3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsکشف الرحمٰن

Ayahs 3:161–162

وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّ١ؕ وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۚ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 3:161 in the Quran reader

اور نبی کی یہ شان نہیں کہ وہ خیانت کرے اور واقعہ یہ ہے کہ جو شخص خیانت کرے گا تو جو چیز اس نے چھپائی ہوگی وہ اسے قیامت کے دن لیکر حاضر ہوگا پھر ہر شخص کو اس کی کمائی کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر کوئی ظلم نہ کیا جائے گا3

اَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَ اللّٰهِ كَمَنْۢ بَآءَ بِسَخَطٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 3:162 in the Quran reader

بھلا ایک ایسا شخص جو رضائے الٰہی کا تابع ہو کیا وہ اس شخص کی مثل ہوسکتا ہے جو غضب الٰہی کا مستحق ہو اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہو اور وہ جہنم لوٹ کر جانے کی بہت ہی بری جگہ ہے

ف 3 اور نبی کی یہ شان نہیں اور نہ اس کے لئے کسی طرح یہ زیبا ہے کہ وہ معاذ اللہ کسی قسم کی کوئی خیانت کرے خواہ و مال غنیمت میں ہو یا خدا تعالیٰ کے احکام میں سے کسی حکم کی ہو یا کسی کی خفیہ اور راز دارانہ بات میں ہو یا کسی کا قصور معاف کردینے میں ہو کیونکہ خیانت تو قیامت کے دن ذلت و رسوائی کا موجب ہے بھلا رسول ﷺ سے ایسا کام کس طرح سر زد ہوسکتا ہے جو قیامت میں ذلت و رسوائی کا سبب ہے اور خیانت و ذلت و رسوائی کا سبب اس طرح ہوگی کہ جو شخص خیانت کا مرتکب ہوگا وہ اپنی خیانت کردہ چیز کو قیامت میں لے کر حاضر ہوگا اور اس خیانت کی ہوئی چیز کو خواہ وہ اشیاء میں سے ہو یا اعمال میں سے قیامت کے دن حاضر کرے گا پھر ان خیانتوں میں سے ہر شخص کو اس کے کئے کا اور ہر ایک کو اس کی کمائی کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر کسی طرح کا کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا کہ جرم سے زیادہ سزا دی جائے یا نیکیوں کا ثواب گھٹا دیا جائے۔ (تیسیر) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں اس سے مراد یا تو مسلمانوں کی خاطر جمع کرنی ہے تا یہ نہ جانیں کہ حضرت نے ہم کو ظاہر معاف کیا اور دل میں خفا ہیں پھر کبھی خفگی نکالیں گے یہ کام نبیوں کا نہیں کہ دل میں کچھ اور ظاہر میں کچھ یا مسلمانوں کو کچھ سمجھانا ہے کہ حضرت پر گمان نہ کریں کہ غنیمت کا مال کچھ چھپا رکھیں شاید یہ اس واسطے فرمایا کہ وہ تیر انداز مورچہ چھوڑ کر دوڑے غنیمت کو کیا حضرت ان کو حصہ نہ دیتے یا بعضی چیز چھپا رکھتے اور کہتے ہیں بدر کی لڑائی میں ایک چیز غنیمت میں سے کم ہوگئی کسی نے کہا شاید حضرت نے اپنے واسطے رکھی ہوگی اس پر یہ نازل ہوا۔ (موضح القرآن) شان نزول کے متعلق اقوال ہیں مشہور یہ ہے کہ بدر میں مال غنیمت کی ایک سرخ چادر گم ہوگئی تھی بعض ناسمجھ لوگوں نے یا منافقوں نے یہ کہہ دیا کہ یہ چادر شاید حضور نے لے لی اس کا جواب دیا گیا ہے اور غزوئہ احد میں بدر کے واقعہ کا ذکر شاید اس مناسبت سے کیا ہو کہ جس طرح آپ نے وسعت اخلاق سے اس موقعہ پر اس الزام کو درگذر فرما دیا تھا اسی طرح غزوہ احد کے قصور کو بھی معاف فرما دیجیے ہوسکتا ہے کہ آیت کے نزول کی کوئی اور وجہ ہو۔ شاہ صاحب نے تین باتیں ذکر کی ہیں۔ صحیح یہ ہے کہ آیت کو عام رکھا جائے کیونکہ خیانت کی بہت سی اقسام ہیں اور اللہ تعالیٰ کا رسول ہر قسم خیانت سے پاک ہے۔ مال کی خیانت تو ظاہر ہی ہے کہ غنیمت کے مال میں خیانت کی جائے یا کچھ کسی کی امانت میں خیانت کرے یا مقررہ حق سے زائد لے لے جیسے زکوۃ اور عشر وصول کرنے والے عمال کیا کرتے ہیں بات کی خیانت یہ کہ کوئی شخص اپنا راز کہے اور اس کی تشہیر کردی جائے یا کسی کو معاف کر دے اور دل میں کپٹ رکھے حکم کی خیانت یہ کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم کچھ نازل ہو اور بیان کچھ اور کر دے یا اللہ تعالیٰ کی وحی میں سے کچھ چھپالے۔ غرض اللہ کے رسول کا دامن ہر قسم کی خیانت اور بددیانتی کی آلوگدی سے پاک ہے رسول کی برأت کرنے کے بعد خیانت پر وعید فرمائی کہ جو شخص خیانت کرے گا تو وہ اس شئے کو قیامت میں حاضر کرے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی اگر مال ہوگا تو مال حاضر کرے گا اور اگر بجائے مال کے اعمال ہوں گے تو ان کو کوئی شکل دے دی جائے گی جسے وہ لیکر حاضر ہوگا جس طرح ہر عمل کو اس دن علیحدہ علیحدہ شکل عنایت ہوگی۔ پھر فرمایا ثم توفی یعنی ہر خائن کو اس کی خیانت کا یا ہر شخص کو اپنے اپنے کئے کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ہم نے تیسیر میں تمام اقوال کی رعایت رکھ کر خلاصہ کیا ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے فرمایا نبی کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بڑی خیانت ایک گز بھر زمین ہے تم دو آدمیوں کو دیکھتے ہو کہ ایک دوسرے کے ہمسایہ ہوتے ہیں پھر ایک پڑوسی دوسرے پڑوسی کی ایک گز زمین دبا لیتا ہے قیامت کے دن یہ زمین اس ناجائز دبا لینے والے کے گلے میں طوق ہوگی اور زمین کے ساتوں پردوں یعنی تحت الثری تک کی زمین کا یہ حصہ اس کے گلے میں پڑا ہوگا اس حدیث کو مالک بن اشجعی سے امام احمد نے نقل کیا۔ ابن جریر نے حضرت عبداللہ بن عباس سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ میں قیامت میں تم میں سے ایک ایک کو پہچانوں گا ایک شخص اپنے اوپر بکری لا دے ہوئے آئے گا وہ بکری جو میں میں کر رہی ہوگی اور مجھ کو پکارے گا میں کہوں گا آج اللہ کے سامنے میں تیرے کچھ کام نہیں آسکتا میں نے تجھ کو جو حکم پہنچانا تھا وہ پہنچا دیا تھا اس حدیث میں اونٹ اور گھوڑے اور گائے کا بھی ذکر آیا ہے۔ غرض جو جانور خیانت سے لیا ہوگا اس کو اپنی کمر پر لادے لادے پھرتا ہوگا اور اسی حالت میں حضور ﷺ سے درخواست کرے گا کہ مجھ کو بچائیے حضور ﷺ فرمائیں گے میں تو تجھ کو جائز ناجائز بتاچکا تھا اب میں کیا کرسکتا ہوں۔ حضرت امام احمد حضرت ابوحمید ساعدی سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے قبیلہ ازد کے ایک شخص ابن بینہ نامی کو کہیں کا عامل بنایا تھا کہ وہ صدقات وصول کر کے لائے جب وہ صدقات کا مال و صول کر کے لایا تو کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ اس قدر مال تو بیت المال کا ہے اور اس قدر مال میرا ہے یہ مجھ کو ہدیے میں ملا ہے نبی کریم ﷺ نے مسلمانوں کو جمع کر کے ممبر پر ایک تقریر فرمائی اور فرمایا اس عامل کیا حال ہے کہ ہم اس کو ایک کام کے لئے مقرر کرتے ہیں اور جب وہ واپس آتا ہے تو کہتا ہے یہ تمہارا اور یہ میرے ہدیے کا ہے وہ اپنے ماں باپ کے گھر بیٹھا رہے پھر دیکھے کہ اس کو کتنے ہدایا ملتے ہیں اور کون اس کو ہدیہ دیتا ہے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں محمد ﷺ کی جان ہے کہ تم میں سے جو کوئی شخص جس چیز کی خیانت کرے گا وہ قیامت میں اس کو لے کر آئے گا ، اگر وہ اونٹ ہے تو اونٹ کو گردن پر لادے ہوئے گا اور وہ اونٹ بڑ بڑاتا ہوگا اگر بکری ہے تو بکری گردن پر لادے ہوئے ہوگا اور وہ بکری میں میں کرتی ہوگی پھر دونوں ہاتھ اٹھا کر تین مرتبہ فرمایا یا اللہ ! میں نے پہنچا دیا۔ ابو حمید کا دوسرا لفظ یہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا عمال کے ہدایا غلول ہیں یعنی سرکاری ملازموں کو جو ہدایا ملتے ہیں ان کو بھی غلول اور خیانت فرمایا ہے۔ حضرت معاذ کو جب آپ نے یمن روانہ کیا تو کسی کو بھیج کر ان کو راستہ سے واپس بلایا اور ان سے فرمایا کہ دیکھو بلا میری اجازت کے کسی کی کوئی چیز نہ لینا کیونکہ ایسا کرنا خیانت ہے اور جو شخص خیانت کرے گا تو وہ اس خیانت کردہ چیز کو قیامت میں لے کر حاضر ہوگا جائو میں نے یہی بات کہنے کو بلایا تھا۔ (ترمذی) عدی بن عمیرہ کا لفظ یہ ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا لوگو جو کوئی تم میں سے ہمارے کام پر عامل بنا پھر اس نے ایک سوئی یا سوئی سے زیادہ کوئی چیز چھپائی تو یہ خیانت ہے۔ حضرت امام احمد نے ابو رافع سے ایک واقعہ نقل کیا ہے ابو رافع کہتے ہیں حضور ﷺ عصر کی نماز کے بعد کبھی کبھی قبیلہ عبدالاشہل تشریف لے جاتے تھے اور مغرب تک واپس آ جایا کرتے تھے ایک دن حضور ﷺ واپس آ رہے تھے میں پیچھے پیچھے تھا حضور ﷺ جب بقیع کے پاس سے گذرے تو ایک قبر کو دیکھ کر فرمایا اف لک اف لک یہ جملے افسوس اور حقارت کے لئے بولے جاتے ہیں۔ ابو رافع کہتے ہیں میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ آج تو آپ نے نئی بات فرمائی کیا آپ نے یہ مجھے کہا ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ! نہیں یہ ایک شخص کی قبر ہے میں نے اس کو عامل بنا کر بھیجا تھا اس نے ایک پوستین یا ایک قمیص خیانت کرلی تھی میں نے دیکھا کہ قبر میں اس کو آگ کا پوستین یا قمیص پہنا رکھی ہے کتب احادیث میں اس قسم کی بکثرت احادیث مختلف اسناد سے مروی ہیں۔ بعض کی ان میں سے اسناد ضعیف بھی ہیں۔ بہرحال خیانت جس پر وعید بیان کی گئی ہے اس کے کبیرہ گناہ ہونے میں تو شک ہی نہیں۔ اب آگے پھر پیغمبر خدا ﷺ کی خصوصیت اور آپ کے بلند مرتبے کی وضاحت فرماتے ہیں اور تنبیہ کرتے ہیں کہ پیغمبر کی بابرکت ذات کو اپنی طرح نہ سمجھو وہ خود پاکیزہ اور گناہوں سے پاک ہیں بلکہ بنی نوع انسان کو پاک کرنے والے اور صحیح ہدایت دینے والے ہیں اگرچہ آگے کی آیت کا مفہوم بھی ہے اور قرآن کا مشہور قاعدہ ہے کہ وہ عام پہلو مدنظر رکھتا ہے اگرچہ شان نزول خاص ہو نیز عمومیت کا لحاظ اس لئے رکھا کہ احد میں پیغمبر اور پیغمبر کے مخلص ساتھی آگے کی بشارت میں شریک کئے جائیں۔ (واللہ اعلم) چناچہ آگے ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 3:163

هُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 3:163 in the Quran reader

ان لوگوں کے اللہ کے ہاں الگ الگ درجے ہیں اور اللہ سب کے اعمال پر نظر رکھتا ہے4

ف 4 بھلا ایک ایسا شخص جو رضائے الٰہی کا ہر وقت جویاں اور رضائے حق کا بالکل تابع ہوگیا وہ اس شخص کی مثل ہوسکتا ہے جو غضب الٰہی کا مستحق ہوا اور خدا کا غصہ اور غضب لے کر واپس آیا اور اس بدبخت کا ٹھکانا جہنم ہو اور وہ جہنم بازگشت کی بری جگہ ہے ۔ یہ دونوں شخص ہرگز برابر نہیں ہوسکتے اس قسم کے لوگوں کے اللہ کے ہاں الگ الگ مختلف درجات ہیں اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے ان اعمال کو جو یہ کرتے رہتے ہیں خوب دیکھتے ہیں اس لئے ہر شخص کے ساتھ اس کے عمل کے موافق سلوک کیا جائے گا۔ (تیسیر) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی نبی اور سب خلق برابر نہیں طمع کے کام ادنیٰ نبیوں سے نہیں ہوتے۔ (موضح القرآن) ہم ابھی عرض کرچکے ہیں کہ من اتبع سے مراد رسول اور کمن باء سے مراد خائن اور بددیانت کی عدم مساوات کا اظہار ہے اور آیت کی عمومیت کے پیش نظر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انصار و مہاجرین اور منافقین کی عدم مساوات مراد ہو بلکہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہر اچھے برے نیک و بد کی عدم مساوات مراد ہو۔ سب معنی ظاہر ہیں اور سب کی گنجائش ہے اب آگے نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس کا ایک مستقل نعمت ہونا بیان کرتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayah 3:164

لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۚ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 3:164 in the Quran reader

واقعی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر احسان کیا جبکہ انہی میں سے ان میں ایک ایسا رسول بھیجا جو ان پر خدا کی آیتیں تلاوت کرتا ہے اور ان کی زندگی کو سنوارتا ہے اور ان کو کتاب اور دانائی کی تعلیم دیتا ہے اور بلا شبہ اس رسول کی تشریف آوری سے قبل یہ لوگ کھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔5

ف 5 حقیقتاً اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر بڑا احسان فرمایا جبکہ ان ہی میں سے ان میں ایک ایسا عظیم الشان پیغمبر بھیجا کہ وہ ان کو اللہ تعالیٰ کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں اور ان لوگوں کو سنوارتے اور سدھارتے ہیں اور ہر قسم کے اخلاق رذیلہ اور صفات ضمیمہ سے پاک کرتے ہیں اور کتاب الٰہی کی تعلیم دیتے ہیں اور فہم و دانش کی باتیں سکھاتے ہیں اور بلاشبہ یہ لوگ آپ کی بعثت اور آپ کی توجہات خصوصی سے قبل کفر و شرک کی صریح گمراہی میں مبتلا تھے۔ (تیسیر) اس آیت کی تفسیر پہلے اور دوسرے پارے میں گذر چکی ہے۔ احسان کی عظمت تو اس سے ظاہر ہے کہ خود اللہ تعالیٰ نے اس احسان کا اظہار فرمایا اور اللہ تعالیٰ جس احسان کا ذکر فرمائے اس کی عظمت اور رفع شان کا کیا ٹھکانا ہے مسلمانوں کا ذکر اس لئے کیا کہ اس احسان کی قدر کرنے والے اور اس سے فائدہ اٹھانے والے صرف مسلمان ہی ہیں ورنہ یہ احسان حضرت حق کا جملہ بنی قدر کرنے والے اور اس سے فائدہ اٹھانے والے صرف مسلمان ہی ہیں ورنہ یہ احسان حضرت حق کا جملہ بنی نوع انسان پر بلکہ کائنات کے ہر ایک عالم پر ہے۔ انفسھم کا یہ مطلب ہے کہ عرب میں سے یا قریش میں سے یا بنی ہاشم میں سے یا بنی آدم میں سے مبعوث فرمایا۔ وہ کوئی غیر خاندان کے نہیں غیر ملکی نہیں کوئی جن اور فرشتہ نہیں کوئی عجمی ہوتا تو یوں کہتے قوم عربی اور رسول عجمی غیر خاندان کا ہوتا تو یوں کہتے اس کے چال چلن کا پتہ نہیں اگر کوئی جن یا فرشتہ ہوتا تو غیر جنس ہونے کی وجہ سے مایوس نہ ہوتے۔ پھر وہ اگر کوئی معجزہ پیش کرتا تو اس کے معجزے کو خارق عادت نہ سمجھتے بلکہ یوں کہتے کہ فرشتے اور جن غیر معمولی طاقت کے مالک ہوتے ہیں اس لئے خوارق عادات افعال ان کی خصوصیت میں سے ہوں گے پھر جن کو اور فرشتے کو اور غیر ملکی کو تم سے کوئی خاص ہمدردی نہ ہوتی۔ جیسا کہ غیر ملکیوں کے متعلق روز مرہ کا مشاہدہ ہے۔ بہرحال یہ پیغمبر بشر ہے حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے ہے عربی النسل ہے ۔ قریشی ہے ہاشمی ہے ہر طرح دیکھا بھالا ہے اس کے مخالف بھی اس کے ثنا خاں ہیں پھر اس کے کام بھی سن لو۔ (1) کہ اللہ تعالیٰ کی آیتیں تم پر تلاوت کرتا ہے جن کو اہل زبان ہونے کی وجہ سے تم خوب سمجھتے ہو اور ان آیات میں ظاہر و باطن کی جس قدر اصلاح کا سامان ہے وہ تم جانتے ہو۔ (2) تزکیہ یعنی کفر و شرک اور جاہلانہ رسومات کی آلائش سے تم کو پاک اور صاف کرتا ہے تمہارے اخلاق کو بناتا اور سنوارتا ہے اور تمہارے اخلاق کو سدھارتا اور ہر قسم کی خرابی سے پاک کرتا ہے۔ (3) کتاب اللہ کی تعلیم یعنی اس کی تفسیر سکھاتا ہے جو بات سمجھ میں نہیں آتی اس کو سمجھاتا ہے کوئی شبہ پیش آجائے تو اس کا جواب دیتا ہے اور قرآن کریم کے حقیقی منشا کو بتاتا ہے جیسا کہ ایک عیسائی نے حضرت مریم کا نام اخت ہارون سن کر ایک صحابی پر اعتراض کیا تھا کہ ہارون تو حضرت موسیٰ کے بھائی کا نام تھا تمہارے قرآن نے مریم کے بھائی کا نام ہارون بتایا ہے اس پر وہ صحابی خاموش ہوگئے اور جب انہوں نے یہ شبہ حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کیا تو آپ نے برجستہ فرمایا یہ کیسا شبہ ہے کیا مختلف آدمیوں کا ایک سا نام نہیں ہوتا اس میں اعتراض کی کیا بات ہے۔ حضرت موسیٰ کے بھائی کا بھی نام ہارون تھا اور حضرت مریم کے بھائی کا نام بھی ہارون تھا۔ (4) حکمت و دانش سکھاتا ہے ہوسکتا ہے کہ اس سے نبی کریم ﷺ کا طریقہ اور آپ ﷺ کی سنن مراد ہو اور ہو سکات ہے کہ قرآن کریم کے غوامض و اسرار اور نکات و لطائف مراد ہوں یا بعض حکمتیں اور مصالح مراد ہوں چناچہ اس علم و عمل کے پیکر نے چند دن کی صحبت کے اثر سے دنیا بھر کی درماندہ قوم کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا اور وہی دنیا کی بلند وبالا قوم اس پیغمبر کی مقدس تعلیم سے منحرف ہو کر کس قدر پستی میں جا رہی ہے اور یورپ کی تقلید میں مبتلا ہو کر کہاں پہنچ گئی ہے۔ بہرحال پہلے ٹکڑے میں نبی کریم ﷺ کی عظمت بیان فرمائی پھر آپ کے چار کام بتائے اور آخر میں فرمایا کسی شخص کی خوبیاں اور اس کے وجود کی برکت اس طرح معلوم ہوسکتی ہے کہ اس کی تشریف آوری سے قبل کی اور اس کی تشریف آوری کے بعد کی دونوں حالتوں کا موازنہ نہ کرو تاکہ تم کو معلوم ہو سکے کہ اس کی تعلیمات سے قبل تم کیا تھا اور اس کی تعلیمات کے بعد تم کیا ہوگئے۔ اس وقت تم کہاں کھڑے تھے اور اب کہاں پہنچ گئے ہو اس وقت تمہاری تہذیب کی دنیا میں کیا قیمت تھی اور اب کیا بھائو ہے اس کو معلوم کر کے اللہ تعالیٰ کی اس نعمت اور اس رحمت اور اس برکت کی قدر کرو جس کو اس نے محمد ﷺ کی صورت دیکر اور اس مجموعہ کا نام محمد ﷺ رکھ کر تمہارے پاس بھیجا ہے۔ یہی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا ہے اور یہی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بشارت ہے جو محمد ﷺ کے نام سے اس وقت دنیا میں ضوفشاں ہے ۔ اللھم صل علی سیدنا محمد و علی آل سیدنا محمد وبارک وسلم۔ اور جو ہم نے اوپر عرض کیا تھا کہ مسلمانوں کی خصوصیت صرف اس وجہ سے فرمائی کہ مسلمانوں نے اس نعمت کی قدر کی ورنہ آپ کی رحمت اور آپ کی ضیاء پاشی سے کائنات کا ذرہ ذرہ مستفید اور فیض یاب ہو رہا ہے۔ یہ اس لئے عرض کیا کہ سورة انبیآء میں آپ کے متعلق فرمایا ہے۔ وما ارسلنک الا رحمۃ للعلمین اب آگے پھر اصل بحث کی طرف عود ہے یہ باتیں تو بعض مناسبت سے درمیان میں آگئی تھیں جو قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت کا انتہائی کمال ہے کہ جو بات درمیان میں آجائے اسے تشنہ نہیں چھوڑتا اور پھر اصل مضمون کو شروع کردیتا ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 3:165–166

اَوَ لَمَّاۤ اَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَیْهَا١ۙ قُلْتُمْ اَنّٰى هٰذَا١ؕ قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:165 in the Quran reader

یہ تمہارا کیا حال ہے کہ جب تم کو احد میں مصیبت پہونچی تو کہنے لگے کہ یہ مصیبت کہاں سے آگئی حالانکہ بدر میں تم اس سے دوگنی تکلیف پہنچا چکے ہو آپ ان سے فرما دیجیے آ کہاں سے گئی یہ مصیبت خود تمہارے ہی پاس سے آئی بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔1

وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَ لِیَعْلَمَ الْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 3:166 in the Quran reader

اور دو جماعتوں کے نبرد آزما ہنے کے دن جو نقصان تم کو پیش آیا وہ قضائے الہٰی سے پیش آیا اور اس لئے پیش آیا تاکہ اللہ تعالیٰ مومنین کو متمیز کر دے

ف 1 اور جب تم کو میدان احد میں ایک تکلیف پہنچی حالانکہ تم اس تکلیف کی دو مثل بدر میں اپنے مخالفوں کو پہنچا چکے ہو تو کیا یوں کہتے ہو کہ یہ مصیبت کہاں سے اور کدھر سے آگئی آپ فرما دیجیے کہ یہ مصیبت آ کہاں سے گئی یہ مصیبت خود تمہاری طرف سے آئی اور تمہارے ہی ہاتھوں کی بدولت آئی ۔ یقین جانو ! اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔ (تیسیر) جس طرح ایک شکست خوردہ فوج کو صدمہ و حیرانی اور تعجب ہوتا ہے وہی صورت احد میں بھی مسلمانوں کو پیش آئی ۔ یہں تعجب کی وجہ اس قدر اور بھی تھی کہ علاوہ جلیل القدر صحابہ کے جو حقیقت شناس تھے عام لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ جب خدا کا رسول ہم میں موجود ہے پھر ہم اسلام کی بلندی کے لئے لڑنے نکلے ہیں کافروں کی زیادتی بھی ہے کہ ہم پر چڑھ کر آئے ہیں ایسی حالت میں شکست کا کیا کام ! اب شکست ہوجانے سے حیرانی اور تعجب ہوا پھر وجوہات شکست پر بحث ہونے لگی کہ ایسا کیوں ہوا کدھر سے یہ ہار آئی اور ہم کو ہزیمت کیونکر ہوئی۔ حضرت حق نے اس کا جواب دیا اور ان کے تعجب کو دور کیا اور فرمایا تمہاری وجہ سے یہ مصیبت آئی نہ رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کرتے اور نہ گھاٹی چھوڑ کر نکلتے نہ یہ ہزیمت پیش آتی اللہ تعالیٰ کو سب قدرت ہے وہ چاہے غلبہ دے چاہے مغلوب کر دے بدر میں تم نے اطاعت کی تو ستر کا فر قتل ہوئے ستر کو گرفتار کیا اور تمہاری فتح ہوئی۔ احد میں بھی شروع شروع کامیابی ہوئی لیکن قصور ہوتے ہی جنگ کا رنگ بگڑ گیا اور ستر مسلمان شہید ہوگئے بدر کو دو مثل اس لئے فرمایا کہ قیدیوں پر قابو پالینا بھی ان کے قتل ہی کرنے کے برابر ہے اگر تم چاہتے تو قتل کرسکتے تھے لیکن تم نے فدیہ لے کر چھوڑ دیا تو یہاں ستر 70 اور وہاں ایک سو چالیس پھر تعجب کی کیا وجہ ہے شکست کی باقی حکمتیں اوپر بیان ہوچکی ہیں کچھ اور آگے آتی ہیں۔ خلاصہ یہ کہ تعجب نہ کرو ۔ تسلی پکڑو پہلے جیت چکے ہو اگر اب کے ہار گئے اور وہ بھی اپنی غلطی سے تو حیرانی کی کوئی وجہ نہیں۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی تم بدر کی لڑائی میں ستر کافروں کو مار چکے ہو اور ستر کو پکڑ لائے تھے تمہاری اس لڑائی میں ستر شہید ہوئے تو بددل کیوں ہوتے ہو سو یہ بھی اپنے قصور سے کہ بےحکمی سے لڑے یا قصور یہ کہ بدر کے اسیروں کو مار نہ ڈالا ماں لے کر چھوڑ دیا اور حضرت نے فرمایا تھا کہ اگر ان کو چھوڑتے ہو تم میں ستر آدمی شہید ہونگے لوگوں نے قبول کر کے مال لیا اور ان کو چھوڑا (موضح القرآن) شاہ صاحب کے فرمانے سے وہ بات صاف ہوگئی جو ہم اوپر کہہ آئے ہیں ایک خطا سابق اور ایک خطا لاحق اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ غلطی اور کوتاہی غلطی اور کوتاہی کو بڑھاتی ہے ۔ اب آگے اور تسلی دی جاتی ہے اور منافقوں کے بعض اعتراضات کا جواب بھی دیا جاتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 3:167

وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ نَافَقُوْا١ۖۚ وَ قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَوِ ادْفَعُوْا١ؕ قَالُوْا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّا اتَّبَعْنٰكُمْ١ؕ هُمْ لِلْكُفْرِ یَوْمَئِذٍ اَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلْاِیْمَانِ١ۚ یَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یَكْتُمُوْنَۚ Open ayah 3:167 in the Quran reader

اور اس لئے بھی تاکہ خدا تعالیٰ منافقوں کو نمایاں کر دے اور ان منافقوں سے یہی تو کہا گیا تھا آئو یا تو اللہ کی راہ میں جنگ کرو یا کم از کم دشمنوں کی مدافعت ہی کرو۔2 اس پر وہ کہنے لگے اگر ہم اس لڑائی کو واقعی لڑائی سمجھتے تو ہم ضرور تمہارے ساتھ چلتے اس دن وہ منافق بہ نسبت ایمان کے کفر سے قریب تر ہوگئے وہ اپنے منہ سے ایسی باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہوتیں حالانکہ جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اللہ ت عالیٰ اس کو خوب جانتا ہے۔3

ف 2 اور جس دن دو جماعتیں باہم نبرد آزما ہوئیں اور آپس میں بھڑیں اس دن جو نقصان تم کو پہنچا اور جو مصیبت تم پر پڑی یعنی میدان احد میں پس وہ تو قضائے الٰہی اور مشیت ایزدی سے پڑی اور اس لئے پڑی تاکہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو پرکھ لے اور اس لئے بھی یہ نقصان پہونچا تاکہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو نمایاں کر دے جنہوں نے منافقانہ روش اختیار کر رکھی ہے اور ان منافقین سے اتنا ہی تو کہا گیا تھا کہ آئو اگر ہمت ہو تو اللہ کی راہ میں لڑ و یا ہمت نہ ہو تو کم از کم دشمن کی مدافعت ہی کرو اور اپنی تعدادکو دکھا کر ان کو مرغوب ہی کرو کہ مسلمانوں کی کثرت دیکھ کر ان کافروں کے پائوں اکھڑ جائیں۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کو گھبرانے اور پریشان ہونے کی بات نہیں میدان مقابلہ میں جو کچھ ہوا اور تم کو شروع میں کامیابی اور بعد میں ناکامی ہوئی وہ تو مشیت اور اللہ تعالیٰ کی حکمت کے ماتحت ہوئی کیونکہ تمہاری کو ہی کے باعث اس کو تمہیں مکمل فتح دینی منظور نہ تھی اس کے علاوہ اور بھی اس کی بیشمار حکمتیں تھیں جن میں سے کچھ تو پہلے بیان ہو چکیں اور ان میں سے بعض یہ ہیں کہ اللہ تعلیٰ ظاہری طور پر مسلمانوں کو پرکھنا اور جاننا چاہتا تھا اور وہ یہ چاہتا تھا کہ مسلمانوں کو متمیز کر دے اور جن لوگوں نے اس دن منافقانہ برتائو کیا ان کو نمایاں اور آشکارا کر دے تاکہ منافق الگ اور مسلمان الگ پہچانے جائیں پھر اس کو بیان کیا جو عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں نے احد میں کیا تھا۔ جس وقت عبداللہ اپنے ساتھیوں کو لے کر میدان سے واپس ہونے لگا تو اس سے کہا گیا کہ جائو نہیں اس سے نقصان پہنچے گا تم کو چاہئے تو یہ ہے کہ تم ہمارے ساتھ مل کر دشمن سے لڑو اور اگر لڑنے کی ہمت نہ ہو تو کم از کم شریک رہو تاکہ تمہاری وجہ سے ہماری تعداد زیادہ دکھلائی دے اور کافر مرعوب ہوجائیں اور اس طرح تم لڑائی میں نہ سہی مدافعت میں تو شریک ہو ۔ اگر خدانخواستہ اس جنگ میں مسلمان مغلوب ہوگئے اور مدینہ پر حملہ ہوگیا تو کافر بلا امتیاز مسلمان اور منافق کے سب کو قتل کریں گے اور سب کو لوٹیں گے اس لئے تم لڑتے نہیں تو دشمن کی مدافعت ہی کرو۔ اس پر عبداللہ بن ابی نے جو جواب دیا اس کو بیان فرماتے ہیں۔ (تسہیل) 3 ان منافقوں سے جو کہا گیا تھا اس کا انہوں نے یہ جواب دیا کہ اگر ہم اس لڑائی کو کوئی قرب نے اور ڈھنگ کی لڑائی سمجھتے تو واقعی لڑائی جانتے تو ضرور ہم تمہارے ساتھ رہتے یہ لڑائی کہاں ہے یہ تو اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالنا اور کھلا ہوا خطرہ مول لینا ہے یہ منافق اس دن بہ نسبت ایمان کے کفر سے قریب تر ہوگئے یعنی ظاہر میں بھی ان کا اقرب الی الکفر ہونا کھل گیا یہ منافق اپنے منہ سے ایسی باتیں کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہوتیں اور جن باتوں کو یہ چھپاتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو خوب جانتا ہے۔ (تیسیر) منافقوں کا جواب کس قدر زہر آلود ہے یعنی یہ کوئی قرینے کی لڑائی ہے ایک طرف ٹڈی دل فوج ہر قسم کا سامان جنگ اور تمام فوج پر پوری طرح مسلح اور دوسری طرف کچھ بھی نہیں خواہ مخواہ کی بھیڑ اکٹھی کرنے سے کہیں لڑائی جپتی جاتی ہے یا یہ مطلب ہے کہ ہم لوگ لڑائی کے فن سے واقف نہیں اس لئے یہ کوئی لڑائی نہیں ہے بلکہ اپنے کو تباہ کرنا ہے اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ تم لوگ لڑائی سے ناواقف ہو ہمارا کہنا نہیں مانا مدینہ چھوڑ کر یہاں چلے آئے یہ بھی کوئی لڑائی کا ڈھنگ ہے یہ تو اپنے کو خطرہ میں ڈالنا ہے۔ ہم تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتے۔ حضرت حق نے فرمایا یوں تو منافق پہلے بھی مسلمان نہیں تھے لیکن ظاہری روا داری اور برتائو کے اعتبار سے اسلام اور ایمان سے قریب معلوم ہوتے تھے لیکن اس کہنے اور اس بیہودہ جواب دینے سے اس دن یہ ظاہری طور پر بھی بجائے ایمان کے کفر سے قریب ہوگئے بلکہ یہ قرب اس قرب سے اقرب اور قریب تر ہے کیونکہ مسلمانوں کے ساتھ ان کا سابقہ برتائو تو دل سے نہ تھا اور یہ بات انہوں نے دل سے کہی ہے۔ اس لئے بہ نسبت قرب الی الایمان کے قرب الی الکفر زیادہ ہے اور یہ بدبخت دل میں جو کچھ چھپائے ہوئے ہیں اس کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ اس کتمان سے یا تو مراد یہ ہے کہ مسلمان مغلوب ہوں اور ہم خوش ہوں اور یہ بھی کہ ان کے دل میں یہ ہے کہ ہم کو مسلمانوں کے استھ مل کر لڑنا ہی نہیں خواہ لڑائی قرینے کی ہو یا بےقرینے کی ہو۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یہ بھی منافقوں کا کلام تھا کہ ہم کو معلوم ہو لڑائی یعنی ظاہر میں کہا کہ جس وقت لڑائی دیکھیں گے تو شامل ہوں گے یا کہا کہ ہم لڑائی کے قاعدے سے واقف نہیں اور دل میں طعن دیا کہ ہماری مشورت نہیں مانتے ان کو لڑائی معلوم ہوئی اسی لفظ سے کفر سے قریب ہوگئے اور ایمان سے دور (موضح القرآن) اب آگے ان کے ایک اور قول کا جواب ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 3:168–170

اَلَّذِیْنَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ وَ قَعَدُوْا لَوْ اَطَاعُوْنَا مَا قُتِلُوْا١ؕ قُلْ فَادْرَءُوْا عَنْ اَنْفُسِكُمُ الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 3:168 in the Quran reader

یہ ایسے لوگ ہیں جو خود تو بیٹھے رہے اور اپنے ان بھائیوں کی نسبت جو شہید ہوگئے یوں کہہ دیا کہ اگر وہ ہمارا کہنا مان لیتے تو ہرگز نہ مارے جاتے آپ ان سے فرما دیجیے اچھا اگر تم اس قول میں سچے ہو تو اب تم اپنے اوپر سے موت کو ٹال دینا۔4

وَ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا١ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُوْنَۙ Open ayah 3:169 in the Quran reader

اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے گئے ہیں ان کو تو اے مخاطب مردہ نہ سمجھ بلکہ وہ تو زندہ ہیں اپنے پروردگار کے مقرب ہیں ان کو روزی عطا کی جاتی ہے

فَرِحِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ۙ وَ یَسْتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْا بِهِمْ مِّنْ خَلْفِهِمْ١ۙ اَلَّا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۘ Open ayah 3:170 in the Quran reader

جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ان کو دیا ہے اس پر وہ خوش و خرم ہیں اور وہ ان لوگوں کے متعلق بھی جو پیچھے رہ جانیوالوں میں سے ابھی ان تک نہیں پہنچے خوش اور مطمئن ہیں کہ ان پر بھی نہ کسی قسم کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے

ف 4 یہ منافق ایسے لوگ ہیں جو خود تو اپنے گھروں میں بیٹھے رہے اور اپنے ان بھائیوں کے متعلق جو میدان میں شہید ہوئے انہوں نے یوں کہا کہ اگر وہ لوگ ہمارا کہا مان لیتے اور ہمارے منع کرنے سے میدان میں نہ جاتے تو وہ بےکار اور بےفائدہ نہ مارے جاتے۔ اے پیغمبر ! ﷺ آپ ان سے فرما دیجیے اچھا اگر تم اس دعوے میں سچے ہو کہ میدان میں جانے سے ہی آدمی مرتا ہے اور گھر میں بیٹھنے سے نہیں مرتا تو تم اپنے اوپر سے موت کو رفع کردینا اور موت کو ٹلا دینا (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ اگر موت کا کوئی وقت مقرر نہیں اور موت کسی نظم کے ماتحت نہیں ہے اور حضرت حق تعالیٰ کے حکم کو کسی کے مرنے جینے میں … دخل نہیں ہے بلکہ محض اتنی بات ہے کہ گھر میں بیٹھے رہنے سے انسان جیتا ہے اور میدان میں جانے سے مرتا ہے اگر تمہاری یہ بات سچی ہے اور اس دعوے میں کچھ صداقت سے تو تم تو بہرحال گھر میں ہی بیٹھے رہے تھے اب تم موت کو اپنے پر سے ٹلا دینا اور اگر یہ بات نہیں ہے بلکہ موت اپنے وقت پر آ کر رہتی ہے خواہ کوئی گھر میں ہو یا گھر سے باہر ہو تو پھر میدان جنگ میں ہی جا کر کیوں نہ مرو اور گھر میں بیٹھ کر بےکار اور بےفائدہ کیوں مرو بےکار اور بےفائدہ کی قید ہم نے اس لئے بڑھائی کہ منافق شہدا کی موت کو ایسی ہی موت سمجھتے تھے اور اسی کا آگے جواب آتا ہے اور یہ جو بھائی فرمایا اس کی وجہ وہی ہے جو ہم عرض کرچکے ہیں کہ مدینہ والے آپس میں نسبی اور خاندانی تعلق رکھتے تھے۔ اب آگے شہدا کی فضیلت اور منافقوں کے اس گمان اور خیال کا جواب ہے کہ وہ غزوئہ احد کے مسلمانوں کی موت کو بےکار اور بےفائدہ سمجھتے تھے۔ (تسہیل)
Ayah 3:171

یَسْتَبْشِرُوْنَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ٤ۚۛ۠ Open ayah 3:171 in the Quran reader

یعنی اگر شہید ہو کر آجائیں وہ اللہ تعالیٰ کے احسان اور اس کے فضل کی وجہ سے خوش و خرم رہتے ہیں اور نیز اس بنا پر کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے ثواب کو ضائع نہیں کرتا ۔1

ف 1 اور اپنے مخاطب جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے گئے تو ان کو دوسرے مردوں کی طرح مردہ نہ سمجھ بلکہ وہ تو ایک قسم کی زندگی کے ساتھ زندہ ہیں اور اپنے پروردگار کے مقرب اور اس کے ہاں مقبول ہیں اور ان کو روزی دی جاتی ہے اور ان کو رزق ملتا ہے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ اپنی نعمت اور اپنے فضل و کرم سے عطا فرمایا ہے وہ اس سے خوب خوش و خرم ہیں اور اس کی وجہ سے بہت مگن ہیں اور جس طرح وہ اپنی حالت پر مگن ہیں اسیطرح ان لوگوں کے متعلق بھی خوش اور مطمئن اور پر امید ہیں جو دنیا میں ابھی زندہ ہونے کی وجہ سے ان کے پیچھے رہ گئے ہیں اور ابھی ان تک نہیں پہنچے اور ان سے ملے نہیں کہ اگر وہ بھی ہماری طرح شہید ہو کر یہاں آئے تو نہ ان کو کوئی خوف پیش آئے گا اور نہ وہ کسی طرح غمگین ہوں گے یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی نعمت اور اس کے فضل و کرم کی وجہ سے خوش ہوتے ہیں اور نیز اس وجہ سے خوش ہوتے ہیں کہ اللہ ت عالیٰ اہل ایمان کے اعمال کا اجر وثواب ضائع نہیں کیا کرتا۔ (تیسیر) ان آیتوں کا تعلق یا تو شہداء احد سے ہے اور یا شہداء بیر معونہ سے ہے جن کو عامر بن طفیل کی جماعت نے شہید کیا تھا اور وہ سب کے سب قرآن کے قاری تھے کافر ان کو قرآنی تعلیم کی غرض سے لے گئے تھے اور راستے میں ان کو شہید کر ڈالا ان لوگوں کے متعلق بعض اور آیات بھی چند روز کے لئے نازل ہوئی تھیں جو بعد میں اٹھا لی گئیں کیونکہ مسلمان ان کے جبراً قتل سے بڑے متاثر تھے اس لئے ان کے متعلق کوئی آیت نازل ہوئی تھی جو چند دن کے بعد منسوخ ہوگئی۔ بہرحال جہاد میں جو لوگ قتل کردیئے جاتے ہیں اور میدان کار زار میں جو حضرات شہید ہ جاتے ہیں ان کے متعلق عوام کے خیالات کی اصلاح مقصود ہے اور منافقوں کو اور کافروں کو یہ بات بتانی ہے کہ وہ لوگ بڑے مرتبے کے ہیں تم ان کی موت کو حقیر اور معمولی موت سمجھتے ہو حالانکہ وہ زندہ ہیں اور ایک خاص قسم کی زندگی ان کو میرس ہے اگرچہ اس زندگی کی کیفیت زندوں کی سمجھ میں نہ آئے۔ لاتحسبن کا خطاب عام ہے اور جو خطاب کی صلاحیت رکھتا ہو وہ مخاطب ہے اور ہوسکتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ یہ خطاب خاص ہو مگر ہم نے پہلا قول اختیار کیا ہے۔ عند ربھم سے مراد مرتبہ کا قرب اور ان کی مقبولیت ہے حدیث شریف میں آتا ہے۔ شہداء کی ارواح سبز رنگ کے یا سفید رنگ کے پرندوں کے پیٹ میں رہتی ہیں اور جنت کی نعمتوں سے متمتع ہوتی ہیں۔ جنت میں جہاں چاہتی ہیں جاتی آتی ہیں۔ شام کو ان کی ارواح عرش الٰہی کے نیچے قندیلوں میں آ کر بسیرا کرتی ہیں اور چونکہ شہداء کے بھی مختلف درجات ہیں اس لئے ہوسکتا ہے کہ بعض کی ارواح جنت میں جاتی ہوں اور بعض اس نہر پر رہتی ہوں جو جنت کے دروازے کے باہر ہے اور وہاں ان کو ان کا رزق پہونچا جاتا ہو۔ فرحین کا مطلب یہ ہے کہ وہ انتہائی خوشی میں ہیں اس انعام کے سبب جو اللہ نے ان پر کیا ہے اور اس سے بڑھ کر اور کیا فضل ہوگا کہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام سے کم اور تمام مسلمانوں سے زائد ان کی ارواح کو سرور اور لذت حاصل ہے پھر اس خوشی کے علاوہ اپنے ان مخلص ساتھیوں کی طرف سے بھی مطمئن ہیں جو ابھی تک شہید ہو کر ان تک نہیں پہنچے اور یہ اطمینان اس بنا پر ہے کہ جو بشارتیں سنا کرتے تھے ان سے خود سود مند ہو رہے ہیں اس لئے پر امید ہیں کہ ساتھی بھی شہید ہوں گے تو وہ بھی ہر قسم کے خوف اور ہر قسم کے غم سے مامون ہوں گے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لم یلحق و ابھم سے شہید اور غیر شہید دونوں قسم کے مخلص مسلمان مراند ہوں اور مطلب یہ ہو کہ جو مسلمان ہمارے پیچھے رہ گئے ہیں اور ابھی نہیں آئے وہ اگر شہید ہو کر آئیں گے تب تو ہمارے ساتھمل ہی جائیں گے اور اگر اپنی موت سے بھی مر کر آئے اور ایمان و خلوص لے کر آئے تب بھی ہر قسم کے خوف اور حزن سے مامون ہوں گے۔ خلاصہ یہ کہ وہ ان دو قسم کی خوشیوں سے لذت اندوز ہو رہے ہیں ایک تو یہ کہ خود عیش میں ہیں اور آزادی کے ساتھ سبز پرندوں کے پوٹوں میں ہر جگہ کی سیر کرتے پھرتے ہیں دوسرے یہ کہ پیچھے آینوالوں کی طرف سے مطمئن اور مسرور ہیں کہ وہ آجائیں گے تو ان کو بھی ایک خاص پر لطف زندگی میسر ہوجائے گی اگر شہید ہو کر آئے تو سبحان اللہ ! اور اگر شہید نہ ہوئے خلوص و ایمان کے ساتھ آئے تو بھی مامون زند گی کے وارث بنا دیئے جائیں گے ۔ آخر میں ان دونوں خوشیوں کا سبب صراحتہ فرمایا کہ وہ خوش ہیں ایک تو اس سبب سے کہ وہ خود اچھی حالت میں ہیں اور دوسرے اس سبب سے کہ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی اہل ایمان کے اعمال کا اجر ضائع نہیں فرماتا بلکہ جو مسلمان جس مرتبہ کا عمل لے کر آتا ہے اس کو اس کے مرتبہ کے موافق درجہ اور ثواب عنایت فرماتا ہے اس مسرت و شادمانی سے بڑھ کر اور کیا مسرت ہوسکتی ہے کہ کوئی شخص خود اپنی جانب سے اور اپنے متعلقین کی جانب سے مطمئن اور پر امید ہو تنبیہ شہدا کے متعلق ہم مفصل بحث دوسرے پارے کے تیسرے رکوع میں کرچکے ہیں اور وہاں بتا چکے ہیں کہ عام برزخ کی زندگی ہر شخص کے ادراک میں نہیں آسکتی لیکن یہ یقینی ہے کہ مرنے کے بعد زندگی ضرور اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اس عالم کی زندگی کے مختلف مدارج ہیں ایک انبیآ کی زندگی ہے ایک وہ زندگی ہے جو شہداء کو حاصل ہے ایک وہ زندگی ہے جو علماء کو حاصل ہے ایک وہ زندگی ہے جو حافظ قرآن کو حاصل ہے اسی طرح درجہ بدرجہ ہے۔ انبیاء کی زندگی اتنی قوی ہے کہ اس کا اثر اس عالم میں بھی پایا جاتا ہے مثلاً ان کی بیویوں سے نکاح نہ کرنا۔ ان کے ورثہ کا تقسیم نہ ہونا ان کے جسم کا قبر میں محفوظ رہنا (ان کی ارواح کا جسم کے ساتھ قائم رہنا) قبر پر جا کر سلام کرنے والے کے سلام کو سننا اور اس کا جواب دینا شہداء کی زندگی ان سے کم درجہ کی ہے مثلاً ان کے عمل کا بڑھتے رہنا ، عالم برزخ میں ان کی ارواح کا عرش الٰہی کے نیچے رہنا ان کو جنت کا رزق پہنچنا اللہ تعالیٰ کا ان سے دریافت کرنا کہ تم کیا چاہتے ہو اور ان کا یہ کہنا کہ ہم کو دنیا میں پھر بھیج دیتا کہ تیرے دین کی خدمت کرتے ہوئے پھر شہید ہوں اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ مرنے کے بعد کسی کو واپس بھیجنا ہمارے فیصل شدہ امر کے خلاف ہے پھر ان کے جسم کو زمین کا نہ کھانا اور قبر میں سلامت رہنا۔ احادیث میں اس زندگی کو جن الفاظ سے تعبیر کیا ہے اس کی حقیقت کو سمجھنا بھی عوام کے ادراک سے خارج ہے ۔ البتہ نفوس قدسیہ اور اہل سلوک حضرات اس زندگی کو سمجھتے ہوں تو سمجھتے ہوں۔ لم یلحقوا بھم من خلضھم سے اکثر مفسرین نے مجاہدین کو مراد لیا ہے اس لئے ہم نے ترجمے میں وہ مشہور قول اختیار کیا ہے لیکن بعض حضرات نے مجاہدین اور عام مخلصین دونوں مراد لئے ہیں ہم نے تیسیر اور تسہیل میں دونوں تفسیروں کی رعایت رکھی ہے۔ (واللہ اعلم) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں شہیدوں کو مرنے کے بعد ایک طرح کی زندگی ہے کہ اور مردوں کو نہیں۔ کھانا پینا اور عیش اور خوشی پوری ہے اوروں کو قیامت کے بعد ہوگی۔ (موضح القرآن) اب آگے غزوہ بدر صغریٰ اور غزوئہ حمر الاسد کا ذکر ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 3:172

اَلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَصَابَهُمُ الْقَرْحُ١ۛؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا مِنْهُمْ وَ اتَّقَوْا اَجْرٌ عَظِیْمٌۚ Open ayah 3:172 in the Quran reader

جن لوگوں نے زخم خوردہ ہونے کے باوجود اللہ اور رسول کے حکم کو قبول کیا ان میں سے جو لوگ نیک کردار اور پرہیز گار ہیں ان کے لئے بڑا ثواب ہے ۔2

ف 2 جن لوگوں نے اللہ اور رسول کے کہنے کو قبول کرلیا بعد اس کے کہ وہ زخم خوردہ تھے اور ان کو زخم لگ چکا تھا اور باوجود زخمی اور زخم خوردہ ہونے کے اللہ و رسول کی دعوت الی الجہاد پر لبیک کہا ان لوگوں میں جو لوگ نکو کار اور متقی و پرہیز گار ہیں ان کے لئے آخرت میں بہت بڑا اجر وثواب ہے۔ مفسرین کے ان آیات کے بارے میں دو قول ہیں ایک تو یہ کہ ان کا تعلق غزوئہ حمراء الاسد سے ہے جو مدینہ منورہ سے تقریباً آٹھ میل ہے اور دوسرا قول جو مجاہد و عکرمہ کی طرف منسوب ہے وہ یہ ہے کہ ان آیات کا تعلق بدر صغریٰ سے ہے جو تقریباً غزوئہ احد کے ایک سال بعد واقع ہوا چونکہ حسن اتفاق سے یہ دونوں غزوے آپس میں ملتے جلتے ہیں اس لئے دونوں قول زیر بحث آگئے غزوئہ حمراء الاسد میں بھی مسلمان زخم خوردہ تھے بلکہ تازہ زخم خوردہ تھے اور بدر صغیرٰ میں بھی زخم خوردہ تھے اگرچہ زخموں کو عرصہ ہوگیا تھا۔ غزوئہ حمراء الاسد میں بھی ابو سفیان نے قبیلہ عبد القیس کے قافلے والوں کو سمجھا بجھا کر بھیجا تھا کہ مسلمانوں کو مرعوب کرنا اور کہنا ابوسفیان پوری قوت کے ساتھ واپس آ رہا ہے اور بدر صغیرٰ کے موقعہ پر نعیم بن مسعود کو اس کام کے لئے مدینہ منورہ بھیجا تھا کہ جا کر مسلمانوں کو مرعوب کرو اور ا ن سے کہو بدر صغریٰ کا معرکہ بڑا زبردست ہوگا اور اب کہ ابوسفیان بڑی تیاری سے آ رہا ہے ۔ پھر جس طرح حمراء الاسد میں کافر مرعوب ہوگئے اور مقابلہ کی ہمت نہیں پڑی یہی حشر کافروں کا بدر صغریٰ میں ہوا اور حمراء الاسد میں جس طرح مسلمانوں نے کچھ تجارت کا مال خرید کر نفع کمایا اسی طرح بدر صغریٰ پر بہت سامال فروخت کر کے خوب نفع کمایا ان اسباب کی بنا پر مفسرین کی شان نزول کے بارے میں دو رائیں ہوگئیں اکثر کی رائے یہی ہے کہ غزوئہ حمراء الاسد مراد ہے اور بعض کی رائے یہ ہے کہ نہیں بلکہ بدر صغریٰ کا واقعہ مراد ہے اور چونکہ دونوں واقعے آپس میں ملتے جلتے ہیں اس لئے اس بحث میں زیادہ کھینچا تانی نہیں ہونی چاہئے۔ قرآن کریم کی عمومیت کے پیش نظر یہ کہا جاسکتا ہے کہ قرآن کا مقصد دونوں غزوئوں کی طرف اشارہ کرنا ہو اور یہ کچھ مستعد نہیں۔ (واللہ اعلم) غزوئہ حمراء الاسد جب ابوسفیان احد کی جنگ سے اپنے لشکر کو لیکر لوٹا اور روحائک آگیا جو مکہ اور مدینہ کے وسط میں ایک مقام ہے تو اس کو ہوش آیا اور اس نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ کیا اور یہ خیال ہوا کہ ہم اپنی کامیابی کو چھوڑ کر چلے آئے اگر ایک حملہ دبا کر اور کرتے تو مسلمانوں کو ہمیشہ کو قصہ ختم ہوجاتا یہ خیال کر کے دوبارہ واپسی کا قصد کیا۔ یہ بات جب نبی کریم ﷺ کو معلوم ہوئی تو آپ ﷺ نے مسلمانوں کو جمع کر کے ابو سفیان کے تعاقب کا حکم دیا اگرچہ مسلمان زخموں سے چور ہو رہے تھے لیکن انہوں نے اللہ اور رسول کی اس دعوت کو قبول کیا اور ابوسفیان کے تعاقب میں روانہ ہوگئے اور حمراء الاسد تک پہنچے۔ اللہ تعالیٰ نے ابوسفیان کے قلب میں رعب ڈال دیا اور وہ بجائے واپس آنے کے مکہ چلا گیا راستے میں اس کو قبیلہ عبدالقیس کا ایک قافلہ ملا قافلہ والوں سے یہ کہتا گیا کہ تم ذرا اتنا کام کرنا کہ مسلمانوں کو ہماری طرف سے خوف دلانا اور کہنا کہ ابوسفیان بہت بڑی تیاری کر رہا ہے اور اب کی دفعہ اس کا خیال ہے کہ ہم مسلمانوں کا بالکل خاتمہ کردیں گے مسلمانوں نے ان باتوں کو سن کر کہا۔ حسبنا اللہ و نعم الوکیل اور اتفاقاً حضور ﷺ کو تاجروں کا وہاں ایک قافلہ مل گیا اور مسلمانوں نے اس قافلہ سے کچھ مال خرید لیا اور اس مال میں مسلمانوں کو بڑا نفع ہوا۔ غزوئہ بدر صغیرٰ یہ واقعہ اس طرح ہوا کہ ابو سفیان نے احد سے لوٹتے وقت کہا تھا کہ ہم آئندہ بدر صغیرٰ میں موسم کے موقعہ پر تم کو ختم کریں گے اور پھر بدر میں لڑائی ہوگی۔ نبی کریم ﷺ نے اس چیلنج کو منظور کرلیا لیکن آئندہ موسم کے موقعہ پر مکہ میں قحط پڑگیا ابوسفیان کا لشکر مرظہر ان تک آیا بھی لیکن پھر ہمت نہیں پڑی اور اس موقعہ پر ایک شخص نعیم بن مسعود کو کچھ دیکر اس خدمتپر مقرر کر گیا کہ توجا کر مسلمانوں کے سامنے ہماری قوت اور ساز و سامان کا چرچا کرتا کہ مسلمان مرعوب ہوجائیں اور بار میں نہ آئیں اور ہماری بات بن جائے۔ یہاں نبی کریم ﷺ نے مدینہ میں مسلمانوں کو جمع کر کے ایک تقریر کی اور ابوسفیان کا چیلنج یاد دلایا اور تقریر میں آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ اگر تم لوگ میرے ساتھ چلنے پر آمادہ نہ ہو گے تو میں تنہا تلوار لے کر چلا جائوں گا اور مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ میری مدد کرے گا اور میں اکیلا ہی کامیاب ہو کر لوٹوں گا مسلمانوں پر ایک طرف احد کے زخموں کا اثر تھا بعض کے زخم اچھے نہ ہوئے تھے۔ ادھر نعیم بن مسعود کی باتوں کا چرچا تھا کہ اب کہ ابوسفیان بڑی تیاری سے آ رہا ہے لیکن مسلمانوں نے کہا۔ حسبنا اللہ و نعم الوکیل اور مسلمانوں کا کمال ایمانی اور بڑھ گیا اور اس میں مزید قوت پیدا ہوگئی چناچہ نبی کریم ﷺ حسب وعدہ بدر میں پہنچ گئے دشمن تو آیا نہیں اور موسم کی وجہ سے وہاں بازار لگتا تھا مسلمانوں نے وہاں خوب تجارت کی اپنا مال وہاں فروخت کیا اور نفع کما کر وہاں سے واپس آگئے اللہ تعالیٰ نے کافروں کو مرعوب کردیا اور وہ میدان بدر تک نہیں پہنچ سکے۔ ان ہی دونوں واقعوں کا آگے کی آیتوں میں ذکر ہے (یہی دونوں واقعے آگے کی آیتوں میں مذکور ہیں) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں جب جنگ احد فتح ہوئی ابو سفیان جو کہ سردار تھا اور کافروں کا کہہ گیا کہ اگلے بدر پر پھر لڑائی ہے اور حضرت نے قبول کرلیا ۔ جب اگلا سال آیا حضرت نے لوگوں کو حکم کیا کہ چلو لڑائی کو اس وقت جنہوں نے رفاقت کی اور تیار ہوئے ان کو یہ بشارت ہے کہ شکست کے بعد پھر جرأت کی ۔ (موضح القرآن) حضرت شاہ صاحب کا رجحان بھی مجاہد اور عکرمہ کی تفسیر کی جانب معلوم ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ جو فرمایا۔ للذین احسنوا منھم اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان میں کچھ محسن اور کچھ غیر محسن تھے اور کچھ متقی اور کچھ غیر تمقی تھے بلکہ یہ ایک اعلان ہے جو ایسے موقعہ پر ہوا کرتا ہے کہ جو وفادار رہے گا اس کو انعام ملے گا خواہ سب کے سب وفادار ثابت ہوں اور ظاہر ہے کہ جنہوں نے باوجود زخمی ہونے کے اللہ و رسول کی دعوت جہاد کو قبول کیا وہ سب ہی محسن اور متقی تھے اور سب ہی اجر عظیم کے مستحق تھے۔ اب آگے اسی قصہ کا تتمہ ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 3:173–174

اَلَّذِیْنَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ اِیْمَانًا١ۖۗ وَّ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ وَ نِعْمَ الْوَكِیْلُ Open ayah 3:173 in the Quran reader

یہ لوگ وہ ہیں جن سے لوگوں نے کہا کہ کافروں نے تمہارے مقابلہ کے لئے اب کے بڑا سامان جمع کیا ہے لہٰذا تم ان سے ڈرتے رہنا پھر اس خبر نے ان کے ایمان کو اور قوی ترکر دیا اور انہوں نے جواب دیا ہم کو اللہ تعالیٰ کافی ہے اور خوب کار ساز ہے۔3

فَانْقَلَبُوْا بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ لَّمْ یَمْسَسْهُمْ سُوْٓءٌ١ۙ وَّ اتَّبَعُوْا رِضْوَانَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَظِیْمٍ Open ayah 3:174 in the Quran reader

چناچہ یہ لوگ اللہ کی نعمت اور اس کے فضل سے مالا مال ہو کر اس طرح واپس آئے کہ ان کو ذرا سی تکلیف بھی نہ پہنچی اور یہ لوگ رضائے الٰہی کے پیرو رہے اور اللہ تعالیٰ بڑا فضل فرمانے والا ہے۔

ف 3 یہ کہنا ماننے والے اور جہاد کو قبول کرنے والے ایسے مخلص لوگ ہیں کہ کچھ لوگوں نے یعنی عبدالقیس والوں نے یا نعیم بن مسعود نے جب ان سے کہا کہ ان کافروں نے تمہارے مقابلہ کے لئے بڑا سامان جمع کیا ہے اور اب کے حملہ پوری تیاری سے ہوگا لہٰذا تم ان سے ڈرتے رہنا اور تم کو ان سے خوف کرنا چاہئے۔ تو اس خبر نے ان کے ایمان کو اور قوی کردیا اور ان کے جوش ایمانی اور کمال ایمانی کو اور بڑھا دیا اور انہوں نے نہایت استقلال سے بےخوف ہو کر جواب دیا کہ تمام کاموں میں اللہ تعالیٰ ہم کو کافی اور بس ہے اور جملہ امور کے لئے وہی بہتر وکیل اور کار ساز ہے۔ (تیسیر) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں ابوسفیان نے چاہا کہ حضرت وعدے پر نہ آویں تو الزام ان پر رہے اور لڑائی سے خوف کھایا ایک شخص مدینہ کی طرف جاتا تھا اس کو کچھ دینا کیا کہ وہاں اس طرف کی ایسی خبریں کہیو کہ وہ خوف کھا دیں اور جنگ کو نہ آویں وہ شخص مدینہ میں پہنچ کر کہنے لگا کہ مکہ کے لوگوں نے بڑی جمعیت کی تم کو لڑنا بہتر نہیں مسلمانوں کو حق تعالیٰ نے استقلال دیا اور یہی کہا کہ ہم کو اللہ بس ہے آخر بدر پر گئے تین روز تجارت کر کے نفع لے کر پھر آئے اگلی آیتوں میں بھی یہی ذکر ہے۔ (موضح القرآن) آیت میں دو جگہ الناس آیا پہلے الناس سے مراد پروپیگنڈہ کرنے والے لوگ ہیں خواہ وہ عبدالقیس کے قافلے والے ہوں خواہ نعیم بن مسعود ہو۔ اگرچہ نعیم ایک شخص تھا لیکن وہ بہت سے آدمیوں کی ترجمانی کر رہا تھا اس لئے اس کو الناس کہہ دیا دوسرے الناس سے مراد کفار مکہ اور ان کے حلیف ہیں۔ قد جمعوا لکم کا مطلب یہ ہے کہ اجتماع کے اعتبار سے بھی اب کے تعداد بہت ہوگی اور سامان کے اعتبار سے بھی بڑا سامان مکہ والوں نے تمہارے تباہ کرنے کی غرض سے جمع کیا ہے۔ فزادھم ایمانا کا مطلب یہ ہے کہ کفار سے ڈرانے والوں کے ڈرانے کا اثر الٹا ہوا بجائے ڈرنے کے مسلمانوں کا ایمان ان کی باتوں سے اور مضبوط ہوگیا ایمان کی زیادتی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تصدیق بڑھتی گھٹتی ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ جوش ایمانی اور کمال ایمانی میں اضافہ ہوگیا کیونکہ نفس تصدیق زیادہ نہیں ہوا کرتی۔ حضرت عبداللہ بن عباس سے بخاری نے نقل کیا ہے کہ حسبنا اللہ ونعم الوکیل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا وہ آخری جملہ ہے انہوں نے آگ میں ڈالے جانے کے وقت کہا تھا۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے جب تم کسی سخت مشکل میں گرفتار ہو جائو تو حسبنا اللہ و نعم الوکیل پڑھا کرو۔ ابن مردویہ نے اس روایت کو نقل کیا ہے۔ حضرت عوف بن مالک سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے دو آدمیوں کے مابین فیصلہ کیا جس شخص کے خلاف فیصلہ ہوا تھا اس نے کہا حسبی اللہ ونعم الوکیل حضور ﷺ نے فرمایا اس کو لوٹا کر لائو جب وہ حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا تو نے کیا کہا تھا اس نے کہا میں نے حسبی اللہ ونعم الوکیل کہا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ عجز اور بےچارگی پر ملامت کرتا ہے ہاں تجھ کو ہوشیار رہنا چاہئے جب کوئی کام تجھ پر غالب آجائے تو اس وقت یہ جملہ کہا کر ۔ حضرت عائشہ ؓ جب صفوان بن معطل کی سواری پر سوار ہوئیں تھیں تو انہوں نے بھی حسبنا اللہ ونعم الوکیل کہا تھا جس کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے ان کی برأت نازل فرمائی۔ شداد بن اوس سے ابو نعیم نے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ یہ کلمہ پڑھنے والے کے لئے موجب امان ہے حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ سخت غمگین ہوتے تو اپنے چہرئہ مبارک اور سر پر ہاتھ پھیرتے اور حسبی اللہ ونعم الوکیل پڑھتے اس روایت کو ابن ابی الدنیا نے نقل کیا ہے وکیل اس کو کہتے ہیں جس کے کام سپرد کیا جائے۔ عرب کے لوگ جمع لشکر اور جیش کو بولتے ہیں صاحب مواہب لدینہ نے فرمایا ہے کہ نعیم بن مسعود نے غزوئہ احزاب میں اسلام قبول کرلیا تھا ایسے بہت سے لوگ ہیں جن کی ابتدائی روش کفر و نفاق کی رہی اور آخر میں مشرف با اسلام ہوگئے۔ ومنھم من یولد کافر او یحییٰ کافر او یموت مئومنا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پہلے الناس سے مراد مدینہ کے منافق ہوں اور انہوں نے مسلمانوں کو مرعوب کرنے کی غرض سے اس قسم کی خرطناک افواہیں مشہور کی ہوں۔ (واللہ اعلم) اب آگے بدر سے یا حمراء الاسد سے مسلمانوں کی کامیاب واپسی کا ذکر فرماتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayah 3:175

اِنَّمَا ذٰلِكُمُ الشَّیْطٰنُ یُخَوِّفُ اَوْلِیَآءَهٗ١۪ فَلَا تَخَافُوْهُمْ وَ خَافُوْنِ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:175 in the Quran reader

اس کے سوا اور کوئی بات نہیں کہ یہ شیطان ہے جو اپنے دوستوں سے ڈرایا کرتا ہے سو تم ان شیطان کے دوستوں سے نہ ڈرنا اور صرف مجھ ہی سے ڈرنا اگر تم حقیقت میں صاحب ایمان ہو1

ف 1 چناچہ یہ لوگ واپس آئے اور اس شان کے ساتھ واپس آئے کہ اللہ کی نعمت اور اس کے فضل کے ساتھ لوٹے یعنی ثواب اور تجارت کے نفع سے مالا مال ہو کر واپس آئے اور ان کو ذرا بھی کوئی ناگوار بات پیش نہیں آئی اور کسی معمولی سی تکلیف نے بھی ان کو مس تک نہیں کیا اور وہ لوگ رضائے الٰہی اور اس کی مرضی کے تابع رہے اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل کا مالک ہے۔ مسلمانو ! سوائے اس کے کوئی بات نہیں کہ یہ بدخبر اور دہشت پھیلانے والا عملاًشیطان ہے جو اپنے ہم مذہب اور ہم مشرب دوستوں سے تم کو ڈراتا ہے لہٰذا تم ان سے نہ ڈرو اور صرف اللہ ہی ہے ڈرو اگر تم ایمان والے ہو۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ مسلمان جو محسن بھی تھے اور متقی بھی انہوں نے حسبنا اللہ ونعم الوکیل کہا اور کفار کے تعاقب میں روانہ ہوگئے یا حسب وعدہ بدر پہنچے اور نہایت کامیاب واپس آئے ابوسفیان کے آنے کی ہمت نہ ہوئی اور یہ عافیت مال اور عزت سے بھرپور واپس آئے۔ نعمت سے مراد عزت سلامتی، عافیت، ثواب، دشمن پر دھاک وغیرہ اور فضل سے مراد مال ہے تجارت کا نفع ہے۔ لو یمسسھم سوء کا مطلب یہ ہے کہ جب مقابلہ نہیں ہوا تو مسلمانوں کو کوئی گذند ہی نہیں پہونچا رضائے الٰہی کی انباع کا یہ مطلب ہے کہ باوجود حالات کے ناساز گار ہونے کے پھر نکل کھڑے ہوئے اور زخموں کی پرواہ کئے بغیر خدا کے حکم کی تعمیل کرنے کو چل کھڑے ہوئے اور رضائے الٰہی پر ہی دراصل سے بہرہ ور ہوئے پھر شیطانی افعال کے مرتکب کو شیطان فرمایا جو شیطانی کام کرے وہ شیطان ہے مسلمانوں کو خوف زدہ کرنا اور بزدل بنانا اور جہاد سے روکنا یہ شیطان کا کام ہے۔ اولیاء ہ میں ہم نے اسی لئے ہم مشرب اور ہم مذہب کی قید لگا دی ہے تاکہ یہ شبہ نہ ہو کو شیطان کو تو بنی آدم کا دشمن فرمایا ہے دوستی کیسی ؟ یہاں شیطان سے ابلیس مراد نہیں ہے بلکہ بعض کافروں اور منافقوں کو ان کے عمل بد کی وجہ سے شیطان فرمایا ہے اور عملاً کی قید سے یہ فائدہ ہے کہ شیطانی کام کے وقت وہ شیطان ہیں ہوسکتا ہے کہ کل کو وہ تائب ہو کر مسلمان ہوجائیں اور شیطنت کو ترک کردیں۔ حضرت حق نے کفار کے خوف سے روکا اور اپنے ہی خوف کا حکم دیا اور ایمان کی شرط اس لئے لگائی کہ ایمان کا مقتضا یہی ہے کہ غیر اللہ کے ڈر سے دل پاک اور نڈر ہو۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی وہ شخص جو خبر کہتا تھا اس کو شیطان سکھاتا ہے۔ (موضح القرآن) شاح صاحب نے شیطان کہنے کی ایک اور وجہ بیان فرمائی کہ چونکہ شیطان اس کو سکھاتا تھا اور وہ شیطان کی تعلیم پر چلتا تھا اس لئے اس کو شیطان فرمایا۔ فقیر عرض کرتا ہے کہ یہ انسان نما شیطان ہت ہی خطرناک ہیں ان کا ضرر بہت خوفناک ہے۔ اعاذنا اللہ منھم اس آیت میں مخلصین کو جو بشارتیں دی گئی ہیں اور ان کو جو مدح فرمائی ہے اور جن دینی اور دنیوی برکتوں سے ان کو نوازا ہے وہ سب اسی استجابت اور اتباع رضوان اللہ کی بدولت ہے جس کا ان آیتوں میں ذکر فرمایا ہے اور ہم کئی دفعہ عرض کرچکے ہیں کہ احکام کی تعمیل ہی وہ چیز ہے جو بندے کو بلند سے بلند مرتبے کا وارث بنا دیتی ہے ۔ اسی طرح یہ بھی یاد رکھنے کی بات ہے کہ تجارت کے نفع کو فضل فرمایا ہے جس سے معلوم ہوا کہ مطلقاًمال مذموم نہیں ہے اگرچہ بڑے لوگوں کے لئے مال کی کثرت محمود نہ ہو لیکن مال کی عام طور سے مذمت کرتے پھرنا اور ہر سرمایہ دار کو برا کہنا اور برا سمجھنا یہ طریقہ کوئی شرعی طریقہ نہیں ہے۔ بعض اہل سلوک نے فرمایا ہے خدا کے خوف کی تین قسمیں ہیں ایک اس کی عقوبت کا ڈر یہ ڈر تو عوام کا ڈر ہے اور اس کے بعد اور دوری کا خوف یہ خواص کا خوف ہے اور ایک ال لہ تعالیٰ کا خوف یہ اخص الخواص کا خوف ہے اور نبی کریم ﷺ کی مشہور دعا میں انہی تینوں قسموں کی طرف اشار ہ ہے۔ اعوذ بعفوک من عقابک واعوذ برضاک من سخظک واعوذ بک منک اب آگے نبی کریم ﷺ کی تسلی فرمائی اور منافقین کی ان حرکات سے رنج اور حزن آپ کو ہوتا تھا اس کا مداوا فرمایا۔ چناچہ ارشادہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 3:176

وَ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ١ۚ اِنَّهُمْ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَلَّا یَجْعَلَ لَهُمْ حَظًّا فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 3:176 in the Quran reader

اور اے پیغمبر آپ کو وہ لوگ جو دوڑ دوڑ کر کفر میں جا گرتے ہیں آزر وہ خاطر نہ کریں یہ جلد باز لوگ اللہ تعالیٰ کو ہرگز کچھ بھی نقصان نہیں پہونچا سکتے اللہ چاہتا ہے کہ آخرت کے ثواب میں ان کا کوئی حصہ نہ رکھے اور ان کو بڑا سخت عذاب ہونا ہے۔2

ف 2 اور اے پیغمبر آپ کو وہ لوگ آزردہ خاطر نہ کریں اور آپ کے لئے ایسے لوگ موجب حزن و ملال نہ ہوں جو دوڑ دوڑ کر کفر کی باتوں میں ج اگر تے ہیں اور کفر کی طرفجانے میں جلدی کرتے ہیں جیسے منافق کہ ذرا کافروں کی کوئی بات اونچی ہوئی اور لگے کھلے کھلا کفر کی حمایت کرنے یہ جلد باز لوگ اللہ تعالیٰ کو یعنی اس کے دین کو یقینا کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے ۔ اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہے کہ آخرت میں ان کو بالکل کوئی حصہ نہ دے اور اس محرومی کے ساتھ ساتھ ان کو بڑا ہی سخت عذاب ہوگا اور بڑی سخت سزا ان کو دی جائے گی۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی منافق لوگ جہاں مسلمانوں کی نیچ دیکھی اور کفر کی باتیں کرنے لگے ۔ (موضح القرآن) آیت کا مطلب یہ ہے کہ منافقوں کے اس کھل جانے سے جس کو قرآن نے یسارعون فی الکفر سے تعبیر کیا ہے۔ نبی کریم ﷺ کو قلق ہوتا ہوگا اور آپ کا قلق اور ملال طبعاً محض اس بنا پر ہوتا ہوگا کہ اس سے دین کو نقصان پہنچے گا اور دوسرے مسلمانوں پر برا اثر پڑے گا اس سے آپ کو مطمئن فرمایا کہ اللہ کے دین کو یہ لوگ کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور جب دین کی طرف سے ہم آپ کو مطمئن کر رہے ہیں تو اب تم ملول خاطر نہ ہو کیونکہ جس ضرر سے تم نریدہ ہوتے ہو اس سے ہم تم کو اطمینان دلا رہے ہیں۔ اسی کے ساتھ تکوینی طور پر ایک اور بات فرمائی جس کو یرید اللہ سے تعبیر کیا ۔ یہاں ارادہ یا چانا اس معنی میں نہیں کہ اس کو یہ بات پسند ہے یا اس کی مرضی کے موافق ہے بلکہ وہی بات ہے جو ہم شروع میں عرض کرچکے ہیں کہ مریض کی بدپرہیزی کا یہ تکوینی اثر ہے کہ طبیب مطلق اس سے دستکش ہوجائے اور جس کا نتیجہ یہ ہو کہ مریض ابدی طور پر روحانی زندگی سے محروم ہوجائے اور کفر کی موت مرجائے۔ ہم بار بار اس مر کو صاف کرچکے ہیں کہ ہر بری بات کا ایک اثر ہوتا ہے بعینیہ جس طرح ہر بد پر ہیزی کا ایک اثر ہوتا ہے … بد پرہیزی کا انتہائی اثر موت ہے اور روحانی بد پرہیزی کا اثر آخرت کے اجر وثواب سے محرومی ہے یہ اصل حقیقت ہے گناہ اور اس کے انجام کی اور اسی کو فرمایا ہے۔ یرید اللہ الا یجعل لھم حظا فی الاخرۃ اسی کو اللہ تعالیٰ کی صفت اضلال کے مظہر سے تعبیر کرتے ہیں اس کو اچھی طرح ذہن نشین کرلینا چاہئے۔ جب نافرمانی کے خوگر ہو گے اور بد پرہیزی سے باز نہ آئو گے تو نتیجہ یہی ہوگا اور روحانی زندگی سے محروم ہو جائو گے پھر فرمایا صرف حرمان نصیبی ہی نہیں بلکہ ایسے اشقیا اور بدنصیبوں کے لئے عذاب عظیم بھی ہے آگے پھر اسی کی تفصیل و تاکید ہے۔ (تسہیل)
Ayah 3:177

اِنَّ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْكُفْرَ بِالْاِیْمَانِ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 3:177 in the Quran reader

بلاشبہ جن لوگوں نے ایمان کو چھوڑ کر کفر خریدا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا ذرہ بھر بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے3

ف 3 یقین جانو ! جن لوگوں ن ایمان کو چھوڑ کر اس کی جگہ کفر اختیار کر رکھا ہے۔ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے دین کو ہرگز ذرہ برابر بھی نقصان نہ پہنچا سکیں گے اور ان کو نہایت ہی درد ناک عذاب ہوگا۔ اور بڑی درد ناک سزا ملے گی۔ (تیسیر) اس آیت میں عام طور سے فرمایا کوئی منافق ہو کافر ہو پھر کافر بھی یہودی ہو نصرانی ہو غرض کوئی ہو کہیں کا ہو جو اس صلاحیت اور استعداد کو چھوڑ کر جس سے ایک انسان اسلام قبول کرتا ہے اور اس استعداد اور صلاحیت سے کام لے گا جو کفر قبول کرنے میں ممد و معاون ہوتی ہے تو ایسے لوگ سن لیں کہ وہ اللہ کے دین کا کوئی نقصان نہیں کرسکتے اور ان کا انجام بھی وہی ہوگا جو اپور ذکر ہوچکا ہے۔ یعنی بڑا عذاب اور انتہائی درد ناک عذاب ان لوگوں کو دیا جائے گا ۔ یہاں اسی ایک استعداد کو معطل اور دوسری استعداد سے کام لینے کو خریدو فروخت سے تعبیر کیا ہے ورنہ حقیقی خریدو فروخت نہیں ہے بلکہ ایک چیز کے بدلے میں جس کو اگر چاہتے تو اختیار کرسکتے تھے۔ (یعنی ایمان) دوسری چیز اختیار کرلی یعنی کفر گویا ایک چیز کے بدلے میں دوسری چیز لے لی۔ یہی مطلب ہے اشتروالکفر بالایمان کا جیسا کہ ہم کئی دفعہ بیان کرچکے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ دوڑ دوڑ کر کفر کی طرف جائو اور یا کھلم کھلا کافر بنو، ایسے لوگ اللہ کو اور اس کے رسول کو اور اسلام کو تو کچھ نقصان پہنچا نہ سکیں گے البتہ خود ہی عذاب عظیم اور عذاب الیم کے مستحق ہوں گے اب آگے کافروں کی ایک بات کا جواب ہے ہم اوپر کئی مرتبہ عرض کرچکے ہیں کہ ان کی گرفت بھی حکمت سے خالی نہیں اور ان کا ڈھیل دینا بھی مصلحت سے خالی نہیں اسی ڈھیل اور مہلت کا ذکر فرماتے ہیں کیونکہ کافر اس مہلت سے یہ استدلال کرتے تھے کہ اگر واقعی اللہ کی نظر میں مغضوب ہیں تو وہ ہم کو پکڑ کر کیوں نہیں لیتا اور جب وہ کوئی گرفت نہیں کرتا اور ہم برابر مزے کر رہے ہیں تو قیامت میں بھی ہم سے کوئی مواخذہ نہ ہوگا اور وہاں کا عیش بھی ہم کو ہی میسر آئے گا اس استدلال کی غلطی پر تنبیہہ کی جاتی ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)