4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 4:91

سَتَجِدُوْنَ اٰخَرِیْنَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّاْمَنُوْكُمْ وَ یَاْمَنُوْا قَوْمَهُمْ١ؕ كُلَّمَا رُدُّوْۤا اِلَى الْفِتْنَةِ اُرْكِسُوْا فِیْهَا١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَعْتَزِلُوْكُمْ وَ یُلْقُوْۤا اِلَیْكُمُ السَّلَمَ وَ یَكُفُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فَخُذُوْهُمْ وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ١ؕ وَ اُولٰٓئِكُمْ جَعَلْنَا لَكُمْ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:91 in the Quran reader

ان کے علاوہ تم کچھ ایسے لوگوں کو بھی پائو گے جن کا مقصد یہ ہے کہ تم سے بھی بےخوف رہیں اور اپنی قوم سے بھی امن میں رہیں مگر ان کی حالت یہ ہے کہ جب کبھی ان کو کسی شرارت کی طرف بلایا جاتا ہے تو اس میں جا گرتے ہیں لہٰذا اس قسم کے لوگ اگر تم سے کنارہ کشی اختیار نہ کریں اور تم سے مصالحانہ رویہ نہ رکھیں اور اپنے ہاتھ نہ روکیں تو ایسے عہد شکنوں کو تم جہاں کہیں پائو گرفتار کرو اور ان کو قتل کرو اور اس گروہ کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے ہم نے تم کو کھلی سند مہیا کردی ہے۔2

ف 2 ان مذکورہ لوگوں کے علاوہ تم کچھ ایسے لوگوں کو ضرور پائو گے اور تم کو ایسے لوگ بھی ملیں گے جو یہ چاہتے ہیں کہ تم سے بھی بےخوف و خطر رہیں اور اپنی قوم سے بھی مامون و محفوظ رہیں مگر اسی کے ساتھ ان کی حالت اور ان کی صفت یہ ہے کہ جب کبھی ان کو مسلمانوں کے مخالفوں اور دشمنوں کی طرف سے کسی شرارت اور فتنہ انگیزی کی دعوت دی جاتی ہے اور ان کو مسلمانوں کے خلاف ابھارا اور متوجہ کیا جاتا ہے تو وہ فوراً بلاتامل اس میں جاگرتے ہیں اور اس شرارت و فتنہ انگیزی میں شریک ہوجاتے ہیں ۔ یعنی مسلمانوں سے جنگ کرنے کو آمادہ ہوجاتے ہیں لہٰذا اس قسم کے عہد شکن لوگ اگر تم سے کی سو نہ ہوں اور تمہارے ساتھ جنگ کرنے سے کنارہ کش نہ ہوں اور نہ تم سے مصالحانہ رویہ رکھیں اور نہ تمہارے قتل سے اپنے ہاتھوں کو روکیں تو اس پر تم بھی ان دھوکہ باز اور عہد شکنوں کو جہاں کہیں پائو گرفتار کرو اور قتل کرو اور یہی وہ لوگ ہیں جن کے خلاف کاررو وائی کرنے کے لئے ہم نے تم کو کھلی سند اور صاف وصریح حجت مہیا کردی ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی بعضے ہیں کہ عہد بھی کر جاتے ہیں نہ تم سے لڑیں نہ اپنی قوم سے لیکن قائم نہیں رہتے جب اپنی قوم کو غلبہ ہوتا دیکھتے ہیں ان کے رفیق ہوجاتے ہیں تو ان سے تم بھی قصور مت کرو تمہارے ہاتھ سند لگی کہ وہ عہد پر قائم نہ رہے۔ (موضح القرآن) رکوع کے آخری حصے میں ایک تیسرے فریق کی حالت سے اطلاع دی گئی ہے کہ یہ لوگ تم سے اور اپنی قوم سے مامون رہنے کی غرض سے یہ ترکیب کرتے ہیں کہ تم سے معاہدہ کرلیتے کہ نہ ہم آپ سے جنگ کریں گے اور نہ آپ کے ساتھ مل کر اپنی قوم سے جنگ کریں گے لیکن ان کی حالت یہ ہے کہ جب ان کو کوئی تمہارا دشمن تمہارے خلاف ابھارتا ہے اور ان کو غلبہ کی توقع ہوتی ہے تو یہ اس ابھارنے میں آجاتے ہیں اور اپنے تمام عہد و مواثیق کو بالائے طاق رکھ کر جنگ میں کود پڑتے ہیں اور فتنہ میں جا گرتے ہیں تو اگر یہ لوگ ایسی حرکت کریں اور صلح اور عہد کا پاس نہ کریں اور جو ا کو کرنا چاہئے یعنی اعتزال، عدم قتال اور عہد کا خیال وہ نہ کریں تو پھر یہ اسی سزا کے مستحق ہیں جو حربی کفار کے لئے بیان کی جا چکی ہے اور ان پر تو اب عہد شکنی اور وعدہ خلافی کی حجت بھی قائم ہوچکی آخری آیتں میں جو تقابل ہے وہ بھی عجیب و غریب ہے پہلی آیت میں ہے۔ فان اعتزلو کہ۔ دوسری میں ہے فان لم یعتزلوکم پہلی آیت میں ہے فلم یقاتلوکم دوسری میں لم یکفوا ایدیھم پہلی آیت میں ہے القوالیکم السلام دوسری میں ہے لم یلقوا الیکم السلم پہلی آیت میں فما جعل اللہ دوسری میں ہے اولئکم جعلنا لکم۔ سبحان اللہ العلیم الحکیم۔ بہرحال یہاں تک تین فرقوں کا ذکر فرمایا ہے۔ -1 وہ کافر جو ہجرت نہ کریں یا دارا الاسلام سے نکل کر دارالحرب میں چلے جائیں۔ -2 جو بلا واسطہ یا بالواسطہ معاہدہ کرلیں اور جنگ نہ کرنے پر مسلمانوں سے صلح کرلیں۔ -3 جو دفع الوقتی کی غرض سے صلح کرلیں اور جب مسلمانوں کے خلاف جنگ کی دعوت دی جائے تو اس میں شریک ہوجائیں اور اپنے عہد پر قائم نہ رہیں پہلے فریق کا حکم عام کفار کی مانند ہے دوسرا فریق قتل اور پکڑ دھکڑ سے مستنثٰی ہے ۔ تیسرا فریق اسی سزا کا مستحق ہے جس کا پہلا فریق تھا ان آیتوں میں جو احکام مذکور ہوئے وہ دو ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ جب مصالحت نہ ہو تو قتال اور مصالحت ہو تو عدم قتال استثنا میں ہم نے ایک اشارہ کیا ہے جس سے معلوم ہوگا کہ استثنا صرفقتل اور پکڑ دھکڑ سے ہے ولایت اور استنصار کی اجازت نہیں ہے ولایت تو کسی حالت میں بھی کافروں سے جائز نہیں البتہ استنصار اور استعانت میں تفصیل ہے اور کسی خاص ضرورت اور اسلامی فائدے کے پیش نظر ایسا کیا جاسکتا ہے اور اگر ضرورت نہ ہو اور کوئی خاص مفاد پیش نظر نہ ہو تو استنصار اور استعانت سے اجتناب کرنا چاہئے۔ جیسا کہ غزوہ احد میں جب عبداللہ بن ابی واپس ہوا تو بعض انصار نے اجازت طلب کی کہ ہم یہود کو مدد کے لئے لے آئیں تو آپ ﷺ نے فرمایا۔ وہ خبیث ہیں ہم کو ان کی کوئی حاجت نہیں مزید تفصیل کتب فقہ میں مذکور ہے۔ بہرحال اس آخری آیت میں جن کا ذکر ہے وہ اہل تھامہ ہوں یا مکہ کے کچھ لوگ ہوں یا نعیم بن معسود و یا اسد اور غطفان کے لوگ ہوں۔ مفسرین نے مختلف شان نزول سے بیان کیا ہے ہم اس تفصیل میں جانا نہیں چاہتے۔ جب قوموں میں انقلاب رونما ہوتا ہے اور ایک قوم کا زوال اور ایک قوم کا عروج ہونا نظر آتا ہے تو یہ سب باتیں ہوا کرتی ہیں قبل از وقت کسی کو معلوم نہیں ہوتا کہ کیا ہونے والا ہے۔ بعض لوگ تو کھل کر ایک پارٹی کے ساتھ ہوجاتے ہیں کچھ انتظار کرتے رہتے ہیں جس کا پلہ بھاری دیکھتے ہیں ادھر ہوجاتے ہیں کچھ دونوں طرف ملے رہتے ہیں اور کسی پارٹی سے برے بننا نہیں چاہتے۔ یہی حالت عرب میں اس انقلاب کے وقت تھی جو نبی کریم ﷺ کی بعثت کے وقت ہوا تھا اور جس کے آخر میں اسلام کو تفوق اور برتری حاصل ہوئی تھی اور کفر زوال پذیر ہوگیا تھا اس وقت ہر قبیلہ اور عرب کا ہر فقہ اپنے اپنے زاویہ نگاہ اور اپنی اپنی امیدوں اور توقعات پر کام کر رہا تھا اور ان ہی کے لئے قرآن میں وقتاً فوقتاً احکام نازل ہوتے رہتے تھے اس لئے کوئی صحیح اور آخری بات کہنی مشکل ہے اور جو خلاصہ ہم نے عرض کردیا ہے اس کو کافی سمجھنا چاہئے۔ معاہد اور حربیوں کے اور عہد شکنوں کے وہی احکام آج بھی ہیں اگرچہ وہ زمانہ مسلمانوں کی ترقی کا تھا اور اس وقت تمام احکام پر عمل آسان تھا اور آج مسلمانوں کے انحطاط کا وقت ہے اور غلامی کا دور ہے اگر آج ان قوانین پر عمل ناممکن ہے تو سوائے اس کے اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کیا جائے اور اس اقتدار کے حصول کی کوشش کی جائے جس سے اللہ تعالیٰ کا قانون بلند ہو سکے۔ وما ذلک علی اللہ بعزیز۔ یعنی اب آگے اسی سلسلے میں قتل کے بعض اور احکام بیان فرماتے ہیں اور قتل کی بعض صورتوں کے احکام بیان کرتے ہیں اور آخر میں پھر مجاہدین کی فضیلت مذکور ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 4:92

وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ اَنْ یَّقْتُلَ مُؤْمِنًا اِلَّا خَطَئًا١ۚ وَ مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَئًا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَّ دِیَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهْلِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّصَّدَّقُوْا١ؕ فَاِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ١ؕ وَ اِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ فَدِیَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهْلِهٖ وَ تَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ١٘ تَوْبَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:92 in the Quran reader

اور کسی مومن کا یہ کام نہیں کہ وہ کسی مومن کو ناحق قتل کرے مگر غلطی سے اور جو شخص کسی مومن کو غلطی سے قتل کر دے تو قاتل کے ذمہ ایک مسلمان غلام یا لونڈی کا آزاد کرنا ہے اور نیز مقتول کے وارثوں کو خون بہا پہنچانا ہے الایہ کہ مقتول کے وارث خون بہا معاف کردیں۔1 پھر اگر وہ مقتول خطا ایک ایسی قوم کا باشندہ ہو جو تمہاری دشمن ہے حالانکہ وہ مقتول خود مسلمان ہو تو ایسی صورت میں قاتل کے ذمہ صرف ایک مسلمان غلام یا لونڈی کا آزاد کرنا ہے اور اگر وہ منقول کسی ایسی قوم کا فرد ہو کہ اس قوم کے اور تمہارے درمیان کوئی معاہدہ ہے تو اس صورت میں ورثائے مقتول کو خون بہا پہنچانا اور نیز ایک مسلمان غلام یا لونڈی کا آزاد کرنا ہے پھر جس کو لونڈی غلام میسر نہ ہو تو دو مہینے کے لگاتار روزے رکھنے ہیں تو بہ کا یہ طریقہ اللہ کی جانب سے مقرر ہوا ہے اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے الا اور حکمت والا ہے۔2

ف 1 اور کسی مومن کو یہ زیبا نہیں اور کسی مومن کی یہ شان نہیں کہ وہ کسی مومن کو ناحق بغیر کسی حق شرعی کے مار ڈالے مگر یہ کہ غلطی میں ایسا ہوجائے اور جو شخص کسی مومن کو غلطی سے مار ڈالے تو اس قاتل کے ذمہ شرعاً ایک مسلمان غلام یا لونڈی کا آزاد کرنا ہے اور نیز مقتول کے اہل یعنی اس کے وارثوں کو خون بہا پہنچانا اور ادا کرنا ہے الایہ کہ وہ ورثائے مقتول اس خوں بہا کو خیرات یعنی معاف کردیں۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو قتل نہیں کرسکتا مگر خطا کی حالت میں ایسا ہوجائے تو معذوری ہے پھر اگر خطاء کسی سے ایسا ہوجائے۔ جیسا کہ عیاش ابن ربیعہ نے ایک مسلمان کو کافر سمجھ کر مار ڈالا تھا تو ایسی حالت میں ایک رقبہ مومنہ آزاد کرنا چاہئے۔ رقبہ مومنہ سے مراد یہ ہے کہ مسلمان غلام یا ایک مسلمان باندی کو آزاد کرنا واجب ہے اور اس کے علاوہ قاتل پر یہ بھی واجب ہے کہ وہ مقتول کا خون بہا مقتول کے وارثوں کو شرعی حصص کے موافق ادا کرے اور اگر مقتول کا کوئی وارث نہ ہو تو خو بہا کی رقم بیت المال میں داخل کی جائے اس موقع پر چند باتیں یاد رکھنی چاہئیں۔ -1 ناحق اور غیر شرعی کا مطلب یہ ہے کہ قصاص وغیرہ کے سلسلہ میں قتل نہ ہو بلکہ ابتداء بغیر کسی حق شرعی کے کسی کو قتل کیا جائے۔ -2 اس قسم کے قتل کی آٹھ صورتیں ہوسکتی ہیں مقتول یا مسلمان ہوگا یا ذمی ہوگا یا حربی ہو گایا معاہد اور مسامن ہوگا یہ چار قسم کے مقتول ہوئے پھر قتل کی بھی دو صورتیں ہیں یا عمداً کسی قاتل کے قتل کیا ہوگا یا خطاء ً قتل کیا ہوگا لہٰذا یہ آٹھ شکلیں ہوتی ہیں۔ -3 قتل عمد کے بھی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ آلہ قتل یا کسی دھار دار چیز سے قتل کرے۔ دوسرے یہ کہ کسی ہتھیار اور دھار دار چیز سے قتل نہ کرے اس کو شبہ عمد کہتے ہیں کیونکہ اس میں بھی عمد موجود ہے اگرچہ عمداً کی دونوں قسموں میں باہم فرق ہے۔ -4 کسی مسلمان کو حربی سمجھ کر قتل کردینا یا کسی جانور پو گولی چلائی اور وہ کسی مسلمان کو جا لگی یا کسی آدمی کو دور شکار سمجھ لو اس پر گولی چلا دی یہ سب شکلیں قتل خطا کو شامل ہیں اور بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہاں وہی پہلی شکل مراد ہے یعنی کسی مسلمان کو حربی کا کافر سمجھ کر قتل کردیا۔ شان نزول سے ایسا ہی معلوم ہوتا ہے۔ -5 عیاش بن ربیعہ مخزومی مکہ سے مدینہ جانے کے لئے نکلے تھے ان کی ماں نے کھانا پینا چھوڑ دیا اور اپنے دو بیٹوں سے جن کا نام حارث اور ابو جہل تھا کہا کہ جب تک تم عیاش کو ڈھونڈھ کر نہ لائو گے میں نہ کھانا کھائوں گی نہ پانی پیوں گی اور نہ چھت کے نیچے بیٹھوں گی چناچہ یہ لڑکے دیکھنے نکلے اور عیاش کو راستہ میں سے پکڑ لائے اور باوجود عیاش سے وعدہ کرنے کے اس کو باندھ لیا اور مکہ میں لا کر قید کردیا ہاتھ پائوں باندھ کر اس کو دھوپ میں ڈال دیا اور طرح طرح سے اس پر ظلم کیا ہر کوئی آتا اور اس سے کہتا کہ تو اسلام کو چھوڑ دے۔ چنانچہ حارث بن زید ین بھی عیاش کو یہی مشورہ دیا عیاش نے قسم کھائی کہ مجھ کو موقع مل گیا اور میں نے تجھ کو اکیلا پایا تو میں تجھ کو قتل کر دوں گا۔ اتفاق کی بات کچھ عرصہ بعد جب عیاش مدینہ پہنچ گئے تو انہوں نے ایک دن حارث کو قبا کے سامنے آتا ہوا دیکھا ان کو یہ خبر نہ تھی کہ حارث مسلمان ہوچکا تھا انہوں نے موقعہ پا کر حارث کو قتل کردیا اس قتل کو خطا فرمایا اور اس کے بعض احکام یہاں مذکور ہیں۔ -6 بہرحال خطاء قتل کے دو حکم مذکور ہیں ایک مسلمان غلام یا باندی کو آزاد کرنا دوسرے خو بہا دینا جس کو دیت کہتے ہیں۔ -7 یہ دیت مقتول کے ورثاء پر تقسیم کی جاتی ہے اور شرعی حصوں کی طرح تقسیم ہوتی ہے ہاں اگر مقتول کے وارث بعض یا کلم رقم معاف کردیں یا بعض وارث اپنا حصہ معاف کردیں تو معاف ہوجاتی ہے۔ -8 خوں بہا میں اگر اونٹ دیئے جائیں تو سو اونٹ ہیں اگر نقد دیا جائے تو ایک ہزار دینار یا دس ہزار درم دیئے جائیں۔ -9 سو اونٹ جو دیت میں دیئے جائیں گے امام ابوحنیفہ اور امام احمد کے نزدیک ایک عمر کے نہ ہوں گے بلکہ پانچ قسم کی عمر کے ہوں گے۔ بیس جذعہ بیس حقہ بیس بنت لبون بیس بنت مخاض اور بیس ابن مخاض جذعہ وہ اونٹ جو چار سال پورے کر کے پانچویں میں لگا ہو اور حقہ وہ اونٹ جو تین سال پورے کر کے چوتھے میں لگا ہو اور بنت لبون وہ اونٹ جو دو سال پورے کر کے تیسرے سال میں لگا ہو اور بنت مخاض وہ اونٹ جو ایک سال پورا کر کے دوسرے سال میں لگا ہو، نر اور مادہ کے فرق کی وجہ سے پانچویں قسم میں ابن مخاض کہا۔ -10 حنفیہ کے نزدیک عورت کی دیت مرد سے نصف ہے۔ -11 حنفیہ کے نزدیک مسلمان اور ذمی کی دیت یکساں ہے۔ مزید مسائل کتب فقہ یا مقامی علماء سے معلوم کئے جائیں۔ آگے قتل کی ان آٹھ شکلوں میں سے اور چند شکلوں کا بیان ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل) 2 اور اگر وہ مقتول خطاء ایک ایسی قوم کا باشندہ ہو جو تمہاری دشمن اور مخالف ہو اور وہ مقتول مسلمان ہو تو ایسی حالت میں قاتل کے ذمہ صرف ایک مسلمان غلام یا باندی کا آزاد کرنا ہے اور اگر وہ مقتول خطاء کسی ایسی قوم کافر د ہو کہ تم میں اور اس قوم میں کوئی معاہدہ اور مصالحت ہے تو اس صورت میں ورثائے مقتول کو خوں بہا سپرد کرنا اور پہنچانا ہے اور نیز ایک مسلمان غلام یا لونڈی کا آزاد کرنا ہے۔ پھر جس کو لونڈی غلام میسر نہ ہو تو اس کے ذمہ دو مہینے کے لگاتار روزے رکھنے ہیں یعنی مجبوری کی وجہ سے رقبہ آزاد نہ کرسکے تو بجائے آزاد کرنے کے دو مہینے کے لگاتار روزے رکھ لے۔ توبہ کا یہ طریقہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے مقرر کردہ ہے اور اللہ تعالیٰ کمال علم اور کمال حکمت کا مالک ہے۔ (تیسیر) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں چوک کی صورتیں کئی ہیں یہاں وہ مذکور ہے کہ مسلمان کو کافروں میں امتیاز نہ کیا اور مار ڈالا ہر طرح خفا کے قتل ہیں دو چیزیں لازم ہیں ایک تو آزاد کرنا ہر وہ مسلمان اور مقدور نہ ہو تو روزہ دو مہینے متصل یہ اپنی تقصیر کا تدارک ہے۔ اللہ کی جناب میں دوسرے خوں بہا ادا کرنی اس کے وارثوں کو یہ ان کا حق اگر وہ خیرات کر چھوڑ دیں تو مختار ہیں سو اگر اس کے وارث مسلمان ہیں یا کافر ہیں لیکن صلح رکھتے ہیں تو ادا کرنی واجب ہے اور اگر کافر ہیں اور دشمن ہیں تو واجب نہیں۔ خون بہا مذہب حنفی میں مسلمان کی دو ہزار سات سو چالیس روپے ہیں تخمیناً اور دینے آتے ہیں قاتل کی برادری کو تین برس میں بہ تفریق ادا کریں۔ (موضح القرآن) گزشتہ آیت میں مسلمان کو خطاء قتل کرنے کی ایک شکل کا حکم بیان فرمایا تھا کہ کفارہ بھی دو اور خوں بہا بھی ادا کرو اور دوسری شکل یہ ہے کہ مقتول خطاء مسلمان ہے لیکن وہ دارالحرب میں کسی مجبوری کے باعث قیام پذیر تھا یعنی اس نے ہجرت نہیں کی تھی خواہ دارالاسلام میں آتا جاتا رہتا ہو تو اس مقتول کے قاتل پر صرف کفارہ ہوگا اور وہ ایک مسلمان غلام یا لونڈی کا آزاد کرنا ہے اور اس مقتول کی دیت نہ ہوگی خواء اس کے ورثا مسلمان ہوں یا کافر کافر کو تو اس وجہ سے کہ مسلمان کا وارث کافر ہو نہیں سکتا اور مسلمان ہوں تو اس وجہ سے کہ ان کو دار کی عصمت حاصل نہیں ہیں اس لئے کوئی دیت نہ ہوگی اور تیسری شکل یہ ہے کہ وہ مقتول خطاء ایک ایسی قوم سے ہے کہ وہ قوم مسلمانوں کی معاہد ہے اور مسلمانوں کے اور ان کے درمیان باہم مصالحت ہے خواہ وہ مصالحت موقت ہو یا موہد ہو، تو اس صورت میں قاتل پر کفارہ بھی واجب ہوگا اور مقتول کے ورثاء کو خون بہا بھی ادا کرنا ہوگا جس کی تفصیل ہم اوپر عرض کرچکے ہیں۔ پھر اگر کوئی شخص کفارہ کے لئے مسلمان غلام یا لونڈی نہ پائے یعنی یا تو لونڈی غلام میسر ہی نہیں آتے اور ملتا ہی نہ ہو یا ملتا ہو تو یہ اس کے خریدنے کے قابل نہ ہو تو اس صورت میں بجائے مسلمان لونڈی یا غلام آزاد کرنے کے دو مہینے کے روزے رکھے اور یہ روزے بھی لگاتار اور پے در پے رکھے اگر کسی وجہ سے بیچ میں کوئی روزہ چھوٹ گیا تو پھر از سر نو رکھنا ہوگا البتہ عورت اگر حیض و نفاس کی وجہ سے بیچ میں روزے چھوڑ دے تو اس کی ترتیب باقی رہے گی اور اس کو از سر نو روزے شروع کرنے کی ضرورت نہ ہوگی اس تیسری شکل میں مقتول کی تفصیل نہیں ہے۔ اسی لئے لوگوں کے یہاں اقوال مختلف ہیں بعض لوگوں نے یہاں بھی مقتول مومن مراد لیا ہے اور بعض نے ذمی اور معاہد یا مستامن مراد لیا ہے اور بعض نے عام رکھا ہے کہ وہ مسلمان ہو یا کافر ہو پھر کافروں میں سے خواہ یہودی ہو یا نصرانی ہو یا دفنی ہو بہرحال معاہدین میں سے ہو پھر جو لوگ مسلمان کہتے ہیں وہ خوں بہا میں یہ شرطلگاتے ہیں کہ اگر مقتول کے ورثاء مسلمان ہوں تو ان کو دیت دی جائے اور اگر ورثاء مسلمان نہ ہوں تو دیت بیت المال میں داخل کردی جائے اور بعض یہ کہتے ہیں کہ اگر ورثا مسلمان نہ ہوں تب بھی ورثا کے طور پر نہیں بلکہ عہد کے طور پر دیت ورثاء کو پہنچائی جائے اور جو مقتول کو کافر کہتے ہیں ان کے ہاں کوئی تفصیل نہیں ہے نہ ان کو کسی تفصیل کی ضرورت ہے ان کا مطلب یہ ہے کہ اگر معاہد قوم کا کوئی فرد مسلمان کے ہاتھ سے خطاء قتل ہوجائے خواہ وہ ذمی ہو یا مصالح ہو یا مستامن ہو تو اس کا کفارہ بھی ہے اور اس کا خوں بہا بھی ہے جو اس مقتول کے ورثاء کو پہنچانا ہے اور یہ عہد کا احترام ہے صاحب مدارک نے اس آیت سے مسلمان اور ذمی کافر کی دیت کے برابر ہونے پر استدلال کیا ہے بہرحال امام ابوحنیفہ کا یہ مسلک ضرور ہے کہ مسلمان اور ذمی کافر کو دیت برابر ہے اگرچہ دوسرے آئمہ کرام نے امام کے اس مسلک سے اختلاف کیا ہے۔ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ کفارہ تو خود قاتل کے ذمہ واجب ہوتا ہے اور دیت عاقلہ پر آتی ہے۔ عاقلہ سے مراد بھائی بھتیجے چچا اور چچا کی اولاد ہیں اور خوں بہا کی جو رقم عاقلہ جمع کریں گے اس میں قاتل بھی حصہ رسدی شریک ہوگا اور ظاہر قتل کے سدباب کی غرض سے ایسا کیا گیا ہے کیونکہ عا م طور سے انسان ایسی بےاحتیاطی اپنے اعوان و انصار کے بل پر کیا کرتا ہے اگر خوں بہا ان کو دینا پڑے گا تو وہ لوگ بھی ایسے بےاحتیاط آدمیوں کی دیکھ بھال رکھیں گے اور اس قسم کے قتل سے روکیں گے خوں بہا کی تقسیم بھی ورثاء پر اسی طرح ہوگی جس طرح باقی تمام ورثا تقسیم کیا جاتا ہے یعنی تجہیز تکفین قرضہ وصیت ادا کرنے کے بعد جو کچھ بچے وہ مقتول کے ورثاء پر تقسیم ہوگا۔ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ اگر کافر ذمی کے ورثاء مسلمان ہوں تو اس کافر کا خوں بہا بیت المال میں داخل ہوگا کیونکہ مسلمان ورثاء نہ ہونے کے برابر ہیں۔ شبہ عمد جس کا ہم اوپر ذکر کرچکے ہیں وہ گناہ کے اعتبار سے خطاء قتل کے مقابلہ میں زیادہ سخت ہے کیونکہ اس میں قصد پایا ہے جاتا ہے اور خطا میں قصد نہیں ہوتا محض بےاحتیاطی کی تقصیر ہوتی ہے اور دونوں کا حکم تھوڑے سے فرق کے ساتھ یکساں ہے مثلاً خوں بہا اگر روپیہ سے ادا کیا جائے تو دونوں میں ایک ہزار دینار یا دس ہزار درہم ہیں اور اگر اونٹ دیئے جائیں تب بھی سو ہیں لیکن ان میں ذرا سا فرق ہے جو کتب فقہ سے معلوم ہوسکتا ہے۔ آیت میں صرف قتل خطاء زیر بحث ہے اس لئے ہم نے شبہ عمد کی مزید بحث کو ترک کردیا ہے اور قتل عمد کا مسلہ خود آگے آ رہا ہے تو بامن لالہ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے توبہ کا یہ طریقہ مشروع اور مقرر ہے اور اللہ تعالیٰ چونکہ خطاء میں ایک قسم کی بےاحتیاطی واقع ہوتی ہے اس لئے لفظ توبہ کا استعمال فرمایا ۔ توبۃ کی ترکیب مفسرین نے کئی طرح کی ہے ہم نے ایک قول اختیار کرلیا ہے اب آگے مومن کو قصداً قتل کرنے کا حکم بیان فرماتے ہیں اور یہ بھی قتل کی ان آٹھ صورتوں میں سے ایک صورت ہے جن کا ذکر ہم اوپر کرچکے ہیں۔ (تسہیل)
Ayah 4:93

وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِیْهَا وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ لَعَنَهٗ وَ اَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِیْمًا Open ayah 4:93 in the Quran reader

اور جو شخص کسی مسلمان کو قصداً قتل کر دے تو اس کی سزا جہنم ہے کہ وہ اس میں پڑا رہے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا غصہ ہوا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے بہت بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔3

ف 3 اور جو شخص کسی مسلمان کو قصد اً جان بوجھ کر مار ڈالے تو اس کی سزا جہنم ہے اور یہ سزا بھی اس طور پر کہ وہ اس جہنم میں ہمیشہ پڑا رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس پر غضب ناک ہوا اور اللہ تعالیٰ نے اس پر لعنت فرمائی یعنی اپنی خاص رحمت سے اس کو دور کردیا اور اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ (تیسیر) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں ابن عباس نے فرمایا کہ اگر مسلمان قصد کر کے مسلمان کو مار ڈالے وہ دوزخی ہوچکا اس کی توبہ قبول نہیں باقی اور علماء نے کہا کہ سزا اس کی یہی ہے جو یہاں مذکور ہوئی آگے اللہ مالک ہے لیکن اگر قصاص میں مارا گیا تو سب کے قول میں پاک ہوا۔ (موضح القرآن) غالباً یاد ہوگا کہ ہم اوپر کئی دفعہ اہل سنت کا یہ مسلک بیان کرچکے ہیں کہ ان کے نزدیک فاسق مسلمان ہمیشہ دوزخ میں نہیں رہے گا اور کوئی گنہگار جو گناہ کو گناہ سمجھ کرتا ہے وہ کافر نہیں ہوتا۔ جب تک کسی گناہ کی حلت کا قائل نہ ہو اور اس کو حلال سمجھ کر نہ کرے البتہ شرک کا مرتکب ہمیشہ جہنم میں رہنے والا ہے اور اہل سنت کا یہ عقیدہ بکثرت آیات قرآنی اور احادیث نبوی سے ثابت ہے اہل سنت کے اس مشہور عقیدے کے خلاف معتزلہ اس کے قائل ہیں کہ کبیرہ گناہ کا مرتکب ہمیشہ جہنم میں رہے گا اور خوارج اس کے قائل ہیں کہ کبیرہ کا مرتکب کافر ہوجاتا ہے خواہ وہ اس گناہ کو حلال نہ سمجھے مختصر یہ کہ معتزلہ مرتکب کبیرہ کے خلود فی النار ہونے کے قائل ہیں اور خوارج تو کبیرہ گناہ کے مرتکب کو کافر ہی کہتے ہیں۔ آیت زیر بحث میں چونکہ قصداً مسلمان کو قتل کرنے کی جزا خلود فی النار اور لالہ کی لعنت اور غضب اور عذاب عظیم فرمائی ہے اس لئے اس آیت سے ایک طرف معتزلہ نے اور دوسری طرف خوارج نے اپنے اپنے مسلک پر استدلال کیا ہے۔ حالانکہ ہم کئی بار عرض کرچکے ہیں کہ معتزلہ اور خوارج فرق باطلہ میں سے ہیں اور ان کے عام استدلال ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے کوئی ڈوبتا ہوا آدمی تنکے کا سہارا تلاش کیا کرتا ہے۔ بہرحال جہاں تک فرق باطلہ کے استدلال کا تعلق ہے وہ اس قدر قابل اعتبار نہیں ہے کیونکہ یہ لوگ بیشمار نصوص صریحہ اور احادیث صحیحہ کے خلاف تاویلات رکیکہ کے خوگر ہیں البتہ اس آیت میں جو چیز زیادہ اہم ہے وہ حضرت عبداللہ بن عباس کا وہ مشہور قول ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کو قصداً قتل کرے اس کی توبہ بھی قبول نہیں۔ ابن ابی حاتم نے حضرت ابوہریرہ اور عبد اللہ بن عمرو اور ابو سلمہ اور عبد بن عمیر وغیرہ کو عبداللہ ابن عباس کا ہم خیال بتایا ہے اور جو آیت سورة فرقان میں آئی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے شرک اور قتل نفس اور زنا سب کی سزا خلود فی النار فرمائی ہے اور سزا کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا ہے۔ الامن تاب وامن و عمل عملا صالحاً الی آخرۃ ۔ اس کے متعلق حضرت عبداللہ بن عباس کا خیال یہ ہے کہ یہ آیت مکی ہے اور ومن یقتل مئومناً کی آیت مدنی ہے اس لئے یہ آیت منسوخ نہیں ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس کا یہ قول بھی ہے کہ وہ حکم تو ابتداً دیا گیا تھا جب لوگ جاہل تھے اور کفر و شرک اور قتل و زنا وغیرہ میں مبتلا ہوجاتے تھے اب چونکہ لوگ شریعت کو سمجھ چکے تھے اور گناہ کی خرابیوں سے واقف ہوچکے تھے اس لئے ان کو بتایا گیا کہ جو شخص کسی مسلمان کو قصداً قتل کرے گا ۔ اس کی توبہ قبول نہ ہوگی یہ ان اقوال کا خلاصہ ہے جو حضرت عبداللہ بن عباس کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں … حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے حضرت عبداللہ بن عباس سے اس بارے میں مناظرہ بھی کیا ہے زید بن ثابت کا قول ہے کہ سورة فرقان کی آیت نازل ہوئی تو ہم لوگ اس کو سخت اور تغلیظ سمجھنے لگے۔ زید بن ثابت کا دوسرا قول یہ ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو ہم لوگ بہت ڈرے اس کے بعد سورة فرقان کی آیت نازل ہوئی۔ حضرت عبداللہ عباس سے سعید بن عبیدہ نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ وہ قاتل مومن کی توبہ کے قائل تھے جیسا کہ صاحب روح المعانی نے ابن حمید کی روایت سے نقل کیا ہے اسی طرح سعید بن منصور اور بیہقی نے حضرت ابن عباس کا ایک واقعہ نقل کیا ہے کہ ایک شخص نے ان کی خدمت میں آ کر عرض کیا کہ میں نے اپنا ایک حوض پانی سے بھرا تھا اور اپنے مویشیوں کا منتظر تھ کہ وہ میرے مویشی اس حوض سے پانی پئیں گے مگر ایک شخص نے اپنی اونٹنی کو اس حوض سے پانی پلایا اور حوض کو توڑ دیا اور اس کا سارا پانی بہا دیا میں نے اس شخص کو تولار سے قتل کردیا۔ عبداللہ بن عباس نے یہ واقعہ سن کر اس سے فرمایا، اللہ کی جناب میں توبہ کر سعید بن منصور نے سفیان بن عنیہ سے نقل کیا ہے کہ اہل علم کا یہ طریقہ تھا کہ جب کوئی شخص ان سے سوال کرتا تھا۔ تو وہ کہتے تھے قاتل مومن کی توبہ نہیں اور جب کوئی مبتلا ہوجاتا تھا اور وہ مبتلا یہ دریافت کرتا تھا تو جواب دیتے تھے کہ توبہ کر۔ صاحب روح المعانی نے ایک اور واقعہ عبداللہ بن عباس سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کسی دریافت کرنے والے سے فرمایا تھا کہ قاتل مومن کی توبہ نہیں۔ لوگوں نے ان سے کہا اے ابن عباس آپ نے اس کو اپنے پہلے فتویٰ کے خلاف کیوں فتویٰ دیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا مجھ کو ایسا معلوم ہوا کہ وہ غصہ میں کسی شخص کو قتل کرنا چاہتا ہے اس لئے میں نے اس سے ایسا کہا۔ چناچہ لوگوں نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ یہی بات تھی صاحب تفسیر مظہری نے تیسیر سے خود حضرت عبداللہ بن عباس کا قول نجزاء کے جہنم کی تشریح میں نقل کیا ہے۔ لو جازاہ اللہ لکنہ یتفضل علیہ ولا یخلدہ لایمانہ۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ اس کو جزا دے تو اس کی جزا جہنم ہے لیکن اللہ تعالیٰ اس کے ایمان کی وجہ سے اس پر فضل فرمائے گا اور اس کو ہمیشہ جہنم میں نہیں رکھے گا۔ یہی وہ توجیہہ ہے جو حضرت شاہ صاحب نے اپنے فیہہ میں ذکر کی ہے اوز ابن کثیر نے ابن مردویہ سے ایک غیر صحیح سند کے ساتھ مرفوعاً بھی اس توجیہہ کو نقل کیا ہے اور بہت ممکن ہے کہ عبداللہ بن عباس نے نبی کریم ﷺ سے یہ توجیہہ سنی ہو۔ بہرحال ان روایات مذکورہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس کا بھی وہی مسلک تھا جو جمہور کا مسلک ہے یعنی قاتل مومن کی توبہ قبول ہوسکتی ہے اور وہ ہمیشہ جہنم میں نہیں رہے گا اب رہی یہ بات کہ وہ کسی کو توبہ کا حکم دیتے اور کسی سے توبہ کا انکار فرماتے۔ ایسا کیوں کرتے تھے تو اس کا ایک جواب تو ہم ابھی عرض کرچکے ہیں کہ ابتداء سوال کرنے کو اس وجہ سے نہ بتاتے ہوں کہ مبادا کسی کو کرے اور اس کے فضل سے امید رکھے صاحب تفسیر مظہری اور ابن کثیر نے یوں کہا ہے کہ قاتل مومن پر خدا کا بھی حق ہے اور اپنے بھائی مومن کا بھی حق ہے جیسا کہ ہم اوپر اس بات کو کہیں واضح کرچکے ہیں کہ گناہ جو حقوق اعلباد سے تعلق رکھتا ہے اس کا تعلق حقوق اللہ سے بھی ہوتا ہے اللہ کا حق اس بنا پر کہ اس کی نافرمانی کی اور بندے کا حق اس بنا پر کہ اس کو نقصان پہنچایا بس توبہ کا ہونا تو اس بنا پر ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنا حق معاف فرما دے گا اور توبہ کا نہ ہونا اس بنا پر ہے کہ بغیر قصاص کے وہ معاف نہیں ہوگا تو اس کی توبہ کیسے ہوسکتی ہے وہ تو قیامت میں صاحب حق اگر معاف کر دے یا اللہ تعالیٰ اس کو راضی کر کے معاف کرا دے تب ہی معاف ہوسکتا ہے۔ (واللہ اعلم) اور وہ جو زید بن ثابت سے دونوں روایتیں منقول ہیں اگر ان دونوں کی اسناد صحیح ہوں تو اس کی توجیہہ بعض حضرات نے اس طرح کی ہے کہ اول سورة فرقان کی آیت ویخلد فیہ مھانا تک نازل ہوئی جس میں شرک کے ساتھ قتل اور زنا کا ذکر فرمایا اس کے بعد صرف قتل کے سلسلے میں سورة نساء کی آیت نازل ہوئی۔ جب لوگ اس وعید کو سن کر پریشان ہوئے تو الامن تاب کی قید نازل ہوئی اسی طرح یہ آیت بھی الامن تاب کے ساتھ مقید ہوگی اس کو صاحب خازن نے اختیار کیا ہے (واللہ اعلم) خلاصہ یہ کہ جمہور علمائے سلف اور خلف کا مسلک یہی ہے کہ سوائے شرک و کفر کے کوئی ایسا گناہ نہیں ہے جس کی سزا خلود فی النار ہو۔ جیسا کہ قرآن کریم میں متعدد جگہ ارشاد ہے ان اللہ لایغفر ان یشرک بہ ویغفر مادون ذلک لمن یشآء اور شرک با اللہ کے علاوہ دوسرے گناہوں کے متعلق یہ آیت کافی ہے قل یعبادی الذین اسرفوا علی انفسھم لاتقنطوا من رحمۃ اللہ ان اللہ یغفر الذنوب جمیعا اور کسی گناہگار کا توبہ کرنا اور اللہ کی جانب رجوع ہونا اور اللہ تعالیٰ کا اس کی توبہ کا قبول فرمانا بہت سی آیتوں میں مذکور ہے ان میں سے یہ آیت کافی ہے۔ وانی لغفار لمن تاب و امن و عمل صالحاً ثم اھتدی بعض اہل علم نے آیت زیر بحث کی توجیہہ اور اس کا مطلب اور متعدد طریقفوں سے بیان کیا ہے مثلاً اس آیت میں جو وعید بیان فرمائی ہے وہ اس کافر کی ہے جو مسلمان کو قصداً قتل کرے جیسا کہ شان نزول کا مشہور مورد یہی ہے، یہ آیت مقیس بن ضبایہ کندی کے بارے میں نازل ہوئی ہے، مقیس کے بھائی ہشام کو کسی نامعلوم شخص نے قتل کردیا تھا اس کی لاش بنی بخار کے قبیلے کے پاس پڑی ہوئی ملی، نبی کریم ﷺ نے بنی بخار کو حکم دیا کہ اگر تم کو قاتل معلوم ہے تو اس کو پیش کردو تاکہ اس سے قصاص لیا جائے اور اگر قاتل معلوم نہ ہو تو مقیس کو خوں بہا ادا کرو۔ چناچہ بنی بخار کے لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ قاتل تو ہم کو معلوم نہیں البتہ خوں بہا حاضر کردیں گے۔ چنانچہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کے قاصد کو جو قبیلہ فہر کا باشندہ تھا سو اونٹ دے دیئے جو اس فہری نے مقیس کے حوالے کردیئے اور دونوں مدینے کو واپس روانہ ہوئے راستے میں مقیس کی نیت خراب ہوئی اس نے خیال کیا اپنے بھائی ہشام کے بدلے میں تو میں فہری کو قتل کر دوں اور خوں بہا لے کر چل دوں۔ چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا فہری کو قتل کردیا اور اونٹ لے کر مکہ بھاگ گیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی لہٰذا مقیس نے جو حرکات کی تھیں قتل لوٹ ارتداد یہ اس خاص شخص کی جزا بیان کی گئی ہے ۔ شان نزول کے سلسلے میں ہم کئی بار عرض کرچکے ہیں کہ شان نزول کے خاص مورد ہونے سے اس کی عمومیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ بعض نے یہ تو جیہہ بیان کی ہے کہ جو شخص قتل مومن کو حلال سمجھتے ہوئے قتل کرے اس کی جزا یہ ہے۔ کسی نے کہا کسی مومن کو اس کے ایمان کی وجہ سے قتل کرے تو اس کی جزا یہ ہوگی کسی نے کہا خلود کے معنی تابید کے نہیں بلکہ مکث طویل ہے۔ لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ شاہ صاحب نے جو راہ اختیار کی ہے وہ بہت صحیح ہے اور اس کو ابو مجلز اور حضرت عبداللہ بن عباس کی رائے اور ابن مردویہ کی ایک مرفوع حدیث کی تائید بھی حاصل ہے جس کا مفاد یہ ہے کہ ایسے شخص کی اصلی جزا تو یہی ہے کہ وہ دوزخ میں ہمیشہ رہے لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس پر اصلی جزا جاری نہ ہوگی بلکہ اس کے ایمان کی برکت سے نجات حاصل ہوجائے گی۔ اور ہم نے جو رحمت خاص سے دور ہنے کا ذکر کیا ہے اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ جس رحمت سے اللہ تعالیٰ کے نیک بندے مستفیض ہوں گے یہ قاتل اس خاص رحمت سے محروم رہے گا بہرحال جہاں تک آیت کے مطلب کا تعلق ہے ہم نے اپنی وسعت کے موافق واضح طور پر بیان کردیا ہے اور یہ بات صاف کردی ہے کہ معتزلہ اور خوارج کے استدلال کے لئے آیت میں کوئی گنجائش نہیں ہے لیکن جہاں تک ایک مسلمان کو ناحق قتل کرنے کا معاملہ ہے وہ نہایت سنگین اور سخت خطرناک اور بہت بڑا گناہ ہے حدیث شریف میں آتا ہے سب سے پہلے قیامت کے دن لوگوں کے مابین جس چیز کا فیصلہ ہوگا وہ خون کا مقدمہ ہوگا۔ حضرت عبادہ بن صامت سے ابو دائود نے مرفوعاً نقل کیا ہے کہ مومن ہمیشہ آزاد شدہ اور صالح رہتا ہے جب تک وہ کسی ناجائز خون کا مرتکب نہیں ہوتا اور جب اس سے کسی حرام خون کا ارتکاب ہوا تو وہ ہلاک ہوا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام دنیا کا زوال کسی مسلمان کے قتل سے آسان ہے فرمایا نبی کریم ﷺ نے اگر کسی شخص نے قتل مسلم پر کسی کی مدد کی خواہ اس نے آدھی بات ہی کہی ہو تب بھی وہ قتل مسلم کی تائید کرنے والا قیامت میں اس طرح آئے گا کہ اس کی پیشانی پر لکھا ہوا ہوگا کہ یہ شخص اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید ہے۔ حضرت بریدہ سے نسائی نے نقل کیا ہے کہ اگر کسی مومن کے خون میں آسمان والے اور زمین والے دونوں مشترک ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان سب کو اوندھے منہ جہنم میں ڈال دے گا۔ حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ کعبہ کا طواف فرما رہے تھے اور کعبہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے تھے تو کیسا اچھا ہے اور تیری خوشبو کتنی اچھی ہے اور تو کیسی عظمت والا ہے اور تیری حرمت کیا ہی بڑی ہے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میں میری جان ہے ایک مومن کی جان اور اس کے مال کی حرمت تیری حرمت سے بہت بڑی ہے۔ (ابن ماجہ) اب آگے اسی قتل مومن کے سلسلے میں اور ایک امر بیان فرماتے ہیں کہ کسی مومن کے مومن سمجھنے اور اس کے قتل سے بچنے کے لئے اس کا ظاہری اسلام کافی ہے جو شخص اپنے اسلام کا اظہار کرے اور اپنا مسلمان ہونا ظاہر کرے اس کے قتل سے بچنا واجب ہے ۔ جیسا کہ ایک خاص واقعہ میں بعض صحابہ سے اس قسم کی غلطی واقعہ ہوئی تھی لہٰذا اس پر تنبیہ کی گئی اور اس سلسلے میں ایک مستقل ضابطہ فرمایا جو صدہا دفعات کو شامل ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 4:94–95

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا ضَرَبْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَتَبَیَّنُوْا وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰۤى اِلَیْكُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا١ۚ تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١٘ فَعِنْدَ اللّٰهِ مَغَانِمُ كَثِیْرَةٌ١ؕ كَذٰلِكَ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَتَبَیَّنُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 4:94 in the Quran reader

اے ایمان والوجب تم اللہ کی راہ میں سفر کیا کرو تو ہر بات کی تحقیق کرلیا کرو اور کسی ایسے شخص کو جو تم کو سلام علیک کرے یوں نہ کہہ دیا کرو کہ تو مسلمان نہیں ہے تم دنیوی زندگی کا ساز و سامان چاہئے ہو تو اللہ کے پاس بکثرت غنیمتیں موجود ہیں آخر تم بھی تو پہلے ایسے ہی تھے پھر اللہ نے تم پر احسان فرمایا لہٰذا خوب تفتیش کرلیا کرو بلاشبہ تم جو کچھ کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے باخبر ہے۔1

لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ وَ الْمُجٰهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ دَرَجَةً١ؕ وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى١ؕ وَ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:95 in the Quran reader

جو مسلمان بغیر کسی عذر شرعی کے جہاد سے بیٹھ رہنے والے ہیں وہ ان مجاہدین کے برابر نہیں ہو۔ سکتے جو اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان مجاہدین کو جو اپنی جانوں اور اپنے مالوں سے جہاد مشغول رہتے ہیں بیٹھ رہنے والوں پر درجہ کے اعتبار سے بڑی فضیلت اور بزرگی وہی ہے اگرچہ ہر ایک بیٹھ رہنے والے لڑنے والے سے اللہ تعالیٰ نے جنت کا وعدہ کر رکھا ہے مگر ہاں مجاہدین کو گھر بیٹھ رہنے والوں کے مقابلے میں بہت بڑا اجر عطا فرمایا ہے۔

ف 1 اے ایمان والو ! جب تم اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے سفر کیا کرو تو ہر کام کو کرنے سے پہلے تحقیق کرلیا کرو اور جو شخص تم کو سلام علیک کرے اور اپنے انقیاد و اطاعت کا تمہارے سامنے اظہار کرے تم اس کو یوں نہ کہہ دیا کرو کہ تو مسلمان نہیں ہے یعنی تو اپنی جان بچانے کو اپنے اسلام کا اظہار کر رہا ہے ورنہ تو دل سے مسلمان نہیں ہے دراں حالیکہ تم دنیوی زندگی کا ساز و سامان چاہتے ہو اور تمہاری خواہش یہ ہوتی ہے کہ دنیا کا ساز و سامان حاصل کرلیں تو اللہ تعالیٰ کے پاس بکثرت غنیمت کے مال موجود ہیں اور آخر یہ بھی تو سوچو کہ تم خود بھی تو اس زمانے سے پہلے ایسے ہی تھے پھر اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان فرمایا لہٰذا اچھی طرح چھان بین کیا کرو اور اس امر کا یقین رکھو کہ جو اعمال تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ ان سب کی خبر رکھتا ہے اور ان سب سے باخبر ہے۔ (تیسیر) حضرت ابن عباس ؓ سے بواسطہ عکرمہ مروی ہے کہ ایک شخص جو بنی سلیم کی بکریاں چراتا تھا صحابہ کی ایک جماعت پر سے گزرا اس نے ان کو کہا السلام علیکم انہوں نے کہا اس نے ہم کو اس لئے سلام کیا ہے تاکہ ہم سے پناہ حاصل کرے یہ خیال کر کے اس کو قتل کردیا اور اس کی بکریاں ہنکالائے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ایک دوسری روایت کلبی نے نقل کی ہے جس کا ماحصل یہ ہے کہ غالب بن فضار کی سرکردگی میں ایک جماعت مسلمانوں کی روانہ کی گئی تھی جب وہ ایک بستی کے قریب پہنچے تو بستی کے لوگ سب بھاگ گئے۔ لیکن اس تمام بستی میں ایک شخص مسلمان تھا جس کا نام مرد اس بن نہیک تھا اس نے یہ خیال کیا کہ میں تو مسلمان ہوں مجھے کون قتل کرے گا وہ بستی سے نہیں بھاگا لیکن اس نے یہ خیال کیا کہ شاید یہ چھوٹا سا لشکر مسلمانوں کا نہ ہو بلکہ کوئی اور لوگ ہوں اس لئے وہ احتیاطاً پہاڑ کے دامن میں چھپ گیا، مگر جب اس کو یہ معلوم ہوگیا کہ یہ لشکر مسلمانوں کا ہے اور اس نے مسلمانوں کا نعرئہ تکبر سنا تو وہ پہاڑ کے دامن سے نکل کر کلمہ پڑھتا ہوا اور سلام علیک کرتا ہوا اس لشکر کی جانب آیا اس پر اسامہ بن زید نے جھپٹ کروا کردیا اور اس کو قتل کر ڈالا اور اس کی بکریاں لے آئے۔ جب مدینے آئے تو حضور ﷺ کو بہت غمگین پایا اور آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی اور اسامہ سے کہا کہ تم نے باوجود کلمہ توحید اور سلام وغیرہ کے اس کو قتل کردیا۔ اسامہ نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ میرے لئے استغافر فرمائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کس طرح استغفار کروں جو کلمہ لا الہ الا اللہ اس نے کہا تھا اس کا کیا کروں یہاں تک کہ آپ بار بار یہی کرتے رہے اور اسامہ کو ایک مملوک آزاد کرنے کا حکم دیا امام احمد اور طبرانی نے عبداللہ بن حدود سے اس کے لگ بھگ ایک واقعہ نقل کیا ہے اس میں مقتول کا نام عامر بن الاضبط الاشجعی اور قاتل کا نام محکم بتایا ہے اور اس میں صرف عامر کے سلام علیک کا ذکر ہے ابن مندہ نے اس واقعہ کو فداء کی طرف منسوب کیا ہے کہ اس نے کہا میں مومن ہوں لیکن اس کے کہنے کا کسی نے یقین نہیں کیا اور اس کو قتل کردیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ چونکہ روایات مختلف ہیں اس لئے اسلام کا ترجمہ کسی نے سلام علیک کیا ہے اور کسی نے استسلام وانقیاد کیا ہے ہم نے تیسیر میں دونوں کی رعایت کی ہے چونکہ یہ واقعہ سفر میں پیش آیا تھا اس لئے ضربتم فی سبیل اللہ فرمایا ورنہ خواہ سفر ہو یا حضرت دونوں میں یہی حکم ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مسلمانو ! جب تم جہاد میں جائو تو ہر بات کی خوب چھان بین کرلیا کرو خواہ وہ قتل کا معاملہ ہو یا کوئی اور معاملہ ہو۔ غرض ! اچھی طرح تحقیق کر کے کیا کرو اور ایسا شخص جو تم کو مسلمانوں کی طرح سلام علیک کرے یا تمہارے سامنے اپنی اطاعت کا اظہار کرے جیسے کلمہ پڑھنایا اپنے کو مومن کہنا تو تم ایسے شخص کو یہ نہ کہا کرو کہ تو مسلمان نہیں ہے اور محض اپنے بچائو کے لئے اپنے کو مسلمان ظاہر کر رہا ہے۔ لاتقولوا کے ساتھ یہ قید لگائی کہ تمہاری حالت یہ ہے کہ تم اس کہنے سے دنیوی سامان کی خواہش کرتے ہو کہ اس کو غیر مسلم کہہ کر قتل کردو اور اس کے مال پر قبضہ کرلو اگر تمہاری یہ خواہش ہے تو اللہ تعالیٰ کی قدرت میں بہتیرا مال غنیمت موجود ہے جو تم کو اس کی پسندیدگی اور اس کی مرضی سے اپنے وقت پر حاصل ہوگا اور جب کوئی چیز حضرت حق تعالیٰ کی خوشنودی سے حاصل ہوسکتی ہے تو اس کی مرضی کے خلاف کیوں حاصل کرو۔ پھر فرمایا تمہاری بھی پہلے حالت ایسی ہی تھی کہ تمہارا صرف اپنے کو مسلمان کہنا کافی سمجھا جاتا تھا اور تمہارے باطن کی تفتیش نہ کی جاتی تھی یا یہ مطلب کہ تم دنیوی اغراض کے لئے پہلے ناحق خون کیا کرتے تھے اور یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ تم بھی پہلے کافروں کی حکومت میں رہتے تھے اور تمہاری کوئی حکومت نہ تھی اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ کفر کی وجہ سے تمہاری جان اور تمہارا مال محفوظ نہ تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان فرمایا۔ احسان کے بھی پہلے جملہ کی مناسبت سے کئی معنی ہوسکتے ہیں یعنی یہ کہ اب تمہارا سلام معروف مشہور ہوگیا یا کہ اب بجائے اغراض دنیوی کے صرف اعلاء کلمۃ اللہ کے لئے خون کرتے ہو یا یہ کہ اب تم کو مستقل حکومت مل گئی یا یہ کہ اب تمہاری اجن اور مال مسلمانوں کے ہاتھوں سے محفوظ ہے پھر تاکید کے طور پر فتبینوا کو مکرر فرمایا اور ہوسکتا ہے کہ دوسرے فتبینوا کے معنی غور و فکر اور سوچنے سمجھنے کے ہوں کہ دیکھو جو کام کرو سوچ سمجھ کر کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں حضرت کے وقت میں مسلمانوں کی فوج پہنچی ایک بستی پر وہاں ایک مسلمان تھا اپنے مویشی کنارے کر کر کھڑا ہوا تھا اور مسلمانوں سے سلام علیک کی لوگوں نے سمجھا کہ غرض کو مسلمانی جتاتا ہے اس کو مارا اور مویشی چھین لئے اس پر یہ آیت اتری۔ یہ جو فرمایا تم ایسے ہی تھے پہلے یعنی غرض دنیا پر خون ناحق کرنے والے لیکن مسلمان ہو کر یہ کام نہ چاہئے تم ایسے ہی تھے پہلے یعنی کافروں کے شہر میں رہتے تھے مستقل حکومت نہ رکھتے تھے۔ (موضح القرآن) چونکہ اوپر سے جہاد کا حکم ہو رہا ہے بیچ میں بعض باتیں مناسبت سے آگئی تھیں، جہاد میں بعض وہ لوگ تھے جو شوق سے جاتے تھے بعض معذور تھے بعض وہ مسلمان بھی تھے جو جہاد میں شریک نہ ہوتے تھے یا نہ ہوسکتے تھے۔ اب آگے ان لوگوں کے اجر وثواب کا باہمی فرق مذکور ہے چناچہ ارشاد ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 4:96–97

دَرَجٰتٍ مِّنْهُ وَ مَغْفِرَةً وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:96 in the Quran reader

وہ اجر عظیم بہت سے درجے ہیں جو خدا کی جانب سے عطا ہوں گے اور بخشش ہے اور مہربانی ہے اور اللہ تعالیٰ بڑا ہی بخشنے والا اور بڑی مہربانی کرنیوالا ہے۔2

اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَالُوْا فِیْمَ كُنْتُمْ١ؕ قَالُوْا كُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ قَالُوْۤا اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوْا فِیْهَا١ؕ فَاُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًاۙ Open ayah 4:97 in the Quran reader

بیشک فرشتے جب ان لوگوں کی جان قبض کرتے ہیں جو ہجرت نہ کر کے اپنے حق میں برا کر رہے ہیں تو وہ فرشتے ان سے پوچھتے ہیں کہ تم کس حال میں تھے وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم اس سر زمین میں بےبس تھے فرشتے جواب میں کہتے ہیں کہ کیا اللہ کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم ہجرت کر کے وہاں چلے جائو سو ایسے لوگوں کا ٹھکانا دوزخ ہے

ف 2 مسلمانوں میں سے اصحاب عذر کے علاوہ وہ لوگ جو گھروں میں بیٹھے رہیں وہ ان مجاہدین کے برابر نہیں ہوسکتے جو اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے ہیں یعنی جو لوگ بغیر کسی عذر شرعی کے گھروں میں بیٹھے رہیں وہ ثواب میں اور فضیلت میں ان لوگوں کے برابر نہیں جو اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جانیں لڑا کر جہاد کرتے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان مجاہدین کا جو اپنے مال اور اپنی جانیں اللہ کی راہ میں لڑاتے ہیں ان بیٹھ رہنے والوں سے درجہ زیادہ کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے مجاہدین باموالہم و انفسہم کو قاعدین پر درجہ کے اعتبار سے فضیلت و بزرگی عطا فرمائی ہے۔ ہاں ! جنت کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے ہر دو فریق سے کر رکھا ہے یعنی جنت کا وعدہ قاعدین اور مجاہدین دونوں سے ہے لیکن اللہ تعالیٰ مجاہدین کو گھر بیٹھنے والوں کے مقابلہ میں بہت بڑا اجر وثواب عطا فرماتا ہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ وہ بہت سے درجات ہیں جو مجاہدین کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے عطا ہوں گے اور ان کے گناہوں کی مغفرت ہے اور ان پر رحمت خداوندی کا نزول ہے اور اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت اور بڑی مہربانی کرنے والا ہے۔ (تیسیر) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں بدن کے نقصان والے یعنی اپاہج جہاد کے حکم سے معاف ہیں باقی لوگوں میں لڑنے والوں کو بڑے درجے ہیں کہ بیٹھنے والوں کو نہیں اگرچہ بیٹھنے والے بھی جنتی ہیں اس سے معلوم ہوا کہ جہاد فرض کفایہ ہے فرض عین نہیں یعنی بعضے جہاد کرتے ہیں تو نہ کرنے والے معاف ہیں اور جو سب موقوف کریں تو سب گناہگار ہیں (موضح القرآن) خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ شرعاً معذور ہیں جیسے اندھے، مریض اور اپاہج وغیرہ ان کو چھوڑ کر باقی لوگوں میں سے جہاد کرنے والے اور بیٹھ رہنے والوں کا فرق بیان فرمایا ہے اور مجاہدین کے ان درجات اور فضیلت اور مغفرت و رحمت کا ذکر فرمایا جو قاعدین کو میسر نہ ہوں گے اور چونکہ جہاد فرض کفایہ ہے اس لئے بیٹھنے والے بھی گناہگار نہ ہوں گے البتہ ان درجات اور فضائل سے محروم رہیں گے جو مجاہدین کو نصیب ہوں گے البتہ جنت میں دونوں فریق جائیں گے کیوں جہاد نہ کرنے والے آخر دوسرے احکام تو بجا لاتے ہی ہیں اس لئے وہ بھی جنتی ہیں جس طرح مجاہدین جنتی ہیں۔ ہاں یہ دوسری بات ہے کہ جنت میں کوئی کہاں ہوتا ہے اور کوئی کہاں ہوتا ہے کون بڑے بڑے درجات کا وارث بنتا ہے اور کون کس مقام پر روک دیا جاتا ہے حسنیٰ اچھی چیز اور اچھے گھر کو کہتے ہیں یہاں حضرت قتادہ نے جنت کے ساتھ تفسیر کی ہے۔ زید بن ثابت کا قول ہے کہ جب یہ آیت نبی کریم ﷺ لکھوا رہے تھے تو اسی وقت عبداللہ بن ام مکتوم آ نکلے انہوں نے آ کر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اگر میں استطاعت رکھتا تو میں ضرور جہاد کرتا اسی وقت نبی کریم ﷺ پر وحی نازل ہوئی اور حضرت جبرئیل غیر اولی الضرر کا جملہ لے کر آئے۔ انس بن مالک کی روایت میں ہے کہ یہ ابن مکتوم کے بارے میں نازل ہوا بہرحال اس استثنا میں ہر قسم کے اپاہج اور معذور لوگ داخل ہیں اور اس امر کی توقع ہے کہ جو لوگ معذور ہوں اور ان کی نیت جہاد کی ہو تو ان کو بھی مجاہدین کی مثل ثواب ملے گا۔ جیسا کہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک غزوے میں فرمایا تھا۔ ان بالمدینۃ رجالا ماقطعتم وادیاولا سرتم مسیراً الا کانوا معکم اولئک قوم حبسھم العذر۔ یعنی کچھ لوگ مدینے میں ہیں لیکن ان کی حالت یہ ہے کہ تم جو میدان قطع کرتے ہو اور جو تم کہیں چلتے پھرتے ہو وہ تمہارے ساتھ ہوتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کو مدینہ میں کسی عذر نے روک رکھا ہے۔ اسی طرح ایک حدیث قدسی میں ہے کہ جب کوئی بندہ بیمار ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب تک یہ بندہ بیمار ہے اس کے وہ عمل لکھتے رہو جو یہ صحت کے زمانے میں کیا کرتا تھا یہاں تک کہ یہ تندرست ہوجائے۔ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ یہ معذور جہاد کے ثواب میں تو شریک ہوں گے لیکن وہ فضیلت ان کو نہ ہوگی جو جہاد کرنے والوں کو ہوگی۔ بعض اہل علم نے اس فرق سے بھی انکار کیا ہے۔ واللہ اعلم ہوسکتا ہے کہ مباشر اور عازم دونوں برابر ہوں اور ہوسکتا ہے کہ کمیت ثواب میں فرق ہو۔ پہلے جو درجہ ذکر کیا تھا اسی کی آخر میں تاکید فرمائی اور تفصیل بیان فرمائی کہ وہ درجہ اجر عظیم ہے اور وہ اجر عظیم یہ ہے کہ اعمال مختلفہ پر بہت سے درجات مختلفہ کا حصول موقوف ہے اور مغفرت و رحمت ہے، منہ درجات کے ساتھ متعلق ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مغفرت و رحمت میں بھی اس قید کا لحاظ ہو جیسا کہ بعض مفسرین نے یوں ترجمہ کیا ہے کہ ان لوگوں کے لئے اللہ کی جانب سے درجات اور مغفرت و رحمت ہے۔ واللہ اعلم۔ ہر چند کہ جہاد کا اصل حکم فرض کفایہ ہے جیسا حضرت شاہ صاحب نے فرمایا ہے لیکن بعض اوقات میں یہ فرض عبن ہوجاتا ہے جس کی تفصیل کتب فقہ سے معلوم ہوسکتی ہے۔ اب آگے جہاد کی مناسبت سے ہجرت کا ذکر فرماتے ہیں چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 4:98

اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ حِیْلَةً وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ سَبِیْلًاۙ Open ayah 4:98 in the Quran reader

اور وہ دوزخ بہت ہی بری باز شت ہے مگر ہاں جو مرد اور عورتیں اور بچے واقعی ایسے بےبس ہوں کہ نہ تو وہ کوئی تدبیر کرسکتے ہیں اور نہ وہ راستے سے واقف ہیں1

ف 1 یقینا جب فرشتے ایسے لوگوں کی جان قبض کرتے ہیں جو باوجود استطاعت کے ہجرت نہ کر کے اپنے حق میں برا کر رہے ہیں تو اس وقت وہ فرشتے ان سے دریافت کرتے ہیں کہ تم لوگ کس حالت میں تھے اور کیا کام کیا کرتے تھے وہ جواب دیتے ہیں ہم اس سر زمین میں محض عاجز و بےبس تھے وہ فرشتے کہتے ہیں کیا اللہ تعالیٰ کی زمین وسیع اور کشادہ نہ تھی کہ تم اس زمین میں ترک وطن کر کے چلے جائو اور یہاں سے نکل جائو لہٰذا ایسے لوگوں کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ دوزخ بہت بری بازگشت اور پھر جانی کی بری جگہ ہے ۔ مگر ہاں جو مرد اور عورتیں اور بچے واقعی ایسے بےبس ہوں کہ نہ تو وہ کوئی تدبیر کرسکتے ہوں اور نہ راستے سے واقف ہوں۔ (تیسیر) شاید یاد ہوگا ہم ن اس صورت کی تمہید میں عرض کیا تھا کہ مسلمان مدینہ میں جس قدر ترقی کرتے جاتے تھے اور ملک میں ان کا اقتدار بڑھتا جاتا تھا اسی قدر نئی نئی ضروریات پیش آتی جاتی تھیں اور ان ضروریات کے متعلق احکام نازل ہوتے رہتے تھے مکہ کی زندگی میں مجبوریاں ہی مجبوریاں تھیں ، ہجرت کے بعد ایک ایسی سر زمین نصیب ہوئی جہاں مسلمان بےخوف و خطر احکام اسلامی پر عمل کرنے کے قابل ہوئے لہٰذا جو لوگ مکہ میں باقی رہ گئے تھے وہ بےبس کی زندگی بسر کر رہے تھے ان کے لئے ضروری ہوا کہ وہ آزاد سر زمین پر چلے جائیں اسی طرح اگر آس پاس کی بستی میں کوئی مسلمان ہوگیا اور وہاں کفار کے غلبہ کی وجہ سے آزادانہ احکام اسلامی پر عمل نہ کرسکتا ہو تو اس کو بھی حکم ہوا کہ وہ آزاد سر زمین کی طرف ہجرت کر کے نکل آئے۔ یہاں تک کہ ابھی ہم نے کچھ اوپر عرض کیا تھا کہ ہجرت کلمہ توحید کے قائم مقام قرار دی گئی ہجرت کر کے دار الاسلام میں چلا آنا توحید و رسالت کا اقرار شمار ہوتا تھا اور جو شخص ہجرت کر کے نہ آئے اس کی ولایت اور نصرت کی ممانعت کی گئی اور جس طرح جہاد عام مفاد انسان کے لئے فرض کیا گیا اسی ہجرت خاص مفاد کے لحاظ سے فرض کی گئی ۔ جہاد سے عام انسانوں کو امن دینا اور امن کی زندگی بسر کرنے کا موقع دینا ہوتا ہے کہ اصل اشاعت اسلامی یہی ہے تو ہجرت میں شخصی امن اور شخصی عافیت اور آزادی کے ساتھ احکام اسلامی پر عمل مقصود ہوتا ہے اور چونکہ ترک وطن ایک مشکل اور سخت کام ہے اس لئے لوگ وطن کے لالچ میں بےبسی کی زندگی پر قناعت کرتے تھے ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے وعید نازل کی کیونکہ ہجرت کی قدرت اور استطاعت کے ہوتے ہوئے ہجرت نہ کرنا اس کا مطلب یہ ہے کہ پورے دین پر عمل نہ کرنے اور تمام احکام کے بجا نہ لانے پر رضا مند ہو اس لئے تارکین ہجرت پر وعید فرمائی اور یہاں اس وعید کا ایک مخصوص طریقہ اختیار کیا کہ جو لوگ باوجود قدرت و استطاعت کے تارک ہجرت ہوں اور ترک ہجرت کی وجہ سے گناہ گارہوں جیسا کہ فرض کا تارک گناہگار ہوتا ہے تو اس کی جان نکالتے وقت اس سے فرشتے سوال کرتے ہیں فیم کنتم یعنی تم کس حال میں تھے یعنی کیا تم مسلمان تھے جیسا کہ تم اپنی زبان سے کہا کر تھے یا تم کافر تھے، جیسا کہ تمہارا مقام ظاہر کرتا ہے اور بلا عذر کفار کے ساتھ تمہاری موافقت اور ان کے ساتھ تمہارے رہن سہن سے ظاہر ہوتا ہے یا یہ مطلب کہ تم دین کے کیا کیا ضروری کام کیا کرتے تھے اور کون کون سے کام چھوڑے بیٹھے تھے یا یہ مطلب کہ تم قوت وضعف کی کس حالت میں تھے، سوال چونکہ تو بیخا ہوگا اس لئے بعض لوگوں نے یہ مطلب بیان کیا کہ تم کچھ بھی نہیں تھے اور تمہارا کوئی دین نہیں تھا وہ جواب میں اپنی بےبسی کا اظہار کرتے ہیں کہ ہم اس سر زمین میں مغلوب تھے یعنی کفار کے دبائو کی وجہ سے تمام ضروریات دین پر عمل نہ کرسکتے تھے وہ جواب دیں گے کہ کیا خدا کی زمین کشادہ نہیں ہے تم کو کسی اور ایسی جگہ چلا جانا چاہئے تھا جہاں تم تمام ضروریات دین پر عمل کرسکتے اور آزادی کے ساتھ احکام اسلامی کو بجا لاتے اور فرائض کو ادا کرتے فرشتوں کی اس بات کو سن کر یہ کوئی جواب نہ دیں گے اور ان پر چونکہ جرم ثابت ہوجائے گا تو اس کی جزا بیان فرمائی۔ آگے ان لوگوں کو مستثنیٰ فرمایا جو واقعی بےبس اور ہجرت کے قابل نہیں۔ استنثیٰ متصل ہو تو ماواھم کی ضمیر سے استثنا ہوگا اور اگر استثناء منقطع ہے تو مطلب ظاہر ہی ہم نے ترجمہ اور تیسیر دونوں کی رعایت رکھی ہے۔ جن مردوں کی جانب اشارہ فرمایا ہے ان سے وہ مرد مراد ہیں جو بوڑھے ہوں یا اپاہج ہوں یا صاحب عیال ہوں پیدل چل نہ سکتے ہوں سواری کی استطاعت نہ ہو رہی عورتیں تو وہ کمزور و ناتواں ہوتی ہی ہیں۔ رہے بچے تو باوجود مکلف نہ ہونے کے ان کا ذکر مبالغہ کی غرض سے فرمایا کہ جب غیر مکلف کا بھی ذکر ہے تو جو لوگ مکلف ہیں ان کا کیا حال ہوگا یا یہ مطلب ہو کہ بچے اگرچہ گناہ نہ ہوں لیکن یہ ترک ہجرت کا فعل تو انتہائی برا ہے اور بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ بچوں کا ذکر اس لئے فرمایا تاکہ یہ بات معلوم ہو سکے کہ وہ شخص مستثنیٰ ہوسکتا ہے جو بچوں کی طرح مجبور ہو یا اس لئے ذکر فرمایا کہ ہجرت کی اہمیت معلوم ہو کہ اگرچہ ان پر اس وقت واجب نہیں۔ لیکن بالغ ہونے کے بعد واجب ہوجائے گی اس سے بچ نہیں سکیں گے۔ اگر باوجود بچہ ہونے کے بھی ان کو بالواسطہ یا بلاواسطہ قدرت حاصل ہوجائے تو ان کو ہجرت کر لینی چاہئے یا ان کے اولیاء پر اس امر کو ظاہر کرنا ہوگا کہ اگر قدرت حاصل ہوجائے تو بچوں کو بھی دارالفکر میں نہیں چھوڑنا چاہئے ان کو ہمراہ لے کر نکلنا چاہئے۔ (واللہ اعلم) آگے ان کمزوروں کی صفت بیان فرمائی کہ نہ کوئی حیلہ کرسکتے ہیں اور نہ راستے سے واقف ہیں۔ حیلہ سے مراد اسباب ہجرت ہیں یعنی اسباب ہجرت کا فقدان اسباب عام ہیں ینی جو صورت بھی ہجرت کو ممکن بنا دے اس میں سے کسی پر قادر نہیں۔ دوسرے جملہ کا مطلب یہ ہے کہ راستے سے ناواقف ہیں جیسا کہ بعض مہاجرین کے ساتھ ایسا ہو بھی چکا تھا کہ وہ راستہ نہ جاننے کی وجہ سے ٹکراتے پھرے اور مکہ کے کافران کو پھر پکڑ کرلے گئے یہ ہوسکتا ہے کہ آیت کا نزول کسی خاص واقعہ کے متعلق ہو جیسے قیس بن الکنالہ اور قیس بن الولید وغیرہ کہ ان لوگوں کو باوجود مسلمان ہونے کے کفار مکہ اپنی بھیڑ بڑھانے کو میدان جنگ میں لے جاتے تھے۔ بہرحال ! جن لوگوں کو مستثنیٰ قرار دیا تھا آگے ان کی معافی کا اعلان فرمایا۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے (تسہیل)