4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 4:99

فَاُولٰٓئِكَ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّعْفُوَ عَنْهُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَفُوًّا غَفُوْرًا Open ayah 4:99 in the Quran reader

تو کچھ بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ ایسے معذوروں کو معاف فرما دے اور اللہ تعالیٰ بڑا معاف کرنے اور بہت بخشنے والا ہے2

ف 2 لہٰذا ایسے لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ سے کچھ بعید نہیں کہ وہ ان سے در گزر فرمائے اور امید ہے کہ ان کو معاف کر دے اور اللہ بہت معاف کرنے والا بڑا بخشنے والا ہے (تیسیر) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یہ حال فرمایا ان کا جو کافروں کے ملک میں دل سے مسلمان ہیں اور ظاہر نہیں ہوسکتے ان کے ظلم سے تو اگر اپنی کمائی آپ کرتے ہیں اور سفر کی تدبیر سے واقف ہیں تو ان کا عذر قبول نہیں اور ملک میں جا رہیں۔ زمین اللہ کی کشادہ ہے اور اگر ناچار ہیں پرائے بس میں تو امید ہے معاف ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس ملک میں مسلمان کھلا نہ رہ سکے وہاں سے ہجرت فرض ہے ۔ (موضح القرآن) یہاں جن لوگوں کو مستثنیٰ فرمایا تھا ظاہر ہے کہ وہ گناہ گار نہ تھے پھر بھی ان کے لئے معافی کا اعلان فرمانا امر ہجرت کی تاکید ہے تاکہ یہ بات سمجھی جائے کہ جب معذورین کو بھی معافی کی ضرورت ہے تو غیر معذورین کا کیا حال ہوگا یا معافی سے ترک ہجرت کے گناہ ہونے پر اشارہ کرنا مقصود ہو اور یہ بتانا ہو کہ یہ فعل فی نفہ بہت برا ہے اگرچہ کسی کے حق میں اس کا گناہ لکھا نہ جائے اور اس کے حق میں یہ گناہ گناہ قرار نہ دیا جائے کہیں ن لکھنے سے اس کو تعبیر کیا جاتا ہے اور کہیں معافی سے اس کو تعبیر کیا جاتا ہے اور مطلب یہ ہوتا ہے کہ ترک ہجرت حقیقتاً تو بہت بڑا گناہ ہے گو معذورین کے حق میں یہ گناہ گناہ نہیں ہے اور ان کے حق میں قابل عفو ہے۔ رہی یہ بات کہ عسی اللہ کیوں فرمایا۔ عسی تو ترجی کے لئے ہوتا ہے، جیسا کہ ہم نے ترجمہ میں اللہ سے کچھ بعید نہیں اور تیسیر میں امید ہے، لکھا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ عسی قرآن میں جہاں کہیں اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہے وہاں وہ وجوب اور یقین کے لئے ہوتا ہے ، دوسرا جواب یہ ہے کہ بادشاہوں کی اصطلاح میں امید کا کلمہ یقین کے طور پر عام لوگوں کے لئے ہوا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ تو ملک الملوک ہے اس کا عسی فرمانا یقین کے قائم مقام بالا ولیٰ ہونا چاہئے۔ (واللہ اعلم) آیت وجوب ہجرت پر دلالت کرتی ہے جیسا کہ حضرت شاہ صاحب نے فرمایا ہے اور ہجرت کی فضیلت میں بکثرت احادیث وارد ہیں اور سیاسی نقطہ نگاہ سے بھی ابتداء اسلام میں یہ چیز بہت ضروری تھی علاوہ اس کے کہ کفار مسلمانوں پر انواع و اقسام کے ظلم کرتے تھے ان کو زبردستی اپنی فوج میں شامل کر کے میدان جنگ میں بھی لے جاتے تھے اور جب وہ عذر کرتے تھے کہ ہم مسلمان ہیں مسلمانوں پر تلوار نہیں اٹھا سکتے تو ان سے کہتے تھے تم لڑنا نہیں مگر تم کو ہمارے ساتھ چلنا ہوگا اور اس ہمراہ لے جانے سے مقصد یہ ہوتا تھا کہ ہماری تعداد زیادہ معلوم ہوگی اور مسلمان مرعوب ہوں گے۔ اور اس ہمراہ لے جانے سے مقصد یہ ہوتا تھا کہ ہماری تعداد زیادہ معلوم ہوگی اور مسلمان مرعوب ہوں گے، اس لئے مسلمانوں پر ہجرت کو لازمی قرار دیا گیا کہ مسلمان دار الاسلام کی طرف چلے آئیں تاکہ مشرکین کی تعداد بڑھانے کا موجب نہ ہوں۔ اب آگے ہجرت کی اور ترغیب وتحریض مذکور ہے اور یہ بتانا مقصود ہے کہ جب ہجرت کے ارادے سے کوئی شخص نکل آئے تو راہ کے موانع اس کے اجر وثواب کو کم نہیں کرتے۔ جیسا کہ جندع بن خمرہ کا واقعہ روایات میں آتا ہے کہ وہ باوجود مریض ہونے اور بیمار ہونے کے نکل چلے اور چونکہ جندع بہت بوڑھے تھے اس لئے ان کو چار پائی پر ڈال کرلے چلے لیکن تنعیم تک پہنچے تھے کہ ان کا انتقال ہوگیا جب یہ خبر مدینہ پہنچی تو مسلمانوں نے کہا لودافی المدینۃ لکان اتم واردنی اجراً یعنی اگر مدینہ پہنچ جاتا تو مرنے والے کو پورا اجر وثواب ملتا اور مشرکین نے کہا۔ ماادرک ما طلب یعنی جو مطلوب تھا وہ کھو بیٹھا اور اس کو پانہ سکا یا اسی طرح کا واقعہ خمر بن جندب کا بیان کیا جاتا ہے کہ ان کا بھی راستے میں انتقال ہوگیا تھا یا خالد بن حرام کا واقعہ ہو کر وہ ہجرت کر کے حبشہ جا رہے تھے راستے میں ایک سانپ کے کاٹنے سے موت واقع ہوگئی بہرحال کسی ایک شخص کے ساتھ یا چند اشخاص کے ساتھ ایسا ہوا ہوگا کیونکہ موت کا وقت تو معین نہیں اور صد ہا آدمیوں نے ہجرت کی تھی اور بعض بھی ہوں گے جنہوں نے منزل مقصود پر پہنچنے سے قبل ہی داعی اجل کو لبیک کہا ہوگا چونکہ آیت مدنی ہے اس لئے بعض مفسرین نے خالد بن حرام کے واقعہ سے اس کے تعلق کا انکار کیا ہے لیکن شان نزول خواہ کسی کے حق میں ہو بہتر یہی ہے کہ اس کو عام رکھا جائے بہرحال جیسا کہ ہم نے عرض کیا ہے۔ آگے کی آیت کا مقصد ترغیب اور ثواب کی تکمیل ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 4:100

وَ مَنْ یُّهَاجِرْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یَجِدْ فِی الْاَرْضِ مُرٰغَمًا كَثِیْرًا وَّسَعَةً١ؕ وَ مَنْ یَّخْرُجْ مِنْۢ بَیْتِهٖ مُهَاجِرًا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ یُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَ قَعَ اَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:100 in the Quran reader

اور جو شخص اللہ کی راہ میں ترک وطن کرے گا تو وہ زمین میں بہت جگہ اور بڑی فراخی پائے گا اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کے لئے اپنے گھر سے ہجرت کی نیت سے نکل کھڑا ہوا پھر اتفاقاً اس کو موت نے آلیا تو ایسے شخص کا اجر وثواب اللہ کے ذمہ ثابت ہوچکا اور اللہ تعالیٰ بڑی بخشش کرنیوالا نہایت مہربانی کرنیوالا ہے۔3

ف 3 اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہجرت کرے گا اور ترک وطن اختیار کرے گا تو وہ زمین میں بسنے کے لئے بہت جگہ اور بسر اوقات اور دین کی حفاظت کے لئے بہت فراخی اور گنجائش پائے گا اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کے لئے اور اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرنے کی نیت سے اپنے گھر سے نکل کھڑا ہوا۔ پھر مقصد تک پہنچنے سے پہلے اتفاقاً اس کو موت نے آلیا تو ایسے شخص کا اجر وثواب وعدہ کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ثابت ہوچکا اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا بڑی مہربانی کرنے والا ہے۔ فی سبیل اللہ کا مطلب یہ ہے کہ ہجرت کا مقصد صحیح ہو کسی دنیوی غرض کے لئے یا عورت وغیرہ کے لئے ہجرت نہ ہو بلکہ اپنے دین کی حفاظت اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی خوشنودی مقصود ہو۔ مراغماً کے لوگوں نے بہت سے معنی کئے ہیں پھرجانے کی جگہ ایک زمین سے دوسری زمین تک کا راستہ ناپسند چیز سے بعد بھاگنے کی جگہ، قلعہ، مہاجر، بعض لوگوں نے کہا عرب کا ایک محاورہ ہے۔ رغم انفہ یعنی اس کی ناک خاک آلود ہو۔ اس کا مطلب ہوتا ہے کہ ذلیل و رسوا ہو مہاجر کو مراغم اس لئے کہتے ہیں کہ وہ اپنے دشمنوں کی ذلت و رسوائی کا موجب ہوتا ہے۔ مدعا یہ ہے کہ اس کو خدا کی زمین میں جانے کو اور رہنے کو بہت جگہ ملے گی۔ بیحتہ کے معنی گنجائش اور کشادگی کے ہیں۔ یہاں مراد رزق کی فراخی ہے یا دین کی آزادی اور آزادی کے ساتھ دین کے کاموں پر عمل کرنا مراد ہے۔ ہم نے تیسیر میں دونوں کی رعایت رکھی ہے۔ الی اللہ و رسولہ کا یہ مطلب ہے کہ ایسی جگہ کے لئے ہجرت کی نیت سے نکل کھڑا ہوا جہاں اللہ اور رسول کے حکم کی پوری پوری تعمیل کا موقعہ میسر آسکے بہرحال آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص صحیح مقصد سے ترک وطن کرے گا تو اس کو علی رغم اعدا جانے کے لئے اور رہنے کے لئے بہت جگہ ملے گی اور وہ بہت جگہ پائے گا اسی طرح اس کے رزق میں بھی وسعت ہوگی اور دین پر آزادی سے عمل پیرا ہونے کی گنجائش حاصل ہوگی اور جو شخص اللہ و رسول کی خوشنودی و رضا مندی کی نیت سے اپنے گھر سے ہجرت کے لئے نکل کھڑا ہوگا تو اگرچہ وہ منزل مقصود تک نہ پہنچ سکے اور راستے ہی میں اس کو موت آپکڑے ۔ تب بھی اللہ تعالیٰ کے ذمہ اس کا اجر ثابت ہوگیا گو ابھی ہجرت کی تکمیل نہیں ہوئی لیکن اس کی نیت ہونے کی وجہ سے اس سے یہ وعدہ ہے کہ اس کو پورا صلہ عطا ہوگا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی روزی کا ڈر نہ چاہئے کہ بہت جگہ روزی مل رہتی ہے کشائش سے اور یہ خطرہ نہ ہونا چاہئے کہ شاید راہ ہی میں مارے جاویں کہ اس میں ثواب پورا ہے اور موت اپنے وقت سے پہلے نہیں۔ (موضح القرآن) اس آیت میں بڑی بشارت ہے ان لوگوں کے لئے جو سکی کام کو نیک نیت کے ساتھ شروع کردیں اور اس کے کام کے پورا ہونے سے قبل موت آجائے یا اچانک موت پیش آجائے اور موت واقع ہوجائے مثلاً سانپ کاٹ لے یا کوئی دشمن قتل کر دے یا سواری پر سے گرپڑے تو اللہ تعالیٰ اس کو پورا ثواب عطا فرمائے گا۔ اگرچہ یہاں دارالحرب سے اپنے دین کی حفاظت کے لئے دار الاسلام کی طرف ہجرت کرنے کا ذکر ہے لیکن بعض اہل علم نے ہر وہ ہجرت جو طلب علم کے لئے ہو یا حج کے لئے ہو یا جہاد کے لئے ہو یا ایک ایسے شہر کی طرف ہو جس میں زہد وتقویٰ کے حصول کی امید ہو یا پاکیزہ اور حلال روزی تلاش کرنے کی غرض سے وہاں جائے تو یہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرنے کے حکم میں ہوگا اور اگر راستے میں موت آجائے گی تو اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہوگا۔ واللہ اعلم یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ سب سے بڑی اور بہتر ہجرت اس شخص کی ہے جو گناہوں کو چھوڑ کر نیکیوں کی طرف ہجرت کرتا ہے یعنی نواہی کو ترک کر کے اوامر کو اختیار کرتا ہے۔ حضرات سالکین کا قول ہے کہ اصل ہجرت اس شخص کی ہے جو بلد لشریت کو چھوڑ کر ربویت کی حضوری کو طلب کرتا ہے۔ صوفیائے کرام نے اس پر بحث کی ہے لیکن وہ تمام امور تصحیح نسبت پر موقوف ہیں جو آج کل طلب کرتا ہے ، صوفیائے کرام نے اس پر بحث کی ہے لیکن وہ تمام امور صحیح نسبت پر موقوف ہیں جو آج کل مفقود ہے ہرچند کہ فتح مکہ کے بعد مکہ سے مدینے کی طرف ہجرت کرنا فرض نہیں رہا لیکن کسی دارالحرب سے دارالاسلام کی طرف ہجرت کرنے کا حکم اب بھی موجود ہے جہاں ایک مسلمان اپنے دین کی حفاظت کرسکے۔ البتہ یہ دوسری بات ہے کہ کہیں دارالاسلام ہی باقی نہ رہا ہو۔ اوپر سے جہاد اور ہجرت کا بیان ہو رہا تھا اب اسی سلسلے میں جو سفر ہوتا ہے اس کے بعض احکام بیان کئے جاتے ہیں کیونکہ بسا اوقات اس قسم کے سفر میں خطرات بھی پیش آتے ہیں اور باوجود خطرات کے سفر خود بھی ایک مستقل صعوبت اور تکلیف کی چیز ہے پھر ایسی حالت میں نماز جو اوقات مقررہ کے ساتھ محدود ہے اس کی ادائیگی کی صورت کا بیان ہے تاکہ فریضہ نماز بھی اپنے وقت میں ادا ہوجائے اور فریضہ جہاد بھی پورا ہوجائے یا مسافر کا سفر بھی جاری رہے ۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 4:101

وَ اِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَلَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوةِ١ۖۗ اِنْ خِفْتُمْ اَنْ یَّفْتِنَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ اِنَّ الْكٰفِرِیْنَ كَانُوْا لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِیْنًا Open ayah 4:101 in the Quran reader

اور جب تم ملک میں سر کرو تو تم کو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ تم نماز میں قصر کیا کرو اگر تم کو یہ خوف ہو کہ کافر تم کو کسی پریشانی میں مبتلا کردیں گے بلا شبہ کافر تمہارے کھلے دشمن ہیں۔1

ف 1 اور جب تم ملک میں سفر کرو تو سفر کی حالت میں تم پر اس بات کا کوئی گناہ نہیں کہ تم نماز میں قصر کرلیا کرو یعنی جس میں چار فرض ہیں بجائے چار کے دو پڑھا کرو اور اگر تم اس بات کا خوف کرتے ہو کہ کافر تم کو اپنی شرارت سے کسی فتنے اور پریشانی میں مبتلا کریں گے بلاشبہ کافر تمہارے صریح اور کھلے ہوئے دشمن ہیں۔ (تیسیر) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں سفر جو تین منزل کا ہو اس میں چار رکعت فرض آیا اس تقریب سے معافی ملی ہر وقت کو اور پوری نہ پڑھئے کہ اللہ صاحب کی بخشش سے بےپروائی ہوتی ہے اور سنت کا تقیہ سفر میں نہیں رہتا۔ (موضح القرآن) مطلب یہ ہے کہ شرعی سفر وہ معتبر ہے جو کم از کم تین منزل کا ہو تین منزل سے کم کا سفر قصر کے لئے کافی نہیں۔ قصر سے مراد یہ ہے کہ جن نمازوں کی چار رکعتیں فرض ہیں جیسے ظہر، عصر اور عشاء ان میں بجائے چار فرضوں کے دو فرض پڑھے جائیں اور کافروں کی شرارت کے اندیشہ کا ذکر اس وقت کے حالات کی بنا پر فرمایا ہے اب اگر یہ اندیشہ نہ بھی ہو تب بھی قصر کرنا ہوگا جیسا کہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے حنفیہ کے نزدیک سفر میں نماز کا قصر کرنا رخصت نہیں بلکہ عزیمت ہے یعنی یہ اختیار نہیں کہ چاہے دو پڑھے یا پوری چار پڑھ لے بلکہ دو ہی پڑھنی چاہئیں۔ سفر میں سنتوں کی تاکید باقی نہیں رہتی لیکن سنتوں میں قصر نہیں ہے اگر سنتیں نہ پڑھے تو مواخذہ نہیں لیکن پڑھے تو پوری پڑھے و ترچون کہ واجب ہیں اس لئے ان کی حالت بدستور رہے گی سفر خواہ خشکی کا ہو یا تری کا دونوں کا حکم یکساں ہے۔ مسافر جب کسی شہر یا قصبہ میں قیام پذیر ہو تو اگر پندرہ دن یا پندرہ دن سے زیادہ دن رہنے کی نیت کرے تو وہ شرعاً مسافر نہیں ہتا بلکہ وہ مقام جہاں اس نے پندرہ یا پندرہ دن سے زیادہ قیام کی نیت کی ہے وہ وطن اقامت ہوجاتا ہے۔ اور یہ جو فرمایا فلیس علیکم جناح اس کا یہ مطلب نہیں کہ چاہے قصر کرو یا نہ کروئی کوئی گناہ نہیں بلکہ یہ ایک شبہ کا جواب ہے کہ شاید قصر کریں اور چار کی بجائے دو رکعتیں پڑھیں تو کوئی گناہ ہو اس گناہ کی نفی فرمائی ہے کہ کوئی گناہ نہیں بلکہ دو پڑھنی چاہئیں۔ حضرت یعلی بن امیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر سے دریافت کیا کہ اے امیر المومنین اللہ تعالیٰ نے فرمایا اگر تم کو کافروں کی فتنہ پردازی کا اندیشہ ہو تو قصر کرنے میں کوئی گناہ نہیں اور اب تو امن حاصل ہوچکا ہے۔ حضرت عمر نے کہا مجھ کو بھی یہ خیال ہوا تھا تو میں نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں عرض کیا تو آپ ﷺ نے جواب دیا یہ ایک رعایت اور صدقہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے تم پر صدقہ کیا ہے لہٰذا تم اس کا صدقہ اور اس کی رعایت کو قبول کرو۔ (مسلم) اس روایت سے معلوم ہوا اگرچہ خاص حالات میں رعایت کا اعلان کیا گیا تھا مگر یہ رعایت ہر سفر میں دائماً ہے اس موقعہ پر اور بھی مختلف مباحث ہیں مزید تفصیل مطلوب ہو تو تفسیر مظہری اور کتب فقہ کا مطالعہ کیا جائے ہم ان میں سے بعض چیزوں کا ذکر سورة بقرہ میں روزے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے عرض بھی کرچکے ہیں اب آگے کفار کے خطرے کے وقت نماز کا طریقہ تعلیم فرماتے ہیں اور نماز کے اس طریقہ کو جو آگے مذکور ہوتا ہے صلوۃ الخوف کہتے ہیں۔ یہاں عام طور پر سفر کا لحاظ کرتے ہوئے دو رکعتوں کے پڑھنے کا طریقہ تعلیم فرمایا ہے لیکن اگر سفر نہ ہو بلکہ مسلمانوں کو اپنی بستی کے قریب ہی جہاد کرنے کی نوبت آئے تو اسی طریقہ سے چار رکعتیں پڑھنی ہوں گی۔ یعنی بجائے ایک رکعت کے دو رکعتیں ایک گروہ امام کے ساتھ پڑھے گا اور دو رکعتیں دوسرا گروہ امام کے ساتھ ادا کرے گا۔ بہرحال ! اب صلوۃ الخوف کا طریقہ تعلیم فرماتے ہیں چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 4:102

وَ اِذَا كُنْتَ فِیْهِمْ فَاَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلٰوةَ فَلْتَقُمْ طَآئِفَةٌ مِّنْهُمْ مَّعَكَ وَ لْیَاْخُذُوْۤا اَسْلِحَتَهُمْ١۫ فَاِذَا سَجَدُوْا فَلْیَكُوْنُوْا مِنْ وَّرَآئِكُمْ١۪ وَ لْتَاْتِ طَآئِفَةٌ اُخْرٰى لَمْ یُصَلُّوْا فَلْیُصَلُّوْا مَعَكَ وَ لْیَاْخُذُوْا حِذْرَهُمْ وَ اَسْلِحَتَهُمْ١ۚ وَدَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ تَغْفُلُوْنَ عَنْ اَسْلِحَتِكُمْ وَ اَمْتِعَتِكُمْ فَیَمِیْلُوْنَ عَلَیْكُمْ مَّیْلَةً وَّاحِدَةً١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِنْ كَانَ بِكُمْ اَذًى مِّنْ مَّطَرٍ اَوْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَنْ تَضَعُوْۤا اَسْلِحَتَكُمْ١ۚ وَ خُذُوْا حِذْرَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 4:102 in the Quran reader

اور جب آپ ان مسلمانوں کے درمیان موجود ہوں اور آپ اپنے ہمرائیوں کو نماز پڑھانے کھڑے ہوں تو چاہئے کہ ان میں سے ایک گروہ آپ کے ساتھ نماز پڑھنے کھڑا ہوجائے اور یہ لوگ اپنے اپنے ہتھیار اپنے ساتھ لے لیں پھر جب یہ لوگ سجدہ کر چکیں تو ان کو چاہئے کہ وہ تمہارے پیچھے چلے جائیں۔ اور دوسرا گروہ جس نے ابھی نماز نہیں پڑھی ان کو چاہئے کہ وہ آجائیں اور آپ کے ہمراہ نماز پڑھیں لیکن یہ دوسرا گروہ بھی اپنے بچائو کا سامان اور اپنے ہتھیار اپنے ساتھ لے لے2 کیونکہ کافر یہ آرزو رکھتے ہیں کہ کسی طرح تم اپنے اسلحہ اور اپنے جنگی سامان سے غافل ہو جائو تو وہ تم پر ایک دم ٹوٹ پڑیں اور اگر تم کو بارش کی وجہ سے کوئی دشواری ہو یا تم بیمار ہو تو تم کو اس بات میں بھی کچھ گناہ نہیں کہ تم اپنے ہتھیار اتار کر رکھ دو اور صرف اپنی حفاظت کا سامان لے لو یقین جانو ! کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لئے ذلت آمیز عذاب تیار کر رکھا ہے۔1

ف 2 اور اے پیغمبر ﷺ ! جب آپ مسلمانوں میں تشریف رکھتے ہوں اور آپ ان میں موجود ہوں اور آپ اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھانے کا ارادہ کریں اور ان کو نماز پڑھانے کے ارادے سے کھڑے ہوں تو ایسی حالت میں یوں کرنا چاہئے کہ مسلمانوں کے دو حصے کر دئیے جائیں ان دو میں سے ایک گروہ تو آپ کے ساتھ نماز پڑھنے کھڑا ہوجائے اور یہ لوگ جو آپ کے ساتھ نماز میں شریک ہونے والے ہیں۔ حسب ضرورت اپنے اپنے ہتھیار اپنے ساتھ رکھیں یعنی ہتھیار بند ہو کر نماز پڑھیں پھر جب یہ لوگ سجدہ کر چکیں یعنی ایک رکعت پوری کر چکیں تو یہ لوگ تمہارے پیچھے چلے جائیں اور پیچھے ہوجائیں اور مسلمانوں کا وہ دوسرا گروہ جس نے ابھی نماز نہیں پڑھی آپ کے ساتھ نماز شروع نہیں کی وہ ان کی بجائے آجائیں اور آپ کے ساتھ نماز پڑھ لیں یعنی ایک رکعت جو آپ کو پڑھنی باقی ہے وہ آپ کے ستھ ادا کرلیں اور یہ دوسرا گروہ بھی اپنے بچائو کا سامان اور اپنے ہتھیار اپنے ہمراہ رکھے۔ یعنی یہ بھی ڈھال تلوار وغیرہ لے کر نماز پڑھیں۔ (تیسیر) حضرت حق تعالیٰ نے صلوۃ الخوف کا طریقہ تعلیم فرمایا ہے چونکہ جنگ مختلف صورتیں پیش آتی ہیں سکی وقت گھمسان کی لڑائی ہوتی ہے کسی وقت دور سے نشانہ بازی ہوتی ہے کسی وقت جنگ نہیں ہوتی مگر دو طرفہ فوجیں کھڑی ہوتی ہیں کسی وقت دشمن کی فوج سامنے نہیں ہوتی مگر افواہیں اور ان افواہوں کے ساتھ دشمن کے اچانک حملے کا خطرہ ہوتا ہے۔ ان صورتوں میں سے بعض کا حکم ہم سورة بقرہ میں عرض کرچکے ہیں یہاں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ صورتیں مراد پیش آتی ہیں کسی وقت گھمسان کی لڑائی ہوتی ہے کسی وقت دور سے نشانہ بازی ہوتی ہے کسی وقت جنگ نہیں ہوتی مگر دو طرفہ فوجیں کھڑی ہوتی ہیں کسی وقت دشمن کی فوج سامنے نہیں ہوتی۔ مگر افواہیں اور ان افواہوں کے ساتھ دشمن کے اچانک حملے کا خطرہ ہوتا ہے۔ ان صورتوں میں سے بعض کا حکم ہم سورة بقرہ میں عرض کرچکے ہیں یہاں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ صورتیں مراد ہیں جب حملے کا خطرہ تو ضرور ہو لیکن جنگ نہ ہو رہی ہو اور نماز کا وقت آ اجئے اور ہر مسلمان کی یہ خواہش ہو کہ میں پیغمبر ﷺ کے ہمراہ نماز ادا کروں تو ایسے وقت لشکر کو دو گروہ کرلیا جائے۔ اور اے پیغمبر ﷺ ! آپ ایک گروہ کو پہلے ایک رکعت پڑھا دیں اور دوسرا گروہ نگہبانی اور دیکھ بھال کی وجہ سے پیچھے کھڑا رہے اور نماز میں شریک ہونے والے ضرورت کے موافق ہتھیار لئے رہیں کہ نہ معلوم کس وقت جنگ ہوجائے اور ہتھیار لینے میں دشواری ہو اس لئے ہتھیار لگائے رہیں اور جب یہ پہلا فریق ایک رکعت پڑھ لے تو یہ اس فریق کی جگہ جا کھڑا ہو جس نے ابھی نماز نہیں پڑھی اور وہ آ کر حضور ﷺ کے ساتھ نماز میں شریک ہوجائے اور وہ بھی نماز میں شریک ہو تو مسلح شریک ہو ، اپنے بچائو کا سامان اور اپنے ہتھیار اپنے ساتھ رکھے دوسری رکعت پڑھ کر حضور ﷺ سلام پھیر دیں گے اور دوسرا گروہ یہیں کھڑے ہو کر اپنی باقی ایک رکعت پڑھ کر سلام پھیرے گا اور اپنی جگہ چلا جائے گا اور وہ پہلا فریق یہاں آ کر اپنی آخرت رکعت پڑھ کر سلام پھیر دے گا یہ نماز میں آنا جانا ضرورت کی وجہ سے معاف رہے گا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پہلا فریق جہاں کھڑا ہے وہ وہیں اپنی ایک رکعت پڑھ کر سلام پھیر دے مگر دوسرے فریق کے فارغ ہوجانے کے بعد پڑھے ۔ یہ صورت وہ ہے کہ جب سفر میں صلوۃ خوف کی ضرورت پیش آئے اور اگر حضر میں ایسا واقعہ پیش آجائے تو پھر امام دو رکعتیں ایک گروہ کو پڑھائے اور دو رکعتیں دو رکعتیں دوسرے گروہ کو پڑھائے اور یہ شکل جب ہوگی جب ایک ہی امام کے پیچھے دونوں گروہ نماز پڑھنا چاہیں ورنہ دو اماموں کے پیچھے پوری پوری نماز پڑھی جاسکتی ہے۔ ایک امام ایک فریق کو دو یا چار رکعتیں پڑھا دے اور اس کے بعد دوسرا امام دوسرے گروہ کو پوری دو رکعتیں یا چار رکعتیں پڑھا دے۔ ہاں ! مغرب میں اگر ایک ہی امام کے پیچھے نماز ادا کرنی چاہیں تو امام دو رکعتیں ایک فرق کو اور ایک رکعت دوسرے فریق کو پڑھائے۔ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ جو فریق پہلی رکعت امام کے ساتھ پڑھ چکا ہے وہ اپنی رکعت میں قرأت نہ کرے کیونکہ وہ لاحق ہے اور جس فریق نے دوسری رکعت امام کے ساتھ پڑھی ہے وہ اپنی رکعت پوری کرنے میں قرأت وغیرہ بھی پڑھے کیونکہ وہ مسبوق ہے۔ اور یہ جو فرمایا اذا کنت فیھم اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ طریقہ نماز کا صرف حضور ﷺ کی موجودگی میں تھا بلکہ صلوۃ خوف جس طرح حضور ﷺ کے زمانے میں مشروع تھی اسی طرح اب بھی مشروع ہے اور ضرورت کے وقت پڑھی جاسکتی ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ موجود ہوں تو آپ اس طرح پڑھائیں اور آپ موجود نہ ہوں تو جو امام ہو وہ یہ طریقہ اختیار کرے، احناف کا یہی مفتی بہ مسلک ہے اگرچہ حضرت امام ابو یوسف حضور ﷺ کے بعد اس نماز مشروعیت کے قائل نہیں ہیں۔ واللہ اعلم بہرحال صلوۃ الخوف کا اگر انتظام ممکن ہو تو نماز ادا کی جائے اور اگر اس طرح بھی ممکن نہ ہو تو ہم مزید تفصیل سورة بقرہ میں عرض کرچکے ہیں اور ابھی آگے حضرت شاہ صاحب کے بیان میں آجاتی ہے اب آگے مزید رعایت اور مذکورہ رعایت کا سبب بیان فرماتے ہیں۔ (تسہیل) 1 یہ سامان بچائو اور ہتھیار سا تھے رکھنے کا حکم اس لئے دیا گیا ہے کہ کافر یہ چاہتے ہیں کہ تم کسی طرح اپنے ہتھیاروں اور جنگی سامانوں سے غافل ہو جائو اور ہتھیار وغیرہ لینے میں ذرا غفلت کر جائو تو وہ تم پر ایک دم ٹوٹ پڑیں اور تم پر یکبارگی حملہ کردیں اور اگر تم کو بارش کی وجہ سے ہتھیاروں کے لیکر چلنے میں دشواری اور تکلیف محسوس ہو یا تم بیمار ہو اور بیماری کی وجہ سے ہتھیار نہیں لگا سکتے تو تم پر اس میں بھی کچھ گناہ نہیں کہ تم اپنے ہتھیار اتار کر رکھ دو اور صرف اپنی حفاظت کا سامان لے لو۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لئے ذلت آمیز اور رسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے۔ (تیسیر) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یہ نماز خوف فرمائی کہ اگر وقت مقابلہ کا ہو تو فوج دو حصہ ہوجائے ہر جماعت آدھی نماز میں امام کے شریک ہو اور آدھی جدی پڑھے اور زرہ یا سپر ساتھ رکھیں اور اگر اس قدر بھی فرصت نہ ہو تو جماعت موقوف کریں تنہا پڑھ لیں پیادہ اور سوار بہ اشارہ اگر یہ بھی فرصت نہ ملے تو قضا کریں۔ (موضح القرآن) صلوٰۃ خوف میں اسلحہ اور سامان حفاظت کو ہمراہ لینا بعض کے نزدیک و جوب اور بعض کے نزدیک مستحب ہے اور دشواری کے اوقات میں ہتھیار اتار رکھنے کی اجازت ہے لیکن بچائو کا سامان جس کو شاہ صاحب نے زرہ اور ڈھال وغیرہ سے تعبیر کیا ہے اس سامان کا لینا واجب ہے۔ صلوۃ خوف کا طریقہ احادیث میں مختلف طرح منقول ہے حاکم نے آٹھ طریقے بیان کئے ہیں اور ابن حبان نے نو طریقے نقل کئے ہیں۔ بہرحال ! اس باب میں گنجائش ہے کہ جس طرح چاہیں ادا کرلیں بشرطیکہ وہ طریقہ مروی عنہ ہو اور یہ جو فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لئے رسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کافروں کے ساتھ جس برتائو کا ذکر کیا گیا ہے یہ تو دنیا میں سے اور آخرت میں ان کے ساتھ جو کچھ ہونے والا ہے وہ یہ ہے کہ ان کے لئے سخت اہانت آمیز عذاب تیار ہے۔ اب آگے ام نو اطمینان اور بےخوفی کی حالت میں نماز کو عام دستور کے موافق پابندی اوقات اور ارکان مشروع کی رعایت کے ساتھ ادا کرنے کا حکم فرماتے ہیں چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 4:103

فَاِذَا قَضَیْتُمُ الصَّلٰوةَ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِكُمْ١ۚ فَاِذَا اطْمَاْنَنْتُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ١ۚ اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا Open ayah 4:103 in the Quran reader

پھر جب تم یہ نما زپوری کر چکو تو تم کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے ہر حال میں اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے رہو پھر جب تم کو ہر طرح اطمینان نصیب ہوجائے تو تم قاعدے کے موافق نماز ادا کرو بیشک نماز مقرر اور معین اوقات کے ساتھ مسلمانوں پر فرض کی گئی ہے۔2

ف 2 پھر جب تم یہ نماز خوف پوری کر چکو تو اللہ تعالیٰ کو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے یاد کرتے رہو اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ کے ذکر کی مداد مت کرو پھر جب تم کو ہر طرح اطمینان نصیب ہوجائے یعنی مسافر ہو تو سفر ختم ہوجائے اور جہاد میں ہو تو دشمن کا خوف جاتا رہے تب تم نماز کو اس کے عام قاعدے کے مطابق پڑھنے لگو یقینا نماز مسلمانوں پر معین اور مقررہ اوقات کے ساتھ موقت اور فرض ہے۔ (تیسیر) کتاب کے معنی ہیں مکتوب یعنی مفروض، موقوت، محدود بالا وقات یعنی نماز مسلمانوں پر فرض کی گئی ہے اور اوقات کے ساتھ محدود ہے۔ مطل یہ ہے کہ جب تم لوگ صلوۃ الخوف ادا کر چکو تو پھر حسب عادت اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول ہو جائو اور ذکر الٰہی پر مداد مت کرو خواہ کھڑے ہو بیٹھے ہو خواہ لیٹے ہو ہر حالت میں خدا کو یاد کرتے رہو اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ جب تم نماز کا ارادہ کرو تو جیسا موقع ہو اس طرح پڑھو کھڑے ہو کر پڑھنے کا موقع ہو تو کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر پڑھنے کا موقع ہو تو بیٹھ کر اور لیٹ کر پڑھنے کا موق ہو تو لیٹ کر نماز پڑھو۔ اس صورت میں ذکر اللہ سے مراد نماز ہے اس کے بعد امن کی حالت کا حکم بیان فرمایا کہ جب تم مطمئن ہو جائو اور سفر سے یا جہاد سے فارغ ہو جائو تو پھر نماز کو اس کے عام قاعدے کے مطابق ادا کرو اور بجائے دو رکعتوں کے چار پڑھو اور نماز میں چلنا پھرنا اور آگے آنا پیچھے جانا ترک کردو۔ آخر میں فرمایا کہ نماز مسلمانوں پر فرض ہے اور وقت کے ساتھ محدود و موقت ہے جس کو مقررہ وقت ہی میں پڑھنا چاہئے اور نماز کو اس کے وقت سے بغیر کسی عذر شرعی کے خارج نہیں کیا جاسکتا عذر شرعی کا یہ مطلب کہ سو جائے یا بھول جائے یا معرکہ کار زار میں مشغول ہو یا بیہوشی وغیرہ ہوجائے۔ بہرحال ! سفر میں جو رعایت تھی یعنی چار رکعتوں کی بجائے دو رکعتیں اور جہاد میں جو رعایت تھی یعنی ایک گروہ اما کے ساتھ ایک رکعت پڑھ کر دشمن کے مقابل چلا جائے اور دوسرا اگر وہ چلا آئے۔ جس عارض کی وجہ سے یہ رعایت کی گئی تھی جب وہ عارض زائل ہوجائے تو نماز کو اس کی اصل اور مقررہ ہئیت کے ساتھ پڑھنے لگو۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی خوف کے وقت اگر نماز میں کوتاہی ہو تو بعد نماز اور طرح اللہ کو یاد کرو ایک نماز میں یہ قید ہے کہ وقت ہی پر چاہئے اور یاد اللہ کی ہر حال میں درست ہے ۔ (موضح القرآن) اوپر سے جہاد کا ذکر چلا آ رہا ہے درمیان میں بعض امور مناسبت سے ذکر فرمائے اب پھر آگے جہاد کا ذکر ہے اور مسلمانوں کو حکم ہے کہ جہاد میں سستی نہ کریں اور اگر دشمن کا تعاقب کرنے کی ضرورت پیش آئے تو ہمت کے ساتھ اس کا تعاقب کریں اور ہمت نہ ہاریں چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 4:104–107

وَ لَا تَهِنُوْا فِی ابْتِغَآءِ الْقَوْمِ١ؕ اِنْ تَكُوْنُوْا تَاْلَمُوْنَ فَاِنَّهُمْ یَاْلَمُوْنَ كَمَا تَاْلَمُوْنَ١ۚ وَ تَرْجُوْنَ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا یَرْجُوْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا۠ Open ayah 4:104 in the Quran reader

اور تم دشمن کا پیچھا کرنے میں ہمت نہ ہارو اگر تم دکھی ہوتے ہو تو وہ کافر بھی اسی طرح دکھی ہوتے ہیں جس طرح تم دکھی ہوتے ہو اور تم اللہ تعالیٰ سے اجر وثواب کی ایسی ایسی امیدیں رکھتے ہو جو ان کو نصیب نہیں ہیں اور اللہ تعالیٰ کمال علم اور حکمت کا مالک ہے۔3

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَا تَكُنْ لِّلْخَآئِنِیْنَ خَصِیْمًاۙ Open ayah 4:105 in the Quran reader

بیشک ہم نے آپ پر ایک سچی کتاب نازل کی ہے تاکہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ آپ کو بتادیا ہے آپ اس کے مطابق لوگوں کے مابین فیصلہ کریں اور آپ خیانت کرنے والوں کے طرف دار نہ بنیں

وَّ اسْتَغْفِرِ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۚ Open ayah 4:106 in the Quran reader

اور آپ اللہ تعالیٰ سے استغفار کیجیے یقینا اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا نہایت مہربانی کرنے والا ہے

وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ Open ayah 4:107 in the Quran reader

اور آپ ان لوگوں کی طرف سے فریق بن کر کوئی جواب دہی نہ کیجیے جو خود اپنے حق میں خیانت کر رہے ہیں۔ یقینا اللہ تعالیٰ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو فائن اور جرائم پیشہ ہو،

ف 3 اور اے مسلمانو ! تم اپنی دشمن اور مخالف قوم کا تعاقب اور پیچھا کرنے میں ہمت نہ ہارو اور بزدلی نہ دکھائو اگر جنگ کی وجہ سے اور زخم خوردہ ہونے کے باعث تم بےآرام اور دکھی ہوتے ہو تو وہ تمہارے دشمن بھی اسی طرح بےآرام اور دکھی ہوتے ہیں جس طرح تم بےآرام اور دکھی ہوتے ہو یعنی جہاں تک جنگ اور مجروح ہونے کی وجہ سے تم کو درد اور تکلیف ہوتی ہے اسی طرح انکو بھی ہوتی ہے تو گویا اس معاملہ میں تم اور وہ مشترک ہو مگر تم اللہ تعالیٰ سے اجر وثواب کی ایسی ایسی امیدیں رکھتے ہو جو امیدیں ان کو ہیں اور وہ اجر وثواب کی توقع سے محروم ہیں اور اللہ تعالیٰ کمال علم اور کمال حکمت کا مالک ہ وہ تمہارے حال سے خوب واقف ہے اور جو حکم تم کو دیتا ہے وہ کسی نہ کسی حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔ اس آیت کا تعلق یا تو بدر صغریٰ سے ہے جیسا کہ اکثر مفسرین نے کہا ہے ۔ یا غزوئہ حمر الاسد سے ہے۔ جیسا کہ بعض نے کہا ہے۔ بہرحال آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب کبھی دشمن کے تعاقب کا حکم ہو تو تم اس میں کاہلی اور پس و پیش نہ کیا کرو اور اپنے زخموں وغیرہ کا عذر نہ کیا کرو کیونکہ اس قسم کی جسمانی تکالیف میں تم اور وہ برابر ہو۔ جنگ میں اس قسم کا دکھ لڑنے والے کو پہنچتا ہی ہے۔ خواہ تم ہو یا تمہارے مخالف ہوں لیکن اجر وثواب کے اعتبار سے تمہارے اور ان کے اعتقاد میں بڑا فرق ہے اور تم کو اللہ تعالیٰ سے ثواب کی جو جو امیدیں وابستہ ہیں وہ امیدیں ا ن کو نہیں ہیں کیونکہ نہ ان کو آخرت پر ایمان ہے اور نہ وہ اللہ تعالیٰ کے اجر وثواب پر اعتقاد رکھتے ہیں اور چونکہ ان کو اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امید نہیں اس لئے ان میں کمزوری اور بزدلی ہونی چاہئے نہ کہ تم میں کیونکہ تم کو ثواب اخروی کی امیدیں ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ کفار کے سامنے صرف دنیوی زندگی ہے اور تمہارے سامنے دین و دنیا دونوں کی کامیابی کا سوال ہے لہٰذا دکھ درد کے موقعہ پر تم میں ہمت اور جرأت زیادہ ہونی چاہئے۔ دھن کے معنی ضعف، سستی، کاہلی، بعض احادیث میں دھن کے معنی حب الدنیا و کر ابیت الموت کے ساتھ کئے گئے ہیں۔ بعض علماء نے تھنوا کو اہانت سے مشتق کیا ہے اور ترجمہ جبن اور بزدلی سے کیا ہے۔ ہم نے تیسیر میں دونوں لفظ رکھے ہیں جیسا کہ ہمارا قاعدہ ہے کہ ہم ترجمہ اور تیسیر میں اس امر کا لحاظ رکھتے ہیں کہ خواہ عبارت بڑھ جائے لیکن جہاں تک ممکن ہو مختلف اقوال کو جمع کردیں۔ اب آگے بعض منافقین کا ایک واقعہ مذکور ہے چونکہ اوپر کفار کا ذکر تھا اس لئے ان کی مناسبت سے بعض منافقوں کا ذکر فرماتے ہیں۔ آگے کی آیتیں ایک خاص واقعہ کی تفصیل سے تعلق رکھتی ہیں۔ واقعہ مختصراً اس طرح ہے کہ ایک انصاری نے اپنی زرہ آٹے میں رکھ چھوڑی تھی۔ وہ کسی نے نقب لگا کر نکال لی صبح کو اس کی تلاش ہوئی اور آٹے کا نشان دیکھتے ہوئے لوگ چلے تو اس نشان سے معلوم ہوا کہ زرہ طعمہ بن ابیرق کے گھر میں ہے گھر کی تلاشی لی تو زرہ برآمد نہیں ہوئی پھر لوگوں نے آٹے کے نشان کی کھوج لگائی تو ایک یہودی کے گھر تک پہنچے اس کے ہاں وہ زرہ نکل آئی۔ اس یہودی نے کہا مجھ کو تہ یہ زرہ طعمہ بن ابیرق نے دی ہے۔ میں چوری سے بری ہوں، چور وہی ہے۔ اس پر طعمہ کے خاندان والوں نے رات کو مشورہ کیا کہ ہم سب مل کر حضور ﷺ سے کہیں کہ جامعہ طعمہ بری ہے تو حضور ﷺ ہماری طرف داری کریں گے اور یہودی جس کا نام زید ہے وہی چوری کا ملزم قرار پائے گا۔ بعض حضرات نے واقعہ کی تفصیل اور طرح بیان کی ہے اگرچہ واقعہ یہی ہے۔ حضرت قتاد کہتے ہیں بنو بریق والوں کا ایک گھر تھا جس میں بشیر اور شبیر اور مبشر تھے ۔ بشیر منافق تھا اور حضور ﷺ کی شان میں اور صحابہ کرام کی شان میں ہجو کہا کرتا تھا اور دوسرے لوگوں کے نام سے مزے مزے لے لے کر پڑھا کرتا تھا مگر صحابہ جانتے تھے کہ یہ اشعار اسی کے کہے ہوئے ہوتے ہیں مگر یہ خبیث دوسروں کے نام سے سناتا تھا یہ لوگ جاہلیت کے زمانے سے غربت میں مبتلا اور فاقہ مست تھے اور آج کل بھی تنگدستی میں رہتے تھے۔ یوں تو عام طور پر مدینے کے لوگ جو اور کھجوریں کھا کر پیٹ بھرتے تھے لیکن بعض اہل ثروت شامی قافلوں سے میدہ خرید لیا کرتے تھے جسے وہ خود استعمال کیا کرتے تھے۔ باقی گھر والے موٹا اناج کھالیا کرتے تھے ایک دفعہ میرے چچا رفاعہ بن زید نے بھی شامی قافلے سے کچھ مید ا خرید لیا اور اس میدے کو مکان کی دو چھتی میں رکھ دیا ۔ جہاں ان کے ہتھیار وغیرہ بھی رکھے رہتے تھے رات کو چوروں نے نقب لگا کر ہتھیار بھی چرا لئے اور میدہ وغیرہ بھی لے گئے۔ صبح کو میرے چچا رفاعہ میرے پاس آئے انہوں نے چوری کا قصہ مجھے سنایا۔ اب ہم لوگ پتہ لگانے نکلے تو ہم کو معلوم ہوا کہ رات بنو ابیرق والوں کے گھر میں آگ روشن ہو رہی تھی اور کھانا پکانا ہو رہا تھا ۔ غالباً انہوں نے تمہارے ہاں چوری کی ہوگی۔ تمہارے آنے سے پہلے ہم نے ان لوگوں سے تمہارے ہاں کی چوری کا حال دریافت کیا تھا تو وہ لبید کا نام لیتے تھے اور یہ کہتے تھے کہ رفاعہ کے ہاں لبید نے چوری کی ہے مگر ہم کو یقین نہیں آیا کیونکہ لبید بہت نیک آدمی ہے۔ چنانچہ جب لبید کو معلوم ہوا کہ بنو ابیرق میرا نام لے رہے ہیں تو وہ تلوار لے کر آئے اور انہوں نے بنو ابیرق کو ڈانٹ کر کہا یا تو مجھے چور ثابت کرو ورنہ تمہارے حق میں اچھا نہ ہوگا۔ اس پر ان لوگوں نے لبید سے معذرت کی اور معافی چاہی قتادہ کہتے ہیں اس واقعہ کو سن کر مجھ کو اور میرے چچا کو یقین ہوگیا کہ بنو ابیرق ہی چور ہیں مگر پھر بھی میرے چچا نے احتیاطاً مجھے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں بھیجا کہ قتادہ تم جا کر یہ تمام رپورٹ حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کردو اور حضور ﷺ سے یہ کہو کہ جناب ان چوروں سے صرف ہمیں ہمارے ہتھیار دلوا دیجیے کھانے پینے کے سامان کو جانے دیجیے حضور ﷺ نے تمام واقعہ قتادہ سے سن کر تحقیق کا وعدہ فرمایا۔ چنانچہ جب بنو ابیرق کو یہ پتہ لگا تو انہوں نے اپنی طرف سے ایک آدمی کو حضور ﷺ کی خدمت میں بھیجا جس کا نام اسید بن عروہ تھا اس نے آ کر حضور ﷺ سے کہا یا رسول اللہ ﷺ یہ تو بڑا ظلم ہو رہا ہے ۔ بنو ابیرق کے لوگ تو مخلص مسلمان ہیں ان پر چوری کا الزام لگایا جا رہا ہے ان کو قتادہ بن نعمان اور ان کے چچا رفاعہ بن زید چور بتاتے ہیں اور بلا ثبوت کے ان کو چور بتاتے ہیں قتادہ کہتے ہیں کہ جب میں حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ قتادہ یہ تم بہت برا کرتے ہو کہ دیندا اور بھلے لوگوں کے ذمہ چوری لگاتے ہو اور تمہارے پاس کوئی ثبوت ان کے چور ہونے کا نہیں قتادہ کہتے ہیں کہ میں حضور ﷺ کا ارشاد سن کر چپ چاپ واپس چلا آیا اور میں نے اپنے چچا کو یہ بات سنائی کہ حضور ﷺ نے اس طرح فرمایا ہے۔ ان کے چچا نے یہ قصہ سن کر کہا اللہ المستعان یعنی اللہ تعالیٰ ہی سے ہم مدد چاہتے ہیں۔ قتادہ کہتے ہیں اس کے تھوڑی ہی دیر بعد نبی کریم ﷺ پر وحی آئی اور یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ بعض لوگوں نے ایک چادر کی چوری کے واقعہ میں ان آیتوں کا نزول بتایا ہے بہرحال شان نزول کی وجوہ اگر متعدد ہوں تو بھی مضائقہ نہیں۔ بہرحال واقعہ چوری کا ہے اور اس کی تحقیق میں چور کے حمایتی غلط فہمی پیدا کرنی کی جو کوشش کر رہے تھے اس سے پیغمبر کو باخبر کرنے کا ہے اور نبی کریم ﷺ کو کسی غلط نتیجے پر پہنچنے سے بچا لینے کا ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 4:108

یَّسْتَخْفُوْنَ مِنَ النَّاسِ وَ لَا یَسْتَخْفُوْنَ مِنَ اللّٰهِ وَ هُوَ مَعَهُمْ اِذْ یُبَیِّتُوْنَ مَا لَا یَرْضٰى مِنَ الْقَوْلِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطًا Open ayah 4:108 in the Quran reader

ان لوگوں کی یہ حالت ہے کہ یہ عام لوگوں سے پردہ کرتے ہیں مگر خدا سے نہیں شرماتے حالانکہ خدا اس وقت بھی ان کے پاس ہوتا ہے جب یہ لوگ رات کو ایسی باتوں کے مشورے کرتے ہیں جو باتیں خدا کو ناپسند ہیں اور ان کی تمام کارروائیاں اللہ تعالیٰ کے احاطہ علم میں ہیں1

ف 1 اے پیغمبر ﷺ ! ہم نے آپ کی جانب ایک سچی کتاب نازل کی ہے یعنی کتاب حق کے ساتھ نازل ہوئی ہے اور اس کے تمام امور حق اور سچے ہیں تاکہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے جو بتادیا ہے آپ اس کے مطابق اس واقع خاص میں لوگوں کے مابین فیصلہ کریں اور جب آپ کو چور کا اصل حال معلوم ہوگیا تو آپ خیانت کرنے والوں کے طرف دار نہ بنیں اور خائنوں کی طرف داری نہ کریں اور اسید بن عروہ کے کہنے سے جو طبعاً چور کی بےگناہی کی طرف آپ کو میلان ہوگیا تھا وہ آپ کی شان کے مناسب نہ تھا اس لئے آپ سے اس سے اللہ تعالیٰ کی جناب میں استغفار کیجیے بلا شبہ اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت اور نہایت مہربانی کرنے والا ہے اور آپ ان لوگوں کی طرف سے جو اپنے حق میں خو د خیانت کر رہے ہیں اور اپنے آپ کو نقصان پہونچا رہے ہیں بحیثیت ایک فریق کے کوئی جواب دہی نہ کیجیے یعنی چور کی حمایتیوں کی جانب سے بلاشبہ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو دوست نہیں رکھتا اور پسند نہیں فرماتا جو خیانت کرنے والا اور جرائم پیشہ اور گناہگار ہو۔ ان لوگوں کی حالت یہ ہے کہ لوگوں سے تو پردہ کرتے ہیں اور اپنی خیانت کو عام لوگوں سے چھپاتے پھرتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ سے نہیں شرماتے اور اس سے حیا نہیں کرتے حالانکہ اللہ تعالیٰ جس طرح ہر وقت ان کے ساتھ ہوتا ہے اسی طرح اس وقت بھی ان کے ساتھ ہوتا ہے اور ان کی کارروائیوں کو دیکھتا ہے جبکہ یہ لوگ رات کو ایسی باتوں کا مشورہ کرتے ہیں جو باتیں اللہ تعالیٰکی مرضی کے خلاف اور اس کو ناپسند ہوتی ہیں اور یقین جانو ! کہ ان کی تمام کارروائیاں اور ان کے تمام اععمال اللہ تعالیٰ کے احاطہ علم میں ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کے تمام اعمال کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ (تیسیر) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یہ اول و آخر کئی آیت میں ذکر ہے ایک قصہ کا حضرت کے وقت ایک انصاری کی زرہ آٹے میں دھری گم ہوگئی صبح کو تلاش کی تو آٹے کا خط دیکھا ایک شخص کے گھر تک اس کا نام طعمہ بن ابیرق تھا وہاں جھاڑ ا لیا تو نہ پائی وہ خط آگے دیکھا ایک یہودی کے گھر تک زید نام وہاں پائی اس یہودی نے کہا کہ مجھ کو طعمہ نے سپرد کی طمعہ نے کہا میں بری ہوں چور وہی ہے طعمہ کی قوم نے رات کو مشورت کی ہم حضرت کے پاس سب مل کر گواہی دیں گے کہ طعمہ بری ہے تو حضرت ہماری حمایت کریں گے اور یہودی چور ٹھہرے گا صبح کو یہی کیا اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں حضرت کو خبردار کردیا کہ فی الحقیقت چور یہی تھا طعمہ (موضح القرآن) خصیم جھگڑنے والا خوان بہت خیانت کرنے والااثیم گناہگار یہاں بشیر یا طعمہ مراد ہے یستخفون پردہ کرنا، چھانا، شرمانا، محیط گھیرنے والا احاطہ کرنے والا یہاں احاطہ علمی مراد ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کتاب جو آپ پر نازل کی ہے یہ مشتمل برحق ہے اس سے آپ کو واقعہ زیر بحث معلوم ہوجائے گا۔ نزول کتاب کا مقصد اور اس موقع پر یہ خاص وحی بھیجنے کا سبب یہ ہے کہ جو بات آپ کو اللہ تعالیٰ نے بتادی ہے آپ اس کے موافق فیصلہ کریں اور وہ یہ ہے کہ بشیر یا طعمہچور ہے اور جو لوگ اس کی حمایت کر رہے ہیں وہ خائن ہیں اور جب آپ کو معلوم ہوگیا تو آپ خائنوں کی طرف داری نہ کریں اور اسید کے یا لوگوں کے کہنے سننے سے جو آپ کی طبیعت کا میلان ہوگیا تھا وہ آپ کی شان کے مناسب نہ تھا اس لئے اس سے استغفار کیجیے اور اللہ تعالیٰ کی جناب میں بخشش طلب کیجیے اور جو لوگ جان بوجھ کر چور کی حمایت کر رہے ہیں وہ اپنے نفس کے ساتھ خیانت کر رہے ہیں اور اپنے آپ کو نقصان پہونچا رہے ہیں تو آپ ایسے خائنوں کی طرف سے ایک فریق بن کر کوئی جواب دہی نہ کیجیے اور کوئی جھگڑا نہ کیجیے کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی خیانت کرنے والے اور گناہگار کو پسند نہیں کرتا تو ایسے ناپسندیدہ اشخاص کی جانب سے آپ کو جواب دہی کرنا اور ان کی حمایت کرنا کس طرح درست ہوسکتا ہے جن بےحیائوں کی حاحلت یہ ہے کہ لوگوں سے تو چوری کے معاملے کو چھپاتے ہیں اور چور کو بےگناہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے پھرت یہیں اور اللہ تعالیٰ سے نہیں شرماتے جو ہر وقت ان کے ساتھ ہے اور اپنے علم کے اعتبار سے ان کی ہر حرکت و سکون سے باخبر ہے ۔ یہاں تک کہ شب کو جو پنچایت کرتے ہیں اور آپس میں جو مشورہ کرتے ہیں کہ کسی طرح طعمہ یا بشر پر چور ی کا الزام نہ لگنے دو اور پنچایت میں ایسی باتیں کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے خلاف ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس وقت بھی با اعتبار علم کے ان کے پاس ہوتا ہے یہ بنو ابیرق کے ان مشوروں کی طرف اشارہ ہے جو اہل محلہ نے جمع ہو کر پنچایت میں طے کی تھیں آخر میں اللہ تعالیٰ نے اپنے احاطہ علمی کا اعلان فرمایا کہ ایک اس پنچایت پر کیا موقوف ہے اللہ تعالیٰ کا علم تو ان کے تمام کاموں کا احاطہ کئے ہوئے ہے آگے ان لوگوں کو خطاب ہے جو چور کی حمایت کرنے والے تھے چناچہ ارشاد ہے۔ (تسہیل)
Ayah 4:109

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ جٰدَلْتُمْ عَنْهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١۫ فَمَنْ یُّجَادِلُ اللّٰهَ عَنْهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَمْ مَّنْ یَّكُوْنُ عَلَیْهِمْ وَكِیْلًا Open ayah 4:109 in the Quran reader

ہاں ! تم وہ لوگ ہو جو دنیوی زندگی میں تو ان خائنوں کی طرف سے جھگڑ رہیہو پھر قیامت کے دن ان کا طرف دار بن کر اللہ تعالیٰ سے کون جواب دہی کرے گا یا وہ کون شخص ہے جو اس دن ان کا وکیل بنے گا۔2

ف 2 ہاں تم وہ لوگ ہو جو دنیوی زندگی میں تو ان کی طرف سے جھگڑ رہے ہو اور ان کی طرف سے تم نے جواب دہی کرلی مگر یہ تو بتائو کہ قیامت کے دن ان کا طرف دار بن کر اللہ تعالیٰ سے کون جواب دہی کرے گا اور اللہ تعالیٰ کے روبرو ان کی جانب سے کون جھگڑنے کی ہمت کرے گا یا وہ کون شخص ہوگا جو ان کا وکیل ہو سکے اور ان کا کام بنانیوالا ہو۔ (تیسیر) اس آیت میں ان لوگوں کو تنبیہہ ہے جو بشیر یا طعمہ کی طرف سے صفائی دے رہے تھے اور مجرم کے طرف داروں کی حمایت کر رہے تھے کہ اچھا یہاں تو تم بہت بڑھ بڑھ کر بول رہے ہو لیکن قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے روبرو ان منافقوں کی طرف سے کون بولنے والا ہوگا جو زبانی جواب دہی کرے یا ان کا کون وکیل ہوگا جو زبانی جواب دہی نہ کرے تو ان کا مقدمہ تب کرے اور مسل بنا کر اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کرے اور اس طرح ان کا کام بنا دے اور قیامت کے عذاب سے چھڑا دے۔ تو بتائو وہ وکیل کون ہوگا ؟ اور چونکہ اس دن کوئی بھی ایسا نہیں جو زبانی جواب دہی سے یا مقدمہ کی ترتیب سے ملزموں کو بچا سکے بلکہ اس دن تو وہی خدا کی گرفت سے محفوظ رہ سکتا ہے جو یہاں اپنے گناہوں کا اعتراف کرے اور اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے اور گناہ خواہ چھوٹا ہو یا بڑا اس سے توبہ کرے تب ہی بخشش کی امید ہوسکتی ہے اس لئے آگے گناہوں سے توبہ کرنے کی جانب توجہ دلاتے ہیں چناچہ ارشد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 4:110

وَ مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءًا اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ یَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:110 in the Quran reader

اور جو شخص کوئی بدی کرے یا اپنی ہی جان کو نقصان پہنچائے پھر اللہ تعالیٰ سے معافی کا طلب گار ہو تو وہ اللہ تعالیٰ کو بڑا معاف کرنیوالا اور بڑی مہربانی کرنے والا پائے گا۔3

ف 3 جو شخص بدی اور برائی کرے یا صرف اپنی ہی جان کو نقصان پہنچائے اور فقط اپنے ہی پر ظلم کرے پھر یہ شخص شرعی طریقہ پر اللہ تعالیٰکی جناب میں توبہ کرے اور معافی چاہے تو وہ اللہ تعالیٰ کو بڑا معاف کرنے والا اور بڑی مہربانی کرنے والا پائے گا۔ (تیسیر) سوء سے مراد وہ گناہ ہیں جو متعدی ہوں اور جن سے دوسروں کو بھی نقصان پہنچتا ہو۔ یظلم نفسہ سے مراد وہ گناہ ہیں جو غیر متعدی ہوں اور سا میں صرف حقوق اللہ کا معاملہ ہو حقوق العباد کا دخل نہ ہو شرعی طریقہ کا مطلب یہ ہے کہ متعدی گناہ میں توبہ کے ساتھ صاحب حق کا حق بھی ادا کرے یا اس سے معاف کرائے اور اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں گناہ فرمایا کبیرہ کو اور اپنا برا فرمایا صغیرہ کو یہ ان لوگوں کو حکم ہے کہ توبہ کریں تو قبول ہے ۔ (موضح القرآن) بعض حضرات نے ظلم سے شرک مراد لیا ہے اور سوء سے وہ گناہ مراد لئے ہیں جو شرک کے علاوہ ہوں بعض نے صغیرہ کبیرہ سے تفسیر کیا جیسے حضرت شاہ صاحب نے فرمایا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں جس نے سورة نساء کی یہ دو آیتیں پڑھیں ایک تو یہی من یعمل سوائور دوسری وہ آیت جو اوپر گذر چکی ولوانھم اذا ظلموا اور ان دونوں آیتوں کو پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی تو اللہ تعالیٰ اس کو بخش دیتا ہے۔ بعض اہل علم نے اس آیت کو سب سے زیادہ امید دلانے والی آیت کہا ہے حضرت ابوبکر صدیق نے مرفوعاً روایت کی ہے کہ کسی مسلمان سے کوئی گناہ ہوجائے پھر وہ وضو کر کے دو رکعتیں پڑھے اور اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے تو اللہ تعالیٰ اس کا گناہ بخش دیتا ہے پھر آپ نے دو آیتیں پڑھیں۔ ایک تو ومن یعمل سوء اور ایک والذین اذا فعلوا فآخشۃ ابن مرادیہ نے حضرت علی کے واسطے سے اسی روایت کے قریب قریب ایک روایت نقل کی ہے اس میں یوں ہے کہ حضرت علی فرماتے ہیں میں نے ابوبکر سے سنا ہے۔ بہرحال ! اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے علم اور اپنے عفو و کرم کا اعلان فرمایا ہے اور یہ آیت مسلمانوں کے لئے بہت بڑی بشارت ہے اور اس امر کی طرفاشارہ ہے کہ اس چوری کے واقعہ میں جن لوگوں سے گناہوں کا ارتکاب ہوا ہے ان کو چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں استغفار کریں اور ہر گناہ گار کو اس کی کوشش کرنی چاہئے کیونکہ گناہ ایسی چیز ہے جو اس کا مرتکب ہوتا ہے تو اسی کو اس کی سزا ملتی ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 4:111–112

وَ مَنْ یَّكْسِبْ اِثْمًا فَاِنَّمَا یَكْسِبُهٗ عَلٰى نَفْسِهٖ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:111 in the Quran reader

اور جو شخص کسی گناہ کا ارتکاب کرتا ہے تو وہ اپنی ہی ذات کے لئے وبال کماتا ہے اور اللہ تعالیٰ کمال علم اور کمال حکمت کا مالک ہے۔4

وَ مَنْ یَّكْسِبْ خَطِیْٓئَةً اَوْ اِثْمًا ثُمَّ یَرْمِ بِهٖ بَرِیْٓئًا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:112 in the Quran reader

اور جو شخص کوئی صغیرہ یا کبیرہ گناہ کرے پھر اس گناہ کی تہمت کسی ناکردہ گناہ کے ذمے لگا دے تو یقینا ایسے شخص نے بہت بڑے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اپنے سر پر دھر لیا۔

ف 4 اور جو شخص کسی گناہ کا ارتکاب کرتا ہے اور کوئی گناہ کماتا ہے تو وہ اپنی ہی ذات کے لئے اس کا وبال کماتا ہے اور فقط اپنی ہی ذات کو نقصان پہنچاتا ہے یعنی اس کی سزا خود اسی کو بھگتنی پڑے گی اور اللہ تعالیٰ کمال علم اور کمال حکمت کا مالک ہے۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ جب گناہگار کو گناہ کی سزا بھگتنی ہے اور کوئی دوسرا اس سزا میں شریک نہیں ۔ جیسے فرمایا لاتزر وازرۃ وزراخری تو ایسی حالت میں سزا میں پیشتر توبہ کر کے اس گناہ سے پاک ہو جائو کمال علم کا مطلب یہ ہے کہ سب کے گناہوں کو جانتا ہے۔ کمال حکمت سے مراد یہ ہے کہ سزا سے بچانے کے لئے استغفار کا حکم دیتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی قوم اپنے دل میں آپ شرمندہ نہ رہو کہ ہم کو عیب لگا اور آگے عیب لگنے کے خطرے سے اپنے کی حمایت نہ کرے جب تک تحقیق نہ ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ خبر دار ہے اور اس کا حکم بھی یہی ہے کہ ایک کا گناہ دوسرے پر نہیں۔ (موضح القرآن) یہ ہوسکتا ہے کہ اس واقعہ میں لوگوں کو مختلف خیال ہوا ہو گناہ گاروں کو گناہ کی فکر ہوئی ہو اور بےعیبوں کو عیب لگنے پر شرمندگی ہوئی ہو یا خود نبی کریم ﷺ کی یہ خواہش ہو کہ جو لوگ غلطی کے مرتکب ہوئے ہیں ان کو درگذر کیا جائی اور جن پر خواہ مخواہ کا الزام لگا ہے ان کی تلافی ہوجائے اس پر یہ آیتیں نازل ہوئی ہوں۔ بہرحال ! دونوں آیتوں میں استغفار کی ترغیب و تحریص اور توبہ کرنے والوں کے لئے معافی کی امیدے اب آگے ان لوگوں کے جرم پر تنبیہہ فرماتے ہیں جنہوں نے چوری تو خود کی اور چوری کی تہمت دوسروں پر لگا دی۔ نیز نبی کریم ﷺ پر جو شفقت و عنایت ہے جس کی وجہ سے آپ اس معاملہ خاص میں غلط فیصلہ کرنے سے محفوظ و مامون رہے اس کا اظہار فرماتے ہیں چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 4:113

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ وَ رَحْمَتُهٗ لَهَمَّتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْهُمْ اَنْ یُّضِلُّوْكَ١ؕ وَ مَا یُضِلُّوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَضُرُّوْنَكَ مِنْ شَیْءٍ١ؕ وَ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ١ؕ وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا Open ayah 4:113 in the Quran reader

اور اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت آپ پر نہ ہوتی تو ان لوگوں میں سے ایک گروہ نے آپ کو غلطی میں مبتلا کرنے کا ارادہ ہی کرلیا تھا اور یہ لوگ گمراہ نہیں کرسکتے مگر اپنے ہی آپ کو اور یہ لوگ آپ کو ذرا سا بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور اللہ نے آپ پر کتاب اور دانائی کی باتیں نازل فرمائی ہیں اور آپ کو وہ وہ باتیں سکھائیں جو آپ خو د نہیں جان سکتے تھے اور اللہ تعالیٰ کا آپ پر بڑا ہی فضل ہے ۔1

ف 1 اور جو شخص کوئی چھوٹا گناہ کرے یا کسی بڑے گناہ کا مرتکب ہو پھر اس گناہ کی تہمت کسی بےگناہ اور ناکردہ گناہ پر لگا دے تو ایسے شخص نے یقینا بہت بڑے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اپنے سر پر لاد لیا اور اپنے سر پر بڑے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ دھر لیا اور اے پیغمبر ! ﷺ اگر آپ پر اللہ تعالیٰ کا فل اور اس کی رحمت نہ ہوتی اور اس معاملہ میں آپ پر اس کی خاص عنایت نہ ہوتی تو چور کے حمایتیوں میں سے تو ایک گروہ نے آپ کو غلطی میں مبتلا کرنے کا ارادہ ہی کرلیا تھا اور یہ ارادہ کرنے والے بجز اس کے کہ اس ارادے سے اپنے آپ کو وبال میں مبتلا کرلیں آپ کو کسی قسم کی غلطی اور گمراہی میں نہیں ڈال سکتے اور نہ آپ کو کسی قسم کا نقصان پہونچا سکتے ہیں اور آپ کو کوئی کسی غلطی میں کسی طرح مبتلا کرسکتا ہے اور آپ کو کوئی ضرر کیسے پہونچا سکتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ آپ پر کتاب نازل فرمائی ہے اور اس نے آپ کو حکمت و دانش کی تعلیم دی ہے اور آپ کو اس نے وہ باتیں سکھائیں اور بتائیں جن کو آپ خود نہی جاسکتے تھے اور ان کو نزول وحی سے پہلے آپ نہیں جانتے تھے اور آپ پر اللہ کا بڑا ہی فضل ہے۔ (تیسیر) خطیئۃ اور اتم کا ترجمہ کئی طرح کیا گیا ہے ہم نے صغیرہ اور کبیرہ کو اختیار کرلیا ہے۔ بھت کے معنی تحیر کے ہیں جیسا کہ ہم نے تیسرے پارے میں عرض کیا تھا۔ بھتان اس کذب کو کہتے یں جو کسی بےگناہ کی طرف منسوب کر کے اس کو حیرت میں ڈال دیا جائے مطلب یہ ہے کہ اگر کسی ناکردہ گناہ کی طرف کوئی گناہ خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا ہو کوئی شخص منسوب کر دے تو یہ گناہ کی طرف منسوب کرنا خود بہت بڑا بہتان اور کھلے ہوئے گناہ کا اپنے سر پر لاد لینا ہے جب اس معاملہ میں خاص بشیر نے یا طعمہ نے ایک بےگناہ لبید یا زید یہودی کی طرف اپنی کی ہوئی چوری کو منسوب کردیا تو اس چور نے علاوہ چوری کے گناہ کے ایک اور بہتان اور گناہ سرپر لاد لیا اور چونکہ بعض لوگ اس واقعہ میں نبی کریم ﷺ کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور طعمہ یا بشیر کی حمایت کے لئے آپ کو آمادہ کر رہے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں بھیج کر آپ کو صحیح معاملہ سے آگاہ فرما دیا اس لئے فرمایا کہ یوں تو اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت آپ پر ہمیشہ ہی سایہ فگن رہتی ہے لیکن اس معاملہ خاص میں اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت آپ کی دستگیری نہ کرتی تو چور کے طرف دار آپ کو غلط فہمی میں مبتلا کردیتے کیونکہ ایک گروہ نے ان لوگوں میں سے ایسا ارادہ کرلیا تھا حالانکہ ایسے لوگ آپ کو تو کیا بہکاتے خود ہی اس برے ارادے کی وجہ سے اپنی جانوں کو مبتلائے عذاب کرلیتے اور آپ کو ذرا سا بھی نقصان اس معاملہ خاص میں نہ پہنچا سکتے۔ معاملہ خاص کی قید ہم نے اس بنا پر لگائی کہ ضرر مطلق کی نفی مراد نہیں ہے بلکہ ضرر خاص اور وہ یہ کہ مثلاً کوئی غلط فیصلہ حاصل کرلیں اور بھلا آپ کو نقصان پہونچا یا آپ کو غلطی میں ڈال دینا کیسے ممکن ہوسکتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کتابت عنایت فرمائی ہے جس میں منجملہ اور باتوں کے اس واقعہ کی صحیح اطلاع بھی ہے۔ پھر یہ حکمت و دانش کا نزول بھی آپ پر فما دیا ہے جس کا مقتضا عدل و انصاف اور اصابت رائے ہے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ وہ مفید اور بصیرت افروز باتیں تعلیم کی ہیں جن سے آپ پہلے واقف نہ تھے اور نہ ان کو ہمارے علاوہ کوئی اور سکھا سکتا تھا۔ ہوسکتا ہے کہ اس سے اسرار الٰہیہ مراد ہوں اور ہوسکتا ہے کہ دنیا اور آخرت کا بیان مراد ہو اور ہوسکتا ہے کہ حلال و حرام مراد ہو جیسا کہ قتادہ نے کہا ہے اور ہوسکتا ہے کہ احکام شرائع اور احکام دین مراد ہوں۔ آخر میں فرمایا کہ اے پیغمبر ! ﷺ آپ پر اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے اور جب کسی پر اللہ تعالیٰ کا فضل عظیم ہو تو اس کو کب کوئی نقصان پہونچا سکتا ہے۔ فضل عظیم سے مراد بعض حضرات نے نبوت لی ہے کیونکہ نبوت سے بڑھ کر کوئی فضل نہیں ہے ۔ (واللہ اعلم) حضرت عمر ؓ سے مروی ہے کہ کوئی شخص تم میں سے اپنے فیصلہ کو یوں نہ کہا کرے کہ جو اللہ نے مجھ کو بتایا میں نے اس کے موافق فیصلہ کیا ہے کیونکہ یہ چیز نبی کریم ﷺ ہی فرما سکتے تھے ہاں ! ہم کو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنے کی پوری کوشش کرنی چاہئے لیکن کوئی شخص اپنے فیصلے کو یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ فیصلہ خدا نے مجھ کو بتایا ہے چونکہ اوپر کی آیتوں میں بنو ابیرق اور ان کے طرف داروں کے باہمی مشورے کا ذکر تھا۔ اب آگے اس کے متعلق ایک مکمل ضابطہ بیان فرماتے ہیں۔ تاکہ معلوم ہوجائے کہ باہمی مشاورت کن امور پر ہونی چاہئے اور وہ کون سی باتیں ہیں جن میں باہم مشورہ کرنا باعث خیر و برکت ہوتا ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)