4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsکشف الرحمٰن

Ayahs 4:19–20

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآءَ كَرْهًا١ؕ وَ لَا تَعْضُلُوْهُنَّ لِتَذْهَبُوْا بِبَعْضِ مَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ١ۚ وَ عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ فَاِنْ كَرِهْتُمُوْهُنَّ فَعَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْئًا وَّ یَجْعَلَ اللّٰهُ فِیْهِ خَیْرًا كَثِیْرًا Open ayah 4:19 in the Quran reader

اے ایمان والو تم کو یہ بات حلال نہیں کہ تم عورتوں کو زبردستی میراث میں لے لو اور نہ یہ حلال ہے کہ بلاوجہ ان کو اس غرض سے قید کر رکھو کہ جو کچھ تم نے ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ واپس لے لو مگر ہاں اس وقت جبکہ وہ کسی صریح بےحیائی کی مرتکب ہوں اور عورتوں کے ساتھ حسن سلوک سے زندگی بسر کرو پھر اگر تم ان کو پسند نہ کرو تو ہوسکتا ہے کہ تم کسی چیز کو پسند نہ کرو مگر اللہ تعالیٰ نے اسی میں بہت زیادہ بھلائی رکھی ہو2

وَ اِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّكَانَ زَوْجٍ١ۙ وَّ اٰتَیْتُمْ اِحْدٰىهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْهُ شَیْئًا١ؕ اَتَاْخُذُوْنَهٗ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:20 in the Quran reader

اور اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی بدلنا چاہو اور تم اس ایک کو جس کو چھوڑنا چاہتے ہو ڈھیر مال دے چکے ہو تو تم اس مال میں سے کچھ بھی واپس نہ لو کیا تم بہتان رکھ کر اور صریح ظلم کے مرتکب ہوکر اس مال کو واپس لینا چاہتے ہو۔

ف 2 اے ایمان والو تمہارے لئے یہ بات حلال نہیں کہ تم عورتوں پر زبردستی قابض ہوجائو اور ان کی جان اور ان کے مال کے زبردستی مالک بن جائو اور نہ ان کو اس غرض سے مقید رکھو اور روکے رہو کہ جو مال تم نے ان کو دیا ہے اس مال میں سے کوئی حصہ ان سے واپس لے لو اور کچھ حصہ اس مال کا ان سے وصول کرلو مگر ہاں اس وقت جب کہ وہ کسی صریح بےحیائی اور ناشائستہ حرکت کی مرتکب ہوں تو ایسی صورت میں ان کو مقید کرنا جائز ہے اور دیکھو عورتوں سے حسن سلوک کے ساتھ زندگی بسر کرو اور خوبی اور بھلائی کے ساتھ ان سے گذران کرو پھر اگر تم ان کو پسند نہ کرو اور وہ طبعاً تم کو پسند نہ ہوں تو اس بات کو یاد رکھو کہ ایسا ہوسکتا ہے اور یہ ممکن ہے کہ تم ایک شئے کو ناپسند کرو اور تم کو ایک چیز نہ بھائے مگر اللہ تعالیٰ نے اس میں کوئی خوبی اور دینی و دنیوی کوئی بڑی بھلائی رکھ دی ہو۔ لہٰذا اس توقع پر کہ شاید ان سے کوئی بہت بڑا نفع تم کو میسر آجائے تم ان کو برداشت کیا کرو۔ (تیسیر) زمانۂ جاہلیت میں عورتوں کے ستانے کا ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ خاوند کے مرنے کے بعد اس کے بعض ورثاء یا اقرباء اپنا کپڑا اس کے سر پر ڈال دیتے تھے اور اس رسم کی وجہ سے وہ بیوہ کے حقدار ہوجاتے تھے پھر اگر چاہتے تو خود اس سے نکاح کرلیتے اور کوئی مہر اس کا مقرر نہ کرتے۔ یعنی جس نے اپنا کپڑا پہلے اس کے سر پر ڈال دیا وہی اس عورت کا حق دار شمار ہوتا تھا۔ اگر وہ خود اس بیوہ سے نکاح کرے تو سابقہ مہر کافی ہوتا تھا یعنی مرنے والے نے جو مہر مقرر کیا تھا اسی مہر میں یہ اس کپڑا ڈالنے والے کی منکوحہ ہوجاتی تھی اور اگر اس حق دار نے اس کا نکاح کسی دوسرے سے کیا تو جدید مہر مقرر ہوتا تھا اور وہ مہر یہ کپڑا ڈالنے والا لیا کرتا تھا اور کبھی ایسا بھی کرتے تھے کہ بیوہ سے نہ خود نکاح کرتے اور نہ اس کو کسی غیر سے نکاح کرنے دیتے بلکہ اگر وہ اپنے خاوند کے ورثہ میں سے کچھ دے دیتی تو اس کو چھوڑ دیتے اور اگر وہ مال نہ دیتی تو اس کو قید رکھتے یہاں تک کہ وہ جب مرجاتی تو اس کا تمام مال ہتھیا لیتے۔ چناچہ ابو قیس کے انتقال کے بعد ان کی بیوہ کبیشہ کے ساتھ ابو قیس کے لڑکے نے یہی حرکت کی اور اس لڑکے کا نام حصن تھا اور یہ ابو قیس کی دوسری بیوی سے تھا۔ گویا کبیشہ کے سوتیلے لڑکے نے قبضہ کرلیا اور کبیشہ کے نکاح کا وارث ہوگیا۔ اب نہ اس کے قریب جائے نہ اس کو روٹی کپڑا دے اور تنگ کرے اور یہ سب کچھ محض اس توقع پر کہ کبیشہ سے کچھ رقم اینٹھ لوں۔ کبیشہ نے حضور کی خدمت میں حاضر ہوکر اپنا واقعہ سنایا۔ حضور نے ارشاد فرمایا جا اپنے گھر میں بیٹھ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تیرے بارے میں کوئی حکم نازل فرمائے چناچہ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور چونکہ یہ عورت کے اختیار کی بات تھی کہ چاہے وہ نکاح کرے یا نہ کرے اور کس سے نکاح کرے یا نہ کرے اور کہاں رہے یا نہ رہے اور اپنا مال کس کو دے اور کس کو نہ دے اس لئے حضرت حق جل مجدہ نے نے کرھا کی قید بڑھائی کہ عورت کے حق میں زبردستی مداخلت کا تم کو کوئی حق نہیں۔ وہ اگر اپنی خوشی سے رہے یا اپنی خوشی سے اپنا کچھ مال تم کو دے دے یا اپنی خوشی سے خاوند کے اقرباء میں سے کسی سے نکاح کرے تو وہ کرسکتی ہے لیکن اے مسلمانو ! یعنی اے میت کے ورثا تم کو یہ حق نہیں ہے کہ تم زبردستی عورت کی مرضی کے خلاف اس کے یا اس کے مال کے وارث اور مالک بن جائو غرض عورت کے بیوہ ہوجانے اور خاوند کے مرجانے کے بعد خاوند کے اولیاء اور خاوند کے ورثاء اور اولیاء کو اس عورت پر یا اس کے مال پر تصرف کرنے اور زبردستی مالک بننے کا حق نہیں اور جو تقریر ہم نے اوپر کی ہے اس سے یہ بات سمجھ میں آگئی ہوگی کہ وہ اپنی خوشی سے جو چاہے کرے یعنی نکاح کرنا یا مال دینا یا سسرال میں یا میکے میں رہنا اس میں کسی کو زبردستی کرنے کا حق نہیں یہ مطلب نہیں کہ اگر وہ راضی ہو تو میت کے ورثا اس کے وارث اور مالک بن سکتے ہیں۔ آیت کے اس ابتدائی فقرے میں بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خاوند کے اقرباء اور اولیاء مخاطب ہیں لیکن یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس خطاب میں خاوند بھی شامل ہو اور یہ مطلب ہو کہ جس طرح متوفی خاوند کے ورثاء کو یہ بات حلال نہیں کہ وہ زبردستی عورت کے یا اس کے مال کے وارث بن جائیں اسی طرح خاوند کو بھی یہ حلال نہیں کہ عورت کو بلاوجہ تنگ کرے اور اس غرض سے اس کو ستائے کہ وہ کچھ مال دے دے تو اس کو چھوڑے ورنہ نہ تو اس سے خلع کرے اور نہ اس کو روٹی کپڑا دے۔ آیت کے دوسرے فقرے کا مطلب یہ ہے کہ عورت کو حبس بےجا میں محض اس غرض سے نہ رکھو کہ جو مال تم نے اس کو دیا ہے اس میں سے کچھ جھپٹ لو تو اس کو چھوڑ دو یا اس کو دوسرے نکاح کی اجازت دو اس فقرے میں بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کے خاوند مراد ہیں لیکن یہ بھی ہوسکتا ہے کہ خاوند کے ورثاء اور اولیاء بھی مخاطب ہوں اور مطلب یہ ہو کہ جس طرح خاوند کو یہ حق نہیں کہ وہ عورت کو محض اس غرض سے مقید رکھے جو مہر میں نے اس کو دیا ہے یہ اس میں سے کچھ واپس کردے تو اس کو طلاق دوں یا طلاق دینے کے بعد عورت کو کسی سے نکاح نہ کرنے دے اور یہ چاہے کہ مہر کے حصے میں سے کچھ اس سے وصول کرلوں تو دوسرے سے نکاح کی اجازت دوں۔ اسی طرح متوفی خاوند کے ورثاء کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی بیوہ کو محض اس لئے دوسرا نکاح نہ کرنے دیں اور اس کو روکے رکھیں کہ جو مال اس کو اس کے خاوند سے ملا ہے اس میں سے کچھ جھپٹ لیں تو اس کو نکاح کرنے کی اجازت دیں۔ اس تقدیر پر لتذھبوا ببعض ما اتیتموھن کا مطلب یہ ہوگا کہ تمہارے متوفی رشتہ دار نے جو کچھ اس عورت کو دیا ہے اس میں سے کچھ اس سے وصول کرلیں۔ جو تفسیر ہم نے کی ہے اسی تفسیر کی بنا پر الا ان یاتین بفاحشۃ مبینۃ کا مطلب سمجھنا چاہئے اس آیت میں فاحشہ سے یا تو شوہر کی نافرمانی اور عورت کا ناشزہ ہونا ہے اور یا فاحشہ سے مراد زنا ہو لہٰذا اگر آیت میں خاوند مخاطب ہو جیسا کہ ظاہر یہی ہے۔ تب یہ مطلب ہوگامگر ہاں اگر عورت بدخلق اور خاوند کی نافرمان ہو تو خاوند کو یہ جائز ہے کہ اس سے مال لے کر اس کو چھوڑے لیکن یہ مال مہر سے زائد نہ ہو اور اگر فاحشہ سے مراد زنا ہو تو مطلب یہ ہوگا اگر یہ عورتیں زنا کی مرتکب ہوں تو خاوند کو یہ جائز ہے کہ ان سے کچھ مال لیکر ان کو نکال دے یہ مال لینا بطور جرمانہ کے تھا کہ اپنا دیا ہوا مال زنا کار بیوی سے لیکر اس کو نکال دو ۔ مگر کہا جاتا ہے کہ یہ حکم ابتدائے اسلام میں تھا اب نہیں ہے اور اگر مخاطب متوفی خاوند کے اولیاء ہوں تب ظاہر ہے کہ فاحشہ سے مراد زنا ہی ہوسکتا ہے اور اب مطلب یہ ہوگا کہ اے میت کے وارثوں تم کو کسی حالت میں بھی یہ حلال نہیں یا تم کو کسی سبب سے بھی یہ حلال نہیں کہ تم ان بیوہ عورتوں کو قید میں رکھو مگر ہاں اگر وہ زنا کی مرتکب ہوں تو ان کو مت جانے دو اور ان گھروں میں مقید رکھو۔ جیسا کہ رکوع کی پہلی آیت میں گزر چکا ہے اور اس سورت میں صرف عفل سے استثنا ہوگا اور مال لینے سے کوئی واسطہ نہ ہوگا۔ یہ تمام تقریر ہم نے صاحب تفسیر مظہری اور صاحب روح البیان سے نقل کی ہے ورنہ آسان صورت وہی ہے جو ہم تسہیل کی ابتداء میں عرض کرچکے ہیں اور وہ یہ یا یھا الذین امنوا میں مخاطب متوفی خاوند کے اولیاء اور ورثاء ہیں اور ولا تعضلوھن میں مخاطب عورتوں کے خاوند ہیں۔ اور فاحشہ سے مراد عورت کی بدخلقی اور نشوز ہے اس طرح تفسیر بھی مختصر ہوجاتی ہے اور کوئی اشکال بھی نہیں پیدا ہوتا۔ (واللہ اعلم) بعض اہل تحقیق نے فرمایا ہے کہ اس تقسیم اور تخصیص کی ضرورت نہیں بلکہ دونوں جگہ جماعت مسلمین مخاطب ہے اور مطلب یہ ہے کہ عورتوں کی آزادی میں بےجا مداخلت نہ کرو اور ان سے روپیہ اینٹھنے کی کوشش نہ کرو مگر ہاں جب کہ وہ نافرمان اور بدخلق ہوں یا وہ زنا کی مرتکب ہوں۔ (واللہ اعلم) آگے کے فقرے کا مطلب واضح ہے کہ عورتوں کے ساتھ حسن سلوک سے زندگی گزارو۔ اس فقرے میں بظاہر عورتوں کے خاوند ہی مخاطب ہیں اگرچہ اس میں بھی عموم کی گنجائش ہے۔ آیت کے آخری حصہ میں ایک ضابط بیان فرمایا کہ اگر کبھی طبعاً تم کو وہ پسند نہ آئیں اور تمہارا دل ان کو پسند نہ کرے تو بھی ان کو یہ سمجھ کر برداشت کرو کہ اللہ تعالیٰ برائی میں سے بھلائی پیدا کیا کرتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ یہی ناپسندیدہ عورت تمہاری خدمت گزار اور تمہاری ہمدردہو۔ یا اس کے ہاں کوئی ایسا نصیبے والا بچہ ہوجائے جو خاندان کے لئے موجب عزت اور آخرت میں موجب بخشش ہو۔ یا کوئی چھوٹا بچہ ہوکر مرجائے اور وہ والدین کی بخشش اور نجات کا ذریعہ ہوجائے۔ یا اور کچھ نہ ہوتا تو ناپسند چیز پر صبر کرنے کا ثواب تو بہرحال حاصل ہوگا۔ اس لئے اگر کوئی عورت کبھی ناپسند ہو تو اس کو طلاق دینے پر آمادہ نہ ہوجائو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اس آیت میں دو حکم ہیں میت مرجاوے تو اس کی عورت اپنے نکاح کی مختار ہے۔ میت کے بھائیوں کو زور آوری سے اپنے نکاح میں لینا نہیں پہنچتا اور نہ ان کو روکنا پہنچے نکاح سے کہ عاجز ہو کر کچھ جو میت نے دیا تھا وہ پھر جاوے مگر بےشرع بات سے البتہ روکنا چاہئے۔ دوسرا حکم یہ کہ عورتوں سے گزران کرے تحمل کے ساتھ اگر اس میں بعضی چیز ناپسند ہو تو شاید کچھ خوبی بھی ہوبدخو کے ساتھ بدخوئی نہ چاہئے۔ (موضح القرآن) چونکہ اوپر کی آیت میں یہ بات ظاہر ہوچکی ہے کہ اگر عورت نافرمان اور بدخو ہو تو اس سے مال یعنی مہر واپس لیکر یا مہر معاف کر ا کے طلاق دے سکتے ہیں اور ایسی ناشزہ عورت سے دیا ہوا مال واپس لینا جائز ہے لیکن مہر کی مقدار سے زائد نہ ہو۔ اب آگے کی آیت میں اسی کی تفصیل ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ عورت اگر خراب ہو تو ایسی حالت میں بیشک اس کا مہر یا مہر کا کچھ حصہ واپس لیکر اس کو چھوڑنا جائز ہے لیکن ایسا نہ ہو تو بلاوجہ مہر کی واپسی جائز نہیں۔ چناچہ جن حالتوں میں مال کی واپسی جائز نہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ مثلاً ایک عورت دل سے اتر گئی اب تم اس کی جگہ دوسری عورت سے نکاح کرنا چاہتے ہو تو اس وجہ سے پہلی بیوی کو تنگ کرنا شروع کردو اور اس پر کوئی بہتان لگادو اور اس کو بدکار مشہورکرکے اس سے مہر واپس کرانا چاہو تاکہ وہ مہر لیکر نئی دلہن کو دو اور اس بےگناہ سے روپیہ چھین کر نئی شادی رچائو۔ جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں عام طور سے ایسا کیا کرتے تھے کہ ایک عورت دل سے اتر گئی تو اس کو کوئی عیب لگا دیا اور بدنام کرنا شروع کردیا اور اس کی شہرت کو نقصان پہنچا کر اس دبائو میں اس سے مہر واپس لے لیا اور وہ مہر دوسری بیوی کے نکاح میں ادا کردیا۔ حضرت حق تعالیٰ نے اس قسم کی نازیبا حرکت سے ممانعت فرمائی اور یہ حکم دیا کہ ایسی حالت میں مہر کا کوئی حصہ واپس نہیں لے سکتے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 4:21

وَ كَیْفَ تَاْخُذُوْنَهٗ وَ قَدْ اَفْضٰى بَعْضُكُمْ اِلٰى بَعْضٍ وَّ اَخَذْنَ مِنْكُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا Open ayah 4:21 in the Quran reader

اور تم اس مال کو کیونکر واپس لے سکتے ہو حالانکہ تم آپس میں ایک دوسرے تک پہنچ چکے و یعنی لطف اندوز ہوچکے ہو اور وہ عورتیں تم میں سے شرعاً ایک قسم کا مضبوط عہد لے چکی ہیں1

ف 1 اگر تم خود اپنی خوشی اور رغبت سے ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی کرنا چاہو اور تم اس ایک کو یعنی پہلی بیوی جس کو چھوڑنا چاہتے ہو بطور مہر یا شورہبہ ڈھیر مال دے چکے ہو اور مال کے انبار اس کو تم نے دے دیئے ہوں تو اس مال میں سے عورت کو تنگ اور پریشان کرکے کچھ بھی واپس نہ لو کیا تم اس عورت پر نافرمانی اور بدکاری کا بہتان رکھ کر اور اس کے مال میں صریح گناہ یعنی ظلم کے مرتکب ہوکر اس مہر کے یا ہبہ کے مال کو واپس لینا چاہتے ہو اور بھلا تم اس مال کو کیسے واپس لے سکتے ہو حالانکہ تم آپس میں ایک دوسرے تک پہنچ چکے ہو یعنی لطف اندوز ہوچکے ہو اور آپس میں ایک دوسرے سے بےتکلف مل چکے ہو اور نیز یہ کہ وہ عورتیں تم سے ایک مضبوط و مستحکم عہد اور قرار لے چکی ہیں۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ عورت کا کوئی قصور نہیں صرف تم اس کو بدلنا چاہتے ہو ایک کو چھوڑ کر اس کی جگہ دوسری سے شادی کرنا چاہتے ہو۔ تو ایسی حالت میں جو کچھ بھی تم اس کو دے چکے ہو وہ یا اس کا کوئی حصہ واپس نہ لو خواہ وہ مہر ہو یا مہر کا وعدہ ہو یا مہر کے علاوہ اور کچھ اس کو بطور ہبہ دیا ہو قصور نہیں اور ہبہ اس لئے واپس نہیں لے سکتے کہ تعلقات زوجیت میں ہبہ کا رجوع جائز نہیں۔ اب سوائے اس کے کوئی شکل نہیں کہ اس پر نافرمانی اور بدچلنی وغیرہ کا بہتان لگائو اور صریح گناہ کے مرتکب ہوکر اس سے کچھ مال حاصل کرلو۔ لہٰذا جو مال حاصل کرو گے وہ ظلم ہوگا ایک علت تو حکم کی اتاخذونہ بھتانا وانما مبینا سے ظاہر ہوگئی کہ ایک بےقصور عورت سے اس کو دیا ہوا مال خواہ وہ مہر ہو یا کچھ اور ہبہ کے طور پر دیا ہوا مال واپس لینا بہتان اور ظلم کو مستلزم ہے اگر زبان سے نہ بھی کہو تب بھی یہ سمجھا جائے گا کہ مال دے کر عورت نے طلاق حاصل کی ہے تو ضرور عورت میں کوئی خرابی ہوگی ورنہ خاوندکیوں ناجائز مال لیتا اور اگر ہبہ ہے تب اس کا ظلم ہونا ظاہری ہے کیونکہ زوجیت کے تعلقات میں ہبہ واپس نہیں ہوسکتا اور تم نے واپس لے لیا۔ دوسری آیت میں علاوہ وجہ مذکور یعنی بہتان اور گناہ کے اور دوسری وجہ سے بیان فرمائی کہ تم دیا ہوا مال واپس لے بھی کس طرح سکتے ہو حالانکہ تم ان عورتوں سے مل بھی چکے ہو یعنی خلوت صحیحہ یا ہم بستری کرچکے ہو۔ لہٰذا مہر جس چیز کا بدل ہے وہ چیز تم حاصل کرچکے چیز حاصل کرنے کے بعد اب اس کے بدل یعنی مہر کو اگر نہیں دیا ہے تو کیسے روک سکتے ہو اور دے چکے ہو تو کیسے واپس لے سکتے ہو نیز یہ کہ وہ عورتیں تم سے ایک پختہ اور مستحکم اقرار لے چکی ہیں پھر اب اس اقرار کے بعدجو نکاح کے وقت مہر کی ادائیگی کا ہوچکا ہے اس سے تم کس طرح پھر سکتے ہو۔ بہرحال صورت مذکورہ میں عورت کو دیا ہوا یا اس سے وعدہ کیا ہوا مال واپس لینا اور یا ادا نہ کرنا چار برائیوں سے خالی نہیں۔ (1) بہتان کے مرتکب ہوگے۔ (2) یا صریح ظلم کے مرتکب ہوگے۔ (3) یا عورت سے لطف اندوز ہوکر لطف اندوزی کا بدل نہ دو گے یعنی مبدل منہ لوگے اور بدل کے منکر ہوگے۔ (4) یا عہدشکن بنوگے چونکہ آیت کے عموم کا لحاظ رکھتے ہوئے بعض مفسرین نے ہبہ کو بھی شامل کردیا تھا۔ اس لئے ہم نے بھی شامل کرلیا ورنہ ظاہر ہے کہ آیت میں مہر ہی کی بحث ہے۔ البتہ فلاتا خذوامنہ شیئاً میں گنجائش ضرور ہے۔ اس رعایت سے ہم نے ہبہ کو شامل کرلینا مناسب سمجھا۔ مستحکم اقرار کے متعلق ابن عباس ؓ اور مجاہد کا قول ہے کہ وہ نکاح کا وہ کلمہ ہے جس پر مہر باندھا جاتا ہے۔ حضرت حسن ؓ ، ابن سیرین ؓ ، ضحاک ؓ اور قتادہ ؓ کا قول ہے کہ اس سے عورت کے دلی کا یہ قول مراد ہے کہ میں نے اس عورت کا نکاح تجھ سے اس وعدہ پر کیا جو اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے بارے میں مردوں سے لیا ہے اور وہ وعدہ یہ ہے کہ یا بھلے مانسوں کی طرح اس عورت کو رکھوگے یا احسان اور نیکی کے ساتھ چھوڑ دو گے۔ حضرت شعبی اور عکرمہ کا قول ہے کہ اس سے رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان مراد ہے کہ تم عورتوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو کیونکہ تم نے ان کو اللہ کی امانت کے طور پر حاصل کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے کلمہ کے ساتھ وہ تمہارے لئے حلال ہوئی ہیں۔ اس روایت کو مسلم نے نقل کیا ہے۔ بہرحال یا عاقد کا قول ہے یا خود کلمۂ نکاح ہے جو مہر پر موقوف ہے۔ (واللہ اعلم) حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جب مرد عورت تک پہنچا تو اس کا تمام مہر لازم ہوگی اب بغیر اس کے چھوڑے نہیں چھوٹتا اور عہد گاڑھا یہی کہ حکم شرع سے عورت مرد کے قبضے میں آئی والد اس کا مال نہیں۔ (موضح القرآن) خلاصہ یہ ہوا کہ اگر عورت کی جانب سے بدخلقی اور نافرمانی کا اظہار ہو تو اس سے کچھ مال لیکر جس کی مقدار مہر سے زائد نہ ہو اس کو چھوڑنا اور طلاق دینا جائز ہے اور اگر بداخلاقی مرد کی جانب سے ہو اور حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی ہو یا بلاوجہ عورت کو علیحدہ کرنا چاہتا ہو تو ایسی حالت میں جو کچھ اس کو دے چکا ہو یا دینے کا وعدہ ہو اس میں سے کچھ واپس نہ کرے خواہ اس کی مقدار کچھ بھی ہو۔ باقی اگر افضا سے پہلے طلاق کی نوبت آجائے تو نصف مہرادا کرنا ہوگا۔ باقی مسائل خلع کے اور مہر کے دوسرے پارے میں گذر ہوچکے ہیں۔ (فائدہ) احادیث میں عورتوں کا مہر تھوڑا باندھنے کی فضیلت آئی ہے عام طور سے حضور ﷺ کی بیویوں اور صاحبزادیوں کا مہر چار سو درہم یا چار سو درم سے کم ہوتا تھا۔ صحابہ ؓ بھی عام طور سے اسی مقدار کی پابندی کرتے تھے پھر کچھ لوگوں نے مہر کی مقدار میں غلو شروع کردیا۔ حضرت عمر ؓ نے ایک دن اپنی تقریر میں مہر کی تحدید کرنی چاہی مگر ایک قریشی عورت نے واتیتم احدا ھن قنطاراً سے استدلال کرتے ہوئے حضرت عمر کو ایسا کرنے سے منع کیا اور حضرت عمر ؓ نے اس عورت کے اعتراض کو تسلیم کرلیا اور ابو یعلی کی روایت میں اتنا اور بھی ہے کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا فمن ملاتب نفسہ فلیفعل یعنی جو کسی شخص کو مناسب معلوم ہو وہ کرے۔ بہرحال آیت سے مہر کی زیادتی کا جواز معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی زیادہ مہر مقرر کرے گا تو وہ نافذ ہوجائے گا اور حدیث میں جو تاکید ہے وہ عدم جواز کو مستلزم نہیں۔ لہٰذا ہوسکتا ہے کہ جائز مع الکرامت ہو۔ اور حضرت عمر نے جو عورت کی بات تسلیم کرلی اس کا مطلب یہی معلوم ہوتا ہے کہ لوگ چار سو درم سے مہر زیادہ باندھنے کو حرام نہ سمجھنے لگیں۔ (واللہ اعلم) حضرت ابن عباس نے مرفوعاً بیان کیا ہے کہ عورتوں میں سے بہترین عورت وہ ہے جس کا مہر کم ہو (ابن حبان) برکت کے اعتبار سے سب میں بڑی عورت وہ ہے جس کے مہر کا ادا کرنا سہل اور آسان ہو۔ (احمد بیہقی) اب آگے اور ان کی رسومات قبیحہ کا ابطال فرماتے ہیں جن میں لوگ بکثرت مبتلا تھے۔ اکثر محرمات سے نکاح کرلیتے تھے اور بعض حلال عورتوں کو حرام سمجھتے تھے آگے کی آیتوں میں اسی قسم کے مسائل کی تفصیل ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 4:22

وَ لَا تَنْكِحُوْا مَا نَكَحَ اٰبَآؤُكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً وَّ مَقْتًا١ؕ وَ سَآءَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 4:22 in the Quran reader

اور جن عورتوں سے تمہارے باپ دادا نکاح کرچکے ہوں تم ان سے نکاح نہ کرنا مگر جو پہلے ہوچکا وہ ہوچکا درحقیقت یہ باپ دادا کی منکوعہ سے نکاح کرنا بڑی ناشائستہ بات اور بڑے غضب کا کام تھا اور بہت ہی برا طریقہ تھا2

ف 2 اور تم ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن عورتوں سے تمہارے باپ دادا پر دادا وغیرہ نکاح کرچکے ہوں مگر جو بات پہلے گزر چکی وہ گزر چکی اور اسلام سے پہلے جو کرچکے وہ کرچکے یہ باپ دادا کی منکوحہ سے نکاح کرنا بڑی بےحیائی کی بات ہے اور بڑے غضب کا کام اور بہت برا طریقہ ہے۔ (تیسیر) زمانۂ جاہلیت میں یہ بھی ایک دستور تھا کہ باپ کے مرنے کے بعد بیٹا اس سے نکاح کرلیتا تھا اگرچہ کفر کے زمانے میں بھی بعض شائستہ لوگ اس کو ناپسند کرتے تھے اور ایسے نکاح کو نکاح مقت کہا کرتے تھے اور اس نکاح سے جو اولاد ہوتی تھی اس کو مقتی کہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس حرکت شنیعہ کی مذمت میں تین الفاظ فرمائے۔ فاحشہ، مقت اور سبیل سوء ہوسکتا ہے کہ ان الفاظ سے شرعی برائی مراد ہو اور مطلب یہ ہو کہ شرعاً بڑی بےحیائی اور اللہ تعالیٰ کی بےزاری اور غصہ کا موجب ہے اور شرعاً یہ طریقہ بہت ہی برا طریقہ ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ فعل عقلاً بڑی بےحیائی کا فعل اور اہل عقل کے نزدیک بہت قابل نفرت ہے اور عادتاً بھی یہ برا طریقہ ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بعض سے عقلی برائی مراد ہوا ور بعض سے شرعی برائی کی طرف اشارہ ہو۔ ہر شخص نے اپنے اپنے ذوق کے موافق شرح کی ہے اور گنجائش سب کی ہے۔ بہرحال قرآن کریم کا منشا اس فعل کی انتہائی مذمت کرنا ہے۔ اباء سے مراد اصول ہیں باپ کی منکوحہ ہو یا دادا کی یا نانا کی۔ اگر کسی عورت سے ان لوگو نے نکاح کیا ہو تو ان کی اولاد کو اس عورت سے نکاح کرنا حرام ہوگا اس حرمت کے لئے صرف نکاح کافی ہے خواہ شوہر نے وطی کی ہو یا نہ کی ہو۔ اور جب صرف باپ کا نکاح کرنا ہی اس عورت کو بیٹے کے لئے حرام کردیتا ہے تو نکاح کے بعد وطی تو بالادلی موجب حرمت ہوگی اور وطی کے متعلق تو امام ابوحنیفہ اور امام احمد کا یہ مذہب ہے کہ وطی خواہ نکاح فاسدہ کے ساتھ ہو یا نکاح صحیح کے ساتھ ہو۔ بہرحال بیٹے کو موطوعۃ الاب سے نکاح کرنا حرام ہے بلکہ باپ نے اگر کسی عورت سے زنا کیا ہو تو اس فریضہ سے بھی بیٹے کو نکاح کرنا حرام ہے۔ فقہ میں اس حرمت کو حرمت معاصرہ کہتے ہیں مزید تفصی مقامی علماء سے دریافت کرلی جائے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں مگر جو ہوچکا یعنی کفر میں اس کا پرہیز نہ کرتے تھے سو اسلام کے بعد وہ گناہ نہ رہا آگے سے پرہیز چاہئے۔ (موضح القرآن) شاہ صاحب کا مطلب یہ ہے کہ کفر کے زمانے میں جو گناہ ہوئے وہ تو اسلام لانے سے معاف ہوگئے لیکن آئندہ خیال رکھو کہ کوئی مسلمان سوتیلی ماں سے نکاح نہ کرے۔ سوتیلی ماں سے نکاح کی ممانعت فرمانے کے بعد دوسری عورتوں کی حرمت کا بیان فرمایا تاکہ مسلسل اس کی تکمیل کردی جائے۔ زمانہ جاہلیت میں جیسا کہ ہم سورة بقرہ میں عرض کرچکے ہیں نکاح کا کوئی خاص نظم نہ تھا۔ نہ حرام حلال کی تمیز تھی۔ نکاح جانتے تھے لیکن اس سے واقف نہ تھے کہ کس عورت سے نکاح کرنا چاہئے اور کس سے نہیں کرنا چاہئے۔ ملت ابراہیمی کو بالکل فراموش کرچکے تھے کچھ لوگ اہل کتاب سے دریافت کرلیا کرتے تھے لیکن اہل کتاب کی خود مذہبی حالت خراب تھی۔ اسلام کا بنی نوع انسان پر بڑا احسان ہے کہ اس نے حرام اور حلال کے احکام کو واضح طور پر بیان فرمادیا چناچہ ارشاد فرماتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayah 4:23

حُرِّمَتْ عَلَیْكُمْ اُمَّهٰتُكُمْ وَ بَنٰتُكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ وَ عَمّٰتُكُمْ وَ خٰلٰتُكُمْ وَ بَنٰتُ الْاَخِ وَ بَنٰتُ الْاُخْتِ وَ اُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِیْۤ اَرْضَعْنَكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَ اُمَّهٰتُ نِسَآئِكُمْ وَ رَبَآئِبُكُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِكُمْ مِّنْ نِّسَآئِكُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِهِنَّ١٘ فَاِنْ لَّمْ تَكُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ١٘ وَ حَلَآئِلُ اَبْنَآئِكُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلَابِكُمْ١ۙ وَ اَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۙ Open ayah 4:23 in the Quran reader

تم پر تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں اور تمہاری بہنیں اور تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا ہے اور تمہاری دودھ شریک بہنیں اور تمہاری بیویوں کی مائیں یہ سب حرام کی گئی ہیں اور تمہاری سوتیلی بیٹیاں بھی جو عام طور سے تمہاری ہی پرورش میں رہتی ہیں تم پر حرام کی گئی ہیں بشرطیکہ تم ان کی اں کے ساتھ ہم بستری کرچکے ہو اور اگر تم نے سوتیلی بیٹی کی ماں کے ساتھ ہم بستری نہ کی ہو تو سوتیلی لڑکی سے نکاح کرنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں یعنی ماں کو طلاق دینے کے بعد3 اور تمہارے ان بیٹوں کی بیویاں بھی تم پر حرام ہیں جو بیٹے تمہاری پشت سے ہوں یعنی لے پالک نہ ہوں اور یہ بات بھی تم پر حرام کی گئی ہے کہ تم دو بہنوں کو ایک ساتھ اپنے نکاح میں رکھو مگر جو گزشتہ دور میں ہوچکا وہ ہوچکا بیشک اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔

ف 3 تم پر حسب ذیل عورتیں حرام کردی گئی ہیں یعنی ان سے نکاح کرنا حرام ہے اگر نکاح کرو گے تو وہ نکاح باطل ہوگا۔ تمہاری مائیں اور تمہاری بہنیں خواہ عینی ہوں یا باپ شریک ہوں یا ماں شریک ہوں اور تمہاری پھوپھیاں۔ خواہ وہ تمہارے باپ کی علاتی بہنیں ہوں یا حقیقی بہنیں ہوں یا اخیانی ہوں اور تمہاری خالائیں خواہ وہ تمہاری ماں کی حقیقی بہنیں ہوں خواہ علاتی ہوں خواہ اخیانی ہوں اور تمہارے بھائی کی بیٹیاں یعنی بھتیجیاں خواہ وہ حقیقی بھائی کی بیٹیاں ہوں یا علاتی کی ہوں یا اخیانی بھائی کی بیٹیاں ہوں اور تمہاری بہن کی بیٹیاں یعنی بھانجیاں خواہ وہ تمہاری حقیقی بہنوں کی بیٹیاں ہوں یا علاتی اور اخیانی بہنوں کی ہوں اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا ہے یعنی شیر خوارگی کی حالت میں تم نے جن کا دودھ پیا ہو۔ خواہ وہ عورت کوئی رشتہ دار ہو یا غیر ہو اور تمہاری وہ بہنیں جو دودھ شریک ہوں یعنی تم نے ان کی ماں کا دودھ پیا ہو اگرچہ مختلف اوقات میں پیا ہو اور تمہاری بیویوں کی مائیں اور تمہاری بیویوں کی بیٹیاں جو کسی دوسرے خاوند سے ہوں اور تمہاری پرورش میں ہوں۔ جیسا کہ عام دستور ہے کہ بیوی کے ہمراہ جو اولاد آتی ہے اس کی پرورش بھی کرنی پڑتی ہے مگر اس بیوی کی بیٹی سے نکاح کرنا جب حرام ہوگا تم نے اس بیوی سے ہمبستری کی ہو اور اگر ہمبستری کی نوبت نہ آئی ہو اور ہمبستری سے پہلے ہی اس عورت کو طلاق دے دی ہو تو اس کی بیٹی سے نکاح کرنا حرام نہیں۔ غرض صرف نکاح سے گیلٹر بیٹی حرام نہیں ہوتی صحبت شرط ہے صحبت اور ہمبستری کے بعد حرام ہوجاتی ہے۔ امھٰتکم ماں کو ماں کی دادی کو سب کو شامل ہے۔ اسی طرح بیٹی نواسی اور کنواسی اور پوتی پروتی وغیرہ سب کو شامل ہے خالہ پھوپھی اور بہن بھانجیوں اور بھتیجیوں کی تفصیل ہم تیسیر میں عرض کرچکے ہیں۔ دودھ شریک بہن کا مطلب یہ ہے کہ تم نے کسی لڑکی کی حقیقی ماں کا دودھ پیا ہو یا رضاعی ماں کا دودھ پیا ہو۔ اسی طرح اس نے تمہاری حقیقی ماں کا دودھ پیا ہو یا تمہاری رضاعی ماں کا دودھ پیا ہو۔ یہ سب صورتیں حرمت کو قائم کرتی ہیں۔ بشرطیکہ شیر خوارگی کی مدت میں دودھ پیا ہو۔ حدیث میں آتا ہے یحرم من الرضاع ما یحرم من النسب یعنی نسب سے جو چیز حرام ہوتی ہے وہی دودھ پینے سے حرام ہوجاتی ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہ کا بیان ہے کہ میں نے ایک دفعہ حضرت حمزہ کی صاحبزادی کے متعلق نبی کریم ﷺ کو مشورہ دیا تھا کہ آپ اس سے نکاح کرلیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا تجھے معلوم نہیں حمزہ میرا دودھ شریک بھائی ہے اور اللہ تعالیٰ نے جو رشتے ولادت سے حرام قرار دیئے ہیں وہی رشتے دودھ سے بھی حرام کردیئے ہیں۔ (مسلم) حنفیہ کے نزدیک مدت رضاعت میں دودھ کا ایک قطرہ یا دو قطرے پی لینا بھی حرمت کے لئے کافی ہیں۔ مگر شیر خوارگی کی مدت کے بعد کسی عورت کا دودھ پینے سے حرمت قائم نہیں ہوتی۔ شیر خوارگی کی مدت دوسرے پارے میں بیان ہوچکی ہے۔ امھت نسائکم میں بھی بیوی کی ماں اور ماں کی ماں اور بیوی کی دادی وغیرہ سب شامل ہیں۔ فی حجورکم کی قید حقیقی نہیں ہے بلکہ بطور عادت ذکر کی گئی ہے جیسا کہ ہم تیسیر میں ظاہر کرچکے ہیں۔ عام قاعدہ اور دستور یہی ہے کہ دوسری بیوی کی اولاد بھی مرد کی پرورش میں ہوتی ہے اگر پرورش میں نہ ہو اور لڑکی کہیں اور رہتی ہو تب بھی یہی حکم ہے البتہ صحبت و ہم بستری شرط ہے۔ اگر دوسری بیوی سے ہم بستری کی نوبت نہ آئے اور بیوی مرجائے یا اس کو طلاق ہوجائے تو اس کی بیٹی سے نکاح جائز ہے اب آگے اور محرمات کا ذکر ہے۔ (تسہیل)
Ayah 4:24

وَّ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ۚ كِتٰبَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ١ۚ وَ اُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمْ اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِكُمْ مُّحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ١ؕ فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهٖ مِنْهُنَّ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ فَرِیْضَةً١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا تَرٰضَیْتُمْ بِهٖ مِنْۢ بَعْدِ الْفَرِیْضَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:24 in the Quran reader

اور وہ عورتیں بھی تم پر حرام ہیں جو دوسروں کے نکاح میں ہوں مگر ہاں وہ جو تمہاری ملک میں آجائیں یعنی دارالحرب سے قید ہوکر آنے والی یہ تحریم کے احکام تم پر اللہ کی جانب سے فرض ہوئے ہیں1 اور ان محرمات مذکورہ کے علاوہ اور باقی عورتوں کو تمہارے لئے اس طور پر حلال کردیا گیا ہے کہ تم اپنے اموال یعنی مہر کے بدلے ان کو حاصل کرو بشرطیکہ تمہارا مقصد ان کو حبالہ نکاح میں لانا ہو محض شہوت رانی نہ ہو پھر نکاح کے بعد تم نے ان سے جس طرح بھی فائدہ اٹھایا ہو اس کے بدلے ان کو ان کے مقررہ مہر ادا کردو اور مہر مقرر کرنے کے بعد تم آپس میں کسی کمی بیشی پر رضامند ہوجائو تو تم پر کچھ گناہ نہیں بیشک اللہ تعالیٰ بڑا صاحب علم و حکمت ہے2

ف 1 اور تمہارے ان بیٹوں کی بیویاں جو تمہاری پشت سے اور تمہاری نسل سے ہوں یعنی متبنی منہ بولے اور لے پالک نہ ہوں۔ کیونکہ لے پالک اور متنبی کو حرمت میں کوئی دخل نہیں اور لے پالک کی بیوی حرام نہیں اور تم پر بھی حرام ہے کہ تم دو بہنوں کو ایک ساتھ نکاح میں رکھو خواہ وہ دونوں رضاعی بہنیں ہوں یا نسبتی ہوں مگر ہاں جو اس حکم سے پہلے ہوچکا وہ ہوچکا اور گزشتہ دور میں جو کرچکے وہ کرچکے اس پر مواخذہ نہیں۔ یقین جانو ! کہ اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا اور بڑی مہربانی کرنے والا ہے اور عورتوں میں سے وہ عورتیں بھی تم پر حرام کی گئی ہیں جو دوسروں کی منکوحہ اور شوہر والیاں ہوں۔ مگر ہاں ! ان میں سے وہ عورتیں مستثنیٰ ہیں جو تمہاری مملوک ہوجائیں اور تمہارے داہنے ہاتھ ان کے مالک ہوجائیں یعنی وہ شوہر والی عورتیں جو دارالحرب سے قید ہوکر آجائیں اور ان کے شوہر دارالحرب میں رہ جائیں یہ عورتیں اگر حاملہ ہوں تو وضع حمل کے بعد اور اگر حاملہ نہ ہوں تو ایک حیض آجانے کے بعد حلال ہیں۔ ان مذکورہ بالا عورتوں کی تحریم کو اللہ نے تم پر لکھ دیا ہے اور تم پر ان احکام کو فرض کردیا ہے (تیسیر) بیٹوں کی بیویوں سے مراد بیٹوں، پوتوں، پر دتوں، نواسوں، کنواسوں وغیرہ سب کی بیویاں ہیں اور ان کی حرمت بھی صرف نکاح کرنے سے ہوجاتی ہے۔ اگر نکاح کے بعد وطی بھی ہوجائے تو بدرجۂ اولیٰ اس سے نکاح کرنا حرام ہوگا بلکہ بیٹا اگر کسی عورت سے زنا کرے تو بھی باپ اس سے نکاح نہیں کرسکتا جیسا کہ ہم اوپر باپ کی منکوحہ کے معاملہ میں عرض کرچکے ہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ یہ بیٹا یا پوتا پروتا اور نواسہ کو انسا نسل سے ہو منہ بولا اور لے پالک نہ ہو۔ اور بہنوں کو جمع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ بیک وقت دو بہنوں کو نکاح میں نہیں رکھ سکتے اور یہی حکم دو لونڈیوں کا بھی ہے کہ دولونڈیوں کو بھی جمع نہیں کرسکتے اگر وہ دونوں بہنیں ہودں اگرچہ ملک میں جمع ہوسکتی ہیں لیکن وطی میں جمع نہیں کرسکتے۔ شوہر والی عورتوں کے حرام ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جب تک کسی عورت کا خاوند طلاق نہ دے یا وہ مرنہ جائے اور وہ عورت طلاق یا موت کی عدت پوری نہ کرے اس عورت سے نکاح کرنا حرام ہے البتہ وہ شوہر والی اس حکم سے مستثنیٰ ہے جو دارالحرب سے دارالاسلام میں قید کرکے لایء جائے اور وہ تمہاری مملوک کردی جائے تو تم اس کو ایک حیض کے بعد یا بچہ جن لینے کے بعد استعمال کرسکتے ہو۔ آخر میں فرمایا کہ یہ احکام تم پر اللہ تعالیٰ نے فرض کردیئے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں سات ناتے حرام فرمائے ایک ماں اس میں داخل ہے نانی اور دادی یعنی جو عورت کہ اس شخص کی جڑ ہے دوسری بیٹی اس میں داخل ہے نواسی اور پوتی یعنی جو اسی کی شاخ ہے۔ تیسری بہن چوتھی بھتیجی پانچویں بھانجی یعنی جو اس کے ماں باپ میں ملتی ہے چھٹی پھوپھی ساتویں خالہ جو ماں باپ سے ملتی ہے بشرطیکہ بےواسطہ ملتی ہو اور جو واسطہ سے ملے وہ حلال ہے جیسے پھوپھی کی بیٹی۔ (فائدہ) اوردودھ کے دو ناتے فرمائے ماں اور بہن اشارت ہے کہ ساتویں ناتے اس میں حرام ہیں۔ فائدہ اور سسرال کے چار ناتے فرمائے۔ عورت کو مرد کی جڑ اور شاخ اور مرد کو عورت کی جڑ اور شاخ مگر شاخ جب حرام ہے کہ نکاح کے بعد صحبت بھی ہوئی ہو اور جڑ فقط نکاح سے حرام ہے دودھ سے بھی یہ چار ناتے حرام ہوئے لیکن دودھ پینا وہی معتبر ہے کہ اسی عمر میں پئے بڑی عمر میں پینا معتبر نہیں۔ (فائدہ) اس جگہ ناتا سگا اور سوتیلا اور اخیانی سب معتبر ہے اور دودھ میں سوتیلا ناتا معتبر ہے۔ (فائدہ) بعداس کے منع فرمایا جمع کرنا دو بہنوں کا اس اشارت سے معلوم ہوا ساتوں ناتوں کا جمع کرنا حرام ہے اور سسرال کے ناتوں میں جمع کرنا حرام نہیں۔ (فائدہ) آخر کو حرام فرمائی نکاح بندھی عورت یعنی ایک کے نکاح میں ہے تو پھر ہر کسی کو اس کا نکاح حرام ہے۔ مگر یہ کہ اپنی ملک ہوجاوے اس کی صورت یہ کہ کافر مرد اور عورت میں نکاح تھا وہ عورت قید میں جس کو پہنچی اس کو حلال ہے۔ (فائدہ) اور دودھ کا ناتا یا سسرال کا مردکو اپنی لونڈی سے ہے تو اس کی صحبت حرام ہے اور ملک میں رہا کرے۔ (فائدہ) اور جو فرمایا کہ عورتیں تمہارے بیٹوں کی جو تمہاری پشت سے ہیں یعنی لے پالک کو بیٹا نہ جانو کسی حکم میں وہ بیٹا نہیں۔ (موضح القرآن) حضرت شاہ صاحب (رح) نے بہت تفصیل کے ساتھ احکام کو واضح کردیا ہے اگرچہ زبان پرانی ہونے کی وجہ سے اس کے سمجھنے میں طبیعت الجھتی ہے لیکن مسائل تقریباً سب آگئے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) نے نسب کی حرمت کو اتے سے تعبیر فرمایا ہے قرآن کریم نے ان آیات میں تین قسم کی محرکات کا ذکر فرمایا ہے۔ محرمات نسبیہ دوسرے محرمات، رضاعیہ، تیسرے محرمات باالمصاہرات۔ حضرت شاہ صاحب (رح) کی عبارت کا خلاصہ یہ ہے کہ جو عورتیں نسب کے واسطے سے حرام ہیں ان میں سے ایک تو ماں ہے اور ماں میں تمام اصول داخل ہیں۔ نانی نانی کی ماں اور دادی دادی کے اوپر تک۔ دوسری بیٹی ہے۔ بیٹی میں تمام فروع داخل ہیں۔ نواسی، کو انسی، پوتی، پروتی نیچے تک۔ تیسری عورت بہن ہے۔ چوتھی بھتیجی ہے پانچویں بھانجی ہے یہ وہ رشتے ہیں جو باپ سے ملتے ہیں مثلاً بہن خواہ کسی قسم کی ہو۔ بھتیج یعنی بھائی کی بیٹی وہ بھائی خواہ کسی قسم کا ہو۔ بھانجی یعنی بہن کی بیٹی وہ بہن خواہ کسی قسم کی یعنی سگی یا سوتیلی۔ ان محرمات میں سے چھٹی پھوپھی۔ ساتویں خالہ۔ یعنی باپ کی بہن خواہ وہ کسی قسم کی ہو۔ اسی طرح خالہ یعنی ماں کی بہن خواہ کسی قسم کی ماں کی سگی بہن ہو یا سوتیلی۔ آخر میں شاہ صاحب (رح) نے فرمایا جو ماں باپ سے بلاواسطہ ملتی ہوں یعنی پھوپھی اور خالہ جو باپ ماں کی بہنیں ہیں وہ حرام ہیں ان کی اولاد حرام نہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ خالہ زاد بہن اور پھوپھی زاد بہن سے نکاح حرام نہیں ہے۔ پھرشاہ صاحب (رح) نے محرمات رضاعیہ کا ذکر کیا ہے اور اس میں یہ بتایا کہ جس طرح نسب سے حرمت آتی ہے اسی طرح دودھ کی شرکت سے بھی آتی ہے۔ لہٰذا جو رشتے نسب کی وجہ سے حرام ہیں وہ دودھ کی وجہ سے بھی حرام ہیں۔ یعنی رضاعی بیٹی، رضاعی پھوپھی، رضاعی خالہ اور رضاعی بھتیجی اور رضاعی بھانجی بھی حرام ہے۔ پھر اس کے بعد شاہ صاحب (رح) نے حرمت مصاہرت کا ذکر فرمایا اس میں یہ بتایا کہ عورت کو مرد کے اصول اور فرع حرام ہیں اور مرد کو عورت کے اصول و فرع حرام ہیں۔ پھر ان دونوں میں شاہ صاحب (رح) نے یہ فرق بیان کیا کہ اصول تو صرف نکاح کرتے ہی حرام ہوجاتے ہیں جیسے ایک مرد سے نکاح کرتے ہی اس امر کا باپ داد عورت پر ہمیشہ کے لئے حرام ہوجاتا ہے اور ایک عورت سے نکاح کرتے ہی اس کی ماں نانی دادی وغیرہ اس مرد کو ہمیشہ کے لئے حرام ہوجاتی ہیں۔ البتہ فروع میں اس وقت حرمت آتی ہے جب نکاح کے بعد صحبت بھی ہوجائے اور اگر کوئی مرد صحبت سے پہلے طلاق دیدے تو عورت کی فرع مرد کیلئے حرام نہیں۔ جیسے ربیبہ یعنی عورت کی گیلٹر بیٹی یہ دخول سے پہلے عورت کی فرع سے نکاح کا جائز ہونا صرف مرد کے لئے ہے۔ یہ مطلب نہیں کہ مرد کی منکوحہ بھی اگر قبل از دخول مطلقہ ہوجائے تو مرد کے لڑکے کو اس سے نکاح کرنا جائز ہوگا۔ یعنی گیلٹر بیٹی مرد کے لئے حلال ہوسکتی ہے۔ مگر باپ کی منکوحہ سے نکاح جائز نہیں ہوسکتا تھا جیسا کہ اوپر گزرچکا۔ پھر شاہ صاحب (رح) نے دودھ کے تعلقات کا بھی یہی حکم فرمایا اور دودھ کی مدت کے اندر دودھ پینے کا ذکر فرمایا۔ پھر شاہ صاحب (رح) نے ان تعلقات کی تصریح فرمائی۔ جن میں دو عورتوں کو بہ یک وقت جمع نہیں کرسکتے۔ دو بہنوں کا ذکر تو قرآن کریم میں موجود ہی ہے۔ شاہ صاحب (رح) کی عبارت کا مطلب یہ ہے کہ پھوپھی، بھتیجی، خالہ، بھانجی کو بھی جمع نہیں کرسکتے اور اس موقعہ پر فقہا کا قاعدہ مشہور ہے کہ ایسی دو عورتیں جن میں سے اگر ایک کو مرد فرض کیا جائے تو دونوں کا نکاح آپس میں ناجائز ہو تو ان دو عورتوں کو جمع نہیں کرسکتے۔ البتہ ! جب ایک مرجائے یا اس کو طلاق دیدی جائے اور طلاق کی عدت پوری ہوجائے تو دوسری سے نکاح ہوسکتا ہے۔ مثلاً دو بہنیں اگر ان میں ایک کو مردفرض کرلیں تو بھائی بہن ہوں گے اور بھائی بہن کا نکاح حرام ہے لہٰذا دو بہنوں کو نکاح میں جمع نہیں کیا جاسکتا۔ باقی مسائل سب صاف ہیں اور ہم تسہیل میں بہت توضیح سے بیان کرچکے ہیں اب آگے عورتوں کے متعلق بعض اور مسائل مذکور ہیں۔ (تسہیل) 2 اور ان محرمات مذکورہ کے سوا باقی اور عورتیں اس طور پر تمہارے لئے حلال کردی گئی ہیں کہ تم اپنے اموال کے عوض ان کو تلاش کرو اور اپنے اموال کے ذریعہ ان کو حاصل کرو اور یہ حاصل کرنا اس طرح ہو کہ تم ان کو بیوی بنائو اور ان کو خبالہ نکاح میں رکھو تمہارا مقصد محض مستی نکالنا نہ ہو پھر نکاح کے بعد تم نے شرعی قوانین کے مطابق اس سے جس طرح بھی نفع اٹھایا ہو اور ان سے فائدہ حاصل کیا ہو لہٰذا ! اس کے عوض ان کے مقررہ مہران کو دیدو اور مقرر شدہ مہر کے بعد تم میاں بیوی آپس میں کسی کمی بیشی پر باہم رضا مند ہوجائو یعنی بیوی کچھ گھٹا دے یا سب معاف کردے یا میاں مقررہ مہر سے کچھ زیادہ کردے تو ایسا کرنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں۔ یقین جانو ! کہ اللہ تعالیٰ کمال علم اور کمال حکمت کا مالک ہے۔ تمہارے احوال سے بخوبی واقف ہے اور اس کے تمام احکام کسی نہ کسی حکمت اور مصلحت پر مبنی ہیں۔ (تیسیر) حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جو عورتیں حرام فرمادیں ان کے سوا سب حلال ہیں چار شرط سے اول یہ کہ طلب کرو یعنی زبان سے ایجاب و قبول درمیان آوے۔ دوسرے یہ کہ مال دینا قبول کرو یعنی مہر۔ تیسرے یہ کہ قید میں لانے کی طرح ہو مستی نکالنے کی نہ ہو یعنی ہمیشہ کو وہ عورت اس مرد کی ہوجاوے اس کے چھوڑے بغیرنہ چھوٹے یعنی مدت کا ذکر نہ آوے کہ مہینہ تک یا برس تک اس لئے متعہ حرام ٹھہرا۔ چوتھی شرط سورة مائدہ میں فرمائی اور یہاں بھی لونڈیوں کے نکاح میں آگے فرمائی ہے کہ چھپی یاری نہ ہو۔ یعنی لوگ شاہد ہوں کم سے کم دو مرد یا ایک مرد دو عورتیں۔ پر فرمایا جو عورت کام میں آئی اس کا مہر پورا دینا پڑا یعنی صحبت ہوئی یا خلوت ہوئی اب کسی طرح مہر نہیں چھوٹتا اور جب تک کام میں نہیں آئی تو اگر مرد چھوڑے تو آدھا مہر دے اور اگر عورت ایسا کام کرے کہ نکاح ٹوٹ جاوے تو سب مہر اتر گیا۔ پھر فرمایا کہ بعد مہر مقرر کرنے کے جو دونوں اپنی خوشی سے بڑھا دیں یا گھٹا دیں وہ بھی معتبر ہے (موضح القرآن) ماوراء ذلکم کا مطلب یہ ہے کہ جو عورتیں دلالتہً یا اشارتہً اپنے محرم کی وجہ سے مذکور ہوئیں وہ اور اسی طرح وہ عورتیں جن کی حرمت سنت اور آثار صحابہ ؓ سے ثابت ہوجائے ان کے علاوہ باقی اور سب عورتیں تمہارے لئے شرائط مذکورہ کے ساتھ حلال ہیں وہ شرائط یہ ہیں۔ (1) کہ ان عورتوں کو اپنے مالوں کے ذریعہ حاصل کرو۔ ابتغا کے معنی تلاش اور مطلب کے ہیں۔ یہاں مراد یہ ہے کہ مہر مقرر کرو اور باقاعدہ طرفین سے ایجاب و قبول ہو اگر نکاح کے وقت مہر کا نام نہ لیا جائے تب بھی نکاح ہوجائے گا اور مہر مثل لازم ہوگا۔ جیسا کہ سورة بقرہ میں گزرچکا۔ بہرحال ! ایجاب و قبول ہو اور مہر مقرر ہو۔ مہر کا تقرر حقیقتاً ہو یعنی نکاح کے وقت مہر کا نام لیا جائے یا حکماً کہ مہر مثل لازم ہوجائے۔ (2) ان عورتوں کو بیوی بناکر رکھنا ہو اور عورت کو حبالہ نکاح میں لانا ہو یعنی شرعی طریق سے نکاح کیا جائے نکاح کے وقت گواہ بھی موجود ہوں اور نکاح موقت نہ ہو کہ تین دن تک کے لئے نکاح کرویا ایک مہینے کے لئے کرویا ایک سال کے لئے کرو۔ (3) محض مستی نکالنا مقصود نہ ہو جیسا کہ زنا میں یا متعہ میں ہوتا ہے اگرچہ مال وہاں بھی خرچ کرنا ہوتا ہے۔ بہرحال ! ان شرائط سے زنا اور متعہ خارج ہوگیا کیونکہ وہ شرعی نکاح نہیں ہے۔ متعہ کی حقیقت اس سے زیادہ نہیں ہے کہ وہ ابتداء میں مشروع تھا پھر نبی کریم ﷺ نے اس کی حرمت کا اعلان فرمادیا اور قیامت تک کے لئے اس کو حرام کردیا۔ جیسا کہ مسلم نے ربیع بن سبرہ ابن معبد جہنی سے روایت کیا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ خیبر سے پہلے متعہ مشروع تھا پھر خیبر میں حرام ہوا پھر یوم ارطاس میں تین دن کے لئے اجازت دی گئی اور پھر ہمیشہ کے لئے حرام کردیا گیا۔ جیسا کہ بعض روایات سے ثابت ہے۔ بہرحال فتح مکہ کے بعد اس کی حرمت ہوئی اور حضور ﷺ کے اعلان فرمانے کے بعد پھر حلال نہیں ہوا اور علمائے حق اور اہل سنت کا یہی مسلک ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے خیبر میں اس کے حرام ہونے کی تصریح موجود ہے اس کے بعد کہاجاتا ہے کہ تین دن کے لئے ارطاس میں اجازت ہوئی تھی پھر ہمیشہ کے لئے حرام کردیا گیا۔ فما استمتعتم کا مطلب یہ ہے کہ شرعی طریقہ سے جو نفع ان عورتوں سے حاصل کرو تو ان کو ان کا مقرر مہر ادا کردو۔ یعنی ہم بستری یا خلوت صحیحہ کو وہ خلوت بھی ہم بستری کے حکم میں ہے اگر ان دو صورتوں میں سے کوئی صورت پیش آجائے تو ان کا پورا مہر تمہارے ذمہ واجب ہے وہ ان کو دے دو ۔ چونکہ مہر نفع کے مقابلہ میں ہوتا ہے اس لئے اس کو اجور فرمادیا اور اگر ان سے انتفاع کی نوبت نہ آئی ہو اور انتفاع سے پہلے طلاق کی نوبت آجائے تو پھر نصف مہر دینا ہوگا۔ جیسا کہ سورة بقرہ میں بیان ہوچکا ہے۔ آیت کے آخری حصے میں مہر کی کمی بیشی کرنے کی باہمی رضامندی سے اجازت دی گئی ہے۔ اگر میاں بیوی باہم رضامند ہوں تو عورت کچھ کم کردے یا سب معاف کردے اس کو حق ہے اسی طرح خاوند اگر خوش ہوکر مہر میں اضافہ کردے تو اس کو بھی اجازت ہے۔ قانون کے آخر میں علم و حکمت سے اشارہ اس طرف فرمایا کہ ہمارا کوئی قانون حکمت سے خالی نہیں۔ نیز عمل کرنے والوں کی حالت سے ہم بخوبی واقف ہیں۔ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ ان تبتغوا باموالکم سے یہ امر ظاہر ہے کہ مہر کے لئے مال کا ہونا ضروری ہے۔ نیز یہ کہ ان تبتغوا باموالکم میں باندیاں بھی داخل ہیں اگر آزاد عورتوں سے نکاح کرو تو ان کو مہر کے ذریعہ حاصل کرو اور اگر لونڈیاں خریدنی چاہو تو ان کی قیمت ادا کرکے خریدو۔ اب آگے اسی نکاح کے سلسلے میں بعض اور مسائل مذکور ہیں۔ مثلاً یہ کہ ایک مسلمان جس طرح آزاد عورت سے جو مسلمان ہو نکاح کرسکتا ہے اسی طرح ایک لونڈی سے بھی اس کے آقا کی اجازت سے نکاح کرسکتا ہے۔ لیکن آزاد عورت سے اگر نکاح کرنے کی استطاعت ہو تو لونڈی سے نکاح کرنا پسندیدہ نہیں ہے کیونکہ اول تو لونڈی کے پیٹ سے جو اولاد ہوگی وہ غلام ہوگی۔ پھر لونڈی دوسرے کی مملوک ہوگی خدمت وہ لے گا اور ہم بستری کا حق خاوندکو ہوگا۔ ایسی حالت میں ممکن ہے کہ کسی وقت دونوں کے حقوق میں ٹکرائو ہوجائے یا وہ کہیں لے کر چلا جائے یا وہ کسی وقت اس لونڈی کو دوسرے آدمی کے ہاتھ فروخت کردے۔ پھر یہ کہ لونڈی کو گھر داری کا اتنا سلیقہ بھی نہیں ہوتا جو آزاد عورت کو ہوتا ہے پھر آزاد عورت اور لونڈی کے پردے میں بھی فرق ہے غرض ان تمام صورتوں کے پیش نظر ان سے نکاح کرنے میں بعض قیود عائد کردی ہیں۔ اگرچہ وہ قیود حنفیہ کے نزدیک احترازی نہیں ہیں اور وہ قیود حقیقی شرط نہیں ہیں بلکہ وہ اولویت کے درجہ میں ہیں اگر کوئی ان قیود کے خلاف کرے گا تو نکاح ہوجائے گا اگرچہ مع الکراہت ہوگا لیکن شوافع کے نزدیک ان کے مشہور قاعدے کی بنا پر کہ مفہوم مخالف کا معتبر ہوتا ہے نکاح نہیں ہوگا۔ بہرحال آگے ان قیود کا ذکر فرماتے ہیں۔ (تسہیل)