4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 4:165

رُسُلًا مُّبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّٰهِ حُجَّةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:165 in the Quran reader

ان سب کو خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے پیغمبر بنا کر اس لئے بھیجا تاکہ ان رسولوں کی تشریف آوری کے بعد لوگوں کی طرف سے اللہ پر کوئی الزام قائم کرنے کا موقعہ باقی نہ رہے اور اللہ تعالیٰ بڑا زبرسدت اور بڑی حکمت والا ہے1

ف 1 ان سب کو خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے پیغمبر اس لئے بنا کر بھیجا یعنی ایمان لانے والوں کو نجات کی بشارت دیتے ہیں اور منکروں کو عذاب سے ڈراتے ہیں تاکہ ان رسولوں کی تشریف آوری کے بعد لوگوں کی طرف سے اللہ تعالیٰ پر کوئی الزام قائم کرنے کا موقعہ باقی نہ رہے اور لوگوں کے پاس اللہ تعالیٰ کی حضور میں کوئی عذر پیش کرنے کا موقعہ نہ رہے اور اللہ تعالیٰ کمال قوت اور کمال حکمت کا مالک ہے۔ (تیسیر) انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام چونکہ مومنین کو نجات کی بشارت دیتے ہیں اور منکرین حق کو عذاب سے ڈراتے ہیں اس لئے ان کو مبشر اور منذر فرمایا۔ بہرحال ! انبیاء (علیہم السلام) کی بعثت کا یہ سبب ہے کہ اگر انبیاء تشریف نہ لاتے تو لوگوں کی جانب سے یہ عذر پیش کیا جاتا کہ ہمارے پاس کوئی سمجھانے والا تو آیا نہیں جو ہم کو کفر و ایمان کے حسن و قبح سے مطلع کرتا اور ہماری عقل اس کام کے لئے ناکافی تھی تو اب ہم کو عذاب کیوں دیا جاتا ہے۔ جیسا کو سولہویں پارے کے آخر میں فرمایا ہے ولوانا اھلکناھم بعذاب من قبلہ الخ یعنی اگر رسول بھیجنے سے قبل ان کو عذاب کرتے تو یوں کہتے کہ آپ نے کوئی رسول کیوں نہیں بھیجا۔ اگر آپ رسول بھیجتے تو ہم تو تیرے تمام احکام قبول کرتے اس لئے اس اعتراض کا دروازہ بند کرنے کی غرض سے اللہ تعالیٰ نے پے در پے آگے پیچھے اپنے رسول اور رسولوں پر وحی کے ذریعہ احکام کے بھیجنے کا طریقہ جاری کیا۔ ابن مسعود سے مرفوعاً روایت ہے فرمایا نبی کریم ﷺ نے کہ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی غیر مند اور غیرت دار نہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے تمام فواحش اور بےحیائی کے کاموں کو حرام کردیا ہے۔ خواہ وہ کھلے ہوں یا چھپے ہوں اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ کوئی اپنی مدح کو پسند کرنے والا نہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی تعریف اور اپنی مدح خود فرمائی ہے اور ال لہ تعالیٰ سے زیادہ کوئی عذر سننے والا اور قبول کرنیوالا نہیں اسی لئے اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو بھیجا اور کتابیں نازل کیں۔ (بخاری مسلم) مطلب یہ ہے کہ بندوں کی طرف سے یہ عذر کہ ہم کو معلوم نہ تھا کہ ہم کیا کریں اور کیا نہ کیں حضرت حق تعالیٰ نے اس کو روکنے کی غرض سے انبیاء کا سلسلہ جاری کیا۔ قرآن کریم میں اس مضمون کو اور بھی کئی جگہ مختلف عنوان سے بیان فرمایا پندرھویں پارے میں ہے وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا۔ عزیزاً حکیما کا یہاں یہ مطلب ہے کہ کمال قوت کا مالک ہے جو ارادہ کرتا ہے اس کو پورا کرلیتا ہے بڑی حکمت کا مالک ہے کہ اس نے مخلوق کی ہدایت کے لئے انبیاء کو پیدا کیا اور ہر نبی کو کسی نہ کسی قسم کی وحی سے سرفراز فرمایا۔ بعض لوگوں نے یوں کہا ہے کہ وہ کمال قوت کا مالک ہے اگر چاہتا تو بلاپیغمبر بھیجے بھی عذاب کرسکتا تھا کیونکہ اس کو مخلوق پر کامل ملکیت حاصل ہے مگر چونکہ حکیم ہے اس لئے اپنی حکمت غامضہ کے پیش نظر اس نے ہدایت کا یہ سلسلہ جاری کردیا تاکہ بندوں کو ہدایت قبول کرنے میں آسانی ہو اور حلال اور برے بھلے کو پہچان سکیں۔ بعض حنفیہ نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ احکام شریعت پر خواہ وہ مامورات ہوں یا منہیات بندوں کو عذاب نہیں کرے گا جب تک ان کے پاس رسول بھیج دے۔ لیکن توحید اس پر موقوف نہیں کیونکہ دلائل توحید عالم میں اس قدر کثرت کے ساتھ ہیں اور خود انسان میں بھی اس کی توحید کے دلائل اتنے کافی ہیں کہ اس کے قائل ہونے کے لئے انسانی عقل کفایت کرتی ہے۔ (واللہ اعلم) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی عذر کی جگہ نہ رہے کہ ہم کو تیری مرضی و نامرضی معلوم ہوتی تو اس پر چلتے یہ اللہ کی حکمت اور تدبیر ہے اور اگر زبردستی کے تو اس کی حاجت نہیں۔ (موضح القرآن) غرض بنی نوع انسان کے لئے یہ آیت نہایت اہم اور قابل غور ہے۔ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی تشریف آوری کے بعد واقعہ یہ ہے کہ قیامت میں کسی عذر کی گنجائش باقی نہیں نہ کافروں کو نہ فاسقوں کو اللھم وفقنا لما تحب وترضی ربنا ولک الحمد اب آگے نبی کریم ﷺ کی نبوت پر اپنی اور ملائکہ کی شہادت پیش کرتے ہیں غالباً مکہ کے رئوساء نے یا مدینے کے کافروں نے یہود سے دریافت کیا تھا کہ تمہارے ہاں بھی اس رسول کا کچھ ذکر ہے یا تمہاری کتابوں میں بھی اس پیغمبر کا کوئی ذکر ہے۔ ا س پر یہود نے کہا ہم اس کو نہیں جانتے اور نہ اس پیغمبر کو پہچانتے ہیں چناچہ کافروں نے حضور ﷺ سے یہود کا یہ مقولہ نقل کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ (تسہیل)
Ayahs 4:166–168

لٰكِنِ اللّٰهُ یَشْهَدُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اِلَیْكَ اَنْزَلَهٗ بِعِلْمِهٖ١ۚ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَشْهَدُوْنَ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًاؕ Open ayah 4:166 in the Quran reader

یہ لوگ مانیں یا نہ مانیں مگر واقعہ یہ ہے کہ خود اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کے ذریعہ جو اس نے آپ کی جانب نازل کی ہے اور نازل بھی اپنے علم خاص کے ساتھ کی ہے آپ کی نبوت پر شہادت دے رہا ہے اور فرشتے بھی گواہ ہیں اور گواہی کے لئے اللہ تعالیٰ ہی کی ذات کافی ہے2

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ قَدْ ضَلُّوْا ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:167 in the Quran reader

جو لوگ دین حق سے منکر ہوئے اور دوسروں کو اللہ کی راہ سے روکا وہ یقینا انتہائی گمراہی میں جا پڑے

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ ظَلَمُوْا لَمْ یَكُنِ اللّٰهُ لِیَغْفِرَ لَهُمْ وَ لَا لِیَهْدِیَهُمْ طَرِیْقًاۙ Open ayah 4:168 in the Quran reader

یقینا جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور حق کو چھپا کر ظلم کیا تو اللہ تعالیٰ ان کو ہرگز نہ بخشے گا

ف 2 اے پیغمبر ! یہ لوگ آپ کی نبوت کا اعتراف کریں یا نہ کریں لیکن اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعہ جس کو آپ کے پاس بھیجا ہے اور بھیجا بھی اپنے علم خاص اور اپنے کمال علمی کے ساتھ ہے آپ کی نبوت رسالت پر شہادت دے رہا ہے اور فرشتے بھی آپ کی نبوت پر گواہی دے رہے ہیں اور آپ کی تصدیق کر رہے ہیں اور گواہی کے لئے تو اللہ تعالیٰ ہی کی ذات کافی ہے۔ (تیسیر) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی وحی ہر پیغمبر کو اتٓی رہی کچھ نیا کام نہیں پر اس کلام میں اللہ تعالیٰ نے اپنا خاص علم اتارا اور اللہ اس حق کو ظاہر کر دے گا چناچہ ظاہر ہوا کہ جس قدر ہدایت اس نبی سے ہوئی اور کسی سے نہ ہوئی۔ (موضح القرآن) حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ یہود کی ایک جماعت نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی آپ نے ان سے فرمایا واللہ میں جانتا ہوں کہ تم اس امر کو بخوبی جانتے ہو کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں انہوں نے جواب دیا ہم نہیں جانتے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ جانیں نہ جانیں اور آپ کو مانیں یا نہ مانیں مگر اللہ تعالیٰ شہادت دیتا ہے کہ آپ اس کے رسول ہیں اور اس کی شہادت کا ذریعہ یہ قرآن ہے جو اس نے اپنے کمال علمی اور علم خاص کے ساتھ آپ کی جانب بھیجا ہے یہ قرآن کریم ہی اللہ تعالیٰ کی شہادت ہے کیونکہ یہ کتاب اعجاز ہی اعجاز ہے جو آپ کی نبوت کے لئے ایک دلیل قاطع ہے ایسی معجز کتاب کا نازل کرنا جس کے جواب سے تمام دنیا عاجز ہے یہی آپ کی نبوت کے لئے کافی دلیل ہے اور چونکہ یہ کتاب ہم نے نازل فرمائی ہے اور علم خاص سے نازل فرمائی ہے لہٰذا یہی ہماری گواہی ہے کہ آپ ہمارے رسول ہیں۔ علم خاص سے مراد وہ مغیبات ہیں جو گزشتہ دور میں ہوچکے یا آئندہ ہونے والے ہیں اور یہ قرآن کریم ان مغیبات ماضیہ اور مستقبلہ کو شامل ہے یا علم خاص سے مراد قرآن کی تالیف و ترتیب ہے کہ جس کی چھوٹی چھوٹی سی سورت کا بھی جواب دینے سے تمام فصحا عاجز ہیں۔ یا علم خاص سے مراد وہ علم ہے جو نبوت کے لائق اور مناسب ہے اور جس علم کی مخلوق محتاج ہے اور جو مخلوق کی اصلاح کے لئے ضروری ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کا علم مراد ہو اللہ تعالیٰ کی مرضیات و مکروہات کی جانب اشارہ ہو بہرحال ! اس کلام کا معجز ہونا اور انواع و اقسام کے علوم پر مشتمل ہونا جو پیغمبر آخر الزماں ﷺ کی شایان شان ہے آپ ﷺ کی رسالت کے لئے کھلی برہان ہے اور چونکہ اس قرآن کریم کو ہم نے نازل کیا ہے اس لئے اس قرآن کے ذریعہ ہم آپ کی نبوت پر شاہد ہیں۔ اگر یہ اعتراف نہیں کرتے تو نہ کریں مخلوق میں سے وہ مخلوق آپ کی تصدیق کرتی ہے جو ان سے بہتر اور برتر ہے یعنی فرشتے اس لئے کہ وہ اس کتاب کو لے کر آتے ہیں اور آپ کے ساتھ جہاد میں شریک ہوتے ہیں اور آپ کی حفاظت و اعانت کرتے ہیں اس لئے وہ آپ کی نبوت کے مصدق اور شاہد ہیں۔ اس آیت میں مسلمانوں کی شہادت کا ذکر نہیں فرمایا کیونکہ ان کی شہادت تو ظاہری تھی وہ تو حضور ﷺ پر ایمان ہی لائے تھے ۔ آخر میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہی کی شہادت آپ کے لئے کافی ہے اور آپ کی نبوت پر جو دلیل اس نے قائم کی ہے وہی کافی ہے کوئی تسلیم کرے یا نہ کے۔ اس آیت میں نبی کریم ﷺ کے لئے تسلی ہے اب آگے منکروں کے توبیخ اور ظالموں کے لئے وعید مذکور ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 4:169

اِلَّا طَرِیْقَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 4:169 in the Quran reader

اور نہ ان کو کوئی راہ دکھائے گا سوائے دوزخ کی راہ کے وہ لوگ اس دوزخ میں ہمیشہ ہمیشہ پڑے رہیں گے اور ان کو یہ سزا دینا اللہ تعالیٰ پر بہت آسان ہے3

ف 3 یقین جانو ! ان دلائل واضحہ کے بعد بھی جو لوگ دین حق کے منکر رہے اور دوسروں کو بھی اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکتے رہے اور دوسروں کے لئے بھی مانع ہوئے تو یہ لوگ ایسی انتہائی گمراہی میں جا پڑے جو راہ حق سے بہت دور ہے بلاشبہ جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور کافرانہ روش پر چلے اور کتمان حق کر کے دوسروں پر ظلم کیا اور راہ حق سے مانع بن کر دوسروں کو نقصان پہنچایا تو اللہ تعالیٰ ان کو ہرگز نہیں بخشے گا اور کبھی مغفرت نہیں فرمائے گا اور نہ آخرت میں ان کو سوائے دوزخ کی راہ کے اور کوئی راہ دکھائے گا اس دوزخ میں ان کی حالت یہ ہوگی کہ یہ لوگ اس میں ہمیشہ ہمیشہ پڑے رہیں گے اور ان کو ہمیشہ کے لئے جہنم میں ڈال دینا اللہ تعالیٰ پر بہت آسان اور سہل ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ سزا ایک معمولی بات ہے۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی نبوت پر جو دلائل قاطعہ بیان کئے گئے ہیں ان کے باوجود بھی جو شخص ان کی نبوت اور ان کے لائے ہوئے مذہب سے کفر کرے گا اور امر حق کے قبول کرنے سے انکار کرے گا اور نہ صرف انکار بلکہ دوسروں کو بھی اس امر حق کے قبول کرنے سے روکے گا خواہ کتمان حق کے ذریعہ روکے جیسا کہ یہود حضور ﷺ کی نعت کو چھپاتے ہیں اور حضور ﷺ کے متعلق کہتے ہیں کہ ہم ان کو نہیں پہچانتے یا کوئی اور ذریعہ اختیار کرے۔ جیسے منافق کہ چپکے چپکے لوگوں کو شکو ک و شبہات میں مبتلا کرتے رہتے ہیں تو ایسے لوگ انتہائی گمراہی میں جا پڑے جو گمراہی راہ حق سے بہت دور ہے دوسری آیت میں اخروی سزا کا بیان ہے دنیا میں تو یہ لوگ انتہائی گمراہی میں مبتلا ہیں اور آخرت میں ان لوگوں کی جو امر حق کے منکر ہیں اور کتمان حق سے دوسروں کو ہی نقصان پہنچا رہے ہیں اور راہ حق تلاش کرنے والوں پر ظلم کر رہے ہیں کہ ان کو بہکا کر راہ حق سے ہٹا رہے ہیں۔ تو ان کو اللہ تعالیٰ کبھی نہیں بخشے گا اور سوائے دوزخ کی راہ اور کوئی راہ ان کو نہیں دکھائے گا یعنی جنت میں جانا تو کیسا جنت کا راستہ بھی دیکھنا نصیب نہ ہوگا بلکہ دوزخ کی جانب ان کی رہنمائی کی جائے گی اور یہ اس دوزخ میں ہمیشہ ہمیشہ پڑے رہیں گے۔ آخر میں فرمایا ان کے ساتھ ایسا سلوک کرنا اللہ تعالیٰ پر کچھ مشکل نہیں بلکہ اس پر بہت آسان ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ پر کوئی کام مشکل نہیں ہے۔ انما امرہ اذا ارادشیئاً ان یقول لہ کن فیکون صد کے معنی بعض نے لازم اور بعض نے متعدی کئے ہیں ہم نے دوسری شکل اختیار کی ہے ہو سکتاے کہ صدعن سبیل اللہ کے یہ معنی ہوں کہ اللہ کی راہ کو اختیار کرنے سے اٹکے اور روکے واللہ اعلم۔ اب آگے بنی نع انسان کو عام خطاب ہے اور نبی کریم ﷺ کا عام اعلان ہے اور لوگوں کو ان پر ایمان لانے کی عام دعوت ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 4:170

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الرَّسُوْلُ بِالْحَقِّ مِنْ رَّبِّكُمْ فَاٰمِنُوْا خَیْرًا لَّكُمْ١ؕ وَ اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:170 in the Quran reader

اے انسانو ! بلاشبہ تمہارے پاس یہ رسول حق بات لے کر تمہارے رب کی جانب سے آیا ہے لہٰذا تم ایمان لے آئو یہ ایمان لے آنا تمہارے لئے بہتر ہوگا اور اگر تم انکار کرتے رہے تو خوب سمجھ لو کہ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے وہ سب اللہ ہی کا ہے اور اللہ تعالیٰ سب جاننے والا اور بڑی حکمت والا ہے۔4

ف 4 اے انسانو ! بلاشبہ یہ رسول ! یعنی محمد ﷺ تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے حق بات لے کر آئے ہیں لہٰذا تم ان پر ایمان لے آئو اور جو ایمان لا چکے ہیں وہ اس پر قائم رہیں یہ ایمان لے آنا تمہارے لئے بہتر ہوگا اور اگر تم منکر رہے اور انکار کرتے رہے تو تمہارا ہی نقصان ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ تو ان سب چیزوں کا مالک ہے جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور آسمان و زمین کی سب چیزیں اسی کی ملک ہیں اور اللہ تعالیٰ بڑے علم والا ہے ہر ایک کے کفر وا یمان کو جانتا ہے اور بڑی حکمت والا ہے اور بمقتضائے حکمت دنیا میں سزا نہیں دیتا۔ (تیسیر) اس آیت میں بھی اس شہادت کی تاکید اور تفصیل ہے جو اوپر گذر چکی ہے اگر الناس عام ہو جیسا کہ ہم نے اختیار کیا ہے تو آمنوا کا مطلب یہ ہوگا کہ کافر ایمان لائیں اور مومن ایمان پر قائم رہیں اور اگر کفار مراد ہوں جیسا کہ اکثر نے اختیار کیا ہے تو اس معنی کی ضرورت نہیں بلکہ مطلب یہ ہوگا کہ اے لوگو ! تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے یہ رسول حق لے کر آچکا ہے حق سے مراد یا اسلام ہے یا قرآن کریم۔ حق کا مطلب یہ ہے کہ ہر دعویٰ سچا اور ہر دلیل صادق لہٰذا اب رسول پر اور جو کچھ یہ لے کر آئے ہیں اس سب پر ایمان لے آئو ایسا کرنا تمہارے حق میں بہتر ہوگا اور تمہاری نجات ہوگی اور آخرت کے عذاب سے محفوظ ہو جائو گے اور اگر تم انکار کرو گے تو تم ہی کو نقصان پہنچے گا اللہ تعالیٰ کو تو کوئی نقصان نہیں ہوگا کیونکہ آسمانوں میں اور زمین میں جو چیزیں موجود ہیں سب اس کی ملک ہیں اور تمہارے کفر سے اللہ تعالیٰ کی ملک پر کوئی اثر نہیں پڑتا لہٰذا وہ ہر قسم کے نقصان سے پاک ہے مالک کی نافرمانی کا اثر بندوں ہی پر پڑے گا اور اللہ تعالیٰ کمال علم اور کمال حکمت کا مالک ہے۔ سب کی حالت کو جانتا ہے اور سب کے ساتھ حکیمانہ برتائو کرتا ہے۔ اب آگے نصاریٰ کو خطاب ہے اور نصاریٰ کو حکم دیا جاتا ہے کہ تم اپنے دین میں افراط وتفریط سے باز آئو اور شریعت اسلامیہ کی روشنی میں اپنی اصلاح کرو۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 4:171

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ وَ لَا تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ١ؕ اِنَّمَا الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ وَ كَلِمَتُهٗ١ۚ اَلْقٰىهَاۤ اِلٰى مَرْیَمَ وَ رُوْحٌ مِّنْهُ١٘ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١۫ۚ وَ لَا تَقُوْلُوْا ثَلٰثَةٌ١ؕ اِنْتَهُوْا خَیْرًا لَّكُمْ١ؕ اِنَّمَا اللّٰهُ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ؕ سُبْحٰنَهٗۤ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗ وَلَدٌ١ۘ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا۠ Open ayah 4:171 in the Quran reader

اے اہل کتاب یعنی نصاریٰ تم اپنے دین میں حد سے تجاوز نہ کرو اور اللہ تعالیٰ کی نسبت سوائے حق بات کے اور کچھ نہ کہو سوائے اس کے کچھ نہیں کہ مسیح عیسیٰ ابن مریم صرف اللہ کا ایک رسول اور اس کا ایک کار ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے مریم تک پہنچایا تھا اور وہ مسیح خدا کی جانب سے ایک روح ہے لہٰذا تم اللہ پر اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائو اور تم یہ نہ کہو کہ خدا تین ہیں اس قول سے باز آ جائو تمہارے لئے بہتر ہوگا صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود حقیقی ہے اکیلا اس کی ذات اس سے منزہ ہے کہ اس کے کوئی اولاد ہو جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے وہ سب اسی کی ملک ہے اور اللہ تعالیٰ کار ساز ہونے کے اعتبار سے کافی ہے1

ف 1 اے اہل کتاب یعنی اہل انجیل تم اپنے دین میں غلو نہ کرو اور عقائد حقہ کے بارے میں حد سے تجاوز نہ کرو اور اللہ تعالیٰ کی شان میں سوائے حق اور سچی بات کے اور کوئی بات نہ کہو دیکھو مسیح عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم سوائے اس کے نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے رسول اور اس کا ایک کلمہ ہیں یعنی صرف اللہ تعالیٰ کے کلمہ کن کا ظہور اور ایک کلمہ کی پیدائش ہیں جس کلمہ کو اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم تک پہنچایا تھا اور فرشتے کی معرفت حضرت مریم کی جانب ڈال دیا تھا اور وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک روح ہیں یعنی فرشتے کی معرفت جو حضرت مریم میں پھونکی گئی لہٰذا جب مسیح کی صحیح حقیقت معلوم ہوگئی تو اللہ تعالیٰ پر اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائو اور تم یوں نہ کہو کہ خدا تین ہیں یہ تثلیث کے قول یعنی شرک سے باز آ جائو اور شرک سے باز آجانا تمہارے لئے بہتر ہوگا دیکھو صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود حقیقی اور یکتا و یگانہ ہے اور اس کی ذات اس سے پاک اور منزہ ہے کہ اس کے کوئی اولاد ہو جو کچھ بھی آسمانوں میں اور زمین میں موجودات ہیں سب اسی کی ملک ہیں اور اللہ تعالیٰ کار ساز ہونے کے اعتبار سے کافی ہے اس کے سوا سب اسی کی کارسازی کے محتاج ہیں۔ (تیسیر) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یہ خطاب ہے نصاریٰ کو کہ اللہ کو تین جگہ بتاتے ہیں باپ بیٹا اور روح القدس فرمایا کہ دین کی بات میں مبالغہ عیب ہے ایک شخص سے اعتقاد ہو تو حد سے نہ بڑھے جتنی بات تحقیق ہو وہی کہے اور فرمایا فی الحقیقت بٹا جنے یہ اللہ کو لائق نہیں اور بیٹا کرے تو اس کو پیشہ کار کی حاجت نہیں وہ بس ہے کام بنانے والا (موضح القرآن) عام مفسرین نے اس آیت میں صرف نصاریٰ کو مخاطب کیا ہے جیسا کہ ہم نے اختیار کیا ہے لیکن ہوسکتا ہے کہ یہود و نصاریٰ دونوں ہوں جیسا کہ بعض نے اختیار کیا ہے بلکہ ہر وہ شخص مخاطب ہوسکتا ہے جو دین کی بات میں حد سے تجاوز کرے اور بلاتحقیق بات کو بڑھا کر کہے جیسے غالی شیعہ اور اس زمانہ کے متبد عین جو اولیاء کو انبیاء سے اور انبیاء کو خدا سے جا ملاتے ہیں اور ہر شخص کی تعریف میں خلاف شرع مبالغہ کیا کرتے ہیں غلو کے معنی حد سے تجاوز کرنے کے ہیں چونکہ یہود و نصاریٰ میں حضرت مسیح کی ذات خاص طور سے مابہ النزاع بنی ہوئی تھی اس لئے قرآن کریم نے نہایت سنجیدگی سے ان کے مسئلے کو صاف کردیا ہے نصاریٰ ان کو خدا کا بیٹا اور یمن میں سے تیسرا کہتے تھے اور یہد ان کی رسالت ہی کے منکر تھے لہٰذا قرآن کریم نے ایک صحیح اور حقیقی چیز ان کے روبرو پیش کردی جن کی روح میں صلاحیت اور فطری استعداد موجود تھی انہوں نے قرآن کریم کے اس فیصلے کو مان لیا اور جن کی ارواح محروم تھیں وہ ہمیشہ محروم ہی رہے۔ اور یہ جو فرمایا ولا تقولوا اعلی اللہ الا الحق اس میں ان کی ان خرافات اور ہفوات کی جانب اشارہ ہے جو نصاریٰ اللہ تعالیٰ کی نسبت کہا کرتے تھے مثلاً مسیح ابن اللہ ہے یا اللہ تعالیٰ ثالث ثلثہ ہے یعنی مجموعہ اللہ کا ایک جزو ہے۔ دو اجزا الوہیت کے مسیح کو اور جبرئیل (علیہ السلام) کو بتاتے تھے یا یوں کہتے تھے کہ وہ ایک جوہر ہے اور تین اقانیم ہے ایک اقنوم باپ اور دوسرا قنوم بیٹا تیسرا اقنوم روح القدس بعض ان میں سے اقنوم اور سب سے ذات مراد لیتے تھے اقنوم الا بن سے مراد علم لیتے تھے اور اقنوم روح القدس سے مراد حیات لیتے تھے یا بعض لوگ باپ بیٹا روح القدس کا قول کرتے تھے یا حضرت عیسیٰ اور ان کی والدہ کو اللہ تعالیٰ کے علاوہ دو معبود کہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان سب باتوں کے کہنے سے منع فرمایا اور حضرت مسیح کی حقیقت کو ظاہر کیا کہ وہ رسول اللہ ہیں اور اللہ تعالیٰ کے کلمہ ہیں اور اس کی جانب سے ایک روح اور جان ہیں یوں تو ہر چیز ان کے حکم اور کلمہ سے پیدا ہوتی ہے لیکن ظاہری اسباب بھی مادے وغیرہ کے ہوتے ہیں لیکن یہاں چونکہ وہ مادی اسباب منتقی تھے اس لئے سبب بعید کی جانب ان کو منسوب فرمایا یہاں نہ باپ ہے نہ باپ کا نطفہ ہے اور محض اللہ تعالیٰ کے کلمہ کن کا ظہور ہے اس لئے ان کو کلمتہ اللہ فرما دیا۔ قتادہ کا قول ہے کہ مراد کلمئہ اور روح سے کن فیکون ہے شاذ بن یحییٰ نے کہا کہ کلمئہ عیسیٰ نیں بن گئے بلکہ عیسیٰ کلمے سے ہوئے۔ ابن کثیر نے کہا صحیح بات یہ ہے کہ جبرئیل (علیہ السلام) کلمہ لائے تھے اسی کلمہ سے عیسیٰ ہوتے۔ (واللہ اعلم) بہرحال ! وہ اللہ کا کلمہ اور اس کی جانب سے پیدا شدہ ایک جاندار ہیں صاحب روح المعانی نے روح کا ترجمہ ذی روح کیا ہے اور یہ نسبت محض تشریفی ہے ورنہ تو ہر چیز اسی کی جانب سے پیدا شدہ ہے جیسا کہ سورة جاثیہ میں فرمایا۔ وسخرلکم مافی السموات وما فی الارض جمیعا منہ بعض نے کہا اللہ کی جانب سے رحمت تیھ اور بعض نے کہا اللہ کی حجت اور دلیل تھے بعض نے کہا چونکہ ان سے اشیائے عجیبہ کا ظہور ہوتا تھا اس لئے ان کا لقب روح اللہ فرمایا بہرحال ! آیت زیر بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ اے اہل کتاب تم اپنے دین کے بارے میں مبالغہ نہ کیا کرو اور جو بات صحیح جو اسی کو ظاہر کرو اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں صرف وہی بات کہا کہا کرو جو سچی اور تحقیقی بات ہو حضرت مسیح عیسیٰ بن مریم تو صرف اللہ تعالیٰ کا رسول اور اس کا کلمہ اور اس کی پیدا کردہ روح ہے اللہ تعالیٰ نے اس کلمہ کو حضرت مریم تک پہنچایا تھا نہ وہ ابن اللہ ہے نہ اللہ ہیں اور نہ تین اقانیم میں سے ایک اقنوم ہیں لہٰذاتم اللہ پر اور اس کے رسولوں پر صحیح طور پر ایمان لائو اور جو انہوں نے تعلیم دی ہے اس کو قبول کرو اور یوں نہ کہو کہ خدا تین ہیں اور اس تثلیث کے قول سے باز آئو کہ یہ تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ معبود حقیقی تو ایک ہی معبود ہے وہ اس بات سے پاک ہے کہ اس کو صاحب اولاد کہا جائے کیونکہ وہ جملہ عیوب سے پاک ہے ۔ نہ اس کی تقسیم ہوسکتی ہے نہ اس کو بڑھاپا آتا ہے نہ اس کو کوئی کمزوری پیش آتی ہے جو اس کو اولاد کی ضرورت ہو بلکہ تمام کائنات اور جملہ موجودات اسی کی ملک ہیں اور اس کو کسی وکیل کی ضروت بھی نہیں نہ کسی پیش کار اور مثل خواں کی ضرورت ہے۔ بلکہ وہی سب کا کار ساز اور سب کا کام بنانے والا ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے فرمایا نبی کریم ﷺ نے مجھ کو تم ایسا نہ بڑھائو جیسا نصاریٰ نے حضرت مسیح کو بڑھایا میں تو ایک بندہ ہوں تم مجھ کو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ﷺ کہا کرو۔ اس روایت کو امام احمد نے حضرت عمر سے نقل کیا ہے امام احمد کی ایک اور روایت میں ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے لوگو ! تم کو شیطان غلط خواہشات میں مبتلا نہ کر دے دیکھو میں محمد بن عبداللہ اور رسول اللہ ہوں خدا کی قسم ! میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ مجھ کو میرے مقررہ مرتبے سے بڑھایا اور بلند کیا جائے یہاں تک حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی صحیح حقیقت کو واضح فرمایا اور ان کے شریک فی الالوہیت کا ابطال اور رد تھا آگے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی خود عبودیت اور خدا کا بندہ ہونے کا اعتراف ہے اور یہ طریقہ نصاریٰ کے دعا دی کے ابطال میں بہترین طریقہ ہے کہ جس کو تم لوگ خدا کا ہمسر اور خدا کا بیٹا کہہ رہے ہو اور اس کی خود یہ حالت ہے کہ وہ خدا کا اپنے کو بندہ کہتا ہے اور خدا کا بندہ ہونا اپنے لئے مایہ عزت و افتخار سمجھتا ہے اس سے بڑھ کر نصاریٰ کی اور کیا حماقت ہوسکتی ہے کہ وہ جس کو خدا کا شریک کہیں وہ خود اللہ تعالیٰ کا بندہ ہونے کا اعتراف کرے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 4:172

لَنْ یَّسْتَنْكِفَ الْمَسِیْحُ اَنْ یَّكُوْنَ عَبْدًا لِّلّٰهِ وَ لَا الْمَلٰٓئِكَةُ الْمُقَرَّبُوْنَ١ؕ وَ مَنْ یَّسْتَنْكِفْ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ یَسْتَكْبِرْ فَسَیَحْشُرُهُمْ اِلَیْهِ جَمِیْعًا Open ayah 4:172 in the Quran reader

مسیح کو اس بات سے ہرگز کوئی ننگ و عار نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کا بندہ ہو اور نہ مقرب فرشتوں کو خدا کا بندہ ہونے سے کوئی عار ہے اور جو شخص خدا کی عبادت کو عار سمجھے اور سرکشی کرے تو ایک وقت آئیگا کہ خدا تعالیٰ ضرور سب اچھے بڑے لوگوں کو اپنے پاس جمع کرلے گا۔2

ف 2 حضرت مسیح کو ہرگز اس بات سے ننگ و عار نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کا بندہ ہو یعنی اللہ تعالیٰ کا بندہ بننے سے مسیح کوئی عار نہیں اور نہ اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے خدا کے بندے ہونے سے کوئی عار محسوس کرتے ہیں اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی بندگی سے عار کرے گا اور اس کی بندگی سے سرکشی کرے گا تو سن لو ! کہ اللہ تعالیٰ ضرور سب عبادت گزاروں اور نافرمانوں کو اپنے پاس جمع کرے گا۔ استنکاف۔ کسی چیز کو برا سمجھنا ناک چڑھانا اپنی حمیت اور شان کے خلاف سمجھنا۔ مطلب یہ ہے کہ حضرت مسیح جن کو تم الوہیت میں شریک کر رہے ہو خود ان کی یہ حالت ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا بندہ بننے سے کسی قسم کی برائی اور عار محسوس نہیں کرتے بلکہ خدا کا بندہ ہونا اپنے لئے موجب عزت سمجھتے ہیں اور یہی حالت ان فرشتوں کی ہے جو بارگاہ خداوندی میں مقرب ہیں مثلاً جبریل میکائیل ، اسرافیل اور عزرائیل وغیرہ فرشتوں کا ذکر شاید اس لئے فرمایا کہ کفار بھی ملائکہ کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہا کرتے تھے یا اس وجہ سے کہ نصاریٰ روح القدس کو مجموعہ اقانیم ثلاثہ کا ایک جزو سمجھتے تھے اور چونکہ مقربین ملائکہ میں روح القدس بھی ہیں اس کے مقرب فرشتوں میں ان کی طرف اشارہ ہو کہ جن اقانیم کا نام تم نے اللہ رکھا ہے ان کے اجزاء کی تو خود یہ حالت ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا بندہ بننے سے کوئی برا نہیں مانتے اور جب وہ خود اپنے کو بندہ کہتے ہیں تو تم ان کو کیوں خدائی میں شریک کرتے ہو۔ یہ شرکت بھی عجیب ہے کہ تم جن کو شریک بتاتے ہو وہ اپنے کو خدا کا بندہ کہتے ہیں اور عبودیت کا اقرار کرتے ہیں اور بات بھی یہ ہے کہ اس کی عبودیت سے انکار و اسنکاف ہی کون کرسکتا ہے کیونکہ جو شخص بھی اس کی عبادت سے ناک بھوں چڑھائے گا اور اپنی شان کے خلاف سمجھے گا اور اس کی عبادت اور عبودیت کے ماقبلہ میں سرکشی اور تکبر کرے گا تو یہ بات سن لو کہ ہم سب کو خواہ وہ عبادت گزار ہوں یا عبادت سے استنکاف و استکبار کرنے والے ہوں ان سب کو اپنے پاس جمع کریں گے چونکہ آگے تفصیل آرہی ہے اور دونوں گروہوں کا ذکر ہوا ہے اس لئے فسیحشرھم کی ضمیر کا مرجع ہم نے سب کو قرار دیا ہے اور ترجمہ میں سب اچھے برے کردیا ہے۔ بعض معتزلہ نے اس آیت سے ملائکہ کا بشر پر افضل ہونا ثابت کیا ہے حالانکہ آیت کا مطلب صرف اس قدر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبودیت اور اس کی عبادت سے کوئی بھی عار نہیں کرتا خواہ وہ امام ہو یا ماموم خوا ہ کوئی کبیر ہو یا صغیر کوئی بزرگ ہو یاحقیر یہ مطلب نہیں ہے کہ معطوف معطوف علیہ سے شان میں برتر ہے جیسا کہ معتزلہ نے استدلال کیا ہے مزید تحقیق کے لئے بخاری کی شرح فتح الباری ملاحظہ کی جائے اور وہ بحث ملاحظہ کی جائے جو حدیث من ذکرنی کے تحت علامہ ابن حجر (رح) نیکی ہے اب آگے ہر دو فریق کی جزا و سزا کی تفصیل ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 4:173–174

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ۚ وَ اَمَّا الَّذِیْنَ اسْتَنْكَفُوْا وَ اسْتَكْبَرُوْا فَیُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ۬ وَّ لَا یَجِدُوْنَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 4:173 in the Quran reader

پھر وہ لوگ جو ایمان لائے ہوں گے اور نیک عمل کرتے ہوں تو خدائے تعالیٰ ان کو ان کا پورا پورا ثواب دے گا اور اپنے فضل سے ان کو اور زیادہ بھی عطا فرمائے گا اور جنہوں نے خدا کی عبادت کو اپنے لئے ننگ و عار سمجھا ہوگا اور سرتابی و سرکشی کی ہوگی تو انہیں سخت درد ناک سزا دے گا اور یہ لوگ اللہ کے سوا نہ کسی کو اپنا حمایتی پائیں گے اور نہ مددگار1

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمْ بُرْهَانٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ نُوْرًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:174 in the Quran reader

اے انسانو ! یقینا تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس ایک بڑی دلیل آچکی ہے اور ہم نے تمہاری طرف ایک صاف وصریح نور نازل کیا ہے۔

ف 1 پھر وہ لوگ جو دنیا میں ایمان لائے ہوں گے اور نیک اعمال اور اچھے کام کرتے رہے ہوں گے تو خدا تعالیٰ ان لوگوں کو ان کے پورے اجر عطا کرے گا اور ان کو ان کا پورا پورا ثواب دیگا اور ان اجور کے علاوہ اپنے فضل سے ان کو اور زیادہ بھی عطا فرمائے گا اور جن لوگوں نے حق تعالیٰ کی عبودیت کو ننگ دعاء سمجھا ہوگا اور اس کی عبادت سے سرکشی اور سرتابی کی ہوگی تو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو سخت درد ناک سزا دے گا اور وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو اپنا یار و مددگا نہ پائیں گے۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ میدان حشر میں سب کو جمع کرنے کے بعد پھر یہ سلوک ہوگا کہ ان میں جو لوگ عبدیت اور عبادت کو صحیح طور پر بجا لائے جس کا خلاصہ ایمان اور اعمال صالحہ ہیں تو ایسے لوگوں کو ان کا صلہ تو اللہ تعالیٰ پورا دے ہی دے گا لیکن اس صلہ کے علاوہ اور بھی اپنے فضل سے زیادہ دے گا یعنی ایمان و اعمال کا مقررہ ثواب دینے کے ساتھ اور بھی کچھ زیادہ عطا فرمائے گا خواہ وہ دیدار الٰہی ہو یا گناہ گاروں کے لئے شفاعت کا حق ہو۔ جیسا کہ حضرت ابن مسعود ؓ سے مرفوعاً اور موقوفاً مروی ہے یا یہ کہ اس مزید فضل کو حق تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ وہ کیا ہوگا۔ بہرحال ! اجور مقررہ کے علاوہ محض فضل سے کچھ اور بھی زیادہ عطا ہوگا اور بہرحال جو لوگ استنکاف و استکبار کے خوگر ہیں جس کا مقتضا ہے شرک اور پیغمبر کی نافرمانی تو ایسے لوگوں کو درد ناک سزا ہوگی اور ان کو قیامت میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ اپنا کوئی حمایتی اور مددگار دکھائی نہ دے گا مشرک جب دوسرے معبودوں کو بھی حق تعالیٰ کا شریک قرار دیتا ہے تو گویا وہ صرف اللہ تعالیٰ کا بندہ بننے سے استنکاف کرتا ہے اور پیغمبر کی اطاعت چونکہ مامور من اللہ ہے تو عبادت ہے لہٰذا جو شخص رسول کی اطاعت نہیں کرتا تو گویا وہ اللہ کی عبادت سے استنکبار کرتا ہے۔ جو تقریر اسنکاف و استکبار پر ہم نیکی ہے اس پر انشاء اللہ کوئی شبہ واقع نہیں ہوگا ہم نے اس شبہ کے پیش نظر یہ تقریر کی ہے جو عام طور پر طالب علم کیا کرتے ہیں کہ عبدیت سے استنکاف اور عبودیت سے استکبار تو پایا ہی نہیں جاتا۔ بہرحال اب ان دلائل کے بعد پھر تمام بنی نوع انسان کو خطاب کیا جاتا ہے اور پیغمبر ﷺ اور قرآن مقدس کی طرف دعوت دی جاتی ہے اور یہ اسلوب نہایت ہی بہترین اسلوب ہے کہ پہلے نبی کریم ﷺ کی رسالت اور قرآن کریم کی حقانیت کو دلائل سے ثابت فرمایا اور آخر میں لوگوں کو دعوت دی کہ جو چیز دلائل سے حق اور یقین ثابت ہوچکی اب اس پر ایمان لانے سے کیا چیز مانع ہے اب اگر دین و دنیا کی بھلائی اور نیک توفیق چاہتے ہو تو اس کو قبول کرلو۔ (تسہیل)
Ayah 4:175

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ اعْتَصَمُوْا بِهٖ فَسَیُدْخِلُهُمْ فِیْ رَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ فَضْلٍ١ۙ وَّ یَهْدِیْهِمْ اِلَیْهِ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاؕ Open ayah 4:175 in the Quran reader

سو اب جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے دین کو مضبوط پکڑا تو اللہ تعالیٰ عنقریب ایسے لوگوں کو اپنی رحمت اور فضل میں داخل کرے گا اور انہیں اپنے تک پہونچنے کی سیدھی راہ دکھا دے گا۔2

ف 2 اے انسانو ! بلاشبہ تمہارے پروردگار کی جانب سے تمہارے پاس ایک بڑی دلیل آچکی ہے یعنی محمد رسول اللہ ﷺ جن کی ذات گرامی اپنی صداقت کی خود ہی دلیل ہے اور ہم نے تمہاری جانب ایک صاف وصریح نور بھیجا ہے یعنی قرآن شریف جو گمراہی کی ہر تاریکی سے بچاتا ہے پھر اب جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے دین کو جو اسلام ہے مضبوط پکڑا تو ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ عنقریب اپنی رحمت کے سایہ میں داخل رے گا اور دامان فضل میں جگہ دے گا اور اپنے تک پہونچنے کا ان کو سیدھا راستہ دکھائے گا۔ (تیسیر) نبی کریم ﷺ کو برہان فرمایا اور یہ واقعہ ہے کہ آپ کی ذات اقدس اور آپ کے اخلاف کریمانہ اور آپ کے معجزات اور آپ پر کتاب کا نزول یہ سب چیزیں آپ کی نبوت اور آپ کی رسالت کے کھلے کھلے دلائل ہیں جن کو دیکھنے کے بعد کسی اور دلیل کی احتیاج باقی نہیں رہتی تو یوں سمجھنا چاہئے کہ آپ کی ذات خود ہی ایک مجسم دلیل ہے جس طرح آفتاب اپنی آپ ہی دلیل ہے اسی طرح حضور ﷺ کے وجود باوجود کو دلیل اور قرآن کریم کو نور فرمایا۔ روشنی کا کام لوگوں کو راستہ دکھانا ہوتا ہے۔ اندھیرے میں روشنی نہ ہو تو انسان ایک قدم نہیں چل سکتا ۔ اسی طرح کفر و شرک کی اندھیریاں انسان کو گھیرے ہوئی ہیں ان ظلمات اور تاریکیوں سے قرآن کریم ہی کے ذریعہ نجات حاصل کی جاسکتی ہے اور انسان کفر و شرک کے گڑھوں سے بچ سکتا ہے اس لئے قرآن کریم کو نور مبین فرمایا۔ امنوا باللہ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی تنزیہ کا اعتقاد رکھیں۔ اعتصام کو ہم بیان کرچکے ہیں کسی چیز کے مضبوط پکڑنے کو کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا مضبوط پکڑنا یہ کہ اس کے دین کو جو اسلام ہے مضبوط پکڑیں یا یہ کہ قرآن کریم کو مضبوط پکڑیں۔ بہ کا مرجع قرآن کریم بھی ہوسکتا ہے اسلام کو مضبوط پکڑنے کا مطلب یہ ہے کہ رسول اور قرآن کریم کی تصدیق کریں رحمت سے مراد جنت ہے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا فضل سے مراد جنت کے علاوہ دوسری نعمتیں ہیں یا دیدار بھی ہے۔ الیہ کی ضمیر کے مرجع میں بھی کئی قول ہیں اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس جیسا کہ ہم نے اختیار کیا ہے یا رحمت یا فضل یا دونوں یا قرآن بہرحال خلاصہ یہ ہے کہ تمام بنی نع انسان کو تنبیہ کی گئی ہے کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے پیغمبر اور قرآن پہنچ گیا ہے لہٰذا دلیل اور روشنی میسر آجانے کے بعد جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ صحیح اعتقاد رکھے گا اور خدا پر پوری طرح بھروسہ کرے گا اور اس کے دین کو مضبوط پکڑے گا تو اس کے لئے آخرت میں جنت کا داخلہ ہوگا اور جنت کے علاوہ اور بھی سلوک ہوگا اور دیدار الٰہی کا شرف ہوگا اور ایک ایسی سیدھی راہ کی رہنمائی میسر ہوگی جو حضرت حق تعالیٰ تک پہونچتی ہے اور وہ راہ امتثال امر اللہ کی راہ ہے یا طریقہ رضا ہے بہرحال ! ایسی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے گا جو راہ اس کو پسند ہے اور جس پر چل کر بندہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوجائے گا اور اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوگا۔ اور اگر یہ شبہ کیا جائے کہ امتثال امر اور طریقہ رضا تو خود ایمان اور اعمال صالحہ کا نام ہے پھر اس کو سبب کیوں فرمایا تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایمان اور اعمال صالحہ سبب ہیں ثبات علی الطاعت اور توفیق طاعت کے جیسا کہ عام قاعدہ ہے کہ ہر عمل نیک دوسرے نیک عمل کی توفیق پیدا کرتا ہے پس اعمال صالحہ مزید نیک اعمال کے موجب ہوں گے اور را ہ راست پر ثابت رہنے میں ممد و معاون ہوں گے اور اسی آیت سے یہ بھی مفہوم سمجھ میں آگیا ہوگا کہ جو لوگ ایمان باللہ اور اعتصام باللہ کے منکر ہوں گے وہ ان ثمرات اور فوائد سے محروم رہیں گے اور ان کو یہ وعدہ شامل نہ ہوگا۔ چناچہ حقوق مالیہ کی بحث اور ترکہ کی تقسیم وغیرہ کا ذکر سورت کی ابتداء میں گزر چکا ہے ۔ اب آخر میں پھر ترکہ کے بعض مسائل پر اس سورت کو ختم کیا جاتا ہے تاکہ باقی مسائل کی تکمیل ہوجائے اور سورت کے شروع میں جس مقصد کا اظہار کیا گیا تھا آخر میں پھر اس پر توجہ دلائی جائے۔ شان نزول کے متعلق عام طور سے یہ کہا جاتا ہے کہ حضرت جابر بن عبداللہ بیمار تھے نبی کریم ﷺ ان کے ہاں تشریف لے گئے اس وقت جابر کے ہوش و حواس صحیح نہ تھے حضور ﷺ نے وضو کیا اور کچھ پانی ان کے منھ پر چھڑکا اور جب جابر کو ہوش ہوا تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میرے کوئی اولاد نہیں ہے تو میرا ترکہ کس طرح تقسیم ہوگا اس پر یہ آخری آیت نازل ہوئی بعض روایات میں حضرت عمر کا بھی یہی سوال منقول ہے کہ انہوں ں نے دریافت کیا یا رسول اللہ ﷺ کلالہ کی میراث کس طرح تقسیم ہوگی تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ حضرت عمر ؓ فرمایا کرتے تھے کہ میں بکثرت حضور ﷺ سے کلالہ کی میراث کے متعلق سوال کیا کرتا تھا ایک دن حضور ﷺ نے میرے سینہ میں اپنی انگلی چبھو کر فرمایا کیا عمر ! تیرے لئے سورة نساء کی آخری آیت کافی نہیں ہے۔ بہرحال ! شان نزول خواہ کچھ ہو کلالہ کی میراث کا ذکر فرماتے ہیں کلالہ کو ہم بتا چکے ہیں کہ جس کے اصول و فروع نہ ہوں اس کو کلالہ کہتے ہیں یعنی نہ ماں باپ ہوں اور نہ بیٹا بیٹی ہوں اس کی میراث کی تقسیم کو بتاتے ہیں چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 4:176

یَسْتَفْتُوْنَكَ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یُفْتِیْكُمْ فِی الْكَلٰلَةِ١ؕ اِنِ امْرُؤٌا هَلَكَ لَیْسَ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَهٗۤ اُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ١ۚ وَ هُوَ یَرِثُهَاۤ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهَا وَلَدٌ١ؕ فَاِنْ كَانَتَا اثْنَتَیْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثٰنِ مِمَّا تَرَكَ١ؕ وَ اِنْ كَانُوْۤا اِخْوَةً رِّجَالًا وَّ نِسَآءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اَنْ تَضِلُّوْا١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 4:176 in the Quran reader

لوگ آپ سے کلالہ کی میراث کا حکم دریافت کرتے ہیں آپ کہہ دیجیے اللہ تعالیٰ تم کو کلالہ کے بارے میں یہ حکم دیتا ہے کہ اگر ایسا شخص مرجائے کہ جس کے کوئی اولاد نہ ہو مگر ہاں اس مرنیوالے کی ایک حقیقی یا علاتی بہن ہو تو اس بہن کو اس میت کے تمام مال متروکہ کا نصف ملے گا اور اگر وہ بہن مرجائے جس کے کوئی اولاد نہ ہو تو اس کے تمام مال کا وارث اس کا بھائی ہوگا اور اگر مذکورہ بالا میت کی دو بہنیں ہوں تو ان دونوں بہنوں کو اس بھائی کے مال متروکہ سے دو تہائی ملے گا اور اگر اس مذکورہ میت کے کئی بھائی بہن مرد و عورت ملے جلے ہوں تو مرد کا حص دو عورتوں کے حصہ کے برابر ہوگا اللہ تعالیٰ اپنے احکام تمہارے لئے اس غرض سے بیان کرتا ہے تاکہ تم بھٹکتے نہ پھرو اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔1

ف 1 اے پیغمبر ! لوگ آپ سے کلالہ کی میراث کا حکم دریافتک رتے ہیں آپ ان سے کہہ دیجیے کہ اللہ تعالیٰ تم کو کلالہ کے بارے میں حکم دیتا ہے وہ حکم یہ ہے کہ اگر کوئی شخص مرجائے جس کے کوئی اولاد نہ ہو اور نہ اس کے ماں باپ ہوں یعنی اس کے اصول و فروغ نہ ہوں اور اس کے ایک حقیقی یا علاقی بہن ہو تو اس بہن کو اس شخص کے مال متروکہ میں سے نصف ملے گا اور وہ بھائی اس لاولد بہن کے تمام مال کا وارث ہوگا یعنی جس عورت کے اصول و فروع نہ ہوں اور وہ مرجائے تو اس کے تمام مال کا وارث اس کا بھائی ہوگا اور اگر مذکورہ بالا شخص یعنی کلالہ کی بجائے ایک بہن کے دو بہنیں ہوں تو ان دونوں بہنوں کو اس میت کے مال متروکہ میں سے دو ثلث ملے گا اور اگر بجائے ایک بہن یا دو بہنوں کے چند بھائی بہن مرد و عورت سے ملے جلے ہوں تو مرد کا حصہ دو عورتوں کے حصے کے برابر ہوگا یعنی بھائی کو دوہرا اور بہن کو اکہرا حصہ ملے گا اللہ تعالیٰ اپنے احکام تمہارے روبرو اس لئے صاف صاف بیان کرتا ہے تاکہ تم اپنی ناواقفیت کے باعث بھٹکے نہ پھرو اور لالہ تعالیٰ ہر چیز کو اچھی طرح جانتا ہے یعنی تمام احکام کی مصالح سے خوب واقف ہے۔ (تیسیر) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کلالہ کے معنی ہارا ضعیف یہاں فرمایا اس کو جس کے وارثوں میں باپ اور بیٹا نہیں کہ اصل وارث وہی تھے تو اس وقت سگے بھائی بہن کو بیٹا بیٹی کا حکم ہے سگے نہ ہوں تو یہی حکم سوتیلوں کا نری ایک بہن کو آدھا اور دو کو دو تہائی اور ملے ہوں بھائی بہن تو مرد کو وہرا اور عورت کو اکہرا جو نرے بھائی ہوں تو ان کو فرمایا کہ وہ بہن کے وارث ہیں یعنی حصہ میں تعین نہیں وہ عصبہ ہیں۔ فائدہ اگر بیٹی ہو اور بہن ہو تو حصہ بیٹی کو اور بہن عصبہ ہے یعنی حصہ داروں سے بچے سو وہ لے ۔ موضح القرآن آیت کا مطلب یہ ہے کہ کلالہ کی میراث کو دریافت کرتے ہیں تو چونکہ اللہ تعالیٰ ہی کی ذات تمام احکام کا مرجع ہے اس لئے وہ کلالہ کی میراث بتاتا ہے ایسا شخص جس کے اصول و فروغ نہ ہوں تو اب دیکھو اس کی ایک بہن ہے یا دو بہنیں ہیں یا بہن اور بھائی ملے جلے ہیں ایک بہن ہو تو نصف مال اور اگر دو یا دو سے زیادہ بہنیں ہوں تو دو ثلث مال ان کو ملے گا اور اگر ملے جلے بھائی بہن ہوں تو مرد کو دوہرا اور عورت کو اکہرا۔ وھویرثھا کا مطلب یہ کہ اگر مرنے والی عورت کلالہ ہو اور اس کا ایک بھائی ہو وہ سب مال کا مالک ہوگا آخر میں احکام کو بیان کرنے کا احسان ظاہر کیا کہ ہم احکام کو صاف صاف تمہارے لئے بیان کرتے ہیں تاکہ تم اپنی ناواقفیت کے باعث بھٹکتے نہ پھرو اور گمراہ نہ ہو جائو باقی احکام کی مصلحت اور یہ بات کو کون کس قدر مال کا مستحق ہے اور کس کو کتنا ملنا چاہئے یہ سب ہم خوب جانتے ہیں تم نہیں سمجھ سکتے تمہارا یہی فرض ہونا چاہئے کہ جس طرح ہم بتائیں اس کو قبول کرو اور اسی کے موافق مال متروکہ کو تقسیم کرو۔ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ ترکہ جب ہی تقسیم ہوگا جب پہلے تجہیز و تکفین کا خرچ نکال لیا جائے اور اگر قرضہ ہو تو قرضہ ادا کیا جائے اور اگر کوئی وصیت مرنے والے نے کی ہو تو مال کے تیسرے حصہ میں سے وصیت پوری کی جائے ان ہی چیزوں کو حقوق متقدمہ علی الارث کہتے ہیں ان حقوق کو پورا کرنے کے بعد جو بچے گا وہ ورثا پر تقسیم ہوگا۔ عیسیٰ اور علاتی کی قید ہم نے اس لئے لگائی کہ ماں شریک اولاد کا ذکر اوپر گزر چکا ہے اس لئے یہاں صرف عیسیٰ اور علاقی بہنوں کا ذکر ہے۔ شاہ صاحب نے خوب خلاصہ نکالا ہے کہ جب بیٹا بیٹی اور ماں باپ نہ ہوں تو پھر حقیقی اور علاقی بہن بھائیوں کا وہی حکم ہے بہن بھائی کے ساتھ عصبہ بن جاتی ہے اور فقط بھائی ہوں تو وہ عصبہ ہوتے ہیں عصبہ کو ہم اوپر بتا چکے ہیں کہ ذوی الفروض سے جو کچھ بچے وہ عصبہ کو ملتا ہے کلالہ کی اگر صرف ایک بہن ہو تو اس کو نصف دینے کے بعد باقی عصبہ کو مل جائے گا اور اگر کوئی عصبہ نہ ہو تو باقی نصف اسی بہن پر لوٹ جائے گا اور اگر دو بہنیں ہوں یا دو بہنوں سے زائد ہوں تو ان کو دو ثلث ملے گا اور باقی ایک ثلث عصبہ کو ملے گا اور اگر کوئی عصبہ نہ ہو تو باقی ایک ثلث بھی بہنوں پر لوٹ جائے گا باقی مسائل فرائض کی کتابوں میں ملاحظہ کئے جائیں یا مقامی علماء سے دریافت کئے جائیں اگر اللہ تعالیٰ مسائل اور احکام کی تفصیل بیان نہ فرمائے تو بندوں کے پاس کوئی ذریعہ صحیح بات کے جاننے کا نہیں ہے اس لئے یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ انہوں نے اپنے احکام واضح طور پر بیان فرما دیئے کیونکہ نبی ہر چیز کو خوب جانتا ہے جس میں ترکہ کی تقسیم بھی آگئی (واللہ اعلم بالصواب وعندہ علم الکتاب) والیہ المرجع والمآب اب آگے مسلمانوں کو خطاب ہے سورة مائدہ کی ابتداء اسی خطاب سے ہوتی ہے۔ (تسہیل)