9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 9:81

فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلٰفَ رَسُوْلِ اللّٰهِ وَ كَرِهُوْۤا اَنْ یُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ قَالُوْا لَا تَنْفِرُوْا فِی الْحَرِّ١ؕ قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا١ؕ لَوْ كَانُوْا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:81 in the Quran reader

رسول اللہ ؐ کے تشریف لے جانے کے بعد پیچھے رہ جانے والے اپنے بیٹھ رہنے پر بہت خوش ہوئے اور انہوں نے اس بات کو ناپسند کیا کہ خدا کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے جہاد کریں اور یوں کہنے لگے کہ ایسی سخت گرمی میں مت نکلو آپ کہہ دیجئے کہ آتش دوزخ اس گرمی سے بہت زیادہ گرم ہے کاش وہ اس بات کو سمجھتے۔

81 رسول اللہ ﷺ کے غزوئہ تبوک میں تشریف لے جانے کے بعد یہ پیچھے رہ جانے والے بہت خوش ہوئے ان متخلفین نے اس بات کو ناپسند کیا کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے جہاد کریں اور یوں کہنے لگے کہ ایسی سخت گرمی میں کوچ نہ کرو اور گھروں سے مت نکلو آپ کہہ دیجئے کہ جہنم کی آگ اس سے بھی زیادہ گرم ہے کیا خوب ہوتا اگر وہ اس بات کو سمجھ سکتے۔ حضور ﷺ جب غزوئہ تبوک میں جانے لگے تو بہانہ ساز منافقوں نے ساتھ نہ دیا اور حضور ﷺ کے بعد خوشی کا اظہار کیا کہ ہم تو بچ گئے کچھ مخلص مسلمان بھی رہ گئے تھے ان کا ذکر اور ان کی توبہ کا بیان آگے آئے گا۔
Ayah 9:82

فَلْیَضْحَكُوْا قَلِیْلًا وَّ لْیَبْكُوْا كَثِیْرًا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 9:82 in the Quran reader

سو اب ان کو چاہئے کہ تھوڑے دنوں ہنس لیں اور اس کمائی کے بدلے جو کمائی یہ کیا کرتے تھے بہت دنوں روتے رہیں۔

82 سو اب ان کو چاہئے تھوڑے دن ہنس لیں اور بہت دنوں روتے رہیں اس کمائی کے بدلے جو وہ کمایا کرتے تھے۔ یعنی دنیا کا ہنسنا اور آخرت میں ہمیشہ ہمیشہ کا رونا۔
Ayah 9:83

فَاِنْ رَّجَعَكَ اللّٰهُ اِلٰى طَآئِفَةٍ مِّنْهُمْ فَاسْتَاْذَنُوْكَ لِلْخُرُوْجِ فَقُلْ لَّنْ تَخْرُجُوْا مَعِیَ اَبَدًا وَّ لَنْ تُقَاتِلُوْا مَعِیَ عَدُوًّا١ؕ اِنَّكُمْ رَضِیْتُمْ بِالْقُعُوْدِ اَوَّلَ مَرَّةٍ فَاقْعُدُوْا مَعَ الْخٰلِفِیْنَ Open ayah 9:83 in the Quran reader

بس اب اگر آپ کو اللہ تعالیٰ ان کے کسی گروہ کی طرف جہاد سے واپس لائے اور پھر کبھی یہ آپ سے جہاد میں نکلنے کی اجازت چاہیں تو آپ ان سے اس وقت یہ فرمادیں کہ تم میرے ساتھ کبھی بھی نہ چلو گے اور نہ تم میرے ہمراہ ہوکر کبھی کسی دشمن سے لڑوگے کیونکہ تم نے پہلی مرتبہ بھی بیٹھ رہنے کو پسند کیا تھا لہٰذا اب بھی تم ان ہی لوگوں کے ساتھ بیٹھ رہو جو پیچھے رہ جانے کے لائق ہیں۔

83 بس اب اگر آپ کو اللہ تعالیٰ صحیح سالم ان کے کسی گروہ کی طرف جہاد سے واپس لائے پھر یہ لوگ اپنے پر سے الزام ہٹانے کو آپ سے کبھی جہاد میں نکلنے کی اجازت مانگیں تو آپ ن سے اس وقت یہ فرمادیں کہ تم میرے ساتھ کبھی بھی نہ چلوگے اور نہ تم میرے ہمراہ ہوکر کبھی کسی دشمن سے لڑوگے کیونکہ تم نے پہلی مرتبہ بھی گھر میں بیٹھ رہنے کو پسند کیا لہٰذا اب بھی تم انہیں لوگوں کے ساتھ بیٹھے رہو جو حقیقت میں پیچھے رہ جانے کے قابل ہیں۔ یعنی تم دنیا سازی اور گلہ مٹانے کو یہ باتیں کہہ رہے ہو ورنہ تمہارا عزم اور ارادہ جہاد کا نہیں ہے اور نہ جہاد کے لئے نکلنا چاہتے ہو لہٰذا تم بھی عورتوں، بڈھوں، بیماروں وغیرہ کے ساتھ گھروں ہی میں بیٹھے رہو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں۔ یہ جو فرمایا کہ اگر پھر لے جاوے اللہ کسی فرقے کی طرف اس واسطے کہ آیت نازل ہوئی سفر میں وہ منافق تھے مدینہ میں اور فرقے فرمایا اس واسطے کہ بعضے منافق پیچھے رہ گئے اور سب بیٹھنے والے منافق نہ تھے بعضے مسلمان بھی تھے کہ ان کی تقصیرمعاف ہوئی۔
Ayah 9:84

وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤى اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمْ عَلٰى قَبْرِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ مَاتُوْا وَ هُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 9:84 in the Quran reader

اور اے پیغمبر آئندہ ان میں سے جب کوئی مرجائے تو کبھی اس کے جنازے کی نماز نہ پڑھیں اور نہ آپ اس کی قبر پر جاکر کھڑے ہوں کیونکہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا ہے اور وہ حالت کفر ہی میں مرے بھی ہیں۔

84 اور اے پیغمبر ﷺ ! آئندہ ان میں سے جب کوئی مرجائے تو کبھی اس کے جنازے کی نماز نہ پڑھیں اور آپ ان کی قبر پر جاکر نہ کھڑے ہوں کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا ہے اور وہ حالت کفر ہی میں مرے بھی ہیں۔ یعنی کافر کے جنازے کی نماز اور اس کے لئے استغفار جائز نہیں۔ حضور ﷺ نے بعض مصالح کی بنا پر عبداللہ بن ابی منافق کی تجہیز و تکفین میں حصہ لیا تھا اور نماز جنازہ میں اس کیلئے استغفار بھی کیا تھا اور حضرت عمر ؓ کے روکنے کے باوجود آپ ؐ نے یہ تمام اعمال انجام دیئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 9:85

وَ لَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ اَوْلَادُهُمْ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:85 in the Quran reader

اور ان کے اموال اور ان کی اولاد آپ کے لئے موجبِ تعجب نہ ہو کیونکہ اللہ کا مقصد ہی یہ ہے کہ وہ ان چیزوں کے ذریعہ ان کافروں کو دنیا ہی میں مبتلائے عذاب رکھے اور ان کی جان کفر ہی کی حالت میں نکلے۔

85 اور ان کے اموال اور اولاد آپ کے لئے موجبِ تعجب نہ ہوں اور یہ چیزیں آپ کو تعجب میں ڈالیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا مقصد ہی یہ ہے اور اللہ کو یہی منظور ہے کہ وہ ان چیزوں کے ذریعہ ان کافروں کو دنیا میں بھی مبتلائے عذاب رکھے اور ان کی جان کفر ہی کی حالت میں نکلے۔ اس آیت کا مفہوم اوپر گزر چکا ہے۔
Ayah 9:86

وَ اِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ اَنْ اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ جَاهِدُوْا مَعَ رَسُوْلِهِ اسْتَاْذَنَكَ اُولُوا الطَّوْلِ مِنْهُمْ وَ قَالُوْا ذَرْنَا نَكُنْ مَّعَ الْقٰعِدِیْنَ Open ayah 9:86 in the Quran reader

اور جب کبھی کوئی سورت اس مضمون کی نازل کی جاتی ہے کہ تم اللہ پر ایمان لائو اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ ہوکر جہاد کرو تو ان میں کے جو لوگ اصحب مقدرت ہیں وہی آپ سے رخصت کی درخواست کرنے لگتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم کو چھوڑ دیجئے کہ ہم بھی معذورین کے ہمراہ رہ جائیں۔

86 اور جب کبھی کوئی سورت اور قرآن کریم کا کوئی ٹکڑا اس مضمون کا نازل کیا جاتا ہے کہ تم اللہ پر ایمان لائو اور اس کے رسول کے ساتھ ہوکر جہادکرو تو ان میں سے جو لوگ صاحب مقدرت اور ذی مقدور ہیں وہی آپ سے اجازت طلب کرنے لگتے ہیں اور رخصت مانگنے لگتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم کو چھوڑ دیجئے کہ ہم بھی بیٹھ رہنے والوں کے ہمراہ رہ جائیں۔ یعنی اصحابِ مقدرت ہی معذرت کرنے لگتے ہیں تو غیر مقدرت والوں کا تو ذکر ہی کیا ہے۔
Ayah 9:87

رَضُوْا بِاَنْ یَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ وَ طُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:87 in the Quran reader

انہوں نے پیچھے رہ جانے والی عورتوں کے ہمراہ رہ جانے کو پسند کیا اور ان کے دلوں پر مہر کردی گئی جس سے یہ جہاد کی خوبیوں کو سمجھتے ہی نہیں۔

87 انہوں نے پیچھے رہ جانے والی عورتوں کے ہمراہ رہ جانے کو پسند کیا اور خانہ نشین عورتوں کے ہمراہ رہ جانے پر راضی ہوگئے اور ان کے دلوں پر مہر لگادی گئی جس سے یہ جہاد کی اہمیت کو سمجھتے ہی نہیں۔ یعنی اتنے بےحمیت ہیں کہ عورتوں کی طرح گھر میں بیٹھنے کو پسند کرتے ہیں۔
Ayah 9:88

لٰكِنِ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ الْخَیْرٰتُ١٘ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 9:88 in the Quran reader

مگر ہاں رسول اور اس کے وہ ساتھی جو ایمان والے ہیں ان سب نے اپنے مال اور اپنی جان سے جہاد کیا اور یہی لوگ وہ ہیں جن کے لئے ہر قسم کی خوبیاں ہیں اور یہی لوگ اپنے مقصد میں کامیاب ہونے والے ہیں۔

88 مگر ہاں رسول اور اس کے وہ ساتھی جو اہل ایمان ہیں انہوں نے اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے جہاد کیا یہی لوگ ہیں جن کے لئے ہر قسم کی خوبیاں ہیں اور یہی لوگ اپنے مقصد میں کامیاب ہونے والے ہیں۔ یعنی رسول ﷺ کے ساتھ جو مخلص مسلمان ہیں وہ گھر میں بیٹھنے کی خواہش نہیں کرتے بلکہ رسول ﷺ کے ساتھ مل کر جہاد کرتے ہیں۔
Ayah 9:89

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 9:89 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے ان کیلئے ایسے باغ تیارکررکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہی یہ لوگ ان باغوں میں ہمیشہ رہیں گے ان نعمتوں کا حصول بڑی کامیابی ہے۔

89 اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ایسے باغ تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں یہ لوگ ان باغوں میں ہمیشہ رہیں گے اور ان نعمتوں کا حصول بڑی کامیابی ہے۔
Ayah 9:90

وَ جَآءَ الْمُعَذِّرُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ لِیُؤْذَنَ لَهُمْ وَ قَعَدَ الَّذِیْنَ كَذَبُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:90 in the Quran reader

اور دیہاتی لوگوں میں سے بھی کچھ لوگ بہانہ کرتے ہوئے آئے تاکہ ان کو بھی بیٹھ رہنے کی اجازت مل جائے اور جن لوگوں نے ان دیہاتیوں میں سے اللہ اور اس کے رسول سے بالکل ہی جھوٹ بولا تھا وہ تو گھروں ہی میں بیٹھے رہے ان دیہاتیوں میں سے جو لوگ کفر پر قائم رہیں گے ان کو ضرور دردناک عذاب پہنچے گا۔

90 کچھ دیہاتیوں میں سے بھی بہانہ سازی کرتے ہوئے آئے تاکہ ان کو بھی گھروں میں رہ جانے کی اجازت دے دی جائے اور جن لوگوں نے ان دیہاتیوں میں سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے بالکل ہی جھوٹ بولا وہ تو گھروں میں بیٹھ رہے ان دیہاتیوں میں سے جو لوگ آخر تک کفر پر قائم رہیں گے ان پر آخرت میں دردناک عذاب واقع ہوگا۔ یعنی بالکل جھوٹ بولنے والے معذرت بھی کرنے نہیں آئے دیہاتیوں میں سے بعض لوگ اچھے بھی ہیں جن کا ذکر آگے آئے گا۔
Ayah 9:91

لَیْسَ عَلَى الضُّعَفَآءِ وَ لَا عَلَى الْمَرْضٰى وَ لَا عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ مَا عَلَى الْمُحْسِنِیْنَ مِنْ سَبِیْلٍ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 9:91 in the Quran reader

ناتوانوں پر جہاد سے رہ جانے میں کچھ گناہ نہیں اور نہ بیماروں پر اور نہ ان پر کچھ گناہ ہے جن کے لئے خرچ کرنے کو میسر نہیں بشرطیکہ یہ لوگ اللہ اور اس کے رسول سے خلوص و ہمدردی رکھیں ایسے نکوکاروں پر کسی قسم کے الزام کی گنجائش نہیں اور اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے

91 کم طاقت اور ناتوانوں پر اور بیماروں پر جہاد سے رہ جانے میں کچھ گناہ نہیں اور نہ ان لوگوں پر کچھ گناہ ہے جن کے لئے سامانِ جہاد پر خرچ کرنے کو کچھ میسر نہیں بشرطیکہ یہ لوگ اللہ اور اس کے رسول سے خلوص و ہمدردی رکھیں اور خیرخواہی کرتے رہیں ایسے نکوکاروں پر کسی قسم کے الزام کی گنجائش نہیں اور اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے یعنی جو لوگ واقعی معذور ہیں اگر یہ اسلام کی خیر خواہی اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہیں تو ان پر بیٹھ رہنے میں کوئی حرج اور گناہ نہیں۔
Ayah 9:92

وَّ لَا عَلَى الَّذِیْنَ اِذَا مَاۤ اَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَاۤ اَجِدُ مَاۤ اَحْمِلُكُمْ عَلَیْهِ١۪ تَوَلَّوْا وَّ اَعْیُنُهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلَّا یَجِدُوْا مَا یُنْفِقُوْنَؕ Open ayah 9:92 in the Quran reader

اور نہ ان لوگوں پر کوئی گناہ اور الزام ہے جو آپ کی خدمت میں اس واسطے حاضر ہوئے کہ آپ ان کو کوئی سواری دیں اور آپ نے فرمایا کہ میں اپنے پاس کوئی ایسی سواری نہیں پاتا کہ جس پر تم کو سوارکردوں

92 اور نہ ان لوگوں پر کوئی گناہ اور الزام ہے جو آپ کی خدمت میں اس لئے حاضر ہوئے کہ آپ ان کو کوئی سواری دے دیں اور آپ نے بطور معذرت ان سے فرمایا کہ میں اپنے پاس کوئی سواری نہیں پاتا جس پر تم کو سوار کردوں تو وہ آپ کا جواب سن کر واپس گئے اور ان کی حالت یہ تھی کہ ان کی آنکھوں سے اس غم میں آنسو بہ رہے تھے کہ ان کے پاس جہاد کی تیاری کے لئے خرچ کرنے کو کچھ میسر نہیں۔ یعنی ایسے فقراء پر بھی کوئی الزام نہیں کہ جو سواری تک کے لئے بھی کوئی پیسہ نہیں رکھتے اس توقع میں آئے کہ پیغمبر کے پاس سے سواری مل جائے گی لیکن یہاں بھی سواری نہ ملی تو زار و قطارروتے ہوئے اس رنج و افسوس میں واپس ہوئے کہ نہ اپنے پاس نفقہ تھا اور نہ کہیں سے ملا۔
Ayah 9:93

اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ وَ هُمْ اَغْنِیَآءُ١ۚ رَضُوْا بِاَنْ یَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ١ۙ وَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 9:93 in the Quran reader

تو وہ یہ سن کر واپس گئے اور ان کی حالت یہ تھی کہ ان کی آنکھوں سے اس غم میں آنسو جاری تھے کہ ان کو خرچ کرنے کے لئے کچھ میسر نہیں۔ بس الزام تو صرف ان لوگوں پر ہے جو باوجود مالدار ہونے کے آپ سے اجازت طلب کرتے ہیں انہوں نے گھروں میں بیٹھ رہنے والی عورتوں کے ساتھ رہ جا ناپسند کیا اور اللہ نے ان کے دلوں پر مہر کردی ہے اس لئے اب یہ کچھ نہیں جانتے۔

93 بس الزام اور مواخذہ تو ان لوگوں پر ہے جو باوجود غنی اور مالدار ہونے کے آپ سے گھر میں بیٹھ رہنے کی اجازت طلب کرتے ہیں انہوں نے خانہ نشیں اور گھروں میں بیٹھ رہنے والی عورتوں کے ساتھ رہ جانے کو پسند کیا اور اس طرح کی خانہ نشینی پر راضی ہوگئے اور اللہ نے ان کے دلوں پر مہرلگادی اس لئے اب یہ گناہ وثواب کو کچھ نہیں جانتے۔ یعنی ان کے برے اعمال کا انجام یہ ہوا کہ ان کے قلوب پر مہر لگادی گئی چونکہ انہوں نے باوجود استطاعت کے جہاد سے جان چرائی اور جھوٹے عذرکرکے اپنے کو بچانا چاہا۔
Ayah 9:94

یَعْتَذِرُوْنَ اِلَیْكُمْ اِذَا رَجَعْتُمْ اِلَیْهِمْ١ؕ قُلْ لَّا تَعْتَذِرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّاَنَا اللّٰهُ مِنْ اَخْبَارِكُمْ١ؕ وَ سَیَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَ رَسُوْلُهٗ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:94 in the Quran reader

جب تم ان کی طرف جہاد سے واپس جائو گے تو یہ لوگ تمہارے سامنے طرح طرح کے عذر کریں گے تو آپ فرما دیجئے گا کہ تم بہانے نہ بنائو ہم ہرگز تمہاری کوئی بات نہیں مانیں گے اللہ تعالیٰ نے ہم کو تمہارے حالات سے باخبر کردیا ہے اور آئندہ بھی اللہ اور اس کا رسول تمہارے طرزعمل کو دیکھے گا پھر تم اس کی طرف لوٹائے جائوگے جو ہر چھپے اور ہر کھلے کا جاننے والا ہے پھر وہ تم کو اس کی حقیت سے آگاہ کردے گا جو تم کرتے رہو ہو۔

94 اے پیغمبر ﷺ ! آپ اور آپ کے ہمراہی مسلمان جب غزوئہ تبوک سے واپس مدینے پہنچیں گے تو یہ لوگ تم سب کے سامنے طرح طرح کے عذر پیش کریں گے آپ سب کی طرف سے فرما دیجئے گا کہ تم بہانے نہ بنائو اور یہ عذر ہمارے سامنے پیش نہ کرو ہم ہرگز تمہاری کوئی بات نہیں مانیں گے اور تم کو کبھی سچا نہیں سمجھیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو تمہارے حالات سے باخبر کردیا ہے اور آئندہ بھی اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول تمہاری کارگزاری اور تمہارے اعمال کو دیکھے گا پھر تم اس کے پاس لوٹائے جائوگے جو ہر پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ہے پھر وہ تم کو ان تمام اعمال کی حقیقت سے آگاہ کردے گا جو تم کرتے رہے ہو۔ یعنی عذر تو جب چلتا جب ہم کو معلوم نہ ہوتا ہم کو تو اللہ تعالیٰ تمہارے اعذارباردہ سے پہلے ہی آگاہ کرچکا ہے اس لئے ہم تمہاری بہانہ سازی کو ماننے والے نہیں آئندہ تمہارے طرز عمل کو دیکھا جائے گا پھر انجام کار تم کو اس خدا کی طرف لوٹنا ہے جو عالم الغیب والشہادۃ ہے پھر وہ تم کو تمہارے کردار سے آگاہ کردے گا اور تمہارے اعمال کی تم کو سزا دے گا۔
Ayah 9:95

سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ اِذَا انْقَلَبْتُمْ اِلَیْهِمْ لِتُعْرِضُوْا عَنْهُمْ١ؕ فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمْ١ؕ اِنَّهُمْ رِجْسٌ١٘ وَّ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 9:95 in the Quran reader

جب تم تبوک سے پلٹو گے تو یہ تمہارے سامنے اس غرض سے خدا کی قسمیں بھی کھائیں گے کہ تم ان کو درگزرکردو سو تم ان کو بالکل ہی نظرانداز کردو۔ کیونکہ یہ لوگ ناپاک ہیں اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اس کمائی کے بدلے میں جو یہ کمایا کرتے تھے

95 جب تم غزوئہ تبوک سے پلٹو گے اور مدینے پہنچوگے تو تمہارے سامنے قسمیں بھی کھائیں گے تاکہ تم ان سے درگزر کرو اور ان کو ان کی حالت پر چھوڑ دو تو تم ان سے بالکل ہی اعراض و اجتناب کرو اور ان کو ان کی حالت پر چھوڑ دو یہ لوگ بالکل ناپاک ہیں اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اس کمائی کے بدلے میں جو یہ کسب کیا کرتے تھے یعنی جب تم لوٹوگے تو یہ لوگ قسمیں بھی کھائیں گے کہ تم ان سے درگزر کرو اور ان کو جانے دو تو تم ان کی خواہش پوری کردو اور ان کو بالکل ہی چھوڑ دو یہ لوگ تو ناپاک ہیں اور ان کا آخر کار ٹھکانا دوزخ ہے لہٰذا تم ان کو منہ نہ لگائو۔
Ayah 9:96

یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ١ۚ فَاِنْ تَرْضَوْا عَنْهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یَرْضٰى عَنِ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 9:96 in the Quran reader

نیز اس لئے تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھائیں گے کہ تم ان سے راضی ہوجائو حالانکہ تم اگر ان سے راضی بھی ہوجائو تو یقیناً اللہ ایسے نافرمان لوگوں سے راضی نہیں ہوگا۔

96 نیز اس لئے تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھائیں گے کہ تم ان سے راضی ہوجائو حالانکہ بالفرض تم اگر ان سے راضی بھی ہوجائو تو یقیناً ایسے نافرمان لوگوں سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں ہوگا یعنی اول تو تم راضی نہیں ہوگے لیکن اگر لوفرضنا تم راضی بھی ہوجائو تو اللہ تعالیٰ راضی نہیں ہوگا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جس شخص کا احوال معلوم ہو کہ منافق ہے اس کی طرف سے تغافل روا ہے لیکن دوستی اور محبت اور یگانگی روا نہیں۔ 12
Ayah 9:97

اَلْاَعْرَابُ اَشَدُّ كُفْرًا وَّ نِفَاقًا وَّ اَجْدَرُ اَلَّا یَعْلَمُوْا حُدُوْدَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:97 in the Quran reader

یہ دیہاتی لوگ عام طور سے کفر اور نفاق میں بہت ہی سخت ہیں اور ان کی حالت کا مقتضا بھی یہی ہے کہ وہ دین کی ان حدود سے ناواقف ہیں جو اللہ نے اپنے رسول پر نازل فرمائی ہیں اور اللہ کمال علم اور کمال حکمت کا مالک ہے۔

97 یہ دیہاتی لوگ جو منافق ہیں عام طور سے کفر اور نفاق میں بہت ہی سخت ہیں اور ان کی حالت کا مقتضا بھی یہی ہے کہ وہ دین کی ان حدود سے ناواقف ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر نازل فرمائی ہیں اور اللہ تعالیٰ کمالِ علم اور کمال حکمت کا مالک ہے۔ یعنی دیہاتی ہونے کے باعث مزاج کے سخت ہیں اور مزاج کی درشتی کے باعث پڑھے لکھے لوگوں سے دور رہتے ہیں اسی وجہ سے کفر و نفاق میں بہت سخت ہیں اور احکام الٰہی سے بیخبر اور ناواقف ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ان کی طبع میں بےحکمی اور غرض ڈھونڈنی اور جاہل پیدا ہے سو اللہ حکمت والا ہے ان سے وہ کام بھی مشکل نہیں چاہتا ہے اور وہ درجے بلند بھی نہیں دیتا ہے۔
Ayah 9:98

وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یَّتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ مَغْرَمًا وَّ یَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَآئِرَ١ؕ عَلَیْهِمْ دَآئِرَةُ السَّوْءِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 9:98 in the Quran reader

اور ان دیہاتی منافقوں میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو خیرات کرنے کو ایک قسم کا تاوان سمجھتے ہیں اور تم مسلمانوں کے لئے زمانہ کی گردشوں کا انتظار کیا کرتے ہیں انہی پر بری گردش واقع ہو اور اللہ سب کچھ سنتا جانتا ہے۔

98 اور ان دیہاتی منافقوں میں سے بعض ایسا بھی ہے جو بخل کی وجہ سے جو کچھ اللہ کی راہ میں خرچ بھی کرتا ہے تو اس کو تاوان اور جرمانہ سجھتا ہے اور عداوت و دشمنی کی وجہ سے تم مسلمانوں کے لئے زمانہ کی گردشوں کا انتظار کرتا ہے کہ کوئی حادثہ مسلمانوں پر واقع ہوجائے انہی منافقوں پر بری گردش واقع ہو اور اللہ تعالیٰ خوب سننے والا جاننے والا ہے۔ یعنی بخیل بھی ہیں اور تم سے عداوت بھی رکھتے ہیں اگر تمہارے کہنے سننے سے کبھی کچھ اللہ کی راہ میں خرچ بھی کردیتے ہیں تو اس کو ڈنڈ سمجھتے ہیں اور عداوت کا یہ حال ہے کہ حوادثات زمانہ کا تمہارے لئے انتظار کیا کرتے ہیں۔
Ayah 9:99

وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ یَتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ قُرُبٰتٍ عِنْدَ اللّٰهِ وَ صَلَوٰتِ الرَّسُوْلِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهَا قُرْبَةٌ لَّهُمْ١ؕ سَیُدْخِلُهُمُ اللّٰهُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 9:99 in the Quran reader

اور انہی دیہائیوں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ پر اور یوم آخرت پر پوری طرح یقین رکھتے ہیں اور جو کچھ خیرات کرتے ہیں اس کو اللہ کی قربت اور پیغمبر کی دعائیں حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں یاد رکھو کہ ان کی خیرات واقعی ان کے لئے تقرب کا ذریعہ ہے اللہ تعالیٰ ضرور ان لوگوں کو اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ بیشک اللہ بڑی مغفرت اور بڑی رحمت والا ہے۔

99 اور انہی دیہاتیوں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ پر اور یوم آخرت پر پورا یقین رکھتے ہیں۔ اور جو کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اس کو اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ اور پیغمبر کی دعائیں لینے کا ذریعہ سمجھتے ہیں یاد رکھو ان کی خیرات و صدقات واقعی ان کے لئے تقرب اور قربت ِ خداوندی کا ذریعہ ہیں اللہ تعالیٰ ضرور ان لوگوں کو اپنی خاص رحمت میں داخل کرے گا بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت اور بڑی رحمت والا ہے۔ اوپر منافق دیہاتیوں کا ذکر تھا اس آیت میں مسلمان دیہاتیوں کا ذکر فرمایا۔
Ayah 9:100

وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ١ۙ رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:100 in the Quran reader

اور وہ مہاجرین اور انصار جنہوں نے سب سے پہلے ایمان کی دعوت کو قبول کرنے میں سبقت کی اور وہ جنہوں نے اخلاص کے ساتھ مہاجرین اور انصار کا اتباع کیا اللہ تعالیٰ ان سب سے راضی ہوا اور وہ سب اللہ تعالیٰ سے راضی ہوئے اور خدا نے ان کے لئے ایسے باغ تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں یہ لوگ ان باغوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ ان انعامات کا حصول بڑی کامیابی ہے۔

100 اور وہ مہاجر اور ترک وطن کرنے والے اور مہاجرین کی مدد کرنے والے انصار جنہوں نے سب سے پہلے دعوت ایمانی کے قبول کرنے میں سبقت کی اور جنہوں نے اخلاص کے ساتھ دعوت ایمانی کو قبول کرنے میں مہاجروں و انصار کا اتباع کیا اور مہاجرین و انصار کی پیروی کی اللہ تعالیٰ ان سب سے راضی ہوا اور وہ سب اس سے راضی ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے ان سب کے لئے ایسے باغ تیارکررکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں یہ لوگ ان باغوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے یہ انعامات کا حصول سب سے بڑی کامیابی ہے۔ یعنی وہ مہاجرین و انصار جو ایمان لانے میں مقدم اور سابق ہیں خواہ وہ مسلمان ہوں جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نما ز پڑھی ہو خواہ وہ ہوں جو جنگِ بدر سے پہلے مسلمان ہوئے ہوں تمام امت میں یہی لوگ سابق اور قدیم ہیں اس کے بعد خواہ وہ صحابہ ؓ ہوں یعنی غیرمہاجرین و انصار یا تابعین اور تبع تابعین ہوں یا ان کے بعد کے لوگ ہوں علی فرقِ مراتب سب ہی کم و بیش اس بشارت میں شریک ہیں اگرچہ مراتب اور درجات کی نوعیت میں فرق ہوگا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جنگِ بدرتک جو مسلمان ہوئے وہ قدیم ہیں اور باقی ان کے تابع۔ 12
Ayah 9:101

وَ مِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ١ۛؕ وَ مِنْ اَهْلِ الْمَدِیْنَةِ١ؔۛ۫ مَرَدُوْا عَلَى النِّفَاقِ١۫ لَا تَعْلَمُهُمْ١ؕ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ١ؕ سَنُعَذِّبُهُمْ مَّرَّتَیْنِ ثُمَّ یُرَدُّوْنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِیْمٍۚ Open ayah 9:101 in the Quran reader

اور تمہارے آس پاس کے کچھ دیہاتی اور خود مدینہ کے کچھ لوگ ایسے منافق ہیں جو صفتِ نفاق میں پورے ماہر ہیں آپ ان سے واقف نہیں ہیں مگر ہم ان سب کو جانتے ہیں ہم ان کو قیامت سے پہلے دومرتبہ سزا دیں گے پھر وہ قیامت میں بڑے سخت عذاب کی طرف بھیجے جائیں گے۔

101 اورتمہارے ارد گرد اور آس پاس کے کچھ دیہاتی اور خود مدینہ کے کچھ لوگ ایسے منافق ہیں جو صفتِ نفاق میں پورے ماہر اور کمال کو پہنچے ہوئے ہیں ان ماہر فی النفاق لوگوں سے آپ واقف نہیں ہیں اور آپ ان کو نہیں جانتے مگر ہم ان سب کو جانتے ہیں ہم ان کو قیامت سے پہلے دوہری سزادیں گے پھر وہ قیامت میں بڑے سخت عذاب میں لوٹائے جائیں گے اور بھیجے جائیں گے۔ یعنی وہ نفاق میں ایسا کمال رکھتے ہیں کہ آپ بھی باوجود فطانت اور ذہانت کے ان کی حرکات سے پتہ نہیں چلاسکتے دوہری سزا یا دومرتبہ سزا دیں گے مطلب ایک ہی ہے یعنی نفاق کی سزا کہ ہر وقت اپنے کو سنبھال سنبھال کر رکھنا پڑتا ہے پھر قبر کا عذاب ارد گرد کے لوگ فرمایا شاید قبیلہ جہنیہ اور مزنیہ کی طرف اشارہ ہو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی دنیا میں بھی تکلیف پر تکلیف پاویں گے پھر آخرت میں پکڑے جاویں گے وہ منافق کوئی اندھا ہوا کوئی کوڑھی کسی کے بدن میں پیپ پڑی۔ ہم نے اوپر عرض کیا تھا کہ منافقوں کے علاوہ کچھ مخلص مسلمان بھی تھے جو آج کل کرتے کرتے رہ گئے یہاں تک کہ حضور ﷺ کی واپسی کا وقت آگیا ان میں دو فریق تھے ایک تو وہ جنہوں نے حضور ﷺ کی آمد آمد کی خبر سن کر اپنے کو مسجد کے ستونوں سے باندھ دیا اور دوسرے کچھ اور ان کے ساتھی جنہوں نے خدمت میں حاضر ہوکر سچ سچ کہہ دیا یہاں ان دونوں میں سے ایک کا ذکر ہے دوسرے لوگوں کا ذکر آگے آئے گا۔
Ayah 9:102

وَ اٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِهِمْ خَلَطُوْا عَمَلًا صَالِحًا وَّ اٰخَرَ سَیِّئًا١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:102 in the Quran reader

اور کچھ اور لوگ ہیں جنہوں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کرلیا انہوں نے کچھ اچھ اور کچھ برے ملے جلے کام کئے تھے ایسے لوگوں کے لئے توقع ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پر مہربانی کے ساتھ توجہ فرمائے کیوں کہ اللہ بڑی مغفرت والا اور نہایت مہربان ہے۔

102 اور کچھ اور لوگ ہیں جنہوں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کرلیا انہوں نے کچھ اچھے اور کچھ برے ملے جلے کام کئے ایسے لوگوں کے لئے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پر مہربانی کے ساتھ توجہ فرمائے کیونکہ اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت والا نہایت مہربان ہے۔ یہ ان مخلص مسلمانوں کا ذکر ہے جو محض کاہلی کی وجہ سے غزوئہ تبوک میں شریک نہ ہوسکے انہوں نے آنے کے بعد معذرت کی اور اپنے گناہوں کا اقرار کرلیا اچھے کام یہ کہ خطا کا اعتراف کیا برا کام یہ کہ غزوہ سے تخلف کیا جب ان کو توبہ کی بشارت مل گئی تو انہوں نے اپنے مال کا کچھ حصہ بطور صدقہ حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کرنا چاہا حضور ﷺ نے انکار کیا اس پر آگے کی آیت نازل ہوئی۔
Ayah 9:103

خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَ تُزَكِّیْهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 9:103 in the Quran reader

اے نبی آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ لے لیجئے تاکہ آپ اس صدقہ کی وجہ سے ان کو خوب پاک اور صاف کردیں اور ان کو خیرو برکت کی دعادیجئے بلاشبہ آپ کی دعا ان کے لئے موجب راحت و تسکین ہے اور اللہ سب سنتا جانتا ہے۔

103 اے پیغمبر ﷺ ! آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ لے لیجئے تاکہ آپ اس صدقہ کی وجہ سے ان کو خوب پاک اور صاف کردیں اور جب آپ ان سے وہ مال لیں تو ان کے لئے خیرو برکت کی دعا کیجئے بلاشبہ آپ کی دعا ان کے لئے موجب اطمینان اور موجب تسکین ہے اور اللہ تعالیٰ سب سنتا اور جانتا ہے یعنی توبہ کی قبولیت کے سلسلہ میں بطور نفلی صدقہ کے کچھ پیش کرتے ہیں تو اس کو قبول کرلیجئے اور ان کے حق میں دعائے خیر بھی کیجئے آپ کی دعا ان کے قلب کے لئے اطمینان اور تسکین کا موجب ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جیسے بعضوں پر عتاب ہوا کہ ہمیشہ کو ان کی زکوٰۃ بند ہوئی ان پر عتاب نہیں۔
Ayah 9:104

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ هُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَاْخُذُ الصَّدَقٰتِ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 9:104 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کو خبر نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور ان کے صدقات کو قبول فرماتا ہے اور یہ کہ اللہ ہی توبہ کو قبول کرنے والا نہایت مہربان ہے۔

104 کیا ان لوگوں کو یہ خبر نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی کی وہ ذات ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور وہ ہی ان کے صدقات کو قبول فرماتا ہے اور کیا ان کو خبر نہیں کہ اللہ توبہ قبول کرنے والا نہایت مہربان ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی رسول بےاختیار ہے جس کے حق میں اللہ نے جو فرمایا وہ ادا کرتا ہے۔ 12
Ayah 9:105

وَ قُلِ اعْمَلُوْا فَسَیَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ؕ وَ سَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 9:105 in the Quran reader

اور آپ ان لوگوں سے کہہ دیجئے کہ تم عمل کئے جائو اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول اور مسلمان سب دیکھیں گے کہ اب تمہارا طرز عمل کیا رہتا ہے اور ضرور تم اس خدا کی طرف واپس لوٹائے جائوگے جوہر چھپے اور کھلے کا جاننے والا ہے پس وہ تم کو ان کاموں کی حقیقت سے آگاہ کردے گا جو تم کیا کرتے تھے

105 اور آپ ان لوگوں سے یہ بھی کہہ دیجئے کہ تم عمل کرتے رہو عنقریب اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ اور مسلمان سب دیکھیں گے کہ تمہارا طرز عمل کیا رہتا ہے اور آخرت میں تم ضرور اس خدا کی طرف پھیرے جائوگے اور واپس کئے جائوگے جو عالم الغیب والشہادہ اور ہر چھپے اور کھلے کا جاننے والا ہے پس وہ تم کو ان سب کاموں کی حقیقت سے آگاہ کردے گا جو تم کیا کرتے تھے۔ پہلی آیت میں ترغیب تھی اس میں ترہیب فرمائی حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اس جہاد میں قصور ہوا تو آگے اور جہاد ہوں گے رسولوں کے اور خلیفوں کے تب کام کریو۔ 12
Ayah 9:106

وَ اٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰهِ اِمَّا یُعَذِّبُهُمْ وَ اِمَّا یَتُوْبُ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:106 in the Quran reader

اور کچھ اور لوگ ہیں جن کا معاملہ خدا کا حکم آنے تک ملتوی ہے یا تو وہ ان کو سزا کا حکم کرے گا اور یا ان کی توبہ قبول کرے گا اور اللہ بڑے علم اور بڑی حکمت کا مالک ہے۔

106 اور کچھ اور لوگ ہیں جن کا معاملہ خدا کا حکم آنے تک ملتوی ہے یا وہ ان کو سزا دے گا اور یا ان کی توبہ قبول کرے گا اور اللہ تعالیٰ بڑے علم اور بڑی حکمت کا مالک ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اوپر کئی فرقے مذکور ہوئے ایک منافق جھوٹے بہانے کرتے ایک گنوار غرض کا وقت تاکتے ایک گنوار صاف دل رفیق ایک وہ جو اپنا گناہ مانے ان کو معاف فرمایا مگر جو قدیم یاروں میں تین شخص اپنا گناہ مانتے تھے ان کو ادب دینے کو پچاس دن ڈھیل میں رکھا اس بیچ میں حضرت اور سب مسلمان ان سے کلام نہ کرتے اور ان کی عورتیں جدا ہوگئیں جب ان کے دل خوب پشیمان ہوئے تب معافی نازل ہوئی وہ آیت آگے ہے یہ ذکر ان کا فرمایا۔ 12 ۔ کعب بن مالک ہلال بن امیہ اور مرارۃ بن الربیع کی طرف شاہ صاحب (رح) نے اشارہ فرمایا۔
Ayah 9:107

وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّ كُفْرًا وَّ تَفْرِیْقًۢا بَیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ لَیَحْلِفُنَّ اِنْ اَرَدْنَاۤ اِلَّا الْحُسْنٰى١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 9:107 in the Quran reader

اور کچھ منافق وہ ہیں جنہوں نے اس غرض سے ایک مسجد بناکر کھڑی کی کہ مسلمانوں کو نقصان پہنچائیں اور کفر کو تقویت دیں اور اہل ایمان میں تفریق پیدا کریں اور اس مسجد کو اس شخص کا اڈا مقرر کریں جو ایک عرصہ سے اللہ اور اس کے رسول سے برسر پیکار ہے وہ ضرور قسمیں کھا کھا کر یوں کہیں گے کہ ہمارا مقصد تو سوائے بھلائی کے اور کچھ نہیں تھا اور اللہ گواہ ہے کہ یہ لوگ یقیناً جھوٹے ہیں۔

107 اور بعضے منافق وہ ہیں جنہوں نے اس غرض سے ایک مسجد بناکھڑی کی کہ اسلام کو اور مسلمانوں کو نقصان پہنچائیں اور اس میں کفر کی باتیں کریں اور کفر کو تقویت پہنچائیں اور اہل ایمان میں تفریق ڈالیں اور مسلمانوں کے مابین تفریق پیدا کریں اور اس مسجد کو اس شخص کی جائے پناہ اور اڈا بنائیں اور اس کو تھانگ کی جگہ دیں جو پہلے سے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ برسر پیکار ہے اور لڑچکا ہے اور ایک عرصہ سے لڑائی کی سازشیں کرتا رہا ہے تم اگر پوچھو گے تو وہ ضرور قسمیں کھا کھاکر یوں کہیں گے کہ ہمارا مقصد تو سوائے بھلائی کے کچھ اور نہیں تھا اور اللہ گواہ ہے کہ یہ لوگ یقیناً جھوٹے ہیں۔ ابو عامر خزرجی نے نصرانی دین قبول کرلیا تھا جب حضور ﷺ مدینے آئے تو وہ دشمن ہوگیا اور اس نے عرب کو ابھارا۔ غزوہ احد میں اس کی سازش کو بڑا دخل تھا احد کی تلیٹی میں اس نے کچھ خفیہ گڑھے بھی کھدوائے تھے ایک گڑھے میں گر کر حضور ﷺ کو صدمہ بھی پہنچا تھا مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی شوکت کو دیکھ کر عرب سے مایوس ہوگیا پھر روم میں پہنچ کر عیسائیوں کو ابھارا مگر وہاں اس کو کامیابی نہیں ہوئی منافقوں نے مسجد قبا کے توڑ پر ایک مسجد بنائی اور ارادہ یہ تھا کہ اس مسجد میں ابو عامر کو رکھیں حضور ﷺ سے کہا ہم نے مسجد بنائی ہے اس میں نماز پڑھا دیجئے آپ ﷺ نے وعدہ کرلیا تھا کہ تبوک سے واپس آکر تمہارے ہاں چلوں گا راہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور منافقوں کے حال سے آگاہ کردیا تھانگ اس مقام کو کہتے تھے جہاں ڈاکو بیٹھ کر حصہ پتی کرتے تھے اور ڈاکہ ڈالنے کی سکیم بناتے تھے۔
Ayah 9:108

لَا تَقُمْ فِیْهِ اَبَدًا١ؕ لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْهِ١ؕ فِیْهِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَهَّرُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُطَّهِّرِیْنَ Open ayah 9:108 in the Quran reader

اے پیغمبر ﷺ ! آپ اس مسجد میں کبھی جاکر کھڑے نہ ہوں البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد اول روز سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے وہ مسجد اس کی مستحق ہے کہ آپ اس میں کھڑے ہوں اس مسجد میں ایسے لوگ ہیں جو خوب صاف ستھرے رہنے کو پسند کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پاکیزگی اختیار کرنے والوں ہی کو پسند کرتا ہے

108 اے پیغمبر ﷺ ! آپ اس مسجد ضرار میں نماز کے لئے جاکر کھڑے بھی نہ ہوں البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد اول روز سے اور اول دن سے تقوے پر رکھی گئی ہے وہ مسجد اس کی مستحق اور اس کے لائق ہے کہ آپ اس میں جاکر کھڑے ہوں اور وہاں نماز پڑھیں اس مسجد میں ایسے لوگ ہیں جو خوب صاف ستھرے رہنے کو پسند کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ خوب پاک رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ یہ فرمایا مسجد قبا یا مسجد نبوی کو کہ ان کی بنیاد رکھتے وقت تقوے پر رکھی گئی ہے اور جس مسجد کی بنیاد تقوے اور اخلاص پر رکھی گئی ہو وہی مسجد اس کی مستحق ہے کہ اس میں پیغمبر جاکر کھڑے ہوں اور نماز پڑھیں۔ پاکیزگی کو دوست رکھنے والے صحابہ ؓ تھے جو استنجا کے لئے مٹی اور پانی دونوں کا استعمال کرتے تھے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت محمد ﷺ مکہ سے ہجرت کرکے آئے تو مدینے سے باہر اترے ایک محلہ تھا بنی عمرو بن عوف کا بعد چند روز کے شہر میں جگہ پکڑی اور مسجد نبوی ﷺ تعمیر کی۔ اس محلہ میں جہاں نماز پڑھتے تھے وہاں کے لوگوں نے مسجد تیار کی اور جماعت قائم رہی۔ مسجد قباکر مشہور ہے۔ حضرت ﷺ اکثر ہفتے کے روز وہاں جاتے اور نماز پڑھتے۔ اس محلے میں بعضے منافقوں نے چاہا کہ اور مسجد بنادیں پہلوں کی ضد پر اور اپنی جماعت جدا ٹھہرا دیں اور ایک راہب ابوعامر کہ اسلام کی ضد سے نکل گیا تھا اس کو نفاق سے بلاکر وہاں سردار و امام کریں۔ حضرت ﷺ نے چاہا کہ ایک بار اول آپ وہاں نماز پڑھیں تو ہم جماعت قائم کریں۔ حضرت ﷺ کو ان کی دغا معلو م نہ تھی وعدہ کیا کہ جنگِ تبوک سے ہم پھریں گے تو اول وہاں نماز پڑھ کر شہر میں داخل ہوں گے حق تعالیٰ نے پہلے خبردار کردیا اور مسجد قبا کے لوگوں کی تعریف کی آدمی خبردار رہے کہ ظاہر بعضی عبادت ہے اور نیت اس میں نفسانیت ہے اس کا یہ حال ہے۔
Ayah 9:109

اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى تَقْوٰى مِنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٍ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَانْهَارَ بِهٖ فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 9:109 in the Quran reader

بھلا وہ شخص جو اپنی عمارت کی بنیاد خدا کے خوف اور خدا کی خوشنودی پر رکھے وہ بہتر ہے یا وہ بہتر ہے جو اپنی عمارت کی بنیاد کسی کھائی کے ایسے کڑاڑے کے کنارے پر رکھے جو گراہی چاہتاہو پھر وہ کڑاڑا اس پانی کو لیکر دوزخ کی آگ میں گرپڑے اور اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کی رہنمائی نہیں کیا کرتا۔

109 کیا بھلا وہ شخص جو اپنی عمارت کی بنیاد خدا سے ڈرنے اور اس کی رضامندی اور رضاجوئی پر رکھے وہ بہتر ہے یا وہ بہتر ہے جو اپنی عمارت کی بنیاد کسی کھائی کے ایسے کڑاڑے کے کنارے پر رکھے جو گراہی چاہتا ہو پھر وہ کڑاڑا اس بانی کو لیکر جہنم کی آگ میں جاگرے اور دوزخ کی آگ میں گرپڑے اور اللہ تعالیٰ ایسے ظالم لوگوں کی رہنمائی نہیں کیا کرتا۔ یعنی کہاں وہ مسجد قبا اور مسجد نبوی جس کے بانی نے اس کی بنیاد تقوے اور خدا تعالیٰ کی خوشنودی پر رکھی اور کہاں وہ بدبخت جس نے اپنی مسجد ضرار کی بنیاد عقائد فاسدہ اور توقعات باطلہ پر رکھ دی اور کھائی کے ایسے کڑاڑے پر رکھ دی جس کو پانی کے کاٹ کر گرنے کے قریب کردیا ہے جو گرنے والا ہی ہو اور جہنم کی آگ میں گرپڑے لیکن ایسے بےانصافوں کو بھلائی کی توفیق کہاں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی بےانصافی کی شامت سے عمل نیک بھی چاہیں تو بن نہیں آتا۔ 12 ۔ توفیق کے سلب ہونے کی یہی علامت ہے۔
Ayah 9:110

لَا یَزَالُ بُنْیَانُهُمُ الَّذِیْ بَنَوْا رِیْبَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلَّاۤ اَنْ تَقَطَّعَ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 9:110 in the Quran reader

ان لوگوں کی عمارت جو انہوں نے بنائی ہے ان کے دلوں میں ہمیشہ موجب شک و نفاق رہے گی یہاں تک کہ ان کے قلوب ہی پارا پارا ہوجائیں اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا بڑی حکمت والا ہے ۔

110 ان لوگوں کی عمارت جو انہوں نے بنائی ہے ہمیشہ ان کے دلوں میں موجب شک و نفاق رہے گی اور ہمیشہ ان کے دلوں میں کھٹکتی رہے گی یہاں تک کہ ان کے دل ہی پارا پارا ہوجائیں اور ان کے قلوب ہی ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں اور فنا ہوجائیں اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا بڑی حکمت والا ہے۔ یعنی اس عمارت سے جو ارمان وابستہ تھے ان میں سے کوئی بھی پورا نہ ہوا راز فاش ہوگیا سو الگ اور اس کو منہدم کرادیا گیا اور جلا دی گئی اور آج تک وہ کوڑے کا ایک ڈھیر ہے اس لئے جب تک کہ مرنہ جائیں ان کے دل میں حسرت ہی رہے گی اور ہمیشہ یہ لوگ نفاق میں مبتلا رہیں گے… حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں۔ یعنی اس عمل بد کا اثر یہ ہوا کہ ہمیشہ ان کے دل میں نفاق رہے گا۔ 12
Ayah 9:111

اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ١ؕ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیَقْتُلُوْنَ وَ یُقْتَلُوْنَ١۫ وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ وَ الْقُرْاٰنِ١ؕ وَ مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ مِنَ اللّٰهِ فَاسْتَبْشِرُوْا بِبَیْعِكُمُ الَّذِیْ بَایَعْتُمْ بِهٖ١ؕ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:111 in the Quran reader

بیشک اللہ نے مسلمانوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال اس قیمت پر خرید لئے ہیں کہ جنت ان مسلمانوں کے لئے ہے وہ مسلمان اللہ کی راہ میں جنگ کیا کرتے ہیں سو کبھی دشمنوں کو قتل کرتے ہیں اور کبھی خود شہید کردیئے جاتے ہیں اس امر پر توریت میں اور انجیل میں اور قرآن کریم میں سچا وعدہ کیا جاچکا ہے اور خدا سے بڑھ کر اپنے عہد کا پورا کون ہوسکتا ہے۔ سو اے مسلمانو ! اس سودے پر جو تم نے خدا سے کیا ہے اظہار مسرت کرو اور یہ معاملہ ہی بڑی کامیابی ہے

1 1 1 بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی جانیں اور ان کے اموال اس قیمت پر اور اس بات کے عوض میں خرید لیا ہے کہ ان کو جنت ملے گی اور جنت میں ان مسلمانوں کے لئے مخصوص ہے۔ وہ مسلمان اللہ تعالیٰ کی راہ میں جنگ کیا کرتے ہیں جس می کبھی دشمن کو قتل کرتے ہیں اور کبھی خود شہید کردیئے جاتے ہیں اس امر پر توریت اور انجیل میں اور قرآن کریم میں سچا وعدہ کیا جاچکا ہے اور اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر اپنے عہد کا پورا اور اپنے وعدے کا سچا کون ہوسکتا ہے۔ سو اے مسلمانو ! تم اس بیع مذکور پر جس کا تم نے اللہ سے معاملہ کیا ہے مسرت کا اظہار کرو اور خوشی منائو یہ جنت ملنے کا معاملہ بڑی کامیابی ہے۔ جو لوگ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں ان کے لئے یہ بشارت ہے پھر اس جہاد و قتال میں کبھی دشمن کو ہلاک کرتے ہیں اور کبھی خود کام آجاتے ہیں ایک طرف ان کی جان اور مال ہے دوسری طرف جنت ہے۔ اللہ تعالیٰ مشتری ہے اور مسلمان بائع ہیں۔ وعدے کی توثیق فرمائی گئی ہے۔ وعد اعلیہ حقا یعنی خدا کے ذمہ پر یہ وعدہ حق ہے یا یہ کہ اس معاملہ پر وعدہ سچا ہوچکا۔ چونکہ یہ معاملہ نفع کا ہے اس لئے اس پر خوشی منانے کا حکم دیا گیا جان اور مال جو بہرحال جانے والی چیزیں ہیں اس کے مقابلہ میں دائمی جنت کا مل جانا اس سے بڑی اور کیا کامیابی ہوسکتی ہے۔
Ayah 9:112

اَلتَّآئِبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّآئِحُوْنَ الرّٰكِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ الْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ النَّاهُوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ الْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:112 in the Quran reader

ان مسلمانوں سے بھی وعدہ ہے جو توبہ کرنے والے عبادت کرنے والے شکر بجالانے والے روزے رکھنے والے رکوع کرنے والے سجدہ کرنے والے اچھی باتوں کی تعلیم دینے والے اور برے کام سے منع کرنے والے اور اللہ کی مقررہ حدود کی نگہداشت کرنے والے ہیں اور آپ ایسے مسلمانوں کو خوش خبری سنا دیجئے

112 ان مسلمانوں سے بھی جنت کا وعدہ ہے جو توبہ کرنے والے عبادت کرنے والے شکر بجالانے والے روزے رکھنے والے اور اچھی باتوں کی تعلیم دینے والے اور برے کاموں سے منع کرنے والے اور اللہ تعالیٰ کی مقررہ حدود کی نگہداشت کرنے والے ہیں اور آپ ایسے مسلمانوں کو خوش خبری سنا دیجئے۔ جس طرح مجاہدین کے لئے جنت کا معاملہ فرمایا اسی طرح وہ حضرات جو ان صفات سے متصف ہوں ان کیلئے بھی جنت کا وعدہ اور جنت کی بشارت ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ التائبوں سے لے کر آخر تک مجاہدین کی صفات ہوں اور مطلب یہ ہو کہ مجاہدین صرف جہاد ہی نہیں کرتے بلکہ ان میں یہ اوصاف بھی ہوتے ہیں۔ سائحون کا ترجمہ شاہ صاحب نے بےتعلق رہنے والے کیا ہے روزہ دار بھی کھانے پینے وغیرہ سے بےتعلق رہتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں بےتعلق رہنا روزہ ہے یا ہجرت یا دل نہ لگانا دنیا کے مزوں میں اور حدیں تھامنی یہ کہ بغیر حکم شرع کوئی کام نہ کریں۔ 12
Ayah 9:113

مَا كَانَ لِلنَّبِیِّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِیْنَ وَ لَوْ كَانُوْۤا اُولِیْ قُرْبٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 9:113 in the Quran reader

نبی کے لئے اور دوسرے مسلمانوں کے لئے یہ بات جائز نہیں ہے کہ جب ان کو مشرکین کا دوزخی ہونا ظاہر ہوچکا اس کے بعد بھی وہ ان کے لئے مغفرت کی دعا کریں خواہ وہ مشرت ان کے قرابت دار ہی کیوں نہ ہوں۔

113 پیغمبر ﷺ ! کے لئے اور دوسرے مسلمانوں کے لئے یہبات جائز نہیں کہ جب ان کو مشرکین کا دوزخی ہونا ظاہر ہوچکا اس کے بعد بھی وہ ان کے لئے مغفرت کی دعا کریں خواہ وہ مشرک ان کے قرابت دار ہی کیوں نہ ہوں۔ یعنی جب یہ بات ظاہر ہوچکی کہ مشرک اہل دوزخ ہیں تو اس کے بعد نہ نبی کو یہ بات جائز ہے نہ دوسرے مسلمانوں کو یہ جائز ہے کہ وہ کفر پر مرنے والوں کے لئے دعائے مغفرت کریں خواہ وہ کفر پر مرنے والے ان کے قرابت دار ہی کیوں نہ ہوں۔ مفسرین نے اس آیت کے مختلف شان نزول بیان کئے ہیں۔ خواہ ابو طالب کی موت ہو خواہ کوئی دوسرا واقعہ ہو یہ بات کھل چکی کہ کفر پر مرنے والوں کی بخشش نہیں۔ لہٰذا ! اب ان لوگوں کیلئے جو کفر پر مرے ہیں مغفرت کی دعا نہیں کرنی چاہئے۔
Ayah 9:114

وَ مَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِیْمَ لِاَبِیْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِیَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ١ؕ اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِیْمٌ Open ayah 9:114 in the Quran reader

اور رہا ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے باپ کے لئے بخشش طلب کرنا تو وہ محض ایک وعدے کی بنا پر تھا جو اس نے اپنے باپ سے کیا تھا پھر جب اس کو یہ ظاہر ہوگیا کہ اس کا باپ خدا کا دشمن ہے تو وہ اس سے بےتعلق ہوگیا بلاشبہ ابراہیم (علیہ السلام) بڑا نرم دل اور متحمل مزاج تھا۔

114 اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے باپ کے لے بخشش طلب کرنا تو وہ محض ایک وعدے کی بنا پر تھا جو اس نے اپنے باپ سے کیا تھا اور فرمایا تھا ساستغفرلک ربی انہ کان بی حفیا پھر جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ ظاہر ہوگیا کہ اس کا باپ خدا تعالیٰ کا دشمن ہے تو وہ اس سے بےزار اور بےتعلق ہوگیا بلاشبہ ابراہیم (علیہ السلام) بڑا نرم دل اور متحمل مزاج تھا یعنی ایک تو وعدہ ہوچکا تھا جیسا کہ سورة مریم میں آئے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ پھر یہ کہ اس کا دوزخی ہونا ظاہر نہیں ہوا تھا۔ جب اس کا دوزخی ہونا کھل گیا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس سے بےتعلقی کا اظہار کردیا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں قرآن کریم میں جو ذکر ہوا کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ کی بخشش مانگی۔ شاید حضرت کے دل میں بھی آیا ہو اور مسلمانوں نے بھی چاہا کہ اپنے قرابت والو کے حق میں دعا کریں یہ منع آیا معلوم ہوا کہ مشرک بخشا نہیں جاتا۔ 12
Ayahs 9:115–116

وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُضِلَّ قَوْمًۢا بَعْدَ اِذْ هَدٰىهُمْ حَتّٰى یُبَیِّنَ لَهُمْ مَّا یَتَّقُوْنَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 9:115 in the Quran reader

اور خدا کا یہ دستور نہیں ہے کہ وہ کسی قوم کو ہدایت عطا کرنے کے بعد گمراہ قرار دیدے تاوقتیکہ ان پر وہ باتیں کھول کر نہ بیان کردے جن سے ان کو بچنا ہے بے اللہ ہر شئے سے بخوبی واقف ہے۔

اِنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 9:116 in the Quran reader

بلاشبہ آسمانوں کی اور زمین کی سلطنت اللہ ہی کے لئے ہے وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے اور اللہ کے سوا نہ تمہارا کوئی حامی ہے اور نہ مددگار۔

115 اور اللہ تعالیٰ کا دستور نہیں اور خدا تعالیٰ کی یہ شان نہیں کہ وہ کسی قوم کو ہدایت کرنے کے بعد اور صحیح راستہ بتانے کے بعد گمراہ کردے اور اس قوم کو گمراہ قرار دے دے جب تک کہ ان پر وہ باتیں کھول واضح طور پر نہ بیان کردے جن باتوں سے ان کو بچنا اور پرہیز کرنا ہے بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہر شئے سے بخوبی واقف ہے یعنی ہدایت پانے کے بعد احکام کی اطلاع ضروری ہے ورنہ جائز ناجائز میں امتیاز کیسے کیا جاسکتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اسی واسطے تم کو منع کردیا۔
Ayah 9:117

لَقَدْ تَّابَ اللّٰهُ عَلَى النَّبِیِّ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ فِیْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْۢ بَعْدِ مَا كَادَ یَزِیْغُ قُلُوْبُ فَرِیْقٍ مِّنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّهٗ بِهِمْ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 9:117 in the Quran reader

بلاشبہ اللہ نے اپنے نبی پر مہربانی کی اور ان مہاجرین و انصار پر بھی توجہ فرمائی جنہوں نے ایسی سخت گھڑی میں پیغمبر کا ساتھ دیا جب کہ ان میں سے قریب تھا کہ بعض لوگوں کے قلوب متزلزل ہوجائیں پھر اللہ نے اپنی مہربانی سے ان کو سنبھال یلا بلاشبہ خدا ان سب پر بہت شفیق اور نہایت مہربان ہے۔

117 بلاشبہ ! اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر مہربانی فرمائی اور ان مہاجرین و انصار پر بھی مہربانی کے ساتھ توجہ فرمائی جنہوں نے ایسی سخت گھڑی اور ایسی تنگی کے وقت میں پیغمبر کا ساتھ دیا جب کہ ان میں سے قریب تھا کہ بعض لوگوں کے قلوب کچھ متزلزل ہوجائی پر اللہ تعالیٰ نے ان پر مہربانی کے ساتھ توجہ فرمائی اور اپنی خاص مہربانی سے ان کو سنبھال لیا یقیناً اللہ تعالیٰ ان سب پر بڑی شفقت کرنے والا اور نہایت مہربان ہے۔ نبی پر مہربانی یہ کہ ان کو تمام خوبیوں سے سرفراز فرمایا انصار و مہاجرین پر توجہ اور مہربانی یہ کہ ان کو سخت گرمی اور لو اور پانی کی قلت کے باوجود سنبھالے رکھا۔ حالانکہ بعض لوگ قریب تھا کہ ہمت ہار دیتے اور ان کے قدم ڈگمگا جاتے مگر ان کو سنبھال لیا اور ہمتیں بڑھا دیں اور غزوئہ تبوک کامیاب رہا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں مہاجر اور انصار کو معاف کیا دل کے خطروں سے اور دو بار فرمایا مہربان ہوا پھر مہربان ہوا۔
Ayah 9:118

وَّ عَلَى الثَّلٰثَةِ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا ضَاقَتْ عَلَیْهِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَ ضَاقَتْ عَلَیْهِمْ اَنْفُسُهُمْ وَ ظَنُّوْۤا اَنْ لَّا مَلْجَاَ مِنَ اللّٰهِ اِلَّاۤ اِلَیْهِ١ؕ ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْ لِیَتُوْبُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 9:118 in the Quran reader

اور ان تینوں شخصوں پر بھی خدا نے مہربانی کے ساتھ توجہ فرمائی جن کا معاملہ آئندہ کیلئے ملتوی رکھا گیا تھا یہاں تک کہ جب زمین باوجود اپنی فراخی کے ان تینوں اشخاص پر تنگ ہوگئی اور خود ان کی زندگی ان پر شاق ہوگئی اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اللہ تعالیٰ کی گرفت کے مقابلہ میں سجز اس کی ذات کے اور کوئی پناہ گاہ نہیں ہے پھر خدا نے ان پر مہربانی سے توجہ فرمائی تاکہ وہ لوٹ آئیں بیشک اللہ توبہ کا بہت قبول کرنے والا نہایت مہربان ہے۔

118 اور ان تین شخصوں پر بھی اور ان کے حال پر بھی اللہ تعالیٰ نے توجہ فرمائی اور ان کی توبہ قبول فرمالی جن کا معاملہ ملتوی اور مؤخر رکھا گیا تھا یہاں تک کہ ان تینوں شخصوں کعب، ہلال، مرارہ پر زمین باوجود اپنی فراخی اور کشادہ ہونے کے ان پر تنگ ہوگئی اور خود ان کی زندگی ان پر شاق اور تنگ ہوگئی اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اللہ کی گرفت کے مقابلے میں بجز اس کے اور سوائے اس کی ذات کے کوئی اور پناہ گاہ نہیں اور اس کی گرفت سے خود ہی بچا سکتا ہے۔ پھر خدا تعالیٰ نے ان پر مہربانی کے ساتھ توجہ فرمائی تاکہ وہ لوٹ آئیں اور خدا کی طرف رجوع کریں بیشک اللہ تعالیٰ بہت توبہ قبول کرنے والا نہایت مہربانی کرنے والا ہے۔ ان تینوں حضرات کا بائیکاٹ کردیا تھا یہ لوگ مختلف امتحانات میں مبتلا رہے۔ ان کی بیویوں نے بھی ان سے بات کرنا چھوڑ دی۔ ملک غسان نے ان کو لالچ دیا کہ مرتد ہو کر ہمارے پاس آجائو لیکن یہ لوگ ثابت قدم رہے آخرکار پچاس روز کے بعد ان کی توبہ کا قبول ہونا نازل ہوا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ساتھ مہاجرین و انصار کے وہ تین شخص بھی داخل ہوئے پچاس دن میں ان پر سخت حالت گزری کہ موت سے بدتر۔ 12
Ayah 9:119

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 9:119 in the Quran reader

اے ایمان والو اللہ سے ڈرتے رہو اور سچے لوگو کے ساتھ رہو

119 اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور سچوں کے ساتھ رہو۔ یعنی عمل میں ان لوگوں کے ساتھ جو قول اور فعل دونوں میں سچے ہوں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ تین شخص سچ کہنے سے بخشے گئے نہیں تو منافقوں میں ملتے۔
Ayah 9:120

مَا كَانَ لِاَهْلِ الْمَدِیْنَةِ وَ مَنْ حَوْلَهُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ یَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَرْغَبُوْا بِاَنْفُسِهِمْ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ لَا یُصِیْبُهُمْ ظَمَاٌ وَّ لَا نَصَبٌ وَّ لَا مَخْمَصَةٌ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَطَئُوْنَ مَوْطِئًا یَّغِیْظُ الْكُفَّارَ وَ لَا یَنَالُوْنَ مِنْ عَدُوٍّ نَّیْلًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمْ بِهٖ عَمَلٌ صَالِحٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 9:120 in the Quran reader

اہل مدینہ کو اور ان کے آس پاس کے دیہاتیوں کو یہ بات زیبا نہ تھی کہ وہ رسول اللہ کے ہمراہ جہاد میں جانے سے پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ زیبا تھا کہ اپنی جانوں کو رسول کی جان سے زیادہ عزیز رکھیں یہ رسول کے ہمراہ جانا اس لئے ضروری تھا کہ ان مجاہدین کو جو پیاس اور مشقت و تکلیف اور بھوک خدا کی راہ میں پہنچتی ہے اور جہاں کہیں وہ کسی ایسے مقام پر چلتے ہیں کہ وہ چلنا کفار کو غلیظ و غضب میں مبتلا کرے اور دشمنوں کے مقابلہ میں جو کامیابی یہ حاصل کرلیتے ہیں ان سب امور کے بدلے ان مجاہدین کے لئے نیک عمل لکھ دیئے جاتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ مخلصین کے اجر کو ضائع نہیں کیا کرتا۔

120 اہل مدینہ اور ان کے ارد گرد اور آس پاس کے دیہاتیوں کو یہ زیبا نہ تھا اور یہ بات ان کے لائق نہ تھی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ جہاد میں جانے سے پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ زیبا تھا کہ اپنی جانوں کو رسول اللہ ﷺ کی جان سے زیادہ چاہیں اور زیادہ عزیز رکھیں۔ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ جانے کا یہ سبب تھا اور اس لئے ضروری تھا کہ ان مجاہدین کو جو پیاس و مشقت و ماندگی اور بھوک اللہ کی راہ میں پہنچتی ہے اور جہاں کہیں وہ کسی ایسے مقام پر چلتے ہیں جہاں کا چلنا کفار کو غلیظ و غضب میں ڈالتا ہے اور دشمنوں کے مقابلہ میں جو کامیابی اور جو چیز بھی یہ حاصل کرلیتے ہیں ان سب امور کے بدلے ان مجاہدین کے لئے نیک عمل لکھ دیئے جاتے ہیں اور ہر کام کے بدلے ایک ایک نیک عمل لکھا جاتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ مخلصین کے اجر و ثوات کو ضائع نہیں کیا کرتا۔ یعنی اول تو ہر دکھ سکھ میں پیغمبر کا ساتھ دینا چاہئے یہ بڑی نازیبا حرکت ہے کہ پیغمبر تو سفر میں ہو اور سفر بھی گرمی اور لو کا سفر اور ہم اپنے گھروں اور باغوں میں عیش کی زندگی بسر کررہے ہوں پھر جبکہ پیغمبر کی ہمراہی میں نیک اعمال کا بھی فائدہ ہو اور ہر فعل خواہ اختیاری ہو یا غیر اختیاری پیاس بھوک تکلیف اور مشقت چلنا پھرنا حتیٰ کہ لاینالون من عدونیلا تک کے بدلے میں عمل صالح کا وعدہ ایسے ثواب کی چیز میں پیغمبر کی ہمراہی کو ترک کردینا اہل مدینہ اور مدینہ کے آس پاس کے دیہات والوں کو ہرگز مناسب اور زیبا نہ تھا۔