3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsکشف الرحمٰن

Ayahs 3:130–131

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوا الرِّبٰۤوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً١۪ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 3:130 in the Quran reader

اے ایمان والو تم کئی کئی گنے بڑھا کر سود نہ کھائو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو تاکہ تم فلاح پائو۔5

وَ اتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْۤ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِیْنَۚ Open ayah 3:131 in the Quran reader

اور اس آگ سے ڈرو جو منکروں کے لئے تیار کی جا چکی ہے ۔

ف 5 اے ایمان والو ! تم کئی کئی گنے بڑھا بڑھا کر اور کئی کئی حصے زائد کر کے سود نہ کھائو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو امید ہے کہ تم کو فلاح نصیب ہوگی اور تم اپنے مقصد میں کامیاب ہو گے۔ سورۂ بقرہ میں ہم سود کی تفصیل عرض کرچکے ہیں، عام طور سے وہاں کے سود خوروں کے دو طریقے تھے ایک یہ کہ سود پر روپیہ قرض دیا اور میعاد پر وصول نہ ہوا تو سود کو اصل میں ملا کر پوری رقم پر سود شروع کردیا پھر اگر وصول نہ ہوا تو اس سود کو اصل میں ملا دیا جیسا ہندوستان کے بنیئے کیا کرتے ہیں اور اس کو سود در سود کہتے ہیں اور کمپنی نے قصداً مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی غرض سے قانوناً اس کو ہندوستان میں جاری کیا تھا۔ دوسرا طریقہ یہ تھا کہ کسی نے کوئی چیز قرض خریدی اور ایک مدت مقرر کردی۔ مدت پر روپیہ وصول نہ ہوا تو سود بڑھا کر اور مہلت دے دی۔ دوسری مدت پر روپیہ وصول نہ ہوا تو اور مہلت دے دی اور سود بڑھا دیا اور ہر مہلت پر ایسا ہی کرتے رہے۔ چونکہ یہ طریقے ان کے ہاں رائج تھے۔ اور اسی کو اضعافا مضاعفہ کہتے ہیں اس لئے آیت میں اس بڑھا بڑھا کر سود کھانے سے منع فرمایا اضعاقا مضاعقہ کی قید واقعی ہے احترازی نہیں۔ جیسا کہ بعض اہل باطل کہتے ہیں کہ دونے پر دونے کی حرمت ہے دونے سے کم ہو تو جائز ہے حالانکہ یہاں مفہوم مخالف کا اعتبار نہیں ہے یہ قید ایسی ہے جیسے کوئی کہے مسجد حرام میں غیبت نہ کرو یا عالم کے سامنے جھوٹ نہ بولو تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ مسجد حرام کے باہر غیبت جائز ہے یا غیر عالم کے روبرو جھوٹ بولنا جائز ہے۔ اضعافا مضاعفہ کی تفصیل ہم قرض حسنہ کے بیان میں واقع کرچکے ہیں بنی نضیر کے یہودی ثقیف کے عربوں سے ایسا ہی سود وصول کیا کرتے تھے بہرحال سود تھوڑا ہو یا بہت سود کی سب قسمیں حرام ہیں جیسا کہ تیسرے پارے میں گزر چکا ہے اور اگر یہاں وہ سود مراد ہو جو مسلمانوں نے شہدائے احد کو دیکھ کر کہا تھا کہ ہم ستر مسلمانوں کا بدلہ معہ سود کے وصول کریں گے تو ظاہر ہے کہ پھر اس حکم کا مطلب یہ ہوگا کہ قابو پانے کے بعد بھی عدل و انصاف سے کام کرو اور کافروں کے قتل کرنے میں شرعی احکام کی رعایت رکھو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں شاید سود کا ذکر یہاں اس واسطے فرمایا کہ اوپر مذکور ہوا جہاد میں نامرادی کا اور سود کھانے سے نامردی آتی ہے دو واسطے ایک یہ کہ مال حرام کھانے سے توفیق طاعت کم ہوتی ہے اور بڑی طاعت جہاد ہے۔ دوسرے یہ کہ سود لینا کمال بخل ہے کہ اپنا مال جتنا دیا تھا لے لیا بیچ میں کسی کا کام نکلا یہ بھی مفت نہ چھوڑے ! اس کا جدا بدلہ لینا چاہئے تو جس کو مال پر اتنا بخل ہو وہ جان کب دینا چاہے۔ (موضح القرآن) حضرت شاہ صاحب (رح) کے منہیہ کی تفصیل ربط کی تقریر میں مذکور ہوچکی فلاح پانے کا مطلب یہ ہے کہ جنت میسر ہوجائے اور دوزخ سے بچ جائو۔ اب آگے جہنم سے بچنے کی تاکید ہے جو اصل میں کافروں کی جگہ ہے لیکن بعض گناہگار مسلمان بھی اس میں داخل ہوں گے خواہ دائمی طور پر نہ رہیں۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 3:132–133

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَۚ Open ayah 3:132 in the Quran reader

اور اللہ اور رسول کا کہا مانو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔1

وَ سَارِعُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ١ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 3:133 in the Quran reader

اور اپنے رب کی بخشش کی طرف اور نیز اس جنت کی طرف چلنے میں جلدی کرو جس کی چوڑائی اور عرض ایسا ہے جیسے آسمانوں کا اور زمین کا پھیلائو وہ جنت پرہیز گاروں کے لئے تیار کی جا چکی ہے

ف 1 اور اے مسلمانو ! اس آگ سے بچو جو دراصل کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے اور دیکھو اللہ اور اس کے رسول کا کہا مانو اور اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرو اور خوشی سے ان کے احکام بجا لایا کرو توقع ہے کہ تم دنیا اور آخرت میں رحم کئے جائو۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری ہی دنیا میں ذلت و رسوائی سے اور قیامت میں دوزخ سے بچا سکتی ہے لہٰذا ایمان لانے کے بعد اللہ اور رسول کی فرمانبرداری میں لگے رہو پہلی آیت میں دوزخ سے بچنے کا حکم تھا دوسری آیت میں اس کا علاج ہے اب آگے جنت کی ترغیب اور تقویٰ کی تاکید ہے۔ (تسہیل)
Ayah 3:134

الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ الْكٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَۚ Open ayah 3:134 in the Quran reader

وہ لوگ ایسے ہیں جو خوشحالی اور تنگ دستی دونوں حالتوں میں خیرات کرتے رہتے ہیں اور غصہ کو ضبط کرنیوالے اور لوگوں سے در گذر کرنیوالے ہیں اور اللہ تعالیٰ ایسے نیک لوگوں کو بہت پسند کرتا ہے۔2

ف 2 اور اپنے پروردگار کی مغفرت اور اس جنت کی طرف جلدی جلدی چلو اور دوڑو جس کی وسعت اور پھیلائو ایسا ہے جیسے سب آسمان و زمین کا پھیلائو وہ جنت اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں کے لئے تیار کی گئی ہے یہ خدا سے ڈرنے والے وہ لوگ ہیں جو خوشحالی اور تنگ دستی دونوں حالتوں میں خرچ کرتے رہتے ہیں اور خیرات کیا کرتے ہیں خواہ عیش اور فارغ البالی کی حالت میں ہوں یا تنگ دستی اور پریشانی میں مبتلا ہوں اور وہ غصہ کے ضبط کرنے والے اور لوگوں کی تقصیرات سے درگذر کرنے والے ہیں اور اللہ ایسے نیک کرداروں اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو بہت پسند فرماتاے۔ اوپر کی آیتوں میں سود کھانے کی ممانعت فرمائی تھی پھر منہیات سے عموماً اور سود سے خصوصاً بچنے پر فلاح و کامیابی کی توقع دلائی۔ اس کے بعد آگ سے بچنے کی تاکید فرمائی جو کافروں کا مسکن ہے اور انہی کے لئے تیار کی گئی ہے اور یہ بتایا کہ اگر سود کو حلال کہہ کر گھائو گیتو تم بھی کافروں کی طرح آگ میں ڈال دیئے جائو گے اور اگر حلال کہہ کر نہ کھائو گے تب بھی یہ خطرہ ہے کہ عذاب کئے جائو اگرچہ وہ عذاب دائمی نہ ہو۔ اس کے بعد اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا حکم دیا جو تمام آفات سے بچائو کا موجب ہے خواہ وہ اس عالم کی آفات ہوں یا عالم آخرت کی آفات ہوں اس کے بعد جنت اور مغفرت کی طرف دوڑنے اور تیز چلنے کا حکم دیا۔ یعنی ان اعمال کے بجا لانے میں جلدی کرو اور سبقت سے کام لو جو اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور جنت میں لے جانے کا ظاہری سبب ہیں اور جبکہ ہر شخص زمین و آسمان کی وسعت اور پھیلائو کو سمجھتا ہے اس لئے جنت کی چوڑائی کو سمجھانے کے لئے آسمان و زمین کے پھیلائو کا ذکر فرمایا اور جب چوڑائی اس قدر ہے تو اس کے طول کا کیا کہنا ہے کیونکہ طول عرض سے زیادہ ہوتا ہے۔ پھر عرض کا بھی یہاں یہ مطلب نہیں کہ سب آسمان و زمین کے پھیلائو سے زیادہ نہ ہوگا بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس کی چوڑائی اتنی تو ہے ہی باقی اس سے زیادہ کی نفی نہیں۔ پھر اس جنت کو اہل تقویٰ کا مسکن فرمایا اور یہ بتایا کہ یہ جنت اہل تقویٰ کے لئے تیار کی گئی ہے اور متقین کی تفسیر میں ہم بتا چکے ہیں کہ تقویٰ کے مختلف درجات ہیں کم سے کم تقویٰ کا درجہ یہ ہے کہ انسان شرک اور بدعت سے بچتا ہو اور تقویٰ کا اعلیٰ متربہ یہ ہے کہ ہر گناہ سے بچتا ہو اور نیکی بجا لاتا ہو۔ غرض تقوے کا اطلاق ایک گناہ گار مسلمان پر بھی ہوسکتا ہے جو شرک و بدعت سے احتراز کرتا ہو اور ایک نبی اور ولی پر بھی ہوسکتا ہے یہاں متقی کی دونوں قسموں کا ذکر ہے پہلے اعلیٰ مرتبہ کے اہل تقویٰ کا ذکر ہے کہ متقی وہ لوگ ہیں جن کی سخاوت کا یہ حال ہے کہ خوش حال ہوں جب بھی ان کا انفاق جاری رہتا ہے اور کبھی تنگدست ہوں تب بھی ان کی خیرات کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ سراء اور ضراء کا مفہوم بہت وسیع ہے کیونکہ انسانی زندگی دو حال سے خالی نہیں یا راحت و عیش ہے یا مصیبت و فقر ہے اہل تقویٰ وہ لوگ ہیں کہ خواہ وہ کسی حالت میں ہوں ان کا ہاتھ برابر چلتا رہتا ہے اور اپنی حیثیت کے مطابق مخلوق کی نفع رسانی میں مشغول رہتے ہیں آیت کے دوسرے حصہ میں ان کی تعریف ان الفاظ میں ہے کہ وہ غصہ کو پی جاتے ہیں اور غصہ کو ضبط کرلیتے ہیں اور لوگوں کی خطائوں کو معاف کردیا کرتے ہیں اور چونکہ یہ مرتبہ بہت بلند ہے کہ کسی شخص سے مخلوق کو نفع پہونچے اور مخلوق اس کے ضرر سے محفوظ رہے ۔ اس لئے ایسے احسان کرنے والوں سے اپنی محبت کا اظہار فرمایا۔ احسان کی دو صورتیں ہیں ایک جلب منفعت اور دوسری دفع مضرت تو یہ اہل تقویٰ اس مرتبہ کے لوگ ہیں کہ ان سے کسی کو نقصان کا خطرہ نہیں اور ہر حال میں مخلوق کو ان سے فائدہ ہی فائدہ پہنچتا ہے۔ اور یہ لوگ چونکہ احسان میں کامل ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ کو ان سے محبت بھی کامل ہے اور وہ ان محسنین سے بہت محبت کرتا ہے۔ بہت محبت ہم نے اسی غرض سے کہا تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ جن متقیوں کی تعریف کی گئی ہے وہ کمال تقویٰ پر فائز ہیں۔ اہل تقویٰ کی دوسری قسم کا ذکر آگے آتا ہے اور یہ جو فرمایا کہ وہ جنت متقیوں کے لئے تیار کی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کے لئے تیار کی گئی ہے ۔ کیونکہ اہل تقویٰ کے جو معنی ہم نے رض کئے ہیں اس سے ہر مسلمان کا متقی ہونا ظاہر ہوتا ہے۔ ہاں یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ کوئی کم درجہ کا متقی ہے اور کوئی بڑے درجہ کا متقی ہے اسی طرح انفاق میں بھی عموم ہے مال سے نفع پنچانا یا علم سے نفع پہنچانا غرض خدا کی مخلوق کو نفع پہنچاتے ہیں۔ حدیث شریف میں آتا ہے سخی اللہ تعالیٰ سے قریب ہے جنت سے قریب ہے لوگوں سے قریب ہے اور دوزخ سے دور ہے اور بخیل اللہ سے دور ہے جنت سے دور ہے۔ لوگوں سے دور ہے اور آگ سے قریب ہے۔ حدیث میں ہے جس شخص نے باوجود اس کے کہ وہ بدلہ لے سکتا تھا اپنے غصہ کو پی لیا اور غضہ ضبط کرلیا تو اللہ تعالیٰ اس کے قلب کو امن اور ایمان سے بھر دے گا۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ قیامت میں ایک پکارنے والا آواز دے گا وہ لوگ کہاں ہیں جن کے ثواب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہیں یہ آواز سن کر صرف وہ لوگ کھڑے ہوں گے جنہوں نے لوگوں کی تقصیرات کو معاف کیا ہوگا۔ حضرت فضیل بن عیاض (رح) کا قول ہے احسان کے بعد احسان کرنا مکافات ہے اور برائی کے بعد برائی کرنا مجازات ہے اور برائی کے جواب میں بھلائی کرنا کرم اور جو د ہے اور بھلائی کے جواب میں برائی کرنا کمینگی اور بدبختی ہے اور یہ جو حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ہرقل کے جواب میں لکھا تھا جب اس نے دریافت کیا تھا کہ جنت کا پھیلائو آسمان اور زمین کے برابر ہے تو دوزخ کہاں ہے آپ ﷺ نے لکھا تھا کہ بھلا تم دیکھتے ہو کہ جب دن آتا ہے تو رات کہاں ہوتی ہے اور جب رات آتی ہے تو دن کہاں ہوتا ہے اس پر یہود نے کہا تھا آپ ﷺ نے یہ جواب ایسا ہی دیا جیسے تورات میں ہے۔ حضرت ابن عباس اور بعض دیگر صحابہ سے بھی ایسا ہی جواب منقول ہے۔ اس جواب کا یہ مطلب ہے کہ دن کی موجودگی میں رات کا نظر نہ آنا اس کو مستلزم نہیں کہ رات کہیں نہ ہو اسی طرح رات کی موجودگی میں دن کا نہ ہونا اس کو مستلزم نہیں کہ دن کہیں بھی نہ ہو بلکہ جہاں اللہ تعالیٰ چاہتا ہے وہاں رات اور دن موجود ہوتے ہیں اسیطرح دوزخ بھی جہاں اللہ تعالیٰ چاہتا ہے وہاں ہوتی ہے اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ جب دن اس عالم کے ایک رخ کو ڈھانک لیتا ہے تو دوسرے رخ پر اس کے رات ہوتی ہے اور جب رات اس عالم کے ایک رخ پر چھا جاتی ہے تو دوسرے رخ پر دن ہوتا ہے یہی حالت جنت و دوزخ کی ہے کہ جنت اعلیٰ علیین میں ہے اور جہنم اسفل سافلین میں ہے۔ بعض آثار الٰہیہ میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم ! جب تجھ کو غصہ آئے تو مجھ کو یاد کر جس وقت مجھ کو غصہ آئے گا میں بھی تجھ کو یاد رکھوں گا اور تجھ کو ان لوگوں کے ہمراہ ہلاک نہ کروں گا جو ہلاک ہونے والے ہیں۔ ابن ابنی حاتم نے حضرت انس بن مالک سے مرفوعاً نقل کیا ہے کہ جس نے اپنے غضب کو روکا اللہ تعالیٰ اس سے اپنے عذاب کو روکے گا اور جس نے اپنی زبان کو روکا اللہ تعالیٰ اس کے عیب کو چھپائے گا اور جس شخص نے معذرت کی تو اللہ اس کی معذرت کو قبول کرلے گا۔ (ابویعلی) ابن کثیر نے کہا یہ حدیث غریب ہے ۔ ابوہریرہ کی روایت ہے فرمایا نبی کریم ﷺ نے پہلوان وہ نہیں ہے جو دوسروں کو پچھاڑتا پھرتا ہے بلکہ پہلوان وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے کو قابو میں رکھتا ہے یہ مضمون بہت سی احادیث میں آیا ہے۔ حارثہ بن قدامہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مجھے کوئی نفع کی بات بتا دیجئے تاکہ میں اس کو یاد رکھوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا غصہ نہ کیا کر حارثہ نے بار بار دریافت کیا اور آپ ﷺ یہی فرماتے رہے غصہ نہ کیا کر۔ (احمد) حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے غصہ کا گھونٹ پی لینے سے بہتر کوئی گھونٹ نہیں ہے (ابن مردویہ مرفوعاً ) غصے کے ضبط کرنے اور لوگوں کی تقصیرات معاف کرنے کے باب میں بکثرت احادیث مروی ہیں اب آگے متقیوں کی دوسری قسم کا بیان ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 3:135

وَ الَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِهِمْ١۪ وَ مَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ١۪۫ وَ لَمْ یُصِرُّوْا عَلٰى مَا فَعَلُوْا وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:135 in the Quran reader

اور وہ لوگ جب کوئی صریح گناہ کر بیٹھتے ہیں یا اپنی جانوں پر اور کس قسم کی زیادتی کر گذرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے اور اس سے اپنے گناہوں کی معافی چاہنے لگتے ہیں اور بات بھی یہ ہے کہ سوائے اللہ تعالیٰ کے گناہوں کی مغفرت کر بھی کون سکات ہے اور دیدئہ و دانستہ اپنے کئے پر اصرار نہیں کرتے۔3

ف 3 اور دوسرے وہ لوگ ہیں کہ جب وہ کوئی صریح گناہ کر بیٹھتے ہیں اور کوئی زیادتی ان سے سر زد ہوجاتی ہے یا کوئی اور کسی قسم کی زیادتی اپنی جانوں پر کر گذرتے ہیں تو فوراً ہی اللہ تعالیٰ کی ہیبت و جلال کا دھیان کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حق کو یاد کرلیتے ہیں پھر اس سے اپنے گناہوں کی بخشش اور معافی طلب کرنے لگتے ہیں اور بات بھی یہ ہے کہ سوائے اللہ تعالیٰ کے اور ہے بھی کون جو گناہوں کو بخشتا ہو اور گناہوں کو معاف کردیتا ہو اور وہ لوگ اپنے افعال قبیحہ پر اڑاوہٹ نہیں کرتے اور اپنے کئے پر جانتے بوجتے اصرار نہیں کیا کرتے۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ ایسے گناہ گار جو گناہوں کے مرتکب ہوتے رہتے ہیں لیکن گناہ کے بعد فوراً ہی ان کو تنبیہ ہوتا ہو اور اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کی گرفت کا تصور کر کے گناہ معاف کرانے کی فکر میں لگ جاتے ہوں اور توبہ کرنے لگتے ہوں اور توبہ بھی کامل کرتے ہوں اور وہ یہ کہ پھر اس گناہ پر اڑتے نہ ہوں اور اس پر ہٹ نہ کرتے ہوں اور دوبارہ اس کا ارتکاب نہ کرتے ہوں اور ان کی حالت یہ ہو کہ وہ جانتے ہوں کہ ہم نے گناہ کیا ہے اور گناہ کی توبہ ضروری ہے اور یہ بھی جانتے ہوں کہ اللہ تعالیٰ توبہ کا قبول کرنے والا اور گناہوں کو معاف کرنے والا ہے تو ایسے مسلمان بھی متقیوں میں شامل ہیں اگرچہ یہ لوگ کم درجہ کے متقی ہیں۔ آیت میں دو قسم کے گناہوں کی طرف اشارہ فرمایا ایک کو فاحشہ فرمایا اور دوسرے کو اپنی جانوں پر فلم سے تعبیر کیا۔ فحش کے معنی قبیح اور حد سے نکل جانے کے ہیں۔ عام طور سے اس کا اطلاق زنا پر ہوتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اس سے یہاں کبیرہ گناہ مراد ہوں اور ظلموا علی انفسھم سے مراد صغیرہ ہوں یا فحشا سے مراد زنا ہو اور ظلموا انفسھم سے مراد زنا سے کم درجے کی چیزیں ہوں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فاحشہ سے مراد حقوق العباد ہوں اور دوسرے گناہوں سے مراد حقوق اللہ ہوں۔ غرض قرآن کے ان دو جملوں میں ہر قسم کے گناہ داخل ہیں خواہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے ہوں بندوں کے ہوں یا صرف اللہ تعالیٰ کے ہوں۔ ذکر واللہ کا مطلب یہ ہے کہ زبان سے یا قلب سے اللہ تعالیٰ کو یاد کیا اور اس کی عظمت و جلال اس کے وعدے اور وعید اس کا حق عبادت و اطاعت یاد کر کے توبہ استغفار میں مشغول ہوگئے اگر بندے کے حق میں خیانت کی تھی تو توبہ کے ساتھ ساتھ بندے سے بھی اس کا حق معاف کردیا اور اس کا حق اس کو پہنچایا اور اگر صرف حق اللہ کا تھا تو اس سے معافی چاہی اور اس کے روبرو و خشوع اور خضوع سے گڑگڑائے اصرار نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ گناہوں ہی کے ہور ہیں یا گناہ پر فخر کریں اور اپنے گناہوں کی تعریف کریں یا توبہ کرتے وقت گناہ کا پھر ارادہ ہو اور توبہ سے ترک فعل کا پختہ ارادہ نہ ہو اور اپنے گناہ پر ندامت نہ ہو یہ سب صورتیں اصرار میں داخل ہیں وھم یعلمون کا مطلب یہ ہے کہ وہ یہ جانتے ہیں کہ گناہ پر اصرار کرنا خود مستقل ایک گناہ ہے اور یہ عقیدہ خدا کے خوف کی وجہ سے ہو یعنی اعمال کی اصلاح بھی کرتے ہوں اور عقائد بھی درست ہوں۔ ضحاک نے کہا یہ جانتے ہوں کہ اللہ تعالیٰ مغفرت کا مالک ہے حسین بن فضل نے کہا وہ یہ بات جانتے ہوں کہ ان کا ایک رب ہے جو گناہ معاف کردیتا ہے بعض نے کہا ان کا یہ عقیدہ ہو اللہ تعالیٰ کی عظمت ایسی ہے کہ خواہ گناہ کتنے ہی ہوں وہ سب معا فکر دیتا ہے ۔ بعض نے کہا وہ یہ جانتے ہوں کہ جب استغفار کیا جائے تو اللہ تعالیٰ معاف کردیتا ہے۔ ابن مسعود فرماتے ہیں کہ قرآن میں دو آیتیں ایسی ہیں کہ جو گناہ کا مرتکب ان آیتوں کو پڑھتا ہے اور پھر استغفار کرتا ہی تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ بخشدیتا ہے ایک تو یہی والذین اذا فعلوا کی آیت اور دوسری پانچویں پارے کی آیت ومن یعمل سوء ا او یظلم نفسہ۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت میں ہے کہ ایک آدمی گناہ کرتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ اے میرے رب مجھ سے گناہ ہوگیا تو اس کو بخشدے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے نے گناہ کیا اور وہ جانتا ہے کہ میرا رب جو گناہ پر پکڑتا اور گناہ کو معاف کردیتا ہے میں نے اپنے بندے کا گناہ بخشدیا پھر بندے سے کوئی اور گناہ ہوجاتا ہے پھر وہ عرض کرتا ہے اے میرے رب مجھ سے قصور ہوگیا ت و معاف فرما دے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے کو یہ معلوم ہے کہ اس کا رب گناہ پر گرفت کرتا ہے اور گناہ کو معاف کردیتا ہے میں نے اپنے بندے کا گناہ بخشدیا ۔ پھر اس بندے سے ایک تیسرا گناہ ہوجاتا ہے وہ بندہ پھر معافی مانگتا ہے اور اللہ تعالیٰ پھر معاف کردیتا ہے اور فرماتا ہے اب وہ جو چاہے کرے یعنی خواہ وہ کچھ کرے اگر مجھ سے بخشش کی درخواست کرتا رہے گا تو میں معاف کرتا رہوں گا یعنی اسے مجھ سے مایوس نہ ہونا چاہئے۔ (احمد بخاری مسلم) حضرت ابن عباس ؓ سے مرفوعاً روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو شخص یہ عقیدہ رکھتا کہ میں خطا بخش ہوں اور گناہ معاف کرنے پر قدرت رکھتا ہوں تو اس شخص کے گناہ معاف کر دوں گا اور مجھے کوئی پرواہ نہیں بشرطیکہ وہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔ (طبرانی) نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے جو شخص اپنے گناہوں پر استغفار کرتا رہتا ہے وہ اصرار کرنے والوں میں شمار نہیں ہوتا خواہ اس سے ستر بار گناہ کا ارتکاب کیوں نہ ہو۔ (ابو دائود ترمذی) حضرت صدیق اکبر ؓ سے مرفوعاً روایت ہے کہ گناہوں پر قائم رہتے ہوئے استغفار کرنے والا ایسا ہے جیسے کوئی اپنے رب سے مذاق کرتا ہو۔ (بیہقی) امام احمد کی مسند میں ہے کہ جس شخص سے کسی گناہ کا صدور ہوجائے اور وہ وضو کر کے دو رکعت نفل پڑھے اور اللہ سے بخشش طلب کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو بخش دیتا ہے مسلم میں اتنا اور زائد ہے کہ وضو کے بعد کہے اشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ و اشھدان محمدا عبدہ و رسولہ ۔ پھر دو رکعتیں پڑھے اور گناہ معاف کرائے تو اس کا گناہ بخش دیا جاتا ہے۔ ابن کثیر نے اس روایت کی توثیق کی ہے۔ انس بن مالک کا قول ہے کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ جب یہ آیت والذین اذا فعلوا کی نازل ہوئی تو شیطان رویا۔ (عبدالرزاق) عطاف بن خالد فرماتے ہیں مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ اس آیت کے نزول پر شیطان بہت رویا اور جب اس کی ذریت نے رونے کا سبب دریافت کیا تو اس نے کہا کتاب اللہ میں ایک آیت نازل ہوئی ہے اس آیت کے بعد بنی آدم کو کوئی گناہ نقصان نہیں پہنچائے گا انہوں نے دریافت کیا وہ کونسی آیت ہے تو شیطان نے یہ آیت بتائی اس کی ذریت نے کہا ہم ان پر اہوا اور خواہشات نفسانی کے دروازے کھول دیں گے جن کی وجہ سے وہ گناہوں کو اچھا سمجھنے لگیں گے اور توبہ کی طرف مائل نہ ہوں گے۔ اس پر شیطان مطمئن ہوا۔ فقیر کہتا ہے کہ ہمارے زمانے میں یہی حالت ہے کہ لوگ گناہوں کے ارتکاب پر شرمندہ نہیں ہوتے بلکہ بدترین گناہوں کو اچھا سمجھ کر کرتے ہیں اور اہل بدعت کی تو عام طور پر یہی حالت ہے۔ نعوذ باللہ من ذلک صدیق اکبر ؓ سیایک اور مرفوع روایت ہے فرمایا نبی کریم ﷺ نے تم لا الہ الا اللہ اور استغفار کو اپنے اوپر لازم کرلو کیونکہ شیطان نے کہا ہے کہ میں نے لوگوں کو گناہوں سے ہالک کیا اور لوگوں نے مجھ کو لا الہ الا اللہ اور استغفار سے ہلاک کردیا جب میں نے دیکھا تو میں نے ان کو اہوا اور خواہشات نفس سے ہلاک کیا وہ گناہ کرتے ہیں اور گناہ کو اچھا سمجھتے ہیں۔ (ابو یعلی) اب آگے ان لوگوں کی جزا اور ان کے صلے کا ذکر ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 3:136

اُولٰٓئِكَ جَزَآؤُهُمْ مَّغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَؕ Open ayah 3:136 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں جن کا صلہ ان کے رب کی جانب سے بخشش اور ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں یہ لوگ ان باغوں میں ہمیشہ رہیں گے اور کیا خوب مزدوری ہے کام کرنیوالوں کی4

ف 4 یہی وہ لوگ ہیں جن کی جزا اور صلہ مغفرت اور بخشش ہے ان کے رب کی جانب سے اور ایسے ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہونگی یہ لوگ ان باغوں میں ہمیشہ رہیں گے یہ کیا خوب مزدوری اور اچھا حق الخدتم ہے ان کا م کرنے والوں کا۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ اگرچہ یہ لوگ کم درجے کے ہیں کیونکہ کبھی کبھی کبائر و صغائر اور حقوق العباد اور حقوق اللہ میں مبتلا ہوتے رہتے ہیں لیکن چونکہ اسی کے ساتھ اللہ کو یاد بھی کرتے اور توبہ کرلیتے ہیں اس لئے ان کو بھی مغفرت سے نوازا جائے گا اور وہ جنت جو متقیوں کے لئیتیار کی گئی ہے ان کو بھی اس میں داخل کیا جائے گا وہ باغ اور ان کے محلات کے نیچے نہریں بہتی ہونگی آخر میں اجر کی مدح فرمائی کہ یہ مزدوری بہت اچھی ہے جو ان کو ملے گی یہ ان باغوں سے کبھی علیحدہ نہیں کئے جائیں گے ابآگے غزوئہ احد کا پھر ذکر ہے اور زمانہ کے اتار چڑھائو سے مسلمانوں کو تسلی دینا مقصود ہے اور ان کی ہمت بندھانی ہے کہ اس قسم کی چیزیں نئی نہیں ہیں بلکہ دنیا میں ہمیشہ ہوتی رہی ہیں اہل حق کو بھی نقصان پہنچتا ہے اور ظاہری تکالیف سے دوچار ہونا پڑتا ہے لیکن انجام کارخسار ہ ہمیشہ اہل باطل ہی کو ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 3:137–138

قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ سُنَنٌ١ۙ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 3:137 in the Quran reader

بلاشبہ تم سے پہلے اکثر واقعات گزر چکے ہیں سو تم زمین میں چلو پھرو اور دیکھ لو کہ تکذیب کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا1

هٰذَا بَیَانٌ لِّلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ مَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 3:138 in the Quran reader

یہ مضمون لوگوں کے لئے ایک صاف وصریح بیان ہے اور جو لوگ خدا سے ڈرنے والے ہیں ان کے لئے ہدایت و نصیحت ہے

ف 1 یقینا تم سے پہلے بھی بہت سے واقعات ہوچکے ہیں اور مختلف دور گزر چکے ہیں اور مختلف طریقوں کے لوگ ہوچکے ہیں اگر تم ان کے حالات کا مشاہدہ کرنا چاہتے ہو تو زمین میں چلو پھر و اور چل پھر کر دیکھ لو کہ میری اور میرے رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا یعنی کفار کس طرح ہلاک وہ برباد ہوئے۔ سنن سنتہ کی جمع ہے جس کے معنی طریقہ ہے۔ یہاں مراد ہے۔ اہل طریقہ، یا دور یا حالات و وقائع ہم نے تیسیر میں سب کا لحاظ ہے چناچہ مطلب یہ ہے کہ پہلے زمانے میں بھی اچھے برے لوگ گزر چکے ہیں اور تم سے پہلے دور میں بھی مختلف الخیال لوگ ہوئے ہیں اور ان میں قتل و قتال بھی ہوتے رہے ہیں لیکن نتیجے اور انجام کے اعتبار سے تکذیب کرنے والے ہی ہلاک ہوئے ہیں اگر ت م ان کی اجڑی ہوئی بستیوں کو اور ان کے برباد شدہ مکانات کو بچشم خود دیکھنا چاہتے ہو تو گھروں سے نکل کر ان بستیوں تک جائو اور اپنی آنکھوں سے دیکھ لو کہ وہ مکذبین کس حالت میں ہیں اور ان کا انجام کیسا ہوا اور یہ جو ہم نے سیروافی الارض کو مشروط کیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ سیروافی الارض کوئی خاص سفر کا حکم نہیں ہے بلکہ مشروط ہے ایک شرط محذوف کے ساتھ اگر ت م کو گذشتہ لوگوں کے حالات معلوم کرنے ہیں تو جائو جا کر دیکھ لو۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی کافروں کا مقابلہ نبیوں سے قدیم دستور ہے ۔ ہر ملک کی خبر تحقیق کرو تو جانو کہ اول نبیوں پر بھی تکلیفات گزری ہیں لیکن آخر جھٹلانے والے خراب ہی ہوتے ہیں۔ جنگ احد میں ستر مسلمان کامل شہید ہوئے اور لڑائی بگڑی اس واسطے حق تعالیٰ تقویت فرماتا ہے۔ (موضح القرآن) بہرحال جیسا کہ ہم اوپر عرض کرچکے ہیں کہ ان آیات میں مسلمانوں کو تسلی اور تقویت مطلوب ہے اور مختلف عنوان سے اس مطلوب کا اظہار دور تک چلا گیا ہے چناچہ ارشاد ہتا ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 3:139–140

وَ لَا تَهِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:139 in the Quran reader

اور تم کو ہمت نہ بنو اور غمگین نہ ہو حالانکہ تم ہی غالب رہو گے بشرطیکہ تم کامل مومن ہو ۔2

اِنْ یَّمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهٗ١ؕ وَ تِلْكَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُهَا بَیْنَ النَّاسِ١ۚ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَآءَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 3:140 in the Quran reader

اگر تم کو کوئی زخم پہنچ گیا یعنی احد میں تو بلاشبہ کافر قوم کو بھی ایسا ہی زخم پہنچ چکا ہے یعنی بدر میں اور یہ زمانے کے حوادثات ہیں جن کو ہم باری باری قوموں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں تم پر یہ وقت اس لئے لایا گیا تاکہ اللہ تعالیٰ نے پختہ ایمان والوں کو متمیز کر دے اور اس لئے بھی کہ تم میں سے بعض کو شہادت کا مرتبہ عطا فرمائے اور اللہ تعالیٰ ظلم کرنے والوں کو پسند کرتا

ف 2 یہ مضمون مذکور عام لوگوں کے لئے ایک کافی بیان ہے اور ہدایت و نصیحت کا موجب ہے ان لوگوں کے لئے خدا سے جو ڈرنے والے ہیں اور تم جو اس وقت مغلوب ہوگئے ہو اس سے ہمت نہ ہارو اور جو لوگ شہید ہوگئے ہیں ان پر غمگین نہ ہو حالانکہ انجام کار تم ہی غالب رہو گے بشرطیکہ پورے پورے مومن رہے اور تمہارا ایمان صحیح رہا۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ جو کچھ ہم نے بیان کیا ہے کہ جائو اور جا کر کار کا انجام دیکھ لو یہ بیان عبرت حاصل کرنے کو لوگوں کے لئے کافی ہے اور ہدایت و بصیرت ہے اور موعظت اور نصیحت ہے ان لوگوں کے لئے جو خدا سے ڈرنے والے ہیں اس میں متقیوں کی دونوں قسمیں آگئیں گویا عوام کی عبرت کے لئے کافی بیان ہے اور بصیرت حاصل کرنے کی بات ان کے لئے جو تقویٰ کے اونچے درجہ پر فائز ہیں اور حق و باطل کو سمجھتے ہیں اور نصیحت مسلمانوں کے لئے جو اس کے موافق عمل کریں اور کفار کے اس عارضی غلبے سے ہمتیں پست نہ کرو اور مرنے والوں پر رنج نہ کرو حالانکہ تم ہر اعتبار سے غالب ہو اجنام کے اعتبار سے بھی اور اس امید کے اعتبار سے بھی جو تم کو اللہ تعالیٰ سے ہے وہ ان کو نہیں ہے۔ تمہارے مرنے والے جنت میں اور ان کے مرنے والے جہنم میں پھر دنیا کی جسمانی تکلیف میں دونوں برابر ان تکونوا تالمون فانھم یالمون کما تالمون و ترجون من اللہ مالا یرجعون یا تو اس آیت کا نزول اس وقت ہوا ہو جب نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ جائو ان کافروں کا تعاقب کرو اور یہ تعاقب مسلمانوں کو شاق گزرا ہو اور ہوسکتا ہے کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی ہو جب خالد بن ولدی جو اس وقت تک کافر تھے ایک جماعت مشرکین کی لے کر آئے تھے اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا اللھم لایغلبن علینا اللھم لاقوۃ لنا الا بک یا اللہ ان کو ہم پر غلبہ اور برتری نہ دیجی۔ یا اللہ ! ہم کو سوائے تیرے اور کوئی قوت نہیں ہے۔ چناچہ اس دعا کے بعد مشرکین کو ہزیمت ہوئی اور یہ جو فرمایا ان کنتم مئومنین اس کا مطلب یہ ہے کہ جو ایمان کا مقتضا ہے اس پر تم ثابت رہے۔ ایمان کا مقتضایہ ہے کہ ثواب کی امید رکھو اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھنے کی وجہ سے قلب قوی رہے یا یہ مطلب ہے کہ اگر تمہارا ایمان صحیح رہاتو انجام کار تم کو ہی غلبہ ہوگا اس کا مطلب بھی وہی ہے کہ استقلال اور تقوے کے پابند رہے ہم نے تیسیر میں دونوں باتوں کا لحاظ رکھا ہے اب آگے پھر اسی تقویت اور تسلی کو دوسرے انداز سے بیان فرمایا ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 3:141–142

وَ لِیُمَحِّصَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَمْحَقَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:141 in the Quran reader

اور اس لئے بھی کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ہر قسم کے میل کچیل سے نکھار دے اور کافروں کے زور کو مٹا ڈالے۔3

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ یَعْلَمَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 3:142 in the Quran reader

کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم یوں ہی جنت میں جا داخل ہو گے حالانکہ ابھی اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو جو تم میں سے جہاد کرنے والے ہیں متمیز نہیں کیا اور نہ ابھی ان کو نمایاں کیا جو مصائب پر ثابت قدم رہنے والے ہیں

ف 3 اے مسلمانو ! اگر تم کو اس غزوئہ احد میں کچھ زخم اور صدمہ و پریشانی لاحق ہوئی تو گھبرانے کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ گزشتہ سال کا فر قوم کو بھی اسی قسم کا زخم اور صدمہ پہونچ چکا ہے اور ہم ان ایام کو یعنی زمانہ کے حوادثات اور غالب و مغلوب ہونے کو ان لوگوں کے درمیان باری باری ادلتے بدلتے رہا کرتے ہیں تمہارے ساتھ یہ معاملہ اس سال اس لئے کیا گیا تاکہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو ظاہری طور پر بھی جان لیں اور ان کو دوسروں سے متمیز کردیں اور نیز تم میں سے بعض کو شہید بنانا اور شہادت کا مرتبہ عطا فرمانا تھا اور یہ بات یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ ظالموں یعنی کافروں اور مشرکوں کو پسند نہیں کرتا اور کسی حال میں بھی ان سے محبت نہیں کرتا اور تمہارے ساتھیہ معاملہ اس لئے بھی ہوا کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ہر قسم کے میل کچیل سے صاف کر دے اور ان کو نکھار دے اور اس لئے بھی ایسا ہوا کہ اللہ تعالیٰ کافروں کے زور اور ان کی طاقت کو بتدریج ختم کر دے۔ (تیسیر) قرح اور قزح کے معنی ہیں جراحت اور زخم چونکہ غزوئہ احد میں مسلمان زخمی بھی ہوئے، شہید بھی ہوئے اور پیغمبر کے گزند سے صدمہ بھی ہوا اور ہزیمت بھی ہوئی چونکہ بعض مفسرین نے یہاں ہزیمت کے ساتھ تفسیر کی تھی اس لئے ہم نے تیسیر میں سب الفاظ نقل کردیئے ہیں۔ یہ زخم ظاہری ہوں یا باطنی قرح سب کو شامل ہے۔ تداولت کے معنی ہیں ہر تے پھرتے رہنا اردو میں بولا کرتے ہیں زمانہ سب کے ساتھ یکساں نہیں رہتا اصل میں تداول کا استعمال کھانے کے موقعہ پر بولا جاتا ہے جب ایک دور سے کو کھانے کے جوڑ دیکر دستر خوان تک پہنچاتا ہے۔ مثلاً ایک شخص نے دیگ سے کھانا نکال کر اپنے سے قریب والے کو دیا اس نے دوسرے کو دیا اس نے تیسرے کو تیسرے نے چوتھے کو اسی طرح ادلتے بدلتے دستر خوان تک پہنچ گیا اور اسی کو ہم نے زمانے کے ہیر پھیر سے تعبیر کیا یہ۔ یہ بھی حضرت حق تعالیٰ کی بڑی عمیق مصلحت و حکمت ہے کہ کبھی کسی کو فاتح اور کسی کو مفتوح فرماتے رہتے یں تاکہ کافر ایمان لانے پر مجبور نہ ہوجائیں بلکہ سوچ کر اور سمجھ کر آزادی رائے کے ساتھ اسلام قبول کریں ۔ اس لئے اس عالم تکوین میں کسی قوم کے ساتھ نمایاں اور آشکارا خصوصی برتائو نہیں کیا جاتا اور حضرت حق تعالیٰ کی یہ وہ حکمت بالغہ ہے جو ہر شخص نہیں سمجھتا مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ جس پر رحم فرمائے اور اس کو صحیح سمجھ دے۔ کلا نمد ھولاء وھولاء من عطاء ربک وما کان عطاء ربک محذورا سورہ بنی اسرائیل میں فرمایا ہے ہم اس فریق کی بھی اور اس فریق کی بھی آپ کے رب کی عطا سے مدد کرتے رہتے ہیں اور آپ کے رب کی عطا اور اس کے فیض پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ اسی مضمون کو یہاں وتلک الایام نداولھا بین الناس سے ظاہر کیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ گزشتہ سال تم کو غلبہ ہوا تھا اب کے سال تمہارے مخالف کو ہوگیا یہ تو ہمارا عام طریقہ ہے جو لوگوں کے مابین رائج کر رکھا ہے یہ دستور نہ صرف قوموں میں رائج ہے بلکہ افراد میں بھی پایا جاتا ہے کبھی کوئی سر بلند ہے کبھی کوئی کبھی کوئی خاندان آبرو میں زیادہ ہے کبھی کوئی خاندان کبھی کوئی قوم برسر اقتدار ہے کبھی کوئی قوم اس دنیوی شکست سے متاثر نہ ہو اس شکست میں بھی نہ معلوم کس قدر حکمتیں پوشیدہ ہیں پھر چند اور حکمتیں بیان فرمائیں ان حکمتوں میں سے ایک یہ کہ مسلمانوں کا امتحان ہوجائے کیونکہ یہی مواقع ہیں جن میں مخلص اور منافق نظر آجاتا ہے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ تو ہر ایک کو پہلے ہی سے جانتا ہے اللہ کے علم کی بحث دوسرے پارے میں گزر چکی ہے اگر علم کے معنی جاننے کے کئے جائیں تو یوں ترجمہ کیا جائے کہ وہ جانتا تو ہے ہی مگر اس طرح ظاہری طور پر بھی جان لیتا ہے اور اگر وہ معنی کئیجائیں جو ہم نے حضرت شاہ ولی اللہ اور حضرت شاہ رفیع الدین رحمتہ اللہ علیہما کے ترجموں سے اخذ کئے ہیں تو پھر کسیقید کی ضرورت نہیں یعنی یہاں علم سے مراد یہ ہے کہ دوسروں کو معلوم ہوجائے کہ کون مخلص ہے اور کون منافق ہے برے اور بھلے میں امتیاز ہوجائے اگر یہ مصیبت اور پریشانی نہ آتی تو لوگوں میں امتیاز نہ ہوتا اور وہ ایک دوسرے سے متمیز نہ ہوتے۔ ان حکمتوں میں سے دو سری یہ کہ تم میں سے بعض کو شہادت کا مرتبہعطا کرنا مقصود تھا اور یہ مرتبہ اس پر موقوف تھا کہ مسلمان کافروں کے ہاتھوں مارے جائیں اور شہدائے احد کا لقب حاصل کریں اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ تم میں سے بعض کو قیامت میں بطور گواہ پیشک ریں اورت م کو شدائد و مصائب کو برداشت کرنیوالوں کی فہرست میں پیش کیا جائے اور تم بطور شہادت پیش ہو۔ (واللہ اعلم) بیچ میں ایک شبہ کا ازالہ بطور جملہ معترضہ کے فرما دیا کہ کہیں یہ نہ سمجھو بیٹھنا کہ ظالموں کے ساتھ ہماری کوئی ہمدردی ہے یا ہم کافروں اور مشرکوں کو پسند کرتے ہیں۔ ہماری پسندیدہ چیز تو ایمان و اطاعت اور صبر و استقلال ہے یہ باتیں جسمیں ہونگی وہ ہمارا محبوب ہے کافر اور مشرک میں یہ باتیں کہاں رکھی ہیں جو وہ ہمارے محبوب اور پسندیدہ ہوں گے اور نہ یہ شکست و فتح پر موقوف ہے کہ کوئی یہ سمجھ لے کہ جس کی فتح ہوئی وہی خدا کا دوست ہے اور جس کی شکست ہوئی وہ خدا کا مبغوض ہے ۔ فتح و شکست تو جنگ کے لازمی نتائج ہیں ان سے ہماری محبت و عدم محبت کو نہ جانچا کرو بلکہ محبت کا تعلق ایک اور چیز سے ہے اور فتح و شکست کا تعلق اور چیز سے ہے۔ جملہ معترضہ کے بعد پھر فرمایا کہ ہماری حکمتوں میں سے تیسری حکمت یہ ہے کہ ہم مسلمانوں کے اخلاق و اعمال کا تصفیہ کردیں اور مسلمانوں سے میل کچیل کو دور کردیں تمحیص کے معنی ہیں نکھارنا جس طرح سونے چاندی کو گلا کر ان کا میل کچیل صاف کرتے ہیں اسی طرح ہمارا مقصد یہ تھا کہ تم کو مصائب و شدائد میں مبتلا کر کے ہر قسم کے میل کچیل سے تم کو صاف کردیں اور تمہارے اعمال و اخلاق کو نکھار دیں اور آخری حکمت یہ فرمائی کہ اس طرح ہم کافروں کو آہستہ آہستہ مٹا دیں۔ محق کے معنی ہم تیسیر پارے میں بتا چکے ہیں محق کے معنی تھوڑا تھوڑا کسی چیز کو کم کردینا جس طرح چاند کا نور آہستہ آہستہ روز بروز کم ہوتا رہتا ہے اور آخر ایک دن سب نور ختم ہوجاتا ہے اسی طرح ہماری حکمت یہ ہے کہ تھوڑا تھوڑا کر کے کافروں کی قوت کو ختم کردیں اگر ہر سال تم ہی غالب ہوتے رہو تو کافر لڑنے کو آمادہ نہ ہوں گے اور اگر کبھی تم بھی مغلوب ہو جائو گے خواہ مغلوب ہونے میں تمہاری بھی کوتاہی کو دخل ہو تو پھر ان کا حوصلہ بڑھے گا اور وہ تم سے لڑنے کو آئیں گے اور اس طرح ہم ان کے زور کو توڑ دیں گے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تم پر ظلم کرنے سے وہ خدا کے قہر میں مبتلا ہو کر ہلاک ہوجائیں گے اور کثرت مظالم سے ان کی تباہی کا پروا نہ لبریز ہوجائے گا اور جلد تباہ ہوں گے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی فتح اور شکست بدلتی چیز ہے اور مسلمانوں کو شہادت کا درجہ ملنا تھا اور مومن اور منافق کا پرکھنا منظور تھا اور مسلمانوں کو سدھارنا اس واسطے اتنی شکست ہوئی نہیں تو اللہ کافروں سے راضی نہیں۔ (موضح القرآن) سبحان اللہ ! حضرت شاہ صاحب نے کس قدر مختصر اور جامع خلاصہ بیان کیا ہے جو حضرت شاہ صاحب ہی کا حصہ ہے اور یعلم کا ترجمہ پرکھنا اور تمحیص کا ترجمہ سدھارنا بھلا اس اردو کا جواب کیا ہوسکتا ہے۔ مس القوم قرح مثلہ سے بعض حضرات نے انبیاء سابقین اور ان کے ساتھی مراد لئے ہیں اور مطلب یوں بیان کیا ہے کہ اگر تم کو زخم اور مصائب پہنچے تو یہ کوئی نئی بات نہیں تم سے پہلے پیغمبروں اور مسلمانوں کو بھی اس قسم کی تکالیف پہنچ چکی ہیں مگر ہم نے اس کو غیر مشہور ہونے کی وجہ سے اختیار نہیں کیا۔ اس آیت میں مثل کا لفظ ہر اعتبار سے مماثل نہیں جیسا کہ تسہیل میں معلوم ہوچکا۔ اب آگے مسلمانوں کی مزید تقویت اور اطمینان کی غرض سے ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 3:143

وَ لَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَلْقَوْهُ١۪ فَقَدْ رَاَیْتُمُوْهُ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ۠ Open ayah 3:143 in the Quran reader

اور بلاشبہ تم تو موت کی ملاقات سے پہلے راہ حق میں مرنے کی تمنا کیا کرتے تھے سو اب تو تم نے اس موت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تھا1

ف 1 ہاں تو اے مسلمانو ! کیا تم نے یہ خیال کر رکھا ہے اور تم یہ سمجھ بیٹھے ہو کہ تم یوں ہی جنت میں بغیر کسی آزمائش و امتحان کے داخل ہو جائو گے حالانکہ ابھی اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظاہری طور پر جانا ہی نہیں جو تم میں سے جہاد کرنے والے ہیں اور ان مسلمانوں کو نمایاں نہیں فرمایا جنہوں نے تم میں جہاد کیا ہو اور نہ ابھی ان کو ظاہری طور پر دیکھا اور نہ نمایاں کیا جو مصائب پر ثابت قدم رہنے والے اور جہاد کی تکالیف کو برداشت کرنے والے ہیں اور بلاشبہ تم تو موت کی ملاقات کرنے اور موت کے سامنے آنے سے پہلے موت کی بڑی تمنا اور شہید ہو کر مرنے کی بڑی آرزو کیا کرتے تھے۔ لہٰذا اب تو تم نے اس موت کو اپنی کھلی آنکھوں دیکھ لیا تھا اور موت کا سامان تمہاری نگاہوں کے سامنے تھا پھر کیوں بھاگ کھڑے ہوئے اور موت کو آتا دیکھ کر کیوں گھبرا اٹھے۔ (تیسیر) جنت میں داخل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ بغیر کسی سرزنش اور عذاب کے دخول اولی حاصل ہو اور درجات عالیہ میسر ہوں۔ سو یہ مرتبہ بدون مشقت اور تکالیف کے حاصل نہیں ہوتا اور نہ یوں جنت میں جانے کو تو ہر مسلمان داخل ہو ہی جائے گا خواہ عذاب بھگت کر یا رحمت خداوندی کے بل پر۔ جہاد اور صبر کا مطلب یہ ہے کہ جہاد پوری طرح ہو اور اس جہاد میں خوب مصائب برداشت کرے ورنہ چھوٹی موٹی جھڑپیں تو ہوتی ہی رہتی ہیں۔ یعلم کا مطلب وہی ہے جو ابھی ہم بیان کرچکے اور دوسرے پارے میں اس کی تفصیل ہوچکی ہے عدم علم سے مراد شئے کی نفی ہے کیونکہ حضرت حق کے علم کا تعلق معلومات سے ہوتا ہے جب علم کی نفی فرمائی تو معلومات جو علم کا متعلق ہے اس کی بھی نفی ہوگئی جیسے کہا کرتے ہیں۔ ماعلم اللہ فی قلان خیراً تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ فلاں شخص میں خیر ہی نہیں اگر ہوتی تو علم الٰہی کا اس سے تعلق ہوتا یہاں بھی مطلب یہی ہے نہ تم میں کسی نے آج تک جم کر جہاد کیا نہ جہاد کے مصائب پر صبر کیا اگر کوئی ایسا کرتا تو اللہ تعالیٰ کے علم کا اس سے تعلق ہوتا اور وہ اس کی معلومات میں سے ہوتا۔ بہرحال دوسری صورت وہ ہے جو ہم نے ترجمہ میں عرض کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابھی جہاد کرنے والوں کو جہاد نہ کرنے اور جی چرانے والوں سے متمیز نہیں فرمایا۔ نہ صابروں کو غیر صابروں سے ابھی نمایاں کیا۔ دوسری آیت کا مطلب یہ ہے کہ بعض مسلمان شہدائے بدر کے فضائل سن سن کر شہادت کی تمنا کیا کرتے تھے کہ کاش ! ہم کو بھی کوئی ایسا موقعہ میسر آئے اور ہم بھی شہادت کا درجہ پائیں اور ان فضائل کو حاصل کریں جو شہدائے بدر کو حاصل ہوئے تھے ان کو اس آیت میں تنبیہہ ہے کہ یا تو شوق شہادت کا یہ عالم تھا اور یا اب یہ حالت ہے کہ جب شادت کا موقعہ آیا اور شہادت کا سامان دکھائی دیا اور مرنے اور جان دینے کا وقت آیا تو میدان شہادت چھوڑ نکلے اس لئے مسلمانوں پر تعریض اور ملامت فرمائی اور ہم اوپر غزوئہ احد کے حالات مختصر عرض چکے ہیں اس دن سوء اتفاق سے ہوا یہ کہ جب نبی کریم ﷺ نے عبداللہ بن جبیر کی سرکردگی میں ایک دستہ پچاس تیر اندازوں کا گھاٹی میں متعین کیا تو یہ فرما دیا کہ تم لوگ جب تک یہاں بیٹھے رہو گے کافر ہم پر غالب نہیں ہوں گے چناچہ جب جنگ شروع ہوئی تو مسلمان اللہ کے حکم سے غالب آئے اور کفار قریش کو زیہمت ہوئی اور کافر بری طرح بھاگے ، مسلمان مال غنیمت پر قبضہ کرنے میں مشغول ہوگئے۔ گھاٹی کے بیٹھنے والوں نے جب یہ دیکھا تو عبداللہ بن جبیر کی مرضی کے خلاف سوائے گیارہ آدمیوں کے سب نکل پڑے اور مال غنیمت حاصل کرنے میں شامل ہوگئے بھاگتے ہوئے کافروں نے گھاٹی خالی دیکھی تو خالد بن ولید نے اپنے لشکر کو لے کر گھاٹی پر حملہ کردیا۔ گیارہ آدمیوں نے مقابلہ کیا مگر بےسود رہا۔ مسلمانوں کو شہید کردیا اور خالد نے گھاٹی پار کرلی اور جو مسلمان مال غنیمت جمع کر رہے تھے ان پر کافر ٹوٹ پڑے اسلامی فوج میں ابتری اور سراسیمگی پھیل گئی ابن قمیہ نے ایک پتھر نبی کریم ﷺ پر پھینکا جس سے چہرہ انور زخمی ہوگیا ایک دانت شہید ہوگیا اور آپ ﷺ لہولہان ہوگئے اور آپ زمین پر بیٹھ گئے اور آپ ﷺ پر غشی طاری ہوگئی۔ ابن قمیہ نے چاہا کہ آپ کو شہید کر دے مگر مصعب بن عمیر جو اسلامی فوج کے علمبردار تھے انہوں نے مدافعت کی اس وقت کسی شیطان نے یہ آواز لگا دی کہ محمد ﷺ قتل کردیئے گئے۔ اس افواہ نے مسلمانوں کا دماغ مختل کردیا اور لوگوں میں مختلف باتیں ہونے لگیں۔ کسی نے کہا ابوسفیان سے امان طلب کرو ، منافقوں نے کہا کہ جب محمد ﷺ قتل ہوگئے تو اب اپنا پہلا ہی دین اختیار کرلو کسی نے کہا اب اگر محمد ﷺ نہیں ہیں تو ہم زندہ رہ کر کیا کریں گے چلو لڑو اور سب شہید ہو جائو۔ کسی نے کہا اگر محمد ﷺ قتل ہوگئے تو خدا تو نہیں ختم ہوگیا۔ وہ تو حی الایموت ہے اور جب اب محمد ﷺ زندہ نہ رہیتو آئو جس کے نام پر حضور ﷺ شہید ہوئے ہیں ہم بھی لڑ کر اسی کے نام پر شہید ہوجائیں۔ چناچہ مخلصین کی ایک جماعت کمر بستہ ہو کر لڑنے میں مشغول ہوگئی اتنے میں نبی کریم ﷺ نے کھڑے ہو کر فرمایا۔ الی عباد اللہ انا رسول اللہ اے اللہ کے بندو ! میرے پاس آئو میں اللہ کا رسول ہوں جس طرح آپ کی وفات کو سن کر س کے دل ٹوٹ گئے تھے زندگی کی خبر سنتے ہی جو لوگ بھاگ رہے تھے اور پہاڑیوں کی طرف رخ کئے چلے جا رہے تھے ان کے دل میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور نئے سرے سے ڈھارس بندھ گئی اور مسلمان سمٹ کر حضور ﷺ کے چاروں طرف جمع ہوگئے سب سے پہلے کعب بن مالک نے آپ ﷺ کو پہچانا اور انہوں نے چلا کر کہا کہ مسلمانو ! ادھر آئو محمد ﷺ زندہ ہیں۔ چنانچہ جب سب لوگ جمع ہوگئے اور پھر حملہ کی تیاری کرنے لگے تو مشرکین واپس چلے گئے ان ہی واقعات کے متعلق آگے کی آیتوں میں مسلمانوں پر تعریض ہے اور تسلی اور تقویت قلب کا سامان ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 3:144

وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ١ؕ اَفَاۡئِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰى عَقِبَیْهِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ وَ سَیَجْزِی اللّٰهُ الشّٰكِرِیْن Open ayah 3:144 in the Quran reader

اور محمد ﷺ صرف ایک رسول ہیں بلاشبہ ان سے پہلے اور رسول بھی گزر چکے ہیں پھر اگر وہ وفات پاجائیں یا شہید کر دئیے جائیں تو کیا تم اپنی اڑیوں کے بل لوٹ جائو گے اور جو شخص اپنی ایڑیوں کے بل الٹا پھر جائیگا تو وہ ہرگز خدا کا کچھ نہ بگاڑے گا اور ان لوگوں کو جو شکر گزار رہیں گے عنقریب اللہ تعالیٰ صلہ فرمائے گا2

ف 2 اور محمد ﷺ صرف اللہ تعالیٰ کے ایک رسول ہی تو ہیں بلاشبہ آپ سے پہلے اور بھی بہت سے رسول گذر چکے ہیں تو پھر اگر وہ وفات پاجائیں یا فرض کرو وہ شہید ہی کر دئیے جائیں تو کیا تم لوگ اپنی ایڑیوں کے بل جہاد سے یا اسلام سے واپس لوٹ جائو گے اور جو شخص بھی اپنے دین سے اور خواہ جہاد سے الٹا پھر جائے گا تو وہ اللہ تعالیٰ کا کچھ بھی نقصان نہ کرے گا اور وہ اللہ تعالیٰ کو کوئی ضرر نہ پہنچائے گا اور بہت جلد اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو نیک عوض اور صلہ عطا فرمائے گا جو شکر گزار رہیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ محمد ﷺ سوائے اس کے کچھ نہیں کہ بس ایک رسول ہیں ان سے پہلے اور رسول بھی گذر چکے ہیں پھر اگر وہ اپنی طبعی موت سے مرجائیں یا مار ڈالے جائیں وہ کوئی خدا تو نہیں ہیں جو نہ مرتا ہے اور نہ اس کو کوئی مار سکتا ہے تو کیا تم لوگ میدان جہاد کو یا معاذ اللہ دین اسلام کو چھوڑ کر واپس چلے جائو گے اور اگر کوئی واپس چلا جائے گا تو اللہ تعالیٰ کا کچھ نہ بگاڑے گا بلکہ اپنا ہی نقصان کرے گا اور اللہ تعالیٰ عنقریب حق شناس اور شکر گزار لوگوں کو اچھی جزا اور اچھا بدلہ عطا فرمائے گا۔ اس موقعہ پر اللہ تعالیٰ نے بجائے ماتت کے خلت فرمایا ۔ خلت کے معنی گذر جانے چھوڑ کر چلے جانے اور ہو چکنے وغیرہ کے ہیں اس لئے کہ حضرت عیسیٰ چونکہ زندہ ہیں مگر گزر جانے والوں میں وہ بھی شامل ہیں اسی آیت سے حضرت صدیق اکبر ؓ عنہنے حضور ﷺ کی وفات کے دن استدلال کیا تھا اور تمام صحابہ ؓ کو کہہ کر سنبھالا تھا ۔ من کان یعبد محمد افان محمداً قدمات ومن کان یعبد اللہ فھوحی لایموت ۔ یعنی جو شخص محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا تو وہ سن لے کہ محمد ﷺ کی وفات ہوگئی اور جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا تو اللہ تعالیٰ زندہ ہے وہ کبھی مرے گا نہیں یہ آیت تمام صحابہ کے روبرو پڑھی گئی تھی اور تمام صحابہ خلت کا مطلب یہی سمجھتے تھے کہ گذر گئے اور چلے گئے کسی نے بھی اس آیت سے موت مراد نہیں لی اور یہ جو فرمایا علی عقبیہ یہ ایک محاورہ ہے جیسا ہم اردو میں کہتے ہیں کہ ابھی آئے تھے کھڑے کھڑے اپنی ایڑیوں کے بل لوٹ گئے مطلب یہ ہوتا ہے کہ واپس چلے گئے اور الٹے ہی لوٹ گئے ۔ شاکرین کا مطلب یہاں یہ ہے کہ ایسے نازک مواقع پر مشتقل رہتے ہیں اور تکالیف کو ہمت سے سہارتے ہیں ان کو اچھا بدلہ عطا ہوگا اور جلدی شاید اس لئے کہا کہ قیامت جلدی آنے والی ہے یا دنیاوی فتح کی طرف اشارہ ہو۔ (واللہ اعلم) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں اس جنگ احد میں بعضے مسلمان کامل بھی بہت ہٹ گئے تھے اس لئے کہ ایک کافر نے اپنی فوج میں پکارا کہ میں محمد ﷺ کو مار آیا اور حضرت کو زخم سے خون بہت گیا تھا ضعف آ کر ایک گڑھے میں گرے تھے مسلمانوں نے حضرت کو نہ دیکھا یہ بات یقین ہوگئی۔ جب حضرت ہوشیار ہوئیتو میدان میں جو لوگ حاضر تھے ان کو جمع کر کے پھر لڑائی قائم کی تب کافر پھر کر چلے گئے سو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ رسول زندہ رہے یا نہ رہے دین اللہ کا ہے اس پر قائم رہو اور اشارت نکلتی ہے کہ حضرت کی وفات پر بعضے لوگ پھر جاویں گے اور جو قائم رہیں گے ان کو بڑا ثواب ہے اسی طرح ہوا کہ بہت لوگ حضرت کے بعد مرتد ہوئے اور حضرت صدیق نے ان کو پھر مسلمان کیا اور بعضوں کو مارا۔ (موضح القرآن) حضرت شاہ صاحب کے خلاصہ میں سب چیزیں آگئیں ہمارے زمانے کے بعض اہل باطل نے اس آیت سے وفات مسیح پر استدلال کیا ہے اور عجیب انداز سے اس آیت کا مطلب بیان کیا ہے لیکن اس کا کوئی تعلق حضرت عیسیٰ کی وفات سے نہیں ہے اور نہ الرسل کا الف لام استغراتی ہے یہ الف لام ایسا ہی ہے جیسے چھٹے پارے کے آخر میں قدخلت من قبلہ الرسل میں آیا ہے۔ اگر نبی کریم ﷺ کو زندہ آسمان پر اٹھایا جاتا تب بھی صحابہ کو اتنا صدمہ ہوتا۔ جیسا حضور ﷺ کی وفات سے ہوا اب آگے اسی مضمون کی اور تاکید و وضاحت ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 3:145–147

وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ كِتٰبًا مُّؤَجَّلًا١ؕ وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ۚ وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الْاٰخِرَةِ نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ؕ وَ سَنَجْزِی الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 3:145 in the Quran reader

اور بغیر حکم الٰہی کسی جان دار کا مرنا ممکن نہیں اس نے موت کا مقررہ وقت لکھ رکھا ہے اور جو شخص اپنے کئے کا پھل دنیا میں چاہتا ہے تو ہم اس کو دنیا کا حصہ دیدیتے ہیں اور جو شخص آخرت کے ثواب کی خواہش کرتا ہے تو ہم اس کو آخرت کے ثواب کا حصہ عطا فرمائیں گے اور ہم بہت جلد شکر گزاروں کو صلہ عنایت فرمائیں گے۔3

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ نَّبِیٍّ قٰتَلَ١ۙ مَعَهٗ رِبِّیُّوْنَ كَثِیْرٌ١ۚ فَمَا وَ هَنُوْا لِمَاۤ اَصَابَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ مَا ضَعُفُوْا وَ مَا اسْتَكَانُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 3:146 in the Quran reader

اور بہت نبی ایسے ہوچکے ہیں جن کی معیت میں بکثرت با خدا لوگوں نے جہاد کیا ہے پھر اللہ کی راہ میں جو تکالیف بھی ان مجاہدین کو پہونچیں ان کی وجہ سے نہ تو انہوں نے ہمت ہاری اور نہ وہ سست پڑے اور نہ وہ دشمن کے آگے جکھے اور اللہ ایسے ہی ثابت قدم رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے

وَ مَا كَانَ قَوْلَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ اِسْرَافَنَا فِیْۤ اَمْرِنَا وَ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:147 in the Quran reader

اور ان مجاہدین سوائے اتنی بات کے اور کچھ نہیں کہا کہ اے ہمارے پروردگار ہماری خطائوں کو اور اس زیادتی کو جو ہمارے کاموں میں ہم سے واقع ہوئی ہو بخشدے اور ہمارے قدم جما دے اور ان کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔

ف 3 اور بغیر اذن الٰہی اور بدون اللہ تعالیٰ کے حکم کے کسی جاندار کا مرنا اس کو موت آنا ممکن نہیں خواہ طبعاً مرے یا قتل کیا جائے ہر ایک کی موت کا وقت لکھا ہوا ہے جس میں تقدیم و تاخیر نہیں ہوتی اور جو شخص اپنے اعمال کا بدلہ اور نتیجہ دنیا میں حاصل کرنا چاہتا ہے تو ہم اس کو دنیا کے حصہ میں سے اپنی مشیت کے موافق دیدیتے ہیں اور جو شخص آخرت کا ثواب اور اخری بدلہ چاہتا ہے تو ہم اس کو آخرت کے ثواب کا حصہ دیدیتے ہیں اور ہم عنقریب ایسے شکر گزاروں کو اچھا بدلہ اور نیک صلہ عطا فرمائیں گے۔ (تیسیر) خلاصہ یہ ہے کہ موت کا ایک مقررہ وقت لکھا ہوا ہے اور کوئی کسی طرح میرے اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر مر نہیں سکتا مرنا اس کے لئے ممکن ہی نہیں اور چونکہ موت مشیت اور حکم الٰہی پر موقف ہے تو اس پر گھبرانے کی کوئی وجہ نہیں بلکہ حکم الٰہی پر راضی رہنے کی ضرورت ہے اور جب موت کا مقررہ وقت لکھا ہوا ہے تو میدان سے بھاگنے اور میدان چھوڑنے کی ضرورت نہ تھی بلکہ توکل اور ثابت قدمی کی ضرورت تھی اور چونکہ بعض لوگ غنیمت جمع کرنے کی خواہش میں مبتلا ہ وگئے تھے اور بعض جنگ کی کامیابی اور مسلمانوں کی فتح کے خواہشمند تھے اور اس طرح اس دن دو گروہ تھے اس لئے آخر میں فرمایا کہ جو اپنے اعمال کا پھل دنیا ہی میں چاہتے ہیں تو ہم ان کو دنیوی حصہ جس قدر چاہتے ہیں دیدیتے ہیں مگر آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے اور جو اپنے کئے کا دین اخروی صلہ چاہتے ہیں تو ان کا حصہ ان کو آخرت میں دیتے ہیں۔ بلکہ دنیا بھی ملتی ہے اور دین بھی پھر مزید اطمینان کے لئے فرمایا کہ بہت جلد ہم شاکرین کو جزا اور صلہ دینے والے ہیں۔ دنیوی حصہ میں ہم نے مشیت کی قید اس لئے لگائی کہ سورة بنی اسرائیل میں فرمایا ہے ۔ عجلنا لرفیھا مانشاء اور ثواب اخروی چونکہ وعدے کی بنا پر ہے اس لئے فرمایا ومن اراد الاخرۃ وسعی لھا سمعیھا فاولئک کان سعیھم منکم اوپر کی آیت میں نیک اعمال بجا لانے والوں کو شاکرین فرمایا تھا۔ اس آیت میں آخرت کے ثواب کی نیت رکھنے والوں کو شاکرین فرمایا ہے اس لئے تکرار نہیں ہے اور یہ بھی ہو سکات ہے کہ اس شاکر سے ایک تیسری قسم ہو یعنی بعض وہ جو دنیوی پھل چاہتے ہیں اور بعض وہ جو اخروی پھل چاہتے ہیں اور کچھ وہ بندے بھی ہیں جن کا مقصد نفس شکر ہے نہ ان کے سامنے دنیا ہے نہ آخرت، ان کو فرمایا کہ ہم ان کو عنقریب ان کی نیک نیتی کا صلہ دیں گے اور اس کو بتانا نہیں چاہتے کہ ہم ان کو کیا کچھ دیں گے کیونکہ وہ کسی فہم و ادراک میں نہیں آسکتا شکر کا ترجمہ اہل لغت نے عرفان الاحسان کیا ہے ہم نے تیسیر میں حق شناس کردیا ہے۔ حدیث میں انس بن مالک ؓ سے مرفوعاً آیا ہے جس شخص کی طلب آخرت کی طلب ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کے دل میں غنا رکھ دیتا ہے اور اس کی ہمت مضبوط کردیتا ہے اور دنیا اس کے پاس ذلیل ہو کر آتی ہے اور جس شخص کی نیت دنیا طلب کرنے کی ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان یعنی پیشانی پر فقر اور محتاجگی رکھ دیتا ہے اور اس کی ہمت پراگندہ کردیتا ہے اور اس کے لئے جو لکھ دیا گیا ہے اس سے زائد نہیں ملے گا۔ (بغوی) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی جو لوگ اس دین پر ثابت رہیں گے ان کو دین بھی ملے گا اور دنیا بھی لیکن جو کوئی اس نعمت کی قدر جانے۔ (موضح القرآن) اب آگے انم سابقہ کے بعض مخلصین کی ثابت قدمی اور استقامت اور ان کے جہاد کا ذکر فرما کر مسلمانوں کو غیرت دلائی جاتی ہے اور ان کے صبر و استقامت اور میدانی جہاد میں ان کی دعا کا ذکر فرماتے ہیں۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 3:148–149

فَاٰتٰىهُمُ اللّٰهُ ثَوَابَ الدُّنْیَا وَ حُسْنَ ثَوَابِ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 3:148 in the Quran reader

سو اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا کا بھی ثواب دیا اور آخرت کے بھی اچھے صلہ سے ان کو نوازا اور اللہ تعالیٰ ایسے ہی نکو کاروں کو پسند کرتا ہے۔1

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تُطِیْعُوا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَرُدُّوْكُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 3:149 in the Quran reader

اے ایمان لانیوالو اگر تم ان لوگوں کی جنہوں نے کفر کی راہ اختیار رکھی ہے اطاعت و فرمانبرداری کرو گے تو وہ تم کو تمہاری اڑیوں کے بل لوٹا دیں گے جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تم سخت نقصان میں جا پڑو گے

ف 1 اور بہت سے نبی ایسے ہوچکے ہیں جن کے ساتھ ہو کہ ان کی امت کے بہت سے صلحاء اور بکثرت با خدا لوگ کفار سے لڑے ہیں ینی تم سے پہلے بھی بکثرت اللہ والوں نے اپنے اپنے زمانہ کے نبیوں کے ساتھ ہو کر کافروں سے جہاد کیا ہے پھر ان باخدا لوگوں کو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے جو مصائب پیش آئے ان کی وجہ سے نہ تو انہوں نے امر حق بجا لانے میں ہمت ہاری اور نہ ان کے قلب میں ضعف اور سستی پیدا ہوئی اور نہ ان کے جسم سست پڑے اور نہ و باطل کے آگے سرنگوں ہوئے اور نہ اہل باطل سے دبے اور اللہ تعالیٰ ایسے ہی مستقل مزاج اور ثابت قدم رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے جو ہر قسم کے مصائب برداشت کرنے کے باوجود اپنی جگہ سے نہ ملیں اور ان باخدا مجاہدین کے منہ سے سوائے اس دعا کے اور کوئی بات نہیں نلکی کہ اے ہمارے پروردگار ہماری خطائوں کو اور ہمارے کاموں میں ہماری زیادتی اور حد سے نکل جانے کو بخش دیجیے اور کفار کے مقابلہ میں ہم کو ثابت قدم اور جمائے رکھے اور ان کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد فرمائیے اور ان پر غم کو غالب کیجیے لہٰذا اس استقلال اور عاجزانہ دعا کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا کا بدلہ بھی دیا یعنی فتح اور ملک اور اقتدار وغیرہ اور آخرت کا بھی ان کو عہدہ عطا فرمایا یعنی جنت اور اپنی خوشنودی سے نوازا اور اللہ تعالیٰ ایسے نیک کردار اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے جو مصائب و شدائد میں استقلال اور توکل علی اللہ کے پابند رہتے ہیں۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ جہاد کے مصائب کا یہ موقعہ صرف تمہارے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ پہلے بھی انبیاء کے ساتھ ہو کر اللہ والے لوگ جہاد کرچکے ہیں ۔ پھر ان سے تو کسی کمزوری کا اظہار نہیں ہوا نہ انہوں نے ہمت ہاری نہ سستی دکھائی نہ دشمنوں کے مقابلے میں ذرا لچکے ۔ استکان کے معنی ہیں اطاعت قبول کرلینا جھک جانا غرض ان سے کوئی بات ایسی سر زد نہیں ہوئی جو مسلمانوں کے لئے موجب شرمندگی اور باعث ذلت ہوتی ایک تم ہو کہ ذرا سی تکلیف میں گھبرا اٹھے اور جہاد سے بھاگ نکلے اور ابوسفیان سے امن حاصل کرنے کا ارادہ کرنے لگے پھر ان مجاہدین کی دعا نقل فرمائی۔ ذنوب اور اسراف ان دونوں سے یا تو کبائر مراد ہیں اور ایک لفظ دوسرے لفظ کی تاکید ہے یا ذنوب سے صغائر اور اسرافنا سے کبائر مراد ہیں۔ ہم نے دوسرے معنی اختیار کئے ہیں جیسا کہ تیسیر سے ظاہر ہے۔ اسراف کے معنی ہیں حد سے نکل جانا یہاں شاید میدان جاد کی بےعنوانیاں مراد ہیں۔ ثواب الدنیا کی تفسیر میں بعض حضرات نے فتح اور غنیمت کہا ہے اور جو لوگ کہتے ہیں کہ پہلی امتوں پر غنائم حلال نہیں تھے۔ جیسا کہ حدیث میں آتا ہے تو وہ ثواب دنیا سے صرف فتح اور ملک کرتے ہیں ۔ فقیر عرض کرتا ہے کہ حدیث سے صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ امم سابقہ پر غنائم حلال نہیں تھے یعنی مجاہدین غنائم کو استعمال نہیں کرسکتے تھے۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ غنائم پر قبضہ کر کے مساکین کو بھی نہیں دے سکتے تھے یا جمع کر کے آسمانی آگ کے جلانے کو بھی کسی پہاڑ پر نہیں رکھ سکتے تھے بہرحال احتیاطاً ہم نے لفظ غنیمت کو ترجمہ اور تیسیر میں نہیں رکھا ہے۔ (واللہ اعلم) اب آگے اللہ تعالیٰ کی ولایت اور اس کی مدد پر بھروسہ رکھنے کی تاکید اور کافروں کی اطاعت اور ان کے مشوروں پر عمل کرنے کی ممانعت مذکور ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)