Ayahs 4:149–150ف 1 اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ کوئی کسی کو علانیہ برا کہتا پھرے مگر ہاں وہ شخص کہ جس پر ظلم کیا گیا ہو یعنی مظلوم اپنے ظالم کی نسبت کچھ شکایت وغیرہ کا اظہار کرے تو گناہ نہیں اور اللہ تعالیٰ مظلوم کی خوب سننے والا اور ظالم کے ظلم کو خوب جاننے والا ہے اگر تم علانیہ کوئی بھلا کام کرو یا اس کو خفیہ کردیا کسی کی برائی کو معاف کردو تو یقین جانو ! کہ اللہ تعالیٰ بڑا درگذر اور معاف کرنیوالا اور بڑی قدرت والا ہے۔ (تیسیر)
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی کسی میں عیب دین یا دنیا معلوم کرے تو اس کو مشہور نہ کرے کیونکہ اللہ سنتا اور جانتا ہے وہ ہر کسی کی جزا دے گا اسی کو غنیب کہتے ہیں اس میں مظلوم کو ردا ہے کہ ظالم کا ظلم بیان کرے اسی طرح اور بھی کئی مقام میں غیبت روا ہے یہ حکم شاید اس پر فرمایا کہ منافق کا نام مشہور نہ کرے جیسے حضرت نے مشہور نہیں کیا اس میں اس کا دل زیادہ ہی بگڑتا ہے مبہم نصیحت کرے منافق آپ سمجھ لے گا اس میں شاید ہدایت پاوے۔ (موضح القرآن)
آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ بات ناپسند اور اس کے نزدیک مبغوث ہے کہ کسی شخص کی برائی کا تذکرہ اور چرچا کیا جائے اور کسی کی شکایت کی جائے البتہ اگر کوئی مظلوم ہو اور کسی پر زیادتی کی گئی ہو تو وہ اس ظالم اور زیادتی کرنے والے کی شکایت کرسکتا ہے اور اس قسم کی شکایت کرنے الے کو کوئی گناہ نہیں ہوگا۔
سمیعاً علیماً کا مطلب اگرچہ عام ہے مگر موقعہ کی مناسبت سے ہم نے تیسیر میں مظلوم کی بات خوب سنتا اور ظالم کو خوب جانتا ہے کردیا اور چونکہ وہ مظلوم کی بات اور اس کی شکایت کو سنتا ہے تو اس لئے شکایت میں احتیاط کرنی چاہئے اور خلاف واقعہ کی کوئی بات نہیں کہنی چاہئے پھر فمایا کہ ہرچند ظلم و زیادتی کرنیوالوں کی شکایت اور شکوہ روا ہے لیکن اگر تم کوئی نیک کام علانیہ کردیا خفیہ کردیا زیادتی کرنیوالے کی برائی کو معاف ہی کردو تو یہ بہت اچھی بات ہے کیونکہا للہ تعالیٰ بھی بڑا معاف کرنے والا ہے اور وہ بڑی قدرت رکھنے والا ہے یعنی اپنے مخالف سے انتقام لینے کی قدرت رکھنے کے باوجود معاف کردیتا ہے تو تم اللہ تعالیٰ کے اخلاق اور اس کی تہذیب اختیار کرو اگرچہ خیر میں بھی مظلوم سے درگذر کرنا داخل تھا کیونکہ کسی کی زیادتی کو معاف کرنا یہ بھی کار خیر ہی ہے لیکن پھر خصوصیت کے ساتھ فرمایا۔ اوتعفوا عن سوء کہ اگر برائی کو بالکل ہی معاف کردو اور کوئی شکوہ شکایت نہ کرو اور صبر سے کام لو تو یہ اچھا ہے اور جہر بالسوء کا یہ مطلب نہیں کہ شکوہ اور شکایت بلند ہی آواز سے کی جائے بلکہ ہلکی آواز سے کچھ کہا جائے تو اس کا بھی یہ حکم ہے۔
حضرت شاہ صاحب نے آیت کو غیبت پر حمل کیا ہے شاہ صاحب کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ آیت میں حصر حقیقی نہیں بلکہ حصر اضافی ہے اسی لئے علماء نے کہا ہے کہ اگر کسی شخص سے دینی یا دنیوی ضرر پہونچتا ہو تو اس سے بھی لوگوں کو مطلع کردینا چاہئے۔
غرض ! بلا ضرورت شرعی اور بلا کسی مصلحت کے کسی شخص کی بدگوئی اور عیب بیانی جائز نہیں حدیث شریف میں آتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے قسم کھا کر فرمایا ہے کہ جس مظلوم نے اپنے ظالم کو معاف کردیا تو اللہ تعالیٰ مظلوم کی عزت اور بلند کر دے گا۔
ابن عمر کی روایت میں ہے کہ حضور ﷺ سے کسی نے دریافت کیا یا رسول اللہ ﷺ میں اپنے خادم کی غلطیوں کو کتنی مرتبہ معاف کیا کروں۔ آپ ﷺ نے فرمایا ہر دن میں ستر مرتبہ درگذر کیا کر
اس روایت کو ترمذی ابو دائود اور ابو یعلی نے نقل کیا ہے حضرت مقاتل نے کہا یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ واقعہ یہ ہے کہ ایک شخص حضرت ابوبکر صدیقی ؓ کے روبرو ان کو برا بھلا کہہ رہا تھا حضرت ابوبکر ؓ خاموشی تھے حضور ﷺ بھی تشریف رکھتے تھے پھر ابوبکر ؓ نے بھی اس کو جواب دینا شروع کیا تو حضور ﷺ مجلس سے اٹھ کر چلے گئے بعد میں ابوبکر ؓ نے دریافت کیا یا رسول اللہ ﷺ جب تک میں خاموش سنتا رہا تو آپ تشریف فرما رہے اور جب میں نے مدافعت میں کہنا شروع کیا تو آپ تشریف لے گئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا جب تک تو خاموش سنتا رہا تو آپ تشریف فرما رہے اور جب میں نے مدافعت میں کہنا شروع کیا تو آپ تشریف لے گئے حضور ﷺ نے فرمایا جب تک تو خاموش رہا تو ایک فرشتہ تیری طرف سے اس کو جواب دے رہا تھا اور جب تو نے خود جواب دینا شروع کیا تو فرشتہ چلا گیا اس کی جگہ شیطان آگیا اس لئے میں چلا گیا۔
بعض حضرات نے کہا ہے کہ یہ اس مہمان کو حق دیا ہے کہ جس کامیزبان اس کی مہمان نوازی نہ کے تو ایسے مہمان کو یہ حق ہے کہ وہ میزبان کی شکایت کرسکتا ہے ۔ حضرت ابن عباس نے یوں مطلب بیان کیا کہ کوئی شخص کسی شخص کے لئے بد عا نہیں کرسکتا مگر ان مظلوم کو یہ حق ہے کہ وہ ظالم کے لئے بد عا کرسکتا ہے اور صبر کرلینا مظلوم کے لئے بہتر ہے۔
حضرت حسن کہتے ہیں کہ بد دعا کا مطلب یہ ہے کہ یوں کہے اللھم اعنی علیہ اللھم استخرج لی حقی اللھم حل بینی و بین مایریل یعنی یا اللہ فلاں شخص کے مقابلہ میں میری مدد کر یا اللہ فلاں شخص سے میرا حق وصول کرا دے یا اللہ فلاں شخص جو ارادہ کر رہا ہے اس کے ارادے اور میرے درمیان تو روک بن جا اور میرے خلاف اس کے ارادے کو کامیاب نہ ہونے دے۔
حضرت عائشہ کی روایت میں مرفوعاً آیا ہے کہ جس شخص نے اپنے ظالم کے خلاف بدعا کی تو اس نے اپنا بدلہ لیا۔
حضرت ابوہریرہ کی روایت میں مرفوعاً آیا ہے جو دو شخص آپس میں ایک دوسرے کو برا بھلا کہتے ہیں تو گناہ اس شخص پر ہوتا ہے جو دونوں میں ابتدا کرنے والا ہوتا ہعے۔ بشرطیکہ مظلوم زیادتی نہ کے۔ مطلب یہ ہے کہ جو شخص برا کہنے میں پہل کرتا ہے تو جواب دینے والے گناہ بھی اسی پر ہوتا ہے مگر شرط یہ یہ کہ مظلوم جواب دینے میں زیادتی نہ کرے۔
بعض حضرات نے آیت کو اکراہ پر محمول کیا ہے اور مطلب یہ ہے کہ کفر اور شرک کی بات کا زبان پر لانا اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے مگر ہاں جس شخص پر ظلم کیا گیا اور اس نے اپنی جان بچانے کو کوئی بات زبان سے نکال دی اور قلب اس کا محفوظ رہا تو ایسا شخص قابل عفو ہے۔
بعض حضرات نے استثنا منقطع قرار دیا ہے اور ہر طرح معنی کئے ہیں بہرحال ہم نے مشہور کا قول اختیار کیا ہے ہم ین ابھی عرض کیا تھا کہ ان آیات میں کافروں کا ذکر ہے خواہ وہ کھلے کافر ہوں یا منافق ہو یا یہود و نصاریٰ میں سے ہوں چناچہ اب آگے یہود کی شرارتوں کا ذکر ہے۔ اگرچہ حضرت شاہ صاحب (رح) منافقین سے تمام آیات کا ربط بیان فرما رہے ہیں۔ مگر ہم نے ربط آیات کا آسان اور سہل طریقہ اختیار کیا ہے۔ تاکہ پڑھنے والوں کو کوئی الجھائو نہ ہو۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی منافق کو چاہو کہ صادق کرو تو ظاہر کے طعن سے چھپا سمجھانا بہتر ہے اور درگذر خوب ہے اللہ بھی جانتا بوجھتا بندوں سے در گذر کرتا ہے۔ (موضح القرآن) (تسہیل)
Ayah 4:151ف 2 بلاشبہ جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے ساتھ کفر کرتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ با اعتبار ایمان لانے کے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے درمیان فرق کریں چناچہ وہ اپنی اس خواہش کا زبان سے اظہار بھی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پیغمبروں میں سے ہم بعض کو تو مانتے ہیں اور ان پر ایمان لاتے ہیں اور بعضوں کو ہم نہیں مانتے اور یہ لوگ یوں چاہتے ہیں کہ کفر اور ایمان کے بین بین کوئی راہ اختیار کرلیں اور کفر و ایمان کے درمیان ایک ایسا راستہ نکال لیں جو نہ خالص کفر ہو اور نہ خالص ایمان ہو یعنی مسلمانوں اور مشرکوں کے درمیان ایک نئی راہ تجویز کرنا چاہتے ہیں تو ایسے لوگ یقینا کافر ہیں اور اصل کافر یہی لوگ ہیں اور کافروں کے لئے ہم نے اہانت آمیز اور ذلیل و رسوا کن سزا تیار کر رکھی ہے۔ (تیسیر)
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یہاں سے ذکر ہے یہود کا قرآن میں اکثر ذکر یہود کا اور منافقین کا ایک جا آیا ہے اس جگہ یہ فرمایا ہے کہ اللہ کا ماننا یہی ہے کہ زمانے کے پیغمبر کا حکم مانے اس بغیر الل کا ماننا غلط ہے۔ (موضح القرآن)
اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کو مان ک اس کی شان میں تخفیف کے مرتکب ہوتے ہیں او ور اس کو ایسی صفات کے ساتھ متصف کرتے ہیں جن سے اس کی ذات بالا اور برتر ہے رسولوں کے ساتھ کفر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے رسول ہونے کا انکار کرتے ہیں جیسے یہود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور نبی آخر الزمان حضرت محمد ﷺ کے منکر تھے یا اس اعتبار سے کہ بعض رسولوں کا انکار مستلزم ہے سب رسولوں کے انکار کو اللہ اور اس کے رسولوں میں تفریق ڈالنے کا مطلب یہ ہے کہ بعض پر ایمان لائیں اور بعض پر نہ لائیں اللہ پر ایمان لانا اور اس کے رسول میں جدائی ڈالنا اسی کو تفریق بین اللہ وسلہ فرمایا یا یہ مطلب کہ جب بعض رسولوں کو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں تو اللہ تعالیٰ کے بعض احکام کو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں اس کو فرمایا
ویریدون ان یفر قوابین اللہ ورسلہ چناچہ اپنے اس عقیدے کو زبان سے بھی کہتے ہیں کہ ہم بعض رسولوں کو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے۔
ظاہر ہے کہ اس عقیدے سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ بھی کفر لازم آیا اور سب رسولوں کے ساتھ بھی کفر لازم آیا کیونکہ ہر رسول دوسرے رسولوں کو رسول کہتا چلا آیا ہے جب بعض کا انکار کیا تو اللہ تعالیٰ کی بھی تکذیب ہوئی اور ہر رسول کی تکذیب ہوئی حقاً مضمون جملہ کی تاکید ہے اس لئے ہم نے مترجمین کے الفاظ کی رعایا رکھتے ہوئے تیسیر میں ترجمہ کیا ہے مھینا اہانت سے ہے رسوا کن ترجمہ حضرت مولانا شاہ ولی اللہ صاحب کا ہے۔
بین ذلک سبیلا کو ہم نے تیسیر میں صاف کردیا ہے گویا ان کا بعض پر ایمان لانا اور بعض سے انکار کرنا ایمان و کفر کے مابین ایک راہ کا اختیار کرنا ہے ۔ نہ مسلمانوں کا سا ایمان کہ سب کو مانیں اور نہ مشرکوں کا سا کفر کہ کسی رسول کو نہ مانیں۔
قرآن کی یہ آیت اس معاملہ میں بالکل صاف اور واضح ہے اور کسی ایک پیغمبر کے انکار کو بھی کفر بتاتی ہے شاید یاد ہوگا کہ ہم نے پہلے پارہ میں ان الذین امنوا والذین ھادوا کی تسہیل میں بتایا تھا کہ اگر اس آیت میں محمد ﷺ پر ایمان لانے کا ذکر نہیں ہے تو اس کو یہ مستلزم نہیں ہے کہ حضور ﷺ پر ایمان لائے بغیر کوئی نجات یافتہ ہوسکتا ہے خواہ توحید الٰہی ہو خواہ اعمال صالحہ ہوں۔ یا قیامت پر ایمان لانا ہو یہ سب باتیں پیغمبر کی رہنمائی کی محتاج ہیں جو شخص یہ چاہے کہ میں پیغمبر کو نظر انداز کر کے نجات کی صحیح راہ معلوم کرلوں تو یہ کھلا کفر ہے۔
اب چھٹے پارے کی اس آیت کو سامنے رکھ کر اس آیت کی تفسیر کرنی چاہئے اور آج کل جدت پسند لوگوں کے خیال سے اجتناب کرنا چاہئے جنہوں نے قرآن کریم کی تفسیر میں بڑی جرأت اور بےباکی اور بےباکی سے کام لیا ہے ۔ قرآن کریم سب باتیں ایک ہی آیت میں بیان نہیں کردیا کرتا اس لئے تفسیر کرتے وقت سب آیتوں کا لحاظ رکھنا چاہئے جب قرآن بعض رسولوں کے ماننے اور بعض کے نہ ماننے کو کفر بتارہا ہے تو خاتم النبین ﷺ کے نہ ماننے والے کس طرح نجات دائمی اور فلہم اجرھم عندربھم ولا خوف علیھم ولا ھم یخزنون کے مستحق ہوسکتے ہیں۔
پیغمبر پر ایمان لانا تو قانون کی ایک بنیادی دفعہ ہے اگر قانون کی دوسری دفعات میں اس کا ذکر نہ آئے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ جنرل اور بنیادی دفعہ ترک کردی گئی ہے آگے کی آیت میں طرفین کے عہدے کا اظہار ہے پھر اس کے بعد یہود کی حرکات قبیحہ کا ذکر ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے ۔ (تسہیل)
Ayah 4:152ف 3 اور جو لوگ اللہ تعالیٰ پر اور اس کے سب رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں اور با عتبار ایمان لانے کے ان میں سے کسی کے ساتھ فرق نہیں کرتے کہ کسی پر ایمان لائیں اور کسی پر ایمان نہ لائیں بکلہ سب رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں تو ایسے لوگوں کو بہت جلد اللہ تعالیٰ ان کے ثواب سے نوازے گا اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا اور بڑی مہربانی کرنے والا ہے۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے جو ہم سورة بقرہ کے آخر میں عرض کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسولوں پر سب پر ایمان لائیں کسی رسول کے ماننے میں جدائی ڈالیں تو لوگ اپنے اجور اور ثواب پانے کے مستحق ہوں گے اور اللہ تعالیٰ ان کو ان کا حصہ عنایت کرے گا اور اگر کوئی کوتاہی ان سے واقع ہوئی ہوگی تو اس کو بخشدے گا کیونکہ اللہ غفور ہے اور ان کے ثواب کو بڑھا کر اور ان کی نیکیوں کو زیادہ کر کے بھی ان کو دے گا کیونکہ وہ بڑی مہربانی کرنے والا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 4:153ف 1 اے پیغمبر ! آپ سے اہل کتاب یہ مطالبہ اور سوال کرتے ہیں کہ آپ ان کے لئے آسمان سے ایک کتاب اتار لائیں یعنی ایسی لکھی ہوئی کتاب جیسے حضرت موسیٰ پر توریت نازل ہوئی تھی سو اے پیغمبر ! ﷺ آپ ان کے اس مطالب کو عجیب نہ سمجھیں اور اس پر تعجب نہ کریں یہ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اس سوال سے بڑھ کر سوال کرچکے ہیں انہوں نے تو ان سے یہ کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ کو ہمیں کھلا کھلا اور بلا حجاب دکھا دے چناچہ اس پر ان کو ایک سخت کڑا کے کی بجلی نے آپکڑا پھر اسی مطالبہ پر کیا موقف ہے انہوں ں نے تو بعد اس کے کہ ان کے پاس واضح دلائل اور کھلے معجزات آ چکے تھے ایک مخصوص بچھڑے کو معبود تجویز کرلیا تھا پھر ہم نے اس کو معاف کردیا تھا اور ان کی اس حرکت کو درگذر فرما دیا تھا اور ہم نے موسیٰ کو صریح غلبہ اور کھلی حجت عطا کی تھی۔ (تیسیر)
نبی کریم ﷺ سے یہود کے علماء نے یہ مطالبہ یکا تھا کہ آپ ہماے روبرو آسمان پر جائیں اور وہاں سے ایک لکھی لکھائی کتاب ہماری ہدایت کے لئے لے آئیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کتاب سے مراد خط ہو۔
جیسا کہ بعض روایات میں آیا ہے کہ یہود نے یہ کہا تھا کہ ہر شخص کے نام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ایک خط لائو جس میں یہ لکھا ہوا ہو کہ محمد ہمارا فرستادہ اس پر ایمان لائو اس سوال پر نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں کو رنج اور قلق ہوا اس پر بطور تسلی فرمایا کہ تم اس مطالبہ کو کچھ عجیب نہ سمجھو یہ تو موسیٰ سے اللہ تعالیٰ کو دنیا میں بلا حجاب اور کھلم کھلا دیکھنے کا مطالبہ کرچکے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ کو تو خیر جنت میں لوگ دیکھیں گے بھی اور خدا کے دیدار سے مشرف بھی ہوں گے یہ تو شرک جیسی نا معقول حرکت کا ارتکاب کرچکے ہیں جو ہر معقول انسان کے نزدیک غلط اور نامعقول ہے یہ اس کا بھی ارتکاب کرچکے ہیں اور شرک کا ارتکاب بھی انہوں نے اس حالت کے بعد کیا جبکہ ان کے پاس کھلے دلائل اور واضح معجزات آ چکے تھے مثلاً موسیٰ کا عصاید بیضا فلق بحر وغیرہ اور ثم یہاں ترتیب زمان کے لئے نہیں ہے کیونکہ بچھڑے کو معبود بنایا رئویت کے سوال سے پہلے کا ہے اور حضور ﷺ کے زمانے میں جو یہود تھے ان کی طرف بچھڑے کی پرستش کو اور رئویت کے سوال کو منسوب کرنے کا مطلب یہ ہے کہ یا تو فرقہ کی وجہ سے نسبت کی گئی ہے اور یا اس وجہ سے کہ یہ لوگ اپنے بزرگوں کی ان بےہودگیوں پر خوش تھے اسی وجہ سے ان کی طرف منسوب کیا گیا۔ سلطان کا ترجمہ یہاں غلبہ اور حجت بیان کیا گیا ہے اور بعض نے رعب بھی کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ دلیل اور رعب و دبدہ سے قائل ہوتے تھے اور نہ اللہ تعالیٰ کی معافی اور درگذر کرنے سے متاثر ہوتے تھے اب آگے یہود کے اور واقعات کا ذکر ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 4:154–157ف 2 اور ہم نے ان لوگوں سے عہد و پیمان اور قول قرار لینے کے لئے طور پہاڑ کو اٹھا کر ان کے سروں پر معلق کردیا تھا اور ہم نے ان کو یہ حکم دیا تھا کہ بیت المقدس کے باب میں عاجزی کے ساتھ کمر کو جھکائے ہوئے داخل ہونا اور ہم نے ا ن کو یہ بھی حکم دیا تھ ا کہ دیکھو تم کو جو ہفتہ کے دن شکار کی ممانعت کی گئی ہے اس میں حد شرع سے تجاوز اور زیادتی نہ کرنا اور ہم نے ان سے بہت ہی پختہ اور مضبوط قول وقرار اور عہد و پیمان لیا تھا۔ (تیسیر)
یہ وہی واقعات ہیں جو کم و بیش پہلے بارے میں گذر چکے ہیں یہاں دوسری مناسبت سے ان کی طرف مختصراً اشارہ فرمایا ہے جب ان کو توریت ملی تو انہوں نے اس کے قبول کرنے سے انکار کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے ان پر طور کو معلق کردیا یہ اس حالت کو دیکھ کر سجدے میں گرگئے مگر ایک آنکھ سے پہاڑ کر دیکھتے رہے ان سے کہا گیا جو احکام اور کتاب ہم نے تم کو دی ہے اس کو قبول کرو یہ زبان سے تو کہتے رہے کہ ہم نے قبول کیا مگر دل سے انکار کرتے رہے۔
دوسرا واقعہ ارض تیہ سے نکلتے وقت پیش آیا جب انہوں نے مختلف غذائوں کی درخواست کی تو ان سے کہا گیا کہ جائو شہر میں داخل ہو بیت المقدس یا اریحا یا ایلیا میں داخل ہوتے وقت ان کو حکم ملا تھا کہ عاجزی کے ساتھ کمر کو جھکائے ہوئے یا نماز پڑھتے ہوئے دروازے میں داخل ہونا اور حطۃ کہتے ہوئے جانا انہوں نے اس حکم کی بھی خلاف ورزی کی۔
تیسرا واقعہ مچھلی کے شکار کا ہے کہ ان پر مچھلی کا شکار ہفتہ کے روز ممنوع تھا ان کو کہا گیا تھا کہ ہفتہ کے دن شکار نہ کرنا مگر انہوں نے اس میں حد سے تجاوز کیا اور سور و بندر بنا دیئے گئے واخذنا منھم میثاقا غلیظا کا مطلب یا تو یہ ہے کہ ہم نے توریت کے احکام ماننے پر ان سے پختہ عہد لیا اور یا یہ مطلب ہے کہ اس عہد کے علاوہ اور بھی بہت سی باتوں پر ان سے پختہ اور مضبوط قول وقرار لیا۔
اب آگے ان کی عہد شکنی اور بہتان طرازی وغیرہ کا ذکر ہے اور ان کی غلط بیانیوں کا رد اور ان کی سزائیں مذکور ہیں چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 4:158ف 1 آخر کار جب یہ لوگ اپنی نافرمانیوں سے بعض نہ آئے تو ہم نے ان کی عہد شکنی اور احکام الٰہی کے ساتھ ان کے کفر وا نکار کرنے اور انبیاء (علیہم السلام) کو قتل کرنے کے باعث جو کہ ان کے نزدیک بھی ناحق اور ناروا تھا مختلف سزائوں میں ان کو مبتلا کیا اور نیز ان کے اس کہنے کی وجہ سے کہ ہمارے دل ایسے محفوظ ہیں کہ ان میں اسلام کی کوئی بات اثر و نفوذ ہی نہیں کرسکتی۔
نہیں یہ بات نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی کافرانہ روش کے باعث ان کے دلوں پر مہر کردی ہے اور بند لگا دیا ہے لہٰذا وہ ایمان نہ لائیں گے مگر بہت کم اور ہم نے ان کو مختلف سزائوں میں ان کے کفر کی وجہ سے اور اس وجہ سے بھی کہ انہوں نے حضرت مریم پر بڑے بہتان کی بات دھری مبتلا کیا اور نیز ان کے اس کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے مسیح عیسیٰ بن مریم کو جو اللہ کا رسول تھا قتل کر ڈالا۔
حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ نہ تو یہود نے حضرت عیسیٰ کو قتل کیا اور نہ ان کو سولی دیا اور نہ سولی پر چڑھایا بلکہ ان کو اشتباہ ہوگیا اور ان پر واقعہ کی حقیقت مشتبہ ہوگئی اور جو لوگ اہل کتاب میں سے حضرت عیسیٰ کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں اور جو یہود و نصاریٰ ان کے بارے میں مختلف باتیں کہتے ہیں وہ دراصل اس کے متعلق شک میں پڑے ہوئے ہیں اور غلط خیالی میں مبتلا ہیں ان شک کرنے والوں کے پاس سوائے تخمینی اور ظنی باتوں کی پیروی کرنے کے اور کوئی صحیح علم اور صحیح دلیل نہیں ہے اور یہود نے یقینا حضرت عیسیٰ کو قتل نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو پانی طرف اٹھا لیا اور اللہ تعالیٰ کمال قوت اور کمال حکمت کا مالک ہے کہ اس نے اپنی قوت کے بل پر یہود کے ہاتھ سے عیسیٰ کو بچا لیا اور اپنی حکمت بالغہ کی وجہ سے ان کو آسمان پر رکھا اور زمین پر نہ چھوڑا۔ (تیسیر)
آیت میں ان تمام اسباب و علل کا ذکر فرمایا ہے جن کی وجہ سے مددگار یہود مختلف سزائوں میں گرفتار کئے گئے تھے وہ مختلف سزائیں سورة بقرہ میں گذر چکی ہیں اور ان کا ذکر سورة مائدہ میں بھی انشاء اللہ آئے گا جیسے مسخ، لعنت و پھٹکار مسکنت و ذلت غضب الٰہی وغیرہ ان سزائوں کے اسباب میں سے بعض یہاں مذکور ہیں اور بعض اور آگے بیان ہوں گے نقص عہد تو ان کا عام شیوہ تھا۔
عہد سے مراد یا تو وہ عود میں جو بار بار حضرت موسیٰ سے کیا کرتے تھے یا توریت کے احکام کی طرف اشارہ ہے اور یاد ہی فطری عہد ہے کہ ہر انسان محسن اور خالق کی فرمانبرداری پر فطرتاً پابند ہے اگرچہ نقص عہد اتنا جامع لفظ ہے کہ باقی امور سب اس میں داخل ہیں کیونکہ ہر گناہ اور ہر نافرمانی نقص عہد ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو علیحدہ علیحدہ بھی بیان فرمایا جن سے ان کے نقص عہد کی تفصیلات اچھی طرح ظاہر ہوگئیں اور ان کا کفر و فسق اچھی طرح نمایاں ہوگیا۔ ایات اللہ کے منکر احکام الٰہی کا انکار کریں احکام کے ساتھ کفر کریں اور کہیں کہ فلاں حکم نہیں مانتے انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ یہ برتائو کہ ان کے کفر سے بڑھتے بڑھتے ان کو قتل تک کر ڈالتے اور قتل بھی یہ سمجھتے ہوئے کرتے کہ انبیاء کا قتل کرنا حرام اور ناحق ہے اہل کتاب ہونے کی وجہ سے ان کو یہ معلوم تھا کہ اللہ تعالیٰ کے فرستادوں کو قتل کرنا حرام ہے مگر چونکہ بےباکی اور جرأت حد سے بڑھی ہوئی تھی اس لئے ناحق جانتے ہوئے بھی ابنیاء کو قتل کردیا کرتے تھے غلف کا مطلب ہم اوپر عرض کرچکے ہیں استہزاء کہا کرتے تھے کہ ہمایر قلوب اقلف ہیں یعنی غیر ختنہ شدہ ہر قسم کی ظاہری آلائش اور خاک وباء وغیرہ سے بالکل محفوظ ہیں۔ لہٰذا ان پ اسلامی تبلیغ کا کوئی اثر نہیں اور وہ اسلام کی خرابیوں سے محفوظ و معئون رہتے ہیں حضرت حق نے بطور اعراض جواب فرمایا کہ ان کے قلب کچھ قدرتی طور پر پردوں سے ڈھکے ہوئے نہیں ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی مسلسل نافرمانیوں اور ان کے کفر پیہم کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے کہ اب امر حق اس مہر کی وجہ سے ان کے قلوب تک پہونچ ہی نہیں سکتا اور یہی وہ سزا کا آخری حصہ ہے جو دنیا ہی میں شروع ہوجاتا ہے اور مریض کی یہی وہ حالت ہے کہ جب طبیب اس کے علاج سے دست کش ہوجاتا ہے اور غلف کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ہمارے قلوب علوم سے اس قدر لبریز ہیں کہ ان میں کوئی دوسرا علم داخل ہی نہیں ہوسکتا جس طرح بھرے ہوئے برتن میں کوئی چیز نہیں ڈالی جاسکتی۔
بہرحال ! مقصد اسلام سے بےقراری اور بےاعتنائی کا اظہار تھا اور اسی کا جواب ہے بل طبع اللہ علیھا بکفر ھم اور جب حالتیہ ہے کہ قلوب پر حضرت حق کی جانب سے مہر لگا دی گئی ہے تو اب ایمان نہیں لائیں گے مگر بہت کم یعنی بہت تھوڑے آدمی جیسے عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی یا یہ مطلب کہ بعض باتوں پر ایمان لائیں گے اور بعض پر نہیں لائیں گے یا بعض رسولوں کو مانیں گے اور بعض کو نہیں مانیں گے یا نہیں غیر معتبر جس کے باعث کسی کو مومن نہیں کہا جاسکتا ان کفریات کے علاوہ ان کے ایک اور مخصوص کفر کا ذکر فرمایا کہ ان کا بڑا کفر و ہ قول ہے جو انہوں نے حضرت مریم جیسی پاک دامن عورت پر دھر دیا اور ان کی طرف ایسے ناپاک فعل کی نسبت کی جس سے ان کی شان بہت بلند تھی۔
پھر ضحرت مریم پر بہتان لگانے کے بعد اس بات کا بھی دعویٰ کیا اور فخراً اس کا اظہار کیا کہ ہم نے مسیح کو جو عیسیٰ بن مریم تھا اس کو قتل کر ڈالا۔
رسول اللہ یا تو یہود کا ہی قول ہے جو انہوں نے استہزاء کہا ہے کہ وہ مسیح عیسیٰ ابن مریم جو رسول اللہ ہونے کا مدعی تھا ہم نے اس تک کو قتل کر ڈالا یا ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہو اور ان کے کفر کا مزید اظہار ہو کر اس شخص کے قتل کا ذکر تفاخراً کرتے ہیں جو رسول اللہ تھا اول تو حضرت مریم پر بہتان لگانا ہی حضرت عیسیٰ کی تکذیب تھی کیوں کہ حضرت عیسیٰ اپنے معجزے سے ان کی برأت فرما چکے تھے پھر حضرت عیسیٰ کی عداوت و روشنی جو ایک مستقل کفر ہے پھر نبی کا قتل اور دعوائے قتل یہ سب امور کفر یہ ہیں حضرت حق تعالیٰ نے اس قتل کے ادعاً کار د فرمایا اور ارشاد ہوا کہ نہ انہوں نے اس کو قتل کیا اور نہ سولی دیا نہ سولی پر چڑھایا یعنی سولی دینا تو کیسا اس کو سولی پر چڑھایا تک نہیں لیکن ان کو خود اشتباہ ہوگیا اور حقیقت واقع ان پر مشتبہ ہوگئی شبہ لھم میں لوگوں نے کئی قول بیان کئے ہیں کسی نے کہا عیسیٰ ان پر مشتبہ ہوگیا کسی نے کہا مقتول مشتبہ ہوگیا۔
ہم نے زمخشری کی ترکیب پسند کی ہے یعنی وقع لھم التشبیہ چونکہ واقعہ کا تعلق مختلف لوگوں سے ہے مثلاًحضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور وہ شخص جس کو یہ مسیح سمجھ کر لائے اور اس کو سولی دی اور خود وہ لوگ جو یہودی حکومت کے ذمہ دار تھے اور جن کا حکم چلنا تھا پھر حضرت مسیح کے وہ منافق اور مخلص شاگرد جو رات بھر ان سے محاصرے کی حالت میں باتیں کرتے رہے اس لئے مفسرین کے اقوال مختلف ہوگئے ہم نے تفسیر میں ایک ایسی صورت اختیار کرلی جو سب کو جامع اور مدعا کے اعتبار سے صاف ہی اور اسی اشتباہ کی وجہ سے لوگ ایسے شک میں مبتلا ہوئے کہ آج تک ان کو کوئی صحیح راہ نہ مل سکی اختلاف کرنے والوں سے مراد عیسائی ہیں کیونکہ عیسائیوں میں بھی اس مسئلے کے متعلق باہم سخت اختلاف ہے ایک فرقہ اس کا قائل ہے کہ مسیح خدا تھا جب تک اس کا جی چاہا ہم میں رہا اور جب اس کا جی چاہا ہم سے چلا گیا کوئی کہتا ہے وہ خدا کا بیٹا تھا جب تک اس نے چاہا اس کو ہم میں رکھا اور جب چاہا اٹھا لیا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اختلاف کرنے والے صرف یہود ہوں جیسا کہ آج تک بھی ان کا یہ شک دور نہیں ہوسکا کہ اگر مصلوب مسیح تھا تو ہمارا مخبر کہاں گیا اور اگر مصلوب ہمارا مخبر تھا تو مسیح کہاں گیا اور ہوسکتا ہے کہ یہود و نصاریٰ دونوں ہوں جیسا کہ ہم نے اختیار کیا ہے اور یہی زیاہ صحیح ہے کیونکہ حضرت مسیح کے اس واقعہ نے سب کو شک میں مبتلا کر رکھا ہے کسی کے اس کوئی پختہ بات نہیں ہے اور نہ کسی کے پاس کوئی صحیح دلیل ہے محض گمان اور اٹکل کی پیروی کر رہے ہیں اور جو قصے ان کے ہاں مشہور چلے آتے ہیں انہی کو سچ سمجھتے ہیں اور انہی پر چلتے ہیں حضرت حق نے پھر ان کے اس بےدلیل دعوے کا رد فرمایا کہ انہوں نے یقینا حضرت عیسیٰ کو قتل نہیں کیا ان کو تو اللہ تعالیٰ نے اپنی جانب یعنی آسمان پر اٹھا لیا اور ایک اور شخص کو ان کا ہم شکل بنادیا اور وہ قتل کردیا گیا اور اسی وجہ سے اہل کتاب میں اختلاف واقع ہوا جو آج تک دور نہیں ہوسکا اسلام جو صحیح بات لے کر آیا اور جس کے دامن میں صحیح واقعات مسیح ابن مریم کے پنہاں تھے اس کے ماننے سے ان بدبختوں نے انکار کردیا اور گمراہی کو اختیار کیا اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے عزیز اور حکیم ہے اس لئے اس کی حکمت نے جو چاہا اس کی قوت و طاقت نے اس کو پورا کردیا اور مخالف منہ تکتے رہ گئے اور ایسے گڑھے میں گرے کہ اس سے نکلنا نصیب نہ ہوا۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یہود کہتے ہیں کہ ہم نے مارا عیسیٰ کو اور مسیح اور رسول خدا نہیں کہتے یہ الہل نے ان کی خطا ذکر فرمائی اور فرمایا کہ اس کو ہرگز نہیں مارا۔
حق تعالیٰ نے اس کی ایک صورت ان کو بنادی اس صورت کو سولی پر چڑھایا پھر فرمایا کہ نصاریٰ بھی اول سے یہی کہتے ہیں کہ مسیح کو مارا نہیں وہ زندہ ہے لیکن تحقیق نہیں سمجھتے کئی باتیں کہتے ہیں بعضے کہتے ہیں کہ بدن کو مارا ان کی روح اللہ کے پاس چڑھ گئی بعضے کہتے ہیں مارا تھا پھر تین روز میں زندہ ہو کر بدن سے چڑھ گئے ہر طرح وہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ اس کو نہیں مارا سو یہ خبر اللہ کو ہے اس نے بتایا کہ اس کو صورت کو مارا اور ان کے پکڑتے وقت نصاریٰ سرک گئے تھے اور یہود بھی نہ پہنچے تھے اس آن کی خبر نہ ا ن کو نہ ان کو (موضح القرآن)
اس آیت میں مفسرین کے بہت سے اقوال ہیں کسی نے کہا ہے کہ حضرت عیسیٰ کے مخالفوں نے جب بادشاہ وقت کو ان کے قتل پر آمادہ کرلیا اور بادشاہ کی پولیس ان کو تلاش کرنے نکلی تو و ہ جمعہ کا دن تھا چناچہ ہفتہ کی شب میں اس مکان کا محاصرہ کرلیا گیا جس مکان میں حضرت عیسیٰ اپنے حواریوں کے ہمراہ تشریف رکھتے تھے اس پر حضرت عیسیٰ نے اپنے ساتھیوں سے دریافت کیا کہ تم میں سے کون اس کے لئے تیار ہے کہ اس پر میری صورت کی شبیہ ڈال دی جائے چناچہ ایک نوجوان اس پر تیار ہوگیا حضرت عیسیٰ نے کئی مرتبہ لوگوں سے دریافت کیا اور ہر مرتبہ وہی لڑکا اپنے کو پیش کرتا رہا آخر کار اللہ تعالیٰ نے اسی کی صورت کو حضرت عیسیٰ کے مشابہ کردیا مکان کی چھت میں ایک روزہو گیا حضرت عیسیٰ کو اونگھ آگئی اور حضرت عیسیٰ اسی حالت میں آسمان پر اٹھا لئے گئے اور پولیس نے اس نوجوان کو گرفتار کرلیا اور اس کو ہی عیسیٰ سمجھ کر سولی دے دی گئی ۔
حضرت ابن عباس کی روایت میں اتنا اور زیادہ ہے کہ انہوں نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا تم میں وہ شخص بھی ہے جو بارہ مرتبہ ایمان لانے کے بعد میرا انکار کرے گا اس کے بعد وہی سوال ہے اور نوجوان کا واقعہ ہے پھر بادشاہ کے جاسوسوں کی آمد اور نوجوان کی گرفتاری کا ذکر ہے۔
بعض نے حضرت عیسیٰ کا یہ قول بھی نقل کیا یہ کہ تم میں سے وہ شخص کون ہے جس پر میری شبیہ ڈالی جائے اور وہ میری جگہ قتل کیا جائے اور جنت میں میرا رفیق ہو اس پر وہ نوجوان آمادہ ہوگیا بعض لوگوں کا قول ہے کہ جس قدر حواری اس وقت موجود تھے ان کی تعداد سترہ تھی وہ سب حضرت عیسیٰ کی ہم شکل ہوگئے اس پر پولیس نے ان سے کہا تم پر عیسیٰ نے جادو کردیا ہے جو عیسیٰ ہو وہ اپنے کو پیش کر دے اس پر اس نوجوان نے اپنے کو پیش کردیا۔
وہب کی روایت میں جو کچھ ہے وہ تقریباً وہی ہے جو انجیل میں مذکور ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جس منافق نے تیس درہم لے کر حضرت عیسیٰ کا سراغ بتایا تھا وہی منافق حضرت عیسیٰ کا ہم شکل کردیا گیا اور اسی کو پھانسی دی گئی۔
بہرحال ! صورت حال کچھ بھی پیش آئی ہو لیکن اتنی بات بالکل صاف ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو مخالفین کے شر سے محفوظ و مصون رکھا اور ان کو دشمنوں سے بچا کر صحیح سالم آسمان پر اسی جسد عنصری کے ساتھ اٹھا لیا جس سے وہ دنیا میں زندہ تھے اور جس کو دشمن سولی پر لٹکا کر ختم کرنا چاہتے تھے ۔ رہا اپنی موت سے ان کے مرنے کا جو فسانہ گھڑا گیا ہے اور اس امر کے ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ وہ بچ کر نکل بھاگے یا وہ کچھ زندہ تھے کہ ان کو سولی پر سے اتار لیا اور ان کا علاج کیا گیا اور وہ اچھے ہوگئے اور اپنی والدہ کو لے کر کہیں چلے گئے اور اپنی موت سے مرگئے اور ان کی قبر کشمیر کے کسی علاقہ میں ہے یہ فسانہ محض انگریزی حکومت کی برکات ہیں اور یہ افسانہ اس لئے گھڑا گیا ہے تاکہ حضرت عیسیٰ کی جانب سے مسلمانوں کی توجہ کو ہٹا کر بعض مدعیان مسیح موعود کے دعوئے نبوت کو رونق دی جائے اور دشمنان اسلام کی محفل کو سنوارا جائے چناچہ یہ فتنہ ہندوستان کے شمالی حصہ میں پیدا ہوا اور صد ہا مسلمان اس فتنہ سے گمراہ ہوئے اور آخر خدا کا شکر ہے کہ یہ فتنہ ہندوستان کے شمالی حصہ میں پیدا ہوا اور صدہا مسلمان اس فتنہ سے گمراہ ہوئے اور آخر خدا کا شکر ہے کہ یہ فتنہ اپنی موت آپ ہی مرگیا اور اس مصنوعی نبی کی گدی ایک پیروی کی گدی اور سجادہ نشینی بن کر رہ گئی چناچہ اس پر متعدد کتابیں لکھی جا چکی ہیں اس لئے ہم اس پر مزید عرض کرنے کی ضرورت نہیں سمجھتے۔
الیاس برنی کی تصانیف اس سانپ کے سر کچلنے کے لئے کافی ہیں آگے حضرت عیسیٰ کی تشریف آوری کے متعلق ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 4:159–160ف 2 اور اہل کتاب میں سے کوئی شخص بھی ایسا نہ رہے گا جو عیسیٰ کی طبعی موت سے پہلے حضرت عیسیٰ کی صدیق نہ کرلے اور ان پر ایمان نہ لائے اور قیامت کے دن حضرت عیسیٰ ان اہل کتاب کے خلاف اور ان منکرین کے انکار پر گواہی دیں گے (تیسیر)
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں حضرت عیسیٰ ابھی زندہ ہیں جب یہود میں دجال پیدا ہوگا تب اس جہان میں آ کر اس کو ماریں گے اور یہود و نصاریٰ سب ان پر ایمان لاویں گے کہ یہ مرے نہ تھے (موضح القرآن)
مطلب آیت کا یہ ہے کہ جب عیسیٰ (علیہ السلام) قیامت کے قریب آسمان سے اتریں گے تو اس وقت اہل کتاب میں سے کوئی شخص ایسا باقی نہ رہے گا جو ان پر ایمان نہ لائے یہود اس امر کی تصدیق کریں گے کہ ان کے قتل کا واقعہ غلط تھا اور یہ مصلوب نہیں ہوئے تھے اور نصاریٰ بھی اس پر ایمان لائیں گے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سرے سے نہ تھے اور حضرت عیسٰی جو حال دیکھیں گے قیامت کے دن اس کی شہادت دیں گے اور فرمائیں گے کہ میں نے ان لوگوں سے یہ نہیں کہا تھا کہ مجھ کو خدا کا بیٹا یا خدا کہو۔
جیسا کہ سورة مائدہ کے آخر میں انشاء اللہ تعالیٰ آجائے گا نزول عیسیٰ ابن مریم کے متعلق اس کثرت سے احادیث مردی ہیں کہ بعض لوگ تو ان احادیث کے متواتر ہونے کے قائل ہیں نبی کریم ﷺ نے قسم کھا کر ارشاد فرمایا ہے کہ عنقریب تم میں ابن مریم نازل ہوگا وہ ایک منصف فیصلہ کرنے والا ہوگا صلیب کو توڑ دے گا اور سوئر کو قتل کرے گا جزایہ کو ختم کر دے گا اس کے زمانے میں مال کس اس قدر کثرت ہوگی کہ مال کا کوئی قبول کرنے والا نہ ہوگا یہاں تک کہ اس دور میں ایک سجدہ دنیا اور مافیہا سے بہتر ہوگا۔
دوسری روایتوں میں حضرت عیسیٰ بن مریم کا حج اور عمرہ کرنا بھی مذکور ہے بعض میں مسیح ابن مریم کے ساتھ یہ بھی فرمایا ہے کہ وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے اس کے اور میرے درمیان کوئی نبی مبعوث نہیں ہوا۔
بعض روایات میں نزول من السمآء کا لفظ بھی سے غرض بیشمار احادیث ہیں جن میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تشریف آوری اور ان کی دعوت الی الاسلام اور چالیس سال تک ان کا دنیا میں رہنا پھر وفات پانا دجال کو ختم کرنا وغیرہ ان سب باتوں کا تفصیل کے ساتھ ذکر سے حضرت مولانا شاہ رفیع الدین صاحب نے آثار قیامت میں ان روایات کی شرح کی ہے اور نواب صدیق حسن خاں نے بھی اس سلسلے میں کئی رسالے مرتب فرمائے ہیں۔
بہرحلا ! وہ زمانہ بڑی خیر و برکت کا زمانہ ہوگا اور وہی دور ہوگا کہ جب لوگوں کو ملت اسلامیہ کو قبول کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ ہوگا بعض حضرات نے آیت زیر بحث کا یوں ترجمہ کیا ہے کہ اہل کتاب میں سے کوئی کتابی ایسا نہیں ہے جو اپنے مرنے سے ذرا پہلے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت پر ایمان نہ لے آتا ہو۔
پھر بعض مفسرین نے تو اہل کتاب کو عام لیا ہے کہ خواہ وہ یہودی ہوں یا نصرانی اور بعض نے صرف یہود مراد لئے ہیں اور مطلب یہ بیان کیا ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے کے وقت سے لے کر آخر زمانہ تک کوئی یہودی ایسا نہیں ہے جو مرنے سے ذرا پہلے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کی تصدیق نہ کرتا ہو خواہ وہ مرنے والا تلوار سے قتل کیا اجئے خواہ دریا میں غرق ہو کر مرے خواہ کہیں سے گر کر مرے بہرحال مرنے سے پہلے ضرور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کی تصدیق کرتا ہے اگرچہ یہ تصدیق اس کو نافع نہیں ہوتی۔ اس تفسیر کی مئوید حضرت ابی بن کعب کی ایک قرأت بھی ہے ان کی قرأت میں ہے ۔
وان من اھل الکتاب الالیومنن بہ قبل موتھم
بہرحال سلف میں سے اکثر لوگ اس معنی کے قائل ہیں کہ اہل کتاب کا ہر فرد یا یہود کا ہر فرد اپنے مرنے سے ذرا پہلے جب وہ عالم نظر آجاتا ہے تو حضرت عیسیٰ کی نبوت کا اعتراف اور ان کے نبی ہونے کی تصدیق کرتا ہے ۔ (واللہ اعلم)
ابن جریر نے ایک تیسرا قول بھی نقل کیا ہے جس کا مفاد یہ ہے کہ اہل کتاب میں سے کوئی کتابی ایسا نہیں ہے جو اپنی موت سے پہلے محمد ﷺ پر ایمان نہ لے آتا ہو یہ قول حضرت عکرمہ سے نقل کیا ہے اور آخر میں ابن جریر نے کہا ہے کہ ان سب اقوال میں پہلا قول صحیح ہے یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تشریف آوری کے وقت کوئی کتابی ایسا نہ ہوگا جو ان کی تصدیق نہ کرے۔
حضرت خاتم المفسرین مولانا قاضی ثناء اللہ پانی پتی (رح) کا رجحان طبع یہ ہے کہ وہ درمیانی قول کو راجح سمجھے ہیں اور انہوں نے اسی قول کو ترجیح دی ہے کہ ہر کتابی اپنی موت سے ذرا پہلے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت پر ایمان لے آتا ہے ۔ اس بحث میں رسالہ التحقیق الصریح فی حیات المسیح بہت جامع ہے۔ (واللہ اعلم بالصواب)
اب آگے یہود کی بعض اور سزائوں کا ذکر ہے اوپر جو سزائیں مذکور ہوئیں وہ تکوینی تھیں جو وقتاً فوقتاً ان پر نازل ہوتی رہیں اور اخروی سزا کا ذکر بھی تھا اب آگے جو سزائیں مذکور ہیں وہ تشریعی ہیں اور ان کے ساتھ بھی آخرت کا عذاب مذکور ہے جس قدر شرارتیں ان یہود کی بڑھتی گئیں اسی قدر سزائوں میں اضافہ ہوتا گیا حتیٰ کہ جو چیزیں ان پر حلال تھیں بعض کو ان میں سے ان کی شرارتوں کے باعث حرام کردیا گیا چناچہ آگے کی آیت کا تعلق بھی فما نقضھم کے ساتھ ہے بیچ میں جو یہود کے دعاوی کا رد آگیا تھا اس کو علیحدہ کر کے اصل مضمون کے ساتھ ملا کر مطلب سمجھنے کی کوشش کی جائے گی تو مطلب جلد سمجھ میں آجائے گا اور یہ بات ہم کئی دفعہ عرض کرچکے ہیں کہ قرآن کریم بعض مناسبت سے بعض باتوں پر بحث کرتا چلا جاتا ہے لیکن اصل مقصد اور اصل بحث اس کے پیش نظر رہتی ہے درمیان مباحث سے قطع نظر کرلیا جائے تو مطلب مسلسل ہوتا ہے اسی طرح یہاں بھی ہے کہ اصل یہود کی شرارت اور اس شرارت پر ان کی سزائیں مذکور ہیں اور یہ ایک مسلسل مضمون ہے جو اوپر سے چلا آ رہا ہے ۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 4:161ف 3 بالآخر یہود کے انہی بڑے بڑے گناہوں کے باعث ہم نے بہت سی وہ پاکیزہ چیزیں جو پہلے سے ان کے لئے حلال تھیں ان پر حرام کردیں یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت میں ان کی حرمت کا حکم نازل کردیا اور نیز اسی سبب سے وہ چیزیں ان پر حرام ہی رہیں کہ وہ اپنی ناشائستہ حرکات سے باز نہ آتے اور وہ بہت لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکتے تھے یعنی دین میں تحریف کر کے اور کتمان حق کر کے اللہ تعالیٰ کی راہ سے مانع ہوتے تھے اور نیز اس وجہ سے کہ یہ لوگ سود لیا کرتے تھے حالانکہ ان کو اس سود لینے سے توریت میں ممانعت کردی گئی تھی اور نیز اس وجہ سے کہ یہ لوگوں کے مال ناجائز اور غیر مشروع طریقہ پر کھا جاتے تھے اور ہم نے ان میں سے ان لوگوں کے لئے جو کفر پر قائم رہنے والے ہیں درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ ان کے بڑے بڑے جرائم جیسا کہ ظلم کے لفظ سے مفہوم ہوتا ہے اس امر کے موجب ہوئے کہ ان پر شریعت موسوی میں بعض حلال اور لذیذ چیزیں جو پہلے حضرت یعقوب زمانہ میں حلال تھیں اب حرام کردی گئیں اور چونکہ ان کی عادت یہ تھی کہ برے کاموں پر قائم رہتے تھے اور ہمیشہ ان کا ارتکاب کرتے رہتے تھے اس لئے وہ چیزیں ان پر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تشریف آوری تک حرام ہی رہیں البتہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں کچھ تبدیلی ہوئی جیسا کہ ان کے الفاظ تیسرے پارے میں گزر چکے ہیں ولا حل لکم بعض الذی حرم علیکم
اور آخر میں نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں تمام احکام کو اٹھا یا گیا، جیسا کہ نویں پارے میں ویحل لھم الطیبات و یحرم علیھم الخبائث تمام وہ چیزیں جو لذیذ اور نافع اور پاکیزہ ہیں حلال کی گئیں اور وہ چیزیں جو غیر طیبات اور جسم کو یا روح کو ضرر رساں ہیں وہ امت محمدیہ ﷺ پر حرام کردی گئیں ان یہود پر طیبات کی حرمت عقوبت کا موجب ہیں اور امت محمدیہ ﷺ پر غیر طیبات کی حرمت موجب رحمت و شفقت ہے ہماری اس تقریر سے اور تیسیر میں جو تفصیل ہم نے عرض کی ہے اس سے وہ شبہ دور ہوگیا ہوگا جو عام طور سے لوگ کیا کرتے ہیں۔
وہ شبہ یہ ہے کہ توریت کے بعد جو گناہ یہ لوگ کرتے تھے مثلاً سور کھانا، یا غلط مسئلہ بتا کر رشوت لینا یا کلام الٰہی میں تحریف کرنا وغیرہ تو یہ گناہ حرمت طیبات کا سبب کیسے قرار دیئے جاسکتے ہیں کیونکہ یہ گناہ بعد کے ہیں اور سزا ان سے پہلے کی ہے۔
اسی کا جواب ہے کہ تحریم عام ہے اور بطریق عموم مجاز حددث اور استمرار دونوں کو شامل ہے۔ لہٰذا بعض کا حدوث مسبب ہے اور بعض کا استمرار مسببے، یہاں سابقہ اور لاحقہ دونوں جرائم کی طرف اشارہ ہے، عذاب اخروی کا جاں تک تعلق ہے وہ دونوں حالتوں میں یقینی ہے اوپر عذاباً مبینا فرمایا تھا یہاں عذاباً الیما فرمایا۔
جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ دنیوی سزائیں عقوبت اخروی سے سبکدوش نہیں کرسکتیں، ہاں ! اگر شریعت محمدیہ ﷺ پر ایمان لے آئیں تو پچھلی خطائیں معاف ہوسکتی ہیں یہود کے جرائم سابقہ اور مستمرہ کی وجہ سے ان پر کون کونسی چیزیں کی گئیں اس کی تفصیل آٹھویں پارہ میں آجائے گی اور کچھ چوتھے پارے میں بھی آچکا ہے کل الطعام کان حلا کو ملاحظہ کرلیا جائے۔
آٹھویں پارے میں بھی طیبات کی حرمت کا تذکرہ کرنے کے بعد فرمایا ذلک جزینا ھم ببغھم بعض مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ انہوں نے آپ ہی تحریف کر کے بعض چیزوں کو اپنے اوپر حرام کرلیا تھا ۔ (واللہ اعلم)
بہرحال ! سرکشی کے خوگر اور جرائم پیشہ لوگ تھے خود بھی اپنے لئے سختیاں پیدا کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے بھی شریعت سخت کردی۔ وبصدھم عن سبیل اللہ کا ترجمہ ہم نے شاہ ولی اللہ صاحب کی عبارت سے کیا ہے ورنہ بعض لوگوں نے کثیراً کو صد کی قید بنا کر یوں ترجمہ کیا کہ اللہ کی راہ میں بہت رکاوٹ ڈالتے تھے اور بڑے بڑے اٹکائو پیدا کرتے تھے، انبیاء (علیہم السلام) کو قتل کردیا کرتے تھے مطلب میں کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں ان کا یہ حاشیہ کثیراً پر ہے یعنی اوپر سے سب شرارتیں ان کی جو ذکر کیں بعضی پہلے ہوئیاں اور بعضی پیچھے مجمل یہ کہ گناہ پر دلیر تھے اس واسطے ان کو شریعت سخت رکھی کہ سرکشی ٹوٹے۔ (موضح القرآن)
حضرت شاہ صاحب نے جو بعضی پیچھے فرمائیں اس پر جو شبہ وارد ہوتا تھا اس کی تقریر اور جواب ہم نے تسہیل میں دے دیا ہے۔ آیت سے یہ معلوم ہوا ہے کہ ارتکاب جرائم طیبات کی حرمت کا موجب ہیں اس امت میں اگرچہ یہ تو نہیں ہوتا کہ بنی اسرائیل کی طرح بعض چیزیں حرام کردی جائیں ہاں ! یہ ضرور ہے کہ ناشکری اور کفران نعمت سے نعمت سلب ہوجاتی ہے۔
بعض اہل سلوک نے فرمایا ہے کہ ارتکاب محرمات تو بڑی چیز ہے ، ارتکاب مباحات بھی حرمان مناجات کا موجب ہوجاتے ہیں۔ العیاذ باللہ اب آگے ان لوگوں کا بیان ہے جو اسلام کے حلقہ بگوش ہوگئے اور اسلام کے دامن میں پناہ گزیں ہوگئے ان کو مستثنا فرماتے ہیں اور ان کے لئے اجر عظیم کا وعدہ کرتے ہیں۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 4:162–163ف 1 لیکن ان یہود میں سے وہ لوگ جو علم دین میں پختہ اور مضبوط ہیں اور جو ان میں ایمان لانے والے ہیں کہ یہ سب اس کتاب پر ایمان لائے ہیں جو آپ کی جانب بھیجی گئی ہے اور ان کتابوں پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو آپ سے پہلے نازل ہوچکی ہیں یعنی دوسرے انبیاء پر جو نازل ہوئی ہیں جیسے توریت انجیل وغیرہ اور جو ان میں نماز کی پابندی کرنے والے ہیں اور جو ان میں زکوۃ کے ادا کرنے والے ہیں اور جو ان میں اللہ تعالیٰ پر اور آخرت کے دن یعنی قیامت پر اعتقاد رکھنے والے ہیں تو ایسے لوگوں کو ہم ضرور بہت بڑا اجر عطا فرمائیں گے۔ (تیسیر)
جو لوگ یہود میں سے مسلمان ہوگئے تھے جیسے عبداللہ بن سلام اور ثعلبہ بن سعید اور زید بن سعید اور اسید بن عبیدہ وغیرہ ان کی تعریف کی گئی ہے اور اجر عظیم کا وعدہ اعمال صالحہ کے ساتھ مشروط رکھا گیا ہے ورنہ نفس نجات کے لئے تو وہی عام قاعدہ ہے کہ توحید و رسالت پر ایمان رکھنے سے حاصل ہوسکتی ہے۔ سنوتیھم کے سین کو سکی نے تاکید کا قرار دیا ہے اور سکی نے مستقبل قریب کے لئے لیا ہے۔
ہم نے ترجمہ اور تیسیر میں دونوں کی رعایت رکھی ہے والمقیمون کی بجائے مشہور قرأت و المقیمین ہے اور بطور مدح کے نصب اختیار کیا گیا ہے جیسا کہ کلام عرب سے واقف لوگوں پر مخفی نہیں ہے ۔ قرآن کریم میں اور کئی جگہ پر بھی یہ صورت اختیار کی گئی ہے۔
اب آگے نبی کریم ﷺ اور یدگر ابنیاء کی نبوت کا اثبات ہے اور بعثت انبیاء کی حکمت کا بیان ہے اور ان لوگوں کی غلطی کا اظہار ہے جو نئے نئے سوالات کرتے ہیں اور نئے نئے معجزات طلب کرتے ہیں آگے آیتوں کا تعلق اس میں یسئلک اھل الکتاب کے ساتھ ہے اور یہود کے ان بےہودہ سوالات کے ساتھ تعلق ہے جو وہ نبی کریم ﷺ سے بطور شرارت کیا کرتے تھے اور اپنے سوالات کے پورا ہونے کو آپ کی نبوت کے صدق کا معیار قرار دیا کرتے تھے اس کا جواب ہے کہ نبی کریم ﷺ کوئی نئے نبی نہیں ہیں اور نہ ان کی وحی کو نئی وحی ہے بلکہ یہ تو ایک سلسلہ ہے جو برابر یکے بعد دیگرے چلا آتا ہے پھر ان سے نئے نئے سوال کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے (تسہیل)
Ayah 4:164ف 2 اے پیغمبر ! ﷺ ہم نے آپ کے پاس ایسی ہی وحی بھیجی ہے جیسے ہم نے حضرت نوح (علیہ السلام) کے پاس بھیجی تھی اور ان نبیوں کے پاس بھیجی تھی جو نوح (علیہ السلام) کے بعد ہوئے ہیں اور جیسا کہ ہم نے ابراہیم اور اسمعیل اور اسحاق اور یعقوب اور یعقوب کی اولاد میں جو نبی ہوئے ہیں اور عیسیٰ (علیہ السلام) اور ایوب (علیہ السلام) اور یونس (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کے پاس وحی بھیجی تھی اور اسی طرح ہم نے دائود (علیہ السلام) کو زبور عنایت کی تھی اور اسی طرح ان کے علاوہ بعض اور پیغمبروں کو بھی جن کا ذکر ہم آپ سے کرچکے ہیں صاحب وحی بنا کر بھیجا یعنی سورة انعام میں اور دوسری صورتوں میں ان کا ذکر آیا ہے اور اس طرح ہم نے بعض اور ایسے پیغمبروں کو بھی صاحب وحی بنا کر بھیجا جن کا ذکر ہم نے آپ سے اب تک نہیں کیا اور اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے خاص طور پر کلام فرمایا یعنی بلا واسطہ شرف ہمی کلامی بخشا۔ (تیسیر)
وحی اور ایحا اعلام فی خفاء کو کہتے ہیں یعنی کوئی ایسی اطلاع جو پردے میں دی جائے اور سرعت کے ساتھ دی جائے، مطلب یہ ہے کہ یہ پیغمبر کوئی انوکھا پیغمبر نہیں ہے جو آسمان پر چڑھ کر تمہارے لئے کوئی کتاب یا کوئی خط لے کر آئے بلکہ جس طرح اور پیغمبروں پر وحی کے ذریعہ ہمارے فرما پہنونچتے رہے اسی طرح اس پیغمبر کی جانب بھی ہم وحی کے ذریعہ احکام بھیجتے ہیں اور جب اور انبیاء کے ساتھ ہم نے ایسا طریقہ نہیں برتا تو اس کے ساتھ یہ انوکھا طریقہ کیوں اختیار کریں اس کے بعد انبیاء کے نام لئے جن کی نبوت مسلمہ فریقین تھی، مثلاً نوح (علیہ السلام) اور نوح (علیہ السلام) کے بعد جو پیغمبر ہوئے جیسے ہود عاد اور صالح اور شعیب (علیہ السلام) وغیرہ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور اسمعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد میں سے جو لوگ پیغمبر ہوئے ہیں انکا ذکر فرمایا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ایوب (علیہ السلام) اور یونس (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا اور دائود (علیہ السلام) کو چونکہ مستقل کتاب دی تھی اس کا ذکر فرمایا چونکہ یہ تمام پیغمبر وہ ہیں جن کہ یہود بھی پیغمبر مانتے تھے اس لئے ان کی وحی سے استدلال فرمایا کہ جس طرح ہم نے ان لوگوں کو وحی بھیجی تھی اور یہ لوگ آسمان پر چڑھ کر کتابیں نہیں لائے تھے۔
اسی طرح ہم نے نبی آخر الزمان ﷺ پر بھی وحی بھیجی ہے ان سے یہ مطالبہ کیوں کیا جاتا ہے ہ آسمان پر جا کر وہاں سے کوء یکتاب لا کردو حضرت دائود کی زبور کے متعلق قرطبی نے کہا ہے کہ اس میں ایک سو پچاس سورتیں تھیں اور ان سورتوں میں احکام نہیں تھے بلکہ پندو نصائح تھے اور دعائیں تھیں۔
حضرت دائود (علیہ السلام) اس کتاب کو نہایت خوش الحالی کے ساتھ پڑھا کترے تھے اور آپ کے ساتھ بنی اسرائیل کے علماء ہوتے تھے اور بعض موقعہ پر پرندے اور جناب وغیرہ بھی جمع ہوجاتے تھے۔ زبور مزبور کے معنی ہیں جس کے معنی ہیں مکتوب ان انبیاء کا نام ذکر فرمانے کے بعد اجمالاً تمام انبیاء کی طرف اشارہ کیا۔ جن کا ذکر اب تک آچکا ہے اور جن کا ذکر اب تک نہیں آیا اور ان کی صحیح تعداد اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔
بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار ہے اور ان میں سے رسولوں کی تعداد تین سو تیرہ ہے اور کتابوں کی تعداد ایک سو چار ہے۔ (واللہ اعلم)
اس سلسلہ میں بعض روایات ضعیف ہیں اور بعض لاباس بہ کے درجے کی ہیں اور بعض ایسی ہیں کہ ابن کثیر نے ان پر کوئی تنقید نہیں کی۔
حضرت جابر سے جو روایت بزار نے نقل کی ہے اس میں حضور ﷺ کی یہ الفاظ ہیں کہ میں ہزار یا ہزار سے زیادہ انبیاء کا خاتم ہوں۔ اس روایت پر بھی ابن کثیر نے کوئی تنقید نہیں کی۔ (واللہ اعلم) بلاواسطہ حضرت حق تعالیٰ کا کلام کرنا یہ وحی کا انتہائی بلند مرتبہ ہے۔
عام قراء نے وکلم اللہ یعنی اللہ کے رفع کے ساتھ پڑھا ہے مگر بعض نے اللہ کے نصب کے ساتھ پڑھا ہے۔ بعض معتزلہ کا قصہ مشہور ہے کہ انہوں نے کسی اہل سنت کے عالم سے کہا کہ اللہ تعالیٰ کسی سے کلام نہیں کرتا اور اس آیت کو اللہ کے نصب کے ساتھ پڑھا جس کا مطلب یہ تھا کہ موسیٰ نے اللہ سے کلام کیا اس تحریف کو سن کر اس اہل سنت عالم نے فرمایا ارے کم بخت وکلم ربہ میں کیا پڑھے گا یہ سن کر وہ معتزل مبہوت ہوگیا کلام کی نوعیت خواہ کچھ ہو لیکن قرآن کریم کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو شرف ہم کلامی سے نوازا۔ اگرچہ کلام تو سب ہی انبیاء سے ہوتا ہے لیکن حضرت موسیٰ کو یہ شرف بلا واسطہ میسر ہوا۔
اب اسی سلسلہ میں انبیاء (علیہم السلام) کے بھیجنے کا فلسفہ بیان فرماتے ہیں اور نبی کریم ﷺ کے رسول ہونے کی شہادت دیتے ہیں اور ان شہادت کے بعد منکرین رسالت پر توبیخ فرماتے ہیں چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)