم بھا النبیون میں اشارہ کیا گیا ہے ان ہی انبیائے ما سبق کے نقش ہائے قدم پر حضرت عیسیٰ بن مریم کو بھیجا جن کا حال یہ تھا کہ وہ اس کتاب کی تصدیق کرتے تھے جو ان سے پہلے نازل ہوئی تھی یعنی توریت کی تصدیق فرماتے تھے اور اس کو منزل من اللہ کہتے تھے اور ہم نے ان عیسیٰ بن مریم کو انجیل عطا کی تھی اس انجیل کی یہ حالت تھی کہ اس میں روشنی تھی اور صحیح راہ کی راہنمائی تھی اور وہ بھی اپنے سے پہلی کتاب توریت کی تصدیق کرنے والی تھی اور اس کو منجانب اللہ بتاتی تھی اور وہ انجیل اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں کے لئے سراسر ہدایت اور نصیحت تھی۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم بھی توریت کی تصدیق فرماتے تھے اور انجیل میں توریت کی تصدیق یہ اس وجہ سے فرمایا کہ انبیاء (علیہم السلام) کے یہ لوازمات میں سے ہے کہ وہ پہلے نبیوں کی تصدیق کریں اور سای طرح یہ آسمانی کتابوں کے بھی لوازمات میں سے ہیں کہ وہ اپنے سے پہلے کی آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتی ہیں تاکہ یہ بات معلوم ہو سکے کہ ان تمام پیغمبروں کا اور کتب آسمانی کا مرکز اور منبع ایک ہی ہے اور انبیاء (علیہم السلام) اور کتب سماویہ ایک دوسرے کی تائید اور توثیق کرنے والے ہیں انجیل کی تعلیم کو ہدایت اور نور فرمایا جو کتب سماویہ کا خاصا ہے کہ یہ کتابیں مخلوق کی رہنمائی اور ان کو حقیقی روشنی سے بہرہ مند کرنے کے لئے بھیجی جاتی ہیں جس طرح رات کی تاریکی میں انسان باوجود آنکھوں کی بینائی کے روشنی کا محتاج ہوتا ہے اسی طرح کفر و شرک کی تاریکیوں میں آسمانی تعلیم کی روشنی کا محتاج ہوتا ہے اس لئے کتب سماویہ کی تعلیمات کو نور ضیاء اور ہدایت وغیرہ کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے دوبارہ پھر انجیل کی ہدایت کا ذکر فرمایا اس لئے کہ انجیل میں نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کی بشارت کا بھی بکثرت ذکر تھا اس لئے یہ خیال ہوسکتا تھا کہ یہ بات سمجھ میں آجائے کہ نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کا تذکرہ بھی سبب ہدایت ہے۔ اس لئے انجیل سراسر ہدایت اور نصیحت ہے پرہیز گاروں کے لئے آسمانی کتب کا نصیحت ہونا تو ظاہر ہی ہے۔
اہل تقویٰ کا ذکر اس لئے فرمایا کہ یہی لوگ حقیقت میں آسمانی ہدایت اور نصیحت سے فائدہ اٹھاتے ہیں جب انجیل کی صداقتا ور اس کا کتاب آسمانی ہونا ثابت ہوگیا تو اہل انجیل کو حکم دیا جاتا ہے کہ تم کو اس کتاب کے احکام کی پابندی کرنی چاہئے اور منجملہ دیگر احکام کے اس کتابنے یہ بھی حکم دیا ہے کہ نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ جب تشریف لائیں تو ان پر اور ان کی کتاب پر ایمان لائو۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 5:47ف 3 اور ہم نے اہل انجیل کو یہ حکم دیا تھا کہ اہل انجیل کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ جب کوئی حکم کیا کریں تو اللہ تعالیٰ نے جو کچھ انجیل میں نازل فرمایا ہے اس کے موافق حکم دیا کریں اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام کے مطابق حکم نہ کریں تو ایسے ہی لوگ نافرمان اور بےحکمی کرنے والے ہیں۔ جس طرح اوپر یہود کو کہا گیا تھا کہ کسی فیصلے کے وقت یا کوئی حکم دیتے وقت اس بات کا لازمی طور پر لحاظ رکھو کہ تمہارا فیصلہ اس کتاب کے خلاف نہ ہو جو تمہارے زمانے میں واجب الاتباع ہو اسی طرح اس آیت میں نصاریٰ کو بھی بتایا گیا ہے کیونکہ اس قسم کی کمزوریوں میں نصاریٰ بھی مبتلا تھے کہ حکم بنتے وقت تھوڑی بہت خیانت کر گذرتے تھے جو لوگ احکام الٰہی کے خلاف فیصلے کرتے ہیں ان کو کافر ظالم، فاسق کہا گیا ہے اگر آسمانی کتاب کے حکم کے خلاف فیصلہ کرنے والے نے توہین کی غرض سے فیصلہ کیا ہو تو ان سب الفاظ کے معنی حقیقی کفر ہوں گے ورنہ پھر فسق وغیرہ ہوں گے تو رات و انجیل کا ذکر کرنے کے بعد قرآن شریف کا ذکر فرماتے ہیں اور چونکہ اہل کتاب کی یہ خواہش ہوتی تھی کہ نبی کریم ﷺ بھی ہمارے فیصلوں سے اتفاق کیا کریں یا جو فیصلہ ہم ان کے سپرد کریں اس کو ہماری مرضی کے موافق فیصلہ کیا کریں اس کا بھی آگے کی آیت میں ذکر ہے اور اپنے نبی کے متعلق ایک ضابطہ مقرر کردیا گیا ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 5:48ف 1 اور اے پیغمبر ! ﷺ ہم نے اس کتاب یعنی قرآن کریم کو آپ کی جانب بھیجا ہے یہ کتاب خود بھی برحق اور سچائی کے ساتھ متصف ہے اور اپنے سے پہلی کتب سماویہ کی بھی تصدیق کرنے والی ہے اور یہ کتاب ان کتب سماویہ میں ہر ایک کتاب کی اور ان کے مضامین کی نگراں اور محافظ بھی ہے۔ لہٰذا آپ ان اہل کتاب کے باہمی معاملات میں سے جو معاملہ آپ کے روبرو پیش ہو تو آپ اس کا فیصلہ اسیح کم کے مطابق کیا کیجیے جو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے اور ان اہل کتاب کی خواہشات نفسانی کی پیروی نہ کیا کیجیے اور جو حق بات آپ کے پاس آتی ہے اس سے انحراف نہ کیا کیجیے اور اس کو چھوڑ کر ان کی خواہشات کی رعایت نہ کیجیے اور ہم نے تم میں سے ہر ایک جماعت کے لئے مختلف اوقات میں ایک شریعت اور ایک واضح اور روشن راستہ مقرر کیا تھا اور اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو وہ تم سب کو ایک ہی جماعت کردیتا اور تم سب کے لئے ایک ہی شریعت مقرر کردیتا اور تم سب کو ایک ہی قسم کے اصول و فروع کا پابند بنا دیتا لیکن اس نے مختف اوقات میں ہر زمانہ کی مناسبت سے مختلف احکام دیئے تاکہ جو کچھ اس نے تم کو دیا ہے اس میں وہ تمہاری آزمائش کرے۔ لہٰذا تم بھلے کاموں میں سبقت کرنے کی کوشش کرو اور بےکار بحثوں میں پڑ کر عمل کی قوت کو ضائع نہ کرو اور اس بات کا خیال رکھو کہ تم سب کو اللہ ہی کی طرف واپس لوٹنا ہے پھر جب تم اس کی حضور میں حاضر ہو گے تو وہ تم کو ان سب باتوں سے اگٓاہ کر دے گا جن میں تم باہم یہاں جھگڑتے رہے ہو۔
خلاصہ یہ ہے کہ اہل کتاب کا یہ حال تھا کہ یہ کبھی کبھی جب اپنے جھگڑوں پر قابو نہ پاتے تو اس بات کی کوشش کرتے کہ آئو اس مقدمہ میں اس شخص سے فیصلہ کرا لو جو اپنے آپ کو نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کہتا ہے اور ہماری طرح ایک آسمانی کتاب کا مدعی ہے پھر اگر یہ لوگ اپنے مقدمہ کو حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کرنے پر متفق ہوجاتے تو پھر ایک فریق یہ چاہتا کہ آپ کا فیصلہ اسکی خواہش کے مطابق ہو حضرت حق جل سجدئہ نے اس معاملہ میں ایک ضابطہ مقرر فرما دیا پہلے قرآن منزل من اللہ ہونا ظاہر کیا گیا اور یہ بات بتائی گئی کہ اس قرآن کریم کو ہم نے آپ کے پاس بھیجا ہے اور یہ قرآن کریم بھی ایک آسمانی کتاب ہے جس کا نازل ہوتا ثابت ہے اور اس میں جو مضامین مذکور ہیں وہ حقائق واقعیہ پر مشتمل ہیں اور یہ قرآن کریم بھی اپنے سے سابقہ کتب سماویہ کی تصدیق کرنے والا ہے۔
جیسا کہ آسمانی کتابوں کا ایک مشہور ضابطہ ہے یا اس اعتبار سیمصدق فرمایا کہ توریت و انجیل کی پیشین گوئی کے موافقنازل ہوا۔ اس لئے اس کے نزول سے ہی ان کی تصدیق ہوجاتی ہے اور یہ کتاب تو ان سابقہ کتابوں کے صفا مین کی نگراں اور محافظ بھی ہے کیونکہ اس کتاب پر ان کتابوں کو پیش کرنے کے بعد یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ یہود و نصاریٰ نے ان کتابوں کے مضامین میں کہاں کہاں تحریف کی ہے۔
مفسرین نے مہمین کے بہت سے معنی بیان کئے ہی جن کا ماحصل تقریباً ایک ہی ہے پھر یہ فرمایا کہ اگر اہل کتاب کوئی مقدمہ آپ کی خدمت میں لے آئیں تو آپ اس کا فیصلہ احکام قرآنی کی روشنی میں کیا کریں اور ان کی خواہشات کی پرواہ نہ کیا کریں اور جو حکم اس کا قرآن کریم میں ہو ان کی خاطر سے اس سے انحراف اور عدول نہ کیا کریں کیونکہ ہر زمانے میں ہم نے اس زمانے کی رعایت سے مختلف اترتے چڑھتے احکام دیئے ہیں اور احکام فروعیہ کو تھوڑا تھوڑا بدلتے رہے ہیں لہٰذا جس زمان یکے لئے جو احکام ہم نے مقرر کئے ہیں اس زمانے کے لوگوں کو اسی کی پابندی کرنی چاہئے اور چونکہ قرآن کریم آخر میں نازل ہوا ہے اس لئے اس دور میں اسی کے احکا قابل تسلیم ہونے چاہئیں اور اگر اللہ کو منظور ہوتا تو وہ ابتدائے آفرنیش سے قیامت تک کے لئے ایک ہی قسم کے احکام فروعیہ مقرر کردیتا لیکن اس نے ایسا نہ کیا تاکہ جو کچھ اس نے تم کو وقتاً فوقتاً دیا ہے اس میں وہ ہر دور کے لوگوں کو آزمائے ۔ آزمانے کا مطلب یہ کہ اپنے اپنے زمانے میں کیسا عمل کرتے ہیں اور دوسری شریعت کے آجانے پر اس کو کس طرح تسلیم کرتے ہیں۔ آخر میں فرمایا کہ اصل مقصد تو بھلے کاموں میں آگے بڑھنا ہے۔ لہٰذا بےکار بحث مباحثہ کر کے وقت ضائع نہ کرو اور نیکیاں کمانے کے لئے زندگی کے لمحات کو غنیمت جانو۔
رہنے یہ باہمی اختلافات اور جھگڑے تو ان کا آخری فیصلہ تو اس وقت ہوگا جب تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں لوٹ جائو گے اس وقت وہ تم کو ان سب باتوں کی صحیح حقیقت سے آگاہ کر دے گا جن میں تم جھگڑتے رہا کرتے ہو چونکہ اہل کتاب اور خصوصاً یہود اپنی مرضی کے موافق نبی کریم ﷺ سے فیصلہ کرانے کی فکر میں رہتے تھے اس لئے پھر حضور ﷺ کو ارشاد فرمایا کہ بندہ بشر ہے ان سے ہوشیار ہو مبادا وہ تم کو دھوکہ دے کر اور باتیں ملا کر کوئی ایسا فیصلہ کرا لیں جس میں قرآن کریم کے کسی حکم کی خلاف ورزی ہوجائے چناچہ ارشاد ہتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 5:49ف 2 اور پھر ہم اس بات کی جانب تم کو توجہ دلاتے ہیں اور حکم دیتے ہیں کہ جب کبھی ان اہل کتاب سے باہمی معاملات میں آپ کو فیصلہ کرنے کی نوبت آئے اور یہ لوگ آپ کو حکم بنائیں تو آپ اپنا حکم دیتے وقت اس بات کا خیال رکھئے کہ صرف ان احاکم کے ماتحت حکم کیجیے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کی شریعت میں نازل فرمائے ہیں اور ان کی غیر شرعی خواہشات کی پیروی نہ کیجیے اور آپ ان اہل کتاب سے آئندہ بھی ہوشیار رہئے اور احتیاط برتئے کبھی ایسا نہ ہو کہ یہ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام میں سے کسی حکم سے آپ کو بچلا دیں اور آپ کو کسی فتنہ میں مبتلا کردیں اور اگر یہ لوگ باوجود آپ کے فیصلے کے آپ کے حکم سے روگردانی کریں تو اس امر کا یقین کیجیے کہ اللہ تعالیٰ کو ان سے گناہوں میں سے بعض گناہ کی پاداش دنیا ہی میں دینی منظور ہے اور یہ واقعہ ہے کہ لوگوں میں سے اکثر اور بیشتر لوگ ہمیشہ سے نافرمانی کرنے کے عادی ہیں۔ (تیسیر)
چونکہ اہل کتاب کی عام طور پر یہی خواہش تھی کہ نبی کریم ﷺ کو کسی نہ کسی طرح اس پر آمادہ کریں کہ جس طرح ہم نے اپنی اپنی کتابوں میں تحریف و تبدیل سے کام لیا ہے اسی طرح ان سے بھی کوئی فیصلہ اپنی خواہشات کے موافق حاصل کیا جائے تاکہ ہم کو کہنے کی گنجائش حاصل ہوجائے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو اس سے آگاہ کرنے کے لئے مکرر فرمایا تاکہ اہل کتاب کی یہ امید منقطع ہوجائے ورنہ آپ نے نہ کبھی ایسا کیا اور نہ آپ کی عصمت اور مامونیت سے اس قسم کا خطرہ تھا کہ آپ کسی وقت بھی باطل کی جانب مائل ہوجائیں گے۔
یہاں حق سے باطل کی طرف مائل ہونے کو فتنہ سے تعبیر فرمایا اور اہل حق کے لئی اس سے بڑا فتنہ کیا ہوسکتا ہے کہ وہ کسی وقت بھی ایسا تصور کریں کہ باطل بھی توجہ کے قابل ہوسکتا ہے اس لئے فرمایا کہ تم حق پر مضبوطی سے اپنی عادت کے مطابق جمے رہے اور جو فیصلہ قرآنی حکم کے موافق ہو وہ صادر کردو اور اگر یہ انکار کریں اور باوجود توضیح دلائل کے آپ کا حکم نہ مانیں تو سمجھ لیجیے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے علاوہ ان کو ان کے بعض جرائم کی سزا دنیا میں بھی دینا چاہتا ہے اور اس ارشاد سے یہ بات معلوم ہوئی کہ ان کے جرائم تو بہت ہیں لیکن بعض گناہ جیسے اللہ کے فیصلے سے اعراض اور روگردانی مثلاً اس کی سزا میں حضرت حق تعالیٰ کو تعجیل منظور ہے جیسا کہ چند دن بعد ہی اس سزا کا ظہور ہو اور ان کو قتل اور جلا وطن وغیرہ کیا گیا۔ سزا کی عظمت کے لحاظ سے یہاں ابہام رکھا گیا۔ آخر میں فرمایا کہ ہر دور میں اکثریت کا یہی مخالفانہ اور کافرانہ دستور رہا ہے اور لوگوں کی کثرت فسق و فجور اور اہل حق کی نافرمانی کی جانب مائل رہی ہے اور اکثریت متمرد اور سرکش اور کفر و انکار پر اصرار کرنے والی ہے اس میں نبی کریم ﷺ کے لئے تسلی ہے۔ اب آگے پھر تنبیہہ کے طور پر ارشاد ہوتا ہے کہ کیا یہ لوگ اب بھی دور جاہلیت کے فیصلوں کی تلاش میں ہیں چناچہ فرماتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayahs 5:50–52ف 3 کیا اے پیغمبر یہ آپ کے حکم سے روگردانی کر کے دور جاہلیت کے کافرانہ احکام کے متلاشی ہیں اور بھلا اللہ تعالیٰ سے بہتر اس قوم کے لئے جو یقین کرنے والی ہے کون فیصلہ کرنے والا ہوسکتا ہے۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ جب یہ حق بات کو جو آپ کا حکم ہے نہیں مانتے اور اس سے روگردانی کرتے ہیں تو پھر کیا اس زمانہ کی باتوں کو تلاش کرتے ہی جب نہ کوئی دین کی روشنی تھی نہ کوئی باضابطہ اور قابل اعتماد آسمانی کتاب بھی نہ تھی اب نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کا دور ہے اور خدا تعالیٰ کی آخری کتاب کے احکام کو اجرا ہوچکا جب حق ظاہر ہوچکا تو اس روشنی کے زمانے میں دور جاہلیت کی باتوں کو تلاش کرتے پھرنا اس سے بڑھ کر بھی کوئی حماقت ہوسکتی ہے ان کو ایسا نہیں کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ سے بہتر با اعتبار فیصلہ کرنے کے کون ہوسکتا ہے ان لوگوں کے نزدیک جو یقین سے بہرہ ور ہیں ان لوگوں کا اس سے بڑھ کر اور جہل کیا ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلوں کو نظر انداز کرتے ہوئے تاریک زمانے کے انسانوں کی راہیں تلاش کریں یقین والوں کو اس لئے فرمایا کہ ان ہی میں غور و فکر اور تامل و تدبر کا سلیقہ ہے کہتے ہیں کہ ابن صوریا کے ساتھ اس سازش میں عبداللہ بن ابی منافق بھی شریک تھا۔ (تسہیل)
Ayah 5:53ف 1 اے ایمان والو ! تم یہود و نصاریٰ کو اپنا دوست اور رفیق نہ بنائو یہ لوگ آپس ہی میں ایک دوسرے کے رفیق اور دوست ہوسکتے ہیں اور جو شخص تم میں سے ان یہود و نصاریٰ کو اپنا دوست بنائے گا اور دوستی ورفاقت کرے گا تو یقین جانو ! کہ وہ انہی میں سے شمار ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی رہنمائی نہیں کیا کرتا جو اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں اور مسلمانوں کو چھوڑ کر یہود و نصاریٰ پر اعتماد کرتے ہو۔ سو اے پیغمبر آپ ملاحظہ کرتے ہوں گے جن لوگوں کے دل میں نفاق کا روگ ہے وہ ان یہود و نصاریٰ میں گھسنے اور ان سے دوستانہ تعلق بڑھانے میں جلدی کر رہے ہیں اور ان سے مودت و محبت بڑھانے میں جلد بازی سیک ام لے رہے ہیں ان کا حال یہ ہے کہ یوں کہتے ہیں کہ ہم کو اس بات کا خوف ہے کہ کوئی حادثہ پیش آجائے اور ہم زمانہ کی کسی گردش میں مبتلا ہوجائیں سو وہ وقت قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو فتح مند کر دے یا اپنی طرف سے کسی اور بات کا ظہور فرما دے جس کا اثر یہ ہو کہ یہ منافق ان باتوں پر جو انہوں نے اپنے دلوں میں چھپا رکھی ہیں نادم ہو کر رہ جائیں اور ان کو شرمندگی اور ندامت کا منہ دیکھنا پڑے اور مسلمان ان منافقوں کی ندامت کو دیکھ کر یوں کہیں کہ اچھا یہ وہ منافق ہیں کہ جو سخت ترین اور مبالغہ آمیز قسمیں کھا کھا کر ہمیں اس بات کا یقین دلایا کرتے تھے کہ وہ تمہارے ساتھ ہیں اور ان منافقین کے تمام اعمال اور دو طرفہ ریشہ دوانیاں بےکار اور ضائع ہوگئیں اور یہ ناکام اور زیاں کار ہو کر رہ گئے۔ (تیسیر)
ہم یہ بات پہلے عرض کرچکے ہیں کہ اگر مدینہ منورہ میں مسلمانوں کا تدریجی اقتدار بڑھ رہا تھا اپنے حقوق کی حفاظت کے لئے جنگ کرنے کی اجازت مل چکی تھی لیکن لڑائی میں کبھی فتح اور کبھی شکست لازمی ہے غرض ! مسلمانوں کے لئے ایک صبر آزما دور تھا جب بدر میں فتح ہوئی تو اچھی خاصی ساکھ بندھ گئی لیکن جب احد میں شکست ہوئی تو رنگ برنگ کی بولایں سننے میں آنے لگیں۔
الحرب بیننا وبینہ سبحال نیال متنا و سال منہ جب کبھی آپ رسی میں دو ڈول باندھ کر کنوئیں سے پانی بھریں گے تو کبھی ایک ڈول اوپر آئے گا اور دوسرا ڈول پانی میں ہوگا پھر اوپر والا ڈول نیچے جائے گا اور نیچے والا اوپر آجائیگا مسلمانوں ہی کو ہر جنگ میں فتح ہو یہ اصول فطرت نہیں ایسا کرنے میں جبراً کفار کو اسلام کی طرف مائل کرنا ہے اور یہ لا اکراہ فی الدین کے منافی ہے اور جب مسلمان فتح و شکست کی الجھنوں میں مبتلا ہوں تو ظاہر ہے کہ مخلصین کے علاوہ دوسرے لوگوں کو اطمینان کس طرح میسر ہو ۔
یہی وجہ تھی کہ کفار کی زندگی امید وہم اور خوف و طمع کی زندگی تھی ایک طرف فتح و شکست کا سامنا دوسری طرف امید وہم کی توقعات اور خطرات اوپر کی آیتوں میں انہی باتوں کا ذکر ہے مخلص مسلمانوں کے لئے بشارت ہے اور منافقوں کے لئے زجر و توبیخ ہے اور دو رخی پالیسی رکھنے والوں کی مذمت ہے ہم نے عام حالات کی بنا پر تفسیر کردی ہے۔ اگرچہ مفسرین نے شان نزول کی بحث میں بہت اختلاف کیا ہے ہوسکتا ہے کہ غزوئہ احد کی بنا پر بعض منافقین نے یہ خیال کیا ہو کہ اگر مسلمان ختم ہوجائیں تو ہمارے تعلقات اہل کتاب سے مضبوط رہنے چاہئیں تاکہ ادھر سے ادھر کا سہارا لے لیں ہوسکتا ہے کہ عبداللہ بن ابی اور عبادہ بن صامت کا قصہ ہو کہ حضرت عبادہ بن صامت نے آیت سنتے ہی اپنے یہودی دوستوں سے تعلقات منقطع کر لئے لیکن عبداللہ بن ابی نے قائم رکھے اور مسلمانوں سے یہ کہہ دیا کہ قحط وغیرہ کا خطرہ ہے ہم اپنے دوستوں کو جو ہماری مصیبت میں کام آتے ہیں کس طرح چھوڑ دیں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ابو لبابہ کے واقعہ سے متعلق ہو کہ ان کو یہود کی فہمائش کے لئے جب آنحضرت ﷺ نے بھیجا اور جب یہود نے ان سے پوچھا تو انہوں نے زبان سے تو کچھ نہیں کہا لیکن ہاتھ اپنے گلے پر پھیر کر اشارہ کردیا کہ نیچے اترو گے تو سب ذبح کردیئے جائو گے۔
ہم نے تمام اقوال کو سامنے رکھ کر ایک عام تفسیر کردی ہے۔ بہرحال ان آیتوں میں مخلص مسلمانوں کو تنبیہہ ہے کہ وہ اہل کتاب پر اعتماد نہ کریں اور ان سے راز دارانہ دوستیاں نہ پیدا کریں۔
بعضھم اولیاء بعض میں عدم موالات کی علت فرمائی کہ دوستی کے لئے ہم جنس اور ہم خیال ہونا ضرویر ہے وہ اسلام میں تمہارے ہم خیال نہیں ہیں تو خفیہ دوستی کرنے سے سوائے نقصان کے کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے ایسی دوستی وہ منافق ہی کرسکتے ہیں جو اسلام کی ترقی سے اور مسلمانوں کی یہودی کے متعلق مذبذب اور مشکوک ہیں۔ اسی دوستی کے لئے قحط وغیرہ مصائب کو بہانہ بناتے ہیں اور دل میں یہ بات رکھتے ہیں کہ اگر کل کو مسلمان ختم ہوئے اور ان کا اقتدار مٹاتو ہم کو اور ہمارے وطن کو یہود و نصاریٰ مکہ والوں کی دست برد سے بچا لیں گے۔ فتری۔ کے ترجمہ میں ہم نے نبی کریم ﷺ کو مخاطب بنایا ہے ہوسکتا ہے کہ یہ خطاب عام ہو جیسا کہ بعض نے اختیار کیا ہے۔
دائرہ ۔ سے مراد زمانے کے وہ ہیر پھیر ہیں جس سے ہر شخص کو دو چار ہونا پڑتا ہے اور پریشانی کے وقت اپنے احباب اور مددگاروں کی کثرت کو اپنے لئے مفید سمجھتا ہے اور اسی دور اندیشی کی بنا پر منافقین سرمایہ دار اہل کتاب سے دوستی بھڑھانے کی فکر میں رہتے تھے۔ فتح جس کا وعدہ فرمایا ہے وہ فتوحات عامہ میں سے کوئی خاص نمایاں فتح ہوسکتی ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس فتح سے مراد مکہ کی فتح ہو ۔
ام من عندہ سے مراد کوئی ایسی چیز ہوسکتی ہے جو یہود پر اثر انداز ہو اور وہ منافق جو یہود پر نازاں تھے اور ان کی خفیہ دوستی پر بھروسہ کر رہے تھے ان کو اپنا انجام معلوم ہوجائے جیسا کہ واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل کتاب مدینہ سے نکالے گئے ۔ ان کے گھر منہدم ہوگئے اور وہ خود جلا وطن ہوئے اس وقت ان منافقین پر جو گذری اس کا نقشہ آگے کی آیتوں میں ظاہر کیا گیا ہے کہ منافقین مسلمانوں کی فتوحات اور یہود کی جلا وطنی کو دیکھ کر بہت نادم اور رسوا ہوئے مسلمانوں نے کہا ارے یہ بدبخت تو ہماری معیت کی قسمیں کھا کھا کر یقین دلایا کرتے تھے۔
جھد ایمانھم سے مراد موکد اور مبالغہ آمیز قسمیں ہیں ایک طرف مسلمانوں کو قسمیں کھا کر اپنی وفاداری کا اظہار اور دوسری طرف یہود سے ساز باز اس دورخہ پالیسی کا حشر یہ ہوا کہ یہود جلا وطن ہو کر گئے اور مسلمانوں میں اعتبار نہ رہا نہ ادھر کے رہے نہ اندھر کے رہے اسی حالت اعمالھم فاصبحوا خاسرین جب تمام جدوجہد اور دوڑ دھوپ اکارت ہوگئی تو سوائے نقصان اور ٹوٹا پانے کے اور کیا رہ گیا آگے پھر فرماتے ہیں کہ اگر مسلمانوں میں سے کوئی مرتد ہوجائے یا یہ لوگ کفر کے کیمپ میں چلے جائیں تو اللہ تعالیٰ ان کو ہٹا کر کسی اور ایسی قوم کو لے آئے گا جو اس کی مطیع و فرمانبردار ہوگی۔ حضرت شاہ صاحب نادمین پر کہتے ہیں یعنی منافق کافروں سے دوستی لگائے جاتے ہیں کہ ہم پر گردش نہ آجائے یعنی مسلمان مغلوب ہوجائیں تو ان کی دوستی ہمارے کام آوے سو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اب قریب ہے کہ کافر ہلاک ہوں یعنی مسلمانوں کو ان پر فتح ہو یا کچھ اور حکم آوے یعنی کافر ملک سے ویران ہوں آخر یہود کو حکم فرمایا جلا وطن کرنے کا 12 منہ (تسہیل)
Ayahs 5:54–55ف 1 اے ایمان والو ! جو کوئی تم میں سے اپنے دین کو چھوڑ کر واپس ہوجائیگا اور مرتد بن جائیگا تو اللہ تعالیٰ بہت جلد ان مرتدین کی جگہ ایسے لوگوں کو لے آئے گا جن کے اعمال اور ان کی فرمانبرداری کو اللہ تعالیٰ پسند فرمائے گا اور وہ بھی لوگ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہوں گے وہ مسلمانوں پر مہربان ہوں گے اور کافروں کے مقابلہ میں ان کا برتائو سخت اور تیز ہوگا وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوں گے اور وہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے یہ صفات اور یہ خوبیاں اللہ تعالیٰ کا فضل ہے وہ جس کو چاہتا ہے اپنے فضل سے بہرہ مند فرماتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اپنا فضل عطا فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ بہت صاحب وسعت اور بڑا صاحب علم ہے۔ (تیسیر)
عام مفسرین کی رائے یہ ہے کہ یہ ایک پیشین گوئی ہے جس کی اطلاع اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کی معرفت دی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس امت میں کچھ قبائل دین اسلام سے مرتد ہو کر کفر میں واپس چلے جائیں گے اور ان مرتدین کا قلع قمع اللہ تعالیٰ کچھ مخلص اہل فضائل کے ہاتھوں سے کرا دے گا چناچہ نبوت کے آخری دور میں کچھ جھوٹے نبوت کے مدعی ہوئے اور کچھ حضور ﷺ کی وفات کے بعد زکوۃ کے منکر ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے ان سب کی سرکوبی حضرت صدیق اکبر ؓ اور ان کے ساتھیوں سے کرا دی۔ اسود عنسی نے نبوت کا دعویٰ کیا اور قبیلہ بنی مدلج اس کے ہمراہ ہو کر مرتد ہوا پھر ان لوگوں نے یمن کے علاقہ میں قتل و غارت گری کا بازار گرم کردیا اور نبی کریم ﷺ کے کارندوں اور نقبا کو یمن سے نکال دیا دوسرا شخص مسلیمہ کذاب تھا اس نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا اور فرقہ بنی حنیفہ اس کے ہمراہ ہوگیا اور سا کا ایک عرصہ تک زور رہا ایک اور شخص طلیحہ بن خویلد تھا یہ بھی مرتد ہوا اور اس نے بھی خاصی جماعت اپنے ساتھ لگا لی اور بھی تقریباً سات فرقے زکوۃ کے انکار سے حکومت کے باغی تسلیم کئے گئے صرف ایک فرقہ جس کو غسان کہا جاتا ہے یہ حضرت عمر ؓ کی خلافت میں مرتد ہوا بہرحال ان میں سے کچھ لوگ توبت پرست ہی بن گئے اور کچھ نے نبی کریم ﷺ کی نبوت کا انکار کیا اور اسود عنسی اور مسلیمہ کذاب کی نبوت پر ایمان لے آئے اور کچھ فرقے زکوۃ امام کو دینے اور بیت المال میں جمع کرنے کے منکر ہوگئے اس ارتداد کے سیلاب کو اللہ تعالیٰ نے حسب وعدہ ایک ایسی قوم یعنی حضرت صدیق اکبر ؓ اور ان کے اصحاب کے ہاتھوں سے دفع کرایا جو ان صفات کے ساتھ متصف تھے جن صفات کا ذکر آیت میں کیا گیا ہے۔ اہل علم جانتے ہیں کہ مانعین زکوۃ کے بارے میں تو اکثر صحابہ ؓ بلکہ حضرت عمر ؓ تک حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے موافق نہ تھے ۔ آخر میں جا کر حضرت عمر ؓ …… نے ان کی موافقت کی ورنہ ہر شخص یہی کہتا تھا کہ بھلا کلمہ پڑھنے والوں کے خلاف جہاد کیسے ہوسکتا ہے لیکن حضرت صدیق اکبر ؓ کے ثبات اور ان کی اوالعزمی نے اور ان کی روحانی قوت نے حضرت عمر ؓ کو شرح صدر کی دولت بخشی اور وہ خلیفہ اول کی رائے کے موافق ہوئے اسود عنسی کو فیروز و ملیمی ؓ نے اور مسلیمہ کذاب کو خالد بن ولید ؓ کی فوج کے ایک پختہ کار سپاہی وحشی نے قتل کیا اور اللہ اللہ کر کے یہ فتنہ حضرت ابوبکر ؓ کی شجاعت اور ہمت سے سر ہوا انہی مصائب کا تذکرہ کرتے ہوئے حضرت عائشہ ؓ فرمایا کرتی تھیں کہ میرے باپ کی خلافت میں جو مصائب میرے باپ کو پیش آئے اگر وہ کسی پہاڑ کو بھی پیش آتے وہ اپنی جگہ پر قائم نہ رہتا۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں جب حضرت کی وفات پر عرب دین سے پھرے تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے یمن سے مسلمان بلائے ان سے جہاد کروایا کہ تمام عرب پھر مسلمان ہوئے یہ ان کے حق میں بشارت ہے۔ (موضح القرآن) بہرحال آیت میں خواہ کسی مخصوص جماعت کی طرف اشارہ ہو لیکن آیت ان تمام انقلابات کو ظاہر کرتی ہے جو مختف قوموں میں ہوتے رہتے ہیں جب کسی قوم میں سرکشی اور ایذا رسانی اور ظلم کی فراوانی ہوجاتی ہے اور وہ دنیا میں امن و انصاف نہیں قائم رکھ سکتی تو خدائی سطو و جبروت کی گرفت نمایاں ہوتی ہے اور وہ ظالموں کی جگہ اچھے امن پسند اور منصف مزاج لوگوں کو لے آتا ہے۔ جیسا کہ متعدد جگہ ارشاد ہوتا ہے۔
ان یشا یذھبکم ایھا الناس ویات باخرین۔ ان یشا یذھبکم و یستخلف من بعد کو ما یشآء اور فرمایا ثم جعلنکم خلائف فی الارض من بعدھم وان تتولوا یستبدل قوما غیر کم۔
اور یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کفر کو برداشت کرلیتا ہے لیکن ظلم اور بد امنی کو گوارہ نہیں کرتا۔ بہرحال ! آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر خدانخواستہ مسلمان اپنے دین سے پھرگئے تو اللہ تعالیٰ کی شان استغنا کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا وہ اور کسی قوم کو لے آئے گا اور تم کو ان کے ہاتھ سے مٹا ڈالے گا اور تباہ کر دے گا وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے محبوب ہوں گے اور اس سے محبت بھی کرنے والوں میں ہوں گے۔ اذلتہ علی المئومنین اعزۃ علی الکافرین کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ اپنوں کا سا سلوک کریں گے اور منکروں کو بیگانہ سمجھ کر ان سے ان کے لائق برتائو کریں گے۔
اشداء علی الکفار رحماء بینھم جہاد کرنے کا اللہ کی راہ میں مطلب یہ ہے کہ دین کے دشمن اور اسلام کو نقصان پہنچانے والے لوگوں کا مقابلہ کریں گے اور مقابلہ میں کسی بدگو اور ملامت کرنے والے کی ملامت کا ڈر ان کو نہ ہوگا اور اس امر کا ان کا اندیشہ نہ ہوگا کہ یہ لوگ ہم کو کیا کہیں گے۔ حضرت ابو ذر غفاری ؓ فرماتے ہیں کہ مجھ کو نبی کریم ﷺ نے سات حکم دیئے ہیں۔
-1 مساکین سے محبت کرنا۔ -2 مساکین کے قریب ہونا۔ -3 اپنے سے کم درجہ کی طرف دیکھنا اور اپنے سے اعلیٰ کی طرف نظر نہ کرنا۔
-4 اور گود پیٹ کے رشتوں سے اچھا برتائو کرنا اگر وہ ظلم بھی کریں تو اس کا خیال کئے بغیر صلہ رحمی کرنا۔-5 بکثرت لاحول ولا قوۃ الا باللہ پڑھتے رہنا کیونکہ یہ خزانہ عرش الٰہی کی چیز ہے۔ -6 اور یہ کہ میں حق بات کہوں خواہ وہ کڑوی ہی کیوں نہ ہو اس حق گوئی کے مقابلہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا اندیشہ نہ کروں۔-7 اور یہ کہ لوگوں سے سوال کرنا ترک کردوں۔ (مسند احمد) اب آگے مسلمانوں کی حقیقی ولایت کے مستحقین کا ذکر فرماتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayahs 5:56–57ف 2 مسلمانو ! تمہارا حقیقی ولی اور مددگار تو اللہ تعالیٰ ہے اور اللہ کا رسول ہے اور تمہارے حقیقی مددگار وہ مسلمان ہیں جو نماز کے پابند ہیں اور زکوۃ ادا کرتے ہیں اور اپنی نمازوں میں رکوع بھی کرتے ہیں یعنی بےرکوع کی نماز نہیں پڑھتے اور جو شخص اس ضابطہ کے موافق اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے اور اہل ایمان سے رفاقت کرے گا اور ان مذکورین سے دوستی قائم رکھے گا تو یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی جماعت میں ہوں گے اور اس امر کا یقین کرو کہ اللہ تعالیٰ کی جماعت اور اس کا گروہ ہی غالب ہونے والا ہے۔
آیت میں حقیقی ولایت کی طرف توجہ دلائی کہ حقیقی ولایت اور معاونت اور رفاقت کا مستحق تو اللہ تعالیٰ ہی ہے اور تبعاً اس کا رسول اور صالح مسلمان ہیں نماز اور زکوۃ کے پابند ہیں اور نماز بھی یہود کی طرح نہیں کہ بےرکوع کی نماز پڑھتے ہیں بلکہ رکوع کے ساتھ نماز ادا کرتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ راکعون کے معنی تواضح کرنے والے ہوں یعنی نماز و زکوۃ کے ساتھ ان کا مزاج عاجزی اور تواضع ہے۔ نخوت اور تکبر نہیں ہے اور نیکیوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر بجالانے والے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ راکعون میں نوافل کی جانب اشارہ ہو کہ فرائض کے ساتھ نوافل بھی ادا کرتے ہیں۔ اوپر فرمایا تھا کہ جو شخص اہل کتاب سے دوستی اور نصرت معونت کے تعلقات قائم کرے گا تو وہ ان میں ہی سے شمار کیا جائے گا۔ یہاں فرمایا ۔ ومن یتول اللہ و رسولہ و الذین امنوا۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور اہل ایمان سے مودت اور نصرت و معونت کے تعلقات وابستہ رکھیں گے تو یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی جماعت اور اس کے گروہ میں شمار کئے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کی جماعت میں داخل ہوں گے اور اللہ کی جماعت غالب ہونے والی ہے اور منکر مغلوب ہونے والے ہیں تو غالب ہونے والوں کی دوستی مفید ہے یا مغلوب ہونیوالوں کی ؟
یہاں تک یہود و نصاریٰ کے طرز عمل اور ان کے ساتھ برتائو کا ذکر تھا آگے کی آیت میں یہود و نصاریٰ کے ساتھ دیگر مشرکین کے طریقہ کار کا بھی ذکر فرمایا اور ان کے ساتھ دوستی رکھنے کی بھی ممانعت مذکور ہے اور مسلمانوں کو تنبیہہ فرمائی کہ یہ لوگ کسی طرح بھی دوستی اور بھروسہ کے لائق نہیں ہیں یہ تو اسلام کا مذاق اڑانے والے ہیں اور احکام اسلام کے ساتھ دل لگی اور مذاق کرنیوالے ہیں چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 5:58–59ف 3 اے اہل ایمان ان لوگوں کو جن کو تم سے پہلے کتاب دی جا چکی ہے وہ ایسے ہیں کہ تمہارے دین کو انہوں نے ہنسی اور کھیل بنا رکھا ہے ان کو اور دوسرے منکرین اسلام کو تم اپنا رفیق نہ بنائو اور اگر تم مومن اور ایمان دار ہو تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور جب تم نماز کے لئے اذان دیتے ہو تو یہ لوگ اس عبادت کے ساتھ ہنسی اور مذاق کرتے ہیں اذان کی نقل اتارتے اور اس کا مذاق اڑاتے ہیں اس کا سبب یہ ہے کہ یہ لوگ بےعقل اور صحیح عقل سے بالکل ہی بےبہرہ ہیں۔ (تیسیر)
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں بعضے یہود اور بعضے مشرک اذان کی آواز پر ہنستے یہ ان کی بےعقلی تھی اللہ کی بڑائی ہر دین میں بہتر ہے۔ (موضح القرآن)
آیات سابقہ میں یہود و نصاریٰ کی دوستی اور رفاقت سے منع فرمایا تھا اور جو منافق ان سے خفیہ موالات رکھتے تھے ان کی مذمت فرمائی تھی اور ان آیات کی ابتداء میں اشارتاً فرمایا تھا۔ بعضھم اولیاء بعض کہ وہ اپنے ہم خیال اور ہم عقیدہ لوگوں کے ہی دوست ہوسکتے ہیں تم کو چونکہ غیر جنس سمجھتے ہیں اس لئے تمہاری ان کی دوستی کس طرح نبھ سکتی ہے یا وہ تم کو اپنے میں جذب کرنے کی کوشش کریں گے یا سوسائٹی میں تم کو ذلیل سمجھیں گے ان آیتوں میں ان کے طرز عمل کی وضاحت فرمائی اور اس طرز عمل کو بطور علت قرار دیا کہ جب ان کا حال یہ ہے تو یہ کھلی معاودات اور دشمنی کا برتائو ہے پھر معادات کے ساتھ موالات کس طرح قائم رہ سکتی ہے یہود و نصاریٰ کے ساتھ دوسرے کفار کو بھی شامل فرما دیا۔ چونکہ اکثر مشرکین اور منکرین بھی تو وہین اسلام میں ان کے ہمنوا تھے اس لئے ان سے بھی موالات کو منع فرمایا اور ارشاد ہوا کہ اے ایمان والو ! جو تمہارے دین کو محض کھیل کود کی ایک چیز سمجھتے ہیں اور دین کے اصول و فروع کے ساتھ استہزا کرتے ہیں وہ عام طور سے یہود و نصاریٰ ہیں کیونکہ یہی لوگ تم سے پہلے کتاب توریت و انجیل دیئے گئے تھے اور ان دیگر مشرک اور کافروں کا بھی تمہارے دین کے ساتھ یہی سلوک ہے تو ایسے لوگوں کو اپنا رفیق کار نہ بنائو اور تم کو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا چاہئے اگر تم مومن اور ایمان دار ہو ۔ اول تو ایمان کی بنیاد ہی تقویٰ ہے پھر تقویٰ تمام امراض باطنی کا عالج بھی ہے اس لئے بس اللہ تعالیٰ ہی سے ڈرو اور یہ اندیشہ ترک کردو کہ سوسائٹی بدون موالات کے کیسے قائم رہے گی۔
آگے اس استہزا کی تصریح ہے کہ جب تم اذان دیتے ہو اور نماز کے لئے لوگوں کو پکارتے ہو تو یہ تمہاری اذان اور نماز کا مذاق اڑاتے ہیں ہنستے ہیں اور نقلیں اتارتے ہیں حالانکہ اذان و نماز میں تو اللہ تعالیٰ کی برتری اور بڑائی مذکور ہے جو دعا اور مناجات کے لئے ضروری ہے اور اتنی بات تو سب ہی اہل مذہب جانتے ہیں لیکن یہ بدبخت اتنی بات کو بھی گوارا نہیں کرتے تو ان سے موالات پر کوئی صحیح نتیجہ مرتب ہونے کی امید نہیں یہ لوگ محض بےعقل ہیں تمہاری عداوت میں اللہ تعالیٰ کی توہین کے مرتکب ہوتے ہیں مسلمانوں کو اس قسم کے چند واقعات پیش آ چکے تھے اول تو جب مسلمان اذان دے کر نماز شروع کرتے تو یہود کیا کرتے تھے یہ کھڑے ہوتے ہیں خدا کرے ان کو کھڑا ہونا نصیب نہ ہو دوسرا واقعہ یہ ہوا کہ مدینہ میں جب مئوذن اشھد ان محمد رسول اللہ کہتا تو ایک نصرانی کہا کرتا جھوٹا ہے ، جھوٹا جل جائے ایک دن اتفاق ایسا ہوا کہ اس کے گھر میں آگ لگ گئی اور وہ نصرانی اور اس کا گھر بار سب جل گیا۔ اسی قسم کا ایک واقعہ فتح مکہ کے دن پیش آیا جب نبی کریم ﷺ کے حکم سے مکہ میں اذان دی تو ابوسفیان بن حرب بن عتاب بن اسید اور حارث بن ہشام بیٹھے تھے عتاب نے کہا خدا کا بڑا فضل ہوا کہ میرا باپ تو اس غصہ دلانے والی آواز سے پہلے ہی مرگیا۔ حارث نے کہا میں اسے سچا سمجھتا تو مان ہی نہ لیتا ابوسفیان نے کہا بھائی میں تو کچھ نہیں کہتا اگر کہوں گا تو یہ کنکریاں اس سے یعنی محمد ﷺ سے کہہ دیں گی۔ یہ چند واقعات محدثین نے ذکر کئے ہیں ہوسکتا ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ اور بھی اسی قسم کے استہزا اور توہین آمیز سلوک کئے جاتے ہیں کمالا یخفی بہرحال ! ان کی دشمنی اور معاندانہ طرز عمل اور اہل اسلام کے فرق کو آگے ایک عمدہ پیرا یہ میں بیان فرماتے ہیں اور ایک اچھے پیرایہ میں مدلل طور پر ان کو ملزم قرار دیتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayahs 5:60–62ف 1 اے پیغمبر ! آپ ان اہل کتاب سے فرمائیے کہ اے اہل کتاب بجز اس کے کہ ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور اس کتاب پر ایمان لائے جو ہماری ہدایت کے لئے نازل کی گئی اور ان کتب سماویہ پر بھی ایمان لائے جو ہم سے پہلے نازل کی گئیں اور وہ کونسا ہمارا طریقہ کار ہے اور وہ کونسا ہمارا طرز عمل ہے جس کی بنا پر تم ہم سے پرخاش رکھتے ہو اور ہم پر عیب لگاتے ہو حالانکہ تم میں کے اکثر ایمان سے خارج ہیں اور کافرانہ طریقہ اختیار کئے ہوئے ہیں اے پیغمبر آپ ان سے کہئے بھلا میں تم کو ان لوگوں کا حال بتائوں جو اللہ تعالیٰ کے ہاں جزا کے اعتبار سے واقعی طور پر ان سے برے اور بدتر ہیں جن کو تم اپنی ناقص رائے اور مفروضہ خیال میں برا سمجھ رہے ہو وہ لوگ وہ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی اور ان کو اپنی رحمت سے دور کردیا اور ان پر اپنا غضب نازل فرمایا اور ان میں سے بعض کو بندر اور بعض کو سئور بنادیا اور وہ ہیں جنہوں نے شیطان پرستی کا شیوہ اختیار کیا یہ مذکور ہ لوگ وہ ہیں جو مکان کے اعتبار سے بدتر اور سیدھی راہ سے بہت بھٹکے ہوئے ہیں۔ (تیسیر)
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کا مسلک اس خوبی کے ساتھ بیان فرمایا جس سے مخالفین اسلام کا بطلان خود بخود ظاہر ہوگیا اور حق و باطل میں جو فرق ہے وہ نمایاں نظر آنے لگا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اے اہل کتاب تمہاری حالت یہ ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ تو استہزاء اور سوقیانہ برتائو کرتے ہو اور ان کی عیب جوئی کرتے ہو جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور توریت و انجیل اور قرآن کریم کو مانتے ہیں اور خود تمہاری حالت یہ ہے کہ کوئی توریت کو نہیں مانتا اور کوئی انجیل کا منکر ہے اور کوئی نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ پر نازل شدہ قرآن کریم کو نہیں مانتا حالانکہ آسمانی کتب کا انکار کفر ہے۔ لہٰذا اس طریقہ کار سے تم خود تو کفر کے مرتکب ہو اور ہم خدا کی سب کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں پھر بھی ہم کو قابل استہزاء سمجھتے ہو اور ہماری اذان و نماز کا مذاق اڑاتے ہو تو اب بتائو اسلام قابل استہزا ہے یا انکار اس قابل ہے کہ اس کی تذلیل کی جائے اسلام اور انکار کا فرق بیان فرمانے کے بعد دوسری آیت میں اسی کی توضیح ہے کہ جن مسلمانوں کے مسلک کو تم اپنے زعم باطل میں برا اور قابل تذلیل سمجھتے ہو ان سے بدتر تو وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کی لعنت نازل ہوئی اور ان پر خدا کا غضب اترا اور وہ سئور اور بندر بنا دیئے گئے اور انہوں نے شیطان پرستی کو تو اصل میں یہ لوگ مکان کے اعتبار سے برے اور سیدھی راہ کے لحاظ سے گم کردئہ راہ ہیں۔
مکان کی برائی یہ کہ وہ جہنم ہے اور گمراہی کا مطلب یہ کہ کافر ہو طاغوت سے مراد یا تو شیطان کی اتباع اور نفس پرستی ہے اور ہوسکتا ہے کہ کعب بن اشرف کی طرف اشارہ ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ گئو سالہ پرستی کی جانب اشارہ ہو۔
بندر اور سئور کی صورتوں میں مسخ ہونا جیسا کہ ہفتہ کے دن مچھلیاں پکڑنے کی سزا ملی اور عیسائیوں کو مائدہ کی ناشکری کا بدلہ دیا گیا۔ لعنت اور غضب کی تفصیل پہلے اور چوتھے پارے میں گذر چکی ہے کہتے ہیں کہ یہود کے بعض رئوسا اور علماء نے نبی کریم ﷺ سے آپ کا مسلک دریافت کیا تو آپ نے وہی بتایا جو پہلے پارے کے آخر میں گذرا ہے یعنی ہم اللہ تعالیٰ کے تمام پیغمبروں پر ایمان رکھتے ہیں۔ انبیاء کے تذکرے میں آپ نے ابراہیم (علیہ السلام) اسماعیل (علیہ السلام) اور اسحق اور موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) وغیرہ ہم کے نام لئے تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نام سنتے ہی چراغ پا ہوگئے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو برا بھلا کہنے لگے۔
اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں جن کا خلاصہ مذکور ہوا یعنی اپنی حالت پر تو غور نہیں کرتے کہ خود کفر میں مبتلا ہیں اور مسلمان جو صحیح مسلک رکھتے ہیں ان سے پرخاش اور عناد اور ان کی عیب جوئی اب آگے انہی یہود کے بعض اور مذموم کردار مثلاً رشوت ستانی اور نفاق اور سرکشی کا بیان ہے جیسا کہ ارشاد ہے۔ (تسہیل)