Ayahs 3:18–19ف 3۔ اللہ تعالیٰ نے خود بہ نفس نفیس اس امر کی شہادت دی ہے کہ اس کے سوا کوئی دوسرا معبود ہونے کے لائق نہیں اور اس کی نشان یہ ہے کہ وہ عدل و انصاف کے ساتھ ہر چیز کا انتظام رکھنے والا ہے اور فرشتوں نے اور دوسرے اہل علم نے بھی حضرت حق کی توحید اور اس کے یکتا ہونے پر شہادت دی ہے۔ پھر کہا جاتا ہے کہ اس معبود برحق کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں وہ کمال قوت اور کمال علم و حکمت کا مالک ہے۔ ( تیسیر)
بغوی نے روایت کیا ہے کہ دو یہودی عالم شام سے مدینہ آئے تھے ۔ انہوں نے مدینہ کو دیکھ کر کہا کہ یہ شہر تو بالکل اس شہر کے مشابہ ہے جو نبی آخر الزماں کا وطن ہوگا اور جس کا ذکرہماری کتابوں میں موجود ہے اس پر ایک نے دوسرے کی تصدیق کی ۔ جب یہ لوگ مدینہ میں داخل ہوئے اور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے آپ کی صفات سے آپ کو پہچان کر دریافت کیا آپ محمد ﷺ ہیں آپ نے فرمایا کہ ہاں میرا نام محمد ہے پھر انہوں نے کہا کیا آپ احمد ؐ ہیں آپ نے فرمایا میرا نام محمد بھی ہے احمد بھی ہے اس کے بعد انہوں نے کہا اچھا ایک بات اور بتا دیجئے اللہ تعالیٰ کی کتاب میں سب سے بڑی شہادت کون سی ہے اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں اور انہوں نے جب یہ آیتیں سنیں تو وہ مسلمان ہوگئے۔
اللہ تعالیٰ کی شہادت کا مطلب یہ ہے کہ تمام کتب سماویہ میں اس کا فرمان توحید موجود ہے اور یہی اس کی شہادت ہے جب اللہ تعالیٰ تمام کائنات کا مالک اور خالق ہے اور مخلوق کے ذرے ذرے کو اس کا علم ہے اور وہ خود گواہی دیتا ہے کہ میرے سوا میری تمام مخلوق میں کوئی قابل عبادت نہیں ہے اور نہ کوئی معبود ہونے کا مستحق ہے تو اس سے بڑھ کر اور کس کی گواہی معتبر ہوسکتی ہے پھر دوسری شہادت فرشتوں کی ہے ۔ فرشتے انتظامات کائنات کے کارندے ہیں وہ بھی یہی شہادت دیتے ہیں اور ان کو تسبیح و تمحید سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ کائنات میں کوئی ہستی اس قابل نہیں کہ سوائے اللہ کے معبودبننے کی مستحق اور اہل ہو ۔ فرشتے چونکہ خود توحید کے مقرر ہیں اس لئے یہی ان کی شہادت ہے باقی اہل علم تو وہ خود بھی توحید کے قائل ہیں اور دوسروں کو بھی اللہ تعالیٰ کی توحید کی دعوت دیتے ہیں اور مختلف دلائل سے تقریر اور تحریر میں اثبات توحید کرتے ہیں لہٰذا یہ ان کی شہادت ہے ۔ ان تین زبردست شہادتوں کے بعد کسی مشرک کو شرک کی گنجائش کہاں باقی رہتی ہے۔ ایک خود باری تعالیٰ کی شہادت دوسری فرشتوں کی شہادت ، تیسری اہل علم کی شہادت۔
قائما ً بالقسط کے معنی کئی طرح کئے گئے ہیں لیکن ہم نے ایک معنی اختیار کر لئے ہیں اور قائما کو اللہ تعالیٰ سے حال رکھا ہے جیسا کہ ہمارے ترجمہ اور تیسیر سے ظاہر ہے۔
مطلب یہ ہے کہ یہ شہادت اللہ تعالیٰ کی راستی اور انصاف کے ساتھ یا قیام انصاف کی غرض سے ہے جو اصل مقصد شہادت کا ہے جیسا کہ پانچویں پارے میں ارشاد ہے۔
کونوا قوامین بالقسط شھداء اللہ
اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ وہ ہر چیز کا انصاف اور اعتدال کے ساتھ انتظام کرنے والا ہے یعنی توحید کی شہادت کے ساتھ اس کی یہ شان بھی ہے کہ وہ پوری کائنات کا اعتدال کے ساتھ انتظام چلا رہا ہے اور جب اس کی یہ شان ہے تو اس کے علاوہ دوسرا کون ہے جس کو اس کا ہمسر کہا جاسکے ۔ آخر میں پھر مضمون شہادت کی تاکید ہے جو مستقل دلیل عقلی بھی ہے کہ جب وہی ہر قسم کی قوت و حکمت کا مالک ہے تو وہی معبود برحق ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ آخری جملہ قائما بالقسط کی دلیل ہو اس لئے کہ انصاف کے لئے دو باتوں کی عام طور سے ضرورت ہوتی ہے ایک حکومت و قوت کہ اس کے فیصلے سے کوئی سرتابی نہ کرسکے۔
دوسرے حکمت کہ جو فیصلہ کرے دانائی اور حکمت کے ساتھ کرے اور خوب جانچ کر فیصلہ صادر کرے اس لئے فرمایا :
لاالہ الا ھو العزیز الحکیم
اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ عیسائیوں کے کفارے کا د ہے کہ تم جو یہ کہتے ہو کہ سب کی طرف سے ایک شخص کو کفارہ کردیا گیا یہ تو بالکل انصاف کے خلاف ہے اور اللہ تعالیٰ انصاف کا حاکم ہے اور اعتدال کے ساتھ انتظام عالم کا حقیقی منتظم ہے وہ ایسا غیر منصفانہ فیصلہ کس طرح کرسکتا ہے کہ مسیح کو ساری مخلوق کا ذمہ دار ٹھہرا کر اس کا کفارہ لے لے اور تمام مجرموں کو بری کر دے ( واللہ اعلم بالصواب)
یوں تو احتمالات بہت ہیں لیکن بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ توحید کی اہمیت کے لحاظ سے اولہ ٗ توحید کو بیان کرنے کے بعد مکرر ذکر کردیا گیا ہے بعض لوگوں نے قائما بالقسط کو اولو العلم کا حال کہا ہے اور اس کی بھی گنجائش ہے جیسا کہ ہم پہلے اشارہ کرچکے ہیں۔
جب توحید کا مسئلہ صاف اور اسلام کی بنیاد اسی کلمہ توحید پر قائم ہے اور توحید اسلام کے لئے بمنزلہ بنیاد ہے تو اب آگے اسلام کی عام دعوت کا ذکر فرماتے ہیں اور جھگڑا لو لوگوں کے لئے اپنے پیغمبر کی زبانی اسلام کا اعلان کراتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں۔ ( تسہیل)
Ayahs 3:20–21ف 4 ۔ بلا شبہ دین حق اور پسندیدہ دین اللہ تعالیٰ کے نزدیک صرف اسلام ہی ہے اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی یعنی اہل کتاب نے اسلام کی صداقت سے اختلاف نہیں کیا مگر اس وقت جب کہ ان کو اسلام کی حقانیت اور صداقت کا علم پہنچ چکا ۔ اس علم کے پہنچ جانے کے بعد ان لوگوں نے دین حق سے اختلاف کیا اور یہ اختلاف بھی محض باہم حسد اور ایک دوسرے سے بڑھنے کی خاطر کیا اور جو شخص اللہ کی آیتوں کا انکار کرے گا اور کافرانہ روشن اختیار کرے گا تو یقین جانو ! کہ اللہ تعالیٰ بہت جلد اس کا حساب لینے والا ہے پھر اگر اب بھی یہ لوگ اے پیغمبر ! آپ سے کج بحثی اور خواہ مخواہ کی کٹ حجتی کریں تو آپ ان سے فرما دیجئے کہ میں اور میرے پیرو تو سب اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری قبول کرچکے اور میں نے اور جو میرے پیرو ہیں انہوں نے اپنا سر تسلیم اللہ کے آگے خم کردیا اور آپ اہل کتاب اور مشرکین عرب سے دریافت کیجئے کہ کیوں جی تم سب بھی اسلام قبول کرتے ہو اور جو دین ہم نے اختیار کر رکھا ہے تم بھی اس کو قبول کرتے ہو ۔ سو اگر وہ لوگ مسلمان ہوجائیں تو سمجھو کہ وہ راہ پر آگئے اور اگر وہ لوگ روگردانی کریں اور بدستور اپنامنہ موڑیں تو آپ پر ان کی کوئی ذمہ داری نہیں کیونکہ آپ کے ذمہ تو تو صرف پیغام الٰہی اور احکام خداوندی کا پہنچا دینا ہے اور آگے خود اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے اعمال و احوال کو دیکھنے والا ہے۔ ( تیسیر)
ہم الم اور سیقول میں اس آیت کے مضامین کا کچھ حصہ بیان کرچکے ہیں ۔ یہاں نجران کے نصاریٰ کے سلسلے میں یہ مضمون بیان کیا گیا ہے۔ اسلام کے معنی ہم بیان کرچکے ہیں ۔ سونپنا تفویض کرنا ، اپنے کو کسی کے سپرد کردینا ، اور کسی کے حوالے کر کے اس کے آگے گردن ڈال دینا اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری اور احکام کی بجا آوری کے لئے سر جھکا دینا ، یہ سب معنی لفظ اسلام کے آتے ہیں۔
انبیا علیہم الصلوٰۃ والسلام کے مذہب کو بھی اسلام اسی لئے کہا جاتا ہے کہ ایک مسلمان میں یہ سب باتیں ہوتی ہیں وہ اپنے آپ کو خدا کے سپرد کردیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہر حکم کی تعمیل کے لئے اپنا سر جھکا دیتا ہے اسی وجہ سے نبی کریم ﷺ نے مسلمان کی مثال ایک فرمانبردار اونٹ کے ساتھ دی ہے کہ جب اس کو بٹھائو بیٹھ جاتا ہے اور جب اس کو اٹھائو تو وہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور چونکہ اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا مذہب مادیات اور روحانیات دونوں پر مشتمل ہے اس لئے اس سے بہتر کوئی مذہب نہیں ہوسکتا ۔
سوسائٹی اور انسانی عقل جو مذہب بھی تجویز کرے گی اس میں ہرگز اتنی جامعیت نہیں ہوسکتی اور نہ وہ اتنی ضروریات کو پورا کرسکتا ہے جو خود خالق کائنات اور مالک عباد اپنے بندوں کے لئے تجویز کریگا یہی وجہ ہے کہ خدائے تعالیٰ نے اسلام کو اپنا پسندیدہ اور مقبول مذہب فرمایا ہے پھر اہل کتاب کے اختلاف کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ بات یہ نہیں ہے کہ یہ لوگ اسلام یک حقانیت سے واقف نہیں ہیں کیونکہ جو مذہب ان کو ملا تھا وہ بھی تو اسلام تھا اور وہی مکمل رنگ میں خاتم الانبیاء ﷺ کو دیا گیا ہے اور جو کتر بیوت اہل کتاب نے اپنے مذہب میں کردی تھی اس سب کو چھانٹ کر آخری نبی کی امت کو دیا گیا ہے اور ان کو اس مذہب اسلام کی صداقت کا علم مل چکا ہے اور اس کی حقانیت کا یقین ان کو حاصل ہوچکا ہے کیونکہ اول تو خود ان کی کتابوں میں اسلام کی تعریف موجود ہے جو خود ان کا مذہب تھا پھر یہ کہ ان کی کتابوں میں پیشین گوئی موجود ہے جس سے آخری نبی کا مذہب اسلام اور آخری پیغمبر کی کتاب کا نام قرآن ظاہرہوتا ہے انہوں نے اپنے مذہب کو بھی محض ذاتی اغراض اور آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی کرنے کی غرض سے بدل ڈالا ۔
نصاریٰ نے یہود کی دشمنی میں اور یہود نے نصاریٰ کی عداوت میں باہم اختلاف کیا اور آخری نبی کے دین کو قبول کرنے سے بھی محض آپس کے حسد اور حب جاہ اور حب ریاست کی وجہ سے انکار کیا اور اس کے قبول کرنے میں جان بوجھ کر اختلاف ڈالا ۔ اس ضد اور ہٹ دھرمی پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا وجوہات کچھ بھی ہوں جو بھی آیات الٰہی کے ماننے اور قبول کرنے سے انکارکرے گا تو ہمیں اس سے حساب لینے دیر نہیں لگتی ہم اس سے جلد حساب لینے والے ہیں ۔
سریع الحساب کے ہم سورة بقرہ میں دو معنی بیان کرچکے ہیں لیکن یہاں یہی ایک معنی مناسب ہیں اتنی کھلی اور واضح دلیل کے بعد بھی یہ لوگ اگر بحث و مباحثہ کریں جیسا کہ انہوں نے کیا ۔ یہاں مجادلہ کو مجازا ً حاجہ فرمایا ہے۔
بہر حال جب یہ کج بحثی پر آمادہ ہوجائیں تو ان سے کہہ دو کہ میں تو اپنی ذات کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کرچکا ہوں اور وہ لوگ جو میرے پیرو ہیں وہ بھی اپنارخ اللہ تعالیٰ کی طرف کرچکے ہیں یعنی میں اور میرے ساتھی تو مسلمان ہیں تم اسلام قبول کردیا نہ کرو۔
پھر ارشاد فرمایا کہ اے پیغمبر ! آپ ان اہل کتاب سے اور ان پڑھوں یعنی مشرکین عرب سے دریافت کرلیجئے کہ تم مسلمان ہوتے ہو اور کیا تم لوگ اسلام قبول کرتے ہو ۔ آپ کے اس دریافت کرنے پر اگر یہ لوگ اسلام لے آئیں تو یہ صحیح راہ پر پڑجائیں گے اور اگر حسب عادت نہ مانے اور منہ موڑا تو اے پیغمبر آپ کے ذمہ تو صرف احکام کا پہنچا دینا ہے ۔ آپ ان کے قبول کرنے نہ کرنے کے ذمہ دار نہیں ہیں آپ اسلام کی دعوت ان لوگوں تک پہنچا دیجئے باقی ہم اپنے بندوں کے احوال پر خود خوب گہری نگاہ رکھتے ہیں ۔ جیسا مناسب سمجھیں گے ویسا سلوک کریں گے ۔
ہم نے آیت کی تفسیر تمام اقوال کو سامنے رکھ کر کی ہے ہماری تقریر سب صورتوں کو شامل ہے ۔ بعض مفسرین نے اس اختلاف سے یہود و نصاریٰ کا باہم اختلاف مراد لیا ہے اور بعض نے اہل کتاب اور مسلمانوں کا اختلاف مراد لیا ہے۔ پھر آیت کا تعلق وفد نجران کے نصاریٰ سے ہے ہم نے سب کی رعایت رکھ کر تقریر کی ہے ۔ آیت اپنی عمومیت کے اعتبار سے ہر شکل کی گنجائش رکھتی ہے۔ ( واللہ اعلم)
آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ مذہب حق اللہ کے نزدیک اسلام ہے اہل کتاب نے علم صحیح پہنچ جانے کے بعد محض باہمی حسد کے باعث اختلاف ڈالا اور اسلام کو قبول کرنے سے انکار کردیا ، لہٰذا جو احکام الٰہی کا منکر ہوگا اس سے بہت جلد حساب لیا جائے گا یہ دلائل سن کر بھی جھگڑا کریں اور خواہ مخواہ کی کٹ حجتی نکالیں تو اپنے اور اپنے ساتھیوں کے اسلام کا اعلان کردو اور سب کو اسلام کی دعوت پیش کردو ۔ قبول کرلیں تو فیہا ان کا بھلا ہے نہ قبول کریں تو ان کا معاملہ اللہ کے حوالے کرو وہ دانا اور بینا ہے بخران کے نصاریٰ سے اس بحث کی ابتداء ہوئی تھی پھر یہود کا ذکر بھی ان کے ساتھ آگیا ۔ عام دعوت میں اہل کتاب کے ساتھ مشرکین عرب کو بھی شامل کیا گیا ۔ اب آگے یہود کے بعض افعال شنیعہ اور حرکات قبیحہ کا ذکر ہے حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ان پڑھے کہتے تھے عرب کے لوگوں کو ان کے پاس پہلے پیغمبروں کا علم نہ تھا۔ ( موضح القرآن)
حضرت شاہ صاحب (رح) نے لفظ امی ۔ امیین کی وضاحت فرمائی ہے اہل کتاب میں حب جاہ ، حب مال ، اور حب ریاست کا ہونا پہلے پارے میں گزر چکا ہے اسی طرح باہم ایک دوسرے پر ظلم اور زیارتی کا حال بھی پہلے پارے میں تظاھرون عیھم بالاثم والعدوان کی تشریح کرتے وقت گزر چکا ہے۔
رہی یہ بات منکرین کے مقابلے میں صرف اتنا کہہ دینا کہ میں تو اسلام قبول کرچکا تم کو اختیار ہے یہ کس طرح کافی ہوسکتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ عا م منکرین کو جواب نہیں دیا گیا ہے بلکہ ان خاص منکروں کو جواب دیا گیا ہے جو کسی شبہ کی بناء پر منکر نہ تھے بلکہ محض عداوت اور عناد کی بنا پر انکار کرتے تھے۔۔۔۔ ایسے لوگوں کے سامنے مکرر دلائل کا بیان کرنا بےکار ہونا ۔
اسلمت وجہی کے معنی بھی من اسلم وجھہ میں گزر چکے ہیں یعنی اپنا منہ اللہ کے سامنے دھر دیا ہے یہ لفظی ترجمہ ہے اور مطلب وہی انقیاد و اطاعت ، تسلیم و رضا اور تفویض الی اللہ ہے اور یہی ایک مسلمان کی زندگی کا حقیقی مقصد ہے۔ ( تسہیل)
Ayahs 3:22–24ف 1۔ بلا شبہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کی آیات اور اس کی ہدایت کو ماننے سے انکار کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے پیغمبروں کو ناحق جانتے ہوئے قتل کر ڈالتے ہیں اور خدا کی مخلوق میں سے جو لوگ عدل و راستی اور حق و انصاف کی تعلیم و ترغیب دیتے ہیں ان کو بھی قتل کر ڈالتے ہیں ۔ سوائے پیغمبر ایسے لوگوں کو درد ناک عذاب کی خوش خبری دے دیجئے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا و آخرت دونوں میں ضائع ہوگئے اور ان کے تمام اعمال صالحہ غارت ہوگئے اور ان کا کوئی حامی و مدد گار نہ ہوگا یعنی عذاب کے وقت ۔ ( تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ خصائل مذکورہ بنی اسرائیل میں سے فرقہ یہود کے ہیں اور اگرچہ یہ کام سابقہ لوگوں نے کئے تھے لیکن حضور ﷺ کے زمانہ کے یہودی بھی اپنے اسلاف کی ان حرکات شنیعہ کو پ سندیدہ نگاہ سے دیکھتے تھے اس لئے ان افعال کی نسبت تمام یہود کی طرف صحیح ہے اور یہود کے یہ خلف صرف یہی نہیں کہ اپنے اسلاف کی ان نازیبا حرکات کو پسند کرتے تھے بلکہ نبی آخر الزمان ؐ کے قتل کی سازش بھی کیا کرتے تھے ۔ اس لئے پہلے اور پچھلے سب ہی مورد الزام قرار پائے۔
حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب کا مستحق کون ہوگا ۔
آپ نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی نبی کو قتل کر دے یا ایسے شخص کو قتل کر دے جو بھلائی کا حکم کرے اور بری باتوں سے روکے ، پھر حضور ﷺ نے یہ آیت پڑھی۔
ویقتلون النبین بغیر حق ویقتلون الذین یا مرون بالقسط من الناس
پھر آپ ﷺ نے فرمایا اے ابو عبید ہ ؓ ! بنی اسرائیل نے تینتالیس 34 پیغمبروں کو ایک دن دوپہر تک قتل کردیا پھر ان کی جگہ ان کے متعبین میں سے ایک سو بارہ عالموں نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی خدمت اپنے ذمہ لے لی ۔ لیکن ا ن بنی اسرائیل نے ان سب علماء اور صوفیاء کو بھی شامل تک قتل کر ڈالا ۔ ان ہی لوگوں کا وہ واقعہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان فرمایا ہے۔
بعض روایات میں ایک سو ستر ہیں ۔ بغیر حق کا مطلب یہ ہے کہ یہود جانتے تھے کہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کا قتل کرنا حرام ہے اور نبی کا قتل کرنا بہر حال ناحق ہے اس لئے ہم نے ترجمہ اور تیسیر میں ناحق جانتے ہوئے ترجمہ کیا ہے اور ہم یہ بات سورة بقرہ میں بتا بھی چکے ہیں۔ اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ وہ صرف نبیوں کو ہی قتل نہیں کرتے تھے بلکہ ان کے جانشین علماء اور زہاد کو بھی قتل کردیا کرتے تھے۔ گویا ہدایت کی تمام راہیں اور سب دروازے ہی مسدود کرنے کے درپے تھے اور ہمیشہ اہل باطل کا یہی دستور رہا ہے کہ انہوں نے پیغمبر کے بعد علماء حق کو قتل کیا ہے اور ان کے اثر کو زائل کرنے کی ہمیشہ کوشش کی ہے تا کہ حق کی مخالفت میں ان اہل باطل کو آسانیاں مہیا ہوجائیں اور کوئی جائز و ناجائز کہنے والا باقی نہ رہے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی آواز بند ہوجائے۔
حبطت کے معنی ہم سورة بقرہ میں بیان کرچکے ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ ان حرکات کے باعث ان کے تمام نیک اعمال برباد ہوگئے ۔ دنیا میں بھی ان کی تمام کوششیں بیکار گئیں اور کوئی مفید نتیجہ برآمد نہیں ہو اور آخری میں بھی ان کے بھلے اعمال کا ان کو کوئی پھل نہیں ملا اور عذاب کے وقت ان کا کوئی حمایتی بھی نہیں نکلا جو ان کی کچھ مدد کرتا اور ہر کافر کے کفر کا انجام یہی ہوا کرتا ہے ۔ عذاب کی خبر کو بشارت سے تہکما ً ذکر فرمایا ہے جس طرح ایک ذی اقتدار سزا دیتے وقت کہا کرتا ہے کہ میں تم کو بشارت دیتا ہوں تم کو جیل بھیجا جائے گا یا سخت سزا دی جائے گی۔
آگے یہود کے ایک اور واقعہ کا ذکر ہے کسی موقع پر اثنائے گفتگو میں یہود نے کسی بات کا دعویٰ کیا تھا اور یہ کہا تھا کہ ہماری کتاب میں ایسا ہی لکھا ہے ہوسکتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو یہودی کہہ کر توریت کی طرف نسبت کی ہو۔
جیسا کہ حضرت عکرمہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ زانی کو رجم کرنے کے سلسلہ میں کوئی غلط مسئلہ توریت کا نام لے کر بیان کردیا ہو جیسا کہ کلبی نے بواسطہ ابو صالح حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے۔
بہر حال اس بات پر نبی کریم ﷺ نے مطالبہ کیا کہ توریت لائو اور جو کچھ تم کہتے ہو وہ توریت میں دکھائو اس پر ان لوگوں نے توریت لانے سے انکار کردیا جس نے یہ غلط بیان کی اس کا نام ابن صور یا نعیم بن عمرو تھا ۔ بہر حال نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے۔ ( تسہیل)
Ayah 3:25ف 2۔ اے پیغمبر ﷺ ! کیا آپ نے ان لوگوں کا حال ملاحظہ نہیں کیا جن کو کتاب سماوی یعنی توریت کے علم میں سے ایک خاص اچھا حصہ دیا گیا ہے یعنی توریت کے اچھے خاصے عالم ہیں ان لوگوں کو اس عرض کے لئے کتاب الٰہی کی طرف دعوت دی جاتی ہے تا کہ وہ کتاب اللہ ان کے مابین مذہبی اختلاف کا فیصلہ کر دے اور توریت کو پڑھنے سے صحیح حکم معلوم ہوجائے تو کچھ لوگ ان ہی میں سے اس دعوت الی الکتاب سے بےرخی اور اغراض و انحراف کرتے ہوئے پہلو تہی کرتے ہیں اور منہ پھیرلیتے ہیں ان کی اس بےرخی اور اعراض و انحراف کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ یوں کہتے کہ ہم کو تو آتش دوزخ صرف چند روز کے سوا مس بھی نہیں کرے گی اور ان کو ان کے دین کے بارے میں ان کی ان افترا پر دازیوں اور ان کے خود ساختہ عقائد نے مبتلائے فریب کر رکھا ہے اور ان کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے مگر اس گھڑی ان کا کیا خال ہوگا اور ان پر کیا بنے گا جب ہم ان سب کو اس دن جمع کرلیں گ جس دن کے آنے میں ذرا شک و شبہ نہیں اور اس روز ہر شخص کو اس کی کمائی کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور کسی پر بالکل ظلم نہ کیا جائے گا ۔ ( تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ جب مسئلہ کی تحقیق کے لئے انہی کی مسلمہ کتاب کی طرف ان کو بلایا جاتا ہے کہ لائو اپنی کتاب لے آئو تا کہ وہ ان کے درمیان صحیح فیصلہ کر دے اور جو مذہبی اختلاف ہے وہ دور ہوجائے تو ان کے اچھے خاصے علماء کا حال یہ ہے کہ اس معقول مطالبے سے پہلو تہی اور روگردانی کر جاتے ہیں آگے وجہ بیان فرمائی کہ اس سے بےرخی کا سبب یہ ہے کہ یہ لوگ یوں سمجھے بیٹھے ہیں کہ یہ جہنم میں جانے ہی کے نہیں اور اگر کہیں ان کو جانا بھی پڑا تو صرف گنتی کے چند دن وہ چالیس دن ہوں یا سات دن ہوں۔
بہر حال ! ان دنوں کے بعد جہنم سے نکل آئیں گے۔
حضرت حق نے فرمایا ان کو ان کے خود ساختہ عقائد اور خانہ ساز افتراء پر درازی نے فریب خوردہ کر رکھا ہے اور یہ لوگ غلط فہمی میں مبتلا ہیں ۔ آخری آیت میں تخویف اور وعید ہے کہ اس دن ان پر کسی بری بنے گی جس دن خدا کے روبرو سب جمع ہوں گے اور وہ دن قیامت کا ایسا ہے کہ اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ۔ پھر اس دن صرف اجتماع ہی نہیں بلکہ ہر شخص کو اپنے اپنے کئے کا بدلہ بھی پانا ہے۔ پھر جب تمہارے ان مجرمانہ اعمال و غلط عقائد کا بدلہ ملے گا تو کیا حال ہوگا ۔ آخری ٹکڑے میں ظلم کی نفی ہے یعنی نہ ثواب میں کمی اور نہ سزا میں زیادتی۔
حضرت شاہ صاحب (رح) یفترون کے تحت فرماتے ہیں یہ ذکر یہود کا ہے کہ قضیے میں اپنی کتاب پر بھی عمل نہیں کرتے اور گناہ پر دلیر ہیں اس غرہ پر کہ ان کے پہلے جھوٹ بنا کر کہہ گئے ہیں کہ ہم میں اگر کوئی بہت گناہ گار ہوگا تو سات دن سے زیادہ عذاب نہ پاوے گا ۔ ( موضح القرآن)
فقیر سورة بقرہ میں یہو د کے اس قول کی تفصیل عرض کرچکا ہے۔ چالیس دن کا قول شاید اس بنا پر ہو کہ ان کے بزرگوں نے چالیس دن تک گئو سالہ پرستی کی تھی۔ ( واللہ اعلم)
چونکہ اوپر جنگ بدر کی طرف اشارہ آیا تھا اور اس وقت مسلمانوں کی حالت مالی اعتبار سے جیسی نازک تھی اس کا مختصر تذکرہ ہوچکا ہے اور یہ امر طبعی ہے کہ جب انسان اپنے مخالفوں کو اچھی حالت میں دیکھتا ہے اور اپنے کو فقر و افلاس میں مبتلا پاتا ہے تو قدرتی طور پر یہ خیال ہوتا ہے کہ کافروں کے ساتھ ایسی خوشحالی کا معاملہ اور اپنوں کے ساتھ اس قسم کے فقر و فاقہ کا برتائو کیوں ہے ممکن ہے کہ کسی نے اس کو سرکاردو عالم ﷺ ؓ کے گوش گزار بھی کیا ہو اور آپ نے مسلمانوں کو اطمینان دلایاہو جایسا کہ بعض روایات سے معلوم بھی ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فارس اور روم کے فتح ہونے کی بشارت دی تھی اور اس بعض اہل کتاب نے مذاق بھی اڑایا تھا۔
حضرت حق جل مجدہٗ نے اس سوال اور خواہش کا جواب بہترین اور نہایت لطیف پیرایہ میں دیا جو بظاہر ایک دعا ہے جو نبی کریم ﷺ کو تعلیم کی گئی ہے ۔ لیکن اس دعا میں وہ سب کچھ ہے جس کی ایسے موقع پر ضرورت تھی ۔ مسلمانوں کیلئے اطمینان بھی ہے اپنی قدرت اور مالکیت کا اظہار بھی ہے ۔ دن رات اور مردے زندے کے ذکر میں انقلاب کی ایک مکمل تصویر بھی ہے ۔ آئندہ کی ترقی اور مالی برتری اور غلبہ کی طرف اشارہ بھی ہے۔ غرض ایسا عمدہ پیرایہ اختیار کیا ہے جس کی خوبیاں بیان بلکہ تصور سے ہی باہر ہیں اگر اس آیت پر اجزاء کے اجزاء بھی لکھے جائیں تو کم ہیں ۔ چناچہ نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے ارشادفرماتے ہیں۔ ( تسہیل)
Ayah 3:26ف 3۔ اے پیغمبر ! آپ یوں کہیئے اے اللہ ! مالک تمام ملک کے تو جس کو چاہتا ہے اپنے ملک کا کوئی حصہ عنایت کردیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے ملک واپس لے لیتا ہے اور تو جس کو چاہے غلب دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے پست اور ذلیل کردیتا ہے تیری ہی قبضے اور اختیار میں خیر ہے بلا شبہ ہر چیز پر تو پوری طرح قادر ہے۔
ملک سے مراد تمام عالم امکان ہے حضرت حق تعالیٰ کو اپنی کائنات پر چونکہ ہر قسم کے تصرف کا حق حاصل ہے اس لئے جس کو جس قدر چاہتا ہے ملک دے دیتا ہے اور جس سے جس قدر حصہ ملک واپس لینا چاہتا ہے اس کے قبضے سے نکال لیتا ہے اور واپس کرلیتا ہے ۔ جس کو چاہتا ہے غلبہ اور اقتدار دے دیتا ہے ۔ خواہ دنیا میں خواہ آخرت میں اسی طرح جس کو پست اور ذلیل کرنا چاہے پست اور ذلیل کردیتا ہے ۔ خواہ دنیا میں خواہ آخرت میں خیر کا مالک تو ہی ہے۔
چونکہ یہاں طلب خیر مقصود ہے اس لئے خیر کا ذکر فرمایا ۔ ورنہ ظاہر ہے کہ جس طرح خیر اس کے اختیار میں ہے اسی طرح شر بھی اس کے اختیار میں ہے جیسا کہ آخری ٹکڑے میں اس طرف بھی ہے ۔ انک علی کل شئی قدیر میں خیر و شر دونوں داخل ہیں ۔ ہوسکتا ہے کہ ادب کی رعایت سے شرکا ذکر نہ فرمایا ہو۔
مالک الملک کی ترکیب میں دو احتمال تھے ہم نے ایک کی رعایت ترجمہ میں اور دوسرے کی رعایت تیسیر میں کی ہے جس طرح اس آیت میں مسلمانوں کے اطمینان کا سامان ہے اور ان کو یہ بتایا ہے کہ سلطنت خواہ مادی ہو یا روحانی عزت خواہ دنیوی ہو یا اخروی یہ سب اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے ۔ وہ جب چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے کسی کو اپنے ملک کا کچھ حصہ دے دیتا ہے اس لئے مسلمانوں کو گھبرانا اور پریشان نہیں ہونا چاہئے۔ قوموں کی نشیب و فراز اور اتار چڑھائو ہمارے ہی اختیار میں ہیں۔
یہ ہوسکتا ہے کہ آج کے غریب کسان اور اونٹ و بکریاں چرانے والے لوگ کل روم وفارس کے تاجدار بنا دیئے جائیں ۔ یہ کوئی مستعبد نہیں ہے اسی طرح اس آیت میں جب جاہ حب ریاست کے متوالوں کو بھی تنبیہ ہے ۔ جیسا کہ وفد نجران کے امیر الوفد ابوحارثہ بن علقمہ نے کہا بھی تھا کہ اگر ہم مسلمان ہوجائیں اور اسلام قبول کرلیں تو ہمارے وہ تمام وظائف جو عیسائی سلطنتوں سے ہم کو ملتے ہیں بند ہوجائیں گے اور اس وقت جو عزت و آبروہم کو حاصل ہے وہ جاتی رہے گی ۔ اس پر تنبیہ فرمائی کہ تمام عالم تو ہمارا ہے ہم جس کو چاہتے ہیں اپنے ملک کا کوئی حصہ کسی کو دے کر حکمران بنا دیتے ہیں اور جب چاہتے ہیں کسی سے حکمرانی چھین لیتے ہیں۔
آج جن سلطنتوں کے تم وظیفہ یاب ہو اگر کل وہ سلطنتیں بھی نہ رہیں تو کیا کرو گے اور اس حصہ ملک کے اگر مسلمان حاکم ہوگئے جس کے آج عیسائی ہیں تو پھر تمہارا کیا حشر ہوگا ۔
اب اسی اتار چڑھائو اور تاریخی انقلاب پر ایک اور استدلال فرماتے ہیں اور اس کا طریقہ بھی خوب ہی اختیار فرماتا ہے ۔ یعنی وہ بھی اللھم ملک الملک کا ایک حصہ ہے اور اسی دعا کا جز ایک ہے جو اپنے پیغمبر کو تعلیم فرمائی ہے مگر ایک ٹکڑا دعویٰ ہے عموم مالکیت کا اور دوسرا ٹکڑا اس عموم کی دلیل ہے کہ زمین کی حکومتوں کی الٹ پلٹ اسے کیا مشکل ہے جو دن رات کی الٹ پلٹ کرتا ہے تاریک زمانہ کو روشن کرتا اور روشن حصہ کو بےنور کردیتا ہے اور اس کے نزدیک پست اقوام کو اونچا کردینا اور اونچوں کو نیچا کردینا کون سا مشکل کام ہے جو مردوں سے زندہ اور زندوں سے مردہ نکالتا ہے ۔
سبحان اللہ ! کیا ترکیب ہے اور کیا حسن بیان اور کیا خوب استدلال ہے، چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 3:27ف 1 ۔ اے مالک الملک تورات کے کچھ حصہ کو دن میں داخل کردیتا ہے اور تو دن کے بعض حصے کو رات میں داخل کردیتا ہے یعنی کبھی کے دن بڑے کبھی کی رات اور اے مالک تو ہی جاندارچیز کو بےجان سے نکالتا ہے اور بےجان چیز کو جان دار سے نکالتا ہے اور تو جسے چاہتا ہے بیشمار روزی عطا فرماتا ہے۔ ( تیسیر)
ملکی انقلاب اور چھوٹی اقوام کو عروج ترقی عطا کرنے پر رات اور دن کے چھوٹے۔۔۔۔ بڑے ہونے سے استدلال کرنا اور مردوں سے زندہ اور زندوں سے مردوں کے نکالنے کا ذکر کرنا یہ استدلال حضرت حق تعالیٰ ہی کے کلام میں مل سکتا ہے نہ کسی اور کو نظام کائنات پر یہ دسترس حاصل ہے اور نہ کوئی اس قسم کا استدلال کرسکتا ہے ۔ سردی کے موسم میں رات بڑی ہوتی ہے اور گرمی کے موسم میں دن بڑا ہوتا ہے اس کو ایلاج سے تعبیر فرمایا ہے یعنی دن رات میں چلا جاتا ہے اور رات دن میں چلی جاتی ہے ۔ بےجان سے جاندار جیسے انڈے سے بچہ اور جاندار سے بےجان جیسے پرندے سے اندا ۔ یا جیسے مومن سے کافر او کافر سے مؤمن ، جاہل سے عالم اور عالم سے جاہل ، غلام قوموں سے حکمراں نکلتے ہیں اور حکمراں قوموں میں سے غلام نکلتے ہیں ۔ غلامی کی تاریکی حکمرانی کے نور سے بدل جاتی ہے اور حکمرانی کے نور کو کبھی بغاوت کی تاریکی غلام کر کے ڈول دیتی ہے۔ غریبوں کی اولاد سرمایہ دار ہوتی ہے اور سرمایہ داروں کی اولاد کو مزدور کردیا جاتا ہے۔
غرض کیا خوب استدلال ہے جس قدر چاہے مطلب بیان کرتے چلے جائو اور انقلاب ملکی کی عام طور سے دو صورتیں ہوتی ہیں ایک تو کبھی دو قوموں میں اتار چڑھائو رہتا ہے کبھی روم کا غلبہ فارس پر کبھی فارس کا غلبہ روم پر اور کبھی خلاف توقع ایسے لوگ برسر اقتدار آجاتے ہیں جن کے متعلق خیال بھی نہیں ہوتا کہ یہ اتنی ترقی کر جائیں گے اور اسی طرح بعض دفعہ ایسی پرانی اور بڑی مضبوط سلطنت پاش پاش ہوجاتی ہے جس کے متعلق خیال بھی نہیں ہوتا کہ یہ ختم ہوجائے گی۔
جیسا ہمارے دور میں جاپان اور جرمن کا زوال ، اٹلی اور فرانس کا زوال اور ان دونوں کی تباہی غرض تو لج اللیل کی آیت میں ہر قسم کے انقلاب پر استدلال کیا جاتا ہے۔ آخر میں جو بیشمار رزق کا اظہار فرمایا اس میں بھی ایک طرف مسلمانوں کو تسلی ہے اور دوسری طرف وفد نجران کو اطمینان دلانا مقصود ہے کہ کسی سلطنت کے منصب اور وظیفہ کا خیال حق کے قبول کرنے سے مانع نہ ہونا چاہیے ۔ رزق کے مالک تو ہم ہیں جس کو چاہتے ہیں بیشمار روزق سے سرفراز فرماتے ہیں۔
ابو العباس المقری کا قول ہے کہ قرآن میں بغیر حساب تین معنی کے لئے آتا ہے ۔ بلا مشقت بلا شمار اور بلا مطالبہ ۔
حضرت علی ؓ سے مروی ہے ۔ سورة فاتحہ، آیت الکری اور ایک آیت شھد اللہ انہ اور ایک آیت قل انھم کی بغیر حساب تک یہ آیتیں اللہ تعالیٰ سے درخواست کرتی ہیں کہ جو ہم کو پڑھے اس کے متعلق کوئی امید افزا بات ہونی چاہئے۔
ارشاد ہوتا ہے جو تم کو ہر نماز کے بعد پڑھے گا میں اس کا ٹھکانہ جنت میں بنائوں گا اور اس کو خطیرۃ القدس میں جمع دوں گا ۔
ایک حدیث قدسی کا مضمون یہ ہے کہ میں اللہ ہوں تمام بادشاہوں کا بادشا ہ ہوں۔
بادشاہوں کے قلوب اور ان کی پیشانیاں میرے قبضے میں ہیں ، لہٰذا جب میرے بندے میری فرمانبرداری کرتے ہیں تو میں بادشاہوں کے قلوب مخلوق پر مہربان کردیتا ہوں اور جب میرے بندے نافرمانی کرتے ہیں تو میں ان کے بادشاہوں کے قلوب ان پر سخت کردیتا ہوں تم ایسے موقعہ پر بادشاہوں کو برا بھلا نہ کہا کرو بلکہ اپنی اصلاح کیا کرو اور نافرمانی سے توبہ کیا کرو بہر حال ان آیتوں سے یہ بات واضح ہوگئی کہ ہر قسم کی حکومت ، عزت ، ترقی ، تنزل ، امیری ، غریبی ، غرض کائنات کے تمام نشیب و فراز حضرت حق کے قبضے اور اختیار میں ہیں جب یہ بات معلوم ہوگئی تو دین حق کے قبول کرنے میں کسی قرابت دار کی قرابت یا زمانہ جاہلیت کی دوستی یا کسی حکومت سے راہ و رسم اور اس کا منصب مانع نہیں ہونا چاہئے بلکہ اس قسم کی دوستیاں اور تعلقات جو دین حق کے قبول کرنے میں مانع ہوں سب نظر انداز کردیئے جائیں بلکہ سب کو ختم کردینا چاہئے۔
آگے اسی مضمون کی تصریح اور وضاحت فرماتے ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) کہتے ہیں ۔ یعنی یہود جانتے تھے کہ جو اول ہم میں بزرگی تھی وہی ہمیشہ رہے گی۔ اللہ کی قدرت سے غافل ہیں جس کو چاہے عزیز کرے اور سلطنت دیوے اور جس سے چاہے چھین لیوے اور ذلیل کرے اور جاہلوں میں سے کامل پیدا کرے اور کاملوں میں سے جاہل اور جس کو دیا چاہے رزق بےحساب دیوے۔ ( موضح القرآن)
یعنی دائمی طور پر یہود کو ہی برتری رہے۔ یہ ضروری نہیں ہوسکتا ہے کہ نصاریٰ کو برتری حاصل ہوجائے اور ہوسکتا ہے کہ مسلمان زمین کے وارث بنا دیئے جائیں ، دنیاوی برتری کا کوئی اعتماد نہیں۔ ( تسہیل)
Ayahs 3:28–29ف 2۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست اور رفیق نہ بنائیں اور جو شخص ایسا کرے گا یعنی مسلمانوں کو نظر انداز کر کے کافروں سے دوستی بڑھائے گا تو اللہ تعالیٰ سے اس کی دوستی کا کوئی واسطہ اور کوئی تعلق نہیں مگر ہاں وہ حالت ستثنا ہے کہ تم کو کافروں کے شر سے بچنے کیلئے ایسا کرنا پڑے اور تم کو ان سے کوئی سخت اندیشہ ہو اور تم بظاہر ان سے دوستانہ طرز عمل اختیار کرلو اور اللہ تعالیٰ تم کو اپنے سے ڈراتا اور خوف دلاتا ہے اور تم کو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف پلٹ کر جانا ہے یعنی بہر حال آخری مرجمع اسی کی ذات ہے۔ ( تیسیر)
مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں سے دوستی کرنے کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کو بالکل نظر انداز کردیا جائے یا مسلمانوں سے بھی دوستی کریں اور کافروں کو بھی دوست بنائے رکھیں ۔ ہم اس سورت کی تمہید میں عرض کرچکے ہیں کہ مسلمان کے لئے مدینہ منورہ کا ابتدائی دور بڑی مشکلات کا دور تھا جنگ بدر میں جو مسلمانوں کو بےپناہ کامیابی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوئی اس نے مدینہ کی زندگی میں مسلمانوں کے لئے نئی نئی شکلیں پیدا کردیں ۔ ایک طرف اہل کتاب کی خفیہ اور اعلانیہ ریشہ دوانیاں دوسری طرف مدینہ کے لوگوں میں منافقین کی کثرت اور ان کی خفیہ سازشیں ، پھر جو لوگ مکہ سے ہجرت کر کے آئے تھے اور ان کے متعلقین مکہ میں رہ گئے تھے ان کا خیال کہ کہیں کفار ان کی گزند نہ پہنچائیں۔ پھر بعض کافر قرابت داروں اور رشتہ داروں کا خیال اور ان کے تعلقات کی فکر ، پھر بعض مسلمانوں کا کفار مکہ کی قید اور اسیری میں مبتلا رہنا ، ان کا رنج اور خیال یہ سب وہ باتیں تھیں جن کی وجہ سے مسلمان سخت پریشان تھے اگر سب سے کھلم کھلا بگاڑیں تو خطرہ اور اگر دوستانیہ رکھیں اور دوستانیہ میں کوئی بات منہ سے نکل جائے اور اپنا کوئی بھید ظاہر ہوجائے تو مشکل پھر کافروں کی حالت بھی مختلف تھی بعض کافر تھے مگر باوجود کفر کے مسلمانوں کے ہمدرد تھے اور مرنجان مرنج پالیسی رکھتے تھے بعض ظاہر میں مسلمان ہوگئے تھے لیکن اندرونی طور پر مسلمانوں کے سخت دشمن تھے اور مہاجرین کے خلاف ہر وقت پروپیگنڈا کرتے رہتے تھے۔
بعض مسلمان بھی یہ چاہتے تھے کہ گو ہم مسلمان ہوگئے اور کفر کی ملت کو ہم نے ترک کردیا لیکن جو سابقہ تعلقات تھے ان کو باقی رکھنا چاہئے ، تعلقات اپنی جگہ اور مذہب اپنی جگہ۔
اگرچہ یہ سب باتیں اس قابل تھیں کہ تمدنی اور شہری زندگی میں ان کا لحاظ کھا جاتا ہے اور یہ ان باہمی تعلقات اور باہمی رواداری کے مختلف الخیال حضرات کا ایک شہر میں رہنا بہت مشکل ہوجاتا ہے لیکن سیاسی نقطہ ٔ نگاہ اور اسلام کے عام مفاد کا خیال بہر حال مقدم رکھا جاتا ہے ۔ اگر مسلمان اور کافر یوں باہم گھی کھچڑی کی طرح رہتے اور باہمی میل جول اور دوستانہ سبحالہ باقی رہتے تو نہ کفر سے منافرت پیدا ہوتی ہے اور نہ دل کھول کر مسلمان اعلائے کلمۃ اللہ کرسکتے اور نہ کفر و اسلام باہم متمیز ہوتے اور نہ مسلمانوں کو وہ غلبہ میسر ہوتا جو ان کی زندگی کا اصل مقصد تھا۔ بلکہ اسلام ایک مخلوط مذہب بن کر رہ جاتا ، کیونکہ تعلقات اور دوستانے کا اثر خیالات پر پڑنا یقینی ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس خطرے سے بچانے کیلئے صاف طور پر کافروں سے ترک موالات کا حکم دے دیا تا کہ کفر مسلمانوں کے خیال میں کوئی خاص اور امتیازی جگہ حاصل نہ کرنے پائے اور چونکہ یہ ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ کافر اللہ تعالیٰ کے دشمن ہیں اور مسلمان اللہ تعالیٰ کے دوست ہیں ۔ اس لئے فرمایا کہ ہم سے دوستانہ تعلقات جب ہی رہ سکتے ہیں جب کافروں سے دوستانہ ترک کردیا جائے۔
فلیس من اللہ فی شیئی کا مطلب یہی ہے کہ ہماری دوست کے اعتبار سے تمہاری کوئی حیثیت باقی نہیں رہے گی اور ہماری دوستی سے تم کو ہاتھ دھونے پڑیں گے باقی کفار کے غلبہ کی حالت کو مستثنا قرار دیا تا کہ قانون مکمل ہوجائے اگر کفار کہیں مسلمانوں کی بدقسمتی سے غالب ہوجائیں تو اس میں قلب کی حفاظت کرتے ہوئے کئی طرح کی گنجائش ہے ۔ ظاہری طور پر دستانہ طرز عمل بھی اختیار کرسکتے ہو بلکہ خطرہ قوی ہوجائے اور ہلاکت کا اندیشہ یقین ہو تو زبان سے کلمۂ کفر کے اجرا کی بھی رخصت ہے جیسا کہ انشاء اللہ سورة نحل میں آجائے گا۔
باقی رہی مدارات اور ملا ظفت یعنی خوش خلقی اور ظاہر طور پر نرم گفتگو اور مواسات یعنی احسان اور نفع رسانی اور مشارکت یعنی کسی متحدہ مقصد میں باہم اشتراک یا کافر مہمان کی تواضح ، تو یہ سب امور علیحدہ ہیں اور آیت میں اس کی ممانعت نہیں ہے اور نہ یہ چیزیں تمدنی زندگی میں چل سکتی ہیں۔
مثلا فرض کیجئے۔
کہ ایک بستی میں کافر اور مسلمان دونوں رہتے ہیں ، اس پر ڈاکو حملہ کرتے ہیں یا شیر حملہ کرتے ہیں یا آگ لگ جاتی ہے تو ایسی صورت میں مسلمانوں کا کافروں کے ساتھ باہم تعاون کرنا جائز بلکہ ضروری ہوگا ، کوئی کافر بطور مہمان کے آجائے تو اس کی مہمان نوازی کرنی ہوگی ۔ اور اس توقع پر کسی کافر کے ساتھ اچھا برتائو بھی کرنا جائز ہوگا کہ شاید وہ اسلام قبول کرلے اور مسلمانوں کے حسن سلوک سے اس کے دل میں اسلام گھر کر جائے۔
بہر حال صد ہا مسائل اس ضمن میں ایسے ہیں جو مقامی علماء سے دریافت کئے جاسکتے ہیں یا فقہ کی کتابوں میں دیکھے جاسکتے ہیں ۔ آیت میں کفار سے دوستانہ کی ممانعت ہے خواہ وہ ظاہری ہو یا باطنی اور کسی کافر سے اس کے کفر کی وجہ سے دوستانہ کرنا اور اس کو رفیق بنانا یہ کفر ہے باقی دوستانہ کے علاوہ دوسرے امور خواہ وہ تلطف و مہربانی ہو، احسان ہو، زکوٰۃ کے علاوہ صدقہ ہو ، ایک کافر سے مل کر دوسرے کافر کا مقابلہ ہو ، غیر متعصب کافر سے نرم برتائو اور حسن سلوک ہو ، مہمان کی خاطر تواضع ہو یہ سب وہ باتیں ہیں جن کا حکم مسلمانوں کے منافع اور حالات کے مناسب جدا جدا ہوگا ، البتہ حربی کافر کا حکم بالکل الگ ہے اور اسی طرح جنگ کی حالت اور امن کی حالت کے احکام بھی جدا ہیں اور معاہد اور ذمی کے احکام بھی الگ ہیں۔
ہم نے جو تفصیل عرض کی ہے وہ شان نزول کی کسی روایت کے خلاف نہیں ہے ۔ خواہ نزول کی وجہ وہ ہو جو مقاتل نے اختیار کی ہے یا وہ ہو جو کلبی نے اختیار کی ہے یعنی خواہ آیت کا تعلق حاطب بن بلتعہ کے واقعہ سے ہو اور خوا ۔۔۔۔ عبد اللہ بن ابی کے واقعہ سے ہو۔
ہماری تقریر کسی روایت کے منافی نہیں ۔ رہی یہ بات کہ حضرات اثناء عشریہ نے اس آیت سے تقیہ کے جوا ز پر استدلال کیا ہے تو اس کا مفصل جواب اگر دیکھنا ہو تو حضرت مولانا شاہ عبد العزیز صاحب (رح) کے تحفہ اثناء عشری کا مطالعہ کیا جائے۔ یہاں اتنی بات یاد رکھنی چاہئے کہ شیعہ حضرات کے معروف وتقیہ کا اس آیت سے کوئی تعلق نہیں ہے آیت میں صرف یہ بات بتائی گئی ہے کہ خوف کے وقت ضرر سے بچنے کیلئے دوستی کا اظہار کردیا جائے اور عداوت کا اظہار نہ کیا جائے اور شیعوں کے تقیہ میں کفر کا اظہار اور ایمان کا اخفا ہوتا ہے۔
نیز تقیہ متعارفہ کسی فائدے کے حصول کے لئے بھی کیا جاسکتا ہے پھر شیعوں کا تقیہ معمولی سے خوف کے موقع پر بھی کیا جاسکتا ہے اور بعض شیعی روایات سے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میاں کے باہمی قضیوں میں بھی تقیہ کی اجازت ہے اور معاذ اللہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ جیسے بہادر اور غیور صحابی کو بھی بعض باتوں میں تقیہ کا مرتکب ظاہر کیا گیا ہے اور سیدنا امام حسین ؓ کو تقیہ کی رسم کا مخالف بتایا گیا ہے۔
غرض قرآن کریم کی آیت الا ان تتقوامنھم تقاہ کو کوئی دور کا واسطہ بھی حضرت امامیہ کے تقیہ سے نہیں ہے۔ آیت کے آخری دونوں جملے وعید کے طور پر فرمائے گئے ہیں ۔
ویحذرکم اللہ نفسہ اور الی اللہ المصیر کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی کی شان عظمت و جلال اس قابل ہے کہ اس سے ڈرو اور اس کے مقابلہ میں اس کی مخلوق سے خوف نہ کرو اور اس کے احکام کو بجا لانے میں پوری طرح ہوشیار رہو کیونکہ تم سب کا آخری ٹھکانہ اور آخری مرجمع صرف اسی کی ذات ہے لہٰذا اس سے ڈرو اور اس کے دشمنوں کو دوستی کے خفیہ اور علانیہ پیام نہ روانہ کرو نہ اس کے اعدا کو اپنا اولیاء بنائو۔
اب آگے کی آیت میں اسی مضمون کی مزید تصریح اور تاکید فرمائے ہیں تا کہ خفیہ اور علانیہ اور ظاہری اور باطنی موالات سے پرہیز کیا جائے اور موالات کفار کا قانون بالکل مکمل ہوجائے ، چناچہ ارشاد ہوتا ہے ( تسہیل)
Ayah 3:30ف 3 ۔ اے پیغمبر ! آپ ان نے کہہ دیجئے جو کچھ تمہارے سینوں میں پوشیدہ ہے اگر تم اپنے اس مانی الضمیر کو چھپائے رکھو تب اور اگر تم اپنے کسی عمل سے اس کو ظاہر کردو تب ہر حال میں اللہ تعالیٰ اس کو جانتا ہے اور ایک تمہارے ما فی الضمیر پر کیا منحصر ہے اللہ تعالیٰ تو جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اس سب کو بھی جانتا ہے ۔ زمین و آسمان کی کوئی چیز اس سے مخفی نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔
لہٰذا مجرموں کو سزا دینے پر اسے قدرت حاصل ہے اس دن کو یاد کرو جس دن ہر شخص اپنی کی ہوئی بھلائی کو اور اپنی کی ہوئی برائی کو اپنے سامنے دھرا پائے گا یعنی برائی اور بھلائی کا پھل سامنے آجائے گا اس روز آدمی یہ تمنا کرے گا اور اس حالت کو دیکھ کر یہ خواہش کرے گا کہ کیا اچھا ہوتا جو اس شخص کے اور اس دن کے مابین بہت دور کی مسافت اور بہت دور کا فاصلہ ہوتا یعنی یہ دن ابھی دیکھنے میں نہ آتا اور اللہ تعالیٰ تم کو اپنے سے ڈراتا اور خوف دلاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بڑی شفقت و مہربانی کرنے والا اور ان کا بہی خواہ ہے اور اس کی یہ شفقت ظاہ رہے کہ بندوں کو قبل از وقت خطرے سے ہوشیار کرتا ہے۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ کا علم زمین و آسمان کی ہر شئے کو محیط ہے خواہ وہ چھپی ہو یا کھلی ہو اس لئے وہ تمہارے قلوب کے پوشیدہ بھیدوں سے بھی واقف ہے خواہ تم ان کو ظاہر کرو یا نہ کرو اگر تم کفار سے پوشیدہ موالات کرو گے یا اعلانیہ دوستی کا پیغام بھیجو گے تو ہم کو سب معلوم ہے اور چونکہ جس طرح اس کا علم ہر شے کو محیط ہے اسی طرح اس کی قدرت بھی ہر شے کو محیط ہے ، لہٰذا ہمارے احکام کی جب مخالفت کرو گے خواہ وہ چھپ کر کرو یا آشکارا کرو ہم اس کی مخالفت کی سزا دیں گے ۔ آگے کی آیت میں سزا کے دن کا ذکر فرمایا کہ وہ دن ایسا ہوگا کہ اس د ن ہر انسان کا کیا اس کے روبرو دہرا ہوگا ۔ خواہ وہ اچھا ہو یا برا اور اس دن ہر شخص یہ خواہش کرتا ہوگا کہ یہ دن کہیں مجھ سے دورچلا جائے اور کسی طرح یہ دن نظر نہ آئے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نامہ اعمال کے دور ہونے کی تمنا کرے گا اور یہ خواہش کرے گا کہ کاش میرے اور میرے ان اعمال کے درمیان دور دراز کا فاصلہ ہوجاتا اور میرے اعمال میرے سامنے نہ آتے اور اس دن کے خوف کا یہ حال ہوگا اور میرے اعمال کی دہشت کا یہ عالم ہوگا کہ نیک اعمال کی طرف بھی متوجہ نہ ہو سکے گا ۔ یہ تو ان لوگوں کا حال ہوگا جن کے پاس اچھے اور برے عمل مخلوط ہوں گے وہ بھی گھبرا کر یہ کہیں گے۔
لو ان بینھا و بینہ امدا بعیدا
اور جس کے پاس صرف برے ہی برے اعمال ہوں گے تو اسکا پوچھنا ہی کیا ہے کہ اس پر کیا بنے گی رہا وہ شخص کہ جس کے پاس نیک ہی نیک اعمال ہونگے یا وہ شخص کہ جس کو اللہ تعالیٰ اپنی مہربانی سے اپنے سایہ عاطف میں چھپالے تو اس کا اس آیت میں ذکر نہیں ہے اس آیت کی ترکیب میں کئی طریقے اختیار کئے گئے ہیں ۔ ہم نے ان میں سے صرف ایک مشہور طریقہ کی بنا پر ترجمہ کیا ہے۔ واللہ اعلم۔
چونکہ حق تعالیٰ کا خوف گناہوں سے محفوظ رہنے کا صحیح علاج ہے اس لئے اس مفید علاج کی دو بارہ تاکید فرمائی اور یحذرکم اللہ نفسہ فرما کر اس کی جانب اشارہ فرمایا اور چونکہ گناہ سے بچانا اور گناہوں سے بچنے کا علاج بتانا یہ حق تعالیٰ شانہٗ کی بہت بڑی مہربانی اور اپنے بندوں پر بہت بڑی شفقت ہے۔
اس لئے آخر میں فرمایا واللہ رئوف بالعباد یاد کھنا چاہئے کہ میدان حشر میں حالات مختلف ہوں گے اور سینکڑوں واقعات پیش آئیں گے اور گناہ گا رصد ہا باتیں کہیں گے یہاں پیش آ نے والے واقعات میں سے صرف ایک واقعہ کا ذکر ہے یعنی ایک وقت ایسا بھی ہوگا جب ہر شخص نامہ اعمال کو سامنے دھرا دیکھ کر یوں کہے گا۔ لو ان بینھا و بینہ امدا بعیدا ۔
بعض حضرات نے اس مسافت کو مشرق سے مغرب تک بتایا ہے یعنی اتنی دوری کی خواہش کرے گا جیسے مشرق سے مغرب دور ہے لیکن ہم نے عرض کردیا ہے کہ مطلب یہ ہے کہ یہ دن یا یہ اعمال نگاہ سے اوجھل ہوجائیں ۔ اور نظر نہ آئیں ، اب آگے اہل کتاب کے بعض غلط و عادی کا جواب ہے اور نبی کریم ﷺ کی اتباع اور آپ پر ایمان لانے کی بحث ہے اور توحید کے ساتھ رسالت پر ایمان کی ۔۔۔۔ ضرورت کا اظہار ہے اور یہ بات بتانی ہے کہ یہ تمام انبیاء (علیہم السلام) ایک ہیں اور ان کی ایک ہی برادری ہے یہ نہیں ہوسکتا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) وغیرھم پر تو ایمان رکھو اور نبی آخر الزماں کی نبوت کا انکار کرو بلکہ جس طرح مسلمان نبی آخر الزماں پر ایمان رکھنے کے ساتھ حضرت آدم سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک سب رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں اسی طرح دوسرے لوگوں کو بھی کرنا چاہئے اور یہ سمجھ کر کہ ہم خدا کے محبوب اور اس کی اولاد ہیں چناچہ ہم کو کسی پر ایمان لانے کی ضرورت نہیں ۔ یہ خیال بالکل غلط ہے ، نبی آخر الزماں ﷺ کی اتباع اور آپ پر ایمان لانا مقدم ہے۔ اتباع کے بعد اتباع نبوی کی برکت سے خدا تعالیٰ جو بنائے وہ بن سکتے ہو اور جس مرتبہ سے سرفراز فرمائے اس سے سرفراز ہوسکتے ہیں۔
چنانچہ دو رکوع تک مسلسل اور مربوط یہی بحث چلی گئی ہے اور جن نبیوں کا زمانہ نبی کریم ﷺ کے زمانے سے قریب گزرا تھا ان کا ذکرذرا تفصیل سے فرمایا ہے ، کیونکہ اہل کتاب میں ان نبیوں کا تذکرہ جاری تھا ان کا ذکر کرنا اہل کتاب کے لئے مؤثر بھی تھا اور ان تاریخی غلطیوں کی اصلاح بھی مقصود تھی جو بعض پڑھے لکھے لوگوں نے اپنی اغراض کے ماتحت تاریخ کی ترتیب میں پیدا کردی تھیں ، حدیث شریف میں آتا ہے کہ نبی کریم ﷺ یوں دعا فرمایا کرتے تھے۔
یا حنان یا منان یا ذا الجلال والاکرام با عدبینی و بین خطیئتی کما باعدت بین المشرق والمغرب ونقنی من الخطایا کما ینقی التوب الا بیض من الدنس واغسلنی بماء الثلج والبرد سبحان اللہ وبحمدہ استغفر اللہ العظیم واتوب الیہ۔
ایک اور ضعیف روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے اصحاب کو دیکھ کر ایک دن فرمایا اپنی حالت پر تعجب نہ کرو اور خود بینی سے کام نہ لو اور اپنے نیک اعمال کی کثرت اور گناہوں کی قلت کو نہ دیکھا کرو بلکہ ہر شخص کو یہ دیکھنا چاہئے کہ اس کا خاتمہ کس حالت پر ہوتا ہے ۔ اعمال کا انحصار خاتمہ پر ہے اگر تم میں سے کوئی شخص قیامت کے دن ستر نبیوں کے برابر بھی عبادت لے کر آئے گا تو وہ بھی قیامت کے خوف اور ہول کو دیکھ کر یہ تمنا کرے گا کہ کاش اس کے پاس عبادت اور زیادہ ہوتی۔ ( تسہیل)