Ayah 3:81ف 2۔ اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) سے یہ عہد لیا کہ جو کچھ میں تم کو کتاب اور علم و حکمت عطا کروں پھر تمہارے پاس کوئی اور ایسا رسول آئے جو اس چیز کی جو تمہارے پاس موجود ہو ، یعنی جو کتاب اور علم میں نے تم کو عطا کیا اس کی تصدیق کرنے والا ہو تو تم ضرور اس کی رسالت پر ایمان بھی لانا اور اس کی مدد بھی کرنا ۔
پھر اللہ تعالیٰ نے یہ عہد لینے کے بعد ارشاد فرمایا کیا تم نے اقرار کیا اور اس بات پر میرے عہد اور میرے فرمان کو قبول کیا رسولوں نے عرض کیا ہاں اے خدا ! ہم نے اقرار کیا اور آپ کے فرمان کو قبول کیا ۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا اچھا تم اپنے اس اقرار کے گواہ رہنا اور میں تمہارے ساتھ تمہارے اس اقرار پر گواہ ہوں ( تیسیر)
اصرا کے معنی ہیں پختہ عہد عہد سے مراد یہ ہے کہ عالم ارواح میں ہر پیغمبر سے عہد لیا گیا ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہر پیغمبر سے اس عالم میں بذریعہ وحی عہد لیا ہو ۔ انبیاء (علیہم السلام) سے جو عہد لیا گیا ہے ظاہر ہے کہ ہر پیغمبر کی امت بھی اس میں شریک ہے کیونکہ اس حکم کی عمومیت ظاہر ہے یہ نہیں ہوسکتا کہ پیغمبر کو تو اس نبی پر ایمان لانے اور اس کی مدد کرنے کا حکم دیا جائے اور اس کی امت کو نظر انداز کردیا جائے یا تو اس عہد میں نیتوں کی امتیں بھی داخل ہیں اور یا یہ کہ حضرت حق تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) سے عہد لیا اور ہر ہر نبی نے اپنی اپنی امت سے اسی مضمون پر عہد لیا ۔
بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس عہد سے یہاں انبیاء کی امتیں مراد ہیں ۔ جیسا کہ عبد اللہ بن مسعود کی ایک قرأت سے ظاہر ہوتا ہے لیکن صحیح بات یہ ہے کہ عہد تو انبیاء سے لیا گیا اور ان کی امتیں اس عہد میں طبعا ً شامل ہیں ۔ مصدق لمامعکم کے یہاں بھی دو مطلب ہیں ایک تو وہی جو مشہور ہے یعنی تمہاری کتاب اور تمہارے مسلک کی تصدیق کرتا ہو اور اس کو سچا بتاتا ہو ۔ دوسرا مطلب یہ کہ تمہاری کتاب اور تمہارے علم میں جو اس نبی کی علامت بتائی گئی ہو اس کے موافق ہو اور اس پیشین گوئی کا مصداق ہو تو اس کو تسلیم کرنا اور اس کی ہر طرح مدد کرنا اس آیت میں جس رسول کا ذکر ہے اس سے مراد بظاہر صرف نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس ہے۔
جیسا کہ حضرت علی ؓ کا قول ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ عہد ہر نبی کے متعلق ہو یعنی بعد کے آنے والے پر پہلے آنے والے سے عہد لیا گیا ہو۔
جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عباس کا قول ہے یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے نبی آخر الزمان حضرت محمد ﷺ کے متعلق عہد لیا گیا ہو ۔ خلاصہ یہ ۔
1۔ کہ تمام انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام سے اصالتا ً اور ان کی امتوں سے تبعا ً یہ عہد لیا گیا ۔
2۔ کتاب اور حکمت دینے کا مطلب یہ ہے کہ کوئی مستقل کتاب ہو یا کوئی صحیفہ ہو یا کم از کم علم شریعت ہو جس سے کوئی نبی خالی نہیں۔
3۔ جاء کم کا مطلب یہ ہے کہ وہ نبی تمہارے زمانے میں آجائے تو تم اور تمہاری امت اس کی توثیق و تائید کرے اور اگر تمہارے بعد آئے تو پھر تمہاری امت کو چاہئے کہ وہ اس پر ایمان لائے اور اس کی مدد کرے۔
4۔ تصدیق کا مطلب یہ ہے کہ جس کام کی تبلیغ پر ہم نے تم کو مامور کیا ہے اسی دین کی وہ تبلیغ کرتا ہو بہرحال مطلب یہ ہے کہ بھلا کوئی نبی جو مامور من اللہ ہے وہ شرک و کفر کی کس ۔۔۔۔ طرح تعلیم دے سکتا ہے البتہ عام لوگوں کو یہ حکم دے دیا جاتا ہے کہ وہ انبیاء پر ایمان لائیں اور ان کی اطاعت و فرمانبرداری کریں اور نبیوں کی مدد کریں ۔ عام لوگوں کا تو ذکر ہی کیا ہے ہم تو ہر پیغمبر سے اس قسم کا قول وقرار لے چکے ہیں کہ جب کسی نبی کے بعد دوسرا نبی آئے اور دلائل شرعیہ سے اس کی نبوت ثابت ہو تو پہلے نبی کو چاہئے کہ وہ اس پر ایمان لائے اور اس کی مدد کرے اور چونکہ سب سے آخر میں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ تشریف لانے والے تھے اس لئے ہر پیغمبر کا عہد آپ کی نبوت و اعانت کو شامل تھا اسی واسطے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اگر آج موسیٰ (علیہ السلام) زندہ ہوتے تو ان کو بھی مری اتباع کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا اور چونکہ نبی آخر الزماں کا دور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد واقع ہوا اور اس عالم میں جس کو عالم شہادت کہتے ہیں آپ کی تشریف آوری حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ہوئی اس لئے خود حضر ت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی امت کو اطلاع بھی دی اور خود قیامت کے قریب جب آپ آسمان سے نازل ہوں گے تو نبی کریم ﷺ کی شریعت کے موافق فیصلے فرمائیں گے۔ والحمد للہ علی ذلک
آخر میں اس عہد پر مزید اقرار لیا گیا ہے۔ گواہ رہنے کا مطلب یہ ہے کہ اپنے اقرار سے پھرنا نہیں تم اور تمہاری امت دونوں اس پر قائم رہنا ۔
حضرت حق تعالیٰ کی شہادت کا مطلب یہ ہے کہ میں اس تمام عہد و پیمان سے واقف اور با خبر ہوں یہ بھی مزید توثیق و تاکید کے لئے فرمایا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اللہ نے اقرار لیا نبیوں کا یعنی نبیوں کے مقاصد میں بنی اسرائیل سے قرار لیا۔ ( مواضح القرآن)
حضرت شاہ صاحب (رح) کا رجحان بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ عہد انبیاء کی وساطت سے ان کی امتوں سے لیا گیا تھا۔ بہر حال اگر نبیوں سے لیا گیا تب بھی لا محالہ ان کی امتیں شامل ہیں اور اگر امتوں سے لیا گیا تب امتیں ذمہ دار ہیں ۔ غرض جو آنے والے نبی کو پائیں ان پر اس کی امداد و اعانت اور اس کی توثیق و تائید ضروری ہے اب آگے نقص عہد پر تنبیہ اور وعید کا ذکر ہے چناچہ ارشاد ہے۔ ( تسہیل)
Ayah 3:82ف 1 ۔ پھر جو شخص اس پختہ عہد کے بعد انبیاء کی امتوں میں سے پھر جائے گا تو ایسے ہی لوگ فاسق اور بےحکم ہیں۔ ( تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ یہ عہد اگرچہ بظاہر انبیاء سے تھا لیکن طبعا ً ان کی امم کے ساتھ تھا ۔ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام تو بوجہ عصمت اور معصوم ہونے کے ایسا نہیں کرسکتے کہ قول وقرار کے بعد عہد شکنی کریں البتہ امم سے اس کا امکان ہے اس لئے ہم نے تیسیر میں امم کردیا ہے کہ اگر ان کی امتوں میں سے کوئی ایسا کرے گا کہ سابقہ پیشین گوئیوں کے تحت آئے ہوئے پیغمبر پر ایمان نہیں لائے گا اور اس کی مدد نہیں کرے گا تو ایسے لوگ فاسقوں میں شمار ہوں گے اور اسلام سے خارج سمجھے جائیں گے جیسا کہ بنی اسرائیل نے کیا کہ کسی پر ایمان لائے اور کسی پر ایمان نہ لائے بلکہ دشمنی اور عداوت کا اظہار کیا اور نبی آخر الزماں کی سب نے متفقہ مخالفت کی ۔
بعض حضرات نے فمن تولیٰ کا عام رکھا ہے اور عصمت انبیاء کا یہ جواب دیا ہے کہ عصمت سے محنت اور ذمہ داری دور نہیں ہوتی اگرچہ خلاف کا وقوع کبھی نہ ہو۔ ( واللہ اعلم)
آگے پھر اصل بحث کا اعادہ ہوتا ہے اور اسلام کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے چونکہ اس تمام قول وقرار میں اصل اسلام کی بحث ہے اور نبی کریم ﷺ پر ایمان لانے کی تاکید ہے اس لئے اسی کی وضاحت فرماتے ہیں ، چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ ( تسہیل)
Ayahs 3:83–84ف 2 ۔ کیا اب یہ لوگ اللہ کے دین یعنی اسلام کے سوا کسی اور طریقہ کے متلاشی ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ اس کے جاہ و جلال کے سامنے تمام مخلوق جو آسمانوں میں اور زمین میں ہے خوشی اور نا خوشی سے سب کی سب سرافگندہ ہے اور جس قدر خلوق آسمان و زمین میں ہے سب اس کی تابع فرمان ہے خواہ کوئی خوشی سے ہو یا نا خوشی سے کوئی اختیار سے ہو یا بےاختیاری سے اور سب کو اسی کی جناب میں پلٹنا اور واپس ہونا ہے۔ ( تیسیر)
خدا کے دین سے مراد اسلام ہے یہی سب پیغمبروں کا دین رہا ہے اب آخر میں نبی کریم ﷺ اسی دین فطرت کے داعی اور پیغامبر ہیں جو احکام لے کر یہ آئے ہیں ان کو قبول کرو اور ان کی بات مانو اب انہی کی پیروی میں فلاح و نجات ہے اور انہی کا دین خدا کا دین ہے اور انہی کا طریقہ اس کا بتایا ہوا طریقہ ہے اور یہ جو فرمایا ولہ اسلم اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کے معنی ہیں انقیاد و اطاعت تو یہ ظالم کرنا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریقہ کے علاوہ اور طریقہ بھی کون سا ہوسکتا ہے ۔ جب ہر طرف اسی کی خدائی جلوہ گر ہے اور اسی کی کار فرمائی اور اسی کی حکومت ہے تو بندے کو سوائے اس کے اور کیا چارہ کار ہے کہ جو دین اس نے بھیجا ہے اس کو قبول کرے کیونکہ زمین و آسمان کی تمام بسنے والی مخلوق اس کی مطیع و منقاد ہے خواہ خوشی سے اس کے آگے سرنگوں ہوں ۔ جیسے ملائکہ اور مسلمان کہ انہوں نے خوشی اور اپنے دل سے اللہ کی اطاعت قبول کی یا ناگواری طبع کے ساتھ اطاعت وانقیاد پر آمادہ ہوئے ہوں ۔ جیسے منافق یا کافر کہ مسلمانوں کے اقتدار کی ہیبت سے جھک گئے یا خدا کے عذاب کو دیکھ کر اطاعت وانقیاد کا اعلان کرنے لگے جیسے وہ لوگ جو عذاب کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا اعلان کرنے لگتے ہیں جیسے یہود کو پہاڑ کو سروں پر دیکھ کر جھک گئے اور جیسے فرعون کہ غرق کے وقت اپنے ایمان کا اعلان کرنے لگا اور ہوسکتا ہے کہ کرھا سے مراد عدم اختیارہ و۔
اگر یہ معنی ہوں تو پھر عالم تکوینی کے حوادثات و واقعات مراد ہوں گے جن سے تمام مخلوق بلکہ کائنات کا ہر ذرہ اثر پذیر ہوتا ہے ان حوادثات پر جو عالم تکوینی میں مشیت ایزادی کے ماتحت ظہور پذیر ہوتے رہتے ہیں ان سے کوئی خوشی ہو یا نا خوش ہو سب کو ان کے سامنے گردن جھکانی ہی پڑتی ہے۔
اب اسلم سے مراد وہ تسخیر ہوگی جس میں کائنات کی ہر شے مبتلا ہے جس کو ہماری اصطلاح میں کہا کرتے ہیں کہ ہر چیز خدا کے حکم کے تابع ہے آخر میں فرمایا کہ سب کو قیامت میں لوٹ کر اسی کے حضور میں حاضر ہونا اور جواب دہی کرنا ہے۔
ان حالات میں سوالے اس کے کیا چارہ ہے کہ اسی کا بھیجا ہوا دین قبول کیا جائے ۔ ورنہ قیامت میں ہم کیا منہ لے کر جائیں گے تمہاری حالت یہ ہے کہ تم اسلام کو چھوڑ کر کسی اور دین کی تلاشی میں لگے ہوئے ہو ۔ شان نزول کے سلسلہ میں کیا گیا ہے کہ یہود اپنے کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین پر کہتے تھے اور نصاریٰ اپنے کو بتاتے تھے نبی کریم ﷺ نے فرمایا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تم دونوں کے دین سے بری ہیں اس پر یہ لوگ بہت بگڑے چناچہ ان کو بگڑنے پر یہ آیت نازل ہوئی۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ہر عہد کا جو حکم فرمایا اس کے سوا اور دین قبول نہیں ۔ ( مواضح القرآن)
اب آگے اسلام کی حقیقت کو اور واضح فرمایا اور نبی کریم ﷺ کو ارشاد ہوا کہ آپ اتمام حجت کے طور پر اسلام کی مزید تفصیل ان کے آگے بیان کر دیجئے۔ ( تسہیل)
Ayah 3:85ف 3۔ اے پیغمبر ﷺ ! آپ اسلام کا ماحصل بیان کرنے کی غرض سے فرما دیجئے کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور وہ احکام جو ہم پر نازل کئے گئے ہیں ان پر بھی ایمان لائے اور اس حکم پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو ابراہیم (علیہ السلام) پر اور اسماعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) کی ہر اولاد میں سے جو نبی ہوئے ہیں ان پر نازل کیا گیا ہے اور ہم اس چیز پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور دوسرے نبیوں کو عطا کی گئی تھی ہم ان پیغمبروں میں سے کسی ایک کو بھی ایمان لانے میں جدا نہیں کرتے یعنی تفریق اس طرح کہ کسی پر ایمان لائیں اور کسی پر ایمان نہ لائیں یا کسی کو رسول مانیں اور کسی کو نہ مانیں اور ہم تو اللہ تعالیٰ ہی کے فرمانبردار اور تابع فرمان ہیں اور جو شخص مذہب اسلام کے علاوہ کسی دوسرے مذہب کی خواہش کرے گا اور کسی دوسرے دین کو طلب کرے گا تو وہ دین اس شخص کی طرف سے اللہ تعالیٰ کے ہاں ہرگز مقبول و منظور نہیں ہوگا اور وہ شخص آخرت میں سخت نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا یعنی بالکل دیوالیہ ہوگا ۔ ( تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے کہ وہ تمام آسمانی کتابوں اور تمام نبیوں کو حق مانتا ہے خواہ وہ ابراہیم (علیہ السلام) و اسماعیل (علیہ السلام) یا اسحاق (علیہ السلام) و یعقوب (علیہ السلام) ہوں خواہ یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد میں جو نبی ہو گزرے ہیں وہ ہوں اور ان کی تعلیمات ہوں اور خواہ موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو جو تعلیم دی گئی تھی وہ ہو۔
غرض ہم تو اللہ تعالیٰ کے مطیع اور فرماں بردار ہیں اور یہی اسلام ہے اور اسی بنا پر ہم مسلمان ہیں ہمارے ہاں انبیاء (علیہم السلام) میں کوئی تفریق نہیں بلکہ ہم سب کو رسول مانتے ہیں اور اسی سلسلے کی آخری کڑی نبی آخر الزماں کو تسلیم کرتے ہیں اور جب ہم ہر پیغمبر پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کی تعلیم کو حق مانتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ اہل کتاب اس آخر ی نبی پر ایمان نہ لائیں اور اس کے دین کو جس کا نام ہمیشہ سے اسلام چلا آتا ہے قبول نہ کریں اسلام کی وضاحت اور مسلمانوں کے عقیدے کا اظہار کرنے کے بعد ارشاد فرمایا کہ جو کوئی شخص اس اسلام کو چھوڑ کر کسی دوسرے دین کی جستجو کرے گا اور اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرے گا تو اس کا وہ دین اللہ تعالیٰ کی جناب میں غیر مقبول اور قابل رد ہوگا اور جب کوئی ناقابل قبول دین لے کر قیامت میں آئے گا تو سوائے اس کے کہ نقصان اٹھائے اور کیا ہوگا۔
ہم اوپر بتا چکے ہیں کہ خاسر اس تاجر کو کہتے ہیں جو راس المال اور نفع سب ختم کردے اور قرآن عام طور سے اس زندگی پر تجارت کے الفاذ استعمال کرتا ہے کیونکہ یہ زندگی انسان کا راس المال ہے جو شخص اس راس المال کو برباد کرکے قیامت میں حاضر ہوگا اس کا حشر یہی ہوگا کہ وہ قیامت میں خالی ہاتھ پھرتا ہوگا اور سوائے نقصان کے اس کا کوئی فائدہ نہ ہوگا ۔ پہلے پارے میں ہم تفصیل سے عرض کرچکے ہیں۔
آیت سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ جب تک نبی آخر الزماں ﷺ پر ایمان نہ لائے اور ان کی شریعت کو معمول بہانہ بنائے اس وقت تک نجات نہیں ہوسکتی کیونکہ حضور ﷺ کی تشریف آوری کے بعد آپ ہی کی شریعت انسانوں کے لئے موجب فلاح و موجب نجات ہے ۔ جس طرح آفتاب کا نور تمام روشنیوں کو معطل اور بےکار کردیتا ہے اسی طرح محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت کے نور نے تمام انوار سابقہ کو ختم کردیا ہے۔
اب آگے ان لوگوں کا ذکر ہے جو جان بوجھ کر اور صداقت اسلام سے پوری واقفیت رکھنے کے باوجود اسلام کے قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں یا قبول کرکے مرتد ہوجاتے ہیں اور دین سے پھرجاتے ہیں چناچہ ارشاد فرماتے ہیں۔ ( تسہیل)
Ayahs 3:86–88ف 4۔ بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت کی توفیق بخشے جو ایمان لانے کے بعد اور زبان سے اس بات کی شہادت دینے کے بعد کہ یہ رسول اپنے دعویٰ میں سچا ہے اور اس کے بعد کہ ان کو اسلام کی صداقت کے واضح دلائل پہنچ چکے ۔ ان تمام انعامات کے بعد پھر وہ لوگ کافر ہوگئے اور انہوں نے کفر اختیار کرلیا اور اللہ تعالیٰ ایسے ظالم اور ستم شعار لوگوں کو ہدایت کی توفیق نہیں دیا کرتا ۔ ( تیسیر)
آیت کا تعلق یا تو ان بارہ آدمیوں سے ہے جو مسلمان ہونے کے بعد مرتد ہوگئے تھے اور مدینہ سے مکہ چلے گئے تھے۔ جیسے حارث بن سوید اور طمعہ بن ابیرق اور حجوج بن اسلت وغیرہ اور یا اس آیت کا تعلق معصب اور معاند یہود و نصاریٰ سے ہے۔
جیسا کہ حضرت ابن عباس کا قول ہے پہلی تقریر پر مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو کس طرح سرپرستی فرمائے گا اور بھلا ان کو کس طرح ہدایت دے گا ۔ جنہوں نے دل سے ایمان قبول کیا اور زبان سے اس امر کا اقرار کیا کہ بیشک یہ رسول برحق ہے اور ان کو ہر قسم کے دلائل قرآنیہ سے بھی آگاہی ہوچکی ہے اور باوجود حضرت حق کی ان تمام مہربانیوں اور ہدایت نوازیوں کے پھر وہ کافر ہوگئے اور کفار سے جا ملے اور اللہ تعالیٰ ایسے ستم شعاروں کی رہنمائی نہیں فرمایا کرتا اور ایسے لوگوں کو فلاح و نجات کا راستہ نہیں دکھاتا ۔ دوسری تقریر پر مطلب اس طرح ہوگا ۔
بھلا اللہ تعالیٰ ایسے معاند اور سرکشوں کو ہدایت کی توفیق کس طرح دے گا جن کی حالت یہ ہے کہ آپس میں بیٹھ کر اپنی قلبی یقین کا اظہار کرتے ہیں اور زبان سے بھی کہتے ہیں کہ یہ رسول سچا ہے اور ان کے پاس اسلام کی صداقت کے دلائل بھی آ چکے ہیں بلکہ یہ اس رسول کے آنے سے پہلے اس کا نام لے کر دشمنوں کے مقابلہ میں فتح کی دعائیں کیا کرتے تھے اس رسول کی بشارتوں سے ان لوگوں کی کتابیں بھری پڑی ہیں اور باوجود آنکھوں سے دیکھنے اور دل سے سمجھنے اور زبان سے اقرار کرنے کے پھر کفر کی روش اختیار کئے ہوئے ہیں تو ایسے ضدی اور ہٹ دھرم لوگوں کو فلاح دائمی اور نجات حقیقی کی ہدایت و رہنمائی کی کوئی ذمہ داری کس طرح کی جاسکتی ہے۔ غرض قلبی معرفت اور زبانی اقرار کے باوجود کفر پر اڑے رہنا یا اس سے بڑھ کر یہ کہ اسلام قبول کرلینے کے بعد مرتد ہوجانا یہ ایسے جرائم ہیں جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی توفیق ہدایت ان سے سلب ہوجاتی ہے اور یہ لوگ دائمی عذاب اور دائمی لعنت کے مستحق ہوجاتے ہیں ، چناچہ آگے اسی لعنت و عذاب کا ذکر فرماتے ہیں۔ ( تسہیل)
Ayahs 3:89–90ف 1۔ ایسے ظالم اور بد کردار لوگوں کی سزا یہ ہے کہ ان پر اللہ کی اور ملائکہ کی اور انسانوں کی سب کی لعنت پڑی ہے اور یہ لعنت بھی اس طور پر کہ یہ لوگ اس لعنت میں ہمیشہ مبتلا رہیں گے۔ نہ ان پر سے کسی وقت جہنم کا عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ ان کو کسی قسم کی کوئی مہلت دی جائے گی مگر ہاں وہ لوگ جو اس کافرانہ روش اور بغاوت و سرکشی کے بعد توبہ کرلیں اور اپنے ظاہر و باطن کی اصلاح اور درستی کرلیں تو یقین جانو ! اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے پھر ای سے باغیوں اور سرکشوں کی توبہ قبولکر کے انہیں معاف کر دے گا اور بخش دے گا۔ (تیسیر)
لعنت کی مفصل تفسیر دوسرے پارے میں گزر چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی لعنت کا یہ مطلب ہے کہ اس کی رحمت سے دوری ہوتی ہے فرشتوں کی اور لوگوں کی لعنت یہ کہ وہ لعنت کی دعا کرتے ہیں لوگوں سے مراد یہاں مسلمان ہیں جو کافروں پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں یا مومن اور کافر دونوں ہیں کیونکہ بےایمان اور ظالم پر سب ہی لعنت کی دعا کرتے ہیں خواہ وہ لعنت کرنے والا خود بھی اس میں مبتلا ہو مگر اس کا احساس نہیں ہوتا ، جھوٹ بولنے والا بھی کہہ دیا کرتا ہے کہ جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہو اور ہوسکتا ہے کہ وہ لوگ مراد ہوں جو قیامت میں ایک دوسرے پر لعنت کریں گے۔ ویلعن بعضھم بعضا تخفیف کا مطلب یہ ہے کہ کفارپر عذاب میں تخفیف نہ ہوگی ۔ مہلت نہ ملنے کا یہ مطلب کہ جو وقت ان کے لئے عذاب کا مقرر ہے اسی وقت داخل کردیئے جائیں گے یہ نہیں ہوگا کہ کچھ دیر کیلئے مہلت دے دی جائے یا عذاب میں داخل ہونے کے بعد کسی وقت بھی مہلت نہیں ملے گی بلکہ مسلسل عذاب ہوگا ۔ خلدین فیھا کا یہ مطلب کہ ہمیشہ لعنت میں مبتلا رہیں گے یا ہوسکتا ہے کہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ رہیں گے ، چونکہ لعنت ہی کا اثر آگ ہے اس لئے دونوں طرضمیر پھر سکتی ہے۔
اصلاح سے مراد ایمان کی اصلاح کرلیں یا ملک میں جو فساد اور شرارت برپا کر رکھی تھی اس کی اصلاح کرلیں یا ظاہر و باطن دونوں کی اصلاح کرلیں چونکہ اوپر کی آیت میں دو احتمال تھے اس لئے ہم نے تیسیر میں ۔
من بعد ذلک کا ترجمہ کرتے ہوئے دونوں کی رعایت ملحوظ رکھی ہے اگر مرتدین مراد لئے جائیں تو مطلب یہ ہوگا کہ ارتداد کے بعد توبہ کرلیں اور ایمان لے آئیں اور اگر معاند و سرکش اور ہٹ دھرم اہل کتاب مراد لئے جائیں تو مطلب یہ ہوگا کہ اس عناد و سرکشی سے باز آجائیں اور مسلمان ہوجائیں۔
کہتے ہیں کہ اس آیت کو سن کر بعض مرتدین تائب ہوئے اور پھر اسلام میں داخل ہوگئے اب آگے توبہ کی اور وضاحت فرماتے ہیں کہ توبہ کس حالت میں قبول ہوتی ہے۔ ( تسہیلض
Ayah 3:91ف 2۔ بلاشبہ جن لوگوں نے حق کو تسلیم کرنے اور ماننے کے بعد کفر کا رویہ اختیار کیا پھر کفر ہی میں بڑھتے رہے اور کفر میں زیادہ ہوتے چلے گئے تو ایسے لوگوں کی توبہ ہرگز قبول نہ ہوگی اور یہ لوگ پرلے درجے کے گمراہ ہیں جن لوگوں نے کفر کی روش اختیار کی اور وہ کفر ہی کی حالت میں مر بھی گئے تو یقین جانو کہ ان لوگوں میں سے کسی کا زمین بھر کر سونا بھی قبول نہ کیا جائے گا اگرچہ وہ اپنے فدیہ میں اس قدر سونا دینا بھی چاہے اور ان لوگوں کو درد ناک عذاب ہوگا اور ان کا کوئی حامی و مدد گار نہ ہوگا۔ ( تیسیر)
ان لوگوں سے مراد وہی بارہ مرتدین ہیں جن میں سے شاید حارث نے تو پھر نادم ہو کر اسلام قبول کرلیا تھا اور صحیح طور پر اپنی اصلاح کرلی تھی اور دین کی خدمت میں مشغول ہوگئے تھے باقی لوگ مرتدہی رہے اور کفر میں سخت ہوتے چلے گئے۔
اس آیت میں ان کی حرماں نصیبی اور گمراہی کا ذکر ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان لوگوں سے مراد یہود ہوں کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ کفر کیا پھر کفر میں اور بڑھے اور نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ پر بھی ایمان لانے سے انکار کردیا اور ان کی نبوت کے ساتھ کافرانہ برتائو کیا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد یہود و نصاریٰ دونوں ہوں اور مراد ان کے ایمان سے یہ ہو کہ وہ اپنی اپنی کتابوں میں اسلام کی حقانیت اور نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کی نبوت کا حال پڑھ کر یہ تسلیم کرتے تھے کہ یہ کتاب اور یہ نبی وہی ہے جس کی اطلاح ہم کو دی گئی تھی لیکن اس بات کو ماننے اور تسلیم کرنے کے باوجود پھر کفر کرتے تھے اور کفر میں بڑھتے چلے جاتے تھے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد منافقین ہوں جو ظاہر میں اسلام کا اظہار کرتے تھے مگر باطن میں اسلام دشمنی ان کا شیوہ تھا اور یہ اسلام کے لئے کھلے کافروں سے زیادہ ضرر رساں تھے۔
مجاہد کا قول ہے کہ اس سے تمام کافر مراد ہیں کیونکہ ہر کافر خدا کے خالق ہونے کو مانتا ہے لیکن اس کے نازل کردہ دین کے خلاف رہتے ہیں اور اسلام کی مخالفت میں بڑھتے چلے جاتے ہیں ہم نے ترجمہ میں اور تیسیر میں ان سب احتمالات کی رعایت کو محلوظ رکھا ہے۔
لن تقبل توبتھم مراد یا تو مرتے وقت کی توبہ ہے کہ تمام عمر کفر کرتے رہے اور جب موت کے فرشتے سامنے آئے تو توبہ کرنے لگے یا عذاب سر پر آگیا اور عذاب نے گھیر لیا تو توبہ کی سوجھی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس توبہ سے وہ توبہ مراد ہو جو ظاہر میں مسلمانوں کو مطمئن کرنے کی غرض سے کی جائے جیسا کہ منافق کیا کرتے تھے دل سے گناہ کے ترک کرنے کا ارادہ نہ ہو۔ محض رسمی توبہ ہو اور یا وہ توبہ مراد ہے جو کفر سے تو نہ ہو باقی دوسرے گناہوں سے جس کو کافر بھی برا سمجھتے ہیں ۔ ان اعمال سے توبہ کرلی جائے ۔ مثلاً کفر پر اور اسلام دشمنی پر قائم رہیں اور جھوٹ سے یا چوری اور جوئے سے توبہ کرلیں تو یہ توبہ بیکار ہے اور مطلب بھی ہوسکتا ہے اور ایسے گمراہ اور شرارت پسند لوگوں کو توبہ کی توفیق ہی نصیب نہ ہو اور یہ محروم القسمت ہمیشہ توبہ سے محروم رہیں ۔ ( واللہ اعلم)
دوسری آیت میں ان کافروں کا ذکر ہے جو آخر وقت تک کفر پر اڑے رہے اور بد قسمتوں کو موت بھی کفر ہی پر آگئی ۔ ان کے متعلق یہ شبہ ہوسکتا تھا کہ انہوں نے زندگی میں کفر سے توبہ کی نہیں لیکن شاید وہاں کچھ جرمانے دے کر اور فدیہ بھر کر نجات حاصل کرلیں۔
دوسری آیت میں کفرپر مرنے والوں کا انجام اور شبہ مذکور کا جواب ہے کہ اول تو وہاں کسی کے پاس مال ہی نہ ہوگا اور اگر فرض کرو کہ وہاں کسی کو مال میسر بھی آجائے اور وہ پوری زمین بھر کر سونا اپنے فدیہ میں خود بخود دینا بھی چاہے تو بھی قبول نہیں کیا جائے گا اور جو نہ دے تو اس کا تو ذکر ہی کیا ہے اور ہم نے جو خود بخود کہا وہ اس لئے کہ اگر حاکم کے جرمانہ کئے بغیر کوئی شخص ایک معقول رقم دینے پر تیار ہوجائے تو زیادہ نفع کی امید ہوتی ہے ۔ بخلاف اس کے کہ حاکم کی طرف سے کوئی جرمانہ کر کے اس کا مطالبہ کیا جائے مگر یہاں یہ حالت ہے کہ مجرم محود اپنی طرف سے زمین بھر کر سونا دے رہا ہے اور وہ بھی قبول نہیں کیا جاتا اور یہ جو ہم نے کہا ، اگر مجرم کو مال میسر آجائے یہ اس بناء پر کہا کہ چھٹے پارے میں لو ان لھم ما فی الارض جمعیا فرمایا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک فرض صورت اختیار کی ہے ورنہ ظاہر ہے کہ وہاں مجرم کے پاس مال کہاں ہوگا چونکہ اس آیت میں قیامت کا ذکر نہیں ہے اس لئے یہاں یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ ایسے کافر جو مرتے دم تک کافر ہی رہے ان کا کوئی صدقہ قبول نہیں خوا ہ وہ اپنی زندگی میں زمین بھر کر سونا بھی خیرات کریں تو ان کی اس کافرانہ روش کے باعث مقبول نہیں کیونکہ جب تک کافر ایمان نہ لائے اس کا کوئی اچھا عمل قبول نہیں ہوتا اور جب سونے کی بھری ہوئی زمین بھی ناقابل قبول ہے تو ظاہر ہے کہ اس سے کم صدقہ یا خیرات کیا قبول ہوگا اور اگر آیت کو قیامت ہی پر محمول کیا جائے تب بھی یہ سمجھ لینا چاہئے کہ سونے سے بھری ہوئی زمین بھی ناقابل قبول ہوگی تو جو اس سے کم دے یا بالکل نہ دے اسکا تو کہنا ہی کیا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) نے اوپر کی آیت میں ضالون پر حاشیہ لکھا ہے وہ فرماتے ہیں یعنی یہود پہلے اقرار کرتے تھے کہ یہ نبی حق ہے جب ان سے مقابلہ ہوا تو منکر ہوگئے اور بڑھتے گئے انکار میں یعنی لڑائی کا مستعد ہوگئے ان کی توبہ ہرگز قبول نہ ہوگی یعنی ان کو توبہ کرنا ہی نصیب نہ ہوگا کہ قبول ہو ۔ ( موضح القرآن )
حدیث میں آتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت میں اس شخص سے فرمائے گا جس کو سب سے کم عذاب ہو رہا ہوگا بھلا یہ تو بتا کہ اگر تجھ کو تمام روئے زمین کی دولت میسر ہو تو کیا تو اپنے فدیہ میں دے کر اس عذاب سے نجات حاصل کرلے ۔ وہ عرض کرے گا بیشک اگر میرے پاس اتنی دولت ہو اور وہ دینے سے میں عذاب سے بچ جائوں تو ضرور دے دوں ۔
ارشاد ہوگا میں نے تو تجھ سے جب تو آدم کی پشت میں تھا اس سے بہت کم اور ہلکی چیز کا مطالبہ کیا تھام اور وہ یہ کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیجئو ، لیکن تو اتنی ہلکی بات کو بھی ماننے پر آمادہ نہ ہوا اور آج شام دنیا کی دولت دینے کو تیار ہے۔
اب آگے مال خرچ کرنے کا نفع بتاتے ہیں کہ مال کا خرچ کرنا مفید اور نافع ہوسکتا ہے لیکن ایمان کی شرط ہے اگر ایمان لانے کے بعد اچھی عمدہ اور محبوب چیز میں سے خرچ کرو گے تو نفع ہوگا اور بہت بڑی بھلائی کے مالک ہو گے۔ بخلاف کافروں کے جن کا ذکر اوپر ہوچکا ہے کہ وہ چاہے کچھ بھی خیرات کردیں اس پر آخرت میں کوئی خاص نفع مرتب نہ ہوگا ، چناچہ ارشاد فرماتے ہیں۔ ( تسہیل)
Ayahs 3:92–93ف 1۔ تم لوگ اس وقت تک حقیقی بھلائی اور کامل مکمل نیکی نہیں حاصل کرسکو گے جب تک تم اپنی محبوب اور عزیز ترین چیز میں سے کچھ خرچ نہ کرو اور بہر حال تم جو کچھ بھی خرچ کرو گے خواہ وہ محبوب ہو یا غیر محبوب ، سو اللہ تعالیٰ اس کو خوب جانتا ہے۔ ( تیسیرض
بر کے معنی سورة بقرہ میں گزر چکے ہیں بر کی نسبت اگر بندے کی جانب ہو تو اس سے مراد طاعت ، صدق اور وسعت احسان لیا کرتے ہیں اور خدا کی طریہ لفظ مضاف ہو تو اس کے معنی رضا رحمت جنت ہوا کرتے ہیں۔
حضرت ابوبکر وراق فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ تم لوگ میری بر کو اس وقت تک حاصل نہیں کرسکتے جب تک اپنے بھائیوں کے ساتھ بر نہ کروحاصل یہ ہے کہ جب تک محبوب کو اپنے سے جدا نہ کرو گے مطلب تک نہ پہنچو گے۔
حضرت واسطی رحمت اللہ علیہ نے فرمایا پسندیدہ چیزوں میں سے کچھ خرچ کرنا بر تک پہنچا دیتا ہے اور اگر کوئی شخص رب تک پہنچنا چاہے تو اس کو نین سے دست برداری کرنی چاہیے بر کا استعمال صدق اور حسن خلق کے لئے بھی آتا ہے۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود سے مرفوعا ً روایت ہے تم لوگ صدق کو لازم پکڑو صدق انسان کو بر تک پہنچاتا ہے اور بر انسان کو جنت میں لے جاتی ہے آدمی ہمیشہ سچ بولتا اور سچ کا خیال رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کو صدیقین میں لکھ دیا جاتا ہے اور یہ دیکھو کذب سے بچو کذب انسان کو فسق و فجور تک لے جاتا ہے اور فجور آدمی کو آگ میں داخل کردیتا ہے آدمی ہمیشہ جھوٹ بولتا اور جھوٹ بولنے کی فکر میں رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے نو اس بن سمعان سے مرفوعاً روایت ہے کسی نے دریافت کیا یا رسول اللہ ﷺ ! بر کیا ہے ۔ آپ نے فرمایا حسن خلق اس نے عرض کیا اثم کیا ہے آپ نے فرمایا جو تیرے سینے میں کھٹکے اور تو اس کو لوگوں کے علم میں لانا پسند نہ کرے۔ بہر حال بر کے معنی جو کچھ بھی ہوں یہاں مراد یہ ہے کہ تم حقیقت بر اور کمال خیر کو نہیں پہنچ سکتے جب تک پسندیدہ اور محبوب چیز سے کچھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہ کرو اور یہ ترجمہ بھی ہوسکتا ہے کہ تم ایسا ثواب جو تم کو جنت میں لے جائے ، نہیں حاصل کرسکتے جب تک پسندیدہ چیزوں میں سے کچھ خدا کی راہ میں خیرات نہ کرو پھر فرمایا اس کا خیال رکھو جو بھی خرچ کرو گے اور جیسا بھی خرچ کرو گے اور جس وقت بھی خرچ کرو گے ان سب حالتوں سے اللہ تعالیٰ با خبر ہے خواہ اچھی چیز خیرات کرو اور دل سے خیرات کردیا بری چیز خیرات کرو اور دکھاوے کو خیرات کرو۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جس چیز سے دل بہت لگا ہو اس کا خرچ کرنا بڑا درجہ ہے اور ثواب ہر چیز میں ہے شاید یہود کے ذکر میں یہ آیت اس لئے فرمائی کہ ان کو اپنی ریاست بہت عزیز تھی جس کے تھامنے کو نبی کے تابع نہ ہوتے تھے تو جب وہی نہ چھوڑیں اللہ کی راہ میں درجہ ایمان نہ پاویں ۔ ( موضح القرآنض
شاہ صاحب (رح) خوب بات فرمائی اور ربط کی تقریر بھی خوب فرمائی ۔ گویا محبوب ریاست و وجاہت کی محبت اور بر ایمان ۔
فقیر عرض کرتا ہے کہ دونوں لفظوں میں اتنی گنجائش ہے کہ جو معنی چاہے کرلو خلاصہ یہ ہے کہ مقصود حقیقی جب حاصل ہوگا جب عزیز ترین چیز خدا کی راہ میں قربان کرو گے۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اسلام کی عزت اور اسلامی اقتدار مقصود ہے تو جان اور مال خدا کی راہ میں قربان کردو ( سبحان اللہ) کیا کلام ہے جس کی وسعت کا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں۔
حضرت حسن (رح) فرماتے ہیں آیت کے معنی یہ ہیں کہ تم اس وقت تک ابرار میں شامل نہیں ہوسکتے جب تک اپنی محبوب چیزوں میں سے کچھ خرچ نہ کرو ۔ اس آیت کو سن کر اکثر صحابہ نے اپنی بہترین اور پسندیدہ چیزیں خیرات کردیں ۔ حضرت ابو طلحہ ؓ کے باغ کا واقعہ تو سورة بقرہ میں گزرچکا ہے۔ حضرت عمر ؓ نے ایک لونڈی کو جوان کو پسندیدہ تھی آزاد کردیا۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓ نے بھی ایسا ہی کیا ۔ زید بن حارث نے آیت کو سن کر اپنا گھوڑا جس کا نام سیل تھا اور جو ان کو بہت ہی محبوب تھا صدقہ کردیا نبی کریم ﷺ نے ان کو بشارت دی کہ اے زید ؓ تمہارا وہ صدقہ اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لیا ۔ ابو ذر غفاری ؓ کا واقعہ ہے کہ ان کے ہاں ایک مہمان آگیا تو انہوں نے اپنے غلام سے کہا میری اونٹنیوں میں سے بہترین اونٹنی لا کر ذبح کر وہ ایک دبلی سی اونٹنی لے آیا حضرت ابو ذر ؓ نے فرمایا تو نے مجھ سے خیانت کی اس نے کہا یہی اونٹنی سب اونٹنیوں سے بہتر ہے چناچہ اس کو حلال کیا کسی نے حضرت ابو ذر ؓ سے کہا کہ ضرورت کا بھی خیال رکھیئے۔
آپ نے فرمایا میری ضرورت کا دن تو وہ ہوگا جس دن میں قبر میں رکھاجائوں گا ۔ حضرات صحابہ ؓ کے اقوال اس ۔۔۔ بارے میں مختلف ہیں کہ یہاں خرچ سے مراد صدقات واجبہ ہیں یا صدقات نافلہ۔
عام رائے یہ ہے کہ صدقات نافلہ مراد ہیں اس آیت کی تفسیر سے یہ بات بھی سمجھ میں آگئی ہوگی کہ ثواب تو ہر قسم کی خیرات کرنے سے ملتا ہے لیکن زیادہ ثواب پسندیدہ چیز خیرات کرنے سے ملتا ہے اب آگے یہود کی ایک اور غلط دعوے کی تکذیب فرماتے ہیں چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 3:94–96ف 2۔ جملہ اشیاء خوردنی جو مابہ النزاع ہیں یہ سب نزول تورات سے قبل ہی بنی اسرائیل پر حلال تھیں ۔ بجزان چند چیزوں کے جو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے خود اپنی ذات پر حرام کرلی تھیں یعنی اونٹ کے گوشت اور اونٹ کے دودہ کے علاوہ باقی جو چیزیں کھانے پینے کی عام طور سے حلال ہیں وہ سب بنی اسرائیل پر بھی نزول تورات سے قبل حلال تھیں ۔ اے پیغمبر ﷺ ! آپ ان سے یہ مطلب کیجئے کہ تورا ت لائو اور اس کو لا کر پڑھو اگر تم سچے اور راست باز ہوتا کہ ہمارا تمہارا جھگڑا صاف ہوجائے پھر اگر اب کوئی اس صحیح مطالبے اور حقیقی الزام قائم ہوجانے کے بعد بھی اللہ عتالیٰ پر جھوٹ بات کی تہمت لگائے اور جھوٹی افترا پر دای کرے تو ایسے لوگ ظالم اور بڑے بےانصاف ہیں۔ ( تیسیر)
یہود کے ظلم اور عدوان کی وجہ سے حضرت حق تعالیٰ نے جو بعض حلال چیزیں ان پر حرام فرمائی تھیں جب قرآن کریم نے ان کی حرمت اور حرمت کے سبب کا انکشاف کیا تو یہ لوگ بڑے ناراض ہوئے اور انہوں نے کہنا شروع کیا یہ ہم پر غلط الزام ہے کیونکہ یہ چیزیں تو حضرت ابراہیم بلکہ حضرت نوح کے زمانے سے حرام چلی آتی ہیں بلکہ تم مسلمان لوگ جو اپنے کو ملت ابراہیم کا پیرو بتاتے ہو تو ملت ابراہیم کے پیرو نہیں ہو بلکہ اس کی ملت کے صحیح پیرو ہیں اور اس کے زمانے میں جو چیزیں حرام تھیں ہم ان کو حرام سمجھتے ہیں اور تم ان چیزوں کو حلال سمجھ کر کھاتے ہو، لہٰذا تم ملت ابراہیمی کے پیرو نہیں ہو ۔ اس جھگڑے کا اس آیت میں جواب دیا گیا ہے یہاں جن پر چیزوں کی حلت و حرمت مابہ النزاع ہے وہ وہی ہیں جو آٹھویں پارے میں مذکور ہیں ، یعنی ناخن والے جانور اور جانوروں کی چربی کا بعض حصہ وغیرہ۔
آیت میں جو جواب دیا گیا اور یہود پر جو حجت قائم کی گئی اس کا خلاصہ یہ ہے۔
1۔ جو چیزیں ہمارے تمہارے درمیان مابہ النزاع ہیں مثلاً بعض جانور اور جانوروں کی چربی کا بعض حصہ وغیرہ تم کہتے ہو یہ حضرت نوح اور حضرت ابراہیم کے زمانے سے حرام چلی آتی ہیں اور ہم کہتے ہیں کہ یہ چیزیں تورات سے قبل کسی زمانے میں بھی بنی اسرائیل پر حرام نہیں تھیں البتہ تورات جب نازل ہوئی اس وقت یہ چیزیں بنی اسرائیل کی سرکشی اور ظلم کی وجہ سے حرام ہوئیں ۔ مطلب یہ کہ یہاں ان ہی چیزوں کی حلت و حرمت کا فیصلہ ہے جن میں یہود اور اہل اسلام کے درمیان گفتگو ہو رہی ہے۔
کل الطعام سے مراد یہ ہے کہ وہ طیبات اور حلال چیزیں جو عام طور سے کھائی جاتی ہیں یعنی مطوعات اور طببات اور وہ چیزیں مراد نہیں جو حرام ہیں ، مثلاً سور کا گوشت ، خون ، مردار جانور وغیرہ اسی لئے ہم نے تیسیر میں اشیائے خوردنی ان کا ترجمہ کیا ہے۔
2۔ البتہ اشیائے خوردنی میں سے جو دو یا ایک چیز بنی اسرائیل پر قبل از نزول تورات حرام تھیں وہ اونٹ کا گوشت تھا یا گوشت اور دودہ دونوں تھے ۔ اوسان کی حرمت کی ایک خاص وجہ تھی اور وہ وجہ کوئی سرکشی یا ظلم نہ تھا بلکہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کسی خاص تکلیف وہ مرض میں مبتلا ہوگئے تھے وہ عرق النساء ہو یا اور اسی قسم کا کوئی مرض ہو ان کو اطباء نے مشورہ دیا کہ آپ اونٹ کا گوشت اور دودھ استعمال نہ کیا کریں انہوں نے ان دونوں چیزوں کو اپنے اوپر حرام کرلیا اور ان کی وجہ سے ان کی اولاد نے بھی اس کا استعمال ترک کردیا اور یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے خود ہی یہ منت مانی ہو کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے مرض سے شفا دے گا تو میں اپنی محبوب غذا یعنی اونٹ کا گوشت کھانا چھوڑ دوں گا ۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو مرض سے شفا دے دی تو انہوں نے اپنی منت اور نذر کی بنا پر اونٹ کا گوشت کھانا اپنے اوپر حرام کرلیا اور اس حرمت کا سلسلہ حضرت یعقوب کی اولاد میں بھی جاری رہا ۔
3۔ غالباً ان کی شریعت میں ایسا کرنا روا ہوگا کہ کسی حلال چیز کو نذر کے طور پر حرام کرلیا جائے۔ بہر حال انہوں نے جو اونٹ کا گوشت اور دودھ حرام کرلیا تھا وہ حرمت انکی اولاد میں جاری رہی ۔ ان کی اولاد میں یہ حرمت خواہ حکم الٰہی سے جاری رہی جیسا کہ بعض نے کہا ہے خواہ محض حضرت یعقوب کی اتباع میں اولاد نے ایسا کیا ہو، اگرچہ یہ طریقہ شریعت محمدیہ میں روا نہیں ہے بلکہ یہاں کسی حلال کو حرام کرنا یمین ہے اور اس یمین کو توڑ کر کفارہ ادا کرنا ضروری ہے۔
4۔ بس حضرت یعقوب کی ان حرا م کردہ دو چیزوں کے علاوہ اور کوئی چیز تورات کے نازل ہونے کے وقت تک حرام نہ تھی اور چونکہ اس عرصہ میں بنی اسرائیل کی سرکشی اور ظلم حد سے بڑھ چکا تھا اس لئے ان کو سزا دینے کی غرض سے بعض حلال چیزیں ان پر حرام کردی گئیں ۔ یہ چیزیں نہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت ہیں حرام تھیں اور نہ حضرت نوح کے زمانے میں حرام ہوئیں اور نہ ہم جو ملت ابراہیمی کے پیرو ہیں ان چیزوں کو اب حرام سمجھتے ہیں۔
5۔ اس واقعہ سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ اس قسم کا نسخ کہ کوئی حلال حرام ہوجائے اور کوئی حرام حلال کردیا جائے پہلی شرائع میں بھی ہوتا رہا ہے اگر اس شریعت محمدیہ نے بھی پہلی شریعت کو کوئی بات منسوخ کردی تو کون سے تعجب کی بات ہے۔
6۔ پھر حکم دیا گیا کہ ان سے تورات منگا کر پڑھو اور ان سے کہو تم اگر سچے ہو تو تورات لا کر پڑھوتا کہ صحیح حقیقت ظاہر ہوجائے اور سچ جھوٹ سے نمایاں ہوجائے لیکن یہود تورات لانے پر آمادہ نہ ہوئے۔
7۔ پھر آخر میں فرمایا اب اگر اس مطالبے کے بعد اور اس کھلے الزام کے بعد جو تورات نہ لانے کی وجہ سے ان پر آگیا پھر بھی بدبخت یہی کہے جائے کہ یہ چیزیں ملت ابراہیمی میں حرام تھیں اور یہ بدبخت اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بات کی تہمت لگائے جائے تو بس ایسے ہی بدبخت تو ظالم اور ناانصاف ہیں۔
8۔ آیت کے ترجمہ میں لوگوں کو بہت الجھائو ہونا ہے اس لئے ہم کو اس قدر وضاحت کی ضرورت پیش آئی اور اب ہم کو توقع ہے کہ انشاء اللہ کوئی اشکال باقی نہیں رہے گا اور نہ کوئی شبہ پیش آئے گا اور ربط آیات کے سلسلے میں بھی ایک اور بات سمجھ میں آگئی ہوگی کہ اوپر کی آیت میں محبوب چیز کے ترک کرنے کا ذکر تھا اور اس آیت میں ایک پیغمبر کی محبوب چیز کے ترک کا ذکر ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہود کہتے ہیں کہ تم کہتے ہو ہم ابراہیم (علیہ السلام) کے دین پر ہیں اور ابراہیم کے گھرانے میں جو چیزیں حرام تھیں سو کھاتے ہو جیسے اونٹ کا گوشت اور دودھ اللہ نے فرمایا کہ جتنی چیزیں اب لوگ کھاتے ہیں سب ابراہیم (علیہ السلام) کے وقت حلال تھیں ۔ جب تک تورات نازل ہوئی تورات میں خاص بنی اسرائیل پر حرام ہوئی ہیں مگر ایک اونٹ حضرت یعقوب نے اس کے کھانے سے قسم کھائی تھی ان کی طبیعت سے ان کی اولاد نے بھی چھوڑ دیا تھا اس قسم کا سبب یہ تھا کہ ان کو ایک مرض ہوا تھا انہوں نے نذر کی ، اگر میں صحت پائوں تو جو میرب بہت عادت کی چیز ہو وہ چھوڑ دوں ان کو یہ بہت بھاتا تھا سونذر کے سبب چھوڑ دیا ۔ ( موضح القرآن)
جب یہودکا دعویٰ باطل ہوگیا اور تورات لا کر نہ پڑھنے سے معلوم ہوا کہ وہ جھوٹے تھے اور مسلمان جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ حق ہے اور وہی ملت ابراہیمی ہے اس لئے آگے ملت ابراہیمی اور اس ملت کی بعض چیزوں کا ذکر فرماتے ہیں چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 3:97ف 3۔ اے نبی آپ کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا یعنی تم پر جو چیزیں حرام کی گئیں وہ تمہاری سرکشی کے باعث ہوئیں ورنہ وہ چیزیں حصرت ابراہیم کی ملت میں حرام نہ تھیں ۔ لہٰذا جب قرآن کی صداقت ثابت ہوگئی تو اب تم ملت ابراہیمی کے پیرو ہو جائو ۔ وہ ابراہیم جو سب سے یکسو ہو کر صرف خدا کا ہوگیا تھا اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا ۔ بلا شبہ جو مکان سب سے پہلے لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کی غرض سے مقرر کیا گیا وہ مکان وہ ہے جو شہر مکہ میں واقع ہے اس مکان کی شان یہ ہے کہ وہ بڑا با برکت ہے اور اقوام عالم کے لئے رہنما اور مرکز ہدایت ہے اس مکان میں بہت سی واضح اور کھلی نشانیاں ہیں ، منجملہ ان نشانیوں کے اس میں مقام ابراہیم ہے یعنی ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ اور جو شخص اس مکان کی متعلقہ حدود یعنی حرم میں داخل ہوگیا وہ مامون اور امن یافتہ ہوا یعنی شرعا ً وہ مستحق امن ہوجاتا ہے اور لوگوں میں سے اس شخص پر اس گھر کا حج کرنا اللہ تعالیٰ کا ایک حق ہے جو اس گھر تک راہ پانے کی استطاعت وقدرت رکھتا ہو اور جو شخص احکام خداوندی کو نہ مانے او منکر ہوجائے تو یقین جانو ! کہ اللہ تعالیٰ اہل علم سے بےنیاز ہے اور اللہ تعالیٰ اہل عالم کی پرواہ نہیں رکھتا کسی منکر کے انکار سے اس کو کوئی ضرر نہیں پہنچتا ۔ ( تیسیر)
صدق اللہ کا مطلب یہ ہے کہ جو بات یہود و نصاریٰ کے متعلق یا حضرت ابراہیم کے متعلق یا مسلمانوں کے متعلق یا ان سب کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمائی وہ سب سچ اور حق ہے جیسے اوپر فرمایا تھا ۔ ان اولی الناس با ابراہیم الخ اور جب اللہ تعالیٰ کافر مودہ سچ ہے تو سوائے اس کے نجات و فلاح دارین کا اور کیا طریقہ ہے کہ ملت ابراہیم کے پیرو ہو جائو ۔ حنیف کے معنی اوپر عرض کئے جا چکے ہیں یہاں ابراہیم کی قید بھی ہوسکتی ہے اور ملت کی بھی قید ہوسکتی ہے اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ اے اہل کتاب سب ملتوں سے الگ ہو کر صرف ملت ابراہیم کے پیرو ہو جائو۔
اول بیث کا مطلب یہ ہے کہ سب سے پہلے پانی میں سے کعبہ کی زمین نمودار ہوئی یا سب سے پہلے حضرت آدم (علیہ السلام) نے اس کو بنایا ، یا یہ مطلب ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے طوفان کے بعد جب کوئی نشانی باقی نہ رہا تو سب سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس کی تعمیر کی یا یہ کہ حضرت آدم کی پیدائش سے دو ہزار سال قبل فرشتوں نے تعمیر کی ۔ خلاصہ یہ ۔۔۔۔۔ کہ سب سے پہلی مسجد اور معبد یہی مکان ہے جو خدا کی عبادت کیلئے مقرر کیا گیا ۔
بکتہ سے مراد مکہ ہے اہل عرب با کی جگہ میم اور میم کی جگہ با کا
استعمال کرتے ہیں، جیسے نمیط اور نبسیط لازم اور لازب ہوسکتا ہے
کہ بکہ سے وہ جگہ مراد ہو جہاں کعبہ تعمیر ہوا ہے ، لیکن صحیح یہی ہے کہ بکہ سے شہر مکہ مرا د لیا جائے۔
مبارکا سے مراد یہ ہے کہ وہ کعبہ ہر قسم کی برکتوں کا سر چشمہ اور منبع ہے خواہ وہ برکات ظاہری ہوں یا باطنی حسی ہوں یا معنوی جملہ برکات دین اور دنیوی سے اس گھر کو معمور کیا اور اس گھرکو ہدایت الٰہی کا مرکز قرار دیا ۔ پیغمبر آخر الزماں کو وہیں مبعوث کیا ۔ قرآن کریم وہیں نازل ہوا ، پھر یہ کہ اطراف ۔۔۔۔ عالم کے لوگ نمازوں میں اسی کی جانب رخ کرتے ہیں ہر طرف سے لوگ وہاں حج کرنے ہر سال آتے ہیں ، یہ سب باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ وہ مکان اقوام عالم کے لئے موجب ہدایت و برکت ہے۔
ایت بینات کا مطلب یہ ہے کہ اس میں بہت سی نشانیاں ہیں خواہ وہ تشریعی ہوں یا تکوینی انہی نشانیات میں سے ایک مقام ابراہیم ہے جس پر حضرت ابراہیم نے کھڑے ہو کر کعبہ کی تعمیر کی تھی اور اس پتھر میں حضرت ابراہیم کے پائوں کا نشان اب تک موجود ہے اور چونکہ اس پتھر کو مصلی بنانے کا حکم ہے اس لئے یہ نشان شرعی بھی ہے اور تکوینی بھی اور اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے طوفان کے بعد اس گھر کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سب سے پہلے تعمیر کیا تھا۔
جیسا کہ ہم پہلے پارے میں عرض کرچکے ہیں ، پھر یہاں حج کا مقرر ہونا، صفا مروہ کے درمیان دوڑنا ، تلبیہ پکارنا ، پرندوں کا کعبہ پر سے نہ گزرنا ، درندوں کا حرم میں شکارنہ کرنا وغیرہ۔
عرض تشریعی نشانات کا تو وہ گھر گہوارہ ہی ہے اور بعض تکوینی نشانیات بھی دیکھنے والوں کو نظر آتے ہیں پھر یہ کہ جو اس مکان کی حدود میں داخل ہوجاتا ہے وہ مامون ہے یعنی شرعا ً اس کو امن دینے کا حکم ہے یا یہ کہ وہ آخرت میں عذاب سے مامون ہے ، ہرچند کہ اس گھر کے متعلقہ نشانات میں سے اکثر نشانات تو شرعی ہیں لیکن تکوینی نشانات بھی یہاں ایسے موجود ہیں جن کا اعتراف کفار عرب بھی کرتے تھے۔
وللہ علی الناس حج البیت کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے ذمہ اللہ تعالیٰ کا یہ ایک حق ہے کہ اس گھر کا حج کیا کریں لیکن ہر شخص پر نہیں بلکہ اس شخص پر حج کرنا فرض ہے جو اس گھر تک پہنچنے کی سبیل رکھتا ہو اور اس گھر تک راہ پانے کی استطاعت رکھتا ہو، یعنی زاد سفر اور سواری وغیرہ کی طاقت ہو ، تندرست ہو راہ میں امن ہو وغیرہ ۔ مزید شرائط کتب فقہ میں مذکور ہیں اور یہ جو فرمایا ومن کفر تو اس سے حج کی تاکید مراد ہے کہ اگر کوئی شخص ان تمام شرائط کے مستحق ہوجانے کے باوجود جن سے ایک مسلمان عاقل بالغ پر حج فرض ہوجاتا ہے پھر حج نہ کرے تو ایسا شخص کفر کے قریب ہوجاتا ہے یا یہ کہ حج کی فرضیت کا منکر ہوگیا تو ایسا شخص کافر ہے ۔ وہ یہودی ہو کر مرجائے یا نصرانی ہو کر مرجائے ۔ اللہ تعالیٰ کا اہل عالم سے مستغنی بےنیاز اور بےپرواہونا تو ظاہر ی ہے۔ آیت زیر بحث کی تفسیر میں صحابہ اور تابعین کے بہت سے اقوال ہیں ۔ ہم نے تطویل کے خوف سے ان کی تفصیل نہیں کی بلکہ تیسیر و تسہیل میں ان اقوال کا خلاصہ یا کچھ اشارے کردیئے ہیں ۔ ان آیتوں میں کعبہ کا ذکر اس واسطے کیا کہ شاید اہل کتاب نے یہ اعتراض بھی کیا ہو کہ تم لوگ اگر سب نبیوں کے ماننے والے ہو تو بیت المقدس کو چھوڑکر کعبہ کی جانب کیوں نماز پڑھتے ہو حالانکہ ہمارا قبلہ تمہارے قبلہ سے قدیم اور افضل ہے۔ وہ ابنیاء کی ہجرت گاہ ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھی عراق سے ہجرت کر کے وہیں چلے گئے تھے اور شام کے علاقے میں سکونت پذیر ہوگئے تھے ، لہٰذا تم کو اگر حضرت ابراہیم سے نسبت ہے تو کعبہ کو چھوڑ کر بیت المقدس کو اپنا قبلہ بنائو ، اس لئے ان کے جواب میں کعبہ کی حقیقت بیا ن کی گئی۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ بھی یہود کا شبہ تھا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کا گھرانہ ہمیشہ سے شام میں رہا اور بیت المقدس کو قبلہ رکھا اور تم مکہ میں ہو کعبہ کو قبلہ کرتے ہو تم کیوں کر ابراہیم کے وارث ہوئے ۔ سو اللہ نے فرمایا کہ ابراہیم کے ہاتھ سے اول عبادت خانہ اللہ کے نام پر یہی بنا اور اس میں بزرگی کی نشانیاں اور خوازق ہمیشہ دیکھتے رہے ہیں اصل مقام ابراہیم کا یہی ہے۔ ( موضح القرآن) آیت زیر بحث کا خلاصہ یہ ہے۔
1۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان اور اس کے اقوال کی صداقت اور حقانیت کا اعلان۔
2۔ اقوام عالم کو ملت ابراہیمی یعنی اسلام کی دعوت۔
3۔ حضرت ابراہیم اور ان کی ملت کا حنیف ہونا یعنی افراط وتفریط سے پاک ہونا اور حضرت ابراہیم کا مشرک نہ ہونا۔
4۔ بیت اللہ کا سب سے پہلا معبد اور عبادت گاہ ہونا اور عبادت کے لئے سب سے پہلے اس گھر کا مقرر ہونا ۔
5۔ ہر قسم کی برکات کا اس گھر سے وابستہ ہونا اور اس گھر کا مرکز ہدایت ہونا۔
6۔ اس میں مختلف نشانیاں کا موجود ہونا خواہ وہ نشانات شرعی ہوں یا خوارق عادات کے طور پر ہوں۔
7۔ ان نشانات میں سب سے بڑی نشانی اور سب سے بڑی دلیل اس گھر کے پاس مقام ابراہیم کا موجود ہونا۔
8۔ اس گھر کی حدود شرعیہ میں داخل ہونے والے کا مامون ہونا حتیٰ کہ درندوں کا شکار سے اجتناب کرنا اور جو خلوص دل سے حرم میں داخل ہو اور مناسک حج بجا لائے آخرت میں اس کا عذاب سے مامون ہونا۔
9۔ جس شخص کو اس گھر تک پہنچنے کی استطاعت ہو اس کو عمر میں ایک دفعہ اس گھر کا ضرور حج کرنا اور حج میں کوتاہی نہ کرنا حج کی مشروعیت چونکہ بیت اللہ کی وجہ سے ہے اور بیت اللہ اپنی جگہ قائم ہے اس لئے تمام عمر میں صرف ایک دفعہ حج کرنا فرض ہے۔
01۔ حج سے غفلت کرنے والوں پر اور مستطیع حضرات کی کوتاہی پر اللہ تعالیٰ کی خفگی اور ناراضگی کا اظہار۔
حضرات ارباب سلوک نے کعبہ کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ کعبہ ایک لطیفۂ ربانی ہے کعبہ اینٹ پتھروں کا نام نہیں ہے۔ کعبہ تجلیات الٰہی کا حقیقی مہبط ہے کعبہ اگرچہ عالم خلق سے ہے لیکن اس کی حقیقت کو کوئی محسوس نہیں کرسکتا اور نہ کوئی اس کا ادراک کرسکتا ہے کعبہ اگرچہ محسوسات میں سے ہے لیکن باوجود محسوس کے غیر محسوس اور باوجود مدرک کے غیر مدرک ہے اللہ تعالیٰ نے اشیاء ممکنہ کو وجوب کے لئے مرأت اور آئینہ بنایا ہے اور عدم کو وجوب اور وجود کے لئے مظہر قرار دیا ہے۔ حقیقت کعبہ سے حقیقت قرآن بلند ہے اور حقیقت قرآنی سے حقیقت صلوٰۃ بالا ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں سالک کی سیر منتہی ہوجاتی ہے اور یہی مقام فنا وبقاء ہے اور اس مقام سے اوپر معبودیت خالصہ ہے جہاں کسی کا گزر نہیں ہوتا اور یہی وہ مقام ہے جس کی طرف معراج کی شب میں اشارہ کیا گیا تھا کہ اے محمد ﷺ ٹھہر جائو تمہارا پروردگار نماز پڑھ رہا ہے۔ یہ باتیں عوام کی سمجھ سے بالاتر ہیں۔ مزید تفصیل منظور ہو تو تفسیر مظہری کا مطالعہ کیا جائے۔
اس تقریر کے بعد شاید وہ واقعہ بھی سمجھ میں آجائے جو حضرت رابعہ بصریہ کے واقعات میں آتا ہے کہ کعبہ ان کے استقبال کو گیا تھا۔ (واللہ اعلم)
اب تک اہل کتاب کے اعتراضات کا جواب تھا اب آگے ان کے بعض افعال پر ملازمت اور توبیخ ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 3:98ف 1 اے پیغمبر آپ ان اہل کتاب سے فرمائیے اے اہل کتاب تم لوگ آیات الٰہی اور احکام خداوندی کے ساتھ کیوں کفر کرتے ہو اور حقائق واقعیہ کے قبول کرنے سے کلبوں انکار کرتے ہو، حالانکہ اللہ تعالیٰ ان تمام کارروائیوں سے جو تم کرتے ہو باخبر اور آگاہ ہے اور تم جو کچھ کر رہے ہو وہ ان سب پر مطلع ہے اور یہ سب کچھ اس کے روبرو ہو رہا ہے۔ (تیسیر)
شہید کے معنی موجود اور حاضر ہونے کے ہیں یہاں مراد یہ ہے کہ جو تم کر رہے ہو اس کی موجودگی میں کر رہے ہو پھر بھی تم کو اس کی نافرمانی کرنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں ہوتی۔ بغوی نے اس آیت کے شان نزول میں شماس بن قیس کا ایک واقعہ ذکر کیا ہے یہ بڑا متعصب تھا اور مسلمانوں کی ترقی کو بڑے خطرے کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔ اسلام سے پہلے مدینہ کے دو مشہور قبیلے اوس اور خزرج میں بڑی دشمنی تھی اور ان میں بڑی کٹا چھنی رہتی تھی آئے دن لڑائیاں ہوتی تھیں لیکن مسلمان ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان میں الفت پیدا کردی اور سب آپس میں بھائی بھائی ہوگئے اور کفر کے زمانے کی دشمنی اور وہ تمام اشعار جو ایک دوسرے کی ہجو میں کہا کرتے تھے سب بھول بھال گئے اور ان دونوں قبیلوں کے کچھ لوگ آپس میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ شماس نے ان کو اس طرح گھل مل کر باتیں کرتے دیکھا تو جل گیا اور اس کو یہ فکر دامن گیر ہوا کہ کسی طرح ان میں پھوٹ ڈلوائی جائے چناچہ اس نے ایک شخص کو فریقین کے اشعار دے کر بھیجا اور یہ ہدایت کی کہ ان کی مجلس میں جا کر یہ اشعار پڑھ دے۔ اشعار زمانہ جاہلیت کے فخریہ اور ہجو آمیز اشعار تھے اس نے جا کر وہ اشعار وہاں پڑھ دیئے۔ اشعار پڑھنے سے وہ بھولا ہوا منظر ایک دم سامنے آگیا اور فریقین میں جوش پیدا ہوگیا اور لڑائی کے لئے فریقین آمادہ ہوگئے اور ایک تاریخ مقرر ہوگئی۔ نئی کریم ﷺ کو جب معلوم ہوا تو آپ ان لوگوں کے پاس تشریف لے گئے اور اور ان کو سمجھایا تب لوگوں کو تنبیہہ ہوئی اور وہ سمجھے کہ ہم سے بڑی غلطی ہوئی اور ہم شیطانی حرکت پر آمادہ ہوگئے پھر اس تنبیہہ پر بہت نادم ہوئے اور آپس میں ملکر روئے اور سب نے توبہ کی۔ اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں پہلے ان پر ملامت فرمائی اور ان کے کفر پر اور دوسرے مسلمانوں کو گمراہ کرنے پر ان کی مذمت فرمائی۔ چناچہ آگے کی آیت میں اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ اگرچہ الفاظ میں عموم ہے جیسا کہ قرآن کا قاعدہ ہے اور ہوسکتا ہے کہ اس واقعہ کے علاوہ مسلمانوں کو گمراہ کرنے اور بہکانے کے اور طریقے بھی اختیار کرتے ہوں گے بہرحال ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)