Ayahs 4:79–80ف 2 اے انسان جو بھلائی اور خوش حالی تجھ کو پیش آتی ہے اور جو راحت تجھ کو میسر ہوتی ہے وہ اللہ کی جانب سے ہوتی ہے یعنی محض اس کے فضل سے ہوتی ہے اور اے انسان جو بدحالی اور برائی تجھ کو پیش آتی ہے وہ خود تیری بدولت اور تیرے سبب سے ہوتی یعنی تیرے اعمال بد کے نتیجے میں پیش آتی ہے اور اے محمد ﷺ ہم نے آپ کو تمام لوگوں کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا ہے اور آپ کی رسالت و نبوت پر گواہی دینے کو اللہ تعالیٰ کافی ہے اور اللہ تعالیٰ سب چیزوں کو اپنے روبرو دیکھنے کو کافی اور بس ہے۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں بندہ کو چاہئے نیکی کو اللہ کا فضل سمجھے اور تکلیف اپنی تقصیر سے اور رسول پر الزام نہ رکھے تقصیروں سے اللہ واقف ہے اور وہی جزا دیتا ہے۔ (موضح القرآن)
بعض حضرات نے ما اصابک کا مخاطب نبی کریم ﷺ کو قرار دیا ہے لیکن عام مفسرین کی رائے یہی ہے کہ خطاب عام ہے اور ہم نے اسی کو اختیار کیا ہے مطلب یہ ہے کہ رسول پر الزام عائد کرنا صحیح نہیں ہے رسول کو کسی راحت و مصیبت میں کوئی دخل نہیں ہے بلکہ خود اپنے نفع اور ضرر کا بھی اختیار نہیں ہے چہ جائے کہ اس کو دوسروں کی بھلائی اور برائی کا کوئی اختیار ہو یہ سب باتیں تو خدا ہی کی جانب سے ہوا کرتی ہیں ہاں یہ ضرور ہے کہ جو بھلائی خوش حالی اور مسرت وغیرہ اے مخاطب تجھ کو پہنچتی ہے وہ تو محض اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی مہربانی سے پہونچتی ہے اور جو تکلیف اور بدحالی اور پریشانی وغیرہ تجھ کو پہنچتی ہے وہ تیرے ہی اعمال کی شامت ہوتی ہے اور تیری ہی کوتاہیوں کے باعث نصیب ہوتی ہے اور اے پیغمبر ! ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لئے رسول بنا کر بھیجا ہے یعنی آپ کا کام تمام بنی نوع انسان کو اپنی رسالت کی تبلیغ کرنا اور ہمارے احکام کا پہنچانا ہے کسی کی برائی یا بھلائی سے آپ کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
شہید کے معنی بعض حضرات نے گواہ کئے ہیں اور بعض حضرات نے حضار اور موجود ہونا کئے ہیں ہم نے تیسیر میں دونوں کا لحاظ رکھا ہے یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کی رسالت اور آپ کے رسول برحق ہونے پر اللہ تعالیٰ کی گواہی کافی ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہر شخص کی حالت اور اس کے اعمال پر اللہ تعالیٰ کی حضوری اور اس کی موجودگی اور سب کاموں کو اپنے سامنے ہوتا ہوا دیکھنا کافی ہے غالباً یاد ہوگا ہم نے پہلے عرض کیا تھا کہ جس طرح عام بدپرہیزی اور بےاحتیاطی کا اثر انسان کے جسم پر پڑتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی عام مخالفت کا اثر انسان کی روح پر پڑتا ہے یہ وہ اثرات ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مختلف اشیاء میں رکھے ہیں اور ایک چیز کو دوسری چیز کا مصلح مقرر کیا ہے جس طرح یہ تمام اثرات اور ان کی اصلاح کو طبیب خوب سمجھتے ہیں اسی طرح روحانی بدپر ہیزیوں کے اور گناہوں کے اثرات ہیں اور عبادات ان اثرات کو زائل کرنے والی اور ان کی مصلح ہیں لیکن یہ تمام اثرات چونکہ حضرت حق جل سجدہ کے تابع ہیں اور وہی ان کے خلاق اور موجد ہیں اس لئے ان کی طرف ان اثرات کو منسوب کیا جاتا ہے اور قل کل من عند اللہ کا یہی مطلب ہے کہ جب کوئی بندہ مقویات یا مضرات کا استعمال کرتا ہے تو ہم ان چیزوں کے اچھے اور برے اثرات کو اس پر مرتب کردیتے ہیں اور چونکہ عام طور سے ہم بندوں کے معاملے میں فضل و کرم کا برتائو کرتے رہتے ہیں اس لئے نفع تو محض فضل ہی سے پہنچا دیتے ہیں اور ضرر بدپرہیزی ہی سے پہنچاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ باوجود نیکیوں کی قلت بلکہ کبھی نہ ہونے پر فضل مرتب ہوجاتا ہے اور دینی و دنیوی سود و بہبود سے متمتع فرماتے ہیں۔
ہاں تکلیف پہنچانے میں نافرمانی اور خطا کو دخل ہے اسی کو فرمایا، ما اصابک من حسنۃ فمن اللہ وما اسابک من سیئۃ فمن نفسک یہ عام معاملات اور عام حالات کے متعلق ہم نے عرض کیا ہے باقی سخت منافق اور پرلے درجے کے کافر کو بھلائی پہنچانا اور اہل اللہ اور اولیاء اللہ کو مصائب میں مبتلا رکھنا یہ دوسری بات ہے جس کو ہم وقتاً فوقتاً عرض کرتے رہے ہیں اور آگے بھی کہیں کہیں عرض کرتے رہیں گے یہاں اس کی تفصیل کا موقعہ نہیں ہے۔
حق تعالیٰ نے سورة شوریٰ میں فرمایا ہے وما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم ویعف عن کثیر یعنی تم پر جوب مصیبت واقع ہوتی ہے وہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی سے واقع ہوتی ہے اور بہت سی باتیں تو اللہ تعالیٰ بلا کسی مواخذے کے معاف فرما دیتا ہے۔
سدی اور حضرت حسن بصری وغیرہ نے فمن نفسک کی تشریح فمن ذنبک سے کی ہے قتادہ نے کہا عقوبۃ لک یا ابن ادم بذنبک یعنی اے ابن آدم تیری پکڑ اور تجھ پر عقوبت تیرے گناہ کی وجہ سے ہوتی ہے۔
حدیث شریف میں آتا ہے کسی شخص کو کوئی معمولی سے معمولی مصیبت بھی نہیں پہونچتی خواہ وہ کوئی غم ہو یا کوئی پریشانی ہو یا کوئی اور مشقت میں ڈالنے والی کوئی چیز ہو حتی کہ کوئی کانٹا بھی نہیں چبھتا مگر قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے یہ تکلیف اس شخص کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتی ہے اور اللہ تعالیٰ اس معمولی سی تکلیف سے اس کی خطائیں معاف کردیتا ہے۔
بہرحال جو کچھ آیت زیر بحث میں ہے وہ صرف اسی قدر ہے کہ بھلائی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہے اور تکلیف انسان کی بد اعمالی کے سبب ہے اگرچہ اس سبب پر اثر کا مرتب کرنا یہ حضرت حق کے ہی حکم سے ہوتا ہے۔
حضرت شاہ صاحب نے کل من عند اللہ کی ایک بہت اچھی توجیہہ فرمائی ہے کہ رسول کی تدبیر بھی اللہ تعالیٰ کے الہام سے ہوتی ہے اس لئے رسول پر الزام لگانا بےجا ہے بلکہ اس عالم تکوین میں جو انقلاب ہوتا ہے وہ حضرت حق تعالیٰ کی قضا و قدر سے ہوتا ہے اور بھلائی کی حلات میں اس کا فضل ہوتا ہے اور مصیبت کی حالت میں اس کا عدل ہوتا ہے۔
بعض حضرات نے اس موقعہ پر خلق اعمال کی بحث چھیڑی ہے اور کسب اور خلق کا تذکرہ کیا ہے اور معتزلہ اور اہل سنت کے اختلاف پر تقریر کی ہے۔ ہمارے خیال میں یہاں اس کی ضرورت نہ تھی وہ مسئلہ اپنی جگہ ہے جہاں اس کا موقعہ ہوگا ہم عرض کریں گے۔
اس مسئلے کی نوعیت صرف اس قدر ہے کہ اہل سنت کے نزدیک بندے کو ارادہ اور قوت کسب حاصل ہے ۔ لیکن اتنی بات ایجاد فعل کے لئے کافی نہیں اللہ تعالیٰ کا یہ معمول اور دستور ہے کہ جب بندہ کسی فعل کے کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس فعل کو پیدا کردیتا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کو خالق افعال اور بندے کو کا سب افعال کہا جاتا ہے اور اسی کسب پر بندے سے مواخذہ کیا جاتا ہے اس کی مثال اپنے اکابر اس طرح دیا کرتے ہیں۔
کہ فرض کرو کسی بادشاہ کے ہاں ایک بہت بڑا پتھر ہے جسے کوئی شخص نہ ہلا سکتا ہے نہ اٹھا سکتا ہے لیکن اگر بادشاہ اس پتھر کو اٹھانا چاہے تو وہ اٹھ جاتا ہے بادشاہ نے اپنے غلاموں کو حکم دیا کہ دیکھو اس پتھر کا اٹھانا ہمارے قانون میں سخت جرم ہے لیکن ہمارا یہ دستور ہے کہ جو شخص اس پتھر کو اٹھانے کے ارادے سے اس کے قریب جائے گا اور سا کو ہاتھ لگائے گا تو یہ پتھر ہمارے حکم سے اٹھ جائے گا اور وہ شخص اس کا مجرم قرار دیا جائے گا کیونکہ نہ وہ اس پتھر کے اٹھانے کا ارادہ کرتا اور نہ وہ اس کے قریب جاتا اور نہ یہ پتھر اٹھتا اگرچہ یہ پتھر اس مقررہ دستور کے موافق ہی اٹھا لیکن جب ہم نے یہ دستور بتا رکھا ہے کہ جو اس کو اٹھانے کا ارادہ کرے گا اور اس کو ہاتھ لگائے گئے تو دیکھو یہ پتھر اٹھ جائے گا اور وہ شخص اس پتھر کو اٹھانے کا مجرم قرار دیا جائے گا اس مثال سے خلق اور کسب کا فرق ہر سمجھدار آدمی کی سمجھ میں آسکتا ہے اب جو شخص بھی کسی فعل کا ارادہ کرتا ہے اور اس ممنوعہ پتھر کو اٹھانے کا ارادہ کرتا ہے اور اس کو اٹھانے پر آمادہ ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے مقررہ دستور کے مطابق اس پتھر کو اٹھا دیتا ہے یعنی اس فعل کو جس کے ارتکاب کا بندے نے پختہ ارادہ کرلیا ہے اللہ تعالیٰ اس کو پیدا کردیتا ہے۔ معتزلہ افعال عباد کا خلاق بھی عباد ہی کو مانتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو افعال کا خلاق قرار نہیں دیتے یہ وہ اختلاف ہے جس کو یہاں بعض حضرات نے بیان کیا ہے اور کل من عند اللہ سے اہل سنت کے مذہب کو ثابت کیا ہے لیکن جیسا کہ ہم نے عرض کیا ہے کہ یہاں اس کی ضرورت نہ تھی یہاں تو صرف اتنی ہ بات بتانی مقصود تھی جو ہم نے تسہیل میں عرض کردی۔
بہرحال ! اب نبی کریم ﷺ کی عام رسالت اور اپنی شہادت کا اعلان کرنے کے بعد پیغمبر کی اطاعت کا ذکر فرماتے ہیں کیونکہ جب یہ اعلان ہوگیا کہ آپ ہمارے بھیجے ہوئے اور تمام بنی نوع انسان بلکہ جنتا کے بھی آپ ہی پیغمبر ہیں اور حضرت حق نے اس پیغمبری پر اپنی شادت بھی ثبت فرما دی تو کوئی وجہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فرستادے کا حکم نہ مانا جائے کیونکہ جب وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے تو اب وہ جو کچھ کہے گا وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ ہی کا فرمان ہوگا اور اس کی اطاعت اللہ تعالیٰ ہی کی اطاعت ہوگی اور اس اعلان اطاعت کے ساتھ آپ کو تسلی بھی دی گئی ہے اور پھر منافقین کا ذکر شروع ہوگیا ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 4:81ف 3 جس شخص نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری کی اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری کی اور جو شخص آپ کی اطاعت سے روگردانی کرے تو آپ کوء فکر نہ کیجیے اور اس پر غم نہ کیجیے کیونکہ آپ کو ہم نے ان کے اوپر کوئی محافظ اور نگہبان بنا کر نہیں بھیجا ہے اور یہ منافق لوگ بظاہر زبان سے تو یوں کہتے ہیں کہ ہم فرماں بردار ہیں اور ہمارا کام تو آپ کی اطاعت اور فرماں برداری کرنا ہے لیکن جب یہ لوگ آپ کے پا س سے باہر نکلتے ہیں اور باہر جاتے ہیں تو ان ہی لوگوں میں سے ایک جماعت رات کے وقت ان باتوں کے خلاف خفیہ مشورے کرتی ہے جو باتیں یہ آپ سے کہہ چکے تھے اور جو خفیہ مشورے یہ رات کے وقت کیا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اعمال نامے میں لکھتا رہتا ہے۔ لہٰذا آپ ان کو منہ نہ لگائیے اور ان کی بےہودگی کی جانب التفات نہ کیجیے اور آپ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیے اور اپنے سب کام اللہ تعالیٰ کے حوالے کیجیے اور اللہ تعالیٰ ہی کا کار ساز ہونا کافی ہے اور وہی با اعتبار کار ساز ہونے کے کفایت کرتا ہے۔ وہ خود آپ کی مدد کرے گا اور ان سے انتقام لے لے گا۔ (تیسیر)
حفیظ کے معنی نگراں، نگہبان، حفاظت کرنے والا، مطلب یہ ہے کہ آپ پر ان کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے کہ آپ ان کو گناہ نہ کرنے دیں اور ان کو نافرمانی سے روک دیں، یا ان کے گناہوں کی آپ سے کوئی باز پرس کی جائے، باقی وہ نگرانی اور نگہبانی جو ہر امت پر مربیانہ اور مشفقانہ اس کے نبی کو حاصل ہوتی ہے اس نگرانی کی نفی یہاں مراد نہیں ہے۔
تبیت شب میں سکی کام کے کرنے کو کہتے ہیں غیر الذی تقول کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جن وفادارانہ جذبات کا دن کو اظہار کرچکے تھے اور اطاعت و فرماں برداری کا جو یقین آپ کو دلا چکے تھے شب میں ان جذبات کے خلاف ان میں سے ایک جماعت مشورہ کرتی ہے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ جو باتیں آپ ان سے فرماتے ہیں ان کے خلاف شب میں ایک فرق مشورے کرتا ہے ہم نے پہلا قول اختیار کیا ہے۔ وکیل اس کو کہتے ہیں کام جس کے سپرد کیا جائے۔
مطلب یہ ہے کہ آپ کے سامنے تو اطاعت و فرماں برداری کا وعدہ کرتے ہیں لیکن جب آپ کے پاس سے اٹھ کر باہر جاتے ہیں تو انہی میں سے ایک فرق یعنی ان کے سردار اور بڑے لوگ ان باتوں کے خلاف جو آپ سے کہی تھیں رات کے وقت مشورے کرتے ہیں اور جب ان کے نفاق کی یہ حلات ہے کہ دن میں کچھ اور رات میں کچھ اور آپ ان کے نفاق کی جانب توجہ نہ فرمائیے اور خدا پر بھروسہ رکھیے یہ آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کی ذات وکیل ہونے کے لئے کافی ہے اور وہی اس لائق ہے کہ اس پر بھروسہ کیا جائے چونکہ ان آیتوں میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا اثبات ہے اسی کے ساتھ قرآن کی حقانیت کا ذکر بھی فرماتے ہیں اور ہم نے یہ بات کئی دفعہ عرض کی ہے کہ یہی چند مسائل ہیں جن کو مختلف عنوان سے بار بار ذکر کیا جاتا ہے ان ہی مسائل میں سے توحید، رسالت ، قرآن اور قیامت وغیرہ ہیں۔ چناچہ قرآن کریم کے کلام الٰہی ہونے کے متعلق ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 4:82ف 1 کیا یہ لوگ قرآن کی فصاحت و بلاغت اور اس کے اعجاز میں غور اور تدبر سے کام نہیں لیتے اور اگر یہ قرآن اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی جانب سے ہوتا اور خدا کے سوا کسی اور کا کلام ہوتا تو اس میں یہ لوگ بکثرت تفاوت پاتے جیسا کہ عام طور سے دوسرے کے کلام میں ہوا کرتا ہے۔ (تیسیر)
حضر ت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی مخلوق ہر حال میں اس حال کے موافق بولتا ہے غصے میں مہربانی والوں کی طرف دھیان نہیں رہتا اور مہربانی میں غصے والوں کی طرف دنیا کے بیان میں آخرت یاد نہ آوے اور آخرت کے بیان میں دنیا بےپروائی میں عنایت کا ذکر نہیں اور عنایت میں بےپروائی کا تو اس حال کا کلام سنے دوسرے حال سے مخالف نظر آوے اور قرآن شریف جو خالق کا کلام ہے یہاں ہر بیان میں دوسری جانب بھی نظر ہوتی ہے۔
غور کرنے سے معلوم ہوا کہ ہر چیز کا بیان ہر مقام میں ایک راہ پر ہے یہاں منافقوں کا مذکور تھا۔ اس میں بھی ہر بات پر الزام اسی قدر ہے جتنا چاہئے اور جماعت میں سے انہی پر الزام ہے جو لائق الزام ہیں اسی واسطے فرمایا کہ بعضے ان میں سے یوں کرتے ہیں۔ (موضح القرآن)
اختلاف کثیرہ کا یہ مطلب ہے کہ ایک ایک مضمون میں اگر اختلاف ہوتا صدہا مضامین تھے ان سب کا اختلاف کثیر اختلاف بن جاتا لیکن یہاں کسی ایک مضمون میں بھی اختلاف نہیں لہٰذا یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے بشر کے کلام میں یہ یکسانیت کہاں نہ کسی جگہ فصاحت و بلاغت کی کمی، نہ توحید و تشریک حلال و حرام کے بیان میں کہیں تناقض اور تفاوت پھر غیب کی اطلاعات میں نہ کوئی خبر ایسی جو واقع کے مطابق نہ ہو، نہ نظم قرآنی میں کہیں یہ فرق کہ بعض فصیح ہو اور بعض رکیک ہر بشر کی تقریر و تحریر میں ماحول کا اثر ہوتا ہے اطمینان کا اور انداز پریشانی کا اور انداز مسرت کے وقت اور رنگ اور رنج کے وقت اور رنگ، قرآن ہر قسم کے تفاوت اور تناقض سے پاک اور بالاتر ہے اور یہی کلام ہونے کی واضح دلیل ہے۔
حضرت شاہ صاحب نے جو کچھ فرمایا ہے وہ بہت صاف ہے اگرچہ اردوپرانی ہے لیکن مطلب واضح اور صاف ہے۔
پھر شاہ صاحب نے ربط کے سلسلے میں بھی ایک بات بہت خوب فرمائی کہ دیکھو منافقین کا ذکر ہی اس موقع پر قرآن کا انضباط ملاحظہ ہو کہ مخالفین کے ذکر میں بھی جو قابل الزام تھے ان کا ہی ذکر کیا سب کو برا نہ کہا اور یہ نہیں فرمایا کہ سب لوگ راتوں کو الٹا مشورہ کرتے ہیں بلکہ طائفۃ کہہ کر ان سرداروں اور بڑے لوگوں کی خیانت کا اظہار فرمایا اور اسی مناسبت سے یہاں قرآن کی حقانیت کا ذکر فرمایا۔ اب آگے اسی قسم کے لوگوں کی بعض اور حرکات کا ذکر ہے جو علاوہ دینی نقصان کے انتظاماً اور سیاستہ بھی نقصان دہ ہیں اور ان کا ذکر کرتے ہوئے اس کا صحیح طریقہ بھی تعلیم فرمایا چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 4:83ف 2 اور ان لوگوں کو جب کوئی اطلاع موصول ہوتی ہے اور جب ان کو کوئی خبر پہنچتی ہے خواہ وہ اطلاع امن کی ہو جیسے فتح اور سلامتی خواہ وہ خبرخوف کی ہو جیسے ہزیمت اور ارتداد وغیرہ تو یہ اسی خبر کو مشہور کردیتے ہیں اور ہر ایک سے کہتے پھرتے ہیں اور اگر یہ لوگ اس خبر کو مشہور کرنے اور اس اطلاع کو جا بجا کہتے پھرنے سے پہلے رسول اللہ ﷺ یا ان لوگوں تک پہونچا دیتے جو ان میں سے ذمہ دار اور ذی رائے اور اہل بصیرت ہیں تو اس خبر کی صحیح حقیقت کو ان میں سے وہ ذمہ دار اور اہل الرائے حضرات سمجھ لیتے جو بات کی تہ میں سے بات کا نتیجہ صحیح اخذ کرلیا کرتے ہیں اور وہ اس خبر کو پہچان لیتے جو ان میں سے خبر کی تحقیق کرلیا کرتے ہیں اور تحقیق کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ کا تم پر خصوصی فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو یقینا چند آدمیوں کے سوا تم سب کے سب شیطان کے پیچھے ہو لئے ہوتے اور تم سب کے سب شیطان کے پیرو ہوجاتے مگر تھوڑے سے وہ لوگ بچ جاتے جن کو عقل سلیم سے بہرہ ملا ہے ۔ (تیسیر)
اس آیت میں یا تو انہی منافقین کا ذکر ہے جن کا ذکر اوپر سے چلا آ رہا ہے۔ یا کمزور مسلمانوں کا ذکر ہے بہرحال ! منافقین کا ذکر ہو تو منھم فرمانے کا یہ مطلب ہوگا کہ منافقوں کے ظاہری حال کے اعتبار سے منافقوں کو مسلمانوں میں شامل کرتے ہوئے منھم فرما دیا اور اگر کمزور مسلمان ہوں تب اس توجیہہ کی ضرورت نہیں۔
اذاعت کے معنی ہیں افشا اور اظہار ہم نے محاورے کا ترجمہ کردیا ہے ایک ایک سے کہتے پھرنا رد کے معنی تو لوٹانے کے ہیں یہاں مطلب یہ ہے کہ رسول یا اولی الامر کے سپرد کردیتے اور شائع کرنے سے پہلے اس خبر کو ان لوگوں کے حوالے کردیتے۔
استنباط ، اصل میں کنویں کی تہ میں سے پانی نکالنے کو کہتے ہیں کنواں کھودنے میں پہلی مرتبہ جو پانی سوت سے نکلتا ہے اس کو مار مستنبط کہتے ہیں۔
مگر یہاں مراد یہ ہے کسی بات کو سن کر اس کی حقیقت جان لینا اور اس کی تہ تک پہنچ کر صحیح چیز معلوم کرلینا شان نزول میں بھی مختلف قول ہیں ہوسکتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی عورتوں کے طلاق کا قصہ ہو جیسا کہ مسلم نے حضرت عمر سے روایت کیا ہے اور ہوسکتا ہے کہ وہ واقعہ ہو جو شاہ صاحب نے بیان کیا ہے۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی کہیں سے کچھ خبر آوے تو اول پہنچائے سردار تک اور اس کے نائبوں تک جب وہ صحیح کرلیں اور اس پر بنا رکھیں تب اس پر عمل کرے۔
حضرت نے ایک شخص کو بھیجا ایک قوم کی زکوۃ لینے کو وہ نکلے استقبال کو اس نے سمجھ نکلے ہیں میرے مارنے کو الٹا پھر آیا اور شہر مدینے میں مشہور کیا کہ فلاں قوم مرتد ہوئی ۔ ہنوز حضرت کو خبر نہ پہنچی کہ شہر میں شہرہ ہوا اسی قسم سے ہر خبر بےتحقیق اور بغیر خبر سردار کے مشہور کرنے لگے وہ خبر آخر غلط نکلی۔
فائدہ۔ یہ جو فرمایا کہ اگر اللہ کا فضل تم پر ہو نہ ہوتا تو شیطان کے پیچھے چلتے مگر تھوڑے یعنی ہر وقت احکام تربیت کے نہ پہنچتے رہیں تو کم لوگ ہدایت پر قائم رہیں۔ (موضح القرآن)
بہرحال ! شان نزول کچھ ہو آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ ان مذکورہ لوگوں کی یہ حالت ہے کہ جب کوئی خبر ان کو موصول ہوتی ہے خواہ اچھی ہو یا بری ہو، فتح کی ہو یا شکست کی ہو یہ اس کو فوراً مشہور کردیتے ہیں اور اتنا نہیں سوچتے کہ سیاسی نقطہ نگاہ سے اس تشہیر کا کیا اثر ہوگا اگر یہ لوگ اس خبر کو شہرت دینے سے پہلے نبی کریم ﷺ تک پہنچا دیں یا اور جو لوگ ان میں صاحب امر ہوں جیسے جلیل القدر اور ذی رائے صحابہ اگر کسی لشکر میں ہوں جو لشکر کا سردار ہو اس تک اس خبر کو پہنچا دیں اور بطور خود مشہور نہ کریں تو مذکورہ لوگوں میں سے وہ لوگ تو یقینا اس خبر کی حقیقت کو پہچان ہی لیتے جو اہل بصیرت اور ذی رائے ہیں جو ہر خبر کی تحقیق کرلیا کرتے ہیں اور ہر خبر کی تہ میں صحیح نتیجہ نکال لیتے ہیں یعنی پیغمبر اور جلیل القدر صحابہ اگر ان تک اس خبر کو پہنچا دیتے تو وہ اس کے غلط اور صحیح ہونے اور قابل اشاعت ہونے نہ ہونے کو پہچان لیتے پھر جب حضرت حکم دیتے یا عمل کرتے ویسا ہی یہ لوگ کرتے اور اگر تم پر اللہ تعالیٰ کا یہ خصوصی فضل اور رحمت نہ ہوتی۔ یعنی یہ پیغمبر کا بھیجنا اور قرآن کا نازل ہونا اور مختلف احکام اور قوانین کی تعلیم، غرض ! جو مہربانی اس نے تم پر فرمائی ہے یہ نہ ہوتی تو تم میں سوائے چند آدمیوں کے سب ہی شیطان کے سپرد ہوتے اور چند آدمی ہی ہوتے جو عقل سلیم سے کام لیتے۔
جیسے بعض وہ لوگ جو نبی کریم ﷺ کی بعثت سے قبل شرک اور شراب وغیرہ سے اجتناب کرتے تھے۔
مثلاً زید بن عمرو بن نفیل یا ورقہ بن نوفل یا حضرت ابوبکر صدیق اگرچہ کہا جاسکتا ہے کہ عقل سلیم سے صحیح فائدہ اٹھانا بھی اللہ تعالیٰ کا فضل اور رحمت ہے لیکن ہم نے خصوصی کی قید لگا کر اس شبہ کا جواب دے دیا ہے کیونکہ اس خاص فضل سے جو ہدایت میسر آئی وہ عقل صالح اور عقل سلیم کو بدون نبوت اور قرآن کی روشنی کے کہاں میسر آسکتی تھی۔ بعض حضرات نے یوں تفسیر کی ہے۔ لاتبعتم الشیطان الا اتباعا قلیلا بعضوں نے الا قلیلا کو اذا عوابہ سے استثنا قرار دیا ہے بعض حضرات نے یستنبطونہ منھم الا قلیلا کے ساتھ ترکیب کی ہے لیکن راجح قول وہی ہے جو ہم نے عرض کیا ہے۔ (واللہ اعلم)
شاید یاد ہوگا کہ اوپر سے جہاد کا ذکر ہو رہا ہے۔ بیچ میں بعض منافقین یا بعض بزدل مسلمانوں کا ذکر فرمایا تھا اب پھر جہاد کا ذکر فرماتے ہیں اور خاص طور پر نبی کریم ﷺ کو حکم دیتے ہیں کہ جو منافق یا بزدل مسلمان جہاد سے کتراتے ہیں ان کو چھوڑیئے آپ خود اس فریضہ کو انجام دیجیے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 4:84ف 3 بہرحال ! اے محمد ﷺ اگر لوگ جہاد سے جان چراتے ہیں تو آپ خود اللہ کی راہ میں کفار سے جہاد کیجیے کیونکہ سوائے اپنی ذات کے اور کسی کے مکلف نہیں اور بجز اپنے ذاتی فعل کے آپ اور کسی کے ذمہ دار نہیں ہیں ہاں۔ مسلمانوں کو جہاد فی سبیل اللہ کی ترغیب دیجیے قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ کافرں کی لڑائی کو روک دے اور ان کی قوت اور زور کو توڑ دے اور اللہ تعالیٰ جنگ کرنے کے اعتبار سے بہت طاقتور او قوی ہے اور عذاب کرنے اور سزا دینے کے لحاظ سے بہت سخت سزا دینے والا ہے۔ (تیسیر)
مفسرین کہتے ہیں کہ اس آیت کا تعلق بدر صغریٰ سے ہے کیونکہ غزوہ احد میں ابوسفیان نے چلتے وقت کہا تھا کہ تم سے آئندہ موسم حج کے موقعہ پر جنگ کی جائے گی چناچہ ذیقعدہ میں نبی کریم ﷺ حسب وعدہ وہاں تشریف لے گئے اور کامیاب واپس آئے، ابوسفیان مرعوب ہوگیا اور میدان جنگ میں نہ آسکا چونکہ اس موقعہ پر بعض مسلمانوں نے اپنی معذوریاں پیش کیں تھیں اور حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ کوئی میرے ساتھ نہیں چلے گا تو میں تنہا اپنی تلوار لے کر چلا جائوں گا اور مجھے خدا سے امید ہے کہ وہ میری مد د فرمائے گا۔
اسو اقعہ کی تفصیل ہم آل عمران میں عرض کرچکے ہیں ۔ بعض کا قول یہ ہے کہ آیت عام بشارت پر مبنی ہے اور اس میں یہ امید دلائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کفار کی قوت کو مضمحل کر دے گا اور ان کے زور جنگ کو توڑ دے گا چناچہ ایسا ہی ہوا کہ مکہ معظمہ فتح ہوا اور کفار کی طاقت ہر سمت کمزور ہوگئی۔ (واللہ اعلم)
بہرحال آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے پیغمبر جب جہاد کی فرضیت اور جہاد کی ضرورت معلوم ہوگئی تو اب اگر کوئی آپ کے ہمراہ جہاد کرنے نہ نکلے تو آپ کچھ فکر نہ کیجیے کیونکہ آپ تو اپنے ذاتی فعل کے مکلف ہیں کسی دوسرے کے فعل کے آپ نہ مکلف ہیں اور نہ ذمہ دار ہیں۔ البتہ لوگوں کو جہاد کی تحریص و ترغیب کرتے رہئے اور ان کو جاد کے حکم اور جہاد کے منافع سے آگاہ کرتے رہئے پھر اگر کوئی آمادہ نہ ہو تو آپ پر کوئی ذمہ داری نہیں اور آپ سے کوئی باز پرس نہیں۔
جیسا کہ لا تکلف الا نفسک سے ظاہر ہے اور اگر کوئی آپ کے ہمراہ چلنے پر باوجود تحریص و ترغیب کے آمادہ نہ ہو تو اس کی بھی فکر نہ کیجیے کہ آپ تنہا رہ گئے اب کیا ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ وہ کفار کی جنگ کو روک دے اور اللہ تعالیٰ سے یہ بعید نہیں کہ وہ کفار کی قوت کو توڑ دے کیونکہ جنگ کا بند ہوجانا اور کافروں کا جنگ کو روک دے اور اللہ تعالیٰ سے یہ بعید نہیں کہ وہ کفار کی قوت کو توڑ دے کیونکہ جنگ کا بند ہوجانا اور کافروں کا جنگ نہ کرنا اس کے لئے منجملہ دیگر وجوہات کے بڑی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ ان کا زور اور ان کی طاقت ٹوٹ جائے۔ لہٰذا اس امید بلکہ اس وعدہ کا اعلان ان الفاظ میں کیا ہے۔
عسی اللہ ان یکف باس الذین کفروا چونکہ یہ اعلان کفار کی قوت کو کمزور اور مغلوب کرنے کا اعلان ہے اس لئے اس اعلان کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ چونکہ جنگ کرنے میں ان کافروں سے کہیں زیادہ طاقتور ہے اس لئے ہمارے غالب اور ان کے مغلوب ہونے کا یقین رکھو اور جس طرح اللہ جنگی قوت میں سب سے قوی تر ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ سزا دینے میں بھی سب سے زیادہ شدید ہے اور اس کی سزا سب سزا دینے والوں کی سزا سے زیادہ ہے۔
باس کے معنی شدت اور ناپسند چیز کے ہیں باس اور بئوس کے ایک ہی معنی ہیں لیکن باس عام طور سے جنگ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور بئوس دوسری قسم کی سختیوں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے نکال کے معنی عذاب اور عقوبت کے ہیں آیت کی ترتیب عجیب ہے اور ایک فقرہ دوسرے فقرے سے اس طرح وابستہ ہے کہ حیرت ہوتی ہے ۔ مثلاً لوگوں کی بزدلی کے پیش نظر پہلے جملے میں صرف پیغمبر کو حکم دیا گیا کہ آپ تن تنہا اور بہ نفس نفیس جہاد کیجیے۔
آگے دلیل بیان کی کہ آپ صرف اپنے ذاتی فعل کے مکلف ہیں کوئی دوسرا جہاد نہ کرے تو آپ پر اس کی کوئی باز پرس نہیں۔
آگے کے فقرے میں اسی کے ساتھ یہ بیان فرمایا کہ اس ذمہ داری کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ تبلیغ کے فریضہ سے بھی سبکدوش ہوگئے۔ نہیں مسلمانوں کو تبلیغ کرتے رہئے اور جہاد کے منافع سمجھاتے رہئے اسی کے ساتھ تن تنہا جنگ کرنے میں جو خطرہ ہوسکتا تھا اس کا ازالہ فرما دیا کہ تنہا جنگ کرنے سے گھبرانے کی ضرورت نہیں اس کی امید ہے کہ اللہ تعالیٰ کافروں کی جنگ کو روک دے اور ان کو مرعوب و مغلوب کر دے اور آپ کو تنہا ہی کامیاب کر دے۔ پھر اس کے بعد کامیاب ہونے پر دلیل بیان فرما دی کہ جب اللہ کی معاونت آپ کے ساتھ ہے تو اللہ تعالیٰ کی قوت جنگ اور زور جنگ ان کافروں سے بدر جہا زیادہ ہے اور جب زور آور طاقت آپ کے ساتھ ہے تو آپ کے لئے خوف کی کوئی وجہ نہیں ۔ پھر اسی شدت باس کے ساتھ اپنی سزا کی شدت بھی بیان فرما دی۔ یہ سزا خواہ قیامت میں ہو جیسا کہ ظاہر ہے یا دنیا میں ہو۔ جیسا کہ بعض نے کہا ہے۔
بہرحال ! جس طرح جنگ کرنے میں ہماری قوت و طاقت بڑھی ہوئی ہے اسی طرح سزا دینے میں بھی ہماری سزا بہت سخت ہے۔
اب آگے اسی سلسلے میں ترغیب کی مناسبت سے ایک عام اصول بیان فرمایا یعنی ایک جہاد کی ترغیب پر کیا منحصر ہے ایک اصول ذہن نشین کرلو کسی بھلی بات کی ترغیب دینے والا بھی بھلائی کا حقدار ہوا کرتا ہے اور اگر کوئی بری بات پر کسی کو ابھارتا ہے اور کسی کو ظلم اور ناانصافی پر آمادہ کرتا ہے اور سفارش کرتا ہے تو یہ سفارش کرنے والا بھی برائی کا حقدار بنتا ہے اسی مضمون کو بیان فرماتے ہیں۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 4:85ف 4 جو شخص کوئی اچھی سفارش کرے گا یعنی ایسی سفارش جو شرعاً صحیح ہو تو اس سفارش کرنے والے کو بھی اس سفارش کی وجہ سے ثواب کا ایک حصہ ملے گا اور جو شخص کوئی بری سفارش کرے گا یعنی جو شرعاً ممنوع ہو اس بری سفارش کرنے والے کو بھی اس سفارش کی وجہ سے گناہ کا ایک حصہ ملے گا اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ (تیسیر)
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں مثلاً کوئی محتاج کی سفارش کر کے دولت مند ہے کچھ دلوا دے یہ بھی شریک ہوا ثواب خیرات میں اور جو کافر یا مفسد کو سفارش کر کے چھڑا دے یہ بھی شریک ہے اس فساد میں (موضح القرآن)
آیت کا مطلب یہ ہے کہ سفارش بھی اچھے کام کی ہو اور سفارش کا طریقہ بھی صحیح ہو یہ نہ ہو کہ رشوت دی جائے یا سفارش کی اجرت وصول کی جائے اسی طرح وہ سفارش کسی ناجائز کام کی نہ ہو مثلاً کسی شر پر کو سزا سے بچانے کی سفارش یا جہاد میں شریک نہ ہونے کی سفارش یا صلح کے خلاف کسی کو بھڑکانا وغیرہ مختلف حضرات نے مختلف تفسیریں کی ہیں اور اس میں شک نہیں کہ آیت اپنے عموم کے اعتبار سے ہر جائز و ناجائز کام کی سفارش اور ترغیب کو شامل ہے۔
منھا کا یہ مطلب ہے کہ نیکی کی سفارش سے جو نیکی ہوگی اور برائی کی سفارش سے جو برائی ہوگی اس میں یہ بھی حقدار ہوگا یعنی نیکی والے کا کوئی ثواب اور بدی والے کا کوئی عذاب کم نہ ہوگا اور سفارش کرنے والے کو بھی ثواب یا عذاب ہوگا اور ہوسکتا ہے کہ منھا سبب کے قائم مقام ہو اور مطلب یہ ہے کہ اس سفارش کی وجہ سے اس کو ثواب یا عذاب کا حصہ ملے گا۔
ہم نے ترجمہ اور تیسیر میں دونوں باتوں کی رعایت رکھی ہے اگر کسی شخص نے ایک جائز کام کی سفارش کی اور جس سے سفارش کی تھی اس نے قبول نہیں کی تب بھی حسنہ کی سفارش کرنے والے کو اجر ملے گا۔
حدیث مرفوع میں ہے کہ سفارش کر کے اجر حاصل کرلیا کرو اور اللہ تعالیٰ جو فیصلہ چاہتا ہے اپنے نبی کی زبان پر اس کو جاری کرا دیتا ہے اور اگر سفارش کی وجہ سے کسی نے وہ نیک کام کرلیا تو اس کو بھی سفارش کے اجر کے علاوہ اس نیکی کا بھی ثواب ملے گا اگرچہ اصل نیکی کرنے والے کے ثواب میں کچھ کمی نہ ہوگی۔ اسی طرح بری سفارش اور برائی کی ترغیب کو سمجھ لینا چاہئے۔
مقیت کے معنی کسی نے حقانیت کرنے والا کسی نے کہا شہید کسی نے کہا حسیب سعد بن جبیر کا قول ہے قدیر ضحاک نے کہا رزاق ہم نے ایک معنی اختیار کر لئے ہیں اگرچہ گنجائش سب کی ہے ۔ جہاد کے فرماتے ہیں اور جس طرح سفارش آپس میں ایک دوسرے کو خوش کرنے کی وجہ سے ہوتی ہے اسی طرح سلام کرنا اور اس کا جواب دینا بھی قلب کی خوشنودی کا سبب ہوتا ہے اور ان ہی احکام کے سلسلے میں اپنی توحید اور قیامت کا ذکر فرمایا تاکہ احکام کی پابندی میں زیادہ قوت اور زور ہو اور ہر شخص یہ سمجھ لے کر قیامت کے دن معبود حقیقی کے سامنے پیش ہونا ہے۔ اس لئے کوتاہی سے اجتناب کریں چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 4:86ف 1 اور جب تم کو کوئی دعا دے یعنی سلام علیکم کرے تو تم اس کے سلام سے اچھے اور بہتر الفاظ میں اس کو سلام کرو یعنی اس کے سلام کا جواب دو یا کم از کم ویسے ہی الفاظ کہہ دو اور انہی الفاظ میں اس کو جواب دے دے جو پہلے شخص نے کہے تھے، یقین جانو ! اللہ تعالیٰ ہر چیز پر محاسب اور ہر بات کا حساب لینے والا ہے۔ (تیسیر)
تحیۃ اصل میں زندگی کی دعا دینے کو کہتے ہیں اہل عرب جب آپ میں ملتے تھے تو ایک دوسرے کو حیاک اللہ کہتا تھا پھر تحیتہ مطلقاً دعا میں استعمال ہونے لگا۔ یہاں اس کے معنی ملاقات کے وقت سلام علیکم کرنے کے ہیں۔ آسمانی تہذیب میں ہمیشہ ملاقات کا تحیتہ سلام رہا ہے جو قومیں آسمانی تہذیب سے محروم ہیں ان کے ہاں مختلف طریقے ہیں کفار عرب کا طریقہ ہم نے عرض کردیا۔ نصاریٰ کا سلام منہ پر ہاتھ رکھ لینا تھا یہود کا سلام انگلی اٹھا لینا تھا مجوسیوں کا سلام ذرا جھک جانا تھا لیکن اسلام نے پھر آسمانی تہذیب کو زندہ کیا اور فرمایا۔ فسلموا علی انفسکم تحیۃ من عند اللہ اس کہنے کی ضرورت نہیں کہ السلام علیکم یعنی سلامتی کی دعا کفار عرب کے حیاک اللہ سے بہت جامع ہے کیونکہ یہ دین و دنیا کی سلامتی کو شامل ہے ۔ حدیث میں سلمان فارسی سے روایت ہے کہ ایک شخص حضور ﷺ کی مجلس میں آیا اس نے کہا السلام علیک یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ نے فرمایا وعلیک السلام و رحمۃ اللہ پھر دوسرا شخص آیا اس نے کہا السلام علیک یا رسول اللہ و رحمتہ اللہ آپ ﷺ نے جواب دیا وعلیک السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ پھر ایک تیسرا شخص آیا اس نے کہا السلام علیک یا رسول اللہ و رحمۃ اللہ وبرکاتہ، آپ ﷺ نے فرمایا
وعلیک اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ مجھ سے پہلے آنے والوں کے جواب میں آپ نے زیادہ جواب دیا اور بڑھا کر جواب عنایت کیا مگر مجھ کو صرف وعلیک فرمایا۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا تو نے ہمارے لئے کچھ چھوڑا ہی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے بہتر جواب دو یا ویسا ہی جواب دے دو ہم نے ویسا ہی جواب دے دیا۔
عمر بن حصین کی روایت میں آیا ہے کہ ایک شخص حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور السلام علیکم کہہ کر بیٹھ گیا حضور ﷺ نے فرمایا دس ہیں پھر دوسرا آیا اس نے کہا السلام علیکم و رحمتہ اللہ اور بیٹھ گیا آپ ﷺ نے فرمایا بیس ہیں پھر تیسرا آیا اور وہ السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ کہہ کر بیٹھ گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا تیس ہیں۔ یعنی ا لفاظ کی زیادتی کے ساتھ نیکیاں زیادہ ہوتی گئیں سلام کے آداب کی تفصیل توفقہ کی کتابوں سے معلوم ہوسکتی ہے یہاں چند باتیں یاد رکھنی چاہئیں۔
-1 سلام کا جواب دینا واجب علی الکفار یہ ہے اگر حاضرین میں سے ایک شخص نے بھی جواب دیدیا تو سب سبکدوش ہوگئے اور اگر کسی نے بھی جواب نہیں دیا تو سب واجب کے تارک ہوئے۔
-2 جو سلام شرعی آداب کا لحاظ رکھ کر کیا جائے اسی کا جواب دینا واجب ہوگا مثلاً کوئی بول و براز میں مشغول ہو یا نماز پڑھتا ہو یا قرآن کریم کی تلاوت کرتا ہو یا خطبہ سن رہا ہو وغیرہ ایسی حالت میں کوئی سلام کرے تو اس کا جواب دینا واجب نہیں بلکہ ایسے مواقع پر سلام کرنا ہی خود مگر وہ ہے ۔
-3 سلام کے جواب میں وعلیکم السلا کہنا واجب ہے باقی سلام کرنے والے سے بہتر کلمات کہنا یا انہی کو لوٹاکر کہہ دینا یہ باتیں اختیار میں ہیں یعنی فقط جواب تو واجب ہے باقی زیادہ جواب دینا جواب دینا یا کم دینا یا انہی کلمات کو لوٹا دینا ان سب کا اختیار ہے۔
-4 احادیث میں جو کلمات مروی ہیں وہ سلام کے ساتھ و رحمتہ اللہ وبرکاتہ ہیں ان سے زیادہ اور الفاظ ثابت نہیں۔
-5 کسی کافر کو بلا کسی خاص ضرورت کے ابتدائً سلام نہیں کرنا چاہئے البتہ کوئی ضرورت ہو تو سلام میں ابتداء کی جاسکتی ہے۔
-6 کافر کے سلام کا جواب بھی واجب نہیں اگرچہ جواب دینا جائز ہے۔
-7 فقہاء نے کافر کو دنیوی اعتبار سے دعا دینا یا اس کو اسلام کی دعا دینا جائز رکھا ہے۔ جیسا کہ نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے کہ آپ نے ایک یہودی کو جو حضور ﷺ کے لئے ایندھن بلایا تھا دعا دی تھی اور فرمایا تھا اللھم حجلہ چناچہ ستر سال کی عمر تک اس یہودی کے بال سیاہ ہی رہے۔
-8 جس طرح بلا ضرورت کافر کو ابتداء سلام نہ کرنا چاہئے اسی طرح اہل بدعت کو بھی ابتداء سلام نہیں کرنا چاہئے۔
-9 اگر سلام کرنے میں کسی کافر نے شرارت آمیز الفاظ استعمال کئے ہوں تو اس کو صرف وعلیکم کہہ دینا چاہئے جیسا کہ بعض یہود کا قاعدہ تھا کہ وہ السلام علیکم کو دبا کر السام علیک کہا کرتے تھے اور حضور ﷺ بھی اس کے جواب میں وعلیکم فرمادیا کرتے تھے۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں مثلاً کوئی کہے السلام علیکم تو واجب ہے تو اس کا جواب اگر برابر چاہے تو وعلیکم السلام اور اگر زیادہ ثواب چاہے تو رحمتہ اللہ بھی اور اگر اس نے یوں کہا تو آپ کہے وبرکاتہ (موضح القرآن)
ہم تسہیل میں ابھی عرض کرچکے ہیں کہ نفس جواب واجب ہے اور کلمات کی کمی بیشی کا اختیار ہے۔
ان اللہ علی کل شئی حسیبا کا یہ مطلب ہے کہ عمل پر وہ محاسبہ کرنے والا ہے اور اعمال کے موافق سلوک کرنے والا ہے مگر یہ کہ جس پر اس کی مہربانی ہوجائے تو وہ معاملہ دوسرا ہے۔ آگے توحید کا ذکر ہے جس میں رسالت بھی شامل ہے اور قیامت کے وقوع کا اعلان ہے۔ (تسہیل)
Ayah 4:87ف 2 اللہ تعالیٰ کی ذات ایسی ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود ہونے کے قابل نہیں وہ تم سب کو ضرور بالضرور قیامت کے دن جمع کرے گا اس دن کے واقع ہونے میں ذرا شک کی گنجائش نہیں اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ کس کی بات سچی ہوسکتی ہے اور اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر بات کا سچا کون ہوسکتا ہے۔ (تیسیر)
لاریب فیہ میں دو احتمال ہوسکتے ہیں ایک کو ہم نے اختیار کرلیا ہے اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اس کے جمع کرنے میں ذرا شک کی گنجائش نہیں۔ واللہ اعلم اللہ تعالیٰ کی بات سے زیادہ سچی تو کسی کی بات کیا ہوگی اس کے مساوی بھی نہیں جس کا علم اور قدرت کامل ہے اس کی بات کے برابر کسی کی بات سچی نہیں ہوسکتی اور جب اللہ تعالیٰ ہی کی بات سچی ہے تو قیامت کا وقوع ضرور ہوگا اور محشر میں سب کا جمع ہونا یقینی ہوگا اب آگے پھر منافقین کا ذکر ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 4:88ف 3 پھر اے مسلمانو ! تم کو کیا ہوگیا ہے کہ تم ان منافقین کے بارے میں جو مدینہ کو چھوڑ کر مکہ والوں سے جا ملے یعنی دار السلام کو چھوڑ کر دارالکفر میں چلے گئے باہم اختلاف رائے رکھتے ہو اور وہ دو گروہ بن گئے ہو حالانکہ اللہ تعالیٰ ان منافقوں کو ان کی کمائی کی وجہ ہے اور ان کے بد اعمالی کے سبب سے الٹا پھیر چکا ہے اور ان کو کفر میں لوٹا چکا ہے۔
کیا تم اے مسلمانو ! یہ ارادہ رکھتے ہو اور تم یہ چاہتے ہو کہ ایسے لوگوں کو ہدایت کرو اور ایسے لوگوں کو راہ پر لے آئو جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے محروم کر رکھا ہے اور ان کی گمراہی میں ڈال رکھا ہے اور جس کو اللہ تعالیٰ ہدایت سے محروم کر دے اور راہ سے ہٹا دے اور گمراہی میں چھوڑے رکھے تو اے مخاطب تو اس کے لئے مومن ہونے کی کوئی راہ نہ پائے گا۔ (تیسیر)
رکس اور نکس ہم معنی ہیں کسی چیز کو پلٹ دینا اوندھا کردینا پائوں پکڑ کر الٹا لٹکا دینا۔ یہاں ظاہری اسلام سے حقیقی کفر کی طرف پھیر دینا مراد ہے۔ شان نزول کے متعلق چند روایتیں منقول ہیں لیکن ان سب میں ایک چیز نمایاں ہے وہ یہ کہ ایک ایسی جماعت کے متعلق مسلمانوں میں رائے کا اختلاف ہوا جو اپنے کو مسلمان کہتے ہوئے اور اپنے اسلام کا اظہار کرتے ہوئے مدینہ آئی حالانکہ وہ مسلمان نہیں تھی مسلمانوں سے میل جول پیدا کیا۔ مسلمان اس کو مسلمان سمجھتے رہے پھر کس خاص بہانے سے مدینہ چھوڑ کر چلی گئی اور مکہ میں جا کر کفار سے مل گئی۔
بعض لوگوں کا خیال ہوا کہ وہ لوگ مسلمان ہیں محض اپنی ضرورت کے لئے مکہ گئے ہیں۔ بعض کی رائے یہ تھی کہ نہیں وہ کافر ہوگئے اور دارالسلام کو چھوڑ کر بلا کسی مجبوری کے دارالکفر میں چلے گئے اس لئے اب ان کے کافر ہونے میں کوئی شبہ نہ ہونا چاہئے۔ نبی کریم ﷺ بھی اس معاملہ میں خاموش رہے اسی اختلاف رائے کو دور کرنے کی غرض سے یہ آیتیں نازل ہوئیں اور اس بات کو واضح کیا گیا کہ جب یہ پارٹی آئی تھی اس وقت بھی مسلمان اس کی بد اعمالی کے باعث الٹا پھیر دیا تب تو اس کا کھلا ارتداد ظاہر ہوگیا اور ایسی حالت میں جب کہ ان کا ارتداد کھل گیا تو اب تم ان کے بارے میں اختلاف رائے کر رہے ہو تو کیا جن لوگوں کو ان کی بد اعمالی کے باعث اللہ تعالیٰ بےراہ کرچکا تم کو ان کی ہدایت کا خیال ہے اور تم یہ چاہتے ہو کہ جن کو خدا نے گم کردہ راہ کردیا ہے تم ان کو سیدھی راہ پر لے آئو اور کیا تم نہیں جانتے کہ جس کو خدا بےراہ رکھے تو اس کو راہ سے لگانے والا تم کو کوئی بھی نہیں مل سکتا۔ لہٰذا اس جماعت کے کفر میں تم کو باہم اختلاف نہیں کرنا چاہئے یہ اس آیت کا خلاصہ ہے جو ہم نے عر ض کردیا۔
اور یہ جو فرمایا بما کسبوا تو بظاہر اس موقعہ پر یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد ان کا بلا ضرورت اور بلا مجبوری دار الاسلام کو چھوڑ کر دارالکفر میں چلا جانا ہے لیکن ہوسکتا ہے کہ ان کی اور بد کرداریاں مراد ہوں جو عام طور سے کافر کیا کرتے ہیں۔ (واللہ اعلم)
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں۔ یہاں منافق فرمایا ہے ان لوگوں کو جو بظاہر میں بھی مسلمان نہ تھے لیکن حضرت کے ساتھ محبت اور ملاپ جتاتے تھے اس غرض سے کہ ان کی فوج ہماری قوم پر جاوے تو ہماری جان و مال بچ رہے جب مسلمان خبردار ہوئے کہ ان کی آمد و رفت اسی غرض کو وہ دل کی محبت سے نہیں تو بعضے کہنے لگے ان سے صحبت و ملاقات ترک کر یئے تاکہ ایک طرف ہوجاویں اور بعضوں نے کہا ملے جائیے اس میں شاید ایمان لادیں۔
اللہ نے فرمایا ہدایت اور گمراہی اللہ کے ہاتھ ہے اس کا فکر تم کو کیا ضرور باقی ایسوں سے جو معاملت چاہئے سو آگے فرما دی۔ (موضح القرآن)
ابن کثیر نے بہت اقوال نقل کئے ہیں مثلاً زید بن ثابت کا قول ہے کہ یہ لوگ وہ ہیں جو احد میں حضرت کے ساتھ نکلے تھے پھر پھرگئے کچھ لوگ کہتے تھے ان کو قتل کرو کچھ لوگ کہتے تھے ان کو چھوڑ دو ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔
محمد بن اسحاق کا قول ہے کہ یہ لوگ عبداللہ بن ابی کے ہمراہی ہیں جو لو لعلم قتالاً لا تبعنکم کو کہہ کر غزوہ احد سے لوٹ آئے تھے۔
حضرت عبدا للہ بن عباس کا قول بعض الفاظ کے فرق سے وہی ہے جو شاہ صاحب نے اختیار کیا ہے اس میں اتنا اور ہے کہ وہ بظاہر کلمہ اسلام پڑھتے تھے اور کافروں کی مدد کرتے تھے مکہ سے کسی کام کو نکلے تھے ان کے بارے میں مسلمانوں کی دورائیں ہوگئیں تھیں کچھ چاہتے تھے ان کو قتل کریں انہوں نے ہجرت نہیں کی کچھ کہتے تھے کہ یہ لوگ ہماری طرح کلمہ اسلام پڑھتے ہیں حضور اس بارے میں خاموش تھے مجاہد نے جو کچھ کہا وہ بھی تھوڑے سے فرق کے ساتھ اس کے قریب ہے اور ہم نے اسی کو اختیار کیا ہے اور اسی کو اپنی تیسیر کا مبنی قرار دیا ہے اور مجاہد کے قول پر ان کو منافق کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جب انہوں نے مدینے آ کر اپنے اسلام کا اظہار کیا تھا اس وقت بھی وہ مسلمان نہ تھے بلکہ منافق تھے اور مدینہ میں منافقوں کو قتل نہیں کیا جاتا تھا اس لئے ان کو بھی کچھ نہیں کہا گیا اور چونکہ اس وقت غیر معذور بن پر ہجرت فرض تھی یہ ہوسکتا ہے کہ دار الاسلام کو چھوڑ کر دارالکفر کی جانب جانا ہی کفر ہو، جیسا کہ لحوق بدار الحرب کا اب بھی یہی حکم ہے۔ اسی بنا پر بعض مسلمان ان کو کافر کہتے ہوں اور بعض جو ان کو مسلمان کہتے تھے وہ یا تو اس مسئلے سے واقف نہ ہوں گے اور یا ان کے ترک کو ترک نہ سمجھتے ہوں گے بلکہ یہ خیال کرتے ہوں گے یہ لوگ اپنی تجارتی ضروریات کے باعث یا اپنا سامان وغیرہ لینے مکہ گئے ہوں گے انہوں نے مدینہ کو چھوڑا نہیں ہے۔
بہرحال ان آیتوں کے نزول نے ان کے کفر کو ظاہر کردیا۔ اب آگے ان مرتدین کی ایک اور تمنا کا ذکر فرماتے ہیں جس کا کفر ہونا بالکل ہی ظاہر ہے کیونکہ اس تمنا سے یہ معلوم ہوا کہ ان کو کفر میں غلو ہے اور وہ تم کو بھی اپنا ہی جیسا دیکھنا چاہتے ہیں اور ان کی اس تمنا کے بعد ان کی سزا اور ان سے ترک تعلقات وغیرہ کا حکم دیتے ہیں چناچہ ارشد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 4:89ف 4 وہ تو یہ چاہتے ہیں اور وہ تو اس بات کے متمنی ہیں کہ جس طرح وہ خود کافر ہوئے ہیں اسی طرح تم بھی ان ہی جیسے کافر بن جائو تاکہ تم اور وہ سب ایک سے ہو جائو یعنی جیسے انہوں نے کافرانہ روش اختیار کی ویسے ہی تم بھی کفر کی روش اختیار کرلو جس میں تم او وہ سب برابر ہو جائو۔ لہٰذا تم اس وقت تک ان میں سے کسی کو اپنا رفیق اور دوست نہ بنائو جب تک وہ اللہ کی راہ میں ہجرت نہ کریں اور صحیح طور پر مہاجر نہ بنیں ۔ پھر اگر وہ ایمان لانے سے روگردانی کریں یعنی وہ ہجرت نہ کریں جو اصل ایمان کی علامت ہے تو تم جہاں کہیں بھی ان پر قابو پائو ان کو گرفتار کرو اور ان کو قتل کرو اور ان میں سے کسی کو اپنا رفیق اور مددگار نہ بنائو۔ (تیسیر)
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی جب تک تم میں نہ آ رہیں تب تک ان کو برے بھلے میں شریک نہ کرو اور لڑائی میں ان کو نہ بچائو۔ (موضح القرآن)
آیت کا خلاصہ مطلب یہ ہے کہ پہلے ان کی کافرانہ تمنا کا ذکر ہے کہ تم لوگ تو ان کے کفر و اسلام میں اختلاف کر رہے ہو اور ان کی یہ حالت ہے کہ وہ خود تو دارالاسلام سے دارالکفر چلے ہی گئے اب یہ چاہتے ہیں کہ تم بھی ان ہی جیسے کافر بن جائو اور جس طرح انہوں نے کفر اختیار کیا ہے اسی طرح تم بھی کفر اختیار کرلو۔ پھر تم اور وہ مساوی ہوجائیں۔ فتکونون کا عطف تکفرون پر ہے ہم نے محاورے کے موافق ترجمہ کردیا ہے پھر ان کے ساتھ برتائو کا ذکر ہے کہ جب ان کی یہ حالت ہے تو تم ان کے ساتھ مسلمانوں سا برتائو نہ کرو اور ان کو دوست نہ بنائو اور ان کو رفیق تجویز نہ کرو اور یہ دوستی اور رفاقت اس وقت تک نہ کرو جب تک وہ سچے دل سے مسلمان ہو کر ہجرت نہ کریں اور اگر وہ ہجرت یا ایمان سے روگردانی کریں اور کفر ہی پر قائم رہیں تو ان کو جہاں کہیں پائو پکڑو اور قتل کرو۔
غالباً ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت ہجرت توحید و رسالت کے اقرار کرنے کے قائمقام ہوگا جیسا کہ ہم نے اوپر بھی اشارہ کیا تھا دارالکفر سے دارالاسلام کی طرف، ہجرت کر کے آجانا ہی کلمئہ شہادت کے قائمقام سمجھا جاتا تھا اور چونکہ ہجرت اور ایمان دونوں مساوی تھے اس لئے فان تو لوا کے معنی کسی نے ہجرت سے روگردانی اور کسی نے ایمان سے روگردانی کئے ہیں ہم نے ترجمہ اور تیسیر میں دونوں کی رعایت کی ہے اگرچہ مطلب میں کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ ہجرت بھی وہی معتبر ہے جو تکمیل دین کے اعتبار سے کی جائے ورنہ یوں تو کافر بھی دارالسلام آتے جاتے رہتے ہیں۔
اسی لئے ہم نے تیسیر میں عرض کیا ہے کہ و ہ ہجرت جو ایمان کی علامت ہے غرض یہ کہ جب تک یہ لوگ صحیح طور پر ہجرت کر کے تمہارے پاس نہ آجائیں تم ان سے کوئی تعلق نہ رکھو اور اگر صحیح ہجرت سے روگردانی کریں تو پھر وہی برتائو کرو جو حربی کافروں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
آخر میں پھر ولایت و نصرت کے تعلقات سے منع فرمایا کہ ان مذکورہ لوگوں سے کوئی تعلق نہ رکھو بلکہ بالکل بےتعلق رہو دوستی اور ایک دوسرے کی مدد کرنے سے بالکل اجتناب کرو اور ان سے کوئی مدد نہ لو۔ اب آگے اس حکم میں سے بعض قیود اور بعض شرائط کے ساتھ کچھ کو مستثنیٰ کرتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayah 4:90ف 1 مگر ہاں ان کفار میں سے وہ لوگ گرفتاری اور قتل سے مستثنیٰ ہیں جو کسی ایسی قوم سے جا ملیں جس قوم سے تمہارا باہمی معاہدہ اور صلح ہے یعنی یہ لوگ اس قوم سے عہد کرلیں جو پہلے سے تمہاری معاہد ہے یا یہ کہ وہ ایسی حالت میں خود تمہارے پاس آجائیں کہ وہ تم سے جنگ کرنے میں اور نیز اپنی قوم سے لڑنے میں کبیدہ خاطر ہوں اور ان کے دل اس بات سے منقبض ہوں کہ وہ تم سے اور نیز اپنی قوم سے لڑیں تو ا دونوں صورتوں میں ا ن کو نہ گرفتار کرو اور نہ قتل کرو اور تم لوگ اللہ تعالیٰ کا احسان مانو کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو وہ ان کو تم پر مسلط کردیتا اور ان کو تم پر دلیر کردیتا سو وہ تم سے ضرور لڑتے پھر اگر یہ لوگ صلح کر کے تم سے کنارہ کش رہیں اور تم سے جنگ نہ کریں اور تم سے مصالحانہ رویہ رکھیں اور سلامت روی اختیار کریں تو اس حالت میں اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے خلاف تمہارے لئے زیادتی یعنی پکڑ دھکڑ اور قتل کی کوئی راہ نہیں رکھی۔ (تیسیر)
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی اس ملنے گھلنے سے تو ان کو لڑائی میں مت بچائو مگر دو صورت میں یا وہ ہم قسم ہیں تمہارے صلح والوں سے تو وہ بھی صلح میں داخل ہیں یا لڑائی سے عاجز ہو کر تم سے آپ صلح کریں اس پر کہ نہ اپنی قوم کی طرف ہو کر تم سے لڑں ی نہ تمہاری طرف ہو کر ان سے تو اگر اس عہد پر قائمر ہیں تو تم بھی اللہ کا احسان جانو کہ ہمارے لڑنے سے بند ہوئے۔ (موضح القرآن)
ہم ابھی اوپر عرض کرچکے ہیں کہ ان آیتوں میں کسی ایسی جماعت کا ذکر ہے جو مسلمانوں سے میل جول بڑھانے کی غرض سے مدینہ منورہ میں آئی اور اپنے اسلام کا اظہار کرتی رہی پھر بہانہ بنا کر مدینے سے چلی گئی اور مکہ والوں سے جا ملی۔
ایسے ہی لوگوں کا اوپر بیان تھا ان کے متعلق جو حکم بیان فرمایا اور جس سلوک کا حکم دیا وہ حکم دہی تھا جو عام حربی کافروں کا ہوتا ہے اور چونکہ اس وقت کافروں کی بعض قومیں ایسی بھی تھیں جو مسلمانوں سے عہد کرچکی تھیں جیسے اسلمی کہ نبی کریم ﷺ مکہ کی روانگی سے قبل ہی بلال بن عوس میرا سلمی سے اس امر پر صلح کرچکے تھے کہ ہلال کی قوم نہ ہمارے خلاف کسی قوم کی مدد کرے گی اور نہ ہماری مدد کرے گی اور جو شخص ہلال کی قوم سے جا ملے گا اور ہلال کی قوم اس کو پناہ دے دے گی اس کو ہماری جانب سے بھی امن ہوگا یا جیسے بنو مدکج کے لوگ کہ ان کی طرف سے سراقہ مدلجی نے اسی قسم کا معاہدہ کیا تھا یا بنو خزیمہ بن عامر بن عہد مناف یا خزاعہ یا بنو بکر بنی زید۔
غرض اس قسم کے مختلف قوموں سے حضور ﷺ کے معاہدے موجود تھے اب جو ان مرتدین یعنی مدینہ چھوڑ کر بھاگنے والوں کا ذکر فرمایا اور قتل واخذ کا حکم دیا تو ان میں سے دو قسم کے لوگوں کو مستثنیٰ کردیا اور چونکہ عام حربی کفار کا بھی یہی حکم ہے جیسا کہ ہم نے عرض کیا ہے تو یہ حکم مرتدین اور غیر مرتدین دونوں کو شامل ہے اور مطلب یہ ہے کہ حربی کفار کو خواہ وہ مدینے سے بھاگنے والوں میں سے ہوں خواہ ممالک حربیہ کے رہنے والے ہوں ان کو پکڑو اور قتل کرو اور ان کو ولایت و نصرت کے لالچ سے چھوڑو نہیں البتہ اگر ان کفار میں سے کوئی تمہاری معاہد قوموں میں سے کسی ق وم سے جا ملے اور ان کی پناہ میں آجائے یا کچھ لوگ اس معاہد قوم سے صلح کرلیں تو وہ بھی تمہاری عہد میں داخل ہوجائیں گے اور تم کو ان کے قتل کرنے یا گرفتار کرنے کی اجازت نہ ہوگی۔
دوسری صورت یہ ہے کہ انہی حربی کفار میں سے کوئی قوم تمہاری معاہد قوم سے تو مصالحت نہ کرے اور نہ ان کی پناہ میں آئے بلکہ تم سے براہ راست صلح کی درخواست کرے اور صلح کا طریقہ یہ ہو کہ وہ نہ تم سے لڑیں گے اور نہ تمہارے ساتھ ہو کر اپنی قوم سے لڑیں گے تو یہ بھی ایک صورت مصالحت کی ہے اگر اس طرح صلح ہوجائے تو اپنے ہاتھ روک لو۔
غرض اس قوم کے کفار کا بچائو دو طریقوں سے ہوسکتا ہے ایک طریقہ بالواسطہ اور دوسرا طریقہ بلا واسطہ بالواسطہ یہ کہ ان میں سے کوئی تمہاری معاہد قوم سے جا ملے تو وہ بھی تمہاری مصالحت میں داخل ہوجائے گا اور بلا واسطہ یہ کہ تم سے خود مصالحت کرلیں خواہ وہ مصالحت کم از کم اسی شرط پر ہو کہ آئندہ تم سے نہ لڑیں گے اور نہ تمہاری طرف سے لڑیں گے ان دونوں طریقوں میں سے جو طریقہ بھی اختیار کرلیں تو ان پر کسی قسم کی پکر دھکڑ یا قتل وغیرہ کا تم کو کوئی حق نہیں۔
درمیان میں اپنی مہربانی اور اپنے احسان کا ذکر فرمایا کہ یہ ہمارا احسان ہے کہ ہم نے ان کو مرعوب کردیا اور ان کو پیغام صلح پر مجبور کردیا اگر ایسا نہ ہوتا اور ہم ان کو جری اور دلیر رکھنے تو وہ لوگ یقینا تم سے نبرد آزما رہتے مگر اللہ نے تم کو اس پریشانی سے بچا لیا بس اب صلح کرنے کے بعد اگر یہ لوگ یکسو اور کنارہ کش رہیں اور جنگ نہ کریں اور مصالحت کے پابند رہیں تو وہ لوگ مامون ہوں گے۔
بعض حضرت ا نے یوں ترجمہ کیا ہے کہ اگر یہ لوگ یکسور ہیں اور تم سے جنگ نہ کریں اور تمہارے سامنے صلح پیش کریں ہمارے خیال میں ترجمہ کسی طرح کیا جائے اس سے ہمارے مطلب پر کوئی اثر نہیں پڑتا یہ سبجملے بطور تاکید ہیں کہ وہ بہرحال جو معاہدہ انہوں نے کیا ہے اس کی پوری پابندی کریں تب یہ حکم ہے اور اگر ایسا نہ کریں تو ان کا حکم آگے آتا ہے یہاں تک دو طبقوں کے کافروں کا ذکر فرمایا ہے ایک وہ جن سے کوئی صلح اور عہد نہیں دوسرے وہ جن سے بالواسطہ یا بلاواسطہ صلح اور عہد ہوجائے اور وہ عہد کے پابند رہیں۔ اب آگے تیسرے گروہ کا ذکر فرماتے ہیں جو عہد کر کے اپنے عہد سے پھرجائیں اور محض وقتی طور پر اپنی جان بچانے کو تمہیں دو کہ دیں چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)