4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 4:65

فَلَا وَ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى یُحَكِّمُوْكَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا Open ayah 4:65 in the Quran reader

سو قسم ہے آپ کے رب کی یہ شیطان کو حکم بنانے والے اس وقت تک مومن نہیں ہوں گے جب تک یہ اپنے تمام باہمی جھگڑوں میں آپ ہی کو منصف نہ بنائیں پھر جو فیصلہ آپ کردیں اس پر اپنے دلوں میں کوئی گرانی نہ محسوس کریں اور پوری طرح آپ کے فیصلے کو تسلیم کریں1

ف 1 اور ہم نے کسی رسول کو مبعوث نہیں کیا مگر اس لئے کہ بحکم خداوندی اس کی اطاعت کی جائے یعنی تمام پیغمبروں کی بعثت کا مقصد خاص یہی ہوتا ہے کہ باذن الٰہی ان کی اطاعت و فرمانبرداری کی جائے اور ان کو مطاع سمجھا جائے اور اگر یہ لوگ اسی وقت جبکہ انہوں نے گناہ کر کے خود اپنے حق میں برائی کی تھی اور اپنے کو نقصان پہنچایا تھا آپ کی خدمت میں حاضر ہوجاتے اور پھر اللہ تعالیٰ کی جناب میں بخشش طلب کرتے اور نادم ہو کر اپنے گناہ کی معافی چاہتے اور رسول بھی ان کے لئے بخشش و مغفرت کے خواستگار ہوتے تو یہ لوگ ضرور اللہ تعالیٰ کو معاف کرنے والا اور مہربانی کرنے والا پاتے، پھر قسم ہے آپ کے رب کی یہ لوگ اس وقت تک خدا کے نزدیک مومن نہیں ہوں گے اور ایماندار شمار نہیں کئے جائیں گے جب تک یہ بات نہ ہو کہ جو جھگڑا ان کے مابین واقع ہو اس میں آپ ہی کو منصف بنائیں اور سا جھگڑے کا فیصلہ اور تصفیہ آپ ہی سے کرائیں اور جب آپ فیصلہ فرما دیں تو آپ کے فیصلے سے اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ پائیں اور کوئی گرانی محسوس نہ کریں اور آپ کے فیصلے کو ہر اعتبار سے پوری طرح تسلیم کریں۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ ہر پیغمبر کے بھیجنے کا بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے اور چونکہ پیغمبر کی اطاعت حضر حق کے حکم اور ان کے منشا کے مطابق ہے اس لئے یہ رسول کی اطاعت بھی خدا ہی کی اطاعت ہے جیسا کہ آگے آجائے گا اور چونکہ پیغمبر کی تشریف آوری کا بڑا مقصد یہی ہوتا ہے اسی لئے ہر پیغمبر نے اپنی تقریر میں فاتقوا اللہ و اطیعون فرمایا جیسا کہ سورة شعراء میں انشاء اللہ آجائے گا اور چونکہ یہ اطاعت منشاء الہی کے موافق ہوتی ہے اس لئے باذن اللہ کی قید کو ظاہر کردیا کہ رسول کی یہ اطاعت بحکم خداوندی ہوتی ہے اس تمہیدی فقرے کے بعد اصل واقعہ کا صحیح حل بتایا کہ طاغوت کے پاس فیصلہ لے جانی کی جس غلطی کا ارتکاب ہوا تھا اس کا علاج یہ نہ تھا کہ جھوٹی قسمیں کھا کر جھوٹ بولیں۔ ان اردنا الا احساناً و توفیقاً بلکہ گناہ کا اصل علاج اور اس غلطی کا اصل حل تو یہ تھا کہ آپ کی خدمت میں نادم ہو کر حاضر ہوتے کفر و نفاق سے توبہ کر کے ایمان لاتے اور جو گناہ ہوا تھا اس کی اللہ تعالیٰ سے بخشش مانگتے ۔ ہم نے ایمان کی شرط اس لئے لگائی کہ ایمان اصل مبنی ہے اگر ایمان نہ لاتے تو منافق اور کافر کا کسی گناہ سے توبہ کرنا کوئی چیز نہیں کفر و نفاق کی موجودگی میں گناہ سے توبہ ناقابل اعتبار ہے۔ بہرحال ! آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے ایمان لاتے اور اپنی جانوں پر جو ظلم کیا تھا یعنی طاغوت کے پاس جانے کا گناہ اس سے خدا کی جناب میں استغفار کرتے اور ادھر رسول بھی ان کے لئے استغفار کرتا کیونکہ ان کی اس ناشائستہ حرکت سے جو رسول کو گرانی ہوئی تھی وہ دور ہوجاتی اور وہ بھی ان سے راضی ہو کر ان کے لئے بخشش مانگتا تو ان کا کام بن جاتا اور یہ اللہ تعالیٰ کو تو اب و رحیم پاتے اگرچہ کافر اور عاصی کی توبہ کا معاملہ محض اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے جو گناہگار نادم ہو کر اللہ تعالیٰ کے روبرو توبہ کرے اور پشیمان ہو کر اس سے معافی مانگے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرلیتا ہے لیکن اس آیت میں دو باتیں اور زائد بیان فرمائی ہیں ایک حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونا اور دوسرے آپ کا ان کے لئے استغفار کرنا ایک قید کی وجہ تو ظاہر ہی ہے جس کی طرف ہم نے تسہیل میں اشارہ بھی کیا ہے یعنی رسول کے پاس نہ آنا اور طاغوت کے پاس جانا اس کی تلافی کے لئے فرمایا کہ رسول کی خدمت میں حاضر ہوتے اور رسول کو جو اذیت پہنچائی تھی اس کی تلافی اور تدارک کرتے البتہ دوسری قید کہ رسول بھی ان کے لئے بخشش طلب کرتا تو اس کے لئے لوگوں نے مختلف وجوہ بیان کئے ہیں لیکن ایک سیدھی اور آسان بات یہ ہے کہ آپ ک استغفار کرنا اور ان کے لئے بخشش طلب کرنا آپ کے راضی ہونے کی دلیل ہوگی اور یہ معلوم ہو سکے گا کہ پیغمبر کو جو تکلیف پہونچی تھی وہ اس نے معاف کردی۔ یا یوں کہا جائے کہ پیغمبر کا استغفار توبہ کے لئے کوئی لازمی شرط نہ تھی بلکہ ان کے لئے توفیق توبہ کی زیادتی اور صحیح توبہ کا سبب تھی، بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ پیغمبر کا استغفار نفس توبہ کی قید نہیں ہے۔ بلکہ کامل توبہ کی قید ہے۔ (واللہ اعلم) بہرحال کسی بزرگ سے استغفار کی درخواست کرنا اور اپنی توبہ کے ساتھ اس کو بھی اپنے لئے استغفار میں شریک کرلینا اس کے لئے موجب برکت اور موجب قبولیت اور موجب تقویت ہونے سے انکار نہیں کہا جاسکتا اگرچہ نفس توبہ کے لئے ضروری نہ ہو۔ دوسری آیت میں ایک مکمل ضابطہ فرمایا اور اپنی ذات کی قسم کھا کر اس کو موکد فرمایا مطلب یہ ہے کہ یہ طاغوت کو حکم بنانے والے اور جھوٹی قسمیں کھا کر اپنے کو مسلمان ظاہر کرنے والے اس وقت تک خدا کے نزدیک مسلمان نہیں ہوسکتے اور اس وقت تک ان کا ایمان خدا کے ہاں معتبر نہیں ہوسکتا جب تک یہ لوگ اس امر کی پابندی نہ کریں کہ آپس کا کوئی جھگڑا خواہ وہ جانی ہو یا مالی یا کوئی اور چھوٹا بڑا قصہ ہو۔ غرض جو قضیہ اور جھگڑا ہو اس میں آپ ہی کو حکم بنائیں اور اس جھگڑے کا فیصلہ آپ ہی سے کرائیں اور آپ کی شریعت اور آپ کے قانون کے موافق اس جھگڑے کو طے کرائیں اور جو کچھ آپ طے کردیں اس پر دل تنگ نہ ہوں۔ دل کی تنگی اور عدم ضیق کا یہ مطلب کہ ان کا قلب اس فیصلے سے مطمئن ہو یہ خیال نہ کریں آپ نے حق کے خلاف فیصلہ کیا یا آپ نے فیصلے میں خیانت کی۔ باقی رہی وہ تنگی اور گرانی جو اپنے خلاف فیصلہ سن کر دل پر ہوتی ہے وہ ایک طبعی اور فطری چیز ہے جو کسی حج کا فیصلہ اپنے خلاف سن کر قلب پر ایک اثر پڑتا ہے وہ دوسری چیز ہے۔ یہاں مراد معاندانہ اور منکرانہ تنگی ہے اور شک و شبہ ہے جو شکی لوگوں کے دل میں پیدا ہوتا ہے اسی لئے حضرت مجاہد نے ضیق کی تفسیر شک سے کی ہے، تسلیم سے مراد انقیاد یعنی بلاکسی ناگواری کے رغبت کے ساتھ ظاہراً اور باطناً اطاعت و فرمانبرداری کے جذبے سے آپ کے فیصلے کو قبول کریں جب تک یہ طریقہ اختیار نہ کریں گے یہ لوگ مومن نہ ہوں گے اور بارگاہ خداوندی میں ان لوگوں کا شمار مومنوں میں نہیں ہوگا۔ ہم نے جو شریعت اور قانون کا لفظ استعمال کیا ہے وہ اس لئے کہ آپ کی وفات کے بعد آپ کو حکم بنانے کا مطلب آپ کی شریعت اور آپ کے قوانین کی جانب رجوع کرنا ہے۔ بعض مفسرین نے آیت فلا و ربک لایئومنون کے تحت ایک واقعہ حضرت زبیر اور ایک انصاری کا نقل کیا ہے اور اس آیت کا شان نزول اس قصے کو قرار دیا ہے قصہ کا خلاصہ اس قدر ہے کہ پانی حاصل کرنے پر ان دونوں کا قصہ تھا زبیر کا کھیت بالائی حصے میں تھا اور اس انصاری کا کھیت نیچے کے حصے میں تھا نبی کریم ﷺ نے زبیر کے حق میں فیصلہ دیا کہ زبیر اپنے کھیت میں پہلے پانی لے اور پھر پانی کو نیچے کے کھیت میں جانے کے لئے چھوڑ دے اس پر فریق ثانی کے منہ سے یہ نکل گیا کہ زبیر آپ کی پھوپھی کا لڑکا ہے اس لئے ایسا فیصلہ کیا ہے۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے غضب آلود لہجہ میں فرمایا ، زبیر تو اپنی زمین کو پانی پلا اور پانی کو روک لے یہاں تک کہ تیرے کھیت کی مینڈھ تک پانی پہنچ جائے ۔ جب یہ دونوں فریق حضور ﷺ کے پاس سے نکلے اور مقداد نے ان سے دریافت کیا تو اس انصاری نے استہزاًء کہا کہ اپنی پھوپھی کے بیٹے کے لئے فیصلہ کردیا اور پانی کا حق اس کو دلوا دیا اس انصاری کی بات کو سن کر ایک یہودی نے کہا جو حضرت مقداز کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ خدا ان لوگوں کو ہلاک کرے کہ یہ ان کے رسول اللہ ہونے کی شہادت دیتے ہیں اور پھر ان کے فیصلے پر معترض بھی ہوتے ہیں اور ان پر طرف داری کا الزام لگاتے ہیں۔ خدا کی قسم ہم نے موسیٰ کی زندگی میں ایک گناہ کیا تھا اس پر موسیٰ نے ہم کو بلا کر کہا کہ تمہاری توبہ اس وقت قبول ہوگی جب تم اپنے آپ کو قتل کرو گے چناچہ ایسا ہی ہوا اور ہم میں سے ستر ہزار آدمی قتل ہوئے تب ہماری توبہ قبول ہوئی اور ہم نے اپنے پروردگار کی رضامندی حاصل کی۔ حضرت زبیر کا یہ مقابل جس کو انصاری کہا اجتا ہے شاید کوئی منافق ہوگا بہرحال شان نزول کا اگر یہ واقعہ بھی ہو تب بھی ہماری گذارش کے منافی نہیں کیونکہ یہ آیتیں مسلسل منافقوں کی کمزوری کے بیان میں ہیں اور خاص طور پر حضور ﷺ کے بعض فیصلوں پر اعتراض کرنے پر اور حضور ﷺ کی بجائے غیروں کو حکم بنانے پر جن کمزوریوں کا ان کی جانب سے اظہار ہوتا تھا ان آیتوں میں ان کا رد ہے اب آگے صحیح اطاعت کرنے والوں کے فوائد اور ان منافع کا ذکر ہے جو کامل فرمانبرداروں کو ملنے والے ہیں۔ (تسہیل)
Ayahs 4:66–69

وَ لَوْ اَنَّا كَتَبْنَا عَلَیْهِمْ اَنِ اقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ اَوِ اخْرُجُوْا مِنْ دِیَارِكُمْ مَّا فَعَلُوْهُ اِلَّا قَلِیْلٌ مِّنْهُمْ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ فَعَلُوْا مَا یُوْعَظُوْنَ بِهٖ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ وَ اَشَدَّ تَثْبِیْتًاۙ Open ayah 4:66 in the Quran reader

اور اگر ہم ان منافقوں پر یہ بات فرض کردیتے کہ تم اپنی جانوں کو ہلاک کردیا اپنے گھروں کو چھوڑ کر نکل جائو تو سوائے چند آدمیوں کے ان میں سے کوئی بھی اس حکم کی تعمیل نہ کرتا اور اگر یہ لوگ جس بات کی ان کو نصیحت کی جاتی ہے اس پر عمل کیا کرتے تو ان کے حق میں بہتر ہوتا اور ایمان کو پختہ کرنے کا موجب ہوتا2

وَّ اِذًا لَّاٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ لَّدُنَّاۤ اَجْرًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:67 in the Quran reader

اور جب یہ ایسا کرتے تو ہم ان کو اپنی طرف سے بہت بڑا ثواب عطا کرتے

وَّ لَهَدَیْنٰهُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا Open ayah 4:68 in the Quran reader

اور ضرور ان کو صحیح راہ چلاتے

وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیْنَ١ۚ وَ حَسُنَ اُولٰٓئِكَ رَفِیْقًاؕ Open ayah 4:69 in the Quran reader

اور جو کوئی اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا تو یہ لوگ ان حضرات کے ہمراہ ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا ہے یہ حضرات ابنیاء ہیں اور صدیق ہیں اور شھداء ہیں اور صلحا ہیں اور یہ حضرات بڑے اچھے رفیق ہیں

ف 2 اور اگر ہم لوگوں پر یہ بات فرض کردیتے کہ تم اپنے آپ کو قتل کرو اور خودکشی کردیا اپنے گھروں کو چھوڑ کر نکل جائو اور وطن سے بےوطن ہو جائو تو سوائے معدودے چند اور تھوڑے سے لوگوں کے ان میں سے اس حکم کی کوئی بھی تعمیل نہ کرتا اور اگر یہ منافق جس بات کی ان کو نصیحت کی جاتی ہے یعنی رسول کی کامل اطاعت اور ان کے حق میں ثواب کے اعتبار سے بہتر اور ایمان کی تکمیل کے اعتبار سے پختہ اور مضبوط کرنے والا ہوتا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی مالک کے حکم میں تو جان تک دریغ نہ کرنا چاہئے اگر اللہ ویسے حکم کرتا تو یہ منافق کب کرسکتے یہ حکم تو نصیحت کے ہیں انہیں پر چلیں تو نفاق جاتا رہے اور مومن ہوجاویں غنیمت نہیں سمجھتے۔ (موضح القرآن) آیت کا مطلب یہ ہے کہ جن باتوں کا ان کو حکم دیا جا رہا ہے اور جن باتوں کی ان کو نصیحت کی جا رہی ہے وہ تو آسان اور سہل باتیں ہیں اور ان سے بھی یہ جان چرا رہے ہیں۔ اگر فرض کرو ! ہم لوگوں پر خودکشی پر فرض کردیتے یا ترک وطن کو فرض کردیتے اور احکام مقصودہ کی طرح یہ چیزیں لوگوں پر فرض ہوجاتیں تو سوائے ان چند لوگوں کے جن کے ایمان کامل ہوتے اور کوئی بھی اس حکم اور اس فریضہ کو ان میں سے پورا نہ کرتا لیکن اب جن آسان اور سہل باتوں کو ان پر لازم کیا گیا ہے اور جن باتوں کی ان کو نصیحت کی گئی ہے ان کو بجا لائیں اور ان کی پوری پوری تعمیل کریں تو ان کے حق میں ثواب کے اعتبار سے بہتر ہوگا یعنی زیادہ اطاعت کرنے میں زیادہ ثواب ملے اور نیز تکمیل دین اور کمال ایمان کے لئے ان احکام کی بجا آوری مضبوطی اور تثبیت کا سبب ہو کیونکہ یہ بات ظاہر ہے کہ دین کی خدمت کرنے سے انسان کا عقیدہ پختہ ہوتا ہے اور باطن کی اصلاح ہوتی ہے چونکہ علیہم کی ضمیر کے مرجع میں دو قول تھے اس لئے ہم نے ترجمہ میں ایک قول کی اور تیسیر میں دوسرے قول کی رعایت رکھی ہے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضر عمر حضرت عمار بن یاسر اور حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا اگر ایسا حکم ہوتا تو خدا کی قسم ہم اس حکم کی تعمیل کرتے خدا کا شکر ہے کہ اس نے ہم کو محفوظ رکھا نبی کریم ﷺ نے اپنے اصحاب کا جب یہ قول سنا تو فرمایا کہ میری امت میں ایسے لوگ ہیں جن کے ایمان ان کے دلوں میں پہاڑوں سے بھی زیادہ جمے ہوئے ہیں اگر کوئی یہ شبہ کرے کہ جہاد اور ہجرت تو اب بھی اسلام میں ہے اور جہاد میں قتل اور ہجرت میں ترک وطن ہوتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ چیزیں مقصود نہیں ہیں بلکہ اعلاء کلمتہ اللہ کے سلسلہ میں کبھی کبھی پیش آجاتی ہیں اصل مقصد تو اعلاء کلمتہ اللہ ہے اگر اعلاء کلمتہ اللہ بدون جہاد اور بدون ہجرت کے حاصل ہوجائے تو نہ جہاد کی ضرورت ہے اور نہ ہجرت کی اور قلیل سے تمام قلیل ہی ہوتے ہیں۔ اب آگے کثرت ثواب اور تثبیت ایمان جو کامل اطاعت و فرمانبرداری کا ثمرہ تھا اس پر جو اثرات مرتب ہونے والے ہیں ان کا اظہار فرماتے ہیں کامل اطاعت و فرمانبرداری سبب بنا کثرت ثواب اور تثبیت ایمان فی القلوب کا اور یہ دونوں چیزیں سبب نہیں دوسرے منافع کا چناچہ ان منافع کا آگے ذکر ہے ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 4:70

ذٰلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ عَلِیْمًا۠ Open ayah 4:70 in the Quran reader

یہ معیت ورفاقت اللہ تعالیٰ کی جانب سے بڑی بزرگی ہے اور اللہ تعالیٰ کا واقف ہونا کافی ہے۔3

ف 3 اور جب یہ ایسا کرتے تو اس وقت ہم آخرت میں اپنی خاص رحمت سے ان کو بہت بڑا اجر عطا کرتے اور یقینا ہم صحیح راستے پر ان کو چلاتے اور ان کو سیدھا راستہ بتا دیتے جو جنت اور جناب قدس تک پہنچتا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اور اللہ و رسول کا حکم مانے گا تو یہ لوگ جنت میں ان حضرات کے ہمراہ ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل اور کامل انعام فرمایا یہ حضرات انعم اللہ علیہم انبیاء ہیں اور صدیقین ہیں اور شہدا ہیں اور صلحاء یعنی نیک لوگ ہیں اور یہ حضرات مذکورہ جس کے رفیق ہوں تو بہت اچھے اور بڑے خوب رفیق ہیں، یہ ان حضرات کی معیت ورفاقت کا میسرآجانا اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک خاص فضل ہے اور اللہ تعالیٰ بندوں کے احوال کو جاننے والا اور خبر رکھنے والا کافی ہے۔ (تیسیر) اس امر کا خیال رکھنا چاہئے کہ ولانا کتبنا علیھم میں عام لوگ مراد لئے جائیں تو زیادہ مناسب ہے اگرچہ ہم نے دونوں باتوں کی رعایت رکھی ہے، ترجمہ میں علیہم کا ترجمہ منافق کیا ہے اور تیسیر میں لوگوں کیا ہے اور یہ ہم نے محض مفسرین کے دونوں اقوال کی رعایت سے کیا ہے اگر علیہم کا مرجع منافقین ہوں تب تو وہی شرح ہوگی جو حضرت شاہ صاحب نے فرمائی ہے اور الا قلیل منھم کا مطلب یہ ہوگا کہ ان میں سے بہت تھوڑے لوگ مسلمان ہو کر ان احکام کی پابندی کرتے اور اگر علیہم کا مرجع عام لوگ ہوں۔ جیسا کہ ہم نے تیسیر میں اختیار کیا ہے تو مطلب اس طرح ہوگا اگر ہم لوگوں پر اس قسم کے احکام فرض کردیتے تو سوائے چند مومنین کاملین کے اور کوئی ان میں سے ان احکام کی تعمیل نہ کرتا اس صورت میں یہ ایک درمیانی جملہ ہوگا۔ بہرحال ! ولوانھم کا مرجع بالاتفاق منافقین ہیں اور مطلب یہ ہے کہ اگر یہ منافقین ان باتوں کی پابندی کرتے جن کی ان کو نصیحت کی جا رہی ہے اور اس پر عمل کرتے عمل کی برکت سے ان کو بہتری اور تثبیت قلب میسر ہوجاتی جو کامل اطاعت کا ثمر ہ ہے تو ہم ان کو علاوہ ان کے اعمال کے خاص اپنے پاس سے اجر عظیم عطا فرماتے اور سیدھی راہ پر ان کو چلاتے اور جنت میں ان کو پہنچا دیتے اور جنت میں پہنچانے کے لئے ان کی رہنمائی کرتے۔ خلاصہ یہ کہ کامل اطاعت و فرمانبرداری کی برکت سے دنیا میں خیر و تثبیت حاصل ہوتی اور آخرت میں ان کو اپنے فضل خاص سے نوازا جاتا اور ان کو جنت میں داخل کیا جاتا۔ ان منافقین کی اصلاح کا طریقہ اور ان کے نفاق کا علاج بیان فرمانے کے بعد عام مسلمانوں کو عمل صالح اور اللہ و رسول کی اطاعت و فرمانبرداری کی ترغیب فرمائی اور یہ بتایا کہ اگر کسی کو کمال اطاعت میسر نہ بھی ہو لیکن احکام ضروریہ کی بجا آور ی میں کوتاہی نہ کرتا ہو اور لالہ و رسول کی اطاعت بجا لاتا ہو تو اس کو بھی اللہ تعالیٰ اپنے فضل خاص سے یہ مرتبہ عنایت فرمائیں گے کہ بڑے لوگوں کی اس کو مغیت ورفاقت میسر ہوجائے گی اور یہ بڑے لوگ جن پر اللہ تعالیٰ نے اپنا انعام کیا ہے، انبیاء اور صدیق اور شہداء اور صلحاء ہیں اور یہی وہ حضرات ہیں جن کو سورة فاتحہ میں صراط الذین انعمت علیھم فرمایا تھا اگرچہ صدیق اور صالح نبی سے عام ہے لیکن جب ابنیاء کا ذکر بھی آگیا تو معلوم ہوا صدیقین اور صالحین سے مراد غیر انبیاء ہیں یعنی نبی اور وہ لوگ جو نبی تو نہیں ہیں مگر صدیق ہیں شہد ہں یا صالح اور نیک فطرت لوگ ہیں ان کی معیت ورفاقت ان اہل طاعت کی میسر ہوگی جو ان سے کم درجے کے ہوں گے اور چونکہ ان کے اعمال ان لوگوں کے ہم پلہ نہ ہوں گے ورنہ یہ بھی ان چاروں قسموں میں سے کسی قسم میں داخل ہوجاتے۔ اس لئے فرمایا ذلک و الفضل من اللہ کہ اگرچہ ان کے اعمال انعم اللہ علیہم جیسے نہ ہوں گے تب بھی اللہ تعالیٰ ان کو اپنے فضل خاص اور اپنی مہربانی سے ان بزرگوں کی معیت ورفاقت نصیب کر دے گا اور یہ لوگ با اعتبار رفاقت و معیت بڑے اچھے لوگ ہیں۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں نبی وہ لوگ جن کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آوے یعنی فرشتہ ظاہر میں پیغام کہہ جاوے اور صدیق وہ کہ جو وحی میں آوے ان کا جی آپ ہی اس پر گواہی دے اور شہید وہ جن کو پیغمبر کے حکم پر ایسا صدق آیا کہ اس پر جان دیتے ہیں اور نیک بخت وہ جن کی طبیعت نیکی ہی پر پیدا ہوئی ہے تو جو لوگ ایسے نہیں لیکن حکم برداری میں لگ جاتے ہیں اللہ ان کو بھی ان کے ساتھ گنے گا۔ (موضح القرآن) ابن ابی حاتم نے مسروق سے مرسلاً روایت کی ہے کہ اصحاب رسول اللہ ﷺ نے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم کو آپ کی جدائی بن نہیں آتی لیکن جب آپ کی وفات ہوجائے گی تو آپ کسی اور مقام پر ہوں گے اور ہم کسی اور مقام پر ہوں گے تو جنت میں ہمارے اور آپ کے درمیان جدائی ہوجائے گی۔ سعید بن جبیر کی روایت میں ہے کہ ایک انصاری حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور وہ کچھ غمگین تھا حضور ﷺ نے اس سے دریافت فرمایا کہ تو غمگین کیوں ہے اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مجھے ایک ہی غم کھائے جاتا ہے یہاں ہم آپ کی خدمت میں آتے ہیں آپ کی صورت دیکھتے ہیں آپ کے پاس بیٹھتے ہیں آپ کل انبیاء (علیہم السلام) کے ہمراہ ہوں گے اور ہم آپ کے دیدار سے محروم ہوجائیں گے مجھ کو یہ غم مارے ڈالتا ہے۔ اسی قسم کے اور بہت سے واقعات ہیں جو کتب احادیث میں مفصلاً مذکور ہیں اسی میں ربیعہ بن کعب کا واقعہ ہے حضرت ثوبان کا واقعہ اور بات یہ ہے کہ ایسا کون سا مسلمان ہوگا جس کی یہ تمنا نہ ہوگی کہ اس کو ان لوگوں کی رفاقت میسر نہ ہو، لہٰذا بہ کثرت لوگوں نے اس قسم کی آرزو کا اظہار کیا ہوگا اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اس آیت کے نزول سے مسلمانوں میں ایک خاص قسم کی مسرت کا اظہار کیا گیا اسی سلسلے میں وہ مشوہر روایت بھی ہے جس کو ابن کثیر نے روایت کیا ہے کہ صحابہ کی ایک جماعت نے نبی کریم ﷺ سے دریافت کیا یا رسول اللہ ﷺ ایک شخص ایک قوم کو دوست رکھتا ہے مگر اس قوم کے مانند اس کے اعمال نہیں ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا المرمع من احب یعنی آدمی جس سے محبت کرتا ہے اسی کے ہمراہ ہوگا۔ آیت میں جس معیت کا اظہار کیا گیا ہے اس سے مراد ان درجات کا حصول نہیں ہے جو انعم اللہ علیہم کو حاصل ہوں گے ورنہ فاضل اور مفضول میں مساوات لازم آجائے گی بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بڑے لوگ اپنے مقامات سے اتر کر ان کے پاس آیا کریں گے اور جنت کے باغوں میں ان کے پاس بیٹھیں گے جیسا کہ ابن جریر نے نقل کیا ہے کہ اس آیت کو سن کر رسول خدا ﷺ نے فرمایا کہ اوپر والے اور بلند مرتبہ والے لوگ نیچے والوں کے پاس آیا کریں گے اور جنت میں اللہ تعالیٰ کے انعامات کا ذکر کیا کریں گے اور اس کی تعریف کریں گے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نیچے والوں کو ان کی خدمت میں حاضر ہونے ان کے پاس بیٹھنے اور ان کی زیارت سے مشرہونے کی اجازت ہو۔ (واللہ اعلم) بہرحال ! صورت وہاں جو کچھ بھی ہو جن لوگوں کو جدائی اور ترک رفاقت کا خطرہ تھا ان کا خطرہ اس آیت نے دور کردیا اور یہ بات معلوم ہوگئی کہ جو لوگ اللہ اور رسول کی پوری پوری اطاعت نہیں کرتے مگر اطاعت و فرماں برداری کی دھن میں لگے رہتے ہیں اور نیک بندوں سے محبت رکھتے ہیں وہ بھی نیک لوگوں کی رفاقت سے محروم نہ رہیں گے گو اس مرتبہ کے نہ ہوں۔ و کفی باللہ علیما کا یہ مطلب ہے کہ کون اطاعت و فرمانبرداری کرتا ہے اور کون کسی سے سچی اور واقعی محبت کرتا ہے اور کون کسی کے نقش قدم پر چلتا یا چلنے کی کوشش کرتا ہے اس بات کا جاننے والا اللہ تعالیٰ کافی اور بس ہے اس کو سب کی حالت کا علم ہے اور وہ با اعتبار علیم ہونے کے کافی ہے یہاں تک مختلف لوگوں کا اور مختلف اعمال کا بیان تھا۔ اب آگے اعمال کے سلسلے میں جہاد کا بیان ہوتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب علیما پر حاشیہ لکھتے ہیں آگے سے ذکر ہے جہاد کا (موضح القرآن) (تسہیل)
Ayah 4:71

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا خُذُوْا حِذْرَكُمْ فَانْفِرُوْا ثُبَاتٍ اَوِ انْفِرُوْا جَمِیْعًا Open ayah 4:71 in the Quran reader

ترجمہ :۔ اے ایمان والو اپنے بچائو کا سامان لے لو پھر جیسا موقع ہو خواہ چھوٹی چھوٹی ٹولیاں بن کر نکلو یا سب اکٹھے ہو کر نکلو۔1

ف 1 اے ایمان والو ! اپنے بچائو کا سامان لے لو اور جو احتیاطی تدابیر کرسکتے ہو وہ کرلو، پھر کافروں سے جنگ کرنے کی غرض سے خواہ چھوٹی ٹولیاں بنا کر اور چند آدمی مل مل کر نکلو یا سب اکٹھے اور مجتمع ہو کر نکلو یعنی جیسا موقع دیکھو اس کے مطابق نکلو (تیسیر) حذر اور حذر دونوں کے ایک ہی معنی ہیں جیسے اثر اور اثر حذر اس چیز کو کہتے ہیں جس سے دشمن کے مقابلہ میں اپنا بچائو کیا جائے وہ بچائو ہتھیاروں سے ہو یا ڈھال سے ہو یا اور کسی احتیاطی تدبیر سے ہو سب کو حذر کہا جاتا ہے۔ ثبۃ ایک چھوٹی سی جماعت کو کہتے ہیں جو دس آدمیوں کی یا دس سے زائد کی ہو بعض نے کہا جو جماعت دو سے اوپر ہو اس کو ثبۃ کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ چھوٹی چھوٹی جماعتیں بنا کر دشمن کا مقابلہ کرنے نکلو یا ایک جیش اور لشکر بنا کر کوچ کرو جیسا موقع دیکھو اور جس قسم کی لڑائی ہو اسی قسم کی لشکر میں ترتیب اختیار کرو۔ شاید یاد ہوگا ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ مدینہ منورہ میں کافر اور منافق اہل کتاب جس قسم کی شرارتیں کرتے تھے اور مسلمانوں کی ترقی میں جس طرح رکاوٹ پیدا کرتے تھے اسی قسم کے احکام ان کے مقابلہ کے لئے وقتاً فوقتاً نازل ہوتے تھے اور اس قسم کے جہاد و قتال کے احکام نازل ہونے سے منافقوں کی حقیقت کا خو پتہ چلتا تھا اور مسلمانوں کو اپنے اور بیگانے میں امتیاز ہوجاتا تھا اگرچہ روزمرہ کے معاملات میں بھی منافقوں کی کمزوریاں ظاہر ہوتی رہتی تھیں لیکن جہاد کے موقعہ پر ان کی حالت عجیب و غریب ہوتی تھی اور ان کو اپنا کفر و نفاق چھپانا مشکل ہوجاتا تھا اور نیز یہ کہ کچے اور خام مسلمانوں کا خال معلوم ہوجاتا تھا چناچہ آگے اسی قسم کے لوگوں کا حال مذکور ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی لڑائی میں اپنا بچائو کرنا زرہ کر یا سپر کر یا تدبیر کر یا ہنر کر منع نہیں۔ (موضح القرآن) ہم نے ابھی عرض کیا تھا کہ حذر کا مفہوم بہت عام ہے اس لئے حضرت شاہ صاحب نے سب صورتیں بیان فرما دیں اور احکام الٰہی کی ترتیب کا حسن ملاحظہ ہو کر پہلے بچائو کے سامان کا حکم دیا پھر جہاد کے لئے نکلنے کو فرمایا جو لوگ احتیاطی تدابیر اور سامان کی فراہمی سے بےنیازی برتتے ہیں ان کو غور کرنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح سامان حفاظت کو خروج پر مقدم فرمایا ہے۔ اب آگے بعض ان لوگوں کا حال ہے جو نکلنے میں توقف اور ٹال مٹول کرتے ہیں اور نتیجہ کا انتظار کرتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayah 4:72

وَ اِنَّ مِنْكُمْ لَمَنْ لَّیُبَطِّئَنَّ١ۚ فَاِنْ اَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةٌ قَالَ قَدْ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیَّ اِذْ لَمْ اَكُنْ مَّعَهُمْ شَهِیْدًا Open ayah 4:72 in the Quran reader

اور بیشک تم میں سے کوئی آدمی ایسا بھی ہے جو تاخیر کرتا ہے پھر اگر اتفاقاً تم کو کوئی مصیبت پیش آگئی تو یہ کہتا ہے کہ اللہ نے مجھ پر بڑا ہی فضل کیا کہ میں ان مجاہدین کے ہمراہ معرکہ میں موجود نہ تھا2

ف 2 اور بخدا تم میں سے کوئی شخص ایسا بھی ہے کہ جو جہاد میں شریک ہونے سے تاخیر کرتا ہے اور مجاہدین کے ہمراہ نکلنے میں ٹال مٹول کرتا ہے اور شریک نہیں ہوتا پھر اگر تم کو سوء اتفاق سے کوئی حادثہ پیش آگیا اور تم پر کوئی مصیبت آ پڑی تو یہ اپنی عدم شرکت پر خوش ہو کر کہتا ہے کہ واقعی اللہ تعالیٰ نے مجھ پر بڑا ہی فضل کہا کہ میں ان مجاہدین کے ہمراہ اس معرکہ کار زار میں موجود نہیں تھا ورنہ میں بھی اس پیش آمدہ مصیبت میں مبتلا ہوجاتا۔ (تیسیر) چونکہ یہ منافق مسلمانوں میں ملا جلا ہوتا ہے اس لئے منکم فرمایا ورنہ ظاہر ہے کہ منافق مسلمانوں میں سے نہیں ہے۔ یہاں منکم سے مسلمانوں اور منافقوں کا مجموعہ مراد ہے۔ لیبطئن کے لازمی اور متعدی دونوں معنی کئے ہیں یعنی خود سستی کرتا ہے اور جہاد میں شرکت سے بچتا اور دیر لگاتا ہے اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ دوسروں کو شرکت سے روکتا ہے بہرحال فتح و شکست تو جنگ کے ساتھ لازمی چیز ہے اس لئے اگر کبھی مسلمانوں کو شکست ہوگئی تب تو قد انعم اللہ علی اذلم اکن معھم شھیداً کہتا ہے اور اگر حسن اتفاق سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے مسلمانوں کو فتح ہوگئی تو اس وقت اس کے الفاظ کا بیان آگے آتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 4:73

وَ لَئِنْ اَصَابَكُمْ فَضْلٌ مِّنَ اللّٰهِ لَیَقُوْلَنَّ كَاَنْ لَّمْ تَكُنْۢ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهٗ مَوَدَّةٌ یّٰلَیْتَنِیْ كُنْتُ مَعَهُمْ فَاَفُوْزَ فَوْزًا عَظِیْمًا Open ayah 4:73 in the Quran reader

اور اگر اللہ کی طرف سے تم پر کوئی فضل ہوگیا تو اس طور پر جیسے تم میں اور اس میں کوئی دوستانہ تعلق ہی نہ تھا یوں کہتا ہے اے کاش میں بھی ان مجاہدین کے ہمراہ ہوتا تو میں بھی بڑی کامیابی حاصل کرتا ۔3

ف 3 اور اگر اے مسلمانو ! تم پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہوگیا اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے تم پر کوئی انعام ہوگیا یعنی فتح ہوگئی اور غنیمت مل گئی تو یہ خود غرض منافق اس طور پر کہ گویا تم میں اور اس میں کوئی دوستانہ تعلق ہی نہ تھا یوں کہتا ہے اے کاش ! یعنی کیا اچھا ہوتا کہ میں بھی ان مجاہدین کے ہمراہ ہوتا اور ان کے شریک حال رہتا تو مجھ کو بھی بڑی کامیابی حاصل ہوتی اور میں بھی بڑا کامیاب ہوتا۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ جب تم کو خدا کا فضل پہنچ جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ تم کو فتح و غنیمت عطا کرتا ہے تو یہی جہاد سے بیٹھ رہنے والا اور جہاد میں جانے سے تاخیر کرنے والا حسرت سے کہتا ہے اور کہتا بھی اس طور پر ہے کہ گویا تم میں اور سا میں بالکل کوئی تعلق ہی نہیں ہے اور کوئی دوستی ہی نہیں ہے۔ اے کاش ! میں بھی ان لوگوں کے ہمراہ ہوتا تو میں بھی بڑا کامیاب ہوتا۔ یعنی مجھے بھی خوب مال ملتا۔ غرض ! مسلمانوں سے کوئی واسطہ نہیں بجائے اس کے کہ مسلمانوں کی کامیابی پر خوش ہوتا اور اس خبر پر مسرت ہوتی اپنے مال نہ ملنے پر افسوس کرتا ہے اور اس سے بڑھ کر خود غرضی اور اجنبیت اور بیگانگت کیا ہوسکتی ہے۔ مودۃ تو منافقوں کے قلوب میں ہوتی ہی نہ تھی اس لئے محض تہکماً فرمایا یا یہ مطلب ہے کہ ظاہری طور پر جس مودت کا اظہار کیا کرتا تھا اس کا بھی اس موقعہ پر خیال نہیں کرتا اور ایسی باتیں کرتا ہے جیسے تم میں اور اس میں کوئی تعلق نہیں ہے بعض لوگوں نے کان لم تکن کو شھیدا کے متعلق کہا ہے۔ (واللہ اعلم) اس آیت میں شکست کو مصیبت فرمایا، یہ ظاہری اعتبار سے عام لوگوں کے خیال کے مطابق فرمایا ہے۔ ورنہ مسلمانوں کی شکست بھی اپنے دامن میں ہزارہا خوبیاں اور بھلائیاں رکھتی ہیں۔ حضر ت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی ایسا شخص منافق ہے کہ خدا کے حکم پر نہیں دوڑتا بلکہ نفع دینا تکتا ہے۔ اگر لوگوں کو اس کام میں تکلیف پہنچی تو اپنے الگ رہنے پر ریجھتا ہے اور اگر لوگوں کو فائدہ پہنچا تو پچتاتا ہے اور دشمنوں کی طرح حسد کرتا ہے۔ (موضح القرآن) حسد یہی کہ ہائے مسلمانوں کو مل گیا اور میں خالی ہاتھ رہ گیا اب آگے پھر جہاد کی ترغیب ہے۔ (تسہیل)
Ayah 4:74

فَلْیُقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یَشْرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَةِ١ؕ وَ مَنْ یُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیُقْتَلْ اَوْ یَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:74 in the Quran reader

اگر ایسے لوگ جہاد سے جان چرائیں تو ان مخلص مسلمانوں کو جو دنیا کی زندگی آخرت کے عوض فروخت کرچکے ہیں یہ چاہئے کہ وہ اللہ کی راہ میں جنگ کریں اور جو کوئی شخص بھی اللہ کی راہ میں جہاد کرے گا پھر خواہ وہ قتل ہوجائے یا غلبہ حاصل کرے بہرحال ہم اس کو اجر عظیم عطا فرمائیں گے۔4

ف 4 لہٰذا اگر اس قسم کے منافق اور تاخیر کرنے والے جہاد سے جان چراتے ہیں تو وہ مخلص مسلمان جنہوں نے دنیوی زندگی کے مقابلہ میں آخرت کو اختیار کر رکھا ہے اور دنیا کی زندگی کو آخرت کے عوض فروخت کئے بیٹھے ہیں ان کو چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کریں اور جو شخص اللہ کی راہ میں لڑے گا خواہ وہ قتل کردیا جائے یعنی مقلوب ہوجائے یا وہ غلبہ حاصل کرے اور غالب ہوجائے بہرحال ہم اس کو آخرت میں بہت بڑا اجر وثواب عطا فرمائیں گے۔ یشرون الحیوۃ الدنیا کا ترجمہ دو طرح کی اگیا ہے ایک یہ کہ دنیوی زندگی کو آخرت کے عوض فروخت کردیا ہے جیسا کہ ہم نے اختیار کیا ہے دوسرے یہ کہ جن لوگوں نے دنیوی زندگی کو آخرت کے مقابلے میں اختیار کر رکھا ہے ۔ اگر یہ معنی کئے جائیں تو آیت کے پہلے فقرے کا مطلب یہ ہوگا کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑیں جو دنیوی زندگی کو آخرت کے مقابلے میں اختیار کئے ہوئے ہیں یعنی کافروں سے جنگ کرد اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فلیقاتل کا فاعل وہی مذکور جان چرانے اولا شخص ہو اور اسی کو یہ حکم دیا گیا ہو کہ خلای باتیں بنانے سے کوئی فائدہ نہیں اگر یہ شخص واقعی فوز اور کامیابی کا خواہشمند ہے تو اس کو چاہئے کہ گھر سے نکل کر اللہ کی راہ میں کافروں اور منافقوں سے جنگ کرے پھر اللہ کی راہ میں جنگ کرتے کرتے مارا جائے گا یا غالب آجائے گا تو ہر طرح فائدہ ہی فائدہ اور اجر عظیم ملے گا اور آخرت میں بہت بڑے ثواب کا مستحق ہوگا خلاصہ یہ کہ اگر یہ شخص فوز عظیم کا خواہمشند ہے تو اس کو چاہئے اپنا قلب درست کرے اور گھر سے نکل کر میدان جہاد میں جائے اور کفار و منافقین کا مقابلہ کرے پھر دیکھے کہ اس کو فوز عظیم اور اجر عظیم کس قدر عطا ہوتا ہے۔ بہرحال ! مفسرین کے مختلف اقوال میں سے ہم نے ایک قول اختیار کرلیا ہے اور جو قول ہم نے اختیار کیا ہے۔ اس میں فلیقاتل کا فاعل الذین کو قرار دیا ہے اور یہی عام مفسرین کی رائے ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ الذین کو مفعول قرار دیا جائے اور فلیقاتل کا فاعل مخلص مسلمانوں کو قرار دیا جائے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فلیقاتل کا فاعل شخص مذکور کو قرار دیا ہے۔ (واللہ اعلم) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی مسلمانوں چاہئے زندگی دنیا پر نظر نہ رکھیں آخرت چاہیں اور سمجھیں کہ اللہ کے حکم میں ہر طرح نفع ہے۔ (موضح القرآن) اب آگے پھر اسی مضمون کو ذرا اور تفصیل کے ساتھ ذکر فرمایا ہے جہاد میں ایک مقصد تو ظاہر ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بات بلند ہوتی ہے اور اسلام کا اقتدار بڑھتا ہے یہاں ایک اور دوسری بات بھی فرمائی کہ جو کمزور مسلمان کافروں کے قبضے میں ہیں وہ بےچارے اپنی مدافعت نہیں کرسکتے ان کے لئے بھی کافروں سے لڑنا چاہئے تاکہ وہ مسلمان آزاد ہوجائیں اور اپنے مذہب پر آزادی کے ساتھ عمل کرسکیں چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 4:75

وَ مَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ الظَّالِمِ اَهْلُهَا١ۚ وَ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّا١ۙۚ وَّ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِیْرًاؕ Open ayah 4:75 in the Quran reader

اور اے مسلمانو ! آخر تم کو کیا عذر ہے کہ تم خدا کی راہ میں اور ان کمزور و بےبس لوگوں کی خاطر جنگ نہیں کرتے جن میں کچھ مرد ہیں اور کچھ عورتیں ہیں اور کچھ بچے ہیں یہ سب کے سب خد ا سے دعا کر رہے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ! ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں اور اپنی طرف سے ہمارے لئے کوئی حمایتی پیدا کر اور اپنی طرف سے ہمارے لئے کوئی مدد گار مقرر فرما ۔1

ف 1 اور اے مسلمانو ! آخر تم کو کیا عذر ہے کہ تم خدا کی راہ میں اعلاء کلمتہ اللہ کے لئے کمزور و بےبس مسلمانوں کی خاطر جہاد نہ کرو جن میں کچھ مرد ہیں اور کچھ عورتیں ہیں اور کچھ بچے ہیں اور وہ کفار کے مظالم سے تنگ آ کر یوں دعا کر رہے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو اس بستی سے کسی طرح نکال جس کے رہنے والے سخت ظالم ہیں اور ہمارے لئے اپنی طرف سے اور اپنے پاس سے کوئی حمایت سرپرست اور والی پیدا کر دے اور اپنی طرف سے اور اپنے پاس سے ہمارے لئے کوئی مددگار بھیج دے جو ان ظالموں کے مقابلے میں ہماری مدد کرے اور ہم کو پنجہ ستم سے رستگاری دلائے۔ (تیسیر) قریۃ سے مراد یہاں مکہ معظمہ ہے مستضعفین سے مراد وہ مسلمان ہیں جو ہجرت نہ کرسکے اور مکہ کے کافران پر طرح طرح کے مظالم کیا کرتے تھے، حضرت عبداللہ بن عباس فرمایا کرتے تھے کہ میں اور میری ماں ان مستضعفین میں شامل ہیں احادیث میں اور بھی بعض لوگوں کے نام آتے ہیں۔ بہرحال جہاد کا ایک سبب یعنی اعلاء کلمتہ اللہ تو موجود ہی ہے جب تک اقتدار مسلمانوں کے ہاتھ میں نہ آئے گا اللہ تعالیٰ کا دین بلند نہیں ہوگا پھر اس پر سے ایک سبب اور بھی ہوگیا کہ بعض مظلوم مسلمان مکہ میں قید ہیں اور وہ موجود ہیں اور قوی داعی تمہارے سامنے ہے پھر تمہارے پاس کیا عذر ہے کہ تم اس کی بنا پر جہاد نہ کرو آیت سے معلوم ہوا کہ اگر مسلمان کفار کی قید میں ہوں تو ان کو کافروں کی قید سے رہا کرانا چاہئے اور حسب استطاعت اس کام میں کوشش کرنی چاہئے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی دو واسطے لڑائی تم کو ضرور ہے ایک تو اللہ کا دین بلند کرنے کو دوسرے مظلوم مسلمان جو کافروں کے ہاتھ میں بےبس پڑے ہیں ان کی خلاصی کرنے کو شہر مکہ میں ایسے لوگ بہت تھے کہ حضرت کے ساتھ ہجرت نہ کرسکے اور ان کے اقرباء ان پر ظلم کرنے لگے کہ مسلمان سے پھر کافر کریں۔ (موضح القرآن) غرض ! آیت وتحریض ہے مسلمانوں کو جہاد پر چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لئے سامان نجات پیدا کردیا کچھ تو فتح مکہ سے پہلے نکل آئے پھر مکہ فتح ہوگیا اور عتاب بن اسید کو نبی کریم ﷺ نے مکہ کا والی مقرر کیا اور انہوں نے اپنی ولایت کے دور میں مسلمانوں کی خوب خدمت کی آیت میں ولی اور نصیر سے مراد ہوسکتا ہے کہ نبی کریم ﷺ مراد ہوں یا ولی سے مراد حضور ﷺ ہوں اور صنیر سے مراد عتاب بن اسید ہوں یا دونوں سے مراد عتاب بن اسید ہی ہوں۔ بہرحال ! پہلا قول راجح ہے وہ مستضعفین تو اللہ تعالیٰ سے والی اور نصیر طلب کر رہے تھے ان کی دعا قبول ہوئی اور مکہ کے قیدیوں نے رہائی پائی۔ (واللہ اعلم) یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ اعلاء کلمتہ اللہ تو جہاد کا ایک مستقل سبب ہے اور اس سبب کو بعض دوسرے اسباب سے مزید قوت پہونچ جاتی ہے جیسے دشمنوں کا غلبہ یا کفار کا ہجوم یا شعائر اللہ کی بےحرمتی یا مسلمانوں پر ظلم وغیرہ تفصیل کتب فقہ میں ملاحظہ کیجیے یا مقامی علماء کرام سے دریافت کیجیے آگے پھر تحریض اور مسلمانوں اور کافروں کی جنگ کا فرق بیان فرماتا ہے جس سے جہاد کا فلسفہ اور اسلام جنگ کی حکمت بھی معلوم ہوجاتی ہے۔ چناچہ ارشاد ہتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 4:76

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ الطَّاغُوْتِ فَقَاتِلُوْۤا اَوْلِیَآءَ الشَّیْطٰنِ١ۚ اِنَّ كَیْدَ الشَّیْطٰنِ كَانَ ضَعِیْفًا۠ Open ayah 4:76 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور جنہوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا ہے وہ شیطان کی راہ میں لڑتے ہیں سوائے خدا کے دوستو تم شیطان کے حمایتیوں سے جہاد کرو یقین رکھو کہ شیطان کا دائو اوچھا ہوتا ہے2

ف 2 جو لوگ اہل ایمان ہیں اور ایمان لا چکے ہیں اور کامل مئومن ہیں وہ تو اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں یعنی ان کی جنگ کا مقصد اللہ کے دین کو بلند کرنا ہوتاے کیونکہ دنیا کا امن اللہ تعالیٰ ہی کے قانون سے ہوسکتا ہے اور جو لوگ اہل کفر ہیں اور کفر کی روش اختیار کئے ہوئے ہیں وہ شیطان کی راہ میں لڑتے ہیں یعنی ان کا مقصد کفر کا غلبہ ہوتا ہے۔ لہٰذا اے مسلمانو ! تم شیطان کے دوستوں اور شیطان کے حمایتیوں سے جہاد کرو اور سا بات کو یقین رکھو کہ شیطان کی تدبیر کمزور اور سا کا دائو اوچھا اور بودا ہوتا ہے۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ ایک طرف کامل اہل ایمان ہیں جن کا مقصد یہ ہے کہ دنیا میں خدا کا قانون رائج ہو۔ اور اللہ تعالیٰ کا حکم بلند ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کا مالک ہے اور اس کی قانون میں اتنی لچک اور رعایت ہے کہ تمام مخلوق کے ساتھ انصاف کیا جائے اور جب انصاف کی حکومت ہوگی تو امن قائم رہے گا دنیا کے امن کے لئے یہ ضروری ہے کہ دنیا میں وہ قانون رائج ہو جو خدا کا قانون ہے لہٰذا کامل مومن جب جنگ کرتا ہے تو اس کے سامنے یہی ایک مقصد ہوتا ہے لیکن اس کے مقابلے میں کفار کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ کفر کی ترویج ہو اور کفر کا غلبہ ہو اور طاغوتی قوتیں برسر اقتدار آئیں تاکہ دنیا میں کفر و شرک خوب چمکے اور چونکہ کفر و شرک شیطان کی راہیں ہیں اس لئے کافر شیطان کے کام اس کی مدد کرتے ہیں۔ لہٰذا اے مسلمانو ! تم کو حکم دیا جاتا ہے کہ تم شیطان کے دوستوں اور مددگاروں سے جنگ کرو تاکہ دنیا میں شیطانی طاقت پنپنے نہ پائے اور اگر تم کو یہ خوف ہو کہ جب ہم کافروں سے لڑیں تو چونکہ وہ شیطان کے حمایتی ہیں اس لئے شیطان ان کو لڑنے کے دائوں گھات بتائے گا اور ان کو مختلف تدبیریں سکھائے گا اور … ان کو ایسے دائو پیچ بتائے گا جن کی وجہ سے ہم ان کے حمایتوں کو شکست نہ دے سکیں گے تو اسے مسلمانو ! اس قسم کا اندیشہ نہ کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ تم کو یقین دلاتا ہے کہ شیطان کی تدبیر ضعیف اور کمزور ہے اور اس کا دائو اچھا دائو ہے، پھر یہ کہ تمہارے ساتھ میری اعانت اور سری نصرت ہے لہٰذا تم کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ۔ قرآن کریم میں نصرت کا وعدہ بہت جگہ مذکور ہے اور ہم اوپر بتا بھی چکے ہیں کہ کامل مومن کے ایمان کا مقتضایہی ہے کہ اس کی مدد ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے مخلصین کو معاندین پر غلبہ دیتا ہے لیکن کبھی کسی مانع کی وجہ سے ایسا نہیں ہوتا اور وہ مقتضا پورا نہیں ہوتا خواہ وہ مانع حضرت حق کی جانب سے کوئی ابتلا اور امتحان ہو یا وہ مانع حضرت حق کی اطاعت میں کوتاہی ہو یا کوئی اور ایسی غلطی ہو جس کا علم ہم کو نہ ہو یا حق تعالیٰ کی کوئی اور مصلحت ہو (واللہ تعالیٰ اعلم) اب آگے پھر جہاد کی ترغیب ہے اور ایک نئے عنوان سے ہے جس میں دنیا کی بےثباتی اور موت کا لزوم وغیرہ بھی مذکور ہے اور مسلمانوں کی شکایت بھی ہے اگرچہ شکایت بھی تلطف آمیز ہے کیونکہ وہ لوگ بہرحال مہاجر مسلمان ہیں لیکن طبعاً ایسا ہوتا ہے کہ مصائب کے وقت طبیعت کا اقتضا اور ہوتا ہے اور اطمینان و راحت کے وقت طبیعت کا اقتضا دوسرا ہوتا ہے، بات یہ ہے کہ مکہ معظمہ میں جب کفار مسلمانوں کو ستاتے تھے اور طرح طرح سے فرائض اسلامی کے بجا لانے میں رکاوٹ ڈالتے تھے تو مسلمانوں کو جوش آتا تھا اور وہ نبی کریم ﷺ سے قتال اور جہاد کی اجازت مانگتے تھے لیکن اس وقت مسلمانوں کی ایسی حالت نہ تھی کہ ان کو جہاد کا حکم دیا جاتا اور جب مسلمان ہجرت کر کے مدینہ منورہ آگئے اور یہاں آزاد آب و ہوا میں سانس لینے کا موقعہ میسر آیا اور اطمینان نصیب ہوا تو طبیعت کا وہ جوش کم پڑگیا لیکن مدینہ میں آزاد حکومت کے قیام کی وجہ سے جہاد کی شرائط مستحق ہوگئیں اور اشاعت دین اور اعلاء کلمتہ اللہ اور مکہ کے قیدیوں کی رہائی اور کفار عرب کی بےجا مزاحمت اور اہل کتاب کی ساز باز۔ ان تمام امور کے پیش نظر جہاد کی فرضیت کا اعلان کیا گیا اور جہاد فرض کیا گیا تو وہی مسلمان جو مکہ میں جہاد کا تقاضا کیا کرتے تھے اس حکم کو سن کر سرد مہری دکھانے اور پس و پیش کرنے لگے اور بعض کو یہ خیال ہوا کہ ذرا ہم اور مضبوط ہوجاتے اس وقت یہ حکم ہوتا تو ہم اس کو اچھی طرح انجام دیتے آگے کی ان آیتوں میں اسی قسم کا تذکرہ ہے اور اسی واقعہ کی جانب اشارہ سے کچے لوگوں کو تنبیہ بھی ہے ولاسا اور تسلی بھی ہے جو کچھ انہوں نے کہا تھا اس کا جواب بھی ہے چناچہ ارشاد ہتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 4:77

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ قِیْلَ لَهُمْ كُفُّوْۤا اَیْدِیَكُمْ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ۚ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقِتَالُ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ یَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْیَةِ اللّٰهِ اَوْ اَشَدَّ خَشْیَةً١ۚ وَ قَالُوْا رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَیْنَا الْقِتَالَ١ۚ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ؕ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیْلٌ١ۚ وَ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّمَنِ اتَّقٰى١۫ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 4:77 in the Quran reader

اے مخاطب کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ تم ابھی اپنے ہاتھوں کو روکے رہو اور نماز کی پابندی رکھو اور زکوۃ ادا کرتے رہو پھر جب ان جہاد کا تقاضا کرنیوالوں پر جہاد فرض کیا گیا تو یکایک انہی میں سے کچھ لوگ کافروں سے ایسا ڈرنے لگے جیسے کوئی خدا سے ڈرتا ہو یا خدا کے ڈر سے بھی زیادہ اور یہ ڈرپوک لوگ یوں کہنے لگے اے ہمارے پروردگار تو نے ابھی ہم پر کیوں جہاد فرض کردیا اور تھوڑی مدت کے لئے تو نے ہم کو مہلت کیوں نہ دے دی آپ کہہ دیجیے دنیا کا فائدہ بہت تھوڑا ہے اور آخرت اس شخص کے لئے ہر طرح بہتر ہے جو خدا سے ڈرے اور ایک تاگے کے برابر بھی تمہاری حق تلفی نہیں کی جائیگی۔3

ف 3 اے مخاطب ! کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو یہ حکم دیا گیا کہ تم ابھی اپنے ہاتھوں کو روکے رہو یعنی جو لوگ مکہ میں جہاد کا تقاضا کر رہے تھے اور جہاد کی اجازت مانگ رہے تھے ان سے کہا گیا کہ ابھی گیا اور مدینہ میں ان کو قتال کا حکم دیا گیا تو ان کی یہ حلات ہوئی کہ اسی وقت ان میں سے کچھ لوگ کافروں اور دین حق کے مخالف لوگوں سے ایسا ڈرنے لگے جیسے کوئی خدا سے ڈرتا ہو یا خدا کے ڈر سے بھی زیادہ ڈرنا اور یہ ڈرنے والے لوگ یوں کہنے لگے۔ اے ہمارے پروردگار ! تو نے ابھی ہم پر جہاد کیوں فرض کردیا اور تھوڑی مدت تک کے لئے تو نے ہم کو اور مہلت کیوں نہ دے دی۔ اے پیغمبر ! آپ ان لوگوں سے کہہ دیجیے کہ دنیا کا فائدہ اور یہاں کا تمتع بہت تھوڑا اور محض چند روزہ ہے اور آخرت ہر اعتبار سے اس شخص کے لئے بہتر ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا اور اس کی عدول حکمی سے بچتا ہے اور یہ یاد رکھو کہ ایک دھاگے کے برابر بھی تمہاری حق تلفی نہ کی جائے گی۔ (تیسیر) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں جب تک مسلمان مکہ میں تھے اور کافر ایذ دیتے تھے اللہ تعالیٰ ان کو لڑنے سے تھامتا تھا اور صبر کا ذکر فرماتا تھا جب حکم لڑائی کا آیا تو سمجھے کہ ہماری مراد ملی لیکن بعضے کچے مسلمان کنارہ کرتے ہیں اور موت سے ڈرتے ہیں اور لالہ کے برابر آدمیوں سے خطرہ کرتے ہیں۔ (موضح القرآن) حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف اور ا ن کے ساتھی حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں ں نے عرض کیا یا رسول ﷺ جب ہم مشرک تھے تو اپنی قوم میں ہماری بڑی عزت تھی اب مسلمان ہونے کے بعد لوگ ہم کو ذلیل کرتے ہیں۔ حضور ﷺ نے جواب دیا مجھ کو اللہ تعالیٰ نے در گزر کرنے کا حکم دیا ہے تم لوگ اپنے مخالفوں سے قتال نہ کرو پھر جب اللہ تعالیٰ حضور کو مدینے میں لے آیا اور جہاد فرض ہوا تو یہی لوگ جہاد سے بچنے لگے۔ (ابن ابی حاتم نسائی) سدی نے کہا مکہ میں صرف نماز اور زکوۃ فرض تھی مگر لوگ اللہ سے قتال مانگتے تھے جب قتال فرض ہوا تو ایک فریق لوگوں سے ڈرنے لگا بہرحال ! آیت کا مطلب یہ ہے کہ مکہ میں مسلمان ناتواں تھے ان کو صرف نماز کا اور جو مالدار ہوں ان کو نماز کے ساتھ زکوۃ ادا کرنے کا حکم تھا کہ اس وقت یہ چاہتے تھے کہ جہاد کا بھی حکم ہوجائے چناچہ حضور ﷺ سے جہاد کا تقاضا کرتے تھے اللہ تعالیٰ کا حکم تھا کہ ابھی کسی نے لڑائی جھگڑا نہ کرو اور کسی پر مدافعانہ یا جارحانہ ہاتھ نہ اٹھائو۔ پھر جب مدینہ میں جہاد فرض ہوا تو ان پر دہشت طاری ہوگئی اور طبعاً کافروں سے ڈرنے لگے جو حققیتاً موت کا ڈر تھا کیونکہ کافروں کے مقابلے کرنے سے ڈرنا موت کے ڈر کو مستلزم ہے جیسا کہ ان کے قول لو لا اخرتنا الی اجل قریب سے مفہوم ہوتا ہے اور اسی بنا پر جواب میں وہی پہلو اختیار کیا گیا اور موت کے آنے کو زیادہ واضح فرمایا اور جیسا کہ ہم نے ربط کی تقریر میں عرض کیا تھا کہ یہ تنبیہہ اور شکایت لطف آمیز ہے کیونکہ یہ لوگ مہاجر اور مخلص مسلمان تھے اور انہوں نے جہاد کے حکم پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا بلکہ ایک تمنا تھی کہ چندے اور مہلت مل جاتی تاکہ ہم زیادہ منظم اور مضبوط ہو کر اپنے مخالفوں کا مقابلہ کرتے پھر اس تمنا میں بھی دو احتمال ہیں کہ صرف دل میں کہا یا زبان سے کہا اگر دل میں اس قسم کا وسوسہ آیا تب تو کوئی مواخذہ ہی نہیں اور اگر زبان سے ہی تمنا کی تب بھی یہ تمنا مضبوط اور منظم ہونے کی غرض سے تھی کوئی معترضانہ نہ تھی اس لئے معصیت نہ تھی اور صرف معمولی سی تنبیہہ یا شکایت کا انداز اختیار کیا گیا اور یہ جو فرمایا کہ مخالف لوگوں سے ڈرنے لگے جیسی خدا سے ڈرتے ہیں یا اس سے بھی زیادہ تو یہ ڈرنا طبعاً تھا اور مجازاً ایسا فرمایا گیا اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ سے جس طرح بندہ ڈرتا ہے اسی طرح اس کی رحمت اور فضل کا بھی امیدوار ہوتا ہے اس لئے اس کا خوف رحمت آلود ہوتا ہے اور کافروں کے خوف میں صرف ایک ہی جہ ت ہوتی ہے وہاں رحم کا کوئی سوال اور خیال نہیں ہوتا اس لئے اس کو مجازاً اشد فرمایا۔ اور یہ مطلب نہیں ہے کہ جب طبعاً کسی شخص کے قلب پر غیر اللہ کے خوف کا غلبہ ہوتا ہے تو اس وقت خدا کا خوف دل میں نہیں رہتا یا خدا کے خوف سے دل یکسر خالی ہوجاتا ہے یا خدا کے خوف سے بندہ بےنیاز ہوجاتا ہے کیونکہ خدا کے خوف سے بےپروا ہوجاتا تو کفر ہے اور یہی وہ فرق ہے جس کو خوارج نے نہیں سمجھا اور کبیرہ کے ارتکاب پر کفر کا حکم جاری کردیا۔ بعض مفسرین نے اواشد خشیۃ کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ بعض تو کافروں سے ایسا ڈرنے لگے جیسے کوئی خدا سے ڈرتا ہے اور بعض خدا کے ڈرنے سے بھی زیادہ ڈرنے لگے اور یہ مطل ببھی ہوسکتا ہے کہ ان کے ڈرنے کو ایسا ڈرنا سمجھو جیسے خدا سے ڈرنا تو بھی صحیح ہے اور خدا کے ڈر سے بھی اگر زیادہ کہو تو بھی صحیح ہے۔ بہرحال ہم نے ابھی عرض کیا تھا کہاد و قتال میں ڈرنے کی وجہ اصل موت سے ڈرنا ہے اور موت سے ڈرنا چونکہ دنیا کے لگائو اور دنیا کی محبت سے ہوتا ہے اس لئے دنیا کی بےثباتی اور پرہیز گاروں کے لئے آخرت کی بھلائی اور بہتری کا ذکر فرمایا اور آخر میں ظلم کی نفی فرمائی جس کا مطلب یہ ہے کہ اجر میں کمی نہ کی جائے گی اور سزا میں زیادتی نہ ہوگی۔ لہٰذا جس قدر ہو سکے نیکیاں بڑھائو اور جہاد کر کے اجر حاصل کرو اور گناہ گھٹائو اور احکام الٰہی کے بجا لانے میں سستی اور کمزوری نہ کرو۔ آگے موت کی ہمہ گیری کا ذکر ہے اور اسی سلسلے میں بعض منافقین کے اعتراضات کا جواب ہے۔ چناچہ ارشاد ہتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 4:78

اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَ لَوْ كُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَیَّدَةٍ١ؕ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ یَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِكَ١ؕ قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ فَمَالِ هٰۤؤُلَآءِ الْقَوْمِ لَا یَكَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ حَدِیْثًا Open ayah 4:78 in the Quran reader

رہی موت تو جہاں کہیں بھی تم ہو گے تم کو موت وہیں آ لیگی خواہ تم چونے کے پختہ قلعوں ہی میں محفوظ ہو اور اگر ان منافقوں کو بھلائی کی کوئی بات پیش آئے تو کہتے ہیں یہ بھلائی اللہ کی جانب سے ہے اور اگر ان کو کوئی تکلیف پہونچ جاتی ہے تو کہتے ہیں یہ تکلیف تیری بدولت پہونچی ہے آپ کہدیجیے یہ سب باتیں اللہ ہی کی جانب سے ہوا کرتی ہیں آخر ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ بات سمجھنے کے قریب ہو کر بھی نہیں نکلتے1

ف 1 رہا موت کا معاملہ تو موت کی تو یہ حالت ہے کہ تم جہاں کہیں بھی ہو گے موت تم کو وہیں آلے گی خواہ تم چونے کے پختہ سے پختہ قلعوں ہی میں محفوظ کیوں نہ ہو اور ان منافقوں کی حالت یہ ہے کہ اگر ان کو کوئی بھلائی اور اچھی بات پیش آجاتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ منجانب اللہ ہے اور اللہ کی طرف سے اتفاقاً پیش آگئی ہے اور اگر ان کو کوئی برائی اور بری حالت پیش آجاتی ہے تو اے پیغمبر ! ﷺ یہ یوں کہتے ہیں کہ یہ برائی تیری بدولت ہے اور تیری بےتدبڑری کا نتیجہ ہے آپ ان سے فرما دیجیے یہ سب باتیں اللہ ہی کی جانب سے ہیں آں خر ان لوگوں کو کیا ہوگیا کہ یہ بات سمجھنے کے قریب ہو کر بھی نہیں نکلتے۔ (تیسیر) بروج مشیدہ، سنگین، پختہ، بلند، ریختے کی چنائی سے تعمیر کئے ہوئے قلعے، تشیید چونے اور قلعے کو ملا کر کسی عمارت کی تعمیر کرنا حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یہ منافقوں کا ذکر ہے کہ اگر تدبیر جنگ درست آئی اور فتح و غنیمت ملی تو کہتے ہیں اللہ کی طرف سے ہوئی یعنی اتفاقاً بن گئی۔ حضرت کی تدبیر کے قائل نہ ہوتے تھے اور اگر بگڑ گئی تو الزام رکھتے حضرت کی تدبیر کا اللہ صاحب نے فرمایا کہ سب اللہ کی طرف سے ہے یعنی پیغمبر کی تدبیر اللہ کا الہام ہے غلط نہیں اور بگڑی کو بگڑا نہ بوجھو یہ اللہ تم کو سدھاتا ہے تمہاری تقصیر پر اگلی آیت میں کھول کر فرما دیا۔ (موضح القرآن) مطلب یہ ہے کہ ان مسلمانوں کا ذکر بیچ میں ایک خاص مناسبت سے آگیا تھا جنہوں نے جہاد کا حکم سن کر تاخیر کی تمنا کی تھی ان کو سمجھا دیا گیا کہ تاخیر کی تمنا بےکار ہے۔ جہاد اور قتال کو موت میں کوئی دخل نہیں۔ موت تو بہرحال تم کہیں بھی ہو آ کر رہے گی اگر تم کسی مضبوط عمارت میں بھی پناہ گزیں ہو جائو تو وہاں بھی موت آئے گی۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف اور ان کے ساتھیوں کو یہ جواب دینے اور ان کو سمجھانے کے بعد پھر اصل مضمون کو شروع فرماتے ہیں کیونکہ اوپر کی آیتوں میں منافقین کی سستی اور تاخیر کا ذکر تھا اور وہ چونکہ جہاد کو موت میں دخیل مانتے تھے جیسا کہ چوتھے پارے میں ان کے اقوال گذر چکے ہیں۔ مثلاً لوکانوا عندنا ماما توا وما قتلوا یالواطاعونا ماقتلوا وغیرہ اس لئے ان کا جواب دیتے ہیں چونکہ بعض مفسرین نے الم تالی الذین قیل لھم کی پوری آیت کو منافقین سے متعلق کیا ہے لیکن وہ قول مرحوم تھا اس لئے ہم نے اس کو چھوڑ دیا اور پہلا قول جو راجح تھا اس کو اختیار کرلیا حضرت شاہ صاحب نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے اور اسی قول کی بنا پر ہم نے یہ تقریر کی ہے خلاصہ یہ کہ وان تصبھم حسنۃ سے منافقین کے اعتراض کا جواب ہے یعنی اگر ان کو کوئی حسنہ پیش آجائے، مثلاً فتح ہوجائے اور غنیمت مل جائے تو کہتے ہیں یہ اللہ کی جانب سے ہے اور اس کہنے کا مطلب بھی یہ ہوتا ہے کہ یہ فتح اتفاقاً حاصل ہوگئی کیونکہ اللہ تعالیٰ پر تو ان کو اعتقاد ہی نہیں محض ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ پیغمبر کی اور مسلمانوں کی تو بےتدبیری اور غلطی میں شک نہیں مگر اتفاقیہ فتح ہوگئی اور ان کو اگر کوئی بری حالت پیش آجاتی ہے یعنی شکست اور ہزیمت ہوجاتی ہے تو الزام آپ پر رکھ دیتے ہیں کہ یہ آپ کی اور آپ کے ساتھیوں کی بےتدبیری اور غلط رائے کے نتائج ہیں چناچہ اس اعتراض کا جواب بتایا نبی کریم ﷺ کو کہ آپ کہہ دیجیے نعمت اور بلا راحت اور مصیبت فتح اور شکست سب اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے اگرچہ ایک کا مبنی اس کا فضل و کرم ہے اور دوسرے کا مبنی ہماری کوتاہی اور غلطی ہے جیسا کہ ابھی آگے آتا ہے اتنی سیدھی اور صاف بات کے نہ سمجھنے پر آخر میں اظہار تعجب کیا گیا ہے کہ اس قوم کو کیا ہوگیا ہے کہ بات کا سمجھنا تو کیسا سمجھنے کے قریب بھی نہیں پھٹکتے یعنی انتہائی ناسمجھ ہیں۔ بعض حضرات نے حسنۃ اور سیئۃ کی تفسیر کو عام رکھا ہے یعنی بھلائی کا یہ مطلب کہ بارش اچھی ہوگئی۔ باغ میں پھل خوب آئے کھیتی خوب ہوئی تو کہہ دیا یہ اتفاقی بات ہے اور اگر کبھی قحط ہوگیا کوئی وبا آگئی تو کہہ دیا اے پیغمبر یہ تیری نحوست کا اثر ہے اور یہ بالکل وہی اعتراض ہے جو موسیٰ کی قوم کیا کرتی تھی۔ فاذا جاء تھم الحسنۃ قالوالنا ھذہ وان تصبھم سئۃ یطیروا بموسی ومن معہ ۔ بعض حضرات نے اس آیت کو غزوئہ احد کا تتمہ سمجھ کر تفسیر کی ہے۔ (واللہ اعلم) اب آگے ان آخری فقروں کی مزید تفصیل ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)