4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 4:11

یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِكُمْ١ۗ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ١ۚ فَاِنْ كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ١ۚ وَ اِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ١ؕ وَ لِاَبَوَیْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنْ كَانَ لَهٗ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلَدٌ وَّ وَرِثَهٗۤ اَبَوٰهُ فَلِاُمِّهِ الثُّلُثُ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَهٗۤ اِخْوَةٌ فَلِاُمِّهِ السُّدُسُ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ لَا تَدْرُوْنَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا١ؕ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:11 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ تم کو تمہاری اولاد کے بارے میں حکم دیتا ہے یعنی ترکہ کی تقسیم کا کہ مرد کا حصہ دو عورتوں کے حصے کے برابر ہے پھر اگر فقط لڑکیاں ہی لڑکیاں دو یا دو سے زیادہ ہوں تو میت کے مال متروکہ میں سے ان سب لڑکیوں کا دو تہائی ہوگا اور اگر صرف ایک ہی لڑکی ہو تو اس کے لئے نصف ہوگا۔1 پھر اگر میت صاحب اولاد ہو تو اس کے ماں باپ میں سے ہر ایک کو میت کے مال متروکہ کا چھٹا چھٹا حصہ ملے گا اور اگر اس میت کے کوئی اولاد نہ ہو اور صرف والدین ہی اس کے وارث ہوں تو اس میت کی ماں کا ایک تہائی حصہ ہوگا اور اگر اس لاولد میت کے ایک سے زائد بہن یا بھائی ہوں تو ماں بجائے تہائی کے چھٹے حصے کی حقدار ہوگی یہ سب تقسیم میت کی اس وصیت کو جو اس نے کی ہو پورا کرنے اور قرض ادا کرنے کے بعد کی جائے گی2 تم اپنے باپ دادوں اور بیٹوں پوتوں کے متعلق یہ نہیں جانتے کہ ان میں سے باعتبار نفع رسانی کے تم سے کون قریب تر ہے یہ حصے خدا کی طرف سے مقرر کئے گئے ہیں یقیناً اللہ تعالیٰ سب سے واقف اور بڑی حکمت والا ہے3

ف 1 اللہ تعالیٰ تم کو تمہاری اولاد کی میراث کے بارے میں حکم دیتا ہے اور تم کو ہدایت کرتا ہے وہ یہ کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے حصہ کے برابر ہوگا پھر اگر اولاد میں صرف لڑکیاں ہی ہوں۔ یعنی بیٹیوں کے ساتھ کوئی بیٹا نہ ہو اور وہ لڑکیاں بھی دو ہوں یا دو سے زیادہ ہوں تو ان کو مورث کے مال متروکہ کا دو ثلث ملے گا یعنی ان کا مورث جو مال چھوڑ کر مرا ہے اس مال کا دو تہائی ان سب لڑکیوں پر برابر تقسیم کردیا جائے گا اور اگر صرف ایک ہی لڑکی ہو تو اس کو مورث کے مال متروکہ کا نصف حصہ ملے گا۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ ایک تو اس قاعدے کی ہدایت کی جاتی ہے کہ جب کسی کی اولاد میں بیٹے اور بیٹیاں دونوں ہوں تو لڑکے کو دوہرا اور لڑکی کو اکہرا دیا جائے گا خواہ ایک لڑکا ہو اور باقی لڑکیاں خواہ کئی لڑکے ہوں اور کئی لڑکیاں ہوں تقسیم کا طریقہ یہی ہوگا ہاں اگر مرنے والے کی اولاد میں لڑکیاں ہی لڑکیاں ہوں اور کوئی لڑکا نہ ہو تو اس کی دو صورتیں ہیں اگر لڑکی ایک ہی ہو تو آدھا ترکہ اس کو دے دیا جائے اور باقی دوسرے ورثاء کو دیا جائے اور اگر ایک لڑکی سے زائد لڑکیاں ہوں خواہ وہ دو ہوں یا دو سے بھی زائد ہوں تو ان سب لڑکیوں کو دو تہائی مال متروکہ میں سے دیدیا جائے اور برابر سب پر تقسیم کردیا جائے مثلاً ایک شخص نے چھ بیٹیاں چھوڑیں اور ترکہ میں پینتالیس روپے چھوڑے تو دو تہائی ترکہ کے تیس روپے ہوئے۔ ہر ایک لڑکی کو پانچ پانچ روپے دے دیئے جائیں۔ باقی پندرہ روپے دوسرے ورثاء پر تقسیم کئے جائیں۔ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ سب سے پہلے میت کے مال میں سے تجہیز و تکفین کا خرچ نکالا جائے گا پھر اگر میت پر کچھ قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے گا اس کے بعد اگر اس نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ترکہ کے تیسرے حصہ میں وہ وصیت پوری کی جائے گی ان سب باتوں کے بعد جو کچھ بچے گا وہ وارثوں پر تقسیم ہوگا۔ مزید تفصیل انشاء اللہ آگے آجائے گی۔ (تسہیل) 2 اور اگر میت صاحب اولاد ہے تو میت کے دونوں ماں باپ کے لئے مال متروکہ میں سے ہر ایک کا چھٹا چھٹا حصہ ہوگا اور اگر میت کی اولاد نہ ہو اور صرف ماں باپ ہی اس کے وارث ہوں تو میت کی ماں کا حصہ بجائے چھٹے حصے کے تیسرا حصہ ہوگا اور اگر اس لاولدمیت کے ایک سے زائد بھائی یا بہن ہوں خواہ وہ بھائی بہن حقیقی ہوں یا علاتی ہوں یا اخیانی ہوں تو ایسی صورت ماں کو بجائے تہائی حصہ کے میت کے مال متروکہ کا چھٹا حصہ ملے گا۔ یہ سب حصے اس وصیت کو پورا کرنے کے بعد ملیں گے جس کی مرنے والا وصیت کرگیا ہو یا اگر مرنے والے کے ذمہ کچھ قرض ہو تو قرض بھی ادا کرنے کے بعد ملیں گے۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ اگر مرنے والے کی اولاد بھی ہو اور اس کے ماں باپ بھی ہوں تو ماں باپ دونوں میں سے ہر ایک کیلئے چھٹا چھٹا حصہ مقرر ہے ۔ اولاد خواہ لڑکے ہی لڑکے ہوں یالڑکیاں ہی لڑکیاں ہوں یا دونوں ملے جلے ہوں۔ بہرحال ماں باپ کا چھٹا چھٹا حصہ ہے اور اگر مرنے والے کی اولاد بالکل نہ ہو یعنی نہ بیٹا اور نہ بیٹی اور فقط ماں باپ ہی وارث ہوں۔ فقط کا یہ مطلب کہ مرنے والے کے بھائی بہن بھی نہ ہوں جیسا کہ آگے آتا ہے۔ تو ایسی صورت میں جبکہ نہ تو میت کی کوئی اولاد ہو اور نہ کسی قسم کے بہن بھائی ہوں اور ماں باپ ہوں پھر ماں کو مال متروکہ کا ایک ثلث ملے گا اور باقی ظاہر ہے کہ باپ کو مل جائے گا۔ اور اگر مرنے والے کی اولاد تو ہے نہیں اور ماں باپ کے علاوہ ایک سے زیادہ بہن بھائی بھی ہیں خواہ یہ بہن بھائی باپ ماں شریک ہوں جن کو حقیقی کہتے ہیں یا باپ شریک ہوں جن کو علاتی کہتے ہیں یا ماں شریک ہوں جن کو اخیانی کہتے ہیں تو ایسی صورت میں جبکہ میت کے ماں باپ اور بہن بھائی موجود ہوں تو اس صورت میں پھر ماں کو بجائے تہائی کے چھٹا حصہ ترکہ کا ملے گا یعنی بہن بھائیوں کی وجہ سے ماں کا حصہ کم ہوجائے گا اگرچہ باقی ماندہ اسصوت میں بھی باپ ہی کو ملے گا۔ آگے صراحتہً اس بات کو ظاہر فرمایا کہ مال متروکہ کی تقسیم اس وقت ہوگی جب کہ حقوق متقدمہ علی الارث کو ادا کردیا جائے اور وہ تجہیز و تکفین کے بعد وصیت اور قرض ہے یعنی سب سے پہلے تجہیز و تکفین کا خرچ نکالا جائے پھر اگر کچھ قرض ہو مثلاً بیوی کا مہر دینا ہو تو وہ ادا کیا جائے اس کے بعد اگر کوئی شرعی وصیت ہو تو تیسرے حصہ میں سے مال متروکہ کے اس کو پورا کیا جائے۔ شرعی کا یہ مطلب کہ وارث کے حق میں وصیت نہ ہو۔ وصیت ایک تہائی سے زائد نہ ہو اور کسی امر غیر شرعی کی وصیت نہ ہو۔ بہرحال تجہیز و تکفین اور ادائے قرض اور وصیت کو پورا کرنے کے بعد جو کچھ بچے وہ ورثاء پر تقسیم کردیا جائے۔ اور قرآن کریم کی عبارت میں چونکہ وصیت کو دین پر مقدم کیا ہے اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ وصیت دین پر مقدم ہے اول تویہاں ترتیب مقصود نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ وصیت کی جانب سے ورثا توجہ کم کرتے ہیں اس لئے اس کی اہمیت بتانے کی غرض سے اس کو مقدم فرمایا ہے تاکہ ورثا وصیت میں کوتاہی نہ کریں۔ ورنہ عملاً دین وصیت پر مقدم ہے۔ چونکہ ورثاء کے حصے اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائے ہیں اس لئے آگے اس کی حکمت و مصلحت بیان فرماتے ہیں اور اپنے علیم و حکیم ہونے کو ظاہر کرتے ہیں چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل) 3 تم اپنے باپ دادوں اور بیٹوں پوتوں یعنی اصول و فروع کے متعلق صحیح طور پر یہ نہیں جانتے کہ دین و دنیا کے اعتبار سے ان میں سے کون تمہاری نفع رسانی کے لئے تم سے قریب تر ہے۔ اور دونوں عالم میں نفع پہنچانے کے اعتبار سے ان میں سے کون تم سے زیادہ قریب ہے یہ میراث کے حصے اور میراث کی تقسیم کا یہ حکم اللہ تعالیٰ کی جانب سے مقرر کیا گیا ہے۔ اس امر کا یقین کرو کہ اللہ تعالیٰ کمال علم اور کمال حکمت کا مالک ہے اور سب کے حال سے باخبر اور بڑی حکمت والا ہے۔ (تیسیر) حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ میری بیماری میں نبی کریم ﷺ میری عیادت کو تشریف لائے تو میں بےہوش پڑا ہوا تھا۔ آپ نے میرے مکان میں آکر وضو کیا اور مجھ پر پانی چھڑکا تب مجھ کو ہوش آیا۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میرے مال کے متعلق مجھ کو کیا حکم ہوتا ہے میں اپنے مال کو کیا کروں۔ میرے سوال پر آیت یوھیکم اللہ نازل ہوئی۔ حضرت جابر ؓ ہی سے ایک روایت امام احمد نے نقل کی ہے کہ سعد بن ربیع کی عورت حضور ﷺ کی خدمت میں آئی اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میری دو بیٹیاں ہیں ان کا باپ احد میں شہیدہوگیا ہے اور ان لڑکیوں کے چچا نے ان کا سب مال لے لیا ہے کچھ بھی نہیں چھوڑا اور جب تک ان لڑکیوں کے پاس کچھ مال نہ ہو ان کا نکاح نہیں ہوسکتا۔ حضور ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس معاملہ میں حکم دے گا۔ اس پر آیت میراث نائی ہوئی حضور ﷺ نے لڑکیوں کے چچا کو طلب کیا اور ان کو حکم دیا کہ شہید بھائی کے مال میں سے دو ثلث لڑکیوں کو دے اور آٹھواں حصہ اس کی بیوہ کو دو اور جو بچے وہ تیرا ہے۔ علماء نے حضرت جابر کی پہلی روایت کو سورة نساء کی آخری آیت کا شان نزول قرار دیا ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ راویوں نے دونوں حدیثوں کو خلط ملط کردیا ہے اگرچہ امام بخاری نے اس حدیث کو اسی جگہ نقل کیا ہے۔ (واللہ اعلم) حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اس آیت میں دو میراثیں فرمائیں اولاد کی اور ماں باپ کی اگر ملے ہوں مرد اور عورت تو مرد کا دوہرا حصہ عورت کا اکہرا اور اگر فقط عورتیں ہیں تو ایک کو آدھا مال اور زیادہ ہوں تو دو تہائی برابر بانٹ لیویں اور ماں کا حصہ اگر میت کو اولاد ہے یا بھائی بہن ہیں ایک سے زیادہ تو چھٹا حصہ اور اگر دونوں نہیں تو تہائی اور باپ کا حصہ اگر میت کو اولاد ہے تو چھٹا حصہ اور اگر اولاد نہیں تو عصبہ ہوا اور میت کا مال اول اس کے دفن اور کفن کو لگائے جو کچھ بچے وہ اس کے قرض میں… دیجئے جو کچھ بچے تو اس کی وصیت میں ایک تہائی تک لگائے اس کے بعد میراث کے حصے ہیں اور ان حصوں میں عقل کا دخل نہیں اللہ صاحب نے مقرر فرمائے وہ سب سے دانا تر ہے۔ (موضح القرآن) آیت میں اٰبائوکم وابنائوکم سے مراد اصول و فروع ہیں باپ دادا پر دادا وغیرہ کو اصولی کہتے ہیں اور بیٹے پوتے پر اتے وغیرہ کو فروع کہتے ہیں آیت کا مطلب یہ ہے کہ میراث کی تقسیم میں ہم اپنی حکمت کو جانتے ہیں تم کو کیا خبر کہ تمہارے لئے دنیا میں فروع زیادہ مفید ہوں گے یا اصول زیادہ نفع رساں ہوں گے۔ کبھی بیٹا نافع ہوتا ہے اور کبھی باپ دادا مفید ثابت ہوتے ہیں۔ اسی طرح آخرت میں نہ معلوم کون نفع رساں ثابت ہوتا ہے اور کس سے توقع ہے اس لئے تم حصص کی تقسیم میں دخل نہ دو بلہ جس طرح ہم نے اپنی حکمت بالغہ اور غامضہ سے تقسیم مقرر کردی ہے اسی طرح ورثاء پر تقسیم کیا کرو۔ ہوسکتا ہے کہ اقرب لکم نفعاً کا اشارہ وصیت کی جانب ہو اور مطلب یہ ہو کہ وصیت کو پورا کیا کرو اور یہ نہ سمجھو کہ مرنے والے نے وصیت کرکے ہم کو دنیوی نقصان پہنچایا اگرچہ بظاہر دنیوی نقصان معلوم ہوتا ہے لیکن آخرت کا نفع ہے تم اس وصیت کو جاری کرکے آخرت کا ثواب حاصل کرو۔ (واللہ اعلم) بہرحال ۔ ہم کیا اور ہماری عقل ہی کیا اللہ تعالیٰ نے میت کے مال کی جو تقسیم ورثاء میں مقرر کی ہے وہی صحیح ہے اور اس پر عمل کرنا چاہئے … اور اسی پر ایمان رکھنا چاہئے اور یہ واقعہ ہے کہ اس ترقی کے دور میں دنیا کے مروجہ قوانین میں سے کوئی قانون اس سے بہتر تقسیم نہیں پیش کرسکا۔ بلکہ اب تو یورپ اور ایشیاء کی قومیں اسی تقسیم کو قبول کررہی ہیں اب آگے زوجین یعنی میاں بیوی کے حصص مذکور ہیں۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 4:12–13

وَ لَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ اَزْوَاجُكُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهُنَّ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ وَ لَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّكُمْ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ تُوْصُوْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ وَ اِنْ كَانَ رَجُلٌ یُّوْرَثُ كَلٰلَةً اَوِ امْرَاَةٌ وَّ لَهٗۤ اَخٌ اَوْ اُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ١ۚ فَاِنْ كَانُوْۤا اَكْثَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَهُمْ شُرَكَآءُ فِی الثُّلُثِ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصٰى بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ۙ غَیْرَ مُضَآرٍّ١ۚ وَصِیَّةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَلِیْمٌؕ Open ayah 4:12 in the Quran reader

اور تم کو اپنی بیویوں کے ترکہ میں سے جو وہ چھوڑ مریں نصف مال ملے گا بشرطیکہ ان کے کوئی اولاد نہ ہو پھر اگر ان کے کوئی اولاد ہو تو تم کو ان کے ترکہ کا ایک چوتھائی ملے گا یہ آدھا یا چوتھائی اس وصیت کو جو انہوں نے کی ہو پورا کرنے یا کچھ قرض ہو تو اس کو ادا کرنے کے بعد ملے گا اور اس مال میں سے جو تم چھوڑ مرو ان عورتوں کا ایک چوتھائی ہوگا بشرطیکہ تمہاری کوئی اولاد نہ ہو اور اگر تمہاری کوئی اولاد ہو تو پھر ان عورتوں کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں حصہ ہوگا۔ یہ چوتھا یا آٹھواں حصہ تمہاری اس وصیت کو جو تم نے کی ہو پورا کرنے یا کچھ قرض ہو تو اس کو ادا کرنے کے بعد ملے گا1 اور اگر کوئی صاحب میراث میت خواہ وہ مردہو یا عورت ایسی ہو کہ نہ اس کے والدین ہوں اور نہ کوئی اولاد ہو اور اس میت کا ماں شریک ایک بھائی یا بہن ہو تو ان دونوں میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ ہوگا اور اگر یہ ماں شریک بھائی بہن دو ہوں یا دو سے بھی زیادہ ہوں تو مال متروکہ کی ایک تہائی میں سب برابر کے شریک ہونگے یہ تقسیم اس وصیت کو جو کی گئی ہو پورا کرنے اور کچھ قرض ہو تو اس کو ادا کرنے کے بعد ہوگی بشرطیکہ میت قرض اور وصیت سے کسی کو نقصان نہ پہنچائے یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے حکم کیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ سب جاننے والا بڑے تحمل والا ہے۔2

تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 4:13 in the Quran reader

یہ سب احکام مذکورہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود ہیں اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی یہ لوگ ان باغوں میں ہمیشہ رہیں گے اور یہی بڑی کامیابی ہے

ف 1 اور تمہارے لئے اس مال میں سے جو تمہاری بیویاں چھوڑ مریں آدھا حصہ مقرر ہے۔ اگر ان بیویوں کی کوئی اولاد نہ ہو اور اگر ان کی اولاد ہو خواہ تم سے یا کسی دوسرے شوہر سے تو پھر تم کو ان کے مال متروکہ میں سے ایک چوتھائی ملے گا لیکن انہوں نے کوئی وصیت کی ہو تو اس وصیت کو پورا کرنے اور اگر کچھ قرض ہو تو اس قرض کو ادا کرنے کے بعد دیا جائے گا اور ان بیویوں کے لئے تمہارے اس مال میں سے جو تم چھوڑ مرو ایک چوتھائی حصہ مقرر ہے بشرطیکہ تمہارے کوئی اولاد نہ ہو اور اگر تمہارے کوئی اولاد ہو خواہ ان موجودہ بیویوں سے یا کسی اور عورت سے تو پھر ان کو بجائے چوتھائی کے آٹھوں حصہ ملے گا لیکن اس وصیت کو پورا کرنے کے بعد جو تم نے کی ہو اور اگر کچھ قرض ہو تو اس قرض کو بھی ادا کرنے کے بعد ان کا حصہ ان کو دیاجائے گا۔ (تیسیر) خلاصہ یہ ہے کہ تمہاری بیویوں کے مال متروکہ میں سے اگر ان کے کوئی اولاد نہ ہو تو تمہارا نصف ہے اور اگر ان بیویوں کے کوئی اولاد ہو خواہ تم سے ہو یا پہلے شوہر سے ہو اور خواہ لڑکا ہو یا لڑکی ہو ایک ہو یا ایک سے زائد ہو بہرحال اولاد کی موجودگی میں بجائے نصف کے تمہارا چوتھائی حصہ ہوگا یعنی اولاد کی وجہ سے کم ہوجائے گا۔ مگر یہ دیا جب ہی جائے گا جب ان بیویوں کی وصیت کو جو انہوں نے کی ہے پورا کردیا جائے گا یا اگر ان کے ذمہ کچھ قرض ہو تو اس کو ادا کردیا جائے گا۔ یعنی وصیت اگر ہو تو اس کو پورا کرنے کے بعد اور قرض اگر ہو تو اس کو ادا کرنے کے بعد جو کچھ بچے گا اس میں آدھا یا چوتھائی دیا جائے گا اور تمہارے مال متروکہ میں سے ان بیویوں کا چوتھائی ہے خواہ وہ ایک ہوں یا چار ہوں بشرطیکہ تمہارے کوئی اولاد نہ ہو اور اگر تمہارے کوئی اولاد ہو خوہ وہ لڑکا ہو یا لڑکی ہو ایک ہو یا ایک سے زیادہ ہو موجودہ بیویوں سے ہو یا کسی پہلی بیوی سے ہو بلکہ خواہ لونڈی کے پیٹ سے ہو۔ بہرحال اولاد کی موجودگی میں بیویوں کو بجائے چوتھائی کے آٹھواں حصہ ملے گا مگر اس وصیت کو پورا کرنے کے بعد جو تم نے کی ہو یا اگر کچھ قرض ہو تو اس قرض کو ادا کرنے کے بعد یعنی حقوق متقدمہ علی الارث کی ادائیگی کے بعد مال تقسیم ہوگ۔ ہم اوپر عرض کرچکے ہیں کہ تجہیز و تکفین کا خرچ بھی ترکہ کی تقسیم سے مقدم ہے یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ اولاد کی موجودگی میں بیوی کا آٹھواں حصہ اور اولاد نہ ہو تو چوتھائی حصہ ہے بیوی خواہ ایک ہو یا ایک سے زیادہ ہوں بس یہی حصہ ملے گا۔ مثلاً کسی کی چار بیویاں ہوں تو ان چاروں کا آٹھواں یا چوتھائی حصہ ہوگا اور اسی حصہ کو آپس میں برابر برابر بانٹ لیں گی۔ اگر چار آنے ہوئے تو ایک بیوی کے حصے میں ایک آنہ آئے گا اور اگر دو آنے ہوئے تو ایک بیوی کے حصے میں دو پیسے آئیں گے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہاں تک مرد اور عورت کی میراث فرمائی عورت کے مال میں مردکو آدھا ہے اگر عورت کے اولاد نہیں اور اگر اولاد ہے اس مرد سے یا اور سے تو مرد کو چوتھائی اور اسی طرح مرد کے مال میں عورت کو چوتھائی اگر مرد کے اولاد نہیں اور اگر اولاد ہے تو عورت کو آٹھواں حصہ ہر جنس مال میں نقد یا جنس سلاح یا زیوریا حویلی یا باغ باقی عورت کا مہر میراث سے جدا ہے قرض میں داخل ہے۔ (موضح القرآن) اب آگے میت کے اخیانی بہن بھائیوں کے سہام مذکور ہیں اگرچہ یہاں مختصراً مذکور ہے باقی ذکر انشاء اللہ تعالیٰ اس سورت کے آخر میں آئے گا۔ (تسہیل) 2 اور اگر کوئی صاحب میراث میت یعنی جس کی میراث دوسروں کو ملنے والی ہو خواہ یہ میت مرد ہو یا عورت بہرحال یہ صاحب میراث میت اگر کلالہ ہو یعنی جس کے نہ اصول ہوں اور نہ فروع ہوں اور اس میت کا ماں شریک ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو ان دونوں میں سے ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا یعنی ان دونوں میں سے جو بھی ہوگا وہ اس کلالہ کے مال متروکہ میں سے چھٹے حصے کا وارث ہوگا اور اگر یہ ماں شریک بہن بھائی ایک سے زیادہ ہوں یعنی دو ہوں یا دو سے زائد بھی ہوں تو وہ سب مال متروکہ میں سے ایک تہائی مال میں برابر کے شریک ہوں گے۔ میراث کی یہ تقسیم اس وصیت کو جو کی گئی ہو پورا کرنے اور اگر کچھ قرض ہو تو اس قرض کو بھی اد کرنے کے بعد کی جائے گی بشرطیکہ مرنے والا وصیت اور قرض سے کسی کو نقصان پہنچانے والا نہ ہو اللہ تعالیٰ کی جانب سے یہ حکم کیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ کمال علم اور کمال حکمت کا مالک ہے۔ وصیت کرنے والوں اور قرض کا اقرار کرنے والوں کی نیت کو بھی جانتا ہے اور اپنے احکام کی مصلحت و حکمت سے بھی واقف ہے۔ (تیسیر) حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی میراث فرمائی بھائی بہن ک سو باپ اور بیٹے کے ساتھ بھائی بہن کو کچھ نہیں جب باپ بیٹا نہ ہو تب بھائی بہن کو پہنچے۔ بھائی بہن تین طرح ہیں یا سگے جو ماں باپ میں شریک ہیں یا سوتیلے جو باپ میں شریک ہیں یا اخیانی جو ماں میں شریک ہیں یہ میراث ان تیسروں کی ہے۔ ایک کو چھٹا حصہ اور زیادہ کو تہائی ان میں مرد اور عورت کو برابر اور وہ دو قسم کے بھائی بہن مثل اولاد کے ہیں جب باپ بیٹا نہ رہا ہو پہلے سگے وہ نہ ہو تو سوتیلے اس سورت کے آخر ان کی میراث ہے اور یہ فرمایا کہ وصیت پہلے ہے جب اوروں کا نقصان نہ کیا ہو۔ نقصان کی صورت دو طرح ہے ایک یہ کہ مال کی تہائی سے زیادہ ولوامرادہ تہائی تک جاری ہے زیادہ نہیں۔ دوسرا یہ کہ جس کو میراث کا حصہ ملے گا اس کو اپنی طرف سے رعایت کر کر کچھ اور دلوا مرادہ معتبر نہیں اگر سب وارث راضی ہوں تو یہ دونوں وصیتیں قبول رکھیں نہیں تو نہ رکھیں۔ فائدہ یہ پانچ میراثیں جو فرمائی یہ حصہ داروں کی ہیں اور ان کے سوا اور ہر قسم کے وارث ہیں جن کو عصبہ کہتے ہیں ان کو حصہ نہیں اگر عصبہ ہو اور حصہ دار نہ ہو تو سب مال عصبہ لیوے اور جو دونوں ہوں تو حصہ داروں سے جو بچے وہ عصبہ لیوے اور جو کچھ نہ بچے تو کچھ نہ لیوے وہ عصبہ اصل تو وہ ہے جو مردہو عورت نہ ہو اور عورت کا واسطہ نہ رکھے اس کے چار درجے ہیں اول درجے میں بیٹا اور پوتا ہے دوسرے درجے میں باپ اور دادا تیسرے درجے میں بھائی اور بھتیجا۔ چوتھے درجے مجیں چچا یا چچا کا بیٹا یا پوتا ایک درجے میں اگر کئی شخص ہوں تو جو میت کے قریب ہو وہ مقدم ہے جیسے پوتے سے بیٹا بھتیجے سے بھائی مقدم ہے پھر سوتیلے سے سگا مقدم ہے باقی اولاد میں اور بھائیوں میں مرد کے ساتھ عورت بھی عصبہ ہے اوروں میں نہیں۔ فائدہ اگر دونوں قسم کے وارث نہ ہوں تو تیسری قسم ہے ذوالرحم یعنی ایسے قرابت والے جس میں واسطہ عورت کا ہے اور حصہ دار نہیں جیسے نواسا اور نانا۔ اور بھانجا اور ماموں اور خالہ اور پھوپھی اور ان کی اولد ان کا حساب بھی عصبہ کا سا ہے۔ (موضح القرآن) آیت زیر بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ میت خواہ مرد ہو یا عورت مگر نہ تو اس میت کے باپ دادا پر دادا وغیرہ ہوں اور نہ بیٹا۔ پوتا، پر اتا وغیرہ ہوں اور یہ میت بھی ایسی ہو جس کا ورثہ دوسروں کو ملنے والا ہو یعنی اس کے ترکہ میں مال ہو جس کے دوسرے وارث ہوتے ہیں اور اس میت کے ایک ماں شریک بھائی یا ایک ماں شریک بہن ہو تو ان میں سے جو بھی ہو اس کو چھٹا حصہ اس کلالہ میت کے مال میں سے دیا جائے گا اور اگر یہ ماں شریک بھائی بہن دو یا دو سے زائد ہوں تو سب کو ایک ثلث دے دیا جائے گا اور سب پر وہ ایک ثلث برابر برابر تقسیم ہوگا اور یہاں وہ دوہرے اور اکہرے کا قاعدہ نہیں ہوگا مگر یہ تقسیم میت کی وصیت کو پورا کرنے اور میت کے ذمہ کچھ قرض ہو تو اس کو بھگتانے کے بعد ہوگی۔ وصیت اور دین کا ذکر تو اوپر بھی کئی جگہ آیا ہے۔ یہاں غیر مضار بھی فرمایا ہے یہ قید بھی ایسی ہے کہ اس کا ہر وصیت اور دین میں اعتبار ہوگا۔ مضار میں بنا بر فاعل کا بھی احتمال ہے اور بنا پر مفعول کا بھی احتمال ہے اگرچہ مطلب میں کوئی خاص فرق نہیں ہے خواہ میت نے نقصان پہنچایا ہو یا ورثا کو نقصان پہنچایا گیا ہو بات ایک ہی ہے۔ وصیت کا نقصان یہ کہ وارث کے حق میں وصیت کرجائے یا ثلث سے زائد کرجائے یا وصیت توثلث کی کرے مگر وصیت سے نیت ہوکر وارث کو نقصان پہنچائوں اور اس کا حصہ کم کردوں۔ یہی حالت قرض کی ہے کہ مرتے وقت کسی کے قرض کا فرضی اقرار کر مرے یا کسی وارث کو زیادہ دلوائے اور دوسرے وارث کو محروم کرنے کی غرض سے کسی قرض کا اقرار کرے۔ بہرحال اس قسم کے دین اور اس قسم وصیت کو اگر دوسرے ورثا اجازت دے دیں تو نافذہوجائیں گے۔ ورنہ نہیں اور بعض صورتوں میں جب کہ محض ورثا کو نقصان پہنچانے کی غرض سے اس قسم کی کارروائی کرے تو عنداللہ گنہگار بھی ہوگا۔ بعض حضرات نے غیر مضار کو وصیۃ من اللہ کی قید بھی بنایا ہے اس تقدیر پر مطلب یہ ہوگا کہ یہ حکم اللہ تعالیٰ کی جانب سے کسی کے لئے ضرر رساں نہیں ہے۔ بلکہ ہر شخص کے مناسب حال حکم دیا گیا ہے۔ (واللہ اعلم) اس آیت میں جیسا کہ ہم نے عرض کیا ہے ماں شریک بہن بھائی کا حصہ بتایا گیا ہے اہل علم کا اس پر اجماع بھی ہے اور بعض صحابہ ؓ کی قرأت سے بھی معلوم ہوتا ہے اور چونکہ اوپر ماں کا حصہ سدس اور ثلث بتایا تھا اس سے بھی سمجھ میں آجاتا ہے کہ یہ سدس اور ثلث ماں شریک بہن بھائیوں کا ہے۔ باقی رہے حقیقی بہن بھائی یا علاتی تو ان کا بیان سورت کے آخر میں آجائے گا۔ (انشاء اللہ تعالیٰ ) مزید تفصیل اگر مطلوب ہو تو کتب فرائض سے معلوم کیجئے یا مقامی علماء سے دریافت کیجئے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) نے موضح القرآن میں مناسب تفصیل کردی ہے اگرچہ وہ بھی اس قابل ہے کہ علماء سے اس کو سمھجا جائے۔ اب آگے احکام کی تعمیل کرنے پر جنت کی بشارت اور عدم تعمیل پر دوزخ کی وعید بیان فرماتے ہیں۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے (تسہیل)
Ayah 4:14

وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَتَعَدَّ حُدُوْدَهٗ یُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِیْهَا١۪ وَ لَهٗ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠ Open ayah 4:14 in the Quran reader

اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اللہ کی مقررہ حدود سے تجاوز کرنے پر اصرار کرے گا تو خدا تعالیٰ اس کو آگ میں داخل کرے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کو توہین آمیز عذاب ہوگا1

ف 1 یہ تمام احکام مذکورہ اللہ تعالیٰ کی باندھی ہوئی حدیں اور اس کے مقرر کردہ ضابطے ہیں اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی صحیح اطاعت و فرمانبرداری کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو ایسے باغوں میں ابتداً ہی داخل کردے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی یہ لوگ ان باغوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ بغیر کسی عذاب کے ابتداً جنت میں داخل ہوجانا اور وہاں ہمیشہ رہنا بہت بڑی کامیابی ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اللہ و رسول کا کہنا نہ مانے گا اور اس کی باندھی ہوئی حدوں کو توڑ کر بڑھ جائے گا اور اس کے مقررہ ضابطوں سے تجاوز کرنے پر اصرار کرے گا اور اس کے قوانین کی بالکل خلاف ورزی کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو آگ میں داخل کردے گا۔ اور اس کا یہ حال ہوگا کہ وہ اس آگ میں ہمیشہ ہمیش پڑا رہے گا اور اس کو ذلت و اہانت آمیز اور رسوا کن عذاب ہوگا۔ (تیسیر) ان دونوں آیتوں میں مخلص مسلمان اور کامل کافر کا ذکر ہے۔ اسی رعایت سے ہم نے تیسیر میں اپنے ترجمہ کا خلاصہ کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ مسلمان جو اعتقاد اور عمل دونوں کے اعتبار سے صحیح راہ پر قائم ہے وہ تو بغیر کسی عذاب کے ابتداً ہی جنت میں داخل کردیا جائے گا۔ اور جنت اس کا ہمیشہ کیلئے مسکن اور قرار گاہ ہوگی اور جو کافر ہے یعنی اعتقاداً اور عملاً ہر اعتبار سے کفر پر قائم ہے تو اس کا ٹھکانہ دائمی طور پر جہنم ہے۔ رہے وہ لوگ جو اعتقاد مسلمان ہیں اور ان کے اعمال اسلامی نہ ہوں اور ان سے گناہ سرزد ہوتے رہتے ہوں ان کے لئے عذاب کے بعد آخر میں نجات ہے۔ یہ بحث پہلے پارے میں تفصیل کے ساتھ گزر چکی ہے۔ رہی یہ بات کہ کسی کا اعتقاد غیر اسلامی ہو لیکن عمل اچھے ہوں تو ایسا شخص بھی کافر ہے سو یہ بحث بھی پہلے پارے میں آچکی ہے کہ اعتقاد اعمال کا بنی ہے اگر کسی کا اعتقاد صحیح نہیں ہے تو اس کے سب اعمال کا رت ہیں۔ بہرحال ! میراث اور یتامیٰ کی بحث کو ان دو آیتوں پر ختم کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ معاملات نہایت اہم اور بہت ہی غور طلب ہیں۔ یتامیٰ کی اور ان کے مال کی حفاظت اور ورثاء کے حصص کی صحیح تقسیم یہ ایسے امور ہیں کہ ان میں کوتاہی کبیرہ گناہ ہے اور قرآن کریم کے مقابلہ میں خاندانی رسوم اور خاندانی رواج کو ترجیح دینا اور ان پر اڑنا کفر ہے۔ جیسا کہ لڑکیوں کے ترکہ میں بعض ہندوستان کے خاندان شریعت کے مقابلہ میں رواج کو ترجیح دے رہے ہیں اور اس گناہ سے تائب ہونے کو تیار نہیں ہیں اور لڑکیوں کا حق ان کو دینے پر آمادہ نہیں ہیں۔ ابن ماجہ نے حضرت انس ؓ سے مرفوعاً نقل کیا ہے جس نے کسی وارث کی میراث کو قطع کیا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن جنت سے اس کی میراث کو قطع کردے گا۔ بخاری اور مسلم نے حضرت سعد بن ابی وقاص سے مرفوعاً نقل کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ ان کی بیماری میں عیادت کی غرض سے ان کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ ﷺ میرے پاس مال بہت ہے اور فقط ایک بیٹی وارث ہے تو کیا میں اپنا دو ثلث مال خیرات کرسکتا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا نہیں انہوں نے کہا اچھا آدھا مال دے سکتا ہوں آپ نے فرمایا نہیں انہوں نے عرض کی اچھا ایک ثلث فرمایا ہاں ایک ثلث خیرات کرسکتا ہے اور ثلث بھی بہت ہے اگر تو اپنے ورثاء کو مالدار چھوڑ کر مرے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ ان کو محتاج چھوڑ کر مرے جو لوگوں سے مانگتے پھریں۔ مطلب یہ ہے کہ ورثاء کیلئے مال چھوڑ کر مرنا اس سے بہتر ہے کہ تو وصیت کرکے اپنی دولت ختم کرجائے اور ورثاء محتاج رہ جائیں۔ حضرت معاذ بن جبل کا قول ابن ابی شیبہ نے نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے مالوں کی تہائی تم پر صدقہ کردی ہے کہ تم اپنی نیکیاں زیادہ بڑھالو۔ یعنی تیسرا حصہ تمہارے مالوں کا تمہارے لئے چھوڑ دیا ہے کہ تم وصیت کرکے اپنی نیکیاں بڑھالو۔ ہر چند کہ ایک ثلث کی وصیت کرنا جائز ہے لیکن صحابہ ؓ کا عام رجحان یہی ہے کہ وصیت ثلث سے بھی کم ہو تو بہتر ہے۔ شاید یاد ہوگا ہم دوسرے پارے میں عرض کرچکے ہیں کہ میراث کے احکام جاری ہونے سے قبل ورثاء کیلئے وصیت جائز تھی لیکن جب ہر وارث کا حصہ مقرر کردیا گیا تو اب کسی وارث کیلئے وصیت جائز نہیں ہے اگر کوئی وارث کے حق میں وصیت کرجائے گا تو وہ وصیت نافذ نہ ہوگی۔ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ قرآن کریم نے جو حصے بیان کئے ہیں ان کی تفصیل یہ ہے۔ آدھا، چوتھائی، آٹھ عورتیں چار مردیہ ہیں باپ، دادا، زوج یعنی خاوند اور ماں شریک بھائی، آٹھ عورتیں یہ ہیں۔ بیوی، بیٹی، پوتی، حقیقی بہن، علاتی بہن، اخیانی بہن، والدہ اور جد صحیحہ یعنی دادی۔ یہ بارہ قسمیں ذوی الفروض کہلاتی ہیں اس کے بعد عصبات ہیں ان میں شریعت کا یہ قاعدہ ہے کہ جو میت سے قریب تر ہوگا وہ دوسروں پر مقدم ہوگا۔ ذوی الفروض سے اگر کچھ بچ جائے تو اس کا حقدارعصبہ ہوتا ہے۔ البتہ باپ ذوی الفروض بھی ہے اور بعض صورتوں میں عصبہ بھی ہوتا ہے اگر عصبات نہ ہوں تو پھر ذوی الارحام مستحق ہوتے ہیں باقی تفصیل فرائض کی کتابوں سے معلوم کیجئے یا مقامی علماء سے دریافت کیجئے۔ اب آگے عورتوں کے حقوق اور ان کے احکام مذکور ہیں چونکہ زمانۂ جاہلیت میں یتامیٰ کے ساتھ اور اہل میراث کے ساتھ جس طرح غیر منصفانہ اور جابرانہ سلوک ہونا تھا۔ اسی طرح عورتوں کے ساتھ بھی سخت ناانصافی کا برتائو کیا جاتا تھا۔ جیسا کہ ہندوستان کی کافر قوموں میں اب تک وہ وحشیانہ سلوک موجود ہے اور مسلمانوں کی بعض ان قوموں میں بھی وہ غیر منصفانہ طریقے عورتوں کے ساتھ برتے جاتے ہیں جو اس ترقی کے دور میں بھی کافرانہ رسموں میں مبتلا ہیں عورتوں کے یہ احکام تقریباً تین چار رکوع تک مسلسل بیان ہوئے ہیں۔ البتہ کسی خاص مناسبت سے درمیان میں بعض اور باتیں بھی آگئی ہیں جیسا کہ قرآن کریم کی بلاغت کا قاعدہ اور کلام الٰہی کی خاص خوبی ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 4:15

وَ الّٰتِیْ یَاْتِیْنَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِّسَآئِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوْا عَلَیْهِنَّ اَرْبَعَةً مِّنْكُمْ١ۚ فَاِنْ شَهِدُوْا فَاَمْسِكُوْهُنَّ فِی الْبُیُوْتِ حَتّٰى یَتَوَفّٰهُنَّ الْمَوْتُ اَوْ یَجْعَلَ اللّٰهُ لَهُنَّ سَبِیْلًا Open ayah 4:15 in the Quran reader

اور تمہاری بیویوں میں سے جو عورتیں بدکاری کی مرتکب ہوں تو تم ان عورتوں کے خلاف اپنوں میں سے چار مردوں کی گواہی لائو پھر اگر وہ چاروں گواہی دے دیں تو تم ان بدکار عورتوں کو گھروں میں اس وقت تک قید رکھو کہ ان کو موت اٹھالے یا اللہ تعالیٰ ان کے لئے کوئی اور راہ مقرر کرے2

ف 2 اور تمہاری عورتوں میں سے جو عورتیں بےحیائی یعنی زنا کی مرتکب ہوں تو تم لوگ ان کے اس فعل پر اپنوں میں سے چار مردوں کی گواہی لو۔ پھر اگر وہ چاروں مسلمان مردان کے خلاف گواہی دیدیں اور اپنی آنکھوں سے زنا کے وقوع کا دیکھنا بیان کریں تو ان عورتوں کو سزا کے طور پر گھروں میں قید کردو۔ اور اس وقت تک ان عورتوں کو مقید رکھو کہ یا تو موت کے فرشتے ان کی جان قبض کرلیں اور یا اللہ تعالیٰ ان کے لئے کوئی اور راہ مقرر کردے اور کوئی دوسرا حکم ان کے لئے تجویزکردے۔ (تیسیر) حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ یہ حکم زنا کا فرمایا کہ چار 4 مرد مسلمان شاہد چاہئیں۔ پھر ابھی حد نازل نہ فرمائی وعدہ رکھا آخر حد نازل ہوئی۔ (موضح القرآن) مطلب یہ ہے کہ تمہاری عورتوں میں سے یعنی وہ عورتیں جو تمہاری منکوحہ ہوں جیسا کہ عام مفسرین نے کہا ہے یا تمہاری عورتوں سے مراد وہ عورتیں ہوں جو مسلمان ہوں جیسا کہ بعض نے کہا ہے۔ بہرحال تمہاری عورتوں میں سے جو عورتیں زنا کی مرتکب ہوں۔ یا کسی اجنبی مرد سے لواطت کرائیں یا آپس میں ایک عورت دوسری عورت سے مساحقت (چپٹی بازی) کرے فاحشہ کا لفظ ان سب باتوں کو شامل ہے۔ غرض منکوحہ عورتوں میں جب کوئی عورت اس قسم کی گندی اور فحش باتوں میں سے کسی کی مرتکب ہو تو حکام کو یا خاوندوں کو چار گواہ طلب کرنے چاہئیں۔ یہ چاروں گواہ عاقل بالغ اور مسلمان مردہوں۔ ان میں کوئی عورت نہ ہو۔ پھر اگر یہ چاروں عاقل بالغ مسلمان مرد گواہی دے دیں اور اس فعل شنیعہ کا اپنی آنکھوں سے دیکھنا بتائیں تو ایسی عورتوں کو فی الحال یہ سزا دو کہ ان کے گھروں میں مقید کردو اور گھروں سے ان کو کہیں نکلنے کی اجازت نہ دو ۔ اور یہ قید اس وقت تک رکھو کہ یا تو ان کو موت کے فرشتے قبض کرلیں یا ان کے لئے کوئی اور حکم اللہ تعالیٰ نازل فرمائے۔ ابتداء میں منکوحہ عورت کی یہی سزا مقرر ہوئی تھی بعد میں جب زنا کی حد مقرر ہوگئی اور سورة نور نازل ہوئی تو یہ حکم باقی نہ رہا۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں۔ زن فاجرہ کا یہ حکم تھا کہ اس کو گھر میں قیدرکھا جائے کہیں نکلنے نہ دیاجائے پھر اگر مرجائے تومرجائے اور زندہ رہے تو زندہ رہے۔ یہاں تک کہ سورة نازل ہوگئی۔ یہ صرف منکوحہ عورتوں کا حکم تھا۔ اس آیت میں نہ تو غیر منکوحہ کا ذکر ہے اور نہ مردوں کی سزا کا ذکر ہے۔ آگے تعمیم فرماتے ہیں اور باقی ماندہ لوگوں کا اور حکم بیان کرتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayahs 4:16–17

وَ الَّذٰنِ یَاْتِیٰنِهَا مِنْكُمْ فَاٰذُوْهُمَا١ۚ فَاِنْ تَابَا وَ اَصْلَحَا فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:16 in the Quran reader

اور تم میں سے جو دو شخص اس بدکاری کے مرتکب ہوں تو تم ان دونوں کو اذیت پہنچائو پھر اگر وہ دونوں توبہ کریں اور آئندہ اپنی اصلاح کرلیں تو تم ان دونوں سے درگزر کرو بیشک اللہ تعالیٰ بڑا توبہ قبول کرنے والا نہایت مہربان ہے3

اِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللّٰهِ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السُّوْٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِیْبٍ فَاُولٰٓئِكَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:17 in the Quran reader

سوائے اس کے نہیں کہ جس توبہ کا قبول کرنا اللہ کے ذمہ ہے وہ تو ان لوگوں کی توبہ ہے جو نادانی سے کوئی برا فعل کر گزرتے ہیں پھر وہ قریب ہی وقت میں یعنی حضور موت سے پہلے توبہ کرلیتے ہیں تو یہی لوگ ہیں جن کی توبہ اللہ تعالیٰ قبول فرمالیتا ہے اور اللہ تعالیٰ صاحب علم و حکمت ہے۔

ف 3 اور تم میں سے جو دو شخص بھی اس مذکورہ بےحیائی کا ارتکاب کریں تو ان دونوں کو اذیت پہنچائو پھر اگر وہ اذیت پہنچانے کے بعد دونوں اپنے گناہ سے توبہ کرلیں اور آئندہ کیلئے اپنی اصلاح کرلیں اور آئندہ اس فعل فاحش کا ارتکاب نہ کریں تو ان سے درگزر کرو اور ان کا پیچھا چھوڑ دو ۔ یقین جانو ! کہ اللہ تعالیٰ بڑا توبہ قبول کرنے والا اور بہت مہربانی کرنے والا ہے۔ (تیسیر) حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اگر دو مرد فعل بد کریں ان کا حکم بھی اس وقت مجمل ایذا دینی فرمائی اور اگر توبہ کریں تو ایذا نہ دو پھر جب حد نازل ہوئی تو اس کی حد جدائی فرمائی اس میں علماء کو اختلاف رہا کہ وہی حد ہے اس کی بھی یا شمشیر سے قتل کردیا کچھ اور طور سے ۔ (موضح القرآن) مطلب یہ ہے کہ اوپر کی آیت میں منکوحہ عورتوں کو قید رکھنے کا حکم تھا اس آیت سے محض ایذا ثابت ہوئی کہ ایسے بدکاروں کو لعنت ملامت کرو اور زبان سے برا بھلا کہو۔ یا زبان سے ملامت کرو اور ایک دو جوتا بھی رسید کرو۔ اس لئے بعض مفسرین کو ان دونوں احکام کے جمع کرنے میں مشکل پیش آئی اور لوگوں نے دونوں کے جمع کرنے میں مختلف طریقے اختیار کئے۔ مثلاً (1) بعض نے کہا اذیت سب کے لئے ہے۔ منکوحہ ہو یا غیر منکوحہ، مرد ہو یا عورت، البتہ منکوحہ کو برا بھلا کہنے کے ساتھ گھروں میں قید بھی کردو۔ (2) بعض نے کہا پہلی آیت صرف منکوحہ عورتوں کے بارے میں ہے اور دوسری آیت منکوحہ عورتوں کے علاوہ سب بدکاروں کے لئے ہے خواہ وہ مرد ہوں یا ناکت خدا عورتیں ہوں۔ (3) بعض حضرات نے فرمایا پہلی آیت بعد میں نازل ہوئی ہے اور دوسری آیت پہلے نازل ہوئی ہے اگرچہ تلاوت میں عکس ہے یعنی نزول میں مقدم ہے اور تلاوت میں مؤخر ہے۔ (4) بعض نے فرمایا کہ واللذان سے مراد صرف مرد ہیں اور دوسری آیت میں فاحشہ سے مراد لواطت ہے جو حضرت لوط کی قوم کا شعار تھا۔ یہ حضرت مجاہد کا قول ہے اور اسی کو حضرت شاہ صاحب (رح) نے اختیار کیا ہے جیسا کہ موضح القرآن سے معلوم ہوتا ہے۔ مفسرین کے اس اشکال کا اصل مبنی یہ ہے کہ واللذان سے مراد زانی اور زانیہ ہیں یا فقط دو مرد ہیں۔ جو لوگ اس سے مراد زانی اور زانیہ لیتے ہیں وہ اس اشکال کی جو ہم نے عرض کیا ہے مختلف توجیہات کرتے ہیں جو لوگ اس سے صرف مرد مراد لیتے ہیں اور اس آی میں فاحشہ سے لواطت مراد لیتے ہیں نہ تو ان کی مراد پر کوئی اشکال وارد ہوتا ہے اور نہ ان کو کسی توجیہ کی ضرورت پیش آتی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ بدکاری اور فحش کی مختلف صورتیں ہیں اور بدکاری کا ارتکاب کرنے والوں کی مختلف حالتیں ہیں جس کی تفصیل انشاء اللہ سورة نور میں آجائے گی۔ یہاں اس قدر سمجھ لینا چاہئے۔ جب کسی شخص نے کسی عورت سے بدکاری کی تو وہ دونوں محصن ہوں گے یا غیر محصن ہوں گے۔ احصان کا مطلب یہ ہے کہ عاقل بالغ آزاد مسلمان۔ کسی عاقلہ بالغہ آزاد مسلمہ سے صحیح نکاح کے ساتھ مباشرت کرے اگر ایسا ہو تو یہ مرد و عورت محصنہ کہلاتے ہیں اور اگر کسی مسلمان مرد و عورت کو یہ موقعہ میسر نہ آیا ہو تو ان کو غیر محصن کہتے ہیں۔ بہرحال مرتکب بالزنا محصن ہوں گے یا غیر محصن ہوں گے یا ایک ان دونوں میں سے محصن ہوگا اور دوسرا غیر محصن ہوگا قرآن کریم سے پہلے توریت میں زانیوں کے لئے رجم کی سزا مقرر تھی۔ یعنی زانیوں کے لئے سنگسار کرنے کا حکم تھا۔ قرآن کریم نے اس مسئلے کو تدریجاً شروع کیا۔ بعض مفسرین نے قول کی بنا پر سب سے پہلے اذیت کا حکم نازل ہوا۔ یعنی زانیہ مرد اور عورت کو لعنت ملامت کرو اور غیرت دلائو۔ پھر محصنہ عورت کو قید کرنے کا حکم دیا گیا کہ محصنہ عورتوں کو گھروں میں سزا کے طور پر قید رکھو۔ پھر حضرت عبادہ بن صامت کی روایت کی بنا پر جو مسلم نے نقل کیا ہے۔ عورتوں کو قید رکھنا موقوف ہوا اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ لوگو ! اس حکم کو مجھ سے حاصل کرلو اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے لئے جس راہ کا وعدہ کیا تھا وہ راہ اور وہ قانون بیان کردیا۔ دیکھو زانی اور زانیہ اگر باکرہ ہوں یعنی ناکت خدا ہوں تو ہر ایک کو سو سو کوڑے لگائو اور ایک سال کے لئے جلاوطن کرنے کی سزا دو ۔ اور اگر دونوں مجرم کت خدا یعنی ثیب ہوں تو ان کو سو سو کوڑے مارے جائیں اور سنگسار کیا جائے۔ اس کے بعد سورة نور کی آیت الزانیۃ والزانی نازل ہوئی جس میں صرف تازیانوں کا حکم تھا اس کے بعد حضرت ماعز صحابی کا واقعہ پیش آیا اور نبی کریم ﷺ نے ان کو رجم یعنی سنگسار کیا اور آئندہ کے لئے یہ حکم متعین رہا کہ زانی اور زانیہ اگر غیر محصن ہوں تو ہر ایک ک سو سو تازیانے مارے جائیں اور اگر دونوں محصن ہوں تو دونوں کو رجم کیا جائے اور ایک محصن اور دوسرا غیر محصن ہو تو غیر محصن کو تازیانے اور محصن کو رجم۔ رہا لواطت کا معاملہ تو اس میں علماء کا اختلاف ہے اور بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کی سزا حاکم کی رائے پر موقوف ہے اسی طرح مساحقت کرنے والی عورتیں بھی۔ مزید انشاء اللہ سورة نور میں بشرط زندگی آجائے گی۔ یہاں ترتیب احکام کا خاکہ ذہن نشین کرلینا چاہئے اور یہ بھی ملحوظ خاطر رہنا چاہئے کہ ان مذکورہ سزائوں کے نفاذ کا حق صرف امام اور حاکم کو ہے ہر شخص کو قانون استعمال کرنے کا حق نہیں ہے اب چونکہ ان آیتوں میں توبہ کا حکم آیا تھا اس لئے آگے توبہ کی قبولیت وعدم قبولیت کا ذکر ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 4:18

وَ لَیْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا حَضَرَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّیْ تُبْتُ الْئٰنَ وَ لَا الَّذِیْنَ یَمُوْتُوْنَ وَ هُمْ كُفَّارٌ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 4:18 in the Quran reader

اور ان لوگوں کی توبہ کوئی قابل توجہ نہیں جو گناہ کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے سامنے موت ہی آکھڑی ہو یعنی موت کے فرشتے نظر آنے لگیں تو کہنے لگے میں اب توبہ کرتا ہوں اور نہ ان لوگوں کی توبہ قابل توجہ ہے جو کفر ہی کی حالت میں مرے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے ہم نے درد ناک عذاب تیار کررکھا ہے1

ف 1 سوائے اس کے نہیں کہ وہ توبہ جس کا قبول کرنا وعدے کی بنا پر اللہ کے ذمہ ہے وہ تو ان لوگوں کی توبہ ہے جو کوئی گناہ خواہ کبیرہ ہو یا صغیرہ اپنی نادانی اور بیوقوفی سے کر گزرتے ہیں پھر وہ قریب ہی وقت میں یعنی حضور موت سے قبل اور موت کے آنے سے پہلے پہلے توبہ کرلیتے ہیں تو یہی لوگ وہ ہیں جن کی توبہ اللہ تعالیٰ قبول کرلیتا ہے اور نظر عفو کے ساتھ ان پر توجہ فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ کمالِ علم اور کمال حکمت کا مالک ہے وہ ہر توبہ کرنے والے کی نیت سے باخبر ہے اور گنہگار کی گرفت جلدی نہ کرنے کی حکمت سے واقف ہے اور ایسے لوگوں کی توبہ کسی توجہ کے قابل نہیں ہے جو گناہوں کے مرتکب ہوتے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب ان گناہگاروں میں سے کسی کے سامنے موت ہی آکھڑی ہوتی ہیں اور عالم آخرت نظر آنے لگتا ہے تو یوں کہتا ہے کہ اب میں توبہ کرتا ہوں۔ لہٰذا نہ تو ان کی توبہ قابل قبول ہے اور نہ ان لوگوں کی توبہ قابل توجہ اور لائق قبول ہے جو حالت کفر پر مرے ہیں اور ان کو کفر کی حالت پر موت آئی ہے ان کو کفر پر مرنے والوں کے لئے ہم نے دردناک عذاب تیار کررکھا ہے۔ (تیسیر) گناہ کے ساتھ جہالت کی قیدکا مطلب یہ ہے کہ گناہ کرنے والے حماقت اور بیوقوفی ہی سے کرتے ہیں ورنہ گناہ اس قابل نہیں کہ کوئی سمجھ دار انسان اس کا ارتکاب کرے۔ حضرت مجاہد کا قول ہے جس نے اللہ کی نافرمانی کی وہ جاہل ہے حضرت ابو العالیہ فرماتے ہیں کہ حضرات صحابہ کہا کرتے تھے کہ بندہ جو گناہ کرتا ہے وہ جہالت ہے خواہ گناہ عمداً ہو یا خطائً ہو۔ حضرت قتادہ ؓ کا قول ہے کہ صحابہ کا اس پر اجماع ہے کہ گناہ کرنے والا جاہل اور بیوقوف ہے۔ من قریب کا مطلب یہ ہے کہ موت سے قبل توبہ کرلے خواہ ایک سال قبل خواہ ایک مہینہ قبل یا ایک ہفتہ قبل۔ بہرحال اس عالم کی چیزیں نظر آنے سے قبل توبہ کرنے والے کی توبہ قبول ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ مریض کو خواہ کتنی ہی مایوسی ہوجائے لیکن اس نے موت کے فرشتے نہ دیکھے ہوں تو اس کی توبہ معتبر ہے اور اللہ تعالیٰ سے قبولیت کی امید ہے۔ البتہ جب وہ عالم نظر آجائے اور اس عالم کے لوگ نظر آجائیں اور پھر کوئی گنہگار توبہ کرے تو وہ توبہ قابل قبول نہیں۔ ابو دائود طیاسی نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا جس نے مرنے سے ایک سال یا ایک مہینہ یا ایک جمعہ یا ایک ساعت قبل بھی توبہ کرلی تو اس کی توبہ قبول ہے۔ ایوب تابعی نے ان سے کہا اے ابن عمر ؓ اللہ تعالیٰ تو من قریب فرماتا ہے یعنی گناہ کے قریب ہی توبہ کرلے آپ موت کے قریب فرماتے ہیں۔ حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا میں تجھ سے وہ کہتا ہوں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے حضرت امام احمد ؓ نے عبدالرحمن ؓ بن سلمان ؓ سے روایت کی ہے کہ حضرت کے چار اصحاب ایک جگہ جمع تھیان میں سے ایک نے کہا میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا ہے کہ مرنے سے پہلے ایک دن قبل توبہ کرنے والے کی اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرلیتا ہے۔ دوسرے نے کہا میں نے سنا ہے مرنے سے آدھے دن قبل جو توبہ کرتا ہے اس کی توبہ قبول ہوجاتی ہے۔ تیسرے نے کہا میں نے حضور ﷺ سے سنا ہے کہ ایک ساعت قبل مرنے سے جو توبہ کرتا ہے اس کی توبہ قبول ہوجاتی ہے۔ چوتھے نے کہا میں نے حضور ﷺ سے سنا ہے آپ فرماتے تھے جب تک مرنے والے کا گھنگرو نہ بولنے لگے اس وقت تک کی توبہ مقبول ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے جو روایت ابن مردویہ نے نقل کی ہے اس میں بھی مالم یغرغر کے الفاظ موجود ہیں۔ اور یہ ظاہر ہے کہ مرنے والے کی یہ وہ حالت ہے جب فرشتے موت کے نظر آجاتے ہیں اور اسی کو حالت یاس کہا جاتا ہے یہ وہ وقت ہے کہ اس وقت نہ عاصی کی توبہ مقبول ہے اور نہ کافر کا ایمان مقبول ہے مرنے سے پہلے پہلے تمام اوقات کو قریب فرمایا کیونکہ دنیا کا تمام زمانہ قریب ہی ہے۔ حضور موت سے پہلے پہلے جس وقت توبہ کی توفیق ہوجائے اس کو قریب ہی سمجھنا چاہئے۔ پہلی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جن لوگوں کی توبہ کا قبول کرنا اللہ کے ذمہ ہے اور یہ ذمہ بھی اس لئے کہ اس نے وعدہ فرمایا ہے کہ ہم توبہ قبول کرنے والے ہیں اسی کی یہ تفصیل ہے کہ ہر شخص کی توبہ قبول کرنے کے ہم ذمہ دار نہیں ہیں بلکہ ان لوگوں کی توبہ قبول کرنے کے ذمہ دار ہیں جو اپنی حماقت اور جہالت سے کوئی گناہ کر بیٹھا وہ گناہ خواہ صغیرہ ہو یا کبیرہ پھر اس کو احساس ہوا اور اس نے مرنے سے پہلے پہلے توبہ کرلی اگرچہ حالت یاس ہی میں توبہ کی مگر یہ توبہ قبول کرلی جاتی ہے اور اس کے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔ علم و حکمت کا مطلب ہم تیسیر میں عرض کرچکے ہیں کہ توبہ کرنے والے کی نیت اور اس کے اخلاص کا ہم کو علم ہے اور چونکہ ہم حکیم ہیں اس لئے یہ ہماری حکمت ہے کہ ہم مجرم کو رسوا نہیں کرتے اور اس کی گرفت میں جلدی نہیں کرتے۔ دوسری آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ ان لوگوں کی توجہ ناقابل توجہ ہے جو ہمیشہ گناہوں کا ارتکاب کرتا رہے اور جب موت سرہانے آکھڑی ہو اور فرشتے موت کے آموجود ہوں تو توبہ کرنے لگے تو ایسوں کی توبہ قابل توجہ نہیں اور جس طرح توبہ میں ان تاخیر والوں کی اس توبہ کا کوئی اعتبار نہیں، جو مرتے وقت حالت یاس میں کی جائے اسی طرح ان کافروں کی توبہ اور ان کے ایمان لانے کا بھی کوئی اعتبار نہیں جو مرتے دم تک کفر کرتے رہے اور موت کے فرشتوں کو دیکھ کر کفر سے توبہ کرنے لگے اور ایمان کا اقرار کرنے لگے تو ایسے کافروں کی توبہ اور ان کا ایمان بھی ناقابل اعتبار ہے اور ان کے لئے دردناک عذاب تیار ہے۔ غرض، فاسق مسلمان جو اپنے فسق تمام عمر اڑے رہیں اور اصرار کرتے رہیں اور توبہ میں تاخیر کرتے رہیں اور توبہ پر آمادہ نہ ہوں اور توبہ کو آج کل پر ٹلاتے رہیں وہ فاسق مسلمان اور وہ کافر جو دین حق کے منکر ہیں اس معاملہ میں دونوں برابر ہیں حالت یاس یعنی عالم آخرت کا معائنہ کرنے کے بعد نہ فاسق کی توبہ قبول ہے اور نہ کافر کا ایمان مقبول ہے۔ اہل تحقیق کا یہی مذہب ہے۔ (واللہ اعلم) ولا الذین یموتون وھم کفار کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ حالت کفر پر مرنے والوں کا قیامت کے دن مشاہدئہ عذاب کے وقت ایمان لانا معتبر نہ ہوگا اور فاسق کے لئے جو یہ کہا گیا کہ حضور موت کے وقت اس کی توبہ قبول نہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ اس توبہ پر مغفرت کا وعدہ نہیں۔ باقی ان کی مشیت اور ان کے فضل کا معاملہ دوسرا ہے اور اس کی یہاں بحث نہیں ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جب موت یقین ہوچکی اور آخرت نظر آنے لگی تب توبہ قبول نہیں اور اس سے پہلے قبول ہے۔ مسلمان کی توبہ اور کافر اگر گناہ سے توبہ کرے وہ گناہ نہیں اترتا مگر جو مسلمان ہوکر مرے (موضح القرآن) بعض اہل علم نے دونوں آیتوں کا مطلب اس طرح بیان کیا ہے کہ حضرت حق جل مجدہ کا توبہ قبول کرنے میں ایک مقررہ ضابطہ ہے۔ جن لوگوں کی توبہ قبول کرنے کا وعدہ ہے اور بجب وعدہ جن کی توبہ قبول کرنا ان کے ذمے سے وہ لوگ وہ ہیں جو کبھی غلطی سے کوئی گناہ کر بیٹھتے ہیں پھر اس گناہ کے بعد فوراً ہی تائب ہوجاتے ہیں تو ایسے لوگوں کی توبہ وہ ضرور قبول کرلیتا ہے۔ رہے وہ لوگ جو جرائم پیشہ ہیں اور ہمیشہ گناہوں کا ارتکاب کرتے رہتے ہیں اور جب موت سامنے آکھڑی ہوتی ہے اس وقت توبہ کرنے لگتے ہیں تو ایسے لوگوں کی توبہ قبول کرنے کا نہ کوئی فائدہ ہے اور نہ کوئی ذمہ ہے بلکہ اس کے فضل پر موقوف ہے اور نہ ان لوگوں کی توبہ مقبول ہے جو کفر پر مرجاتے ہیں بلکہ ان کے لئے تو دردناک عذاب ہم نے تیار کررکھا ہے ان کی توبہ قبول کرنے کا کوئی سوال ہی نہیں۔ (واللہ اعلم) بعض حضرات نے دوسری آیت میں جو سیآت ہے اس کی تفسیر شرک سے کی ہے۔ جیسے حضرت عبداللہ بن عباس اور بعض نے نفاق سے کی ہے۔ اگر یہ تفسیر اختیار کی جائے تو دوسری آیت کا تعلق صرف اہل نفاق اور اہل شرک سے ہوگا۔ جیسا کہ حضرت سعید بن جبیر ؓ سے مروی ہے کہ پہلی آیت کا تعلق اہل ایمان سے ہے اور درمیانی حصہ کا تعلق منافقین سے ہے اور آخری حصہ کا تعلق کافروں سے ہے۔ (واللہ اعلم بالصواب) اب آگے پھر عورتوں کے حقوق کا ذکر ہے اور ان احکام کا بیان ہے جو عورتوں کے حقوق کے متعلق ہیں بعض احکام میں اولیاء کو خطاب ہے اور بعض احکام میں براہ راست خاوندوں کو خطاب ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)