4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 4:47

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اٰمِنُوْا بِمَا نَزَّلْنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّطْمِسَ وُجُوْهًا فَنَرُدَّهَا عَلٰۤى اَدْبَارِهَاۤ اَوْ نَلْعَنَهُمْ كَمَا لَعَنَّاۤ اَصْحٰبَ السَّبْتِ١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا Open ayah 4:47 in the Quran reader

اے وہ لوگو ! جنہیں کتاب دی گئی ہے تم اس کتاب کو مان لو جو ہم نے نازل کی ہے درآنحالیکہ وہ کتاب اس کتاب کی تصدیق کرنیوالی ہے جو تمہارے پاس موجود ہے قبل اس کے کہ ہم چہروں کے نشانات مٹا کر سپاٹ کردیں پھر ان چہروں کو ان کی پیٹھ کی طرف پھیر دیں یا ہم ان ایمان نہ لانیوالوں کو اسی طرح ملعون کردیں جس طرح ہم نے ہفتہ والوں کو ملعون کیا تھا اور اللہ تعالیٰ کا حکم پورا ہو کر ہی رہتا ہے۔2

ف 2 اے وہ لوگو ! جن کو توریت نامی کتاب دی گئی ہے تم اس قرآن پر ایمان لائو جو ہم نے نازل فرمایا ہے اور جس کی شان یہ ہے کہ وہ قرآن اس کتاب کی تصدیق کرنے والا ہے جو تمہارے پاس ہے یا اس کتاب کی پیشنگوئی کے موافق ہے جو تمہارے پاس ہے اور یہ ایمان بھی اس بات سے پہلے پہلے لے آئو کہ ہم تمہارے چہروں کے نشانات کو مٹا کر بالکل سپاٹ کردیں پھر ان چہروں نے نقش و نگار مٹان یکے بعد ان کو ان کے پیچھے کی جانب پلٹ دیں اور پھر دیں یا ان ایمان نہ لانے والوں پر ہم ایسی خاص لعنت کریں جس طرح ہم نے ہفتہ والوں پر لعنت کی تھی اور جس طرح وہ لوگ جو ہفتہ کے دن زیادتی کیا کرتے تھے ملعون قار دیئے گئے تھے اور اللہ تعالیٰ جو حکم کرتا ہے وہ پورا ہی ہو کر رہتا ہے۔ (تیسیر) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی ایمان لائو پہلے اس سے کہ عذاب پائو صورت بدلی جاوے یا جانور بن جائو ہفتے والوں کی طرح ان کا بیان ہے سورة اعراف میں ۔ (موضح القرآن) ہفتہ والوں کا کچھ ذکر سورة بقرہ میں بھی گذر چکا ہے۔ باقی انشاء اللہ سورة اعراف میں آجائے گا مطلب یہ ہے کہ اگر ایمان نہ لائو گے تو ان دو قسموں ک عذاب میں سے کسی ایک عذاب یا دونوں کے مستحق ہو گے۔ باقی اگر اللہ تعالیٰ ان عذابوں میں سے کوئی نہ بھیجے اور دنیا میں محفوظ رہو تو اس کی یہ رحمت اور مہربانی ہوگی۔ ان نظمس وجوھاً فنردھا میں دونوں احتمال ہیں کہ چہرے کے نقش و نگار کو مٹا کر پورے چہرے کو پیٹھ کی جانب الٹ دیں ، جیسا کہ ہم نے اختیار کیا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ چہرے کو گدی کے ساتھ سپاٹ کردیں یعنی چہرے کو گدی کی طرف نہ پھیریں بلکہ گدی کی مانند سپاٹ اور صاف کریں۔ حضرت عبد اللہ بن عباس نے فرمایا ہے کہ چہیر کو ایسا سپاٹ کردیں جیسے اونٹ کے پائوں کا تلو ! مصدق کے دونوں معنی کو ہم نے تیسیر میں ظاہر کردیا ہے۔ بعض مفسرین نے کہا ہے چونکہ ان میں سے بعض لوگ ایمان لے آئے اس لئے یہ عذاب ان پر واقع نہیں ہوا بعض نے کہا ابھی منتظر ہیں بعض نے کہا قیامت سے قبل یہود پر عذاب واقع ہوگا۔ بہرحال ! لوگوں کے مختلف اقوال ہیں اگرچہ قرآن میں کوئی ایسا لفظ نہیں ہے جس سے یہ معلوم ہو کہ اگر ایمان نہ لائو گے تو طمس اور مسخ واقع ہوجائے گا بلکہ احتمال ہے جو وقع اور عدم وقوع دونوں کو شامل ہے ۔ (واللہ اعلم) اب آگے شرک پر عدم مغفرت کا اعلان ہے اور یہود کے باوجود کفر و شرک کے مرتکب ہونے کے ان کے اس کہنے کا رد بھی ہے کہ ہم بخش دیئے جائیں گے اور ہماری مغفرت کردی جائے گی چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 4:48–49

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰۤى اِثْمًا عَظِیْمًا Open ayah 4:48 in the Quran reader

بلاشبہ اللہ تعالیٰ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے اور شرک سے کم درجہ کی گناہوں کو جس کے چاہے بخشدیگا اور بات بھی یہ ہے کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھیرایا تو اس نے بہت ہی برے جرم کا ارتکاب کیا۔3

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یُزَكُّوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ؕ بَلِ اللّٰهُ یُزَكِّیْ مَنْ یَّشَآءُ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 4:49 in the Quran reader

اے پیغمبر ﷺ کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو بڑے پاک باز بنتے ہیں یوں نہیں بلکہ بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہے پاکیزہ کر دے اور ان پر ایک تاگے کے برابر بھی ظلم نہ ہوگا۔

ف 3 بیشک اللہ تعالیٰ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک قرار دیا جائے اور اس کے سوا جتنے گناہ خواہ وہ صغیرہ ہوں یا کبیرہ جس کے لئے چاہے گا بخش دے گا اور بات بھی یہی ہے کہ جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا اور کسی کو اس کے ساتھ شریک قرار دیا تو اس نے بہت ہی بڑے جرم کا ارتکاب کیا اور یہی وجہ ہے کہ اس کو معاف نہیں کیا جائے گا اور وہ دائمی عذاب میں رہے گا۔ مطلب یہ ہے کہ شرک ایسا بڑا گناہ ہے کہ عذاب کرنے اور سزا دینے کے بعد بھی نہیں بخشا جاتا البتہ جو گناہ شرک کے علاوہ ہوں اور شرک سے کم درجے کے ہوں ان کی بخشش کی توقع ہے۔ اللہ تعالیٰ جس کو چاہے بغیر عذاب اور بدون سزا کے عاف کر دے اوپر لا تشرکوابہ شیئا فرمایا تھا اس لئے شرک کی وعید کا ذکر فرمایا نیز یہ کہ تمام یہود کافر تو تھے ہی اور بعض عقائد شرکیہ میں بھی مبتلا تھے اس لئے یہود کے بیان میں اس کا ذکر فرمانا زیادہ مناسب ہوا۔ بہرحال ! کفر اور شرک دونوں ہی غیر مغفور ہیں اس لئے یہود کی اپنی بخشش کی توقع نہ رکھنی چاہئے باوجود ان عقائد باطلہ کے یہود کے دعاویٰ یہ تھے کہ ان کے برابر خدا کی جناب میں کوئی مقبول نہیں وہ اللہ تعالیٰ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں چونکہ یہ ان کے دعاویٰ اور اپنی آپ صفائی اور پاکیزگی بیان کرنا ایک نامعقول فعل تھا اس لئے آگے اس کا رد فرمایا چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 4:50–51

اُنْظُرْ كَیْفَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ وَ كَفٰى بِهٖۤ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:50 in the Quran reader

بھلا دیکھئے تو یہ اللہ تعالیٰ پر کیسا جھوٹ بہتا باندھ رہے ہیں اور یہی بات صریح گناہ کے لئے کافی ہے1

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَ الطَّاغُوْتِ وَ یَقُوْلُوْنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا هٰۤؤُلَآءِ اَهْدٰى مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سَبِیْلًا Open ayah 4:51 in the Quran reader

اے پیغمبر ! کیا آپ نے ان لوگوں کو ملاحظہ نہیں کیا جن کو کتاب آسمانی سے ایک کافی حصہ دیا گیا ہے یہ لوگ اس کے باوجود بتوں پر اور شیطان پر ایمان لاتے ہیں اور یہ لوگوں کافروں کی نسبت یوں کہتے ہیں کہ یہ کفار مسلمانوں کی بہ نسبت زیادہ سیدھی راہ پر ہیں

ف 1 اے پیغمبر ! کیا آپنے ان لوگوں کا حال نہیں دیکھا جو اپنے کو مقدس بتاتے اور بڑے پاکباز بنتے ہیں حالانکہ اپنے کہنے سے کوئی پاکیزہ اور پاکباز نہیں بنا کرتا بلکہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہے مقدس اور پاکیزہ کر دے اور ان پر ایک تاگے برابر ظلم نہیں کیا جائے گا بھلا دیکھیے تو یہ اللہ تعالیٰ پر کیسا جھوٹ افترا کرتے ہیں ان کے صریح مجرم اور گناہ گار ہونے کے لئے کافی ہے۔ (تیسیر) اس آیت میں خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آیت میں خطاب عام ہو۔ مطلب یہ ہے کہ یہود کے اس خیال کو رد کرنا مقصود ہے جو انہوں نے اپنے متعلق قائم کر رکھا تھا جیسا کہ شان نزول سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت کچھ نابالغ بچوں کو لے کر حضور ﷺ کی خدمت میں حاض ہوئی اور آپ سے دریافت کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا ان بچوں پر کوء گناہ ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں اس پر کہنے لگے جناب ہماری بھی یہی حالت ہے ہم جو گناہ دن کو کرتے ہیں وہ رات کو معاف کردیئے جاتے ہیں اور جو گناہ ہم رات کو کرتے ہیں وہ دن کو معاف کردیئے جاتے ہیں بعض نے کہا یہود و نصاریٰ دونوں کا رد ہے کیونکہ وہ کہا کرتے تھے کہ جنت میں یہود و نصاریٰ کے علاوہ اور کوئی نہیں جاسکے گا۔ بہرحال ! شان نزول کوئی خاص ہو لیکن آیت سب کو شامل ہے جو لوگ اپنے آپ کو مقدس ظاہر کرتے ہوں اور اپنے کو مقبول بارگاہ کہتے ہوں ان کو اس قسم کے دعاویٰ سے روکا گیا ہے اور ان کو یہ بتایا گای ہے کہ یہ کام تو اللہ تعالیٰ کا ہے وہ جس کو چاہے مقدس و مقبول کر دے۔ جیسا کہ سورة نجم میں فرمایا ہے۔ فلاتزکوا انفسکم ھو اعلم بمن اتقی یعنی اپنے آپ کو مقدس نہ ظاہر کیا کرو اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کون پرہیز گار ہے اور بات بھی یہی ہے کہ خاتمہ کا حال اللہ تعالیٰ دلیل ہے اس لئے اس سے بچنا چاہئے اور شریعت میں انہی خطرات کی وجہ سے اس کی ممانعت آئی ہے۔ بعض دفعہ یہ بھی ہوتا ہے کہ لوگ غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور وہ کچھ کا کچھ سمجھنے لگتے ہیں ہاں اگر کسی کا تقدس بذیعہ وحی اور الہام ہو تو اس کے اظہار میں کوئی مضائقہ نہیں۔ جیسا کہ نبی کریم ﷺ کا اپنے متعلق فرمانا کہ خدا کی قسم میں آسمان میں بھی امین ہوں اور زمین والوں میں بھی امین ہوں یا خدا کی قسم تم میرے بعد مجھ سے زیادہ کسی کو امین نہ پائو گے یا ابوبکر اور عمر کو جنت کے کھول کا سردار فرمانا اور حسن و حسین کو جنت کے نوجوانوں کا سردار فرمانا حضرت فاطمہ کو جنت کی عورتوں کا سردار فرمانا اور اسی طرح بعض اولیاء اللہ کا اپنے متعلق کچھ فرمانا جو بذریعہ کشف الہام ہو یا تحدیث نعمت کے طور پر اللہ تعالیٰ کی کسی نعمت کو ظاہر کرنا یہ سب چیزیں یہود کے ان دعادیٰ سے علیحدہ ہیں اور ان کی اجازت ہے ولا یظلمون فتیلا کا مطلب یہ ہے کہ یہود کو ان غلط بیانیوں اور گندم نمائی و جو فروشی کی سزا ضرور دی جائیگی مگر اس سزا میں ان پر دھاگے کے برابر بھی ظمل نہیں کیا جائے گا بلکہ ان کے جرم کے موافق ان کو سزا دی جائے گی اور یوں بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اپنے بندوں کی تطہیر اور ان کا تزکیہ فرماتا ہے اور اس تطہیر و تزکیہ میں ذرا ظلم نہیں کرتا کہ اہل کو نظر انداز کر دے اور نااہل کی تطہیر کر دے۔ (واللہ اعلم) دوسری آیت میں ان کے اس افتراء اور کذب پر پھر اپنے رسول کو خطاب کیا ہے کہ اے محمد ! ﷺ ان کو دیکھئے تو کہ کیسی جرأت کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر افتراء اور جھوٹا طوفان گھڑ رہے ہیں اور ان کے تقدس کا بھانڈا تو اس ایک حرکت ہی سے پھوٹ جاتا ہے ایسے لوگ بھلا مقدس اور مقبول بارگاہ ہوسکتے ہیں جو خدا پر جھوٹ افترا کریں اور بہتان باندھیں ان کے صریح مجرم ہونے کے لئے ان کی یہی ایک حرکت کافی ہے لہٰذا یہ لوگ تو مجرم اور گناہگار ہیں مقدس اور پاکباز نہیں ہیں اور جو کچھ یہ کہہ رہے ہیں وہ غلط اور جھوٹ ہے۔ حضرت شاہ صاحب فتیلا پر فرماتے ہیں یہود کو حضرت حق سے مخالفت ہوئی تو مکہ کے مشرکوں سے منفق ہوئے ان کی خاطر سے بتوں کی تعظیم کی کہا تمہاری راہ بہتر ہے مسلمانوں سے اور یہ سب حسد تھا کہ نبوت اور ریاست ہمارے سوا اور کسی میں کیوں ہوئی اللہ پاک نے اسی پر ان کو الزام دیا ان سب آیتوں میں یہی مذکور ہے۔ (موضح القرآن) حضرت معاویہ سے مرفوعاً احمد اور ابن ماجہ نے نقل کیا ہے تم ایک دور سے کی مدح اور پاکیزگی بیان کرنے سے بچو کیونکہ ایسا کرنا ذبح کرنے کے مترادف ہے یعنی بڑھا چڑھا کر ایک دوسرے کی خوبیاں بیان کرنا یا اپنی خود تعریف کرنا ایسا ہے جیسے ایک نے دوسرے کو ذبح کردیا مطلب یہ ہے کہ اس قسم کی باتوں سے قلب پر جو اثر ہوتا ہے وہ روحانی موت کے مترادف ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اپنی تعریف خود اپنے منہ سے کرنا مذموم ہے مگر یہ کہ وحی یا الہام کے ذریعہ کسی کا تقدس معلوم ہو یا تحدیث نعمت کے طور پر کبھی کسی چیز کا اظہار کیا جائے۔ وحی کی ہم مثالیں بیان کرچکے ہیں الہام اور کشف کی مثالیں اولیاء اللہ کے کلام میں مل سکتی ہیں۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی (رح) کا مشہور قول قدمی ھذہ علے رقبۃ کل ولی اللہ ان ہی اقوال میں سے ہے۔ (واللہ اعلم) آگے یہود کی اور شرارتوں اور فتنہ انگیزیوں کا ذکر ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 4:52–53

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ یَّلْعَنِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ نَصِیْرًاؕ Open ayah 4:52 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے اور جس شخص کو خدا ملعون کر دے تو آپ اس ملعون کا کسی کو مددگار نہ پائیں گے۔2

اَمْ لَهُمْ نَصِیْبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَاِذًا لَّا یُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِیْرًاۙ Open ayah 4:53 in the Quran reader

کیا ان یہود کا حکومت میں کوئی حصہ ہے اگر ایسا ہو ! تو یہ لوگوں کو ذرا سی بھی کوئی چیز نہ دیں

ف 2 اے پیغمبر کیا آپ نے لوگوں کا حال نہیں دیکھا جن کو کتاب آسمانی تعنی توریت کے علم کا ایک کافی حصہ دیا گیا ہے مگر یہ لوگ باوجود اس کے بتوں پر اور شیطان پر ایمان رکھتے ہیں اور بت کی اور شیطان کی تصدیق کرتے ہیں اور یہ لوگ کفار مکہ کے متعلق یوں کہتے ہیں کہ یہ کفار مسلمانوں کی بہ نسبت زیادہ سیدھی راہ پر ہیں اور یہ کافر مسلمانوں سے زیادہ راہ یافتہ ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے اور اللہ تعالیٰ جس پر لعنت کرے اور اپنی رحمت سے دور کر دے تو آپ اس ملعون کا کسی کو حامی اور مددگار نہ پائیں گے اور ایسے ملعون کا کوئی حمایتی آپ کو نظر آئے گا۔ (تیسیر) الم تر میں خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے اور ہوسکتا ہے کہ یہاں بھی خطاب عام ہو اور اس قسم کے خطاب سے غرض یہ ہوتی ہے کہ ان لوگوں کی حالت بہت ہی تعجب انگیز اور دیکھنے کے قابل ہے اگر آپ دیکھیں تو تعجب کریں طاغوت کے معنی ہم پہلے بیان کرچکے ہیں طغیان کے معنی حد سے تجاوز کرنے کے ہیں جبت کے معنی ہیں صنم اور ہوسکتا ہے کہ جیت جبس کا معرب ہو اور یہ کسی خاص بت کا نام ہو اور پھر خدا کے علاوہ ہر معبود کو جبت کہنے لگے ہوں ۔ اسی طرح طاغوت بھی ہر باطل کو کہتے ہیں وہ شیطان ہو یا خدا کے علاوہ کوئی دوسرا معبود ہو، بہرحال ! جبت کا اطلاق اس پر کیا جاتا ہے جس میں ذرا سی بھی خیر اور بھلائی نہ ہو اور طاغوت کا اطلاق اسپر کیا جاتا ہے جو سرکش اور حد سے تجاوز کرنے والا ہو، نیز ایک بت کا نام بھی تھا ہم اس سورت کی تمہید میں عرض کرچکے ہیں کہ مسلمانوں کی ترقی روکنے کی غرض سے تمام معانداد اور مخالف قوتیں آپس میں اتحاد و اتفاق کی سعی میں مشغول تھیں ان ہی کوششوں میں سے ایک خاص کوشش کی جانب اس آیت میں اشارہ ہے کہ حیی بن اخطب اور کعب ابن اشرف یہود کے بڑے بڑے عالم اور رئیس لوگ کفار قریش سے ملے اور دوستی کی کوشش کی اور ادھر کفار قریش کو بھی اس امر کی ضرورت تھی کہ عرب اہل کتاب کی ہمدردی حاصل کریں تاکہ مسلمانوں کا مقابلہ پوری طرح کیا جاسکے۔ چنانچہ جب دونوں پارٹیوں میں صلح کی گفتگو شروع ہوئی تو ابو سفیان نے کہا تم چونکہ آسمانی کتاب کے قائل ہو اور تم محمد ﷺ کے عقیدے سے زیادہ قریب ہو اس لئے ہم کو تم پر اعتماد نہیں کبھی کل تم محمد ﷺ کے ساتھ ہو جائو ان لوگوں نے کہا کہ آخر تم کو کس طرح اعتماد ہوگا۔ ابو سفیان نے کہا ہم ایک ہی طرح اطمینان کرسکتے ہیں کہ تم ہمارے معبودوں کے سامنے سجدہ کرو چناچہ اس پر یہود کے روساء نے بتوں کو سجدہ کیا اور قریش عرب اور یہود کا باہم عہد ہوا کہ محمد ﷺ کے خلاف ہم ایک دوسرے کی مدد کریں گے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ قریش نے یہود سے کہا کہ ہم لوگ حجاج کی خدمت کرتے ہیں مہمانوں کے لئے پانی کا انتظام کرتے ہیں تم ہی بتائو کہ ہم بہتر ہیں یا محمد ﷺ اور اس کے ساتھی جو اپنے کو مسلمان کہتے ہیں یہ بہتر ہیں۔ اس پر یہود نے کہا تم ان مسلمانوں سے زیادہ بہتر اور زیادہ راہ یافتہ ہو بہرحال تاریخی واقعہ کی نوعیت کچھ بھی ہو لیکن اتنا قرآن کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ یہود نے مسلمانوں کے مقابلے میں کافروں کو ھولاء اھدی من الذین امنوا سبیلا کہا اور یہ کہنا ہی ان کے کافر اور ملعون ہونے کے لئے کافی ہے خواہ انہوں نے یہ بات دل سے نہ کہی ہو، پھر بھی طریقہ کفر کو طریقہ اسلام سے بہتر اور اچھا تو کہا جس کا مطلب یہ ہے کہ کفر کی راہ اور کفار قریش کا طریقہ حق ہے اور اسلام کی راہ اور مسلمانوں کا طریقہ باطل ہے اور یہ ہم نے بعض مفسرین کی رائے کے مطابق عرض کیا ہے کیونکہ انہوں نے اس فقرے کا مطلب یہود کی حالت کو دیکھتے ہوئے یہ سمجھا ہے کہ چونکہ وہ اہل کتاب تھے اور مسلمانوں کی طرح وہ بھی کفار کو غلط راہ پر سمجھتے تھے اس لئے ان کا اس فقرہ سے یہ مطلب تھا کہ باطل تو دونوں ہیں مگر نسبتاً تم پھر بھی مسلمانوں سے بہتر ہو۔ ہماری تقریر سے واضح ہوگیا ہوگا کہ نیت ان کی کچھ بھی ہو لیکن ان کے کافر ہونے کے لئے ان کے الفاظ کافی ہیں۔ رہی یہ بات کہ ان پر لعنت کی وجہ بھی یہی ہے کہ انہوں نے یہ الفاظ کہے یا لعنت کی وجہ ان کی دوسری شرارتیں ہوں اور لعنت کا یہ اثر ہو کہ ان کے منہ سے یہ جملے نکلے تو اس سے مطلب میں کچھ فرق نہیں پڑتا اور ہاں اس کا امکان ضرور ہے کہ ان کی دوسری شرارتیں اور فتنہ انگیزیاں ان پر لعنت کا سبب ہوئیں اور لعنت کے جو اثرات ہوا کرتے ہیں وہ ظاہر ہے کہ انسان بگڑتا ہی چلا جاتا ہے اسی طرح جب یہ ملعون قرار دے دیئے گئے تو اس کے بعد اور خراب ہوتے چلے گئے، حتیٰ کہ جبت اور طاغوت کے آگے سجدہ ریز بھی ہوئے اور ان کی پوجا کرنے کی تصدیق اور ان کی حقانیت کو زبان سے بھی تسلیم کرلیا اگر سجد سے کا واقعہ نہ بھی ہوا ہو تب بھی اھدی سبیلا سے بت پرستی کی توثیق و تصدیق ہوگئی اور اسی کو قرآن نے یئومنون بالجبت و الطاغوت فرمایا ہے یئومنون کا ترجمہ خواہ ایمان لانا یا ایمان رکھنا کیا جائے جبت اور طاغوت کی تصدیق کرنا یا ان کو ماننا کیا جائے یہ مطلب وہی ہے جو ہم نے تسہیل میں عرض کردیا ہے۔ مددگار نہ پانے کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن جب ان کو عذاب کا حکم ہوگا تو اے پیغمبر ! ان ملعونوں کا کوئی حامی و مددگار تم کو نظر نہیں آئے گا۔ اب آگے ان کی مزید ناشائستہ حرکات کا ذکر ہے جن سے منشا ان کا حسد اور نبی کریم ﷺ سے بغض تھا چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 4:54–55

اَمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ فَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ اٰتَیْنٰهُمْ مُّلْكًا عَظِیْمًا Open ayah 4:54 in the Quran reader

یا یہ اس نعمت پر لوگوں سے حسد کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے فضل سے عطا فرمائی ہے اگر یہ بات ہے تو ہم اس سے پہلے بھی ابراہیم کے خاندان والوں کو کتاب اور نبوت عطا کرچکے ہیں اور ہم نے ان کو بڑی سلطنت بھی عطا کی تھی۔3

فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ بِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ صَدَّ عَنْهُ١ؕ وَ كَفٰى بِجَهَنَّمَ سَعِیْرًا Open ayah 4:55 in the Quran reader

پھر عام لوگوں میں سے کچھ تو اس پر ایمان لائے اور کچھ لوگوں نے اس سے اعتراض کیا اور دوزخ کی دہکتی ہوئی آگ کافی ہے۔

ف 3 کیا ان یہود کے پاس حکومت کا کوئی حصہ ہے اگر ایسا ہوتا تو یہ دوسرے لوگوں کو ذرا سی بھی کوئی چیز نہ دیتے یا یہ دوسرے لوگوں سے یعنی محمد ﷺ اور ان کے اصحاب سے ان نعمتوں پر حسد کر رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے فضل سے عنایت کی ہیں تو ان نعمتوں کا عطا ہونا بھی کوئی نئی بات نہیں ہے کیونکہ ہم اب سے پہلے بھی حضرت ابراہیم کے خاندان والوں کو کتاب آسمانی اور حکمت و نبوت سے نواز چکے ہیں اور ہم اس خاندان ابراہیم کے لوگوں کو سلطنت بھی عطا کرچکے ہیں۔ (تیسیر) نقیر، نقرۃ گٹھلی کے اوپر کا چھلکا یا نقطہ مراد ہے بہت ہی حقیر چیز جس کی کوئی قیمت نہ ہو اور سلطنت کا حصہ رکھتے ہوئے کسی حقیر چیز کا بھی نہ دینا انتہائی بخل ہے۔ الناس سے مراد نبی کریم ﷺ کی ذات ہے اور آپ کو کثرت صفات کے باعث جمع سے تعبیر کیا ہے یا آپ کے اصحاب مراد ہیں یا دونوں مراد ہیں، مسلمان جو تدریجی ترقی کر رہے تھے اور بالخصوص نبی کریم ﷺ کی نبوت اور آپ کی بیویوں کی تعداد پر جو یہود کی جانب سے اعتراض کئے گئے تھے ان کا جواب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کیا ان کا کوئی حصہ سلطنت میں ہے یعنی ان کو حکومت میں کوئی حصہ نہیں ہے اگر ان کا کوئی حصہ ہو یا ان کو کچھ دے دیا جائے تو یہ ایسے بخل ہیں کہ ذرا سی بھی کوئی چیز لوگوں کو نہ دیں تو جب ان کی سلطنت میں سے مسلمانوں کو کچھ نہیں مل رہا ہے کیونکہ ان کے پاس سلطنت ہی نہیں پھر ان کو اعتراض کرنے کا کیا حق ہے اور کیوں مسلمانوں کی ترقی اور پیغمبر کی مرفہ الحالی اور ان کی نوبیوں پر اعتراض کرتے ہیں اور یہ انتہائی بخل کی علامت ہے کہ خود دینے کے قابل نہیں اور اگر کبھی دینے کے قابل ہوجائیں تو کسی کو پھوٹی کوڑی بھی نہ دیں اور کسی دوسرے کی ترقی کو دیکھ بھی نہ سکیں اور اس کی ترقی اور … خوشحالی پر معترض ہوں اس فقرے میں یہود کی انتہائی ذہانت اور عمل کی کمزوری کا اظہار ہے۔ پھر فرمایا کہ کیا یہ لوگ اس بات سے جل رہے ہیں اور ان نعمتوں پر حسد کر رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے محمد (علیہ الصلوۃ والسلام) کو عطا فرمائی ہیں تو یہ بات بھی کوئی قابل حسد نہیں کیونکہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ خاندان ابراہیمی پر اللہ تعالیٰ نے مختلف نعمتیں نازل فرمائی ہیں۔ کتاب سے بھی نوازا ہے حکمت یعنی نبوت بھی ابراہیم کی اولاد میں رہی ہے اور ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کے خاندان والوں کو بڑی بڑی سلطنتیں بھی وہی ہیں آخر یہ پیغمبر بھی اسی گھرانے کا ایک روشن چراغ ہے اگر اس کو نبوت اور قرآن دیا گیا اور عرب کے بعض حصوں پر اس کو اقتدار حاصل ہوگیا تو اس میں حسد کی کیا بات ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) ، حضرت دائود (علیہ السلام) ، حضرت سلیمان (علیہ السلام) یہ سب وہ لوگ ہیں جن کو نبوت اور سلطنت عطا ہوئی تھی اور ان پیغمبروں کی بھی کئی کئی بیویاں تھیں اور یہ سب لوگ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد تھے پھر اگر ان ہی کی اولاد میں سے آج ایک شخص کو یہ سب کچھ مل گیا تو اس پر جلے مرنا اور حسد کرنا انتہائی حماقت اور کم علمی کی دلیل ہے۔ حکمت کے معنی یہاں بعض نے نبوت کیا ہے بعض نے کتاب کا فہم کیا ہے۔ بعض اپنے بزرگوں نے علم لدنی کیا ہے۔ (واللہ اعلم) چونکہ ہر دور میں ایسا ہوتا رہا ہے کچھ لوگ اپنے پیغمبر پر ایمان لاتے رہے ہیں اور کچھ ایمان لانے سے روکتے رہے ہیں چناچہ حضور ﷺ کے زمانے میں بھی یہودیوں سے کچھ لوگ مسلمان ہوگئے تھے اور اکثر لوگ مخالفت پر کمر بستہ رہے اور آخر وقت تک لوگوں کو روکتے رہے۔ آگے ان کی تفصیل ہے ۔ روکنے والوں کے لئے عذاب کی وعید ہے اور ایمان لانے والوں کے لئے دائمی جنت کی بشارت ہے چناچہ ارشاد فرماتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayah 4:56

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِیْهِمْ نَارًا١ؕ كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُهُمْ بَدَّلْنٰهُمْ جُلُوْدًا غَیْرَهَا لِیَذُوْقُوا الْعَذَابَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:56 in the Quran reader

جن لوگوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا بالیقین ہم ان کو ایک تیز آگ میں داخل کریں گے جب کبھی بھی ان کی کھالیں جل جائیں گی تو ہم ان کھالوں کی جگہ اور دوسری کھالیں بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب کا مزہ چکھتے رہیں بیشک اللہ تعالیٰ بڑی قوت اور بڑی حکمت والا ہے ۔1

ف پھر ان لوگوں میں سے کچھ تو اس کتاب اور حکمت پر ایمان لے آئے اور کچھ لوگ اس سے اعراض اور روگردانی کرتے رہے ایسے منکروں کے لئے دوزخ کی تیز آگ سزا کو کافی ہے۔ یقین جانو ! جن لوگوں نے ہماری آیات و احکام کو قبول کرنے سے انکار کیا تو ہم ان کو مستقبل قریب میں ایک تیز آگ میں داخل کریں گے جہاں ان کی برابر یہ حالات رہے گی کہ جب کبھی بھی ان کی کھالیں جل جائیں گی تو ہم ان کھالوں کی جگہ اور دوسری کھالیں بدل دیں گے خواہ ایک دن میں کتنی ہی بار یہ واقعہ پیش آئے تاکہ وہ برابر عذاب کا مزہ چکھتے رہیں بلاشبہ اللہ تعالیٰ کمال قوت کا اور کمال حکمت کا مالک ہے وہ ہر جلی ہوئی کھال کو بدل سکتا ہے اور یہ دوسری کھال بدل دینا بھی اس کی حکمت کا مقتضا ہے۔ (تیسیر) سعیر وہ آگ جو خوب دھونکا کر روشن کی جائے نضج جلنا، پکنا، جھلس جانا، فمنھم کی ضمیر سے مراد یہود بھی ہوسکتے ہیں اور انبیائے مذکورہ کے زمانے کے لوگ بھی ہوسکتے ہیں بہ سے مراد حضرت ابراہیم بھی ہوسکتے ہیں حضرت محمد ﷺ بھی ہوسکتے ہیں کتاب و حکمت بھی ہوسکتے ہیں ہم نے تیسیر میں سب کا لحاظ رکھا ہے۔ پہلی آیت کا مطلب یہ ہے کہ ان روگردانی کرنے والوں کو اگر دنیا میں نہ بھی پکڑا گیا تو قیامت میں ان کے لئے ایک سخت اور تیز آگ کی سزا کاٹی ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی ہمیشہ اللہ نے ابراہیم کے گھر میں بزرگی دی ہے اب بھی اسی کے گھر میں پھر جو کوئی قبول نہ رکھے وہ بےانصاف ہے۔ (موضح القرآن) آیت میں اگر ایمان لانے والوں سے یہود مراد ہوں تو عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی شاید مراد ہوں گے اور اگر دوسرے پیغمبروں کی امتیں یا حضرت ابراہیم کے زمانے والے مراد ہوں تو بھی ہر زمانہ میں دو فریق رہے ہیں دوسری آیت کا مطلب یہ ہے کہ ایسے منکروں کو قیامت کے دن ہم ایک تیز آگ میں داخل کریں گے اور جب ان کی ایک کھال جل جائے گی تو ہم فوراً دوسری کھال پیدا کردیں گے۔ حضرت یحییٰ حضرمی کا قول ہے کہ مجھ کو یہ بات پہونچی ہے کہ کافر کو سو (100) کھالیں دی جائیں گی ہر کھال میں نیا عذاب ہوگا۔ حضرت حسن نے کہا ستر ہزار بار کھال جلے گی اور دوسری کھال دی جائیگی حضرت ابن عمر نے مرفوعاً کہا ہے کہ ایک ساعت میں سو بار تغیر و تبدل ہوگا۔ بغوی نے کعب سے روایت کیا ہے کہ ایک گھڑی میں ایک سو بیس مرتبہ کھال بدلی جائے گی (واللہ اعلم) مطلب عذاب میں دائماً رہنا ہے اور اس خیال کی تغلیط کرنا ہے کہ جل بھن کر ختم ہوجائیں گے یہ نہیں ہوگا بلکہ جب کھال جل چکے گی تو دوسری کھال بدل دی جائے گی۔ بدلنے کا مطلب یہ ہے کہ یا تو پہلی ہی کھال کو پھر درست کردیا جائے گا اور یا یہ مطلب ہے کہ اور دوسری کھال یعنی بالکل نء یبدل دی جائے گی۔ صاحب روح المعانی کا خیال یہی ہے کہ کھال نئی اور دوسری ہوگی اور اکثر حضرات کا خیال یہ ہے کہ پہلی کو بدل کر نیا کردیں گے حضرت عبداللہ بن عباس کے قول یبدلون جلودا بیضاء کا مثال القراطیس کا بھی یہی مطلب بیان کیا گیا ہے۔ (واللہ اعلم) بہرحال اس پہلی کھال کو درست کردیا جائے یا دوسری کھال دے دی جائے مطلب وہی ہے کہ عذاب کسی وقت منقطع نہ ہوگا بلکہ عذاب کا سلسلہ مسلسل جاری رہے گا۔ عیاذ باللہ من النار۔ (تسہیل)
Ayah 4:57

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ لَهُمْ فِیْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ١٘ وَّ نُدْخِلُهُمْ ظِلًّا ظَلِیْلًا Open ayah 4:57 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ہم ان کو عنقریب ایسے باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہونگی وہ ان باغوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ان لوگوں کے لئے ان باغوں میں پاکیزہ بیویاں ہوں گی اور ہم ان کو بےحد گھنی چھائوں میں رکھیں گے۔2

ف 2 اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے ہم ان کو عنقریب ایسے باغات میں داخل کریں گے جن کی بارہ دریوں اور سیر گاہوں کے نیچے نہریں جاری ہوں گی یہ لوگ ان باغوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ان لوگوں کے لئے ان باغات میں پاک و صاف بیویاں ہوں گی یعنی جو اخلاق کے اعتبار سے بھی پاک ہوں گی اور دوسری نجاستوں سے بھی پاک و صاف بیویاں ہوں گی یعنی جو اخلاق کے اعتبار سے بھی پاک ہوں گی اور دوسری نجاستوں سے بھی پاک ہوں گی اور ہم ان لوگوں کو نہایت گنجان سیالوں اور بےحد گھنی چھائوں والے مقامات میں داخل کردیں گے۔ (تیسیر) فمنھم من امن بہ کی آیت میں دو گروہوں کا ذکر کیا تھا روگردانی اور اعراض کرنے والوں کا انجام پہلی آیت میں بیان فرما دیا اور پہلے فریق کا ذکر اس آیت میں فرمایا مستقبل اور عنقریب سے مراد قیامت ہی کا دن ہے بیویوں کے پاک صاف ہونے کا مطلب ہم نے تیسیر میں کھول دیا ہے اور پہلے پارے میں بھی بتا چکے ہیں کہ بغض و عداوت اور حسد رکھنے سے دل صاف ہوں گے اور حیض و نفاس اور پیشاب و پاخانہ کی آلائشوں سے پاک ہوں گی۔ جنت کے نیچے نہروں کے بہنے سے مراد یہ ہے کہ جنت کے مساکن، محلات اور تفریح گاہوں کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، جیسا کہ عام طریقہ سے باغات کا قاعدہ ہے کہ باغ کے کنارے دریا بہہ رہا ہو اور دریا کا منظر محلات کے سامنے ہو۔ گنجان سایہ یا گھنی چھائوں کا مطلب بھی یہی ہے کہ جن مقامات میں سکونت پذیر ہوں گے اور جن مقامات پر بسائے جائیں گے وہ گہری اور گھنی چھائوں میں ہوں گے۔ ظل ظلیلا ایک محاورہ ہے جو مبالغہ کے لئے بولا جاتا ہے جیسے شمس شامس لیل لئیسل اور یوم الیوم وغیرہ۔ اسی سایہ کو سورة واقعہ میں وظل ممدود فرمایا ہے یعنی گھنا بھی ہوگا اور دراز بھی ہوگا ہوسکتا ہے کہ عرش الٰہی کا سایہ مراد ہو اور ہوسکتا ہے کہ رحمت کا سایہ ہو اہور ہوسکتا ہے کہ جنت کے درختوں کا سایہ ہو اور ہوسکتا ہے کہ اسباب راحت سے کنایہ ہو کیونکہ اہل زبان سایہ کو راحت کا سبب سمجھتے تھے۔ حدیث میں آتا ہے السلطان ظل اللہ (واللہ اعلم) سایہ ہوگا اور بغیر آفتاب کے ہوگا۔ بہرحال جس طرح پہلا فریق دائماً عذاب میں مبتلا رہے گا اور عذاب کا مزہ چکھتا رہے گا اسی طرح دوسرا فریق دائماً راحت و آرام میں رہے گا چونکہ یہود کا یہ عام طریقہ تھا کہ توریت کے احکام کو چھپاتے تھے اور جن تک ان احاکم کو پہنچانے کا حکم تھا ان تک نہیں پہنچاتے تھے حضور ﷺ کی نعمت کو چھپاتے تھے کسی معاملہ میں پنچ بنتے تھے تو ناانصافی کرتے تھے اس لئے ا ن کے ان افعال قبیحہ پر تنبیہہ فرماتے ہیں۔ اگرچہ آیت کا نزول کسی خاص معاملہ سے تعلق رکھتا ہو لیکن حکم سب کے لئے عام ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 4:58

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَا١ۙ وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا یَعِظُكُمْ بِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا Open ayah 4:58 in the Quran reader

یاد رکھو اللہ تعالیٰ تم کو حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں ان کو ادا کردیا کرو اور یہ بھی حکم دیتا ہے کہ جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے لگو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا کرو جس بات کی اللہ تعالیٰ تم کو نصیحت کرتا ہے یقین جانو ! وہ بہت ہی اچھی بات ہے بلاشبہ اللہ تعالیٰ سب کچھ سنتا اور دیکھتا ہے3

ف 3 بلاشبہ اللہ تعالیٰ تم کو اس بات کا حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں ان اہل امانت کو ادا کردیا کرو اور ان تک پہنچا دیا کرو اور نیز یہ حکم دیتا ہے کہ جب تم لوگوں کے مابین کوئی فیصلہ اور تصفیہ کیا کرو تو انصاف کے ساتھ کیا کرو اور یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ تم کو جس بات کی نصیحت کرتا ہے وہ بات بہت اچھی ہے بلاشبہ اللہ تعالیٰ خوب سننے اور دیکھنے والا ہے ۔ (تیسیر) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی امانت ہیں خیانت مت کرو اور چکوتی میں خاطر مت کر خواہ کسی کے واسطے یہ عادتیں یہود میں بہت تھیں، اسی واسطے بعضے کچے مسلمان قضیہ چکانے کو حضرت کے پاس نہ آتے کہ یہ کسی کی خاطر نہ رکھیں گے اور یہود کے عالموں کے پاس جاتے کہ وہ خاطر کریں گے آگے مسلمانوں کو تقید فرمایا کہ جب تک ہر قضیے میں اور ہر حکم میں رسول ہی کی طرف رجوع نہ رکھو اور دل سے اس کے حکم پر راضی نہ ہو جب تک تم کو ایمان نہیں ۔ (موضح القرآن) اگرچہ آیت کا شان نزول اکثر علماء مفسرین کے نزدیک عثمان بن طلحہ کے بارے میں ہے جیسا کہ روایات میں آتا ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی کریم ﷺ نے خانہ کعبہ کی کنجی عثمان بن طلحہ سے جو کلید بردار تھے حاصل کرلی اور کجی پر قبضہ کرلیا۔ اس پر حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نازل ہوئے اور یہ آیتیں تلاوت فرمائیں اس پر نبی کریم ﷺ نے عثمان بن طلحہ کو بلا کر وہ کنجی ان کو واپس دے دی اور دیتے وقت فرمایا خالدۃ تالدۃ یعنی ہمیشہ ہمیشہ یہ کنجی تیرے پاس رہے گی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آیت کسی اور موقعہ پر نازل ہوئی ہو اور حضور نے کنجی واپس کرتے وقت چونکہ یہ آیت پڑھی تھی اس لئے لوگ یہ سمھے ہوں کہ یہ آیت اسی معاملہ میں نازل ہوئی ہے۔ بہرحال ہم عرض کرچکے ہیں کہ شان نزول خواہ کچھ ہو مگر آیت اس قدر عام ہے کہ ہر اہل حق کا حق ادا کرنے کی اس میں تاکید موجود ہے حتی کہ انسان کے اعضاء کا بھی انسان پر حق ہے اور ان حقوق کو پورا کرنے کا حکم ہے جس چیز کا حق بھی انسان کے ذمہ ہو وہ ایک امانت ہے اور اس کی ادائیگی ضروری ہے بلکہ اہل سلوک کا یہ قول مشہور ہے کہ کل کمال فی الممکن فھو لیس بداتہ بل مقتبس من مرتبۃ الوجوب و امانتہ مودعۃ مستعارۃ منہ تعالیٰ یعنی ممکن کا ہر کمال اپنا ذاتی کمال نہیں ہے بلکہ واجب جل مجدہ کا عطا کردہ اور اس کی ایک امانت ہے جو ممکن کو مستعار طور پر عطا کی گئی ہے ۔ بہرحال آیت کا مطلب یہ ہے کہ تمام اہل حقوق کے حقوق ان تک پہنچا دو اور کسی کا حق غصب نہ کرو اور شان نزول سے اس کی تائید ہوتی ہے کیونکہ عثمان بن طلحہ کے پاس کنجی ایک مدت سے چلی آتی تھی فتح مکہ کے دن حضرت علی نے ان سے چھین لی تھی وہ کنجی ان کا ایک حق تھا جو ان کو امانت کی آیت نازل ہونے پر واپس کیا گیا گویا وہ کنجی جو ارباب حل و عقد نے ان کے حوالے کی تھی اور کعبہ کے دروازے کا منتظم بنایا تھا وہ کام قیامت تک کے لئے ان ہی کے سپرد کردیا گیا۔ اس سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ کسی ایسے متولی کو جو نیک ہو اور انتظام کی صلاحیت رکھتا ہو اس کو وقف سے علیحدہ نہ کیا جائے۔ اگرچہ ان اللہ یا مرکم میں خطاب عام ہے لیکن بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اہل حقوق کے حقوق کی واپسی اور فیصلے میں انصاف کرنا یہ خطاب حکام کو ہے۔ جیسا کہ بعض مفسرین نے اس کو ترجیح دی ہے اور یہ جو فرمایا ان اللہ نعما یعظکم بہ ا س کا مطلب یہ ہے کہ امانت کی واپسی اور قضایا میں عدل و انصاف جس کی اللہ تعالیٰ تم کو نصیحت فرما رہا ہے یہ بہت اچھی چیز ہے آیت کو سمیع اور بصیر پر ختم فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ ادائے امانت اور عدل و انصاف کے بارے میں تم جو باتیں کہتے ہو ان کو وہ سنتا ہے اور جو افعال تم کرتے ہو ان کو وہ دیکھتا ہے اس لئے جو کرد اور جو کہو وہ سوچ کر سمجھ کر کہو اور کرو۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حق ہو یا بندے کا حق ہو یا خود اپنے نفس کا حق ہو سب کو ضخیح طور پر ادا کرنا چاہئے الفاظ کی جامعیت بےحد تفصیل کی محتاج ہے اور سچ تو یہ ہے کہ قرآن کریم کے یہ دو جملے پوری شریعت محمدیہ ﷺ پر حاوی ہیں۔ سبحان من جعل القرآن معجزا۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایسا بہت کم ہوتا تھا کہ نبی کریم ﷺ اپنی کسی تقریر میں یہ الفاظ فرماتے ہوں کہ جو شخص امانت پوری نہیں کرتا وہ مومن نہیں ہے اور عہد کو پورا نہ کرے اس کا کوئی دین نہیں۔ (بیہقی) صحیح احادیث میں امانت کی خیانت کو علامات نفاق میں سے شمار کیا گیا ہے۔ حضرت ابوذر سے مرفوعاً روایت ہے کہ میں نے سرکار رسالت مآب ﷺ کی خدمت میں عرض کی کہ یا رسول اللہ ﷺ مجھے عامل بنا دیجیے اور سکی مقام پر عامل کردیجیے۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا اے ابو ذر ؓ تو ایک کمزور آدمی ہے اور یہ محکمہ ایک امانت ہے اور قیامت کے دن یہ ندامت اور رسوائی کا موجب ہے مگر ہاں وہ شخص محفوظ ہے جو صحیح حق وصول کرے اور جس کا حق ہو اس کو پورا پورا ادا کرے۔ اسی روایت کا ایک ٹکڑا یہ ہے کہ اے ابو ذر ! میں تجھ کو کمزور پاتا ہوں اور میں جو بات اپنے لئے پسند کرتا ہوں وہی تیرے لئے پسند کرتا ہوں دو آدمیوں سے پنچ بننے سے احتراز کر اور یتیم کے مال کا متولی بننے سے بچتا رہ۔ (مسلم) مطلب یہ ہے کہ دونوں باتیں بڑی ذمہ داری کی ہیں اور ان میں کوتاہی ہوجانے کا خطرہ ہے اس لئے محتاط آدمی کو ان سے بچنا چاہئے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کی روایت میں مرفوعاً آیا ہے کہ انصاف کرنے والے رحمٰن کی دائیں جانب نور کے ممبروں پر بیٹھے ہوں گے اور رحمٰن کے دونوں ہی ہاتھ دائیں ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو ہر فیصلہ انصاف کے ساتھ کرتے ہیں خواہ معاملہ ان کی اہل کا ہو یا ان لوگوں کا ہو جن پر یہ والی بنائے گئے ہوں۔ (مسلم) حضرت ابوسعید کی روایت میں مرفوعاً آیا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب لوگوں سے زیادہ محبوب وہ لوگ ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کے سب سے قریب وہ لوگ ہوں گے جو امام عادل ہیں اور سب لوگوں سے زیادہ مبغوض اور مجلس کے اعتبار سے دور اور عذاب کے اعتبار سے سخت وہ لوگ ہوں گے جو امام ظالم ہیں۔ (ترمذی) مطلب یہ ہے کہ ظالم حاکموں کے لئے سخت وعید ہے اور منصف حاکموں کے لئے بشارت ہے حضرت عائشہ کی روایت میں مرفوعاً آیا ہے کہ تم جانتے ہو کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سایہ میں کون شخص سبقت کرنے والا ہے لوگوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول ہی کو معلوم ہے۔ آپ نے فرمایا یہ سبقت کرنے والے وہ لوگ ہیں کہ جب ان کا حق ان کو دیا جائے تو اس کو قبول کرلیں اور ان سے حق طلب کیا جائے تو اس کو ادا کردیں اور جب لوگوں میں تصفیہ کریں تو ایسا تصفیہ کریں جیسا اپنے لئے کرتے ہیں (احمد بیہقی) مطلب وہی ہے کہ فیصلہ ایسا منصفانہ کریں جیسا اپنے لئے چاہتے ہیں اب آگے عام مسلمانوں کو اطاعت و فرما نبرداری کا حکم دیتے ہیں یعنی حاکموں کو نصیحت کرنے کے بعد محکموں کو فرماں برداری اور حاکموں کا حکم ماننے کی تاکید فرماتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayahs 4:59–60

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْ١ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا۠ Open ayah 4:59 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور ان کی بھی جو تم میں سے صاحب حکم ہوں پھر اگر تم کسی بات میں باہمی جھگڑنے لگو تو اس بات کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹایا کرو بشرطیکہ تم اللہ پر اور آخرت کے دن پر یقین رکھتے ہو یہ طریقہ بہتر اور انجام کے اعتبار سے بہت اچھا ہے4

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاكَمُوْۤا اِلَى الطَّاغُوْتِ وَ قَدْ اُمِرُوْۤا اَنْ یَّكْفُرُوْا بِهٖ١ؕ وَ یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّضِلَّهُمْ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:60 in the Quran reader

اے نبی کیا آپ نے ان لوگوں کو ملاحظہ نہیں کیا جو دعویٰ تو یہ کرتے ہیں کہ جو کچھ آپ پر نازل ہوا وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور وہ ان کتابوں پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو آپ سے پہلے نازل ہوئیں اور ان کی حالت یہ ہے کہ وہ لوگ اپنے مقدمات کا شیطان سے فیصلہ کرانا چاہتے ہیں حالانکہ ان کو اس شیطان کے نہ ماننے کا حکم دیا جا چکا ہے اور شیطان کی یہ خواہش ہے کہ ان کو گمراہ کر کے صحیح راستہ سے بہت دور لے جا ڈالے

ف 4 اے ایمان والو تم اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور ان لوگوں کی بھی فرمانبرداری بجا لائو جو تم میں سے صاحب حکم ہوں خواہ وہ علماء ہوں یا امراء ہوں پھر اگر تم میں اور ان اولی الامر میں کوئی جھگڑا آپڑے اور تم باہم جھگڑنے لگو تو کہو یہ حکم شریعت کے خلاف ہے اور حاکم کہے میں نے قوانین اسلام کے موافق یہ حکم دیا ہے۔ غرض ! کسی بات میں اگر جھگڑا پڑجائے تو اس بات کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول یعنی کتاب و سنت کی طرف لوٹا دو ، یعنی کتاب و سنت پر اس چیز کو پیش کردو، بشرطیکہ تم اللہ تعالیٰ پر اور یوم آخرت کے وقوع پر ایمان رکھتے ہو، یہ طریقہ جھگڑے کے وقت کتاب و سنت کی طرف رجوع کرنا دنیا میں بھی بہتر ہے اور آخرت میں بھی اس کا انجام اور مآل بہت اچھا اور خوش آئند ہے۔ (تیسیر) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں اختیار والے بادشاہ اور قاضی اور جو کسی کام پر مقرر ہو اس کے حکم پر چلنا ضرور ہے جب تک وہ خلاف خدا اور رسول حکم نہ کرے اگر صریح خلاف کرے تو وہ حکم نہ مانتے، اگر دو مسلمان جھگڑتے ہیں ایک نے کہا چل شرع میں رجوع کریں دوسرے نے کہا میں شرع نہیں سمجھتا مجھے شرع سے کام نہیں وہ بیشک کافر ہوا۔ (موضح القرآن) آیت میں اولی الامر سے مراد یا تو والی حاکم، قاضی اور امراء ہیں یا علماء یا فقہا ہیں یا اہل قرآن یا اہل علم ہیں یا نبی کریم ﷺ کے اصحاب ہیں، یا اہل عقل اور اہل رائے ہیں یہ سب اقوال سلف سے منقول ہیں اگرچہ رائج وہی پہلا قول ہے یعنی حاکم اور اہل حکومت کی اطاعت کو قرآن نے لازم قرار دیا ہے شان نزول میں جو روایت آئی ہیں ان سے بھی ایسا معلوم ہوتا ہے کیونکہ یہ آیت یا تو عبداللہ بن حذافہ بن قیس بن عدی کے بارے میں اتری ہے جبکہ حضور ﷺ نے ان کو ایک چھوٹے سے لشکر کا امیر بنایا تھا اور یا ایک دوسرے لشکر کے بارے میں اتری ہے جس پر حضور ﷺ نے ایک انصاری کو امیر بنایا تھا وہ امیر کسی بات پر لشکر والوں سے ناراض ہوگیا اور اس نے کہا کیا تم کو میری اطاعت کا حکم نہیں دیا گیا ہے اہل لشکر نے کہا ہاں دیا گیا ہے اس نے کہا اچھا لکڑیاں جمع کرو اور جمع شدہ لکڑیوں میں آگ لگا کر تم کو قسم ہے تم اس آگ میں گھس جائو۔ لشکر میں سے ایک نوجوان نے کہا ہم تو حضور ﷺ کے پاس آگ سے بچنے کے لئے جمع ہوئے ہیں اور آگ سے بھاگ کر ہم نے حضرت کے دامن میں پناہ لی ہے تم جلدی نہ کرو پہلے حضرت سے چل کر ہل لو اگر حضور ﷺ فرمائیں و آگ میں داخل ہوجانا۔ چنانچہ یہ سب لوگ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ ﷺ نے واقعہ کو سن کر فرمایا اگر تم آگ میں داخل ہوجاتے تو پھر کبھی آگ سے نہیں نکلتے امیر کی اطاعت تو امر معروف میں ہوتی ہے امر منکر میں نہیں۔ حضرت علی ؓ سے اس روایت کو صحیحین میں نقل کیا ہے آیت میں مسلمانوں کو خطاب ہے اور ان کو مخاطب کرتے ہوئے یہ حکم دیا ہے کہ جماعتی نظام قائم رکھنے کی غرض سے جب تم پر کوئی شخص تم ہی میں سے حاکم مقرر ہوجائے اور یہ تقرر عام انتخابات سے ہو یا کسی اور طرح سے جو شریعت میں قابل تسلیم ہو تو پھر وہ اولی الامر ہے اور اس کی اطاعت بھی ضروری ہے۔ بشرطیکہ اس کا حکم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے فرمان ک خلاف نہ ہو اور جب یہ بات محکوم و حاکم دونوں کے نزدیک بالاتفاق معتبر ہو کہ حاکم کا حکم اللہ و رسول کے فرمان کے خلاف نہیں ہے تو اس کو ماننا اور اس پر عمل کرنا ضروری ہوگا، البتہ اگر وہ حکم جو حاکم نے دیا ہے وہ بالاتفاق اللہ و رسول کے فرمان کے خلاف ہے تو اس میں اطاعت ضروری نہیں بلکہ مخالفت موجب اجر وثواب ہے، یعنی حاکم بھی جانتا ہے کہ یہ حکم کتاب و سنت کے خلاف ہے اور محکوم بھی جانتا ہے تو ایسے امور میں اطاعت نہ کرے اور ظاہر ہے کہ یہ دونوں صورتیں اتفاق کی ان ہی امور میں ہوں گی جو صراحتہ نص میں موجود ہوں اور ان کی حلت و حرمت کے احکام صاف طور پر مذکور ہوں لیکن کوئی ایسی صورت اگر پیش آجائے کہ حاکم اور محکوم کے درمیان اختلاف ہوجائے کہ حاکم کا حکم اللہ و رسول کے فرمان کے خلاف ہے یا نہیں تو اس کو کتاب اللہ و سنت رسول پر پیش کرو یعنی جب رسول موجود نہ ہوں اور ان کی وفات ہوجائے، البتہ اگر رسول موجود ہوں تو الی اللہ و الرسول اپنے معنی پر ہے اور حضور ﷺ کی وفات کے بعد اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن و سنت پر جس میں اجماع اور مجتہد کا قیاس اور خلفائے راشدین کا فرمان بھی داخل ہے ان چیزوں سے فتویٰ حاصل کردیا ان چیزوں کے جاننے والوں سے فتویٰ حاصل کر کے اس پر عمل کرو۔ یہ تفصیل جو فقیر نے کی ہے متوسط لوگوں کے لئے کافی ہے بعض حضرات نے اجماع و قیاس کی مخالفت میں اس آیت سے استدلال کیا ہے اور تقلید شخصی کی مذمت کی ہے اور اس آیت کے تحت میں بہت سی لا یعنی اور بےسرو پا باتیں کہی ہیں جس کا جواب اس موقعہ پر محض تطویل کا موجب ہوگا ہم نے تسہیل میں کافی اشارہ کردیا ہے اور ان مسائل پر اب تک بہت سے رسالے اور کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ اس نے ہم اس موقعہ پر کچھ عرض کرنا مناسب نہیں سمجھتے قرآن کریم نے جو کچھ وہ ایک سیدھی سادھی اور اصولی بات ہے۔ قرآن کریم کی آیت کو کھینچ تان کر اپنے مقاصد کے مطابق بنانا اہل علم کی شان کے مناسب اور شان کے شایاں نہیں ہے۔ آگے ان لوگوں کا ذکر ہے جو اپنے معاملات میں اللہ کے رسول کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا حکم اور نیح بنانا چاہتے ہیں اور انصاف سے بچ کر اپنی خواہش کے موافق فیصلہ کرانا چاہتے ہیں خواہ وہ منافق ہوں اور خواہ وہ کچے اور کمزور خیال کے مسلمان ہوں منافق خواہ کفار میں سے ہوں یا یہود میں سے ہوں۔ بہرحال ایسے لوگوں کا رد اور ان کی تنبیہ مقصود ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 4:61

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ اِلَى الرَّسُوْلِ رَاَیْتَ الْمُنٰفِقِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْكَ صُدُوْدًاۚ Open ayah 4:61 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ حکم کی طرف اور رسول کی طرف آئو تو آپ ان منافقوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ آپ سے انتہائی اعراض کرتے ہیں۔1

ف 1 اے پیغمبر ﷺ ! کیا آپ نے ان لوگوں کو ملاحظہ نہیں کیا جو اپنی زبانوں سے تو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ جو کچھ آپ پر نازل ہوا ہے وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں یعنی قرآن پر ہمارا ایمان ہے اور وہ ان کتابوں پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو آپ سے پہلے نازل کی گئی ہیں یعنی توریت و انجیل پر بھی ہمارا اعتقاد ہے لیکن ان دعاویٰ اور اس کہنے کے باوجود ان کا حال یہ ہے کہ وہ لوگ اپنے مقدمات کا شیطان سے فیصلہ کرانا چاہتے ہیں اور اپنے مقدمات شیطان کے پاس لے جانا چاہتے ہیں حالانکہ ان کو یہ حکم دیا جا چکا ہے کہ وہ شیطان کو نہ مانیں اور اس شیطان پر اعتقاد نہ رکھیں اور شیطان کی خواہش تو یہ ہے اور وہ تو یہ چاہتا ہے کہ ان کو گمراہ کر کے اور بھٹکا کے صحیح راہ سے دور لیجا ڈالے اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ قانون کی طرف آئو اور رسول اللہ ﷺ کی طرف آئو کہ وہ اس قانون کے موافق تمہارا فیصلہ کردیں تو آپ ان منافقین کو ملاحظہ کرتے ہیں کہ وہ آپ سے بالکل پہلو تہی اور انتہائی اعراض کرتے ہیں۔ (تیسیر) شان نزول کے سلسلے میں کئی باتیں بیان کی جاتی ہیں ایک تو وہی مشہور واقعہ ہے جو حضرت ابن عباس سے منقول ہے کہ کسی منافق کا ایک یہودی کے ساتھ کچھ جھگڑا تھا یہودی کی خواہش تھی کہ مقدمہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پیش کیا جائے۔ منافق کہتا تھا کعب بن اشرف جو بڑا معتصب اور یہود میں رئیس تھا یہ مقدمہ اس کے پاس لے جایا جائے چونکہ کعب بن اشرف بڑا راشی تھا سا لئے منافق سمجھتا تھا کہ وہاں کچھ دے دلا کر اپنے حق میں فیصلہ کرا لوں گا۔ یہودی جانتا تھا کہ صحیح انصاف نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کے ہاں ہوگا اس لئے وہ زور دیتا تھا منافق نے خیال کیا اگر میں انکار کروں گا تو میرا بھانڈا پھوٹ جائیگا کیونکہ مجھ کو مسلمان سمجھا جاتا ہے۔ بالآخر معاملہ حضور ﷺ کی خدمت میں پیش ہوا حضور ﷺ نے یہودی کے حق میں فیصلہ کردیا منافق نے باہر نکل کر کہا میں تو اس فیصلے کو نہیں مانتا میں تو حضرت عمر ؓ سے فیصلہ کر ائوں گا۔ چنانچہ دونوں حضرت عمر ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے حضرت عمر کو تمام واقعہ سنایا حضرت عمر ؓ نے فرمایا ٹھہر جائو میں فیصلہ کرتا ہوں یہ کہہ کر اندر گئے اور تلوار لا کر منافق کا سراڑا دیا اور فرمایا رسول ﷺ کا جو فیصلہ نہ مانے اس کا یہی فیصلہ ہے۔ اس واقعہ کے بعد حضرت عمر ؓ کا لقب فاروق رکھا گیا اس منافق کے رشتہ دار حضرت عمر کے اس فعل پر بہت چراغ پا ہوئے حضور ﷺ کی خدمت میں قصاص کا مطالبہ کرتے ہوئے آئے اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں اس منافق کا نام بشر بتایا جاتا ہے بعض لوگوں نے کہا ہے کہ ابو برزہ اسلمی ایک کاہن تھا جس کو یہودی حکم بنایا کرتے تھے بعض مسلمان بھی اس کا ہن کو حکم بنانے کے لئے آمادہ ہوگئے اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ حضرت ابن عباس کا ایک قول یہ ہے کہ حلاس بن صامت اور معتب بن قشیر اور رافع بن زید اور بشر یہ سب لوگ اسلام کے مدعی تھے ایک جھگڑے میں جو یہود کے ساتھ پیش آیا یہود یہ چاہتے تھے کہ نبی اکرم ﷺ سے فیصلہ کرائیں اور یہ مدعیان اسلام کہتے تھے کہ کاہن کے پاس چلو ہم ان احکام سے فیصلہ کرانا چاہتے ہیں جو زمانہ جاہلیت سے حکام چلے آتے ہیں۔ اسی طرح اور بھی بعض واقعات کو نزول کا سبب قرار دیا گیا ہے اور یہ ہوسکتا ہے کہ یہ تمام واقعات ان آیات کے نزول کا سبب ہوں۔ طاغوت کی تحقیق ہم اوپر کئی دفعہ بیان کرچکے ہیں یہاں شیطان ترجمہ کیا ہے ہر شخص جو نافرمان اور سرکش ہو اس کو طاغوت کہا جاتا یہاں مراد وہ شخص ہے جو اسلامی قانون کے خلاف فیصلہ کرے خواہ وہ کعب بن اشرف ہو یا ابو برزہ کاہن ہو یا کسی طاغوتی حکومت کا اور کوئی حاکم ہو جو خلاف ما انزل اللہ فیصلہ کرے وہ طاغوت ہے طاغوت کو حکم بنانا یا اس کے پاس مقدمات لے جانے کو دو وجہ سے منع فرمایا ایک تو یہ کہ طاغوت یعنی شیطان کے نہ ماننے کا حکم دیا گیا ہے اور جب اس کے نہ ماننے کا حکم ہے تو ہر اعتبار سے اس کی مخالفت کرنی چاہئے۔ دوسرے یہ کہ شیطان تمہارا دشمن ہے تم کو راہ حق سے گمراہ کر کے دور پھینکنا چاہتا ہے یعنی ایسا گمراہ کرنا چاہتا ہے اور سیدھی راہ سے ہٹا کر اتنی دور لے جانا چاہتا ہے کہ پھر راہ حق ڈھونڈنے سے بھی نہ پائو لہٰذا ایسے دشمن سے پرہیز کرنا چاہئے چہ جائے کہ تم اس کو فصل خصوصیات کا حق دیتے ہو اور اپنے کو مسلمان کہتے ہو یہ تو کھلا ہوا نفاق ہے۔ آگے ان کی پہلوتہی کو صراحتۃ ذکر فرمایا کہ جب ان کو قرآن اور رسول کی طرف آنے کی طرف آنے کی دعوت دی جاتی ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ ما انزل اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی جانب آئو تو آپ اس وقت منافقوں کو دیکھتے ہوں گے کہ وہ اس دعوت پر نہ صرف بےالتفاقی کرتے ہیں بلکہ آپ سے اعراض اور پہلو بچانے کی کوشش کرتے ہیں صد اور صدودا دونوں کے معنی اعراض کرنے اور پہلو بچانے کے ہیں۔ آگے اس مقتول منافق کے اولیاء کے آنے کا اور عذر معذرت کا ذکر فرماتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayah 4:62

فَكَیْفَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ ثُمَّ جَآءُوْكَ یَحْلِفُوْنَ١ۖۗ بِاللّٰهِ اِنْ اَرَدْنَاۤ اِلَّاۤ اِحْسَانًا وَّ تَوْفِیْقًا Open ayah 4:62 in the Quran reader

پھر اس وقت ان کا کیا حال ہوتا ہے کہ جب ان پر ان کے ہاتھوں کے سابقہ اعمال کی وجہ سے کوئی مصیبت آپڑتی ہے تو پھر یہ آپ کے پاس خدا کی قسمیں کھاتے ہوئے آتے ہیں کہ ہمارا مقصد تو سوائے بھلائی اور باہمی میل ملاپ کے اور کچھ نہیں تھا2

ف 2 پھر اس وقت ان کا کیا حال ہوتا ہے اور ان پر کیسی بنتی ہے جب ان کے ان اعمال اور حرکات کی بدولت جو یہ پہلے کرچکے ہوتے ہیں ان پر کوئی مصیبت آپڑتی ہے تو پھر یہ آپ کی خدمت میں اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھاتے ہوئے حاضر ہوتے ہیں کہ ہم دوسری جگہ گئے تھے تو خدا کی قسم ہمارا سوائے اس کے اور کچھ مقصد نہ تھا کہ آپس میں کوئی بھلائی کی صورت نکل آئے اور باہم موافقت اور میل ملاپ ہوجائے۔ (تیسیر) حضر ت شاہ صاحب فرماتے ہیں مدینے میں ایک یہودی اور ایک منافق کہ ظاہر میں مسلمان تھا جھگڑنے لگے یہودی نے کہا کہ چل محمد کے پاس ﷺ منافق نے کہا کہ چل کعب بن اشرف پاس وہ یہود کا سردار تھا آخر کار حضرت پاس …آئے حضرت نے یہودی کا حق ثابت کیا منافق نے باہر نکل کر کہا کہ چلو عمر کے پاس یہ حضرت کے حکم سے مدینہ میں قضا کرتے تھے منافق نے جانا کہ حمیت اسلام کریں گے جب گئے ان کے آگے یہودی نے کہہ دیا کہ حضرت پاس ہم جا چکے ہیں وہ مجھ کو سچا کرچکے ہیں۔ حضرت عمر نے منافق کی گردن ماری اس کے وارث حضرت کے پاس دعویٰ خون کو آئے اور قسمیں کھانے لگے کہ ہم گئے تھے اس واسطے کہ شاید صلح کروا دیں تب یہ آیتیں نازل ہوئیں اور ان کا نام فاروق فرمایا۔ (موضح القرآن) مطلب یہ ہے کہ جب ان منافقین کی ان حرکات ناشائستہ کے باعث ان پر کوئی مصیبت نازل ہوجاتی ہے خواہ وہ مصیبت ان کے راز کا افشا ہوجانا ہو یا ان کی خیانت کا کھل جانا ہو یا حضرت عمر کا قتل کردینا ہو یا کوئی اور مصیبت ہو جو منافقوں پر نازل ہوتی رہتی ہے تو پھر یہ آپ کی خدمت میں قسمیں کھا کھا کر صفائی دیتے ہوئے آتے ہیں اور یوں کہتے ہیں کہ ہمارا طاغوت کے پاس جانا اور کعب بن اشرف یا ابوبرزہ کاہن کے پاس جانا اس غرض سے نہ تھا کہ ہم ان کو حق پر جانتے تھے یا آپ کے فیصلے کو ناحق سمجھتے تھے بلکہ ان کے پا س جانے کا صرف مقصد یہ تھا کہ وہ باہم فریقین کو کچھ دبا کر باہم فیصلہ کرا دیں اور آپس میں مصالحت کرا دیں کیونکہ حاکم تو صاحب حق سے رعایت کرنے کو نہیں کہہ سکتا اور ہم یہ چاہتے تھے کہ فریقین کی بات رہ جائے اور آپس میں مخالفت نہ پڑے اور باہم میل ملاپ ہوجائے یہ اسی طرح ہوسکتا ہے کہ کچھ صاحب حق کو دبایا جائے اور کچھ مدعا علیہ کو اور باہم ایک سمجھوتہ اور راضی نامہ کرا دیا جائے ہم تو اس لئے ان کے پاس گئے تھے اور حاشاد کلا آپ کو ناحق پر سمجھ کر ا ن کے پاس ہرگز نہیں گئے تھے منافقین کے سابقہ اعمال کا مطلب یہ ہے کہ رسول سے پہلو تہی کر کے دوسروں سے فیصلہ کرانا چاہتے ہیں اور مصیبت سے مراد عام ہے جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں صفائی دینے کا مطلب بھی ظاہر ہے۔ حضرت شاہ صاحب کی عبارت کا مطلب یہ ہے کہ اعمال سابقہ سے مراد حضرت عمر کے پاس جانا اور مصیبت سے مراد حضرت عمر کا قتل کردینا ہے۔ اس تقریر پر صفائی کا مطلب یہ ہوگا کہ فیصلہ تو حضور ﷺ ہی کا صحیح تھا اور ہم اس کے صحیح ہونے پر ایمان رکھتے ہیں۔ حضرت عمر کے پاس تو ہم صرف اس لئے گئے تھے کہ وہ آپ کے فیصلے کو جو یہودی کے حق میں تھا اس طرح اجراء کردیں کہ یہودی کو کچھ سمجھا بجھا کر اس سے اس کے حق میں کمی کرا دیں اور آپس میں دونوں کو گلے لگا دیں اور باہم میل ملاپ کرا دیں خدانخواستہ ہمارا یہ مطلب نہ تھا کہ ہم آپ کے فیصلے کو غلط سمجھتے تھے۔ غرض ! شان نزول کی کوئی روایت اختیار کی جائے ہر روایت کی بنا پر آیت کی تفسیر ہوسکتی ہے۔ (واللہ اعلم) آگے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے اس بیان اور اس توجیہہ کی جو انہوں نے قسمیں کھا کر کی تھیں اس کی تکذیب اور تغلیط کرتا ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 4:63–64

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یَعْلَمُ اللّٰهُ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ۗ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ عِظْهُمْ وَ قُلْ لَّهُمْ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَوْلًۢا بَلِیْغًا Open ayah 4:63 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں کہ جو کچھ ان کے دلوں میں ہے اللہ تعالیٰ اس کو خوب جانتا ہے اس لئے آپ ان سے کوئی تعارض نہ کیجیے اور ان کو نصیحت کرتے رہئے اور ان کے متعلق ان سے ایسی بات کہئے جو ان پر اثر انداز ہو۔3

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:64 in the Quran reader

اور ہم نے ہر ایک رسول کو اسی واسطے بھیجا ہے کہ بحکم خداوندی اس کی اطاعت کی جائے اور اگر یہ لوگ اسی وقت جبکہ انہوں نے خود اپنے حق میں برائی کی تھی آپ کے پاس آجاتے اور حاضر ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتے اور رسول بھی ان کے لئے معافی طلب کرتا تو یہ لوگ ضرور اللہ تعالیٰ کو توبہ قبول کرنیوالا رحم کرنیوالا پاتے

ف 3 یہ وہ لوگ ہیں کہ جو کچھ ان کے دلوں میں ہے اللہ تعالیٰ اس کو خوب جانتا ہے اور ان کے مافی الضمیر سے خوب واقف ہے یعنی ان کا کفر اور نفاق اس کو خوب معلوم ہے لہٰذا بہ تقاضائے مصلحت آپ ان سے کوئی تعارض نہ کیجیے اور ان سے تغافل و چشم پوشی کا برتائو کیجیے اور ان کو نصیحت فرماتے رہیے اور ان کے حق میں اور ان کے بارے میں ان سے ایسی بات کہا کیجیے جو ان پر اثر انداز اور ان کے لئے مئوثر اور ان کی اصلاح کے لئے کافی ہو۔ مطلب یہ ہے کہ جو کفر و نفاق ان کے دلوں میں بھرا ہوا ہے اس کو اللہ تعالیٰ … جانتا ہے اور یہ اپنے کفر و نفاق کی بنا پر چونکہ شریعت اسلامیہ کے فیصلہ کو پسند نہیں کرتے اس لئے دوسروں کے پاس جاتے ہیں لیکن اس وقت مصلحت اور حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ آپ ان سے کوئی مواخذہ نہ کریں۔ البتہ ان کو نصیحت فرماتے رہیں کہ اس قسم کی حرکات سے باز آ جائو یہ باتیں بری ہیں اور ا ن کے حق میں سے ایسی بات کہو جو مئوثر ہو یعنی اللہ تعالیٰ تمہارے قلوب کی باتوں کو جانتا ہے اس سے کوئی بات پوشیدہ نہیں ہے تم اپنی اصلاح کرو اور اپنے نفسوں کو خصائل رذیل اور صفات ذمیمہ سے پاک کرو وغیرہ وغریہ بلیخ وہ کلام ہے جس کا مدلول مقصود کے مطابق ہو بعض حضرات نے فاعرض عنھم کے یہ معنی کئے ہیں کہ ان کا عذر قبول کرنے سے اعراض کیجیے یا منافق مقتول کا جو خوں بہا طلب کر رہے ہیں اس سے اعراض کیجیے کیونکہ اس کا خون ناقابل التفات اور یہ خون کا مطالبہ بےکار ہے۔ (واللہ اعلم) اب آگے ان منافقوں کے لئے دوسری بات فرماتے ہیں کہ اگر قسمیں کھا کر غلط بات کہنے کی بجائے یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے جرم کا اقرار کرلیتے اور توبہ استغفار کرتے تو ان کے لئے بہتر ہوتا (تسہیل)