Ayahs 3:115–116ف 3 یہ لوگ اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر پوری طرح ایمان رکھتے ہیں اور دوسرے لوگوں کو اچھے کاموں کی ترغیب دیتے ہیں اور نیک کام کرنے کو کہتے ہیں اور برے کاموں سے منع کرتے اور روکتے ہیں اور بھلائی کے کاموں میں دوڑتے اور جلدی کرتے ہیں اور ہمیشہ سرگرم رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ مذکورہ حضرات نیک اور شائستہ لوگوں میں سے ہیں اور یہ لوگ جو نیک کام بھی کریں گے اس کی ناقدری نہیں کی جائے گی اور اس کے ثواب سے یہ لوگ محروم نہیں کئے جائیں گے اور اس ناقدری اور محرومی کا بھلا احتمال ہی کب ہوسکتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ پرہیز گاروں اور متقیوں کو خوب جانتا ہے۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ امت قائمہ جس کا ذکر ہم کر رہے یں یہ ایسی جماعت ہے کہ اس کے تمام افراد اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر صحیح ایمان رکھتے ہیں یعنی کامل مومن ہیں پھر دوسروں کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر بھی کرتے ہیں پھر ان کے عمل کی خود یہ حالت ہے کہ کوئی نیک کام سامنے آجائے تو اس کی طرف دوڑتے اور لپکتے ہیں یعنی کوئی نیک کام نہیں چھوڑتے جب ان کے اعتقاد اور عمل کی یہ حالت ہے تو اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان کا شمار نیک لوگوں میں ہے۔ دوسری آیت میں ان کی طاعات و عبادات کی قبولیت کا ذکر ہے اور ان کے اہل تقویٰ میں سے ہونے کا اظہار ہے۔
فلن یکفروہ کا مطلب یہ ہے کہ خدمات کا اعتراف کیا جائے گا اور ایسا نہیں ہوگا کہ ان کی عبادات و طاعات کو نظر انداز کردیا جائے کیونکہ ہم ایسے آقا نہیں ہیں کہ لوگوں کی حالت سے بیخبر ہوں یا کسی کی سعی اور محنت کے قدر دان نہ ہوں۔
جب یہ دونوں باتیں نہیں تو ان کی محنت کا پھل کس طرح ضائع ہوسکتا ہے ان کی شان تو یہ ہے وکان اللہ شاکر علیما یعنی اللہ تعالیٰ قدر دان اور جاننے والا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہود میں پانچ سات آدمی حق پرست تھے وہ مسلمان ہوگئے ان کے سردار عبد اللہ بن سلام تھے۔ حق تعالیٰ ہر جگہ اہل کتاب کی مذمت میں سے ان کو نکال لیتا ہے یہ بھی ان ہی کا مذکور تھا (موضح القرآن)
جاننا چاہئے کہ امت قائمۃ میں تمام اوصاف اور خوبیاں شامل تھیں لیکن خصوصی طور پر ان کے نیک اعمال اور اعتقاد کو علیحدہ بیان فرمایا۔
اب آگے ان اہل کتاب کا ذکر ہے جو کفر پر قائم رہے اور اسلام قبول کرنے اور نبی آخر الزماں ﷺ پر ایمان لانے سے بچتے اور بھاگتے رہے۔ (تسہیل)
Ayah 3:117ف 1 رہے وہ لوگ جنہوں نے کفر کی روش اختیار کر رکھی ہے تو یقیناً اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی گرفت کے مقابلہ میں نہ ان کافروں کے مال کچھ کام آسکیں گے اور نہ ان کی اولاد کچھ کام آسکے گی اور یہ لوگ اہل دوزخ اور دوزخ میں رہنے والے ہیں اور یہ اس دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے یہ کافر جو کچھ دنیوی زندگی میں خرچ کرتے اور خیر خیرات کرتے ہیں اس کی حالت تباہ و برباد ہونے میں ایسی ہے جیسے اس ہوا کی حالت جس میں سخت پالا اور تیز سردی ہوا اور سوہ پالے والی ہوا ایک ایسی قوم کی کھیتی کو جا لگے جنہوں نے اپنے جانوں پر ظلم کا ارتکاب کیا ہو اور وہ سرد ہوا اس کھیتی کو برباد کر ڈالے اور بالکل نیست و نابود کر دے اور اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی کفر و بدینی کے مرتکب ہو کر اپنی جانوں پر ظلم توڑ رہے تھے اور اپنے کو نقصان پہنچا رہے تھے۔ (تیسیر)
آیت کا تعلق بظاہر سیاق وسباق سے یہود کے ساتھ ہے لیکن اس معاملہ میں چونکہ تمام کفار مشرک ہیں اس لئے ان الذین کفروا خواہ وہ اہل کتاب ہوں یا کفار مکہ ہوں بلکہ خیرات و صدقات کے ثواب سے محرومی میں تو بعض ریا کار مسلمان بھی مشرک ہیں۔ عموم کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ مکہ کے بعض کافر نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں کے سامنے اپنے مال و اولاد کی کثرت پر فخر کیا کرتے تھے۔ اور ان دونوں چیزوں کی کثرت سے اپنے معذب نہ ہونے پر استدلال کیا کرتے تھے جیسا کہ سورة سبا میں ان کا قول ذکر کیا۔
وقالوا نحن اکثرا موالا و اولادا وما نحن بمعذبین
یعنی ہم مال اور اولاد میں بہت زیادہ ہیں اور ہم عذاب نہیں دیئے جاسکتے۔
اس لئے حضرت حق تعالیٰ نے عموم کے ساتھ فرمایا۔ مال کا کام نہ آنا اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں تو ظاہر ہی ہے کہ وہاں مال ہوگا ہی نہیں تو کام کیا آئے گا اور اگر فرض کرو کسی کے پاس ہو بھی تو فدیہ میں قبول نہیں جائے گا خواہ زمین سے بھرا ہوا سونا ہی کیوں نہ ہو رہی اولاد تو بھلا جہاں نفسی نفسی کا ہنگامہ ہو وہاں اولاد کیا نفع دے سکتی ہے۔ اس سورة میں چند رکوع پیشتر اسی مضمون کی آیت گزر چکی ہے وہاں مزید تفصیل مذکور ہے چونکہ مال و اولاد کے نافع ہونے کی نفی فرمائی تھی اس لئے خیال ہوتا تھا کہ بعض کافر طاعات میں بھی تو خرچ کرتے ہیں اس کا ثواب تو ان کو ملے گا کیونکہ کافر جو خیرات کرتے ہیں کچھ تو ایسے کاموں میں خرچ کرتے ہیں جو واقعی مسلمانوں کے نزدیک بھی اچھے ہیں مثلاً مخلوق کی خدمت کرنا غرباء کو کھانا کھلانا محتاجوں کا علاج کرنا کہ یہ کام اچھے ہیں اور بعض کام ایسے ہیں جو ان کے نقطۂ نگاہ سے اچھے ہیں مثلاً مندر بنانا اپنے مذہب کی اشاعت پر خرچ کرنا اس قسم کے انفاق پر یہ توقع ہوتی تھی کہ قیامت میں کچھ فائدہ ان کو ملے گا اس لئے آگے کی آیت میں اس قسم کی امید کا رد فرمایا کہ ان کو کسی قسم کی خیرات عذاب سے نہ بچا سکے گی کیونکہ اگر کفر کی ترویج میں خرچ کیا ہے تب تو اس کا بےکار ہونا ظاہری ہے اور محتاج و مساکین پر اگر خرچ کیا تب بھی اس کی قبولیت کے لئے ایمان شرط ہے اور ایمان ہے نہیں اس لئے فرمایا کہ دنیوی زندگی میں ان کے انفاق کی حالت ایسی ہے جیسے پالا ماری کھیتی جس کو پالے کی ہوا لگ جائے اور وہ جل کر خاک ہوجاتی ہے اسی طرح ان کی خیرات کا حال ہے اور قوم کے ساتھ جو یہ قید لگائی کہ انہوں نے اپنی جانوں پر کفر کر کے ظلم کر رکھا تھا یہ شاید اس لئے لگائی کہ اگر یہ لوگ کافر نہ ہوتے بلکہ مسلمان ہوتے تب بھی پالا کھیتی کو اجاڑ دیتا لیکن نقصان پر کچھ نہ کچھ اجر ضرور ملتا جیسا قاعدہ ہے کہ مسلمان کو اگر کوئی نقصان پہنچتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس کے عوض اجر دیتا ہے یا اس بندے کی خطائیں معاف کردیتا ہے لیکن پالے کی ہوا نے کھیتی بھی اجاڑی اور تھے بھی کافر اس لئے کوئی نفع مرتکب نہیں ہوا۔
جیسا کہ سورة فرقان میں ہے۔ وقد منا الی ما عملوا من عمل فجعلنا لا ھباء منشورا۔
یہاں تشبیہہ مفرد بالمفرد بھی ہوسکتی ہے مثلاً یوں کہا جائے کافر کا مال خرچ کرنا اس کے مال کو اس طرح برباد اور ختم کرتا ہے جس طرح پالے کی ہوا کھیتی کو برباد کردیتی ہے یعنی مال خرچ ہوجاتا ہے اور فائدہ کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ (واللہ اعلم)
ہم نے تشبیہہ مرکب کی صورت پر تفسیر کی ہے یعنی کافر کے اتفاق کو پورے واقعہ سے تشبیہہ ہے آخری آیت میں اولاد کے متعلق کوئی بات نہیں فرمائی یہ اس لئے کہ خیرات میں جو نفع کا احتمال تھا وہ وہاں نہیں ہے نیز یہ اولاد کا بےکار ہونا بالکل بدیہی ہے اگر اولاد مسلمان ہے تو وہ قیامت میں کافر کی سخت مخالف ہوگی اور اگر اولاد کافر ہوئی تو وہ خود ہی عذاب میں مبتلا ہوگی۔
صر کے معنی ہیں سخت تیز سردی اور ٹھنڈک۔
بعض اہل لغت نے فرمایا ہے کہ قرآن میں عام طور سے ریح کا لفظ عذاب آلود ہوا کے لئے استعمال ہوا ہے اور رحمت کے لئے ریاح بولا گیا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جو مال خرچ کیا اور اللہ کی رضا پر نہ دیا آخرت میں دیا نہ دیا برابر ہے۔ (موضح القرآن)
ان آیتوں میں کفار کے عموماً اور یہود کے خصوصاً احوال کا ذکر تھا اور ان کی برائیاں مذکور تھیں اب آگے مسلمانوں کو خطاب ہے کہ جب ان لوگوں کے عناد کا یہ حال ہے اور ان کے کفر و نفاق کی یہ حالت ہے تو ان سے راز دارانہ تعلقات قائم نہ کرو مبادا دوستانے میں کوئی بھید کی بات تمہارے منہ سے نکل جائے اور تمہارے دشمن اس بھید سے ناجائز فائدہ اٹھا لیں۔ (تسہیل)
Ayahs 3:118–119ف 2 اے ایمان والو تم اپنی جماعت اور اپنے لوگوں کے علاوہ دوسرے مذاہب کے لوگوں میں سے کسی کو اپنا راز دارانہ بنائو کیونکہ وہ لوگ تمہارے ساتھ فساد کرنے میں اور تمہارے خلاف فتنہ انگیزی میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے اور کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھتے جس چیز سے تم کو نقصان پہنچے وہ ان کو محبوب ہے اور یہ لوگ تمہارے ضرر کو دل سے دوست رکھتے ہیں جو چیز بھی تمہارے لئے موجب مشقت و تکلیف ہو اس کی یہ تمنا رکھتے ہیں ان کے دل کے بغض کا یہ عالم ہے کہ حقیقتاً وہ بغض ان کے منہ سے نکلا پڑتا ہے یعنی بات چیت میں ان کے منہ سے ان کے دل کا بغض ظاہر ہوجاتا ہے اور جو دشمنی اور بغض ان کے سینوں میں بھرا ہوا ہے اور ان کے دلوں میں پوشیدہ ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہے جو کبھی کبھی ان کے منہ سے ظاہر ہوتا رہتا ہے۔
دیکھو ! ہم نے تم کو پتے کی باتیں بتادی ہیں اور ان کی عداوت و بغض کی علامات ظاہر کردی ہیں بشرطیکہ تم عقل رکھتے ہو اور سمجھ سے کام لو۔ (تیسیر)
بطانۃ اصل میں نیچے کی چیز کو کہتے ہیں جیسے لحاف وغیرہ کا استر یہاں وہ شخص مراد ہے جس کو اپنی پوشیدہ بات سے واقف کرنے اور اطلاع دینے کے لئے خاص کر لیاجائے۔ مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کے علاوہ کسی کو اپنے بھید اور راز بتانے کے لئے مخصوص نہ کرو۔
خبال اس فساد اور خرابی کو کہتے ہیں جو حیوان کو مضطرب کر دے۔ جیسے جنون یا کوئی اور ایسا مرض جس سے عقل خراب ہوجائے۔ یہاں شر اور فساد اور فتنہ انگیزی وغیرہ مراد ہے۔
ھنت کے معنی مشقت اور کسی ایسے امر میں مبتلا کردینا جس میں انسان کے تلف ہوجانے کا اندیشہ ہو یہاں مطلب یہ ہے کہ کافر ایسی چیزوں کے متمنی رہتے ہیں جو تم کو پریشانی اور تباہی میں مبتلا کرنے والی ہیں۔
الی۔ یالو کے معنی ہیں کمی کرنا، کوتاہی کرنا، یہاں مطلب یہ ہے کہ تمہاری تباہی کا کوئی موقعہ ہاتھ سے یہ لوگ جانے نہیں دیتے ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ مدینہ کی ہجرت اور مسلمانوں کا اقتدار شروع ہونے کے بعد مدینہ اور اس کے آس پاس کی بستیاں سازشوں کی ایک آماجگاہ بنی ہوئی تھیں ہر وقت مسلمانوں کے خلاف سازشیں ہوتی رہتی تھیں۔ خواہ وہ یہود کی جانب سے ہوں یا منافقین کی جانب سے یا سب کافر اور اہل کتاب ان سازشوں میں شریک ہوں پھر یہ کہ اسلام سے پہلے ان سب کے آپس میں بڑے گہرے تعلقات تھے کوئی کسی کا حلیف تھا اور کوئی کسی کا۔
اب اسلام کے بعد ایک عجیب صورت پیدا ہوگئی برسوں کے تعلقات اور آپس کا ملنا جلنا اور دوستانے اب بھی قائم رکھے گئے، مہاجرین تو خیر مکہ سے آئے تھے ان کے تعلقات تو کافروں سے نہ تھے لیکن انصار کے اکثر تعلقات تھے حالات ساز گار ہوں تو اس قسم کے تعلقات زیادہ خطرناک نہیں ہوتے آدمی دشمن کے ساتھ بھی بعض حالات میں مل بیٹھتا ہے لیکن مدینہ میں جو حالت تھی وہ بالکل مختلف اور ناسازگار تھی مسلمان علیحدہ اپنے بچائو اور ترقی کی صورتوں پر غور کرتے تھے اور کافر الگ مسلمانوں کو ختم کرنے کی سکیمیں بناتے تھے اگر ان حالات میں بھی سابقہ میل جول اور دوستانے قائم رکھے جاتے تو یقیناً اس کا خطرہ تھا کہ مسلمانوں کی بعض جنگی اسکیمیں کافروں کو معلوم ہوجاتیں اور ان اسکیموں کے ظاہر ہوجانے سے مسلمانوں کو سیاسی نقصان پہنچتا اس لئے مسلمانوں کو آگاہ کیا گیا کہ اب ان دوستانوں کو ختم کیا جائے اور اس میل جول اور خصوصی تعلقات سے اجتناب کرو اور اس قسم کے تعلقات کو روکنے کے لئے دو ہی صورتیں ہوسکتی تھیں۔
ایک یہ کہ مسلمانوں کو ان تعلقات کے نقصانات سے آگاہ کیا جائے دوسرے یہ کہ کافروں کے صحیح جذبات سے مسلمانوں کو مطلع کیا جائے۔ مسلمانوں کے برتائو اور کافروں کے برتائو کے فرق کو نمایاں کیا جائے۔
چنانچہ اس آیت میں اور آگے کی آیتوں میں ان دونوں پہلوئوں کا اظہار فرمایا ہے اور جن باتوں کو اس پارے کے پہلے رکوع میں اشارتاً فرمایا تھا یہاں ان کو تفصیل سے ذکر کیا ہے اور کافروں سے مخصوص اور راز دارانہ تعلقات میں جو دینی اور دنیوی مضرتیں مخفی تھیں ان سے مسلمانوں کو مطلع کیا گیا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی مسلمانوں کو کافروں سے دوستی نہ کرنی چاہئے وہ ہر طرح دشمن ہیں۔ (موضح القرآن)
ہم کفار کے تعلقات کی تشریح اسی صورت کے تیسرے رکوع میں عرض کرچکے ہیں ایک عام ضابطہ یاد رکھنا چاہئے نہ تو سب کافر برابر ہیں نہ زمانے کے حالات ہمیشہ یکساں ہیں اقتدار کے زمانے کے احکام اور ہیں غلامی کے دور کے احکام اور ہیں ایک غیر متعصب کافر کے احکام دوسرے ہیں اور متعصب کفار کے احکام جدا ہیں اور یہ تمام تفصیل کتب فقہ میں مل سکتی ہے اور بعض مواقع پر جصاص رازی نے بھی بعض آیات کے تحت میں اس قسم کے مسائل کو وضاحت کے ساتھ ذکر کیا ہے اگرچہ یہاں سخت معاندین کا ذکر ہے اور مدینہ کے حالات بھی ایسے ہی تھے کہ مسلمانوں کو پھونک پھونک کر قدم رکھنے کی ضرورت تھی پھر بھی اس امر کی ضرورت ہے کہ کفار سے تعلقات میں ہمیشہ اور ہر حال میں احتیاط کرنی چاہئے اور راز دار تو کسی صورت میں بھی بنانا نہیں چاہئے۔ حضرت فاروق اعظم تو اپنی خلافت کے زمانے میں کسی غیر مسلم کو اپنا کاتب بھی نہیں مقرر کرتے تھے۔ اور یہ جو فرمایا کہ عداوت و بغض ان کے منہ سے ٹپکا پڑتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ لاکھ یہ بچا بچا کر گفتگو کرتے ہیں مگر ان کے دل کی خباثت کا اظہار کبھی کبھی ہو ہی جاتا ہے اور باقی جو کچھ ان کے سینوں میں بھرا ہوا ہے تو وہ تو بہت زیادہ ہے۔
اب آگے ان کے اور جذبات فاسدہ کا اظہار فرماتے ہیں اور یہ بات بتاتے ہیں کہ تم میں اور ان میں بڑا فرق ہے۔ چناچہ ارشاد فرماتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayahs 3:120–121ف 1 ہاں ! اے مسلمانو ! سن لو ! تم ایسے ہو کہ تم تو ان کافروں سے اپنی قرابت اور پرانے دوستانے کی وجہ سے محبت کا برتائو کرتے ہو اور وہ تم سے بالکل محبت نہیں کرتے حالانکہ تم تمام کتب سماویہ پر اجمالاً اور تفصیلاً ایمان رکھتے ہو اور وہ تمہاری کتاب پر باوجود اس کے بھی ایمان نہیں رکھتے اور یہ ایسے منافق ہیں کہ جب تم سے ملتے ہیں اور ملاقات کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے اور جب تنہا ہوتے ہیں اور تم سے الگ ہوجاتے ہیں تو تم پر غصے اور جلن کے مارے اپنی انگلیاں کاٹے ڈالتے ہیں اور چبا چبا جاتے ہیں آپ فرما دیجئے کہ تم اپنے غصہ میں جل مرو اور مارے غصے کے مر جائو بیشک اللہ تعالیٰ سینوں کی باتوں اور دل کے رازوں کو خوب جانتا ہے۔
اے مسلمانو ! اگر تم کو کچھ بھلائی پہنچتی ہے اور کوئی اچھی حالت تم کو پیش آتی ہے تو بھلائی ان کے لئے رنجدہ ہوتی ہے اور ان کے لئے موجب حزن ہوتی ہے اور اگر سو اتفاق سے تم کو کوئی ناگوار حالت پیش آجاتی ہے اور تم کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اس مصیبت سے یہ بہت خوش ہوتے ہیں اور اگر تم صبر و استقلال کا شیوہ اختیار کرو اور تقویٰ اور پرہیزگاری کے پابند رہو تو ان لوگوں کی کوئی شرارت آمیز تدبیر تم کو ذرا بھی نقصان نہیں پہنچا سکے گی اور تمہارے خلاف ان کی کوئی تدبیر کارگر نہ ہوگی یقین جانو ! کہ جو کارروائیاں یہ لوگ کرتے ہیں ان سب کو اللہ تعالیٰ کے علم نے گھیر رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ کا علم ان سب کو حاوی اور احاطہ کئے ہوئے ہے۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کو تنبیہہ کی گئی ہے اور دونوں کے برتائو کا فرق بیان کیا گیا ہے۔ یعنی تمہاری یہ حالت ہے کہ تم ان سے محبت کا برتائو کرتے ہو اور قرابت داری یا اہم تعلقات کی رعایت کرتے ہو اور ان کی خباثت کا یہ حال ہے کہ تم سے ذرا محبت نہیں کرتے اور نہ کوئی حجت آمیز برتائو کرتے ہیں دل سے بھی محبت نہیں اور برتائو میں بھی ذرا لحاظ نہیں۔ پھر تمہاری حالت تو یہ ہے کہ تم تمام کتب سماویہ پر ایمان رکھتے ہو جن کتابوں کا ذکر قرآن میں آگیا ہے ان پر تو تفصیلی اعتقاد رکھتے ہو اور جن کا ذکر نہیں آیا ان پر اجمالی ایمان رکھتے ہو اور ان بدبختوں کی یہ حالت ہے کہ یہ نہ تمہارے نبی کو نبی مانتے ہیں اور نہ تمہارے قرآن کو آسمانی کتاب مانتے ہیں اور اس معاملے میں ذرا رواداری کرنے کو تیار نہیں۔
پھر ان کے نفاق کا یہ عالم ہے کہ جب تم سے ملتے ہیں تو اپنے ایمان کا اقرار کرتے ہیں تم سمجھتے ہو کہ یہ تمہارے نبی اور تمہاری کتاب پر ایمان لے آئے۔ حالانکہ ان کے دل میں اپنی کتاب اور اپنا رسول ہوتا ہے اور جب تنہائی میں اپنی ٹولی کے ساتھ ہوتے ہیں تو تمہاری ترقی اور تمہاری برتری پر جلے مرتے ہیں اور اپنی انگلیاں دانتوں سے کاٹتے ہیں۔
بہرحال آپ کہہ دیجئے کہ تم اپنے غصہ میں آپ ہی مر رہو اللہ تعالیٰ کو جو ترقی دینی ہے اور اسلام کو جس قدر سربلند کرنا ہے وہ کر کے رہے گا تمہارے جلنے سے کیا ہوتا ہے اور چونکہ اللہ سینوں کی باتوں اور دل کے بھیدوں کو جانتا ہے اس لئے ان سب سے تم کو آگاہ کردیتا ہے کہ یہ تمہارے ایسے دشمن ہیں پھر ان کی یہ حالت ہے کہ تم کو تھوڑی سی بھلائی بھی میسر ہوجاتی ہے تو وہ بھی ان کے لئے رنج و غم کا موجب ہوتی ہے اور تم کو تھوڑی سی تکلیف بھی پہنچ جاتی ہے تو ان کے ہاں شادیانے بجنے لگتے ہیں مگر ہم تم کو بتاتے ہیں کہ ان کی مخالفانہ تدابیر تم کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتیں بشرطیکہ تم صبر سے کام لو اور جادۂ استقلال کو ہاتھ سے نہ جانے دو اور اپنے جذبات کو قابو میں رکھو اور پرہیزگاری اور تقویٰ کی راہ پر قائم رہو۔ یہ دو باتیں ایسی ہیں کہ ان کے خوگر اگر رہو گے تو ان کی شرارتیں اور ریشہ دوانیاں تم پر ہرگز اثر انداز نہ ہوں گی اور بھلا ان کی مخالفانہ کارروائیاں کس طرح اثر انداز ہوسکتی ہیں جبکہ وہ سب اللہ تعالیٰ کے احاطۂ علمی میں ہیں اور ان کی کوئی تدبیر اللہ تعالیٰ کے علم سے باہر نہیں ہے معلوم ایسا ہوتا ہے کہ ان آیات میں یہود کا ذکر ہے کیونکہ وہی سب سے زیادہ مسلمانوں کی مخالفت میں پیش پیش تھے اور جب پڑھے لکھے لوگوں کا یہ عالم تھا تو عوام دشمنی کا کیا کہنا ہے۔
بہرحال ہم عرض کرچکے ہیں کہ مدینہ میں سازشوں کا جو جال بچھا ہوا تھا اس میں کم و بیش سب ہی غیر مسلم شریک تھے کوئی کم اور کوئی زیادہ۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اکثر منافق بھی یہود میں تھے اس واسطے ان کے ذکر کے ساتھ ان کا بھی ذکر فرمایا۔
اب آگے جنگ احد کی باتیں مذکور کیں کہ اس میں بھی مسلمانوں نے بعضے کافروں کا کہا مان لیا تھا اور لڑائی سے پھر چلے تھے اور منافقوں نے اپنے نفاق کی باتیں ظاہر کی تھیں۔ (موضح القرآن)
حضرت شاہ صاحب (رح) کا رجحان بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان آیات کا تعلق یہود سے ہے ان یہود میں بھی چونکہ کچھ لوگ منافق تھے اس لئے حضرت شاہ صاحب (رح) نے ان کی طرف بھی اشارہ کردیا۔ مذکورہ بالا آیات میں اسلام کے دشمنوں کی ذہنیت کا اظہار فرمایا تھا اور ان کی عداوت اور بغض اور غصہ کے مارے انگلیوں کا کاٹنا اور ان کا نفاق، اور دشمنی کا منہ سے ظاہر ہونا اور سینے میں بڑی بڑی تمنائوں کا پوشیدہ ہونا۔ مسلمانوں سے محبت نہ کرنا اور محبت آمیز برتائو بھی کرنے پر آمادہ نہ ہونا اور قرآن کو آسمانی کتاب تسلیم نہ کرنا اور مسلمانوں کے معمولی فائدے کو بھی برداشت نہ کرنا خواہ وہ اسلام کی ترقی ہو یا مال غنیمت کا حصول یا کسی علاقہ میں فتح کا حاصل ہونا ہو۔ غرض ہر بھلائی پر جلنا اور مسلمانوں کے نقصان پر خوش ہونا اور فخر و مباہات کا اظہار کرنا یہ سب باتیں تفصیل سے بیان فرمائی تھیں اور آخر میں مسلمانوں کو اطمینان دلایا تھا اور یہ فرمایا تھا کہ اگر تم برداشت اور استقلال سے کام لیتے رہے اور کسی حال میں بھی تقویے کا دامن نہ چھوڑا تو کفار کی اسلام دشمنی سے تم کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا اور ان کی تمام سازشیں اور مکاریاں بیکار کردی جائیں گی۔
اب آگے ان سب چیزوں کا عملی ثبوت واقعات کی روشنی میں بیان فرماتے ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ دوست کی دوستی اور دشمنوں کی دشمنی کا حقیقی امتحان میدان جنگ اور مصائب و آلام ہی کے وقت ہوتا ہے مصیبت و پریشانی کے وقت معلوم ہوتا ہے کہ دوست کون ہے اور دشمن کون ہے، اپنا کون ہے اور پرایا کون ہے اور ایک دوست دشمن کی شناخت کیا بلکہ خود ایک مسلمان کے اسلام اور اس کے خلوص کا امتحان بھی ایسے ہی مواقع پر ہوتا ہے کہ ایک مسلمان میدان جنگ میں اور مصائب و آلام میں کہاں تک صبر و استقلال اور تقوے کا پابند رہتا ہے اس لئے آگے چند لڑائیوں کا ذکر فرماتے ہیں۔ ان لڑائیوں میں دشمنوں کی عداوتیں نمایاں ہوگئیں اور جن مواقعہ میں مسلمانوں سے کوتاہیاں ہوئیں اور صبر و استقلال کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیا تو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا اور حاصل شدہ فتح نے شکست کی صورت اختیار کرلی اور جس جنگ میں مسلمانوں نے ہمت و استقلال سے کام لیا اس میں اللہ تعالیٰ کی تائید حاصل رہی اور باوجود اسباب کی بےسروسامانی اور تعداد کی قلت کے اللہ تعالیٰ کے حکم سے شاندار فتح حاصل ہوئی۔
چونکہ غزوۂ احد میں ایسے واقعات پیش آئے تھے جن سے دشمنوں کی عداوتیں ظاہر ہوئی تھیں اور مسلمانوں سے بھی بعض کوتاہیاں سرزد ہوئی تھیں اس لئے غزوۂ احد کو تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے اور بیچ میں تھوڑا سا ذکر غزوۂ بدر کا بھی آگیا ہے اور آخر میں بدر صغریٰ یعنی غزوۂ حمر الاسد پر اس سلسلے کو ختم کردیا ہے۔ چناچہ آگے ابتدائی آیتوں میں غزوۂ احد کا ذکر ہے۔
غزوہ احد 3 ھ شوال کے مہینے میں واقع ہوا ہے آل عمران کے ابتدائی حصے میں ہم اس شاندار فتح کا ذکر کرچکے ہیں جو مسلمانوں کو ایک سال پہلے بدر کے میدان میں حاصل ہوچکی تھی۔ چونکہ اس لڑائی میں ستر کافر مارے گئے تھے اور ستر گرفتار ہوئے تھے اور یہ تعداد اس زمانہ میں بہت سمجھی جاتی تھی اگرچہ بعد میں قیدیوں کو رہا بھی کردیا گیا تھا جس کی تفصیل انشاء اللہ سورة انفال میں آجائے گی مگر اس فتح نے تمام عرب میں مسلمانوں کی دھاک بٹھا دی تھی اور کافر اس دن سے اس فکر میں لگے ہوئے تھے کہ کسی طرح اپنی شکست کے داغ کو دھوئیں۔
چنانچہ ایک سال کے بعد کفار نے ایک بھاری جمعیت کے ساتھ جس کی تعداد تین ہزار تھی مدینہ پر حملہ کرنے کی تیاری کی اور مدینہ سے تقریباً تین میل کے فاصلہ پر کوہ احد کے دامن میں اپنا لشکر جا اتارا تین ہزار آدمی اور اشعار پڑھ پڑھ کر غیرت دلانے والی عورتیں بھی اس لشکر کے ساتھ تھیں اور بڑا ساز و سامان ان کے ہمراہ تھا۔
یہاں نبی کریم ﷺ نے انصار و مہاجرین سے مشورہ کیا کہ مدینہ سے نکل کر حملہ کرنا بہتر ہوگا یا مدینہ میں رہ کر ان کے حملہ کی مدافعت مفید ہوگی نبی کریم ﷺ کی ذاتی رائے یہ تھی کہ مدینہ میں رہ کر ان کی مدافعت اچھی طرح ہو سکے گی۔
اس موقعہ پر عبد اللہ بن ابی منافق سے بھی رائے لی گئی اس کی رائے بھی یہی ہوئی کہ مدینہ کی سرحد پر مورچہ قائم کرنا چاہئے اور مدینہ سے باہر نہیں جانا چاہئے اکثر انصار کی بھی یہی رائے تھی۔
نبی کریم ﷺ نے ایک اپنا خواب اور اس کی تعبیر بھی بیان فرمائی آپ ﷺ نے فرمایا میں نے خواب میں ایک بیل دیکھا اور اس کی تعبیر میں نے خیر اور کامیابی سمجھی اور میں نے اپنی تلوار پر کوئی عیب محسوس کیا اور اس سے میں نے ہزیمت سمجھی پھر میں نے دیکھا کہ میں نے اپنا ہاتھ ذرہ میں داخل کیا ہے اور زرہ کو ڈھال بنایا اور اس کی تعبیر میں نے مدینہ کو سمجھا۔ لیکن ان تمام باتوں کے باوجود بعض جوشیلے نوجوان مدینہ میں رہنے پر رضامند نہ ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ وہیں پہنچ کر ان پر حملہ کرنا چاہئے۔
غرض مسلمانوں کے شوق شہادت کو دیکھتے ہوئے سرکار مکان میں تشریف لے گئے اور جنگی وردی پہن لی اور زرہ وغیرہ زیب بدن فرما لی اور باہر تشریف لائے اس وقت بعض لوگوں نے درخواست کی کہ اگر آپ فرمائیں تو ہم لوگ اپنا مورچہ مدینہ ہی کو مقرر کرلیں۔ آپ (ﷺ) نے فرمایا ایک نبی کو یہ زیبا نہیں کہ جب وہ ہتھیار نکالے اور جنگی وردی پہن لے تو پھر بغیر جنگ کئے اپنے کپڑے اور ہتھیار اتار دے۔
چنانچہ آپ ﷺ سے جب تشریف لے چلے تو آپ کے ہمراہ ایک ہزار مسلمان تھے اگرچہ ان نوجوانوں کے جوش کو بعض سنجیدہ حضرات نے پسند نہیں کیا اور نبی کریم ﷺ کی منشا کے خلاف مدینہ سے نکلنے کو اچھا نہیں سمجھا۔ لیکن بہرحال جب ایک امر طے ہوگیا تو سب نے اس کی تعمیل کی۔
البتہ عبد اللہ بن ابی بن سلول منافق اپنے ساتھیوں کو لے کر لوٹ آیا اور کہنے لگا جب ہماری بات نہیں مانی گئی تو ہم اس جنگ میں شریک نہیں ہوتے بعض لوگوں نے سمجھایا تو اس نے جواب دیا یہ کوئی جنگ نہیں ہے اگر ہم سمجھتے کہ واقعی جنگ ہے تو ہم تمہارے ساتھ چلتے کم و بیش تین سو آدمی جو اس کی ٹولی میں تھے وہ بھی اس کے ساتھ واپس ہوگئے اور اس طرح کل سات سو آدمی میدان جنگ میں پہنچے۔
عبد اللہ بن ابی کی پارٹی کو دیکھ کردو اور قبیلے بنو حارثہ اور بنو سلمہ کے مسلمانوں کی طبیعت بھی بیٹھنے لگی اور ان کے دلوں میں کچھ وسوسے گزرنے لگے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو سنبھال لیا اور ان کی ہمت بڑھا دی اور وہ خدا کے فضل و کرم سے قائم رہے اسی سنبھال کو فرمایا ہے۔
واللہ ولیھما اور عتاب آمیز بشارت فرمائی جیسا کہ ہم آگے عرض کریں گے۔ نبی کریم ﷺ نے میدان جنگ میں پہنچ کر صفیں ترتیب دیں اور عبد اللہ بن جبیر کی سرکردگی میں پچاس تیر انداز پہاڑ کی گھاٹی میں مقرر کردیئے تاکہ دشمن اگر پیچھے سے حملہ کرے تو گھاٹی سے تیر انداز دشمن کا مقابلہ کریں اور ان کو حملہ نہ کرنے دیں اور آپ نے ان کو ہدایت کی کہ تم اس گھاٹی سے نہ نکلنا اور یہیں جمے رہنا اگر تمہارا دشمن بھاگ بھی جائے تو اس کا پیچھا نہ کرنا اور اس گھاٹی سے نہ ہٹنا لیکن حسن اتفاق سے جب پہلی مرتبہ مسلمانوں کو فتح ہوئی اور کافروں کے پیر اکھڑ گئے تو ان پچاس آدمیوں میں گھاٹی سے نکلنے نہ نکلنے پر اختلاف ہوگیا بعض لوگوں نے کہا مسلمانوں کو فتح ہوگئی اب یہاں بیٹھنا بیکار ہے بعض نے کہا کہ حضور ﷺ جب تک ہم کو حکم نہ دیں یہاں سے ہٹنا نہیں چاہئے۔
غرض اس اختلاف کا نتیجہ یہ ہوا کہ سوائے بارہ آدمیوں کے سب گھاٹی سے باہر نکل آئے بھاگتے ہوئے دشمن نے گھاٹی کو جب خالی دیکھا تو وہ گھاٹی کی طرف سے پلٹ پڑا اور اچانک مسلمانوں کو گھیر لیا اور جنگ کا پاسہ بالکل پلٹ گیا اور جو فتح مسلمانوں کو حاصل ہوئی تھی وہ شکست میں تبدیل ہوگئی اور تھوڑی سی کوتاہی سے بنا بنایا کام بگڑ گیا۔
اس جنگ میں نبی کریم ﷺ کو بھی گزند پہنچا اور مسلمان بھی بکثرت شہید ہوئے مسلمانوں کی فوج میں ابتری پھیل گئی کسی نے یہ خبر مشہور کردی کہ نبی کریم ﷺ شہید ہوگئے۔ یہ غلط خبر مدینہ پہنچی تو مدینہ میں اضطراب اور بےچینی پیدا ہوگئی۔
غرض انہی واقعات کی آگے کی آیات میں تفصیل ہے چند آیتوں میں جنگ بدر کے بعض واقعات ہیں ورنہ تین چار رکوع تک غزوۂ احد کے واقعات مذکور ہیں اور جیسا کہ قرآن کا قاعدہ ہے کہ جو بات مناسب ہوتی ہے اس کو بھی بیان کردیتا ہے اسی طرح یہاں بھی غزوۂ احد کے بیان میں بعض دوسرے نصائح اور مواعظ کا بھی تذکرہ آگیا ہے اور شکست کی مصلحتوں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے اور عبد اللہ بن ابی کی پارٹی کے علاوہ جو منافق مسلمانوں میں شامل تھے ان کی بھی معاندانہ حرکات کا بیان ہے ہم انشاء اللہ تفسیر میں ہر چیز کو بیان کرتے رہیں گے۔ (تسہیل)
Ayah 3:122ف 2 اور اے نبی ! آپ اس واقعہ کو یاد کیجئے جب آپ صبح ہی صبح اپنے اہل خانہ سے باہر نکلے تھے اور مسلمانوں کو کفار سے مقابلہ کرنے کی غرض سے مختلف مقامات پر بٹھا رہے تھے اور مختلف ٹھکانوں پر ان کو جمانے اور بٹھانے کے لئے آمادہ کر رہے تھے اور اللہ تعالیٰ اس وقت کی تمام باتیں سنتا اور تمام حالات کو جانتا تھا اور اس وقت یہ قصہ بھی پیش آیا تھا کہ تم میں سے مسلمانوں کی دو جماعتیں یعنی بنو سلمہ اور بنو حارثہ بزدلی دکھانے اور ہمت ہارنے پر آمادہ ہوگئے تھے اور ان کے دل میں بزدلانہ خیالات پیدا ہو چلے تھے اور وہ عبد اللہ بن ابی کی طرح اپنے گھروں کو لوٹ جانے کا قصہ کر رہے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان دو قبیلوں کا مددگار اور سازگار تھا اور مسلمانوں کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھا کریں اور اسی پر اعتماد کیا کریں۔ (تیسیر)
فسل۔ ضعف اور جین کو کہتے ہیں یعنی کمزوری اور بزدلی اہل سے مراد حضرت عائشہ ہیں یعنی حضرت عائشہ کے مکان سے علی الصباح نکلے تھے اور لشکر کے ہمراہ تشریف لے گئے تھے۔
ھمت کا مطلب یہ ہے کہ عبد اللہ بن ابی کی دیکھا دیکھی ان کو بھی یہ خیال ہوا کہ ہم بھی چلے جائیں اور اپنے گھر جا بیٹھیں لیکن یہ خیال چونکہ محض ہم کے درجہ میں تھا اس لئے اس کا وقوع نہیں ہوا پھر یہ کہ اللہ تعالیٰ کی سرپرستی اس کی مدد اور اس کی حفاظت شامل حال تھی اس لئے یہ لوگ فرار سے محفوظ رہے۔
ولیھما کا ترجمہ بعض حضرات نے عاصمھما کیا ہے بہرحال جس کو خدا تعالیٰ کی حمایت اور نصرت حاصل ہو وہ کس طرح گناہ کا مرتکب ہوسکتا تھا۔
حضرت جابر بن عبد اللہ فرمایا کرتے تھے کہ یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہوئی ہے اور یہ آیت ہمارے لئے بڑی مسرت کا موجب ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی ولایت اور اس کے ولی ہونے کی خوشخبری ہے اور یہ بھی صحابہ ؓ پر اللہ تعالیٰ کی عنایت ہے کہ ان پر جو تعریض فرمائی وہ بشارت آمیز فرمائی اور یہ جو طائفتان میں منکم کی قید لگائی اس کا مفاد یہ ہے کہ دو قبیلے جنہوں نے ایسا ارادہ کیا تھا یہ تم ہی میں سے تھے تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ عبد اللہ بن ابی اور اس کی پارٹی تم میں سے یعنی مسلمانوں میں سے نہیں ہے۔
خلاصہ یہ کہ گو ان دو قبیلوں نے ایسا خیال کیا تھا مگر اللہ ان کا ولی تھا بھلا کب ان کو ایسا کرنے دیتا چناچہ اس نے ان کی ہمت بندھوا دی اور آئندہ کے لئے بھی ہم تم کو اور سب مسلمانوں کو حکم دیتے ہیں کہ فقط اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھا کریں اور اس قسم کے امتحانات اور ابتلا کے مواقع سے نہ گھبرایا کریں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جب حضرت مکہ سے مدینہ آئے اس کے ڈیڑھ برس کے بعد جنگ بدر ہوئی مکہ کے لوگوں سے اللہ تعالیٰ نے فتح دی مسلمانوں کو ستر آدمی کافر مارے گئے اور ستر اسیر آئے اگلے سال کافر جمع ہو کر مدینہ پر چڑھ آئے۔ حضرت نے مسلمانوں سے مشورت کی اکثر کہنے لگے ہم شہر میں لڑیں گے اور حضرت کی مرضی بھی یہی تھی اور بعض کہنے لگے کہ یہ عار ہے بلکہ میدان میں مقابل ہونگے آخری مشورت قبول ہوئی۔
جب حضرت شہر سے باہر نکلے عبد اللہ بن ابی کافر تھا مدینہ کا ساکن وہ بھی شریک جنگ تھا ناخوش ہو کر پھر گیا کہ ہمارے قول پر عمل نہ کیا اور اس کے بہکانے سے دو قبیلے انصار کے بھی پھر چلے آخر ان کے سردار عوام کو سمجھا کرلے آئے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو تقویت دیتا ہے کہ اللہ پر توکل چاہئے اطاعت حکم میں اندیشہ نہ کرے۔ (موضح القرآن)
پھر چلے کا مقصد یہ ہے کہ انہوں نے بھی قصد کیا اور سردار عوام کو سمجھا کرلے آئے اس کا مطلب یہ ہے کہ سرداروں کے سمجھانے سے انہوں نے اپنا ارادہ ترک کردیا۔
اب آگے جنگ بدر میں جو نصرت اللہ تعالیٰ کی جانب سے مسلمانوں کو حاصل ہوئی تھی اور جس کی بڑی وجہ مسلمانوں کا استقلال اور تقویٰ کی پابندی تھی اس کا بیان فرماتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayahs 3:123–124ف 3 اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ تم مسلمانوں کی بدر کے میدان میں مدد کرچکا ہے اور تم کو منصور اور فتح مند فرما چکا ہے حالانکہ تم بہت کمزور اور بےسروسامان تھے اور چونکہ یہ نصرت و فتح تمہارے تقویے کی برکت سے ہوئی تھی لہٰذا آئندہ بھی اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔ تاکہ تم شکر کے خوگر رہو اور اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاتے رہو۔ (تیسیر)
بدر ایک کنویں کا نام ہے اس نام سے یہ میدان مشہور ہے جہاں بدر کی لڑائی ہوئی تھی اذلۃ ذلیل کی جمع ہے مراد یہاں یہ ہے کہ تعداد میں کم ساز و سامان میں کم، غرض ہر طرح ضعیف اور کمزور اور بےسروسامان تھے اور یہ کامیابی تقوے کی برکت سے ہوئی تھی۔ تقوے کا مفہوم چونکہ عام ہے اس میں اس لئے استقلال بھی داخل ہے۔
لہٰذا جس کی برکت سے کامیابی ہوئی اسی چیز کو اپنی زندگی کا جز بنا لو کیونکہ انعامات الٰہی کا شکریہ یہی ہے کہ انسان تقوے کا پابند رہے تاکہ آئندہ بھی اس کے احسانات کی بارش ہوتی رہے اس واقعہ کی مزید تفصیل سورة انفال میں انشاء اللہ آجائے گی آگے اپنی تائید اور اپنی مدد کے اسباب اور اس کی صورتیں بیان فرماتے ہیں۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے (تسہیل)
Ayahs 3:125–126ف 1 میدان بدر میں یہ نصرت و امداد اس وقت ہوئی تھی جب آپ مسلمانوں سے یوں فرما رہے تھے کہ کیا تمہارے اطمینان قلب کے لئے یہ بات کافی نہیں ہے کہ تمہارا پروردگار تین ہزار نازل شدہ فرشتوں سے تمہاری امداد فرمائے جو آسمان سے اسی کام کے لئے نازل کئے جائیں گے۔ ہاں کیوں نہیں حق تعالیٰ کا یہ وعدہ تمہاری تقویت کے لئے ضرور کافی ہوگا بلکہ اگر تم مقابلہ میں ثابت قدم رہو گے اور تقویٰ اور پرہیزگاری کے پابند رہو گے اور اگر دشمن جوش میں آ کر تم پر دفعۃً ٹوٹ پڑیں گے تو اللہ تعالیٰ اسی آن تمہاری مدد پانچ ہزار فرشتوں سے کرے گا جن کی علامت اور نشان مخصوص ہوں گے۔ (تیسیر)
تسویم۔ کے معنی علامت لگانا یہ علامت یا تو فرشتوں پر ہو جیسے فوجی وردی یا خاص قسم کے عمامے اور ہوسکتا ہے کہ نشان وار گھوڑے مراد ہوں۔
اب یہ مطلب ہوگا کہ وہ پانچ ہزار فرشتے نشان دار گھوڑوں پر سوار ہوں گے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پلے ہوئے گھوڑے مراد ہوں جو جنگل میں چرتے ہیں جیسا کہ ہم اسی صورت کے دوسرے رکوع میں عرض کرچکے ہیں۔
حضرت علی ؓ ابن ابی طالب کا قول ہے کہ فرشتے سفید پشمینہ پہنے ہوئے تھے اور ان کے گھوڑوں کی پیشانی پر بھی علامت تھی۔
حضرت ابوہریرہ ؓ کا قول ہے کہ سفید پشمینے میں سرخ اون کا بانا تھا ابن عباس کا قول ہے کہ فرشتے صوف کا لباس پہن کر آئے تھے۔
مکحول کا قول ہے کہ فرشتے عمامے باندھے ہوئے تھے۔
ابن عباس کا قول یہ ہے کہ بدر کے روز فرشتوں کی دستار سیاہ تھی جس کے شملے کمر پر پڑے ہوئے تھے اور حین کے روز ان کی دستار سرخ تھی۔
حضرت علی اور ابن عباس کا ایک قول یہ ہے کہ فرشتوں کے عمامے سفید تھے۔
ہشام بن عروہ اور کلبی کا قول ہے کہ عمائم کا رنگ زرد تھا بعض نے عماموں کا رنگ سبز کہا ہے اور ملائکہ کے گھوڑے ابلق تھے (واللہ اعلم)
یہ فرشتوں کا آنا بظاہر بدر کے میدان میں ہوا جیسا کہ اوپر کی آیت سے معلوم ہوتا ہے لیکن ضحاک اور عکرمہ نے اس بشارت کا تعلق احد سے بتایا ہے۔
بعض کا قول ہے کہ یہ فرشتوں کا واقعہ احزاب کے دن ہوا اور احزاب کے بعد جب آپ نے بنو قریظہ اور بنو نضیر کا محاصرہ کیا تو ان کے قلعے فتح نہ ہوئے تو آپ واپس آئے واپس تشریف لا کر غسل کرنا چاہتے تھے کہ جبرئیل (علیہ السلام) آئے اور انہوں نے کہا آپ لوگوں نے کپڑے اتار ڈالے حالانکہ ہم نے ابھی اپنا جنگی لباس زیب بدن کر رکھا ہے۔
آپ ﷺ نے پھر مسلمانوں میں اعلان کردیا اور پھر واپس جا کر قریظہ اور نضیر کا محاصرہ کیا اس دن تین ہزار فرشتوں سے اللہ تعالیٰ نے مدد کی اور یہ دونوں قبیلے فتح ہوگئے۔
حضرت ابن عباس اور مجاہد کا قول ہے کہ ملائکہ نے سوائے بدر کے اور کسی جنگ میں قتال نہیں کیا لوگ آنے کو حنین میں بھی آئے احزاب میں بھی آئے لیکن ان کا آنا محض تقویت قلب اور ثبات قدم کے لئے ہوتا تھا ان کے آنے کی غرض قتال نہ ہوتی تھی البتہ جنگ بدر میں بعض ایسے واقعات منقول ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتوں نے قتال میں بھی کچھ حصہ لیا ہے۔ (واللہ اعلم)
سورۂ انفال کے پہلے رکوع میں ایک ہزار فرشتوں کا ذکر فرمایا ہے اور یہاں پہلے تین ہزار اور پھر پانچ ہزار کا ذکر ہے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ تینوں وعدے بدر کے ساتھ مخصوص ہیں اور غزوۂ احد کے ساتھ ان کے نزول کا تعلق نہیں ہے جن لوگوں نے اس بشارت کا تعلق غزوۂ احد سے رکھا ہے وہ اذ تقول للمؤمنین کو واذغدوت سے بدل قرار دیتے ہیں اور جو لوگ بدر سے اس بشارت کا تعلق ظاہر کرتے ہیں وہ اذ تقول کو ولقد نصر کم اللہ کا ظرف قرار دیتے ہیں جیسا کہ تیسیر میں ہم نے اسی قول کو اختیار کیا ہے اور یہی مفسرین کے نزدیک راحج ہے بہرحال جب مسلمان بدر کے میدان میں آئے اور اپنی بےسروسامانی کو دیکھ کر حق تعالیٰ کی جناب میں دعا کی تو ایک ہزار فرشتوں کا وعدہ کیا گیا اور مرد فین فرمایا جس سے معلوم ہوتا تھا کہ ہزار کے پیچھے اور فرشتوں کے بھی آنے کی توقع ہے۔
دوسرا وعدہ شاید اس وقت کیا گیا ہو جب کہ زبن جابر محاربی کے آنے کی افواہ مشہور ہوئی ہو اور مسلمانوں کو یہ معلوم کر کے کہ زبن جابر کفار کی امداد کو آ رہا ہے پریشانی ہوئی ہو اس وقت تین ہزار کی اطلاع دی ہو جیسا کہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے اور تیسرا وعدہ تو تصریحاً صبر وتقویٰ کے ساتھ مشروط ہے۔ چناچہ صحابہ کا صبر وتقویٰ جنگ بدر میں ظاہر ہے اور اسی بنا پر یہ کہا جاتا ہے کہ تیسرا وعدہ بھی پورا ہوا یعنی پہلے ہزار فرشتے آئے پھر تین ہزار آئے پھر پانچ ہزار آئے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کل پانچ ہزار آئے ہوں یعنی ہر وعدے کی تعداد میں پہلی تعداد میں شامل ہو اور بعض نے کہا کہ تیسرے وعدے کی شرط یا تو کم من فورھم تھی وہ پوری نہیں ہوئی اس لئے پانچ ہزار نہیں آئے اور جن لوگوں نے یاتوکم من فورھم کو شرط قرار نہیں دیا اور صرف تاکید کے لئے رکھا ہے ان کے نزدیک پانچ ہزار کا وعدہ بھی پورا ہوا۔
من فورھم کا مطلب بعض نے فرط غضب بیان کیا ہے اور بعض نے ایک دم ٹوٹ پڑنا کیا ہے ہم نے تیسر میں دونوں کو ملا کر ترجمہ کردیا ہے بہرحال ان تینوں وعدوں کی وجوہات کچھ بھی ہوں لیکن اصل وجہ ہی استقلال اور تقویٰ ہے اور یہی دونوں چیزیں ہر قسم کی اعانت و امداد کی اصل بنیاد ہیں اللہ تعالیٰ کا جب کوئی بندہ گناہوں سے بچتا اور تقوے کی روش اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی روحانی اور مخفی طاقتیں اس کی معین و مددگار ہوجاتی ہیں اور اس قسم کی مخفی اعانت کا تجربہ ہر دور میں کیا جاسکتا ہے یہ حضرت حق تعالیٰ کا ایسا قانون ہے جو اس کے نیک بندوں پر قیامت تک نافذ ہوتا رہے گا مگر یہ اس کی مصلحت اور اس کی حکمت کے خلاف نہ ہو چناچہ صحابہ کرام ؓ نے جن لڑائیوں میں استقلال اور پرہیزگاری کا دامن تھامے رکھا اور لڑائیوں میں ان کو کامیابی ہوئی اور جہاں ان دونوں باتوں میں کچھ کوتاہی واقع ہوئی اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا خواہ کوتاہی ابتداء میں واقع ہوئی ہو جیسے غزوۂ احد اور حنین میں یا آخر میں ہوئی ہو جیسے بدر کی فتح کے بعد قیدیوں کا فدیہ لیکر ان کو رہا کردینا جس کا خمیازہ جنگ احد میں بھگتنا پڑا گویا غزوۂ احد میں جو کچھ ہوا وہ دو کوتاہیوں کا نتیجہ تھا ایک سابق یعنی فدیہ لیکر قیدیوں کو چھوڑنا اور ایک لاحق یعنی رسول کی بلااجازت گھاٹی سے نکل آنا اور یہ ہوسکتا ہے کہ کسی کوتاہی کا خمیازہ کچھ دنوں بعد اٹھانا پڑے اب آگے اس نصرت اور بشارت و امداد کی حکمت کا بیان فرماتے ہیں۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 3:127ف 2 اور اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے یہ امداد محض اس لئے فرمائی کہ تم کو فتح کی بشارت اور خوشی حاصل ہو اور تاکہ تمہارے قلوب کو اضطراب اور پریشانی سے اطمینان حاصل ہو اور تمہارے دل اس امداد سے مطمئن ہوجائیں ورنہ نصرت و مدد تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کی جانب سے اور اسی کے پاس سے ہوتی ہے جو کمال قوت کا بڑا مالک اور بڑا زبردست اور کمال حکمت کا مالک ہے عزیر کا تقاضا یہ ہے کہ بغیر کسی سبب کے غلبہ حاصل ہوجائے مگر حکمت اور اس کے حکیم ہونے کا مقتضا یہ ہے کہ جب چاہے اسباب سے غلبہ عطا کرے اور اس فتح اور غلبہ کی حکمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ منکرین حق کے ایک گروہ کو ہلاک کر دے یا ان میں سے بعض کو اس قدر ذلیل و خوار کر دے کہ وہ ناکام و نامراد ہو کر واپس لوٹ جائیں۔
لیقطع طرفا و ما النصرا الامن عند اللہ میں جو فتح و نصرت ہے اس کی علت ہے یا نصرکم اللہ کی علت ہے اور ہوسکتا ہے کہ یہ بھی وما جعلہ اللہ کی علت ہو جیسا کہ ہمارے ترجمہ اور تیسیر کے فرق سے سمجھ میں آسکتا ہے۔
کبت کے معنی رسوا کرنا توڑ دینا کسی کو اٹھا کر پھینک دینا اور پچھاڑ دینا اور یہ جو فرمایا کہ ایک گروہ کو بالکل ہلاک کردیں یا رسوا اور ذلیل کردیں اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں میں سے ایک بات ہوجائے یا دونوں باتیں ہوجائیں چناچہ یہاں دونوں ہوئیں کہ ستر مارے بھی گئے اور ستر قید بھی ہوئے اور باقی خائب و خاکسر ہو کر بھاگ گئے۔
اس امداد بالم کہ کی دو حکمتیں بیان فرمائیں ایک بشارت فتح دوسرے اطمینان قلوب یہی دو باتیں یہاں تسلی دینے کے لئے مطلوب تھیں کہ نفع بھی حاصل ہو اور مجاہد ضرر سے بھی محفوظ رہیں اور یہ جو فرمایا کہ مدد تو اللہ ہی کے پاس سے ہوتی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اسباب پر فقط بھروسہ نہیں کرنا چاہئے وہ چاہیں تو اپنی زبردست طاقت و بلا کسی سبب کے کامیاب فرما دیں کیونکہ کامیابی اور فتح تو اصل میں انہی کے قبضے میں سے اور وہ اسباب کے محتاج نہیں لیکن وہ حکیم ہیں س لئے نظام عالم کو اسی حکمت کے ماتحت قائم کر رکھا ہے اور بات بھی یہ ہے کہ اس عالم تکوینی کے بھیدوں کا کون احاطہ کرسکتا ہے پوری قوت و طاقت کے ہوتے ہوئے شکست اور باوجود بےسروسامانی کے فتح ملائکہ کی تشریف آوری کو اطمینان قلوب کا موجب فرمایا اس کی تفصیل انشاء اللہ سورة انفال میں آجائے گی۔
چونکہ غزوۂ بدر اور غزوۂ احد میں ایک مناسبت تھی اس لئے بیچ میں بدر کا ذکر فرمایا اب آگے پھر غزوۂ احد کا ذکر فرماتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayah 3:128ف 3 اے پیغمبر ! آپ کو ان کافروں کے معاملہ میں کوئی اختیار نہیں تفویض کیا گیا ہے ان کے مسلمان ہونے یا کافر رہنے میں آپ کو کوئی دخل نہیں ہے خواہ اللہ تعالیٰ ان پر رحمت و صفقت کے ساتھ توجہ فرمائے اور وہ مسلمان ہوجائیں یا اللہ تعالیٰ ان کو دنیا ہی میں کوئی سزا دے کیونکہ یہ بڑا ظلم کر رہے ہیں اور اپنے ظلم کی وجہ سے سزا کے مستحق ہیں۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بعض سرکش اور ظالموں کے حق میں بددعا کی تھی اس سے آپ کو منع کیا گیا کہ آپ ان کے حق میں ہلاک ہونے کی بددعا نہ کریں بلکہ یہ ہمارا کام ہے کہ ہم ان کو توبہ کی توفیق دے دیں اور وہ مسلمان ہوجائیں یا ان کو سزا دیں اگر وہ کفر پر اصرار کرتے رہیں آپ کا کام تبلیغ کرنا اور ان کو ہمارا احکام پہنچانا ہے اور ان کی باتوں کے مقابلہ میں برداشت اور صبر کرنا۔۔۔۔ ہے۔
فراء نے کہا اویتوب اوحتی ان کے معنی میں ہے ابن عیسیٰ نے کہا او الذان کے معنی میں ہے مطلب یہ ہے کہ تمہیں ان کے معاملہ میں کہ وہ مسلمان ہوتے ہیں یا کافر رہتے ہیں کوئی دخل دینے کا حق نہیں یہاں تک کہ وہ مسلمان ہوجائیں تو تم کو اس وقت خوشی ہوگی اور اگر کفر کی وجہ سے ان کو ہم عذاب کریں تو اس وقت آپ کے صبر کا بدلہ ہوجائے گا اور آپ کے قلب کو تسلی ہوجائے گی۔
اس آیت کا تعلق بظاہر غزوۂ احد سے ہے احد میں چونکہ ستر صحابہ شہید ہوئے تھے اور کفار نے انتہائی وحشت و بربریت کا مظاہرہ کیا تھا۔
حضرت حمزہ ؓ کی لاش کے ساتھ بہت ہی وحشیانہ برتائو کیا تھا خود نبی کریم ﷺ کو بھی کافروں نے اس جنگ میں گزند پہنچایا آپ کی پیشانی مبارک کو زخمی کیا۔ حضور ﷺ کے خود کی کڑیاں رخسار مبارک میں گھس گئیں۔ سامنے کے چار دانتوں میں سے نیچے کا داہنا دانت شہید ہوگیا۔ جسم مبارک سے بہت خون نکلا آپ پر غشی طاری ہوگئی کفار نے مشہور کردیا کہ محمد ﷺ قتل کردیئے گئے اس غلط خبر سے عام مسلمانوں میں سراسیمگی پھیل گئی۔
اس نازک موقعہ پر سرکار دو عالم ﷺ کے منہ سے بےساختہ نکلا کیف یضلح قوم شبحوا نبیھم و کسروارباخیتہٗ بھلا اس قوم کو کس طرح فلاح نصیب ہوگی جس نے اپنے نبی کو زخمی کیا اور اپنے نبی کے دانت کو شہید کیا اور آپ نے چند لوگوں کے حق میں بددعا کا ارادہ کیا اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔
بعض حضرات نے کہا ہے کہ بیرمعونہ پر جو کافروں نے ستر قاریوں کو شہید کردیا تھا آپ نماز میں ان کے لئے بددعا کرتے تھے اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔
بعض کا قول ہے کہ آپ نماز کی آخری رکعت میں رکوع کے بعد قنوت پڑھتے تھے اور قبیلہ رعل ۔ کعان اور عصیہ کے لئے بددعا فرماتے تھے اور ان قبیلوں پر لعنت بھیجتے تھے اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں اور آپ کو ایسا کرنے سے منع کیا گیا اور ہلاک وعدم ہلاک کے بارے میں آپ کے اختیار کی نفی فرمائی۔ (واللہ اعلم)
لوگوں نے ان مختلف اقوال کی بہت سی توجیہات بیان کی ہیں یہ ہوسکتا ہے کہ آیت کسی ایک موقع پر نازل ہوئی ہو اور دوسرے موقعہ پر اس کی جانب توجہ دلائی ہو۔
بہرحال علماء و محققین کی رائے یہی معلوم ہوتی ہے کہ ان آیتوں کا تعلق غزوۂ احد کے ساتھ ہے کیونکہ اس موقعہ پر مسلمان بہت متاثر تھے اور بالخصوص حضرت حمزہ ؓ کی شہادت اور ان کا ممثلہ کرنا ناک کان کاٹ کر ان کا ہار بنا کر پہننا۔ حضرت حمزہ کا کلیجہ نکال کر اس کو چبانا پھر نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس کو گزند پہنچانا یہ سب امور ایسے تھے جن کا مسلمانوں پر بہت زیادہ اثر تھا اور بعض صحابہ نے فرمایا تھا کہ اگر ہم کو موقعہ ملا اور کفار پر ہم نے قابو پایا تو ہم سود در سود ان کافروں سے وصول کریں گے خود حضور ﷺ نے بھی حضرت حمزہ ؓ کی نعش کو دیکھ کر فرمایا تھا کہ میں کافروں کو ستر بددعائیں دوں گا اس پر سورة نحل کی آخری آیتیں نازل ہوئیں اور اسی سلسلے میں یہ آیتیں نازل ہوئیں۔
رہا نبی کریم ﷺ کا بددعا کرنا یا بدعا کا قصد کرنا تو ظاہر ہے کہ یہ اجتہاداً تھا نہ آپ کو ممانعت کی گئی تھی نہ حکم دیا گیا تھا اس لئے آپ کی معصومیت پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔
اب آگے اس اختیار پر جو نفی فرمائی تھی اس کی مزید تاکید ہے اور اس پر دلیل ہے کہ یہ اختیار تمہیں کیوں نہیں اور ہم کو کیوں ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حق تعالیٰ نے پیغمبر کو تربیت فرمائی کہ بندے کو اختیار نہیں ہے اللہ تعالیٰ جو چاہے سو کرے اگرچہ کافر تمہارے دشمن ہیں اور ظلم پر ہیں لیکن چاہے ان کو ہدایت دے اور چاہے عذاب کرے اپنی طرف سے بددعا نہ کرو۔ (موضح القرآن)
یہ امت بھی کیا خوش قسمت ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ عذاب کو پیغمبر سے دریافت کرے تو پیغمبر رضامند نہ ہوں جیسا کہ طائف میں ہوا اور کبھی پیغمبر بددعا پر آمادہ ہوں تو اللہ تعالیٰ روک دے۔ صد شکر کہ ہستیم میان ردکریم۔ (تسہیل)
Ayah 3:129ف 4 اللہ تعالیٰ کے اختیار کی دلیل یہ ہے کہ جو کچھ بھی آسمانوں میں ہے اور جو کچھ بھی زمین میں ہے سب اللہ ہی کی ملک ہے اور سب اس کے مملوک ہیں وہ جس کو چاہے بخش دے اور جس کو چاہے سزا دے اور عذاب کرے اور اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت کرنے والا اور بڑی مہربانی کرنے والا ہے۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ جب سب اس کے مملوک ہیں تو اسی کو تصرف کا حق حاصل ہے وہ جس کی چاہے مغفرت فرما دے یعنی اس کو اسلام نصیب ہوجائے جو مغفرت کا اصل مبنی ہے اور جس کو چاہے عذاب کرے یعنی وہ اسلام سے محروم رہے اور عذاب کا مستحق قرار پائے آخر میں اپنے غفور اور رحیم ہونے کا اعلان فرمایا تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ وہ معاف کرنے اور مہربانی کرنے میں بڑا فیاض ہے بشرطیکہ قانون میں ملزم کے لئے تھوڑی سی بھی گنجائش موجود ہو۔ چونکہ اوپر استقلال اور تقوے کی تاکید تھی اور یہ آپ کو معلوم ہوچکا ہے کہ تقویٰ کی پابندی میں تھوڑی سی کوتاہی تو بدر کے آخر میں ہوئی یعنی فدیہ لے کر قیدیوں کو رہا کردیا اور دوسری کوتاہی احد میں ہوئی کہ پیغمبر کی بلااجازت گھاٹی چھوڑ دی اس لئے تقوے کی بار بار تاکید فرماتے ہیں اور تقوے چونکہ نام ہے گناہوں سے بچنے کا اس لئے بعض اہم گناہ جیسے سود کا لین دین اس کی جانب توجہ دلاتے ہیں اور یہ قاعدہ ہے کہ اگر کوئی ایک گناہ کا مرتکب ہوجائے تو اس کی نحوست سے دوسرے گناہوں میں بھی مبتلا ہوجاتا ہے جس طرح ایک نیکی دوسری نیکی کی توفیق کا سبب بن جاتی ہے۔
اسی بنا پر بعض محققین نے فرمایا کہ اگر بدر میں کوتاہی سرزد نہ ہوتی تو شایداحد میں بھی غلطی سرزد نہ ہوتی۔ بہرحال تقوے کی پابندی کے سلسلے میں سود سے بچنے کا حکم دیا کیونکہ سود تقوے کے لئے سخت مضر ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اوپر قبیلہ بنی حارثہ اور بنی سلمہ کی بزدلی پر تنبیہہ فرمائی تھی آگے اس کا علاج بتاتے ہیں کیونکہ بزدلی حرام کا مال کھانے سے پیدا ہوتی ہے اور نیکی کی توفیق سلب ہوجاتی ہے سب سے بڑی طاعت جہاد ہے اگر سود کھائو گے تو جہاد کے معاملہ میں بزدل ہو جائو گے نیز اس لئے کہ سود خوار بےرحم ہوتا ہے وہ غریب کے ساتھ ذرا ہمدردی نہیں کرتا اور اپنے روپے کا معاوضہ چاہتا ہے لہٰذا جو غریب پر سود چھوڑنے کو تیار نہیں وہ میدان جہاد میں جان دینے کو کب تیار ہوگا جو مال پر بخل کرتا ہے وہ جان پر اور بھی بخیل ہوگا اور ربط کی تقریر یوں بھی ہوسکتی ہے کہ اوپر کی آیتوں میں مسلمانوں کو حکم ہوا تھا کہ یہود سے راز دارانہ تعلقات نہ رکھو۔ اور یہود سے ذاتی تعلقات کے علاوہ مسلمانوں کے لین دین کے تعلقات بھی بہت تھے جن میں سود کا لین دین بھی بکثرت تھا اور مسلمانوں کے لئے یہ بڑا دشوار تھا کہ تعلقات کس طرح منقطع کریں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہود سے تعلقات بہرحال قطع کرنے ہیں کیونکہ ان کی سازشیں غزوۂ احد میں بھی اپنا کام کر رہی ہیں۔ اور مسلمانوں کو ناکام کرنے میں یہ لوگ سعی کر رہے ہیں اس لئے ہم تم کو حکم دیتے ہیں کہ سود کا لین دین بند کرو تاکہ یہود سے تعلقات قطع کرنے میں کوئی دشواری پیش نہ آئے۔
فقیر کے نزدیک ربط کی وہ تقریر بہت مناسب اور اوفق بالحدیث ہے جو ایک دفعہ شیخ الہند (رح) نے فرمائی تھی کہ چونکہ شہدائے احد کو دیکھ کر مسلمانوں نے کہا تھا کہ اگر اب کہ ہم کو کفار پر قابو ہوا تو ہم ان سے مرنے والوں کا سود تک وصول کرلیں گے۔
اس پر حق تعالیٰ نے فرمایا کہ عدل و انصاف اور تقویٰ کو کسی حالت میں ہاتھ سے نہ جانے دو اور سود لینے کا خیال چھوڑ دو بلکہ وان عاقبتم فحاقبوا بمثل ما عوقبتم بہ
کہ جب کبھی دشمنوں سے بدلہ لینے کا موقعہ ہو تو اسی قدر بدلہ لو جس قدر تم کو تکلیف پہنچائی گئی ہو سورة نحل کے آخر میں جس کی تصریح فرمائی اسی کو یہاں لا تاکلوا الربوا کی نہی سے تعبیر کیا ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)