Ayah 3:190ف 4 یقیناً آسمانوں کے اور زمین کے بنانے میں اور رات اور دن کے آگے پیچھے یکے بعد دیگر آنے جانے میں اہل عقل و خرد اور صحیح عقل رکھنے والوں کے لئے توحید کے بڑے بڑے دلائل موجود ہیں۔ (تیسیر)
اوپر کی آیت میں وللہ ملک السمٰوٰت والارض ایک دعویٰ تھا اس آیت میں اس کی دلیل ہے۔ ہم پارہ سیقول کے چوتھے رکوع میں عرض کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات میں شکوک و شبہات کرنے والے دو قسم کے ہیں ایک تو وہ جو خدا کے وجود ہی کے منکر ہیں اور دوسرے وہ جو اس کے وجودکو تسلیم کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ کسی نہ کسی کو شریک کردیتے ہیں پہلی قسم کے آدمی کو ملحد یا دہریہ کہتے ہیں۔ اور دوسری قسم کے آدمی کو مشرک کہتے ہیں۔ آج کل یورپ میں بکثرت لوگ ملحد اور اللہ تعالیٰ کے وجود کے منکر ہیں اور ایشیا میں بکثرت لوگ مشرک ہیں۔ قرآن عام طور سے توحید کے دلائل بیان کرنے میں ان ہر دو فریق کو سامنے رکھتا ہے اور یہ بات ہم کئی دفعہ عرض کرچکے ہیں کہ جہاں تک انسانوں کے اعتقادیات کا تعلق ہے یہی چند مسائل ہیں جس میں دنیا بھر کے کافر اور مشرک ایک طرف ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ماننے والی اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھنے والے ایک طرف ہیں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کا وجود اس کی توحید۔ اس کے بھیجے ہوئے پیغامبر۔ قرآن کریم اور دیگر کتب سماویہ۔ قیامت، مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا، چونکہ یہ مسائل نہایت اہم ہیں اس لئے قرآن کریم نے اعتقادی مباحث میں ان چیزوں سے بار بار بحث کی ہے اور مختلف عنوانات سے بحث کی ہے چناچہ اس موقعہ پر بھی باتیں سمجھ لیجئے کہ یہ عالم امکان اپنے وجود میں جس طرح ایک واجب الوجود محتاج ہے اسی طرح وہ واجب الوجود ہر ممکن کی شرکت سے بھی پاک ہے۔ واجب الوجود کا تعدد بدیہی طور پر محال ہے۔ سہل اردو میں یہ بات اس طرح سمجھ لیجئے کہ کوئی بد دن صانع کے نہیں ہوا کرتا جب آپ کسی چیز کو دیکھتے ہیں تو فوراً دہن اس کے بنانے والے کی جانب جاتا ہے خواہ وہ چیز کتنی معمولی ہو یا غیر معمولی ہو جب بددن بنانے والے کے کوئی چیز نہیں بن سکتی تو یہ عالم خود بخود کس طرح بن سکتا ہے۔ لہٰذا کوئی اس کا بنانے والا ہوگا اور وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور وہی اس کا خالق ہے اور جب وہی سب کائنات کا خالق اور مالک ہے تو پھر اس عالم کے بنانے میں کسی کی شرکت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جب کوئی اور تھا ہی نہیں تو شرکت کیسی۔
اس عالم امکان کا ہر ذرہ اپنے وجود اور اپنی ذات میں واجب الوجود کا محتاج ہے اور جو چیز اپنے وجود نبوت میں محتاج ہوگی وہ چیز اپنے جملہ لوازمات میں محتاج ہوگی۔ لہٰذا ایک طرف احتیاج ہی احتیاج اور دوسری طرف وجوب ہی وجوب۔ تو ایسی حالت میں شرکت باری کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔
رہا واجب الوجود کا تعدد تو انشاء اللہ تعالیٰ بشرط زندگی سورة انبیاء میں عرض کریں گے یا کسی اور موقعہ پر ذکر آجائے گا۔ یہ مسئلہ تو قرآن کریم میں اکثر مقامات پر زیر بحث آئے گا۔
لب کہتے ہیں عقل خالص کو اسی لئے ہم نے اس کا ترجمہ صحیح عقل کیا ہے کیونکہ عقل و خرد کا تو ہر شخص مدعی ہے لیکن ہر شخص کی عقل کو یہ رسائی کہاں کہ وہ وجوب و امکان کو سمجھ سکے اس لئے قرآن عقل سلیم اور عقل صحیح سے اپیل کرتا ہے جوہر قسم کے شوائب واوہام سے پاک ہو۔ صاحبان الباب کی آگے کی آیت میں حالت بیان ہوگی۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی نبی سے معجزہ مانگنا کیا ضرور جو بات وہ کہتا ہے یعنی توحید اس کی نشانیاں سارے عالم میں نمودار ہیں۔ (موضح القرآن)
شاہ صاحب (رح) نے شان نزول کی جانب اشارہ فرمایا ہے جیسا کہ ہم اوپر کہہ چکے ہیں اب اولی الالباب کے اوصاف بیان ہوتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayahs 3:191–193ف 1 وہ ادلیٰ الالباب ایسے ہیں جو ہر حال میں خواہ کھڑے ہوں یا بیٹھے ہوں خواہ کسی پہلو پر لیٹے ہوں اللہ تعالیٰ کی یاد کیا کرتے ہیں اور آسمانوں کی اور زمین کی ساخت اور ان کے پیدا ہونے میں غور و فکر کرتے ہیں اور غورو فکر کے نتیجے کو اس طرح ظاہر کرتے ہیں اور یوں کہتے ہیں کہ اے پروردگار تو نے یہ سب کچھ فضول عبث اور بےکار و بےمقصد نہیں بنایا ہے بلکہ اس مخلوق کے بنانے میں تیری بیشمار حکمتیں اور مصلحتیں پوشیدہ ہیں ہم تجھ کو ہر عیب سے پاک سمجھتے ہیں سو تو ہم کو دوزخ کے عذاب سے بچالے۔ (تیسیر)
اہلِ عقل و خرد کا وصف بیان فرمایا کہ یہ لوگ زمین و آسمان کی پیدائش میں غور و فکر کرتے ہیں یعنی زمین و آسمان کا باہمی ربط اور اس سے جو مختلف احوال و کیفیات کا ظہورہوتا ہے اس پر گہری نظر ڈالتے ہیں اور نتیجہ خیز فکر سے کام لیتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے کمال قدرت پر ایمان لاتے ہیں کیونکہ غور و فکر ایک تو وہ ہے جو آج کل کے سائنسدان اور فلسفہ والے غور و فکر کرتے ہیں جس کا نتیجہ سوائے گمراہی کے اور کچھ نہیں اور ایک غور کرنا یہ ہے کہ نظام عالم پر غور و فکر کرنے کے بعد خالق کی وحدانیت کو تسلیم کیا جائے اور اس کے احکام کو قبول کیا جائے جو ایک مومن کامل کی شان ہے اور یہی ان اہل عقل وخرد کا کام ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ ایک غورتو ہے طرز خلقت پر مثلاً آسان کس طرح بنے۔ زمین کس طرح بنی۔ ستاروں کی گردش۔ آسمان کی گردش کے تابع ہے۔ یا ان کی حرکت مستقل ہے جو تارے ثوابت ہیں ان کی کیفیت کیا ہے ان باتوں کا تعلق علم سہیت سے ہے اور ایک غور و فکر کا مطلب ہے کہ یہ تمام نظام کسی خاص حکمت اور مصلحت کے ماتحت بنا ہے یا محض فضول اور عبث اور کھیل ہے یہ غور و فکر ہے۔
غرض خلقت میں اور آیت میں یہی زیر بحث ہے اور اسی کا وہ نتیجہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ پر ایمان یا اس ایمان کی تقویت۔
اور یہ جو فرمایا کھڑے بیٹھے اور لیٹے ذکر الٰہی میں مشغول رہتے ہیں اس ذکر سے مراد ذکر انسانی اور ذکر قلبی دونوں ہیں بلکہ نماز جو سرتاپا ذکر ہے اس کو بھی شامل ہے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے اس ذکر اللہ سے نماز مرادلی ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت ابو الدردا کا قول ہے کہ ایک گھڑی کا تفکر پوری شب کی عبارت سے بہتر ہے۔ دلمیمی نے حضرت انس ؓ سے مرفوعاً اس کو نقل کیا ہے حضرت ابوہریرہ نے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ فرمایا نبی کریم ﷺ نے ایک گھڑی کا فکر ساٹھ سال کی عبادت سے بہتر ہے حضرت ابوہریرہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ ایک شخص لیٹا ہوا آسمان کو اور تاروں کو دیکھ رہا تھا اس نے کہا میں خوب جانتا ہوں کہ اس کائنات کا ایک پروردگار اور خالق ہے یا اللہ مجھ کو بخش دے ! اللہ تعالیٰ نے اس شخص پر نظر رحمت ڈالی اور اس کو بخش دیا۔
ابن المنذر نے حضرت عون کا قول روایت کیا ہے وہ کہتے ہیں میں نے حضرت ام سلمہ سے دریافت کیا تھا کہ افضل عبادت کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا تفکر اور اعتبار یعنی غور و فکر کرنا اور عبرت حاصل کرنا۔
عامر بن قیس ؓ فرماتے ہیں میں نے بہت سے صحابہ کرام ؓ سے سنا ہے کہ ایمان کا نور یا ایمان کی ضیاء تفکر ہے۔
حضرت شیخ ابو سلیمان دارانی کا قول ہے جب میں اپنے گھر سے باہر نکلتا ہوں تو جس چیز پر میری نظر پڑتی ہے اس کو اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت دیکھتاہوں اور مجھے اس سے عبرت حاصل ہوتی ہے۔
حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ایک دن نبی کریم ﷺ مجھ سے اجازت لیکر اٹھے آپ ﷺ نے مشک سے پانی نکالا وضو کیا مسواک کی اور نماز پڑھنی شروع کی اور نماز میں روتے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے آنسو مبارک نیچے گرتے رہے پھر سجدے میں بھی اس قدر روئے کہ زمین تر ہوگئی۔ پھر آپ ﷺ صبح تک روتے رہے جب حضرت بلال ؓ حاضر ہوئے اور انہوں نے رونے کا سبب دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آل عمران کی آخری آیتیں نازل فرمائی ہیں اس شخص پر افسوس ہے جس نے ان آیتوں کو پڑھا اور ان پر غور نہیں کیا۔
حضرت ابن عباس ؓ اپنا چشم دید واقعہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ رات کو اٹھے وضو کیا اور آسمان کی طرف دیکھ کر ان فی خلق السمٰوٰت کی آیتیں پڑھیں۔
بعض روایات میں تہجد کے وقت آپ کا آل عمران کی آخری آیتوں میں سے دس آیات کا پڑھنا ثابت ہے جو آپ آسمان کی طرف دیکھ کر پڑھا کرتے تھے اور جب غور و فکر کا نتیجہ عبرت اور ایمان ہے تو اس لئے یہ اولو الالباب اس نتیجے پر پہنچ کر کہتے ہیں ہم آپ کی جملہ عیوب سے پاکی بیان کرتے ہیں خاص کر اس عیب سے پاکی بیان کرتے ہیں کہ آپ کوئی عبث اور لایعنی کام کریں۔
ایمان کے بعد اللہ تعالیٰ سے دوزخ سے بچائو کی درخواست ہے کہ آپ ہم کو آگ کے عذاب سے بچا لیجئے کیونکہ ایمان کا مقتضا یہی ہے کہ انسان کو دوزخ سے بالکل بچالیا جائے اور اگر کبھی کسی وجہ سے چند دن کے لئے دوزخ میں جانا بھی پڑے تو جلدی وہاں سے نکل جائے۔
اب آگے چند اور درخواستیں مذکور ہیں جو اسی بنیاد پر کی گئی ہیں اور جن کا مبنی یہی ایمان اور توحید ہے حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں۔ عبث نہیں بنایا یعنی اس عالم کا انتہا ہے دوسرے عالم میں۔ (موضح القرآن)
شاہ صاحب نے باطل کی شرح خوب فرمائی۔ جہاں اس عالم وجود خدا تعالیٰ کی توحید کے لئے دلیل ہے وہیں اس کے تغیرات اس امر پر بھی دلیل ہیں کہ یہ عالم فنا ہونے والا ہے اور اس کے بعد دوسرا عالم ہے تو گویا غور و فکر کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور یوم آخرت پر ایمان لاتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayah 3:194ف 2 اے ہمارے پروردگار ہم دوزخ کے عذاب سے اس لئے پناہ مانگتے ہیں کہ بلاشبہ جس کو تو نے دوزخ میں داخل کردیا تو واقعی اس کو رسوا ہی کردیا اور ایسے ظالموں اور ناانصافوں کا کوئی بھی ساتھی اور مددگار نہیں۔
اے ہمارے پروردگار ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا کہ وہ ایمان لانے کے واسطے منادی کررہا ہے اور یہ کہہ رہا ہے کہ تم لوگ اپنے رب پر ایمان لے آئو لہٰذا اے ہمارے پروردگار ! ہم ایمان لے آئے۔ اے ہمارے پروردگار اب تو ہمارے بڑے گناہوں کو بھی بخش دے اور ہماری چھوٹی خطائوں کو بھی ہم سے زائل کردے اور ہمارے قصوروں کو بھی معاف کردے اور ہم کو نیک لوگوں میں شامل رکھتے ہوئے موت دے یعنی نیکی پر خاتمہ فرما۔
اے ہمارے پروردگار ! جن چیزوں کا تو نے اپنے رسولوں کی معرفت ہم سے وعدہ کیا ہے وہ چیزیں ہم کو عطا کردے اور ہم کو قیامت کے دن رسوا نہ کر اور یقیناً تو وعدہ خلافی نہیں کیا کرتا اور اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ (تیسیر)
اوپر کی آیت میں حضرت ا اولی الالباب کے ذکر و فکر کا ذکر تھا اور مصنوعات عالم سے ایک خالص اور واجب الوجود پر استدلال کا ذکر فرمایا تھا اور آخر میں حضرت کی تنزیہ اور تقدیس کا ذکر فرمانے کے بعد ان کی درخواست مذکور تھی کہ اے ہمارے پروردگار دوزخ کے عذاب سے ہم کو بچا لیجئے۔ اب ان آیات میں ان کی اور دعائیں مذکور ہیں دعائیں نہایت جامع ہیں پہلی دعا میں دوزخ سے پناہ مانگنے کی وجہ بیان کی ہے کہ دوزخ میں جس کو آپ نے داخل کردیا تو اسے رسوا کردیا کیونکہ تمام مخلوق کے روبرو رسوائی ہوئی اور کوئی اس کا مددگار اور حمایتی بھی نہیں ہوسکتا کیونکہ دوزخ میں بھیجنا حضرت حق کے قہر کی علامت ہے اور مقہور کی حمایت کرنا ان کے قہر کو رفع کرنا ہے اور یہ ہو نہیں سکتا ورنہ ان کا عجز لازم آئے گا اور بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس سے کافر مراد ہیں اور من تدخل النار کا مطلب یہ ہے کہ جس کو ہمیشہ کے لئے جہنم میں داخل کردیا۔ اگرچہ یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے گناہ گار مومن مراد ہوں۔
تیسری درخواست میں ضمناً نبی کریم ﷺ کی رسالت کا اعتراف ہے اور استدلال عقلی کے بعد نقلی دلیل کے ساتھ بھی اپنے ایمان لانے کا اظہار ہے اور کبائر و صغائر کی معافی کے لئے درخواست ہے اور خاتمہ بخیر ہونے کی دعا ہے۔
مح الابرار سے مراد معیت زمانی نہیں ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ جب ہماری موت آئے تو ہم زمرئہ ابرار میں شامل ہوں اور ہمارا نیک لوگوں میں شمار ہو۔
منادیا ینادی للایمان سے مراد سید المرسلین ﷺ ہیں اور یہ جو فرمایا کہ ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا کہ وہ دعوت الی الایمان دے رہا ہے۔ یہ سننا بلاواسطہ ہے ان لوگوں کے لیے جو حضور ﷺ کے زمانے میں موجود تھے اور بالواسط سننا ہے ان لوگوں کے لئے جو بعد میں آنے والے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ منادی سے مراد قرآن کریم ہو اور قرآن کریم کا منادی ہونا ہر زمانے میں ہے۔
اس کے بعد آخری دعا میں یہ عرض کیا ہے کہ اے پروردگار جس طرح ہم نے آپ سے عذاب اور گناہوں کے ضرر سے بچنے کی درخواست کی ہے اسی طرح ہم آپ سے دینی اور دنیوی منافع کے بھی طلبگار ہیں اور آپ نے اپنے رسولوں کی زبان سے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ ہم اپنے مومن اور نیک بندوں کو دنیا میں نصرت و فتح عطا کریں گے اور آخرت میں ان کو ثواب اور جنت عطا فرمائیں گے اس لئے ہم آپ سے عرض کرتے ہیں کہ جن چیزوں کا آپ نے وعدہ کیا ہے وہ ہم کو عنایت کردیجئے اور چونکہ قیامت کے دن یہ بھی اندیشہ ہے کہ کچھ عتاب یا ملامت یا کچھ دن عذاب کے بعد جنت میں بھیجا جائے اس لئے ہماری درخواست ہے کہ ہم کو ہر قسم کی رسوائی سے محفوظ رکھا جائے اور بغیر کسی رسوائی اور توبیخ و تعذیب کے ہم کو جنت میں بھیج دیا جائے۔
آخر میں انک لا تخلف المیعاد کہہ کر اس وہم کو رفع کردیا گیا کہ آپ کی طرف سے خلف وعدہ کا احتمال نہیں ہے لیکن ہم کو اس کا خطرہ ہے کہ کہیں ہم اپنے اس معیار پر پورے نہ اتریں جس معیار کے لوگوں سے آپ نے وعدہ فرمایا ہے اس لئے ہم کو ان نیک لوگوں جیسا کردیجئے اور ویسا ہی رکھئے جس سے ہم اس وعدے کے مستحق رہیں۔ ان اٰمنوا بربکم کی تفسیر کئی طرح کی گئی ہے ہم نے ایک طریقہ اختیار کرلیا ہے جو ہمارے ترجمے سے ظاہر ہے۔ ذنوب سے مراد کبیرہ اور سیات سے مراد صغیرہ گناہ ہیں اور ہوسکتا ہے کہ پہلے اور پچھلے گناہ مراد ہوں۔ اور ہوسکتا ہے کہ ذنب سے مراد وہ گناہ ہیں جن کو گناہ جان کر کیا ہو اور سیات سے وہ گناہ مراد ہوں جو جہالت سے کئے ہوں۔
بہرحال ہم نے حضرت عبداللہ بن عباس کا قول اختیار کیا ہے۔ تکفیر کے معنی اصل میں توڈھانک لینے کے ہیں لیکن عام طور سے ازالہ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بڑے گناہ معاف کردیجئے اور چھوٹی موٹی تقصیرات پر پردہ ڈال دیجئے۔
بہرحال دوزخ سے بچ جانا اور جنت میں داخل ہوجانا۔ طاعات کی توفیق کامل ہوجانا اور گناہوں کا معاف ہوجانا یہی وہ چیزیں ہیں جس کی ایک مسلمان کو ضرورت ہے۔ اور یہ سب باتیں ان دعائوں میں موجود ہیں آگے کی آیت میں ان دعائوں کی اجابت اور قبولیت کا اعلان ہے۔ چناچہ ارشاد فرماتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayahs 3:195–198ف 1 پھر ان لوگوں کے پروردگار نے ان کا دعا قبول فرمالی اور ان کی درخواست منظور فرما لی اور یوں فرمایا کہ میرا دستور یہ ہے کہ میں کسی محنت کرنے والے کی محنت کو جو تم میں سے محنت کرنے والا ہو ضائع نہیں کیا کرتا اور جو شخص تم میں سے نیک عمل کرنے والا ہو اس کے نیک عمل کو اکارت اور ضائع نہیں کیا کرتا خواہ وہ نیک کام کرنے والا مرد ہو یا عورت ہو کیونکہ تم سب آپس میں ایک دوسرے کی مثل اور ایک دوسرے کے جزو ہو۔ لہٰذا جن لوگوں نے ہجرت اختیار کی وہ اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں وہ اور مختلف قسم کی تکلیفیں دیئے گئے اور اس سے بڑھ کر یہ کہ انہوں نے میری راہ میں جہاد بھی کیا اور بہت سے شہید بھی کئے گئے تو میں ضرور ان لوگوں کی تمام خطائیں ان سے دور کردوں گا اور معاف کردوں گا اور یقیناً ان کو ایسے باغات میں داخل کردوں گا جن کے محلات اور سیرگاہوں کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی ان کو یہ صلہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سے ملے گا اور اللہ تعالیٰ ہی کے پاس بہترین صلہ ہے۔
استجابت کے معنی ہیں جواب دینا۔ قبول کرلینا، منظور کرلینا کسی پکارنے والے کی پکار پر پہنچ جانا۔ انی لا اضیع۔ بطور سبب کے ہے کہ میرا قاعدہ اور میرا دستور اور میری عادت یہ ہے کہ تم میں سے ایمان لانے کے بعد جو شخص محنت شاقہ برداشت کرے گا اور اعمال نیک بجالاتا رہے گا تو میں اس کے کام کا صلہ اور ثواب ضائع نہیں کروں گا اور چونکہ اس معاملہ ، ثواب اور اجر میں مرد اور عورت کا کوئی فرق نہیں۔
اس لئے فرمایا بعضکم من بعد یعنی اس معاملہ میں مرد اور عورت سب ایک ہی جیسے ہیں یا یہ مطلب کہ سب کی اصل ایک ہی ہے یا یہ کہ مرد عورت سے اور عورت مرد سے ہے یعنی ایک دوسرے کا جزو ہے۔ (واللہ اعلم)
ہم نے ترجمہ اور تیسیر میں چند اقوال کا لحاظ رکھا ہے ورنہ معنی تو اور بھی بہت سے ہیں پھر اسی دستور پر تفریع ہے اور عمل کرنے والوں کے چند اہم اعمال کی تصریح ہے جو مضمون سابق کے مناسب ہے کہ جن لوگوں نے ترک وطن کیا اور یہ ترک وطن بھی ان بیچاروں کو مجبور کرکے کرایا گیا اور ان کو محض اس جرم میں کہ وہ اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لے آئے تھے ان کو وطن سے اور ان کے گھروں سے نکالا گیا اور میرے راستے میں ان کو اور صدہا قسم کی تکلیفیں پہنچائی گئیں اور ترک وطن گھروں سے نکالا جانا اور ایذارسانی اور قتل و قتال اور شہادت یہ سب میری وجہ سے ہوئی اور مجھ پر ایمان لانے کی وجہ سے یہ سب کچھ ہوا اور میرا دستور یہی ہے کہ میں کسی عمل کرنے والے کے عمل کے اجر وثواب کو برباد نہیں کرتا لہٰذا ان انتھک کام کرنے والوں کو اپنے اعلان کے ذریعہ مطلع کرتا ہوں کہ میں ان لوگوں کے تمام قصور معاف کردوں گا اور تمام تقصیرات کو ان کی مٹادوں گا۔ تقصیرات سے مراد صغائر تو ظاہر ہی ہیں۔ جیسا کہ اکثر نے کہا ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ حقوق الٰہی کا جہاں تک تعلق ہے ان سیأت کو صغائر سے عام رکھا جائے۔ جیسا کہ بعض اکابر نے کہا ہے البتہ اس عام میں سے حقوق العباد کو مستثنیٰ کردیا جائے۔
جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ دین اور قرض معاف نہیں ہوتا۔ (واللہ اعلم) اور قٰتلوا اور قتلوا کا یہ مطلب نہیں کہ سب کے سب جہاد کرنے والے شہید ہوگئے بلکہ مطلب یہ ہے کہ جو مرگئے وہ مرگئے باقی آخر تک میدان جہاد جمے رہے۔ جیسا کہ ہم نے تیسیر میں اشارہ کیا ہے کہ بہت سے مارے بھی گئے اسی طرح فی سبیلی کا تعلق بھی تمام افعال مذکورہ سے ہے۔ جیسا کہ ہم نے تسہیل میں وضاحت کردی ہے۔
واللہ عندہ حسن الثواب کا مطلب یہ ہے کہ بہترین اور اچھا صلہ تو سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کہیں نہیں مل سکتا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس ثواب مذکور سے اور بہتر ثواب بھی اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور اس سے اشارہ قرب الٰہی اور دیدارِ الٰہی کی جانب ہو۔ (واللہ اعلم) اور نہروں کے نیچے بہنے کا مطلب وہی ہے جو ہم کئی دفعہ عرض کرچکے ہیں کہ باغوں کی سطح اونچی ہو اور نہروں کی سطح نیچی ہو یانہروں کے کنارے پر باغ ہوں اور یا یہ کہ جو بارہ دری اور محل اور سیرگاہ ہو اس کے نیچے نہروں کا پانی بہہ رہا ہو۔ (واللہ اعلم)
اب آگے کافروں کے انجام کا بیان فرماتے ہیں جیسا کہ قرآن کریم کا قاعدہ ہے تاکہ دونوں باتوں پر غور کرنے کا موقعہ مل جائے اور ایمان و کفر کی حقیقت اور دونوں کا انجام معلوم ہوتا رہے اور اوپر یہ بحث آبھی چکی ہے کہ کفار کے عیش اور اہل ایمان کی مصیبت سے دھوکہ نہ کھانا چاہئے۔ چناچہ پہلی آیت میں کفار کے عیش کی بےثباتی اور دوسری آیت میں اہل تقویٰ کا اجر وثواب اور تیسری آیت میں مؤمنین اہل کتاب جو اپنی شریعت کے بعد نبی آخر الزماں ﷺ کی شریعت پر ایمان لائے ان کے اجر وثواب کا ذکر ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 3:199ف 1 اے پیغمبر ! آپ کو ان کافروں کا شہر بشہر تجارت اور دنیوی فوائد کے لئے چلنا پھرنا اور آنا جانا کسی غلطی اور دھوکے میں مبتلا نہ کردے یہ بہت تھوڑا سافائدہ ہے جو تھوڑے دنوں کے لئے ہے اور مرنے کے بعد کچھ بھی نہیں پھر ان کا آخری ٹھکانا جہنم ہے اور وہ جہنم بہت ہی بری آرام گاہ ہے لیکن برعس اس کے وہ لوگ جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے رہنے کیلئے ایسے باغات ہیں جن کے محلات اور سیرگاہ کے نیچے نہریں بہ رہی ہونگی ان باغوں میں وہ ہمیشہ سکونت پذیر ہوں گے یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی مہمانی اور مہمانی کا سامان ہوگا اور جو چیزیں اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں وہ نیک لوگوں کے لئے کفار کے ان چند روزہ دنیوی سازو سامان سے بدرجہا بہتر ہیں اور یقیناً اہل کتاب میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ضرور ہیں جو اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کی کتاب اور اس تعلیم پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو تمہاری طرف بھیجی گئی ہیح اور اس کتاب کے ساتھ بھی اعتقاد رکھتے ہیں جو ان کی طرف بھیجی گئی تھی اور اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے میں ان کی حالت یہ ہے کہ وہ اس کے لئے عاجزی کرتے ہیں اور اس سے ڈرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی آیات کے مقابلہ میں دنیا کا کم حقیقت معاوضہ نہیں حاصل کرتے پھرتے اور اللہ کی آیات بےحقیقت قیمت کے عوض فروخت نہیں کیا کرتے ایسے لوگوں کو ان کے رب کے ہاں ان کا اجر ملے گا۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جن کی مزدوری اور حق الخدمت ان کے پروردگار کے پاس موجود ہے۔
یقین مانو ! کہ اللہ تعالیٰ بہت جلد حساب کرنے والا ہے اور وہ بہت جلد ہی حساب بےباق کردیا کرتا ہے۔ (تیسیر)
لایغرنک میں خطاب نبی کریم ﷺ سے ہے اور مطلب یہ ہے کہ آپ کو اپنی رائے پر ثابت رہنے کا حکم دیا گیا ہے یہ مطلب نہیں کہ معاذ اللہ آپ میں کوئی تزلزل رونما تھا اور اس قسم کا کوئی خیال کرنا حضور انور ﷺ کی عصمت کے بھی منافی نہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ خطاب آپ کو ہے مگر مراد آپ کی امت ہو۔
جیسا کہ عام طور پر حکم سردار اور حاکم کے نام ہو مگر مراد اس کے متبعین اور ماتحت ہوتے ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ خطاب ہر مخاطب کو ہو۔
تقلب کے معنی لوٹ پلٹ۔ چلت پھرت آنا جانا۔ خواہ وہ تجارت کی غرض سے ہو یا نفع کی غرض سے ہو بہرحال شہر بشہر کا ان کا جانا اور دنیوی منافع اور مکاسب کا حاصل کرنا اور سیرو تفریح کے مزے اڑانا یہ باعث رشک نہ ہونا چاہئے اور اس سے کسی مغالطہ میں مبتلا نہ ہو جیسا کہ بعض لوگوں کو خیال ہوجاتا ہے کہ یہ اللہ کے دشن تو دنیا بھر کے مزے لوٹتے پھرتے ہیں اور ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں اور پھر ہر قسم کے مصائب میں مبتلا ہیں تو کافروں کا یہ عیش اور یہ عارضی فائدہ قابل التفات نہ ہونا چاہئے یہ مزے آخرت کے مقابلے میں اول تو کوئی حقیقت نہیں رکھتے پھر یہ لوگ آخرت میں ہر فائدے سے محروم ہیں کیونکہ ان کا آخری ٹھکانا دوزخ ہے۔
مہد کے معنی ہم بتاچکے ہیں کہ مہد اصل میں تو اس جگہ کو کہتے ہیں جو بچہ کے سونے کیلئے بناتے ہیں لیکن عام طور سے فرش ، بچھونا اور رہنے کی جگہ کے لئے استعمال ہوتا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے مہاد کا ترجمہ منزل کیا ہے تقلب کو متاع فرمانے میں مسبب کو سبب کے قائم مقام کردیا ہے ورنہ تقلب متاع کا سبب ہے لکن الذین اتقوا کا یا تو یہ مطلب ہے کہ جو لوگ ان میں سے اپنے پروردگار سے ڈریں اور ایمان لے آئیں تو ان کیلئے آخرت میں بھی ثواب ہے۔ اور یا یہ مطلب ہے کہ کسی کو یہ وہم نہ ہو کہ نفس تقلب اور مکاسب و منافع کا مقتضا جہنم اور ثواب آخرت سے محرومی نہیں بلکہ جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہیں وہ باوجود تجارت کرنے اور شہر ور شہر جاکر نفع حاصل کرنے کے بھی اجر وثواب کے حقدار ہوں گے۔
مطلب یہ ہے کہ آخرت کا اجر وثواب تو اہل تقویٰ کے لئے ہے اگر وہ تاجر ہوں اور شہر بہ شہر آتے جاتے بھی ہوں تو وہ آخرت سے محروم نہ ہوں گے کیونکہ تجارت کرنا یا سیرو سیاحت کی غرض سے یا تبدیلی آب و ہوا کی غرض سے سفرک رنا یا تفریح کے لئے کہیں آنا جانا اگر تقویٰ کے ساتھ ہو تو موجب جہنم نہیں ہے۔ آخرت کی محرومی کا اصل سبب تو کفر ہے۔
نزلا کے معنی مہمانی یا وہ چیز جو مہمان کے لئے تیار کی جائے۔ بہرحال اہل تقویٰ کا یہ مرتبہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مہمان ہوں گے اور جن باغات کا ذکر کیا گیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی مہمانی کا سامان ہوگا۔
وما عند اللہ خیرا کا ایک مطلب تو وہی ہے جو ہم نے تیسیر میں عرض کیا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس اپنے بندوں کے لئے جو کچھ بھی ہے یعنی جو چیزیں ہم نے ذکر کی ہیں اس کے علاوہ بھی جو کچھ ہے۔ مثلاً قرب، رحمت، کرامت، رویت یہ مذکورہ اور غیر مذکورہ سب چیزیں بہرحال متاع قلیل سے بدرجہا بہتر ہیں۔
آخر میں بعض ان اہل کتاب کا ذکر فرمایا جو مسلمان ہوگئے تھے ان کے اوصاف میں چند باتیں فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان، قرآن اور اسلامی تعلیمات پر ایمان اور توریت و انجیل پر اعتقاد
اللہ تعالیٰ کی جناب میں خشوع اور خضوع اور کتمان حق کا ترک یعنی رشوتیں لے کر اور دنیوی عزت و وجاہت کی خاطر جو تحریف و تبدیل کرتے تھے یا حضور ﷺ کی نعت چھپاتے تھے اس سے توبہ۔ ایسے نو مسلموں کے لئے بھی اجر وثواب کا وعدہ فرمایا۔ حساب جلدی لینا کنا یہ ہے۔ جلدی اجرت کے مل جانے کا جو حساب جلدی کرے گا وہ بےباق بھی جلدی کردے گا اور جو حساب کا لیچڑ ہوگا وہ بھگتان کا بھی لیچڑ ہوگا۔ یا جلدی کا مطلب یہ ہے کہ قیامت قریب ہے اور یہ حساب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لے گا۔
ہم تفصیل پہلے عرض کرچکے ہیں اردو میں بھی دونوں محاورے استعمال ہوتے ہیں ایک حساب جلدی لینا یعنی حساب لینے میں تاخیر نہ کرنا اور ایک جلدی لینا یعنی جلدی سے کردینا اور سیکنڈوں میں ختم کردینا۔
ان اللہ سریع الحساب میں دونوں کی گنجائش ہے ہوسکتا ہے کہ لکن الذین اتقوا سے مراد نو مسلم یہودی عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی ہوں۔ اور ان من اھل الکتاب سے مراد نو مسلم نصرانی نجاشی اور اس کے ساتھی ہوں اور ہوسکتا ہے کہ دونوں آیتوں کا تعلق فقط نو مسلم یہود سے ہو یا فقط نو مسلم نصاریٰ سے ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لکن سے مراد نو مسلم کافر ہوں اور ان من اھل الکتاب سے نو مسلم یہودو نصاریٰ ہوں۔
شان نزول میں روایات مختلفہ ہیں۔ البتہ وان من اھل الکتاب سے نجاشی کا مراد ہونا یقیناً راجج اور صحیح ہے۔ (واللہ اعلم) چونکہ شروع سورت میں بخران کے نصاریٰ اور وفد نجران کے شہادت کا جواب تھا اس لئے آخر میں نجاشی کے اسلام اور اس کے اج وثواب کا تذکرہ اور اس کے خشوع و خضوع کا ذکر فرمانا مناسبت کے اعتبار سے بعید از قیاس نہیں ہے۔
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ جب نجاشی کا انتقال ہوا تو نبی کریم ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ تم اپنے بھائی کے لئے استغفار کرو اس پر بعض لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ ایک حبشی کے لئے جو حبشہ میں رہتا تھا استغفار کا حکم کرتے ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی
ابن جریر کی روایت میں ہے جب نجاشی مرگیا جس کا نام اصحمہ تھا تو آپ نے اصحاب کو حکم دیا کہ تمہارا بھائی اصحمہ مرگیا ہے پھر آپ نے باہر نکل کر جنازے کی نماز کی طرح نماز پڑھی چار تکبیریں کہیں اس پر منافقوں نے کہا ایک حبشی کے لئے نماز پڑھتے ہیں جو حبشہ میں مرا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ
(1) کفار کی خوشحالی اور عیش کو دیکھ کر متاثر نہ ہو اور مخالطہ نہ کھائو یہ چند روزہ نفع سے جو ناقابل التفات ہے کیونکہ یہ تمام منافع آخرت کے مقابلہ میں ہیچ ہیں۔
(2) اس کا یہ مطلب نہ سمجھنا کہ اگر کوئی مسلمان خوشحال ہو اور تجارت سے نفع کماتا ہو تو اس کا سفر بھی موجب حرماں ہے اور اس کا بھی آخری ٹھکانا جہنم ہے نہیں بلکہ مسلمان اس سے مستثنا ہیں۔
(3) تقویٰ سے مراد یہاں بھی ہر مرتبہ کا تقویٰ ہے جو قائلیں توحید و رسالت کو بھی شامل ہے اسی لئے ہم نے ترجمہ مسلمان کیا ہے اور جب معمولی درجہ کا موحد مسلمان مستثنا ہے تو متقی بالاولیٰ مستثنا ہوں گے۔
(4) ایسے خوش حال مسلمانوں کے لئے خواہ وہ نو مسلم ہی ہوں باغ ہیں اور نہریں ہیں اور یہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور مہمانی ہیں۔
(5) یہ تمام مذکورہ چیزیں اور ان کے علاوہ اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاں ہے وہ نیک لوگوں کے لئے کافروں کی خوش حالی سے کہیں بہتر ہے۔
(6) اہل کتاب میں خواہ وہ نصرانی ہوں یا یہودی ہوں جو کتب سماویہ پر اعتقاد رکھے گا اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ اعتقاد رکھے گا اور اللہ کے سامنے عاجزی کرے گا اور آیات الٰہی کو کم حقیقت قیمت پر فروخت کرتا نہ پھرے گا اور رشوتیں لے کر احکام الٰہی کو بدلے گا نہیں اور حق بات کو چھپائے گا نہیں تو ایسے نو مسلم لوگوں کے لئے اللہ کے پاس ان کا اجر وثواب موجود ہے اور ان کے ساتھ بھی وہی معاملہ ہوگا جو مسلمانوں کے ساتھ ہوگا۔
(7) اللہ تعالیٰ کے حساب لینے میں تاخیر نہیں ہے اور وہ بہت جلد حساب لے لیتا ہے اس کے حساب کرنے میں دیر نہیں لگتی۔
(8) خاشعین للہ سے معلوم ہوا کہ یہ نومسلم اہل کتاب کا ذکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو تو عام طور سے غیر مسلم اہل کتاب بھی مانتے تھے لیکن ان میں خشوع نہ تھا اور اسی بنا پر وہ نبی آخر الزماں اور قرآن کریم کی مخالفت کرتے تھے۔ (واللہ اعلم)
اب سورت کے ختم پر تمام معاملات پر جو اہل اسلام کو کفار کی جانب سے پیش آئے تھے اور جن کا ذکر اس سورت میں آتا رہا ہے ان معاملات کے لئے ایک ضابطہ بیان کرتے ہیں اور اسی ضابطہ پر اس سورت کو ختم فرمایا ہے۔ (تسہیل)
Ayah 3:200ف 2 اے ایمان والو ! تم مصائب پر صبر کرو اور تکالیف کو برداشت کرو اور جب جہاد اور میدانِ جنگ میں ہو تو دشمن کے مقابلے میں مضبوطی کے ساتھ جمے رہو اور حق کی خدمت کے لئے آمادہ و مستعد اور کمربستہ رہو اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو تاکہ تم اپنے مقصد میں پوری طرح کامیاب اور فائز المرام ہو۔ (تیسیر)
آیت میں مسلمانوں کو چار باتوں کا حکم دیا گیا ہے پہلی بات کا مطلب یہ ہے کہ اپنے دین پر قائم رہوجس قسم کی تکلیف پیش آئیں ان کو ہمت کے ساتھ برداشت کرو خواہ وہ تکلیف نفس اور شیطان کے مقابلہ کی وجہ سے پیش آئے یا حضرت حق کی محبت اور عبادت میں پیش آئے یا کفار اور دشمنان دین کی جانب سے پیش آئے یا اور کسی قسم کی بلا اور مصیبت پیش آئے۔
دوسری بات کا مطلب یہ ہے کہ خدمت کے لئے آمادہ اور کر بستہ رہو خود بھی مستعدرہو اور اپنے سامان اور گھوڑوں کو بھی تیار رکھو۔ مرابطہ کی تفصیل تو ہم ابھی عرض کریں گے یہاں دو معنی ذہن نشین کرلینے چاہئیں۔ ایک معنی تو یہ ہیں کہ دارالاسلام کی حدود کا پہرہ دو اس حد کی حفاظت کرو جو دارالاسلام اور دارالکفر کے مابین ہے تاکہ دشمن اسلامی ملک کی حد میں داخل نہ ہوسکے اور دوسرے معنی ہیں اللہ تعالیٰ کے عام احکام کی پابندی اور اس پابندی پر مواظبت اس دوسرے معنی میں ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا بھی داخل ہے کیونکہ یہ بھی ایک حکم ہے اگرچہ استحبابی ہے۔
چوتھی بات کا مطلب یہ ہے کہ حضرت حق جل مجدہ سے ڈرتے رہو اور یہ ڈرنا ہر حال میں ہے اگر اللہ تعالیٰ کا خوف ہوگا تو ہر حکم کے بجالانے میں خلوص اور نیک نیت رہے گی اور جو عمل نیک نیتی پر مبنی ہوگا وہ مقبول ہوگا۔ اور یہی مقصد کی کامیابی ہے کہ حق تعالیٰ کی خوشنودی کی غرض سے جو کام کیا جائے اس کو وہ قبول فرمالے اور جو اث ایک مقبول عمل پر مرتب ہوتا ہے وہ مرتب ہوجائے۔
حدیث شریف میں آتا ہے فرمایا نبی کریم ﷺ نے کیا میں تم کو ایسا عمل نہ بتائوں جو خطائوں کو مٹا دیتا ہے اور درجوں کو اونچا کرتا ہے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا تکلیف کے وقت اچھی طرح وضو کرنا، مساجد کی طرف بکثرت جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا یہی رباط ہے یہی رباط ہے یہی رباط ہے۔ (مسلم نسائی)
حضرت ابوہریرہ نے ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے کہا تو جانتا ہے یہ آیت ان لوگوں کے حق میں نازل ہوئی ہے جو مسجدوں کو آباد رکھتے ہیں۔ نماز وقت پر پڑھتے ہیں پھر وہاں بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کا ذ کر کرتے ہیں۔ یہی قول ہے حضرت علی ؓ ، حضرت جابر بن عبداللہ، ابو ایوب، ابن عباس، سہل بن حنیف اور محمد بن کعب قرظی کا ؓ اجمعین۔
حضرت سہل بن سعد سے مرفوعاً روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک دن کا دینا دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے۔ (بخاری مسلم)
سلمان فارسی کے مرفوعاً الفاظ یہ ہیں کہ اللہ کی راہ میں ایک دن رات کا رباط ایک مہینے کے روزوں اور رات کی عبادت سے بہتر ہے۔ اگر ایسی حالت میں مرجائے گا تو اس کا عمل قیامت تک جاری رہے گا۔ (مسلم)
حضرت ابوہریرہ سے مرفوعاً روایت ہے جو شخص رباط کی حالت میں مرا وہ قبر اور قیامت کے فتنے سے مامون ہوگیا اور اس کو صبح شام رزق دیا جاتا ہے اور اس کیلئے قیامت تک مرابط کا ثواب لکھا جاتا ہے۔ (احمد)
امام احمد نے ابو ریحانہ سے نقل کیا ہے اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک شب جاگنے والی آنکھ پر جہنم ۔۔ حرام کردی گئی ہے۔
غرض ! اس باب میں بیشمار احادیث مروی ہیں اور دونوں معنی کی گنجائش ہے اصحاب رسول اللہ ﷺ نے دونوں قول اختیار کئے ہیں۔ خواہ مواظبت علی الطاعات اختیار کرلیا جائے یا حدود دارالاسلام کی حفاظت و حراست اختیار کرلیا جائے۔ ایک قول کا تعلق زمانۂ امن سے ہے اور دوسرے کا زمانۂ جنگ سے۔ (واللہ اعلم بالصواب)
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں۔ ثابت رہو۔ یعنی دین پر اور مقابلے میں یعنی جہاد میں اور لگے رہو یعنی کافروں کے سامنے۔ (موضح القرآن)
حضرت عثمان بن عفان سے دارمی نے نقل کیا ہے جو شخص کسی شب کو آل عمران کی آخری آیات کی تلاوت کرلیتا ہے تو وہ رات اس کی عبادت میں لکھی جاتی ہے۔
دارمی نے مکحول سے یہ بھی نقل کیا ہے جو شخص جمعہ کے دن آل عمران کا آخری حصہ تلاوت کرتا ہے تو فرشتے رات تک اس کے لئے رحمت کی دعا کرتے رہتے ہیں۔ (تسہیل)
الحمد اللہ ! کہ آج 72 صفر 6631ھ چہار شنبہ کے روز دن کے گیارہ بجے اپنے تقصیر علمی کے اعتراف کے ساتھ سورة آل عمران کی تفسیر ختم کررہا ہوں۔ اس حقیقت کا مکرر اعتراف کرتا ہوں کہ قرآنی مطالب اور مفاہم کی وسعت کے مقابلے میں میری تفسیر محض لاشی ہے اور نیک ناپیدا کنار سمندر میں سے ذرا سی بھی نمی نہیں ہے جو کچھ اپنے اساتذہ سے سنا اور جو اپنے اکابر کی تفاسیر سے سمجہا اس کا خلاصہ عرض کردیا ہے تاکہ عوام کو یہ کہنے کا موقعہ نہ ملے کہ ہم کو کسی نے قرآن کا ترجمہ نہیں سمجھایا ہم قرآن کو کس طرح سمجھتے۔
فقیر کو خدا کے فضل و کرم سے پوری توقع ہے کہ یہ تفسیر اور ترجمہ مسلمانوں کے لئے مفید ہوگا میں اللہ تعالیٰ کی جناب میں ملتجی ہوں کہ ترجمہ، تیسیر اور تسہیل کو قبول فرمائے اور مجھے دین و دنیا کی ذلت و رسوائی سے محفوظ رکھے اور فقیر کا خاتمہ اسلام پر فرمائے اور زمرئہ صالحین و مرابطین میں داخل کردے۔
اللھم وفقنا لما تحب وترضی واجعلنا من الموالبطین۔ و صلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ محمد والہ اجمعین۔
اب آگے سورة نساء کی تفسیر شروع ہوتی ہے۔ فقیر احمد سعید کان الہ لہ 72 صفر 6631 ء یوم چہار شنبہ۔