Ayah 4:114ف 2 عام لوگوں کے باہمی مشوروں اور سرگوشیوں میں بسا اوقات بھلائی اور خیر و برکت نہیں ہوتی۔ مگر ہاں ان لوگوں کے باہمی مشورے اور سرگوشیاں ہیں جو صدقہ اور خیر خیرات کی تعلیم و ترغیب دیں یا کسی اور نیک و مستحسن کام کی تعلیم و ترغیب دیں یا لوگوں کے مابین اصلاح و صلح و صفائی کرانے کی ترغیب دیں اور جو شخص محض اللہ تعالیٰکی رضا جوئی اور خوشنودی کی غرض سے ان کاموں کی ترغیب دے گا اور ان کاموں کو کرے گا تو ہم اس کو عنقریب بہت بڑا اجر وصلہ عطا فرمائیں گے۔ (تیسیر)
نجوی زمین کے اس حصہ کو کہتے ہیں جو قطعہ بلند ہو یعنی پست اور ہموار زمین میں جو حصہ اونچا ہو اس کو نجوی کہتے یں لیکن اب بھید کو بولتے ہیں دو یا دو سے زیادہ کہیں مل کر کوئی مشورہ کریں اس کو نجوی کہیں گے آج کل ہماری اصطلاح میں خفیہ مجلس میٹنگ نجوی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
قرآن کریم میں مختلف معنی میں آیا ہے بھید کہنا، سرگوشی کرنا، کسی کو بھید بتانا ، خفیہ مشورہ کرنا وغیرہ ومن یفعل ذلک کے دو معنی کئے گئے ہیں ایک یہ کہ کوئی شخص ان کاموں کی ترغیب دے گا دوسرے یہ کہ جو یہ کام کرے گا یعنی صدقہ یا معروف یا اصلاح ہم نے تیسیر میں دونوں کا لحاظ رکھا ہے۔
بہرحال آیت کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے اکثر مشوروں میں خیر و برکت نہیں ہوتی جس میں یہ بنو ابیرق والوں کا مشورہ بھی شامل ہے جس میں بشیر کو یا طعہ کو بچانے کے لئے پنچایت جمع ہوئی تھی اور اہل محلہ نے رات کو مشورہ کیا تھا البتہ ! حسب ذیل کاموں کے لئے جو سرگوشی اور مشورہ ہو اس میں خیر و برکت ہوتی ہے کہ اس بات کی تدبیر کریں کہ صدقہ خیرات کس طرح کریں اور صدقہ خیرات کے متعلق مشورہ کریں اور لوگوں کو ترغیب دیں اور صدقہ خیرات کا حکم کریں یا کسی اور نیک اور بھلے کام کی ترغیب دینے کے لئے مشورہ کیا جائے یا لوگوں کی اصلاح اور لوگوں میں صلح صفائی کی ترغیب دینے کے لئے کوئی مشورہ ور سرگوشی کی جائے۔
ابتغا مرضات اللہ کا یہ مطلب ہے کہ یہ سب کام رضائے الٰہی کی غرض سے ہوں اور ان سب کاموں کی ترغیب دینا اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کی غرض سے ہو ریا کاری اور دکھاوے کے لئے نہ ہ کیونکہ ریا کار کسی اجر کا مستحق نہیں ہوگا بلکہ اجیر عظیم کے مستحق وہی لوگ ہوں گے جو بھلے کام کرنے سے رضائے الٰہی کے متلاشی ہوں اگرچہ معروف میں صدقہ اور اصلاح بین الناس بھی داخل ہے لیکن ان دونوں کی اہمیت اور خصوصیت ظاہر کرنے کے لئے ان کو علیحدہ ذکر کیا۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں منافق لوگ حضرت سے کان میں باتیں کرتے تاکہ لوگوں میں اپنا اعتبار ٹھہرا دیں اور مجلس میں بیٹھ کر آپس میں کان میں باتیں کرتے کسی کا عیب کسیک ا گلا اس کو اللہ صاحب نے فرمایا کہ ا ن کی مشورت بےخیر ہے صاف بات کو حاجت نہیں چھپانے کی مگر کچھ اس میں دغا ملی ہے اور چھپائے تو خیرات کو تا لینے والا شرمندہ نہ ہو یا مسئلہ دین کی غلطی بتانے کو نادان خجل نہ ہو یا لڑائی میں صلح کروانے کو کہ غصے والا جوش میں صلح نہیں مانتا اول آپس میں ٹھہرائے پھر اس کو سنائے۔ (موضح القرآن)
حضرت شاہ صاحب نے ایک مشہور شبہ کا جواب اپنے حاشیہ میں خوب دیا ہے شبہ کا خلاصہ یہ ہے صدقہ اور معروف اور اصلاح کی ترغیب میں خفیہ مشورہ کی کیا ضرورت ہے یہ کام تو بالاتفاق بھلے ہیں ان کے متعلق مشاورت کو کیوں مستثنا کیا اور دوسری تقریر جو ہم نے اوپر بیان کی تھی کہ اگر ان کاموں کا کرنا مراد ہے تب بھی ان کو چھپانے اور پوشیدہ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔
حضرت شاہ صاحب کے جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ صدقے کے متعلق تو خفیہ مشورے کی ضرورت اس لئے ہے کہ اس طرح یہ صدقہ دیا جائے کہ لینے والا شرمندہ نہ ہو مثلاً ایک شخص کے ساتھ کچھ سلوک کرنا ہے تو اس کے متعلق لوگوں سے پکار کر اس کے لئے کہو گے تو اس کو شرمندگی ہوگی، بہتر یہ ہے کہ علیحدہ بیٹھ کردو چار آدمی آپس میں مشورہ کرلیں کہ فلاں شخص کو کیا دینا اور کس طرح دینا ہے۔
اسی طرح شاہ صاحب نے معروف اور اصلاح میں بھی جواب دیا ہے جو آسانی کے ساتھ سمجھ میں آسکتا ہے معروف کا مطلب شاہ صاحبنے دین کی بات کیا ہے۔
حدیث شریف میں آتا ہے ہر معروف صدقہ ہے اور تیرا اپنے بھائی کے ساتھ خندہ پیشانی سے ملاقات کرتا بھی صدقہ ہے بعضنے کہا معروف سے مراد قرض ہے ۔ بعض نے کہا محتاج کی مدد کرتا ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ تمام اعمال خیر کو لفظ معروف شامل ہے اور چونکہ صدقہ با اعتبار نفع رسانی کے اہم ہے اور اصلاح دفع مضرت کے اعتبار سے اہم ہے اس لئے ان دونوں کا ذکر علیحدہ فرمایا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اعمال خیر جو متعدی ہیں ان کی تین قسمیں ہیں نفع رسانی اور دفع مضرت نفع رسانی کی دو صورتیں ہیں ایک جسمانی دوسرے روحانی جسمانی نفع رسانی کو صدقے سے تعبیر کیا ہے اور روحانی نفع کو معروف فرمایا اور دفع مفرت کو اصلاح بین الناس سے تعبیر کیا ہے۔ (واللہ اعلم)
بعض حضرات نے اصلاح بین الناس کی تخصیص کے متعلق یہ کہا ہے کہ اصلاح ایسی اہم چیز ہے کہ اس کے لئے غیر معروف طریقہ بھی استعمال کیا جاسکتا ہے مثلاً اگر کچھ جھوٹ بھی بول کر اصلاح بین للناس ہو سکے تو اس معاملہ خاص میں اس کی بھی گنجائش ہے یعنی تو یہ کے طور پر کچھ کہہ دینا جائز ہے۔
اسماء بنت زید کی روایت میں ہے فرمایا نبی کریم ﷺ نے غلط بیانی حلال نہیں ہے۔ مگر تین مواقع پر اگر غلط بات کہہ کر مقصد حاصل کیا جائے تو یہ غلط بیانی کذب میں شمار نہیں ہوگی ایک اپنی بیوی کو راضی کرنے کی غرض سے دوسرے لڑائی میں تیسرے اصلاح بی الناس کی غرض سے
حضرت ابوالدردا سے ترمذی اور ابو دائود نے روایت کی ہے فرمایا نبی کریم ﷺ نے کیا میں تم کو اس بات کی خبر نہ دوں جو بات روزے، صدقے اور نماز سب سے افضل ہے ہم نے کہا ہاں یا رسول اللہ ﷺ ارشاد فرمائیے آپ ﷺ نے فرمایا اصلاح ذات البین اور افساد ذات البین حالقہ ہے یعنی لوگوں میں اصلاح اور درستی کرنا سب سے افضل ہے اور لوگوں میں فساد ڈلوانا اور خرابی پیدا کرنا یہ مونڈنے والی چیز ہے جو مسلمان کے دین کو اس طرح مونڈ لیتی ہے جس طرح کوئی عالقہ بالوں کو مونڈ لیتی ہے۔
اجر عظیم کا یہ مطلب ہے کہ اس اجر کے مقابلہ میں دنیوی منافع ہیچ ہیں اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صدقہ معروف اور اصلاح کرنے والوں کو مستثنیٰ فرمایا اب ان لوگوں کا ذکر فرماتے ہیں جو ان کے علاوہ ہیں اور جن کی سرگوشیاں اور جن کے باہمی مشورے اللہ اور اس کے رسول کی مرضی کے خلاف ہوتے ہیں اور مسلمانوں کے عمل اور مسلمانوں کے عام اعتقاد کے خلاف طریقہ اختیا کرتے ہیں ان کے حق میں وعید کا اظہار فرماتے ہیں۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 4:115ف 1 اور جو شخص باوجود اس کے کہ اس پر امر حق واضح ہوچکا تھا اور اس کے لئے سیدھی راہ ظاہر ہوچکی تھی پھر بھی اس ظہور حق کے بعد رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کرے گا اور سب مسلمانوں کی راہ کیخلاف چلے گا اور مسلمانوں کا راستہ چھوڑ کر دوسرے راستے پر ہو لیتا ہے۔ یعنی مسلمانوں کے اعتقاد اور عمل کو چھوڑ کر دوسرے اعتقاد اور عمل اختیار کرتا ہے تو ہم اس کو اس کی اختیار کردہ راہ کے سپرد کردیں گے اور جو کچھ وہ کرتا ہے اس کو کرنے دیں گے اور آخرت میں اس کو جہنم میں داخل کریں گے اور وہ دوزخ بہت بری بازگشت ہے۔ (تیسیر)
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہے مسلمانوں کی جماعت پر جس نے جدی راہ پکڑی وہ جا پڑا دوزخ میں پس جس بات پر امت کا اجماع ہوا وہی اللہ کی مرضی ہے اور منکر ہوا سو دوزخی ہے۔ (موضح القرآن)
مطلب یہ ہے کہ جس شخص پر یہ بات ظاہر ہوچکی کہ دین اسلام یا اسلام کا بتایا ہوا طریقہ صحیح ہے اور یہ بات یا تو نبی کریم ﷺ کے فیصلے سے ظاہر ہوئی ہو جیسے بشیر یا طعمہ کے قضیے میں یا یہ کہ نبی کریم ﷺ کی رسالت اور آپ کے لائے ہوئے احکام آپ کے معجزات وغیرہ سے اس پر ظاہر ہوچکے ہوں اور پھر امر حق اور دین حق کے ظاہر ہوجانے کے بعد وہ رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کرنے لگے اور نبی کریم ﷺ کا مخالف ہوجائے جیسا کہ بشیر یا طعمہ کے متعلق مشہور ہے کہ وہ حضور ﷺ کے فیصلے کے بعد مرتد ہوگیا اور کفار مکہ سے جا ملا اور مسلمانوں کی راہ اس نے چھوڑ دی اور مسلمانوں کا جو اعتقاد اور عمل تھا اس کے خلاف کفار کا عقیدہ اور کفار کا عمل اختیار کرلیا۔
تو ایسے شخص کی دو سزائیں قرآن کریم نے بیان فرمائیں ایک تو یہ کہ دنیا میں جو طریقہ اس نے اختیار کیا ہے اسی پر اس کو چھوڑ دیتا ہوں اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ جو کرتا ہے وہ کرنے دیتا ہوں یا یہ معنی ہیں کہ جس طرح جاتا ہے اس کو اسی طرف کے حوالے اور سپرد کردیتا ہوں۔
لوگوں نے مختل ترجمے کئے ہیں اور ان سب کا خلاصہ یہ ہے کہ میں اس کی سرپرستی سے ہاتھ اٹھا لیتا ہوں اور یہ بالکل ایسا محاورہ ہے جیسے کوئی نالائق بیٹے کو کہتا ہے کہ مجھے اس سے کوئی مطلب نہیں اس کا جو جی چاہے کرتا پھرے میرا اس کا کوئی واسطہ نہیں۔
گویا حضرت حق تعالیٰ نے اپنی ناراضگی اور بیزاری کو ان الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے کہ لولہ مآ تولی اور یہ ایک انسان کی بدنصیبی اور بدبختی ہے کہ حضرت حق کی مہربانی اس بدنصیب سے دست کش ہوجائے اور یہ بھی انہی روحانی بیماریوں میں سے ایک بیماری ہے جن کی جانب ہم شروع سے توجہ دلانے چلے آئے ہیں کہ نافرمانیوں اور گناہوں کے مختلف ثمرات ہیں بعض دفعہ بتدریج ہوتا ہے اور بعض حرکت پر فوراً ہی راندئہ درگاہ کردیا جاتا ہے ایسے انسان کی جو حق کو حق دیکھ لینے کے بعد رسول کی مخالفت کرے اور مسلمانوں کی رہ چھوڑ کر دوسری راہ چلے اس کو دنیا میں تو یہ سزا ملتی ہے کہ اس سے اپنی شفقت و رحمت کا ہاتھ اٹھا لیتے ہیں اور اس کو اس کی حالت پر چھوڑ دیتے ہیں اور قیامت میں اس کو جہنم میں داخل کردیں گے اور واپس ہونے کے اعتبار سے جہنم بہت برا مقام اور بہت بری جگہ ہے۔
ویتبع غیر سبیل المئومنین سے بعض حضرات نے اجماع مسلمین کے حجت ہونے پر استدلال کیا ہے جیسا کہ حضرت شاہ صاحب نے اشارہ فرمایا ہے کہتے ہیں کہ حضرت امام شافعی (رح) نے کسی شخص کے سوال کرنے پر تین رات دن تک قرآن کریم میں غور کیا اور ہر دن میں تین مرتبہ اور ہر رات میں تین مرتبہ پورے قرآن کریم کو پڑھا اور تیر سے دن سوال کرنے والے کو اس آیت سے جواب دیا اور سائل کو مطمئن کردیا صاحب روح المعانی نے اس واقعہ کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔
بعض حضرات نے فرمایا ہے سبیل المومنین سے وہ طریقہ مراد ہے جس پر مسلمان ہمیشہ سے چلتے آئے ہیں وہی اعتقاد اور وہی عمل قابل اعتبار ہے۔
بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں دو باتوں کے لئے وعید فرمائی ہے ایک رسول کی مخالفت اور دوسرے اجماع کی مخالفت، رسول کی مخالفت ایک مستقل سبب ہے عذاب کا اور اجماع کی مخالفت ایک مستقل سبب ہے عذاب کا ان دونوں باتوں میں سے یعنی رسول کی پیروی اور مسلمانوں کے اجماع کی اتباع جس بات کی بھی کوئی مخالفت کریگا وہ مستوجب سزا ہوگا۔
بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ ویتبع غیر سبیل المئومنین دلیل ہے نبی کریم ﷺ کی مخالفت پر کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے ہر طریقفہ کا علم مشکل ہے یہ مشکل آپ کی زندگی میں بھی ان لوگوں کے لئے تھی جو دور دراز رہتے تھے اور وفات کے بعد تو ہر شخص کے لئی اس کی واقفیت ناممکن ہے بجز اس کی کہ ان راویوں کی روایات سے معلوم ہو جو آپ کے طریقہ کو نقل کرنے والے ہیں یا ان لوگوں سے جو آپ کے طریقہ پر یک بعد دیگرے عمل کرتے آئے ہیں ان سے معلوم ہو۔
پس نبی کریم ﷺ کی موافقت اور مخالفت اور اتباع اور عدم اتباع کا دار و مدار ہداۃ ودعاۃ پر ٹھہرا اور اسی کو سبیل المومنین فرمایا ہے اسی سبیل مئومنین کو نص اور اجتہاد کہا جاتا ہے اور یہی دو چیزیں امت میں رائج ہیں اور ہمیشہ سے چلی آتی ہیں اور یہی سبیل المئومنین ہے۔ (واللہ اعلم)
بہرحال ! اجماع کے متعلق بڑی تفصیل ہے جو اصول فقہ میں موجود و مرقوم ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے میری امت گمراہی پر مجتمع نہیں ہوگی اور اللہ تعالیٰ کا ہاتھ جماعت پر ہے ۔ (الخ) یعنی تمام امت گماہی پر جمع ہوجائے اور کوئی فریق بھی حق کہنے والا نہ رہے ایسا نہیں ہوگا بلکہ حق کہنے والوں ک ایک طبقہ ہمیشہ رہے گا اور یہ بات تجربہ سے ثابت ہے کہ عام طور پر اہل حق کی جماعت اہل باطل سے کم ہوتی ہے ہر دور میں ایسا ہی ہوتا رہا ہے صحابہ اور تابعین وغیرہ کے دور کو چھوڑ کر شاید ہی کبھی ایسا ہوا ہو جو اہل حق تعداد میں اہل باطل کا مقابل ہکر سکے ہوں اور بالخصوص اس ہمارے دور میں تو ہر طرف تاریکی ہی تاریکی نظر آتی ہے کفر و طغیان بد عات اور رسوم شرکیہ کا ہر جانب غلبہ اور عروج ہے اور حضرت مولانا شاہ ولی اللہ (رح) کی جماعت حقہ کی تعداد بہت کم ہے۔ وقیل من عبادی الشکور
ہم ابھی عرض کرچکے ہیں کہ بشیر یا طعمہ اپنے خلاف فیصلہ سننے کے بعد مرتد ہوگیا اور بغوی نے کہا ہے کہ مرتد ہونے کے بعد عادی چور ہوگیا اور عام طور سے نقب لگاتا تھا آخر ایک قافلہ والوں کی چوری کر کے بھاگا تو انہوں نے اس کا پیچھا کیا اور اس کو پتھر مار مار کر مار ڈالا اس لئے آگے کی آیتوں میں شرک کی مذمت فرماتے ہیں اور شرک کے علاوہ دوسرے گناہں کی مغفرت کا بیان فرماتے ہیں اور چونکہ جہاد اور مخالفین جہاد کا ذکر تھا اور مخالفین جہاد میں علاوہ منافقین اور یہود کے مشرکین بھی تھے۔ لہٰذا آگے ان کا ذکر ہے ۔…غرض ! کئی اعتبار سے ان مذکورہ آیات کو آگے کی آیات سے رابطہ حاصل ہے حضرت شاہ صاحب نے بھی اپنے حاشیہ میں ربط کی ایک مختصر تقریر فرمائی ہے جو آگے آجائے گی۔ بہرحال اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 4:116–117ف 2 بلاشبہ اللہ تعالیٰ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جائے خواہ اس کی ذات میں یا اس کی صفات مختصہ میں اور شرک سے کم درجے کے گناہوں کو خواہ وہ صغیر ہوں یا کبیرہ جس کے لئے وہ چاہے گا ان کو بخشدے گا اور بالکل سزا نہیں دے گا اور بات بھی یہ ہے کہ جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کیا خواہ وہ شرک ذاتی ہو یا صفاتی یقینا ایسی گمراہی میں جا پڑا جو راہ حق سے بہت دور ہے۔ (تیسیر)
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں اوپر سے ذکر تھا منافقوں کا جو پیغمبر کے حکم پر راضی نہ ہو اور جدی راہ چلے یہ آیت فرمائی کہ اللہ شرک نہیں بخشتا تو شرک فرمایا حکم میں شریک کرنے کو یعنی سوائے دین اسلام کے اور دین پسند رکھے اور اس پر چلے پس جو دین ہے سوا اسلام کے سب شرک ہے اگرچہ پوجنے میں شرک نہ کرتے ہوں (موضح القرآن)
حضرت شاہ صاحب نے خوب تقریر فرمائی یعنی اوپر پیغمبر کے حکم پر نہ چلنے کا ذکر تھا جیسے عام طور پر منافق کرتے ہیں یا اس واقعہ خاص میں بشیر نے یا طعمہ نے کیا اور اب آگے اللہ کے حکم میں شریک کرنے کا ذکر ہے یعنی حقیقی امر تو اللہ تعالیٰ ہے اور اس کا حکم ہے کہ تمہارا دین اسلام ہونا چاہئے۔ اب کوئی شخص یہ حکم نہ مانے اور کوئی دوسرا دین قبول کرلے تب بھی وہ مشرک ہے خواہ کسی بت کو سجدہ نہ کرے شاہ صاحب کے حاشیہ کو غور سے پڑھنے کی ضرورت ہے اللہ تعالیٰ شاہ صاحب کی مساعی کو مشکور فرمائے آیت کا مطلب یہ ہے کہ مشرک کسی درجہ کا بھی ہو وہ باوجود سزا کے بھی نہیں بخش دے گا اور جو شخص شرک کا مرتکب ہوا اور جس بدبخت نے اللہ تعالیٰ کے استھ شرک کیا خواہ اس کی ذات کے ساتھ کسی کو شریک کیا خواہ اس کے حکم کے مقابلہ میں کسی دوسرے کا حکم مانا یا اللہ تعالیٰ کی صفات مختصہ میں کسی کو شریک مقرر کیا تو ایسا شخص انتہائی گمراہی میں جا پڑا اور ایسی گمراہی میں چلا گیا جو سیدھی راہ سے بہت دور ہے یعنی کوئی شخص سیدھی سڑک سے ذرا دائیں بائیں ہوجائے تو سیدھی راہ اختیار کرلینے کی توقع ہوتی ہے لیکن جو میلوں اور کوسوں دور چلا جائے وہ کس طرح سیدھی سڑک پر آسکتا ہے … شرک اس قدر مذموم ہے کہ آج کل ہر تہذیب میں اس کو برا سمجھا جاتا ہے یہاں تک کہ مشرک بھی شرک کو برا کہکتے ہیں اور چونکہ شرک ہر اعتبار سے قابل مذمت اور اللہ تعالیٰ کی توہین و اہانت ہے اس لئے اس جرم کو ناقابل معافی فرمایا اور حضرت شاہ صاحب نے یہ بات بھی صاف کردی کہ کفر اور شرک کا ایک ہی حکم ہے کیونکہ کفر بھی شرک کے ساتھ علت میں مشترک ہے جس طرح شرک واجب الوجود کی اہانت ہے اسی طرح کفر میں بھی شرک کے ساتھ علت میں مشترک ہے جس طرح شرک واجب الوجود کی اہانت ہے اسی طرح کفر میں بھی واجب الوجود کے کسی نہ کسی حکم کا انکار ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے کسی حکم کے انکار ہی کو کفر کہتے ہیں اور ایسے کافر بھی ہیں جو واجب الوجود کی ذات ہی کا انکار کرتے ہیں تو خواہ کوئی اللہ تعالیٰ کی ذات کا منکر اور کسی صفت کا منکر ہو یا واجب الوجود کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرا کر اس کی توہین کرتا ہو ان سب کا حکم ایک ہی ہے آگے مشرکین کی حالت کا مزید بیان ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 4:118–119ف 3 یہ مشرک نہیں عبادت کرتے مگر چند عورتوں کی یعنی دیویوں کی اور زنا نے ناموں کی اور یہ مشرک نہیں عبادت کرتے مگر شیطان کی جو سرکش اور نافرمان ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے اور جس کو اپنی رحمت سے دور کردیا ہے اور جس نے اللہ تعالیٰ سے یوں کہا تھا کہ میں تیرے بندوں سے ضرور اپنا مقرر حصہ لے کر رہوں گا اور تیری اطاعت و عبادت میں بٹوارا کرا کے رہوں گا۔ (تیسیر)
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی تیرے بندے اپنے اعمال میں میرا حصہ ٹھہرا رکھیں گے جیسے دستور ہے بتوں کی نیاز نکال رکھتے ہیں۔ (موضح القرآن)
اناث انثی کی جمع ہے ان کے بتوں کو عورتیں اس لئے فرمایا کہ عام طور سے وہ اپنے بتوں کو مئونث سے تعبیر کرتے تھے یا یہ ان کے بتوں کے اکثر نام عورتوں کے سے نام تھے جیسے لات منات وغیرہ یا اس وجہ سے کہ وہ جمادات تھے اور جمادات کو اہل لعنت بکثرت مئونث سے تعبیر کرتے ہیں اور کافر عام طور سے ان بتوں کو زیور پہنا کر ان کو آراستہ کیا کرتے تھے یا بتوں کی کمزوری کی وجہ سے ان کو اناث فرمایا یا اس وجہ سے کہ اکثر فرشتوں کو پوجتے تھے اور فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے اس لئے ان کے معبود ان کو اناث فرمایا۔
حسن اور قتادہ نے کہا مردے ہیں جن میں روح نہیں اور چونکہ جمادات اور عام چیزوں کو بھی عام طور سے مئونث سے تعبیر کرتے تھے اس لئے اناثا فرمایا۔
بہرحال ! عرب کے عام محاورے کے لحاظ سے ان کے اصنام کو اناثا فرمایا ہے شیطان کی عبادت کا مطلب یہ ہے کہ اس کی اطاعت کرتے ہیں اور چونکہ وہ بتوں کی عبادت پر آمادہ کرتا ہے اس لئے وہ بھی ان کی عبادت میں شریک ہے۔
حضرت سفیان ؓ سے مروی ہے کہ کوئی بات ایسا نہیں جس میں شیطان نہ ہو حضرت مقاتل کا قول ہے کہ شیطان سے مراد یہاں ابلیس ہے اور چونکہ یہ مشرک اس کے حکم اور اس کے کہنے کی پیروی کرتے ہیں اس لئے مجازاً بتوں کے ساتھ شیطان کی بھی عبادت کرتے ہیں۔
مزید سرکش خدا کی اطاعت سے نکل بھاگنے والا نصیب مفروض مقررہ اور مقدرہ حصہ خلاصہ یہ ہے کہ یہ مشرک ان اوثان و اصنام کی عبادت کرتے ہیں جن کے نام زنانے ناموں پر رکھے ہوئے ہیں اور چونکہ شیطان مرید کے کہنے سے ایسا کرتے ہیں لہٰذا شیطان کو بھی مجازاً معبود بنا رکھا ہے آگے شیطان کے اوصاف ہیں کہ وہ مرید اور اللہ تعالیٰ کا ملعون ہے جس کو خدا نے اپنی رحمت سے دور پھینک رکھا ہے اور جس نے ملعون ہوتے وقت یہ کہا تھا کہ میں تیرے بندوں میں سے ایک مقرر حصہ جو میرے لئے مقرر ہے لے کر رہوں گا یعنی ان کو اپنے ہمراہ جہنم میں لے جانے کی کوشش کروں گا اپنے ارادے کا اس نے اظہار کیا تھا اور یہ محض اپنی قوت اور کوشش کے خیال سے کہا تھا اور اتفاق سے جو گمان اس نے کیا تھا وہ پورا بھی ہوگیا ولقد صدق علیھم ابلیس ظنہ نصیب مقروض سے مراد اطاعت کا حصہ ہے جیسا کہ مفسرین نے کہا ہے کہ جن چیزوں میں شیطان کی اطاعت کی جائے وہی اس کا نصیب مفروض ہے آگے اور شیطان کی باتیں مذکور ہیں۔ (تسہیل)
Ayahs 4:120–121ف 1 اور میں یقینا تیرے بندوں کو صحیح راہ سے گمراہ کر دوں گا اور میں ان کو بےبنیاد امیدوں میں الجھائوں گا تاکہ وہ معاصی میں مبتلا ہوگیا اور میں ان کو یہ بھی تعلیم دوں گا کہ وہ چوپایوں کے کانوں کو چیریں اور کاٹیں اور میں ان کو یہ بھی سکھائوں گا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے خلق میں صورتاً اور ضعتاً تغیر و تبدل کریں اور اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی صورتوں کو بگاڑیں اور جس شخص نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا رفیق بنایا اور دوست تجویز کیا یقین جانو ! وہ صریح نقصان اور کھلے ٹوٹے میں جا پڑا اور وہ کھلا دیوالیہ ہوگیا شیطان ان لوگوں سے غلط وعدے کیا کرتا ہے اور ان کو بےبنیاد آرزئوں اور امیدوں میں مبتلا کیا کرتا ہے اور شیطان ان سے جو وعدہ کرتا ہے اور جو توعقات بھی ان کو دلاتا ہے وہ صرف دھوکہ اور فریب ہے۔ (تیسیر)
ضلال اور امانی سے ہر قسم کی گمراہی اور امیدیں دلانا مراد لیا جاسکتا ہے لیکن بعض لوگوں نے اضلال سے مراد اعتقاد کی گمراہی اور تمنیت سے گفاہوں پر امیدیں دلانا مراد لیا ہے۔
حضرت ابن عباس نے امانی کی تفسیر میں توبہ کی تاخیر اور توبہ کو ٹالنا کیا ہے کلبی کا قول ہے کہ امانی کا مطلب یہ ہے کہ نہ دوزخ ہے نہ جنت اور ہ مرنے کے بعد جی اٹھنا بعض نے کہا امانی کا مطلب یہ ہے کہ گناہوں کے ساتھ جنت کی توقع دلائوں گا۔
تبتیک کے معنی ہیں کاٹنا اور پھاڑنا اور چونکہ کفار کا عام طریقہ بھی یہی تھا کہ جانوروں کو اپنے بتوں کے نام پر جب چھوڑتے تھے تو ان کے کان تھوڑے تھوڑے کاٹ دیتے تھے یا بیچ میں سے کان چیر دیا کرتے تھے اور ان کو بحیرہ اور سائبہ وغیرہ کہتے تھے جس کی تفصیل انشاء اللہ ساتویں پارے میں آجائے گی۔
ہم نے ترجمہ میں دونوں لفظ لکھ دیئے ہیں تغیر فی خلق اللہ بھی عام ہے جس میں ہر قسم کی غیر شرعی تغیر داخل ہے خواہ وہ صورت کی تیغیر ہو مثلاً کسی جانور کی آنکھ پھوڑ دینا یا کسی انسان کا داڑھی منڈانا یا مرد کا عورت کی صورت اور عورت کا مرد کی صورت بنانا بدن کو گدوانا یا کسی جانور اور آدمی کا مثلہ کرنا یا صفت کی تغیر مثلاً چاند سورج کو معبود بنانا یا پتھروں کی عبادت کرنا یا فطرت سلیمہ کو بدلنا یا عورت کا عورت سے بدفعلی کرنا یا مرد کا مرد کو عورت کی جگہ استعمال کرنا وغیرہ یہ سب صورتیں تغیر کو شامل ہیں اسی طرح کسی مرد کو خصی کرنا بلکہ بعض نے تو یہاں تک عموم لیا ہے کہ داڑھی کے خضاب کو بھی شامل کرلیا ہے اور اسی لئے ہمے غیر شرعی تغییر کا لفظ استعمال کیا ہے تاکہ ختنہ کرانا اور ناخن کتروانا اور بڑھی ہوئی داڑھی کو شرعی حد تک کتروانا اور شرعی طور پر خضاب وغیرہ کی چیزیں اس تغییر میں داخل نہ ہوں اور اس تغییر سے وہی تفسیر مراد لی جائے جو شریعت میں ناجائز ہے ہم نے امانی میں جو بےبنیاد کی قید لگائی ہے اس کا منشا بھی یہی ہے کہ شیطان کی وہ تمام توقعات جو وہ دلاتا ہے وہ محض بےبنیاد اور محض سراب ہوتی ہیں۔
غرور کے معنی ہیں دھوکہ، فریب، دغا مطلب یہ ہے کہ اس کے تمام وعدے بظاہر نفع کے ہوتے ہیں لیکن وہ ضرر محض ہوتے ہیں اس لئے اس کے وعدہ کو فریب فرمایا۔
اضلال اور امانی کی جو تفسیر ہم نے کی ہے اس میں ہر قسم کے گناہ آجاتے ہیں خواہ وہ عقائد کے ہوں یا اعمال کے خواہ وہ کفر یہ عقائد و اعمال ہوں خواہ وہ فاسقانہ اعمال ہوں۔
غرض ! یعدھم ویمنیھم اور ولا ضلنھم میں شیطان کے وہ تمام مکائد اور وساوس اور اس کی تمام سیہ کاریاں داخل ہیں جو بنی آدم کی تباہی اور نقصان کا موجب ہیں۔
حضرت شاہ صاحب مبینا پر فرماتے ہیں جانوروں کے کان چیریں یہ کافروں کا دسوتر تھا گائے کا یا بکری کا ایک بچہ بت کے نام کردیا اس کے کان میں نشان ڈال دیتے اور صورت بدلنا یہ کہ لڑکے کے سر میں پوٹی رکھتے بت کے نام کی مسلمانوں کو ان کاموں سے بچنا ضرور ہے اپنے بزرگوں سے یہ معاملت نہ کرے کافر بھی جن سے کرتے تھے بزرگ ہی جان کر کرتے تھے۔ (موضح القرآن)
اب آگے شیطان کے وعدوں پر یقین کرنے والوں اور اس کی امید دلانے پر بھروسہ رکھنے والوں کا انجام بیان فرماتے ہیں اور شیطان کے متبعین کے بعد ان لوگوں کا ذکر فرماتے ہیں جو اہل ایمان ہیں اور یہ قرآن کریم کا عام قاعدہ ہے کہ مشرک اور بد اطوار لوگوں کے ذکر کے ساتھ نیک بندوں کا ذکر بھی کرتا ہے تاکہ تصویر کے دونوں رخ سامنے رہیں اور احکام کا ہر پہلو پیش نظر رہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ تاکہ تصویر کے دونوں رخ سامنے رہیں اور احکام کا ہر پہلو پیش نظر رہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 4:122ف 2 یہ لوگ جو شیطان کے فرمانبردار ہیں یہی وہ ہیں جن کا آخری ٹھکانا جہنم ہے اور یہ لوگ اس دوزخ سے کہیں بھاگنے کو جگہ نہ پائیں گے اور رہے وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک اعمال کے پابند رہے اور اچھے کام کرتے رہے ہم ان کو عنقریب ایسے باغوں میں داخل کریں گے جن کی سیر گاہوں کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی وہ ان باغوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اللہ تعالیٰ نے اس حسن سلوک کا وعدہ فرمایا ہے اور سچا وعدہ فرمایا ہے اور اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کون بات کا سچا ہوسکتا ہے۔ (تیسیر)
محیص جائے فرار وعد اللہ حقاً کی لوگوں نے مختلف ترکیبیں کی ہیں ہم نے مشہور ترکیب اختیار کی ہے یعنی وھدھم وعداوا حقہ حقا اور یہ اہل زبان کا ایک مشہور طریقہ ہے کہ ایک جملہ کو دوسرے جملے سے موکد کرتے ہیں جیسے زید قائم حقاء
باغ کے نیچے نہریں بہنے کا مطلب ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ باغ نہر کے کنارے آباد ہوں گے یا باغوں کے اندر نہریں بہتی ہوں گی یا اہل جنت کے بالا خانوں اور شہ نشینوں اور سیر گاہوں کے پائیں نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ ومن اصدق من اللہ قیلا بھی مضمون سابق کی تاکید ہے اور ہم اوپر ومن اصدق من اللہ حدیثاً کے تحت بیان کرچکے ہیں کہ سچی بات وہی ہے جو واقع کے مطابق ہو اور یہ وہی کرسکتا ہے کہ جس کا علم کامل ہو اور جو غیب کی خبر رکھت ہو نیز وہ کوئی وعدہ کرے تو اس کے پورا کرنے پر قادر ہو۔
بہرحال ! جس کا علم کامل ہو اور قدرت کامل ہو اسی کی بات پوری اور سچی ہوسکتی ہے اوپر کی آیت میں شیطانی امیدوں کی لغویت اور اس کی فریب دہی کا ذکر تھا۔ اب ان امیدوں کو صراحتہ ذکر فرماتے ہیں اور ان فرقوں کا رد فرماتے ہیں جو باوجود اپنی غلط کاریوں اور کفر و فسق کے یہ امیدیں قائم کئے بیٹھے ہیں کہ ہم جنتی ہیں اور ہم خدا کے محبوب اور پیارے ہیں اعمال صالحہ اور صحیح عقائد کے بغیر ایسی امیدیں قائم کرنا یہی وہ شیطانی امیدیں ہیں جن میں وہ عوام کو مبتلا رکھتا ہے اور بعض موقعہ پر باہم اس قسم کی رقیبانہ گفتگو میں ہوا بھی کرتی تھیں ایک طرف مسلمان دوسری طرف کفار اہل کتاب آپس میں اپنی اپنی کی رقیبانہ گفتگو میں ہوا بھی کرتی تھیں۔ ایک طرف مسلمان دوسری طرف کفار اہل کتاب آپس میں اپنی اپنی امیدوں کا اظہار کیا کرتے تھے اور ایک دوسرے کے مقابلے میں فخر کیا کرتے تھے اس کے متعلق ایک ضابطہ بیان فرماتے ہیں جس میں اول اس قسم کی بےعمل امیدوں کا رد ہے۔
پھر ان لوگوں کا ذکر ہے جو واقعی نجات اور مغفرت کے اہل ہیں اور آخر میں سیدنا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت سے استدلال ہے جو متفقہ طور پر سب کے نزدیک صحیح اور قابل اتباع ہے ۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 4:123–124ف 3 مسلمانو ! آخرت کی کامیابی اور نجات نہ تو تمہاری آرزوئوں پر موقوف ہے اور نہ اہل کتاب کی تمنائوں پر موقوف ہے بلکہ ضابطہ یہ ہے کہ جو شخص بھی کوئی برا کام کرے گا وہ اس برے کام کی سزا دیا جائے گا اور وہ اللہ تعالیٰ کے سوا نہ اپنا کوئی حمایتی پائے گا اور نہ مدد گار
مطلب یہ ہے کہ آخرت کے متعلق بےبنیاد امیدیں قائم کرنے سے کوئی فائدہ نہیں قاعدہ یہ ہے کہ جو شخص بھی کوئی برا کام کرے گا خواہ وہ برا کام عقیدے سے تعلق رکھتا ہو خواہ اعمال سے تعلق رکھتا ہو۔ بہرحال اس برے کام کا اس کو بدلا دیا جائے گا اور ایسے شخص کو کوئی حمایت کرنے والا اور اور کوئی مدد کرنے والا بھی میسر نہ آئے گا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کتاب والوں کا خیال تھا کہ ہم خالص بندے ہیں جن گناہوں پر خلق پکڑی جائے گی ہم نہ پکڑے جائیں گے ہمارے پیغمبر حمایت کریں گے اور نادان مسلمان بھی اپنے حق میں یہی خیال رکھتے ہیں سو فرما دیا کہ برا کام جو کرے گا سزا پاوے گا کوئی ہو حمایت کسی کی پیش نہیں جاتی۔ اللہ کا پکڑواہی چھوڑے تو چھوٹے دنیا کی مصیبت میں آدمی قیاس کرلے۔ (موضح القرآن)
احمد سعید بن منصور اور حاکم میں مرفوعا روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوتی تو اکثر صحابہ پر شاق گذری صدیق اکبر نے بارگاہ رسالت مآب حضرت محمد ﷺ کی خدمت میں عرض کیا۔ یا رسول اللہ ﷺ اب نجات اور فلاح کی کیا صورت ہوگی کیونکہ ہم سے جو برا کام ہوا ہے اس کی سزا ملے گی۔ حضور ﷺ نے فرمایا اے ابوبکر ! اللہ تیری مغفرت کرے کیا تجھ کو کوئی تکلیف نہیں پہونچتی کیا تجھ کو کوئی غم نہیں ہوتا کیا تجھ کو کسی آفت سے دوچار ہونا نہیں پڑتا۔
حضرت ابوبکر صدیق نے کہا ایسا تو اکثر ہوتا رہتا ہے حضور ﷺ نے فرمایا۔ ھو بما تجزون بہ یہ وہی جزا ہی تو ہے جس کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے۔
اسی روایت سے ملتی جلتی اور بھی بہت سی روایتیں کتب احادیث میں منقول ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ دنیا میں جو مصائب اور تکالیف پیش آتی ہیں وہ خطائوں کا کفارہ ہوتی ہیں یہں تک کہ کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے یا کوئی اور معمولپریشانی بھی ہوتی ہے تو وہ سیئات کے لئے موجب کفارہ ہوتی ہے۔
حضرت ابوہریرہ کی ایک اور روایت میں ہے کہ جب یہ آیت مسلمانوں پر شاق ہوئی تو حضور ﷺ نے فرمایا گھبرائو نہیں بلکہ مضبوطی کے ساتھ قائم رہو مسلمانوں کو جو مصیبت پہونچتی ہے وہ ان کے لئے کفارہ ہوتی ہے۔
اسی طرح حضرت ابو سعید اور ابوہریرہ سے مرفوعاً آیا ہے کہ کوئی تکلیف کوئی مشقت کوئی حزن اور کوئی فکر ایسا نہیں کہ مسلمانوں کو پیش آئے اور وہ اس کے گناہوں کے لئے موجب کفارہ نہ ہو ۔
حضرت حسن نے فرمایا اس آیت میں کافر مراد ہے ابن عباس اور سعید بن جبیر سے سوا کی تفسیر شرک کے ساتھ منقول ہے ۔ (واللہ اعلم)
شان نزول سے اور سیاق وسباق سے وہی بات معلوم ہوتی ہے جو ہم نے عرض کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ بےکار اور خالی خولی امیدیں قائم کرنے سے کچھ حاصل نہیں اگر گناہ کا کوئی شخص مرتکب ہوتا ہے خواہ وہ کوئی ہو تو اس کو سمجھ لینا چاہئے کہ گناہ گار کو گناہ کی سزا دی جائے گی خواہ دنیا کے مصائب کی شکل میں ہو خواہ آخرت میں کوئی عذاب یا خدمت وغیرہ کی شکل میں ہو جیسا گناہ ویسی سزا ۔
اب آگے دوسرا ضابطہ فرماتے ہیں جس کا تعلق ایمان اور عمل صالح سے ہے چناچہ ارشاد ہتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 4:125ف 1 اور جو کوئی شخص کوئی نیک کام کے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ مومن ہو تو ایسے نکو کار مومن جنت میں داخل ہوں گے اور ان پر ذرا بھی ظلم نہیں کیا جائے گا اور ان کے حق میں تل برابر بھی کمی نہیں کی جائے گی اور اس شخص سے بہتر اور اچھا کس کا دین اور کس کا طریقہ ہوسکتا ہے جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں سرتسلیم خم کردیا ہو اور اپنے آپ کو اس کے سپرد کردیا ہو اور وہ نکو کار اور مخلص ہو اور نیک روش کا پابند ہو اور وہ سب ملتوں سے یکسو ہو کر صرف ملت ابراہیم کا پیرو اور متبع ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم کو اپنا خالص دوست بنایا تھا۔ (تیسیر)
نقیر سے مراد بہت حقیر شئے کھجور کی گٹھلی پر جو چھلکا ہوتا ہے اس کو نقیر کہتے ہیں ظلم کی نفی فرمائی کیونکہ جہاں عدل ہی عدل ہو وہاں ظلم کہاں من الصالحات میں اہل علم نے من تبعیضیہ مراد لیا ہے کیونکہ تمام اعمال صالحہ پر کون عمل کرسکتا ہے۔
اسلم وجھ لللہ کے معنی ہم پہلے پارے میں بیان کرچکے ہیں۔ انقیاد استسلام لفظی ترجمہ تو وہی ہے جس نے اپنا منہ دھرا اللہ کے سامنے انسان کا چہرہ چونکہ اشرف اعضا ہے اس لئے کامل اطاعت اور مجسم حوالگی کو ان الفاظ سے تعبیر کرتے ہیں محسن کی تفسیر بھی گزر چکی ہے لوگوں نے بہت سے معنی کئے ہیں ہم نے مخلص اختیار کرلیا ہے۔
حدیث شریف میں اس کے معنی اس طح بیان کئے گئے ہیں کہ اللہ کی عبادت اس طرح کر گویا تو اس کو دیکھ رہا ہے۔
مطلب یہ ہے کہ جس طرح ایک ادنیٰ غلام اپنے آقا کے روبرو اور اس کے سامنے اس کی خدمت بجا لاتا ہے اسی طرح مخلصانہ طور پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنی چاہئے۔
حنیف کے معنی ہیں سب سے کٹ کر اور سب سے اپنا رخ پھیر کر ایک طرف ہوجانا بعض لوگوں نے یہاں ملت کی قید بتائی ہے اور بعض نے ابراہیم کی اور بعض نے واتبع کیضمیر سے اس کو حال بنایا ہے ہم نے تیسری صورت کو اختیار کرلیا ہے کیونکہ ہمارے نزدیک یہی راجح ہے خلیل ایسے دوست کو کہتے ہیں جو خالص ہو بعض نے کہا یہ لفظ خلال سے مشتق ہے اور بعض کے نزدیک خلل سے مشتق ہے کسی نے کہا خلۃ سے مشتق ہے۔
بہرحال ! حضرت حق کی جناب میں یہ درجہ بہت ہی ممتاز درجہ ہے مگر محبت سے کم ہے سیدنا ابراہیم علیہالسلام خلت خالصہ کے مرتبہ پر فائز تھے اور نبی کریم ﷺ کو محبوبیت خالصہ سے فائز المرام فرمایا تھا اور محبوبیت کی راہ میں خلت سے گزرنا ہوتا ہے اس لئے نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) کو خلیل بنایا تھا اسی طرح مجھ کو بھی خلیل بنایا ہے یعنی محبوب بنانے سے قبل مجھ کو خلیل بنایا۔
خلت کی شرط یہ ہے کہ بندہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا مطیع و فرمانبردار ہو خواہ اس کی جان کا معاملہ ہو خواہ اس کی اولاد کا اور مال کا ہو اور محبت کی شرط یہ ہے کہ محب محبت میں فنا ہوجائے اور سوائے محبوب کے کوئی چیز باقی نہ رہے ہر طرف وہی ہو بلکہ خود اپنی ذات بھی پیش نظر نہ رہے۔ (واللہ اعلم)
بہرحال ! یہ مقام اور خلت و محبت کا فرق ایسا عمیق اور باریک ہے کہ جس کا سمجھنا مشکل ہے ان مراتب سے مراد انتہائی قرب اور انتہائی مقبولیت ہوا کرتی ہے۔ آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اہل کتاب جو فخر کر رہے ہیں اور محض امیدوں پر عمارت تعمیر کر رہے ہیں یہ بےکار اور فضول ہے بلکہ جو شخص آخری شریعت پر ایمان لائے اور نیک اعمال کا پابند ہو وہی جنت میں داخل ہوگا اور اس پر کوئی ظلم نہیں ہوگا اور چونکہ یہ بات صرف نبی کریم ﷺ اور آپ کے اصحاب اور آپ کے صحیح متبعین پر صادق آتی ہے اس لئے ان کا ذکر ایک نئے عنوان سے فرمایا کہ اس سے بہتر کس کا دین ہوسکتا ہے جو مسلمان ہو، مخلص ہو اور ملت ابراہیمی کا پیرو ہو اور تمام ادیان باطلہ کو چھوڑ کر اس نے ملت ابراہیمی کی پیروی اختیار کی ہو اور ابراہیم (علیہ السلام) چونکہ ہمارے خالص دوست تھے اس لئے جو ان کے طریقے پر چلے گا وہ ہمارا دوست ہوگا اور وہ جنت میں داخل ہوگا چونکہ یہ باتیں مسلمانوں میں ہیں اس لئے وہی آخرت میں فائز و کامیاب ہونگے آگے اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرماں برداری پر دلیل بیان فرمائی تاکہ معلوم ہو کہ اس کی اطاعت کے سوا انسان کو کوئی چارہ نہیں کیونکہ دو باتیں کسی شخص کی اطاعت کا سبب ہوسکتی ہیں ایک سلطنت اور دوسرے علم یہ دونوں چیزیں حضرت حق ہی کو حاصل ہیں جس کی سلطنت بھی کامل اور جس کا علم بھی کامل ہے لہٰذا وہی کامل اور صحیح اطاعت کا مستحق بھی ہے۔ (تسہیل)
Ayah 4:126ف 2 اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اللہ تعالیٰ ہی کی ملک ہے اور اللہ تعالیٰ کے علم وقدرت نے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے۔ (تیسیر)
مطلب وہی ہے جو ہم اوپر عرض کرچکے ہیں ایک حصہ میں اللہ تعالیٰ کی سلطنت اور اس کی مالکیت کا اعلان ہے اور دوسرے حصہ میں اس کے علم اور اس کی قدرت کا اعلان ہے اور یہی دو باتیں بندے کے لئے اس کی عبادت و اطاعت کا موجب ہیں غالباً یاد ہوگا کہ سورة نساء کی ابتداء میں یتیم بچوں کے سلسلے میں بعض احکام و مسائل فرمائے تھے کیونکہ لوگ یتیم بچوں کے بارے میں کوتاہی کرتے تھے اگر کوئی یتیم لڑکی خوبصورت اور مالدار ہوتی اور اتفاقاً اس کا ولی ایسا ہوتا جس سے نکاح جائز ہوتا۔
مثلاً چچا زاد بھائی تو ولی اس سے نکاح کرلیتا مگر مہر پورا مقرر نہ کرتا اور اگر کوئی لڑکی بدصورت ہوتی تو اس سے نہ خود نکاح کرتا اور اس خوف سے کہ اس کی دولت کہیں اور چلی جائے گی اس کا نکاح کسی دوسری جگہ بھی نہ کرتا اور اس سے نفرت کرتا۔
بعض لوگ عورت کی میاث ہی نہ دیتے تھے بعض عورت کو تنگک رنے کی غرض سے قید رکھتے تھے تاکہ وہ اپنا مال چھوڑ دے اور اپنا پیچھا چھڑا لے۔
غرض ! ان تمام باتوں کی اصلاح اور ان کی روک تھام کے لئے اس سورت کی ابتداء میں احکام بیان فرمائے تھے۔ چناچہ ان ہی باتوں کے متعلق بعض لوگوں نے مختلف سوال کئے تھے جن کا جواب آگے مذکور ہے۔ مثلاً پہلے یتیم لڑکیوں سے نکاح کرنے کی ممانعت فرمائی تھی اب لوگوں کو خیال ہوا کہ غیر سے نکاح کرنے کی بجائے دلی اگر نکاح کرے تو کم از کم یتیمیہ کی دیکھ بھال صحیح ہوگی اور بعض کو یہ واقعہ پیش آیا کہ بدصورتی کی وجہ سے خود تو لڑکی سے نکاح نہ کیا اور مال نکل جانے کے خوف سے کہیں دوسری جگہ بھی نکاح نہ کیا اس بارے میں بعض لوگوں نے سوال کیا اور چونکہ پسندیدہ عورت کے ساتھ نکاح کرنے میں پورا مہر دینے کا حکم تھا اس لئے شاید بعض لوگوں نے یتیمہ سے کہہ سن کر کم کرانے کی کوشش کی ہے اس پر سوال ہوا ہو کہ اگر یتیمہ خود کم مہر پر اضی ہوجائے تب تو کوئی اعتراض نہیں ہے۔
غرض ! اسی قسم کے سوالات کا آگے جواب مذکور ہے اور گزشتہ احکام کا اعادہ ہے کہ جو حکم ہم دے چکے ہیں اس میں تمہارا اور یتامیٰ کا فائدہ اور احتیاط ہے اور انہی احکام سابقہ پر توجہدلانے کے ساتھ عورتوں کے بعض اور مسائل بھی ارشاد فرمائے۔ چناچہ ارشاد ہتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 4:127ف 3 اور اے پیغمبر ! ﷺ یہ لوگ آپ سے عورتوں کی میراث اور مہر وغیرہ کے بارے میں حکم دریافت کرتے ہیں آپ کہہ دیجیے کہ اللہ تعالیٰ تم کو ان عورتوں کے بارے میں حکم دیتا ہے اور اس بارے میں وہ آیات بھی تم کو حکم دیتی ہیں جو قرآن کریم میں تم کو پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی ہیں اور ان کی تم پر تلاوت کی جاتی رہتی ہے۔ یعنی سورة نساء کی گزشتہ آیات وہ آیات ان یتیم عورتوں کے بارے میں ہیں جن کو تم ان کا وہ حق ہو شرعاً ان کے لئے مقرر ہے نہیں دیتے یعنی میراث اور مہر وغیرہ اور تم ان کے خوبصورت اور مالدار ہونے کی وجہ سے یہ چاہتے ہو کہ ان سے نکاح کرلو اور وہ آیات جو کمزور بچوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں اور وہ آیات جن میں یہ حکم ہے کہ تم یتایٰ کے حال کی انصاف کے ساتھ پوری نگہداشت کرو اور دیکھو تم جو بھلا اور نیک کام کرو گے الہل تعالیٰ اس سے بخوبی واقف اور اس کو جاننے والا ہے۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ جو سوالات تم کر رہے ہو ہم ان کے متعلق سورة نساء کی گزشتہ آیات میں احکام بیان کرچکے ہیں۔ ان ہی سابقہ احکام پر عمل کرنے کا تم کو حکم دیتے ہیں اور وہ آیات جن پر عمل کرنے کا ہم تم کو مکرر حکم دے رہے ہیں وہ تم جانتے ہو کیونکہ قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے جب قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہیں تو وہ آیات بھی تم جانتے ہو کیونکہ قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے جب قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہیں تو وہ آیات بھی تم کو سنائی جاتی ہیں اور وہ آیات وہی ہیں جن میں تم کو ان یتیم لڑکیوں کے بارے میں احکام بتائے گئے ہیں جن کے مالدار اور خوبصورت ہونے کی وجہ سے تم ان کو اپنے نکاح میں تو لانا چاہتے ہو مگر ان کی حیثیت کے موافق ان کا مہر ادا نہیں کتے بلکہ کم مہر مقرر کر کے ان سے نکاح کرنا چاہتے ہو اور جو مالدار لڑکی بدصورت ہوتی ہے اس کے ساتھ نکاح کرنے سے نفرت کرتے ہ اور دوسری جگہ بھی اس کا نکاح نہیں کرتے کہ کہیں اس کی دولت میں کوئی دوسرا شریک نہ ہوجائے اور یہ سابقہ آیات وہی ہیں جن میں کمزور بچوں کے مال کی حفاظت اور ان کی پرورش کا حکم دیا گیا ہے اور نیز یہ آیات وہی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ یتامی کے تمام کام اور ان کے تمام حوائج اور ضروریات میں اور ان کے تمام کاموں میں انصاف کے ساتھ قائم رہو خواہ وہ مہر کا معاملہ ہو یا ان کی میراث کا قصہ ہو یا ان کے کھلانے پلانے اور دیکھ بھال اور ان کی اخلاقی تربیت کا معاملہ ہو سب میں انصاف کرو اور تم جو بھی کار خیر کرو گے اللہ تعالیٰ اس کو جانتا ہے اور وہ اس کا اجر تم کو دے گا۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں اس سورت کے اول میں تقید تھا یتیم کے حق کا اور فرمایا تھا کہ لڑکی یتیم جس کا والی نہیں مگر چچا کا بیٹا اگر جانے کہ میں اس کا حق ادا نہ کروں گا تو آپ اس کو نکاح میں نہ لائے کسی اور کو دے کہ آپ اس کا حمایتی رہے تو مسلمانوں نے ایسی عورتوں کو نکاح میں لانا موقوف کیا پھر دیکھا کہ بعض جگہ لڑکی کے حق میں بہتر ہے کہ اپنا والی ہی نکاح میں لا دے جو وہ اس کی خاطر کرے گا غیر نہ کرے گا حضرت سے رخصت مانگی اس پر یہ آیت اتری رخصت ملی اور فرمایا وہ جو کتاب میں منع سنا تھا سو جب ہے کہ ان کا حق پورا نہ دو اور یتیم کے حق کی تاکید تھی اور جو بھلائی کیا چاہو تو رخصت ہے۔ (موضح القرآن)
حضرت شاہ صاحب کا مطلب شاید یہ ہے کہ گزشتہ آیت وان خفتم الا تقسطوا فی الیتایٰ کو سن کر مسلمانوں نے یتیم لڑکی سے جو اپنی ولایت میں ہو نکاح کرنا بالکل بند کردیا تھا پھر اس کے نقصانات محسوس ہوئے تو سوال کیا اللہ تعالیٰ نے ان گزشتہ احکام کو یاد دلاتے ہوئے فرمایا۔ وما تفعلوا من خیرفان اللہ کان بہ علیماً یعنی وہ تو یتیم بچوں کے مال کی حفاظت اور ان کو پورا مہر دینے کے سلسلے میں تھا اور اگر تم یتیمہ کا اپنے سے نکاح کرنے میں فائدہ دیکھو اور اس کا مہر پورا مقرر کرو تو اس سے نکاح کرنے کی رخصت ہے۔
فقیر نے ابھی شان نزول کے سلسلے میں عرض کیا تھا کہ سوالات مختلف تھے جیسا کہ بخاری اور مسلم اور ابن جریر وغیرہ کی روایات سے معلوم ہوتا ہے اس لئے بعض حضرات نے شاہ صاحب کی تفسیر کو ترجیح دی ہے اور بعض حضرات نے محض حکم سابق پر توجہ دلانے کو ترجیح دی ہے۔ (واللہ اعلم) اور چونکہ اس نکاح کے معاملے میں دو صورتیں پیش تھیں ایک مالدار اور خوبصورت لڑکی سے نکاح کی رغبت اور مہر کا کم مقرر کرنا دوسرے مالدار اور بدصورت لڑکی سے خود ناکح نہ کرنا اور نہ اس کو کہیں نکاح کرنے دینا اس وجہ سے بعض حضرات نے و ترغبون ان تنکحوھن کا ترجمہ یوں کیا ہے اور ان کے ساتھ نکاح کرنے سے نفرت کرتے ہو اور چونکہ واقعات کی بنا پر یہاں دونوں کی گنجائش ہے اس لئے ہم نے تسہیل میں دونوں مفہوم ادا کردیئے ہیں۔ وان تقوموا اللیتمی بالقسط کا مطلب ی ہے کہ یتیموں کے تما م کام اور تمام کار گزاری انصاف کے ساتھ کی جائے۔
ہم نے ترجمہ میں حضرت شاہ عبدالقادر صاحب کے اور تیسیر میں حضرت شاہ لی اللہ صاحب کے لافاظ اختیار کئے ہیں اگرچہ مطلب دونوں کا یکساں ہے آگے عورتوں کے بعض مسائل ارشاد ہوتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayah 4:128ف 1 اور اگر کسی عورت کو اپنے خاوند کی طرف سے لڑنے جھگڑنے اور زیادتی کرنے کا یا بےرغبتی اور بےپروائی کا خوف ہو تو ایسی حالت میں دونوں میاں بیوی کو اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ دونوں آپس میں کسی خاص طور پر صلح کرلیں اور باہم کسی بات پر خودہی صلح کرلیں اور یہ آپس میں صلح کرلینا بہر حال بہتر ہے اور ہر انسان کے سامنے طبعاً حرص رکھی ہوئی ہے اور ہر جی میں حرص و بخل کی خواہش ودیعت کی گئی ہے اور اگر تم عورتوں کے ساتھ نیکی کرو اور ان کے ساتھ اچھا برتائو کرو اور احتیاط سے کام لو تو اجر کے مستحق ہو گے کیونکہ بلاشبہ تم جو کام کرتے ہو اللہ تعالیٰ ان سب کاموں سے باخبر ہے۔ (تیسیر)
نشوز کے معنی ہم عرض کرچکے ہیں اعراض منہ پھیرنا، بےرغبتی اور بےپروائی کا اظہار کرنا۔ شح کے معنی بخل اور حرص ہم نے اس کا ترجمہ کہیں بخل آمیز حرص اور کہیں حرص آمیز تجل کیا ہے۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی مرد کا دل پھر ا دیکھے اور عورت اس کی خوشی کرنے کو اپنا حق کچھ چھوڑ دے تو روا ہے اور جیوں کے سامنے دھری ہے حرص یعنی مال بچنا ہر کسی کو خوش خوش لگتا ہے البتہ مرد راضی ہوجاوے گا۔ (موضح القرآن)
ازدواجی زندگی میں نشوز خواہ عورت کی جانب سے ہو خواہ مرد کی جانب سے بڑی تکلیف وہ چیز ہے اس سے میاں بیوی دونوں کی زندگی پر برا اثر پڑتا ہے اور زندگی تلخ ہوجاتی ہے اگر عورت کی جانب سے نشوز ہو تو چونکہ خاوند کو من وجہ عورت پر برتری اور فوقیت حاصل ہے اس لئے اس کا علاج اور تھا جو اسی پارے ک شروع میں گزر چکا ہے اور یہ اگر نشوز مرد کی جانب سے ہو مثلاً بد اخلاقی کج روی، بات بات پر بد مزاجی یا یہ کہ عورت کی جانب سے بےتوجہی ار بےرخی غرض یہ سب وہ باتیں ہیں جو عورت کے لئے تکلیف دہ اور موجب اذیت ہوتی ہیں اس لئے ان کے دفع کرنے کا طریقہ یہاں سکھایا بعض حضرات نے نشوز اور اعراض کا ایک ہی مطلب بیان کیا ہے لیکن نحاس وغیرہ نے فرق بیان کیا ہے اور مفسرین کے بیان سے بھی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نشوز اعراض سے بڑھا ہوا ہے، غرض ! آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ عورت کو اگر قرآئن سے اس امر کا احتمال غالب ہو کہ خاوند کی جانب سے نشوز اور اعراض کا برتائو ہوگا اور عورت طلاق اور جدائی نہ چاہتی ہو تو آپس میں بغیر کسی حکم کے بنائے ہوئے کسی خاص طور پر صلح کرلیں عورت اپنا حق چھوڑ دے یا کم کر دے مثلاً ! نان نفقہ چھوڑ دے یا کم کر دے یا اپنی باری چھوڑ دے اور شوہر اس کو قبل کرے اور اس طرح صلح ہوجائے تو یہ صلح بہرحال روزمرہ کی جھک جھک اور طلاق و فراق سے بہتر ہے پھر فرمایا واحضرت الانفس الشح یہ جملہ بطور دلیل کے فرمایا ہے کیونکہ طبعاً ہر انسان کے دل میں مال کی حرص اور مال پر بخل موجود ہے جب خاوند کو فائدہ نظر آئے گا تو وہ اس شرط کو مان لے گا نان و نفقہ کی کمی یا بالکل چھوڑ دینے میں تو مال کا فائدہ دکھائی دے گا اور باری معاف کردینے میں پابندی اٹھ جائے گی اور دوسری بیویوں کے لئے ایک رات مل جائے گی اس طرح یہ خواہش اور یہ حرص پوری ہوجائے گی اور وہ جب دیکھے گا کہ میرا مطلب پورا ہوتا ہے تو وہ طلاق نہ دے گا اور صلح پر رضا مند ہوجائے گا اور اس صلح سے عورت کی خواہش بھی پوری ہوجائے گی کہ وہ کس طرح نکاح میں رہے اور اس کو طلاق نہ ہو اگرچہ مردوں کو اس طرح صلح کرلینا جائز ہے لیکن پھر بھی احسان اور تقوے کی جانب ان کو توجہ دلائی کہ اگر ان کے حقوق چھڑوانے کی خواہش نہ کرو اور نشوز و اعراض میں احتیاط ہر تو اور ان سے بد اخلاقی اور بےرخی کی برتائو نہ کرو تو تم کو اجر وثواب ملے گا اور اس کا یقین کرو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں سے باخبر اور واقف ہے لہٰذا اگر احسان اور تقوے کی روش اختیار کرو گے تو تم کو اجر ضرور ملے گا۔
کہتے ہیں کہ یہ آیت خویلہ بنت محمد بن مسلمہ اور اس کے خاوند سعد بن ربیع کے بارے میں نازل ہوئی ہے جب خویلہ کا نکاح ہوا تو وہ جو ان تھی بڑھاپے میں سعد نے اور بیوی کرلی اس پر زیادتی کرنے لگا خویلہ طلاق لینا نہ چاہتی تھی اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
بخاری نے کہا کہ کوئی شخص تھا جو زیادہ مالدار نہ تھا وہ اپنی بیوی کو ھچوڑنا چاہتا تھا بیوی نے اپنے حقوق چھوڑ دیئے اور طلاق نہ لی۔
صحابہ کی ایک جماعت نے سودہ بنت زمعہ کی شان میں اس آیت کا نزول ذکر کیا ہے، بہرحال آیت کا نزول کسی ایک واقعہ سے تعلق رکھتا ہو یا چند واقعات سے تعلق ہو اس سے اصل حکم پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور ہم نے جو صلح کے ترجمہ میں خاص کا لفظ استعمال کیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ صلح شرعی طور پر ہو اگر کوئی شرط ناجائز ہوگی تو صلح بھی ناجائز ہوگی اور حقوق چھوڑ دینے کا یہ مطلب نہیں کہ پھر ان حقوق کا مطالبہ کرنے کا حق باقی نہیں رہتا بلکہ عورت کو یہ حق باقی رہتا ہے کہ وہ چاہے تو اپنے حقوق کا مطالبہ کرے خاوند یا تو ان حقوق کو پورا کرے گا یا طلاق دے دے گا اور ہوسکتا ہے کہ وا حضرت الانفس الشح میں اس طرف اشارہ ہو کہ دلوں میں حرص تو موجود ہی ہے ہو سکات ہے کہ عورت کچھ دنوں کے بعد اپنے حقوق کا مطالبہ کر بیٹھے تو بہرحال عورت کو ایسا مطالبہ کرنے کا حق باقی رہتا ہے اور گزشتہ سقوط سے آئندہ کا حق ساقط نہیں ہوتا۔
اب آگے اسی سلسلے میں اور ایک بات بیان کی جاتی ہے جس کا تعلق اس امر سے ہے کہ اگر چند بیویوں میں دل کا تعلق سب سے یکساں نہ ہو تو ظاہری حقوق میں مساوات کا رکھنا لازمی ہوگا۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے ۔ (تسہیل)