Ayah 3:99ف 2 اے نبی آپ ان اہل کتاب سے یہ بھی فرمائیے کہ اے اہل کتاب تم ایسے شخص کو اللہ کی راہ سے جو ایمان لائے کیوں روکتے ہو اور اس شخص کو جو ایمان لا چکا ہو کیوں اللہ کی راہ سے ہٹاتے ہو اور تمہاری حالت یہ ہے کہ تم اس راہ میں کجی اور عیب نکالنے کی تلاش میں لگے رہتے ہو حالانکہ تم خود ان حرکات کے مذموم ہونے کو جانتے ہو اور سبیل اللہ کے راہ راست ہونے پر گواہ ہو اور اس راہ کی حقانیت سے باخبر ہو اور اللہ تعالیٰ ان کاموں سے جو تم کیا کرتے ہو غافل اور بیخبر نہیں ہے۔ (تیسیر)
اللہ کی راہ سے مراد اسلام ہے چونکہ اہل کتاب ان لوگوں کو جو مسلمان ہوجاتے تھے مرتد کرنے کی کوشش کرتے تھے جو ایمان لانے والے ہوتے تھے ان کو بہکا کر ایمان لانے سے روکتے تھے اس لئے ہم نے تیسیر میں اس کا لحاظ رکھ کر وضاحت کی ہے۔ اللہ کی راہ سے روکنے میں اغوا کے تمام طریقے داخل ہیں خواہ وہ تخویف و ترغیب ہو یا آسمانی کتابوں میں لفظی اور معنوی تحریف ہو یا کوئی اور طریقہ گمراہ کرنے کا جو سب کو روکنا اور ہٹانا شامل ہے۔
عوجا مفعول بہ ہے اور مفعول لہٗ بھی ہوسکتا ہے ہم نے پہلی صورت اختیار کی ہے۔ کجی ڈھونڈنے کا مطلب یہ ہے کہ اسلام میں عیب اور نقص تلاش کرتے رہتے ہیں اور مختلف طریقوں سے اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ کرتے رہتے ہیں۔ راہ کی وجہ سے عوج فرمایا کیونکہ ٹیڑھا اور کج ہونا راستہ کیلئے موزوں اور مناسب ہے۔ وانتم شھداء کا مطلب ہم نے تیسر میں واضح میں واضح کردیا ہے۔ یعنی اپنی حرکات کی قباحت اور اسلام کی صداقت سے باخبر ہو۔ اور یہ جو فرمایا کہ تمہارے کاموں سے اللہ تعالیٰ غافل نہیں ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سے ڈرتے رہو اور ان حرکات سے باز آئو ورنہ تم کو سخت سزا دی جائے گی۔ اہل کتاب کے اعمال قبیحہ پر تنقید کرنے کے بعد مسلمانوں کو فہمائش کی جاتی ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 3:100ف 3 اے ایمان والو اگر تم نے ان لوگوں میں سے کسی فرقہ کی بات مانی جن کو کتاب دی گئی ہے یعنی اہل کتاب میں سے کسی فریق کا کہنا مانا تو وہ لوگ تم کو تمہارے ایمان لانے کے پیچھے پھر کافر بنادیں گے اور کفر پر تم کو لوٹا دیں گے۔ (تیسیر)
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے شبہوں کا جواب دے کہ مسلمانوں کو فرمایا کہ ان کی بات مت سنو یہی علاج ہے نہیں تو شبہے سنتے سنتے اپنی راہ سے نکل جائو گے اب بھی ہر مسلمان کو چاہئے کہ شبہے والوں کی بات نہ سنے اس میں دین کی تل امتی ہے اور جھگڑنے سے شبہے بڑھتے ہیں۔ (موضح القرآن)
مطلب یہ ہے کہ کوئی پارٹی ہو خواہ شماس ابن قیس کا گروہ ہو یا کوئی اور فریق ہو تمہاری دشمنی میں سب برابر ہیں اگر کسی فریق کا کہنا مانو گے تو وہ تم کو تمہارے مسلمان ہونے کے بعد پھر کافر بنادیں گے۔ یہ کفر اعتقاداً ہو یا عملاً ہو۔ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے بدگمان ہو جائو اور اعتقاداً کافر بن جائو یا کسی اور کفر کے کام میں مبتلا ہو جائو جیسے ابھی باہم قتل و قتال پر آمادہ ہوگئے تھے اور زمانہ جاہلیت کا مرض عود کر آیا تھا وہ تو ہمارے رسول ﷺ کی بروقت توجہ سے معاملہ ٹل گیا ورنہ ابھی آپس میں کشت و خون کا بازار گرم ہوگیا تھا۔ صحابہ ؓ کا یہ فرمانا بالکل صحیح ہے کہ ہم نے کوئی دن ایسا نہیں دیکھا جس کا ابتدائی حصہ انتہائی خطرناک اور قبیح ہو اور اس کا آخری حصہ نہایت بہتر اور عمدہ ہو۔ یعنی صبح کو مسلمان شماس بن قیس کے دائو میں آگئے اور باہم جنگ کے لئے آمادہ ہوگئے اور شام کو نبی کریم ﷺ کے سمجھانے سے انہوں نے اپنی غلطی کا اعتراف کرلیا اور آپس میں گلے مل گئے اور سب بھائی بھائی ہوگئے۔
بہرحال قرآن کریم نے اس موقع پر ایک ضابطہ مقرر کردیا اور بتادیا کہ اہل کتاب کی باتوں میں نہ آئو اور کسی فریق کا کہنا نہ مانو ورنہ یہ لوگ پھر تم کو کفر کی طرف پھیر دیں گے۔
ہم نے شان نزول کی رعایت سے کفر میں تعمیم کردی تاکہ کفر اعتقادی اور کفر عملی دونوں کو ہماری تفسیر شامل ہوجائے۔ یہ ضابطہ جو اس آیت میں بیان کیا گیا ہے ہر موقعہ کے لئے مفید اور مشعل راہ ہے۔ مسلمانوں کو ہمیشہ اہل باطل اور اہل شکوک و شبہات کی باتوں سے الگ رہنا چاہئے۔
جیسا کہ حضرت شاہ صاحب (رح) نے فرمایا ہے سلامتی اور عافیت اسی میں سے ورنہ طبعاً جب انسان بار بار ایک بات کو سنتا ہے تو اس سے متاثر ہوجاتا ہے۔ آگے مسلمانوں کو تسلی اور ان پر اطمینان کا اظہار ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 3:101–102ف 4 اور بھلا تم کفر کی روش کس طرح اختیار کرسکتے ہو۔ حالانکہ تم کو اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں اور تم میں اللہ تعالیٰ کا رسول موجود ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کو یعنی اس کے دین کو مضبوط پکڑتا ہے تو یقیناً ایسا شخص راہ راست اور صراط مستقیم کی جانب رہنمائی کیا جاتا ہے۔
اعتصام کسی چیز کو مضبوط پکڑنا۔ اللہ تعالیٰ کو مضبوطی کے ساتھ پکڑنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے دین کو مضبوط پکڑنا یا کتاب کو مضبوط پکڑنا یا ایمان کو مضبوط پکڑنا یا یہ کہ ماسویٰ اللہ سے یکسو ہو کر صرف اللہ پر توکل کرنا اور اللہ سے تعلق قائم رکھنا۔ آیات اللہ سے مراد احکام الٰہی یا قرآن ہے رسول اللہ سے مراد حضرت محمد ﷺ ہیں۔ آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ مسلمانو ! تم کو یہ کس طرح جائز ہوسکتا ہے کہ اللہ کا رسول تم میں موجود ہے قرآن کی تم پر تلاوت کی جاتی ہے۔ ایسی حالت میں کہ قرآن و پیغمبر تم میں موجود ہو اور پھر تم عملاً یا اعتقاداً کفر کی طرف مائل ہو جائو اور کافرانہ روش اختیار کرنے پر آمادہ ہو جائو۔ کیونکہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق مضبوط رکھتا ہے تو اس کو راہ راست پر قائم رہنے کی توفیق نصیب ہوتی ہے اور اس کو راہ راست کی ہدایت کی جاتی ہے۔
اس آیت میں جن مسلمانوں کو خطاب ہے وہ صحابہ ؓ ہیں کیونکہ اس زمانے میں قرآن اور رسول دونوں موجود تھے اور چونکہ قرآن قیامت تک مسلمانوں میں باقی رہنے والا ہے اور اسی طرح نبی کریم ﷺ کی روحانیت اور آپ کی رحمت بھی قیامت تک سایۂ افگن ہے اس لئے حضرات صحابہ کے علاوہ عام مسلمان بھی مراد لئے جاسکتے ہیں۔ (واللہ اعلم)
اب آگے مسلمانوں کو تقوے اور پرہیزگاری کی تاکید ہے اور احسانات خداوندی کو یاد دلانا ہے اور مسلمانوں کو باہمی خانہ جنگی کی ممانعت اور باہمی تفریق کے نقصانات سے آگاہ کرنا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 3:103ف 1 اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ سے ایسا ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور دیکھو تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو یعنی حالت اسلام ہی پر دم نکلے اور تم سب باہم متفق ہو کر اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوط پکڑے رہو اور آپس میں نااتفاقی اور پھوٹ نہ ڈالو اور حق سے جدا نہ ہو جائو اور اللہ تعالیٰ کے اس احسان کو یاد کرو جو اس نے تم پر کیا ہے جبکہ تم آپس میں ایک دوسرے کے دشمن تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے تمہارے دلوں میں الفت و محبت ڈال دی سو تم اس کے فضل کی بدولت بھائی بھائی ہوگئے اور تم لوگ دوزخ کے گڑھے کے کنارے پر کھڑے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے تم کو اس گڑھے سے بچا لیا۔
تقویٰ کی تفصیل ہم پہلے پارے میں کرچکے ہیں کہ تقویٰ کے مختلف مدارج ہیں۔ کم سے کم یہ کہ شرک سے بچنا ہو اور زیادہ سے زیادہ یہ کہ ہر قسم کے گناہ سے بچنا ہو اور ہر نیکی کو بجا لاتا ہو۔
یہاں حق تقتہ سے تقویٰ کا وہی اعلیٰ درجہ مراد ہے یہ مطلب نہیں ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال کا حق ہے کیونکہ اس کی عظمت کا حق کون ادا کرسکتا ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ جو حق ادا کرنے کا تم پر عائد ہوتا ہے اس کو پورا کردو یعنی کفر و شرک سے جس طرح بچنا ضروری ہے اسی طرح تمام گناہوں سے بچو اور جیسا کہ آپس میں لڑنے کو تیار ہوگئے تھے اور مسلمان مسلمان کو قتل کرنے پر آمادہ ہوگیا تھا ایسا آئندہ نہ کرو کیونکہ یہ حق تقتبہ کے منافی ہے۔
مسلمون سے مراد یہاں مخلصون اور کمال ایمان ہے چونکہ اوپر تقویٰ میں حق تقتہ کی قید لگائی تھی اس لئے مطلب یہ ہے کہ مرد تو ایسی حالت میں مرنا کہ کامل اور مخلص مسلمان ہو کیونکہ کمال تقویٰ کمال اخلاص کی دلیل ہے۔
اب آیت کا خلاصہ یہ ہوگا کہ مسلمانو ! تقویٰ کا بلند مرتبہ اختیار کرو اور اس پر آخر دم تک قائم رہو یہاں تک کہ جب مرد تو ایسی حالت پر مرد اس حالت کے علاوہ اور کسی حالت پر تم کو موت نہ آئے۔ اس تقریر کے بعد جو ہم نے عرض کی ہے فاتقوا اللہ ما استطعتم کی آیت کو اس آیت کا ناسخ قرار دینے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ بندے پر جو تقویٰ کا حق عائد ہوتا ہے وہ استطاعت میں داخل ہے۔
(واللہ اعلم) تقویٰ اور موت علی الاخلاص کی تاکید کے بعد ارشاد فرمایا کہ اللہ کی رسی کو باہم متفق اور متحد ہو کر مضبوط پکڑے رہو اور ایک دوسرے سے الگ الگ نہ ہو جائو۔ اللہ کی رسی سے مراد قرآن یا ایمان یا عہد خداوندی یا اعتماد علی اللہ وغیرہ مراد ہے اسی کا استعمال بطور استعارہ کیا گیا ہے۔ جس طرح رسی پکڑ کر چلنے سے انسان محفوظ رہتا ہے اور خطر سے بچا رہتا ہے۔ جیسا کہ عام طور سے دیکھا جاتا ہے کہ دونوں طرف رسی کے دونوں سرے بندھے ہوئے ہوں تو لوگ رسی کو پکڑ کے بےخوف و خطر اترتے چڑھتے ہیں یہاں چونکہ قوموں کی ہدایت اور ثابت قدمی کا معاملہ ہے اس لئے فرمایا کہ تم سب متفق ہو کر قرآن کو مضبوطی کے ساتھ پکڑے رہو یا اللہ کے اعتماد کی رسی کو مضبوط پکڑو۔
یا خدا سے جو عہد کیا ہے اس پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہو۔ یا اس سلسلے کو جو تمہارے اور تمہارے رب کے درمیان ہے اس کو مضبوطی کے ساتھ پکڑے رہو خواہ وہ قرآن ہو یا اسلام ہو تاکہ تم بلاخوف و خطر اپنی راہ پر سلامتی کے ساتھ گزر جائو اور منزل مقصود تک پہنچ جائو اور راستے کی گمراہیوں سے محفوظ رہو، اس حکم کے بعد پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے احسان کی طرف توجہ دلائی کہ دیکھو اسلام سے پہلے تم لوگ آپس میں کیسے ایک دوسرے کے جانی دشمن تھے۔ اوس اور خزرج کا ہی صرف معاملہ نہیں ہے بلکہ تمام عرب ایک دوسرے سے برسرپیکار تھے اور تم سب باہم رقابتی جنگ میں مبتلا تھے مگر اللہ تعالیٰ نے تم پر یہ احسان فرمایا کہ تمہارے قلوب میں باہم الفت و محبت ڈال دی اور اسلام قبول کرتے ہی تم سب آپس میں بھائی بھائی ہوگئے اور اللہ تعالیٰ کے فضل و انعام سے جو الفت و محبت کی شکل اختیار کی گئی اس سے باہمی رقابتیں اور عداوتیں ختم ہوگئیں اور قومی زندگی میں یہ بات اگر کسی قوم کو میسر ہوجائے کہ اس کے افراد باہم متفق و متحد اور باہمی آویزش سے پاک ہوں تو یہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت اور اس کا بہت بڑا فضل ہے اس کے بعد ایک اور احسان کی جانب توجہ دلائی جو حقیقتاً اس احسان مذکور کی بنیاد ہے اور یہ الفت و محبت انہی کی وجہ سے حاصل ہوتی ہے وہ یہ کہ تم لوگ ایک آگ کے بھرے ہوئے گڑھے کے بالکل کنارے پر کھڑے تھے اور اس گڑھے میں گرنے والے ہی تھے مگر اللہ تعالیٰ نے تم کو اس سے بچا لیا یعنی تم لوگ کفر و شرک میں مبتلا تھے اور جاہلانہ گمراہیوں نے تم پر گھیرا ڈال رکھا تھا اور یہ چیزیں دوزخ میں گر جانے کا سبب اور جہنم میں جانے کی علت تھیں مگر اللہ تعالیٰ نے تم کو اسلام کی بدولت اس گڑھے میں گرنے سے بچا لیا اور اسلام قبول کرنے کی برکت سے وہ سبب زائل ہوگیا۔ لہٰذا اب تم ایسی حرکات کے مرتکب نہ ہو کر جو سبب زائل ہوا تھا خدانخواستہ کہیں وہ پھر عود کر آئے۔ اگر اسلام کے بعد اور الفت و محبت جو تمہارے قلوب میں پیدا کردی گئی ہے اس کے بعد زمانہ جاہلیت کی طرح پھر آپس میں لڑو گے اور ایک دوسرے کا گلا کاٹو گے تو وہ نعمت سلب ہوجائے گی اور یہ الفاظ و محبت زائل ہوجائے گی اور کبائر کے ارتکاب سے اسلام کی نعمت اگر زائل نہ بھی ہوگی تو مضمحل تو ضرور ہوجائے گی۔
فانقذکم منھا کی ضمیر کا مرجع گڑھا بھی ہوسکتا ہے آگ بھی ہوسکتی ہے اور کفارہ بھی ہوسکتا ہے ہم نے ایک صورت اختیار کرلیا ہے۔
ولا تفرقوا کے بھی کئی معنی ہیں۔ ہم نے تیسیر میں وضاحت کردی ہے۔ مطلب آپس کی تفریق سے روکنا ہے یا امر حق سے کٹ کر علیحدہ ہوجانے کی ممانعت ہے۔ جیسا کہ بکثرت احادیث میں اس کی ممانعت آئی ہے اور اہل حق کی جماعت کے ساتھ رہنے اور امام کا ساتھ دینے کی تاکید منقول ہے۔
حضرت ابوہریرہ سے امام احمد اور امام مسلم نے نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری تین باتوں کو پسند کرتا ہے اور تین باتوں سے ناراض ہوتا ہے اور تم پر غصے ہوتا ہے۔ پسندیدہ تین باتیں یہ ہیں۔
(1) اللہ کی بندگی کرنا اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا۔
(2) اللہ کی رسی کو متفق و متحد ہو کر مضبوط پکڑے رہنا۔
(3) جو مسلمان والی مقرر ہوجائے اس کی خیر خوایہ کرنا۔
جن تین باتوں پر وہ غضب ناک ہوتے ہیں۔ وہ یہ ہیں۔
(1) بےکار قیل و قال کرنا۔
(2) مال کو ضائع کرنا۔
(3) بکثرت اور بلاضرورت سوال کرنا۔
غرض اہل حق کی جماعت سے جدا نہیں ہونا چاہئے ورنہ شیطان اچک لے گا۔ جیسا کہ بھیڑیا اس بکری کو آسانی سے لے بھاگتا ہے جو اپنے ریوڑ سے علیحدہ ہوجاتی ہے۔ یہ مضمون بھی حضرت معاذ بن جبل کی روایت کا ہے جس کو امام احمد نے نقل کیا ہے اس کے بعد اپنے دلائل کی عمومیت کا اظہار فرماتے ہیں ۔ (تسہیل)
2 جس طرح اللہ تعالیٰ نے یہ احکام مذکور جو اوپر واضح طور پر بیان فرمائے ہیں اسی طرح اپنے اور احکام بھی وہ واضح اور صاف صاف طور پر بیان کرتا رہتا ہے تاکہ تم راہ راست پر ثابت قدم رہو۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ایک مجلس میں مسلمان اور یہود تھے یہود نے مسلمانوں کو آپس میں لڑا دیا اور قریب ہوا کہ شمشیر چلے۔ حضرت آپ وہاں پہنچے اور صلح کرا دی۔ لڑا دیا اس طرح کہ مدینے کے لوگ دو فرقے تھے۔ اسلام سے پہلے آپس میں لڑ چکے تھے اور دونوں طرف لوگ بہت مرے تھے اس وقت یہود نے دونوں کو وہی لڑائی یاد دلا کر غصہ چڑھایا اور لڑا دیا۔ حق تعالیٰ مسلمانوں کو خبردار کرتا ہے کہ نہ بہکو اور آپس کا اتفاق نعمت سمجھو اور یہود کی طرح پھوٹ کر خراب نہ ہو۔ (موضح القرآن)
حضرت شاہ صاحب (رح) نے اسی شماس بن قیس کی شرارت اور فتنہ جوئی کی طرف اشارہ فرمایا ہے جس سے اوس اور خزرج کو لڑانے کا سامان کیا تھا۔
بہرحال اوپر کی آیتوں میں کفار کی گمراہی اور خدا کی راہ سے روکنے کی مذمت تھی پھر مسلمانوں کو صحیح راہ پر قائم رہنے کا حکم تھا۔
اب آگے کی آیت میں مسلمانوں کو یہ حکم دیا جاتا ہے کہ وہ دوسروں کو بھی تبلیغ کیا کریں اور دوسروں کو بھی صحیح راہ دکھانے اور بتانے کا فریضہ انجام دیا کریں۔ چونکہ اسلام ایک عالمگیر حقانیت کا داعی ہے لہٰذا دوسروں کو اس کی دعوت دینا ضروری ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 3:104–106ف 3 اور تم میں مبلغین اور داعین الی الحق کی ایک ایسی جماعت ضرور ہونی چاہئے جو دوسرے لوگوں کو خیر اور بھلائی کی طرف دعوت دیا کریں اور اس جماعت کے لوگ دوسروں کو بھلے کام کرنے کا حکم دیا کریں اور برے کاموں سے ان کو منع کیا کریں اور ایسے ہی لوگ جو تبلیغ کا فریضہ ادا کریں گے اپنے مقصد میں کامیاب ہونے والے ہیں۔ (تیسیر)
خیر سے ہر قسم کی صلاح مراد ہے خواہ وہ عقائد کی درستی ہو یا اعمال و اخلاق کی ہو۔ یا دین و دنیا دونوں کی اصلاح ہو۔ ابن مردویہ نے ابو جعفر محمد بن باقر سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ خیر سے مراد کتاب اللہ کی اور میری سنت کی پیروی ہے۔
حضرت عثمان غنی ؓ جب اس آیت کی تلاوت کرتے تھے تو فرماتے تھے خیر سے مراد یہ ہے کہ مصائب و آلام کے وقت اللہ تعالیٰ سے دعا کریں اور مسلمانوں کی پریشانی کو رفع کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کیا کریں۔ اس تقدیر پر اس جماعت سے مراد صلحا اور نیک لوگوں کی جماعت مراد ہوگی۔ اور ہوسکتا ہے کہ تبلیغ کی دو قسمیں کی جائیں۔ ایک یہ کہ غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دی جائے اور ان کو مسلمان بنایا جائے اور دوسری قسم یہ کہ مسلمانوں کو بھلے کام کا حکم کیا جائے اور برے کاموں سے روکا جائے۔
بہرحال خیر سے عام احکام مراد ہیں۔ معروف سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کو شرعاً اور عقلاً مستحسن سمجھا جاتا ہے اور منکر سے مراد وہ چیزیں ہیں جو شرعاً اور عقلاً بری سمجھی جاتی ہیں، ہوسکتا ہے کہ معروف سے مراد وہ امور ہوں جو کتاب و سنت کے موافق ہوں اور منکر سے وہ چیزیں مراد ہوں جو ان دونوں کے خلاف ہوں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ معروف سے مراد طاعت اور منکر سے مراد معاصی ہوں۔
بہرحال معروف میں فرض، واجب، مستحب و مندوب وغیرہ سب شامل ہیں اور منکر میں حرام، مکروہ تحریمی، مکروہ تنزیہی وغیرہ سب شامل ہیں۔ اگرچہ یہ جماعت امام مقرر کرے تب تو امر کے معنی حکم کرنے کے ظاہر ہیں۔ اور اگر خود مسلمان ایسی جماعت بنائیں اور حکومت کی سرپرستی اس کو حاصل نہ ہو تو ظاہر ہے کہ اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اچھی باتوں کو کہیں اور بری باتوں کو سمجھا کر ان سے منع کریں۔ اور چونکہ اس جماعت کے افراد کو من وجہ فوقیت اور خصوصیت حاصل ہے اس لئے امر کا لفظ ان لوگوں کے لئے قرآن نے استعمال فرمایا ہے۔ خواہ یہ امام کی طرف سے مامور ہوں یا نہ ہوں۔ مامور نہ ہونے کا یہ مطلب کہ امام غفلت کرے یا بدقسمتی سے امام ہی نہ ہو جیسے ہمارے دور میں امام کا وجود مفقود ہے۔
بہرحال امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو علماء نے فرض کفایہ فرمایا ہے اور امۃ کے لفظ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر کچھ لوگ اس خدمت کو انجام دیتے رہیں تو دوسرے لوگوں سے مواخذہ نہ ہوگا ورنہ اب گناہ گار ہوں گے جس طرح جہاد کا حکم ہے۔
باقی رہا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا الزام ان ہی لوگوں پر عائد ہوگا جو معروف و منکر سے واقف ہوں یعنی اہل علم ہوں۔
ہمارے زمانے میں غیر اہل علم نے جو وعظ گوئی کا پیشہ اختیار کرلیا ہے اور بعض جاہل میلاد خوانوں کو لوگوں نے عالم سمجھ لیا ہے یہ لوگ مسلمانوں کے لئے بجائے نفع سخت نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں۔ مسلمانوں میں سے اچھے برے کی تمیز جاتی رہی ہے اور وہ ہر خوش گو گلو گویے کو عالم سمجھنے لگے ہیں اور اسی وجہ سے اسلامی اخلاق کا انحطاط ہو رہا ہے۔
یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ امر بالمعروف کے مختلف درجے ہیں جو شحص امر بالمعروف پر قدرت رکھتا ہے تو امور واجبہ میں نصیحت کرنا اس پر واجب ہوگا اور یہ امور مستحبہ میں مستحب ہوگا اور اگر قدرت نہ ہو اور یہ جانتا ہو کہ لوگ مجھ کو نقصان پہنچائیں گے اور میں برداشت نہ کرسکوں گا تو امور واجبہ میں وجوب نہ رہے گا البتہ اگر ہمت کرے تو ثواب کا مستحق ہوگا اور اجر پائے گا۔ پھر قدرت کے بھی مختلف درجے ہیں اگر ہاتھ سے بری باتوں کو روک سکتا ہے تو منہیات شرعیہ کو ہاتھ سے روکنا واجب ہوگا ورنہ زبان سے کہنا واجب ہوگا اور اگر اتنی استطاعت بھی نہ ہو اور اہل فسق کا غلبہ ہو تو دل سے ہی نفرت کرنا کافی ہوگا اور بری بات کو قلب سے برا جاننا ضروری ہوگا۔
جیسا کہ ابو سعید خدری کی روایت مشہور ہے جس کو مسلم نے نقل کیا ہے جب ہاتھ اور زبان کی قدرت نہ رہے اور مایوس ہوجائے تو ایسے وقت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو ترک کردینے میں مضائقہ نہیں البتہ فساق و فجار کی صحبت سے اجتناب ضروری ہوگا اور ایسی مجالس کو ترک کردینے کا حکم ہوگا۔
ہم پہلے پارے میں انا مرون الناس بالبر کی تفسیر میں تفصیلاً عرض کرچکے ہیں۔
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا خود بھی پابند ہونا چاہئے لیکن بدقسمتی سے اگر کوئی عالم خود بےعمل ہو تو اس کی بےعملی کو عذر بنا کر عوام کو ترک عمل کی اجازت نہ ہوگی اگرچہ کسی عالم کا بےعمل ہونا بہت بری بات ہے۔
نعمان بن بشیر کی روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حدود میں مداہنت کرنے والوں اور اللہ تعالیٰ کی حدود کو توڑنے والوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک جہاز کے مختلف درجوں میں لوگ سوار ہیں نیچے درجے والے پانی لینے کی غرض سے اورپ آتے ہیں اور یہ اوپر کے درجے والے ان کو ستاتے ہیں اور پانی حاصل کرنے سے منع کرتے ہیں اس پر نیچے کے درجے والے جہاز کے تختہ کو توڑنا شروع کردیتے ہیں تاکہ پانی حاصل کریں اس پر اوپر کے لوگ ان کے پاس جاتے ہیں اور دریافت کرتے ہیں کہ تم یہ کیا حرکت کر رہے ہو وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم کو پانی کی ضرورت ہے جب ہم اوپر جاتے ہیں تو تم لوگ ہم کو ستاتے اور تکلیف پہنچاتے ہو۔
حضور ﷺ فرماتے ہیں تم ان کو جہاز کا تختہ توڑنے سے روکو اور ان کو پانی کی سہولت بہم پہنچائو ورنہ وہ بھی تباہ ہوں گے اور تم بھی غرق ہو جائو گے اور اگر تم نے جہاز کے تختوں کو توڑنے سے بچا لیا تو تم بھی بچ جائو گے اور وہ بھی بچ جائیں گے اس روایت کو بخاری نے نقل کیا ہے۔
حضرت حذیفہ کی روایت میں ہے فرمایا نبی کریم ﷺ نے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے تم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام کرتے رہو ورنہ قریب ہے کہ تم پر اللہ تعالیٰ اپنے پاس سے ایسا عذاب بھیجے گا کہ پھر تم خواہ کتنی دعائیں کرو گے وہ واپس نہیں ہوگا۔
حضرت ابن مسعود کی روایت میں مرفوعاً آیا ہے کہ جب بنی اسرائیل کے لوگ معاصی میں مبتلا ہوئے تو ان کے علماء نے ان کو سمجھایا لیکن وہ بعض نہ آئے تو ان کے علماء نے مداہنت اختیار کرلی اور ان کی مجالس میں شریک ہونے لگے اور ان سے علیحدگی اختیار نہیں کی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر حضرت دائود (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) بن مریم کی زبان سے لعنت کرائی۔
حضرت اسامہ بن زید (رح) کی روایت ہے فرمایا نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کو قیامت کے دن جہنم میں ڈالا جائے گا اور اس کی آنتیں اس کے پیٹ سے باہر نکل پڑیں گی اور وہ اپنی آنتوں کے چاروں طرف اس طرح گھومتا ہوگا جس طرح چکی کا گدھا چکی کے چاروں طرف پھرتا ہے لوگ اس کو دیکھ کر کہیں گے کیا تو وہ شخص نہیں ہے جو دنیا میں ہم کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کیا کرتا تھا۔ وہ جواب دے گا ہاں میں وہی ہوں لیکن میں بدقسمت جن باتوں کا تم کو حکم دیا کرتا تھا خود ان کو نہیں کرتا تھا یعنی بےعمل واعظ تھا۔
بغوی نے شرح السنۃ میں اور بیہقی نے شعب الایمان میں یہ روایت نقل کی ہے کہ نبی کریم ﷺ شب معراج میں ایک ایسی قوم پر گزرے جن کے ہونٹ قینچیوں سے کاٹے جا رہے تھے آپ ﷺ نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) سے دریافت کیا کہ یہ کون لوگ ہیں جبرئیل نے جواب دیا یہ آپ کی امت کے خطیب ہیں جو لوگوں کو خیر پر عمل کرنے کو کہتے تھے اور اپنے آپ کو فراموش کئے ہوئے تھے۔
بہرحال ایک جماعت دعوت الی الخیر اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لئے مقرر رہنی چاہئے اگر کچھ لوگ یہ کام کرتے رہے تو یہ لوگ اپنے مقصد میں کامیاب ہوں گے یعنی ان کو اجر ملے گا اور دنیا میں مسلمانوں کو فائدہ پہنچے گا ان کی مردم شماری میں اضافہ ہوجائے گا جس کی آج کل جمہوریت میں بڑی ضرورت ہے قیامت میں نبی کریم ﷺ ان لوگوں سے خوش ہوں گے کیونکہ امت کی کثرت آپ کے لئے موجب فخرومباہات ہے نیز مسلمانوں کے عقائد و اعمال اور ان کے اخلاق درست رہیں گے باقی رہی آیت یایھا الذین امنوا علیکم انفسکم اس کے متعلق انشاء اللہ تعالیٰ بشرط زندگی ساتویں پارے میں عرض کرینگے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں معلوم ہوا کہ مسلمانوں میں فرض ہے ایک جماعت قائم رہے جہاد کرنے کو اور دین کا تقید رکھنے کو تاخلاف دین کوئی نہ کرے اور جو اس کام پر قائم ہوں وہی کامیاب ہیں اور یہ کہ کوئی کسی سے تعرض نہ کرے موسیٰ بدین خود عیسیٰ بدین خود یہ راہ مسلمانی کی نہیں۔ (موضح القرآن)
حضرت شاہ صاحب (رح) نے زبانی تبلیغ کے ساتھ جہاد کو بھی شامل کرلیا۔ ہم اوپر عرض کرچکے ہیں آیت میں ہر قسم کی گنجائش ہے ہوسکتا ہے کہ دعوت الی الخیر سے جہاد مراد ہو۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بعض ضدی اور ہٹ دھرم مسلمانوں سے بھی جہاد کی نوبت آجائے۔
جیسا کہ مانعین زکوٰۃ سے قرن اول میں ہوا اب آگے پھر تفریق اور باہم نااتفاقی کی تفصیل مذکور ہے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے منقول ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر افضل جہاد ہے یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لئے بہت بڑے عالم کی ضرورت نہیں ہے بلکہ جس بات کی خوبی اور جس کام کی برائی کا کسی کو علم حاصل ہو وہ اتنی ہی بات کی تبلیغ کرسکتا ہے مثلاً نماز کی فرضیت کو ہر شخص جانتا ہے تو ایک بےنمازی سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ نماز فرض ہے تو نماز پڑھا کر اسی طرح شراب کی حرمت سے عام آدمی واقف ہیں اس لئے ایک شرابی کو یہ کہہ کر روکا جاسکتا ہے کہ تو شراب نہ پیا کر اس کو شریعت نے حرام کیا ہے بہرحال ہم نے یہاں مختصر طور پر چند باتیں لکھ دی ہیں ورنہ اس بحث میں فرعی مسائل بہت ہیں۔
اب آگے مسلمانوں کے باہم متحد رہنے اور تفریق سے بچنے کی تفصیل مذکور ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 3:107ف 1 اور تم اے مسلمانو ! ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے باوجود اس کے ان کے پاس واضح دلائل آ چکے تھے اور انہوں نے واضح دلائل اور واضح احکام پہنچ جانے کے بعد پھر دین میں باہم تفریق کرلی اور جدا جدا ٹولیاں بنالیں اور راہ راست سے جدا ہوگئے اور محض اپنی نفسانی خواہشات اور آپس کی ضد سے باہم اختلاف کرنے لگے اور ایسے ہی لوگوں کے لئے اس دن بہت بڑا عذاب ہے اور وہ بڑے ہولناک عذاب میں مبتلا ہوں گے جس دن بہت سے چہرے سفید یعنی روشن اور چمکتے ہوئے ہوں گے اور بہت سے چہرے اس دن سیاہ ہوں گے۔ لہٰذا جن لوگوں کے چہرے کالے اور سیاہ ہوں گے ان سے کہا جائے گا کیا تم ہی لوگوں نے اپنے ایمان لائے پیچھے کافرانہ روش اختیار کی تھی اور تم ہی ایمان کے بعد کافر ہوئے تھے اچھا تو اب تم اپنے اس کافرانہ طریق کی سزا کا مزہ چکھو جو تم نے اختیار کی تھی اور جو کفر تم کیا کرتے تھے اس کی وجہ سے عذاب کا مزہ چکھو اور رہے وہ لوگ جن کے منہ روشن اور چمکدار ہوں گے سو وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے دامن میں ہوں گے اور رحمت خداوندی کے سایہ میں ان کو جگہ ملے گی اور وہ اس رحمت میں ہمیشہ رہیں گے۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ تم ان لوگوں کی طرح آپس میں پھوٹ نہ ڈال لینا جو عام طور پر اہل کتاب اور کافروں کا شیوہ رہا ہے یا اہل بدعت اور اہل فسق کا طریقہ رہا ہے کہ واضح دلائل اور صاف وصریح احکام آجانے کے بعد بھی اصول دین میں تفرقہ اندازی کرتے ہیں اور اپنی نفسانی خواہشات کے پیش نظر فروعی مسائل میں بھی اختلاف کرتے ہیں۔ ایسے فرقہ پرست اور تفرقہ انداز لوگوں کو اس دن بڑا عذاب ہوگا جس دن بہت سے ایمان داروں کے چہرے روشن اور چمکتے ہوئے ہوں گے اور بکثرت کافروں فاسقوں اور اہل بدعات اور اہل اہواء کے چہرے سیاہ ہونگے ان موخر الذکر لوگوں سے جن کے چہرے سیاہ ہوں گے کہا جائے گا کیا تم ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے تھے یا تم نے ایمان کا اقرار کرنے کے بعد کافرانہ روش اختیار کی تھی اور عملی کفر کیا تھا۔ لہٰذا اب تم اپنے اس اعتقادی اور عملی کفر کی پاداش میں عذاب کا مزہ چکھو اور وہ ایمان دار اور مخلص اور کتاب و سنت کے پابند لوگ جن کے چہرے روشن ہوں گے رحمت سے مراد جنت ہے چونکہ جنت میں داخل ہونا حضرت حق تعالیٰ کی رحمت اور اس کے فضل پر موقوف ہے اس لئے جنت کو رحمت فرمایا۔
اس آیت میں مفسرین کے کئی قول ہیں لیکن صحیح بات یہ ہے کہ الذین تفرقوا میں سب ہی لوگ داخل ہیں خواہ وہ مرتد ہوں کافروں میں سے اہل کتاب ہوں یا عام کفار ہوں منافق ہوں یا فساق فجار ہوں یا اہل بدعت اور فرق باطلہ ہوں سب کو یہ آیت شامل ہے۔ کیونکہ ہر شخص کے اختلاف کا مبنی اپنی اپنی اغراض اور نفسانی خواہشات ہیں جن کے باعث کوئی مرتد ہوگیا۔ کوئی منافق بن گیا۔ زبان سے اسلام کا اقرار کیا دل سے کافر رہا کوئی کفر ہی پر قائم رہا کوئی باوجود مسلمان ہونے کے بدعت کی طرف مائل ہوگیا کسی نے فسق کی راہ اختیار کی اور کوئی دین میں جدا گانہ راہ قائم کر بیٹھا جیسے اسلام میں فرق باطلہ۔ جنہوں نے اہل سنت والجماعت سے اختلاف کیا اور نئے نئے فرقے بنا لئے۔
حضرت ابو امامہ کا قول ہے کہ یہ لوگ خوارج ہیں جب آیت کو عام رکھا جائے تو اسی کی مناسبت سے اکفرتم کا ترجمہ کیا جائے۔
جیسا کہ ہم نے تیسیر میں اس کی تشریح کردی ہے کیونکہ کفر بھی دو قسم کا ہے ایک اعتقادی ایک عملی۔
اہل کتاب نے نبی کریم ﷺ کی تشریف آوری سے قبل آپ کو تسلیم کیا اور آپ کی نبوت کو مانا لیکن آپ کی بعثت کے بعد آپ ﷺ کا انکار کیا اور کفر کے مرتکب ہوئے۔ منافق بھی حقیقی کفر کے مرتکب ہوتے رہے کافر تو وہ بھی یوم میثاق میں حق تعالیٰ کی ربوبیت کا اقرار کرچکے تھے مگر دنیا میں آ کر اس اقرار سے پھرگئے یہی حال مرتدین کا ہے کہ دنیا میں آ کر ایمان لائے پھر کافر ہوگئے۔ یہ سب لوگ اعتقادی کافر ہیں رہے فساق و فجار اور اہل بدعت و اہواء تو وہ لوگ عملی کافر ہیں ان سے کہا جائے گا کہ تم نے مسلمان ہونے کے بعد کفر کے لئے کام کئے۔
اب خلاصہ یہ ہوا کہ اے مسلمانو ! تم ان کفار اور مرتدین اور اہل بدعت اور اہل اہواء کی طرح نہ ہونا جنہوں نے دین کے اصول میں یا دین کے فروع میں محض اپنی نفسانی خواہشات کی بنا پر باہم تفرقہ ڈالا اور اختلاف پیدا کیا اور عذاب عظیم کے مستحق ہوئے۔ خواہ یہ عذاب دائمی ہو جیسے اعتقادی کافروں کے حق میں یا عرصہ دراز تک کے لئے ہو جیسے فساق اور اہل بدعت و اہواء کے حق میں اعاذنا اللہ منہ اس تقریر کے بعد حضرات صحابہ ؓ اور ائمہ مجتہدین کے باہمی اختلاف پر کوئی شبہ نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ ان تمام اختلافات کا یعنی محض دلائل ظینہ اور اجتہاد ہے اور بغیر کسی تعصب اور بغیر کسی مکابر سے اور بغیر کسی نفسانیت کے ہے بلکہ یہ اختلاف تو رحمت اور بندوں کی گنجائش اور وسعت کا سبب ہے۔
جیسا کہ عبد بن حمید نے اپنی مسند میں اور دارمی اور ابن ماجہ نے اور ابن عساکر اور حاکم نے مرفوعاً نقل کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں میں نے اپنے رب سے اپنے صحابہ کے اس اختلاف کا سوال کیا جو میرے بعد ان میں رونما ہونے والا ہے۔
ارشاد ہوا تیرے اصحاب اے محمد ﷺ میرے نزدیک ایسے ہیں جیسے آسمان کے تارے کہ کوئی نور میں زیادہ اور قوی ہے کہ کوئی نور میں کم اور ضعیف ہے لیکن ہر ایک میں نور موجود ہے لہٰذا ان میں سے جس کسی کو کوئی شخص اختیار کرلے گا اور باوجود ان کے باہمی اختلافات کے کسی ایک کو اختیار کرلے گا وہ میرے نزدیک ہدایت پر ہوگا۔
اسی طرح بیہقی نے مدخل میں عمر بن عبد العزیز سے اور طبقات ابن سعد نے قاسم بن محمد سے نقل کیا ہے کہ میرے اصحاب کا اختلاف تمہارے لئے رحمت ہے اور محمد ﷺ کے اصحاب کا اختلاف اللہ کے بندوں کے لئے رحمت ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں معلوم ہوا کہ سیاہ منہ ان کے ہیں جو مسلمانی میں کفر کرتے ہیں یعنی منہ نے کلمۂ اسلام کہتے ہیں اور عقیدہ خلاف اسلام کے رکھتے ہیں سب فرقے گمراہ یہی حکم رکھتے ہیں۔ (موضح القرآن)
حضرت شاہ صاحب (رح) نے ایک پہلو اختیار کرلیا ہے لیکن آیت میں گنجائش ہے کہ عام معنی اختیار کئے جاسکتے ہیں جیسا کہ ہم نے تسہیل میں مفصلاً عرض کردیا ہے آگے کی آیت میں اس سزا و جزا کی واقعیت کی اطلاع اور ان سزائوں کے مناسب ہونے کا اظہار ہے۔ (تسہیل)
Ayah 3:108ف 2 یہ اللہ تعالیٰ کے ارشادات ہیں جو ہم آپ کو ٹھیک ٹھیک پڑھ کر سناتے ہیں اور ان کی آپ کے روبرو صحیح صحیح تلاوت کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بندوں پر کسی قسم کا ظلم نہیں کرنا چاہتا لہٰذا جو سزا بندوں کو دی جاتی ہے اور جو سزا ان کے لئے تجویز کی جاتی ہے وہ بالکل مناسب اور عین انصاف کے موافق ہوتی ہے۔ (تیسیر)
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جہاد اور امر بالمعروف کا جو حکم فرمایا یہ ظلم نہیں خلق پر ان کی تربیت ہے۔ (موضح القرآن)
حضرت شاہ صاحب (رح) نے اس آیت کو ولکن منکم کی آیت سے رابط دیا ہے۔ بہرحال حق تعالیٰ پر ظلم کا اطلاق تو کسی طرح ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ وہ مطلق مالک ہے اس پر کوئی شئے واجب نہیں جس کے خلاف کرنے پر اس کا ظلم کہا جائے سب ان کے حقیقی مملوک ہیں وہ جو کچھ بھی کریں وہ ظلم نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح کسی شئے کو غیر ما وضع لہٗ میں استعمال کرنا بھی وہاں نہیں ہوسکتا اس لئے حضرت حق جل سجدہٗ کے لئے ظلم کے یہاں حقیقی معنی تو ہو ہی نہیں سکتے بلکہ مطلب یہ ہے کہ تم لوگ جس کو ظلم کہتے ہو اور عقلاً و شرعاً بندوں کے افعال و اعمال سے جو ظلم کہلاتا ہے وہ بھی وہاں نہیں کہ کسی کے ثواب میں کمی کر دے یا کسی کی سزا بڑھا دے یا کوئی ناقابل برداشت حکم بھیج دے یا وسعت سے زیادہ تکلیف دے بلکہ جو احکام تم کو دیتا ہے اس سے محض تمہاری تربیت اور تزکیہ نفس مقصود ہوتا ہے اور بدکرداری کی جو سزا تجویز کرتا ہے اور جو پاداش دیتا ہے وہ بالکل مناسب اور موزوں ہوتی ہے اور جو برتائو کسی کے ساتھ کرتے ہیں وہ عین حکمت اور مصلحت کے موافق ہوتا ہے اب آگے تمام کائنات پر اپنی ملکیت اور اختیارات مطلقہ کا اظہار ہے۔ (تسہیل
Ayah 3:109ف 3 اور تمام مخلوقات جو بھی آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب حضرت حق تعالیٰ کی مملوک اور اس کی ملک ہے اور جملہ امور اور تمام مقدمات کی بازگشت اللہ تعالیٰ ہی کی طرف ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جہاد میں خلق کی جان اور مال تلف ہو تو مالک کے حکم سے ہے سب چیز مال اللہ کا ہے۔ (موضح القرآن)
حضرت شاہ صاحب (رح) نے چونکہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تفسیر جہاد سے کی ہے اسی لئے اس کی مناسبت سے یہ شرح فرمائی ہے بہرحال جب تمام مخلوق اس کی ملک ہے تو اپنی ملک میں تصرف کرنا ہر اعتبار سے جائز ہے اس لئے وہاں ظلم کا صدور متحقق ہی نہیں ہوسکتا لہٰذا جو سزا تجویز ہوگی وہ عین انصاف ہوگا اور چونکہ وہ مالک ہے اور سب اس کے مملوک ہیں اور مملوک پر اطاعت واجب ہوتی ہے لہٰذا سب پر اس کی اطاعت واجب ہے۔ اور چونکہ اسی کی جانب تمام مقدمات اور تمام کاموں کا مرجع ہے اس کے علاوہ کوئی دوسرا صاحب اختیار نہ ہوگا۔ اس لئے جو کچھ کرو اس کے اختیار اور اس کے جاہ و جلال کا لحاظ رکھ کر کرو۔ اور اس کی گرفت کے خوف سے کرو کیونکہ ایک بااختیار حاکم کے روبرو پیش ہونا ہے ایسا حاکم جس کے اوپر کوئی حاکم نہیں اب آگے پھر اس درمیانی بحث کو ختم کرتے ہوئے مسلمانوں کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ایک دوسرے عنوان سے تاکید فرماتے ہیں اس کے بعد پھر اہل کتاب کا بیان ہوگا جو اصل مضمون ہے اور اوپر سے مسلسل چلا آ رہا ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 3:110–111ف 4 اے امت محمدیہ ﷺ ! تم لوگ تمام جماعتوں میں سے اچھی جماعت اور تمام امتوں میں سے بہترین امت ہو ایسی امت کہ عام لوگوں کی نفع رسانی کے لئے اور عام لوگوں کے فائدے کے لئے ظاہر کی گئی ہے اور وہ فائدہ یہ ہے کہ تم لوگوں کو اچھے کام کرنے کو کہتے ہو اور برے کاموں سے روکتے ہو اور تم خود بھی اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہو اور اس ایمان باللہ پر قائم رہتے ہو اور اگر یہ اہل کتاب جو تمہارے مخالف ہیں یہ بھی ایمان لے آئے تو ان کے حق میں بہتر ہوتا اور جس حالت میں یہ اب ہیں اس سے اچھے ہوجاتے کیونکہ خیر امت میں داخل ہوجاتے لیکن یہ سب مسلمان نہیں ہوئے بلکہ ان میں سے کچھ تو مسلمان ہیں اور بکثرت ان میں سے کافر اور نافرمان ہیں۔ (تیسیر)
امت محمدیہ ﷺ کو خیر امت فرمایا جس طرح نبی کریم ﷺ افضل رسل ہیں جیسا کہ تیسرے پارے کے آخر میں گزرا کہ تمام انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام سے آپ پر ایمان لانے اور آپ کی مدد کرنے پر عہد لیا گیا۔ پھر چوتھے پارے میں ان کے معبد یعنی کعبہ کو اول بیت فرمایا۔ پھر شریعت محمدیہ ﷺ کی فضیلت اور اس کو مضبوطی کے ساتھ پکڑنے کا ذکر ہوا۔ اب اس امت کے خیر الامم ہونے کا اظہار فرمایا۔ اس خیریت کے متعلق مفسرین کے تین قول ہیں کہ یا تو اس سے صحابہ مراد ہیں۔
جیسا کہ حضرت عمر کا قول ہے یا اس خیر امت سے مراد مہاجرین ہیں جیسا کہ عبد اللہ بن عباس سے منقول ہے یا اس سے مراد تمام امت محمدیہ ہے جیسا کہ عام رجحان یہی ہے کہ تمام امت محمدیہ افضل الامم ہے البتہ صحابہ کا قرن تمام امت میں افضل قرن ہے۔
طبرانی نے مرفوعاً روایت کی ہے فرمایا نبی کریم ﷺ نے کہ جنت کا داخلہ اس وقت تک تمام انبیاء پر ممنوع ہے جب تک میں جنت میں داخل نہ ہو جائوں اور جب تک میری امت جنت میں داخل نہ ہوجائے اس وقت تک دوسری امتوں پر جنت کا داخلہ حرام ہے یعنی نبیوں میں سب سے پہلے میں داخل ہوں گا اور امم میں سب سے پہلے میری امت داخل ہوگی۔
حضرت جابر ؓ سے مرفوعاً روایت ہے فرمایا نبی کریم ﷺ نے اہل جنت کی کل صفیں ایک سو بیس ہوں گی جن میں اسی 08 صفیں صرف میری امت کی ہونگی اور باقی دوسری امتوں کی ہونگی۔
حضرت ابو سعید خدری سے مرفوعاً روایت ہے فرمایا نبی کریم ﷺ نے میری امت ایسی ہے جیسے بارش، بارش کے متعلق یہ نہیں کہا جاسکتا کہ پہلا دور اس کا مفید اور بہتر ثابت ہوگا یا پچھلا حصہ مفید اور نافع ہوگا۔ یعنی بارش ہر طرح بہتر ہے کبھی ابتدائی بارش پیداوار کے لئے مفید ہوتی ہے اور کبھی آخری بارش مفید اور نافع ہوتی ہے اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اگرچہ اس امت کو مختلف اعتبار سے افضلیت حاصل ہے لیکن یہاں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی خصوصیت کا ذکر فرمایا ہے اور یہاں اس خصوصیت کا ذکر اس لئے فرمایا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی غرض سے اس امت میں جہاد بھی بھی ہوگا اور منکر کو قوت و طاقت سے دبایا جائے گا۔
منکر میں کفر و شرک، بدعت اور فسق و فجور اور رسومات قبیحہ وغیرہ سب داخل ہیں۔ نیز یہ کہ اس امت کی دعوت عام ہے اور تمام اہل عالم کے لئے ہے یہ دو باتیں دوسری امم کو حاصل نہ تھیں کسی امت میں جہاد تھا لیکن اس کی دعوت عالمگیر نہ تھی اور کسی میں جہاد کا بھی حکم نہ تھا اس امت کی دعوت بھی عالمگیر ہے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لئے جہاد کا بھی حکم ہے اگر کوئی قوم دعوت اسلام کا مقابلہ کرے اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر میں رکاوٹ پیدا کرے تو اس سے جہاد کرو اور قوت سے اس کو دفع کرو تاکہ تبلیغ میں رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
غرض یہ امت ہر طرح امر بالمعروف و نہی عن المنکر کو انجام دیتی ہے خواہ تحریر و تقریر سے ہو یا تلوار سے ہو۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ساتھ تؤمنون باللہ بھی فرمایا۔
تومنون باللہ میں تمام احکام اسلام آگئے۔
جیسا کہ طلحہ بن عبید اللہ کی روایت میں مرفوعاً آیا ہے کہ تم جانتے ہو ایمان باللہ کیا ہے لوگوں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول جانتا ہے آپ ﷺ نے فرمایا ایمان باللہ اس کو کہتے ہیں کہ
لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ
کی شہادت دینا، نماز کی پابندی کرنا، زکوٰۃ دینا رمضان شریف کے روزے رکھنا اور مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ نکالنا۔ اگرچہ تومنون باللہ دوسری امتوں میں بھی تھا لیکن چونکہ یہ شریعت مکمل ہے اس لئے اس امت کے مومنون کو بھی ایک کمال اور برتری حاصل ہے اور یہ وجہ بھی اس امت کی خیریت اور بہتری کی ہوسکتی ہے نیز یہ کہ خدا تعالیٰ کی وحدانیت اور شرک کی مذمت کا جس قدر اہتمام اس امت میں ہے دوسری امتوں میں اس قدر اہتمام اور شیوع نہیں تھا اس لئے اس خصوصیت کا ذکر کیا۔
خلاصہ یہ ہوا کہ یہ امت لوگوں کو نفع رسانی اور خلق ہدایت کے لئے عالم وجود میں آئی ہے اور یہ نفع رسانی اس کی تمام اہل عالم سے وابستہ ہے اور سب کو اچھے کام کرنے کو کہتی ہے اور بری باتوں سے منع کرتی ہے اور اس تبلیغی سلسلے میں ہر ایک نرم اور گرم طریقہ اختیار کرتی ہے بلکہ اعلاء کلمۃ اللہ اور دین حق کی ترویج اور اصول اسلامی کی اشاعت میں جان تک دینے سے دریغ نہیں کرتی۔ پھر یہ کہ خود بھی ایک کامل و اکمل شریعت پر ایمان رکھتی اور تمام احکام اسلامی پر عمل کرتی ہے۔ معروف کو بجا لاتی ہے اور منکر سے اجتناب کرتی ہے۔
ان خصوصیات کی وجہ سے یہ امت محمدیہ ﷺ خیر امم اور افضل امم ہے۔ امت محمدیہ ﷺ کی خیریت اور بہتری کا اظہار کرنے کے بعد اہل کتاب کو ترغیب ہے کہ اگر یہ لوگ بھی ایمان لے آتے تو خیر الامم میں داخل ہوجاتے بلکہ ان کو دوہرا ثواب ملتا ایک اپنے نبی پر ایمان لانے اور اس کے احکام کو بجا لانے کا اور دوسرا نبی آخر الزمان ؐ پر ایمان لا کر اسلام میں داخل ہونے کا لیکن ان میں محض چند لوگ، حضرت عبد اللہ بن سلام بادشاہ نجاشی اور کعب احبار وغیرہ تو مسلمان ہوئے اور بہت زیادہ تعداد ان کی اپنی ریاست اور وجاہت کے شوق میں کافر ہی رہی۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی یہ امت ہر امت سے بہتر ہے اسی دو صفت کو امر معروف یعنی جہاد اور ایمان، یعنی توحید کا تقید اس قدر اور دین میں نہیں۔ (موضح القرآن)
یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اس امت کا خیر الامم ہونا صرف ان دو باتوں میں جو حضرت شاہ صاحب (رح) نے فرمائی ہیں منحصر نہیں ہے اور نہ صرف ان تین باتوں پر منحصر ہے جو فقیر نے عرض کی ہیں۔ جیسا کہ ہم اوپر عرض کرچکے ہیں کہ یہ امت بہت سی خصوصیات اور مختلف اعتبارات سے خیر الامم ہے چونکہ اسی آیت میں معاندین اہل کتاب کی اکثریت کا ذکر آیا تھا اور اہل کتاب کی عداوت ظاہر ہی تھی۔ ادھر امت محمدیہ ﷺ کو عام دعوت کا حکم تھا تو اب خیال ہوتا تھا کہ دشمنوں کی اکثریت ہے ایسے موقعہ پر اسلام کی دعوت اور تبلیغ میں بہت دشواریاں پیدا ہوں گی۔ آگے ان دشواریوں اور خطرات کی جانب سے مسلمانوں کو مطمئن فرمایا۔ (تسہیل)
Ayah 3:112ف 1 اے مسلمانو ! وہ اہل کتاب تم کو بجز معمولی اور خفیف اذیت کے کوئی بڑا نقصان ہرگز نہیں پہنچا سکیں گے اور اگر کبھی وہ تم سے مقابلہ پر آمادہ ہوجائیں اور تم سے جنگ کریں تو میدان جنگ سے تم کو پیٹھ دکھا کر بھاگ جائیں گے پھر ان کی کہیں سے کوئی امداد نہیں کی جائیگی اور کسی طرف سے ان کی کوئی حمایت نہیں ہوگی وہ خواہ کہیں بھی ہوں اور کہیں بھی پائے جائیں ان پر ذلت و بےقدری اور بےامنی لازم کردی گئی ہے مگر ہاں دو صورتوں میں وہ محفوظ رہ سکتے ہیں کہ وہ کوئی ایسا ذریعہ حاصل کریں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو یا کوئی ایسا ذمہ اور دستاویز حاصل کریں جو لوگوں کی طرف سے ہو اور یہ لوگ غضب الٰہی کے مستحق ہوگئے اور ان پر پستی اور مسکنت چمٹادی گئی یہ ذلت اور غضب ان پر اس وجہ سے پڑا کہ وہ احکام الٰہی کو ماننے سے انکار کرتے تھے اور یہ جانتے ہوئے کہ نبیوں کا قتل کرنا حق کے خلاف ہے پھر نبیوں کو قتل کردیا کرتے تھے اور اس دلیری و بےباکی اور جرأت علی الاثم کی وجہ یہ تھی کہ وہ لوگ نافرمانی کے عادی اور خوگر ہوچکے تھے اور خدا کی مقررہ حدود سے آگے نکل جاتے تھے (تیسیر)
بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کا تعلق یہود سے ہے اور مطلب یہ ہے کہ وہ تم کو سوائے اس کے کہ برا بھلا کہہ کر اور گالیاں دے کر کچھ تکلیف پہنچائیں تو پہنچائیں باقی اور کوئی ضرر اور کوئی معتدبہ نقصان تم کو نہیں پہنچا سکیں گے اور اگر کبھی ہمت کرکے مقابلہ کو نکل آئے اور میدان کارزار میں آ کھڑے ہوئے تو پیٹھ دیکر بھاگ جائیں گے کیونکہ ان میں مقابلہ کی جان نہیں ہے۔ اول تو سرمایہ دار اور عیش پرست لوگ ہیں پھر ملعون و مغضوب ہیں اس لئے ان میں جنگ کرنے اور مرنے کی ہمت نہیں ہے۔ پھر یہ کہ ان کو اپنی نافرمانیوں کے باعث اپنا انجام معلوم ہے۔ نیز یہ کہ ان کو اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت حاصل نہیں ہے جو کامیابی اور فتح کی اصل شرط ہے اس لئے سوائے اس کے کہ پیٹھ دیکر بھاگیں اور کیا کریں گے ایسی حالت میں ان کی کہیں سے کوئی مدد بھی نہیں کی جائے گی ذلت اور مسکنت کی تشریح ہم پہلے پارے میں کرچکے ہیں یہاں ذلت سے مراد یہ ہے کہ ان کی جان اور مال محفوظ نہیں اسی لئے ہم نے تیسیر میں اشارہ کردیا ہے کہ یہ لوگ جہاں بھی پائے جائیں اور جب بھی پائے جائیں ذلت ان سے وابستہ ہے اور یہ لوگ مباح الدم اور مباح المال ہیں نہ ان کی جان مامون ہے، نہ ان کا مال ہاں مامون ہونے کے دو طریقے ہیں ایک یہ کہ اللہ کا ذمہ ان کو حاصل ہوجائے دوسرے یہ کہ مسلمانوں سے کوئی معاہدہ ہوجائے یہاں حبل من اللہ وحبل من الناس سے مراد ذمہ ہے جس طرح رستی کو پکڑ کے انسان خطرات سے نجات حاصل کرتا ہے اسی طرح ایک کافرمعاہدے اور پناہ حاصل کر کے امان حاصل کرتا ہے اس لئے یہاں اس پناہ اور ذمہ کو جو خدا کی جانب سے اور بندوں کی جانب سے حاصل ہوجائے اس کو حبل من اللہ اور حبل من الناس سے تعبیر کردیا ہے۔
امان کی صورتیں دو ہوسکتی ہیں ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی تصریح فرمائی ہو جیسے جزیہ کہ اگر یہ لوگ جزیہ دینا منظور کریں تو ان کو امن دے دو اور دوسری صورت یہ کہ امام کی رائے پر موقوف ہو اور وہ جس طرح مناسب سمجھے بعض شرائط کے ساتھ امن دے دے۔ اسی وجہ سے مفسرین نے اس موقع پر کئی طرح تفسیر کی ہے۔ مثلاً حبل من اللہ سے مراد یہ ہے کہ توریت کا نام لیتے ہیں اور کچھ بچی کھچی رسموں پر توریت کی عمل کرتے ہیں اس لئے پڑے ہیں یا یہ کہ شریعت نے ان کو مستثنیٰ کردیا ہو مثلاً کوئی راہب ہو یا کوئی عبادت گزار ہو یعنی جو لوگ لڑائی میں کوئی حصہ نہیں لیتے بلکہ ہر وقت عبادت الٰہی میں مشغول رہتے ہیں یا بڈھے اور عورتیں اور بیمار وغیرہ کہ ان کو مارنے کا حکم نہیں ہے یا یہ کہ جزیہ دینے کو تیار ہوجائیں یا یہ کہ اسلام مراد ہو کہ اگر اسلام قبول کرلیں تو مامون ہوسکتے ہیں یہ سب صورتیں حبل من اللہ کی ہیں اور حبل من الناس کا یہ مطلب ہے کہ مسلمانوں سے معاہدہ کرلیں یا مسلمانوں کی رعایا بن جائیں اور جزیہ دینا قبول کرلیں یا کسی اور طرح مسلمان ان کو امن دیدیں۔
غرض نتیجہ کے اعتبار سے اللہ کا ذمہ اور مسلمانوں کا ذمہ ایک ہی ہے لیکن بہرحال ذمۃ اللہ اور ذمۃ المسلمین دو چیزیں ہیں۔ اسی وجہ سے بعض حضرات نے یوں ترجمہ کیا ہے کہ ان کو اللہ کا ذمہ یا مسلمانوں کا ذمہ ہی ذلت اور تباہی سے بچا سکتا ہے ہم نے تیسیر میں اسی طرح ترجمہ کیا ہے۔ خلاصہ یہ کہ یہود اپنی شرارتوں کے باعث ذلت و مسکنت اور غضب الٰہی کے مستحق قرار پاچکے ہیں یہ جہاں کہیں بھی پائے جائیں ان کے ساتھ کوئی رعایت نہ کی جائے۔
البتہ دو حالتیں مستثنیٰ ہیں کہ مسلمان ان کو پناہ دے دیں اور ان سے کوئی معاہدہ کرلیں یا یہ کہ اللہ تعالیٰ کا قانون ان کو مستثنیٰ کرتا ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ الناس کا لفظ عام ہو اور مطلب یہ ہو کہ کسی حکومت کی رعیت بن کر اس کی پناہ میں آجائیں اور محفوظ رہیں۔
بہرحال حفاظت خود اختیاری سے یہ لوگ محروم کردیئے گئے اور یہ خود مختار ہو کر بغیر کسی دوسرے کا سہارا لئے مامون و محفوظ نہیں رہ سکتے۔ اور اس دنیا میں اس سے بڑھ کر اور کیا ذلت و رسوائی ہوسکتی ہے کہ کسی قوم کے پاس اپنے کو زندہ رکھنے کا سامان نہ ہو۔
مسکنت کا مطلب بھی یہی ہے کہ باوجود سرمایہ دار ہونے کے اپنے بخل اور کنجوسی کی وجہ سے ان پر مسکنت چھائی ہے اور اس سے بڑھ کر مسکین کون ہوسکتا ہے کہ جس کے پاس روپے ہوں اور اس کی قسمت میں اپنی کمائی سے فائدہ اٹھانا نہ ہو۔ ہوسکتا ہے کہ ذات سے مراد غیر مامون ہونا اور مسکنت سے مراد غلام رہنا ہو۔ چونکہ الفاظ قرآنی میں بڑی وسعت ہے اس لئے ہر شخص نے اپنے ذوق کے موافق تفسیر کی ہے ہم نے تسہیل میں تمام اقوال کی زیادہ سے زیادہ رعایت کی ہے۔
قانون الٰہی یہ ہے کہ جب کسی قوم کی شرارت اور نافرمانی اور نیک بندوں کی ایذا رسانی اور حق کو حق جان کر اس سے روگردانی یہ باتیں حد سے بڑھ جاتی ہیں اور چھوٹے بڑے سب ان باتوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کا غضب اس قوم کو عام طور سے گھیر لیتا ہے۔ یہود کا یہی حشر ہوا کیونکہ ان لوگوں نے نبی آخر الزمان کا انکار کیا۔ قرآن سے روگردانی کی۔ اپنے زمانے کے انبیاء کو قتل کیا اور یہ جانتے ہوئے قتل کیا کہ انبیاء کا قتل کرنا بدترین مصیبت ہے۔
اللہ تعالیٰ کی حدود کو توڑا ان سب باتوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ پوری قوم ذات اور غلامی مغلوبی اور محتاجی میں مبتلا کردی گئی اور اللہ تعالیٰ کے غضب میں پوری کی پوری قوم گھر گئی۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں سوائے دست آویز یعنی یہود دنیا میں کہیں اپنی حکومت سے نہیں رہتے۔ بغیر دست آویز اللہ کے کہ بعض رسمیں توریت کی عمل میں لاتے ہیں اس کے طفیل سے پڑے ہیں اور بغیر دست آویز لوگوں کے یعنی کسی کی رعیت ہیں اس کی پناہ میں پڑے ہیں۔ (موضح القرآن)
حضرت شاہ صاحب (رح) نے حبل کا ترجمہ دست آویز کیا ہے اسی کی مناسبت سے شرح فرمائی ہے اور یہ واقعہ ہے کہ شاہ صاحب (رح) کی شرح مختصر اور نہایت جامع ہے اللہ تعالیٰ کی دست آویز کا یہ مطلب کہ توریت کا نام لیتے ہیں اور اس کی کچھ باتوں پر عمل کرتے ہیں اس کے صدقہ میں جی رہے ہیں اور لوگوں کی دست آویز کا یہ مطلب کہ غلام ہیں اور رعیت بن کر دوسروں کے سہارے پر پڑے ہیں اپنی کوئی مضبوط اور پائیدار حکومت نہیں۔ قرآن کی یہ ایک پیشین گوئی تھی جو پوری ہوئی۔
یہود نے جہاں جہاں مسلمانوں سے مقابلہ کیا شکست کھائی۔ جیسا کہ بنی قینقاع، بنی قریظہ، بنی نضیر اور خیبر وغیرہ میں ہوا اور جس ذلت و مسکنت اور غضب میں مبتلا ہوئے تھے اس سے آج تک نکلنا نصیب نہیں ہوا چونکہ اہل کتاب کے اوپر دو حصے فرمائے تھے ایک حصہ مسلمان اور دوسرا معاند معاندین کی اکثریت کا اظہار فرمایا تھا اکثریت سے جو خطرہ لاحق ہونا تھا اس کو دور فرما دیا کہ اگر معاندین زیادہ ہیں تو ان کی اکثریت کی کوئی فکر نہ کرو یہ تمہارے مقابلے میں جم نہیں سکتے۔
اب آگے دونوں قسموں کی تفصیل بیان فرماتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayahs 3:113–114ف 2 یہ سب اہل کتاب یکساں نہیں ہیں بلکہ ان ہی اہل کتاب میں سے ایک جماعت اور کچھ لوگ وہ بھی ہیں جو دین حق اور سیدھی راہ پر قائم ہیں اور اپنی بات پر جمے ہوئے ہیں یہ لوگ رات کی گھڑیوں اور اوقات شب میں اللہ تعالیٰ کی آیتیں یعنی قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور ان کی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں سجدہ ریز ہوتے ہیں یعنی تہجد کی نماز پڑھتے ہیں۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ اہل کتاب سب برابر نہیں ہیں بلکہ ان میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو بالکل سیدھی راہ پر قائم ہیں افراط وتفریط سے پاک ہیں اور اسلام پر جمے ہوئے ہیں جیسے عبد اللہ بن سلام اور ان کے چند ساتھی جو اسلام لے آئے تھے ان ہی کو امۃ قائمۃ فرمایا ہے ان لوگوں کی عبادت کی حالت یہ ہے کہ فرائض تو فرائض نوافل تک بڑی پابندی کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔
ساعات شب اور رات کے اوقات میں قرآن شریف کی تلاوت کرتے اور نمازیں پڑھتے۔
یسجدون سے مراد نماز سے چونکہ سجدہ نماز میں خاص اہمیت رکھتا ہے اور نماز کا بہت بڑا اور اہم جز ہے اس لئے نماز کی بجائے سجدہ استعمال کیا ہے اور جز بول کر کل مراد لیا ہے نماز سے مراد تہجد کی نماز ہے آگے پھر انہی مخلصین کی مدح اور تعریف مذکور ہے۔ (تسہیل)