Ayah 4:34ف 1 مرد عورتوں پر قوام یعنی کار فرما اور حکمراں ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان مردوں اور عورتوں میں سے بعض کو بعض پر فضیلت اور بزرگی و برتری عطا فرمائی ہے ینی اللہ تعالیٰ نے مردوں کو عورتوں پر فطری برتری عطا کی ہے اور نیز اس سبب سے یہ برتری مردوں کو حاصل ہے کہ انہوں نے مہر اور نان نفقہ وغیرہ میں اپنا مال خرچ کیا ہے۔ لہٰذا جو عورتیں نیک ہیں وہ اس برتری کے باعث مردوں کی فرمانبردار ہوتی ہیں۔ اور ان کی اطاعت کرتی ہیں اور مرد کی عدم موجودگی میں بھی اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں کے حقوق کی حفاظت کی ہے وہ مردوں کے حقوق کی حفاظت و نگرانی کرتی ہیں یعنی مرد کی اولاد اس کی آبرو اور اس کے مال کی دیکھ بھال رکھتی ہیں اور وہ عورتیں کہ جن کی بدخوئی اور سرکشی کا تم کو ڈر ہو اور تم قرائن و حالات سے ان کی نافرمانی کا یقین کرو تو ان کو پہلے زبان سے نصیحت کرو اور ان کو سمجھائو اور وہ نہ مانیں تو ان کو ان کے بستروں میں اور ان کی خواب گاہوں میں تنہا چھوڑدو اس پر بھی نہ مانیں تو ان کو ضرب خفیف کے ساتھ مارو پھر اگر وہ تمہاری مطیع ہوجائیں اور اس کا رسوائی کے بعد تمہاری اطاعت کرنے لگیں تو پھر ان کے خلاف خواہ مخواہ الزام کی کوئی راہ اور ان پر زیادتی کرنے کا کوئی بہانہ تلاش نہ کرو اور یقین جانو ! کہ اللہ تعالیٰ سب سے بلندو برتر اور سب سے بڑا ہے۔
قوام، رئیس، حاکم، مودب، قیم اس شخص کو کہتے ہیں جو کسی نظام کو درست حالت میں چلانے اور اس کی حفاظت و نگرانی کرنے اور اس کی ضروریات کو مہیا کرنے کا ذمہ دار ہو۔
نشوز کے معنی ہیں بلند ہونا یہاں عورت کے نشو سے اس کی بدخوئی ، بددماغی اور نافرمانی خاوند کی مخالفت اور اس سے بغض وغیرہ مراد ہے۔
قانتات سے مراد خاوند کی فرمانبردار عورتیں یا اللہ تعالیٰ کی حکم بردار عورتیں ہیں۔
بما حفظ اللہ کا کئی طرح ترجمہ کیا گیا ہے اور مفسرین کے کئی قول ہیں ہم نے ایک قول اختیار کرلیا ہے مطلب یہ ہے کہ مرد عورتوں پر حاکم اور ان کے نگراں اور ان کے ادب دینے والے ہیں اور ان کو یہ حق حکمرانی اور تسلط دو وجہ سے حاصل ہے ایک وجہ تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے بعض کو بعض پر برتری عطا کی ہے جیسا کہ مرد کو طبعاً اس قسم کی خصوصیات اور قوتیں عطا فرمائی ہیں جو عورت کو حاصل نہیں ہیں اس لئے مرد ہی اس امر کا مستحق ہے کہ خاندانی زندگی میں عورت کا قیم اور خبر گیراں ہو اور عورت فطرتاً اس کی اہل ہے کہ وہ مرد کی حفاظت اور خبر گیری میں رہے اور دوسری وجہ مرد کے قیم ہونے کی یہ ہے کہ مرد ان کی ضروریات پر اپنے مال خرچ کرتے ہیں جیسا کہ ہم نے تیسیر میں عرض کیا ہے کہ ان کے مہر اور ان کے نان نفقہ اور دیگر ضروریات میں مرد اپنا مال صرف کرتی ہیں اس وجہ سے بھی ان کو عورتوں پر کار فرمائی کا حق حاصل ہے لہٰذا ! اس حق برتری اور حق حکمرانی کا لحاظ رکھتے ہوئے جو عورتیں نیک اور صالح ہیں وہ خاوندوں کی اطاعت و فرمانبرداری کرتی ہیں اور اس کے حکم کی تعمیل کرتی ہیں اور صرف یہی نہیں کہ اس کے حکم کی تعمیل کرتی ہیں بلکہ جب وہ کہیں چلا جاتا ہے تو اس کی پیٹھ پیچھے بھی اس کے مال کی اولاد کے اور اس کے ناموس کی حفاظت کرتی ہیں اور یہ حفاظت اس وجہ سے کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے حقوق کی حفاظت فرمائی ہے اور خاوندوں پر ان کے حقوق عائد کئے ہیں اور اس فقرے کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توفیق و حفاظت سے ان کے حقوق کی حفاظت کرتی ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ محفوظ وہ ہے جس کو خدا تعالیٰ محفوظ رکھے اور بھی کئی مطلب ہوسکتے ہیں۔
ہم نے تیسیر اور ترجمہ میں ایک قول اختیار کرلیا ہے ہمارے اختیار کردہ قول کا مطلب یہ ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے حقوق کی حفاظت کی ہے اور مردوں کو ان کے حقوق پورا کرنے کی تاکید کی ہے ۔
جیسا کہ دوسرے پارے میں فرمایا ہے ولھن مثل الذی علیھن بالمعروف اس لئے وہ بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق مردوں کے حقوق کی حفاظت کرتی ہیں مرد کی موجودگی میں بھی اور عدم موجودگی میں بھی حضرت حق تعالیٰ نے مرد کی حاکمیت اور اس کی برتری اور عورتوں کی محکومیت اور اطاعت و فرمانبرداری کا ذکر فرمانے کے بعد مردوں کو فرمایا کہ جو عورتیں خاوند کی نافرمانی کریں اور تم کو قرائن سے ان کا نشوز معلوم ہوجائے خواہ وہ ان کے قول سے معلوم ہو یا ان کے فعل سے مثلاً کوئی بات ان سے کہو اور وہ تڑخ کر جواب دیں یا چیخ کے بولیں اور ان کو کوئی حکم دو اور وہ تعمیل نہ کریں یہ وہ امور ہیں جن سے عورت کی بدخوئی بد دماغی اور اس کی نافرمانی معلوم ہوسکتی ہے ۔ لہٰذا ان کی اصلاح کرو ورنہ بد مزاج اور ناشزہ عورت سے ازدواجی زندگی تلخ ہوجائے گی۔ اصلاح کے علی الترتیب تین طریقے بتائے کہ اول زبان سے نصیحت کرو اس کو سمجھائو کہ تمہارا یہ طریقہ غلط ہے اور اللہ و رسول کی مرضی کے خلاف ہے وہ مان جائے تو فہما اور اگر نہ مانے تو اظہار ناراضگی کے طور پر اس کے ساتھ سونا چھوڑ دو اور اس کو تنہا بسترے پر پڑا رہنے دو لیکن رہو گھر ہی میں۔
حضرت عبداللہ ابن عباس کا ایک قول یہ ہے کہ اس سے پیٹھ موڑ کے سوئو اگر تمہارے اس فعل سے بھی وہ متاثر نہ ہو اور نشوز سے باز نہ آئیتو اس کو مار بھی سکتے ہو۔ مگر ایسا مارنا جس کو ضرب خفیف کہا جاتا ہے یعنی لکڑی سے نہ مارو اور ایسا نہ مارو کہ اس کی ہڈی ٹوٹ جائے یا زخم ہوجائے۔
حضرت حسن بصری کا قول ہے کہ ایسا نہ مارو جس سے بدن پر کوئی نشان پڑجائے بلکہ مسواک یا کپڑے سے رومال کا کوڑا بنا کے مار دے۔
حضرت امام شافعی کا قول ہے کہ ضرب کا ترک افضل ہے اگرچہ مارنا مباح ہے اس تدبیر کے بعد اگر وہ رام ہوجائیں اور نشوز کو ترک کردیں تو پھر خواہ مخواہ ان پر زیادتی کرنے کا کوئی بہانہ تلاش نہ کرو اور ان پر الزام قائم کرنے کی کوئی راہ نہ ڈھونڈو اور اپنی برتری کا ناجائز استعمال نہ کرو۔
اور یہ بات یاد رکھو کہ حقیقی بلندی، برتری اور بالا دستی اور ہر قسم کی بڑائی اللہ تعالیٰ ہی کو زیبا ہے۔ تم کو جو بالا دستی عطا فرمائی ہے وہ محض خانہ داری کے انتظام کو قائم رکھنے اور ازدواجی زندگی کو خوش گوار بنانے کی غرض سے عطا فرمائی ہے تم کو اس غرض سے بالا دست نہیں بنایا ہے کہ تم ان پر ظلم کرو اور بلا وجہ ان کو ستائو
شان نزول کے باب میں جو روایتیں آئی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض عورتوں نے خاوند کے مارنے کی شکایت سرکار رسالت ﷺ پناہ سے کی تھی آپ نے چاہا کہ عورت سے قصاص دلوائیں اس پر آیت نازل ہوئی۔ حضور ﷺ نے فرمایا اردت امراً ارادا اللہ غیرہ یعنی میں نے ایک ارادہ کیا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے خلاف ارادہ فرمایا ۔ (ابن مردویہ)
نبی کریم ﷺ نے ابتداً عورتوں کو مارنے کی ممانعت فرمائی تھی۔ پھر حضرت عمر نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ وہ عورتیں تو سر پر چڑھ گئی ہیں۔ پھر ﷺ نے اجازت دے دی کہ نشوز کی حالت میں معمولی طور پر مار سکتے ہو اس پر عورتوں کی ایک جماعت نے حضور ﷺ کو آ کر گھیر لیا اور اپنے خاوندوں کا شکوہ کیا۔ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا عورتوں نے مجھ سے اپنے خاوندوں کا شکوہ کیا ہے وہ لوگ کیا ہے وہ لوگ کچھ اچھے نہیں ہیں۔ (ترمذی، ابو دائود، نسائی، ابن ماجہ)
حضرت ابوہریرہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ بہتر عورت وہ ہے کہ جب تو اس کو دیکھے تو وہ تجھ کو خوش کر دے اور جب تو اس کو کوئی حکم دے تو وہ اس کی تعمیل کرے اور جب تو اس سے غائب ہو تو وہ تیری آبرو اور تیرے مال کی حفاظت کرے۔
پھر حضور ﷺ نے یہ آیت پڑھی یعنی فالصلحت فنثت حفظت (ابن ابی حاتم)
حضرت عبدالرحمٰن بن عوف سے مرفوعاً روایت ہے، جس عورت نے پانچوں وقت کی نماز پڑھی ۔ رمضان شریف کے روزے رکھے، اپنی عصمت کی حفاظت کی اور اپنے شوہر کی اطاعت کی تو اس سے کہا جائے گا کہ تو جنت کے جس دروازے سے چاہے جنت میں داخل ہوجا۔ (احمد)
حضرت معاویہ قشیری نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم پر عورت کا کیا حق ہے آپ ﷺ نے فرمایا جب کھائے اس کو کھلا اور جب تو پہنے تو اس کو پہنا اور اس کے منہ پر نہ مار اور اس کو با نہ کہہ اور اس کو نہ چھوڑ مگر گھر میں۔ (مسند)
حضرت جابر کی روایت میں ہے فرمایا نبی کریم ﷺ نے حجتہ الوداع میں عورتوں کے حقوق کے بارے میں اللہ سے ڈرو۔ وہ تمہاریقید میں ہیں حق ان پر یہ ہے کہ وہ تمہارے بستر پر اس کو نہ آنے دیں جس کو تم پسند نہ کرتے ہو۔ پھر اگر وہ ایسا کریں تو تم ان کو مارو مگر غیر مئوثر مارنا یعنی جس سے جسم پر نشان نہ پڑے اور ان کا حق تم پر ان کا روٹی کپڑا ہے موافق دستور کے ۔ (مسلم)
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی اللہ نے مرد کا درجہ اونچا بنایا تو عورت کو حکم برداری چاہئے اور اگر ایک عورت بدخوئی کرے تو مرد پہلے درجے سمجھائے دوسرے درجے جدا سوئے لیکن اسی گھر میں پھر آخر درجے مارے بھی لیکن نہ ایسا کہ ضرب پہنچے پھر اگر بظاہر مطیع ہوجائیں تو کرید نہ کرے۔ تقصیروں پر اللہ سب پر حاکم ہے باقی ہر تقصیر کی ایک حد ہے اور مارنا آخر کا درجہ ہے۔ (موضح القرآن) اب آگے زوجین کی باہم مخالفت اور کشمکش کا علاج تجویز فرماتے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 4:35ف 2 اور اگر تم لوگ ان دونوں میاں بیوی کے مابین باہمی مخالفت اور ضد اور کشمکش کے بڑھ جانے سے خوف کرو اور تم کو قرآئن سے یہ معلوم ہوجائے کہ ان دونوں میں باہم کشمکش دشمنی تک پہنچ گئی ہے کہ یہ اس کو آپس میں نہیں سلجھا سکیں گے تو ایسی حالت میں ایک شخص جو عادل ہو اور اصلاح کی صلاحیت رکھتا ہو مرد کے خاندان سے اور ایک شخص اسی قابلیت کا عورت کے خاندان سے جو عادل ہو ان میاں بیوی کے پاس بھیجو تاکہ وہ دونوں شخص ان کے معاملات کو سلجھا دیں اور ان کا باہمی تصفیہ کرا دیں اگر وہ دونوں شخص واقعی اصلاح کا ارادہ کریں گے اور ان کا مقصد واقعی اصلاح ذات البین ہوگا تو اللہ تعالیٰ ان دونوں کی سعی سے ان دونوں میاں بیوی کے درمیان موافقت اور الفت پیدا کر دے گا۔ یقین کرو اللہ تعالیٰ سب کو جانتا ہے اور ہر معاملہ سے باخبر ہے وہ حکمین کی نیت کو بھی جانتا ہے اور زوجین کے ارادوں اور حالات سے بھی واقف ہے اگر حکمین کی نیت تصفیہ کی ہوگی اور زوجین کا ارادہ ان کے مشورہ پر عمل کرنے کا ہوگا تو یقینا ان کے مابین اللہ تعالیٰ موافقت واقع کر دے گا۔ (تیسیر)
بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آیت میں خطاب زوجین کے اعزا کو یا عام لوگوں کو ہے کہ اگر وہ یہ دیکھیں کہ دونوں میں روز جھگڑا ان بن رہتی ہے تو وہ ایک شخص کو بیوی کی طرف سے اور ایک کو خاوند کی طرف سے مقرر کردیں اور ظاہر ہے کہ یہ تقرر بھی زوجین کی مرضی سے ہوگا اس صورت میں اگر شوہر اور بیوی اپنے اپنے حکم کو کچھ خاص اختیار دے دیں۔ مثلاً بیوی اپنے حکم کو خلع کا وکیل بنا دے یا شوہر اپنے حکم کو طلاق کا وکیل بنا دے تو پھر دونوں حکمین کو اپنے اپنے مئوکل اور مئوکلہ کی ہدایت کے موافق عمل کرنے کا حق ہوگا ورنہ اس جگہ حکمین کا صرف اتنا کام مذکور ہے کہ یہ دونوں شخص مشیر ہوں گے اور دونوں کے سامنے ایسی تدابیر اور صورتیں پیش کریں گے جن پر عمل کرنے سے دونوں کا گھر بس جائے اور ان میں باہم موافقت پیدا ہوجائے اس سے زیادہ ان حکمین کا اور کوئی کام نہیں اور نہ اس سے زیادہ کا ان کو حق ہوگا۔ اب اگر وہ دونوں منصف شخص اصلاح کا ارادہ کرلیں گے اور زوجین ان کے مشورہ پر عمل کرنے پر آمادہ ہوں گے تو انشاء اللہ ان میں موافقت ہوجائے گی۔ اس آیت میں حکمین کو صرف اسی قدر اختیارات مذکور ہیں حنفیہ کا مسلک یہی ہے اور امام شافعی کا قول جدید بھی یہی ہے اور اگر آیت میں خطاب حکام کو ہو تو مسئلہ کی صورت دوسری ہوجائے گی۔
جیسا کہ حضرت علی نے ایک موقعہ پر فریقین سے ایک ایک حکم لے کر ان کو حکم دیا تھا کہ جائو دیکھو اگر اتفاق کی صورت ہو تو اتفاق کرا دو اور اگر ایسا موقعہ نہ دیکھو تو تفریق کرا دو ۔ یا حضرت عثمان نے ایک دفعہ حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت معاویہ کو حکم بنا کر ایسا ہی حکم دیا تھا لیکن کسی والی اور حاکم کا حکم مقرر کر نا یا زوجین کا حکم مقرر کرنا اور ان کو اختیار دینا اس کا حکم دوسرا ہے ۔ اس سے اس آیت میں کوئی تعارص نہیں ہے۔ آیت میں صرف موافقت کا ذکر فرمایا ہے تفریق کا کوئی ذکر نہیں۔ اسی لئے حضرت حسن بصری، قتادہ، زید بن اسلم اور امام احمد وغیرہ کا یہی قول ہے کہ یہ حکم دونوں کا ملاپ کرا سکتے ہیں لیکن جدائی کا ان کو حق نہ ہوگا۔ (واللہ اعلم) ہم نے تیسیر میں تصریح کردی ہے کہ حکم ایسے شخص کو منتخب کیا جائے جو عادل ہو اور تصفیہ کی صلاحیت رکھتا ہو یہ دونوں حکم میاں بیوی کی موافقت اور اصلاح کا جذبہ اگر لے کر جائیں گے تو انشاء اللہ کامیاب ہوں گے۔
من اھلہ اور من اھلھا کی قید استحبابی ہے اگر زوجین اس کے اہل نہ ہوں گے تب بھی ان کا حکم ہونا جائز ہوگا۔ اب تک زوجین کے حقوق یتامی کے حقوق اور وارثوں کے حقوق مذکور تھے آگے ان حقوق کو اور وسیع طور پر بیان فرماتے ہیں اور وسعت حقوق میں چونکہ اللہ پر اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لانا بھی شامل ہے اس لئے اس کا بھی بیان ہے اور ایمان لانے کا بھی ذکر ہے اور حقوق اللہ اور حقوق العباد میں کوتاہی کرنے والیوں کی سزا بھی مذکور ہے اور یہ سلسلہ رکو ع کے آخر تک چلا گیا ہے اور ہم یہ بات پہلے ہی کئی بار عرض کرچکے ہیں کہ قرآن ان مسائل اعتقاد یہ بار بار مختلف انداز و عنوان سے بحث کرتا ہے جو شریعت اسلامیہ کی اصل روح ہیں اور ان میں انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے پیرو ایک جانب ہیں اور تمام دنیا کے کافر و منکر ایک جانب ہیں اور وہی مسائل اعتقادیہ تمام اعمال و اخلاق اور معاشرت وغیرہ کی اصل بنیاد ہیں اس لئے احکام کے سلسلے میں ان مسائل اساسیہ کا تذکرہ ضروری ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 4:36–37ف 3 اور تم سب لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی بندگی کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائو اور اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئو اور اچھا برتائو کرو اور اہل قرابت کے ساتھ بھی اچھا برتائو کرو اور یتیموں کے ساتھ بھی اور محتاج و مساکین کے ساتھ بھی اور اس پڑوسی کے ساتھ بھی جو قریب کا پڑوسی ہو اور ساتھ کے بیٹھنے والے یعنی ہم محبت و ہم مجلس کے ساتھ بھی اور مسافر کے ساتھ بھی اور ان لونڈی اور غلاموں کے ساتھ جن کے تمہارے داہنے ہاتھ مالک ہوئے ہیں یعنی اپنے ممالک کے ساتھ بھی یقین جانو ! اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو پسند نہیں فرماتا جو تکبر کرنے والے شیخی مارنے والے ہوں۔ (تیسیر)
خدا کی عبادت کا مطلب یہ ہے کہ اس کو وحدئہ لاشریک سمجھو اور صرف اسی کی عبادت کرو شریک نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی ذات میں یا اس کی صفات میں کسی کو شریک نہ کرو عبادت کے معنی ہم پہلے بیان کرچکے ہیں شرک کو بھی چند مرتبہ بیان کیا جا چکا ہے کوئی انسان ہو یا غیر انسان ہو سب خدا کی مخلوق ہیں اور واجب الوجود کے مقابلہ میں ہر ممکن حقیر اور کم درجے کا ہے اس لئے اس کی مخلوق میں کوئی بھی اس کا مستحق نہیں کہ حضرت حق جل مجدہ کے ساتھ اس کو شریک کیا جائے اور جو شخص ایسا کرتا ہے وہ بڑا ہی ظالم اور ناسپاس ہے ۔ اپنی عبادت کا حکم دینے اور شرک سے منع کرنے کے بعد والدین کا ذکر فرمایا کہ ان کے استھ احسان اور نیکی کرو ۔ ماں باپ کے ساتھ احسان کرنے کی قرآن و حدیث میں بار بار تاکید فرمائی ہے اور ان میں سے کسی ایک کی نافرمانی کو بھی کبیرہ گناہوں میں سے شمار کیا ہے۔
ماں باپ کے بعد دوسرے اہل قرابت کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا اگر خدا تعالیٰ مقدرت دے تو ماں باپ کے بعد دوسرے اہل قرابت کا خیال رکھے اگر پیسہ نہ ہو تو ہاتھ پائوں سے ان کی خدمت کرے۔ یتامی اور مساکین کا ذکر تیسرے اور چوتھے پارے میں مفصل گذر چکا ہے۔
قریب کے پڑوسی کا مطلب یہ ہے کہ اس کا دروازہ اپنے دروازے کے قریب ہو دور کا پڑوسی یہ کہ اس کا دروازہ دور ہو اور فاصلے سے ہو لیکن محلہ ایک ہی ہو۔
والجار ذی القربی کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ پڑوسی بھی ہو اور قرابت دار بھی ہو اور جنب کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ پڑوسی ہو مگر قرابت دار نہ ہو۔
والصاحب بالجنب کا مطلب یہ ہے کہ روز کے آنے جانے والے ، اٹھنے بیٹھنے والے ہوں ایسے ہی شخص کو ہم مجلس اور ہم صحبت بھی کہا جاتا ہے مسافر عام ہے خواہ وہ آپ کا رفیق سفر ہو یا نہ ہو اور خواہ وہ آپ کا مہمان ہو یا نہ ہو مسافر ہو اور ضرورتمند ہو تو اس کے ساتھ حسن سلوک کا حکم ہے ۔ لونڈی غلام کا مطلب یہ کہ شرعاً وہ تمہارے مملوک ہوں اور یہ چیز آج کل ہمارے ملک میں مفقود ہے نہ شرعاً کوئی لونڈی ہے نہ غلام ہے بہرحال اگر لونڈی غلام ہوں تو ان کے استھ بھی حسن سلوک کا حکم ہے۔ آخر میں اس سبب کی طرف اشارہ ہے جو ان احکام کے بجالانے میں کوتاہی کا موجب ہوتا ہے ان میں سے ایک توتکبر ہے یعنی اپنے آپ کو بڑا سمجھنا اور دوسرے کو ناقابل التفات سمجھنا اور متکبر عام طور سے شیخی خوردہ ہوتا ہے کیونکہ اپنی بڑائی کرتا رہتا ہے۔ دل میں تکبر ہوگا تو زبان سے ضرور شیخی کی باتیں کرے گا ایسے لوگوں کو فرمایا کہ ہم متکبر اور شیخی خوروں کو پسند نہیں کرتے۔ دوسرا سبب آگے کی آیت میں آجائے گا۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی اول اللہ کا حق ادا کرو۔ پھر ماں باپ کا پھر ان سب کا درجہ بدرجہ ہمسایہ قریب کا حق زیادہ ہے اور ہمسایہ اجنبی کا اس سے پیچھے قریب یعنی قرابتی اور برابر کا رفیق جو ایک کام میں ساتھ شریک ہو جیسے ایک استاد کے دو شاگرد یا ایک خاند کے دو نوکر اور فرمایا کہ ان کے حق ادا نہ کرنے والا وہی ہے جس کے مزاج میں تکبر اور خود پسندی ہے کہ کسی کو اپنے برابر نہیں سمجھتا۔ (موضح القرآن)
حدیث میں آتا ہے فرمایا نبی کریم ﷺ نے جبرئیل ہمسایہ کے حق میں ہمیشہ مجھے تاکید کرتے رہے یہاں تک کہ مجھے یہ گمان ہوا کہ شاید ہمسایہ کا ورثہ مقرر ہوجائے گا۔
امام احمد اور ترمذی نے مرفوعاً نقل کیا ہے کہ ہمسایوں میں بہتر وہ شخص ہے جو اپنے ہمسایہ میں قریب تر ہو حضرت عمر سے مرفوعاً امام احمد نے نقل کیا ہے کہ بغیر اپنے ہمسایہ کے پیٹ بھر کر نہ کھائو یعنی یہ نہ ہو کہ تم پیٹ بھر کر کھائو اور تمہارا ہمسایہ بھوکا رہے۔
مقداد بن الاسود کی روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے اصحاب سے دریافت فرمایا تم زنا کو کیا سمجھتے ہو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ زنا کو اللہ اور سا کے رسول نے قیامت تک کے لئے حرام فرما دیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا ایک ہمسایہ کی عورت سے زنا کرنا غیر ہمسایہ کی دس عورتوں کے ساتھ زنا کرنے سے زیادہ بدتر کرے۔
اسی طرح حضور ﷺ نے چوری کو دریافت کیا اور جب اصحاب نے اس کو حرام کہا تو حضور ﷺ نے فرمایا ہمسایہ کے گھر میں چوری کرنا دس گھر چوری کرنے سے زیادہ بدتر ہے اس روایت کو امام احمد نے نقل کیا ہے۔ جابر بن عبداللہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ پڑوسی تین قسم کے ہیں ایک وہ جس کا ایک حق ہے اور ایک وہ ہمسایہ جو مشرک ہو تیرا قرابتدار نہ ہو اور جس کے دو حق ہیں وہ مسلمان پڑوسی ہے ایک اسلام کا حق دوسرا پڑوس کا حق اور جس ہمسایہ کے تین حق میں وہ وہ ہے جو پڑوسی ہو، مسلمان ہو اور قرابت دارھی ہو اس کا ایک حق پڑوسی ہونے کا دوسرا اسلام کا تیسرا رشتہ داری کا (بزار)
حضرت عائشہ سے بخاری نے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ میں نے حضور ﷺ سے دریافت کیا یا رسول اللہ میرے دو پڑوسی ہیں میرے ہدیہ کا کون زیادہ مستحق ہے حضور ﷺ نے جواب دیا جس کا دروازہ تیرے دروازے سے زیادہ قریب ہے۔
حضرت ابوذر سے مسلم نے مرفوعاً نقل کیا ہے جب سالن پکائو تو ہمسایہ کے حق کا خیال رکھو اور ذرا پانی ڈال کر شوربا بڑھا دو ۔
قرطبی نے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں ایک محلے میں آ کر ٹھہرا ہوں جو ہمسایہ مجھ سے زیادہ قریب ہے وہی مجھ کو زیادہ ایذا پہنچاتا ہے حضور ﷺ نے ابوبکر ، عمر اور علی کو حکم دیا کہ مسجد کے دروازے پر پکار دو کو ہمسایہ کا حق چالیس گھروں تک ہے اور جس کی شرارت سے اس کے ہمسائے مامون نہیں وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
ماملکت ایمانکم میں بعض مفسرین نے لونڈی غلاموں کے علاوہ جانوروں کو بھی شامل کیا ہے بہرحال لونڈی غلاموں کے حقوق کی بھی بہت تاکید آئی ہے۔
حضرت ابن عمر سے مرفوعاً مسلم نے نقل کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا آدمی کے گناہ ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مملوک کا کھانا روک لے۔
ابو ذر سے مرفوعاً مسلم نے روایت کیا ہے کہ جب خادم تمہارے پاس کھانا لائے تو اگر اس کو اپنے پاس بٹھا سکو تو ایک دو لقمہ اس کو دے دو کیونکہ اس نے اس کھانے کے تیار کنے میں گرمی اور مشقت اٹھائی ہے۔
ابوہریرہ کے مرفوعاً الفاظ یہ ہیں کہ مملوک کے لئے کھانا اور کپڑا ہے اور اس کو طاقت سے زیادہ تکلیف نہ دی جائے حضرت ابوذر کی ایک اور مرفوع روایت میں ہے کہ تمہارے مملوک تمہارے بھائی ہیں جو تم کھائو وہ ان کو کھلائو جو تم پہنو وہ ان کو پہنائو اور اس کو ایسے کام کی تکلیف نہ دو جو اس پر غاب ہو یعنی وہ اس کو نہ کرسکے اور اگر ایسا کام اس کے سپرد کرو تو اس کا ہاتھ بٹائو اور اس کی مدد کرو۔
متکبر اور فخر کرنے والے کے لئے بھی بہت سی حدیثوں میں وعید آئی ہے جو کسی دوسرے موقع پر بیان ہوں گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ بہرحال احسان نہ کرنے اور حق داروں کو ان کے حق سے محروم کرنے میں تکبر اور فخر کو بڑا دخل ہے۔ اس لئے مختال اور فخور پر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا۔ اب آگے اس قسم کے متکبرین اور شیخی خوروں کے اور اوصاف بیان فرماتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayahs 4:38–39ف 1 وہ متکبر و فخور جو خود بھی بخل کرتے ہوں اور دوسروں لوگوں کو بھی اپنے قول و فعل سے بخل کی تعلیم دیتے ہوں اور بخل کرنا سکھاتے ہوں اور وہ اس چیز کو چھپاتے ہوں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ان کو عطا فرمائی ہے اور ہم نے ایسے فرمانوں اور ناسپاسوں کے لئے اہانت آمیز اور ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو بھی پسند نہیں فرماتا جو لوگ اپنے مال لوگوں کو دکھانے کی غرض سے خرچ کرتے ہیں اور نہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ یوم آخرت پر اعتقاد رکھتے ہیں اور بات تو یہ ہے کہ جس کا ساتھی اور مصاحب شیطان ہو تو وہ برا ساتھی اور برا مصاحب ہے۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ اہل حقوق کے ساتھ احسان نہ کرنے کی وجہ عام طور سے انسان کا تکبر اور خود پسندی اور اس کا بخل ہوتا ہے اسی کا اس آیت میں ذکر کیا ہے کہ یہ لوگ خود بھی بخل کے خوگر ہیں اس لئے نہ ماں باپ کا حق ادا کرتے ہیں اور نہ مساکین و محتاج کو کچھ دیتے ہیں اور نہ پڑوسیوں کی اور مسافروں کی خبر گیری کرتے ہیں اور نہ اپنے ممالک کے ساتھ اچھا برتائو کرتے ہیں اور یہ ایسے بخیل ہیں کہ دوسروں کو بھی بخل کی ترغیب دیتے ہیں یہ تو زبان سے بخل سکھانا ہوا یا ان کی دیکھا دیکھی دوسروں کو بھی بخل کا شوق رہوتا ہے یہ فعل سے بخل کا سکھانا ہوا اور فرمایا کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے اس فضل کو چھپاتے ہیں جو اس نے ان پر کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے جو ان کو دے رکھا ہے اس کو یہ لوگ چھپاتے ہیں۔
چھپانے کا مطلب یہ ہے کہ اپنے کو مفلس ظاہر کرتے ہیں اور اہل حق سے کہتے ہیں کہ ہمارے پاس کیا رکھا ہے جو ہم تم کو دیں یا یہ مطلب ہے کہ اگر مال غرباء کو دیتے رہیں تو اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اظہار ہو لیکن یہ بخل کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی نعمت کو ظاہر نہیں ہونے دیتے اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اشارہ یہود کی طرف ہو کیونکہ انہوں نے ان پیشین گوئیوں کے ظاہر کرنے میں بخل سے کام لیا جو نبی کریم ﷺ کے متعلق توریت میں مذکور تھیں۔
آخر میں اہانت آمیز عذاب کا ذکر فرمایا کہ ایسے ناسپاس لوگ جو متکبر اور شیخی مارنے والے اور بخیل اور بخل کی تعلیم دینے والے اور اللہ کے فضل کو چھپانے والے ہوں ان کے لئے ذلیل و رسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے ۔ اسی کے ساتھ ریا کاروں کا بھی ذکر فرمایا کہ جو لوگ اللہ پر اور قیامت کے دن پر تو اعتقاد نہیں رکھتے اور کچھ دیتے بھی ہیں تو اس میں لوگوں کا دکھاوا مقصود ہوتا ہے تو اس قسم کے منافق بھی اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں اور چونکہ ان تمام خرابیوں کی اصل جڑ شیطان کی دوستی ہے اور ایک ہم نشین کا اثر دوسرے ہم نشین پر پڑنا ضروری ہے اس لئے آخر میں فرمایا کہ شیطان جس کا قرین اور ہم جلیس و ہم صحبت ہو تو وہ برا ہم جلیس ہے کیونکہ اس کی دوستی سے سوائے نقصان اور ضرر کے کوئی فائدہ نہیں۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں مال دینے میں بخل کرنا جیسا اللہ کے نزدیک برا ہے ویسا ہی خلق کے دکھانے کو دینا اور قبول وہ ہے جو حقداروں کو دے جن کا مذکرو اول ہوا خدا کے یقین سے اور آخرت کی توقع سے دے ۔ (موضح القرآن)
حدیث میں آتا ہے۔ ان اللہ یحب ان یری اثر نعمتہ علیک یعنی اللہ تعالیٰ اس کو پسند کرتا ہے کہ وہ اپنی نعمت کا اثر تجھ پر دیکھے۔
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی فضل کیا ہے تو اس کو استعمال کر یہ نہیں کہ صندوق میں بند کر کے رکھ دے ان آیتوں میں جن چیزوں کی مذمت فرمائی تھی مثلاً کبر ، بخل خدا کی نعمت کا کتمان اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے سے انکار، ریا کاری اور شیطان کی دوستی ان سب باتوں کے مقابلہ میں ان باتوں کی ترغیب دیتے ہیں جو ان برائیوں کی ضد ہیں اور ان تمام نیک باتوں کا خلاصہ صرف تین چیزوں میں بیان فرمایا ہے اور درحقیقت اصولی طور پر وہی تین چیزیں ان تمام مذکورہ امراض کا علاج ہیں۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 4:40–41ف 2 اور ان کا کیا بگڑ جاتا اور ان پر کو سنی آفت نازل ہوجاتی اگر یہ لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آتے اور یوم آخرت کے واقع ہونے کا اعتقاد رکھتے اور اللہ تعالیٰ نے جو کچھ ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ خیرات کیا کرتے اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی حالت کو خوب جانتا ہے۔
یقین جانو ! کہ اللہ تعالیٰ کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نیں کرے گا بلکہ وہ تو ایسا کریم ہے کہ اگر ایک چھوٹی سی نیکی ہوگی تو اپنی مہربانی سے اس کو کئی گنا کر کے اس کا ثواب عنایت کرے گا اور اس ثواب کے علاوہ اپنے پاس سے بطور اپنے انعام کے اور اجر عظیم عطا فرمائے گا یعنی نیکی کو بڑھا کر ثواب ملے اور اپنے پاس سے اور مزید ثواب عظیم عطا فرمائے۔ (تیسیر)
اللہ پر ایمان اور آخرت پر ایمان کا مطلب یہ ہے کہ شریعت اسلامیہ کو تسلیم کرلیتے اور خدا کے دیئے ہوئے مال میں سے کچھ خیرات کرتے رہتے تو ان کا کیا نقصا نہو جاتا مگر محض اپنی ہٹ دھرمی اور ضد کی وجہ سے اسلامی احکام کو قبول نہیں کرتے اور اپنے مالوں میں بخیل بنے بیٹھے ہیں اسلام تو ایک ایسا مذہب ہے کہ ہر اعتبار سے مفید ہی مفید ہے۔
پھر فرمایا اللہ تعالیٰ تو ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا نہ کسی کے ثواب کو کم کرتا ہے اور نہ کسی کو بلاوجہ عذاب کرتا ہے بلکہ اس کی شان تو ایسی ہے کہ چھوٹی سی نیکی کو بھی کم از کم دس گناہ کر کے اس کا ثواب دیتا ہے اور بلا معاوضہ جو کچھ اپنے پاس سے محض اپنے فضل سے بطور انعام دیتا ہے اس کا تو ٹھکانا ہی کیا ہے۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں ینی اللہ کی راہ میں خرچ کرنا کسی طرح نقصان دہ نہیں آخرت کا ثواب بیشمار ہے دنیا میں بھی عوض پاتا ہے اس پر رسول خدا نے قسم کھائی ہے۔ (موضح القرآن)
ابو دائود طیالسی نے حضرت انس سے مرفوعاً روایت کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ظلم نہیں کرتا کسی مئومن پر جو وہ نیکی کرتا ہے اس کا بدلہ اس کو دنیا میں رزق دیتا ہے اور آخرت میں اس کا صلہ عطا فرماتا ہے اور کافر کو دنیا میں کھلاتا ہے لیکن قیامت کے دن اس کی کوئی نیکی نہ ہوگی۔ حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں۔ جھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ اللہ تعالیٰ بندئہ مومن کو ایک نیکی کے بدلے میں ایک لاکھ نیکیاں دیتا ہے ابو عثمان کہتے ہیں کہ میں حج یا عمرے کو گیا تھا تو میں نے حضرت ابوہریرہ سے ملاقات کر کے ان سے اس روایت کو دریافت کیا تو انہوں نے اس کی تصدیقف کی اور قسم کھا کر فرمایا کہ میں نے رسول خدا ﷺ سے خود سنا ہے۔ اس واقعہ کو امام احمد اور ابن ابی حاتم نے نقل کیا ہے ۔ اب آگے تتمہ کے طور پر قیامت میں ان منکرین کا جو حشر ہونے والا ہے اس کا بیان فرماتے ہیں اور چونکہ ایمان باللہ رسول پر ایمان لانے کو مستلزم ہے اس لئے نبی کریم ﷺ کا ذکر بھی صراحتہ مذکور ہے۔ (تسہیل)
Ayah 4:42ف 1 بھلا اس وقت ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جب ہم ہر ایک امت میں سے ایک ایک گواہ یعنی احوال بتانے والا میدان حشر میں طلب کریں گے اور اے پیغمبر ﷺ آپ کو ان لوگوں پر یعنی آپ کی امت پر گواہی دینے اور ان کے احوال بتانے کی غرض سے طلب کریں گے۔ اس دن ان لوگوں کا جنہوں نے دنیا میں کفر کیا ہوگا اور اللہ کے رسول کا کہنا نہ مانا ہوگا یہ حال ہوگا کہ وہ اس اس بات کی تمنا اور آرزو کریں گے کہ کاش ! ان پر زمین پٹ جاتی اور وہ اس میں سما جاتے اور ان پر زمین برابر کردی جاتی اور وہ زمین کے پیوند ہوجاتے اور وہ اللہ تعالیٰ سے کوئی بات پوشیدہ نہ رکھ سکیں گے۔ کیونکہ معتبر گواہوں کی شہادت کے بعد اس کے سوا چارہ بھی کیا ہے کہ اپنے جرائم کا خود ہی اقرار کریں (تیسیر)
قیامت کے دن جس طرح تمام امتوں سے یہ دریافت کیا جائیگا کہ تم نے اپنے اپنے پیغمبروں کی دعوت کا کیا جواب دیا تھا اسی طرح پیغمبروں کو بھی بلا کر ان کی امت کے متعلق دریافت کیا جائے گا کہ تمہاری امتوں نے تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا اسی کو شہادت کہا گیا ہے تاکہ مجرموں پر فرد جرم قائم کی جاسکے اس شہادت کی تفصیل ہم دوسرے پارے میں عرض کرچکے ہیں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پیغمبروں کے ساتھ ان کی امت کے بھی بعض مخلفین کا بیان لیا جائے۔
اسی سلسلے میں نبی کریم ﷺ سے بھی اپنی امت کے احوال دریافت کئے جائیں گے۔ یہاں امت سے مراد حضور ﷺ کی امت دعوت ہے۔
حضرت سعید بن مسیب کا ایک قول قرطبی نے نقل کیا ہے کہ آپ ﷺ کی تمام امت ہر روز صبح شام آپ کے روبرو پیش کی جاتی ہے اس لئے آپ ان کی علامات سے قیامت کے دن ان کو پہچان لیں گے۔
حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود کو آپ ﷺ نے حکم دیا کہ اے عبداللہ سورة نساء سنائو انہوں نے پڑھنا شروع کیا جب اس آیت پر پہونچے تو کہا عبداللہ بس کرو۔ عبداللہ ابن مسعود نے دیکھا کہ نبی کریم ﷺ سے اس قدر آنسو بہہ رہے تھے کہ رخسار مبارک اور قریش مبارک سب تر تھی اس موقع پر آپ نے فرمایا یا رب شھدت علی من انابین اظھرھم فکیف بمن لم ارہ
یعنی اے رب میں ان پرتو شہادت دے سکتا ہوں جن میں میں موجود ہوں لیکن جن کو میں نے نہیں دیکھا ان پر شہادت کیوں کر دوں گا۔ (ابن ابی حاتم)
حضرت سعید بن مسیب کے قول سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ میں سب کو شناخت کرلیں گے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ امت اجابت کی طرح امت دعوت پر بھی کوئی خاص علامت ہو۔ امت اجابت کی شناخت کا ذکر تو احادیث میں آتا ہے کہ آثار وضو سے پہچانے جائیں گی اسی طرح ہوسکتا ہے کہ امت اجابت پر بھی کوئی علامت لگا دی جائے۔
دوسری آیت میں خود ہی اس وقت کی حالت کا جواب دیا ہے کہ اس دن کا فر اور رسول ﷺ کے نافرمان زمین کا پیوند بننے کی تمنا کرتے ہوں گے یعنی مرجائیں اور زمین میں دفن ہوجائیں۔
جیسا کہ قتادہ اور ابو عبیدہ نے کہا ہے اور بعضوں نے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ ہم قبروں سے اٹھائے نہ جاتے کلبی نے کہا جب جانوروں کو حکم دیا جائے گا کہ مٹی ہو جائو اس وقت کافر یہ تمنا کریں گے کہ ہم بھی مٹی ہوجائے۔
بات نہ چھپانے کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ کسی وقت جھوٹ بھی بولیں جیسے عذاب کو دیکھ کر کہیں گے واللہ ربنا ماکنا مشرکین لیکن آخر میں اپنے کفر کا اعتراف کریں گے اور کوئی بات حضرت حق سے چھپا نہ سکیں گے۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی ہر امت اور عہد کے لوگوں کا احوال اس وقت کے پیغمبر سے اور معتبر نیک بختوں سے بیان کروائیں گے منکروں کا انکار اور اطاعت والوں کی اطاعت بیان ہوگی تب منکر آرزو کریں گے کہ ہم انسان نہ ہوتے مٹی میں مل کر خاک ہوجاتے۔ (موضح القرآن)
شاہ صاحب نے جو کچھ فرمایا ہے اس کے بعد شناخت اور عدم شناخت کی کوئی بحث باقی نہیں رہتی۔ اور نبی کریم ﷺ نے آیت ان تعذبھم فانھم عبادک کی تلاوت کرتے وقت جو کچھ فرمایا تھا وہ انشاء اللہ سورة مائدہ کے آخر میں عرض کیا جائیگا چونکہ اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم ہوا تھا اور عبادت میں سب سے اہم نماز ہے اس لئے نماز اور اس کے متعلق بعض مسائل کا ذکر فرمایا اور یہ واقعہ ہے کہ اگر نماز کو اس کی تمام رعایتوں کے ساتھ ادا کیا جائے تو وہ بیشمار اخلاقی امراض کا علاج ہے اور بیشمار مفاسد سے وہ نماز روکنے والی ہے۔ اس لئے درمیان میں نماز کا ذکر کردیا گیا تاکہ جن امراض کا اوپر ذکر کیا گیا تھا خواہ وہ حقوق الہیہ ہوں یا حق العباد، ان کا علاج بھی معلوم ہوجائے اور ہم یہ بات اس سورت کی تمہید میں عرض کرچکے تھے کہ جنگ بدر کے بعد اسلام کی ترقی کا ایک خاص دور شروع ہوچکا تھا اس کے بعد غزوہ احد کے باعث نئی نئی ضرورتیں پیش آگئی تھیں اور نئے نئے سوال سامنے آگئے تھے نیز تجارت اور جہاد کی وجہ سے مختلف مقامات میں سفر کی ضرورت بھی پیش آتی تھی اس لئے اس سورت میں ان تمام حالات کے پیش نظر مختلف مسائل مذکور ہوئے ہیں چناچہ نماز کے ساتھ تمیم کا ذکر فرمانا ان ہی ضروریات کو پورا کرنا ہے جو مسلمانوں کو بعض غزوات میں پیش آئی تھیں۔ (تسہیل)
Ayah 4:43ف 2 اے ایمان والو جب تم نشے کی حالت میں ہو تو اس وقت تک کہ جو کچھ تم زبان سے کہتے ہو اس کو سمھنے نہ لگو نماز کے قریب نہ جائو یعنی اس وقت تک کہ دماغ صحیح نہ ہوجائے اور جو منہ سے کہتے ہو اس کو سمجھنے نہ لگو نماز مت پڑھو اور اسی طرح جب تم جنابت کی حالت میں ہو تو بھی اس وقت تک نماز پڑھو جب تک تم غسل نہ کرلو مگر یہ کہ تم مسافر ہو تو مسافر کے غسل کا حکم آگے آتا ہے اور اگر تم کبھی بیمار ہو یا کبھی سفر میں ہو اور غسل کی یا وضو کی ضرورت پیش آجائے اور یا بغیر مرض اور سفر کے تم میں سے کوئی شخص جائے ضرورت سے فارغ ہو کر آئے اور تم کو وضو کی ضرورت پیش آجائے یا تم نے عورتوں سے قربت کی ہو اور ان سے ملے ہو اور تم کو غسل کی ضرورت پیش آجائے پھر تم ان تمام صورتوں میں پانی کے استعمال پر قدرت نہ پائو یعنی اس بنا پر قدرت نہ ہو کہ پانی ملتا نہیں یا ملتا ہے تو اس کا استعمال سخت ضرر رساں ہے یا کوئی درندہ اور کوئی ظالم پانی تک پہنچنے نہیں دیتا یا دور بہت ہے تو ایسی حالت میں تم پاک زمین کا قصد کرو اور اس زمین پر دوبارہ ہاتھ مار کر اپنے چہروں اور اپنے ہاتھوں کا مسح کرلیا کرو یعنی ایک دفعہ زمین پر ہاتھ مار کر منہ پھیر لو اور دوسری دفعہ ہاتھ مار کر کہنیوں تک ہاتھوں پر پھیرلیا کرو بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑا معاف کرنے والا اور بڑا بخشنے والا ہے اسی لئے وہ تم کو ایسے آسان حکم دیتا ہے جن کے بجا لانے میں تم کو کوئی وقت اور دشواری نہ ہو اور ج کام تم پانی سے کرتے ہو معذوری کے وقت خاک سے کرلو۔ (تیسیر)
دوسرے پارے میں ہم شراب کے متعلق مفصل عرض کرچکے ہیں اور وہاں ہم نے بتایا تھا کہ یسئلونک عن الخمرو المیسر کی آیت جب نازل ہوئی تو حضرت عمر نے دعا کی یا اللہ اس خمر کے متعلق اور تفصیلی بیان نازل فرما چناچہ اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی اس پر بھی حضرت عمر نے یہی فرمایا کیونکہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اوقات نماز میں شراب نہ پیو کیونکہ نمازتو مئوخر ہو نہیں سکتی اس کو تو اپنے وقت میں ادا کرنا ہوگا اور حالت سکر میں نماز کے قریب جانے کی ممانعت آگئی جب تک سکردو ورنہ ہو اور آدمی اپنے منہ کی کہی بات کو سمجھنے نہ لگے نماز نہ پڑھے اور نہ معلوم نشہ اترنے تک نماز کا وقت فوت ہوجائے لہٰذا اوقات صلوۃ میں شراب نہ پی جائے۔
اس آیت میں بھی چونکہ عام حرمت کا اعلان نہ تھا اس لئے حضرت عمر نے مکرر دعا کی اور اس کے بعد سورة مائدہ کی آیت نازل ہوئی شان نزول سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف کے ہاں دعوت تھی وہاں جب دستور شراب پی گئی اتنے میں مغرب کی نماز کا وقت آگیا حضرت عبدالرحمٰن یا حضرت علی یا کوئی اور صاحب امام بنے قل یا یھا الکافرون نماز میں پڑھی لیکن لا اعبد کی جگہ اعبد پڑھ گئے اور نحن نعبد ماتعبدون پڑھ دیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور سکر کی حالت میں نماز پڑھنے سے منع کردیا گیا۔
حضرت انس کی حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص اونکھنے لگے تو اس کو چاہئے کہ جا کر سو رہے یہاں تک کہ وہ سمجھنے لگے کہ وہ کیا پڑھتا ہے مطلب یہ ہے کہ سکر ہو یا نیند کا غلبہ ہو اور آدمی یہ نہ سمجھ سکے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے تو اس وقت نماز نہ پڑھے اور جس طرح سکر یا نیند کی حالت میں نماز کا پڑھنا اس وقت تک ممنوع ہے جب تک آدمی اپنے منہ کی بات نہ سمجھ لے ۔ اسی طرح جس پر غسل واجب ہو وہ بھی اس وقت تک نماز نہیں پڑھ سکتا جب تک غسل نہ کرلے۔ لہٰذا اس مسئلے کو بھی اسی کے ساتھ ذکر فرمایا اور چونکہ مریض اور مسافر کو جنابت اور وضو میں تمیم کی رعایت دینی تھی اس لئے اس رعایت کا بھی اعلان فرمایا، ہم نے تیسیر میں لفظی ترجمہ کا کافی خلاصہ کردیا ہے آیت زیر بحث میں چونکہ عایری سبیل اور علی سفر دو مرتبہ آ گای ہے اس لئے لوگوں کو ترجمہ میں اشکال ہوتا ہے حالانکہ بات صرف اتنی ہے کہ چونکہ آگے میرض اور مسافر کو پانی نہ ملنے کی صورت میں تمیم تعلیم کرنا تھا اس لئے جنب کے ساتھ عابری … استثنا فرما دیا تاکہ جنابت کے غسل اور مریض مسافر کے تمیم میں کسی کو شبہ نہ ہوجائے لہٰذا مطلب یہ ہے کہ مسلمانو ! نشے کی حالت میں ہو تو اس وقت تک نماز نہ پڑھو جب تک منہ کہی بات سمجھنے نہ لگو اور جنابت کی حالت میں ہو تو اس وقت تک نماز نہ پڑھو جب تک غسل نہ کرلو مگر مسافر کا حکم اس سے مستثنیٰ ہے کیونکہ وہ ہم آگے بیان کریں گے۔
اب آگے فرمایا اور اگر تم بیمار ہو یا مسافر ہو یعنی وہ مسافر جس کو ہم مستثنیٰ کرچکے ہیں اور یہ مریض اور مسافر پانی کے استعمال پر قدرت نہ رکھتے ہوں۔ مریض تو بیماری کی وجہ سے اور مسافر اپنے سفر کی وجہ سے کہ پانی بہت دور ہے یا تم میں مریض اور مسافر نہ ہو بلکہ ویسے ہی تم میں سے کسی کا وضو ٹوٹ جائے یا نہانے کی حاجت ہوجائے۔
وضو ٹوٹنے کی صورت یہ ہے کہ پیشاب اور پاخانہ وغیرہ سے فارغ ہوا ہو اور نہانے کی حاجت کی صورت یہ کہ بیوی سے قربت کی ہو۔
بہرحال ! مسافر کو پانی نہ ملے تب اور بیمار کو پانی ضرر رساں ہو تب اور تندرستی کی حالت میں گھر بیٹھے ہو اور وضو یا غسل کی ضرورت ہو اور پانی میسر نہ آئے تب ان سب حالتوں میں پاک زمین سے تمیم کرلیا کرو جس کی صورت یہ ہے کہ دو بار زمین پر ہاتھ مار کر ایک دفعہ منہ پھیرلیا کرو اور دوسری دفعہ کہنیوں تک ہاتھوں پر پھیرلیا کرو یہ اللہ تعالیٰ کی معافی اور بخشش ہے کہ وہ تم پر آسان احکام جاری کرتا ہے غالباً اس تفصیل کے بعد آیت کا مطلب سمجھ لینے میں کوئی اشکال نہ رہا ہوگا۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں اس آیت میں ذکر ہے تمیم کا پہلے جو مذکور ہوا کہ کافر آخرت میں آرزو کریں گے کہ خاک میں مل جاویں خاک انسانوں کی پیدائش ہے اور اپنی پیدائش کی طرف جانا گناہوں سے بچائو ہے اس واسطے مٹی ملنے سے بھی طہارت فرمائی۔
(فائدہ) پہلے حکم فرمایا کہ نشہ میں نماز کے پاس نہ جائو ۔ یہ حکم جب تھا کہ نشہ حرام نہ ہوا تھا لیکن نماز سے مانع ٹھہرا تھا اور اگر اب نیند سے بےہوش ہو یا مرض سے کہ اپنے منہ کا لفظ نہ سمجھے تو اس حالت کی نماز درست نہیں پھر قضا کرے۔
(فائدہ) پھر فرمایا کہ جنابت میں نماز ک پاس نہ جائو جب تک غسل نہ کرو مگر راہ چلتے یعنی سفر میں کہ اس حکا حکم آگے ہے پھر فرمایا اگر پانی کا عذر ہو اور طہارت ضرور ہو تو زمین سے تمیم کرو پانی کا عذر تین صورت سے بتایا اور طہارت کا ضرور ہونا دو صورت سے ایک صورت پانی کے عذر کی یہ کہ مریض ہو یا پانی ضرر کرتا ہو دوسری یہ ہے کہ سفر درپیش ہے پانی پینے کو رکھا ہے آگے دور تک نہ ملے گا تیسری یہ کہ پانی موجود نہیں اس تیسری کے ساتھ دو صورتیں طہارت کی ضرورت کی فرمائیں ایک یہ کہ شخص جائے ضرور سے آیا وضو کی حاجت ہے۔ دوسرے یہ کہ عورت سے لگا غسل کی حاجت ہے۔
(فائدہ) اب تمیم کا طریق یہ کہ پاک زمین پر دونوں ہاتھ مارے پھر منہ کوئل لیا تمام پھر دونوں ہاتھ مارے پھر ہاتھوں کو مل لیا کہنی تک (موضح القرآن)
حضرت شاہ صاحب نے چند مسائل ک ذکر بھی کیا ہے اس سلسلے میں ہم انشاء اللہ بشرط زندگی سورة مائدہ میں عرض کریں گے۔ اصل آیت جو تمیم کے بارے میں نازل ہوئی ہے وہی ہے اور یہاں تو تمیم کا ذکر شاید اسلح کے بارے میں آیا ہے کیونکہ اسلح کو ایک دن غسل کی حاجت ہوگئی اور موسم سردی کا تھا رات بہت ٹھنڈی تھی یہ اسلع حضرت کے خادم تھے جب آپ نے اسلع کو آواز دی تو انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ مجھے غسل کی ضرورت ہے اور سردی ایسی ہے کہ اگر میں غسل کروں تو شاید مر جائوں یا بیمار ہو جائوں۔ اس پر حضرت جبرئیل (علیہ السلام) یہ آیتیں لائے تو اس آیت کا نزول سرد راتوں میں جبکہ اندیشہ ہو مرض یا ہلاکت کا تمیم کی رخصت کے لئے تھا۔
اس واقعہ کو طبرانی نے حضرت اسلع سے نقل کیا ہے بہرحال ! اس آیت سے جو مسائل مستنبط ہوتے ہیں ان میں باہم ائمہ کا اختلاف ہے جو فقہ کی کتابوں سے معلوم کیا جاسکتا ہے ہم نے جو کچھ عرض کیا ہے وہ فقہ حنفیہ کے موافق عرض کیا ہے۔
یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ تمیم میں نیت فرض ہے اور غسل کا اور وضو کا تمیم ایک ہی طرح ہے ۔ غسل کے تمیم میں غسل کی اور وضو کے تمیم میں وضو کی نیت کرنی چاہئے۔ زمین سے تمیم کرنا چاہئے لیکن جو چیز زمین کی جنس سے ہو اس سے بھی تمیم ہوسکتا ہے۔ تمیم میں حنفیہ کے نزدیک دو ضربیں ہیں جیسا کہ ہم عرض کرچکے ہیں۔ اوپر کی آیت میں ویکتمون ما اتھم اللہ من فضلہ سے اہل کتاب کا نبی آخر الزماں کی نعت کے کتمان کی طرف اشارہ فرمایا تھا اب ان ہی اہل کتاب کی بعض اور شرارتوں کا اور ان کی مذموم حرکات کا ذکر فرماتے ہیں اور یہ سلسلہ دور تک چلا گیا ہے کہیں کہیں کسی خاص مناسبت سے دوسرے مسائل کا تذکرہ آگیا ہے۔ ورنہ تقریباً تین رکوع تک اہل کتاب اور بالخصوص یہود کا ہی بیان ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 4:44–45ف 3 اے مخاطب ! کیا تو نے ان لوگوں کی حالت پر نظر نہیں کی اور تو نے ان کو متعجبانہ نظر سے نہیں دیکھا جن کو کتاب یعنی توریت سے کافی حصہ ملا ہے اور توریت کے علم سے ان کو کافی اور ایک اچھا خاصا حصہ ملا ہے مگر باوجود اس کے وہ لوگ کفر کی گمراہی خرید رہے ہیں اور انہوں نے گمراہی کو اختیار کر رکھا ہے اور صرف یہی نہیں کہ وہ خود گمراہی ہیں بلکہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ تم بھی صحیح راہ سے بھٹک جائو اور گمراہ ہو جائو۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ یہود خود تو باوجود پڑھے لکھے ہونے کے گمراہ ہو ہی چکے ہیں اور ہدایت چھوڑ کر گمراہی اختیار کرچکے ہیں مگر تمہارے گمراہ کرنے کی بھی مختلف تدابیر کرتے رہتے ہیں اور تمہارے خلاف ان کی ریشہ دوانیاں جاری ہیں اور وہ یہ چاہتے ہیں کہ تم بھی گمراہ ہو جائو اور اسلام سے ہٹ جائو۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں۔ یہود کو فرمایا کہ کچھ ملا کتاب کا ایک حصہ یعنی لفظ پڑھنے کو ملے ہیں اور عمل کرنا نہیں۔ (موضح القرآن)
حضرت شاہ صاحب نے نصیراً پر یہ حاشیہ لکھا ہے ہم نے یہیں نقل کردیا ہے۔ شاہ صاحب نے چونکہ نصیباً کا ترجمہ ملا ہے کچھ ایک حصہ کیا ہے اس لئے اس کے موافق خلاصہ بھی فرمایا ہے۔ الم تر ایسے موقعہ پر بولتے ہیں جہاں کسی تعجب انگیز واقعہ کی طرف توجہ دلانا ہوتا ہے اور مطلب یہ ہوتا ہے کہ اے مخاطب اگر تو ان لوگوں کی حالت پر غور کرتا اور ان کے حال کو دیکھتا تو ضرور تعجب کرتا۔ اب آگے ان کی دشمنی اور اپنی حمایت و دوستی کا ذکر فرماتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayah 4:46ف 1 اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے ان دشمنوں کو خوب جانتا ہے اور ان دشمنوں سے خوب واقف ہے اور اللہ تعالیٰ تمہارا سرپرست ہے اور تمہاری حمایت کرنے کو کافی ہے اور وہ با اعتبار ایک مددگار کے تمہاری مدد کو کافی ہے۔ ان یہود میں سے کچھ لوگ وہ ہیں جو کلام الٰہی کو اور توریت کے الفاظ کو اس کے محل اور موقع سے پھیر دیتے ہیں یعنی الفاظ کی لفظی اور معنوی تحریف کرتے ہیں اور نیز نبی کریم ﷺ کی مجلس میں گفتگو کرتے وقت اپنی زبانوں کو پیچ دیکر دین میں طعنہ زنی کرنے کی غرض سے ذومعینین الفاظ بولتے ہیں اور یوں کہتے ہیں سنا ہم نے اور نہ مانا ہم نے آپ سنیے نہ سنائے جائیں آپ اور آپ ہماری رعایت فرمائیے اور اگر یہ لوگ بجائے ان ذومعینین الفاظ کے ان الفاظ کو اس طرح کہتے کہ سنا ہم نے اور مان لیا ہم نے اور آپ سنیے اور آپ ہماری جانب بھی توجہ فرمائیے تو یہ کہنا ان کا ان کے حق میں بہتر اور نافع ہوتا اور فی نفسہ یہ بات بہت درست اور باموقع ہوتی لیکن انہوں نے یہ سیدھی سادھی بات اختیار نہیں کی اور کافرانہ معاندانہ روش پر چلے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر کی وجہ سے ان کو اپنی رحمت سے دور کردیا۔ لہٰذا اب وہ ایمان نہیں لائیں گے مگر ان میں سے بہت تھوڑے لوگ۔ (تیسیر)
من الذی ھادوا کی ترکیب میں کئی قول ہیں ہم نے ایک قول کی بنا پر ترجمہ کیا ہے مطلب یہ ہے کہ ان گم کردہ راہ یہود میں سے کچھ لوگ وہ ہیں جو توریت کے کلمات کو پھیر دیتے ہیں یا تو الفاظ ہی بدل دیتے ہیں کہ اصل الفاظ کی جگہ اور الفاظ پڑھ دیتے ہیں یا کتاب میں لکھ دیتے ہیں اور یا کلمات تو نہیں بدلتے مگر ان کلمات کی توجیہہ اور تاویل ایسی کرتے ہیں اور ایسے بیڈھب طریقے سے اس کا مطلب بیان کرتے ہیں جو کلام الٰہی کے منشا کے بالکل خلاف ہوتا ہے۔
جیسا کہ ہمارے زمانہ کے اہل بدعت اور اہل اہو ا کیا کرتے ہیں یہ شرارت و ضلالت تو ان کی کلام الٰہی کے ساتھ ہے اس کے علاوہ جب کبھی نبی کریم ﷺ کی مجلس میں آتے ہیں تو طعن و تشیع اور دشنام دہی کی نیت سے ذومعینین الفاظ بولتے ہیں اور بولتے بھی اسطرح ہیں کہ اپنی زبانوں کو دبا کر اور مڑ ڈر کر اور پیچ دیکر کہتے ہیں کہ اگر کوئی توجہ سے نہ سنے تو معلوم ہو کہ جو کچھ کہہ رہے ہیں صحیح کہہ رہے ہیں۔
مثلاً کہتے ہیں سمعنا وعصینا جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے آپ کا کلام سن لیا اور آپ کے مخالفوں کی بات نہیں مانی اور ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ سنا اور قبول نہیں کیا یا یہ مطلب ہے کہ سمعنا زبان سے کہتے ہیں اور دل میں دعصینا کہتے ہیں یا یہ کہ سمعنا صاف زبان سے کہتے ہیں اور وعصینا دبا کر کہ دیتے ہیں دوسرا لفظ مجلس میں یہ کہتے ہیں واسمع غیر مسلمع جس کا ظاہری مطلب یہ ہے کہ آپ ہماری بات سنیے خدا کرے آپ کو کوئی بات مخالفانہ سنائی جائے اور مقصد یہ ہوتا تھا کہ آپ کوئی خوشی کی بات نہ سن سکیں ۔
تیسرا لفظ وہی ہے جو ہم سورة بقرہ میں بتا چکے ہیں یعنی انظر ناکی بجائے راعنا اور کبھی زبان کو دبا کر راعینا کہ دیا کرتے تھے جو ان کی زبان میں ایک سو قیانہ لفظ ہے بظاہر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ حضور ﷺ کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی غرض سے راعنا کہہ رہے ہیں یعنی ہماری بھی رعایت فرمائیے مگر نیت تو ہیں کی ہوتی تھی غرض زبان سے ان جرائم کا ارتکاب کرتے تھے اور دل سے تحقیر اور طعن مقصد ہوتا تھا یا یہ کہ زبان سے ذرا مئودبانہ لہجے میں کہتے تھے کہ کسی کو طعن محسوس نہ ہو مگر دل سے نیت توہین کی کرتے تھے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مجلس سے جا کر طنہ زنی کرتے تھے کہ ہم آج پردے پردے میں سب کچھ کہ آئے اگر یہ نبی ہوتا تو اس کو ہماری بات کو کچھ تو پتہ چلتا۔
اللہ تعالیٰ نے ان ذومعینین الفاظ کے مقابلہ میں دوسرے الفاظ تعلیم کئے جو اپنے معنی میں صاف تھے اور فرمایا اگر پہلے لفظ کی بجائے سمعنا واطعنا کہتے یعنی ہم نے سنا اور قبول کیا اور ہم تعمیل کا وعدہ کرتے ہیں اور دوسرے لفظ کی بجائے صرف واسمع کہتے یعنی ہماری بات کو توجہ کے ساتھ سن لیجیے اور غیر مسمع کو چھوڑ دیتے اور تیسرے کلمہ کی جگہ انظرنا کہتے یعنی ہماری جانب بھی توجہ فرمائیے تو یہ الفاظ ان کے لئے ان کے شرارت آمیز فقروں سے بہتر ہوتے اور ان کی یہ بات سیدھی سادھی مضبوط اور منصفانہ ہوتی لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت فرمائی اور ان کو اپنی رحمت سے دور پھینک دیا اور اس لعنت کا یہ اثر ہوا کہ اب ان سوائے تھوڑے سے مخصوص لوگوں کے اور کسی کو ایمان نصیب نہیں ہوگا اور وہ تھوڑے سے وہی ہیں جو لعنت سے محفوظ رہے اور چناچہ وہ ایمان بھی لے آئے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ الا قلیلا کو لعنہم سے استثنا بنایا جائے اور یوں ترجمہ کیا جائے کہ اللہ نے ان پر لغت کی مگر بہ تھوڑے لوگوں پر لہٰذا اب یہ ایمان نہیں لائیں گے مگر ہاں وہ ایمان لے آئیں گے جو لعنت سے محفوظ رہے ہیں جیسے حضرت عبداللہ بن سلام اور ان نہیں لائیں گے مگر ہاں وہ ایمان لے آئیں گے جو لعنت سے محفوظ رہے ہیں۔ جیسے حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی چناچہ جن لوگوں کی طرف اشارہ تھا انہوں نے اسلام قبول کیا۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں راعنا لظ بولتے تھے اس کا بیان سورة بقرہ میں ہوا اسی طرح حضرت بات فرماتے تو جواب میں کہتے سنا ہم نے اس کے معنی یہ ہیں کہ قبول کیا لیکن آہستہ کہتے کہ نہ مانا یعنی فقط کان سے سنا اور دل سے نہ سنا اور حضرت کو خطاب کرتے تو کہتے سن نہ سنایا جائیو۔ ظاہر میں یہ دعا نیک ہے کہ تو ہمیشہ غالب رہے کوئی تجھ کو بری بات نہ سنا سکے اور دل میں نیت رکھتے کہ تو بہرہ ہو جائیو ایسی شرارت کرتے پھر دین میں عیب دیتے کہ اگر یہ شخص نبی ہوتا تو ہمارا فریب معلوم کرتا وہی اللہ صاحب نے واضح کردیا۔ (موضح القرآن)
لایئومنون الا قلیلا کے تحت میں بعض مفسرین نے بہت سی باتیں کہی ہیں اور تقریباً وہ باتیں جو ہم سورة بقرہ کے پہلے رکوع میں عرض کرچکے ہیں کہ لایئومنون بندے کے سلب اختیار کو مستلزم نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے علم میں جو کفر پر مرنے والے تھے ان کے متعلق فرمایا یہ مطلب نہیں کہ قیامت تک کوئی یہودی مسلمان ہی نہیں ہوگا اگر کوئی شخص اپنے افعال شنیعہ کی وجہ سے ناقابل التقات قرار پا جائے لیکن وہ ان افعال سے باز آجائے اور تائب ہوجائے تو وہ افعال قبیحہ سب ختم ہوجاتے ہیں اسی طرح بہتر ہوتا اس میں بھی بعض باتیں قابل بحث ہیں ان کا خلاصہ صرف اس قدر ہے کہ ذومعینین الفاظ کے ترک کے ساتھ ایمان بھی لے آتے تب تو بہتر ہوتا ہی اور اگر ایمان نہ لاتے اور ذومعینین الفاظ ترک کردیتے تب بھی دنیا میں تہذیب و شائستگی اور آداب مجلس کے اعتبار سے ان کے حق میں بہتر ہوتا۔ نیز قیامت میں بھی اس کا امکان تھا کہ عذبا میں کچھ تخفیف ہوجاتی جیسا کہ باہم کفار کے عذاب میں تفادت ثابت ہے۔ (واللہ اعلم)
اب آگے اہل کتاب کو خطاب کر کے فرماتے ہیں کہ اگر تم ہمارے احکام کی خلاف ورزی سے باز نہ آئو گے تو پھر دنیا ہی میں تم پر ایسا کوئی عذاب بھیجا جائے گا جیسے تمہارے بڑوں پر بھیجا جا چکا ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (سہیل)