3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 3:178

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّمَا نُمْلِیْ لَهُمْ خَیْرٌ لِّاَنْفُسِهِمْ١ؕ اِنَّمَا نُمْلِیْ لَهُمْ لِیَزْدَادُوْۤا اِثْمًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 3:178 in the Quran reader

اور منکرین حق اس مہلت کو جو ہم ان کو دیا کرتے ہیں یہ نہ سمجھیں کہ یہ ہمارا ڈھیل دینا ان کے حق میں بہتر ہے یہ ڈھیل تو ہم ان کو اس لئے دیتے ہیں تاکہ وہ گناہ میں اور ترقی کر جائیں اور ان کو ذلت آمیز عذاب ہونے والا ہے۔4

ف 4 اور جو منکرین حق کفر میں مبتلا ہیں اور کفر کر رہے ہیں وہ عذاب کی اس مہلت کو جو ہم نے ان کو دے رکھی ہے یہ نہ سمجھیں کہ ہمارا ان کو عذاب سے یہ مہلت دینا ان کے حق میں کچھ بہتر اور مفید ہے۔ یہ ڈھیل تو بس ہم ان کو اس لئے دے رہے ہیں تاکہ وہ گناہ میں اور ترقی کر جائیں اور کفر میں اور بڑھ جائیں کیونکہ جتنی عمر زیادہ ہوگی کفر اور افعال یہ زیادہ ہوں گے اور آخرت میں ان کو توہین آمیز اور ذلیل و رسوا کن عذاب ہوگا۔ (تیسیر) کافروں کے ظاہری عیش اور عزت و غلبہ کی حقیقت ظاہر فرمائی اور یہ بتایا کہ دنیا میں مجرم کو فوری عذاب نہ آنا اور اس کی گرفت میں جلدی نہ کرنا کچھ اس کے حق میں اچھا نہیں ہے اور ان راہ گم کردہ لوگوں کا یہ خیال کرنا کہ دنیوی عیش اور کثرت مال و جاہ اور عارضی فتح اور کامرانی ان کے حق میں کوئی خیر ہے نہیں یہ تو ایک موقع دینا ہے پوری طرح عذاب دینے کا ۔ جس طرح قرآن کریم میں اور جگہ بھی فرمایا ایحسبون انما نمد ھوبہ من مال و بنین نسارع لھم فی الخیرات۔ یعنی کیا یہ کافر یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم جو ان کو مال میں اور بیٹوں میں بڑھا رہے ہیں تو کوئی ان کے ساتھ بھلائی میں جلدی کر رہے ہی۔ غرض اس قسم کی آیات کا مطلب یہ ہے کہ یہ امہال سبب ہے ۔ آئندہ عقوبت اور بھرپور عذاب کا لیکن کافر اسی امہال کو جو سبب ہے عقوبت فی المآل کا سبب قرار دے لیتا ہے از دیا واثم کا کیونکہ وہ اس امہال کو آئندہ عقوبت کا سبب ہی نہیں سمجھتا اس لئے گناہ زیادہ کرتا ہے یا اس بنا پر کہ اس کی طبیعت کا مقتضا ہی یہ ہے کہ جتنا اس کو موقع ملے گا وہ گناہ ہی کرے گا ۔ لہٰذا امہال اصل میں تو سبب ہے عقوبت کا لیکن کافر نے اس سبب کے سبب کو جو ازد یا اثم ہے اختیار کر رکھا ہے۔ اس لئے حضرت حق نے سبب کے سبب کو قائم مقام سبب کے بیان فرمایا اور یہ انتہائی بلاغت ہے ورنہ از یا داثم سبب ہے امہال کا اور امہال سبب ہے عقوبت فی المال کا اسی لئے اہل سنت نے لیزدادوا کے لام کو علت کا لام قرار دیا ہے بخلاف معتزلہ کے انہوں نے اس لام کو عاقبت کہا ہے۔ فقیر نے جو عرض کیا ہے اس سے معتزلہ کی توجیہ کا بطلان ظاہر ہے ۔ مقاتل نے اس آیت کا شان نزول مشرکین مکہ کے حق میں بتایا ہے۔ عطا نے کہا قریضہ اور نفیر کے یہودیوں کی عیش پسندی کے سلسلے میں اس کا نزول ہوا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے مرفوعاً روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سے دریافت کیا گیا لوگوں میں سے کونسا آدمی بہتر ہے آپ نے فرمایا جس کی عمر طویل ہو اور اس کے عمل اچھے ہوں پھر پوچھا آدمیوں میں برا آدمی کون ہے آپ نے فرمایا جس کی عمر طویل ہو اور اس کے عمل برے ہوں اس روایت کو احمد۔ ترمذی اور دارمی نے روایت کیا ہے۔ بیہقی نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے فرمایا نبی کریم ﷺ نے قیامت میں ایک پکارنے والا پکار کر کہے گا ساٹھ برس والے کہاں ہیں۔ ابن عباس نے کہا یہی وہ عمر ہے جس کو قرآن کریم نے کہا ہے۔ اولم نعمرکم مایتذکر فیہ من تذکر وجائکم النذیر آیت میں جو لفظ خیر آیا ہے وہ تفصیل کے لیے نہیں ہے اور اگر تفصیل کے لئے ہو تو یہ مطلب ہوگا کہ کافر چونکہ امہال کو بہت بہتر سمجھتے تھے اس لئے اسم تفضیل لائے اس آیت میں کافروں کے غلط نظریہ کا جواب تھا کیونکہ وہ اس امہال سے استدلال کرتے تھے کہ اگر ہم برے ہیں اور خدا کی مرضی کے خلاف کام کررہے ہیں تو وہ ہم کو عذاب کیوں نہیں کرتا اور ہماری گرفت کیوں نہیں ہوتی۔ اب آگے مسلمانوں پر جو مصائب و آلام آتے ہیں جیسے غزوئہ احد میں ہوا اس کی بعض حکمتیں بیان کرتے ہیں تاکہ یہ شبہ نہ کیا جائے کہ اگر مسلمان حق پر ہوتے تو ان پر بلائیں اور مصائب کیوں نازل ہوتے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 3:179

مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَذَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ حَتّٰى یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَیْبِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَلَكُمْ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 3:179 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں کہ وہ مسلمانوں کو اسی حالت پر چھوڑے رکھے جس حالت پر تم اس وقت ہو جب تک کہ وہ ناپاک کو پاک سے جدا نہ کردے اور اللہ تعالیٰ کا یہ طریقہ بھی نہیں ہے کہ وہ تم کو عام طور پر اس قسم کے غیبی امور سے آگاہ کردے مگر ہاں اس کام کیلئے وہ اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہتا ہے منتخب کرلیا کرتا ہے سو تم اللہ پر اور اس کے تمام رسولوں پر ایمان لے آئو اور نفاق سے اجتناب کرو تم تم کو بڑ اجر حاصل ہوگا1

ف 1 اللہ تعالیٰ کا یہ ارادہ نہیں ہے اور وہ یہ نہیں چاہتا کہ مسلمانوں کو اس ملی جلی حالت میں رہنے دے جس پر تم سب اس وقت ہو یعنی مخلص اور منافق سب مخلوط ہوں بلکہ مصائب و شدائد کا نزول اس وقت تک ضروری ہے جب تک اللہ تعالیٰ ناپاک کو پاک سے متمیز اور جدا نہ کردے یعنی منافق کو مخلص مسلمان سے الگ نہ کردے اور نہ اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے اور نہ اس کا یہ ارادہ ہے کہ وہ ایسے امور غیبیہ پر تم کو عام طور سے مطلع کردے اور اس قسم کے امور سے تم کو آگاہ کردے مگر ہاں وہ جس کو چاہے اپنے منتخب کردہ رسولوں میں سے اس قسم کی باتوں سے مطلع کردے لہٰذا تم اللہ تعالیٰ پر اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لے آئو اور ہر قسم کے کفر و نفاق سے بچتے رہو اور پرہیز کرتے رہو تو تم کو بڑا اجر وثواب ملے گا اور تم عذاب الیم سے اور عذاب عظیم سے بچ جائوگے۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ میدانِ احد میں جو مصائب تم پر نازل ہوئے اس کی بعض حکمتوں سے تو تم کو آگاہ کردیا گیا اور ان کے علاوہ ایک حکمت یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ مخلفین اور منافقین کو گڈمڈ اور مخلوط رکھنا نہیں چاہتا ہے بلکہ منافقین کو نمایاں اور ظاہر کردینا چاہتا ہے جس حالت پر تم سب اس وقت ہو کہ منافق بھی مسلمانوں میں ایسے رلے ملے ہیں کہ ان کا پتہ لگتا مشکل ہے۔ اللہ تعالیٰ تم کو اس حالت میں رکھنا نہیں چاہتا اور چونکہ نفاق و اخلاص کا پتہ دو طرح لگ سکتا تھا ایک تو یہ کہ آزمائش کے طور پر مصائب و آلام نازل کئے جائیں اور منافق ان سے گھبرا کر کھل جائیں جیسا کہ احد میں ہوا۔ کہ کچھ تو واپس چلے گئے اور جو رہ گئے وہ بھی واہی تباہی بکنے لگے۔ بہرحال چونکہ ہمارا مقصد منافقین کو مخلصین سے متمیز کرنا ہے اس لئے ہماری حکمت یہ ہے کہ ہم اس قسم کے مصائب و آلام کا سلسلہ اس وقت تک جاری رکھیں جب تک یہ مقصد پورا نہ ہوجائے دوسرا طریقہ یہ ہے کہ وہ تم میں سے ہر ایک کو منافقین کے نام سے آگاہ کردے اور منافقین کے قلوب کی پوشیدہ باتوں سے آگاہ کردے … تو حق تعالیٰ کو یہ بھی منظور نہیں کہ وہ غیب کی باتوں سے عام طور پر ہر کس و ناکس کو آگاہ کردے اور اس قسم کی پوشیدہ باتیں کہ فلاں شخص کے دل میں یہ کھوٹ ہے۔ اور فلاں کے دل میں اس قدر خلوص بھرا ہوا ہے۔ عام لوگوں کو بتائے کیونکہ یہ امور غیب ہیں اور امور غیبیہ سے ہر شخص کو آگاہ کرنے کا قاعدہ نہیں۔ البتہ اس عموم سے وہ صورت مستثنیٰ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اپنے منتخب بندوں میں سے جو رسول ہیں اور رسالت کے مرتبے پر فائز ہیں ان میں سے جس کو چاہے اور جو بات چاہے اس سے آگاہ کردے۔ لہٰذا اب جب یہ بات معلوم ہوگئی کہ کفار کا عیش و آرام اور مسلمانوں کے مصائب و آلام کفر کی خوبی اور اسلام کی برائی سے کوئی تعلق نہیں رکھتے۔ کافر کی زندگی خواہ کتنی ہی عیش و مسرت کی زندگی ہو وہ اس امر کی دلیل نہیں ہوسکتی کہ کافر کا مذہب حق و صداقت پر مبنی ہے۔ اور نہ مسلمان کی تکلیف و مصیت اس بات کی دلیل ہوسکتی ہے کہ اس کا مذہب غلط ہے اور معاذ اللہ اسلام صحیح مذہب نہیں ہے بلکہ کفر کا بطلان اور اسلام کی حقانیت کے لئے دوسرے دلائل ہیں تو تم سب لوگ اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائو اور تقویٰ کی روش اختیار کرو جس کو کم سے کم درجہ یہ ہے کہ شرک اور نفاق سے بچو اگر تم نے اخلاص کے ساتھ ایمان قبول کرلیا اور منافقت ترک کردی تو تم کو بڑا اجر ملے گا اور جس قسم کی سزائوں کا اوپر ذکر کیا گیا۔ یعنی عذاب عظیم، عذابِ الیم، اور عذاب مہین ان سب عذابوں سے محفوظ و مامون رہوگے۔ فقیر نے جو کچھ تیسیر میں اور تسہیل میں عرض کیا ہے یہ روح المعانی اور روح البیان سے ماخوذ ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ اس کے بعد اہل علم کو کسی شبہ کی گنجائش نہ رہے گی۔ فقیر نے تمام شبہات کو اپنی تقریر میں صاف کردیا ہے جن کا خلاصہ یہ ہے۔ (1) نبی کریم ﷺ کے عہد میں جو مسلمان تھے اور بالخصوص مدینہ کے مسلمان مراد ہیں جن میں مسلمانوں کے اقتدار کی قوت سے بعض منافق شامل ہوگئے تھے جو غنیمت کی تقسیم کے وقت آستینیں چڑھا چڑھا کر جھگڑتے تھے اور مصائب کا مقابلہ کرنے سے گھبراتے تھے بلکہ خفیہ ریشہ دوانیاں کرتے تھے۔ (2) غایت لیذر سے نہیں ہے جس پر یہ شبہ کیا جائے کہ تمینیر کے بعد مخلوط چھوڑ دیا جائے گا بلکہ مطلب یہ ہے کہ غیب کا علم نہ ملنے کی وجہ سے منافقین کا پتہ لگانے کی اس کے علاوہ کوئی صورت نہیں کہ مصائب و شدائد نازل ہوں اس لئے یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک منافق مسلمانوں سے نمایاں نہ ہوجائیں جیسا کہ تیسیر میں اس کی طرف اشارہ ہے۔ (3) لیطلعکم علی الغیب کا مطلب یہ ہے کہ اس قسم کے امور کہ فلاں منافق ہے اور فلاں مخلص ہے ہر شخص کو نہیں بتائے جاتے اور چونکہ آیت میں اسی کی بحث ہے اس لئے ہم نے تیسیر میں ایسے امور کو غیبیہ عرض کیا ہے تاکہ یہ شبہ نہ کیا جائے کہ محض اہل اللہ کو کشف کے ذریعے سے بعض باتیں معلوم ہوجاتی ہیں تو اول تو یہاں عام باتیں زیر بحث نہیں پھر کشف کو غیب دانی نہیں کہتے کشف تو ایک ظنی چیز ہے وحی کے مقابلے میں اس کی کوئی حقیقت نہیں پھر کسی دل کے کشف کے لیے دوسرے مسلمان مکلف نہیں۔ (4) یجتبی من رسلہ میں من بیانیہ ہے اسی رعایت سے ہم نے تسہیل میں خلاصہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جن کو منتخب فرماتا ہے یعنی وہ منتخب اور چیدہ بندے رسول ہیں۔ یہ مطلب نہیں کہ منتخب شدہ حضرات میں سے اطلاع علی الغیب کے لئے پھر منتخب کرتا ہے۔ غرض رسولوں کا یہ مرتبہ ہے کہ اللہ تعالیٰ غیب کی کسی بات پر آگاہ کرنا چاہے تو ان کو وحی کے ذریعہ کردیتا ہے یا ایسے قرائن بتادیتا ہے جس سے وہ اس پوشیدہ بات کو معلوم کرلیتے ہیں اسی کو ہم نے تیسیر اور تسہیل میں صاف کیا ہے تاکہ یہ شبہ نہ کیا جائے کہ رسول بھی بعضے منتخب اور بعضے غیر منتخب ہیں اس کی زیادہ تفصیل انشاء اللہ بشرط زندگی عالم الغیب فلا یظھر علیٰ غیبہ احدا میں آجائے گی جو سورة جن کی آخری آیت ہے اور ہوسکتا ہے کہ من تبعیضہ ہو اور مطلب یہ ہو کہ بعض رسولوں کو اپنے غیب کی باتوں سے باخبر کردیتا ہے۔ (واللہ اعلم) (4) جب یہ بات معلوم ہوگئی کہ دنیوی مصائب و آلام اور عیش و عشرت کو کفر اور اسلام کے بطلان و صداقت میں کوئی دخل نہیں تو فامنوا کا ربط صاف ہے کہ اسلام کی صداقت پر ہزار ہا دلائل عقلی و نقلی موجود ہیں ان کو سمجھ کر اللہ پر ایمان لائو اور اس کے رسولوں پر ایمان لائو۔ تم مسلمانوں کی ہزیمت اور کفار کی فتح سے جو استدلال کرتے ہو یہ طریقہ استدلال غلط اور لغو ہے۔ البتہ مسلمانوں پر دنیوی مصائب کا نزول اور اس پر صبر و استقامت کی وجہ سے اللہ کے نزدیک ماجور و مقبول ہونا یقینی ہے۔ لیکن یہاں اس کی بحث نہیں ہے یہاں تو صرف یہ بحث ہے کہ کافروں کی عارضی فتح کفر کے حق ہونے کی دلیل ہے اور مسلمانوں کی عارضی ہزیمت ان کے ناحق پر ہونے کی دلیل ہے۔ خوب سمجھ لیجئے اور زیادہ تحقیق منظور ہو تو روح المعانی ملاحظہ کیجئے۔ (5) بعض اہل باطل نے اس آیت سے انبیاء کے لئے جمیع مغیبات کا علم ثابت کیا ہے حالانکہ جو علم خواص باری تعالیٰ ہے یعنی ذاتی اور محیط وہ کسی مخلوق کے لئے ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ اور نہ ان حرمان نصیبوں کے لئے اس آیت میں اس کی کوئی گنجائش ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی حق تعالیٰ مومن اور منافق کو اسی طرح کھولتا ہے اور غیب سے خبر کسی کو نہیں پہنچاتا مگر رسولوں کو۔ (موضح القرآن) حضرت شاہ صاحب (رح) نے کس قدر مختصر خلاصہ نکالا ہے اور کیا خوب نکالا ہے۔ اب آگے پھر اہل کتاب کے بعض اعتراضات کا جواب ہے۔ بیچ میں ایک خاص مناسبت سے غزوئہ احد کا ذکر فرمایا تھا اور اس کے تفصیلی واقعات کا اظاہر اور تمام شکوک و شبہات کا جواب فرمایا۔ مسلمانوں کو تسلی دی گئی اور ان کی کوتاہی کے معاف کرنے کا اعلان کیا۔ نبی کریم ﷺ سے مسلمانوں کی سفارش فرمائی۔ ان تمام واقعات کے بعد یہودیوں کے ایک اعتراض کا جواب اور اس جواب کی تمہید ہے یہ تو ظاہر ہی ہے کہ یہود عام طور پر سخت بخیل ہوتے ہیں اور بخیل نہ دینے کے صدہا باہنے تلاش کیا کرتا ہے۔ چناچہ جب اللہ تعالیٰ نے قرض حسنہ کا مطالبہ کیا اور قرض پر اضعاف مضاعفہ کا وعدہ فرمایا تو یہود نے نہایت گستاخی کے ساتھ سرکار رسالت مآب ﷺ میں کہا اے محمد ! اللہ تعالیٰ مفلس اور فقیر ہوگیا ہے جو بندوں سے قرض مانگتا ہے اور چونکہ اس کا منشا یہود کا وہی جبلی بخل تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے پہلے بخل کی مذمت فرمائی اور آگے ان کی گستاخی اور جرأت کا جواب دیا۔ (تسہیل)
Ayahs 3:180–181

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ هُوَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ١ؕ سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِهٖ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 3:180 in the Quran reader

اور جو لوگ اس چیز میں جو اللہ نے ان کو اپنے فضل سے عطا فرمائی ہے بخل کیا کرتے ہیں وہ ہرگز یہ خیال نہ کریں کہ یہ کام ان کے حق میں کچھ اچھا ہے بلکہ یہ بخل کرنا ان کے لئے یہ بہت برا ہے جس مال پر یہ بخیل لوگ بخل کررہے ہیں عنقریب قیامت کے روز اسی مال کے یہ لوگ طوق بناکر پہنائے جائیں گے اور کل آسمانوں اور زمین کی میراث اللہ ہی کے لئے ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سب سے باخبر ہے۔2

لَقَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ فَقِیْرٌ وَّ نَحْنُ اَغْنِیَآءُ١ۘ سَنَكْتُبُ مَا قَالُوْا وَ قَتْلَهُمُ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ۙ وَّ نَقُوْلُ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 3:181 in the Quran reader

بلاشبہ اللہ نے ان لوگوں کا قول سن لیا ہے جنہوں نے یوں کہا کہ اللہ تعالیٰ فقیر ہے اور ہم مال دار ہیں جو کچھ انہوں نے کہا ہے ہم اس کو لکھ رکھیں گے اور ان کا ناحق جانتے ہوئے انبیاء کو قتل کرنا بھی لکھیں گے اور ہم ان سے کہیں گے کہ لو ! جلانے والے عذاب کا مزہ چکھو۔

ف 2 اور وہ لوگ جو ایسی چیز کے خرچ کرنے میں بخل کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے فضل و کرم سے عطا فرمائی ہے یہ نہ سمجھیں اور ہرگز یہ خیال نہ کریں کہ یہ بخل کرنا اور بخل کی روش اختیار کرنا ان کے حق میں کچھ اچھا ہے۔ ہرگز نہیں بلکہ یہ بخل کرنا ان کے لئے بہت برا ہے کیونکہ قیامت کے دن یہ لوگ اس مال کا طوق بناکر پہنائے جائیں گے جس مال میں انہوں نے بخل کیا تھا یعنی وہی چیز جس میں بخل کیا تھا قیامت کے روز ان کے گلے میں طوق ہوگی اور آسمانوں کی اور زمین کی تمام میراث اللہ تعالیٰ ہی کی ہے اور آخر میں سب آسمان و زمین اور جو کائنات ان کے اندر ہے ان سب کا وارث وہی ہوگا اور تم لوگ جو اعمال کرتے ہو ان سب سے اللہ تعالیٰ باخبر ہے۔ (تیسیر) ربط کی ایک تقریر تو ہم اوپر عرض کرچکے ہیں لیکن یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اوپر جہاد کا ذکر تھا اور جہاد میں جان دینے کا ثواب فرمایا تھا اسی سلسلے میں بذل مال کا بھی ذکر فرمایا اور بخل کی مذمت فرمائی۔ بما اتا ھم اللہ کا یہ مطلب تھا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا تقاضا تو یہ تو تھا کہ اس کی راہ میں خوب خرچ کرتے لیکن ان بدبختوں نے الٹا اس کو اپنے بخل کا سبب بنالیا۔ طوق ڈالے جانے کا مطلب یہ ہے کہ سونے چاندی کا طوق گرم کرکے گلے میں ڈال دیا جائے گا۔ یا آگ کا طوق ان کے گلے میں ڈال دیا جائے گا جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ ان کے مال کو اژد ہے کی شکل عطا کردی جائے گی اور وہ بخیل کے گلے میں لپٹ کر بخیل کے منہ کو اپنے جبڑوں سے چباتا رہے گا اور جب تک میدان حشر قائم رہے گا اور لوگ حساب و کتاب سے فارغ ہوں گے یہ سانپ اس بخیل پر اسی طرح مسلط رہے گا اور یہ سانپ کہے گا۔ انا کنزک انا مالک میں تیرا خزانہ ہوں میں تیرا مال ہوں۔ بعض لوگوں نے اس وعید کو مانعین زکوٰۃ پر حمل کیا ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ ہر قسم کے حقوق واجبہ کی ادائیگی میں بخل کرنے والے مراد ہیں خواہ وہ اپنا نفس ہو یا اپنے اہل و عیال ہوں یا حاجت مند عزیزو اقارب ہوں یا جہاد ہو غرض جن حقوق کا پورا کرنا واجب اور لازم ہے ان سب میں کوتاہی اور بخل کرنے والے شامل ہیں۔ اسی طرح علم کے بخیل اور کتمان حق کرنے والے مال کے بخیل سے بھی بدتر ہیں آخر میں بخلا کی حماقت کا اظہار فرمایا کہ یہ لوگ اتنی بات نہیں سمجھتے کہ سب کی موت کے بعد اس کائنات کا وارث اللہ تعالیٰ ہی ہے یہ سب کچھ اسی کی ملک ہے اور آخر میں وہی رہ جائے گا اور وہی سب کا مالک ہوگا پھر بھی تو جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ اسی کا ہوگا اور اگر زندگی میں اس کی راہ پر خرچ کردو اور حقوق واجبہ ادا کردو تو اجر کے مستحق ہوگے اور اگر آخر میں سب کچھ اس ک پاس رہا تو تم کو ثواب بھی نہیں ملے گا۔ اور یہ جو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہاری سخاوت سے بھی واقف ہے۔ اور تمہارے بخل سے بھی واقف ہے یا یہ مطلب ہے کہ ظاہری اعمال کے ساتھ تمہاری نیت اور تمہارے خلوص سے باخبر ہے لہٰذا جو خرچ کرو خالص نیت سے خرچ کرو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جو کوئی زکوٰۃ نہ دے گا اس کا مال اژدہا بن کر گلے میں ہار پڑے گا اور اس کے گلے چیرے گا اور اللہ وارث ہے آخرتم مرجائو گے اور مال اسی کا ہوگا تم اپنے ہاتھ سے دو تو ثواب پائو۔ (موضح القرآن) ہم نے عرض کیا تھا کہ بعض حضرات نے یہاں بخل سے زکوٰۃ نہ دینے والے مراد لئے ہیں اور جس حدیث میں اژد ہے کا گلے کا ہار بننا اور اونٹ کا کاٹنا اور گائے کا سینگ مارنا وغیرہ کا ذکر آتا ہے اس میں مانعین زکوٰۃ مراد ہیں اس لئے بعض علماء نے آیت کی تفسیر بھی مانعین زکوٰۃ سے کی ہے بعض نے کتمان علم سے کی ہے اور بعض نے محمد ﷺ کی وہ صفات جو توریت میں مذکور ہیں ان کو چھپانے سے کی ہے۔ لیکن ہم عرض چکے ہیں کہ بہتر یہ ہے کہ آیت کو عام رکھا جائے اور جملہ حقوق واجبہ کی ادائیگی میں بخل کرنا مراد لیا جائے۔ اب آگے اس گستاخانہ بات کا جواب ہے جو یہود نے کہی تھی۔ (تسہیل)
Ayah 3:182

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِۚ Open ayah 3:182 in the Quran reader

یہ عذاب اس کا بدلہ ہے جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجا تھا اور یہ امر یقینی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم کرنیوالا نہیں ہے۔3

ف 3 بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ان گستاخ لوگوں کا وہ گستاخانہ قول سن لیا ہے جو انہوں نے اللہ تعالیٰ کے قرض حسنہ طلب کرنے پر کہا تھا کہ اللہ محتاج و مفلس ہے اور ہم غنی اور مالدار ہیں ہم ان کی کہی ہوئی بات کو یقیناً ان کے نامۂ اعمال میں لکھ دیں گے اور اسی طرح ان گستاخ لوگوں کا یہ جانتے ہوئے کہ قتل انبیاء ناجائز ہے۔ پھر انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو قتل کرنا بھی لکھا جائے گا اور ان کو سزا دیتے وقت ہم کہیں گے کہ لو اب آتش سوزاں کے عذاب کا مزہ چکھو اور اس وقت ہم یہ بھی کہیں گے یہ عذاب ان افعال و اقوال کفری کی پاداش میں ہے جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجے تھے اور تم نے اپنے ہاتھوں سمیٹے تھے اور یہ امر یقینی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔ (تیسیر) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جب من ذالذی یقرض اللہ قرضا حسنا کی آیت نازل ہوئی تو یہود نے کہا اے محمد ! تیرا رب فقیر ہوگیا۔ بندوں سے مانگنے لگا۔ اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ (ابن مردویہ۔ ابن ابی حاتم) دوسرا لفظ ابن عباس کا یہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ ایک روز یہود کے بیت المدارس میں تشریف لے گئے وہاں بہت سے یہودی اپنے بہت بڑے عالم اور جرفخاص کے گردجمع ہیں فخاص کے ساتھ ان کا ایک اور بہت بڑا عالم بھی موجود تھا جس کا نام اشیع تھا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا ! اے فخاص تو اللہ سے ڈر اور اسلام لے آ تو خوب جانتا ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور تمہارے پاس اللہ کی طرف سے حق لے کر آئے ہیں اور اس کی صفات تم توریت و انجیل میں پاتے ہو۔ اس پر فخاص نے کہا اے ابوبکر ہم کو اللہ کی کوئی احتیاج نہیں بلکہ خود اللہ تعالیٰ ہمارا محتاج ہے ہم اس سے غنی ہیں اگر وہ غنی ہوتا تو ہمارے آگے کیوں عاجزی کرتا اور ہم سے کیوں قرض مانگتا اور تمہارے نبی ہم کو تو سود کھانے سے منع کرتے ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ غنی ہوتا تو وہ کیوں سود دیتا اور سود پر قرض لیتا۔ اس گستاخی پر حضرت ابوبکر ؓ نے فخاص کے منہ پر ایک طمانچہ مارا اور فرمایا اگر تمہارے ہمارے مابین معاہدہ نہ ہوتا قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے میں تجھ کو قتل کردیتا تم ہماری تکذیب کرسکتے ہو تو کرو لیکن اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی نہ کرو۔ اس واقعہ کے بعد فخاص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ابوبکر کی شکایت کی حضرت ابوبکر ؓ کو حضور ﷺ نے طلب کیا اور واقعہ دریافت کیا ابوبکر ؓ نے تمام واقعہ عرض کردیا اور یہ بھی کہا کہ اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کرنے سے مجھے غصہ آگیا اور میں نے اس کے طمانہ مارا۔ فخاص نے اپنے الفاظ سے انکار کیا اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ (ابن ابی حاتم) (1) فخاص کا یہ کہنا اور دوسرے لوگوں کا اس پر خوش ہونا اور فخاص کو منع نہ کرنا اس کا مطلب یہ ہوا کہ سب لوگوں نے اس گستاخی کا ارتکاب کیا۔ (2) یہود کا یہ قول بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ استہزاء ہوگا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حقیقتاً ان کا عقیدہ بھی یہ ہو کہ معاذ اللہ تعالیٰ محتاج ہے اور ہم غنی ہیں اور وہ فقرو افلاس کی وجہ سے بندوں سے قرض مانگتا ہے۔ بہرحال مذاق ہو یا عقیدتاً ہو ہر حالت میں ان کلمات کا کہنا کفر اور آیات قرآنی کی تکذیب ہے۔ اگر عقیدتاً یہ بات کہی ہو تب تو کفر میں شک ہی نہیں اور اگر مذاقاً ہو تب بھی آیات قرآنی کی تکذیب کو مستلزم ہے۔ (3) اور جب یہ بات کافرانہ تھی تو اس پر وعید فرمائی چناچہ یہ فرمانا کہ اللہ تعالیٰ نے سن لیا ہے یہ عتاب کا انداز ہے اور یہ ایسا سننا نہیں ہے جیسا سمع اللہ لمن حمدہ میں ہے اور چونکہ سماع علم بالمسموع کو لازم ہے اس لئے مطلب یہ ہے کہ جو کچھ ان یہود نے کہا وہ ہم کو معلوم ہے۔ اس لئے نامہ ٔ اعمال میں درج کرنے کا ذکر کیا کہ یہ مجرم پر عادتاً زیادہ حجت ہوتا ہے کہ جو کچھ تو نے کہا وہ تیری رپورٹ میں لکھا ہوا ہے۔ (4) اسی کے ساتھ ان کے قتل انبیاء کی بھی کتابت کا ذکر کیا تاکہ یہ بات معلوم ہوجائے کہ یہ الفاظ کہہ کر تو انہوں نے نبی آخر الزمان ﷺ کی تکذیب ہی کی ہے یہ تو ایسے نالائق اور بدکردار ہیں کہ انبیاء (علیہم السلام) کو قتل کرچکے ہیں اور یہ جانتے ہوئے انہوں نے نبیوں کو قتل کیا ہے کہ انبیاء کا قتل حرام اور حق کے خلاف ہے۔ (5) اگرچہ انبیاء کو ان کے بڑوں نے قتل کیا تھا لیکن یہ لوگ اپنے بڑوں کی مذمت نہیں کرتے تھے بلکہ ان کے اس فعل پر راضی تھے اس لئے ان کی طرف بھی قتل انبیاء کی نسبت کی گئی۔ (6) اس کے صراحتاً وعید کا اظہار فرمایا کہ ہم جس وقت ان کو سزا دیں گے تو یوں فرمائیں گے خواہ یہ وقت قبر میں ہو یا میدان حشر میں یا جہنم میں ڈالتے وقت۔ (7) سنکتب اور نقول کی نسبت مجازی ہے کیونکہ نامۂ اعمال فرشتے لکھتے ہیں اور اسی طرح عذاب کے وقت فرشتے کہیں گے۔ ذوقوا اور ہوسکتا ہے کہ نقول کی نسبت حقیقی ہو اور سنکتب کی مجازی ہو۔ (8) حریق کے معنی محرق ہیں اور اضافت بیانیہ ہے کیونکہ عذاب دینے والا تو در حقیقت اللہ تعالیٰ سے یا اضافت سبب کی طرف ہے اور سبب کو قائم مقام فاعل کے کردیا ہو جیسا کہ بعض محققین نے اختیار کیا ہے۔ (9) ذوق کے معنی تو اصل میں تھوڑی سی چیز ک منہ میں یا زبان پر رکھ کر چکھنے کے ہیں۔ لیکن اب استعمال میں وسعت ہوگئی ہے اور ہر قسم کے محسوسات کے ادراک پر بولا جاتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مال اکثر کھانے پینے کے کام میں آتا ہے اور یہ لوگ بخیل تھے اس کی مناسبت سے ذوقوا کہا جائے گا۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ چونکہ یہود نے ان اقوال سے انبیاء کے متبعین کو تکلیف پہنچائی اور دکھ دیا اور مسلمانوں کے قلوب کو جلایا اس لئے اس کے عوض اسی جیسا عذاب ان کے لئے مقرر کیا گیا۔ (واللہ اعلم) (01) چونکہ اچھا برا کام کرنے میں ہاتھوں کو زیادہ دخل ہوتا ہے اس لئے بما قدمت ایدیکم فرمایا۔ مطلب یہ ہے کہ سب کچھ تمہارے ہی اعمال کا بدلہ اور تمہارے ہی اعمال کی پاداش ہے ورنہ ہم تو کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتے اور اللہ تعالیٰ ظالم نہیں ہے اور وہ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔ اگر معاذ اللہ وہ ظالم ہوتا تو اس کی یہ صفت بھی کامل ہوتی اور ذرا سا ظلم بھی بہت اور بےاندازہ ہوتا۔ اس لئے مبالغہ کا صیغہ استعمال فرمایا۔ (واللہ اعلم) حضرت شاہ صاحب (رح) حریق پر فرماتے ہیں یہود نے جو یہ آیت سنی کہ اقرضوا اللہ کہنے لگے اللہ ہم سے قرض مانگتا ہے تو اللہ محتاج ہے اور ہم دولت مند ہیں۔ (موضح القرآن) خلاصہ یہ کہ ہم ان کی باتوں سے واقف ہیں اور آج کی بات سے کیا واقف ہیں ہم تو ان کی اس قتل و خونریزی سے بھی واقف ہیں جو یہ حرام جان کر اپنے اپنے پیغمبروں کے ساتھ کرتے رہے ہیں جیسے حضرت یحییٰ اور حضرت ذکریا (علیہ السلام) کا واقعہ تو قریب ہی کا ہے۔ اور جب ہم کو ان کے اقوال و افعال معلوم ہیں تو وہ قاعدے کے موافق سب ان کے نامہ ٔ اعمال میں درج کردیئے جاتے ہیں اور ان کی سزا ان کو بھگتنی پڑے گی اور ان سے یہ کہا جائے گا کہ عذاق حریق کا مزہ چکھو چونکہ تم نے مسلمانوں کو بہت طعنے دے دے کر جلایا تھا لہٰذا اب جلانے والے عذاب کی سزا کا مزہ چکھو۔ اور یہ بھی کہہ دیا جائے گا کہ یہ سزا اس کمائی کے عوض ہے جو تم نے خود اپنے ہاتھوں کمائی تھی کیونکہ یہ بات تو مسلم اور یقینی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔ ظلم وہاں ہے ہی نہیں وہاں تو عدل ہی عدل ہے۔ بداعمالوں کے ساتھ جو ہو وہ عدل اور نیک اعمال والوں کے ساتھ جو ہو وہ فضل۔ اب آگے اس سلسلے میں ان کی افترا پردازی اور ان کے قبائح میں سے ایک اور واقعہ کا ذکر فرماتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayahs 3:183–184

اَلَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ عَهِدَ اِلَیْنَاۤ اَلَّا نُؤْمِنَ لِرَسُوْلٍ حَتّٰى یَاْتِیَنَا بِقُرْبَانٍ تَاْكُلُهُ النَّارُ١ؕ قُلْ قَدْ جَآءَكُمْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِیْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ بِالَّذِیْ قُلْتُمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوْهُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 3:183 in the Quran reader

یہ لوگ ایسے ہیں جو یوں کہتے ہیں کہ اللہ نے ہم کو حکم دے رکھا ہے کہ ہم کسی رسول کی اس وقت تک تصدیق نہ کریں جب تک وہ ہمارے پاس ایسی قربانی نہ لائے کہ اس کو آگ کھاجائے۔ آپ ان سے فرما دیجئے کہ مجھ سے پہلے بہت سے رسول تمہارے پاس روشن نشانیاں لے کر آئے تھے اور بعینہ یہ نشانی بھی لیکر آئے تھے جس کا تم مطالبہ کررہے ہو پھر اگر تم سچے ہو تو تم نے ان پیغمبروں کو کیوں قتل کیا تھا۔1

فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقَدْ كُذِّبَ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ جَآءُوْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ وَ الْكِتٰبِ الْمُنِیْرِ Open ayah 3:184 in the Quran reader

اگر اس پر بھی یہ آپ کی تکذیب کریں تو آپ سے پہلے بہت سے ایسے رسولوں کو جھٹلایا جاچکا ہے جو واضح دلائل اور صحیفے اور روشن کتاب لے کر آئے تھے۔

ف 1 یہ یہود ایسے غلط گو لوگ ہیں جو یوں کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے نبیوں کی معرفت ہم کو یہ حکم دے رکھا ہے اور ہم سے عہد لے رکھا ہے کہ ہم کسی مدعی نبوت پر اس وقت تک ہرگز ایمان نہ لائیں جب تک وہ ہمارے سامنے کوئی خاص معجزہ یعنی کوئی ایسی قربانی اور نذر و نیاز نہ لائے کہ اس کو آسمانی آگ کھاجائے یعنی آسمان سے آگ نازل ہو اور وہ آگ اس نیاز کو جلادے چونکہ آپ نے یہ خاص معجزہ دکھایا نہیں اس لئے ہم لوگ آپ پر ایمان نہیں لائے۔ اے پیغمبر ﷺ ! آپ ان سے فرما دیجئے کہ بلاشبہ مجھ سے پہلے بہت سے رسول تمہارے پاس بکثرت روشن دلائل اور واضح معجزات لے کر آئے اور بعینہ یہ معجزہ بھی لے کر آئے جس کو تم کہہ رہے ہو پھر اگر تم اپنی اس بات میں سچے ہو کہ تم کو خدا نے ایسا حکم دے رکھا ہے تو تم نے ان پیغمبروں کو کیوں قتل کیا تھا۔ (تیسیر) یہود کے بڑے بڑے لوگوں کی ایک جماعت کے قول کو ظاہر فرمایا ہے۔ کعب بن اشرف ، مالک بن الصیف، دہب بن یہودہ، زید بن التابوہ فنحاص بن عازور، حیی بن اخطب وغیرہ جمع ہوکر حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے یہ بات بنائی کہ ہم لوگ آپ کو اس لئے نبی ماننے سے معذور ہیں کہ پہلے نبیوں کی معرفت اللہ تعالیٰ ہم سیح یہ عہد لے چکا ہے کہ جب تک کوئی مدعی نبوت خواہ وہ کیسا ہی ہو تم کو قربانی کا معجزہ نہ دکھائے اور اس کی نیاز کو آسمانی آگ نہ جلائے اس وقت تک اس پر ایمان نہ لانا چونکہ آپ یہ مخصوص معجزہ دکھاتے نہیں اس لئے ہم آپ پر ایمان نہیں لاتے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی دو باتیں تھیں ایک تو یہ ان اللہ عھد الینا اور دوسری وہ جو اس کو لازم ہے۔ یعنی یہ کہ اگر آپ یہ بات کردکھائیں تو ہم آپ کی نبوت پر ایمان لے آئیں۔ پہلی بات تو ان کی بلا دلیل تھی صرف ان کے دلوں کی ایک تراشی ہوئی بات تھی اسی لئے انہوں نے کوئی دلیل بھی پیش نہیں کی اور یہ بات بھی غلط ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی خاص معجزے کے ساتھ ایک ایسے نبی کی نبوت پر ایمان لانے کو موقوف کردے جس کی نبوت کتب سماویہ سے ثابت ہو۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام سے معجزات کا ظہور ہوتا ہے اور ان کے معجزات کو دعویٰ نبوت کی تقویت میں بھی دخل ہوتا ہے لیکن کسی خاص معجزے کے ساتھ ان کو مقید کردینا یہ تو بالکل ہی مہمل چیز ہے بلکہ اگر کسی قوم نے اپنے نبی سے کوئی خاص معجزہ طلب بھی کیا ہے تو اس میں احتیاط برتی گئی ہے اور ہمیشہ منہ مانگا معجزہ دکھانے سے انکار کیا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ اگر منہ مانگا معجزہ دیکھنے کے بعد کوئی قوم ایمان نہیں لائے گی تو اس کو عذاب سے بالکل ختم کردیا جائے گا۔ پس جب عام طورپر قوموں کے منہ مانگے معجزات اور نشانات دکھانے سے انکار کیا گیا ہے اور ایمان نہ لانے کی حالت میں ان معجات کو عذاب و استیصال کا سبب قرار دیا گیا ہے۔ تو کسی نبی کی نبوت کو کسی مخصوص معجزے کے ساتھ وابستہ کردینا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ بات صرف اتنی ہے جیسا کہ بعض مفسرین نے فرمایا ہے اور بائیبل سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل میں یہ دستور چلا آتا تھا کہ جب کوئی شخص اپنا ذبیحہ یا نذر و نیاز خدا تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کرنا چاہتا تھا تو وہ اس ذبیحہ کو پہاڑ پر یامکان کی چھت پر رکھ دیتا تھا اور اس زمانہ کا نبی دعا کرتا تھا اس پر آسمان سے ایک سفید رنگ کی آگ نازل ہوتی تھی جو اس قربانی یا ذبیحہ کو جلا دیتی تھی اس آگ میں دھواں نہیں ہوتا تھا اور اس کے نازل ہوتے وقت ایک ہلکی سی بھنبھناہٹ ہوتی تھی۔ اس آگ کا قربانی کو جلا دینا قربانی کے مقبول ہونے کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ یہ شاید پرانا دستور تھا۔ نبی کا دعا کرنا اور آگ کا نازل ہونا یہ نبی کا معجزہ تھا۔ جہاں اور معجزات کا ظہور اس سے ہوتا تھا وہاں یہ بھی ایک معجزہ تھا اس سے زیادہ اس واقعہ کی اور کوئی حقیقت نہیں ہے قربانی ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ بنایا جائے اگرچہ اب عام طور سے ذبیحہ پر بولا جاتا ہے۔ بعض حضرات نے کہا ہے کہ پہلی امتوں پر غنیمت کا مال حلال نہیں تھا اس لئے غنائم کا بھی یہی طریقہ تھا کہ غنائم کے اموال پہاڑ پر رکھ دیا کرتے تھے اور آسمان کی آگ اس کو آکر جلا دیا کرتی تھی۔ بہرحال ! انبیاء بنی اسرائیل کا یہ ایک معجزہ ہوتا تھا کہ ان کی دعا کی برکت سے لوگوں کی نیاز اس طرح قبول ہوتی تھی۔ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں یہ دستور موقوف ہوچکا تھا بلکہ صدی کا بیان ہے کہ حضرت مسیح کے زمانے میں بھی یہ دستور نیاز کا باقی نہ رہا تھا۔ یہود نے اس واقعہ کو سامنے رکھ کر یہ افترا کیا کہ قربانی کو اس طرح آگ کا نازل ہوکر کھا جانا یہ ہر مدعی نبوت کے لئے ضروری تھا۔ اگر وہ یہ مخصوص معجزہ نہ دکھائے تو وہ نبی نہیں ہوسکتا۔ اور چونکہ ان کی یہ بات بلا دلیل اور محض جھوٹ تھی اور اس کا جواب بھی بالکل ظاہر تھا اس لئے اس کی جانب کوئی التفات نہیں فرمایا بلکہ جواب دوسری بات کا دیا جو لزوماً ان پر عائد ہوتی تھی اور جواب بھی ایسا الزامی دیا جس سے پہلی بات کا افترا ہونا خود بخود ظاہر ہوگیا۔ جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ اچھا اگر کسی نبی کی نبوت کا یہی معیار صداقت ہے جو تم کہتے ہو تو تم نے ان انبیاء کو کیوں قتل کیا جو علاوہ اور معجزات کے یہ معجزہ بھی لے کر آئے تھے۔ گویا ان کی نبوت فریقین کے نزدیک مسلم تھی ہمارے نزدیک تو اس لئے کہ وہ صاحب معجزات تھے اور یہ صاحب معجزات ہونا ان کی نبوت کے لئے کافی تھا اور تمہارے نزدیک نہ تو کسی مدعی نبوت کی نبوت کا یہ معیار ہے اور نہ خدا تعالیٰ کا یہ حکم ہے اور اگر میرے ہاتھ سے یہ معجزہ ظاہر بھی ہوجائے تب بھی تم مجھے نبی تسلیم نہیں کروگے کیونکہ اس مخصوص معجزے کے ظاہر کرنے والوں کو قتل تک کرچکے ہو تو بھلا تم سے کیا امید ہوسکتی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں بعضے رسولوں سے یہ معجزہ ہوا کہ کچھ چیز اللہ کی نیاز رکھی پھر آسمان سے آگ آئی اس کو کھا گئی پس وہ قبول ہوئی اب یہود بہانہ پکڑتے تھے کہ ہم کو یہ حکم ہے کہ جس سے یہ معجزہ نہ دیکھیں اس پر یقین نہ لاویں اور یہ جھوٹے بہانے تھے ہر نبی کو معجزے ملے ہیں جدا سب کو ایک ہی معجزہ کیا لازم۔ (موضح القرآن) رہی یہ بات کہ پیغمبروں کے قتل کی نسبت ان کی طرف کیوں کی گئی جب کہ قتل ان کے بڑوں نے کی تھا تو اس کا جواب ہم ابھی اوپر آیت میں عرض کرچکے ہیں اور سورة بقرہ میں بھی کئی بار عرض کیا گیا ہے۔ اگر یہ شبہ کیا جائے کہ ان کا یہ مطالبہ پورا کرکے دیکھ لیا جاتا تو کیا حرج تھا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ مطالبہ عناداً تھا صدق دل سے نہ تھا۔ نیز اس کے بعد یہ لوگ ایمان نہ لاتے اور عذاب استیصال کے مستحق ہوتے اور اس امت پر عذاب استیصال پہنچنا مقصود نہیں ہے پھر یہ کہ نبی آخر الزماں ﷺ کا دور ایک علمی دور ہے اور ترقی یافتہ زمانہ ہے اس میں علمی مباحث اور عقلی دلائل کی اہمیت ہے۔ قانونی ترقیاں اس امر کی ستدعی ہیں کہ قانون سے بحث کی جائے اور اپنی صداقت دنیا کو سمجھائی جائے۔ معجزات تو وقتی ہوا کرتے ہیں اگر معجزات کو نبوت کی شرط بھی تسلیم کرلیا جائے تو قرآن شریف کا معجزہ ہونا کافی ہے اور یہ معجزہ قیامت تک قائم رہنے والا ہے۔ جس کا جواب دینے سے دنیا عاجز رہی اور آئندہ بھی عاجز رہے گی۔ اس لئے جس پیغمبر کی نبوت پر شواہد عقلیہ اور نقلیہ موجود ہوں اور جس کا کمال اور بنی نوع انسان کے لئے ہدایت ہونا ظاہر ہو اس پیغمبر کو ہر منہ مانگے معجزے کی تعمیل ضروری نہیں۔ مزیدبرآں جب کہ اس منہ مانگے معجزے کی مانگ بھی محض عناداً ہو اور اس میں صداقت کا کوئی شائبہ نہ ہو۔ اب آگے اپنے پیغمبر کو تسلی دیتے ہیں۔ چونکہ ان یہود کی ناشائستہ حرکات سے حضور ﷺ کو حزن و ملال ہونا ظاہر ہے اس لئے آپ کی تسلی فرمائی اور نہ ماننے والوں کے لئے وعید اور ماننے والوں کے لئے بشارت کا اظہار فرمایا۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 3:185

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١ؕ وَ اِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ Open ayah 3:185 in the Quran reader

ہر جاندار موت کا مزہ چکھنے والا ہے اور تم اپنے اعمال کے پورے پورے بدلے قیامت ہی کے دن دیئے جائوگے۔ پھر جو شخص آگ سے دور رکھا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا تو بلاشبہ وہی کامیاب ہوا اور دنیا کی زندگی سوائے اس کے کچھ نہیں کہ ایک دھوکے کا سامان ہے۔2

ف 2 اے پیغمبر اگر یہ معاندین اس پر بھی آپ کی تکذیب کریں تو آپ آزردہ خاطر نہ ہوں کیونکہ آپ سے پہلے بھی بکثرت رسولوں کی تکذیب کی جاچکی ہے اور بہت سے ایسے رسول جھٹلائے جاچکے ہیں جو دلائل و معجزات لیکر آئے تھے اور چھوٹے چھوٹے صحیفے لیکر اور روشن کتاب لیکر آئے تھے جب ان کی تکذیب سے بھی یہ معاندین باز نہ آئے تو آپ ان کی تکذیب سے ملول نہ ہوں۔ ہر جاندار تم میں سے موت کا مزہ چکھنے والا ہے اور بس مرنے کے بعد تم میں سے ہر ایک کو اپنے اپنے اعمال کی پوری پاداش قیامت کے دن ملے گی اور تم اپنے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیئے جائوگے۔ پھر جو شخص اس دن دوزخ سے دور رکھا گیا اور بچالیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا تو بلاشبہ وہ کامیاب اور فائز المرام ہوا اور دنیاوی زندگی تو سوائے اس کے کچھ بھی نہیں کہ ایک دھوکے کا سامان اور ایک دھوکے کا سودا ہے۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ معاندین ایک قسم کے عادی مجرم اور تکذیب پیشہ لوگ ہیں ان کا دستور ہمیشہ یہی رہا ہے اور اپنے اپنے زمانے میں ہر پیغمبر کے ساتھ ان کا یہی سلوک رہا ہے خواہ وہ پیغمبر بڑے بڑے معجزات لیکر آیا خواہ چھوٹے چھوٹے صحائف لایا یا کوئی بڑی کتاب جیسے توریت انجیل اور زبور لیکر آیا۔ بڑی کتاب کو اس کی شان اور مضامین کے اعتبار سے منیر اور روشن فرمایا جب ان کی عادت ہی یہ ہے اور ہر پیغمبر صاحب کتاب اور صاحب معجزات کے ساتھ ان کا سلوک ہی یہ ہے تومرگ انبوہ جشن دارد آپ کیوں ملول خاطر ہوں۔ رہی یہ بات کہ ایسے عادی مجرموں کو اور تحمل و برداشت کرنے والو اور ایمان لانے والوں کو یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا تو یہ بات نہیں ہے بلکہ تم سب کو مرنا اور موت کا مزہ چکھنا ضرور ہے اور قیامت کے دن ہر ایک کو تم میں سے اپنے اپنے کئے کا پھل بھگتنا اور اجر حاصل کرنا ہے اور اس دن کامیابی کا سب سے بڑا راز یہ ہے کہ کوئی شخص دوزخ سے بچاکر جنت میں داخل کردیا جائے۔ یہی حقیقی کامیابی ہے۔ زخزح کے معنی ہیں جلدی سے کسی چیزکو ہٹا لینا۔ ظاہرتو یہی ہے کہ اس سے وہ کامل مومن مراد ہیں جو دوزخ سے بالکل محفوظ رہیں اور جنت میں چلے جائیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کچھ دنوں معاصی کی پاداش بھگت کر نکال لئے جائیں یہ شکل بھی جلدی سے ہٹا لینے کی ہے۔ اگر یہ معنی کئے جائیں تو اس طرح سب مسلمان مراد ہوں گے اور ہمیشہ جہنم میں رہنے والوں کے مقابلے میں جس عرصہ میں بھی کوئی جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کردیا جائے وہ کامیاب اور فائز المرام ہی ہے۔ البتہ اس کی کامیابی ان حضرات مخلصین سے کم ہے جو جہنم سے پرے ہی پرے جنت میں داخل کردیئے جائیں۔ دھوکے کا سامان اور دھوکے کا سودا دنیوی زندگی کو اس لئے فرمایا کہ اس کی ظاہری رونق کو دیکھ کر آدمی اس میں پھنس جاتا ہے اور چند دن کے بعدکھوٹے مال کی حقیقت اور اس کی قلعی کھل جاتی ہے اور چونکہ عارضی چیز ہے اس لئے اس میں انہماک کی اور اس کی مقصود بالذات بنانے کی مذمت کی گئی ہے۔ سورئہ قصص میں ہے۔ وما اوتیتم میں شئی فمتاع الحیٰوۃ الدنی وزینتھا وما عنداللہ خیر وابقی۔ یعنی جو کچھ تم کو دیا گیا ہے وہ دنیوی زندگی کا سامان اور یہاں کی رونق ہے اور اللہ کے ہاں جو کچھ ملنے والا ہے وہ بہت بہتر اور پائیدار ہے۔ یہاں دنیوی زندگی کو دھوکے کی ٹٹی اور دھوکے کا سودا کہنے سے یہی مطلب ہے کہ اس زندگی کو اصل مطلوب نہ بنائو اور اس کو مقصود بالذات نہ سمجھو اور اس سے محبت نہ کرو بلکہ اس کو حصول آخرت کا ذریعہ بنائو۔ غرور مصدر بھی ہوسکتا ہے اور غار کی جمع بھی ہوسکتی ہے۔ حضرت قتادہ کا قول ہے یہ دنیا ایسا سامان ہے جو چھوڑ دیا جائے گا اور اپنے لوگوں ک مضمحل کردے گا تم اس سامان سے جس قدر ہوسکے اللہ تعالیٰ کی طاعت حاصل کرلو۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا ہے یہ ہاتھ لگانے میں بڑی نرم ہے مگر اس کا زہر قاتل اور جان لیوا ہے بعض حضرات نے فرمایا ہے یہ تشبیہ آخرت کے مقابلہ میں ہے اور اس شخص کی تشبیہ ہے جو آخرت کے مقابلہ میں دنیا کو ترجیح دے ورنہ اگر کوئی دنیا کو آخرت کے حصول کا ذریعہ بنائے تو اس کے لئے نعم المال الصالح للرجل الصالح آیا ہے۔ مطلب یہ کہ مقصود بالذات خیال کرو تو بری چیز ہے اور نیکیاں کمائو اور جان و مال دیکر جنت خرید لو تو اچھی چیز ہے۔ (واللہ اعلم) ملاحظہ ہو۔ روح المعانی۔ حضرت ابن عمرو سے امام احمد نے مرفوعاً نقل کیا ہے فرمایا نبی کریم ﷺ نے جو شخص یہ چاہتا ہے کہ دوزخ سے الگ تھلگ رہے اور جنت میں داخل کردیا جائے تو اس کو ایسی حالت میں موت آئے کہ وہ اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور اس کو چاہئے کہ وہ لوگوں سے ایسا برتائو کرے جیسا برتائو اپنے ساتھ کرتا ہے۔ ایک اور حدیث شریف میں ہے خدا کی قسم دنیا آخرت کے مقابلے میں اس سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی جیسے کوئی اپنی انگلی کو دریا میں ڈال کر نکال لے اور پھر دیکھے کہ وہ انگلی کیا لیکر نکلی۔ اب آگے مسلمانوں کو صبر و استقامت کی تلقین ہے اور مشرکین و یہود کی ایذا رسانی کا تذکرہ ہے اور جان و مال کے امتحان کا ذکر ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 3:186

لَتُبْلَوُنَّ فِیْۤ اَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ١۫ وَ لَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَذًى كَثِیْرًا١ؕ وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ Open ayah 3:186 in the Quran reader

بلاشبہ تم اپنے مالوں اور جانوں کے بارے میں ابھی اور آزمائے جائو گے اور جن لوگوں کو تم سے پہلے کتاب دی جاچکی ہے ان سے اور نیز مشرکوں سے ابھی بہت سی تکلیف دہ باتیں تم کو سننی پڑیں گی اور اگر تم نے صبر کیا اور تقوے کے پابند رہے تو یقیناً یہ بڑی ہمت اور عزم کے کام ہیں1

ف 1 اے مسلمانو ! بلاشبہ تم اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے نقصان کے سلسلہ میں ابھی اور آزمائے جائوگے اور یقیناً تم کو ان لوگوں سے جو تم سے پہلے کتاب دے گئے ہیں یعنی اہل کتاب سے اور ان لوگوں سے جو مشرک ہیں ابھی اور بہت سی تکلیف دہ اور دل آزار باتیں سننی پڑیں گی اور اگر تم نے ان آئندہ آنے والے مصائب پر صبر کیا اور ان باتوں کو برداشت کیا اور تقوے کے پابند رہے تو یقین جانو ! یہ صبر وتقویٰ بڑے اہم اور تاکیدی احکام میں سے ہیں اور یہ ہمت اور اولو العزمی کے کاموں میں سے ہیں۔ (تیسیر) چونکہ اوپر فنحاص اور حضت ابوبکر صدیق ؓ کا واقعہ گزر چکا ہے اسی سلسلے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے کہ ابھی اور قسم کی دل خراش اور دل آزار باتیں سننی ہوں گی۔ اور بعض روایات میں ہے کہ کعب بن اشرف یہودی نبی کریم ﷺ اور صحابہ ؓ کی شان میں اکثر ہجو کے اشعار کہا کرتا تھا اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت بدر کے واقعہ سے پہلے نازل ہوئی ہے بعض نے کہا دل آزادی سے مراد ہے قصیدوں کی تشبیب میں عورتوں کا ذکر کرنا بہرحال آیت میں اہل کتاب اور مشرکین کی جارحانہ کاررائیوں کی مذمت کرنا ہے اور مسلمانوں کو آئندہ اس قسم کے امتحانات سے باخبر کرنا ہے اور صبر اور تقویٰ کی تاکید کرنا ہے۔ (واللہ اعلم) مطلب یہ ہے کہ ابھی کیا ہے اور غزوئہ احد میں تم نے کیا دیکھا ہے ابھی نہ معلوم اور کیا کیا امتحان تم پر آئیں گے اگر دنیا میں امن اور سلامتی کا پیغام پہنچانا اور اعلاء کلمۃ اللہ کی غرض سے زندہ رہنا ہے تو قدم قدم پر بدمعاشوں، اوباشوں اور شرارت پسندوں کی رکاوٹ کو دور کرنا پڑے گا۔ اور روزمرہ جارحانہ کارروائیوں کی مدافعت کرنی ہوگی۔ اور ایک فنحاص کیا بلکہ ہر ایک اہل کتاب اور مشرک کی دل آزار باتیں سننی ہوں گی۔ اور جب تک مسلمانوں کے ہاتھ اقتدار اور قوت نہ آئے گی یہ سلسلہ جاری رہے گا لہٰذا ہم اپنے سابقہ وعدے کو پھر یاد دلاتے ہیں کہ اگر تم اے مسلمانو ! ثابت قدم رہے اور استقلال سے جمے رہے اور تقویٰ کے پابند رہے تو یہ تمہارے لئے انجام کے اعتبار سے بہتر ہوگا اور تم کامیاب ہوگے اور تم کو کوئی نقصان نہ ہوگا۔ کیونکہع یہ کام معزمات امور سے ہیں یا یہ کام ان کاموں میں سے ہیں جن کی اللہ تعالیٰ نے تاکید فرمائی ہے۔ عزم کے معنی ہیں کسی رائے پر اس طرح قائم رہنا کہ اس کو کر گزرنا۔ عزیمت اور رخصت اردو میں بھی استعمال ہوتا ہے اور مسائل فقیہہ میں تو عام طور سے یہ لفظ مستعمل ہے۔ یہاں دو معنی کئے ہیں ایک تو یہ کہ یہ ایسے کام ہیں جن پر ہر شخص کو رغبت کرنی چاہئے اور ہمت سے ان کو کر گزرنا چاہئے۔ اور دوسرے معنی یہ ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے تاکیدی احکام ہیں جن کو پورا کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ ہم نے تیسیر میں دونوں معنیٰ کا لحاظ رکھا ہے۔ شرط کی جزا یا تو مخدوف ہے جیسا کہ ہم نے تسہیل میں اشارہ کیا ہے کہ اگر صبرکروگے اور تقویٰ کے پابند رہوگے تو وہ تمہارے حق میں بہتر ہوگا۔ اس صورت میں آخری جملہ دلیل اور علت ہوگی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ذلک سے مخاطبین کا صبر مراد ہو ایسی صورت میں آخری جملہ بھی شرط کا جواب ہوسکتا ہے۔ اب آگے یہود کی حقیقی عہد شکنی کا ذکر ہے کہ ان شریروں نے ایک طرف تو فرضی عہد گھڑ رکھا ہے اور پیغمبر پر ایمان نہ لانے کا اس کو بہانہ بنالیا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان سے اس قسم کا کوئی عہد نہیں لیا اور دوسری طرف ان کی یہ حالت ہے کہ جس بات کا واقعی عہد لیا تھا اس عہدکو انہوں نے پس پشت ڈال دیا ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 3:187–188

وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَتُبَیِّنُنَّهٗ لِلنَّاسِ وَ لَا تَكْتُمُوْنَهٗ١٘ فَنَبَذُوْهُ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ وَ اشْتَرَوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ فَبِئْسَ مَا یَشْتَرُوْنَ Open ayah 3:187 in the Quran reader

اور یاد کرو جب اللہ نے اہل کتاب سے اس بات کا عہدلیا تھا کہ تم اس کتاب کو لوگوں کے روبرو صاف صاف بیان کروگے اور اس کو چھپائو گے نہیں پھر ان اہل کتاب نے اس عہد کو پسِ پشت ڈال دیا اور اس کتاب کے بدلے میں بہت ہی معمولی قیمت حاصل کرلی سو کیا ہی بری ہے وہ چی جو یہ حاصل کررہے ہیں۔2

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اَتَوْا وَّ یُحِبُّوْنَ اَنْ یُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوْا فَلَا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 3:188 in the Quran reader

اے پیمغبر آپ ان لوگوں کو ہرگز عذاب سے نجات پانے والا اور محفوظ نہ سمجھئے جو اپنے کئے پر خوش ہیں اور جو کام انہوں نے نہیں کیا اس پر ستائش و تعریف کے خواہش مند ہیں بلکہ ایسے لوگوں کو درد ناک عذاب ہوتا ہے

ف 2 اور وہ واقعہ یاد کرو جب کہ اللہ تعالیٰ نے ان اہل کتاب سے انبیاء کی یا کتب سماویہ کی معرفت یہ عہد لیا کہ تم اس کتاب کے تمام مضامین کو لوگوں کے سامنے صاف صاف بیان کرنا اور کتاب کے کسی مضمون اور کسی حکم کو چھپانا نہیں اور نہ پوشیدہ رکھنا لیکن انہوں نے اس عہد کا یہ حشر کیا کہ اس عہد کو اپنی پیٹھوں کے پیچھے ڈال دیا اور اس پر عمل نہ کیا اور اس کتاب کے بدلے میں انہوں نے معمولی قیمت اور کم حقیقت معاوضہ حاصل کرلیا وہ چیز بہت بری ہے جس کو یہ لوگ حاصل کررہے ہیں۔ عہد کا مطلب یہ ہے کہ ان کو انبیاء کی معرفت یا ان کی کتابوں میں یہ حکم دیا گیا تھا اور انہوں نے اس کو قبول کیا تھا کہ ہم کتاب کے مضامین اور احکام میں خیانت نہیں کریں گے۔ واشتروابہ سے مراد کتاب ہے جیسا کہ ہم نے اختیار کیا ہے اور ہوسکتا ہے کہ بجائے کتاب کے عہدمراد ہو مطل میں کوئی فرق نہیں ہے۔ حضرت حق نے دنیا کا مال لے لے کر مسائل کو چھپانا اور تحریف کرنا۔ مسئلہ غلط بتانا ان سب کو اشترا سے تعبیر فرمایا گویا روپیہ لیکر مسائل اور احکام الٰہی کو بیچ ڈالا۔ یا مسائل کے بدلے میں دنیاوی منافع خرید لئے لیکن مقصد استبدال ہے اور اشتراکو استبدال سے استعارہ کیا ہے اسی لئے ہم نے ترجمہ میں حاصل کرنا کیا ہے۔ کہ کتاب کے مقابلہ میں کم حقیقت مال حاصل کرلیا۔ کم ثمن قلیل اس لئے فرمایا کہ دنیا کا کتنا ہی بڑا فائدہ کیوں نہ ہو آخرت کے مقابلہ میں کم ہی ہے جیسا کہ ہم کئی بار عرض کرچکے ہیں۔ آخر میں فرمایا وہ چیز بہت بری ہے جو یہ حاصل کررہے ہیں کیونکہ اس کا انجام عذاب الیم اور جہنم ہے حضرت ابن عباس اور ابن جبیر کا قول یہ ہے کہ اس آیت سے یہود کے احبار مراد ہیں اور دوسرا قول جو علقمہ کے واسطے سے ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سے نصاریٰ کے علماء مراد ہیں۔ بہرحال ہوسکتا ہے کہ دونوں ہوں۔ بہرحال جو عالم دنیوی لالچ کی وجہ سے دین کی بات کو چھپائے اس کو یہ وعید شامل ہے خواہ یہ دنیوی لالچ مال یا جاہ ہو یا ظالم حکام کو خوش کرنی کی غرض سے ہو۔ البتہ جہاں کسی جاہل کے بگڑجانے کا اندیشہ ہو اور عالم کو یہ خطرہ ہو کہ یہ اپنی ناسمجھی کی وجہ سے گمراہ ہوجائے گا وہاں کسی دقیق بات کو نہ بیان کیا جائے تو وہ صورت اس سے مستثنا ہے۔ حدیث میں آتا ہے جس شخص سے کوئی علم کی بات دریافت کی گئی اور اس نے اس کو چھپالیا تو قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی لگام ڈالی جائے گی۔ حضرت حسن بن عمارہ کا واقعہ تو مشہور ہے کہ وہ زہری کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ وہ زمانہ ہے جب زہری نے حدیث کا بیان کرنا ترک کردیا تھا۔ حسن بن عمارہ نے زہری کو آواز دی جب وہ باہرآئے تو ان سے کہا میں اس لئے آیا ہوں کہ آپ کوئی حدیث مجھے سنائیں انہوں نے فرمایا تم جانتے ہو میں نے تو حدیث کا بیان کرنا ترک کردیا ہے حسن نے کہا اگر آپ نہیں بیان کرتے تو میری حدیث سنئیے۔ انہوں نے فرمایا اچھا سنائو۔ حسن نے کہا مجھ سے عینیہ بن حکم نے بیان کیا اور عینیہ نے نجم الخراز سے روایت کی۔ نجم نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ حضرت علی فرماتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان پڑھوں پر علم کا سیکھنا اس وقت تک لازم نہیں کیا جب تک اہل علم پر علم کا سکھانا لازم نہیں کردیا۔ یہ سن کر زہری نے حسن بن عمارہ کے سامنے چالیس 04 حدیثیں روایت کیں۔ حضرت ابوہریرہ کا قول ہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے اگر اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب سے عہد نہ لیا ہوتا کہ مضامین کو لوگوں کے سامنے بیان کرنا اور چھپانا نہیں تو میں تمہارے سامنے کبھی حدیث نہ بیان کرتا یہ کہہ کر قرآن کی زیر بحث آیت پڑھا کرتے تھے۔ بہرحال یہود کی یا اہل کتاب کی یہ بڑی زیادتی ہے کہ انہوں نے معمولی لالچ کی خاطر کتاب کو چھپایا اور اس کے مضامین میں خیانت کی اور سب سے بڑا کتمان حق یہ کیا کہ نبی کریم ﷺ کی جو صفات توریت و انجیل میں مذکور تھیں ان کو عوام کے روبرو ظاہر نہیں کیا اور ان کو چھپالیا۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ اپنی اس عہد شکنی پر بجائے شرمندہ اور نادم ہونے کے فخر کرتے اور خوش ہوتے۔ چناچہ آگے کی آیت میں اس فخر اور مباہات کی مذمت اور وعید مذکور ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayah 3:189

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 3:189 in the Quran reader

اور کل آسمانوں کی اور زمین کی بادشاہت اللہ ہی کے لئے ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے3

ف 3 اے پیغمبر جو لوگ ایسے ہیں کہ اپنے کئے پر خوش ہوتے ہیں اور اپنی بدکرداری اور بداعمالی پر خوش اور نازاں ہوتے ہیں اور جو نیک کام انہوں نے نہیں کئے ان پر یہ چاہتے ہیں کہ ان کی تعریف کی جائے۔ یعنی برے کام کے کرنے پر خوش اور نیک کام کے ترک پر مدح و ثنا کے جویاں سوائے پیغمبر آپ ایسے شخصوں کو ہرگز ہرگز عذاب الٰہی سے نجات یافتہ نہ سمجھیں اور یہ خیال نہ کریں کہ ایسے لوگ عذاب الٰہی سے محفوظ رہیں گے بلکہ ان کو دردناک عذاب ہوگا اور تمام آسمان و زمین کی سلطنت و بادشاہت اللہ تعالیٰ ہی کے لئے خاص ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے اور ہر شئے پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ (تیسیر) یہود کا عام طریقہ یہ تھا کہ حق کو چھپاتے تھے اور اظہار حق سے گریز کرتے تھے جس کو کرتے تھے یعنی حق کا کتمان اس پر تو خوش ہوتے تھے اور جس کو ترک کر رکھا تھا یعنی حق کا اظہار اس پر چاہتے تھے کہ لوگ ہماری تعریف کریں اور ہم کو سرا ہیں۔ حضرت ابو سعید خدری کا قول ہے کہ منافقین لڑائی میں جانے سے بچتے تھے اور گھروں میں بیٹھ رہتے تھے اور جب حضور ﷺ سیدانِ جہاد سے واپس تشریف لاتے تو آکر اپنے خلوص کا اظہار کرتے اور قسمیں کھا کھا کر اپنا عذر پیش کرتے اور یہ چاہتے کہ مسلمان ہمارے خلوص اور ایمان کی تعریف کریں۔ مردان نے اپنے چوبدار ابو رافع کو حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے پاس بھیج کر دریافت کرایا تھا کہ یہ آیت کن لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے تو حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا تھا کہ یہ آیت اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ یہود کتاب میں تحریف کرتے تھے حق کے خلاف فیصلے کرتے تھے اور ان تمام حرکات شنیعہ پر خوش ہوتے تھے اور نماز روزے کے تارک تھے اور چاہتے تھے کہ ہماری تعریف کی جائے ۔ بہرحال شان نزول کا تعلق اسی قسم کے لوگوں کے ساتھ ہے اور ایسے ہی لوگوں کے لئے یہ وعید فرمائی ہے جو برے کام کرکے خوش ہوتے ہیں اور جو اچھا کام نہیں کرتے اس پر مدح سرائی کے خواہشمند ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے متعلق یہ وعید ہے کہ تم ان کو عذاب سے بچنے والا نہ سمجھو ان کو دنیا میں بھی عذاب ہوتا ہے یعنی ان کی فضیحت و رسوائی ہوتی ہے اور آخرت میں تو ان کے لئے دردناک عذاب ہے ہی۔ لاتحسبن میں خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے جیسا کہ ہم نے اختیار کیا ہے اور ہوسکتا ہے کہ خطاب عام ہو اگرچہ آیت کا تعلق یہود اور منافقین سے ہے لیکن آیت اپنے مفہوم کی وجہ سے سب کو شامل ہے۔ فرح سے مراد معاصی پر فرح ہے اور حمد سے مراد حمد کی خواہش کرنا اور مدح سرائی کی ہوس کرنا اور اہتمام کرنا ہے۔ رہا کسی نیکی پر مدح کی ہوس اور مدح کا اہتمام یہ بھی شرعاً محمود نہیں ہے۔ باقی طبعاً اگر کسی نیکی پر فرح ہو اور طبعاً کسی کی تعریف محبوب ہو تو یہ گناہ نہیں۔ یہ بات بھی یاد رکھنی اچہئے کہ فرح ایسی خوشی کو کہتے ہیں جس میں عجب ادا اور اترانا ہو۔ اس قسم کی خوشی مذموم ہے اچھے کام پر بھی ناپسندیدہ ہے اور برے کام پرتو انتہائی مذموم ہے۔ اسی طرح کام کے نہ کرنے پر مدح کی خواہش یا اچھا کام ترک کرنیپر مدح سرائی کی ہوس یہ بھی مذموم ہے۔ البتہ کوئی اچھا کام کیا اور اس پر کسی نے بغیر خواہش اور بغیر طلب تعریف کردی اور اس قسم کی تعریف و مدح طبعاً محبوب ہوئی تو اس میں مضائقہ نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے اذا سرتک حسنتک وساع تک سیئتک فانت مؤمن۔ یعنی تیری نیکی تجھ کو مسرور کرے اور تیرا گناہ تجھ کو ملول کرے تو تو مومن ہے۔ یہاں حضور ﷺ نے سرور فرمایا ہے ہم نے جو تقریر اوپر کی ہے اس سے سرور اور فرح کا فرق معلوم ہوگیا ہوگا۔ خلاصہ یہ ہے نیک کام کرنے اور برے کام کے ترک کرنے پر عجب ہونا اور اترانا اور مدح کی خواہش اور ہوس کرنا اور مدح کو اہم مقصد قرار دینا مذموم ہے۔ البتہ اگر طبعاً مسرت اور خوشی ہو اور کسی مدح کرنے والے کی مدح طبعاً پسند ہو تو مضائقہ نہیں اور برا کام کرنا یا بھلے کام کو ترک کردینا اور اس پر خوش ہونا اور اترانا اور اس پر مدح کی خواہش اور ہوس کرنا اور مدح کو اہم مقصد قرار دینا یہودیت اور منافقت ہے اور اسی کی آیت میں مذمت اور وعید آئی ہے اس پر آخرت کا عذاب یقینی اور دنیا کی سزا کا اندیشہ ہے ورنہ عام طور پر نیک کا کرنے اور برے کام کے ترک پر طبعاً کس کا دل مسرور نہیں ہوتا اور صحیح تعریف اور مدح کس کو نہیں بھاتی۔ یہی مطلب ہے اس جواب کا جو جبرالامت حضرت ابن عباس ؓ نے حاکم مدینہ مردان کو ابو رافع چوبدار کی معرفت دیا تھا اور جو معنی مہ نے آیت کے وعید کے ساتھ کئے یقیناً اس اعتبار سے اس آیت کا کوئی تعلق مسلمانوں سے نہیں ہے۔ دوسری آیت میں جرم کی سزا کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی سلطنت و بادشاہت اور اس کی وسعت وقدرت کا ذکر فرمایا ہے اور یہ قرآن کا ایک خاص داب اور قاعدہ ہے کہ سزا کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی حکومت وقدرت کا اظہار فرماتا ہے تاکہ مجرم یہ سمجھ لے کہ جس کے قانون کی خلاف ورزی کررہا ہوں اس سے بچ کر کہیں جا نہیں سکتا کیونکہ اس کی حکومت وقدرت تمام کائنات کو محیط ہے۔ حضرت شاہ صاحب الیم پر کہتے ہیں وہی یہود مسئلے غلط بتاتے اور رشوتیں کھاتے اور پیغمبر کی صفت چھپاتے پھر خوش ہوتے کہ ہم کو کوئی پکڑ نہیں سکتا اور امید رکھتے کہ لوگ ہماری تعریف کریں کہ خوب عالم اور دین دار اور حق پرست ہیں۔ (موضح القرآن) اب آگے حضرت حق تعالیٰ کی قدرت و حکومت کے دلائل ہیں چونکہ اوپر اس کی حکومت کا ذکر آیا ہے اس لئے اس پر دلیل بیان کرتے ہیں نیزجیسا کہ ہم اوپر عرض کرچکے ہیں کہ اسلام کی حقانیت اور خدا کی توحید پر عقلی اور نقلی شواہد موجود ہیں ان کو دیکھنا چاہئے بلاوجہ پیغمبر سے معجزہ طلب کرنا ایک عامیانہ مطالبہ ہے اور منہ مانگا معجزہ طلب کرنے اور اس کے پورا ہوجانے کے بعد پھر ایمان نہ لانا اور تمام قوم کو ہلاکت میں ڈالنا ایک غلط اقدام ہے۔ اس لئے بجائے لغو اور عامیانہ مطالبات کے حق کو دلیل سے سمجھو اور مانو ! طبرانی اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس سے یہ بھی روایت کی ہے کہ مشرکین نے عناداً نبی کریم ﷺ سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ پہاڑ کو سونے کا بنادو اور اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (تسہیل)