Ayah 4:1ف 1 اے بنی نوع انسان ! تم لوگ اپنے اس پروردگار کے احکام کی مخالفت سے ڈرو جس نے تم کو ایک جاندار یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) سے پیدا کیا۔ اور اسی جاندار سے اس کا جوڑا یعنی حضرت حوا کو بنایا اور پھر ان دونوں سے بکثرت مرد و عورت کو دنیا میں پھیلا دیا اور ہم تم کو پھر تاکیداً حکم دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو جس کے نام کا واسطہ دیکر اور جس کے نام کی قسمیں دے دے کر تم اپنے اپنے حقوق کا مطالبہ کیا کرتے ہو اور ایک دوسرے سے اپنا حق مانگتے ہو۔ اور دیھکو۔
ارحام، یعنی قرابت داری اور رشتہ داری کے بارے میں احتیاط کرو اور گود پیٹ کے تعلقات منقطع کرنے سے پرہیز کرو اور رشتہ داری کے حقوق کو ضائع کرنے سے ڈرتے رہو۔ اور اس بات کا یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ تم سب کے اعمال و احوال پر نگراں اور پوری طرح مطلع ہے (تیسیر)
بث کے معنی ہیں کسی چیز کو بلا ترتیب پھیلا دینا۔ تسال کے معنی ہیں باہم ایک دوسرے سے سوال کرنا۔ پوچھ گچھ کرنا، مطالبہ کرنا اپنے اپنے حقوق طلب کرنا۔
ارحام رحم کی جمع ہے رحم عورت کی بچہ دانی کو کہتے ہیں۔ یہاں اس سے مراد رشتہ داری اور قرابت کے تعقات ہیں جس کو ناتا اور گود پیٹ کے رشتے کہا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ احکام کے ذکر سے پہلے تقویٰ کا حکم آیا اور تقوے کے سلسلے میں اپنی ربوبیت اور خالقیت کا اظہار فرمایا تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ بنی نوع انسان پر حضرت حق کا یہ بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے انسان کو اشرف المخلوق بنایا اور پیدا کرنے کے بعد ہر اعتبار سے بتدریج اس کی ترتیب فرمائی۔ لہٰذا ایسے مربی اور ایسے خالق کے ہر حکم کی تعمیل کرنی چاہئے اور اس کے احکام کی مخالفت سے بچنا اور ڈرنا چاہئے، پھر پیدائش کے سلسلے میں تین طریقوں کا اظہار فرمایا کہ سب سے پہلے صرف مٹی سے ایک جاندار کو پیدا کیا پھر اس سے یعنی اس کی بائیں پسلی سے اس کی بیوی حوا کو پیدا کیا۔
جیسا کہ احادیث میں آیا ہے اور تیسرا طریقہ وہ جو عام طور سے رائج ہے۔ اور جو اس وقت بھی دنیا میں بطور سنت اللہ کے جاری ہے۔ عقلی طریقہ سے چار صورتیں ہوسکتی تھیں ایک بن ماں باپ کے پیدا ہونا، ایک بن ماں کے پیدا ہونا، ایک بن باپ کے پیدا ہونا، ایک ماں باپ سے پیدا ہونا۔ ان چار میں سے تین کا بیان یہاں ہے اور ایک آل عمران میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کے ذکر میں گز چکا۔ چونکہ تمام اعمال کا مبنی تقویٰ او خشیت اللہ ہے اس لئے اپنی ذات سے ڈرنے کا پھر مکررذکر فرمایا۔ اور قرابت داری کے تعلقات سے بھی ڈرایا اور ان تعلقات میں حزم و احتیاط کی طرف اشارہ فرمایا۔ گویا اللہ تعالیٰ کے خوف سے اور اس کی گرفت سے ڈرو اور رشتہ داروں کے حقوق سے ڈرتے رہو۔ چونکہ یہ دونوں چیزیں عوام میں متعارف ہیں اور اہل عرب بکثرت بولا کرتے تھے۔
اسالک باللہ اور باللہ و بالرحم اور انا شدک باللہ والرحم۔ یعنی میں تم سے خدا کا واسطہ دیکر اپنا حق مانگتا ہوں۔ یا تم کو رشتہ داری کا واسطہ دیتا ہوں کہ ایسا کرو تم کو خدا کی قسم دیتا ہوں یا تم کو رشتہ داری کی قسم دیتا ہوں یا تم کو اللہ تعالیٰ کا اور رشتہ داری کا واسطہ دیکر کہتاہوں۔
خلاصہ یہ ہے کہ جن چیزوں کو تم اپنا حق مانگتے وقت استعمال کرتے ہو ان ہی چیزوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ تم کو ڈراتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا مطل یہ ہے کہ اس کی قوت و طاقت اور اس کے بےپناہ عذاب سے ڈرو اور ارحام سے ڈرنے کا مطلب یہ ہے کہ رشتہ داروں اور قرابت داروں کے تعلقات کو بگاڑنے اور ان کے حقوق میں کوتاہی کرنے سے ڈرو۔
رقیب کے معنی دیکھ بھال کرنے والا، نگہبان ، اطلاع رکھنے والا، اردو اور فارسی کے شعراء اس لفظ کو بہت استعمال کرتے ہیں اور باوجود بکثرت مستعمل ہونے کے پھر بھی اس لفظ نے اپنے حقیقی معنی کو ترک نہیں کیا۔ بعض قراء نے ارحام کی سیم کو کسرہ پڑھا ہے۔ یعنی تساء لون باللہ وبالارحام۔ ہم نے تسہیل میں اس قرأت کا بھی خلاصہ کردیا ہے۔ حضرت عائشہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ رحم عرش الٰہی کے نیچے لٹکا ہوا ہے اور وہ کہتا ہے۔ سن لو ! جو مجھ کو ملائے گا اللہ تعالیٰ اس کو ملائے گا۔ اور جو مجھ کو قطع کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو قطع کردے گا۔
حضرت انس ؓ کی روایت میں ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے رزق میں وسعت ہو اور اس کی خطائوں سے درگزر کیا جائے تو وہ رحم کو قطع نہ کرے۔ یعنی رشتہ داروں سے میل جول ترک نہ کرے۔
بہرحال رحم کی عظمت اور قرابت داری کی اہمیت اس سے ہی ظاہ رہے کہ اللہ تعالیٰ نے رحم کا ذکر اپنے نام کے ساتھ کیا ہے۔
حدیث قدسی میں آتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں اللہ ہوں میں رحمان ہوں میں نے رحم کو اپنے نام سے مشتق کیا ہے جو اس کو ملائے گا میں اس کو ملائوں گا جو اس کو قطع کرے گا میں اس کو قطع کروں گا۔ خلاصہ یہ ہے کہ بنی نوع انسان کو بحیثیت انسان ہونے کے آپس میں ہمدردی کرنی چاہئے۔ اور آپس میں ایک کو دوسرے کے ساتھ انسانیت کا سلوک کرنا چاہئے اور جہاں اس اشتراک کے ساتھ دوسری خصوصیت بھی ہو۔ مثلاً قرابت کی تو وہاں اور زیادہ اس کا خیال رکھو۔ اور پوری احتیاط کرو اور ان کے حقوق کو مقدم رکھو۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ایک آدم سے جو ابنائی اور ان سے سارے لوگ اور خبردار رہونا توں سے یعنی بدسلوکی مت کرو آپس میں۔ (موضح القرآن)
اس تمہید کے بعد احکام کا سلسلہ شروع فرماتے ہیں اور یہی وہ چیزیں ہیں جو جنگ کے بعد پیش آیا کرتی ہیں۔ یعنی یتامیٰ اور مرنے والوں کی میراث، اور بیوہ عورتوں کا حکم۔ کیونکہ مردوں کی تعداد کم ہوجاتی ہے اور عورتیں چونکہ معرکہ میں کم جاتی ہیں اس لئے ان کی تعداد زیادہ ہوجاتی ہے اس لئے یتامیٰ کا حکم بیان فرماتے ہیں (تسہیل)
Ayah 4:2ف 2 اور یتامیٰ یعنی بن باپ کے بچوں کا مال انہی کو دیتے رہو اور حسب ضرورت انہی پر خرچ کرتے رہو اور اچھی چیز کو بری چیز سے نہ بدلو اور ان بن باپ کے بچوں کا مال اپنے اموال کے ساتھ ملاکر خود برد نہ کرو یقیناً ایسا کرنا یعنی اچھی چیزوں کو بری چیزوں سے بدلنا یا ہوتے سا تھے بلاضرورت ان کے مال سے نفع حاصل کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ اوصیا اور اولیاء کو چاہئے کہ ان کے پاس یتیموں کا جو مال ہو وہ اس مال کو یتامیٰ کی ضروریات پر خرچ کرتے رہیں اور حسب ضرورت ان کو دیتے رہیں اور ان کے مال میں ادل بدل نہ کریں کہ اچھی چیز ان کے مال میں سے نکال لیں اور بری چیز ان کے مال میں رکھ دیں۔ جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں ہوا کرتا تھا اسی طرح ان کے اموال کو اپنے اموال میں شامل کرکے خورد برد نہ کریں کہ اپنے مال کے ساتھ ان کا مال کھاجائیں اور ہوتے سا تھے بلاضرورت ہم نے اس لئے کہا کہ اگر یہ نگراں اور پرورش کرنے والا مالدار ہو تو ایسا کرنا حرام ہے البتہ اگر فقیر ہو تو دستور کے موافق حق الخدمت کے طور پر کچھ کھا سکتے ہے جس کا حکم آجائے گا۔
اسی لئے ہم نے عرض کیا ہے کہ ہوتے سا تھے ان کا مال اپنے مال میں ملاکر نہ کھاجائو۔ اس قسم کی کارروائی کرنا کہ اچھا مال نکال کر اس کی جگہ برا رکھ دینا یا ہوتے سا تھے ان کا مال کھا جانا بڑا گناہ ہے۔ جو مطلب آیت کا ہم نے بیان کیا ہے یہ اس شان نزول کی بنا پر ہے جو ابن جریر نے سدی سے نقل کیا ہے اور اس کا خلاصہ یہ ہے کہ یتیم کے ریوڑ میں سے موٹی بکری نکال کر اپنے ریوڑ میں سے دبلی اور بیمار بکری یتیم کے ریوڑ میں ملا دیتے تھے اسی طرح یتیم کے مال میں سے کھرا دینار نکال کر اس کے مال میں کھوٹا دینار رکھ دیتے تھے اور کہتے تھے بکری کی جگہ بکری اور دینار کی جگہ دینار۔ اس ادل بدل کو اللہ رب العزت نے حرام فرمایا اس تقدیر پر تبدل کے معنی تغیر کے ہوں گے اور مطلب یہ ہوگا کہ حلال مکتب کو حرام منعقب سے نہ بدلو۔ یعنی تم نے جو مال کمایا ہے وہ حلال ہے اور یتیم کا جو مال تم نے غصب کیا تو وہ اس غصب کرنے کی وجہ سے حرام ہے تو ہلال کو حرام سے نہ بدلو ! اگرچہ ولا تتبدلو الاخبیث بالطیب کا مفہوم بہت ہی عام ہے۔ اور بہت سے معنی ہوسکتے ہیں مثلاً کفر کو ایمان سے نہ بدلو یا بری عادت کو اچھی عادت سے نہ بدلو ۔ یا بداخلاق عورت کو خوش اخلاق عورت سے نہ بدلو یا بری تجارت کو اچھی تجارت سے نہ بدلو۔
غرض ! الفاظ میں بڑی گنجائش ہے لیکن یہاں مطلب وہی ہے جو ہم نے عرض کیا ہے اور یہ جو فرمایا ان کے مال اپنے مال میں شامل کرکے خورد برد نہ کرو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے مال میں بےجا تصرف نہ کرو یہ مطلب نہیں ہے کہ بس ان کا مال کھائو نہیں اور جو کچھ چاہے کرو۔ جیسا کہ بعض بدمعاملہ لوگ کہتے ہیں کہ قرآن کے کھانے کی ممانعت کی ہے کپڑا بنانے کی ممانعت نہیں کی ہے۔ کھانے کا ذکر اس لئے کیا ہے کہ مال کا اہم مفاد اور بڑی غرض کھانا اور پیٹ پالنا ہے ورنہ یہ مطلب نہیں ہے کہ یتیم کا مال اپنے مال میں شامل کرکے کھائو نہیں اور جس طرح چاہے اس کا مال اڑائو۔ اور دوسرے پارے میں جو اختلاط کی اجازت دی ہے اس پر اس ممانعت کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔ کیونکہ وہاں ملانے سے یہ غرض نہیں ہوتی کہ یتیم کا مال کھا جائیں بلکہ وہاں اس دشواری کا دور کرنا ہوتا ہے جو علیحدہ علیحدہ توا چولہارکھنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے اور یہاں غرض شامل کرنے سے اس کا مال تلف کرنا ہے اور چونکہ فقیر کو حق الخدمت کے طور پر یتیم کے مال میں سے خدمت کی اجرت لینا جائز ہے جیسا کہ چند آیتوں کے بعد آجائے گا اس لئے ہم نے ہوتے سا تھے اور بلاضرورت کی قید لگائی ہے۔
جیسا کہ ہم عرض کرچکے ہیں۔ اپنے بعض اکابر نے ولا تاکلوا اموالھم کا ترجمہ اس طرح کیا ہے اور ان کے مال مت کھائو اپنے مالوں کے رہنے تک ! اس ترجمہ میں اگر کاش یہ مشکل نہ ہوتا تو ایک خوبی یہ ہے کہ الی اپنے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور الی کو مع کے معنی میں لے کر ترجمہ کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی اور ایک خوبی اس ترجمہ میں اور بھی ہے جس کو اہل علم سمجھتے ہیں کہ اس ترجمہ سے یتیم کا مال کھانے کی حرمت ثابت ہوئی ہے خواہ وہ تبدیل کے بعد ہو یابلا تبدیل ہو۔ (واللہ اعلم)
آیت زیر بحث کا ایک دوسرا شان نزول وہ ہے جس کو ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر سے نقل کیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ قبیلہ غطفان کا ایک آدمی تھا اس کے پاس اس کے یتیم بھتیجے کا بہت مال تھا۔ جب وہ بھتیجا بالغ ہوگیا تو اس نے چچا سے اپنا مال طلب کیا۔ چچا نے انکار کردیا۔ نبی کریم ﷺ کے سامنے یہ معاملہ پیش ہوا تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اس آیت کو سن کر یتیم کے چچا نے کہا۔
اطعنا اللہ ورسولہ نعوذ باللہ من الحرب الکبیر یعنی ہم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرتے ہیں اور کسی بڑے گناہ کے مرتکب ہونے سے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں۔
اس شان نزول کی بنا پر بعض حضرات نے واتو الیتیمی اموالھم کا ترجمہ اس طرح کیا ہے کہ یتیموں کو جب وہ بالغ ہوجائیں تو ان کے مال سپرد کردو اور دیدیو۔ اس تقدیر پر اول تو یتیم کے معنی میں بالغ یتیم کرنا ہوگا حالانکہ یتیم اس بن باپ کے بچے کو کہتے ہیں جو بالغ نہ ہوا ہو۔ بالغ ہوجانے کے بعد پھر عرفاً اور شرعاً اس پر لفظ یتیم کا اطلاق نہیں ہوتا۔ نیز ہم نے اس لئے اس کو اختیار نہیں کیا کہ بالغوں کا حکم مستقلاً آگے آرہا ہے اگر یہاں بھی وہ معنی لئے جائیں تو بلاوجہ تکرارہوگی۔ بہرحال اس معنی سے بھی ہم کو انکار نہیں اور اس کی بھی گنجائش ہے اور مطلب آیت کا یہ ہے کہ اے اولیا اور اوصیام تم یتیموں کے مال کی حفاظت کرو کسی طرح اس مال کو نقصان پہنچانے کے درپے نہ ہو اور جب وہ یتیم اس مال کی واپسی کے مستحق ہوجائیں تو وہ مال بلاکم وکاست ان کے سپردکردو۔ (واللہ اعلم، )
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جس لڑکے کا باپ مرجائے تو اس کے بڑوں کو تقلید ہے کہ اس کے مال میں ہاتھ نہ ڈالیں اور بدل نہ لیں احتیاط سے رکھیں جب بالغ ہو تو حوالہ کردیں۔ (موضح القرآن)
حوب کے معنی حضرت عبداللہ بن عباس نے گناہ اور ظلم کئے ہیں ہم نے حبر الامت کا ایک قول اختیار کرلیا ہے۔ تبدل کے معنی میں صاحب روح المعانی نے بڑی سیر حاصل بحث کی ہے جو صاحب تفصیل پسند کرتے ہوں وہ روح المعانی ملاحظہ فرمائیں۔
اب آگے اسی سلسلے میں یتیموں کے اور حقوق بیان کرتے ہیں۔ مثلاً زمانہ جاہلیت میں بعض اولیا یہ بھی کرتے تھے کہ کسی یتیم لڑکی کو مالدار دیکھا اور خوبصورت سمجھا تو اس کو نکاح میں لے آئے۔ اور چونکہ خود پرورش کنندہ ہوتے تھے اور دوسرا کوئی شخص اس لڑکی کی وکالت کرنے والا نہ ہوتا تھا اس لئے اس خوبصورت اور مالدار لڑکی کا مہر اس کی حیثیت سے بہت کم مقرر کرلیا کرتے تھے۔
خود ہی اس لڑکی کے سرپرست اور خودہی نکاح کرنے والے اور اپنے نکاح میں لانے والے اور خود ہی مہر مقرر کرنے والے۔ اس طرز عمل سے یتیموں کو بہت نقصان پہنچتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے نقصان کے اس طریقہ پر بھی تنبیہ فرمائی۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 4:3ف 1 اور اگر تم کو اس امر کا اندیشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کرسکوگے اور ان کے مہر وغیرہ کے متعلق تم عدل و انصاف کی رعایت نہ رکھ سکوگے تو ان یتیم لڑکیوں کے علاوہ تم اور دوسری حلال عورتوں میں سے جو تم کو کسی وجہ سے پسند ہوں ان سے نکاح کرلو اور یہ نکاح خواہ در در عورتوں سے کرو خواہ تین تین عورتوں سے خواہ چار چار عورتوں سے بہرحال کوئی شخص چار عورتوں سے زاہد کو نکاح میں نہ رکھے پھر اگر ایک سے زیادہ عورتوں کو نکاح میں رکھنے سے اس امر کا ظن غالب ہو کہ تم ان میں مساویانہ برتائو نہ کرسکوگے اور ان عورتوں کے درمیان عدل قائم نہ رکھ سکوگے تو پھر ایک ہی عورت پر اکتفا کرو یا قواعد شرعیہ کے موافق ان باندیوں پر اکتفا کرو جن کے تمہارے داہنے ہاتھ مالک ہوئے ہیں یعنی وہ باندیاں جو تمہاری مملوک ہیں یہ طریقہ اختیار کرنے میں اس امر کی پوری توقع ہے کہ تم ایک جانب نہ ڈھل جائو اور ناانصافی کے مرتکب نہ ہو۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ محض اس خیال سے کہ یتیم لڑکی مالدار ہے اور صاحب حسن و جمال ہے اور ہماری سرپرستی میں ہے تو لائو اونے پونے مہر باندھ کر اس لڑکی سے نکاح کرو تاکہ اس کا مال قبضہ میں رہے یہ طریقہ اپنی ولایت و سرپرستی سے غلط فائدہ اٹھانے کا ہے۔ لہٰذا اگر تم کو ذرا سا بھی خطرہ ہو کہ تم یتیمہ کے بارے میں انصاف نہ کرسکوگے تو اس سے نکاح نہ کرو اور اس کے علاوہ دوسری عورتیں جو تمہارے لئے حلال ہوں اور تم کو کسی وجہ سے خواہ حسن و جمال کے اعتبار سے خواہ قابلیت اور خاندان کے اعتبار سے پسند ہوں ان سے نکاح کرلو ۔ ہاں ! یہ ضرور ہے کہ اور عورتوں سے بھی نکاح کرو تو اس قید کے ساتھ کرو کہ ان کی تعداد چار عورتوں سے نہ بڑھنے پائے یعنی ایک وقت میں چار عورتوں سے زائد نکاح میں نہ ہوں۔ خواہ تم میں سے ہر ایک مرددو دو عورتوں سے خواہ تین تین عورتوں سے خواہ چار چار عورتوں سے نکاح کرلے مگر ہر ایک شخص چار سے زائد کو نکاح میں نہ رکھے اور اگر ایک سے زائد عورتوں کے رکھنے میں اس امر کا یقین ہو کہ تم ان میں عدل قائم نہ رکھو گے اور مساویانہ برتائو نہ رکھ سکوگے بلکہ کسی کے ساتھ سلوک میں زیادتی اور کسی کے ساتھ کمی واقع ہوگی تو ایسی حالت میں ایک ہی بیوی پر بس کرو اور ایک سے زائد نہ کرو یا صرف اپنی مملوکہ باندیوں پر قناعت کرو کیونکہ ان میں نہ مہر کی ادائیگی ہے اور نہ وجوباً تقسیم لازم ہے جو ناانصافی کا خوف پیدا ہو بخلاف آزاد عورتوں کے کہ ان کے حقوق باندیوں سے زیادہ ہیں اور یہ امر مذکور اور یہ طریقہ جو ہم نے بیان کیا ہے یہ تم کو ناانصافی اور گمراہی سے بچانے میں قریب تر اور قرین مصلحت ہے خلاصہ آیت زیر بحث کا یہ ہے۔
(1) ہر چند کہ ولی کو یہ حق ہے کہ اگر کوئی یتیمہ اس کی نگرانی میں ہو اور شرعاً اس سے نکاح جائز ہو تو وہ اپنی ولایت سے اس کا خود اپنے سے نکاح کرسکتا ہے لیکن اس حق کو اغراضِ فاسدہ کے لئے استعمال نہیں کرنا چاہئے مثلاً اس خیال سے کہ اس کا نکاح کسی اور سے ہوگا تو اس کی دولت دوسری طرف منتقل ہوجائے گی یا میں کسی اور عورت سے شادی کروں گا تو مجھ کو مہر زیادہ ادا کرنا ہوگا یا معاملہ گھر کے گھر میں ہی تھوڑا مہر دیکر کرلوں گا تو ہوجائے گا اس کا کوئی کہنے سننے والا تو ہے ہی نہیں۔ مزید تفصیل اس مسئلے کی انشاء اللہ تعالیٰ پانچویں پارے کے آخر میں آجائے گی۔ یہاں اس قدر فرمایا کہ یتیمہ اس امر کی مستحق ہے کہ اس کے ساتھ انصاف کیا جائے اور اس کو نقصان سے بچایا جائے اگر کسی قسم کی کارروائی سے اس کے ساتھ ناانصافی کا اندیشہ ہو تو اس سے باز رہو۔
(2) اگر تم کو نکاح کرنا ہے اور تم کو نکاح کی ضرورت ہے تو اور عورتیں موجود ہیں یہ کیا ضرور ہے کہ یتیمہ ہی سے نکاح کرو اور اس کو نقصان پہنچائو یا اس کے مال پر قبضہ قائم رکھو۔ لہٰذا محرمات کو چھوڑ کر جو عورتیں تم کو پسند ہوں ان سے نکاح کرلو۔ پسند کی صورتیں مختلف ہوتی ہیں کسی عورت کی خوشی سلیقگی مشہور ہو۔ یا حسن و جمال میں شہرت رکھتی ہو یا تم کو خاندان کے اعتبار سے پسند ہو یا جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ جب کسی عورت سے منگنی کا ارادہ کیا جائے تو اس کے چہرے کو دیکھا جاسکتا ہے بشرطیکہ اس کی استطاعت ہو۔ اس مضمون کی روایت ابودائود اور ترمذی نے جابر اور مغیرہ بن شعبہ سے نقل کی ہے بہرحال پسند کی جو شکل بھی ہو۔
(3) یہ جو فرمایا دو اور تین اور چار چار یہ محض مخاطبین کے اعتبار سے ہے جیسا کہ ہم نے تیسیر میں اشارہ کردیا ہے اس کی شکل ایسی ہے جیسے کوئی حاضرین پر کھجوریں تقسیم کرتے وقت کہے کہ اس میں سے دو دو تین تین چار چار لے لو۔ تو اس تقسیم کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہر شخص کو اختیار ہے کہ ان کھجوروں میں سے دو اٹھائے خواہ تین اور خواہ چار لے لے۔ نہ یہ مطلب ہوتا ہے کہ چار سے زائد لے لے اور نہ یہ مطلب ہوتا ہے کہ تمام اعداد کو جمع کرکے نو کھجوریں اٹھالو۔ اور نہ یہ مطلب ہوتا ہے کہ ہر شخص اٹھارہ کھجوریں اٹھالے۔ جیسا کہ بعض اہل باطل نے سمجھا ہے۔
رہا یہ امر کہ نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات کی تعداد نو تھی تو ظاہر ہے کہ وہ آپ کی خصوصیت تھی۔ یہ دودو اور چار چار کی بات اردو میں بکثرت استعمال ہوتی ہے۔ مثلاً جب بہت محتاج اور مزدوروں کے متعلق کوئی دریافت کرے کہ ان کو کیا دیدوں اور کوئی جواب میں کہے کہ جو مناسب سمجھو دیدو ہر ایک کو دودو آنے چار چار آنے دیدو یا دو دو تین تین پیسے دیکر چلتا کرو تو اس کا مطلب کوئی بھی یہ نہیں سمجھتا کہ ہر ایک مزدور کو چھ آنے یا پانچ پیسے دینے ہیں دینے والا بھی سمجھتا ہے کہ ہر ایک کو دو دو آنے دینے یا چار چار آنے دینے ہیں یہی مطلب یہاں سمجھنا چاہئے اور سورة فاطر میں جو فرشتوں کے پروں کا حال بیان کیا ہے وہاں اول تو تقسیم کی بحث نہیں ہے اور نہ وہاں تحدید مراد ہے پھر یہ کہ وہاں فرمایا ہے۔ یزید فی الخلق مایشآء اگر فرشتوں کے پرچار سے زیادہ بھی ہوں۔ جیسے جبریل (علیہ السلام) کے چھ سو پر۔ بعض روایتوں سے معلوم ہوتے ہیں تو اس آیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا اس فرق کو اچھی طرح ذہن نشین کرلینا چاہئے۔
(4) چونکہ آزاد عورتوں میں نان نفقہ کی مساوات ضروری ہے اور راتوں کی تقسیم ضروری ہے اور اس میں کوتاہی کرنے والوں کے لئے سخت وعید آئی ہے۔
جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ چند بیویوں میں ناانصافی کرنے والا قیامت میں اس حالت سے حاضر ہوگا کہ اس کی ایک جانب مفلوج ہوگی یعنی فالج زدہ حالت میں پیش ہوگا اس لئے ارشاد ہوا کہ اگر ظن غالب یہ ہو کہ تم سے انصاف نہ ہوسکے گا اور تم ایک جانب جھک پڑوگے تو پھر ایک ہی عورت پر بس کرو اور ایک سے زیادہ کا خیال ترک کردو اور اگر کوئی یہ شبہ کرے کہ عدل کی استطاعت توغیرممکن ہے۔
جیسا کہ پانچویں پارے میں مذکور ہے ولن تستطیعوا ان تعدلوا تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہاں جس عدل کی طرف قرآن نے اشارہ کیا ہے وہ قلب کی محبت ہے اور یہ امر واقعہ ہے کہ قلب کی محبت اختیاری چیز نہیں ہے اور وہ قابل مواخذہ نہیں ہے اور جو چیز فرض ہے اور انسان کی استطاعت میں داخل ہے وہ ہے مساویانہع برتائو۔ لین دین کا برتائو اور رات کو سونے کا برتائو اس میں عدل و انصاف کا حکم ہے اور جس کی نفی فرمائی وہ قلب کا تاثر ہے بلکہ قلب میں اگر کسی عورت کی محبت زیادہ ہو اور پھر بھی اس کے ساتھ برابری کا سلوک کرے تو یہ اور بھی اجر کی بات ہے جیسا کہ نبی کریم ﷺ باوجود حضرت عائشہ ؓ سے مخصوص محبت رکھنے کے پھر باتوء میں یکسانیت برتتے تھے اور فرمایا کرتے تھے۔ یا اللہ یہ تقسیم اپنے بس کے موافق کررہا ہوں اور جو چیز میرے بس سے باہر ہے اس پر تو مجھے کوئی ملامت نہ کیجیو، لہٰذا اس فرق کو بھی اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے اور کسی دھوکہ باز کے دھوکہ میں مبتلا نہ ہونا چاہئے کیونکہ آج کل قرآن کریم کا نام لے کر دھوکہ دینے والوں کی اکثریت ہے۔
(5) ایک عورت کے حقوق کو پورا کرنے میں بھی کوتاہی کا خوف ہو تو پھر شرعی باندیوں پر اکتفا کرلو اور صرف باندیوں ہی پر قناعت کرو اگرچہ ایک بیوی کے ساتھ بھی باندیاں رکھی جاسکتی ہیں بلکہ چند بیویوں کے ساتھ بھی باندیوں کا استعمال جائز ہے لیکن ہم نے آیت کے ظاہری سیاق اور لفظ کی رعایت سے یہ ترجمہ کیا ہے کہ اگر ایک آزاد عورت کے حقوق بھی پورے نہ کرسکو تو فقط لونڈیوں سے کام چلائو۔ کیونکہ باندیوں میں تقسیم واجب نہیں اور نہ مہ واجب ہے کیونکہ باندی بغیر نکاح کے حلال ہے اس لئے باندیوں میں یہ خطرہ نہیں ہے۔
(6) یہ حکم جو بیان کیا گیا ہے اور یہ طریقہ جو بتایا گیا ہے کہ یتیمہ کو چھوڑ کر اور عورتوں سے چار تک نکاح کرلو۔ چار میں عدم انصاف کا خطرہ ہو تو ایک ہی پر قناعت کرو۔ یا ایک منکوحہ اور باقی باندیاں رکھ لو یا فقط باندیوں پر قناعت کرو۔ بہرحال یہ طریقہ تم کو ناانصافی اور گمراہی سے بچانے کے لئے بہت قریب ہے۔ اور یہ طریقہ تم کو ظلم سے بچانے کے لئے قریب تر ہے۔ عدل کے معنی بعض نے جہک جانا کیا ہے بعض نے ظلم کیا ہے۔ مجاہد نے گمراہی کیا ہے۔ یہ لفظ میراث کی تقسیم میں بھی آتا ہے۔ حضرت امام شافعی (رح) نے کثرت عثال کیا ہے چونکہ امام شافعی (رح) کے اس قول کو عام مفسرین نے اختیار نہیں کیا اس لئے ہم نے تیسیر میں اس معنی کو چھوڑ دیا ہے۔
عدل کے اصل معنی تجاوز عن الحد ہیں یہاں مراد غیر مشروع میل اور جھکائو ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس معاملہ میں ظلم سے بچنے کے لئے یہ طریقہ اور طریقوں سے قریب تر ہے یا یہ مطلب ہے کہ اس طرح بےانصافی نہ ہونے کی توقع قریب تر ہے۔ (واللہ اعلم)
اس موقعہ پر چونکہ یتیمہ کے مہر کو کم کرنے اور اس کو نقصان پہنچانے کی مذمت فرمائی تھی اس لئے اب آگے مہر کا ایک مستقل مسئلہ بیان فرمایا۔ چناچہ ارشادہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 4:4ف 2 اور تم لوگ اپنی بیویوں کے مہران کو خوش دلی کے ساتھ ادا کردیا کرو پھر اگر وہ اپنے دل کی خوشی اور رضامندی سے اس مہر میں سے کچھ تم کو چھوڑ دیں تو تم اس کو لذیذ اور خوشگوار سمجھتے ہوئے کھائو اور اس کو استعمال کرو۔ (تیسیر)
صداق سے مراد عورت کا مہر ہے۔ صدقات یعنی عورتوں کے مہر نخلۃ عطیہ، فریضہ، دیانت، ھبہ، طیب، نفس، ھنیائ، لذیذ خوش گوار ، مریائ، زود ہضم مطلب یہ ہے کہ تم لوگ عورتوں کو ان کے مہر خوش دلی کے ساتھ۔ یا ان کا فریضہ سمجھ کر یا دیانتداری کے ساتھ ادا کردیا کرو۔ ہاں اگر وہ خود اس مہر میں سے اپنے دل کی خوشی سے بلا کسی قسم کے جبر واکراہ اور بددن کسی طلب کے خود بخود کچھ معاف کردیں اور تمہارے ذمہ سے ساقط کردیں یا وصول کرنے کے بعد تم کو کچھ یا سب واپس کردیں تو تم کو اس کا استعمال جائز ہے اس کو خوب مزے سے کھائو پیو۔
خلاصہ ہے کہ مہر ادا کرنے کی تاکید ہے آیت میں مخاطب شوہر ہیں یا ہوسکتا ہے کہ لڑکی کے اولیاء ہوں جیسا کہ بعض کا خیال ہے کہ پہلے یہی دستور تھا کہ عورت کا مہر اس کے اولیاء وصول کرلیا کرتے تھے اور عورت کو کچھ نہیں دیتے تھے۔ بہرحال اس آیت میں یہ بات ظاہر فرمائی کہ مہر عورت کا ایک حق ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرض کیا گیا ہے۔ لہٰذا اس حق کو ایک فریضہ سمجھ کر خوش دلی کے ساتھ عورت کو ادا کیا کرو البتہ اگر عورتیں اپنے حق میں سے اور اس فریضہ میں سے جو اللہ نے ان کے لئے مقرر کیا ہے اپنی خوشی سے تم کو معاف کردیں اور چھوڑ دیں جس کو ابرا کہتے ہیں یعنی اہل حق اپنے حق کا جزو یا کل چھوڑ دے یا وصول کرنے کے بعد اسی طرح مہر کا کچھ حصہ یا تمام کا تمام تم کو واپس کردیں تو اس کا برتنا اور کھانا جائز ہے اسے مرغوب طبع اور زود ہضم سمجھ کر کھائو۔
آیت کی تفسیر ہم نے مفسرین کے تمام اقوال کی رعایت رکھ کر کی ہے اور یہ جو فرمایا ہے کہ اس کو کھائو حالانکہ مال سے اور کام بھی لیا جاسکتا ہے اس کی وجہ سے ہم پہلے کئی مرتبہ بیان کرچکے ہیں کہ مال سے جو منافع حاصل کئے جاسکتے ہیں ان میں اہم نفع اور بڑی غرض کھانا ہوتا ہے اس لئے اس کا ذکر فرمایا ورنہ یہ مقصد نہیں کہ عورت جو مہر تم کو واپس کرے اس کو سوائے کھانے کے اور کسی کام میں نہ لائو بلکہ ان کا واپس کردہ مہر پیسہ ہے اور جس طرح اور اموال موہوبہ میں ہر قسم کا تصرف جائز ہے اسی طرح واپس شدہ مہر میں بھی ہر قسم کے تصرف جائز ہے۔ آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جبر واکراہ سے جو مہر معاف کردیا جائے وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک معاف نہیں ہوتا اور اسی طرح یہ بھی معلوم ہوا کہ مہر عورت کی ملک ہے اس میں بغیر اس کی مرضی اور خوشی کے کسی کو تصرف کا اختیار نہیں ہے۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مہر کی واپس کردہ رقم کو ہنیاً مریاً اس لئے اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے مہر میں سے کچھ پیسے لیکر شہدخریدلے اور اس شہد میں بارش کا پانی ملالے تو یہ شہد جس بیمار کو پلایاجائے اس کو شفاء ہوگی۔
فقیرعرض کرتا ہے کہ اگر اس شہد پر سورة فاتحہ پڑھ کر پھونک دی جائے تو شفاء کی توقع زیادہ ہے (واللہ اعلم)
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی اگر جانور کہ یتیم لڑکی سے ہم نکاح کریں گے تو اس کا حق ادا نہ کریں گے کیونکہ اس کا حق مانگنے والا نہیں تو عورتیں ہیں کچھ کمی نہیں ایک مرد دو بھی تین بھی چار بھی روا ہیں اس سے زیادہ جمع کرنی روا نہیں کیونکہ اتنے میں بھی انصاف کرنا مشکل ہے زیادہ میں کب ہوسکا سو اس قدر بھی جب کرو کہ جانو انصاف سے رہوگے نہیں تو ایک ہی بس ہے یا اپنی لونڈی کفایت ہے جس کو کئی عورتیں ہوں تو واجب ہے کھانے پہننے میں اور دینے لینے میں برابر رکھے اور رات رہنے میں باری باندھے اگر نہ کرے گا تو قیامت میں اس کا آدھا بدن گھسیٹتا چلے گا اور تقید فرمایا کہ عورت مومن کا مہر پورا خوشی سے ادا کرو اگر وہ خوشی سے کچھ چھوڑ دے تو روا ہے۔ (موضح القرآن)
یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ باندی سے مراد شرعی باندی ہے آج کل ہندوستان میں جن لڑکیوں کو لونڈی یا باندی کہا جارہا ہے وہ شرعی لونڈیاں نہیں ہیں اور ان کو بغیر نکاح کے استعمال کرنا حرام ہے اب آگے یتیموں کے اسوال اور ان کی تفویض کا حکم بیان فرماتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayah 4:5ف 3 اور اے سرپرستو ! تم اپنے وہ مال جن مالوں کو اللہ تعالیٰ نے تمہاری معیشت اور گندن کا سبب بنایا ہے اور تم سب کے لئے اس کو سرمایہ زندگی کیا ہے ان اموال کو ناسمجھ اور کم عقلوں کے سپرد نہ کرو وہاں ان کو ان اعمال میں سے کھلاتے اور پہناتے رہو اور ان کو معقول و بھلی بات کہتے رہو۔
مطلب یہ ہے کہ وہ یتیم جو تمہاری زیر نگرانی ہیں اور جن کے مال تمہاری حفاظت میں ہیں اور حفاظت کی غرض سے وہ مال تمہارے سپرد کئے گئے ہیں اور چونکہ یہ مال ایسی چیز ہے کہ تم سب کی زندگی کا سرمایہ اور سہارا ہے اس لئے یتیم جب بالغ ہوجائیں تو ذرا دیکھ بھال کر یہ مال ان کے سپرد کیا کرو ناسمجھ اور کم عقلوں کو نہ پکڑا دیا کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اپنی کم عقلی کے باعث مال کو برباد کر ڈالیں۔ اور اس کو اڑا ڈالیں۔ ہاں ان پر خرچ کرتے رہو اور ان سے معقول بات کہتے رہو مثلاً یوں کہو کہ یہ مال تمہارا ہی ہے ہم تو محض نگراں ہیں تم ہی کو دیدیں گے۔ تمہاری خیر خواہی اور بھلائی مدنظر ہے اس لئے تم کو ابھی نہیں دیتے۔ جب تم کو خرچ کرنے کا ڈھنگ اور سلیقہ آجائے گا تو تمہارے حوالے کردیں گے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی لڑکا بےعقل ہے اس کا مال اس کے ہاتھ نہ دو اس کا خرچ اس میں چلائو جب بالغ ہو اور عقل پیدا کرلے تب مال حوالے کرو لیکن بات معقول کہو یعنی تسلی کرلو کہ مال تیرا ہے ہمارا نہیں ہم تیری خیر خواہی کرتے ہیں۔ (موضح القرآن) خلاصہ یہ ہے۔
(1) اگرچہ آیت عام ہے اور اسی لئے عبداللہ بن عباس نے تیرے بیٹے اور تیری عورتیں کیا ہے اور عبداللہ بن مسعود ؓ کی بھی یہی رائے ہے کہ ناسمجھ عورتوں اور لڑکوں کو مال حوالے نہ کرو۔
حضرت ابوہریرہ ؓ کا قول ہے کہ سفہا سے مراد خادم ہیں۔ سفیہہ اگر بالغ بھی ہو تو مال اس کے سپرد نہ کیا جائے۔
ابن کثیر نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سفہا کو تصرف سے روکا ہے اس کو شریعت میں حجر کہتے ہیں یعنی کسی کو تصرف علی المال سے روک دینا خواہ یہ روکنا لڑکپن کی وجہ سے ہو یا جنون کی وجہ سے ہو یا کم عقلی کے باعث ہو۔ غرض ان مسائل کی تفصیل دیکھنی ہو تو کتب فقہ میں کتاب الحجر کا مطالعہ کریں۔ یہ شریعت کا ایک مستقل قانون ہے کہ حاکم مال کی حفاظت کرے اور بدسلیقہ لوگوں کی آمدنی اور خرچ پر کنٹرول کرے تاکہ نااہل لوگ دولت کو برباد نہ کریں اور کنگال نہ بن جائیں۔
(2) حضرت سعید بن جبیر اور دیگر مفسرین کی رائے یہ ہے کہ اس آیت سے یتامیٰ مراد ہیں نابالغی کی حالت میں تو ان کا مال ان کے حوالے کیا ہی نہیں جاسکتا لیکن اس آیت میں قرآن کریم کا منشا یہ ہے کہ اگر ان میں خریدوفروخت کا سلیقہ نہ ہو اور طبیعت میں لاابالی پن ہو تو بالغ ہوتے ہی ان کے مال ان کے حوالے نہ کردو بلکہ چندے ٹھہرو اور ذرا توقف کرو اور جب ان میں مال رکھنے کی سمجھ آجائے تب ان کے اموال ان کے سپرد کردو۔ ہم نے تیسیر اور ترجمہ میں اسی قول کو اختیار کیا ہے اور آگے خود قرآن میں اس کی تصریح آتی ہے۔
(3) چونکہ یتامیٰ کے مال ان لوگوں کی نگرانی میں ہوتے ہیں اس مناسبت سے اموالکم فرمادیا ورنہ حقیقت میں وہ مال ان ہی یتیموں کے ہیں اور سرپرست محض اموال کے نگراں ہیں۔
(4) جعل اللہ لکم قیاما میں ایک بہت بڑے مسئلے کی طرف اشارہ فرمایا اور مال کی اہمیت اور اس کی قدر ظاہر کی اور مبذرین و مفسرین کو تنبیہہ فرمائی کہ مال کو تو اللہ تعالیٰ نے سرمایۂ حیات بنایا ہے اور اس کو بیوقوفوں اور کم عقلوں کے ہاتھ دیکر تباہ و برباد نہ کرو بلکہ پیسے کو پیسے کی طرح خرچ کرنی کی جب تمیز آجائے جب ان کے حوالے کرو۔
(5) ہم نے جو سلیقہ اور تمیز کہا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ یا تو خریدو فروخت اور لین دین کا سلیقہ ہی نہ ہو یا سلیقہ ہو مگر بےپروائی سے استعمال نہ کرتاہو۔
(6) حضرت امام ابوحنیفہ کے نزدیک اگر یتیم بالغ ہوجائے اور اس میں سفاہت ہو تو اس کے مال کو ولی پچیس سال کی عمر ہونے تک روک سکتا ہے اگر پچیس 52 سال کی عمر ہونے پر بھی اس کی سفاہت و کم عقلی دور نہ ہو تو اس کا مال اس کے حوالے کردیں۔
(7) سفاہت و جنون و پاگل پن میں فرق ہے اگر کوئی مجنوں یا پاگل یا نیم پاگل ہے تو اس کا مال پچیس سال کے بعد بھی اس کے حوالے نہ کیا جائے گا بلکہ جب تک اس کا دماغ صحیح نہ ہوجائے اس کو تصرف کا حق نہ ہوگا۔ اب آگے اسی مسئلہ کی مزید تفصیل مذکور ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 4:6ف 1 اور تم یتیموں کی آزمائش کرتے رہو اور ان کی عقل اور ان کے شعور کا جائزہ لیتے رہو یہاں تک کہ جب وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں اور بالغ ہوجائیں پھر اگر بالغ ہونے کے بعد تم ان میں صلاحیت و اہلیت اور سلیقہ وتمیز دیکھو اور ان میں رشدو ہوشیاری پائو تو ان کے اموال ان کے سپرد کردو اور دیکھو اس خیال سے کہ کہیں وہ یتیم بڑے نہ ہوجائیں اور بالغ نہ ہوجائیں ان کے مال جلدی جلدی فضول خرچی کرکے نہ کھا جائو اور خرچ نہ کرڈالو۔ اور یتامیٰ کے اولیاء میں سے جو شخص صاحب ثروت اور مستعفی ہو تو وہ یتیم کا مال کھانے سے اپنے کو بالکل بچائے اور محفوظ رکھے اور ان اولیاء میں سے جو شخص محتاج و حاجت مند ہو تو وہ دستور کے موافق بقدر حاجت حق خدمت کے طور پر کچھ لے لیا کرے اور کھالیا کرے اور دیکھو جب یتیم کے بالغ ہونے کے بعد اس کا مال اس کے سپرد کرنے لگو تو استحباباً اس سپردگی پر لوگوں میں سے گواہ بنا لیا کرو اور یوں تو حساب لینے اور حساب سمجھنے میں اللہ تعالیٰ کی ذات کافی ہے اور وہ سب کی دیانت و امانت اور خیانت سے باخبر ہے۔ (تیسیر)
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی یتیم کا مال اپنے خرچ میں نہ لائو مگر اس کا رکھنے والا محتاج ہو تو خدمت کے درماہہ لیوے اور جس وقت باپ مرے تو پنچائیت کے روبرو یتیم کا مال امانت دار کو سونپ دیں جب یتیم بالغ ہو تو اس کے موافق حوالے کرے جو خرچ ہوا وہ سمجھا دے اور اس وقت بھی شاہدوں کو دکھا دے۔ (موضح القرآن)
آیت کا مطلب یہ ہے کہ یتیموں کی دیکھ بھال رکھو اور ان کی معاملہ فہمی کا جائزہ لیتے رہو۔ کبھی دو چار پیسے کا سودا منگا لیا کبھی ان سے کچھ فرخت کرادیا اور اس قسم کی بیع اور شراجو دلی کی اجازت سے ہونا بالغ کی بھی نافذ ہوجاتی ہے اس لئے ان کو سدھارتے اور ان کی عقل کا جائزہ لیتے رہو۔ یہاں تک کہ وہ بالغ ہوجائیں۔ جس کی اصل علامت تو انزال اور حیض اور موئے زہار ہیں اور یا پھر لڑکے اور لڑکی کے لئے پندرہ سال کی عمر کا ہوجانا ہے۔ حنفیہ کے نزدیک پندرہ سال مفتی بہ ہیں۔ بالغ ہونے کے بعد اگر تم ان میں رشد یعنی سمجھداری ، مال کی حفاظت کا سلیقہ لین دین کی تمیز دیکھو تو ان کے اموال ان کے سپرد کردو اور چونکہ بعض لوگوں کے قلوب میں بلاوجہ یہ جذبہ ہوتا ہے کہ یتیم کا مال کھا اڑا کے برابر کرو تاکہ بالغ ہونے کے وقت تک کچھ باقی نہ بچے جو اس کو دینا پڑے۔ محض حساب کے کاغذ دیکر یتیم کو چلتا کردیں اور یہ جذبہ کبھی تو حسد سے ہوتا ہے اور کبھی مال کی محبت اس کا سبب ہوتی ہے لوگ اس غلط جذبے کے ماتحت یتیم کا مال اس کے بالغ ہونے سے پہلے ہی برابر کردیا کرتے تھے اس برابر کرنے کی دو صورتیں ہوتی تھیں یا تو خود اس مال میں خورد برد کرکے اڑا دیتے تھے اور یا یتیم پر بلاضرورت صرف کر ڈالتے تھے اور ضرورت سے زیادہ کھانے اور کپڑے میں خرچ کرکے اس کا مال برابر کردیا کرتے تھے حق تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا کہ یتیم کا مال محض اس خطرے سے کہ کہیں بڑا نہ ہوجائے اس کے بڑے ہونے سے پیشتر ہی جلدی جلدی فضول خرچی کرکے نہ کھا جائو۔ اور چونکہ سرپرست کا خود کھا جانا اور بلا ضرورت یتیم پر خرچ کردینا ان دونوں باتوں کی ذمہ داری سرپرست ہی پر عائدہوتی ہے۔ اس لئے انہی کو مخاطب کرکے فرمایا۔
ولا تا کلوھا اسی رعایت سے ہم نے تیسیر میں کھانے کے ساتھ خرچ کر ڈالنے کا اضافہ کیا ہے اس ممانعت سے یتیم کے مال میں تصرف کا ایک ضابطہ بیان فرمادیا کہ سرپرستوں میں جو لوگ غنی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کو کھانے کو دے رکھا ہے خواہ وہ صاحب نصاب نہ ہوں یعنی بہت بڑے مالدار اور صاحب نصاب نہ بھی ہوں مگر محتاج اور فقیر ہو تو پھر موافق دستور کے اس مال میں سے کچھ تھوڑا کھالے یعنی لے لے۔ دستور کے موافق کا مطلب یہ ہے کہ جس سے ضروری حاجت رفع ہوسکے اور یہ لینا حق الخدمت یا خدمت کی اجرت کے طور پر ہوگا۔
اس ضابطہ کے طور پر پھر مال سپرد کرنے کے وقت کے لئے ایک استحبابی حکم بیان کیا کہ جب یتیم بالغ ہوجائے اور اس میں کاروبار کا اور لین دین کا سلیقہ بھی دیکھو تو پھر اس کا مال اس کے حوالے کردو۔ لیکن مال حوالے کرتے وقت اور حساب سمجھاتے وقت اگر گواہ بھی بنالو تو اچھا ہے کیونکہ اگر کسی وقت باہمی نزاع ہوا تو یہ گواہ کام دیں گے۔ پھر آخر میں یہ بھی فرمادیا کہ یوں تو اللہ تعالیٰ حساب لینے والا کافی ہے وہ ہر شخص کی دیانت کو بھی جانتا ہے اور ہر شخص کی خیانت سے بھی واقف ہے اس موقعہ پر چند باتیں یاد رکھنی چاہئیں۔
(1) نابالغ کے تصرفات مثلاً بیع شراولی کی اجازت سے اگر ہوں تو نافذہوجاتے ہیں جیسا کہ ہم نے تسہیل میں اشارہ کردیا ہے۔
(2) سفیہ ایسے شخص کو کہتے ہیں جو مال کی حفاظت اور مال کو خرچ کرنے کا سلیقہ نہ رکھتاہو یا سلیقہ رکھتا ہو تو اس سلیقے کو بےپروائی سے اختیار نہ کرتاہو۔
(3) بلوغ کی اصل علامت تو وہی ہے کہ احتلام ہو یا عورت کو حیض آجائے یا موئے زیاد پیدا ہوجائیں لیکن اپنے ائمہ نے اس کے لئے پندرہ پندرہ سال کی عمر مقرر کردی ہے اور یہی حنفیہ کے نزدیک صحیح ہے۔
(4) رشد کے لئے امام ابوحنیفہ (رح) نے آخری عمر پچیس سال فرمائی اس عمر میں کچھ نہ کچھ سمجھ آہی جاتی ہے اور کچھ سلیقہ اور تمیز پیدا ہوجاتا ہے جو مال سپرد کردینے کو کافی ہے۔ البتہ شعبی اور ضحاک اور دوسرے اہل علم نے فرمایا ہے کہ جب تک کامل رشدنہ پیدا ہو اس کو مال حوالے نہ کیا جائے خواہ وہ بوڑھا ہوجائے یا اس کی عمر سو برس کی ہوجائے۔
(5) بالمعروف کا مطلب جمہور علما نے وہی بیان کیا ہے جو ہم عرض کرچکے ہیں حضرت عائشہ ؓ اور اکثر صحابہ ؓ اسی کے قائل ہیں لیکن حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت عمر ؓ اور شعبی اور مجاہد اور مقاتل اور ابو دائل وغیرہ کا خیال یہ ہے کہ حاجت مند ولی یتیم کے مال سے قرض لے سکتا ہے جب میسر ہو ادا کرے لیکن ادا نہ کرنے کی نیت سے کچھ نہیں لے سکتا۔ (واللہ اعلم)
(6) بعض حضرات نے دونوں اقوال کو اس طرح جمع کیا ہے کہ فقیر یتیم کے مال میں سے اجرت کے طور پر بقدر حاجت لے سکتا ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ جب میسر آجائے اور حاجت نہ رہے تو جو فقیری کی حالت میں لیا تھا وہ واپس کردے تاکہ یتیم کو نقصان نہ پہنچے۔ صاحب ہدایہ نے حضرت عائشہ ؓ کا قول اختیار کیا ہے اور واپسی کی شرط نہیں لگائی ہے۔ نہ استحباباً اور نہ وجوباً
(7) مال سپرد کرتے وقت گواہ بنانا مستحب ہے اب آگے زمانۂ جاہلیت کی ایک اور رسم کو رد فرماتے ہیں زمانۂ جاہلیت میں یتیم کو میراث کا مستحق نہیں سمجھتے تھے اس لئے آگے کی آیت میں اس کا بطلان مذکور ہے۔ (تسہیل)
Ayah 4:7ف 2 ماں باپ اور قریبی رشتہ دار مرتے وقت جو کچھ بھی چھوڑ جائیں خواہ قلیل ہو یا کثیر اس میں سے مردوں کا بھی حصہ مقرر ہے خواہ وہ مرد بڑے ہوں یا چھوٹے اور ماں باپ اور قریبی رشتہ دار مرتے وقت جو کچھ چھوڑ جائیں خواہ وہ تھوڑا ہو یا بہت اس میں سے عورتوں کا بھی حصہ مقرر ہے خواہ وہ عورتیں چھوٹی ہوں یا بڑی ہر ایک مرد عورت کا یہ حصہ قطعی طور پر مقرر ہے۔ (تیسیر)
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کفر کی رسم میں عورت کو وارث نہ گنتے اب عورت کو بھی میراث ٹھہری۔ (موضح القرآن)
ابن کثیر کہتے ہیں کہ مشرک لوگ مرنے والے کا مال متروکہ عورتوں اور چھوٹے لڑکوں کو نہیں دیا کرتے تھے صرف بڑے لوگوں کو دے دیا کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کفار کی اس مذموم رسم کا ابطال فرمایا۔
ابن کثیر نے اس روایت کو قتادہ اور سعید بن جبیر سے نقل کیا ہے ۔ حضرت جابر ؓ کا قول ہے کہ ام حرام نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میرے خاوند کا انتقال ہوگیا ہے اور اس نے دو بیٹیاں چھوڑی ہیں ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی، اس روایت کو ابن مردویہ نے نقل کیا ہے۔
بعض مفسرین نے کہا ہے کہ مال متروکہ میں اگر اسلحہ اور گھوڑے وغیرہ ہوتے تو مشرک یہ سامان حرب سوائے جوان لڑکوں کے دوسرے ورثا کو نہ دیتے اس پر یہ حکم نازل ہوا۔ بہرحال خلاصہ یہ ہے کہ مرنے والا خواہ کچھ چھوڑ کر مرے ترکہ کی مستحق اس کی چھوٹی اور بڑی سب اولاد ہوگی اسی طرح کوئی بہت ہی قریبی رشتہ دار مرجائے تو اس کا ترکہ اس کے قریبی رشتہ داروں پر خواہ وہ مردہوں یا عورتیں سب پر شرعی حصہ کے موافق تقسیم ہوگا چھوٹے بڑے کا کوئی امتیاز نہ ہوگا۔ مال متروکہ کم ہو یا زیادہ وارث لڑکے ہوں یا لڑکیاں، بڑے ہوں یا چھوٹے ہر ایک کو شرعی حصہ کے موافق دیا جائے گا۔
اس آیت میں ترکے کے مستحقین کا ذکر تھا اب آگے غیر مستحقین کے ساتھ استحباباً رعایت کرنے کا حکم مذکور ہے۔ (تسہیل)
Ayah 4:8ف 3 اور جب وارثوں میں ترکہ کی تقسیم کے وقت کچھ دور پرے کے رشتہ دار جو اس ترکہ کے مستحق نہ ہوں اور یتیم و مساکین آجائیں اور یہ رشتہ دار اور یتیم و مساکین آموجود ہوں تو ان کو بھی اس ترکہ میں سے استحباباً کچھ دیدیا کرو اور ان رشتہ داروں اور یتامیٰ و مساکین سے خوبی، نرمی اور شیریں کلامی کے ساتھ بات کیا کرو۔ (تیسیر)
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جس وقت میراث تقسیم ہو اور برادری کے لوگ جمع ہوں تو جن کو حصہ نہیں پہنچتا اور قرابتی ہیں یا یتیم یا محتاج ہیں تو کچھ کھلا کر رخصت کرو اور بات معقول کہو یعنی جواب سخت نہ دو اور اگر توقع زیادہ کریں تو عذر کرو۔ (موضح القرآن) آیت زیر بحث کا خلاصہ یہ ہے۔
(1) کہ کسی میت کا ترکہ جب کہ وہ ترکہ اس کے ورثاء و مستحقین پر تقسیم کیا جارہا ہو اور ہر وارث کو اس کے شرعی سیام کے موافق مال سنبھلوایا جارہا ہو اس وقت کچھ دور پرے کہ رشتہ دار یہ سمجھ کر آجائیں کہ ہم بھی برادری کے ہیں کچھ ہم کو بھی میت کے مال میں سے ملے گا اسی طرح کچھ یتامیٰ و مساکین یہ سمجھ کر آجائیں کہ مردے کا مال تقسیم ہورہا ہے کچھ ہم کو بھی خیر خیرات کے طور پر ملے گا تو ایسے موقعہ پر ان لوگوں کو بھی اس ترکہ میں سے کچھ کھلا پلا دو یا کچھ تھوڑا بہت دے دو یہ حکم استحبابی ہے وجوبی نہیں۔
(2) ظاہر ہے کہ جو کچھ ان غیر مستحقین کو دیا جائے گا وہ بالغوں کے حصہ میں سے دیا جائے گا۔ میت کے جو وارث نابالغ ہیں ان کے مال میں تصرف نہ کیا جائے گا۔ ہمارے زمانے میں یہ عام دستور ہے کہ مرنے کے بعد میت کے مال میں سے برادری کی دعوت کردیتے ہیں اس دعوت کا نام پھول ہے۔ یا تیجہ رکھتے ہیں اور سب لوگ اس دعوت میں شریک ہوتے ہیں اور کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ یہ دعوت بالغوں کے مال میں سے ہورہی ہے یا نابالغوں کے مال میں سے ہورہی ہے اور اس طرح تقسیم سے پہلے لوگ یتیموں کا حصہ کھالیتے ہیں اور خدا کا خوف نہیں کرتے۔
(3) یہ حکم استحبابی ہے یا وجوبی، اس میں متقدمین کے دو مسلک رہے ہیں کچھ وجوب کے قائل تھے اور کچھ لوگ استحباب کے۔
حضرت ابن عباس ؓ کا یہ قول ہے کہ یہ دینا لینا یا کھلانا پلانا اس وقت ہے جب مرنے والا وصیت کرجائے کہ ترکہ کی تقسیم کے وقت اگر غیر مستحق قرابتی اور یتامیٰ و مساکین آجائیں تو ان کو بھی کچھ دیدینا تب دینا ہوگا ورنہ نہیں۔ چناچہ جب حضرت ابوبکر ؓ کے پوتے نے اپنے باپ عبدالرحمن کا ترکہ تقسیم کیا تو اس وقت حضرت عائشہ ؓ زندہ تھیں انہوں نے جب گھر والوں کو تھوڑا تھوڑا دلوایا اور یہی آیت پڑھی۔ واذا حضر القسمۃ۔ عبداللہ بن عباس کو جب یہ واقعہ معلوم ہوا تو انہوں نے فرمایا یہ بات کچھ ٹھیک نہیں ہوئی یہ آیت تو وصیت کے بارے میں ہے اگر عبدالرحمن وصیت کرگیا ہوتا تو ایسا کرنا چاہئے تھا۔
(4) پھر اس میں بھی دو قول ہیں کہ یہ حکم منسوخ ہوگیا یا باقی ہے عبداللہ بن عباس ؓ کا ایک قول یہ ہے کہ آیت میراث نے اس حکم کو منسوخ کردیا اور ایک قول یہ ہے کہ یہ حکم بحالہ باقی ہے مگر محققین اس کے قائل ہیں کہ وجوب منسوخ ہوگیا استحباب باقی ہے۔ عام اہل علم اور ائمہ اربعہ نسخ کے قائل ہیں اور وہ اس حکم کو منسوخ کہتے ہیں۔
(5) قول معروف کا یہ مطلب ہے کہ نرم کلامی سے پیش آئو اہل قرابت کو کچھ دیکر یہ سمجھائو کہ اس ترکہ میں تمہارا کوئی حق نہیں ہے اور تم شرعی وارث نہیں ہو اور دوسروں کو کچھ دیکر ان پر احسان نہ رکھو اور ان کو بھی نرمی سے سمجھا دو کہ تم کو جو کچھ دینا تھا وہ دیدیا اس سے زیادہ کی گنجائش نہیں ہے۔ اب آگے یتامیٰ کی ہمدردی اور ان پر شفقت کرنے کی غرض سے ایک تمثیلی واقعہ بیان فرماتے ہیں جو یتیموں کی حفاظت اور ان کے مال کی صیانت کے سلسلے میں اپیل کا بہترین طریقہ ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 4:9ف 4 اور یتامیٰ کے بارے میں لوگوں کو یہ خیال کرکے ڈرنا چاہئے کہ اگر وہ خود مرتے وقت اپنے پیچھے چھوٹے چھوٹے کمزور و ناتواں بچے چھوڑیں تو ان کو ان بچوں کی کس طرح فکر ہو اور وہ ان کے بارے میں کیسے کیسے اندیشے کریں کہ دیکھئے ہمارے بعدان چھوٹے بچوں کا کیا حال ہوگا اور کون ان کی دیکھ بھال کرے گا۔ بس اسی طرح دوسروں کے بچوں کا بھی خیال کریں اس بات کو سوچ کر یعنی اگر ہم چھوٹے بچے چھوڑ کر مرتے تو ان کے متعلق کیا چاہتے یتیموں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہیں اور خدا کے حکم کی مخالفت کرنے سے جو یتیموں کے بارے میں اس نے دیا ہے اجتناب کریں۔ اور یتیموں سے سیدھی سچی اور موقع کی بات کہا کریں۔ (تیسیر)
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی پیٹھ کے پیچھے اس کی اولاد کے حق میں قصور نہ کریں اپنے اوپر قیاس کریں کہ ہماری اولاد رہ جائے تو ہم کو کیا فکر ہو۔ (موضح القرآن)
دنیوی امور میں یتامیٰ کے ساتھ حسن سلوک کی ترغیب کا قرآن کریم نے بہترین اور دلکش طریقہ اختیار کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ دوسروں کی کمزور و ناتواں اولاد کے ساتھ سلوک کرتے وقت اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر دیکھو کہ تم اگر مرتے اور ایسے ہی چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑ جاتے تو تم ان کے متعلق کیا چاہتے وہی دوسرے مرنے والوں کی اولاد کے ساتھ کرو۔
سبحان اللہ کیا خوب انداز بیان ہے اس تمثیلی واقعہ کو بیان کرکے پھر فرمایا کہ بس اس بات کا خیال کرکے خدا سے ڈرتے رہیں یعنی یتیموں کی دل آزاری نہ کریں اور ان کو ہاتھ سے کوئی تکلیف نہ پہنچائیں ان کا مال برباد نہ کریں۔ پھر قول سدید کا حکم دیا یعنی ہاتھ سے ضرر نہ پہنچائیں اور زبان سے ان کی دل جوئی اور تلطف کا برتائو کریں اور موقع کی بات کہیں یعنی ان کی تعلیم اور تادیب کا خیال رکھیں۔
حدیث شریف میں آتا ہے جب کسی یتیم کو مارا جاتا ہے اور وہ روتا ہے تو اس کے رونے سے عرش الٰہی ہل جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ملائکہ سے دریافت کرتا ہے جس کے باپ کو میں نے مٹی میں چھپا دیا ہے اس کے بچے کو کس نے رلایا۔ حالانکہ وہ جانتا ہے فرشتے عرض کرتے ہیں ہم کو علم نہیں۔ ارشاد ہوتا ہے جو اس بچہ کو راضی کردے گا میں اس کو قیامت کے دن اپنے پاس سے راضی کردوں گا۔
اوپر کی آیت میں یتیم کو ہر قسم کی تکلیف سے خواہ وہ جسمانی ہو یامالی۔ محفوظ رکھنے کا حکم ولتیق اللہ سے معلوم ہوا اور اس کی ہر قسم کی شفقت اور تعلیم و تربیت اور تادیب کا حکم ولیقولوا قولا سدیدا سے معلوم ہوا۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وصیت میں احتیاط کا حکم ہو کہ اتنی وصیت نہ کر جائو کہ پیچھے ورثاء تکلیف اٹھائیں ورثا کو غنی چھوڑ کر مرنا اس سے بہتر ہے کہ ورثاء کو فقیر کرجائو۔
ابن عطیہ اور دوسرے اہل علم کا یہی خیال ہے کہ اس آیت میں وصیت سے احتیاط مراد ہے لیکن واضح قول وہی ہے جو ہم نے اختیار کیا ہے اب آگے یتامیٰ کا مال ظلم اور زور سے کھا جانے والوں کے متعلق اخروی وعید کا ذکر ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 4:10ف 5 یقین جانو ! جو لوگ یتیموں کا مال ظلم سے یعنی ناروا طور پر بلا استحقاق شرعی کھا جاتے ہیں تو اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ اپنے پیٹوں میں آگ کے انگارے بھرتے ہیں اور وہ بہت جلد جہنم کی دہکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ بلا استحقاق شرعی ایسا کرتے ہیں اور یہی ظلم ہے اگر شرعی حق کے ساتھ ایسا کریں یعنی فقیر ہوں اور اجرت کے طور پر کچھ کھالیں تو اس کا حکم اوپر گزر چکا ہے کہ وہ ناجائز ہے اور جس طرح یتیم کا مال خود کھانا حرام ہے اسی طرح دوسروں کو کھلانا بھی حرام ہے بلکہ اس کے مال سے خیرات کرنا بھی حرام ہے۔
ہم نے عرض کیا تھا کہ ہمارے ہاں عام طور سے لوگ اس بلا میں مبتلا ہیں کہ نابالغوں کا مال بیسویں اور چالیسویں کے نام سے کھاتے اور کھلاتے ہیں اور یہ جو فرمایا کہ آگ کے انگارے پیٹوں میں بھرتے ہیں یہ انجام کے اعتبار سے فرمایا۔
جیسا کہ بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کو کشفی حالات میں دکھایا گیا کہ کچھ لوگ آگ کے انگارے کھا رہے ہیں اور وہی انگارے بگ رہے ہیں آپ ﷺ کو بتایا گیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو یتامیٰ کا مال ظلماً کھا جاتے تھے۔
بعض مفسرین نے کہا ہے کہ لوگ اس آیت کو سنکر اس قدر خوف زدہ ہوئے کہ یتامیٰ کا کھانا پکانا وغیرہ بالکل الگ کردیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے وان تخالطوھم کی آیت نازئی فرمائی جو دوسرے پارے میں گزر چکی ہے اسی لئے ہم نے ظلم کا ترجمہ ناروا اور بلا استحقاق شرعی کیا ہے۔
حدیث شریف میں آتا ہے قیامت کے دن یتیم کا مال ناجائز طور پر کھانے والا قبر سے اس حال میں اٹھے گا کہ اس کے منہ سے ناک سے اور کانوں سے آگ کے شعلے نکلتے ہوں گے ہر شخص اس کو دیکھ کر پہچان لے گا کہ یہ ظلم سے یتیم کا مال کھانے والا ہے۔
حضرت ابو برزہ سے بھی ایسی ہی ایک روایت منقول ہے اس میں اتنا اور ہے کہ جب حضور ﷺ نے یہ کیفیت بیان فرمائی تو کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ یہ کون لوگ ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو نہیں جانتا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ ان الذین یاکلون اموال الیتامی ظلما۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مرفوعاً ابن مردویہ نے نقل کیا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا دو کمزوروں کا مال کھانے سے پرہیز کر۔ ایک عورت اور ایک یتیم۔ صحیحین میں نبی کریم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے کبیرہ گناہ گنوائے تو اس میں یتیم کے مال کا ظلماً کھانا بھی گنوایا۔ ہوسکتا ہے کہ آیت کا تعلق ان لوگوں سے ہو جو یتیموں کو ورثہ نہ دیتے تھے اور اس طرح ان کا مال خورد برد کردیا کرتے تھے۔ جیسا کہ زید بن اسلم نے کہا ہے۔
بہرحال شان نزول کچھ بھی ہو لیکن آیت کا حکم عام ہے۔ اوپر کی آیت میں اہل میراث کا اجمالاً ذکر آیا تھا اگرچہ اس آیت میں ذوی الفروض اور عصبات اور ذوی الارحام کی جانب اشارہ تھا لیکن اب صراحتہً بعض اہل میراث کے حصص کا بیان فرماتے ہیں۔ شریعت میں اس علم کو فرائض کا علم کہاجاتا ہے اور احادیث میں اس علم کی بہت تاکید آئی ہے۔ ان حصص کی مزید تفصیلات توکتب حدیث اور فقہ اور کتب فرائض سے معلوم ہوسکتی ہے لیکن قرآن نے اس رکوع میں اور سورت کے آخری رکوع میں اصلی طور پر بعض مسائل اجمالاً بیان کردیئے ہیں۔ شان نزول سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض صورتیں میراث کے متعلق مسلمانوں کو پیش آئی تھیں۔ ان کے متعلق سرکار رسالت مآب سے سوال کیا گیا اور قرآن کریم نے ان کا جواب دیا۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)