Ayah 3:46ف 2۔ اور وہ لوگوں سے گہوارے اور ماں کی گود میں بھی کلام کرے گا اور بڑی عمر کو پہنچ کر بھی لوگوں سے کلام کرے گا یعنی حالت رضاعت و طفولیت کے کلام میں اور بڑی عمر کے کلام میں باہم کوئی فرق نہ ہوگا اور وہ ان نیکو کار لوگوں میں سے ہوگا جو صلاح کے انتہائی مرتبہ پر فائز ہوتے ہیں ۔
مطلب یہ ہے کہ وہ صاحب معجزات ہوگا جو بچنے میں بھی لوگوں سے بات چیت کرے گا ۔ مہد اس مقام کو کہتے ہیں جو بچوں کے لئے بنایا جاتا ہے ۔ خواہ ماں کی گود ہو ، یا گہوارہ ہو ۔ جھولا ہو یا پنگورا ہو ۔ صلاح کا مطلب ہم اوپر بیان کرچکے ہیں یعنی صلاح اور نیکو کاری کا بلند سے بلند مرتبہ۔
کہولت میں مفسرین کے کئی قول ہیں عام طور سے کہولت چالیس سال کے بعد کی عمر کو کہتے ہیں ان کا رفع الی السماء کہولت سے قبل ہوا ہے کیونکہ جب ان کو آسمان پر اٹھایا گیا تو ان کی عمر تینتیس سال تھی ، لہٰذا کہولت میں کلام کرنا ان کا باقی ہے اور قرآن کی یہ پیشین گوئی اس وقت پوری ہوگی جب وہ آسمان سے نازل ہوں گے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ہدایت کی باتیں سکھا دے گا لوگوں کو سو وہ باتیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ماں کی گود میں کہیں یا نبی ہو کر کہیں۔ ( موضح القرآن)
اب آگے حضرت مریم کا قول ہے کہ یہ بشارت کس طرح پوری ہوگی اور اس کی شکل کیا ہوگی کیونکہ بچہ مرد و عورت کی مواصلت سے ہوتا ہے اور مجھ کو تو کسی اجنبی مرد نے ہاتھ تک نہیں لگایا تو مجھ کو نکاح کا حکم دیا جائیگا یا بدون باپ کے بچہ ہوگا چناچہ ارشاد ہوتا ہے (تسہیل)
Ayahs 3:47–48ف 3۔ اس پر حضرت مریم (علیہ السلام) نے کہا اے میرے پروردگار ! میرے ہاں لڑکا کس طرح ہوگا حالانکہ مجھ کو تو کسی آدمی نے چھوا تک بھی نہیں ۔ فرشتے کے واسطے سے جواب دیا گیا کہ اسی طرح بلا مردھ کے تیرے ہاں بچہ ہوگا اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ یعنی وہ کسی واسطے اور سبب کا محتاج نہیں ہے وہ جب کسی شے کو پورا کرنے کا فیصلہ کرتا ہے اور کسی چیز کو پورا کرنا چاہتا ہے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اس چیز کو کہتا ہے کہ موجود ہوجا بس وہ چیز موجود ہوجاتی ہے۔ ( تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ حضرت مریم نے کیفیت دریافت کی جواب دیا گیا کہ بغیر آدمی کے ہاتھ لگائے اور کسی مرد کی صحبت کئے بغیر ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ اسباب دو سائط کا محتاج نہیں ہے جس طرح وہ کسی چیز کو اسباب کے ساتھ بتدریج پیدا کرنے پر قادر ہے اسی طرح دفعتہ اور بلا اسباب وسائط کے بھی پیدا کرنے پر قادر ہے۔ جب وہ کسی چیز کو موجود کرنا چاہتا ہے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ اس چیز کو حکم دیتا ہے کہ موجود ہو وہ موجود ہوجاتی ہے اگر اسباب وہ سائط سے موجود ہونے کا حکم ہوتا ہے تو اسباب و وسائط سے ہوجاتی ہے اور اگر بلا اسباب و وسائط کے حکم ہوتا ہے تو بلا اسباب و وسائط کے موجود ہوجاتی ہے ان کے ارادے اور ان کی مشیت کے تعلق پر عالم تکوین کی ہر شے کے وجود عدم کا دارمدار ہے۔
قضی امراً اگرچہ احکام کی قضا پر بولا جاتا ہے لیکن یہاں حضرت حق جل مجدہٗ کا ارادہ مراد ہے یعنی جب وہ کسی چیز کے موجود کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو بس اس کو یہ کہتا ہے کہ موجود ہو جاوہ چیز موجود ہوجاتی ہے۔
خلاصہ ی ہے کہ جملہ مقدورات پر کمال قدرت حاصل ہے۔ جس وقت چاہتا ہے جس طرح چاہتا ہے اس کو موجود کردیتا ہے اگرچہ عالم امکان میں عام طریقہ اسباب و وسائط کے ساتھ جاری ہے لیکن جب وہ چاہے اور جس کے لئے چاہے اور جس کو چاہے بلا ووسائط و اسباب مہیا کردیتا ہے۔
اب آگے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے مزید اوصاف اور فضائل مذکور ہیں چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ ( تسہیل)
Ayah 3:49ف 4۔ اور اس عیسیٰ (علیہ السلام) بن مریم کو اللہ تعالیٰ عام کتب سماویہ کی تعلیم دے گا اور اس کو فہم و دانش کی باتیں سکھائے گا اور خاص طور پر اس کو تورات و انجیل کی تعلیم دے گا اور اس کو تمام بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر اور یہ پیغام دے کر بھیجے گا کہ اے بنی اسرائیل میں تمہارے پاس اپنے پروردگار کی جانب سے بہت بڑی دلیل لے کر آیا ہوں ۔ وہ یہ کہ میں تمہارے سامنے مٹی کے گارے سے ایک پرندے جیسی صورت اور مجسمہ بناتا ہوں پھر اس مصنوعی مجسمہ کے اندر پھونک مار دیتا ہوں تو وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے سچ مچ کا پرندہ بن جاتا ہے اور میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے مادر زاد اندھے اور کوڑھ کے بیمار کو اچھا کردیتا ہوں اور مردوں کو زندہ کر دیتاہوں اور جو کھانا تم اپنے گھروں میں کھا کر آتے ہو اور جو دوسرے دن کے لئے اپنے گھروں میں رکھ آتے ہو وہ سب تم کو بتادیتا ہوں ۔ بلا شبہ ان معجزات مذکورہ میں میری نبوت کے لئے کافی دلیل ہے اگر تم ایمان لانے پر آمادہ ہو۔ ( تیسیر)
کتاب کا ترجمہ ہم نے کتب سماویہ کیا ہے مراد اس سے وہ صحائف اور کتابیں ہیں جو تورات اور انجیل کے علاوہ وقتاً فوقتا ًنازل ہوتی رہتی ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مراد کتاب سے فن کتابت اور فن تحریر ہو ۔ جیسا کہ بعض نے اس کو اختیار کیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بڑے خوشخط تھے بنی اسرائیل میں سب سے پہلے نبی حضرت یوسف معبوث ہوئے تھے اور سب سے آخری نبی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تھے جیسا کہ صاحب تفسیر مظہری نے کہا ہے۔
بایۃ سے معلوم ہوتا تھا کہ شاید صرف ایک معجزہ ہوگا لیکن تفصیل میں کئی معجزے بیان کئے تو اس کا جواب یہ کہ ہر معجزہ ایک مستقل دلیل ہے مٹی کا مجسمہ بنا کر اس میں پھونک مارتے تھے شاید اس شریعت میں تصویر بنانا جائز ہوگا ۔
باذن اللہ کی قید بار بار اس لئے لگائی تا کہ کسی طرح الوہیت کا شبہ نہ ہو سکے یعنی میں جو کچھ کرتا ہوں وہ سب اللہ تعالیٰ کے حکم سے کرتا ہوں۔
مفسرین نے کہا ہے کہ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے نبوت کا دعویٰ کیا اور معجزات کا ذکر کیا تو بنی اسرائیل نے ان سے چمگادڑ کی فرمائش کی ۔ چناچہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے پہلے مٹی کی چمگادڑ بنائی پھر اس میں پھونک ماری اور وہ زندہ ہوکر اڑ گئی۔
وہب کا قول ہے کہ لوگوں کے سامنے وہ جانور اڑ جاتا تھا لیکن زندہ نہیں رہتا تھا بلکہ کہیں دور جا گرپڑتا تھا تا کہ خالق اور مخلوق کے فعل میں امتیاز باقی رہے۔
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے میں چونکہ اطبائے یونان کا زور تھا اور ان کی طب کا ہر جگہ چرچا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ایسے معجرات عطا فرمائے جو ان کے دور کے لئے موزوں اور مناسب تھے۔ اور جن امراض سے تمام اطباء عاجز تھے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی صحت اور ان کو اچھا کردینے کا معجزہ عطا فرمایا۔ اکمہ مادر زاد اندھا یا وہ جو ون کو دیکھے اور رات کو نہ دیکھ سکے ، یا وہ جو رات کو دیکھے اور دن کو نہ دیکھ سکے۔
ابرص وہ جس کے جسم پر کوڑھ کے داغ ہوں یہ وہ امراض تھے جو لا علاج سمجھے جاتے تھے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان ہی کا ذکر فرمایا۔ اس جملہ میں باذن اللہ کی قید اور اکمہ اور ابرص اور مردوں کے زندہ کرنے کے ساتھ بھی ہوسکتی ہے جیسا کہ ہم نے اختیار کیا ہے اور ہوسکتا ہے کہ صرف احی الموتی کی قید ہو۔
مردوں کے زندہ کرنے کے متعلق صحیح تعداد نہیں بتائی جاسکتی ۔ مفسرین نے چار شخصوں کا ذکر کیا ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے زندہ ہوگئے تھے۔ ( واللہ اعلم)
فی بیوتکم کی قید میں بھی یہ احتمال ہے کہ صرف تدخرون کی قید ہو اگرچہ ہم نے تاکلون اور تدخرون دونوں کی قید رکھی ہے ۔ جیسا کہ تیسیر سے ظاہر ہے ، اگر فقط تد خرون کی قید ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ تم جو کچھ کہیں کھا آتے ہو اسکی بھی میں تم کو خبر دیتا ہوں اور جو کچھ دوسرے روز کے لئے گھر میں رکھ آتے اس کی بھی خبر دیتا ہوں۔
بہر حال خلاصہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے تمام فضائل و اوصاف حضرت مریم کو بتائے گئے کہ جو لڑکا تیرے ہاں بغیر باپ کے ہوگا وہ کتب سماویہ کا عالم ہوگا اور حکمت الٰہی اور مصالح الٰہی کا راز دار ہوگا ۔ تورات و انجیل سے با خبر ہوگا ، اس کو رسول اور صاحب معجزات بنا کر تمام بنی اسرائیل کی طرف بھیجا جائے گا وہ ان کو اپنی رسالت کے ساتھ اپنے معجزات سے بھی آگاہ کرے گا ۔ وہ ہزاروں بیماروں کو اچھا کرے گا ۔ مردوں کو زندہ کرے گا ، وہ لوگوں سے یہ بھی کہے گا کہ تم جو کچھ کھاتے ہو اور جو دوسرے وقت کے لئے بچا کر رکھ آتے ہو میں وہ بھی تم کو بتادوں گا اور یہ دلائل میری نبوت و رسالت کے لئے کافی ہیں ۔ اگر تم ایمان لانا چاہو اور ہم نے جو تمام بنی اسرائیل کہا ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ سوائے بنی اسرائیل کے دوسرے ان پر ایمان لانے کے مکلف نہ تھے بلکہ بنی اسرائیل کی عمومیت کے لحاظ سے تمام کہا گیا ہے۔
البتہ نبوت کی جو عمومیت نبی کریم ﷺ کو حاصل ہے وہ عمومیت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو حاصل نہیں تھی اس لئے الی بنی اسرائیل فرمایا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو تورات اور ہر کتاب بغیر پڑھے آتی تھی اور یہ سب معجزے ہوتے تھے۔ ( موضح القرآن)
وہب کا قول ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس ہزار ہا مریض آتے تھے اور جو آنے کے قابل نہ ہوتا تھا اس کے پاس حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) خود تشریف لے جاتے تھے ۔ ہزاروں ، اندھوں ، لنگڑوں اور کوڑھیوں کو ان کی دعا سے شفا ہوتی تھیں وہ ذیل کی دعا پڑھا کرتے تھے۔
اللھم انت الہ من فی السماء وانت الہ من من فی الارض لا الہ فیھما غیر ک وانت جبار من فی السموات و جبار من فی الارض لا جبار فیھما غیرک وانت ملک من فی السماء وملک من فی الارض لا ملک فیھما غیرک قدرتک فی الارض کقد رتک فی السماء سلطانک فی الارض کسلطانک فی السماء واسئلک باسملک الکریم ودجھلک المنیر و ملکک القدیم انک علی کل شی قدیر۔
وہب نے کہا یہ دعا گھبراہٹ اور جنوں کے مریض پر پڑھنے اور پانی میں گھول کر پلانے سے انشاء اللہ بالکل فائدہ ہوجائیگا اور گھبراہٹ و جنوں کا مریض شفا یاب ہوگا اب آگے حضرت عیسیٰ کی رسالت کی مزید تشریح اور ان کی تقریر مذکور ہے۔ (تسہیل)
Ayah 3:50ف 1۔ اور اے بنی اسرائیل میرا حال یہ ہے کہ میں اس کتاب توریت کی جو مجھ سے پہلے نازل ہوچکی ہے تصدیق کرنے والا اور اس کو سچا بتانے والا ہوں اور میں اس لئے آیا ہوں کہ بعض ایسی چیزیں جو شریعت موسوی میں تم پر حرام کردی گئیں تھیں ان کو تمہارے لئے حلال کر دوں یعنی بحیثیت ایک صاحب شریعت اور صاحب کتاب نبی ہونے کے توریت کے بعض احکام کو منسوخ کردوں اور ایسا کرنے کا مجھے حق ہے کیونکہ میں کہہ چکا ہوں کہ میں اپنی نبوت پر تمہارے رب کی طرف سے دلیل اور نشان لے کر آیا ہوں لہٰذا اے بنی اسرائیل تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میرا کہنا مانو اور تمام دینی امور میں میری اطاعت کرو۔
مطلب یہ ہے کہ جب معجزات صریحہ اور دلائل واضحہ سے میرا نبی ہونا ثابت ہوگیا اور یہ معلوم ہوگیا کہ میں مستقل کتاب اور مستقل شریعت لے کر آیا ہوں تو اب مجھ پر ایمان لانا اور میری اطاعت کرنا ضروری ہے اور مجھ کو بعض احکام سابقہ کے منسوخ کرنے کا بھی حق ہے جیسے جانوروں کی چربی اور گوشت کا بعض حصہ تم پر حرام تھا میں اس کی حرمت کی منسوخ کر کے اس کی حلت کا حکم دوں گا ، اور یہ توریت کی تصدیق کے منافی نہیں ہے بلکہ جس طرح قرآن کا بعض حصہ بعض کو منسوخ کرتا ہے حالانکہ تمام قرآن مومن یہ ہے اسی طرح توریت کا مصدق ہونے کے باوجود بعض احکام کو منسوخ کر دوں گا آگے ان کی تصدیق کا باقی حصہ مذکور ہے۔ ( تسہیل)
Ayah 3:51ف 2۔ یقین جانو ! اللہ تعالیٰ میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے لہٰذاتم اس کی عبادت اور بندگی اختیار کرو اور یاد رکھو یہی راستہ سیدھا ہے۔ ( تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ دین کی سیدھی راہ اور نجات کا صحیح راستہ یہی ہے کہ بندے کے عقائد و اعمال درست ہوں ۔ ربی و ربکم میں عقیدے کی اصلاح ہے اور فاعبدوہ میں اعمال کی بجا آوری کا خلاصہ ہے میرا بھی رب ہے یہ شاید اس لئے فرمایا کہ مبادا بےباپ کے پیدا ہونے اور میرے متعلق پیار و محبت کے کلمات فرمانے کی وجہ سے کہیں میرے متعلق کوئی غلط عقیدہ قائم نہ کرلیا جائے بلکہ وہ جس طرح تمام مخلوق کا خالق اور مالک ہے اسی طرح وہ میرا خالق اور مالک ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت عیسیٰ کے وقت توریت میں سے کئی حکم جو مشکل تھے موقوف ہوئے باقی وہی توریت کا حکم تھا۔ (موضح القرآن)
اب آگے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اور واقعات مذکور ہیں اور عبارت کا تعلق اس طرح ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے انہوں نے اپنی قوم سے بچنے میں کلام کیا جوان ہوئے توریت اور انجیل کے عالم ہوئے لوگوں کو ہدایت کی دعوت دی ۔ معجزات دکھائے لیکن بنی اسرائیل نے انکار کیا ان کے درپے آزاد ہوئے ۔ یہاں تک کہ ان کو قتل کرنے کے لئے آمادہ ہوگئے، چناچہ جب انہوں نے اس سخت مخالفت کو ملاحظہ فرمایا تو اپنے اعوان و انصار کو جمع کیا ۔ ( تسہیل)
Ayah 3:52ف 3۔ لہٰذا جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کی جانب سے کفر و انکار دیکھا اور آپ کو ان کے کفر کا پورا علم ہوگیا تو آپ نے فرمایا کہ وہ کون ہے جو کافروں کے مقابلہ میں دین حق کی حمایت کرنے کو اللہ کے واسطے میرا مدد گار ہو اس پر حواریوں نے عرض کیا ہم اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کے رسول کے مدد گار ہیں ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور آپ اس امر پر گواہ رہیئے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے اور اس کے رسول کے فرمانبردار ہیں۔ (تیسیر)
حور کے معنی ہیں خالص سفید ہوسکتا ہے کہ یہ دھوبی ہوں جو کپڑے کو سفید کرتے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ یہ مچھلی کا شکار کرنے والے ہوں یا ملاح ہوں۔
بہر حال خواری کے معنی مدد گار کے ہیں جو انبیاء (علیہم السلام) کی مدد کریں ۔ کلبی کا قول ہے کہ اس سے ان کی جماعت کے بزرگ لوگ مراد ہیں جن کی تعداد بارہ تھی ۔ قتادہ نے کہا ان کے مشیر اور وزیر تھے اور ایسے لوگ تھے جو خلافت کے اہل تھے۔ بہر حال جب کفار کا عناد اور دشمنی ظاہر ہوگئی تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے حواریین کے روبرو یہ فرمایا ۔ حواریین اگر بنی اسرائیل میں سے تھے تب تو ظاہر ہے کہ ایک پارٹی بنی اسرائیل میں سے ان پر ایمان لائی ہوگئی اور اگر بنی اسرائیل کے علاوہ یہ لوگ ہوں تب بھی حضرت عیسیٰ پر ایمان لے آئے ہوں گے کیونکہ ان کے ہاں کوئی نبی نہ ہوگا ۔
ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ وہ تمام بنی اسرائیل کے نبی تھے ۔ بنی اسرائیل کے علاوہ جو لوگ تھے ان کی حیثیت میں ذرا تفصیل ہے اگر ان میں کوئی دوسرا نبی معبوث ہوا تھا تب تو ان کو بھی اصول میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا اتباع واجب تھا اگرچہ فروع میں نہیں اور اگر ان میں کوئی دوسرا نبی معبوث نہیں تھا تو ان کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانا ضروری تھا اور اصول و فروع دونوں میں ان کی اتباع واجب تھی ۔ مزید تفصیل انشاء اللہ سورة صف میں آجائے گی۔
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے گواہ رہنے کی درخواست اس لئے کی کہ قیامت میں ہر پیغمبر ان لوگوں کی شہادت دے گا جو اس کے ہاتھ پر مشرف با سلام ہوئے ہوں گے اور اس کے مدد گار رہے ہوں گے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارہ یار کا خطاب تھا حواری ، حواری اصل کہتے ہیں دھوبی کو ان میں پہلے جو دو شخص ان کے تابع ہوئے دھوبی تھے ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو کہا کہ کپڑے کیا دھویا کرتے ہو میں تم کو دل دھونے سکھا دوں وہ ان کے ساتھ ہوئے اس طرح سب کو یہی خطاب ٹھہر گیا ۔
فائدہ :۔ اس آیت کے معنی یہ کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اصل رسول تھے واسطے نبی اسرائیل کے جب یہ معلوم کیا کہ یہ میرا دین قبول نہ کریں گے چاہا کہ اور کوئی میرے دین کو رواج دے ۔ حواریوں کے ساتھ سے غیروں کو دین پہنچا اب تک بنی اسرائیل ان کے دین میں کم ہیں۔ ( موضح القرآن)
شاہ صاحب (رح) کے انداز بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ حواری بنی اسرائیل میں سے نہ تھے اگرچہ اکثر علماء کی رائے یہ ہے کہ حواری بنی اسرائیل میں سے تھے اگر حواری بنی اسرائیل میں سے نہ ہوں تب بھی ہم عرض کرچکے ہیں کہ ان لوگوں میں سے کوئی نبی اگر مبعوث ہوا تھا تو اصولاً اور اگر کوئی نبی مبعوث نہ ہوا تھا تو اصولاً و فروعا ً ان لوگوں کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی اتباع و اجب تھی۔ ( واللہ اعلم)
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اطمینان دلانے کے بعد حواریوں نے حضرت حق کی جانب میں دعا کی چناچہ فرماتے ہیں۔ ( تسہیل)
Ayah 3:53ف 1۔ حواریوں نے کہا اے ہمارے پروردگار ان تمام احکام پر جو آپ نے نازل فرمائے ہیں ایمان لائے اور ہم نے اس رسول یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیروی اختیار کی لہٰذا آپ ہم کو گواہی دینے والوں اور تصدیق کرنے والوں کے ہمراہ لکھ دیجئے اور ان لوگوں کے ساتھ ہمارا بھی اندراج کرلیجئے جو آپ کی وحدانیت کی گواہی دیتے ہیں اور آپ کے رسولوں کی تصدیق کرتے ہیں۔ ( تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ عام مسلمانوں میں جو آپ کی وحدانیت اور آپ کے رسولوں کی رسالت کا اقرار کرنے والے ہیں ان میں ہمارا نام بھی لکھ دیجئے اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ انبیاء کے ساتھ لکھ دیجئے کیونکہ قیامت میں انبیاء (علیہم السلام) شہادت دیں گے ، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انبیاء کے ساتھ لکھ دیجئے کیونکہ قیامت میں انبیاء (علیہم السلام) شہادت دیں گے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ امت محمدیہ کے ساتھ ہمارا نام لکھ دے کیونکہ یہ امت بھی قیامت کے دن شہادت دینے والی ہوگی ۔ ( واللہ اعلم)
اب آگے یہود کے مکرو فریب کا اور ان کی ناکامی کا ذکر ہوتا ہے۔ ( تسہیل)
Ayah 3:54ف 2 ۔ اور بنی اسرائیل کے ان لوگوں نے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے مخالف اور ان کی نبوت کے منکر تھے ایک چال چلی اور خفیہ تدبیر کی اور اللہ تعالیٰ بھی ان کو شکست دینے کی غرض سے ایک چال چلا اور ان کے جواب میں اس نے بھی ایک خفیہ تدبیر کی اور اللہ تعالیٰ تمام تدبیر کرنیوالوں میں بہتر اور عمدہ تدبیر کرنے والا ہے ( تیسیر)
مخالفوں کی تدبیر یہ تھی کہ حضر ت عیسیٰ (علیہ السلام) کو گرفتار کرایا اور سولی پر چڑھانے کا سامان کیا اور یہ چاہا کہ حضر ت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ہلاک کردیں اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر یہ کہ ان کو مع الخیر آسمان پر اٹھا لیا اور ان کے مخالفوں میں سے ایک شخص کو ان کی ہم شکل اور ان کا مشابہ کردیا جس کو انہوں نے سولی پر چڑھا دیا ۔ اور ان کو اس تبدیلی کی خبر بھی نہیں ہوئی اسی کو فرمایا اللہ تعالیٰ بہترین تدبیر کرینوالا ہے کیونکہ اس کی چال اور اس کی تدبیر سب کی تدبیر اور چالوں پر غالب ہوتی ہے۔
مکر کسی شخص کو حیلہ بہانہ سے ایسی چیز کی طرف کھینچ لانا جو اس کو نقصاندہ ہو ۔ راغب نے کہا کسی شخص کو حیلہ بہانہ سے اس کے مقصد اور ارادے سے پھیر دینا، یہ مکر کسی اچھی غرض کے لئے کیا جائے تو محمود ہے اور کسی برے مقصد کیلئے کیا جائے تو مذموم ہے۔
جیسے سورة فاطر میں فرمایا ولا یحیق المکرالسیئی الا باھلہ عام طریقہ سے قرآن میں مکر اور کیہ کفار کی ان سازشوں پر بولا گیا ہے جو وہ اپنے اپنے پیغمبروں کے خلاف کیا کرتے تھے۔
عزیز مصر کی بیوی کے ساتھ جن عورتوں نے یوسف (علیہ السلام) کو آمادہ کرنی کی چال چلی ان کی چال کو بھی مکر فرمایا ہے۔ حضرت حق جل مجدہٗ کافروں کی سازشوں کو نا کام کردیا ہے اس لئے اس کی جانب بھی مکر اور کید کی نسبت جواباً اور جزاء کردی جاتی ہے نیز اس لئے کہ ان کا مکر محمود ہے کیونکہ ان کا مکر انبیاء کی حمایت و حفاظت اور کفار کو نا کام کرنے کے لئے ہوتا ہے اور چونکہ ان کی گرفت اچانک اور بےسامان و گمان ہوتی ہے اور ان کو پکڑنے مجرم فرار نہیں ہوسکتا ۔
اس لئے خیر الماکرین فرمایا یعنی ان کا مکر نہایت قوی نہایت مضبوط اور نہایت خفیہ ہوتا ہے ۔ اور یہ بالکل ایسا ہی محاور ہ ہے جیسے کوئی بادشاہ باغیوں پر قابو پانے کے بعد کہتا ہے کہ تم لوگ تو میری سلطنت کا تختہ الٹنے کی ترکیب اور ترتب کر ہی رہے تھے مگر میں نے ایسا دائو کیا کہ تم سب کو گرفتار کرلیا ۔ مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم نے تمہاری سازش اور تمہاری تدبیر کو اپنی سازش اور تدبیر سے خاک میں ملا دیا ہم پہلے پارے میں بھی اس بحث کو تفصیلاً عرض کرچکے ہیں آگے بھی اکثر مقامات پر یہ چیزیں آئیں گی۔
مثلاً یحذعون اللہ وھو خادعھم نسو اللہ فنیھم وغیرہ یہ تمام افعال محض مقابلۃ حضرت حق کی طرف نسبت کئے جاتے ہیں ۔ آیت زیر بحث میں بھی یہی شان ہے کہ مسیح کے مخالفوں نے حکومت میں ان کی غلط سلط شکایتیں کر کے ایک یہودی بادشاہ سے ان کی سولی کا حکم حاصل کرلیا اور ان کو ایک مکان میں محصور کردیا ۔ جب سولی کا وقت آیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو آسمان پر اٹھا لیا اور ایک شخص جس کا نام طیطانوس تھا وہ ان کو ہم شکل کردیا گیا ۔ لوگ اس کو پکڑ لائے اور اس کی چیخ و پکار پر توجہ نہ کی اور اس کی سولی پر چڑھا دیا اور اس کے ساتھ ہر قسم کا سفا کانہ برتائو کیا اور سب کچھ کرنے کے بعد یہ احساس ہوا کہ صلیب زدہ اگر عیسیٰ تھا تو طیطانوس کہاں ہے اور اگر صلیب زدہ طیطیانوس تھا تو عیسیٰ (علیہ السلام) کہاں گئے پھر اس کے بعد مختلف روایتیں بنی اسرائیل میں مشہور ہوگئیں ۔ قرآن نے ان سب غلط واقعات کا رد کردیا اور جو صحیح چیز تھی وہ ظاہر کردی اور یہ بتادیا کہ یہود کے تمام منصوبے خاک میں ملا دیئے گئے ، نہ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرسکے اور نہ صلیب دے سکے بلکہ اللہ تعالیٰ کی تدبیر کار گر ہوئی کہ وہ ان کو صحیح سلامت اپنی حفاظت میں لے گیا ۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہود کے عالموں نے اس وقت کے بادشاہ کو بہکایا کہ یہ شخص ملحد ہے توریت کے حکم سے خلاف بتاتا ہے ۔ اس نے لوگ بھیجے کہ ان کو پکڑ لاویں ۔ جب وہ پہنچے حضرت عیسٰی (علیہ السلام) کییار سرک گئے ۔ اس شنابی میں حضرت حق تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان پر اٹھا لیا اور ایک صورت ان کی رہ گئی اسکو پکڑ لائے پھر سولی پر چڑھایا۔ ( موضح القرآن)
اس واقعہ کی زیادہ تفصیل تو انشاء اللہ چھٹے پارے میں آئے گی ۔ یہاں صرف ان پیشین گوئیوں کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس رات ان کو بتائیں جس رات بعض ان کے معتمد لوگوں نے ان کو گرفتار کرایا اور حکومت کے مقابلے میں بزولی کا ثبوت دیا اور معمولی سے نفع پر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا پتہ بتادیا ۔ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے اپنوں نے اس قسم کی بیوائی کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اطمینان دلایا ، چناچہ ارشاد فرماتے ہیں۔ (تسہیل)
Ayahs 3:55–57ف 3۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا۔ اے عیسیٰ (علیہ السلام) ! تم یقین رکھو کہ میں تمہاری موت وحیات پوری کروں گا ۔ یعنی دنیاوی زندگی کو پورا کرنے والا ہوں اور میں تجھ کو اپنی طرف اٹھا لینے والا ہوں اور میں تم کو ان کافروں کے اتہامات سے جو تمہارے منکر ہیں پاک کرنے والا ہوں اور جو لوگ تیرے تابع اور تیرا کہنا ماننے والے ہیں ان کو میں قیامت تک ان لوگوں پر جو تیرے منکر ہیں غالب اور بالا دست رکھنے والا ہوں پھر تم سب کی واپسی قیامت کے روز میری ہی طرف ہوگی ، لہٰذا ! اس وقت میں تم سب کے درمیان ان امور کا فیصلہ کر دوں گا جن امور میں تم باہم اختلاف کیا کرتے تھے۔ ( تیسیر)
اس آیت میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے ان کی گرفتاری کے وقت چند وعدے فرمائے ایک وعدہ تو یہ تھا کہ اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ۔ تمہاری مدت حیات جس قدر مقرر ہے اس کو پورا کروں گا اس سے پہلے تم کو کوئی نہیں مار سکتا ۔
دوسرا وعدہ اپنی جانب اٹھا لینے کا ، یعنی یہ سب تدبیریں ختم ہوئی جاتی ہیں اور میں تم کو اپنی جانب یعنی عالم بالا کی جانب اٹھائے لیتا ہوں ۔
تیسرا وعدہ ان سے تطہیر کا کیا گیا کہ تم کو ان تمام اتہامات سے بری کر دوں گا ۔ جو تم پر تمہارے منکر وقتاً فوقتاً لگاتے رہے ہیں اور تم کو ان کی صحبت اور ان کی معیت سے پاک کر دوں گا ۔
چوتھا وعدہ منکروں پر متبعین کی بالا دستی کا کیا گیا اور آخر میں اس فیصلے کا ذکر فرمایا جو حقیقی اور عملی طور پر قیامت میں ہوگا ، اور چونکہ وہ فیصلہ محض دلائل سے نہ ہوگا کیونکہ دلائل کا فیصلہ تو اب بھی موجود ہے بلکہ وہ فیصلہ عمل سے ہوگا ۔
اس لئے آگے کی آیت میں اس کی تفصیل مذکور ہے ان وعدوں میں ترتیب نہیں ہے کیونکہ دائو کا مقتضا ترتیب نہیں ہے ۔ خواہ کوئی پہلے پورا ہو یا کوئی پیچھے پورا ہو ۔
بہر حال وعدے سب پورے ہوں گے اتباع سے مراد یہاں کامل اتباع نہیں ہے اس لئے یہ پیشین گوئی مسلمان اور نصاریٰ دونوں پر صادق آتی ہے اور آج تک یہود کا یہی حشر دیکھنے میں آتا ہے کہ یا وہ نصاریٰ کے ماتحت ہیں یا مسلمانوں کے ما تحت ہیں اور اگر کوئی معمولی ریاست جمہوری اصول پر بنا بھی دی جائے اور کسی بڑی حکومت کے زیر انتداب اس کا وجود مستحق بھی ہوجائے تو وہ ناقابل اعتبار ہے اور ایسی حکومت کو مستقل حکومت نہیں کہا جاسکتا ۔ میں نے جو کہا کامل اتباع مراد نہیں ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان ان کی نبوت کو تسلیم کرتے ہیں لیکن فروع میں ان کا اتباع نہیں کرتے۔ اسی طرح نصاریٰ ان کے تمام احکام کو نہیں مانتے ، لہٰذا برتری اور بالا دستی کی شرط صرف اس قدر ہے کہ اتباع کرنے والے ہوں خواہ من کل وجہ متبع نہ ہوں۔
توفی کا اصلی معنی پورا لینے کے ہیں عام طور پر حق کے وصول کرنے پر بولا جاتا ہے۔ اہل عرب اسی معنی میں بولا کرتے تھے۔ قرآن نے اس کا استعمال قبض روح کے معنی میں بھی کیا ہے ورنہ عرب کو یہ معلوم ہی نہ تھا کہ موت کے وقت یا نیند کے وقت اللہ تعالیٰ کوئی چیز قبض کرلیتا ہے ، چونکہ لفظ کے اصلی معنی قبضہ کرنے اور حق کے پورا لینے اور پورا لینے کے ہیں ۔ اسی معنی کے لحاظ سے موت اور نیند میں بھی استعمال ہوا ۔
جیساکہ فرمایا وھو الذی یتوفکم بالیل اور فرمایا اللہ یتوفی الانفس حین موتھا التی لم تمت فی ما مھا نیند کی حالت میں بھی چیز قبض کی جاتی ہے اور موت کے وقت بھی کوئی چیز قبض کی جاتی ہے ۔ بہر حال روح حیات کا قبض ہو یا روح منام کا قبض ہو ، یا روح مع الجد کا قبض ہو سب پر تو فی کا استعمال جائز اور صحیح ہے۔
توفی کے معنی صرف قبض روح کرنا لغت میں ایک ایسی قید لگانا ہے جیسے کوئی اہل علم نہیں کرسکتا اور اس سے زیادہ گمراہی اور کج روی یہ ہے کہ یوں کہا جائے جب فاعل خدا ہو اور مفعول ذی روح ہو تب معنی قبض روح کے ہوں گے یہ بھی لغت میں اپنی طرف سے ایک قید بڑھاتا ہے حالانکہ اس قید کے بعد بھی وہ منشاپورا نہیں ہوتا ۔
جیسا کہ قرآن نے اس قید کے ساتھ بھی نیند کے معنی لئے ہیں ۔ بلکہ والتی لم تمت فی منا مھا کے ساتھ تصریح کردی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فاعل اور ذی روح کے مفعول ہونے کے باوجود موت مراد نہیں ہے بلکہ نیند مراد ہے ہم نے صاحب مدارک کے معنی کو ترجیح دی ہے اور اسی بناء پر یہ عرض کیا ہے کہ لفظ متوفی سے یہاں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اطمینان دلایا گیا ہے کہ تمہارے خلاف قتل کی جو تدابیر ہو رہی ہیں ۔ تم اطمینان رکھو کہ اس میں تمہارے دشمن کامیاب نہیں ہوں گے بلکہ تمہاری اجل کا جو وقت مقرر ہے اس میعاد مقررہ کو پورا کرو گا اب اگر یہ ترجمہ نہ بھی کیا جائے کہ میں تم کو بھولوں گا یا تم کو سلا دوں گا اور نیند کی حالت میں اٹھا لوں گا تو بھی مضائقہ نہیں ۔ اور جب یہ ثابت ہے کہ ان کی وفات طبعی ہوگی اور وہ اس زمین پر اپنی طبع موت سے مریں گے تو وہ تمام باتیں جو ان کے متعلق آج کل کہی جاتی ہے سب بےکار اور اختراعی ہیں اور چونکہ ان کی پیدائش ایک غیر عادی طور پر ہوئی تھی اور ان کے معجزات میں بھی ایک انوکھا ڈھنگ تھا اس لئے ان کی موت میں بھی ایک خصوصی رنگ اختیار کیا گیا کہ ان کو ایک عرصہ تک آسمان پر رکھا گیا اور قیامت کے قریب ان کو زمین پر بھیجا جائے گا ، اور نزول کے بعد ان کی وفات ہوگی اور مدینہ کی سر زمین میں مدفون ہوں گے۔
اس آیت میں متوفیک بالکل اس طرح استعمال ہوا ہے جس طرح ایک ذمہ دار آفیسر کو واپس بلا لیا جائے۔ گویا یہ اطلاع دی گئی ہ اے عیسیٰ ! گھبرائو نہیں میں تم کو واپس بلا لوں گا ، اور تم کو عالم بالا کی جانب اٹھالوں گا ۔
ایک سیدھی سادھی بات کو آج کل لوگوں نے اپنی اغراض کے ماتحت ایک افسانہ بنا لیا ہے اگر ایساہو تاکہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی وفات ہوچکی ہوتی تو قرآن کو اتنی بات کہنے میں کیا تکلیف تھا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جن کے متعلق بنی اسرائیل میں اس قدر قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں وہ مرچکے اور فلاں جگہ مدفون ہیں ۔ جائو اور جا کر دیکھ لو۔
قرآنے بجائے اس کہنے کے یوں فرمایا وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لھو اور فرمایا وما قتلوہ یقینائل دفعہ اللہ الیہ رہی یہ بات کہ سلف میں سے کسی نے متوفی کا ترجمہ موت کیا ہے تو تفسیر ہمارے مقصد کے منافی نہیں ۔ ہم تو خود ہی کہہ رہے ہیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی طبعی موت سے مرنے کی اطلاع دی گئی ہے اور زندگی کی معیاد کو پورا کرنے کا وعدہ فرمایا گیا ہے۔ پھر یہ کہ حضرت عبد اللہ بن عباس جن کی طرف اس تفسیر کی نسبت ہے وہ خود حضر ت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق رفع الی السماء کا عقیدہ رکھتے ہیں اور وہ بھی اس کے قائل ہیں کہ قرب قیامت میں ان کا نزول ہوگا اور وہ دجال کو قتل کریں گے اور ان کی وفات ہوگی اور وہ مدینہ منورہ میں دفن ہوں گے۔
خلاصہ یہ ہے کہ آیت سے یہ ثابت نہیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی وفات ہوچکی ہے اور وہ اپنی طبعی موت سے مرکر زمین میں دفن ہوچکے اور وہ قیامت کے قریب تشریف نہیں لائیں گے اور جس عیسیٰ بن مریم کے ترشیف لانے کی نبی کریم ﷺ نے اطلاع دی ہے ، وہ آسمان سے نہیں آئے گا بلکہ ماں کے پیٹ سے پیداہو گا ۔
یہ تمام باتیں اس زمانہ کی پیداوار ہیں جو اہل باطل نے اپنی اغراض نفسانی کو پورا کرنے کے لئے گھڑی ہیں اور حکومت کافرہ کی خوشنودی کے لئے گھڑی گئیں ہیں۔
نعوذ باللہ من ھذا الخرفات
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے تابع اول نصاریٰ تھے پیچھے مسلمان ہیں جو ہمیشہ غالب رہے۔ ( موضح القرآن)
اب آگے وہ تفصیل مذکور ہے جو قیامت میں عملی فیصلے کے وقت ظاہرہو گی (تسہیل)
Ayahs 3:58–59ف 4۔ لہٰذا ان اختلاف کرنے والوں میں جن لوگوں نے کفر کی روش اختیار کی ہوگی ان کو ان کے کفر کی وجہ سے دنیا اور آخرت دونوں میں سخت سزا دوں گا اور شدید عذاب کروں گا اور ان لوگوں کا کوئی حامی و مدد گار نہ ہوگا اور جو لوگ مومن ہوں گے اور نیک اعمال کے پابند رہے ہوں گے تو ان کو اللہ تعالیٰ ان کے نیک اعمال کی مزدوریاں اور ان کا حق الخدمت پورا پورا عطا فرمائے گا اور اللہ تعالیٰ ظالموں اور نا انصافیوں کو پسند نہیں فرماتا اور محبوب نہیں رکھتا۔
اے پیغمبر ! یہ واقعات جو ہم آپ کو پڑھ پڑ ھ کر سناتے ہیں اور آپ پر بذریعہ وحی ان کی تلاوت کرتے ہیں یہ منجملہ دلائل نبوت اور منجملہ حکومت آمیز تذکرے کے ہیں یعنی ایسا تذکرہ جو حکمت سے لبریز ہو۔ ( تیسیر)
دنیا کے عذاب سے مراد یہ ہے کہ قتل کئے جائیں ۔ قید کئے جائیں ان کی تذلیل کی جائے۔ جزیہ مقرر کیا جائے یا اور کسی قسم کے مصائب او آلام میں مبتلا کئے جائیں ۔ قیامت کے دن فیصلہ کرنے کے بعد پھر دنیا و آخرت میں عذاب کرنے کا مطب یہ ہے کہ دنیا میں جو سزا دی جا چکی ہوگی وہ اور آخرت کی سزا دونوں یکساں شمار ہونگی ۔ یعنی ان کے جرائم پر دونوں سزائوں کا مجموعہ مرتب ہوگا اجر کے معنی مزدوری اور حق ہے یہاں وہ ثواب مراد ہے جو اعمال کے صلہ میں عطا ہوگا ۔
حضرت شاہ صاحب (رح) اجر کا ترجمہ نیگ کیا کرتے ہیں اور واقعہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حق الخدمت کے معنی نیگ کرنا بہترین ترجمہ ہے ۔ نیگ دہلی میں عام طور سے استعمال ہوتا ہے اور یہ ایسے موقعہ پر بولا جاتا ہے جہاں محنت اور خدمت برائے نام ہو اور مزدوری پوری پوری دی جائے ، اور یہ جو فرمایا کہ اللہ ظالموں کو دوست نہیں رکھتا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ظالموں مبغوض ہے۔ ذلک نتلوہ علیک من الایات کی ترتیب کئی طرح کی گئی ہے ہم نے ان میں سے ایک کو اختیار کرلیا ہے۔ ان واقعات سے مراد وہ واقعات میں جو اوپر بیان کئے گئے ہیں یعنی حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات ، آیات سے مراد قرآنی آیات بھی ہوسکتی ہیں ۔۔۔۔ اور معجزات دلائل بھی ہوسکتے ہیں۔
الذکر الحکیم سے مراد قرآن ہے اور ہوسکتا ہے کہ لوح محفوظ مراد ہو۔ ( واللہ اعلم)
حضرت جبریل کی تلاوت کو سبب آمر ہو نیکی وجہ سے حضرت حق نے اپنی طرف منسوب کیا اور یوں فرمایا کہ ہم آپ پر تلاوت کرتے ہیں اور آپ کو پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں۔
دلائل کا مطلب یہ ہے کہ یہ واقعات اللہ تعالیٰ کی قدرت پر بھی دلیل ہیں اور آپ کی صداقت اور آپ کی نبوت پر بھی دلیل ہیں کیونکہ یہ زمانہ سابقہ کے واقعات اس طرح صحیح اور بالتفصیل سوائے وحی کے کوئی بیان نہیں کرسکتا ۔ اب آگے ایک اور دلیل عیسائیوں کے دعویٰ الوہیت کے رد میں مذکور ہے۔ ( تسہیل)
Ayah 3:60ف 5۔ یقین جانو ! کہ حضرت عیسیٰ کا حال عجیب اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایسا ہی ہے جیسا آدم کا حال عجیب کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے قالب کو مٹی سے بنایا پھر ان کے اس مٹی کے قالب اور مجسمہ کو حکم دیا کہ ہوجا سو وہ ہوگیا ۔ یعنی حکم دیتے ہی ایک جاندار آدمی بن گیا یہ امور مذکورہ اصل حقیقت ہے جو آپ کے رب کی جانب سے بتائی گئی ہے ۔ سوائے پیغمبر آپ ان لوگوں میں سے نہ ہوجانا جو شک کرنے والے ہیں۔ (تیسیر)
تمام بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ وفد نجران کے عقیدۂ فاسد کا بطلان کیا جائے اور یہ بتایا جائے کہ مسیح کے متعلق الوہیت کا اعتقاد محض باطل اور لغو ہے ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ایک انسان تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی صالح کے تحت بن باپ کے پیدا کیا اور ان کو وہ معجزات عطا کئے جو ان کی نبوت کے لئے صریح دلیل تھے ۔ پھر ان کو ان کے دشمنوں سے محفوظ رکھا اور ان کو اپنی طرف اٹھا لیا اور معاندین کے تمام مکائد اور سازشوں کو نا کام بنادیا۔ ان تمام مہربانیوں کی وجہ سے جو ان کے پروردگار نے ان کے ساتھ کیں نہ وہ خدا بن گئے اور نہ خدا کے شریک ہوگئے ۔ اور نہ ان باتوں سے وہ خدا کے بیٹے کہلانے کے مستحق ہوگئے بلکہ حضرت حق تعالیٰ کے ایک بندے اور رسول ہیں اور حضرت حق کو یہ اختیار ہے کہ وہ اپنے بندوں کو جس طرح چاہے نوازے اور جس طرح چاہے ان سے خدمت لے۔
رہی یہ بات کہ بن باپ کے پیدا ہونے سے تم نے یہ عقیدہ اختراع کیا تو یہ کون سی ایی بات ہے ، آخرحضرت آدم تو بن باپ اور بن ماں کے پیدا ہوئے تھے اور مشبہ کا عجیب و غریب حال تو مشبہ سے بھی زیادہ ہے، پھر جب بلا باپ اور بلا ماں کے پیدا ہونے والا خدا کے ساتھ شرکت کا حق دار نہیں ہے تو جو شخص صرف بن باپ کے پیدا ہوا ہے وہ کس طرح الوہیت کا مستحق ہوسکتا ہے۔
آخر میں نبی کریم ﷺ کو فرمایا کہ آپ شک کرنے والوں میں سے نہ ہوں اس کا مطلب ہم دوسرے پارے میں عرض کرچکے ہیں کہ یا تو اس خطاب سے آپ کی امت مراد ہے اور یا محض تاکید و تثبیت کی غرض سے آپ کو فرمایا گیا ہے اور مطلب یہ ہے کہ جس طرح آپ اب تک ہر قسم کے شک سے پاک ہیں اسی طرح آئندہ بھی شک کرینوالوں کا کوئی اثر قبول نہ کریں ، کیونکہ حق وہی ہے جو آپ کے رب نے آپ کو بتادیا ہے آپ ان لوگوں کی باتوں سے متاثر نہ ہوں جو آدم کو بلا باپ اور بلا ماں کے پیدا ہونا تسلیم کرتے ہوئے پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر طرح طرح کے اتہام لگائے ہیں۔
جیسے یہود اور نہ ان کی باتوں سے متاثر ہوں جو گھڑی گھڑی یہ کہتے ہیں کہ اچھا آخر ان کا باپ کون تھا۔ بن باپ کے پیدا ہونے پر تو اس قدر حجت کرتے ہیں اور اتنا غور نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ جو قدیم اور جملہ عیوب سے منزہ اور پاک ہے ا سے عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوجائے جو حادث بھی ہو کھانے پینے اور سکھانے کا محتاج ہو ۔ بول و براز کا عادی ہو ، جیسے نصاریٰ ۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ۔ نصاریٰ اس بات پر بہت جھگڑے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) بندہ نہیں خدا کا بیٹا ہے آخر کہنے لگے کہ وہ اللہ کا بیٹا نہیں تو تم بتائو کس کا بیٹا ہے ؟ اس کے جواب میں آیت اتری کہ آدم کو تو ماں نہ باپ عیسیٰ کا باپ نہ ہو تو کیا عجیب ۔ ( موضح القرآن)
اب آگے ان تمام استدلالات عقلیہ اور نقلیہ کو بیان فرمانے کے بعد ایک اور بات اتمام حجت کے طور پر بیان فرماتے ہیں ۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ ( تسہیل)
Ayahs 3:61–62ف 1۔ اب اگر کوئی شخص اس کے بعد کہ آپ کے پاس صحیح علم آچکا اور ایسے واضح دلائل آ چکے جس سے یقینی علم حاصل ہوجاتا ہے پھر کج بحثی اور کٹ حجتی کرنے لگے تو آپ یوں فرما دیجئے کہ اچھا اگر تم دلیل سے نہیں مانتے تو آئو ہم تم مل کر اپنے بیٹوں کو اور تمہارے بیٹوں کو اور اپنی عورتوں کو اور تمہاری عوتوں کو بلا لیں اور ہم اپنے آپ کو اور تم کو بھی ملا کر جمع کرلیں پھر ہم ملکر نہایت عاجزانہ اور گڑ گڑا کر اس طرح دعا کریں کہ جھوٹوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت بھیجیں ۔ یعنی یوں دعا کریں کہ ہم میں اور تم میں جو جھوٹا اور ناحق پر ہو اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت نازل ہوا ۔ ( تیسیر)
لعنت کے معنی ہم بتا چکے ہیں کہ اللہ کی رحمت سے دور ہونے کو کہتے ہیں جو رحمت سے دور ہوگا وہ غضب اور قہر سے نزدیک ہوگا۔
بھلتہ کے معنی چھوڑ دینے اور تر ک کرنے ہیں ۔ ابتہال کی دعا کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی رحمت جھوٹوں سے علیحدہ ہوجائے اور جھوٹوں کو خدا کی رحمت چھوڑ دے۔ ابتہال کی دعا میں تضرع کی بھی رعایت ہوتی ہے اسی لئے ہم نے تیسیر میں گڑ گڑانا کیا ہے۔ ندع ابناء نا کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے بیٹوں کو بلائیں تم اپنے بیٹوں کو بلائو ہم اپنی عورتوں کو بلائیں تم اپنی عورتوں کو بلائو ، ہم اپنے آپ کو بلائیں تم اپنے آپ کو بلائو۔۔۔۔ ہم نے ترجمہ اور تیسیر میں لفظی ترجمہ کا خلاصہ کردیا ہے۔ مدعا یہ ہے کہ اگر تم لوگ دلیل کے قائل نہیں ہوتے تو آئو قطع حجت کے لئے آپس میں مل کر مباہلہ کریں ۔ مباہلہ یہ کہ تم اپنے عزیز و اقربا کو لے آئو ہم اپنے عزیز و اقربا کو لے آئیں اور ہم اپنے آپ بھی شریک ہوں پھر تم سب مل کر ایک میدان میں جمع ہو کر یوں خدا سے دعا کریں کہ اے اللہ جو گروہ ہم میں جھوٹا اور ناحق پر ہو تو اس کو اپنی رحمت سے دور کر دے۔
اس موقع پر حضرات مفسرین نے بہت روایتیں نقل کی ہیں ان میں سے بعض روایات صحیح ہیں اور بعض کی استاد میں غرابت ہے ۔ بہر حال ان سب کا خلاصہ یہ ہے کہ 9ھ میں نبی کریم ﷺ نے نجران کے حاکم کو بھی ایک خط لکھا تھا جس میں ان کے سامنے تین باتیں پیش کی تھیں خط کی عبارت یہ تھی ۔
بسم الہ ابراہیم و اسحاق و یعقوب من محمد النبی رسول اللہ الی اسقف نجران فانی احمد الیکم الہ ابراہیم و اسحاق و یعقوب اما بعد فانی ادعوکم الی عبادۃ اللہ من عبادۃ العباد وادعو کما لی ولایۃ اللہ من ولایۃ العباد فان ابیتم فالجزیۃ فان ابیتم نقد اذنتکم یحرب والسلام۔
یعنی شروع کرتا ہوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کے معبود کے نام سے یہ خط ہے محمد الرسول اللہ کی جانب سے طرف نجران کے حاکم اور سردار کے میں حمد وثناء کرتا ہوں حضرت ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کے معبود کی حمد وثناء کے بعد میں تم کو دعوت دیتا ہوں کہ تم بندوں کی عبادت چھوڑ کر اللہ کی عبادت اختیار کرو اور بندوں کی سرپرستی سے نکل کر خدا کی سرپرستی میں آ جائو ، پھر اگر تم اپنے ہی دین پر قائم رہنا چاہتے ہو تو جزیہ دینا قبول کرو اور اگر جزیہ بھی قبول نہیں کرتے تو جنگ کیلئے تیار ہوجائو ( والسلام) اس خط کو پڑھنے کے بعد نجران کے سردار نے مشیران خاص سے مشورہ کیا ۔ سب سے پہلے شر جیل بن دواعہ سے مشورہ کیا ۔
شرجیل نے کہا بادشاہ کو معلوم ہے کہ حضرت اسماعیل کی اولاد میں ایک نبی کے آنے کا وعدہ ہماری کتابوں میں موجود ہے ، کچھ بعید نہیں ہے کہ یہ وہ ہی نبی ہو ۔ یہ دین کی بات ہے اس میں میں کیا کہہ سکتا ہوں ۔
چنانچہ شرجیل کے بعد ابہم ، سید اور عاقب سے بادشاہ نے مشورہ کیا ۔ پھر ایک دن وادی نجران کے تمام ذمہ دار لوگوں کو بلا کر مشورہ کیا اور رائے یہ قرار پائی کہ پہلے چند آدمیوں کو بطور وفد مدینہ بھیجا جائے اور اس وفد کو یہ اختیار دیا جائے کہ وہ اس شخص کا حال دیکھ کر اور تمام ماحول کا اندازہ لگا کر جو مناسب مجھے فیصلہ کر آئے اور ہم سب لوگ اس فیصلے کے پابند ہوں گے۔
چنانچہ اس بنا پر یہ وفد حاضر ہوا اور یہاں آ کر گفتگو کی حضور اکرم ﷺ نے ان کو اپنی مسجد میں نماز پڑھنے کی اجازت بھی ۔۔۔۔ دی اور یہ لوگ اپنے طریق پہ مشرق کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے اس سلسلے میں جو آیتیں نازل ہوتی رہیں ۔ حضور ﷺ ان کو سناتے رہے تا آنکہ آخر میں ان سے کہا گیا کہ اچھا آئو اب آخری فیصلہ کے لئے مباہلہ منظور کرو۔
چنانچہ انہوں نے اول مہلت طلب کی اور وفد کے تمام ممبروں نے باہم مشورہ کیا ۔ دوسرے دن نبی کریم ﷺ حضرت حسین ؓ اور حضرت علی ؓ کے ہمراہ تشریف لائے حضرت فاطمہ ؓ پیچھے تھیں ۔ آپ نے فرمایا اے اللہ یہ میرے گھر والے ہیں۔
ابن عساکر کی روایت میں ہے جعفر بن محمد سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ اور آپ کے ہمراہ فاطمہ زہرا اور حضرت علی اور حضرت ابوبکر اور حضرت عثمان اپنی اپنی اولاد کو لئے ہوئے تھے ۔ یہ دیکھ کر شرجیل نے اپنے ہمراہیوں سے کہا ۔ دیکھو ! اگر یہ شخص رسول ہے اور تم اس سے مباہلہ کرتے ہو تو تم عرب کی نظروں میں ہمیشہ مطعون رہو گے اور اہل عرب کے دل میں تمہاری جانب سے ہمیشہ دشمنی قائم رہے گی اور تم اسلام کے پہلے مخالف سمجھے جائو گے اور دیکھو اگر یہ شخص نبی مرسل ہے تو تمہارا ایک بال اور ناخن بھی صحیح سلامت نہیں بچے گا اور تم سب زندہ واپس نہیں جائو گے اور تم کو خدا کی لعنت گھیر لے گی ۔ بلکہ نجران کی تمام آبادی تباہ و برباد ہوجائے گی۔
اس پر شرجیل کے ہمراہیوں نے کہا پھر آپ کی کیا رائے ہے شرجیل نے کہا میرے رائے یہ ہے کہ آپ ان سے فیصلہ کرلیں اور مباہلہ نہ کریں ۔ یہ شخص منصف ہے یہ جو فیصلہ کر دے گا وہ صحیح ہوگا اس پر دوسرے ارکان بھی متفق ہوگئے۔
شرجیل نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ آج کا دن اور آج کی رات اور کل صبح تک جو فیصلہ آپ ہمارے حق میں فرمائیں گے ہمیں منظور ہوگا ۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر تم نے میرے فیصلے کو مان لیا لیکن تمہاری قوم نے نہیں مانا تو کیا ہوگا شرجیل نے کہا اسکی بابت میرے ہمراہی سرداروں سے دریافت کر لیجیے ۔ آپ نے ان سرداروں سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ نجران کے تمام لوگ شرجیل کی باتوں کو مانتے ہیں اور اس کی بات کا انکار نہیں کرسکتے۔
دوسرے دن شرجیل پھر خدمت میں حاضر ہوا ۔ آپ نے فرمایا میں نے تم کو تین باتیں لکھیں تھیں ۔ تم ان میں سے کون سی بات قبول کرتے ہو ۔ اس پر شرجیل نے کہا ہم عرب سے جنگ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اور ہم اپنے مذہب کو چھوڑنا بھی نہیں چاہتے آپ اپنے مذہب پر رہیں اور ہم اپنے مذہب پر رہیں ۔ آپ پر جو جزیہ مقرر کردیں گے اس کو ہم ادا کردیا کریں گے۔
تب حضور ﷺ نے فرمایا : نجران کی تمام آمدنی تم رکھو ہم کو صرف دو ہزار حلے دے دیا کرو ایک ہزار حلے صفر کے مہینے میں دے دیا کرو اور ایک ہزار رجب کے مہینے میں ادا کردیا کرو۔ چناچہ اس پر عہد نامہ لکھا گیا اور وفد نجران کی درخواست کے موافق ان کے ہمراہ ایک امین شخص کا بھیجنا منظور کرلیا ۔ حضور ﷺ نے اپنا امین جس کو منتخب کیا وہ حضرت ابو عبیدہ بن جراح تھے۔
ان تمام روایتوں کا جو اس باب میں منقول ہیں ۔ ابن کثیر سے ہم نے خلاصہ نقل کردیا ہے۔ حضرت ابن عباس سے ایک روایت کتب احادیث میں مروی ہے کہ ایک دن ابو جہل نے کہا اگر میں محمد کو کعبہ کے پاس نماز پڑھتے دیکھتا تو ان کی گردن دبا دیتا ۔
یہ سن کر حضور ﷺ نے فرمایا کہ اگر وہ ایسا کرتا تو خدا کے فرشتے کھلم کھلا پکڑ لیتے اور اگر یہود موت کی تمنا کرلیتے تو مرجاتے اور اپنی جگہ آگ میں دیکھ لیتے اور اگر انصاری کا وفد مباہلہ کرلیتا تو وہ اپنے مال اور گھر بار کو واپس نہ پاتے ، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
اکثر علماء کے نزدیک چند شرائط کے ساتھ نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد بھی مباہلہ کو جائز کھا ہے۔ جیسا کہ امام احمد بن حنبل ، حافظ ابن حجر اور حضرت عبد اللہ بن مسعود سے اس قسم کا مطالبہ منقول ہے کہ آپ نے اپنے مخالفوں سے مباہلہ کا معاملہ کیا تھا ۔ مباہلہ کرنے والے اہل تقویٰ ہوں اور مسئلہ یقین ہو ظنی نہ ہو تو مباہلہ کیا جاسکتا ہے اور بھی بعض شروط ہیں جو کتب فقہ سے معلوم ہوسکتی ہیں مباہلہ پر چونکہ عیسائی تیار نہیں ہوئے اس لئے مباہلہ نہیں ہوسکا اور نہ اس کا انجام معلوم ہوسکا لیکن اتنا بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے اگر مباہلہ ہوتا تو وہ لوگ تباہ و برباد ہوجاتے یا سور اور بند کردیئے جاتے یا ان کو آگ گھیر لیتی اور اس کا اب بھی امکان ہے کہ اگر مباہلہ کیا جائے تو اہل باطل کو کوئی سخت نقصان پہنچ جائے۔ ( واللہ اعلم)
مباہلہ میں صرف فریقین کی شرکت ضروری ہے ۔ اعزاء اور اقارب کا جمع کرنا ضروری نہیں اعزاء کا جمع کرنا محض اہتمام کی غرض سے ہوتا ہے اور اپنے دعویٰ کو سچا ثابت کرنے کے لئے ہوتا ہے گویا ہم اپنی بات کو اس قدر سچا سمجھتے ہیں کہ خود بھی میدان مباہلہ میں حاضر ہیں اور وہ اپنے محبوب ترین اعزاء کو بھی ہم نے حاضر کردیا ہے ، یہ بات اپنے سچائی کے کامل یقین کا موجب ہوتی ہے۔
ابناتنا کا مفہوم اس آیت میں عام ہے بیٹا ہو ، بیٹے کا بیٹا ہو، نواسا ہو ، داماد ہو سب پر ہی صادق آتا ہے اسی طرح لفظ نساء سے خاص زوجہ مراد نہیں بلکہ گھر کی عورتیں مراد ہیں ۔ خواہ وہ بیوی ہو یا بیٹی ہو۔
انفسنا سے مراد خود نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس ہے ۔ ابن عساکر کی روایت سے یہ مراد اور واضح ہوجاتی ہے کیونکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عثمان اور ان کی اولاد بھی ہمراہ تھیں ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے نہ صلبی اولاد مراد تھی اور نہ خاص مباہلہ کرنے والوں کی بیویاں مراد تھیں ، بلکہ محض خاندان اور قرابت دارمقصود تھے اور ان سب کا جمع کرنا بھی محض اثبات یقین کے لئے تھا ورنہ آپ نے فرما دیا تھا کہ جب ہم دعا کریں تو تم لوگ آمین کہنا ۔
بعض شیعی حضرات نے کہا ہے کہ حضرت علی نہ عورتوں میں تھے نہ بیٹوں میں لہٰذا وہ انفسنا میں شامل تھے اور ان کو انفسنا میں داخل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ رسول اللہ کے عین اور ان کے مساوی تھے اور جب وہ رسول کے مساوی تھے تو وہی خلافت بلا فصل کے مستحق تھے۔
صاحب تفسیر مظہری نے اس استدلال کے کئی جواب دیئے ہیں ۔ از نجملہ ایک جواب قاضی صاحب (رح) نے یہ بھی دیا ہے کہ اگر یہ تسلیم بھی کرلیتا جائے کہ آیت مباہلہ میں لفظ انفسنا میں حضرت علی ؓ داخل ہیں تو زیادہ سے زیادیہ کہا جاسکتا ہے کہ حضر ت علی ؓ نبی کریم ﷺ کے متعلقین میں سے ہیں خواہ یہ تعلق دینی ہو یا نسبی ہو۔
یہ مطلب نہیں کہ حضرت علی ؓ نبی یا ان کے بالکل ہم پلہ اور مساوی ہیں ۔ قرآن کریم میں یہ لفظ بہت جگہ استعمال کیا گیا ہے ، مثلاً لا تخرجون انفسکم من دیار کم تقتلون انفسکم ، ظن المومنون والمومنت بانفسھم خیرا اور ولا تلمز وانفسکم۔
ان تمام مواقع میں سے کہیں بھی نہ عین مراد ہے نہ مساوات و ہمسری مراد ہے ، یہ جواب چونکہ سہل تھا اس لئے ہم نے اس کو یہاں نقل کردیا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا کہ نصاریٰ اس قد سمجھانے پر بھی اگر قائل نہ ہوں تو ان کے ساتھ قسم کا معاملہ کرو یہ بھی ایک صورت فیصلہ کی ہے کہ دونوں طرف اپنی جان سے اور اولاد سے حاضر ہوں اور دعا کریں کہ جو کوئی ہم میں جھوٹا ہے اس پر لعنت اور عذاب پڑے ۔ پھر حضرت آپ اور حضرت فاطمہ اور امام حسن اور امام حسین اور حضرت علی کو لے کر گئے ان نصاریٰ میں جو دانا تھا انہوں نے مقابلہ نہ کیا اور جزیہ دینا قبول رکھا۔ ( موضح القرآن)
اب آگے پھر اہتمام کے طور پر توحید کو مکرر بیان فرماتے ہیں تا کہ خلاصہ کے طور پر تمام بیان پھر مستحضر ہوجائے اور نصاریٰ کو تنبیہ ہو۔ (تسہیل)
Ayah 3:63ف 2۔ بلا شبہ جو کچھ مذکور ہو یہی حق اور سچی بات ہے اور بجز اللہ تعالیٰ کے کوئی مبعود ہونے کے لائق نہیں اور یقینا اللہ تعالیٰ قوت و طاقت اور بڑی حکمت و دانش کا مالک ہے ۔ پھر اگر یہ لوگ ان دلائل واضح اور براہین ساطمہ کے بعد بھی سرتابی اور روگردانی کریں تو آپ ان سے بات ختم کر دیجئے اور ان کا معاملہ خدا کے سپرد کر دیجئے ۔ بیشک اللہ تعالیٰ اہل فساد اور شرارت کرنے والوں کو خوب جانتا ہے۔
مطلب یہ ہے کہ حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق جو افسانے یہود و نصاریٰ نے گھڑ رکھے ہیں وہ صحیح نہیں ہیں بلکہ اصل حقیقت وہ ہے جو ہم نے بیان کردی ہے اور ان تمام واقعات مذکورہ میں یہ امر بالکل منکشف ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا نہ کوئی حقیقی معبود ہے اور نہ کوئی عبادت کے لائق اور قابل ہے کیونکہ وہی کمال قوت اور کمال حکمت کا مالک ہے اور جب کوئی دوسرا اس جیسا نہ عزیز ہے نہ حکیم ہے تو کوئی دوسرا معبود کیونکر ہوسکتا ہے۔
آخر میں نبی کریم ﷺ کو اطمینان دلایا گیا ہے کہ اگر معاندین ان تمام دلائل کو سننے کے بعد بھی حق کی طرف مائل نہیں ہوتے تو آپ ان کی فکر نہ کیجئے۔ اللہ تعالیٰ ان شرارت پسندوں سے خوب واقف ہے وہ ان کو ان کی کارروائیوں پر سزا دے گا ۔
اب آگے ایک اور انداز سے دین حق کی دعوت دی جاتی ہے یہ دعوت یا تو صرف نجران کے عیسائیوں کو ہے اور یا عام طور پر نصاریٰ اور یہود دونوں کو ہے اور یہی دوسری صورت ظاہر ہے۔ ( تسہیل)