5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 5:5

اَلْیَوْمَ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّیِّبٰتُ١ؕ وَ طَعَامُ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حِلٌّ لَّكُمْ١۪ وَ طَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ١٘ وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ اِذَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ مُحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ وَ لَا مُتَّخِذِیْۤ اَخْدَانٍ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهٗ١٘ وَ هُوَ فِی الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ۠ Open ayah 5:5 in the Quran reader

آج تمہارے لئے سب پاکیزہ چیزیں حلال کردی گئی ہیں اور اہل کتاب کا کھانا یعنی ذبیحہ تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا کھانا یعنی ذبیحہ ان کے لئے حلال ہے اور پاک دامن عورتیں جو مسلمان ہوں اور وہ پاک دامن عورتیں جو ان لوگوں میں سے ہوں جن کو تم سے پہلے کتاب دی جا چکی ہے یہ عوتریں بھی تمہارے لئے حلال ہیں جب کہ تم ان کو ان کے مہر ادا کرو درآں حالانی کہ ان کو حبالہ نکاح میں لانے والے ہو علانیہ بدکاری کرنے والے نہ ہو اور نہ خفیہ آشنائی کرنا مقصود ہو1 اور جو شخص ایمان کے احکام کا انکار رکے گا تو یقینا اس کے سب نیک اعمال برباد ہوجائیں گے اور وہ آخرت میں سخت نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا2

ف 1 آج تمہارے لئے تمام ستھری ، پاکیزہ اور حلال چیزیں ہمیشہ کے لئے حلال کردی گئی ہیں اور جن لوگوں کو تم سے پہلے کتاب دی جا چکی ہے ان کا ذبیحہ تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا ذبیحہ ان کے لئے حلال ہے اور پارسا اور پاک دامن وہ عورتیں جو مسلمان ہوں تمہارے لئے حلال ہیں اسی طرح وہ پارساء و پاک دامن عورتیں جو ان لوگوں میں سے ہوں جن کو تم سے پہلے کتاب دی جا چکی ہے وہ بھی تمہارے لئے حلال ہیں جبکہ تم ان کو ان کا معاوضہ یعنی مہر وغیرہ ادا کردو اور یہ مذکورہ عورتیں جو تمہارے لئے حلال کی گئی ہیں تو اس طور پر حلال کی گئی ہیں کہ تم ان کو حبالہ عقد میں لانے والے اور بیویاں بنانے والے ہو ان سے علانیہ بدکاری کرنے والے نہ ہو اور نہ ان سے خفیہ آشنائی کرنے والے ہو۔ (تیسیر) طیبات کے معنی ہم کئی مرتبہ عرض کرچکے ہیں مطلب یہ ہے کہ خبائث نہ ہوں اور شریعت میں ان کی حرمت دار د نہ ہوئی ہو نہ نصوص میں ہو نہ قیاس اور اجماعاً ہو۔ الیوم سے مراد یا تو زمانہ نبوی ہے اور یا وہ دن مراد ہے جس دن یہ آیت نازل ہوئی ہے حلت کی اعلان کا یہ مطلب ہے کہ طیبات دوا ماً حلال کردی گئی ہیں اور اب وہ کبھی حرام نہ ہوں گی، طعام سے مراد اگرچہ عام ہے خواہ ذبائح ہوں یا غیر ذبائح لیکن سلف سے ذبائح منقول ہیں اس لئے ہم نے ترجمہ میں ذبیحہ کیا ہے، یہ شاید اس لئے ہو کہ دوسری قسم کے کھانوں کے متعلق کوئی شبہ نہ ہو اور ذبیحہ کے متعلق مسلمانوں کو شبہ ہو۔ بہرحال ! جب ان کو ذبیحہ جائز ہے تو ان کا اور کھانا بھی جائز ہے ذبیحہ کے متعلق بعض لوگوں نے تو یہاں تک کہا ہے کہ اگر کتابی غیر اللہ کا نام لے کر ذبح کرے تب بھی جائز ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ وہ اصلی کتابی ہو اور اللہ تعالیٰ کا نام لے کر اس نے ذبح کیا ہو تو وہ ذبیحہ مسلمانوں کو کھانا جائز ہوگا۔ اصل کتابی کا مطلب یہ ہے کہ کوئی مسلمان مرتد ہو کر عیسائی نہ ہوا ہو۔ البتہ کوئی غیر مسلم عیسائی ہوجائے تو وہ اصل نصرانی کہا جاسکتا ہے۔ مسلمانوں کا ذبیحہ ان کے لئے حلال ہونے کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان اپنا ذبیحہ ان کو کھلا سکتے ہیں یہ مطلب نہیں کہ اہل کتاب ہماری شریعت کے مخاطب ہوسکتے ہیں جیسا کہ بعض نے استدلال کیا ہے مسلمانوں سے یہ کہنا کہ تمہارا ذبیحہ ان کے لئے حلال ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ یہ حکم بطور مکافات مسلمانوں کی ہی جانب سے عود کرتا ہے، یعنی مسلمانو ! تم کو اپنا ذبیحہ اہل کتاب کو کہلانا جائز ہے محصنات سے مراد پاک دامن اور عفت آب عورتیں ہیں جو آزاد ہوں اور ان کی تخصیص کا یہ مطلب نہیں کہ ان کے علاوہ دوسری مسلمان عورتوں سے نکاح کرنا جائز نہیں بلکہ ان کی تخصیص محض روایت کی وجہ سے ہے کہ مسلمان عورتوں میں سے جب کسی عورت سے نکاح کرو تو حرہ اور آزاد عورت سے کرد نیز پاک دامن اور پارسا سے کرو یہ مطلب نہیں کہ اگر کسی لونڈی سے نکاح کرلو گے یا کسی غیر عفیفہ سے کرلو گے تو نکاح ہی نہیں ہوگا۔ مزید بحث انشاء اللہ بشرط زندگی سورة نور میں آجائے گی۔ جیسا کہ پانچویں پارے میں اس بحث کا کچھ حصہ گذر بھی چکا ہے اونوا الکتاب سے مراد عام طور سے یہود و نصاریٰ مراد ہیں اور یہی قید کتابی عورتوں کے ساتھ بھی ہے کہ ان میں سے جو عورتیں آزاد اور پاکدامن ہوں ان سے نکاح کرو۔ اس بارے میں حنفیہ اور شوافع کا اختلاف ہم پانچویں پارے کی ابتداء میں عرض کرچکے ہیں کتابیات کے عموم میں سوائے حضرت ابن عباس کے باقی تمام لوگوں نے حربیات کو بھی داخل کیا ہے یعنی کتابیہ سے نکاح جائزہ ہے اگرچہ وہ حربیہ ہو کتابیات میں صائبیات کو بھی ان لوگوں نے داخل کیا ہے جو ان کو کسی کتاب آسمانی کا قائل بتاتے ہیں البتہ جو صائبین کو کواکب پرست کہتے ہیں وہ ان کو کتابی میں داخل نہیں کرتے جیسا کہ ہم پہلے پارے میں عرض کرچکے ہیں مشرک مرد اور مشرک عورتوں کا حکم پہلے پارے میں گذر چکا ہے اذا اتیتموھن اجورھن انعقاد نکاح کی شرط نہیں ہے جس کا مطلب یہ ہو کہ اگر مہر ادا نہ کرو گے تو نکاح ہی نہیں ہوگا بلکہ وجوب کے لئے فرمایا ہے کہ عورت کے جو حقوق نکاح سے واجب ہوتے ہیں ان کو پورا کرنا چاہئے احصان کے معنی حفاظت کرنا قید میں رکھنا مراد یہ ہے کہ نکاح میں لانا مقصود ہو محض شہوت رانی نہ ہو جیسا کہ زنا میں ہوتی ہے۔ سفلح کے معنی علانیہ بدکاری خدن کے معنی ہیں دوستی مرد اور عورت دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے تمہارے دین کی تکمیل فرما دی کافر تم سے مایوس ہوچکے اب ہم تم کو یہ بتاتے ہیں کہ جو پاکیزہ چیزیں ہم تمہارے لئے حلال کرچکے ہیں وہ ہمیشہ کے لئے تمہارے لئے حلال رہیں گی اور ان کی حلت منسوخ نہیں ہوگی اور اہل کتاب کا ذبیحہ اسی طرح تمہارے لئے حلال ہے جیسا کہ تمہارا ذبیحہ ان کے لئے حلال ہے اور پاک دامن مسلمان عورتیں تمہارے لئے حلال ہیں جس طرح اہل کتاب کی عورتیں تمہارے لئے حلال ہیں۔ یعنی جس طرح مسلمان پارسا عورتوں سے نکاح کرنا جائز ہے اسی طرح کتابی عورتوں سے بھی نکاح کرنا جائز ہے اور ان عورتوں کے مہر وغیرہ کا ادا کرنا تمہارے ذمہ واجب ہے اور ان عورتوں کا حلال ہونا تمہارے لئے اس طرح ہے کہ تمہارا مقصد ان کو بیوی بنانا ہو علانیہ بدکاری کرنا مقصد نہ ہو اور نہ خفیہ آشنائی اور دوستی کرنا ہو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ ہمارے زمانہ کے نصاریٰ صحیح معنی میں نصاریٰ نہیں ہیں بلکہ محض برائے نام نصاریٰ ہیں آج کل نصرانی عورتوں سے نکاح کرنے میں احتیاط کرنی چاہئے بلکہ ان سے نکاح نہ کرنا چاہئے۔ واللہ اعلم اب آگے احکام شرعیہ کے انکار کرنے والوں کی سزا پر اس مضمون کو ختم فرماتے ہیں۔ چناچہ ارشاد ہوتا۔ 2 اور جو شخص شرائع اسلام اور احکام ایمان کے ماننے سے انکار کرے گا اور ایمان لانے کی چیزوں سے منکرانہ برتائو کرے گا یعنی مرتد ہوجائے گا تو اسکے تمام نیک اعمال اکارت اور برباد و ضائع ہوجائیں گے اور وہ آخرت میں سخت زیاں کار اور نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔ (تیسیر) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں فرمایا کہ آج تم کو ستھری چیزیں حلال ہوئیں یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وقت یہ سب حلال تھیں جب توریت نازل ہوئی تو یہود کی سزا میں اکثر چیزیں منع ہوئیں اور انجیل میں حلال اور حرام بیان نہ ہوا اب قرآن کریم میں وہی دین ابراہیم (علیہ السلام) کے موافق سب حلال ہوئیں اور فرمایا کہ کتاب والوں کا کھانا حلال ہے یعنی ان کا ذبح اوپر جو ذبح کی شرط فرمائی کہ اللہ کا نام ذکر ہو اور غیر کی تعظیم نہ ہو یہاں اور شرط فرما دی کہ ذبح کرنے والا مسلمان ہو یا اہل کتاب یعنی یہود یا نصاریٰ اور کسی دین اور مذہب والے کا ذبح حلال نہیں اگرچہ نام اللہ کالے اس کا لینا معتبر نہیں اور فرما دیا کہ اسی طرح مسلمان عورتوں کو نکاح کرنی ان کی حلال ہے اور دل کی نہیں سو جن شرطوں سے آپس میں نکاح درست ہے پھر فرمایا کہ اہل کتاب کو اور کفار سے دو حکم میں مخصوص کیا یہ فقط دنیا میں ہے اور آخرت میں ہر کافر خراب ہے اگر عمل نیک بھی کرے تو قبول نہیں۔ (موضح القرآن) ہو سکتا ہے کہ آیت کے آخری حصہ سے مرتدین کی طرف اشارہ ہو کہ جو لوگ اسلام چھوڑ کر نصرانی ہوجائیں نہ ان کا ذبیحہ حلال ہے اور نہ ان سے مناکحت جائز ہے ۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مراد یہ ہو کہ اہل کتاب کا ذبیحہ حلال ہونا اور کتابیہ عورت سے نکاح کا جائز ہونا یہ صری دنیوی احکام ہیں اور ان کے ساتھ یہ ترجیحی سلوک محض مشرکین کے مقابل ہمیں ہے باقی آخرت کا معاملہ دوسرا ہے وہاں تو ہر غیر مسلم خسارے میں ہے اور اس کا ہر نیک عمل بیکار اور برباد ہے اسی مفہوم کو حضرت شاہ صاحب (رح) نے اختیار کیا ہے۔ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ حنفیہ کے نزدیک کتابی عموم میں حربی ذمی عربی عجمی تغلبی اور غیر تغلبی سب داخل ہیں اگرچہ دوسرے ائمہ نے بعض صورتوں میں اختلاف کیا ہے بالخصوص بنی تغلب کے نصاریٰ کا ذبیحہ ائمہ ثلاثہ کے نزدیک حرام ہے۔ (واللہ اعلم) اسی طرح کالے کتے کے شکار میں حضرت امام احمد کا اختلاف مشہور ہے۔ حضرت امام احمد بن حنبل کے نزدیک وہ شکار جس کو کالے رنگ کا کتا شکار کرے حلال نہیں ہے خواہ وہ کالا کتا سدھا ہوا ہو اور بسم اللہ کہہ کر اس کو شکار پر چھوڑا ہو امام احمد کا یہ مذہب ان احادیث پر مبنی ہے جس میں کالے رنگ کے کتے کی مذمت آئی ہے اور اس کو شیطان کہا گیا ہے۔ (واللہ اعلم) باقی شکار کے مسائل اور اہل کتاب کے ذبیحے اور ان کی عورتوں سے نکاح کے مسائل کتب فقہ میں ملاحظہ کیجیے یا مقامی علماء سے دریافت کیجیے یہاں تک ان شرعی احکام کا بیان تھا جن کا تعلق دنیوی امور سے ہے اب آگے ان احکام شرعیہ کا بیان ہے جن کا تعلق امور دینیہ سے ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 5:6

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ وَ امْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَیْنِ١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوْا١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآئِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَیْدِیْكُمْ مِّنْهُ١ؕ مَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیَجْعَلَ عَلَیْكُمْ مِّنْ حَرَجٍ وَّ لٰكِنْ یُّرِیْدُ لِیُطَهِّرَكُمْ وَ لِیُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 5:6 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب تم نماز پڑھنے کو اٹھو تو پہلے اپنے منہ کو اور کہنیوں تک اپنے ہاتھوں کو دھو لیا کرو اور اپنے سروں کا مسخ کرلیا کرو اور اپنے پائوں بھی سخنوں تک دھو لیا کرو اور اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو تمام جسم کو خوب پاک کو۔3 اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی شخص جائے ضرور سے فارغ ہو کر آیا ہو یا تم ملے ہو عورتوں سے پھر تم پانی پر قدرت نہ پائو تو ایسی حالت میں تم پاک مٹی کا قصد کرو اور اس مٹی سے اپنے چہروں کا اور اپنے ہاتھوں کا مسخ کرلو اللہ یہ نہیں چاہتا کہ تم پر کوئی تنگی کرے بلکہ وہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم کو پاک و صاف کرے اور تم پر اپنے احسانات کی تکمیل کر دے تاکہ تم اس کا شکر بجا لائو1

ف 3 اے ایمان والو ! جب تم نماز پڑھنے کو اٹھو یعنی نماز پڑھنے کا ارادہ کرو اور تم کو وضو نہ ہو تو نماز پڑھنے سے پہلے اپنے چہروں کو دھو لیا کرو یعنی پورے چہرے کو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک دھو لیا کرو یعنی کہنیاں دھونے میں داخل ہوں اور اپنے سروں پر مسح کرلیا کرو یعنی پانی سے ہاتھ تر کر کے اپنے سروں پر پھیرلیا کرو اور اپنے پائوں ٹخنوں تک دھو لیا کرو یعنی ٹخنے دھونے میں داخل ہوں اور اگر تم جنبی ہو یعنی جنابت کی حالت میں ہو تو تمام جسم کو خوب اچھی طرح پاک کرو۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ اوپر کی آیت میں اپنے انعامات اور احسانات کا ذکر فرمایا تھا احسانات کے لئے یہ ضروری ہے کہ انسان محسن کا شکر بجا لائے یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے اور اس کے احکام کی تعمیل کرے اسی لئے سب سے اہم عبادت یعنی نماز کے آداب سکھائے کہ جب ہمارے دربار میں حاضر ہوا اور نماز پڑھو تو پاک صاف ہو کر حاضر ہو اس پاک صاف ہونے کی صورت یہ ہے کہ اگر وضو نہ ہو تو وضو کرو وضو کے فرائض یہ ہیں کہ پورے چہرے کا غسل کو کہنیوں سمیت دونوں ہاتھ دھوئو سر پر مسح کرو ہاتھ تر کر کے سر پر پھیرو اور ٹخنوں سمیت پائوں دھوئو اسی کے ساتھ غسل جنابت کا حکم دیا یعنی صرف وضو اس وقت کافی ہوگا جب کہ تم جنبی نہ ہو اور اگر تم جنبی بھی ہو تو پھر نماز کے لئے تمام جسم کو پاک کرنا ہوگا اور بدن کے جس جس حصہ پر پانی پہنچایا جاسکتا ہے اس حصہ پر پانی پہنچانا ہوگا چونکہ حضرت حق تعالیٰ نے تمام جسم کو مبالغہ کے ساتھ پاک کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس لئے حنفیہ نے کلی کرنا اور ناک میں پانی دینا غسل میں فرض کہا ہے۔ اس آیت کے نزول سے قبل بھی نماز وضو کے ساتھ پڑھی جاتی تھی نبی کریم ﷺ نے کبھی کوئی نماز بغیر وضو کے نہیں پڑھی۔ اسی سابقہ عمل کو قرآن کریم کی تلاوت میں شامل فرمایا ہے۔ جیسا کہ ابن عبداللہ نے فرمایا ہے اور ہوسکتا ہے کہ تمیم کی تمہید کے سلسلے میں وضو کا بیان فرمایا ہو اس آیت میں صرف وضو کے فرائض کا ذکر ہے باقی کلی کرنا، ناک میں پانی دینا، ترتیب کی رعایت کرنا، مسواک کرنا، قبلہ رخ ہو کر وضو کرنا، نیت کرنا، بسم اللہ پڑھ کر وضو کرنا وغیرہ ، یہ امور مسنون اور مستحبات میں داخل ہیں اور ان کی تفصیل کتب فقہ میں مذکور ہے۔ اسی طرح تیسیر میں جو قیوم ہم نے لگائی ہیں اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا ہوگا کہ یہ حکم اس کے لئے جو محدث ہو اور اگر پہلے سے وضوہو تو دوبارہ وضو کرنا فرض نہیں۔ نبی کریم ﷺ ہر نماز کے لئے وضو فرماتے تھے لیکن فتح مکہ کے دن آپ ﷺ نے ایک ہی وضو سے کئی نمازیں پڑھیں اور حضرت عمر ؓ کے دریافت کرنے پر فرمایا اے عمر ! ؓ میں نے یہ کام قصداً کیا ہے اس سے معلوم ہوا کہ وضو پر وضو کرنا ضروری نہیں البتہ ہر نماز کے لئے تازہ وضو کرنا مستحب اور نورانیت کو بڑھانے والا ہے۔ ایک ضعیف حدیث میں آتا ہے کہ وضو پر وضو کرنے والے کے لئے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ ارجل کا عطب ایدیکم پر ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وضو میں پائوں کا دھونا فرض ہے مسح کافی نہ ہوگا جیسا کہ روا فض کا عمل ہے اس مسئلہ کی پوری تفصیل صاحب تفسیر مظہری نے بیان کی ہے اور خوب تحقیق فرمائی ہے البتہ جو شخص خفین پہنے ہئے ہو وہ خفین پر مسح کرسکتا ہے خفین پر مسح کرنے کی میعاد مسافر کیلئے تین دن اور تین راتیں ہیں اور مقیم کے لئے ایک دن اور ایک رات ہے تمام سر کا مسح کرنا مستحب ہے اور چوتھائی سر کا مسح حنفیہ کے نزدیک فرض ہے کعب ٹخنے کو اور مرفق کہنی کو کہتے ہیں اور یہ دونوں غسل میں شامل ہیں اور محقق یہی ہے کہ غایت مغیا میں داخل ہے اگر کہنیاں یا ٹخنے خشک رہ جائیں گے تو وضو نہ ہوگا۔ وجہ سے مراد ہے پورا چہرہ لمبائی میں پیشانی کے بالوں سے لے کر ٹھوڑی کے نیچے تک اور چوڑائی میں ایک کان سے لے کر دوسرے کان تک پیشانی کے بال یعنی سر کے بال اگنے کی جگہ چونکہ وضو اور غسل کے مسائل بیشمار ہیں اس لئے تفصیل فقہ کی کتابوں سے معلوم کرنی چاہئے۔ وضو اگر تمام مستحبات اور آداب کی رعایت سے کیا جائے تو انسان کے تمام صغیرہ گناہ پانی کے قطروں کے ساتھ جھڑ جاتے ہیں حتی کہ آخری قطرہ آخری گناہ لے کر زمین پر گرتا ہے غسل اور وضو میں جن اعضاء کے دھونے کا حکم ہے ان میں کوئی حصہ اگر خشک رہ جائے گا تو وضو اور غسل پورا نہیں ہوگا۔ نبی کریم ﷺ نے کچھ لوگوں کی ایڑیاں خشک دیکھ کر فرمایا تھا۔ ویل الاعقاب من النار یعنی جہنم کی آگ سے ایسی ایڑیوں کی خرابی ہو جو وضو میں خشک رہ جائیں۔ حضرت علی ؓ کا قول مشہور ہے کہ جب سے میں نے نبی کریم ﷺ سے یہ سنا ہے کہ ہر بال کے نیچے جنابت کا اثر ہے تب سے میں نے اپنے سر سے دشمنی کر رکھی ہے یعنی سر پر ذرا بال ہوئے اور میں نے سر منڈا یا کہ کہیں غسل میں کوئی بال خشک نہ رہ جائے حضرت عمر ؓ نے مرفوعاً بیان کیا ہے کہ ایک شخص نے وضو کیا تو اس کا پائوں ایک ناخن برابر خشک رہ گیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا جا اپنا وضو درست کر کے آ۔ (مسلم) غسل اور وضو کی فرضیت کا بیان کرنے کے بعد اب آگے تمیم کا ذکر ہے چناچہ ارشاد فرماتے ہیں۔ (تسہیل) 1 اور اگر تم بیمار ہو یا حالت سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی شخص پیشاب پاخانے کی ضرورت سے فارغ ہو کر آیا ہو یا تم عورتوں سے ملے ہو پھر تم ان سب صورتوں میں پانی پر قدرت نہ پائو یعنی یا تو پانی نہ ملے یا ملے مگر اس کا استعمال ضرر رساں ہو تو ان دونوں حالتوں میں تم پاک مٹی کا قصد کرو اور اس پاک مٹی پر ہاتھ مار کر اپنے چہروں پر اور اپنے ہاتھوں پر پھیر لو یعنی ایک دفعہ ہاتھ مار کر چہرے پر اور دوسری دفعہ ہاتھ مار کر کہنیوں پر مسح کرلو اللہ تعالیٰ یہ نہیں چاہتا کہ تم پر کسی قسم کی تنگی کرے اور تم پر کسی قسم کی مشکل ڈالے بلکہ وہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم کو پاک و صاف رکھے اور ظاہری و باطنی پاکیزگی سے تم کو نوازے اور تم پر اپنی نعمت کا اتمام اور اپنے احسانات کی تکمیل کر دے تاکہ تم اس کا حق مانو اور اس کا شکر بجا لائو۔ (تیسیر) بخاری نے حضرت عائشہ ؓ سے ایک واقعہ نقل کیا ہے وہ فرماتی ہیں ہم کسی سفر سے واپس آ رہے تھے اور مدینہ میں داخل ہونے والے تھے کہ اتفاقاً بیدا میں میرے گلے کا ہار کہیں گرپڑا لوگ اس کو تلاش کرنے لگے نبی ﷺ میری گود میں سر رکھ کر سو گئے حضرت ابوبکر ؓ میرے پاس آئے اور مجھ پر بگڑنے لگے کہ تو نے ہار کھو کر لوگوں کو روک لیا حضرت ابوبکر ؓ غصہ میں مجھے کچوکے لگانے لگے مگر میں اس خیال سے کہ حضور ﷺ کو تکلیف نہ ہو ضبط کے بیٹھی رہی۔ جب حضور ﷺ بیدار ہوئے تو نماز کا وقت ہوچکا تھا وضو کے لئے پانی تلاش کیا گیا تو پانی نہیں ملا اس پر یہ پوری آیت نازل ہوئی۔ حضرت اسید بن حفیر ؓ نے کہا اے آل ابوبکر ؓ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لئے تمہیں بابرکت بنادیا ہے تم ان کے لئے سر تا پا برکت ہو یعنی تمہارے ہار گم ہونے کی وجہ سے جو تاخیر ہوئی وہ امت کے لئے تخفیف اور رحمت کا موجب بن گئی۔ یہ مضمون سورة نساء میں بھی گذر چکا ہے وہاں شاید غسل کے سلسلے میں ذکر فرمایا ہو اور یہاں وضو اور غسل دونوں کے لئے تمیم کو قائم مقام ظاہر کرنا مقصود ہو۔ (واللہ اعلم) اور یہ جو ہم نے عرض کیا ہے کہ پانی کے حصول یا اس کے استعمال پر قدرت نہ ہو ، اس کا مطلب یہ ہے کہ سفر میں بعض دفعہ دور دور پانی نہیں ملتا یا پانی کے راستہ میں کوئی درندہ یا دشمن حائل ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے پانی تک پہونچنا ناممکن ہوجاتا ہے یا ڈول اور رسی نہیں ہوتی اور استعمال نہ کرسکنے کا مطلب یہ ہے کہ بیماری کی وجہ سے یا سخت سردی کی وجہ سے پانی کا استعمال صحت کے لئے مضر ہو یا جدید مرض کے لاحق ہوجانے کا یقین ہو تو ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے پانی کی بجائے مٹی کو اس کا قائم مقام کردیا ہے غائط نرم زمین کو کہتے ہیں چونکہ پیشاب اور پاخانہ کے لئے انسان نرم اور کوئی گڑھا تلاش کرتا ہے اس لئے غائط سے اب پیشاب پاخانہ وغیرہ کی ضروریات کو کنایہ کیا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ضروریات سے فارغ ہو کر آیا ہو اور اس کا وضو ٹوٹ گیا ہو اور وضو کرنے کے لئے پانی کی تلاش ہو یا عورتوں سے قربت کی ہو اور غسل واجب ہوگیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ حدث اصغر ہو یا حدث اکبر ہو، وضو ٹوٹا ہو یا غسل واجب ہوگیا ہو اور رفع حدث کے لئے پانی کی ضرورت ہو پھر پانی پر قدرت نہ پائو سفر کی صورت میں تو پانی میسر نہ آئے اور مرض کی صورت میں پانی کا مضر ہونا یقینی ہو تو ان مجبوریوں کی حالت میں پانی کا کام مٹی سے لے لو اور تمیم کرلو یعنی پاک زمین یا زمین کی جنس سے جو چیز ہو اس پر ہاتھ مار کر ایک دفعہ منہ پر پھیر لو اور دوسری دفعہ ہاتھ مار کر اپنے ہاتھوں پر پھیر لو۔ غرض ! وضو کسی طرح ٹوٹا ہو اور غسل کسی صورت سے واجب ہوا ہو جس میں احتلام، حیض، نفاس، التغائے حنانین کی سب صورتیں داخل ہیں اسی طرح وضو میں تمام نواقض وضو داخل ہیں اور وضو یا غسل کی صورت میں پانی کا حصول یا استعمال ناممکن ہوجائے تو اس رعایت کا اعلان کیا جاتا ہے اور ایسی حالت میں مٹی کو پانی کی جگہ استعمال کرنے کا حکم دیا جاتا ہے اور چونکہ مریض اور مسافر کے لئے یہ رعایت ایک عظیم الشان رعایت تھی۔ اس لئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ منشا نہیں کہ وہ تم پر کوئی تنگی اور فسیق ڈالے اور جب تنگی ڈالنے کا ارادہ نہیں تو ظاہر ہے کہ عدم فسیق کا ارادہ ہے اور مطلب یہ ہے کہ اس کا منشا یہ ہے کہ تم پر کوئی تنگی اور فسیق نہ رہے اس پر یہ وہم ہوتا تھا کہ اگر اس کا منشا یہ ہے کہ ہم پر کوئی تنگی نہ رہے تو تمام احکام شرعیہ سے سبکدوش کردیتا اس توہم کو لکن سے رفع فرمایا کہ اصل مقصد تو تمہارے ظاہر و باطن کو پاک کرنا ہے اور یہ ظاہر و باطن کی تطہیر بدون احکام شریعہ کے نہیں ہوسکتی اس لئے احکام شرعیہ کا مقرر کرنا تو تطہیر کی غرض سے ضروری ہے۔ ہاں احکام شرعیہ میں زیادہ سے زیادہ سہولت و آسانی کو مدنظر رکھا گیا ہے تاکہ تطہیر بھیجاصل ہوجائے اور کوئی تنگی بھی تم پر واقع نہ ہو جیسے کوئی طبیب حاذق فرمائے کہ مرض کو زائل کرنے کی غرض سے دوا کا تجویز کرنا ضروری ہے تاکہ مرض دور ہوجائے اور تم میں طاقت آجائے۔ ہاں ! تمہارے ساتھ یہ رعایت کی جائے گی کہ دو ایسی تجویز ہوگی جس کے پینے میں تم کو کوئی تکلیف نہ ہوگی سبحان اللہ ! کس قدر شفقت و محبت کا اظہار فرمایا ہے اور اسی مہربانی کو اتمام نعمت سے تعبیر کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ احکام شرعیہ کی تکمیل اور ظاہر و باطن کی تطہیر کا مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنی نعمت اور اپنے احسانات کا اتمام فرمائے کیونکہ یہی وہ احسانات ہیں جس کی بدولت تم اللہ تعالیٰ کا قرب اور اس کی رضا مندی حاصل کرسکو گے۔ آخر میں ایک محسن کے احسان پر شکر بجا لانے کی تاکید ہے اور شکر بجا لانے کی توقع ظاہر فرمائی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اگر تم مریض ہو یا مسافر ہو یا کسی وجہ سے وضو ٹوٹ گیا ہو یا غسل واجب ہوگیا ہو اور پانی میسر نہ آئے یا پانی میسر آجائے لیکن اس کا استعمال ضر رساں ہو تو پاک مٹی سے تمیم کرلیا کرو اور اس مٹی پر ہاتھ مار کر ایک دفعہ اپنے چہروں پر پھیر لو اور دوسری دفعہ دونوں ہاتھ مار کر ہاتھ پر پھیر لو اور یہ بات یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کو تم پر تنگی ڈالنا منظور نہیں یعنی یہ منظور ہے کہ تم پر کوئی تنگی نہ رہے اور یہ وہم نہ کرو کہ جب تنگی ڈالنا منظور نہیں تو احکام شرعیہ کا مکلف ہی کیوں بنایا، احکام شرعیہ کا مکلف بنانا تنگی ڈالنے کی وجہ سے نہیں بلکہ ظاہر و باطن کی تطہیر اور پاکیزگی کی وجہ سے ہے اور یہ ظاہر و باطن کی تطہیر کا اہتمام اس لئے ہے کہ نعمت کی تکمیل مقصود ہے اور یہ سب کچھ اس لئے ہے کہ تم ہمارے احسانات پر شکر بجا لائو اور ہمارے احکام کی تعمیل کرو کیوں کہ اصل مطلوب یہی ہے کلام کو جس خوبی اور مربیانہ انداز میں ادا کیا ہے۔ یہ انہی کی شان کے قابل ہے اب آگے پھر اپنی نعمت و احسانات پر ایک لطیف پیرائے میں توجہ دلاتے ہیں چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 5:7–9

وَ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ مِیْثَاقَهُ الَّذِیْ وَاثَقَكُمْ بِهٖۤ١ۙ اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١٘ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 5:7 in the Quran reader

اور اللہ نے تم پر جو احسان کئے ہیں ان کو یاد کرو اور خدا کے اس عہد کو بھی یاد کرو جس کا اس نے تم سے اس وقت پختہ قول لیا تھا جبکہ تم نے کہا تھا کہ ہم نے سنا اور مان لیا اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ تعالیٰ سینوں کی پوشیدہ باتوں تک سے خوب واقف ہے۔2

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰهِ شُهَدَآءَ بِالْقِسْطِ١٘ وَ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰۤى اَلَّا تَعْدِلُوْا١ؕ اِعْدِلُوْا١۫ هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى١٘ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:8 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ کے لئے راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کے ساتھ شہادت دینے والے رہو اور کسی قوم کی دشمنی اور عداوت تم کو اس بات پر آمادہ نہ کر دے کہ تم انصاف نہ کرو بلکہ ہر معاملہ میں انصاف کیا کرو یہ انصاف کرنا پرہیز گاری کے نزدیک تر ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ جو کچھ تم کرتے ہو اس سے پوری طرح باخبر ہے

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 5:9 in the Quran reader

اللہ نے ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے یہ وعدہ کیا ہے کہ ان کے لئے بڑی بخشش اور بڑا ثواب ہے،

ف 2 اور تم لوگ اللہ تعالیٰ کے ان احسانات کو یاد کرو جو اس نے تم پر کئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے اس عہد کو بھی یاد کرو جس کا اس نے تم سے اس وقت پختہ قول لیا تھا جب کہ تم نے کہا تھا ہم نے سنا اور مان لیا اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ دل کی پوشیدہ باتوں تک سے بخوبی واقف ہے (تیسیر) اللہ تعالیٰ کے بیشمار احسانات اور اس کی بےانتہا نعمتیں ہیں انہی نعمتوں میں سے یہ نعمت بھی ہے کہ اس نے تمہارے شرعی احکام کی تکمیل کردی تمہارے دین میں آسانیاں رکھیں دینی اور دنیوی فلاح و بہبود کے طریقے تعلیم کئے اور دنیا کی ہدایت و رہنمائی کے منصب پر تم کو فائز کیا عہد جس کا تم سے پختہ قول لیا یا تو وہی فطری عہد ہے جس کو ہم بار ہا کہہ چکے ہیں اور جس کو محسن کی اطاعت و فرمانبرداری کا عہد ہم نے بتایا ہے خواہ کوئی عہد نامہ لکھا جائے یا نہ لکھا جائے اور اقرار لیا جائے یا نہ لیا جائے اور خواہ سمعنا اور اطعنا کے الفاظ کہے جائیں یا نہ کہے جائیں کیوں کہ جب کوئی شخص کسی جہت سے بھی فرماں برداری کا ذمہ دار بن جائے تو التزاماً اس کا اقرار ہوجاتا ہے کہ اس نے سمع و اطاعت کا قول کرلیا اور ہوسکتا ہے کہ اس میثاق سے مراد عہد الست ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اسلام لاتے وقت حضور ﷺ سیبیعت کرنے کو عہد فرمایا ہو کیونکہ اسلام پر بیعت کرنا تمام احکام شرعیہ پر سمع و اطاعت ہوتا ہے اور ہوسکتا ہے کہ لیلتہ عقبہ کا عہد مراد ہو اور ہوسکتا ہے کہ بیعت رضوان کی جانب اشارہ ہو جو حدیبیہ میں لی گئی تھی لیلتہ عقبہ میں چونکہ نبی کریم ﷺ نے بیعت لیتے وقت سمع و اطاعت کے الفاظ فرمائے تھے اور یہ اشارہ فرمایا تھ کہ ہر مصیبت و راحت میں سمع و اطاعت کا پابند رہنا ہوگا۔ اس لئے عام مفسرین کا رجحان یہی ہے کہ اس عہد سے لیلتہ عقبہ کا عہد مراد ہے جس کی تفصیل بخاری و مسلم میں مذکور ہے ۔ (واللہ اعلم) بہرحال ! عہد کی پابندی سے مقصد لے کر احکام شرعیہ کی تعمیل کرو اور امتثال امر بجا لائو واتقوا اللہ کا مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ کی مخالفت سے بچتے رہو یعنی پہلے جملے میں او امر کی تعمیل اور دوسرے جملے میں نواہی سے اجتناب کا حکم ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ اہل کتاب کو یاد دلایا کرتا ہے کہ میرے عہد پر قائم رہو اس طرح ہم کو تقیید فرمایا کہ عہد یا د رکھو وہ عہد یہ ہے کہ جب لوگ مسلمان ہوتے تو حضرت سے بیعت کرتے یعنی ہاتھ پکڑ کر قول دیتے بہت چیزیں کرنے کا جیسے پانچ نمازیں اور روزہ رمضان اور زکوۃ اور حج اور خیر خواہی ہر مسلمان کی اور بہت چیزیں چھوڑنے پر جیسے خون اور زنا اور چوری اور تہمت لگانی بےگناہ کو اور سردار سے مخالفت کرنی اسی عہد پر فرمایا کہ قائم رہو۔ (موضح القرآن) غرض ! آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جو نعمتیں تم پر ہوتی ہیں ان کو یاد کرو اور جن باتوں کا اس نے تم سے پختہ عہد لیا ہے اس پختہ عہد کو بھی یاد کرو کیونکہ تم ان باتوں کے متعلق التزامی طور پر سمعنا وا طعنا کہہ چکے ہو اور جب سمع و اطاعت کہہ چکے ہو تو اس عہد کو پورا کرو اور اللہ تعالیٰ کی مخالفت سے ڈرتے رہو کیونکہ وہ ایسا باخبر اور واقف ہے کہ سینوں کے بھید اور دلوں کی پوشیدہ باتوں تک کو جانتا ہے اور جو حاکم ایسا باخبر ہو کہ اس سے کوئی راز پوشیدہ نہ ہو اس سے ہر وقت ڈرتے ہی رہنا چاہئے۔ اب آگے پھر بعض حکام کے بجا لانے کی تاکید ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 5:10

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 5:10 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے انکار کیا اور ہمارے احکام کی تکذیب کی تو ایسے ہی لوگ اہل دوزخ ہیں1

ف 1 اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور رضا جوئی کے لئے راستی پر قائم رہنے والے اور اس کے احکام کی پوری پابندی کرنے الے اور کسی کی گواہی کا موقعہ آجائے تو انصاف کی گواہی دینے والے رہو اور تم کو کسی خاص قوم اور فرقہ کی دشمنی اور بغض اس پر برانگیختہ اور آمادہ کردے کہ تم ان کے معاملہ میں انصاف نہ کرو دیکھو ہر معاملہ میں عدل و انصاف کیا کرو یہ عدل کرنا تقویٰ اور پرہیز گاری سے قریب تر ہے اور اللہ تعالیٰ کی مخالفت سے ڈرتے رہو یقین جانو کہ تمہارے تمام اعمال سے اللہ تعالیٰ پوری طرح باخبر ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اس سب کی اس کو اطلاع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور بھلے کام کرتے رہے یہ وعدہ کیا ہے کہ ان کے لئے بڑی بخشش و مغفرت اور بڑا ثواب ہے اور جن لوگوں نے ایمان لانے سے انکار کیا اور ہماری آیات اور ہمارے احکام کو جھوٹا بتایا تو ایسے ہی لوگ اہل دوزخ اور جہنمی ہیں۔ (تیسیر) اس آیت کے مضمون پر ہم پانچویں پارے کے آخر میں مفصل بحث کرچکے ہیں یہاں ایک دوسرے کے مفاد کے پیش نظر الفاظ میں تھوڑی سی تبدیلی فرمائی ہے اس لئے کہ ناانصافی کے دو سبب عام طور پر ہوا کرتے ہیں ایک تو کسی کی رعایت اور جانب داری کی وجہ سے انسان کسی کے ساتھ ناانصافی کا مرتکب ہوتا ہے اور یا دشمنی اور عداوت کی وجہ سے کسی کے ساتھ ظالمانہ اور غیر منصفانہ برتائو کرتا ہے لہٰذا وہاں فرمایا تھا کہ خواہ اپنا معاملہ ہو یا اپنے قرابت داروں کا معاملہ ہو سچ بولنے اور سچی گواہی دینے میں کسی کی رعایت نہ کیا کرو اور یہاں یہ فرمایا ہے کہ کسی قوم کی دشمنی کی وجہ سے اس کے خلاف جھوٹ نہ بولو اور جھوٹی گواہی نہ دو ۔ قوامین مضبوطی کے ساتھ قائم رہنے والے اور کھڑے ہونے والے اور ثابت رہنے والے رہو۔ اللہ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور اس کی تعظیم اور اس کا ادب محلوظ رکھنے کے لئے منصفانہ اور سچی شہادت دیا کرو اور کسی قوم کی دشمنی تم کو اس پر مشتعل نہ کردیا کرے کہ تم انصاف کو ترک کردو، بظاہر دشمنی سے مراد مشرکوں اور کافروں کی دشمنی ہے جو واقعی اور حقیقی دشمنی ہے اور جب کافروں کے ساتھ عدل و انصاف کا حکم ہے اور ظلم و جور کی ممانعت ہے تو مسلمانوں کے معاملہ میں تو یہ حکم بالاولی ہے اگرچہ آیت عام ہے کسی فریق کی دشمنی بھی خواہ وہ اپنا ہو یا پرایا ہو اس کی اجازت نہیں دیتی کہ اس کے معاملہ میں ناانصافی اور ظلم سے کام لیا جائے اور یہ جو فرمایا کہ انصاف کرنا تقویٰ کے نزدیک تر ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ تقویٰ کے معنی ہیں اپنے نفس کو اور اپنے ظاہری اور باطنی قوی کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچانا تاکہ آخرت میں اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی ناراضگی سے انسان محفوظ رہے اور عدل کے معنی ہیں انسانی حقوق کی رعایت کرنا اور لوگوں کو ظلم سے بچانا لہٰذا عدل اور تقویٰ کے معنی باہم قریب تر ہوئے اور کسی دوسری چیز کے مقابلہ میں عدل تقویٰ کے زیادہ قریب ہوا یا یہ مطلب ہے کہ عدل کرنے الے کو متقی کہا جاتا ہے اور عدل تقویٰ کا سبب قریب ہے۔ (واللہ اعلم) بہرحال ! انصاف اور عدل تقویٰ کی علامتوں میں سے ایک بڑی اور اہم علامت ہے ، ہمارا ترجمہ اور تیسیر اس پر مبنی ہے کہ شہداء کو خبر کے بعد دوسری خبر بنایا جائے جن لوگوں نے شہداء کو حال وغیرہ بنایا ہے انہوں نے اس طرح ترجمہ کیا ہے۔ اے ایمان والو ! کھڑے ہوجایا کرو اللہ کے واسطے گواہی دینے کو انصاف کی بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہاں مسلمانوں کو دو باتوں کی تاکید ہے ایک حقوق اللہ کے ساتھ متعلق ہے اور دوسری حقوق العباد کے ساتھ اور مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ کے تمام حقوق پورے کرنے کی غرض سے ہر وقت کمر بستہ رہا کرو اور کسی شہادت کا موقعہ ہو تو انصاف کے ساتھ گواہی دیا کرو خواہ کسی دوست کا معاملہ ہو یا دشمن کا یہ بلا رعایت دوست اور دشمن کے سچی گواہی دینا تقویٰ کے اسباب میں سے بہت قریبی سبب ہے۔ آخر میں پھر بطور تاکید فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے ہر حال میں ڈرتے رہو اور امتشال اور امر اور اجتناب نواہی میں کوتاہی نہ کرو کیونکہ تقویٰ ہی جملہ کمالات کی اصل ہے ۔ خلاصہ یہ ہے کہ ! اے اہل ایمان اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے اس کے تمام احکام کو بجالانے کی غرض سے ہر وقت کمر بستہ رہا کرو اور کوئی شہادت طلب کی جائے تو انصاف کے ساتھ شہادت دیا کرو اور کسی گروہ کی دشمنی تم کو عدل و انصاف کے ترک پر آمادہ نہ کرے دیکھو عدل و انصاف کا دامن کسی وقت چھوٹنے نہ پائے کیونکہ بغیر کسی رعایت کے انصاف کرنا یہ تقویٰ کے اسباب میں سے ایک سبب قریبہ ہے اور تم لوگ ہمیشہ تقویٰ کے پابند ہو اور اس پر یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے اور اللہ تعالیٰ ان ایمان والوں سے جو نیک اعمال کی پابندی کرتے ہیں یہ وعدہ کرچکا ہے کہ ان کے لئے آخرت میں بڑی بخشش اور بڑا ثواب ہے یعنی کوتاہیاں نظر انداز کردی جائیں اور بڑے بڑے انعامات سے نوازا جائے گا اور جو لوگ کفر و انکار کا طریقہ اختیار کریں گے اور ہمارے احکام کی تکذیب اور ا ن کے جھٹلانے کا شیوہ اختیار کریں گے تو وہ عام قاعدہ جزا و سزا کے موافق جہنم کے مستحق ہوں گے۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے انعامات کا ذکر فرمایا تھا پھر ان انعامات کا ذکر کرتے ہوئے شکریہ کی جانب توجہ دلائی جس کا مفہوم یہ تھا کہ احکام شرعیہ کی تعمیل کرو کہ محسن کے احسان کا یہی شکریہ ہے پھر ہر فریق کا انجام کا اعلان فرمایا۔ اب ایک اور احسان یاد دلاتے ہیں جس کا تعلق کفار کے جو رو ستم سے محفوظ رکھنا اور کفار کی چیرہ دستیوں سے مسلمانوں کو بچانے کے ساتھ ہے چناچہ ارشاد فرماتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayah 5:11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ هَمَّ قَوْمٌ اَنْ یَّبْسُطُوْۤا اِلَیْكُمْ اَیْدِیَهُمْ فَكَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 5:11 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ کے اس احسان کو یاد کرو جب کہ ایک قوم تم پر دست درازی کرنے کا ارادہ کرچکی تھی مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں کو تم سے روک دیا اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور ایمان والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہئے۔2

ف 2 اے ایمان والو ! تم اللہ تعالیٰ کے اس احسان کو یاد کرو جو تم پر اس وقت ہوا جب کہ کفار کے ایک گروہ نے تم پر دست درازی کا ارادہ کرلیا تھا اور وہ اس فکر میں تھے کہ تم کو بالکل ختم کردیں مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں کو تم سے روک دیا اور ان کو اتنا موقع نہ دیا کہ وہ تم کو ختم کرسکیں اور دیکھو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور اس کے حقوق نعمت کی رعایت رکھو اور مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی پر ہمیشہ بھروسہ کیا کریں۔ (تیسیر) اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ کافروں کی بعض جماعت نے نبی کریم ﷺ کو یا مسلمانوں کو کوئی نقصان پہنچانے کا ارادہ کیا تھا اللہ تعالیٰ نے اس سے آپ کو اور آپ کی جماعت کو محفوظ رکھا اس احسان کی جانب اشارہ ہے اور یہ بھیہو سکتا ہے کہ کفار کی عام دشمنی کے باعث جو کافروں کے جذبات تھے اور کفار مکہ ہر وقت مسلمانوں کی بیخ کنی کی فکر میں رہتے تھے اس کی جانب اشارہ ہو کہ کفار کی پیہم اور مسلسل کوششوں کے باوجود کفار کی یہ خواہش پوری نہ ہو کسی اگرچہ مختلف عنوان سے اذیتیں پہنچاتے رہے لیکن یہ حوصلہ نہ ہوا کہ تمام مسلمانوں کو ختم کردیتے جن لوگوں نے پہلی صورت اختیار کی ہے انہوں نے اس واقعہ کی مختلف تفصیل بیان کی ہے۔ کسی نے کہا نبی کریم ﷺ سفر میں ایک مقام پر قیام پذیر تھے آپ نے اپنے ہتھیار ایک درخت میں لٹکا دیئے ساتھی بھی حضرت کے مختف درختوں کے سائے میں جا بیٹھے آپ ﷺ لیٹ گئے۔ قریب کے ایک کافر نے چپکے سے درخت میں سے تلوار اتار لی اور آپ کو پکار کر کہا اے محمد ! کیا تم مجھ سے ڈرتے نہیں آپ ﷺ نے فرمایا نہیں اس نے کہا اچھا تم کو مجھ سے اب کون بچا سکتا ہے آپ ﷺ نے فرمایا اللہ عزوجل بچائے گا ا س کافر کے ہاتھ سے تلوار گر پڑی۔ نبی کریم ﷺ نے صحابہ کو آواز دی اور صحابہ کو یہ قصہ سنایا وہ کافر بھی موجود تھا مگر اس سے کوئی بدلہ نہیں لیاقتادہ نے کہا کچھ لوگوں نے آپ کو دھوکہ سے قتل کرنا چاہا تھا اور انہوں نے اس دیہاتی کافر کو اس پر آمادہ کیا تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو محفوظ رکھا اس کافر کا نام غورث بن حارث تھا۔ اب عباس سے مروی ہے کہ یہود نے آپ ﷺ کو اور آپ کے اصحاب کو کھانے میں زہر ملا کر کھلانا چاہا تھا لیکن بروقت اللہ تعالیٰ نے آپ کو معلوم کرا دیا بعض نے کہا کعب بن اشرف نے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو ہلا کر کوئی صدمہ پہنچانا چاہا تھا اس سے اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھا اور اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ بعض نے کہا بنی نضیر نے ایک موقعہ پر یہ چاہا تھا کہ آپ کو باتوں میں لگا کرچکی کا پاٹ آپ پر گرا دیں اس سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو محفوظ رکھا۔ مجاہد اور عکرمہ وغیرہ نے مندر بن عمرو الساعدی اور عامر بن الطفیس کے واقعہ سے جو بیر معونہ پر پیش آیا تھا اس آیت کا تعلق بتایا تھا اور دوسری صورت میں کسی خاص واقعہ کی ضرورت نہیں۔ ہم نے تیسیر میں دونوں روایتوں کی بنا پر اپنے ترجمہ کا خلاصہ کیا ہے بہرحال ! ایک خاص نعمت کی طرف اشارہ ہے جس میں مسلمانوں کو کفار کے ہاتھ سے بچایا ہے اور ان کا یہ ارادہ کہ مسلمانوں کا بالکل یہ استحصال کردیا پورا نہیں ہوسکا اور یہاں جو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اس کا مطلب یہ ہے کہ باوجود ان کے اس عناد اور دشمنی کے پھر بھی تمہاری جانب سے کوئی ایسی بات نہ ہوئی چاہئے جو انصاف اور تقویٰ کے خلاف ہو۔ پھر آخر میں اللہ تعالیٰ پر توکل اور بھروسہ رکھنے کا حکم دیا گیا جس کا ماحصل یہ ہوا کہ تم لوگ تقویٰ کے پابند رہو اور اللہ تعالیٰ پر کامل توکل رکھو تو وہ تمہاری اسی طرح مدد کرتا رہے گا اور تم کو تمہارے دشمنوں سے محفوظ رکھے گا چونکہ اوپر کی آیتوں میں اس عہد کا ذکر تھا جو مسلمانوں سے لیا گیا تھا اور سمع و اطاعت اور عہد کے پورا کرنے کا حکم تھا۔ اب آگے ان فرقوں کی مذمت ہے جنہوں نے عہد شکنیاں کیں اور اللہ تعالیٰ سے پیغمبروں کی معرفت عہد کر کے توڑے اور اس نقض عہد کی وجہ سے مختلف قسم کے عذابوں اور مختلف قسم کی سزائوں میں مبتلا ہوئے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 5:12

وَ لَقَدْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۚ وَ بَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَیْ عَشَرَ نَقِیْبًا١ؕ وَ قَالَ اللّٰهُ اِنِّیْ مَعَكُمْ١ؕ لَئِنْ اَقَمْتُمُ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَیْتُمُ الزَّكٰوةَ وَ اٰمَنْتُمْ بِرُسُلِیْ وَ عَزَّرْتُمُوْهُمْ وَ اَقْرَضْتُمُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا لَّاُكَفِّرَنَّ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ لَاُدْخِلَنَّكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ فَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 5:12 in the Quran reader

اور بلاشبہ اللہ نے بنی اسرائیل سے بھی عہد لیا تھا اور ان میں سے ہم نے بارہ آدمیوں کو ذمہ دار مقرر کیا تھا اور اللہ نے ان سے یہ بھی کہا تھا کہ یاد رکھو میں تمہاری ساتھ ہوں اگر تم نماز کے پابند رہو گے اور زکوۃ ادا کرتے رہو گے اور میرے تمام رسولوں پر ایمان لائو گے اور ان رسولوں کی مدد کرو گے اور اللہ کو اچھے طور پر قرض دیتے رہو گے تو ضرور میں تم سے تمہاری خطائیں دور کر دوں گا اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی پھر جس شخص نے تم میں سے اس پختہ عہد کے بعد کی روش اختیار کی تو بیشک وہ سیدھی راہ سے بھٹک گیا1

ف 1 اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے بھی عہد لیا تھا اور ہم نے ان میں سے ان کے قائل کی تعداد کے موافق بارہ سردار یعنی بارہ آدمیوں کو ذمہ دار مقرر کیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے تاکید کے طور پر یہ بھی فرما دیا تھا کہ دیکھو میں تمہارے ساتھ ہوں اگر تم نماز کی پابندی رکھو گے اور زکوۃ ادا کرتے رہو گے اور میرے سب رسولوں پر جو آئندہ آتے رہیں گے ایمان لائو گے اور ان سب رسولوں کی مدد کرو گے اور اللہ تعالیٰ کو اچھے طور پر قرض دیتے رہو گے تو میں یقینا تمہاری خطائیں تم سے دور کر دوں گا اور تمہارے گناہ تم سے زائل کر دوں گا اور یقینا تم کو ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے پائیں نہریں بہ رہی ہوں گی پھر جس شخص نے تم میں سے اس عہد و پیمان کے بعد کافر انہ روش اختیار کی تو بلاشبہ وہ سیدھی راہ سے بھٹک گیا اور راہ راست سے دور جا پڑا۔ (تیسیر) پہاڑ میں جو راستہ ہوتا ہے اس کو نقیب کہتے ہیں قوم کا نقیب وہ ہوتا ہے جو قوم کی رہنمائی کرتا ہے اور تمام قومی کا موں میں قوم کا نگراں ہوتا ہے قوم کا بڑا، سردار، چودھری، نگراں ذمہ دار وغیرہ سب کو نقیب کہتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے لیلتہ عقبہ میں جن لوگوں سے بیعت لی تھی ان کے بھی بارہ نقیب تھے ان بارہ میں سے نو قبیلہ خزرج کے آدمی تھے ان نو کے نام یہ ہیں۔ (1 ) ابو امامہ اسعد بن زرارہ (2) سعد بن ربیع (3) عبد اللہ بن رواحہ (4) رافع بن مالک بن عجلان (5) براء بن معرور (6) عبادہ بن صامت (7) سعد بن عبادہ (8) عبداللہ بن عمرو بن حرام (9) منذرین خیش ؓ اجمعین ان نو کے علاوہ تین کے نام یہ ہیں۔ (1) حضرت اسید بن حضیر (2) سعد بن خثیمہ (3) رفاعہ بن عبدالمنذر یا ابوالہشیم بن تیہان حدیث شریف میں آتا ہے میری امت کے خلفاء کی تعداد بھی مثل بنی اسرائیل کے نقبا کی ہوگی اور یہ سب قریش میں سے ہوں گے اس حدیث کا محدثین نے یہ مطلب بیان کیا کہ بارہ خلیفہ صالح متقی اور عدل قائم کرنے والے ہوں گے مگر یہ ضروری نہیں کہ یہ سب کے سب یکے بعد دیرگے ہوں بلکہ قیامت تک یہ تعداد پوری ہوجائے گی انہی بارہ میں سے ایک امام مہدی بھی ہوں گے جن کی بشارت احادیث میں آتی ہے۔ (واللہ اعلم) بہرحال ! آیت کا مطلب یہ ہے کہ یوں تو بنی اسرائیل سے مختلف مواقع پر مختلف عہد لئے جاتے رہے ہیں۔ مگر یہاں جس کا ذکر ہے اس کے الفاظ یہاں مذکور ہیں اس عہد کی تاکید اور دیکھ بھال کے لئے حضرت موسیٰ نے بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں میں سے ہر قبیلہ کے لئے ایک ایک شخص کو نگراں اور ذمہ دار مقرر کردیا تھا تاکہ بنی اسرائیل اپنے عہد پر قائم رہیں اور اپنے عہد کو پورا کریں اور کسی قسم کی کوتاہی کو راہ نہ دیں اور وہ ان کے لئے ضروری کاموں کی دیکھ بھال رکھیں اور بنی اسرائیل سے یہ بھی فرما دیا تھا کہ میں تمہارے پاس ہی ہوں اس سے بھی تاکید مقصود تھی گویا تاکید در تاکید فرما دی تھی کہ جو عہد کر رہے ہو اس کو پورا کرنا کیونکہ میں ہر وقت تمہارے ساتھ ہوں اور ہوسکتا ہے کہ انی معکم کا خطاب ان بارہ سرداروں کو ہو کہ میں تمہاری اعانت اور تمہاری مدد کے لئے تمہارے ساتھ ہوں اور تمہارے پاس ہوں۔ بنی اسرائیل سے جن امور پر عہد لیا گیا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر تم نماز کے پابند رہو گے اور زکوۃ ادا کرتے رہو گے اور میرے تمام رسولوں پر جو وقتاً فوقتاً آتے رہیں گے جن میں حضرت عیسیٰ اور نبی آخر الزمان ﷺ بھی داخل ہیں ان پر ایمان لائو گے اور ان کی عزت و عظمت کرو گے اور دشمنوں کے مقابلہ میں ان کی مدد کرو گے اور زکوۃ کے علاوہ دوسرے اور مصارف خیر میں بھی خرچ کرو گے اور اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ یعنی اخلاص کے ساتھ قرض دو گے کیونکہ اللہ کی راہ میں دنیا حقیقت میں اللہ تعالیٰ کو قرض دینا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انبیاء پر ایمان لانے کے ساتھ اپنی جانوں اور اپنے مالوں سے ان کی مدد بھی کرو گے تو ہم تم کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم تمہارے تمام صغیرہ گناہ تم سے دور کردیں گے۔ جیسا کہ عام قاعدہ ہے ان الحسنات یذھبن السیات اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ عذاب کو تم سے دور کردیں گے یعنی صغائر اور کبائر کو اپنے فضل سے معاف کردیں گے اور عذاب کو تم سے دور کردیں گے اور اس کا بھی یقین دلاتے ہیں کہ صرف گناہ ہی تم سے زائل نہ ہوں گے بلکہ تم کو ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ البتہ اس عہد و میثاق کے بعد یا اس شرط مذکور کے بعد جو شخص کفر کرے گا تو وہ یقینا سیدھی راہ سے بھٹک جائے گا اور جس نے اس موثق اور مضبوط عہد و پیمان کے بعد کفر کیا تو وہ یقینا سیدھی راہ سے دور جا پڑا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یہ فرمایا بنیاسرائیل سے عہد لینا حضرت موسیٰ کی آخری عمر میں یہ قرار لئے ہیں یہ سورت حضرت کی آخر عمر میں نازلہوئی شاید ہم کو سنایا اسی واسطے کہ ہم کو بھی یہی تقید ہے ایک عہد اس امت سے تھا کہ رسول جو پیچھے پیدا ہوں ان کی مدد کرو اس کے بدل ہم سے یہ ہے کہ خلفاء کی اطاعت کرو یہ مذکورہ بارہ سرداروں کا یہاں ذکر فرمایا۔ اسی اشارہ کو کہ حضرت نے بتایا ہے میری امت میں بارہ خلیفہ ہوں گے قوم قریش سے اور فرمایا کہ جو خرابی ہوئی پہلی امت میں سو ہوگی تم میں سے جیسے وہ خراب ہوئے پیغمبروں کی مخالفت سے یہ امت ہوئی خلیفہ پر خرچ کر کے ۔ (موضح القرآن) حضرت شاہ صاحب نے کس قدر لطیف پیرایہ اختیار کیا ہے بڑوں کی باتیں بڑی ہی ہوتی ہیں حضرت شاہ صاحب نے جو کچھ فرمایا بالکل سچ فرمایا۔ تعزیر کے معنی بعض نے توقیر اور بعض نے اعانت کئے تھے ہم نے دونوں کو تسہیل میں ظاہر کردیا ہے۔ سواء السبیل سے مراد صراط مستقیم ہے قرض حسنہ سے یہاں مراد جہاں میں خرچ کرنا ہے یا زکوۃ کے علاوہ اور دوسرے صدقات مراد ہیں۔ آیت عہد کی پابندی کرنے والوں کا صلہ اور کفر کرنے والوں کی سزا کا بیان ہے درمیانی درجے کے لوگوں کا ذکر نہیں ہے یعنی ان لوگوں کا ذکر نہیں جو نہ کفر کریں اور نہ پوری طرح پابندی کریں۔ ظاہر ہے کہ ان کا صلہ اور ان کی سزا بھی درمیانی ہوگی نہ کافروں کی سی سزا اور نہ کاملوں کا سا صلہ سیات کے مفسرین نے دو مطلب بیان کئے تھے ہم نے تسہیل میں دونوں کو ظاہر کردیا ہے۔ اب آگے عہد شکنوں کی مختلف سزائوں کا ذکر ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 5:13

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَ جَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِیَةً١ۚ یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ١ۙ وَ نَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ١ۚ وَ لَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰى خَآئِنَةٍ مِّنْهُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اصْفَحْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 5:13 in the Quran reader

پھر انہی لوگوں کے اپنے عہد کو توڑنے کی وجہ سے ہم نے ان پر لعنت کی اور ہم نے ان کے دلوں کو سخت کردیا اب ان کی حالت یہ ہے کہ کلام الٰہی کو اس کے حقیقی مواقع سے بدل دیتے ہیں اور جو نصیحت ان کو کی گئی تھی اس کا ایک بڑا حصہ یہ لوگ بھول چکے ہیں اور ان میں سے سوائے چند اشخاص کے روز مرہ آپ کو ان کی کسی نہ کسی خیانت کا پتہ لگتا رہتا ہے بہرحال ! آپ ان کو معاف فرمائیے اور ان سے در گذر کیجیے بلا شبہ اللہ تعالیٰ نیک روش اختیار کرنیوالوں کو پسند کرتا ہے۔2

ف 2 ان بنی اسرائیل نے اس عد مذکور کو توڑ ڈالا پھر ان لوگوں کے اس اپنے عہد کو توڑ دینے اور ان کی عہد شکنی کی وجہ سے ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کو اپنی رحمت سے دور کردیا اور ان کے دلوں کو سخت کردیا اور اس سنگدلی کا اثر یہ ہے کہ یہ لوگ کلام الٰہی یعنی توریت کو اس کے حقیقی مواقع سے بدل دیتے ہیں یعنی کبھی الفاظ اور کبھی مطلب بدلتے رہتے ہیں اور اس تحریف کا اثر یہ ہے کہ جو نصیحت ان کو توریت میں کی گئی تھی اس کا ایک بڑا حصہ یہ لوگ فراموش کر بیٹھے اور بھول چکے ہیں اور ان کی حالت یہ ہے کہ ان میں سے سوائے چند آدمیوں کے جو مسلمان ہوچکے ہیں۔ اے پیغمبر ! ﷺ آپ کو روز مرہ ان کی کسی نہ کسی خیانت کا پتہ لگتا رہتا ہے جو ان سے ظہور پذیر ہوتی رہتی ہے۔ بہرحال ! آپ ان کو معاف فرمائیے اور ان کو در گذر فرماتے رہیے اور یقین کیجیے کہ اللہ تعالیٰ نیک روش اختیار کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے اور خوش معاملہ لوگوں سے محبت رکھتا ہے۔ (تیسیر) شاید یاد ہوگا ہم کئی بار عرض کرچکے ہیں کہ ایک گناہ دوسرے گناہوں کا موجب ہوتا ہے اور ایک نیکی سے دوسری نیکیوں کی توفیق عطا ہوتی ہے اسی طرح گناہ کا اثر انسانی قلب پر اور انسان کی روحانیت پر بہت برا ہوتا ہے اور روحانی قوت اور نیک اعمال کی توفیق سلب ہوجاتی ہے۔ اسی مضمون کو اس آیت میں بیان فرمایا ہے چناچہ نقض عہد اور عہد شکنی کے خوگر تھے عام طور پر نقض عہد کیا کرتے تھے حتی کہ وہ یہودی جو نبی کریم ﷺ کے زمانے میں تھے ان کی بھی خیانت اور عذر کا حال آئے دن معلوم ہوتا رہتا تھا اس لئے نقض عہد کی وجہ سے ان پر مختلف طریقوں سے عذاب نازل ہوا۔ اور صرف اس نقض عہد کا یہ اثر ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کردیا جب کہ اس کا قاعدہ ہے جب اس کی درگاہ سے معلون قرار دیئے گئے تو اس کا اثر یہ ہوا کہ ان کے دل سخت ہوگئے اور یہ سب اثرات اگرچہ بد پرہیزی سے ہوا کرتے ہیں لیکن ان کی مشیت اور ارادے کے ماتحت ہوتے ہیں اس لئے لعنت اور قسادت کو اپنی طرف منسوب کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے ان کے عہد توڑنے کی وجہ سے ان پر لعنت کی اور ہم نے ان کے قلوب کو سخت بنادیا اور اب ان کی حالت یہ ہے کہ توریت میں تحریف کرتے ہیں اور توریت کے الفاظ کو یا الفاظ کے مطالب اور معانی کو بدل دیتے ہیں اور کلام کو اس کے مواقع اور اس کے موضوع سے بدل کر بیان کرتے ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ کام ان کے علماء کرتے ہوں گے اور چونکہ عوام کی خواہش کے خیال سے کرتے ہوں گے اس لئے سب ہی تحریف کے گناہ میں مبتلا تھے اور اس تحریف و تبدیلی کا اثر یہ ہوا کہ جو کچھ ان کو نصیحت کی گئی تھی اس کا بہت بڑا حصہ بھلا بیٹھے یعنی ان کے علم کا اکثر حصہ ان کے سینے سے نکل گیا جیسا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس نصیحت کا ایک بہت بڑا حصہ جو عمل کرنے سے ان کو حاصل ہوتا اس کو فوت اور ضائع کر بیٹھے اور یہ لوگ اس قدر ان جرائم کے خوگر ہوگئے کہ آپ ان کے مکرو فریب اور خیانت و عذر کی روز مرہ کچھ نہ کچھ حالات سے واقف ہوتے رہتے ہیں مگر ہاں ! ان میں سے معدودے چند لوگ ان باتوں سے مستثنا ہیں اگر ان قلیل سے حضور ﷺ کے زمانے والے مراد ہوں تب تو یہ مطلب ہے کہ آپ آئے دن ان کی کسی نہ کسی خیانت سے آگاہ ہوتے رہتے ہیں۔ جیسے معاہدے کر کے توڑنا آپ ﷺ کے قتل کی سازش کرنا آپ ﷺ کے خلاف کافروں سے ساز باز کرنا وغیرہ مگر ہاں ! جو لوگ مسلمان ہوگئے۔ جیسے عبداللہ ابن اسلام اور ان کے ساتھی وہ اس قسم کی باتوں سے مستثنا ہیں۔ یہ وہ معنی ہیں جن کو ہم نے اختیار کیا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ منھم سے پہلے اور پچھلے سب یہود مراد ہوں تو پھر مطلب یہ ہوگا کہ آپ کو بذریعہ وحی آئے دن ان لوگوں کی کوئی نہ کوئی خیانت معلوم ہوتی رہتی ہے اور آپ خود بھی آئے دن ان کی کسی نہ کسی خیانت کا مشاہدہ کرتے رہتے ہیں مگر ان میں سے معدودے چند لوگ مستثنا ہیں۔ جیسے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے کے نیک مسلمان اور آپ ﷺ کے دور میں عبد اللہ بن سلام اور ان کے ساتھی۔ آخر میں ان کے ساتھ عفو و در گذر کے برتائو کا ذکر فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ یہ لوگ اپنی ناشائستہ حرکات کے باعث سزا کے متحق ہیں۔ لیکن آپ کو اسلامی تعلیم کا لحاظ رکھنا چاہئے اور اپنے اخلاق کی بزرگی اور برتری کے اعتبار سے ان کے ساتھ اچھا برتائو کرنا چاہئے اور سیاسی مصالح کو پیش نظر رکھنا چاہئے جس کا مقتضایہ ہے کہ آپ ان کو معاف فرما دیں اور چشم پوشی کا برتائو کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو پسند کرتا ہے جو برائی کے بدلے میں بھلائی کرنے کے خوگر ہیں۔ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ یہود عام طور پے عہد شکنی کے عادی تھے اور ہمیشہ مختلف سزائوں اور بلائوں میں مبتلا کئے جاتے تھے لیکن یہاں جو سزا بیان کی گئی ہے وہ صرف اس نقض عہد کی ہے جو عہد مذکور ہے۔ جیسا کہ فبما نقضھم سے مفہوم ہوتا ہے وسعت کلام کی وجہ سے چونکہ مفسرین کے اقوال مختلف ہوتے ہیں مگر ہم اس کی کوشش کرتے ہیں کہ سب کے اقوال تیسیر اور تسہیل کا مطالعہ کرنے والوں کے سامنے آجائیں اگرچہ ان مختلف اقوال کی وجہ سے کوئی بڑا فرق نہیں پڑتا۔ اس آیت سے وہ بات بھی معلوم ہوگئی جو ہم نے عرض کی تھی یعنی جب کوئی بندہ نافرمانی کر کے شرمند نہیں ہوتا تو وہ نافرمانی بہت سی نافرمانیوں اور توفیق الٰہی سے محرومیوں کا موجب ہوجایا کرتی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہود کی صرف اس عہد شکنی کے باعث کہ انہوں نے اپنے عہد کو توڑ دیا ہم نے ان کو اپنی رحمت سے دور کردیا اور ان کے دلوں میں قسادت اور سختی پیدا کردیا ور سا لعنت اور قسادت کا یہ اثر ہے کہ وہ اللہ کے کلام کو اس کے صحیح اور حقیقی مواقع سے بدل ڈالتے ہیں ان کے بعض اہل علم تو جرأت کر کے الفاظ بھی بدل دیتے ہیں اور بعض معانی اور مطالبہ بیان کرنے میں تحریف کرتے ہیں اور کلام کا مطلب گھڑ کر کچھ کا کچھ بیان کردیتے ہیں اور کلام کو اپنے مطلب کے سانچے میں ڈھال دیتے ہیں اس قسم کی جرأت و بےباکی کا اثر یہ ہے کہ اس نصیحت میں سے جو ان کو کی گئی تھی بڑا حصہ فراموش کرچکے ہیں یا عمل سے جو نفع حاصل ہوتا اس کو فوت کرچکے ہیں یعنی نافرمانیوں کے باعث علم کا حصہ بھی سینے سے نکل گیا اور بےعملی کے باعث ثواب بھی فوت ہوگیا اور آئے دن ان کی جانب سے جو ایک نہ ایک خیانت ظاہر اور صادر ہوتی رہتی ہے اس سے تو آپ واقف ہی ہوتے رہتے ہیں۔ مثلاً کبھی کوئی توریت کا حکم چھپالیا کبھی کوئی غلط دعویٰ کردیا اور ان کے بڑے جو خیانتیں کرچکے ہیں ان کا بھی علم آپ کو ہماری وحی سے ہوتا رہتا ہے مگر ہاں کچھ تھوڑے لوگ اس قسم کی خیانت سے محفوظ ہیں اور نیک وہی لوگ تھے جو موسیٰ پر اور عیسیٰ پر ایمان رکھتے تھے اور نبی آخر الزماں کی بعثت کے بعد اس آخری نبی پر بھی ایمان لے آئے یہود کی مذمت اور ان کی اخلاقی خرابیاں کرنے کے بعد اپنے نبی کو عفو کرنے اور مواخذہ نہ کرنے کا حکم دیا اور آخر میں اپنی محبت کا نیک لوگوں کے ساتھ اظہار فرما دیا۔ اور یہ بات کئی مرتبہ معلوم ہوچکی ہے کہ احسان کا مفہوم بہت وسیع ہے ہر قسم کی نیکی اور بھلائی پر اس لفظ کا اطلاق ہوسکتا ہے یہاں کلام کی ظاہری مناسبت سے ہم نے برائی کرنے والوں کے ساتھ بھلائی کرنا ترجمہ کردیا ہے اور محسن کا ترجمہ اور مفہوم مذکورہ الفاظ سے ظاہر کیا ہے۔ حدیث شریف میں بھی آتا ہے واحسن الی من اساء الیک یعنی جو شخص تیرے ساتھ برائی کرے تو اس کے ساتھ بھلا کر آیت کا یہ آخری ٹکڑا عفو اور صفح کی تعلیل بھی ہے اور اس امر پر تنبیہ بھی ہے کہ جب کافر خائن کے ساتھ عفو و صفح کا حکم ہے تو دوسروں کے ساتھ یعنی جو خائن کافر نہ ہو اس کے ساتھ اس سے بھی بہتر سلوک ہونا چاہئے۔ مزید تفصیل تفسیر مظہری سے معلوم کرنی چاہئے اب اگٓے نصاریٰ کی عہد شکنی اور ان کی سزا کا ذکر ہے۔ چناچہ ارشاد ہتا ہے۔ (تسہیل)