Ayahs 4:129–131ف 2 اور یہ تو تم سے کبھی نہ ہو سکے گا کہ تم اپنی سب بیویوں کے مابین ہر اعتبار سے مساوات اور برابری رکھو یعنی تمہارے قلب میں محبت بھی سب کی یکساں ہو خواہ تم اس مساوات اور برابری رکھنے کے کتنے ہی خواہشمند ہو لہٰذا تم ایاس نہ کرنا کہ ایک طرف تو بالکل مائل ہو جائو اور ایک کو ایسا ڈال رکھو جیسے ادہر میں لکٹی ہوئی چیز یعنی نہ نان و نفقہ دو اور نہ اس کو طلاق دو اور اگر تم اپنا طرز عمل درست کرلو اور اپنے طرز عمل کی اصلاح کرلو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو تو وہ معاف کر دیگا۔ یقین جانو ! کہ اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا اور بڑی مہربانی کرنے والا ہے۔ (تیسیر)
اوپر کی آیت میں جو کچھ فرمایا تھا اس کا ماحصل یہ تھا کہ باہم صلح ہوجائے یا یہ کہ مرد نشوز اور اعرا سے باز آجائے اور عورت سے حق کم نہ کرائے لیکن سوئے اتفاق سے اگر مصالحت یا احسان کی کوئی شکل نہ ہو تو عورت پر یا تو تفریق ہوجائے چناچہ آیت ولن تستطیعوا میں ظلم کی مذمت ہے اور اس کے بعد تفریق کا بیان ہے۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی انسان کی طبع میں مال کی حرص ہے اور ایک عورت پر زیادہ ڈھلنا تو چاہئے تا مقدور آپ کو بجاتا رہے بعد اس کے اللہ بخشنے والا ہے اور ادہر میں لٹکتی یہ کہ نہ اس کو آپ آرام سے رکھو نہ چھوڑ دو کہ اور کسی سے نکاح کرلے۔ (موضح القرآن)
آیت زیر بحث کا مطلب یہ ہے کہ بات تمہاری طاقت سے باہر ہے کہ تم سب سے قلبی محبت میں برابری کرسکو یوں اتفاقیہ ہوجائے تو وہ دوسری بات ہے اور جب یہ قلبی تعلق کی یکسانیت تمہاری طاقت سے خارج ہے تو تم اس کے مکلف بھی نہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جو بات تمہارے اختیار میں ہے یعنی ظاہری حقوق جن کو شرعی حقوق کہتے ہیں ان میں بھی کوتاہی کرنے لگو جیسے نان نفقہ اور باری وغیرہ لہٰذا جب یہ بات معلوم ہوگئی کہ محبت میں برابری مشکل ہے خواہ تم اس کی کوشش بھی کرو تم اس میں معذور ہو اور تم اس قلبی مساوات کے مکلف بھی نہیں ہو اب ایسا نہ کرو کہ جن باتوں میں معذور نہیں ہو ان میں کوتاہی کرنے لگو جس کی صورت یہ کہ بالکل ایک جانب مائل ہو جائو۔
بالکل کا یہ مطلب ہے کہ دل کی محبت جس میں تم معذور تھے وہ بھی ایک ہی جانب اور نان و نفقہ اور باری کی تقسیم وغیرہ بھی جس میں تم معذور نہ تھے وہ بھی ایک ہی جانب تو ایک جانب جب ہر اعتبار سے میلان ہوگا تو دوسری بالکل محروم رہ جائے گی نہ دل میں اس کی محبت ہوگی جس میں تم مذور تھے اور نہ ظاہری سلوک میں اس کے ساتھ برابری ہوگی جس کی وہ مستحق تھی اور تم اس میں معذور نہ تھے تو وہ بیچاری ایسی ہوجائے گی جیسے بیچ میں لٹکتی ہوئی کوئی چیز ہوتی ہے کہ نہ نیچے اور نہ اوپر اسی طرح یہ عورت تمہارے ہاتھوں ہوجائے گی نہ مطلقہ نہ بیوی، بیوی کا سا سلوک نہیں اس لئے بیوی نہیں اور طلاق نہ ہونے سے مطلقہ بھی نہیں۔ اصلاح اور تقویٰ کا یہاں بعض حضرات نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ جو پہلے نشوز اور اعراض وغیرہ کرچکے اور عورت کو سا چکے اس کی اصلاح کرلو اور آئندہ کے لئے احتیاط رکھو تو اللہ تعالیٰ معاف کر دے گا کیونکہ وہ بڑا غفور الرحیم ہے یہ آخری جملہ محذوف جزا کے قائم مقام ہوتا ہے اور اسی کے ساتھ محذوف جزا کی دلیل بھی ہوتا ہے جو قرآن کریم کا عام قاعدہ ہے کہ ہر دعویٰ پر دلیل پیش کرتا ہے۔ یہ ایک طرف نہ مائل ہوجانا اور دوسری کو معلقہ نہ کردینا و جو بی حکم ہے۔
اسی لئے حدیث شریف میں آتا ہے کہ جس شخص کی دو بیویاں ہوں اور وہ حقوق ظاہری میں ایک طرف مائل ہو تو وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اس کے جسم کا ایک حصہ ساقط یعنی مفلوج ہوگا۔
حضرت عائشہ کی روایت میں آتا ہے کہ نبی کریم ﷺ تمام عورتوں کے حقوق ادا کرنی میں عدل و انصاف کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے اللھم ھذا قسمی فیما املک فلا تلمنی فیما تملک ولا املک یا اللہ۔ یہ ان باتوں میں جن کا میں مالک ہوں میری تقسیم ہے لیکن جس چیز کا میں مالک نہیں ہوں بلکہ آپ مالک ہیں اس میں میری کوتاہی پر مجھے ملامت نہ کیجیو۔
مطلب یہی ہے کہ دل کی محبت میں میں معذور ہوں اگر قلب کا میلان کسی عورت کی طرف زیادہ ہو تو اس پر مجھے ملامت نہ فرمائیو۔ اب آگے تفریق کی صورت کا ذکر ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 4:132–133ف 3 اور اگر دونوں میاں بیوی میں اتفاق اور صلح کی کوئی شکل نہ نکلے اور وہ دونوں ایک دوسرے سے جدا ہی ہوجائیں یعنی چھوٹ چھٹائو ہوجائے تو اللہ تعالیٰ اپنی کشائش اور وسعت قدرت کی برکت سے ہر ایک کو دوسرے سے بےنیاز اور مستغنی کر دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑا صاحب وسعت اور بڑی حکمت والا ہے اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو چیزیں زمین میں ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ ہی کی ملک اور اسی کی مملوک ہیں اور یقینا جن لوگوں کو ہم نے تم سے پہلے کتاب دی تھی ان کو بھی یہ حکم دیا تھا اور تم کو بھی یہی حکم دیا ہے کہ تم لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور نیز یہ کہ اگر تم کفر کی روش اختیار کرو گے اور اللہ تعالیٰ کی ناشکری اور ناسپاسی کرو گے … تو یقین جانو کہ جو چیزیں آسمانوں میں ہیں اور جو چیزیں زمین میں ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ کی ملک اور اسی کی مملوک ہیں اور اللہ تعالیٰ بےنیاز اور کسی کی اطاعت و عبادت کا محتاج نہیں ہے اور تمام صفات محمودہ سے متصف ہے اور جو چیزیں آسمانوں میں ہیں اور جو چیزیں زمین میں ہیں سب اللہ تعالیٰ ہی کی ملک اور اسی کی مملوک ہیں اور اللہ تعالیٰ با عتبار کار ساز ہونے کے کافی ہے۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ دونوں میاں بیوی اگر باہم صلح نہ کرسکیں اور تفریق کی نوبت آجائے اور خلع و طلاق ہوجائے تو دونوں میاں بیوی میں سے کسی کو یہ خیال نہ کرنا چاہئے کہ میرے بغیر دوسرے کا کام نہیں چل سکے گا یعنی بیوی یہ نہ سمجھے کہ میرے بغیر مرد کا کام نہیں چلے گا۔ اور خاوند یہ نہ سمجھے کہ میرے بغیر بیوی کا کام نہیں چلے گا اس خیال سے بچنے کی غرض سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہر ایک میاں بیوی کو اپنی وسعت قدرت کی برکت سے مستغنی فرما دے گا اور ایک کو دوسرے کی احتیاج نہ ہوگی اور ایک دوسرے کا محتاج نہ رہے گا اور ایک کا کام دوسرے پر موقوف نہ رہے گا۔
پھر بطور استدلال فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بڑا صاحب وسعت ہے اور اپنی قدرت کاملہ سے ہر ایک کام چلاتا ہے اور وہ بڑی حکمت والا ہے اپنی حکمت بالغہ سے اگر کسی پر ایک دروازہ بند کرتا ہے تو دوسرا دروازہ کھول دیتا ہے۔ پھر اپنی وسعت قدرت کو ان الفاظ میں ظاہر کیا کہ آسمان و زمین کی تمام مخلوقات پر اس کی فرماں روائی ہے وہ سب کا مالک ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اوپر کی آیتوں میں بعض باتوں کا حکم دیا تھا اور بعض باتوں سے منع فرمایا تھا اس لئے اپنی مالکیت کا اعلان فرمایا کہ جب تمام مخلوق ہماری مملوک ہے تو جو حکم ہم دیں اس کی تعمیل کرو اور جس بات سے روک دیں اس سے باز رہو۔
اس لئے فرمایا کہ تم سے پہلے جو لوگ اہل کتاب تھے ہم نے ا ن کو بھی یہی حکم دیا تھا اور تم کو بھی یہی حکم دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔
ڈرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے احکام کی بجا آوری اور اس کے احکام کی تعمیل کرو اور اگر تم ایسا نہ کرو گے اور احکام کی مخالفت پر آمادہ ہو گے تو آسمان و زمین کی تمام چیزوں پر اس کی حکومت ہے اس کا کیا نقصان ہوسکتا ہے وہ کسی کی اطاعت کا محتاج اور کسی کی عبادت کا ضرورت مند نہیں ہے وہ تمام صفات کمالیہ اور صفات محمودہ سے متصف ہے بلکہ جو شخص نا سپاسی اور نافرمانی کرے گا اسی کو نقصان اور ضرر پہنچے گا کیونکہ آسمان اور زمین کی تمام اشیاء کا وہی مالک ہے اور سب چیزیں اسی کی مملوک ہیں اور وہی اپنی مخلوق کا کار ساز ہے تو ایسے مالک اور کار ساز کی اطاعت کرنے سے مملوک کا فائدہ اور مالک کی مخالفت کرنے سے مملوک ہی کا نقصان ہے، لہٰذا اس کی مخالفت سے ڈرنا چاہئے اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کی سعی کرنے چاہئے۔
بعض لوگوں نے وکفی بربک وکیلا کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ میاں بیوی میں مفارقت ہوجائے تو گھبرانا نہیں چاہئے کیونکہ اللہ تعالیٰ سب کا کار ساز ہے۔ بعض حضرات نے اور بھی کئی طرح مطلب بیان کیا ہے حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں تین بار فرمایا کہ اللہ کا ہے جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے پہلی بار کشائش کا بیان ہے دوسری بار بےپروائی کا اگر تم منکر ہو ۔ تیسری بار کا سازی کا اگر تم تقویٰ پکڑو۔ (موضح القرآن)
حضرت شاہ صاحب کی مراد یہ ہے کہ اوپر تین باتوں کا ذکر ہے ایک بیان میاں بیوی کی تفریق کا دوسرے تقویٰ کا تیسرے کفر کی برائی کا اور تینوں باتوں پر اللہ تعالیٰ نے علیحدہ علیحدہ اپنی مالکیت اور اپنی حکومت کا اظہار کیا ہے۔
آگے اسی حکومت اور قدرت کا دور سے عنوان سے اظہار فرماتا ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے (تسہیل)
Ayah 4:134ف 1 اگر وہ چاہے تو اے لوگو تم سب کو ایک ہی دفعہ معدوم کر دے اور تم سب کو فنا کر دے اور تمہاری جگہ دوسروں کو لا موجود کرے اور کسی دوسری مخلوق کو تمہاری جگہ لے آئے اور یہ تمہارا فنا کردینا اور دوسروں کو تمہاری جگہ لے آنا اس پر اللہ تعالیٰ کو پوری قدرت حاصل ہے اور اللہ تعالیٰ ایسا کرنے پر قادر ہے اور دیکھو جو شخص صرف دنیا کا معاوضہ اور دنیا کا انعام چاہتا ہے تو وہ غلطی کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے پاس تو دنیا اور آخرت دونوں کا معاوضہ اور انعام موجود ہے تو ایسی حالت میں اعلیٰ کو چھوڑ کر ادنیٰ پر کیوں قناعت کرے اور اللہ تعالیٰ خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تو ہر اعتبار سے مستغنی اور بےنیاز ہے اور وہ کسی کی اطاعت اور عبادت کا محتاج نہیں ہے جو بندہ عبادت کرتا ہے اور اس کی اطاعت بجا لاتا ہے تو وہ اپنے ہی فائدے اور نفع کو ایسا کرتا ہے لہٰذا تم اس کی اطاعت کو غنیمت سمجھو کہ اس نے تم کو اپنے کام میں لگا رکھا ہے ورنہ وہ تو اس پر بھی قادر ہے کہ تم سب کو یہ بیک وقت فنا کر دے اور تمہاری جگہ اور مخلوق کو لا بسائے اور ان کو اپنے کام میں لگا دے اور وہ مخلوق اس کے احکام کی بجائے آوری میں مشغول ہوجائے اور جب یہ عبادت و اطاعت کا کام دوسروں کے سپرد کیا جاسکتا ہے تو تم اپنی سعادت سمجھو کہ یہ کام تم سے لیا جا رہا ہے اس شفقت آمیز تنبیہہ کے بعد ایک اور بات تعلیم فرمائی کہ دیکھو جو اطاعت کرو اور جو حکم بجا لائو اس میں آخرت کے ثواب کا خیال کیا کرو اور صرف دنیوی منافع کا خیال نہ کیا کرو دین کے کاموں کا ثواب فقط دنیا میں طلب کرنا بڑی کمزوری اور غلطی کی بات ہے اور اس کا یہ مطلب نہ سمجھنا کہ اللہ تعالیٰ کے پاس معاوضہ اور ثواب نہیں ہے اس کے پاس تو دنیا اور آخرت دونوں کا انعام موجود ہے کوئی شخص اپنی غلطی سے دنیا میں لینا چاہے تو یہ لینے والے کا نقصان ہے اس لئے طلب کرنے والے کو آخرت کے انعام کی توقع کرنی چاہئے کیونکہ قاعدہ یہ ہے کہ آخرت کا ثواب چاہنے والوں کو تو دنیا اور آخرت دونوں میں انعام ملتا ہے اور فقط دنیا کے خواستگاروں کو آخرت میں محرومی ہوتی ہے اس لئے بہترین تہذیب سکھائی۔
اسی قسم کے مضمون کی آیت چوتھے پارے میں بھی گذر چکی ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی غایت و شفقت اور مہربانی ہے کہ احکام کی بجائیآوری کے ساتھ انعام مانگنے کا بھی طریقہ تعلیم فرمایا۔
حضرت ابن عباس کا قول ہے ا کہ آیت ان یشا یذھبکم سے مشرکین اور منافقین مراد ہیں۔ بعض مفسرین نے آیت کو عام رکھا ہے۔ وکان اللہ سمیعاً بصیرا کا مطلب یہ ہے کہ ہر ایک شخص کی درخواست کو خواہ وہ دنیا کے لئے ہو یا دین کے لئے سنتا ہے اور ہر شخص کے اعمال کو اور ہر شخص کی نیت کو دیکھتا ہے۔
دونوں آیتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ موجودہ تمام مخلوق کو فنا کردینے اور اس کی جگہ دوسری مخلوق کو موجود کردینے پر قادر ہے خواہ وہ مخلوق بشر ہو یا فرشتے ہوں بہرحال ! وہ تم سے اطاعت کرنے میں بہتر ہوگی اور تم جیسی نہ ہوگی۔
جیسا کہ سورة محمد ﷺ میں ہے وان تتولو ایستبدل قوماً غیر کم ثم لایکونوا اشالکم اللہ تعالیٰ اس قسم کے انقلاب پر پوری طرح قادر ہے ۔ اگرچہ قوموں کی الٹ پلٹ ہمیشہ ہوتی رہتی ہے جیسا کہ آٹھویں پارے میں ہے۔ کما انشاکم من ذریۃ قوم اخرین اوپر کے لوگ مرتے جاتے ہیں اور ان کی جگہ نوجوان لیتے رہتے ہیں لیکن یہاں یکبارگی کسی قوم کا استیصال مراد ہے۔
دنیا کے معاوضہ کا خلاصہ یہ ہے کہ جہاد میں مثلاً صرف غنیمت مقصود ہو یا اور کسی نیک کام کا بدلا دنیا ہی میں حاصل کرنا مقصود ہو تو اللہ تعالیٰ کی قدرت میں دونوں باتیں موجود ہیں لیکن مسلمان کو چاہئے کہ اعلیٰ درجہ کی چیز کو چھوڑ کر ادنیٰ درجہ کی چیز کو اختیار نہ کرے۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی سب مل کر شرع پر قائم رہو تو اللہ تعالیٰ دنیا بھی دے اور آخرت بھی (موضح القرآن)
حضرت شاہ صاحب کا مقصد بھی یہ ہے کہ نیت نیک رکھو دنیا کی دولت اور شہرت وغیرہ کی آرزو نہ کرو اگر نیت نیک ہوگی تو اللہ تعالیٰ دنیوی خواہش بھی پوری کر دے گا اور آخرت میں بھی اجر عطا فرمائے گا اوپر سے مختلف احکام کا بیان ہو رہا ہے کچھ عبادات کا بیان تھا کچھ معاملات کا بیان تھا اسی میں طمعمہ اور بشیر کا ذکر ہوا معاملات میں چونکہ فیصلہ کرنیوالوں کو اور گواہوں کو اور خود صاحب معاملہ کو عدل و انصاف کی ضرورت ہے اس لئے آگے اس کا ذکر فرماتے ہیں چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 4:135ف 2 اے ایمان والو ! تم تمام معاملات میں پوری مضبوطی کے ساتھ انصاف پر قائم رہنے والے اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے سچی گواہی دینے والے رہو یہ سچی گواہی خواہ تمہارے اپنے حق میں یا تمہارے ماں باپ کے حق میں یا تمہارے دوسرے قرابت داروں کے حق میں مضر ہی کیوں نہ ہوتی ہو اور خلاف ہی کیوں نہ ہو یعنی اس گواہی سے خواہ کسی کو بھی نقصان پہنچتا ہو اور گواہی کے وقت اس کا بھی خیال نہ کرو کہ فریق معاملہ کون ہے وہ فریق معاملہ کوئی مالدار ہے تب اور کوئی مفلس و نادار ہے تب بہرحال اللہ تعالیٰ ان دونوں کا تم سے زیادہ خیر خواہ ہے اور اللہ تعالیٰ کا تعلق ان دونوں کے ساتھ تم سے زیادہ ہے لہٰذاتم گواہی دینے میں نفسانی خواہش کی پیروی نہ کرنا کہ کہیں تم حق اور انصاف سے ہٹ جائو اور دیکھو، اگر تم کج بیانی کرو گے اور ہیر پھیر سے شہادت دو گے یا شہادت دینے سے پہلو تہی کرو گے تو یقین جانو ! کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ان تمام کاموں سے جو تم کرتے ہو باخبر ہے (تیسیر)
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی گواہی میں محظوظ اصل کی خاطر نہ کرو اور محتاج پر ترس نہ کھائو اور قرابت نہ دیکھو حق ہو سو کہو اور اگر سچ کہا پر ملی زبان سے کہ سنتے کو شبہ پڑا یا تمام قصہ نہ کہا کچھ بات کام کی رکھ لی یہ بھی گناہ ہے۔ (موضح القرآن)
معاملات کے بارے میں یہ آیت نہایت جامع ہے معاملہ کا ادا کرنا ہو یا کسی معاملہ کا فیصلہ کرنا ہو یا کسی معاملہ میں اقرار کرنا ہو، یا شہادت دینا ہو یا کسی معاملہ میں گواہی اور اظہار خیال اور اقرار وغیرہ کا تعلق اپنے یا اپنے متعلقین کے ساتھ ہو یا معاملہ کسی امیر کا ہو، یا غریب کا ہو ان سب باتوں میں مضبوطی کے ساتھ انصاف پر قائم رہنا چاہئے اور نفسانی خواہش کی پیروی نہ کرنا کہیں تم انصاف سے ہٹ جائو پھر شہادت دینے میں جس کوتاہی کا اندیشہ تھا کہ کبھی ہیر پھیر سے شہادت دو یا گواہی دینے سے ٹل جائو یا کچھ واقعہ بیان کرو اور کچھ چھپالو شہادت کے ان طریقوں پر بھی تنبیہہ فرمائی کہ اگر کوئی ایسی حرکت کرو گے تو اللہ تعالیٰ دانا اور بینا ہے وہ تم کو اس کی سزا دے گا۔
حضرت شاہ صاحب ان تعدلوا کا جو ترجمہ کیا ہے وہ ہم نے محاورے کے متروک ہوجانے کی وجہ سے چھوڑ دیا ہے پوری مضبوطی سے قائم رہنے کا مطلب یہ ہے کہ معاملہ کی خواہ کوئی صورت ہے مسلمانوں کو اس میں انصاف سے کام لینا چاہئے اور ہمیشہ مضبوطی کے ساتھ انصاف پر قائم رہنا چاہئے اور شہادت دینے کے وقت اللہ تعالیٰکی خوشنودی کا لحاظ کرنا چاہئے۔ شادت کا اثر خواہ اپنے پر پڑتا ہو جیسے کسی کے حق کا اقرار کرلینا اپنے ماں باپ اور رشتہ داروں پر اس کا اثر پڑتا ہو اور ان پر کسی کا حق ثابت ہوتا ہو بہرحال ! شہادت سچی ہونی چاہئے اور اقرار ٹھیک ٹھیک کرنا چاہئے۔
امیر غریب کا مطلب یہ ہے کہ امیر کی عایت کسی نفع کی توقع پر یا غریب کی رعایت ترس کھا کر نہ کیجیے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر امیر اور غریب کا تم سے زیادہ خیر خواہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اسی شہادت سے خوش ہوتا ہے جو سچی اور ٹھیک ہو اور اس میں کسی کی رعایت نہ کی جائے مفسرین نے ان تعدلوا کو عدل اور عدول سے لیا ہے ہم نے دونوں کی رعایت کی ہے ۔ اگرچہ قاضی بیضاوی کا قول اختیار کیا ہے۔ واللہ اعلم
اب آگے ایمان کا ذکر ہے جو اصل ہے تمام اعمال کی اور یہ بات ہم کئی دفعہ رض کرچکے ہیں کہ قرآن کریم کی ترتیب اور اس کا ربط کچھ اس ڈھنگ سے واقع ہوا ہے کہ متوسط درجے کے لوگ اس میں الجھتے ہیں حالانکہ ہر آیت اپنے موقع اور قرینے کے اعتبار سے اپنی جگہ ہوتی ہے اور سلسلہ کلام ایک دوسرے کے ساتھ منسلک ہوتا ہے چناچہ اس موقعہ پر بھی احکام فرعیہ کے ساتھ آگے کی آیتوں میں ایمان کا ذکر ہے اور اس کے بعد منکرین حق کی مذمت ہے وہ منکرین حق منافقوں میں سے ہوں یا کافروں میں سے ہوں یا اہل کتاب میں سے ہوں آخر سورت تک ان ہی کا ذکر ہے صرف آخر کی چند آیتوں میں ترکہ کے بعض مسائل کا بیان ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 4:136ف 1 اے ایمان والو ! اور دعوت حق کو قبول کرنے والو ! تم اللہ تعالیٰ پر یقین لائو اور اس کے رسول محمد ﷺ پر ایمان لائو اور اس کتاب پر یقین لائو جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ پر نازل فرمائی ہے اور ان کتب سماویہ کے حق ہونے پر بھی ایمان لائو جو محمد ﷺ سے پہلے اور نبیوں پر نازل فرمائی تھیں اور دیکھو جس شخص نے اللہ تعالیٰ کا انکار کیا اور جس نے اس کے فرشتوں کا انکار کیا اور جس نے اس کی کتابوں کا اور اس کے رسولوں کا انکار کیا اور اس طرح جس شخص نے روز قیامت کا انکار کیا تو ایسا شخص بلاشبہ ایسی گمراہی میں جا پڑا جو راہ راست سے بہت دور ہے۔
ایمان لانے والو ایمان لائو کا مطلب لوگوں نے کئی طرح بیان کیا ہے بعض نے کہا منافقین کو خطاب ہے اور مطلب یہ ہے کہ زبان سے ایمان لانے والو جب تک انت مام باتوں پر دل سے ایمان نہ لائو گے تم ایمان والے نہ ہو گے۔ بعض نے کہا یہود و نصاریٰ کو خطاب ہے اور مطلب یہ ہے کہ عیسیٰ اور موسیٰ پر ایمان لانے والو تم قرآن پر اور حضرت محمد ﷺ پر ایمان لائو بعض نے کہا کہ مشرکین کو خطاب ہے اور مطلب یہ ہے کہ معبودان باطلہ پر اعتقاد رکھنے والو اللہ اور اس کے رسول پر اور کتابوں پر ایمان لائو بعض نے کہا مومنین کو ارشاد ہے۔
ایمان لانے والو تم ایمان پر ثابت قدم رہو اور ایمان پر قائم رہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اجمالی طور پر ایمان لانے والوں کو ایمان مفصل کی تعلیم دی ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہر مکلف بالایمان کو خطاب ہو یعنی جن لوگوں پر ایمان لانا فرض ہے وہ اس طرح ایمان لائیں بہرحال اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی ذات اور اس کی صفات پر ایمان لائو۔
رسول سے مراد نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس ہے ان پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ کا فرستادہ مانو اور ان کی رسالت کے حق ہونے پر ایمان لائو۔
کتاب سے مراد قرآن شریف ہے اس کے حق او منزل من اللہ ہونے پر ایمان لائو دوسری کتاب سے مراد وہ کتب سماویہ ہیں جو محمد ﷺ کی تشریف آوری سے قبل نازل ہوچکی ہیں ان کے حق ہونے پر ایمان لائو اگرچہ اب ان پر عمل کرنے کا حکم نہیں ہے لیکن وہ کتابیں منزل من اللہ تھیں اور ان کے نزول کے زمانے میں ان پر عمل کرنا فرض تھا اور چونکہ وہ بتدریج نازل نہ ہوئی تھیں اس لئے ان کے متعلق انزال اور قرآن چونکہ بتدریج نازل ہوا ہے اس لئے اس کے متعلق تنزیل فرمایا اور کتب سماویہ اور قرآن کریم اور محمد ﷺ پر ایمان لانے میں فرشتوں اور رسولوں اور قیامت وغیرہ پر ایمان لانا بھی آگیا ا س لئے آگے فرمایا جو اللہ کی ذات کا یا اس کی صفات کا یا اس کے فرشتوں کا یا اس کی کتابوں کا یا اس کے رسولوں کا یا روز قیامت کا منکر ہو اور ان چیزوں میں سے کسی چیز کا بھی اس نے انکار کیا تو وہ انتہائی گمراہی میں جا گرا اور حق سے اتنی دور چلا گیا کہ اب راہ حق کا پانا اس پر سخت دشوار ہے۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں ایمان والے فرمایا ہے ان کو جو ظاہر میں مسلمان ہیں سو ان و تقیہ ہے کہ جب تک دل سے یقین نہ لاویں گے ان سب چیزوں کا تو خدا کے ہاں مسلمان نہیں۔ (موضح القرآن) اب آگے ارتداد کے نتائج کا بیان فرماتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayahs 4:137–138ف 2 بلاشبہ جو لوگ مسلمان ہوئے پھر مسلمان ہونے کے بعد کافر ہوگئے۔ کافر ہونے کے بعد پھر مسلمان ہوگئے مسلمان ہونے کے بعد پھر کافر ہوگئے پھر اپنے کفر میں بڑھتے اور زیادہ ہوتے چلے گئے تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ہرگز نہیں بخشے گا اور نہ ان کی مقصود تک پہونچنے میں رہنمائی فرمائے گا۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ اگر ارتداد کے بعد تائب ہوجائیں اور نادم ہو کر ایمان لے آئیں تو بہرحال ایمان قبول ہوگا اور اگر ارتداد کے بعد کوئی ایمان نہ لائے اور ارتداد ہی پر مرجائے تو نہ اس کی مغفرت اور نہ اس کی مقصود تک رہنمائی یعنی جنت میں جانے کا راستہ دکھایا جائے گا اگرچہ ایک دفعہ مرتد ہو کر کوئی ارتداد پر قائم رہے تب بھی یہی سزا ہے اور کوئی بار بار ایمان لائے بار بار مرتد ہو تب بھی یہی سزا ہے لیکن یہاں دو دفعہ ایمان و کفر کا ذکر محض اس لئے کیا کہ کوئی واقعہ اسی طرح پیش آیا ہوگا اور کچھ لوگوں نے ایسا کیا ہوگا اس لئے نزول میں اس کی طرف اشارہ ہے ورنہ دوسری مرتبہ ثم کفروا کہنا کوئی قید نہیں ہے اور جس طرح ایک بار مرتد ہو کر ارتداد پر قائم رہنے کی یہی سزا ہے اسیط رح ہر ارتداد کے بعد نادم ہوجانے اور توبہ کرلینے پر مغفرت کی توقع ہے۔
بہرحال ! خلاصہ یہ ہے کہ آیت میں دو مرتبہ ایمان و کفر کا ذکر بطور قید نہیں ہے بلکہ واقعہ کے طور پر ہے جو نزول آیت کے وقت پیش آیا تھا۔
حضرت قتادہ کا قول ہے کہ اس سے یہود مراد ہیں کہ پہلے موسیٰ پر ایمان لائے پھر بچھڑا پوج کر مرتد ہوئے پھر توریت پر ایمان لائے پھر عیسیٰ کے ساتھ کفر کیا پھر کفر میں بڑھتے چلے گئے یہاں تک کہ محمد ﷺ کے ساتھ کفر کیا۔
بعض حضرات نے کہا کہ اس سے تمام اہل کتاب مراد ہیں کہ ایک نبی پر ایمان لاتے اور دوسرے نبی کے ساتھ کفر کرتے اور یہاں تک کفر میں بڑھتے رہے کہ نبی آخر الزاماں حضرت محمد ﷺ کے ساتھ بھی کفر کیا اور آخر میں جو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی نہ مغفرت کرے گا نہ ان کو راستہ دکھائے گا تو اس کا مطلب بعض لوگوں نے حضرت علی سے یہ نقل کیا ہے کہ ان کی توبہ قبول نہیں ہوگی لیکن صحیح چیز وہی ہے جو ہم اوپر عرض کرچکے ہیں کہ مرتد ہونے کے بعد کفر پر قائم رہے اور کفر میں بڑھتے رہے یہاں تک کہ کفر پر مرگئے۔ حضرت مجاہد نے اسی کو اختیار کیا ہے۔
حضرت علی کا جو قول ہم نے نقل کیا ہے شاید اس کا مطلب یہ ہو کہ ایسے بدبخت کو جس نے ایمان اور کف کو ایک مذاق بنا رکھا ہے اس کو توبہ کی توفیق نصیب نہ ہوگی۔ اس کا کفر اور اس کا طغیان او استہزا بالدین اس کے لئے پردہ اور گمراہی کا موجب ہوجائے گا اور اس کو صحیح راہ اور حق کا راستہ ملنے کی توفیق نہ دی جائے گی اور وہ مغفرت سے محروم رہے گا یعنی لم یکن اللہ غافر الھم والاھادیھم سبیلا (واللہ اعلم)
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی ظاہر میں مسلمان رہے اور دل پھٹکتے رہے تو اگر آخر کو بےیقین مرے تو کافر کے برابر ہیں ان کو بخشش نہیں اور ظاہر کی مسلمانی سے وہاں راہ نہ ملے گی۔
شاید ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شاہ صاحب ان آیات کا تعلق صرف منافقین سے بیان کرنا چاہتے ہیں جیسا کہ بعض حضرات نے اختیار کیا ہے (واللہ اعلم) بہرحال پہلی آیت میں ایمان کی تفصیل تھی اور ایمان مفصل کا بیان تھا اور تفصیلی چیزوں پر اعتقاد رکھنے اور ایمان لانے کا ذکر تھا اس کے بعد مرتدین کا ذکر فرمایا اب آگے منافقین کا ذکر فرماتے ہیں چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 4:139–140ف 3 اے پیغمبر ! آپ ان منافقین کو اس بات کی خوشخبری دے دیجیے کہ ان کے لئے آخرت میں بڑا اور درد ناک عذاب ہے جن کا طریقہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا رفیق اور دوست بناتے ہیں کیا یہ منافق کافروں کے پاس عزت کے جویاں ہیں اور ان کے پاس اعزاز چاہتے ہیں تو یقین جانو ! اور خبو سن لو کہ عزت جتنی بھی ہے سب کی سب اللہ ہی کے قبضے میں ہے اور ہر قسم کا سب اعزاز اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ (تیسیر)
شاید یاد ہوگا ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ مدینہ کاد ور ایک انقلابی دور تھا کفار کا بتدریج زوال ہو رہا تھا اور مسلمانوں کے پاس بتدریج اقتدار آ رہا تھا اس لئے لوگوں کو اطمینان نہیں تھا خالص مسلمان ایک جانب تھے اور کھلے ہوئے مخالف ایک جانب تھے کچھ کمزور لوگ زمانہ کا رنگ دیکھ رہے تھے اور اس کا انتظار کر رہے تھے کہ دیکھئے اونٹ کس کروٹ بیٹھا ہے۔ اس لئے وہ دونوں طرف تعلقات رکھنے کی کوشش کرتے تھے کہ جس طرف غلبہ اور قوت دیکھیں گے اسی طرف ہوجائیں گے وہ لوگ مسلمانوں کی مجلس میں بھی آتے تھے اور کفار سے بھی ساز باز رکھتے تھے اور ان سے بھی دوستانہ لگائے رکھتے تھے ان ہی لوگوں کو اس آیت میں تنبیہہ اور توبیخ ہے تو بیخ کو بشارت کے الفاظ میں بطور تحکم ادا فرمایا ہے۔ ورنہ ظاہر ہے کہ عذاب کی خبر بشارت نہیں ہے۔
جیسا کہ ہم پہلے بھی عرض کرچکے ہیں بعض لوگوں نے کہا ہے کہ بشارت ہر اس خبر کو کہتے ہیں جس سے چہرے میں تغیر واقع ہو خواہ وہ خوشی کی خبر ہو یا رنج کی بعضوں نے اور طرح توجیہہ کی ہے۔ لیکن سیدھی بات وہ ہے جو ہم نے عرض کردی ہے اور ایک یہ بھی حاکمانہ انداز ہے کہ مجرم کو سزا کی خبر یہ کہہ کردیتے ہیں ک ہہم تم کو بشارت دیتے ہیں کہ تم کو جیل خانے بھیجیں گے اور تم کو قید کریں گے۔
عزت کے معنی قوت اور غلبہ کے ہیں اور مطلب یہ ہے کہ کیا کفار کی دوستی سے ان کی خاہش یہ ہے کہ کافروں سے مل کر اور کافروں کے پاس جا کر عزت مل جائے گی اور عزت کی تلاش میں ان ک واپنا رفیق بتاتے ہیں تو سن لیں کہ تمام تر عزت اللہ ہی کے قبضے میں ہے جس کو وہ چاہے اعزاز عطا فرمائے جیسا کہ اپنے دوستوں کو اس نے اعزاز بخشا ہے واللہ اعلزۃ و لرسولہ وللمئومنین اور جب ہر قسم کا اعزاز اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے تو وہ جس کو چاہے معزز فرمائے اور ظاہر ہے کہ یہ اعزاز اس نے کفار کو نہیں بخشا تو کافروں کے پاس جا کر کوئی معزز نہیں ہوسکتا۔
بعض حضرات نے عزت کا ترجمہ اعزاز کے ساتھ کیا ہے اس صورت میں اس عزت کے مفائر ہے جس کا ذکر سورة منافقون میں آیا ہے۔ یہاں عزت سے وہ عزت مراد ہے جو صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے اور سورة منافقون میں جو عزت ہے وہ اس معنی میں نہیں ہے اس لئے وہاں فرمایا ہے۔ وللہ العزۃ ولرسولہ وللمئومنین واللہ اعلم۔
بہرحال ! منافقین چونکہ کافروں کی ہمدردی حاصل کرنے کی غرض سے ان کی مجالس میں شریک ہوتے تھے اور وہاں قرآن کریم کے ساتھ استہزا کیا جاتا تھا اور اس قسم کی مجالس مکہ میں بھی ہوا کرتی تھیں چناچہ سورة انعام جو مکہ میں نازل ہوئی تھی اس میں بھی ارشاد فرمایا تھا۔ واذا رایت الذین یخوضون فی ایتنا فاعرض عنھم حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ
مدینہ منورہ میں اس قسم کی مجالس یہود کے ہاں ہوتی تھیں اور یہ منافق اس میں شریک ہوتے تھے اور بعض مسلمان بھی ان کے ساتھ چلے جاتے تھے اس لئے مسلمانوں کو تنبیہہ فرمائی اور سابقہ حکم کا حوالہ دے کر فرمایا کہ تم اس قسم کی غیر شرعی مجالس میں شرکت نہ کرو جن میں دین حق کا مذاق اڑایا جا رہا ہو اور اس وقت تک علیحدہ رہو جب تک اہل مجلس کوئی اور گفتگو شروع نہ کریں اور جو منافقین اس قسم کی مجالس میں اپنی دلچسپی کا اظہار کرتے تھے ان کو اور کافروں کو شامل کر کے جہنم میں داخل کرنے کا اعلان فرمایا اور منافقین کی مذمت فرمائی چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 4:141–142ف 1 اور اے مسلمانو ! بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہاری جانب قرآن میں یہ فرمان بھیج چکا ہے یعنی سورة انعام میں جس کا ماحصل یہ ہے کہ جب تم کسی مجمع اور کسی مجلس میں یہ سنو ! کہ احکام الٰہیہ اور آیات خداوندی کے ساتھ کفر کیا جا رہا ہے اور ان آیات الٰہی کے ساتھ استہزا اور مذاق کیا جا رہا ہے تو تم ان لوگوں کے پاس اس وقت تک نہ بیٹھو جب تک وہ اس کفر و استہزا کو چھوڑ کر کوئی اور گفتگو شروع نہ کریں کیونکہ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس حالت میں تم بھی گناہ میں انہی جیسے ہو جائو گے۔ یقین جانو ! کہ اللہ تعالیٰ منافقوں کو اور کافروں کو سب کو جہنم میں جمع کرنے والا ہے۔ یہ منافق لوگ ایسے ہیں جو تمہارے متعلق کسی نہ کسی حادثے کے انتظار میں لگے رہتے ہیں پھر اس انتظار کے بعد اگر اللہ تعالیٰ کی جانب سے تم کو فتح میسر آگئی اور تمہاری فتح ہوگئی تو تم سے کہنے لگتے ہیں کہ کیا ہم تمہارے ساتھ جہاد میں شریک نہیں تھے لہٰذا ہم کو بھی غنیمت میں سے حصہ دلوائو اور اگر سوء اتفاق سے کافروں کو عارضی غلبہ کا کچھ حصہ مل گیا تو ان سے جا کر کہتے ہیں کہ کیا ہم تم پر فلاں موقع پر غاب نہیں ہو چلے تھے اور کیا جب تم مغلوب ہو رہے تھے تو ہم نے مسلمانوں سے تم کو بچا نہیں لیا۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ جو لوگ مسلمان ہیں ان کو اہل باطل کی مجالس میں شرکت سے اجتناب کرنا چاہئے کیونکہ اگر ان کی کافرانہ بکواس پر رضامند ہو تب تو کفر ہے یا نفاق ہے اور اگر کراہت کے ساتھ شرکت ہو مگر کسی عذر شرعی کے بغیر ہو تب فسق ہے۔ البتہ اگر جبراً ہو تو معذور ہے لہٰذا مسلمانوں کو شریک نہیں ہونا چاہئے اور اگر تبلیغ وغیرہ کی نیت سے شریک بھی ہوں تو جس وقت اہل مجلس آیات الٰہی کا انکار کریں اور ان آیات کے ساتھ استہزا کریں تو وہاں سے ٹل جانا چاہئے۔ جب تک وہ اس قسم کی سفوات کو چھوڑ کر اور باتیں شروع نہ کردیں اس وقت تک اس مجلس سے کنارہ کش رہنا چاہئے۔
اور یہ جو فرمایا کہ انکم اذا مثلھم یہ بطور تعلیل ہے کہ ہم تم کو اس لئے منع کرتے ہیں کہ اگر تم ایسے وقت بھی اہل مجلس کے ہم نشین ہو گے تو گناہ میں ان ہی جیسے ہو جائو گے خواہ تمہارا گناہ فسق ہو اور ان کا گناہ کفر ہو۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں جو شخص ایک مجلس میں اپنے دین کے عیب سنے پھر انہی میں بیٹھے اگرچہ آپ نے کہے وہی منافق ہے (موضح القرآن)
عام مفسرین نے وقد نزل علیکم سے مراد مخلص مسلمان لئے ہیں بعض نے خطاب کو عام رکھا ہے خواہ وہ حقیقی مسلمان ہوں یا صرف زبانی مسلمان ہوں اور بعض نے صرف منافق مراد لئے ہیں۔ شاید شاہ صاحب نے بھی علیکم سے منافقین ہی مراد لئے ہیں (واللہ اعلم) بہرحال ! ہر قسم کی گنجائش ہے اگر فقط منافقین مراد ہوں تو مطلب یہ ہوگا کہ تم جب مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہو تو ایسی مجالس میں کیوں شریک ہوتے ہو اور اگر شریک ہو گے اور کفریات کے وقت ان کے ساتھ بیٹھے رہو گے تو تم بھی انہی میں شمار ہو گے اور تمہارے ساتھ بھی انہی جیسا معاملہ ہوگا۔
نزل علیکم کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تم پر یہ حکم براہ راست نازل ہوا تھا کہ مطلب یہ ہے کہ یہ فرمان پیغمبر کی وساطت سے تم کو پہونچ چکا ہے اگرچہ وہ حکم مکہ میں دیا گیا تھا مگر مکہ کے ساتھ مخصوص نہ تھا بلکہ اس پر ہر وقت عمل کرنے کی ضرورت ہے اور انتقام کی طاقت نہ ہو اور ایسی مجالس کو بند نہ کرسکو تو ان سے ایسے وقت علیحدہ تو ہوجایا کرو اور یہ اظہار ناراضگی بہترین طریقہ ہے جو آج کل بھی رائج ہے ان اذا سمعتم آنکھوں سے دیکھنے کو بھی شامل ہے اور کانوں سے سننے کو بھی مطلب یہ ہے کہ تم کو ہزلیات کا یقین ہوجائے اور اگر تمہارے سامنے شروع ہو تو اٹھ کر چلے آئو اور پہلے سے معلوم ہوجائے تو وہاں جائو نہیں۔
تربص انتظار کرنا، عرب جب بولتے ہیں تربصت الامر بفلان تو مطلب ہوتا ہے۔ انتظرت وتوعدیہ یہاں مراد یہ ہے کہ منافق تمہارے بارے میں کسی نہ کسی حادثہ اور نئی بات کے منتظر رہتے ہیں۔ استحواذ غالب آجانا قابو پالینا مغلوب کرلینا الاستحواذ الا ستبلاء ۔ مسلمانوں کی فتح کو فتح من اللہ فرمایا اور کفار کا غلبہ چونکہ عارضی اور ناقابل التفات تھا اس لئے اس کو نصیب یعنی کچھ حصہ مل گیا۔
باقی مطلب صاف ہے کہ منافقوں کی یہ دو رخہ پالیسی رہتی ہے ادھر بھی اور ادھر بھی تم کامیاب ہوئے تو اپنے کو تمہارا کہہ دیا اور کافر کچھ کامیاب ہوئے تو یہ کہہ دیا کہ ہم نے تو مسلمانوں کی فتح کو روکا ہے اور اگر ہم خفیہ کارروائی نہ کرتے تو مسلمان تم پر فتح پا ہی لیتے اور چونکہ مسلمانوں کی فوج میں یہ بحیثیت مسلمان شامل تھے اس لئے نستخوذ کہا یعنی کیا ہم پر فتح پا ہی لیتے اور چونکہ مسلمانوں کی فوج میں یہ بحیثیت مسلمان شامل تھے اس لئے نستخوذ کہا یعنی کیا ہم تم پر غالب نہ آ چکے تھے اور چونکہ یہ باتیں سب کفر کی ہیں گو نفاق کے پردے میں ہوں اس لئے فرمایا کہ دونوں جہنم کے مستحق ہیں ان کے اور اللہ تعالیٰ کافروں اور منافقوں دونوں کو جہنم میں یک جا کر دیگا بہرحال ! آگے قیامت کے دن ظاہری طور پر فیصلہ فرمانے کا بیان ہے اور منافقوں کے مزید حالات اور ان کی مذمت ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
2 بس اللہ تعالیٰ ہی تمہارے اور ان کے مابین قیامت کے دن ظاہری اور عملی فیصلہ کر دے گا اور اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے مقابلے میں ہرگز برتری کی کوئی راہ نہ دے گا۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ اگرچہ یہ منافق اظہار اسلام کے پردے میں آرام سے زندگی بسر کر رہے ہیں لیکن قیامت میں تمہارے اور ان کے مابین اللہ تعالیٰ فیصلہ فرما دے گا اور سب کو معلوم ہوجائے گا کہ صحیح مسلمان کون ہے اور منافق کون ہے وہ فیصلہ بالکل ظاہری اور عملی ہوگا یعنی ادھر فیصلہ ہوا اور ادھر اس پر عمل ہوا اور اس دن اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے مقابلے میں کافروں کو کوئی غلبہ کی راہ نہ دے گا۔
یہ مطلب حضرت علی اور حضرت ابن عباس کی تفسیر کے موافق بیان کیا گیا ہے۔ ورنہ مفسرین کے بہت سے اقوال ہیں اور ہم نے جو ظاہری اور عملی کی قید لگائی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ حق و باطل کے دلائل تو اب بھی کھلے ہوئے ہیں لیکن اس دن اہل حق کے ساتھ جو سلوک ہوگا وہ بھی نمایاں ہوگا اور اہل باطل کو جو عذاب کیا جائے گا وہ بھی سب دیکھ لیں گے اور قیامت کے دن کی قید سے یہ معلوم ہوا کہ دنیا میں اگر مسلمانوں پر کافروں کو عارضی غلبہ حاصل ہو بھی جائے تو یہ مضر نہیں۔
بہرحال ! قیامت میں جو فیصلہ ہوگا ان میں کافروں کے برتری اور فوقیت کا کوئی موقعہ نہیں، بعض حضرات نے ولن یجعل اللہ للکفرین الخ کی تفسیر اس طرح کی ہے کہ کافروں کو مسلمانوں پر کوئی ایسا غلبہ نہیں دیا جائے گا جس سے کافر مسلمانوں کا استیصال کردیں اور ان کی شوکت کو بالکل ختم کردیں، بعض لوگوں نے کہا ہے جبتک مسلمان دین پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہیں گے ان پر کافروں کو غلبہ حاصل نہیں ہوگا بعض نے کہا شرعاً کافروں کو مسلمانوں پر برتری نہیں ہوگی مثلاً کافر مسلمان کا دلی نہیں ہوگا اور مسلمان عورت کافر کے عقد میں نہیں رہے گی اگر کوئی مسلمان مرتد ہوجائے گا تو مسلم عورت کا نکاح فسخ ہوجائے گا اس کے علاوہ اور بیشمار مسائل ہیں جو کتب فقہ سے معلوم ہوسکتی ہیں اور ان ہی میں سے یہ مشہور مسئلہ بھی ہے کہ کافر کا فیصلہ مسلمان پر نافذ ہوگا۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص راہ حق میں ہو اور گمراہوں سے بھی بنائے رکھے یہ بھی نفاق ہے (موضح القرآن) اب آگے منافقین کی دو رخہ پالیسی اور اس کی مذمت ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 4:143ف 1 بلاشبہ یہ منافق اپنے خیال فاسد اور زغم باطل میں اللہ تعالیٰ کو دھوکہ دے رہے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ ان کے اس مکر و فریب کی ان کو سزا دینے والا ہے اور منافق جب نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو محض لوگوں کے دکھانے کے لئے بڑی سستی اور الکساہٹ سے کھڑے ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا ذکر بھی نہیں کرتے مگر یوں ہی مختصر سا ان کی حالت یہ ہے کہ کفر و ایمان کے مابین تردد و تذبذب میں مبتلا ہیں اور ادھر میں لٹکے ہوئے ہیں نہ پوری طرح مسلمانوں کی طرف اور نہ پوری طرح کافروں کی طرف اور بات یہ ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ ہی گمراہی میں مبتلا رکھے تو اے مخاطب تو اس کے لئے ایمان لانے اور مومن ہونے کی کوئی راہ نہ پائے گا۔ (تیسیر)
خدع مخادعت وغیرہ کی تفسیر گزر چکی ہے خدع کے معنی دھوکہ مکر فریب ، دغا، کسالی کسلان کی جمع ہے کسل کا لفظ اردو میں بھی استعمال ہوتا ہے ایک کام کے کرنے کو جی نہ چاہے اور کسی وجہ سے کرنا پڑے تو بولا کرتے ہیں فلاں شخص بارے جی سے کام کر رہا ہے جس کا م نشاط اور انبساط نہ ہو چونکہ نماز پر اعتقاد نہیں اس لئے مارے باندھے کی نماز ہے اسی حالت کا بیان ہے۔ یرائون محض دکھاوے کے لئے اٹھتے بیٹھے ہیں اسی بنا پر نماز میں کچھ پڑھتے بھی نہیں کسی وقت خالی زبان ہلا دی یا ایک آدھ کلمہ کہہ دیا کہ برابر والا سمجھے کہ کچھ پڑھ رہے ہیں یا جہری نماز میں لوگوں کے سنانے کو کچھ پڑھ دیا یا سری میں چپکے کھڑے رہے تذبذب کے معنی ہیں دو باتوں کے درمیان تردد اور یہ لفظ بھی عام طور پر اردو میں بولا جاتا ہے جب دو کاموں میں سے کسی ایک جانب پختہ رائے قائم نہ ہو تو کہتے ہیں مجھے تردد ہے یا میں اس معاملہ میں تذبذب ہوں اور اصل میں تذبذب جیسا کہ صاحب کشاف نے کہا ہے اس کو کہتے ہیں جو دونوں جانب دفع کیا جائے گا بازی کے کھیل کی طرح جس طرف جائے وہی پھینکے اور اپنی طرف سے دوسری طرف دفع کرے چونکہ دل سے کافر ہیں اس لئے مسلمانوں میں مشتبہ اور نا مقبول اور چونکہ ظاہر میں مسلمان ہیں اس لئے کافروں میں مشتبہ اور نا مقبول خلاصہ یہ ہے کہ مناف کفر کو چھپا کر اور اسلام کو ظاہر کر ک اپنے خیال میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ چال چل رہے ہیں حالانکہ اس کی ڈھل سے یہ خود ہی دھوکہ کھا رہے ہیں اور وہ ان کو اس چال کا بدلہ دینے والا ہے۔ ان منافقوں کی حالت یہ ہے کہ نماز پڑھنے کو اٹھتے ہیں تو بڑے کسل کیساتھ مارے باندھے کو اٹھتے ہیں محض مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ دیکھ لیں ہم نمازی ہیں چونکہ نماز کو نہ فرض سمجھتے ہیں نہ بدبختوں کو ثواب کی امید ہے اس لئے نماز میں تسبیح اور تشہد وغیرہ بھی نہیں پڑھتے یوں ہی کچھ تھوڑا سا پڑھ لیا تو پڑھ لیا کفرو ایمان کے درمیان ادھر لٹکے ہوئے ہیں نہ پورے ادھر، نہ پورے ادھر حضرت حق کا گمراہ کرنا وہی ہے جس کو ہم بتا چکے ہیں کہ عزم فعل کے وقت اللہ تعالیٰ فعل کو پیدا کردیتا ہے اسی لئے با اعتبار خلق اس کی طرف اور با اعتبار کسب بند ہے کی طرف فعل کو منسوب کیا جاتا ہے۔
ہم نے ترجمہ اور تیسیر میں اس قسم کی تفصیل سے بچنے کے لئے مبتلا رکھے ترجمہ کیا ہے۔ ہمارا مطلب وہی ہے جو ہم کئی مرتبہ عرضکر چکے ہیں کہ جب کوئی بندہ اپنی شرارت اور طغیان میں بڑھتا چلا جاتا ہے تو حضرت حق تعالیٰ اس کی سرپرستی سے ہاتھ اٹھا لیتے ہیں اور اس سے نیک توفیق کو سلب کرلیتے ہیں یا یوں سمجھ کہ جب کوئی مریض بد پرہیزی کو اپنا شیوہ بنا لیتا ہے تو طبیب اس کی اصلاح سے دست کش ہوجاتا ہے بس اسی حالت کو قرآن اضلال سے تعبیر کرتا ہے اب چاہے جس طرح ترجمہ کرلو۔
اس آیت میں ان کے ایمان ک طرف سے نا امیدی کا اظہار کیا گیا ہے ۔ کیونکہ جس نالائق مریض سے طبیب دست کش ہوجائے اس کے لئے شفا کی امید ہوسکتی ہے۔
صحاح میں حضرت ابن عمر سے مرفوعاً روایت ہے کہ منافق کی مثال اس بکری کی سی ہے جو بکریوں کے دو گلوں کے درمیان حیران و پریشان پھرتی ہو کبھی اس گلہ میں دوڑتی ہو کبھی دوسرے گلہ کی طرف لپکتی ہو اور وہ یہ نہ سمجھتی ہو کہ اس کو کس گلہ میں شریک ہو کر اس کے ہمراہ چلنا چاہئے۔
اب آگے ایسے کافروں کی دوستی اور رفاقت سے ممانعت کی جاتی ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے (تسہیل)
Ayahs 4:144–146ف 2 اے ایمان والو ! تم مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست اور رفیق نہ بنائو خواہ وہ کھلے کافر ہوں یا منافق ہوں کیا تم ان سے دوستی کر کے یہ چاہتے ہو کہ اپنے مجرم ہونے پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے صریح اور کھلی حجت قائم کرلو اور اپنے خلاف کھلا الزام واقع کرلو۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ جس طرح منافقین نے کفار کو دوست بنا رکھاے اور ان سے خفیہ ساز باز کرتے رہتے ہیں۔ اے مسلمانو ! تم ایسا نہ کرنا کہ کفار کو اپنا رفیق اور ہمراز بنا لو کہ تمہارا مقصد یہ ہے کہ تم اپنے سر پر الزام رکھ لو اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے تم پرک ھلی حجت قائم ہوجائے جس کا جواب تم میں سے بن نہ آئے کفار سے موالاۃ کے سلسلے میں ہم تفصیلاًاوپر بیان کرچکے ہیں اور تیسرے پارے میں ہم نے موالاۃ اور مداراۃ کا فرق بھی بیان کردیا تھا اور وہاں صراحتہ اس بات کا ذکر کردیا تھا کہ کفار کے مختلف حالات ہیں اور ان ہی حالات کی بنا پر مختلف احکام ہیں۔
بہرحال ! کفار اور منافقین سے ان کے کفر و نفاق کی وجہ سے دوستی کرنا اور موالات رکھنا تو ہر حالت میں حرام ہے لیکن اشتراک یا ظاہری تعلقات اور کسی خاص مصلحت و ضرورت کی وجہ سے ان کی مدارت یا ان سے تعاون اور ان سے مصالحت اور معاہدہ یہ سب چیزیں جائز ہیں اسی طرح جب مسلمان حاکم ہوں اور کفار ذمی ہوں تو اور احکام ہیں اور مسلمان محکوم ہوں تو دوسرے احکام ہیں پھر حربی کافروں کا اور حکم ہے اور معاہد کا اور حکم ہے یہ سب تفصیل ہم عرض کرچکے ہیں۔
یہاں چونکہ منافقین کی مذمت ہے اور منافقین کو کافروں کی دوستی سے منع کیا گیا ہے اس لئے اسی قسم کی دوسی اور بطانت سے مسلمانوں منع کیا گیا ہے اور مدینہ کے حالات واقعات کے پیش نظر یہ نہایت ضروری تھا کہ خالص مسلمان کا فروں کے ساتھ وہ تعلقات قائم نہ کیں جو منافقوں نے قائم رکھے تھے بلکہ خود منافقوں سے بھی ہوشیار ہیں۔
سلطان کے معنی غلبہ، حجت، دلیل، رعب، دبدبہ، وغیرہ کے آتے ہیں قرآن کریم میں اکثر مقامات پر حجت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے خدا کی طرف سے کسی بندے پر حجت اور دلیل کا قائم ہونا۔
اس کا مطلب وہی ہے جو ہم عرض کرچکے ہیں کہ ایسا کرنے سے اپنے مجرم ہونے اور مستوجب سزا ہونے پر خود ہی دلیل قائم کرلو گے اور جب خدا کی طرف سے تم پر حجت قائم ہوجائے گی تو پھر کوئی عذر قابل سماعت نہ ہوگا۔ آگے کی آیت میں منافقین کی سزا کا ذکر ہے۔ چناچہ ارشاد فرماتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayahs 4:147–148ف 3 یقین جانو ! کہ منافق جہن مکہ سب سے نیچے طبقے میں جائیں گے اور اے مخاطب تو ان کے لئے ہرگز کوئی مددگار نہ پائے گا جو ان کو اس سے سزا بچا سکے مگر ہاں وہ لوگ اس عذاب سے مستثنیٰ ہیں جو نفاق سے توبہ کرلیں اور اپنے معاندانہ برتائو کی اصلاح کرلیں اور کافروں کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ پر پورا اعتماد اور توکل رکھیں اور اپنے دین کو اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے لئے خلاص کرلیں یعنی دین کے جو اعمال کریں وہ خالص اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے کریں ت و ایسے توبہ کرنے والے لوگ کامل مومنوں کے ہمراہ ہونگے اور عنقریب ان کاملین مومنین کو اللہ تعالیٰ بہت بڑا صلہ اور اجر عطا فرمائے گا اور جو لوگ ان کے ہمراہ ہوں گے ان کو اجر عظیم ملے گا اور تم یہ تو سوچو کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہو اور تم ایمان لے آئو تو وہ تم کو عذاب کر کے اور سزا دے کر کیا کرے گا یعنی اس کو کیا پڑی ہے کہ وہ تم کو خواہ مخواہ سزا دے حالانکہ اللہ تعالیٰ بڑا قدر شناس اور خدمت کی قدر کرنے والا اور سب کی حالت کو خوب جاننے والا ہے۔ (تیسیر)
درک طبقہ جہنم کے مختلف طبقات ہیں سب سے نیچے کے طبقہ کا نام ہادیہ ہے غالباً اسی طرح اشارہ ہے دوزخ کے طبقات یہ ہیں جہنم، لنطی حطمتہ، سعیر، سقر حجیم ہادیہ بہرحال ! منافقوں کو ہادیہ میں رکھا جائے گا۔ لیکن ہر گناہ کے لئے توبہ ہوسکتی ہے اس لئے تائبین کو مستثنیٰ فرما دیا۔ منافق میں نفاق تو اصل مبنی ہے اور نفاق کی وجہ سے مسلمانوں کے ساتھ تو اخلاص فی الدین ختم ہوجاتا ہے اور ان باتوں کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ قیامت میں یہ اسلام کچھ کام نہیں آتا اور ظاہری اسلام کا دعویٰ بےکار ہوجاتا ہے اور مخلص مسلمانوں کی معیت نصیب نہیں ہوتی اور مسلمانوں کو جو اجر ملنے والا ہے اس میں شرکت سے محروم رہتے ہیں۔
اسی مناسبت سے یہ ترتیب بیان فرمائی کہ نفاق جو اصل ہے تمام امراض کی اس سے پہلے توبہ کرو۔ پھر مسلمانوں کے ساتھ جو غر شریفانہ برتائو ہے اس کی اصلاح کرو اور کفار کی دوستی کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کا دامن پکڑو اور اسی پر بھروسہ رکھو اور اخلاص فی الدین اختیار کرو یعنی دین کا جو کام کرو اس میں اللہ تعالیٰ کی ضا مندی اور خوشنودی پیش نظر رکھو جب نفاق دور ہوگا اور یہ خوبیاں پیدا ہوجائیں گی تو جہنم کی سزا سے محفوظ رہو گے اور قیامت میں مخلص مسلمانوں کی معیت اور ہمراہی کی دولت نصیب ہوگی اور جب مسلمانوں کے ہمراہ ہو گے تو جو سلوک مسلمانوں کے ساتھ ہوگا وہی تمہارے ساتھ ہوگا۔
سبحان اللہ ! کیا ترتیب ہے آخر میں اس بات پر تنبیہہ فرمائی ک دو باتیں اگر بندوں کی جانب سے ہوں ایک ایمان اور ایک شکر تو ہم کو کیا پڑی کہ ہم ان کو عذاب کریں شکر سے مراد اعمال صالحہ ہیں۔
بعض لوگوں نے ایمان کو شکر کا عطف تفسیری قرار دیا ہے اور یہ مطلب لیا ہے کہ ایمان کامل کے اگر پابند ہو تو اللہ تعالیٰ عذاب کر کے کیا کرے گا نتیجے کے اعتبار سے دونوں کا حاصل ایک ہی ہے۔ ایمان کامل بھی وہی ہے جس کے ساتھ اعمال صالحہ ہوں، غرض ! مومن شاکر کو عذاب سے مامون فرماتا اور یہ بتانا مقصود ہے کہ عذاب سے ہمارا کچھ فائدہ اور نہ عذاب کے ترک سے ہمارا کوئی نقصان اگر تم حکم کی تعمیل کرو گے تو سزا سے محفوظ رہو گے۔
ان دو جملوں میں تمام دین کا خلاصہ آگیا ایمان میں تمام عقائد آگئے اور شکر میں اوامر کا بجالانا اور نواہی سے بچنا آگیا ۔ شاکر اعلیما کا یہ مطلب ہے کہ ہمارے ہاں خدمت گذاروں کی بڑی قدر ہے۔ (تسہیل)