Ayah 3:150ف 2 اے ایمان والو ! اگر تم نے کافروں کی اطاعت کی اور ان لوگوں کا کہنا مانا جنہوں نے کفر کی روش اختیار کر رکھی ہے تو وہ تم کو کفر کی طرف الٹا پھیر دیں گے اور کفر میں واپس کردیں گے جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تم سخت نقصان میں پڑ جائو گے اور بالکل ناکام ہو جائو گے وہ تمہارے دوست اور خیر خواہ نہیں ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ تمہارا حمایتی اور مددگار ہے اور وہ سب سے بہتر مدد کرنے والا ہے۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ جب حضور ﷺ سے احد میں مسلمانوں کے پائوں اکھڑے تو منافقوں اور کافروں نے عجیب عجیب مشورے دیئے۔ کسی نے کہا ابوسفیان کی امان میں آ جائو کسی نے کہا اب تم لوگ اپنے پہلے ہی دین کو اختیار کرلو۔ اس آیت میں ان کے مشوروں کی خرابی بیان فرمائی ہے اور یہ بتایا ہے کہ وہ تمہارے خیر خواہ اور دوست نہیں ہیں کہ تم کوئی کوئی بھلا مشورہ دیں گے۔ بعض تو ان میں سے کھلم کھلم ہی کفر قبول کرنے کو کہہ رہے ہیں اور جو لوگ دوست بن کر مشورہ دے رہے ہیں وہ بھی ایسا نقصان دہ مشورہ دے رہے ہیں جس کا نتیجہ وہی ہوگا کہ تم سے اسلام کا دامن چھوٹ جائے گا اگر ایسا ہوا تو یہ تمہارے لئے سخت نقصان دہ ہوگا اور تم قیامت میں بالکل دیوالیے ہو جائوگے۔
دوسری آیت میں بتایا ہے کہ تمہارا خیر خواہ اور مددگار تو بس اللہ ت عالیٰ ہی ہے اور وہی بہترین حمایتی ہے اس لئے اسی کی اطاعت بجا لائو۔
حضرت شاہ صاحب خاسرین پر لکھتے ہیں یعنی اس جنگ میں جو مسلمانوں کے دل ٹوٹے تو کافروں نے اور منافقوں نے وقت کو غنیمت پایا ۔ بعضے الزام دینے لگے بعضے خیر خواہی کے پردے میں سمجھانے لگے تا آگے لڑائی پر دلیری نہ کریں۔ حق تعالیٰ خبر دار کرتا ہے کہ دشمن کا فریب نہ کھائو۔ (موضح القرآن)
حدیث میں آتا ہے کہ ابو سفیان نے اعل ھبل اعل ھبل کے احد سے واپس ہوتے وقت نعرہ لگائے تھے ہبل ان کے بت کا نام تھا یعنی ہبل اونچا ہو ہبل بلند ہو۔ حضور ﷺ نے صحابہ کرام سے فرمایا تم اس کا جواب دو ۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا جواب دیں آپ نے فرمایا کہو۔ اللہ اکبر پھر ابو سفیان نے کہا لنا العزی ولا عزی لکم یعنی ہمارا حمایتی زی ہے اور تم کو عزی کی حمایت حاصل نہیں ۔ حضور ﷺ نے فرمایا تم اس کے جواب میں یہ نعرہ لگائو ۔ اللہ مولانا ولا مولی لکم یعنی اللہ ہمارا حمایتی اور مولیٰ ہے وہ تمہارا مولی نہیں ہے۔ عزی بھی کفار قریش کے ایک بت کا نام ہے۔ بہرحال اب آگے اسی دعوے کا ثبوت پیش کرتے ہیں اور اپنی مدد کو ظاہر کرتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayah 3:151ف 3 ہم ابھی ان منکرین حق کے دلوں میں اس وجہ سے ہیبت ڈالدیں گے کہ انہوں نے ایسی چیز کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرایا ہے اور ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک مقرر کیا ہے جن کے شریک ہونے اور قابل شرکت ہونے پر کوئی دلیل اللہ تعالیٰ نے نازل نہیں فرمائی یعنی جن چیزوں کو مشرکین نے اللہ تعالیٰ کا شریک مقرر کیا وہ عقلاً اور نقلاً کسی طرح بھی اس کے شریک بننے کے قابل نہیں ہیں اور ان کافروں کا مسکن اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ جہنم ایسے ظالموں کے رہنے کی بہت بری جگہ ہے۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی وہ چور ہیں اللہ کے اور چور کے دل میں ڈر ہوتا ہے اس واسطے ان کے دل میں اللہ تعالیٰ ہیبت ڈالے گا۔ (موضح القرآن)
مطلب یہ ہے کہ چونکہ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کی ولایت اور تائید حاصل ہے اس لئے ان کے دل مضبوط اور باہمت ہوتے ہیں۔ ان کو ان تمام بشارتوں پر یقین ہوتا ہے جو اللہ کی راہ میں مرنے والوں کو دی گئیں ہیں ان کو اپنے مستقبل کی بھلائی پر کامل یقین ہے کافروں کو یہ مرتبہ حاصل نہیں نہ ان کو دوسری زندگی پر اعتبار ہے نہ خدا کی تائید اور مغفرت حاصل ہے چناچہ اس پیشین گوئی کا اس طرح ظہور ہوا کہ احد سے کافر دوبارہ بغیر لڑے واپس ہوگئے پھر راستے میں آ کر خیال بھی کیا کہ ایسا اچھا موقعہ چھوڑ کر چلے آئے یہ موقعہ تو مسلمانوں کو ختم کردینے کا بہترین تھا چلو پھر مدینہ واپس چلو مگر ان کے قلوب میں ایسا رعب اور ہیبت پڑی کہ دوبارہ مدینہ پر حملہ کی ہمت نہ پڑی پھر تھوڑے دنوں کے بعد صغریٰ کی تیاری کی مگر وہاں بھی مقابلے کی ہمت نہ پڑی شرک پر نہ کوئی دلیل لفظی ہے نہ معنوی، نہ عقلی ہے نہ نقلی اس لئے مشرک کو خود بھی اپنے شرک پر بھروسہ نہیں ہوتا اور دوسری زندگی پر ایمان نہ ہونے سے اس کو اپنا مستقل تاریک نظر آتا ہے اور بظاہر یہی وجہ اس کے مرعوب اور کم ہمت ہونے کی ہے اور اسی لئے وہ موت کو پسند نہیں کرتا اور چونکہ اس کے سامنے یہی دنیا کی زندی ہوتی ہے اس لئے اس کو دنیا کی محبت بھی بہت ہوتی ہے۔
حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایک دور ایسا آئے گا کہ میری امت کے مسلمانوں کو مٹانے اور فنا کرنے کی غرض سے تمام کفار ایک دوسرے کو بلا بلا کر جمع ہوجائیں گے اور میری امت کو اس طرح فنا کرنے کے در پے ہوجائیں گے جس طرح ایک بھوکی جماعت کسی بڑے پیالے میں ایک دم ہاتھ ڈال کر ختم کردیتی ہے۔ کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ کیا ہماری تعداد اس دن کم ہوگی۔ آپ ﷺ نے فرمایا نیں تم آج سے اس دن تعداد میں بہت زیادہ ہو گے پھر کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ (ﷺ) پھر جب کفار کی باوجود قلت تعداد کے ہمت نہیں پڑتی تو اس دن کس طرح آمادہ ہوجائیں گے۔ آپ ﷺ نے جواب دیا تم میں دہن پیدا ہوجائے گا۔ کسی نے پوچھا حضور ﷺ دہن کیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا دنیا کی محبت اور موت سے کراہیت اور نفرت حب الدنیا و کراھیۃ الموت (ابودائود)
اب آگے اللہ تعالیٰ اس ہزیمت کے اسباب و علل بیان فرماتے ہیں اور الزام کے ساتھ ساتھ معافی کا اعلان فرما کر تسلی اور بشارت بھی دیتے ہیں اور اس شبہ کا جواب بھی ہے جس سے بعض کو خلجان ہو رہا تھا کہ غلبہ کا وعدہ کیوں پورا نہیں کیا گیا۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 3:152ف 1 اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ تو تم سے اپنا وعدئہ نصرت و فتح کو اس وقت سچا کرچکا تھا اور تم کو اس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا تھا جس وقت تم ان کافروں کو خدا کے حکم سے ابتدائے جنگ ہی میں کاٹ رہے تھے اور قتل کر رہے تھے یہاں تک کہ جب تم نے خود ہی بزدلی اور کمزوری دکھائی اور تم نے نامردی کی اور پیغمبر ﷺ کے حکم کی تعمیل میں باہم جھگڑنے اور اختلاف کرنے لگے اور باوجود اس کے کہ تمہاری محبوب اور دل خواہ چیز تم کو آنکھوں سے دکھا دی تم نے پیغمبر کی عدول حکمی کی اور ان کے کہنے پر نہ چلے تمہاری اس وقت یہ حالت تھی کہ بعض تم میں سے وہ تھے جو دنیا حاصل کرنا چاہتے تھے اور بعض وہ تھے جو صرف آخرت چاہتے تھے اور آخرت ہی کے طلبگار تھے پھر اس حالت کے بعد ہی پاسہ پلٹ گیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کافروں کی طرف سے تمہارا رخ پھیر دیا اور تم کو کافروں کے مقابلہ میں پسپا کردیا اور معاملہ الٹ گیا تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے ایمان کی آزمائش فرمائے۔ اور یقین جانو ! کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو معاف فرما دیا اور تمہارے قصور سے در گزر فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑا صاحب فضل ہے اور مسلمانوں کے حال پر بڑا فضل کرنے والا ہے۔ (تیسیر)
حس کے معنی ہیں کسی چیز کو کاٹ کاٹ کر ختم کرنا مثلاً درخت کو یا کھیتی کو یہاں مراد یہ ہے کہ کافروں کا استیصال کردینا۔ یعنی بکثرت قتل کرنا، تنازع کے معنی باہم رائے میں اختلاف کرنا جھگڑنا عصیاں کے معنی نافرمانی کرنا۔ عدول حکمی کرنا حکم کے بجا لانے میں کوتاہی کرنا۔
ماتحبون سے مراد یہاں فتح اور کامرانی ہے صرف کے معنی ہیں پھیر دینا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ کہ اگر تم مستقل مزاجی اور تقویٰ سے کام لو گے تو ہم تم کو کامیاب کریں گے یہ وعدہ تو ابتداء ہی میں اس نے سچا کردیا جبکہ تم ان کو اس کے حکم سے گاجر مولی کی طرف کاٹ رہے تھے مگر تم لوگوں نے آپس میں جھگڑا شروع کردیا اور گھاٹی کے بیٹھنے والوں نے عبداللہ بن جبیر کی یا نبی کریم ﷺ کی عدول حکمی کی ۔ تم سے کہا تھا بیٹھے رہنا مگر تم قبل از وقت گھاٹی چھوڑ آئے اور مال غنیمت کے حصول میں لگ گئے۔ حالانکہ فتح و کامرانی تم کو دکھا دی اور تمہاری آنکھوں کے سامنے فتح کھڑی تھی مگر تم نے بنی بنائی فتح کو خود بگاڑا گھاٹی والوں نے گھاٹی چھوڑی دی اور تم مال غنیمت کے منگوانے میں ان کافروں کے پیچھے دوڑے چلے گئے رسول ﷺ کو پکارتا رہا مگر تم نے ایک نہ سنی دنیا کی رغبت اور محبت اگرچہ یہاں بالذات نہیں معلوم ہوتی اور صحابہ کی دنیا طلبی بھی حصول آخرت کی غرض سے ہی تھی۔
جیسا کہ بعض اہل سلوک نے فرمایا ہے لیکن حضرات صحابہ کے لئے اس کو بھی پسند نہیں فرمایا اور تعریض کے طور پر فرمایا کہ کوئی تم میں سے دنیا کو مقصد بنا بیٹھا اور کوئی تم میں سے آخرت کا طالب رہا۔ یعنی جو گھاٹی میں بیٹھے رہے یا وہ لوگ جو پیغمبر کو گھیرے رہے اور آپ کے نگراں اور محافظ بنے رہے اور جب دنیا کی محبت قلب میں آتی ہے تو بزدلی اور نامردی اس کا لازمی نتیجہ ہے جیسا کہ ابو دائود کی روایت سے معلوم ہوچکا ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود فرمایا کرتے تھے جب تک یہ آیت نازل نہیں ہوئی مجھے بالکل اس کا علم نہیں ہوا کہ ہم میں سے بھی کوئی ایسا ہے جو حصول دنیا کا طالب ہو بہرحال جب یہ کوتاہیاں اور بد عنوانیاں تم سے سرزرد ہوئیں تو تم کو آزمانے اور تمہارے ایمان کا امتحان لینے کی غرض سے پاسہ پلٹ گیا اور خالد بن ولید کو گھاٹی میں گھس آنے کا موقعہ مل گیا اور یا تو وہ کافر بھاگ رہی تھے اور یا اب تم بھاگنے لگے۔ بہرحال فشل تنازع فی الامر امیر کے حکم کی خلاف ورزی یہ چند باتیں اوپر تلے ایسی ہوئیں جن کی نحوست سے فتح و شکست سے بدل گئی۔
اور ہم نے دوسرا طریقہ ابتلا کا اختیار کیا یعنی فتح و نصرت میں بھی امتحان تھا اور اب مصائب و آلام میں بھی امحتان مقصود ہے۔ ونبلوکم بالشر والخیر فتنۃ کامرانی کی غرض بھی یہ ہوتی ہے کہ دیکھیں کہاں تک شکر بجا لاتے ہو اور مصائب و آلام اور ناکامی کی بھی یہ غرض ہوتی ہے کہ دیکھیں کہاں تک صبر کرتے ہو یہ ہوسکتا ہے کہ یہ تمام غلطیاں اجتہادی ہوں اور یہ بھی ہو سکات ہے کہ ان کو اپنی غلطیوں پر ندامت ہوئی ہو بہرحال معافی کا اعلان کردیا گیا اور قیامت کے مواخذے سے سبکدوش فرما دیا اور لوگوں کو ان کی شان میں کوئی قابل اعتراض بات کہنے سے روک دیا اور یہ صحابہ کرام کے حال پر بہت بڑی شفقت و عنایت ہے جیسا کہ اس شفقت آمیز اور کرم آلود عتاب سے معلوم ہوتا ہے کہ غلطیوں کے ذکر میں معافی کا اعلان بھی فرما دیا اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا مسلمانوں پر بڑا ہی فضل ہے۔ نعمت دیکر آزمائے جب بھی اس کا فضل ہے تکلیف دیکر آزمائے جب بھی اس کا فضل ہے۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی اول غلبہ مسلمانوں کا تھا کہ کافروں کو مارتے تھے اور وہ بھاگتے تھے اور آثار فتح کے نظر آتے تھے کسی کو خوشی تھی مال کی اور کسی کو غلبہ اسلام کی جب مسلمانوں سے پیغمبر کی بےحکمی ہوئی تب مقدمہ الٹ ہوگیا وہ بےحکمی ایک یہ کہ حضرت نے پچاس آدمی تیر انداز پہاڑ کی راہ پر کھڑے کئی تھے نگہبانی کو باقی لشکر لڑنے لگا جب ان تیر اندازوں نے فتح اور غلبہ دیکھا اس جگہ سے چاہا چلے آویں شریک فتح ہوں اور غنیمت لیویں۔ بعضوں نے منع کیا وہ نہ مانے وہاں دس آدمی رہ گئے اس طرف سے کافروں کی فوج پچھاڑی پر آ پڑی دوسری یہ کہ جب کافر بھاگنے لگے تو مسلمان دوڑے تعاقب کو حضرت پیچھے سے پکارتے رہے کہ میری طرف آئو آگے مت جائو اس طرف جو غنیمت نظر آئی لوگ نہ پھرے اس بےحکمی سے شکست پڑی۔ (موضح القرآن)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ امیر کی مخالفت کا کبھی تمام قوم کو خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے جیسا کہ عبداللہ بن جبیر کی مخالفت کا نتیجہ ہوا ۔ اسی طرح پیغمبر کی عدول حکمی خواہ عوام کی جانب سے ہو مگر عتاب میں خواص بھی مبتلا ہوتے ہیں جیسا احد میں ہوا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ بےحکمی سے نعمت سلب ہوجاتی ہے جیسا کہ فتح کی نعمت ہاتھ سے جاتی رہی اور یہ بھی معلوم ہوا کہ جس طرح ایک نیکی سے دوسری نیکی کی توفیق نصیب ہوتی ہے اسی طرح ایک غلطی اور بےحکمی سے بہت سی غلطیوں اور بےحکمیوں کی جرأت ہوتی ہے اور ایک برائی دوسری برائی کا سبب ہوتی ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ دنیا کی رغبت بعض دفعہ بہت سی خطائوں کا موجب ہوجاتی ہے۔
حب الدنیا راس کا خطیئۃ اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اجتہادی غلطی قابل عفو ہے بلکہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اجتہادی خطا پر بھی اجر ملتا ہے آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ صحابہ کرام کا اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑا مرتبہ ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ دنیوی مصائب کفارہ سیئات کا موجب ہوتے ہیں اور اخروی گرفت کو ہٹا دیتے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ دنیا کی طلب اگرچہ دینی غرض سے ہو لیکن خواص کے حق میں محمود نہیں۔ واللہ اعلم و علمہ اتم و احکم
حضرت بایزید بسطامی (رح) نے خوب فرمایا کہ منکم من یرید الدنیا
حضرت حق کی جانب سے شکوہ ہے کہ کسی کو دنیا مطلوب ہے اور کسی کو آخرت لیکن وہ کون ہے جس کو صرف میری ذات مطلوب ہو اب آگے پھر ان ہی امور کا تتمہ ہے۔ (تسہیل)
Ayah 3:153ف 2 اور اے مسلمانو ! وہ وقت یاد کرو جب تم جنگلوں اور پہاڑوں کی چڑھائی کی طرف چلے جا رہے تھے اور کسی کو پلٹ کر دیکھتے تک بھی نہ تھے اور رسول تمہارے پیچھے کی جانب کھڑا تم کو پکار رہا تھا کہ اے اللہ کے بندو میرے پاس آئو مگر تم نے سنا ہی نہیں سو اللہ تعالیٰ نے رسول کو رنج پہنچانے کے سبب تم کو رنج دیا یعنی تم نے رسول کو غم دیا اور اس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے تم کو غم دیا اور تم کو تربیت فرمائی تاکہ آئندہ تم کسی چیز کے فوت ہوجانے اور ہاتھ سے نکل جانے پر غمگین نہ ہوا کرو اور نہ کسی مصیبت پر جو تمکو پیش آجائے آئندہ مغموم ہو اور اللہ تعالیٰ ان سب کاموں سے جو تم کرتے ہو باخبر ہے۔
اصعاد کے معنی ہیں زمین میں دور نکل جانا یعنی کوئی شخص آپ کے سامنے سے ہٹ کر دور نکل جائے اور صعود کے معنی ہیں پہاڑ پر سیڑھی پر یا ٹیلے پر چڑھ جانے کے بعض اہل لغت نے کہا ہے۔ اصعاد ، صعود، تصعید سب ہم معنی ہیں یعنی اونچی جگہ پڑھنا یہاں شاید اس لئے تصعدون فرمایا کہ جب مسلمان تتر بتر ہوئے تو جس طرف جس کا منہ اٹھا وہ بھاگا۔
حضور اکرم ﷺ کو جب افاقہ ہوا تو آپ نے لوگوں کو پکارا ۔ آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھی جہاد کھڑے تھے وہ جگہ ذرا نشیب میں تھی اور لوگ جس طرف بھاگ رہے تھے اس کی سطح اس نشیب والی زمین کی سطح سے اونچی تھی اس لئے فرمایا تم چڑھے چلے جا رہے تھے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بد حواسی میں کوئی پہاڑ پر چڑھ کر بھاگا ہو اور کوئی ٹیلے پر چڑھ گیا ہو۔
ہم نے ترجمہ اور تیسیر میں دونوں کی رعایت رکھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہزیمت خوردہ فوج کی طرف سراسیمہ اور بدحواس بھاگے چلے جاتے تھے ۔ پھر نبی کریم ﷺ کی وفات کا حال سن کر اور بھی حواس باختہ ہوگئے۔ ادھر نبی کریم ﷺ نے پکارا نشیب میں سے اور ظاہر ہے کہ خون نکل جانے کی وجہ سے آواز بھی ضعیف ہوگی۔ اس لئے یا تو آواز انہوں نے سنی نہیں یا سنی تو ان کو موت کا یقین ایسا تھا کہ انہوں نے باور نہیں کیا اور یہ سمجھے کہ یہ حضور ﷺ کی آواز نہیں ہوسکتی۔ حضور ﷺ کی تو وفات ہوچکی۔ جب آپ کی آواز نہ سنی تو کعب بن مالک نے للکارا۔ چناچہ کعب کی آواز پر سب لوگ آکر جمع ہوگئے چونکہ یہ صورت ایسی نامناسب واقع ہوئی کہ رسول کا پکارنا اور مسلمانوں کا پلٹ کر نہ دیکھنا اس لئے اس پر عتاب فرمایا اور تنبیہہ کی کہ اگر تم ذرا توجہ کے ساتھ سنتے تو تم کو معلوم ہوجاتا کہ یہ پکار واجب التعمیل پکار تھی۔
بہرحال مسلمانوں کی اس حرکت سے حضور ﷺ کو نج پہنچنا اور غم ہونا ظاہر ہے یہ تو کچھ ہم نے عرض کیا وہ عام مفسرین کے قول کی بنا پر عرض کیا۔
باقی حضرت شاہ صاحب نے جو کچھ فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ابتداء فتح ہوئی اور کافر بھاگے تو مسلمانوں نے تعاقب کیا تاکہ یہ کافر جس قدر مال چھوڑ کر بھاگ جائیں اچھا ہے کیونکہ ہم ان کا پیچھا کریں گے تو یہ سب سامان چھوڑ کر اپنی جان بچانے کی غرض سے بھاگ جائیں گے اور حضور اس وقت پکار رہے ہوں کہ واپس آ جائو اور غنیمت کے لالچ میں دور نکلے نہ چلے جائو۔ اگر ایسا ہوا ہو جیسا کہ حضرت شاہ صاحب نے فرمایا ہے تو اب اس توجیہہ کی ضرورت نہ ہوگی جو اوپر عرض کی گئی ۔ بلکہ یہ ایک دوسری غلطی اور عدول حکمی ہوگی اور شکست کا دوسرا سبب ہوگا۔
جیسا کہ حضرت شاہ صاحب نے بھی فرمایا ہے اب اس طرح رسول کی پکار کے دو واقع ہوں گے ایک جب کا واقعہ جب غنیمت کا مال حاصل کرنے کو کفار کے تعاقب میں بڑھ چلے جا رہے تھے اور دوسرا اس وقت جب شکست کھا کر بھاگ رہے تھے ۔ دوسرے موقعہ پر ضعف کی وجہ سے آہستہ پکارا ہوگا اور جب آپ کی آواز بھاگنے والوں تک نہ پہنچی ہوگی تو کعب بن مالک نے پکارا ہوگا۔
بہرحال یہ پکارنا ہزیمت کے وقت کا ہو یا یہ پکارنا غنیمت کے وقت کا ہو لوگوں کی کوتاہی سے حضور ﷺ اور اسی کی پاداش میں تم کو بھی غم دیا تم نے پیغمبر کا دل تنگ کیا اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے میں تم کو رنج دیا اور ہوسکتا ہے کہ غما بغم کا یہ مطلب ہو کہ تم کو غم پر غم دیا اور اگر یہ معنی کئے جائیں تو غم بالائے غم ظاہر ہی ہے ابتدائی کامرانی کے فوت ہونے کا غم پھر مسلمانوں کے مارے جانے اور زخمی ہونے کا غم ، پھر نبی کریم ﷺ کی خبر وفات کا غم یا یہ مطلب ہو کہ کامرانی کے فوت ہونے، غنیمت کے ہاتھ سے نکل جانے اور مسلمانوں کے مرنے کا غم تو تھا ہی اس پر یہ غم پڑا کہ نبی کریم ﷺ کے وفات پانے کی خبر مشہور ہوگئی جس سے رہے سہے اوسان بھی کھو دیئے۔
بہرحال پہلے معنی ہوں یا دوسرے مطلب شدت غم اور پریشانیوں کی کثرت ہے ۔ چونکہ اپنے اکابر نے پہلے معنی اختیار کئے ہیں اس لئے ہم نے بھی وہی معنی لئے ہیں یعنی پیغمبر کو غم دینے کی وجہ سے غم دیا۔ اگرچہ دوسرے معنی کی بھی گنجائش ہے اور اکثر مفسرین نے غما متصلابخم کیا ہے۔ (واللہ اعلم)
آگے پھر غمابغم کے سبب کو ظاہر فرما دیا اور اس میں بھی ایک تلطف آمیز اشارہ ہے کہ یہ غم بالائے غم یا حضور کو غم دینے کی پاداش میں غم اس وجہ سے دیا گیا کہ تم کو مضبوط کردیں اور تم میں خوب مضبوطی پیدا ہوجائے اور تم مصائب و شدائد پر صبر کے خوگر ہو جائو اور تم یہ سمجھ لو کہ کسی نفع ظاہری کا فوت ہوجانا اور کسی مصیبت کا پہنچ جانا یہ حضرت حق کی مشیت اور ان کی حکمت و مصلحت پر موقوف ہے تاکہ آئندہ کوئی چیز ہاتھ سے نکل جائے اور کوئی مصیبت پیش آجائے تو تم کو صدمہ نہ ہو۔ لہٰذا تمہارے اخلاق کی تربیت اور مصائب کو برداشت کرنے کا خوگر بنانا مقصود تھا اور اچھے بندوں پر بلا اور مصائب کا نزول ایسی ہی مصالح کے ماتحت ہوا کرتا ہے۔ آخر میں یہ بتادیا کہ اللہ تعالیٰ ہر شخص کے اعمال سے اور اس کی نیت سے باخبر ہے جو کچھ کرو یہ سوچ کر کرو کہ اللہ تعالیٰ کو تمام کاموں کی خبر رہتی ہے۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی تم نے رسول کا دل تنگ کیا اس کے بدلے تم پر تنگی آئی تا آگے کو یاد رکھو کہ حکم پر چلئے کچھ ہاتھ سے جاوے یا کچھ بلا سامنے آوے۔ (موضح القرآن) اب آگے اس غم کے ازالے کا اظہار اور منافقوں کی دورخہ پالیسی اور ان کے اعتراضات کا جواب ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 3:154ف 1 پھر اس مذکورہ رنج و غم کے بعد امن و اطمینان اور راحت نازل فرمائی جو ایک اونگھ تھی یعنی امن و راحت کی صورت یہ ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے ایک اونگھ بھیجی کہ سب لوگ جس حالت میں تھے اونگھنے لگے اس اونگھ کا اثر یہ ہوا کہ یہ غنودگی تم میں سے ایک جماعت پر تو پوری طرح چھا گئی اور مسلمانوں پر تو اس غنودگی کا پورا غلبہ ہوگیا اور ایک جماعت وہ تھی جس کو اپنی جانوں ہی کی فکر پڑی ہوئی تھی یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھوٹے اور ناروا اور غیر واقع خیالات باندھ رہے تھے جو محض جاہلوں جیسے احمقانہ خیالات تھے۔ (تیسیر)
امنۃ نعاسآ کا مطلب یہ ہے کہ ایک ایسی غنودگی نازل فرمائی جو امن و سکون والی تھی اور جس سے مسلمانوں کا خوف و ہراس اور ہر قسم کی پریشانی اور خطرات سب دور ہوگئے اور سارا غم غلط ہوگیا۔
یغشیٰ طائفۃ سے مراد یہ ہے کہ اس غنودگی کا مسلمانوں پر گہرا اثر ہوا۔ حضرت ابو طلحہ فرماتے ہیں جن لوگوں پر غنودگی طاری ہوئی تھی ان میں میں بھی تھا اونگھ ایسی آئی کہ میرے ہاتھ سے تلوار گرگئی میں نے ہوشیار ہو کر تلوار اٹھائی مگر وہ پھر ہاتھ سے گرگئی، نعاس کی تفصیل ہم آیت الکرسی کی تفسیر میں عرض کرچکے ہیں۔
دوسرا گروہ منافقین کا تھا جن کو اپنی جانوں کی فکر پڑی ہوئی تھی کہ دیکھیے اب کیا ہوتا ہے۔ شاید پھر حملہ آور آتے ہیں یا اپنے گھر واپس چلے جاتے ہیں ہم یہاں سے زندہ جاتے ہیں یا یہیں کھیت ہوجاتے ہیں چناچہ ان پر اس غنودگی کا کوئی اثر نہیں ہوا اور وہ اس امن و راحت سے محروم رہے جو مسلمانوں کو نصیب ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے منافقین کو مسلمانوں سے متمیز کردیا یہ منافق طرح طرح کے گمان اور اٹکلیں اللہ تعالیٰ کے بارے میں دوڑا رہے تھے ان کے یہ ظنون غیر واقعی اور ناحق و ناروا تھے اور اللہ تعالیٰ کی شان اس سے منزہ ہے کہ اس کے بارے میں ایسے گمان کئے جائیں یہ گمان زمانہ جاہلیت اور اہل جاہلیت کے سے گمان تھے جیسے کافر کیا کرتے ہیں۔
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے امن و راحت کا یہ سامان کیا کہ تھوڑی دیر کے لئے سب پر غنودگی طاری کردی مسلمان تو اونگھنے لگے مگر منافقین اپنی اپنی بدگمانیوں میں مبتلا رہے اور خدا کے بارے میں طرح طرح کی اٹکلیں دوڑاتے رہے مثلاً اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی مدد نہیں کرے گا۔ یا مسلمان اب ختم ہوجائیں گے یا پیغمبر قتل کردیئے گئے۔ وغیرہ وغیرہ
اب آگے ان منافقین کی دو رخہ پالیسی اور ان کی باتوں کا ذکر ہے کہ زبان سے کچھ کہتے ہیں اور دل میں کچھ چھپاتے ہیں شکست کی وجہ زبان سے اور بتاتے ہیں دل میں اور درجہ چھپائے ہوئے ہیں زبان سے بھی جو کچھ کہتے ہیں وہ بھی گول مول اور ذومعنی کہتے ہیں ان کی باتیں اور ان باتوں کا جواب مذکور ہے۔ (تسہیل)
2 وہ گمان کرنے والے یوں کہہ رہے تھے بھلا ہمارے اختیار میں بھی کوئی چیز ہے اور کچھ کام بھی ہمارے ہاتھ میں ہے اے پیچمبر ! آپ ان سے فرما دیجیے کہ اختیار تو سب اللہ ہی کا ہے اور سب کام تو اللہ ہی کے ہاتھ ہے یہ لوگ اپنے دلوں میں ایسی بات چھپائے ہوئے ہیں جس معاملہ میں ہمیں کچھ بھی اختیار ہوتا تو ہم اس جگہ اور اس میدان کار زار میں مارے نہ جاتے یعنی ہم میں سے جو لوگ مارے گئے وہ نہ مارے جاتے۔ اے پیغمبر ! ﷺ آپ ان سے فرما دیجیے اگر تم اپنے اپنے گھروں میں بھی رہتے اور اپنے گھروں ہی میں بیٹھے رہتے تب بھی جن لوگوں کے لئے خدا کی جانب سے قتل مقدر ہوچکا تھا وہ ان مقامات کی طرف جانے کے لئے نکل پڑتے جہاں وہ قتل ہو ہو کر گرے ہیں اور جو کچھ یہ واقعہ پیش آیا اس لئے پیش آیا تاکہ اللہ تعالیٰ اس بات کی آزمائش کرے جو تمہارے سینوں میں ہے یعنی تمہارے ایمان کی آزمائش کرنے کے لئے ایسا ہوا اور سا لئے ہوا تاکہ اللہ تعالیٰ اس چیز کو ہر قسم کے میل کچیل سے صاف کر دے اور نکھار دے جو تمہارے دلوں میں ہے اور اللہ تعالیٰ سینوں کی سب باتوں سے خوب واقف ہے اور باطن کی سب باتوں کو خوب جانتا ہے۔ (تیسیر)
مضجع کے معنی ہیں مصرع یعنی لیٹنے اور بچھڑنے کی جگہ قبر کو بھی مضجع کہتے ہیں اور خواب گاہ کو بھی مضجع کہتے ہیں اسی طرح مقتل کو بھی مضجع فرمایا۔ مطلب یہ ہے کہ لشکر میں جو منافق تھے ان کی یہ حالت تھی کہ ایک طرف تو اللہ تعالیٰ کے بارے میں مختلف قسم کے جاہلانہ خیالات ائم کر رہے تھے اور جب کوئی ان سے دریافت کرتا کہ یہ شکست کیوں ہوئی تو ایک معصوم سا فقرہ کہہ دیتے کہ ہمارے اختیار میں کوئی چیز نہیں اور ہمیں کوئی اختیار نہیں ہے لوگ یہ سمجھتے کہ یہ پختہ مسلمان ہیں کامیابی اور ناکامی کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے حوالے کر رہے ہیں اگر اس فقرے کا اور مطلب بھی ہوسکتا تھا مثلاً یہ کہ کچھ بنے گا یا سب بگڑا ہی رہے گا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کچھ غنیمت وغیرہ مسلمانوں کے ہاتھ لگے گی یا خالی ہاتھ رہیں گے غرض اللہ تعالیٰ نے بھی اس فقرے کا خوب جواب دیا کہ بیشک اختیار تو سب اللہ ہی کے ہاتھ ہے اس کے بعد پھر ان کی شرارت اور منافقت کا اظہار فرمایا کہ جو کچھ ان کے د ل میں بھرا ہوا ہے اور جو کچھ ان کے جی میں پوشیدہ ہے اے پیغمبر اس کو آپ کے سامنے ظاہر نہیں کرتے اور کھل کر نہیں کہتے۔ ظاہر میں یہ ایک سیدھی اور معصوم سی بات کہتے ہیں لیکن ان کا اصل منشا یہ ہے کہ اگر ہمارا کچھ اختیار چلتا اور ہماری بات مانی جاتی اور ہماری رائے پر عمل ہوتا تو یہ دن دیکھنا نہ پڑتا اور ہم اس جنگ میں قتل نہ کئے جاتے یعنی جو لوگ مقتول ہوئے وہ قتل نہ ہوتے۔
حضرت حق تعالیٰ نے اس کا جواب دیا کہ جس کو جہاں مرنا ہوتا ہے وہیں مرت ا ہے اور اگر تم اپنے گھروں میں بھی بیٹھے رہتے اور تمہارے مقدر میں یہ ہوتا کہ احد پہاڑ کی تلیئی میں مرو گے تو تم گھروں سے نکلتے اور مقتل تک پہنچ کر رہتے یہ ناممکن تھا کہ تم نہ مرتے جو نقصان مقدر ہوچکا تھا وہ ٹلنے والا نہ تھا اور اس شکست میں جو منافع مضمر تھے اس کا تم کو علم نہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ کو تمہارے سینے کی چیز یعنی تمہارے ایمان کی آزمائش کرنی تھی اور منافقوں کو ظاہر کرنا تھا چناچہ مصائب سامنے آتے ہی منافقوں کا نفاق کھل گیا اور مخلص مسلمانوں کا ایمان اور مضبوط و محقق ہوگیا اور نیز اللہ تعالیٰ اک مقصد یہ تھا کہ وہ تمہارے دلوں کو کمزوری اور وساوس و خطرات کی آلائشوں سے نکھار کر پاک و صاف کر دے چناچہ ان غیر معمولی مصائب و آلام سے مومنین کی توجہ اللہ تعالیٰ کی جانب اور زائد ہوئی اور ان کے اعتقاد ایمان میں خوب صفائی اور جلا ہوگئی۔
آخر میں سینوں کی پوشیدہ باتوں سے اپنے علم اور اپنی واقفیت کا اظہار فرمایا کہ ہمیں تو ہر چھپی سے چھپی بات کا علم ہے لیکن ہماری آزمائش کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ منافقین کی حقیقت آشکارا ہوجائے اور لوگ ان کو اچھی طرح سمجھ لیں۔
اس آیت میں بعض لوگوں کو شبہ ہوا کہ منافق تو سب عبداللہ بن ابی کے ہمراہ واپس ہوگئے تھے باقی ماندہ لوگوں میں منافق کوئی نہ تھا اس لئے یہ باتیں مدینہ میں کہی جا رہی ہوں گی۔
حالانکہ ہم عرض کرچکے ہیں کہ بدر کی فتح کے بعد سے مدینہ منورہ میں دشمنوں کی سازشوں کا جال بچھا ہوا تھا اس لئے تین سو منافق جو عبداللہ بن ابی کی ٹولی میں تھے وہ تو واپس چلے گئے تھے لیکن اور منافق لشکر میں موجود تھے اور منافقوں نے یہ جو کہا کہ ہم اس جگہ قتل نہیں کئے جاتے مرنے والوں کو ہم کہنا اس کی وجہ یہ ہے کہ بہرحال سب کے سب ہم وطن تھے۔ آپس میں برادریاں تھیں اس لئے ان کو اپنا ہی سمجھتے تھے۔
ابتلا اور تمحیص کا ذکر اوپر آچکا ہے پھر اس کو فرمانا یا تو بطور تاکید ہے کہ اس شکست میں بڑا نفع ہوا کہ منافقوں کا حال کھل گیا اور مئومنین کا ایمان خلاص ہوگیا اور یہ بھی ہوسکتا ہے اوپر مسلمانوں کو تسلی دینے کی غرض سے فرمایا تھا اور یہاں منافقین کے خیالات کا رد کرنے کی غرض سے فرمایا کہ نقصان میں منافع بھی پوشیدہ تھے اور حقیقی نقصان جس کو گناہ کہتے ہیں اس کی معافی کا اعلان آگے کی آیت میں فرماتے ہیں اور دوسرے یقولون کا مطلب یہ ہے کہ منافق آپس میں کہتے ہوں یا دل ہی دل میں کہتے ہوں یا کسی مسلمان سے بھی کہتے ہوں کہ ہماری رائے پر عمل کرتے تو یہ نقصان نہ ہوتا مگر تم نے چند جوشیلے نوجوانوں کے کہنے میں آ کر یہ ہزیمت کھائی۔ (واللہ اعلم)
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں اس شکست میں جن کو شہید ہونا تھا ہوچکے اور جن کو ہٹنا تھا ہٹ گئے اور جو میدان میں باقی رہے ان پر اونگھ آئی اس کے بعد رعب اور دہشت رفع ہوگئی اور اتنی دیر حضرت کو غشی رہی پھر جب ہوشیار ہوئے سب حضرت پاس جمع ہو کر پھر لڑائی قائم کی اور سست ایمان والے کہنے لگے کہ کچھ بھی کام ہمارے ہاتھ ہے ظاہر یہ معنی کہ اس شکست کے بعد کچھ بھی ہمارا کام بنا رہے گا یا بالکل بگڑ چکا یا معنی کہ اللہ نے چاہا سو کیا ہمارا کی ا اختیار اور نیت میں یہ معنی تھے کہ ہماری مشورت پر عمل نہ کیا جو اتنے لوگ مرے ۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں معنوں کا جواب فرما دیا اور بتایا کہ اللہ کو اس میں حکمت منظور تھی تاکہ صادق اور منافق معلوم ہوجائیں۔ (موضح القرآن)
اب آگے اس لغزش کے اسباب کی طرف اشارہ ہے اور آخر میں پھر معافی کا اعلان ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 3:155ف 3 یقین جانو ! کہ جس دن احد کے میدان میں دو جماعتیں باہم نبرد آزما ہوئی تھیں اور آپس میں بھڑی تھیں اس دن جو لوگ میدان سے ہٹ گئے اور جنہوں نے اس دن لڑائی سے پشت پھیری تو سوائے لغزش دے دی اور ان کے قدم ڈگمگا دیئے۔ بلاشبہ جن کو شیطان نے بہکا دیا تھا اور نج سے لغزش ہوئی تھی اللہ تعالیٰ نے ان کو معاف فرما دیا اور ان کو درگذر کردیا۔
یقین مانو ! اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا ہے اور بڑے تحمل کا مالک ہے یعنی بخش بھی دیا اور گرفت بھی کوئی سخت نہیں کی۔ (تیسیر)
حضر ت ابن عباس سے مروی ہے۔ یہ معافی کا اعلان حضرت عثمان رافع بن المعلی اور خارجہ بن زید کے لئے ہوا ہے اور یہ آیت ان ہی کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ فقیر عرض کرتا ہے نزول کسی کے حق میں ہو لیکن جنگ سے جس قدر لوگ ہٹے تھے ان سب کی معافی مراد ہے کیونکہ اس دن سوائے تیرہ آدمیوں کے جن میں سے کچھ مہاجرین تھے اور کچھ انصار تھے باقی سب ہی جنگ سے ہٹ گئے تھے اللہ تعالیٰ نے ان سب کو معاف فرما دیا اور اب جو لوگ کسی بزرگ پر لب کشائی کرتے ہیں وہ نالائق اللہ تعالیٰ پر معترض ہوتے ہیں۔ گویا اللہ تعالیٰ تو معاف فرما چکا لیکن ان بدبختوں کی نظر میں باوجود اللہ تعالیٰ کے معاف کردینے کے مورد عتاب ہیں۔
ببعض ماکسبوا سے یا تو ان کے پہلے کچھ قصور اور خطائیں مراد ہیں اور ہوسکتا ہے کہ گھاٹی کو چھوڑ دینا اور پیغمبر کی آواز پر متوجہ نہ ہونا اور دنیا طلب کرنے کی خواہش مراد ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اشارہ اس غلطی کی طرف ہو جو بدر کے قیدیوں سے فدیہ لے لیا تھا۔ جیسا کہ بعض نے کہا ہے ایک غلطی سابق اور دوسری لاحق ۔ (واللہ اعلم)
بہرحال۔ ہم اوپر عرض کرچکے ہیں کہ جس طرح کسی نیک عمل سے نیکی کی توفیق میسر ہوتی ہے اسی طرح کسی قصور اور خطا سے شیطان کا قابو اور اس کا وسوسہ بڑھتا ہے اور ایک غلطی بہت سی غلطیوں کا سبب بن جاتی ہے اور اگر فوری تدارک نہ کیا جائے تو انسان شیطان کی لپیٹ میں آجاتا ہے۔
اعاذ نا اللہ من مکائد الشیطان اوپر کی آیتوں میں بھی معافی اک اعلان فرما دیا تھا یہاں یا تو محض تاکید معافی کی مقصود ہے یا منافقین کے خیالات کا رد کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اس پر تبصرے کی ضرورت نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس لغزش کو معاف فرما دیا ہے۔
آخری حصہ میں غفور حلیم فرمایا۔ مغفرت یہ کہ خطا معاف کردی۔ حلم یہ کہ معمولی سی ہزیمت ہوئی کوئی سخت گرفت نہیں فرمائی۔ آیت میں کس قدر مہربانی اور تلطف کا اظہار ہے خطا کے ذکر کے ساتھ فوراً ہی معذرت اور معذرت کے ساتھ فوراً ہی معانی کا اعلان پھر مستقل مغفرت اور حلم کا اظہار سبحان اللہ وبحمدہ۔ یعنی پہلے پیٹھ پھیرنے اور جنگ سے ہٹ جانے کا ذکر کیا پھر فرمایا وہ شیطان نے بعض کو تاہیوں کے باعث ان کے ساتھ ایسا کیا اور ان کے قدم پھسلا دیئے اور شیطانی قوت نے ایسا کرایا پھر آگے اطمینان ہے کہ اگر ایسا ہوگیا تو کچھ مضائقہ نہیں ہم نے معاف فرما دیا اور یہ معاف کردینا اور حلم سے کام لینا تو ہماری عام عاد ہے۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ اس جنگ میں جو لوگ ہٹ گئے ہیں ان پر گناہ نہیں رہا۔ (موضح القرآن)
اب آگے منافقین کے قول کی مزید تشریح فرما کر مسلمانوں کو منع فرماتے ہیں کہ تم ان منافقوں کے ان کافرانہ اقوال سے متاثر نہ ہونا یہ تقدیر الٰہی کے منکر ہیں اور یہ انکار ان کے لئے مزید موجب حسرت و برامت کیونکہ تقدیر الٰہی پر ایمان رکھنے والوں کو جو اطمینان نصیب ہوتا ہے وہ منکرین تقدیر کو نہیں حاصل ہوا کرتا ۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 3:156–157ف 1 اے ایمان والو ! تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا اور ان لوگوں کی سی باتیں نہ کرنا جو کافرانہ روش اختیار کئے ہوئے ہیں یعنی منافق ہیں اور اپنے بھائیوں کے متعلق جب وہ بھائی کہیں ملک میں سفر کو نکلیں یا وہ کسی غزوے میں غازی بن کر شریک ہوں اور اتفاقاً وہ مرجائیں یا قتل کردیئے جائیں تو یوں کہتے ہیں کہ اگر یہ ہمارے بھائی ہمارے ہی پاس رہتے اور سفر میں یا جہاد میں نہ جاتے تو یہ لوگ نہ مرتے اور نہ قتل کئے جاتے۔ یہ بات اس لئے کہتے ہیں اور اس کا انجام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں اس بات کو موجب حسرت بنا دے اور ان کے قلوب میں پشیمانی اور افسوس کا سبب کر دے۔ (تیسیر)
غزی غازی کی جمع ہے مطلب یہ ہے کہ مسلمانو ! تم ان منافقوں کی طرح باتیں نہ کرنا جو ہر مرنے والے اور قتل کئے جانے اولے کے متعلق خواہ وہ کسی سفر میں مرجائیں یا مارے جائیں یا کسی غزوہ میں غازی بن کر اپنی موت سے مرجائیں یا شہید کردیئے جائیں یہ کہ دیا کرتے ہیں کہ اگر یہ ہمارے بھائی یعنی مسلمان اگر ہمارے پاس رہتے اور مدینہ سے باہر نہ جاتے تو نہ مرتے نہ مارے جاتے جیسا کہ احد میں شہید ہونے اولے مسلمانوں کو کہہدیا کہ لوکان لنا من الامر شیئی ما قتلنا ھبنا مسلمانوں کو بھائی یا تو ہم وطن ہونے کی وجہ سے کہا یا نسب کے اعتبار سے کہ سب ایک ہی برادری کے تھے یا عقیدے کے اعتبار سے کہا ہو کیونکہ وہ اپنے کو بھی مسلمان ہی ظاہر کیا کرتے تھے بہرحال چونکہ یہ لوگ تقدیر الٰہی کے منکر ہیں اور اللہ تعالیٰ پر صحیح اعتقاد نہیں رکھتے اس لئے ایسی باتیں کہا کرتے ہیں کہیں تم اے مسلمانو ! ایسی باتیں کر کے ان منافقوں کی مانند نہ ہوجانا آگے اس غلط بات کا نتیجہ بیان کیا ہے کہ جس خیال کی بنا پر یہ بات ان کے منہ سے نکلتی ہے یہ غلط خیالی اور یہ غلط بیانی ان کے لئے اللہ تعالیٰ موجب حسرت و پشیمانی بنا دے کیونکہ تقدیر الٰہی کے منکروں کو ہر حادثہ پر یہی حسرت ہوتی ہے کہ ہاں اگر فلاں تدبیر اختیار کرتے تو شاید یہ کام ہوجاتا۔ چونکہ مرنے اور مارے جانے کا احتمال سفر میں بھی ہے اور جہاد میں بھی اس لئے ہم نے تسہیل میں چاروں باتیں عرض کردیں۔ اگرچہ عام طور پر سفر میں مرنے کا احتمال زیادہ ہے اور مارے جانے کا کم ہے جس طرح جہاد میں مارے جانے کا احتمال زیادہ ہے اور اپنی موت سے مرنے کا احتمال کم ہے۔
بعض حضرات نے لیجعل اللہ کا ترجمہ یوں کیا ہے کہ منافقوں کے اس کہنے کی غرض یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری باتوں سے ان مسلمانوں کے قلب میں حسرت و پشیمانی پیدا کر دے کہ یہ لوگ کہتے تو سچ ہیں واقعی اگر ہم مدینہ میں رہتے تو محفوظ رہتے مگر یہ معنی ذرا بعید ہیں اس لئے ہم نے لام کو لام عاقبت قرار دے کر ترجمہ کیا ہے۔ لیکون لھم عدوا و حزنا کا لام لام عاقبت ہے۔ (واللہ اعلم)
اب آگے منافقوں کی اس بات کا جواب ہے چناچہ ارشاد فرماتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayah 3:158ف 2 ورنہ حقیقت حال یہ ہے کہ جلاتا اور مارتا تو اللہ تعالیٰ ہی ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ وہ سب دیکھ رہا ہے اور تمہارا کوئی عقیدہ یا عمل اس سے پوشیدہ نہیں ہے اور اگر تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں مار دیئے جائو یا تم اپنی موت سے مر جائو تو یقینا اللہ تعالیٰ کی وہ بخشش جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے اور وہ مہربانی جو تم کو حاصل ہونیوالی ہے وہ مغفرت و رحمت یقینا دنیا کی ان چیزوں سے بدرجہا بہتر ہے جو چیزیں یہ کافر جمع کیا کرتے ہیں اور اگر تم ویسے بھی اپنی موت سے مرگئے یا مار دیئے گئے تب بھی کیا ہے۔
بہرحال تم سب یقینی طور پر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جمع کئے جائو گے اس سے بچ کر تو کہیں نہیں جاسکتے۔ (تیسیر)
ان منافقوں کا کہنا یہ تھا کہ سفر میں نہ جاتے اور جہاد میں شریک نہ ہوتے تو نہ مرتے اور نہ مارے جاتے۔ حضرت حق تعالیٰ نے جواب دیا کہ مارنے اور جلانے والا تو حقیقتاً اللہ تعالیٰ ہے بہت سے آدمی سفر سے اور جہاد سے زندہ آتے ہیں اور بہت سے گھر میں بیٹھے بیٹھے مرتے ہیں اور کبھی مار دیئے جاتے ہیں تو احیاء اور امانت تو خدا کے ہاتھ میں ہے خواہ کوئی سفر میں ہو یا حضر میں یا کوئی میدان جنگ میں ہو یا مجلس صلح میں بیٹھا ہو۔
دوسرا جواب یہ دیا کہ مرنا تو بہرال ہے پھر بجائے اس کے کہ گھر میں ایڑیاں رگڑ کر مرو اگر اللہ کی راہ میں تم شہید کردیئے جائو یا اپنی موت سے مر جائو اور اسی طرح سفر میں مر جائو یا مار دیئے جائو تو جو مغفرت اور رحمت اللہ تعالیٰ کی جانب سے میسر ہوگی وہ ان چیزوں سے بدرجہا بہتر ہے جو یہ کافر گھر میں بیٹھ کر جمع کرتے ہیں۔
اگر سفر سے مراد یہاں کسی نیک کام کا سفر ہو تب تو رحمت و مغفرت کے میسر آنے میں کوئی شبہ ہی نہیں اور قرینہ بھی اسی کا ہے کہ سفر سے مراد نیک سفر ہے لیکن اگر سفر مطلق بھی ہو اور قتل کردیا جائے یا اپنی موت سے مرجائے تب بھی غربت کی موت بہرحال قابل رحم ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ اول تو سفر اور جہاد کو موت میں کوئی خاص دخل نہیں اور نہ گھر میں بیٹھنے کی زندگی میں کوئی خاص دخل ہے بلکہ موت اور زندگی میں حقیقی دخل اللہ تعالیٰ کو ہے اور اگر فرض کرو کہ سفر کو اور جہاد کو کوئی دخل ہو بھی تب بھی سفر میں اور جہاد میں مرنا خدا تعالیٰ کی مغفرت اور رحمت کا موجب اور اس سے کہیں بہتر ہے۔ جو یہ لوگ جمع کرتے ہیں یعنی دنیا کے مال و متاع سے اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مغفرت بہت بہتر ہے ۔ اس لئے فرمایا کہ جو مال حلال سے حاصل کیا جائے اس میں بھی کچھ نہ کچھ بہتری ہوتی ہے۔
آخر میں فرمایا تم کسی طرح مرو یا مارے جائو ۔ تم سب کو خدا کی جناب میں حاضر ہونا ہے اور تم اسی کے روبرو جمع کئے جائو گے اس لئے اللہ تعالیٰ سے انس و محبت بڑھائو اور فراق سے نجات پائو اور یہ جو اوپر کی آیت میں فرمایا تھا۔ لیجعل اللہ ذلک حسرۃ ایک مطلب تو اس کا وہ تھا جو ہم عرض کرچکے ہیں اور ایک وہ ہے جو بعض اور لوگوں نے بیان کیا ہے اور ایک مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کے ماما توا وما قتلوا کہنے کا مطلب مسلمانوں سے کوئی ہمدردی کے طور پر نہ تھا بلکہ اس غرض سے تھا کہ مسلمان بزدل ہو کر بیٹھ جائیں اور جہاد میں نہ جایا کریں اور وہ بات پوری نہ سوئی اور مشتاقان جہاد باز نہ آئے اس لئے یہ کہنا ان کا ان کے حق میں اللہ تعالیٰ نے موجب حسرت کردیا اور اشد ندامت کا سبب کردیا اب اس توجیہہ کی شاید ضرورت نہ رہے کہ مئومنین سے کافروں کو ایسی کیا ہمدردی تھی جو انہوں نے یہ کہا پھر ہمدردی ثابت کرنے کے لئے مختلف توجیہات کی جائیں۔ (واللہ اعلم)
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی نیک کام پر نکلے اور مرگئے یا مارے گئے تو نکلنے پر افسوس نہ کرے اس میں انکار آتے ہے تقدیر کا اور آخرت کا نہ دیکھنا دنیا کے جینے کو دیکھنا یہ سب خصلت ہے کافروں کی ۔ (موضح القرآن)
شاہ صاحب کا مقصد بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ سفر سے مراد ان کے نزدیک نیک سفر ہے (واللہ علم) اب آگے نبی کریم ﷺ سے خطاب ہے اور صحابہ کو معاف فرما دینے کے بعد حضور ﷺ کو حکم ہے کہ میں نے ان کو معاف کردیا تم بھی اپنا حق ان کو معاف کردو۔ (تسہیل)
Ayah 3:159ف 1 باوجود اس کے کہ ان لوگوں سے کچھ کوتاہیاں ہوئیں پھر بھی اللہ تعالیٰ کی آپ پر اور مسلمانوں پر یہ مہربانی ہے کہ آپ ان کے حق میں نرم دل واقع ہوئے اور ان پر نرم دل رہے اور ان کو کوئی ملامت نہیں کی اور اگر آپ کہیں تند خو اور سخت دل ہوتے تو بات بات پر سخت گیری فرماتے تو یہ کبھی کے آپ کے پاس منتشر ہوچکے ہوتے پھر جب آپ کا برتائو ان سے مہربانی آمیز رہا اور آپ نے ان کی لغزش پر ان کو کچھ نہیں فرمایا تو اپنا حق ان کو دل سے بھی معاف کردیجیے اور زبان سے بھی ان کے لئے استغفار کردیجیے تاکہ ان کے لئے زیادہ موجب شفقت اور تسلی خاطر کا سبب ہو اور آئندہ بھی بدستور ان سے اہم اور مخصوص باتوں میں مشورہ کرتے رہا کیجیے یعنی ان باتوں میں جن میں وحی نازل نہ ہوئی ہو پھر جب مشورہ کرنے کے بعد کسی جانب پختہ رائے قائم کرلیں تو خدا تعالیٰ پر بھروسہ اور اعتماد کر کے اس کام کو کرلیا کیجیے بلاشبہ اللہ تعالیٰ ایسے توکل کرنیوالوں کو پسند فرماتا ہے جو مشورے کی برکت بھی حاصل کرلیں اور اللہ تعالیٰ پر تو کل بھی رکھیں۔
مطلب یہ ہے کہ حضرت حق کی آپ پر اور آپ کی امت پر یہ مہربانی ہے کہ ان کے حق میں آپ قدرتی طور پر نرم واقع ہوئے ہیں۔ چناچہ باوجود اس کے کہ ان کی غلطی اور کوتاہی سے آپ کو تکلیف پہنچی اور آپ اگر چاہتے تو ان کو ملامت کرسکتے تھے لیکن آپ نے ضبط سے کام لیا اور ان کو ایک لفظ نہیں کہا اگر آپ خدانخواستہ کہیں تند خو اور سخت قلب ہوتے تو یہ لوگ بکھر جاتے اور آپ کے فیوض و برکات سے محروم ہوجاتے اور پھر خدا جانے کس ہلاکت کے گڑھے میں ج اگر تے۔ (تیسیر)
یہ ہوسکتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی اس سیاسی اور بین الاقوامی غلطی پر ناراض ہوں اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو سمجھانے کا ایک عجیب و غریب عنوان مقرر کیا آپ کے اخلاق کی تعریف فرمائی اور تند خوئی کے نقصانات ظاہر فرمائے اور یہ بھی فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے اگر اس کی رحمت نہ ہوتی تو آپ کی امت اس طرح آپ سے مستفیض نہ ہوتی اس کے بعد سفارش فرمائی کہ ہم نے تو ان کو معاف فرما دیا اب تم اپنا حق ان کو معاف کردو اور اللہ تعالیٰ سے ان کے لئے استغفار بھی کردو تاکہ ان کے ساتھ آپ کی شفقت و مہربانی کی تکمیل ہوجائے اور ان کو اطمینان اور تسلی ہوجائے پھر آئندہ کے لئے ایک ضابطہ بھی تعلیم کردیا کہ جن امور میں اللہ تعالیٰ کی وحی آجائے اس میں تو کسی سے پوچھنے گچھ کرنے کی ضرورت نہیں البتہ دیگر امور میں ان سے دبستور مشورے کرتے رہا کیجیے کیونکہ ان کا دل بھی خوش ہوگا اور ہر ایک کی رائے بھی معلوم ہوجائے گی اور امت کے لئے یہ موجب رحمت ہوگا۔
جیسا کہ قتادہ سے منقول ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جب یہ آیت اتری تو فرمایا اللہ اور اس کے رسول کو تو مشورے کی ضرورت نہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے اس باہمی مشاورت کو میری امت کے لئے ایک رحمت بنایا ہے۔
عبدالرحمان ابن غنم سے منقول ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر سے فرمایا اگر تم دونوں کسی مشورے پر متفق ہو جائو تو میں اس کے خلاف نہ کروں یعنی میری یہ خواہش ہے کہ تم دونوں کے متفقہ مشورے کی مخالفت نہ کروں اور چونکہ نبی کریم ﷺ کی عادت عادت مشورے کی تھی اس لئے ہم نے بدستور عرض کیا ہے۔
جیسا کہ آپ نے احد جنگ میں مدینہ سے نکلنے نہ نکلنے کا مشورہ کیا پھر یہ مشورہ کیا کہ فوجوں کا پڑائو کہاں ہو غزوئہ احزاب میں مشورہ کیا غزوئہ حدیبیہ میں مشورہ کیا حضرت عائشہ ؓ کے بارے میں اور تہمت لگانے والوں کے بارے میں مشورہ کیا چونکہ آپ ہمیشہ مشورہ فرماتے تھے اس لئے حضرت حق نے فرمایا کہ ان کی غلطی سے متاثر ہو کر مشورہ بند نہ کردینا بلکہ بدستور مشورہ کرتے رہنا۔
پھر آگے ایک اور ضابطہ فرمایا کہ جب آپ ایک رائے قائم کرلیں اور پختہ ارادہ کرلیں تو خدا پر بھروسہ کر کے اس کام کو کر ڈالئے نبی کریم ﷺ کے مشورہ اور آپ کی مشاورت کے بارے میں علمآء کے چند قول ہیں ۔ (1) مشورہ کرنے کا حکم آپ کو وجوبی تھا (2) مشورہ کرنے کا حکم محض ندبی تھا (3) مشورہ محض خوشنوید مسلمین کی غرض سے تھا اور نہ اصل میں آپ کسی کی رائے کے پابند نہ تھے آپ کی آخری رائے اور آپ کا عزم کسی کی رائے کے مخالف ہو یا موافق آپ ہی کا عزم ہر اعتبار سے واجب الاتباع تھا جیسا کہ خود حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کو کسی کے مشورے کی حاجت نہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے اس باہمی مشاورت کو میری امت کے لئے رحمت بنایا ہے۔
(4) حضرت عبداللہ بن عباس کا قول ہے کہ وشاورھم سے مراد ابوبکر اور عمر ہیں۔ روایت کے دور سے الفاظ یہ ہیں کہ یہ آیت ابوبکر اور عمر کے بارے میں اتری یہ دونوں آپ کے وزیر تھے اور سب مسلمانوں کے باپ تھے۔
(5) حضرت علی ابن ابی طالب سے مرفوعاً روایت ہے کہ حضرت سے کسی نے دریافت کیا یا رسول اللہ ﷺ عزم کیا ہے۔ آپ نے فرمایا اہل رائے سے مشورہ لینا اور ان کی رائے اور ان کے کہنے پر چلنا (ابن مردویہ)
خلاصہ یہ ہے کہ آج کل کی یورپین جمہوریت کا اس آیت میں کوئی سامان نہیں ہے اور چونکہ نبی اکرم ﷺ خود واجب الاتباع تھے۔ اس واسطے آپ پر کسی کی رائے کا اتباع لازم نہ ہو اور ابوبکر اور عمر سے مشورہ کرنا بھی آپ کے لئے استحبابی ہوا اور آپ کسی اقلیت اور اکثریت کی رائے کے تابع نہ تھے۔
بہرحال آپ مشورہ تو کیا ہی کرتے تھے اب اور زیادہ تاکید فرمائی تاکہ مسلمان یہ نہ سمجھیں کہ آپ کا دل رنیجد ہے جو ہم سے آپ ﷺ نے مشورہ ترک کردیا آپ ﷺ کی مبارک عادت تو یہ تھی کہ اپنے دئے ہوئے مشورے پر بھی کسی کو عمل کرنے کے لئے مجبور نہیں کرتے تھے۔
جیسا کہ بریرہ اور مغیث کے قصہ میں مشہور ہے اور یہی وہ آزادی رائے ہے جس کو اسلام کا طغرائے امتیاز کہا جاتا ہے ہم نے جو کہا کہ اس آیت میں موجودہ جمہوریت کا سامان نہیں ہے۔ یہ اس لئے کہ یہ محض کافروں کی وضع کی ہوئی جمہوریت ہے کہ مسئلہ کی اہمیت پر بحث نہ ہو اور احمقوں کی رائے سے ایک چیز پاس کردی جائے اس لعنتی جمہوریت کے کرشمے ہم برسوں سے دیکھ رہے ہیں۔
بعض دفعہ بہترین مفاد کی چیز گر جاتی ہے اور مخصوص طبقہ کے مفاد کی چیز پاس ہوجاتی ہے اسلام کی جمہوریت اس سے بدرجہا بلند ہے اس میں رائے کی آزادی ہے سوچنے سمجھنے کا موقعہ ہے۔ اہم معاملات میں اگرچہ رائے کی تعمیم نہیں ہے لیکن اہل الرائے سے رائے لیا جانا ضروری ہے۔ پھر آخری فیصلہ امام کے ہاتھ میں ہے ات کہ جماعتی نظم قائم رہے۔ یہ نہ سمجھا جائے جیسا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس صورت میں مشاورت بیکار ہوجائے گی یہ بات صحیح نہیں ہے بلکہ مشورے سے بہت تقویت اور بڑی مدد ملتی ہے اور یہ تو اختلاف کی شکل میں ہے ورنہ حضرت علی کی مرفوع روایت سے معلوم ہوچکا ہے کہ اہل الرائے حضرات کی رائے کا اتباع کیا جائے اور رہا یہ امر کہ حضرت عمر نے انتخاب خلافت کے لئے جو سب کمیٹی بنائی تھی اس میں غالباً حضرت عبدالرحمٰن بن عوف کے متعلق یہ فیصلہ کردیا تھا کہ اختلاف کی شکل میں جس پارٹی کی طرف عبدالرحمٰن کی رائے ہو اس پارٹی کے فیصلے کو ترجیح دی جائے۔
جیسا کہ طبقات میں ابن سعد نے کہا ہے تو یہ حضرت عمر نے اپنے حق کا استعمال کیا اور چونکہ وہی کمیٹی کے ممبر نامزد کر رہے تھے اس لئے انہی کو یہ شرط لگانے کا بھی حق تھا کہ اگر دونوں طرف کمیٹی کے ممبر برابر ہوجائیں تو جس طرف عبدالرحمان بن عوف ہوں اس کی رائے راجح مانی جائے جس کو آج کل کا سٹنگ ووٹ کہتے ہیں اس سے ملتی جلتی شکل سمجھ لیجیے۔
یہاں آیت کا یہ مطلب ہے کہ مسلمانوں سے مشورہ کرتے رہا کیجیے تاکہ ان کو خوشی ہو سب کی سن کر عام جذبات کا اندازہ ہوجائے رائے عامہ کی واقفیت کا فائدہ پہنچے اور آپ کی جانب استبداد رائے کا شبہ نہ کیا جائے۔ پھر جب مشورہ کے بعد خواہ وہ حسب ضرورت عوام سے ہو یا خواص سے آپ ایک قطعی فیصلہ کرلیں اور آخری رائے قائم کرلیں تو جو چیز آپ کے نزدیک بہتر اور مفید ہو اس کو کر لیجیے اور اس کے کرتے وقت خدا پر توکل اور اسی پر بھروسہ کیجیے کیونکہ وہی جانتا ہے کہ بہتر اور مفید کیا ہے اور خیر کس میں ہے یہ بات نہ آپ جانتے ہیں اور نہ مشورہ دینے والے جانتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔
اس لئے تم اپنا معاملہ اسی کے سپرد کردو، بلاشبہ اللہ تعالیٰ ایسے توکل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے مشورہ کرنے اور عزم کرنے کے بعد پھر توکل کا حکم دینا اس بات کی دلیل ہے کہ تدبیر کے باوجود توکل کرنا چاہئے اور تدبیر کے ساتھ ساتھ خدا پر اعتماد کرنا ضروری ہے اور جن لوگوں نے توکل کا مطلب یہ سمجھ رکھا ہے کہ انسان تدبیر نہ کرے اور اپنے کو مہمل چھوڑ دے اور اپنے کو متوکل سمجھے یہ طریقہ غلط ہے البتہ اگر کوئی قوی القلب ہو اور تدبیر ظنی ہو تو ایسی حالت میں تدبیر کا ترک کردینا جائز ہے البتہ اگر تدبیر محض دہمی ہو تو ایسی تدبیر کا ترک کردینا ضروری ہے اور اگر وہ تدبیر دینی ہے تو اس کا ترک قابل مذمت ہے اور اگر تدبیر دنیوی ہو اور اس کا مفید ہونا عادتاً یقینی ہو تو اس کا ترک بھی ناجائز ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ تدبیر توکل کے منافی نہیں البتہ تدبیر کی مختلف قسمیں ہیں اور اسی طرح لوگوں کے قلب کی حالت بھی مختلف ہے جس مرتبہ کا آدمی ہو اور جیسی تدبیر ہو اس کے موافق عمل کرے یہ بحث بہت وسیع ہے جس پر انشاء اللہ آئندہ کسی موقعہ پر تبصرہ کیا جائے گا۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں شاید حضرت کا دل خفا ہوا ہوگا اور چاہا ہوگا کہ اب سے ان کی مشورت نہ پوچھیے، سو حق تعالیٰ نے سفارش کی اور فرمایا کہ اول مشورت لینی بہتر ہے جب ایک بات ٹھہرا چکے پھر پس و پیش نہ کرئیے۔ (موضح القرآن)
اب آگے توکل کی عام تاکید اور اپنی مدد کا اظہار فرماتے ہیں جس طرح اوپر فرمایا تھا وما النصر الا من عند اللہ اسی کی تفصیل آگے مذکور ہے چناچہ ارشاد ہتا ہے ۔ (تسہیل)
Ayah 3:160ف 2 اگر اللہ تعالیٰ تمہاری مدد فرمائے اور تمہارے ساتھ دے تو تم پر کوئی فتح حاصل نہیں کرسکتا اور کوئی تم پر غالب آنے والا نہیں اور اگر وہ تمہارا ساتھ نہ دے اور تم سے اپنا ہاتھ اٹھا لے تو دوسرا ایسا کون ہے جو اس کے دستکش ہوئے، پیچھے تمہاری مدد کرسکے اور تمہارا ساتھ دیکر تم کو غالب کرسکے لہٰذا مسلمانوں کو صرف اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہئے۔ (تیسیر)
آیت میں مسلمانوں کو تسلی دینا اور شکست کی وحشت کو دور کرنا مقصود ہے اور یہ بتانا مقصود ہے کہ تم کسی کے بہکانے میں نہ آئو کامیابی اور کامرانی ہوتی ہے تو ہماری مدد سے اور شکست و ناکامی ہوتی ہے تو ہماری سرپرستی اور ساتھ چھوڑ دینے سے ہوتی ہے اور جب تمام امور میں اصل دار و مدار ہماری ہی ذات ہے تو مسلمان کو چاہئے کہ وہ اللہ ہی پر بھروسہ رکھا کریں کیونکہ ہمارے سوا کوئی ان کی مدد اور حمایت کرنے والا نہیں۔
اوپر کی آیت میں پیغمبر کو توکل کا حکم تھا اس آیت میں عام مسلمانوں کو وہی حکم ہے۔ توکل کے معنی ہیں اپنے کام کو اللہ کے سپرد کردینا۔
اب آگے نبی کریم ﷺ کی دیانت و امانت کا اظہار فرماتے ہیں کیونکہ جب پیغمبر سے ہم نے تمہارا قصور معاف کرا دیا تو اب تم بھی ان باتوں سے توبہ کرو اور آئندہ کے لئے احتیاط کرو جو بلا وجہ کی کبھی کبھی بدگمانی کر بیٹھتے ہو اور پیغمبر کی شان میں کوئی نا مناسب اور نازیبا بات کہہ بیٹھتے ہو مثلاً اسی جنگ میں تم گھاٹی کو مال غنیمت کے شوق میں چھوڑ نکلے اور یہ سمجھے کہ غنیمت کے مال میں کہیں پیغمبر تمہارے حق میں خیانت نہ کرلے اس لئے چلو خود ہی چل کر قبضہ کریں اس قسم کے رکیک خیالات کا آئندہ اعادہ نہ ہو اور نبی کی شان کو پوری طرح سمجھو اس کی ذات بنی نوع انسان کے لئے ایک رحمت ہے اور وہ تو تم کو اعلیٰ مرتبے کا انسان بنانے کے لئے تشریف لائے ہیں اس لئے ان کی مقدس ذات اور ان کے مرتبے کے بارے میں پورے ہوشیار ہو اور پوری طرح ان کے ادب و احترام کو محلوظ رکھو چناچہ ارشاد فرماتے ہیں۔ (تسہیل)