Ayahs 3:1–3ف 1 الم ( تیسیر)
سورۂ بقرہ کی ابتداء میں عرض کیا جا چکا ہے کہ یہ حروف مقطعات ہیں اور ان کی مراد اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے جو حضرات ا س کے معنی بیان کرتے ہیں وہ حقیقی معنی کے مدعی نہیں اور جو اس کے معنی بیان کرنے سے انکار کرتے ہیں وہ حقیقی معنی کا انکار کرتے ہیں ۔ اس لئے دونوں فریق میں محض لفظی نزاع کے علاوہ کوئی اختلاف نہیں ہے۔ یہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو اس کے حقیقی معنی سے آگاہ کردیا ہو۔ (تسہیل)
Ayahs 3:4–5ف 2۔ اللہ تعالیٰ ایسا ہے اور اللہ تعالیٰ کی شان ایسی ہے کہ اس کے سوا کوئی دوسرا مستحق عبادت نہیں اور اس کے سوا کوئی دوسرا معبود بنانے کے قابل نہیں وہ زندہ ہے اس کو کبھی موت نہیں آئے گی وہ خود قائم رہنے والا اور تمام کائنات کا سنبھالنے والا ہے ۔ اسی نے اے پیغمبر ﷺ آپ پر یہ کتاب یعنی قرآن نازل کیا ہے جو حق و صداقت پر مشتمل اور ان کتب سماویہ کی جو اس قرآن سے پہلے نازل ہوئی تھیں ۔ تصدیق کرنے والا اور ان کو سچا کرنے والا اور اسی نے اے پیغمبر ﷺ اس قرآن سے پہلے لوگوں کی ہدایت اور رہنمائی کے لئے توریت اور انجیل کو نازل فرمایا تھا اور اسی نے فرقان یعنی حق و باطل میں فرق پیدا کرنے والی چیزیں نازل فرمائیں ۔ یقین جانو ! جو لوگ نشانات خداوندی اور آیات الٰہی کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں ان کو سخت سزا ملنے والی ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ کمال قوت کا مالک اور محرموں سے بدلہ لینے والا ہے۔ ( تیسیر)
الحی القیوم کو آیت الکرسی کی تفسیر میں بیان کرچکے ہیں ۔ حی وہ جو کبھی مرنے والا نہیں ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے ۔ قیوم خود قائم رہنے والا اور دوسروں کی حفاظت کرنے والا کائنات عالم کا سنھالنے والا اور ہر شئی کی تدبیر کرنے والا وغیرہ۔
حق کے معنی اصل تو مطابقت اور موافقت کے ہیں لیکن قرآن میں بہت سے معنی کے لئے استعمال ہوا ہے۔ یہاں عدل ، صدق اور دلائل قطعیہ حقیقیہ کے معنی کئے گئے ہیں ۔ یعنی اس قرآن کے تمام احکام مبنی بر انصاف ہیں یا اس میں جو واقعات بیان کئے گئے ہیں وہ مبنی بر صداقت ہیں یا اس کے تمام دلائل قطعی اور یقینی ہیں اور اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ یہ کتاب اللہ کی جانب سے آئی ہے۔
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں ہے کیونکہ وہ ہمیشہ زندہ رہنے اور تمام کائنات عالم کو سنبھالنے والا ہے اور چونکہ یہ صفات اس کے علاو ہ کسی دوسرے میں نہیں ہیں اس لئے وہی مستحق عبادت بھی ہوسکتا ہے ۔ آیت کے پہلے ٹکڑے میں توحید کا دعویٰ ہے دوسرے حصہ میں اس کی دلیل ہے آگے نقل دلیل کا ذکر ہے کہ جس طرح قرآن توحید کا مدعی ہے اسی طرح دوسری کتب سم اور یہ میں بھی یہی مذکور ہے اور وہ کتابیں بھی ہماری جانب سے نازل کردہ ہیں وہ توریت ہو یا انجیل سب آسمانی کتابیں اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی وحدانیت کی طرف دعوت دیتی ہیں تو جب نقلی دلیل سے بھی یہی ثابت ہے اور تمام آسمانی کتابوں نے بھی وہی بات کہی ہے جو قرآن کہتا ہے اس لئے قرآن کی اس بات کا انکار نہ کرو بلکہ شرک سے توبہ کر کے کتب سماویہ کی بتائی ہوئی توحید پر ایمان لائو ۔ قرآن کو تصدیق کرنے والا فرمایا یا تو اس لئے کہ اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے اور ان کو منزل من اللہ بتاتا ہے یا یہ مطلب ہے کہ قرآن چونکہ خود سابقہ کتبت سماویہ کی پیشین گوئی کے موافق ہے اس لئے ان کو سچا کرتا ہے کہ جیسا انہوں نے اپنے زمانے میں بتایا تھا ویسا ہی ہوا۔ حق و باطل میں فرق کرنے والی چیزیں دوسری کتب سماویہ ہیں یا معجزات ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فرقان سے زبور مراد ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ خود قرآن مراد ہو اور قرآن کی عظمت شان کی وجہ سے اس کا مکرر ذکر فرمایا ہو۔ ( واللہ اعلم)
دلائل عقلیہ اور نقلیہ کے بعد فرماتے ہیں کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے اس قدر صاف وصریح احکام کی خلاف ورزی کریں گے وہ سخت ترین سزا کے مستحق ہوں گے ۔ آخر میں فرمایا اللہ تعالیٰ کمال قوت اور بےپناہ طاقت کا مالک ہے مجرم اس کی گرفت سے بچ کر کہیں جا نہیں سکتا اور چونکہ وہ صاحب انتقام ہے اس لئے ہر مشرک سے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کی مخلوق کو شریک کرتا ہے بدلہ لے گا یعنی بدلہ لے بھی سکتا ہے اور بدلہ لے گا بھی ۔ (تسہیل)
Ayah 3:6ف 3۔ بلا شبہ اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز نہ زمین میں پوشیدہ ہے اور نہ آسمان میں وہی تو ہے جو تمہاری مائوں کے پیٹ میں تمہاری صورت جس طرح چاہتا ہے بناتا ہے اس کے سوا اور کوئی حقیقی معبود اور مستحق عبادت نہیں وہ کمال قوت اور کمال حکمت کا مالک ہے۔ (تیسیر)
توحید باری پر ایک اور دلیل بیان فرمائی جس سے اس کا کمال علم اور کمال قدرت معلوم ہوا علم کی یہ حالت ہے کہ زمین و آسمان کی کوئی حقیر سے حقیر چیز بھی اس سے مخفی اور چھپی ہوئی نہیں ۔ تصرفات کا یہ عالم کو ماں کے رحم میں بھی اس یک صفت خالقیت کی کار فرمائیاں جاری ہیں ۔ بچہ کو جیسی چاہتا ہے شکل و صورت عطا کرتا ہے ۔ پانی پر تصور کھینچتا ہے اور جیسی چاہتا ہے ویسی کھینچتا ہے چھ انچ لمبے اور چار انچ چکلے سانچے میں کروڑوں صورتیں بناتا ہے اور ایک کو دوسرے سے ممتاز رکھتا ہے اور ایک صورت دوسری صورت سے علیحدہ پہچانی جاتی ہے۔ جب وہ ایسا ہے تو فطرت انسانی اور ضروریات انسانی کا اس سے بڑھ کر کون واقف ہوسکتا ہے اور جب کوئی اور دوسرا ان صفات مذکورہ یعنی دائمی حیات ، کامل قیومیت ، کامل علم ، کامل قدرت اور بےپناہ طاقت سے متصف نہیں ہے تو اس پاک ذات کے علاوہ کوئی دوسرا عبادت کا مستحق اور معبود بننے کا اہل کیونکر ہوسکتا ہے ، نیز اس تصویر سازی سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ کی تصویر بھی ان کی ماں کے پیٹ میں اسی نے بنائی ہے ، پھر جو اپنی شکل و صورت کی ترتیب او وضع میں خدا تعالیٰ کا محتاج ہو وہ خدا کا ہمسر اور شریک کس طرح ہوسکتا ہے اور صرف شکل وص ورت ہی کیا بلکہ ہر قسم کی روحانی اور جسمانی تربیت اور ترقی میں جو مخلوق خدا کی محتاج ہو وہ کب اس لائق ہوسکتی ہے کہ اس مالک حقیقی کی عبادت میں شریک کیا یا اپنا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھا جائے ۔ یہاں تک تو عقیدہ ٔ تثلیث اور عقیدۂ شرک کا ابطلال اور توحیدالٰہی کا اثبات تھا ۔ اب آگے نجرانی وفد کے بعض اور شبہات کا جواب ہے۔
جیسا کہ بعض روایات میں آتا ہے کہ بعض اہل وفد نے دوران گفتگو میں یہ بھی کہا تھا کہ مسلمان بھی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو کلمۃ اللہ اور روح اللہ کہتے ہیں اور ممکن ہے کہ یہ بھی کہا ہو کہ ہمارا یہ عقیدہ کہ مسیح خدا کا بیٹا ہے یہ ہماری آسمانی کتاب یعنی انجیل سے مآخوذ ہے اور تم لوگ بھی ہماری کتاب کو منزل من اللہ کہتے ہو کیونکہ انجیل میں بعض آیتیں ایسی ہیں جس میں مخلوق کو خدا تعالیٰ نے اولاد کے الفاظ سے تعبیر کیا یا خود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے کبھی اپنی تقریر میں اللہ تعالیٰ کو اس کی ربوبیت کے اعتبار سے باپ فرمایا ہو ، حالانکہ یہ محض محبت و شفقت اور پیار کی وجہ سے کہا گیا تھا ، مگر عیسائیوں نے غلط تاویلات کر کے سچ مچ مسیح کو خدا کا بیٹا بنا لیا اور مسیح کو اور اس کی ماں کو خدا کی الوہیت کا حصہ دار بنا لیا ۔
چنانچہ اس کا جواب دیتے ہیں جو اب کا ماحصل یہ ہے کہ کتب سماویہ میں بعض محکمات ہوتے ہیں اور بعض مشتابہات جہاں تک عقائدو احکام کا تعلق ہے اس میں محکمات سے استدلال کیا جاتا ہے اور متشابہات پر تو اجمالا ً ایمان لانے کا حکم دیا جاتا ہے اور ان آیات متشابہات کی توجیہہ اور تاویل اور اس میں غور و خوض اور انہماک ممنوع ہوتا ہے کیونکہ آیات متشابہات عام طور سے مجمل اور مخفی المراد ہوتی ہیں ۔ اس لئے اگر کوئی ان پر ایمان لانے کی بجائے ان کی حقیقی معنی کی کھوج لگانے کے درپے ہوتا ہے تو وہ ایک فتنہ کا دروازہ کھولتا ہے۔ اس لئے کہ ان آیات متشابہات کے حقیقی معنی تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے ۔ اس کھوج لگانے والے کو ان معنی کا صحیح پتہ تو ملے گا نہیں اور خود گمراہ ہوجائے گا ۔
چنانچہ ارشاد ہوتا ہے ۔ ( تسہیل)
Ayahs 3:7–8ف 1۔ اللہ تعالیٰ کی وہ ذات ہے جس نے آپ پر کتاب یعنی قرآن نازل فرمایا اس قرآن میں دو طرح کی آیتیں ہیں کچھ آیتیں اس قرآن میں سے محکمات ہیں یعنی جن کی مراد میں اشتباہ اور ان کے مطلب میں خفان ہیں ہے بلکہ ان کا مطلب ظاہ رہے اور وہ آیات محکمات قرآن و احکام کا اصلی مدار اور اصل بنیاد ہیں اور دوسری آیتیں متشابہات ہیں جن کا مطلب اور مفہوم خفی ہے اور ان میں اشتباہ کی گاجائش ہے لہٰذا جن لوگوں کے دلوں میں کجی اور ڈیڑھ پن ہے ۔ وہ قرآن کے اس حصہ اور ان آیات کے پیچھے پڑے رہتے ہیں جو مختلف المعنی اور مشتبہ المراد ہیں تا کہ یہ لوگ دین میں کوئی شورش و فتنہ تلاش کریں نیز ان کی یہ غرض ہوتی ہے کہ اش مشتبہ المراد کی کوئی غلط توجیہہ اور تاویل تلاش کریں اور اس کو اپنے مطلب کے معنی پہنائیں، حالانکہ ان مشتبہ المراد آیات کا اور قرآن کے اس مشتبہ المرادحصہ کا صحیح مفہوم سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جانتا اور جو لوگ علم میں پختہ کار ہیں اور علم دین میں پختہ اور مضبوط ہیں اور وہ قرآن کے اش مشتبہ المرادحصہ کے متعلق یوں کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے اور ہم اس پر یقین رکھتے ہیں یہ سب ہمارے پروردگار ہی کی طرف سے ہے یعنی خواہ وہ ظاہر المعنی آیات ہوں یا ان کے معنی خفی ہوں سب ہمارے رب کی جانب سے نازل شدہ ہیں اور بات یہ ہے کہ کسی چیز سے صحیح سبق صرف وہی لوگ حاصل کرتے ہیں اور وہی لوگ نصیحت پکڑتے ہیں جو دانش مند اور اہل عقل و خرد ہیں۔ ( تیسیر)
حکم کے اصل معنی روکنے کے ہیں ۔ محکم مضبوط اور پختہ آیات محکمات سے یہاں قرآن کی وہ آیات مراد ہیں جو ہر قسم کے اشتباہ سے محفوظ ہوں ۔ شبہ کے معنی مثل کے ہیں اسی شے تشابہ اور مشابہت ہے جو دو چیزیں آپس میں ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہوں وہاں بولا جاتا ہے یہاں متشابہات سے مراد قرآن کی وہ آیات ہیں جن کے معنی اور جن کی مراد ظاہر نہ ہو ۔ تفصیل آگے عرض کی جائے گی۔
زیخ کے معنی راستی اور استقامت سے مائل ہوجانا ، یعنی ایک طرف کو جھک جانا ، کج ہوجانا ٹیڑھا ہوجانا عام طور سے قرآن نے اس کو قلب کی بیماریوں کے لئے استعمال کیا ہے۔ راہ مستقیم سے جب کسی بدنصیب انسان کا دل پھر جائے اور باطل کی جانب متوجہ ہوجائے تو اس موقع پر استعمال ہوتا ہے۔
جیسا کہ سورة صف میں ہے ۔ فلما زاغوازاغ اللہ قلوبھم رسخ کے معنی ثابت پختہ جمے ہوئے کے ہیں ۔ راسخون فی العلم سے مراد وہ اہل علم ہیں جو اپنے علم میں نہایت مضبوط اور ہر قسم کے شبہات سے محفوظ ہیں ۔
اول کے معنی ہیں کسی شے کا اپنی اصل کی طرف لوٹنا اور کسی چیز کو اس کی غایت مراد کی طرف پھرنا اسی لئے تاویل کے دو معنی کے جاتے ہیں ایک حقیقت شئی اور ایک انجا م شئے مطلب آیت زیر بحث کا یہ ہے کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ نے آپ پر اے پیغمبر نازل فرمایا ہے اس کی آیات اپنے منطوق اور مفہوم کے اعتبار سے دو طرح کی ہیں ایک کا نام ان میں سے محکمات ہے اور یہی آیات اصل کتاب اور قرآن کریم کی بنیاد ہیں اور دوسری آیات کا نام متشابہات ہے ۔ لہٰذا اب جن لوگوں کے دل میں زیغ اور کجی ہے وہ تو دین میں فتنہ اور فساد کی جستجو اور تلاش کی غرض سے ان آیات متشابہات ہی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور اس غرض سے متشابہات کے پیچھے چلتے ہیں کہ ان کی حقیقت تلاش کریں اور اپنے مطلب کے معنی بیان کریں ، حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ ان کا صحیح اور حقیقی مفہوم سوائے اللہ تعالیٰ کے یا جس کو وہ بتادے اور کوئی دوسرا نہیں جانتا اور پختہ کار اہل علم کا قول یہ ہوتا ہے کہ ہم ان متشابہات پر ایمان رکھتے ہیں اس لئے کہ مقصود ان آیات سے یہی ہے کہ ان پر ایمان لائو یہ سب کا سب قرآن خواہ محکمات ہو اور خواہ متشابہات سب ہمارے رب ہی کی جانب سے نالز ہوا ہے اور نصیحت کی باتیں صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقل سلیم سے بہرہ مند ہیں آیت کا مطلب سمجھ لینے کے بعد اس موقعہ پر چند گزارشات ک دل نشین کرلینا ضروری ۔
1۔ مشتابہ کی معنی ہم نے آپس میں ملتی جلتی بتائے ہیں جس طرح ایک لفظ کے بہت سے معنی باہم ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں اسی طرح قرآن کی تمام آیات اپنی خوبی اور اپنے حسن اور کمال فصاحت کی وجہ سے آپس میں ملتی جلتی اور باہم متشابہ ہیں اور چونکہ محکم کے معنی مضبوط کے ہیں اور قرآن کی تمام آیات کلام الٰہی ہونے کی وجہ سے پختہ مضبوط اور محکم ہیں۔
اس لئے تمام آیات کو محکم بھی کہا جاسکتا ہے اور چونکہ قرآن کریم کی تمام آیات کو حق ہونے کی وجہ سے محکم اور حسن و خوبی میں باہم مماثل ہونے کی وجہ سے متشابہ کہہ سکتے ہیں اس لئے اب اس شبہ کی گنجائش نہ رہی کہ سورة ٔ زمر میں اللہ تعالیٰ نے پوری کتاب کو متشابہ اور سورة ہود میں تمام آیات کو محکم کیوں فرمایا ہے اور اسی شبہ کو رفع کرنے کی وجہ سے ہم نے تسہیل میں ( منطوق و مفہوم کے اعتبار دو طرح کی ہیں) عرض کیا ہے تا کہ یہ بات سمجھ میں آجائے کہ یہاں مفہوم اور منطوق کی حیثیت سے تقسیم کا بیان ہے۔
2۔ دین فطرت اور دین حق کا انداز تمام ادیان باطلہ سے جدا اور ممتاز ہے مثلاً دین باطل میں بت پرستی ہے اور ایک مشرک کے سامنے بت رکھا ہوتا ہے وہ اس کی حالت کو جانتا ہے بلکہ وہ بت اسی صنم پرست کے ہاتھ کا بنا ہوا ہے اس لئے وہ اس کی حقیقت اور ماہیت کو خوب سمجھتا ہے وہ بت پرست جانتا ہے کہ یہ میرا بنایا ہوا ہے یہ ایک دیوتا کی مورت ہے اور یہ پتھر یا لکڑی کی بنی ہوئی ہے لیکن دین حق میں صرف ایک بن دیکھے خدا کی طرف دعوت دی گئی ہے وہ بن دیکھا خدا نہ دیکھا جاسکتا ہے نہ اس کو ہاتھ لگا کر چھوا جاسکتا ہے نہ اس کی ذات وصفات کی حقیقت کا پتہ لگ سکتا ہے۔
قرآن کریم کہتا ہے وہ قادر مطلق ہے وہ سنتا ہے وہ انسانی قلوب کے بھیدوں سے واقف ہے وہ کلام کرتا ہے یہ قرآن اسی کا کلام ہے۔ وہ عرش پر قائم ہے ، قرآن یہ سب باتیں بتاتا ہے اور جس کے متعلق بتاتا ہے وہ نظر کے سامنے نہیں اور قرآن جس زبان میں یہ صفات بیان کرتا ہے وہ وہی عربی زبان ہے۔ جس میں قرآن نازل ہوا ہے ، وہ سننے کو سمع سے اور دیکھنے کو بصر سے اور عرص پر قائم ہونے کو استوا اعلیٰ العرش سے سمجھاتا ہے۔
اب بجز اس کے کیا چارہ ہے کہ ہم ان سب چیزوں پر ایمان لائیں اور ساتھ ہی ان الفاظ کے صحیح معنی اور صحیح مراد متعین کرنے میں اپنی عاجزی اور بےبسی کا اظہار کریں اس لئے کہ ہم کو اگرچہ ان الفاظ کے معنی تو معلوم ہیں لیکن ہم اللہ تعالیٰ کے سننے اور دیکھنے اور عرش پر قائم ہونے کی صحیح حقیقت نہیں سمجھ سکتے اور یہ بات صرف ان ہی الفاظ قرآنی پر موقوف نہیں بلکہ ان تمام امور فوق الطبعیات پر یہ بات صادق آتی ہے جو انسانی عقو ل اور انسانی فہم و ادراک سے ماورا اور بالا تر ہیں اور آسمانی کتابیں ان کو اپنی اپنی زبان میں بیان کرتی چلی آئی ہیں ۔ اللہ تعلیٰ کی ذات وصفات پر کیا موقوف ہے۔
عالم برزخ اور عالم ارواح سب کی یہی حالت ہے چونکہ سلف نے کسی خاص ضرورت کی وجہ سے چند چیزوں پر بحث کی ہے اس لئے وہی چیزیں عام طور سے مفسرین کی بحث کا بھی موضوع بنی ہوئی ہیں ، مثلاً حروف مقطعات ، استوا علی العرش ید اللہ اور سمع و بصر وغیرہ۔
ایک طرف اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس جملہ قیودات سے پاک اور دوسری طرف انسانی اعضاء کا اثبات ایک طرف جملہ قیودات مکانی سے منزلہ اور دوسری طرف عرش پر قیام یہی وہ چیزیں ہیں کہ جن کو قرآن نے متشابہات فرمایا ہے اور یہی وہ متشابہات ہیں جن کو سلف نے معنی معلوم اور حقیقت مجہول کہا ہے اور یہی دو امور ہیں جن پر سلف بلا کسی توجیہہ اور تاویل کے ایمان رکھتے تھے اور ان پر بحث کرنے سے اجتناب کرتے تھے اور اس راہ میں سلف ہی کا طریقہ اسلم اور اس قابل ہے کہ اس کو اختیار کیا جائے اگرچہ خلف نے اہل باطل کو جواب دینے اور سمجھانے کی غرض سے توجیہہ او تاویل کا جو طریقہ اختیار کیا ہے اس سے فقیر کا انکار نہیں لیکن اسلم احوط اور حفظ طریقہ وہی ہے جو سلف کا طریقہ ہے رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اتنا ہی ہر مسلمان کی نجات کیلئے کافی ہے کہ امنا بہ کل من عند ربنا۔
3۔ اور یہ جو فرمایا کہ ام الکتاب ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ یہی آیتیں قرآن کریم کی بنیاد ہیں اس لئے متشابہات کے معنی ان ہی کے موافق کرنے چاہئیں اور کوئی مطلب متشابہات کا ایسا نہیں بیان کرنا چاہئے جو آیات محکمات کے خلاف ہو۔
4۔ محکمات وہ آیتیں ہیں جن کی عبارت بالکل صاف ہو اور ایک لغت عربی کے عالم کو اس کے معنی سمجھنے میں کوئی اشتباہ نہ ہو خواہ بلا تامل سمجھ لے خواہ تھوڑے سے تامل کے بعد سمجھ لے یہی وہ آیتیں ہیں جو نزول قرآن کی غرض کو پورا کرتی ہیں ان ہی میں عبرت و موعظمت اور عقائد و اعمال اور امر و نواہی عبادات و اخلاق وغیرہ کے احکام بیان کئے گئے ہیں ان ہی میں گمراہوں کو اسلام کی دعوت دی گئی ہے اور ان ہی آیات میں انسانی ضروریات کے ہر شعبہ پر روشنی ڈالی گئی ہے اور دنیا کے لیے ایک مکمل پروگرام بتایا ہے جو معاش و معاد کے لئے کافی ہے اور تشنگان راہ حق کو سیراب کرنے اور گمشدگان راہ حق کو صحیح راہ بتانے کے لئے کافی ہے۔
(5) متشابہات وہ آیات ہیں کہ جن کی مراد سامع پر مشتبہ ہو اور باوجود طلب و تامل کے اس کی اصلی مراد معلوم نہ ہو سکے مگر یہ شارع علیہ الصلوٰۃ والسلام ہی اس کے معنی اور مراد بیان فرما دیں یا کسی کو انوار نبوت کی برکت سے شرح صدر کی دولت نصیب ہوجائے ان متشابہات کی مختلف اقسام ہیں مثلاً آیت متشابہ کا لغوی مدلول بھی معلوم نہ ہو ۔ جیسے حروف مقطعات یا یہ کہ اس کے لغوی معنی اور مدلول تو معلوم ہے لیکن کسی عقلی یا نقلی محذور کی وجہ سے لغوی مدلول مراد نہ لے سکیں ، پھر اگر کسی کو مدلول لغوی معلوم ہو تو اس کی بھی یہ شکل ہوسکتی ہے کہ مدلول لغوی واحد ہو یا اس کا لغوی مدلول متعدد ہو اور چند معنی میں مشترک اور مخمل ہو پھر جو بہت سے معنی کو مشترک ہو اس میں بھی یہ احتمال ہے کہ کسی ایک کو مدلول اور ایک معنی کو کسی دلیل قطعی یا دلیل ظنی سے ترجیح دی گئی ہو یا نہ دی گئی ہو بلکہ تمام مدلولات کی حیثیت مساوی ہو یہ تمام صورتیں متشابہ کی ہیں ۔
6۔ ایک تقسیم علماء اصول نے بھی کی ہے وہ بھی خیال میں رہنی چاہئے اگرچہ اس کی نوعیت ذرا مختلف ہے ان کے ہاں تقسیم اس طرح ہے ظاہر نص ، مفسر ، محکم پھر ان چار قسموں کے مقابل چار قسمیں اور ہیں ۔ خفی ، مجمل اور متشابہ یہ سب صورتیں الفاظ کے ظہور اور خفا پر مبنی ہیں مثلاً کسی کلام کے معنی ظاہر ہیں مگر یہ ظاہری معنی کسی تاویل کے مخمل ہیں یا نہیں ہیں اور اگر معنی کا ظہور مجرد صیغہ کے ساتھ ہو تو وہ ظاہ رہے اور اگر ظہور کے ساتھ سوق کلام بھی اس کا موید ہو تو وہ نص ہے اسی طرح جس میں اجتمال تاویل تو نہ ہو مگر نسخ کا احتمال ہو تو وہ مفسر ہے اور اگر نسخ کا احتمال نہ ہو تو وہ محکم ہے اور اگر کلام کے معنی میں خفا ہو تو پھر کئی صورتیں ہیں اگر خفا نفس صیغہ کی وجہ سے نہ ہو بلکہ کسی عارض کی وجہ سے ہو تو وہ خفی ہے اگر نفس صیغہ کی وجہ سے ہو مگر تامل سے معنی سمجھے جاسکتے ہیں تو مشکل ہے اور اگر متکلم کی جانب تو ضیح مراد ہو تو مجمل ہے اور اگر توقع بھی نہ ہو اور غور و تامل سے حقیقی معنی کا ادراک بھی نہ ہو تو متشابہ ہے۔
7۔ متشابہات کے متعلق علماء کے دو قول ہیں ایک تو یہ کہ ان کے تعین معنی اور حقیقی مراد سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا اور دوسرا قول یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ بھی حقیقی مراد ہے واقف تھے۔
8۔ چونکہ یہ امر ظاہر ہے کہ حضرت حق جل مجدہٗ کی تمام صفات خواہ وہ سمع ہو یا بصر ہو یا نزول الی السماء الدنیا ہو یا استوار علی العرش ہو وہ صفات ایسی نہیں ہیں جو مستلزم بالمادیۃ ہوں اس لئے احتیاط کا مقتضا یہ ہے کہ لغوی معنی تو کیے جائیں لیکن ساتھ میں یہ قید لگا دیجئے کہ وہ سنتا ہے مگر اس کا سننا ہماری طرح کا سننا نہیں ہے ، وہ دیکھتا ہے مگر اس کا دیکھنا ہمارا جیسا دیکھنا نہیں ہے وہ عرش پر اپنی شان کے لائق قائم ہے اس طرح سلف اور خلف کے طریقہ میں مآل کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں رہتا ۔
9۔ سلف کے قول کو ہم ابھی اوپر عرض کرچکے ہیں ان کا مسلک یہ ہے کہ استوا معلوم کیفیت مجہول استوا پر ایمان واجب اور اس کی پوچھ گچھ کرنا بدعت۔
01۔ لیکن جیسا کہ فقیر نے عرض کیا کہ خلف کو دشواریاں تبلیغ میں پیش آئیں اور عجم کو قرآن سمجھانے میں جو دقتیں رونما ہوئیں اس لئے انہوں نے متشابہات میں ایک خاص طریقہ اختیار کیا جو ان تبلیغی اور اہم مقاصد کے لحاظ سے جائز تھا اور اس خاص طریقہ کے اختیار کرنے میں سلف کی مخالفت کا الزام ان پر عائد نہیں کرنا چاہئے۔
11۔ ہمارے اس خلاصہ کے بعد جو ہم نے بہت سی تفاسیر سے کیا ہے تیسر اور تسہیل کا مطلب واضح ہوگیا ہوگا چناچہ ہماری ان گذارشات کے بعد یہ معلوم ہوگیا ہوگا کہ بجائے اس کے کہ متشابہ کی مراد محکم سے حاصل کریں اور متشابہات کو اپنے مطلب کے معنی پہنانے کی جستجو میں رہتی ہیں اور ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ دین فطرت میں فتنہ برپا کریں۔
جیسا کہ اہل باطل کا دستور چلا آتا ہے اور ان سب اہل باطل میں اول جس فرقہ نے خروج کیا وہ نبی کریم ﷺ کی پیشین گوئی کے مطابق خوارج کا فرقہ تھا
اللھم ارنا الحق حقا دار زقنا اتباعہ وارنا الباطل باطلا دار زقنا اجتنا بہ واجعلنا ممن بذکر من اولی الباب
حضر ت شاہ صاحب (رح) ارشاد فرماتے ہیں کہ اس سورت میں نصاریٰ کو سمجھنا منظور ہے کہ حضرت مریم کو خدا کی عورت کہتے اور حضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹا اور وہ بہکے تھے اس پر کہ اللہ کی مہربانی کے الفاظ ان کے حق میں سنے تھے ایسے کہ بندگی سے زیادہ مرتبہ چاہیں ۔ اس واسطے اللہ صاحب فرماتا ہے کہ ہر کلام میں اللہ نے بعض باتیں رکھیں ہیں جن کے معنی صاف نہیں کھلتے تو جو گمراہ ہو ان کے معنی عقل سے لگے پڑنے اور جو مضبوط علم رکھے وہ ان کے معنی اور آیتوں سے ملا کر سمجھے جو جڑ کتاب کی ہے اس کے موافق سمجھ پائے تو سمجھے اور اگر نہ ۔۔۔ پاوے تو اللہ پر چھوڑے کہ وہی بہتر جانے ہم کو ایمان سے کام ( موضح القرآن)
شاہ صاحب (رح) کب عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ نصاریٰ نے انجیل کے ایسے الفا ظ کو اختیار کرلیا جو متشابہ کے حکم میں تھے اور محض حضرت حق نے اپنی مہربانی سے وہ پیار کے الفاظ اپنی مخلوق کے لئے یا حضرت عیسیٰ کے لئے استعمال کئے تھے ان لوگوں نے اپنے مطلب کی تاویل کرکے عیسیٰ کو خدا کا بیٹا اور حضرت مریم (علیہ السلام) کو خدا کی بیوی کہا اور ان کو اللہ تعالیٰ کی الوہیت میں شریک کر کے اقانیم ثلاثہ کی شکل وضع کی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ روح اللہ اور کلمۃ اللہ سے جو استدلال وفد نجران نے کیا تھا اس کا جواب ہو کہ یہ اضافت تشریفی ہے اور یہ الفاظ متشابہات میں سے ہیں ان کا مطلب آیات محکمات کو دیکھنے سے یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ایک ایسی روح ہیں جس کے موجود ہونے کا سبب صرف اللہ تعالیٰ کا امر اور اس کا کلمہ کن ہے اور دوسرے اسباب پیدائش سے وہ منزہ ہیں اب آگے ان راسخون فی العلم کی دعا نقل ہوتی ہے کہ وہ لوگ اس قدر پختہ مسلمان ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ سے اس طرح عاجزانہ درخواست کرتے ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پختہ مسلمانوں کو دعا تعلیم فرمائی گئی ہو اور مطلب یہ ہو کہ باوجود پختہ مسلمان ہونے کے ہم سے یوں دعا کیا کرو چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ ( تسہیلض
Ayahs 3:9–11ف 2۔ اے ہمارے پروردگار ! جب تو ہم کو ہدایت کرچکا اور تو نے ہم کو سیدھی راہ پر لگا دیا تو ہدایت کرنے کے بعد ہمارے قلوب کو کج نہ کر اور ہمارے دلوں کو زیع اور کجی میں مبتلا نہ کر اور ہم کو اپنے پاس سے خاص رحمت عطا کر یقینا تو بڑا فیاض اور بہت عطا کرنے والا ہے۔
اے ہمارے پروردگار ! یقینا تو سب لوگوں کو میدان حشر میں اس دن جمع کرنے والا ہے جس دن کے واقع ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کیا کرتا ۔ جو وعدہ کرتا ہے اس کو پورا کرتا ہے اور چونکہ قیامت کا اس نے وعدہ فرمایا ہے لہٰذا یہ ضرور پورا ہوگا ۔
مطلب یہ ہے کہ جب آپ نے اپنی کتاب نازل فرما کر اور اپنے رسول کو بھیج کر ہماری ہدایت کا سامان کردیا اور ہم کو محکم اور متشابہ پر ایمان لانے کی توفیق عطا فرما دی تو اب اس کرم نوازی کے بعد ہم کو دین حق اور راہ راست سے گمراہی اور اہل باطل کی راہ کی طرف مائل نہ کیجیو اور ہمارے قلوب ان لوگوں کی طرح کج نہ کیجئو جو متشابہ کے پیچھے محض فتنہ و فساد کی غرض سے پڑے رہتے ہیں اور آیا ت متشابہات کی نئی نئی توجیہات و تاویلات اختراع کیا کرتے ہیں اور ہم کو اپنے خزانے سے خاص رحمت جسے توفیق اور تثبیت کہتے ہیں عطا فرما دے۔ کیونکہ آپ بڑے داتا اور بڑے بخش کنندہ ہیں آپ سے جو مانگا جائے وہ آپ عنایت کرتے ہیں اور یہ توفیق و تثبیت ہم اس لئے طلب کر رہے ہیں کہ ہم کو قیامت کے آنے کا یقین ہے اور ہم جانتے ہیں کہ ایک دن ایسا آنے والا ہے جس دن آپ سب لوگوں کو میدان قیامت میں جمع فرمائیں گے اور ہر شخص کو اس کے اعمال کی جزا و سزا کا حکم دیں گے یہ آپ نے وعدہ فرمایا ہے اور آپ کا وعدہ ٹلا نہیں کرتا ۔
حدیث شریف میں آتا ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ کوئی دل ایسا نہیں ہے جو رحمن کی دونوں انگلیوں کے مابین نہ ہو اگر وہ اس کو سیدھا رکھنا چاہئے تو سیدھا رکھتا ہے اور چاہے تو اس کو ٹیڑھا کردیتا ہے۔
نبی کریم ﷺ عام طور سے فرمایا کرتے تھے یا مثبت القلوب ثبت قلبی علی ونیک اے قلوب کے ثابت رکھنے والے ، میرے قلب کو اپنے دین پر ثابت رکھو۔
ابو موسیٰ اشعری کی روایت میں ہے فرمایا رسول خدا ﷺ نے قلب کی مثال ایسی ہے جیسے ایک پر کسی جنگل میں پڑا ہو اور ہوائیں اس کو الٹتی پلٹتی رہتی ہوں اب آگے دین حق کے منکروں کا ذکر فرماتے ہیں کہ جو لوگ ان واضح آیات دلائل کے بعد حق کا انکار کرتے ہیں ان کا دنیا وآخرت ہیں میں کیسا برا انجام ہونے والا ہے چناچہ ارشاد فرماتے ہیں ۔ ( تسہیل)
Ayah 3:12ف 3۔ بلا شبہ جن لوگوں نے کفر و انکار کی روش اختیار کر رکھی ہے ان کو اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں نہ ان کے مال کچھ کام آئیں گے اور نہ ان کی اولاد اور ایسے ہی لوگ جہنم کا ایندھن ہوں گے ان لوگوں کا حال اور ان کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے ۔ جیسا فرعون والوں کا اور ان کا جو آل فرعون سے پہلے ہو گزرے ہیں کہ انہوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا ، چناچہ اس تکذیب کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے گناہوں کی وجہ سے ان کو پکڑ لیا اور اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے۔
اے پیغمبر ﷺ ! جن لوگوں نے دین حق کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے آپ ان سے کہہ دیجئے کہ تم لوگ بہت جلد مغلوب کئے جائو گے یعنی دنیا میں مسلمانوں کے ہاتھ سے اور آخرت میں تم لوگ جہنم کی طرف جمع کر کے ہانکے جائو گے اور وہ جہنم بہت ہی بری آرام گاہ اور رہنے کا برا ٹھکانہ ہے۔ ( تیسیر)
داب کے معنی ہیں کسی کام میں محنت کرنا ، یہاں شان حال اور عادت و طریقہ مراد ہے۔ مھد کے معنی فرش قرار گاہ آیت کا تعلق کفار قریش سے یا اہل کتاب سے ہے یا دونوں سے بھی ہوسکتا ہے اگرچہ جنگ بدر کا تعلق صرف کفار قریش سے تھا اور ان ہی کی ہزیمت اور مغلوبیت کے متعلق آیت میں پیشین گوئی ہے لیکن مدینہ کے یہود بھی انجام کے منتظر تھے اور بظاہر جنگ کو ایک تماشائی کی حیثیت سے دیکھ رہے تھے۔ مال اور اولاد کا اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں بیکار ہونے کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مقابل ہو کر اللہ تعالیٰ کی بات نہ چلنے دیں دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور عنایت کے بغیر مال اور اولاد ان کافروں کی نجات کے لئے کافی ہوجائے۔
حضرت حق نے دونوں صورتوں کی آیت میں نفی فرما دی ، ایندھن کا مطلب سورة بقرہ کے تیسرے رکوع میں بیان ہوچکا ہے۔
وقود اس کو کہتے ہیں جس سے آگ روشن کی جائے اور آگ جلائی جائے اور یہ جو فرمایا کداب آل فرعون اس کے کئی طرح معنی کئے گئے ہیں مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کے کرتوت بھی ویسے ہی ہیں جیسے فرعون والوں کے اور ان سے پہلے لوگوں کے کرتوت تھے فرعون سے پہلے لوگ جیسے عاد ثمود قوم لوط وغیرہ اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ان کفار کا طریقہ اور ان کی عادت اور ان کا حال بھی رسولوں کی تکذیب کرنے میں اور ان پر عذاب کے نازل ہونے میں ویسا ہی ہے جیسے آل فرعون اور ان سے پہلے لوگوں کا تھا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ کافر بھی اسی طرح دوزخ کا ایندھن ہوں گے اور مال و اولاد ان کے بھی اسی طرح بیکار ہوں گے جیسے آل فرعون اور ان کے پیش رو لوگوں کا ہوچکا ہے۔
ہم نے اوپر کہا ہے کہ آیت میں یہود بھی مراد ہوسکتے ہیں چناچہ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جب مسلمان اہل بدر کو شکت دے کر واپس ہوئے تو آپ نے بنی قینقاع میں ہود کو جمع کر کے فرمایا کہ تم لوگ اسلام قبول کرلو مبادا تمہارا حشر بھی ویسا ہی ہو اہل بدر کا ہوا اس پر یہودی نے جواب دیا آپ کفار قریش پر ہم کو قیاس نہ کیجئے۔ یہ لوگ ان پڑھ اور نا تجربہ کار ہیں اگر پڑھے لکھے لوگوں سے ہاتھ ملائے تو آپ کو حقیقت معلوم ہوجائے گی اور آپ کو یہ معلوم ہوجائے گا کہ ہم جیسے لوگوں سے جنگ کرنا آسان نہیں ہے ، چناچہ اللہ تعالیٰ نے دونوں ہی پر عذاب نازل کیا ، کفار قریش پر قتل اور قید کی مصیبت آئی اور یہود پر قتل ، قید ، جلا وطنی اور جزیہ مقرر کیا گیا ۔
مقاتل کا قول ہے کہ آیت کا تعلق کفار مکہ سے ہے ۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ جب بدر کی ہزیمت مدینہ کے یہود کو معلوم ہوئی تو انہوں نے آپس میں کہا کہ یہ دینی نبی ہے جس کی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ہم کو بشارت دی تھی کہ اس کا جھنڈا ناکام ہوکر نہیں لوٹے گا ۔ اس پر بعض یہود نے کہا جلدی نہ کرو ابھی ایک دو واقعات اور ہونے دو پھر آخری رائے قائم کرنا ۔
چنانچہ احد کی جنگ جب مسلمانوں کے حق میں نا ساز گارہوئی تو یہ لوگ شک میں پڑگئے ۔ اور ان لوگوں نے نقص عہد کیا اور کفار عرب کو کعب بن اشرف بھڑکاتا پھر اور آخر یہود کا بھی وہ انجام ہوا جو ہم اوپر عرض کرچکے ہیں ۔ بہر حال آیت کا تعلق خواہ کفار قریش سے ہو خواہ مدینہ کے یہود سے ہو خواہ دونوں سے ہو لیکن عام نہیں ہے بلکہ خاص کافروں کے متعلق ہے اس لئے یہ شبہ نہ کیا جائے کہ ہر جگہ کے کافر تو مغلوب نہیں ، البتہ قیامت کے عذاب میں سب شریک ہیں اور آخرت کا عذاب سب کو شامل ہے۔
بئس المھاد کا مطلب یہ ہے کہ وہ قرار گاہ بہت بری ہے جو یہ اپنے لئے تیار کر رہے ہیں یا وہ آرام گاہ بہت بری ہے جو ان کے لئے مقرر کی گئی ہے ۔ دونوں تقدیروں پر مراد اس سے جہنم ہے اب آگے بدر میں جو کچھ ہوا اس کا مختصر سا ذکر فرماتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی تائید اور نصرت اور بعض خرق عادت حالات کو شامل ہے۔ ( تسہیل)
Ayah 3:13ف 4۔ بلا شبہ تمہارے لئے ان دو جماعتوں میں بڑی عبرت آموز نشانی تھی جو میدان بدر میں ایک دوسرے سے باہم نبرد آزما ہوتی تھیں اور دونوں جماعتیں آپس میں بھڑی تھیں ایک گروہ تو اللہ کی راہ میں لڑ رہا تھا یعنی اعلاء کلمۃ اللہ کی غرض سے جنگ کر رہا تھا اور دوسرا فریق کافروں کا تھا جو کھلی آنکھوں ان کو اپنے سے دو چند دیکھ رہے تھے اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے اپنی امداد سے قوت دیتا ہے اور جس کی چاہتا ہے اپنی فتح و نصرت کے ساتھ تائید کرتا ہے۔ یقین جانو ! اس واقعہ میں آنکھیں رکھنے والوں کے لئے بڑی عبرت ہے۔ ( تیسیر)
حضرت حق نے کفار کے عنقریب مغلوب ہونے کی جو پیشین گوئی اوپر کی آیت میں فرمائی تھی اس کا اس آیت میں ثبوت ہے کہ کفار باوجود صریح اکثریت کے کس طرح بدر کے میدان میں مغلوب ہوئے کیونکہ اس غزوے میں مسلمانوں کی تعداد صرف تین سو تیرہ تھی ۔ سستر آدمی تو مہاجرین میں سے تھے اور مہاجرین کے علم بردار حضرت علی ؓ یا معصب بن عمیر تھے اور دو سو چھتیس مسلمان انصار میں سے تھے اور انصاریوں کے علمبردار بن عبادہ تھے ۔ اسلامی فوج کے پاس ستر اونٹ ، دو گھوڑے، آٹھ تلواریں اور چھ ذرعیں تھیں مسلمانوں کا یہ کل جنگی سامان تھا۔
دوسری طرف تقریباً ساڑھے نو سو کافر تھے جن میں سات سو کے پاس اونٹ اور ایک سو کے ساتھ گھوڑے تھے ان کا سردار عتبہ بن ربیعہ بن عبد الشمس تھا یہ جنگ ہجرت کے اٹھارہ مہینے کے بعد رمضان میں واقع ہوئی تھی ۔ دونوں فوجوں میں تعداد کے اعتبار سے، سامان کے اعتبار سے اور بڑی بات یہ کہ اخلاق کے اعتبار سے نمایاں فرق تھا ایک طرف گانے والی عورتیں ساتھ تھیں ۔ شراب کا ہر وقت دور چل رہام تھا گانے والیاں جنگی ترانے گا گا کر ابھارہی تھیں۔
دوسری طرف نماز تھی خدا تعالیٰ سے دعائیں تھیں ۔ روزے کا چرچا تھا با ت بات پر اللہ تعالیٰ کا نام تھا ۔ قرآن شریف کی تلاوت تھی اس طرح دو لشکروں کی مڈ بھیڑ ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے اپنی فتح و نصرت کے ساتھ مسلمانوں کی مدد فرمائی اور مسلمانوں کو کامیابی ہوئی اور بدر کی فتح نے تمام کفار عرب پر مسلمانوں کی ڈھاک بٹھا دی اور بڑے بڑے زبردست اور سرکش کافر اسلام پر سنجیدگی سے غور کرنے لگے آیت میں جو لکم کا خطاب ہے اس میں بھی تین احتمال ہیں یا اہل کتاب کو خطاب ہے یا کفارقریش کو یا دونوں کو بھی مخاطب بنایا جاسکتا ہے اور چونکہ نافع اور یعقوب اور دوسرے بعض قراء کی قرأت میں بجائے یرونہم کے تو ونہم ہے اس لئے اس جملہ کے بہت سے معنی کئے گئے ہیں اور اسی غرض سے ہم نے تیسیر میں کوئی بات ظاہر نہیں کی اور چونکہ اس دن خرق عادت کے طور پر ایک فریق دوسرے فریق کو صحیح تعداد سے کئی گنا بڑھتی دیکھ رہا تھا اس لئے ترجمہ کرنے والوڈ نے یرونھم مثلیھم کی ضمیروں کے مختلف مرجع قرار دیئے ہیں ۔ مزید تشریح سورة انفال میں آجائے گی۔
سورۂ انفال کی آیت میں اور سورة آل عمران کی آیت میں کوئی تناقض نہیں ہے یہ تقلیل اور تکثیر مختلف حالات میں ہوتی ہے ابتداء کم دکھانے کی مصلحت یہ تھی کہ دونوں فریق بھیڑ جائیں بھڑ جانے کے بعد تھوڑوں کو بہت دکھانا اس غرض سے تھا کہ مشرکوں کا دل ٹوٹ جائے۔
بہر حال حفص کی قرأت پر یہاں بہ معنی ہوسکتے ہیں کہ مشرک مسلمانوں کو اپنے سے دو چند دیکھ رہے تھے یعنی تین سو تیرہ کو دو ہزار دیکھ رہے تھے اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ کافر مسلمانوں کو ان کی تعداد سے دو چند دیکھ رہے تھے یعنی تین سو تیرہ کو چھ سو چھبیس سمجھ رہے تھے اور یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ مسلمان مشرکوں کو اپنے سے دو چند دیکھ رہے تھے یعنی ہزار کی تعداد صرف چھ سو چھبیس دکھائی دے رہی تھی اور بعض اکابر نے اپنے ذوق کے موافق یوں معنی کئے ہیں کہ یہ کافر اپنے کو مسلمانوں سے کئی حصہ زیادہ دیکھ رہے تھے اور یہ دیکھنا بھی صریح آنکوں کا دیکھنا تھا اور اگرچہ یہاں دیکھنے سے مراد علم ہے جیسا کہ ہم نے اوپر عرض کیا ہے کہ سمجھ رہے تھے لیکن یہ علم چونکہ معائنہ اور مشاہدہ سے حاصل ہوا تھا اس لئے سبب کا مسبب کی بجائے نام لیا ہے۔
بہر حال جو معنی بھی لئے جائیں سب کی گنجائش ہے نتیجہ یہ ہوا کہ حسب وعدہ کفار مغلوب ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح نصیب فرمائی اسی کو حضرت حق نے ایۃ فرمایا ہے کفار کے لئے یہ بہت بڑی نشانی تھی اور یہود کے لئے بھی بہت بڑی نشانی تھی کہ قلت تعداد اور بےسروسرمانی کے باوجود اللہ تعالیٰ نے تھوڑی تعداد اور بےسرو سامان لوگوں کے ہاتھوں کفار کی بڑی جماعت اور بھاری جمعیت کو شکست دلوائی اس کو آخر میں فرمایا ۔ ان فی ذلک لعبرۃ لاولی الابصار۔
یعنی اس سبق آموز واقعہ میں ان لوگوں کے لئے بڑی عبرت اور بڑا سبق ہے جو دیدہ ٔ بینا اور دیکھنے والی نگاہ رکھتے ہیں چونکہ ان آیات میں کفار کا ذکر تھا اور مال اور اولاد کے کام نہ آنے کا تذکرہ تھا۔ اب آگے اس کی مزید تصریح فرماتے ہیں اور اسی کے ساتھ ان چیزوں کا بیان کرتے ہیں جو قیامت میں مفید اور کام آنے والی ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جنگ بدر میں جس کا قصہ سورة انفال میں ہے مسلمانوں سے کافر تین برابر تھے اللہ دو ہی برابر دکھاتا تھا کہ خوف نہ کھاویں ، پھر اللہ نے مسلمانوں کو فتح دی ، اس سے چاہئے کہ سب کافر عبرت پکڑیں۔ ( موضح القرآن) تسہیل
Ayahs 3:14–16ف 1۔ لوگوں کے لئے اشیائے مرغوبہ جیسے عورتیں اور نرینہ اولاد اور سونے چاندی کے ڈھیر کے ڈھیر لگے ہوئے اور نشان لگے ہوئے گھوڑے اور مویشی اور زرعی زمین کی محبت خوش نما ، خوش منظر اور خوش آیند کردی گئی ہے۔ یعنی لوگوں کے لئے ان چیزوں کی محبت کو زینت دیدی گئی ہے لیکن یہ سب چیزیں دنیوی زندگی کا سامان اور جو بر تنے کی چیزیں ہیں اور اچھا ٹھکانہ اور انجام کار کی خوبی تو اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے۔
قنطرہ اصل میں عبور کرنے کی چیز کو کہتے ہیں جیسے پل چونکہ مال بھی انسانی زندگی کو عبور کرنے کا ذریعہ ہے اس لئے بکثرت مال کو کہتے ہیں ۔ قناطیر المقنظرہ ، ڈھیر کا ڈھیر مال ، صحابہ ؓ سے مختلف تفسیریں منقول میں ہوسکتا ہے کہ بارہ سو دینار ہوں اور ہوسکتا ہے کہ ایک بیل کی کھال بھر کر سونا ہو اور ہوسکتا ہے کہ ایک لاکھ دینار ہوں ہوسکتا ہے کہ بارہ سو مثقال ہوں اور ہوسکتا ہے کہ اسی ہزار رطل ہو چونکہ ضرورت اور حرص الگ الگ ہے اس لئے اس کی تفسیریں بھی مختلف ہیں۔
تزئین کے معنی ہم دوسرے پارے میں بتا چکے ہیں کہ آراستہ کرنے اور اچھا کر کے دکھانے کو کہتے ہیں کبھی یہ فعل خالق ہونے کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہوتا ہے اور کبھی وسوسہ ڈالنے والے یعنی شیطان کی طرف منسوب ہوتا ہے قرآن کریم میں دونوں طرح استعمال کیا گیا ہے اور کبھی واقعی تزئین ہوئی ہے ۔ جیسے وزینا السماء الدنیا بمصابیح اور کبھی بناوٹی تزئین ہوتی ہے جیسے افمن زین لہ سوع عملہ برے اعمال میں حقیقی تزئین کہاں رکھی ہے مگر شیطان ان کو آراستہ کر کے خوش نما کردیتا ہے۔
شھوات جس کا ترجمہ خواہش کیا جاتا ہے یہاں اس سے مشتہیات محبوبات ہیں ہم نے اشیاء مرغوبہ ترجمہ کیا ہے۔ قرآن نے مبالغہ کی رعایت سے بجائے شہوات کے حسب الشھوات فرمایا یعنی شہوات تو کجا ان کی محبت بھی محبوب اور خوش منظر ہے۔
الخیل المسولمۃ موٹے اور خوش نما گھوڑے یا پلے ہوئے گھوڑے جو چراگاہ میں چرتے ہوں یا نشان دار خواہ وہ قدرتی سفید اور سیاہ نشان ہو یا داغ دے کر نشان ڈالا گیا ہو۔
انعام کا اطلاق عام طور سے گائے ، اونٹ ، بکری اور بھیڑ پر ہوتا ہے مگر امام ابوحنیفہ (رح) نے وحشی جانوروں کو بھی جیسے ہرن اور نیل گائے وغیرہ کو انعام میں داخل کیا ہے۔
انعام نعم کی جمع ہے اگرچہ نعم بھی جمع کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ حرث سے مراد زمینیں جن پر کھیتی کی جائے یا باغ لگایا جائے ۔ مطلب یہ ہے کہ فانی لذتوں سے بےرغبتی پیدا ہو اور دائمی لذتوں کا شوق حاصل ہو۔
اکثر علماء نے اس آیت کو شہوات کی مذمت پر حمل کیا ہے لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے چونکہ یہ چیزیں اکثر فتنے کا موجب ہوتی ہیں اور انسانی قلب میں ان کی محبت بہت سی خرابیوں کا موجب ہوجاتی ہے اور کافر تو ان ہی چیزوں کو مقصود بالذات سمجھتے ہیں اس لئے ان چیزوں کی محبت کہے انہماک سے روکنا مقصود ہے تا کہ لوگ علی الاطلاق ان چیزوں کی طرف میلان نہ کریں ۔ یہ سب خواہشات انسانی فطرت کا مقتضا ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور دین حق کی تعلیم کا منشا یہ ہے کہ لوگ علی الاطلاق ان خواہشات کی محبت میں نہ پڑے رہے ہیں جو محض چندروزہ زندگی کا سامان ہیں بلکہ اس سے بہتر اور مفید چیز کی تلاش کریں جو اخروی زندگی کیلئے سو د مند ہو ، اسی لئے آخر میں فرمایا ۔ واللہ عندہ حسن الماب۔
اب آگے اس بھلائی اور خوبی کی وضاحت فرماتے ہیں اور وہ طریقہ تعلیم کرتے ہیں جس سے انسان اس بھلائی اور خوبی کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے حاصل کرسکتا ہے۔ سامع کو خاص طور پر متوجہ کرنے کی غرض سے انداز بیان اچھوتا اختیار کیا ہے ، چناچہ فرماتے ہیں ۔ ( تسہیل)
Ayah 3:17ف 2۔ اے پیغمبر ﷺ ! آپ اپنے مخاطبین سے دریافت کیجئے کیا میں تم کو ایسی چیزیں بتادوں جو اس دنیوی مذکورہ سامان سے بدرجہا بہتر ہوں لہٰذا سن لو جو لوگ تقویٰ کی روش اختیار کرتے ہیں اور دنیوی خواہشات کے پورا کرنے میں احتیاط سے کام لیتے ہیں ان کے لئے ان کے پروردگار اور مالک کے پاس ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں وہ ان باغوں میں ہمیشہ رہیں گے اور ان کے لئے ایسی بیویاں ہوں گی جو ہر قسم کے ظاہری اور باطنی عیوب سے پاک اور مبرا ہوں گی اور مزید برآں اللہ تعالیٰ کی جانب سے رضا مندی اور خوشنودی کی بےبہا نعمت ان کو میسر ہوگی اور اللہ تعالیٰ بندوں کے حال اور ان کے اعمال پر پوری نظر رکھتا ہے ۔ یہ اہل تقویٰ ایسے لوگ ہیں جو یوں کہتے ہیں اے ہمارے پروردگار ہم ایمان لائے اور ہم نے آپ کی اور آپ کے نبی کی تصدیق کی سو آپ ہمارے گناہوں کو معاف کر دیجئے اور ہم کو دوزخ کے عذاب سے بچا لیجئے یہ لوگ صبر کرنیوالے اور راست باز ہیں اور فرماں برادری کرنے والے اور خدا کی راہ میں اپنے مال خرچ کرنے والے اور شب کے آخری حصہ میں بخشش و مغفرت طلب کرنے والے ہیں۔ ( تیسیر)
تقویٰ کے معنی ہم بیان کرچکے ہیں ۔ ڈرنا ، بچنا ، پرہیز کرنا ، یہاں ہوسکتا ہے کہ خواہشات نفسانی اور مرغوبات نفس کو حاصل کرنے میں احتیاط کرنا اور آگے متقیوں کی صفات کے لحاظ سے یہاں یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ ما سویٰ اللہ سے قطع تعلق اور ماسوی اللہ سے اعراض بیویوں کے پاک ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ظاہری آلائش مثلاً پیشاب ، پاخانہ ، حیض ، تھوک وغیرہ سے پاک اور باطنی مثلاً بغض ، کینہ ، حسد وغیرہ سے پاک رضوان سے مراد اللہ تعالٰ کی ایسی رضا مندی ہے جس کے ادراک کا احاطہ نہ کیا جاسکے ۔ بہت بڑی رضا مندی یہ کہ اللہ تعالیٰ اہل جنت سے فرمائے گا۔
احل علیکم رضوانی فلا اسخط علیکم بعد ابدا ً
یعنی میں نے اپنی رضا تمہارے لئے حلال کردی ہے۔
اور اب اس کے بعد تم سے کبھی ناراض نہیں ہوں گا قانت کا ترجمہ اوپر گزر چکا ہے ۔ قنوت کے بہت سے معنی ہیں دائمی اطاعت گزار ، قیام کرنا ، ادب سے کھڑا ہونا ، فروتنی اور عاجزی وغیرہ ۔ سحر سے مراد شب کا آخری حصہ اور رات کا آخرت ثلث ، خلاصہ یہ کہ مرغوبات نفس کے مقابلہ میں یہ نعمتیں بدرجہا بہتر ہیں اور یہ نعمتیں اہل تقویٰ کے لئے خاص ہیں نعمتوں کے آگے ان الہ تقویٰ کی توصیف و تعریف ہے ۔ یوں تو جنت کی تمام نعمتیں ایسی ہیں کہ جن کی تعریف نہیں جاسکتی ۔ حدیث میں آتا ہے۔ مالا عین رأت ولا اذن سمعت ولا خطر علی قلب بشر۔
یعنی نہ کسی آنکھ نے وہ نعمتیں دیکھیں نہ کسی کان نے سنیں اور کسی بشر کے قلب پر ان کا کبھی خطرہ گزرا لیکن اللہ تعالیٰ کا کسی بندے سے راضی ہو کر ملاقات کرنا اور اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کا اعلان یہ نعمت جنت کی ساری نعمتوں سے بڑھ کر ہے اور چونکہ نعمتیں مختلف ہیں اور بندوں کی حالت بھی مختلف ہے اس لئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بندوں کے اعمال اور احوال پر گہری نظر رکھتا ہے۔
مغفرت کی دعا سے پہلے ایمان کا ذکر کرنا اس کا مطلب یہ ہے کہ مجرد ایمان استحقاق مغفرت کا سبب ہے اور استحقاق مغفرت کے لئے نفس ایمان کافی ہے۔
جیسا کہ حضرت معاذ کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ۔ اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور بندوں کا حق اللہ پر یہ ہے کہ وہ اس شخص کو عذاب نہ کرے جو اس کے ساتھ شریک نہ کرے۔ الخ
مغفرت کی دعا کے ساتھ عذاب دوزخ سے بچنے کی دعا بھی کرتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ دوزخ سے بچا کر جنت میں داخل کر دیجئے ۔ متقیوں کے اوصاف بیان کرنے میں بہترین ترتیب رکھی ہے اور ہر قسم کی طاعات کو شامل کرلیا ہے ۔ خواہ وہ اخلاق و اقوال ہوں اور خواہ وہ اعمال بدنی اور مالی ہوں مثلاً صبر خواہ منہیات سے باز رہنے پر ہو خواہ طاعات کی تکلیف اور خواہ مصائب و حوادتات پر ہو نفس کی برائی کا علاج ہے اور بدنی اصلاح کے تمام اقوال صدق میں داخل ہوگئے اور تمام افعال کو لفظ قنوت شامل ہے اور عبادات مالی کے لئے انفاق ، غرض اخلاق ، اقوال ، اعمال ، بدنی و مالی سب بالا ستعیاب بجا لاتے ہیں اور ان تمام عبادات روحانی و جسمانی کے بعد شب کے آخری حصہ میں اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتے ہیں اور اس سے ڈرتے رہتے ہیں۔
مطلب یہ ہے کہ تہجد کی نماز پڑھتے ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ لوگ بخشش کی دعا کرتے ہیں اور سحر کی قید اس لئے لگائی کہ یہ وقت اطمینان اور توجہ الی اللہ کا ہوتا ہے اور یہ وقت دعا کی قبولیت کا ہے اور اس وقت اٹھ کر نماز پڑھنا اور استغفار کرنا نفس پر کٹھن بھی بہت ہے۔
سورۂ ذاریات میں فرمایا ہے کانوا قلیلا من الیل ما یھجعون وبالا سحارھم یستغفرون یعنی اہل تقویٰ کا یہ ایک خاص وصف ہے کہ رات کو بہت تھوڑی دیر سونا اور سحری کے وقت شب کی کوتاہیوں پر استغفار کرنا کوتاہی یہ کہ عبادت میں جو قصور ہوگیا ہو اس کی معافی یا شب میں تھوڑی دیر بھی کیوں سوئے اس پر معافی خواہ ہوتے ہیں۔
اوپر کی آیت میں جن مرغوبات نفس کی طرف اشارہ فرمایا تھا وہ عورتیں ، بیٹے ، بکثرت مال ، گھوڑے مویشی اور زرعی زمین تھی ۔ اس کے مقابلہ میں جنت پاکیزہ بیویاں اور ضائے الٰہی کا تذکرہ کیا اور یہ بات ظاہر ہے کہ صرف جنت ہی تمام نعمتوں کا نام ہے ۔ دنیا کی مذکورہ تمام مرغوبات وہاں موجود ہوں گی۔
جیسا کہ فرمایا وفیھا ما تشتھیہ الانفس وتلذالاعین وہاں ہر خواہش پوری ہوگی ۔ سواریاں بھی ہوں گی اولاد بھی نیک انسان کی اس کے قریب ہوگی جنت کی تعمیر ہی سونے اور چاندی سے ہوگی مگر باوجود اس کے پھر بھی جنت کے ساتھ بیویوں کا ذکر فرمایا اور ایک رضوان کا ذکر فرمایا ۔ اس کی وجہ محض یہ معلوم ہوتی ہے کہ عورت چونکہ تسکین خاطر اور دل جمعی کا سبب ہے اس لئے اس کی خصوصیت سے ذکر فرما دیا۔ رہی رضا مندی اور رضائے الٰہی ۔۔۔۔ چونکہ وہ تمام نعمتوں میں اہم نعمت ہے بلکہ جنت کی طلب اور خواہش بھی اسی غرض کے لئے ہے اور حضرت حق کی رضا کا محل ہے اس لئے اس کو خاص طور پر ذکر فرمایا۔
یہ مطلب نہیں کہ بس ان چیزوں کے علاوہ وہاں کچھ اور نہ ہوگا بلکہ وہاں وہ سب کچھ ہوگا جو یہاں نظر آتا ہے اور اس سے بہت زیادہ ہوگا اور دائمی ہوگا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ رضائے الٰہی سے دوزخ کو جو کیف اور سرور نصیب ہوگا ، اور جو روحانی لذت میسر ہوگی اس کا تو اندازہ ہی نہیں لگایا جاسکتا ۔
صاحب تفسیر مظہری حضرت قاضی ثناء اللہ اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں ۔ صابروں سے مراد صوفیہ ، غازی اور شہداء ہیں صادقون سے مراد علماء ہیں ۔ قانتو ن سے مراد وہ زاہد ہیں جو نمازوں میں طویل قیام کرتے ہیں ۔ منفقون سے مراد وہ نیک دولت مند ہیں جو حلال سے روپیہ کماتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں خیرات کرتے ہیں اور مستغفرون بالا سحار سے وہ توبہ کرنے والے مراد ہیں جو نادانی سے کوئی غلطی کر بیٹھتے ہیں اور گناہ کے متصل ہی توبہ کرتے اور معافی چاہتے ہیں۔
احقر عرض کرتا ہے کہ اہل تقویٰ کی صفات کے متعلق مفسرین نے بہت سی تفسیریں کی ہیں اور ان سب کی گنجائش ہے۔ وللناس فیما یعشقون مذاھب ہم نے صرف مطلب بیان کردیا ہے اور باقی مباحث اور بہت سی احادیث کو چھوڑ دیا ہے اب آگے پھر توحید کا مکرر ذکر فرماتے ہیں کیونکہ یہ تمام بحث اثبات توحید اور ابطال تثلیث سے شروع ہوتی ہے بیچ میں بعض مناسبت سے دوسری باتیں آگئیں عقلی اور نقلی دلائل کے بعد پھر ان موانع کا ذکر فرمایا جو انسان کو امر حق کے قبول کرنے سے روکتے ہیں۔
آخر میں پھر توحید کا ذکر کیا تا کہ سامع کو تمام بحث ستحضر ہوجائے اور اس کے بعد عام طور پر اہل کتاب اور کفار عرب اسلام کی دعوت دی گئی اور نبی کریم ﷺ اور آپکے متبعین کی توحید اور ان کے اسلام کا اعلان کیا گیا ، چناچہ ارشاد فرماتے ہیں ۔ ( تسہیل)