Ayah 3:64ف 3۔ اے پیغمبر آپ اہل کتاب سے کہئے کہ اے اہل کتاب ! ایک ایسی بات کی طرف آئو جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں طور پر مسلم اور مشترک ہے وہ یہ کہ سوائے اللہ تعالیٰ کے ہم کسی کی عبادت نہ کریں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور اللہ تعالیٰ کے سوا ہم میں سے کوئی ایک دوسرے کو رب نہ ٹھہرائے اور کوئی کسی کو رب نہ قرار دے ، پھر اگر وہ اہل کتاب اس توحید اور ترک شرک کی دعوت کو بھی قبول نہ کریں تو اے مسلمانو ! تم ان سے کہہ دو کہ تم لوگ اس بات کے گواہ رہو کہ ہم مسلمان ہیں اور ہم اس بات کو مانتے ہیں تم نہیں مانتے تو تم جانو۔ ( تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ یہ تین باتیں ایسی ہیں جو اصولاً ہر پیغمبر کی تعلیم میں موجود ہیں اور کوئی آسمانی کتاب ایسی نہیں جس میں توحید کا اثبات اور شرک کی مذمت نہ ہو اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو رب بنانے کی ممانعت نہ ہو ۔ یہ وہ چیزیں ہیں کہ سب کتب سماویہ میں مسلم ہیں اور یہ باتیں ہم تم میں مشترک ہیں تو آئو ہم تم ان باتوں پر تو جمع ہوجائیں ۔ تم نے جو عزیز کو یا مسیح کو خدا کا بیٹا اور اس کو خدا کی الوہیت میں شریک کر رکھا ہے یہ باتیں چھوڑ دو ۔ اسی طرح اپنے علماء اور رہبان کی باتوں کو اس طرح مانتے ہو جس طرح خدا کے احکام کو مانتے ہو ، خواہ تمہارے علماء خدا کے احکام کے خلاف کہیں تب بھی تم ان کی اطاعت کرتے ہو ۔ یہ سب باتیں تمہاری شریعت میں بھی حرام ہیں ان کو ترک کردو۔ غرض اتنی صاف اور کھلی ہوئی بات کو ماننے سے بھی اعراض کریں تو ان سے کہہ دو کہ تم لوگ ہمارے متعلق گواہ رہو کہ ہم سب کتب سماویہ کو مانتے ہیں اگر تم نہیں مانتے تو تم جانو ۔
حضرت عدی بن حاتم کی روایت میں ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم اپنے علماء اور مشائخ کی عبادت تو نہیں کرتے ۔ آپ نے فرمایا کیا وہ تمہارے حلال اور حرام کے مالک نہیں بنے ہوئے ہیں جو وہ کہہ دیتے ہیں تم اس کو اختیار کرلیتے ہو۔
عدی نے کہا ہاں یہ بات تو ہے آپ نے فرمایا یہی تو وہ بات ہے کہ تم نے خدا کے مقابلے میں ان کو رب بنا رکھا ہے یعنی تم لوگ ایسے مسائل میں بھی ان کا اتباع کرتے ہو جو نصوص قطعیہ کے خلاف ہوتا ہے۔
خلاصہ یہ ہوا کہ یہ لوگ ان باتوں کو جانتے تھے اور پھر بھی شرک میں مبتلا تھے اور ایسی توجیہات اور تاویلات کرتے تھے۔ جیسی ہمارے زمانے کے مبتدعین اور قبر پرست کرتے ہیں یعنی خدا تعالیٰ کی صفات مختصہ کو بندوں کے لئے ثابت کرتے تھے اور بالذات اور بالعرض کا فرق کرتے تھے حالانکہ یہ فرق صفات غیر مختصہ میں ہوسکتا ہے لیکن باری تعالیٰ کی صفات مختصہ میں یہ فرق نہیں چل سکتا اسی طرح احکام میں یہ کرتے تھے کہ جو احکام ان کتابوں میں قطعی طور پر بغیر کسی معارض کے منصوص تھے ان کے خلاف بھی جو حکم ان کے راہب دیتے تھے اس پر عمل کرتے تھے اور ایک غیر مشروع تقلید میں مبتلا تھے جو اہل باطل کا شیوہ ہے۔
باقی رہے مسائل ظنیہ اور قیاسیہ جن میں کئی احتمال ہوں اور کسی ایک احتمال کو مجتہد کے قیاس سے ترجیح حاصل ہوئی ہو اور اس کی ترجیح کسی نص قطعی سالم عن المعارض اور اجماع کے خلاف نہ ہو تو اس پر عمل کرنا جیسا کہ ائمہ اربعہ کی تقلید کرنے والے کرتے ہیں تو یہ اس آیت میں داخل نہیں اور اس آیت سے اس مشروع تقلید کی حرمت پر استدلال کرنا جو آج کل عام اہل اسلام کا معمول ہے۔
بڑی زیادتی اور توجیہہ الکلام بما لا یرضی بہ قائلہ کے مرادف ہے اور یہ جو اس آیت میں اصول پر دعوت دی گئی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اہل کتاب اصول سے متفق ہوجائیں اور اسلام کے اصول مان لیں تو فروع پر متفق ہوجانا اور جزیات کو تسلیم کرلینا سہل اور آسان ہوجائے گا ۔ گویا یہ دعوت ایک تدریجی دعوت ہے کہ اچھا آئو جن باتوں میں ہمارا تمہارا اختلاف نہیں ہے اور جو باتیں تمہارے نزدیک بھی صحیح ہیں ان کو تو مان لو اور غیر اللہ کی عبادت شرک اور تقلید حامد غیر مشروع سے تو توبہ کرلو ۔ دوسری باتوں پر پھر غور کرلینا ۔
اب آگے اسی سلسلے کی ایک اور بات کا ذکر ہے جس سے نبی کریم ﷺ کی نبوت کا اثبات بھی ضمنا ً ہوتا ہے اور یہود و نصاریٰ کے باہمی جھگڑے کا ایک نہایت واضح فیصلہ ہوجاتا ہے وہ یہ کہ جب نجران کے عیسائیوں کا وفد آیا تو مدینہ کے بعض یہود بھی ان سے ملنے آئے۔ اثناء گفتگو میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر نکل آیا تو یہود نے کہا ۔ ابراہیم یہودی تھا نصاریٰ کہنے لگے نہیں بلکہ ابراہیم نصرانی تھا اس پر آگے آیتیں نازل ہوئیں ۔ (تسہیل)
Ayahs 3:65–66ف 1۔ اے اہل کتاب تم ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں کیوں جھگڑا کرتے ہو کہ وہ یہودیت مسلک رکھتے تھے یا نصرانیت حالانکہ توریت اور انجیل نہیں نازل ہوئی مگر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد تو کیا تم پھر اتنی بات بھی نہیں سمجھتے۔
یعنی کیسے بیوقوف اور کم عقلی ہو کہ توریت جو یہودیت کا مخزن ہے اور انجیل جو نصرانیت کا سر چشمہ ہے جب یہ دونوں کتابیں ان کے زمانہ میں موجود ہی نہ تھیں بلکہ ان کی وفات کے بعد نازل ہوئیں ہیں تو ان کی یہودیت اور نصرانیت کا سوال ہی کیسے پیدا ہوسکتا ہے۔ اسی لئے فرمایا افلا تعقلون تو کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہود و نصاریٰ کا جھگڑا یہ تھا کہ ہر کوئی کہتا تھا کہ ابراہیم (علیہ السلام) ہمارے دین پر تھا۔ ( موضح القرآن)
اب آگے اہل کتاب کو ایک اور تنبیہ کرنے کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا مسلک ظاہر فرماتے ہیں ۔ ( تسہیل)
Ayah 3:67ف 2۔ سنو ! تم لوگ ایسے ہو کہ ان چیزوں میں تو کٹ حجتی کیا ہی کرتے تھے جن کا تم کو تھوڑا بہت علم تھا اور تم ان کو تھوڑی بہت واقفیت رکھتے تھے پھر اب تم ایسی باتوں میں کیوں حجت کرتے ہو اور کیوں جھگڑتے ہو جن کا تم کو بالکل ہی علم نہیں اور تم ان سے کچھ بھی واقفیت نہیں رکھتے اور اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقہ کو جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نہ یہودی تھے اور نہ وہ نصرانی تھے بلکہ وہ ایک مخلص فرمانبرداری اور سیدھی راہ چلنے والے مسلمان تھے اور وہ ابراہیم (علیہ السلام) مشرکوں میں سے بھی نہ تھے۔
تھوڑے بہت علم کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عزیر (علیہ السلام) کے معجزات وغیرہ کا تو تم کو تھوڑا بہت علم تھا اس میں تو بحث مباحثہ کر کے تم غلط نتیجے نکالا کرتے ہو اور حضرت عزیر (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو انہی غلط نتیجوں کی بناء پر حضرت حق کا شریک بنائے بیٹھے ہو اب جن باتوں کا علم نہیں ان میں کیوں بحث و تکرار کرتے ہو جب تھوڑے بہت علم کے باوجود بعض خرق عادت کی بنا پر بندے کو الوہیت میں شریک ٹھہرا چکے تو اب نہ جاننے کی حالت میں خدا جانے کیا گل کھلائوگے اللہ تعالیٰ جانتا ہے یعنی ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقہ کو اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ جن باتوں میں تم جھگڑتے ہو ان کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہر نبی پر جو احکام نازل ہوئے ان کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور اگر یہ شبہ کیا جائے جیسا کہ بعض نے کا ہے کہ سب سے علم کی نفی کرنا مشکل ہے جبکہ ان میں اکثر عالم اور احبا بھی تھے اس کا جواب یہ ہے کہ ایسا علم جو غلط نتائج کا موجب ہو اور بےعملی اور گمراہی کا سبب ہو اس میں اور جہل میں کوئی فرق نہیں گویا ایسا علم عدم علم کے برابر ہے۔
لفظ حنیف کے معنی ہم پہلے بیان کرچکے ہیں یعنی سب سے کٹ کر صرف اللہ تعالیٰ کا ہوجائے۔
مفسرین نے اس لفظ کے بہت سے معنی بیان کئے ہیں ہم نے ان معنی میں سے مخلص اختیار کرلیا ہے اور ایسا مسلمان جو تمام غلط راستوں کو چھوڑ کر اور سب سے قطع تعلق کر کے ایک راہ کا ہوجائے اس سے بڑھ کر کون مخلص ہوسکتا ہے۔
یہودیت نصرانیت کی نفی کے ساتھ مشرکوں کو بھی نفی کردی اس کی وجہ ہم پہلے پارے میں عرض کرچکے ہیں کہ حضرت ابراہیم کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ ہر شخص ان سے اپنی نسبت قائم کرتا تھا اور ہر ملت والا حضرت ابراہیم کو اپنی ملت کا کہتا تھا یا اپنی ملت کو حضرت ابراہیم کی ملت سمجھتا تھا اس لئے ان کا حقیقی مسلک بیان فرما کر تمام ادیان باطلہ کی نفی فرما دی کہ وہ ان موجودہ ملل باطلہ میں سے کسی ملت پر بھی نہ تھا وہ تو سچا پکا مخلص اور سیدھی راہ چلنے والا مسلمان تھا اب آگے ان لوگوں کا بیان ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے واقعی صحیح نسبت رکھتے ہیں اور جو ان کی ملت کے اعتبار سے ان سے قریب تر ہیں ، چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ ( تسہیل)
Ayahs 3:68–69ف 3۔ یقینا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ لوگوں میں سے قریب تر اور خصوصی نسبت رکھنے والے وہ لوگ ہیں جو ان کے زمانے میں ان کے پیرو اور متبع تھے اور یہ نبی اور وہ اہل ایمان جو اس نبی پر ایمان لائے وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے قریب تر اور خصوصی نسبت رکھنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ مسلمانوں کا حامی و کار ساز ہے۔ ( تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ تم لوگ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کس طرح اپنی مناسبت اور خصوصیت بیان کرتے ہو وہ چونکہ یہودیت اور نصرانیت سے قبل گزرے ہیں اس لئے نہ تو وہ یہودی تھے نہ نصرانی رہی یہ بات کہ تم ان کی امت پر ہو اور یہودیت و نصرانیت کا مسلک وہی ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تھا تو یہ بھی غلط ہے کیونکہ نہ تمہارے اصول ان سے ملتے ہیں اور نہ تمہارے مسائل فرعیہ ان سے مطابقت و موافقت رکھتے ہیں لہٰذا تم کو کوئی قرب اور کوئی مناسبت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے نہیں البتہ اگر کسی کو کوئی قرب اور خصوصی تعلق ان سے حاصل ہے تو وہ لوگ وہی ہوسکتے ہیں جو ان کے زمانے میں ان پر ایمان لائے ان کے ساتھ رہے ۔ ہر دکھ درد میں ان کے شریک رہے ان کی پیروی کرتے رہے اور پھر یہ نبی اور اس کی امت ہوسکتی ہے کیونکہ یہ اصول میں تو بالکلیہ اور بےشمارفروع میں بھی ملت ابراہیمی کی پابند ہے اور ان کی ملت کا نام ہی ملت ابراہیمی ہے اگرچہ یہ نبی ایک مستقل شریعت رکھتا ہے جو تمام شرائع سابقہ کی ناسخ ہے لیکن جہاں تک ملت کا تعلق ہے اس میں اور ملت ابراہیمی میں کوئی فرق نہیں ہے اور اتنی بات سے کہ دونوں ملتیں یکساں ہوں نبی کریم ﷺ کی شریعت کے استقلال پر کوئی اثر نہیں پڑتا ، جیسا کہ ہم پہلے پارے میں بالتفصیل عرض کرچکے ہیں۔
خلاصہ یہ کہ نہ تم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی امت ہو اور نہ تم اصول اور اکثر فروع میں ان کے موافق ہو لہٰذا تم کو ان سے قرب اور خصوصیت کا کوئی حق نہیں ۔ اس کے حق دار تو ان کی امت کے لوگ ہیں اور یہ نبی یعنی محمد ﷺ ہیں اور اس کی امت ہے جو اس پر ایمان لائی ہے۔
آخر میں اللہ تعالیٰ نے مومنین کی ولایت و حمایت کا اعلان فرمایا کیونکہ یہ لوگ تمام انبیاء (علیہ السلام) پر ایمان رکھتے ہیں بخلاف یہود و نصاریٰ کے کہ کسی پر ایمان لاتے ہیں اور کسی پر ایمان نہیں لاتے اور جن پر ایمان لاتے ہیں ان کی شریعت کو بھی اپنے مطلب کا بنا لیتے ہیں اور اپنے دھب کی شریعت پر عمل کرتے ہیں لہٰذا ان کے مقابلے میں اہل ایمان کے لئے اپنی حمایت اور اپنے ثواب کی بشارت کا اظہار فرمایا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اللہ صاحب نے فرمایا کہ ابراہیم کو یہودی یا نصرانی اگر اس معنی میں کہتے ہو کہ توریت اور انجیل پر عمل کرتا تھا تو صریح بےعقلی ہے توریت اور انجیل اس سے بعد نازل ہوئی ہیں۔ اور اگر یہ غرض ہے کہ اس وقت بھی اہل ہدایت کا نام تھا یہود اور نصاریٰ تو بھی غلط ہے بلکہ ابراہیم نے اپنے تئیں حنیف کہا ہے۔ حنیف کے معنی جو کوئی ایک راہ حق پکڑے اور سب راہ باطل چھوڑ دے اور مسلم کے معنی حکم بردار اور اگر یہ عرض ہے کہ دینوں میں یہود کے دین کو یا نصاریٰ کے دین کو زیادہ مناسبت ہے ۔ ابراہیم کے دین سے سو اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ زیادہ مناسبت ابراہیم سے اس وقت کی امت کو تھی یا پچھلی امتوں میں اس نبی کی امت کو ہے تو یہ امت نام میں بھی اور راہ میں بھی ابراہیم سے مناسبت زیادہ رکھتی ہے کہ اپنی راہ کے حق ہونے پر کسی کی موافقت سے دلیل جب پکڑے کہ اپنے اوپر وحی نہ آتی ہو سو یہ اللہ والی ہے ، مسلمانوں کا یہ کہ اس کے حکم پر چلتے ہیں۔ ( موضح القرآن)
حضرت شاہ صاحب (رح) نے جو تفصیل فرمائی ہے وہ مطلب کی وضاحت کے لئے بہت کافی ہے اب آگے اہل کتاب کی مزید خواہشات فاسد کا رد کیا جاتا ہے اور ان کو آیات خداوندی کے انکار پر تنبیہ کی جاتی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ ( تسہیل)
Ayah 3:70ف 4۔ اہل کتاب میں سے بعض لوگ دل سے یہ چاہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح تم کو دین حق سے گمراہ اور بےراہ کردیں مگر وہ سوائے اپنے آپ کے کسی اور کو گمراہ نہیں کرسکتے ۔ یعنی خود ہی گمراہی کے وبال میں مبتلا ہوتے ہیں اور ان کی حالت یہ ہے کہ ان کو اس وبال میں مبلا ہونے کی خبر بھی نہیں۔
اے اہل کتاب تم کیوں آیات خداوندی کا انکار کرتے ہو حالانکہ تم ان کے آیات الٰہی ہونے کے قائل اور مقر ہو۔ ( تیسیر)
بعض اہل کتاب نے معاذ بن جبل ، حذیفہ بن الیمان اور عمار بن یاسر وغیرہم کو اپنے مذہب میں شامل ہونے کی دعوت دی تھی اور یہ کہا تھا کہ تم لوگ ہمارے دین میں آ جائو اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں ۔ اگرچہ آیت کا مورد خاص ہے لیکن حکم عام ہے یعنی اگرچہ اہل کتاب کے بعض لوگوں کے باوجود گمراہ ہونے کی عام خواہش یہ ہے کہ وہ تم کو بھی گمراہ کردیں حالانکہ گمراہ کرنا ان کے اختیار میں نہیں ۔ کوئی بدقسمت خود اسلام کو چھوڑ کر گمراہ ہوجائے تو یہ دوسری بات ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ وہ اپنی ان حرکات سے خود اپنے ہی کو گمراہ کر رہے ہیں اور وہ گمراہی یہ کہ وبال اور گناہ میں گرفتار ہو رہے ہیں اور دعوت الی الباطل کے وبال میں مبتلا ہو رہے ہیں اور اس وبال کا ان کو شعور اور اطلاع بھی نہیں کہ ان مغویانہ سرگرمیوں کا ضرر ان کو کس طرح پہنچے گا ۔ ہماری تقریر سے وہ شبہ دور ہوگیا ہوگا جو عام طور سے کیا جاتا ہے کہ جب وہ خود گمراہ ہیں تو پھر گمراہ اپنے کو کیا گمراہ کرے گا ۔ اس طرح تو تحصیل حاصل ہوگا جواب صاف ہے کہ گمراہی سے مراد گمراہی کے وبال میں گرفتار ہونا ہے ۔ اہل کتاب چونکہ توریت اور انجیل کی صداقت کے قائل اور مقر تھے اور ان کتابوں میں نبی آخر الزماں ﷺ کی نبوت اور ان کے قرآن کا ذکر تھا اس لئے فرمایا کہ تم آیات الٰہی کے قائل ہوتے ہوئے بھی پھر ان آیات کے منکر ہو۔
اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ خلوت میں بیٹھ کر تم بھی اس کا اعتراف کرتے ہو کہ یہ رسول وہی معلوم ہوتا ہے جس کا ہماری کتابوں میں ذک رہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ روز مرہ قرآن کے نزول کا مشاہدہ کرتے رہتے ہو اور نبی کریم ﷺ کے معجزات کو دیکھتے رہتے ہو ۔ پھر کیوں قرآن کے منکر ہوتے ہو اور اس رسول پر ایمان نہیں لاتے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی توریت کے قائل ہو پھر اسی کے خلاف کہتے ہو۔ ( موضح القرآن)
حضرت شاہ صاحب (رح) کے فرمانے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بایات اللہ سے مراد توریت ہے اب مطلب یہ ہوگا کہ تم توریت کے کلام الٰہی ہونے کے قائل ہو ۔ پھر اس کے بتائے ہوئے پیغمبر پر ایمان نہیں لاتے تو اس کتاب کا انکار کررہے ہو جس کو خود کلام الٰہی مانتے ہو۔
بہر حال قرآن کا انکار بھی توریت کے بلکہ جملہ کتب سماویہ کے انکار کو مستلزم ہے ۔ مدعایہ ہے کہ قرآن کے منکر ہونے سے توریت کا انکار بھی لازم آتا ہے دونوں طرح مطلب بیان کیا جاسکتا ہے۔ خواہ آیات اللہ سے قرآن مراد لیا جائے خواہ آیات اللہ سے تورات مراد لی جائے۔ ( واللہ اعلم)
اب آگے ان کی تلبیس اور تحریف وغیرہ کی مذمت کا بیان ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)
Ayahs 3:71–72ف 1۔ اے اہل کتاب تم کیوں حق اور سچ بات کو باطل اور جھوٹ کے ساتھ ملاتے ہو اور جانتے پوچھتے ہوئے کیوں حق کو چھپاتے ہو اور حق کو ظاہر نہیں کرتے۔ ( تیسیر)
تلبسون الحق بالباطل کی تفسیر ہم پہلے پارے میں بیان کرچکے ہیں ۔ یہود کے علماء کی عام عادت یہ تھی کہ اپنی دنیاوی وجاہت کے لئے بعض احکام کو تو سرے ہی سے ترک کردیا تھا ۔ بعض باتوں میں تحریف لفظی کے مرتکب ہوتے تھے بعض الفاظ کے معنی بدل دیئے تھے اور بعض احکام کو چھپا رکھا تھا غرض اسی قسم کی شرارتوں کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں توریت کے بعض حکم تو موقوف ہی کر ڈالے تھے غرض کے واسطے اور بعض آیتوں کے معنی پھیر ڈالے تھے اور بعض چیز چھپا رکھی تھی ہر کسی کو خبر نہ کرتے تھے جیسے بیان پیغمبر آخری کا ( موضح القرآن)
مدعا یہ ہے کہ جو صورت بھی اختیار کی جائے اور احکام الٰہی اور آیات الٰہی کے بیان کرنے میں جس طرح کی بھی خیانت کی جائے خواہ وہ کتمان ہو تبدیل و تحریف ہو خواہ لفظی ہو یا معنوی ہو ۔ تلبسون الحق بالباطل میں داخل ہے اور علماء سوء کا ہمیشہ یہی طریقہ کار ہا ہے۔ نعوذ باللہ من ذلک۔
اب آگے ان کی بعض اور چالاکیوں کا پردہ چاک کیا جاتا ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ ( تسہیل)
Ayah 3:73ف 2۔ اور اہل کتاب میں سے کچھ لوگوں نے آپس میں کہا اور باہم مل کر مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک سازش کی کہ اس نبی کے ماننے والوں یعنی مسلمانوں کی جانب جو کتاب نازل ہوئی اس پر ظاہری طور پر دن کے ابتدائی حصہ میں یعنی صبح کے وقت ایمان لے آئو پھر دن کے آخری حصہ میں یعنی شام کو اسی کتاب کا انکار کردو۔ شاید اس تدبیر سے مسلمان اپنے دین سے بھر جائیں اور انہوں نے آپس میں یہ بھی کہا کہ دیکھو سوائے اس شخص کے جو تمہارے دین کا پیرو ہو اس بارے میں کسی اور یقین نہ کرنا یعنی سوائے یہود کے کسی اور کو یہ بھید نہ بتانا۔
اے پیغمبر ﷺ آپ ان سے یہ کہہ دو کہ ان لچر تدبیروں سے کچھ نہیں ہوتا یقین جانو ہدایت تو وہی ہے جو اللہ کسی کو ہدایت عطا کرے تم یہ سب کچھ اس جلن میں کر رہے ہو کہ جو تم کو دیا گیا اس جیسی چیز کسی اور کو کیوں دی گئی یا تمہارے رب کے روبرو اور دوسرے لوگ تم پر کیوں غلبہ حاصل کرلیں۔
اے پیغمبر ﷺ آپ فرما دیجئے بلا شبہ ہر قسم کا فضل اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہے وہ اس فضل کو جو اس کے قبضہ میں ہے جس کو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑا صاحب وسعت اور بڑے علم والا ہے۔
ان آیتوں میں جہاں تک ان کی سازش کا تعلق ہے اس کا خلاصہ تو صرف اس قدر ہے کہ صبح کو جا کر مسلمان ہو جائو اور شام کو یہ کہتے ہوئے واپس آ جائو کہ ہم تو اس دین کو سچا سمجھ کر مسلمان ہوئے تھے مگر یہاں آ کر معلوم ہوا کہ کچھ بھی نہیں یہاں تو بڑی پول ہے اور سب کارروائیاں مصنوعی اور جھوٹی ہیں محض ایک قسم کا ڈھونک بنا ہوا ہے اس سے زیادہ اور کچھ نہیں لہٰذا ہم تو مایوس ہو کر پھر اپنے ہی دین میں جاتے ہیں ہمارے اس جانے اور واپس آنے کا یہ اثر ہوگا کہ کچے مسلمان اسلام سے پھرجائیں گے اور یہ سمجھیں گے کہ یہ لوگ تو اہل کتاب اور تعلیم یافتہ لوگ تھے اور پھر راست باز بھی تھے اور انہوں نے اسی وجہ سے اسلام کو سچا مذہب سمجھ کر قبول کیا تھا لیکن جب یہ تعلیم یافتہ لوگ اس مذہب سے مطمئن نہیں ہوئے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ مذہب ٹھیک اور قابل قبول نہیں ہے اس لئے ہم بھی اس کو چھوڑ دیں اورا س سے لوٹ چلیں یہ ان کی سازش اور اصلیت کا خلاصہ ہے۔
البتہ ! ولا تومنوا الا ملن تبع دینکم کے مفسرین نے مختلف معنی بیان کئے ہیں ہوسکتا ہے کہ اس کا یہ مطلب ہو کہ دیکھو ظاہری طور پر مسلمان ہونا اور اپنے اصل دین کا اقرار مسلمانوں کے سامنے نہ کرنا بلکہ جو لوگ تمہارے دین کے پیرو ہوں صرف ان کے سامنے اپنے اصل دین یہودیت کا اقرار کرنا اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ تم یہ نہ سمجھ لیا کہ واقعی تم مسلمان ہوگئے ہو بلکہ اصل میں اور سچے دل سے بدستور تم انہی کی بات مانو جو تمہارے دین کے پیرو ہیں اور جو شخص شریعت موسوی کا متبع ہو تو اسی کی بات ماننا اور اسی کی تصدیق کرنا۔
جیسا کہ ہم نے ترجمہ میں اشارہ کیا ہے اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ دیکھو اس کارروائی سے تمہارا مقصد یہ ہو کہ جو اہل کتاب مسلمان ہوگئے ہیں ان کو اسلام سے نکال لائو اور آئندہ کوئی ہم میں سے مسلمان نہ بنے جب تم جیسے ذی اثر اور معتمد لوگ اسلام کو قبول کر کے واپس ہوگئے تو جو اہل کتاب مسلمان ہوچکے ہیں ان کے پائوں ضرور اکھڑ جائیں گے۔
اب مطلب یہ ہوگا کہ فرضی ایمان نہ لائو مگر محض ان لوگوں کی غرض سے جو تمہارے دین کے پیرو ہیں یعنی جس طرح ہو سکے ان کو بچائو جو پھنس گئے ہیں ان کو اس تدبیر سے نکال لائو اور جو ابھی نہیں پھنسے ہیں ان کو اس تدبیر سے متنفر کردو اور یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ اس تمام سازش کے معاملہ میں سوائے اپنے کسی کو راز دار نہ بنانا اور کسی کا سوائے اپنے یقین نہ کرنا کبھی ایسا نہ ہو کہ کسی مسلمان کو اس سازش کا بھید بتادو ۔ بس اسی شخص کو معلوم ہو جو تمہارے دین کا پیرو ہو یہ معنی تیسیر میں ہم نے اختیار کئے ہیں اور ابن کثیر کا رجحان ان ہی معنی کی طرف پا ای جاتا ہے اس کے بعد کی آیت میں اس شازش کا جواب ہے کہ ان بوسیدہ چالوں سے کیا ہوتا ہے ہدایت تو جس کو ملتی ہے وہ خدا کے دیئے سے ملتی ہے اور جب وہ کسی کو ہدایت پر قائم رکھنا چاہئے تو اسے کون اکھیڑ سکتا ہے اور کسی اغوا کرنے والے کو اغواء کیا کارگر ہوسکتا ہے۔
پھر اس سازش کی اصل علت کی جانب اشارہ فرمایا کہ اس قسم کی سازشیں محض اس حسد اور جلن کی وجہ سے کر رہے ہو کہ بنی اسماعیل کی رسالت اور نبوت کو برداشت نہیں کرسکتے اور یہ حسد ہے کہ بنی اسرائیل کو جو بزرگی اور فضلیت اور کتاب اور نبوت عطا ہوئی تھی وہ کسی اور کو یعنی بنی اسماعیل کو کیوں دی جا رہی ہے اور شریعت موسویہ کی جو اجارہ داری ہم کو حاصل تھی وہ کیوں ختم ہو رہی ہے نیز اس وجہ سے کہ اور لوگ تمہارے رب کی جناب میں تم پر غلبہ کیوں حاصل کرلیں۔
مفسرین نے او یحا جو حکم عند ربکم کے بہت سے معنی کئے ہیں ہم پہلے پارے میں لیحا جو کم بہ عند ربکم کی تفصیل مفصل عرض کرچکے ہیں ۔ ہوسکتا ہے مراد یہ ہو کہ دوسرے لوگ مناظرے میں ہم پر کیوں غالب آئیں اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ دوسرے تم پر اس دین حق کا تعیین میں کیوں غالب آجائیں جو تمہارے پروردگار کے پاس سے تم کو ملا ہے یعنی آسمانی کتاب جو تم کو ملی تھی وہ اوروں کو کیوں دی گئی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قیامت میں اللہ تعالیٰ کے روبرو تمہاری بات کیوں نیچی ہو اور دوسرے کیوں تم پر غلبہ حاصل کریں اور تم کو قیامت میں تمہاری کتابوں سے کیوں الزام دیں۔
بہر حال دو باتوں کا حسد تم کو کھائے جاتا ہے ایک یہ کہ بنی اسماعیل کو نبوت اور کتاب اور شریعت کیوں مل گئی اور دوسرے یہ کہ قیامت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے مسلمان ہم پر کیوں تفوق اور غلبہ حاصل کریں اور وہاں مناظرے میں ان سے کیوں قائل ہونا پڑے ۔ سازش اور چالاکی کی جو دو علتیں مذکور ہوئی ہیں ۔ یعنی ان یوتی احد مثل ما اوتیم او یحا جو کم عند ربکم اس کا جواب دیا گیا کہ نبوت و رسالت اور آسمانی کتاب یا خدا کی جناب میں بزرگی و برتری یہ حضرت حق تعالیٰ کا فضل ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل پر پورا اختیار رکھتا ہے مال جس کو چاہے عطا فرمائے۔ اگرچہ فضل عام طور سے قرآن میں مالی اور کے نفع وغیرہ پر استعمال ہوتا ہے لیکن کبھی اپنے مفہوم کی عمومیت کے باعث نبوت و رسالت کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے ورنہ عام طور سے نبوت وغیرہ کے لئے رحمت کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔
آخر میں فرمایا اللہ تعالیٰ بڑا صاحب وسعت ہے اس کے فضل میں کوئی کمی نہیں اور بڑے علم والا ہے وہی خوب جانتا ہے کہ کس کو کیا دنیا مناسب ہے اور کس وقت دینا مناسب ہے اسی بناپر آگے اپنی رحمت کے اختصار کو بیان فرمایا ہے۔ ( تسہیل)
Ayahs 3:74–75ف 3۔ چونکہو ہ واسع العطا یا اور ہر شخص کی حالت سے پوری طرح واقف ہے اس لئے اپنے نقل و رحمت کیلئے جس کو چاہتا ہے خاص کرلیتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑا صاحب فضل ہے۔ ( تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ اس کی رحمت اس کے قبضے میں ہے وہ جس کو چاہے اپنے فضل اور اپنی رحمت سے نوازے اگر اس نے نبی اسماعیل کو نبوت عطا فرما دی تو اس پر حسد اور جلن کی کوئی وجہ نہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں بعض یہود نے آپس میں مشورت کی کہ تم صبح کو جا کر ظاہر میں مسلمان ہو جائو اور شام کو پھر جائو تو شاید مسلمان بھی پھر جاویں ۔ جانیں کہ یہ لوگ منصف تھے کہ اپنا دین چھوڑ کر ہمارے دین میں آئے تھے پھر کچھ ایسی غلطی پانی کہ پھرگئے اور آپس میں کہا کہ دل سے ہرگز یقین نہ کرلو مگر اپنے دین والوں کی بات تا کسی کے دل میں سچ اسلام نہ آجائے سو اللہ تعالیٰ نے ان کا فریب کھول دیا ۔ فرمایا تو کہہ ہدایت دی جو اللہ دے تمہارے فریب سے کوئی گمراہ نہ ہوگا مگر تم یہ حسد کرتے ہو کہ آگے نبوت اور بزرگی بنی اسرائیل میں تھی اب اور فرقے میں کیوں ہوئی یاد ین کی مدد گاری میں ہماری مقابل اور کوئی کیوں ہوا سو یہ اللہ کا فضل ہے جس کو چاہا دیا کی کو حق نہیں۔ ( مواضح القرآن)
حضر ت شاہ صاحب (رح) نے جو خلاصہ بیان فرمایا ہے اس کا مطلب بالکل صاف ہے۔ لا تومنوا اور یحاجو کم میں شاہ صاحب (رح) نے ایک قول اختیار کرلیا ہے ہم عرض کرچکے ہیں کہ مختلف معنی کی گنجائش ہے ۔ جو چاہے اختیار کرلیا جائے ۔ نتیجہ کے اعتبار سے تقریباً سب کا ایک ہی مفاد ہے اوپر کی آیتوں میں اہل کتاب کی اس خیانت کا ذکر تھا جو وہ دین میں کرتے تھے۔
اب آگے انکی اس خیانت کا ذکر ہے جو وہ مال میں کیا کرتے تھے اور چونکہ مال کے معاملہ میں سب یکساں نہ تھے اس لئے دونوں فریق کا ذکر فرماتے ہیں ۔ معاملات کا تعلق بھی دین سے ہے معاملات میں بھی وہی برا ہوتا ہے جو دینی اعتبار سے کمزور ہوتا ہے اور معاملات کی کمزوری بھی اس میں ہوتی ہے جس کا دین ضعیف ہوتا ہے اس لئے آگے کا مضمون سابقہ مضمون کے ساتھ مربوط ہے۔ ( تسہیل)
Ayah 3:76ف 1۔ اور ان اہل کتاب میں سے بعض شخص تو ایسا ہے کہ اگر اے مخاطب تو اس کے پاس ڈھیر کا ڈھیر مال بھی امانت رکھ دے تو جب تو طلب کرے وہ اس مال کو تجھے ادا کر دے اور انہی اہل کتاب میں سے کوئی ایسا بھی ہے کہ اے مخاطب اگر تو اس کے پاس ایک دینار بھی امانت رکھ دے تو وہ تجھ کو وہ دینار بھی ادا نہ کرے مگر یہ کہ تو ہر وقت اس کے سر پر کھڑا رہے یہ امانت کا ادا نہ کرنا اور ان کا خیانت کرنا اس وجہ سے ہے کہ یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ ان پڑھ یعنی غیر اہل کتاب کا حق مار لینے میں ہم پر کوئی الزام اور کوئی مواخذہ نہیں اور یہ لوگ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولتے ہیں حالانکہ یہ خود اس بات کے غلط ہونے کو جانتے ہیں مواخذہ کیوں نہ ہوگا ضرور ہوگا۔
بات یہ ہے کہ جو شخص اپنے عہد کو پورا کرے گا اور خیانت و کفر کی روش سے بچتا رہے گا تو یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ ایسے پرہیز گاروں کو پسند کرتا اور دوست رکھتا ہے۔ ( تیسیر)
قنطار کو اس سورت کے شروع میں بتایا جا چکا ہے کہ مال کے انبار کو کہتے ہیں دینار سونے کے سکے کو کہتے ہیں ۔ شاہ صاحب (رح) نے اشرفی ترجمہ کیا ہے یہاں مراد تھوڑا مال ہے مطلب یہ ہے کہ اہل کتاب میں کچھ لوگ تو امین اور امانت کے سچے ہیں ان کے پاس کتنا ہی مال رکھ دو جب ان سے طلب کرو وہ فوراً نکال کر رکھ دیں اور بعض ایسے کم بخت لیچڑ ہیں کہ ان کے پاس تھوڑا سا مال مثلاً ایک گنی امانت رکھ دو تو طلب کرنے کے وقت وہ اشرفی بھی واپس نہ کریں بلکہ موقع لگے تو مکر جائیں مگر ہاں لینے والا ان کے سر پر ہی کھڑا رہے یعنی خوب تقاضا کرے اور ان کے خلاف حاکم کے ہاں دعویٰ کر دے یا خوشامد کر کے مانگے تب ان سے وہ امانت وصول ہوجائے تو ہوجائے۔
خیر یہاں تک تو بخل اور لیچڑ پنے کی بات تھی لیکن آگے فرمایا کہ ان نادہندوں نے ایک مسئلہ بنا رکھا ہے اور وہ مسئلہ یہ ہے کہ یہ لوگ یہاں کہتے ہیں کہ ان عرب کے جاہل لوگوں کا مال کھا جانا ہمارے لئے حلال ہے یعنی جو لوگ اہل کتاب نہیں ہیں ان کی رقم خواہ کسی طرح کھا جائو سب جائز ہے۔ خیانت کرلو ، دھوکہ دے دو چرا چھپا کے ان کا حق مار لو سب جائز ہے یہ لوگ اللہ کی جانب جھوٹی بات کی نسبت کرتے ہیں حالانکہ دل سے یہ لوگ بھی جانتے ہیں کہ توریت میں کوئی ایسا حکم نہیں ہے جس میں یہ کہا گیا ہو کہ غیر اہل کتاب کا مال تم کو خیانت سے کھا جانا جائز ہے اور ایسا کرنے سے تم پر کوئی الزام نہیں۔
آگے فرمایا بلی یعنی تم پر الزام ضرور ہوگا اور تم سے اس قسم کی خیانت پر ضرور مواخذہ ہوگا کیونکہ ہمارا قاعدہ یہ ہے اور آسمانی شریعت کا قانون یہ ہے کہ جو شخص اپنے عہد کو پورا کرے گا خواہ وہ عہد اللہ تعالیٰ سے کیا ہو یا کوئی جائز یا صحیح عہد بندے سے کیا ہو اس عہد کی پابندی کرے گا اور خدا سے ڈرتا رہے گا ۔ جس میں خیانت اور کفر سے بچنا بھی آگیا کیونکہ جو خدا سے ڈرے گا وہ کفر اور خیانت سے پرہیز کرے گا تو اللہ تعالیٰ ایسے پرہیز گاروں کو محبوب رکھتا ہے۔
آیت کے شان نزول کے بارے میں بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ امانت دار حضرات سے وہ اہل کتاب مراد ہیں جو اسلام قبول کرچکے تھے یا بعد میں انہوں نے اسلام قبول کرلیا یہ آیت ان کی تعریف اور مدح میں نازل ہوئی ہے۔
کسی نے عبد اللہ بن سلام ؓ کے پاس 0021 اوقیہ امانت رکھا تھا اور انہوں نے طلب کرنے کے وقت جوں کا توں ادا کردیا تھا اور جن لوگوں کی خیانت کا ذک رہے اور جن کی مذمت کی گئی ہے ان سے مراد کعب بن اشرف یا فخاص بن عازورا ہے کہ کسی قریشی نے اس کے پاس ایک دینار امانت رکھوایا تھا مگر اس نے اس میں بھی خیانت کرلی ۔ بہر حال آیت کا نزول خواہ کسی خاص موقع کے ساتھ تعلق رکھتا ہو مگر آیت کا مفہوم عام ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ اللہ صاحب مسلمانوں کو سناتا ہے کہ جن کی یہ نیت ہے کہ پرانا حق کھانے کو یہ مسئلہ بنا لیا کہ ہم کو غیر دین والوں کی امانت میں خیانت کرنی روا ہے ان کی بات دین کے مقدمہ میں کیا سند ہو سکے ۔ ہمارے ہاں بھی کافر حربی کا مال زور سے لینا روا ہے لیکن امانت میں خیانت روا نہیں۔ ( موضح القرآن)
حضرت شاہ صاحب (رح) نے فقہ کے ایک اور مسئلہ کی طرف بھی اشارہ فرما دیا کہ ہمارے ہاں جو حربی کے مال اور اس کے خون کو مباح کہا گیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ لڑ کر اس کا مال چھین سکتے ہو یا اس کی رضا مندی سے لے سکتے ہو لیکن جھوٹ بول کر یا خیانت کر کے حربی کا مال لینا جائز نہیں اور بات بھی یہ ہے کہ آسمانی شریعت میں شریعت میں خیانت اور کذب کی اجازب ہو بھی نہیں سکتی۔
پھر اہل کتاب کا یہ کہنا کہ لیس علینا فی الامین سبیل اس کا مطلب بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک حربی اور غیر حربی کا سوال نہ تھا بلکہ وہ غیر اہل کتاب کو اپنے سے کمتر اور جاہل وان پڑھ سمجھتے تھے اس لئے اپنے کو اس کا مستحق سمجھتے تھے ان کا مال کھا لینا اور ان کا حق دبا لینا ہم کو جائز اور روا ہے اگر کسی کو آیت کی عمومیت پر یہ شبہ ہو کہ اگر آیت کو عام رکھا جائے اور یہ کہا جائے کہ آیت میں امانت داروں کی مدح ہے خواہ وہ کافر ہوں یا مسلمان ہوں تو اس تقریر پر کافر کے ایک فعل کی تعریف لازم آئے گی حالانکہ کافر کا کوئی عمل بدوں اسلام کے مقبو ل نہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں مقبول عدم مقبول کی بحث نہیں بلکہ یہاں تو ایک اچھے فعل کی تعریف کرنا مقصود ہے خواہ اس کا مرتکب کافر ہی کیوں نہ ہو اور یہی وہ اسلا م کی خوبی فیاضی اور انصاف ہے کہ وہ اچھی بات کو سراہتا ہے ، خواہ وہ کافر ہی کی ہو۔
امانت دار ی ایک بہترین فعل ہے اگر وہ کافر میں ہو تب بھی قابل ستائش ہے اور مسلمان میں ہو تب بھی قابل تعریف ہے باقی رہا مقبول ہونا تو یہ ظاہر ہے کہ کافر کی کوئی بھلائی جب تک وہ مسلمان نہ ہو قابل نہیں البتہ دنیا میں اس کو کوئی فائدہ پہنچ جائے اس کے مال و اولاد میں زیادتی ہوجائے یا قیامت میں اس خوبی کی وجہ سے تھوڑی بہت عذاب میں کمی ہوجائے وہ دوسری بات ہے ۔ اوپر
لیس علینا فی الامین سبیل کا رد تھا اور ان کا دعویٰ کی تکذیب تھی اب آگے اسی تکذیب کی تاکید اور وفائے عہد کی فضلیت اور عہد شکنوں کی مذمت اور ان کے لئے وعید کا ذدک رہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ ( تسہیل)
Ayah 3:77ف 2۔ یقینا جو لوگ عہد خداوندی اور نیز اپنی قسموں کو معمولی قیمت کے عوض فروخت کر ڈالتے ہیں اور جو عہد انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہے اس کے مقابلے میں حقیر معاوضہ لے لیتے ہیں اور اسی طرح جو قسمیں وہ کسی معاملے پر کھاتے ہیں ان قسموں کے مقابلے میں بھی حقیر معاوضہ لے لیتے ہیں تو ایسے لوگوں کو آخری میں کوئی حصہ نہ ملے گا اور یہ آخرت کی نعمتوں سے بالکل محروم رہیں گے اور نہ خدا تعالیٰ قیامت کے روز ان سے مہربانی کے ساتھ کلام کرے گا اور نہ ان کی طرف رحمت و محبت سے دیکھے گا اور نہ ان کو گناہوں کی آلائش سے پاک کرے گا اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہوگا۔ ( تیسیر)
عہد خداوندی سے ہر قسم کے احکام مراد ہیں کیونکہ ہر بندہ فطری طور پر اس امر کا مکلف ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کرے اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائے اور ہم دوسرے بارے میں عہد کی حقیقت عرض کرچکے ہیں ۔ مطلب نہیں کہ ہر شخص نے کوئی عہد نامہ لکھا ہے بلکہ جس طرح ہر شخص طبعا ً جانتا ہے کہ ماں کی اطاعت کرنا اور اس کی خدمت بجا لانا ضروری ہے یا حاکم کی اطاعت کرنا ضروری ہے یا مونسپلٹی جو سڑکیں اور روشنی کا انتظام کرتی ہے اس کو ٹیکس دینا ضروری ہے حالانکہ ہر شخص سے کوئی عہد نہیں کیا جاتا اسی طرح فطری طور پر ہر شخص سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات واجب الاطاعت ہے اور یہود و نصاریٰ تو چونکہ توریت اور انجیل پر ایمان رکھتے تھے اور کتب سماویہ پر ایمان لانا ایک قسم کا صاف وصریح عہد تھا۔
نبی آخر الزماں پر ایمان لانے کا لیکن یہود و نصاریٰ نے محض دنیوی لالچ کی وجہ سے عہد شکنی کی اور جو عہد توریت و انجیل کی وساطت سے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے لیا تھا انہوں نے اس کے مقابلے میں قلیل و حقیر معاوضہ لے کر اس کے خلاف کیا ۔
بہر حال فطری عہد مراد ہو یا وہ عہد ہو جو اہل کتاب نے توریت و انجیل پر ایمان لانے سے کیا تھا یا آپس میں کسی معاملہ پر قسم کھائی اور پھر دنیوی نفع کی غرض سے اپنی قسم کے خلاف کریں اور قسموں کے مقابلے میں حقیر معاوضہ حاصل کرلیں تو ایسے لوگوں کے لئے یہ وعید فرمائی ہے۔ ثمن قلیل فرمایا دنیا کے نفع کو اور یہ واقعہ ہے کہ دنیا کا کتنا ہی بڑا فائدہ کیوں نہ ہو آخرت کے مقابلے میں قلیل اور حقیر ہی ہے۔ اسی کو آیت میں اشترا سے تعبیر کیا ہے گویا جو لوگ دنیوی فوائد کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ سے عہد شکنی کرتے ہیں اور اپنی قسموں کو توڑتے ہیں گویا وہ تھوڑا مول لے کر اللہ تعالیٰ کے عہد کو اور اپنی قسموں کو بیچ ڈالتے ہیں۔
لا خلاق کا مطلب یہ ہے کہ آخرت کی نعمتوں میں سے ان کا کوئی حصہ نہ ہوگا کلام اور نظر سے مراد یہ ہے کہ شفقت آمیز کلام نہیں ہوگا اور نہ رحمت بھری نگاہ سے ان کو دیکھا جائے گا ۔
تزکیہ سے مراد یا تو گناہوں سے پاک کرنا ہے اور ہوسکتا ہے کہ یہ مطلب ہو کہ اللہ تعالیٰ ان کی مدح اور تعریف نہیں فرمائے گا جیسا کہ تفسیر مظہری نے اس کی تصریح کی ہے اللہ تعالیٰ کا کسی بندے کی تعریف کرنا اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ اس کے گناہ بخش دیئے جائیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ جو معاملہ قیامت کے دن مؤمنین کے ساتھ ہوگا وہ ان عہد شکنوں اور قسمیں کھا کر قسموں کو توڑنے والوں کے ساتھ نہیں ہوگا بلکہ ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی ملاقات اس شان اور اس حال کے ساتھ ہوگی کہ وہ ان پر غضبناک ہوگا کلام نہ کرنا اور نگاہ بھر کر نہ دیکھنا کنایہ ہے غصے اور غضب سے آیت زیر بحث میں دو گناہ ذکر کئے گئے ہیں ۔ ایک اللہ تعالیٰ سے عہد کر کے پھرنا اور ایک قسمیں کھا کر توڑنا بظاہر ایک کا تعلق حقوق اللہ سے اور دوسرے کا تعلق حقوق العباد سے ہے ۔ حقوق اللہ کے سلسلے میں یہ امید کی جاسکتی ہے کہ اگر کوئی بندہ کفر و شرک سے پاک ہو تو اس کے باقی جرائم کو نظر انداز کردیا جائے لیکن حقوق العباد کے مواخذے سے اس وقت تک چھٹکارا غیر ممکن ہے جب تک صاحب حق عنہا معاف نہ کرے۔
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ تین دیوان یعنی تین رجسٹر ہیں۔
ایک رجسٹر تو ایسا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس کی کچھ پرواہ نہیں اور ایک رجسٹر ایسا ہے کہ اس میں سے اللہ تعالیٰ کوئی چیز نہیں چھوڑے گا ۔ اور تیسرا رجسٹر وہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو ہرگز معاف نہیں کرے گا ۔ جو رجسٹر حضر ت حق کے نزدیک کچھ زیادہ اہم اور قابل التفات نہیں ہے وہ کسی بندے کا اپنی جان پر ان معاملات میں ظلم کرنا ہے جو بندے اور خدا کے درمیان ہیں اور وہ رجسٹر جس کی مغفرت اور بخشش نہیں ہوگی وہ کفر و شرک کا رجسٹر ہے اور وہ رجسٹر جس کی کوئی بات چھوڑی نہ جائے گی وہ بندوں کے باہمی حقوق میں جن کا قصاص اور بدلہ ضرور لیا جائے گا ۔
حدیث شریف کا مطلب یہ ہے کہ اعمال کی تین قسمیں ہیں ایک تو کفر و شرک وہ تو ناقابل مغفرت ہیں ۔ دوسرے کفر و شرک کے علاوہ دوسری کوتاہیاں تو وہ اس قابل ہیں کہ ان کو نظر انداز کردیا جائے اور وہ چاہے تو اپنی رحمت سے ان کو معاف کر دے۔ تیسرے وہ حقوق جو بندوں سے تعلق رکھتے ہیں تو حقوق العباد میں۔۔۔ سے کوئی چیز معاف نہیں کی جائیگی بلکہ ہر ایک کا بدلہ لیا جائے گا ۔ آیت زیر بحث کا تعلق بظاہر یہود سے ہے کہ انہوں نے کفر کیا اور نبی کریم ﷺ کی تعریف اور آپ کی نعت کو چھپایا لیکن یہ ہوسکتا ہے کہ آیت کا نزول اشعت بن قیس اور انکے چچا اور بھائی کے قصے میں ہوا ہو یا اشعت بن قیس اور ایک یہودی کے بارے میں ہو ۔
اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ امری القیس بن عابس کندی اور ربیعہ بن عیدان حضرمی کے جھگڑے میں نازل ہوئی ہو ۔ ان تمام جھگڑوں کا خلاصہ یہ ہے کہ اشعت بن قیس کا ایک کنواں ان کے چچا زار بھائی کی زمین میں تھا انہوں نے بھائی کے خلاف دعویٰ کیا ۔
حضور اکرم ﷺ نے فرمایا اشعت تیرے پاس شہادت ہے اشعت نے انکار کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا پھرے تیرے بھائی کی قسم پر فیصلہ ہوگا ۔ اشعت نے کہا یا رسول اللہ ﷺ وہ تو قسم کھا ۔۔۔۔ جائے گا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا اگر کوئی شخص جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کا مال کھائے گا تو قیامت کے دن وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر غضب ناک ہوگا ۔
دوسرے واقعہ کا خلاصہ یہ ہے کہ اشعت کی ایک زمین یہودی کے پاس تھی ان سے انکار کردیا ۔ انہوں نے دعویٰ کیا آپ نے شہادت طلب کی ۔ اشعت نے کہا میرے پاس گواہ تو نہیں ہیں ۔ آپ نے فرمایا پھر مدعا علیہ کی قسم پر فیصلہ ہوگا ۔ اشعت نے کہا جناب وہ تو جھوٹی قسم کھالے گا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
تیسرے واقعہ کا خلاصہ یہ ہے کہ قیس بن عابس کندی اور ربیعہ حضرمی کا بھی ایک قصہ زمین کا تھا حضرمی نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ات کندی نے میری زبان دبالی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا تیرے پاس شہادت ہے ۔ حصرمی نے انکار کیا ۔ آپ نے فرمایا کندی کی قسم پر فیصلہ ہوگا ۔ حضرمی نے کہا یا رسول اللہ ﷺ یہ شخص فاجر ہے اس کی جھوٹی قسم کھا لینا کیا مشکل ہے۔
اس پر آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص جھوٹی قسم کھا کر کسی کے مال پر قبضہ کرے گا تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ جذام کے مرض میں مبتلا ہوگا ، اس پر یہ آیتیں نارل ہوئیں۔
بہر حال آیت اپنے عموم کے اعتبار سے ان سب واقعات کے ساتھ تعلق رکھتی ہے اگرچہ بظاہر سیاق سے معلوم ہوتا ہے کہ آیت کا تعلق یہود کی عہد شکنی سے اور اپنے عہد و پیماں سے پھرجانے کے ساتھ بہت گہرا ہے۔
حدیث میں آتا ہے تین شخص ایسے ہیں جن سے نہ تو اللہ تعالیٰ کلام کرے گا ، نہ ان کا و نگاہ بھر کے دیکھے گا نہ ان کے گناہوں سے ان کو پاک کرے گا ۔ ایک تو وہ شخص جو برسانی پانی پر قبضہ کرلیتا ہے اور کسی مسافر کو پانی نہیں لینے دیتا یعنی جنگل میں جو پانی گڑھوں میں برسات کا کھڑا ہوجاتا ہے اس پر قبضہ کرلیتا ہے اور کسی مسافر کو نہیں لینے دیتا ۔ دوسرا وہ شخص جو عصر کی نماز کے بعد جھوٹی قسم کھا کر مال فروخت کرتا ہے تا کہ کسی مسلمان کا مال قسم کے پردے میں دھوکہ دے کر جائے۔ تیسرے وہ جو دنیوی اغراض کے خیال سے کسی امام کے ہاتھ پر بیعت کرلیتا ہے اگر وہ مطلب پورا ہوگیا تو بیعت پر قائم رہا اگر وہ غرض پوری نہ ہوئی تو امام سے بغاوت کردی ۔ یہ حدیث مختلف الفاظ سے تمام کتب احادیث میں آئی ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ یہود میں صفت تھی کہ ان سے اللہ تعالیٰ نے اقرار لیا تھا اور قسمیں دی تھیں کہ ہر نبی کے مدد گار رہیو۔ پھر غرض دنیا کے واسطے پھرگئے اور جو کوئی جھوٹی قسم کھا وے دنیا ملنے کے واسطے اس کا یہی حال ہے۔ ( موضح القرآن)
اب آگے یہود کی بعض اور شرارتوں کا ذکر ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ ( تسہیل)
Ayahs 3:78–79ف 3۔ اور بلا شبہ ان اہل کتاب میں سے بعض لوگ ایسے چالاک ہو شیار ہیں کہ وہ کتاب پڑھنے میں اپنی زبانوں کو کچھ ایسا الٹ پھیر دے کر پڑھتے ہیں تا کہ تم لوگ اس بناوٹی اور ملاوٹی ہوئی چیز کو بھی کتاب ہی کا ایک حصہ سمجھو حالانکہ جو کچھ انہوں نے زبان کو پھیر دے کر پڑھا ہے وہ کتاب کا حصہ نہیں پھر یہی نہیں کہ اتنی ہی تحریف پر بس کریں ۔ اس کے بعد زبان سے بھی کہتے ہیں کہ جو کچھ ہم نے پڑھا ہے یہ اللہ تعالیٰ کے پاس ناز ل شدہ ہے ، حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ نہیں ہے اور یہ لوگ جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹ بات منسوب کرتے ہیں۔ ( تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ تحریف لفظی کرتے ہیں کہ غیر کتاب کو کتاب کہہ کر پڑھ جاتے ہیں اور پڑھتے بھی کچھ اس طرح زبان کو دبا کر اور پھیر دے کر پڑھتے ہیں کہ سننے والے کو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ عبارت بھی کتاب کی ہے اور ہوسکتا ہے کہ تحریف معنوی کی طرف اشارہ ہو کہ کتاب کا مطلب کچھ اس طرح چکر دے کر بیان کرتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ واقعی کتاب کا مطلب یہی ہوگا حالانکہ مطلب وہ نہیں ہوتا۔ پھر زبان سے ان الفاظ کی یا اس مضمون کی توثیق بھی کرتے ہیں کہ جو کچھ ہم نے پڑھا ہے یا جو کچھ ہم نے بیان کیا وہی اللہ تعالیٰ کا منشاء ہے اور یا یہی الفاظ خدا کی جانب سے آئے ہیں حالانکہ نہ وہ خدا کا منشا ہے نہ وہ الفاظ خدا کے نازل کردہ ہیں ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ اپنے مطب کے لئے جان بوجھ کر خدا تعالیٰ پر جھوٹ بولتے ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ یعنی بن پڑھوں کو دغا دیتے ہیں اپنی عبارت بنا کر قرآن کی طرح پڑھنے لگے کہ اللہ نے یوں فرمایا ہے۔ ( موضح القرآن)
لی کے معنی بٹنے کے ہیں یہاں مراد یہ ہے کہ زبان کو پیچ دے کر اور مروڑ کر ایسی بات کہی جائے جس سے حق کے ساتھ باطل مخلوط اور ملتبس ہوجائے اس امت میں اگرچہ تحریف لفظی کا موقع اہل باطل کو میسر نہیں آسکا لیکن اس سے انکار نہیں ہوسکتا کہ تحریف معنوی میں اس امت کے اہل باطل اور علماء سوء نے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی تھی۔ نعوذ باللہ من شرور انفسنا۔
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ اس آیت کا تعلق یہود و نصاریٰ دونوں سے ہے۔ اسی لئے ہم نے ترجمہ میں اہل کتاب کا لفظ اختیار کیا ہے ہوسکتا ہے کہ فقط یہود یا فقط نصاریٰ مراد ہوں اگرچہ ظاہری ہے کہ دونوں مراد ہیں ۔ اب آگے ابو رافع قرظی کے الزام کا رد ہے۔
چنانچہ ارشاد ہوتا ہے۔ ( تسہیل)
Ayah 3:80ف 1۔ کسی بشر سے ایسی بات نہیں ہوسکتی کہ اللہ تعالیٰ اس کو کتاب اور صحیح فہم و دانش اور نبوت عطا فرمائے پھر وہ لوگوں سے یوں کہے کہ تم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اور اس کی توحید کو ترک کر کے میرے بندے بن جائو وہ تو یہی کہے گا کہ تم لوگ چونکہ کتاب الٰہی کی دوسروں کو تعلیم دیتے ہو اور چونکہ خود بھی اس کتاب الٰہی کو پڑھتے ہو اس لئے تم سچے اور پکے اللہ والے بن جائو یعنی صرف اسی کی عبادت کرو اور نہ ایسا بشر تم سے یہ کہے گا اور نہ تم کو وہ تعلیم د ے گا کہ تم فرشتوں کو اور دوسرے انبیاء (علیہم السلام) کو اپنا رب قرار دے لو اور ان کو اپنا رب بنا بیٹھو کیا کہیں یہ ممکن ہے کہ ایک نبی تمہارے مسلمان ہوئے پیچھے تم کو کفر کی بات کہے اور تم کو کفر کرنے پر آمادہ کرے۔ ( تیسیر)
حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ وفد نجران کی گفتگو میں بعض یہودی بھی شامل ہوگئے تھے ایسی حالت میں کہ نبی کریم ﷺ ان کو اسلام کی دعوت دے رہے تھے اور ان کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کی طرف بلا رہے تھے حاضرین میں سے ابو رافع قرظی یہودی نے کہا اے محمد کیا تم یہ چاہتے ہو کہ نصاریٰ جس طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی عبادت کرتے ہیں ہم لوگ آپ کی عبادت کریں آپ نے یہ سن کر فرمایا خدا کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں کسی کو غیر اللہ کی عبادت کی دعوت دوں نہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لئے مبعوث فرمایا اور نہ مجھے اس امر کا حکم دیا ہے کہ میں لوگوں کو غیر اللہ کی عبادت کا حکم کروں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
حضرت حسن ؓ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا تھا یا رسول اللہ ﷺ ہم آپس میں ایک دوسرے کے ملاقات کے وقت سلام علیک کرتے ہیں اور آپ سے بھی ملاقات کے وقت سلام علیک کرتے ہیں تو ہم آپ کو سجدہ کیوں نہ کیا کریں اس پر آپ ﷺ نے فرمایا نہیں سجدہ نہ کرو اور کسی کو یہ لائق نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ مخلوق میں سے کسی کو سجدہ کرے البتہ تم اپنے نبی کا اکرام اور اس کی عزت کرسکتے ہو اور اس کی اہل کے حق کا اعتراف کرسکتے ہو لیکن سجدہ نہیں کرسکتے اس پر یہ آیت نازل ہوئی مقاتل اور ضحاک کا قول یہ ہے کہ نصاریٰ نے کہا تھا کہ ہم کو تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) یہ حکم دے گئے تھے کہ مجھ کو رب قرار دینا اور مجھے رب بنانا۔
بہر حال آیت مذکورہ بالا میں انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی جانب سے صفائی گئی ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ نبی کریم ﷺ اور دوسرے انبیاء میں سے کوئی بھی ایسا نہیں کرسکتا اور نہ کسی پیغمبر کی یہ مجال ہوسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو آسمانی کتاب عطا فرمائے خواہ وہ قرآن ہو یا توریت و انجیل ہو اور اس کو حکم یعنی دین کا صحیح فہم یا فیصلہ کی قوت عطا کی جائے اور نبوت دی جائے اور اس قدر نعمتوں کے بعد وہ لوگوں کو توحید کی دعوت دینے کی بجائے معاذ اللہ اپنا بندہ بنانے کی دعوت دے اور ان سے یہ کہے کہ تم میرے بندے بن جائو بلکہ وہ تو لوگوں سے یہ کہے گا کہ تم ربانی یعنی توحید کے مبلغ ، یا فقیہ اور عالم ، یا خلق کے خیر خواہ یا حلال و حرام کے عالم یا علم و عمل میں کامل ، مکمل اور مخلص بن جائو اور علم و عمل کا اور قرب الٰہی کا انتہائی مرتبہ حاصل کرو کیونکہ تم اللہ کی کتاب پڑھاتے ہو اور خود پڑھتے ہو ۔ اس تعلیم و تدریس کا مقتضا یہی ہے کہ تم ربانی ہو اور اللہ والے ہو جائو اور اگر عالم بالکتاب نہ بھی ہو تب بھی من و جہ تو علم رکھتے ہو اور موحدین کے لئے اتنا ہی کافی ہے اور وہ بشر جس کو روحانیت کے ان مراتب سے نوازا گیا ہو وہ یہ بھی لوگوں سے نہیں کہہ سکتا کہ تم فرشتوں کو یا نبیوں کو رب بنا لو جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہم کو یہ حکم دے گئے تھے اور بھلا تم بھی تو ذرا سوچو کہیں ایسا ہوسکتا ہے کہ جب تم مسلمان ہوچکے تو تمہارے مسلمان ہوئے پیچھے وہ بشر مذکورتم کو کافر بننے والی بات کہے گا اور تم کو کفر کرنے کی ترغیب دے گا ۔
آیت کی جو تقریر فقیر نے کی ہے اس کے بعد کوئی شبہ نہ رہے گا اور نہ کسی شبہ کا جواب دینے کی ضرورت ہوگی ۔
ربانی جس طرح بہت بڑے مرتبے کے آدمی کو کہا جاتا ہے ۔ اسی طرح صرف موحد پر بھی بولا جاسکتا ہے اگرچہ بظاہر آیت میں یہود مخاطب تھے لیکن واقعہ یہ ہے کہ اسلام کے خلاف ہر ابل باطل کا آیت میں رد ہے اور بزرگوں کا نام لے کر جو اہل باطل غلط کارروائیاں کرتے ہیں ان کا اس آیت میں رد کیا گیا ہے ۔ رہی یہ بات کہ یہود اگر مخاطب ہیں تو ان کو مسلمان کس طرح کہا گیا اس کا جواب یہ ہے کہ وہ اپنے کو مسلمان سمجھتے تھے اس لئے ان کے خیال کی بناء پر کہہ دیا کہ کسی مسلمان کو پیغمبر شرک کی تعلیم یا شرک کا امر کس طرح کرسکتا ہے اور یہ بھی ضروری نہیں کہ صرف کتاب کی تعلیم دینا اور کتاب کو پڑھنا ہی خدا پرست بننے کا سبب ہو اور ایک عام آدمی جو کتاب پڑھ سکتا ہو اس کو ربانی بننے کے لئے نہ کہا جائے کیونکہ ہم تسہیل میں اس کا جواب دے چکے ہیں کہ من وجہ تو ہر شخص کو علم ہوتا ہے اس لئے کو نوار بانیین کا حکم ہر شخص کو ہے اگرچہ اہل علم کی ذمہ ذاری زیادہ ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہود مسلمان سے کہتے تھے کہ تمہارا نبی ہم کو کہتا ہے کہ بندگی کرو اللہ کی ہم آگے سے اسی کی بندگی کرتے ہیں مگر وہ چاہتا ہے کہ میری بندگی کرو سو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جس کو اللہ نبی کرے اور وہ لوگوں کو کفر سے نکال کر مسلمانی میں لا دے پھر کیونکر ان کو کفر سکھا دے مگر تم کو یہ کہتا ہے کہ تم میں جو آگے دینداری تھی کتاب کا پڑھنا اور سکھانا وہ نہیں رہی اب میری صحبت میں وہی کمال حاصل کرو۔ ( موضح القرآنض
اب آگے عہد کے سلسلے میں مزید تفصیل بیان فرماتے ہیں کہ ایک عہد تو وہ فطری یا وہ عام عہد ہے جو الست بربکم کے عہد سے مشہور ہے اس کے علاوہ ہم نے تمام انبیاء علیہم الصلوٰ ۃ والسلام سے بھی عہد لیا ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ ( تسہیل)