10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 10:41

وَ اِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ لِّیْ عَمَلِیْ وَ لَكُمْ عَمَلُكُمْ١ۚ اَنْتُمْ بَرِیْٓئُوْنَ مِمَّاۤ اَعْمَلُ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:41 in the Quran reader

اور اے پیغمبر اگر یہ آپ کی تکذیب کرتے رہیں تو آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میرا عمل میرے لئے اور تمہارا کرنا تمہارے لئے ہیں جو کچھ کرتا ہوں اس کے تم جوابدہ نہیں ہو اور تم جو کچھ کرتے ہو اس کا میں ذمہ دار نہیں ہوں

41 اور اے پیغمبر ﷺ ! اگر باوجود ان دلائل کے بھی یہ آپ کی تکذیب کرتے رہیں تو آپ ان سے فرما دیجئے کہ میرا عمل میرے لئے اور تمہارے اعمال تمہارے لئے ہیں میں جو کچھ کر رہا ہوں اس کے تم جواب دہ نہیں ہو اور تم جو کرتے ہو اس کا میں ذمہ دار نہیں ہوں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اگر میں جھوٹ پہنچائو حکم اللہ کا تو میں گنہگار ہوں تو تم نہیں اور اگر میں سچ لائوں پھر نہ کرو تو گناہ تم پر ہے تو ماننے میں تمہارا نقصان نہیں کسی طرح۔
Ayah 10:42

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ١ؕ اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:42 in the Quran reader

اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جو آپ کا کلام خوب کان لگا کر سنتے ہیں تو کیا آپ بہروں کو سنا سکتے ہیں خواہ وہ سمجھ بھی نہ رکھتے ہوں

42 اور اس میں سے بعض وہ ہیں جو بظاہر آپ کی جانب خوب کان لگا کر بیٹھے ہیں اور آپ کا کلام خوب کان لگا کر سنتے ہیں تو کیا آپ بہروں کو سنا سکتے ہیں اگرچہ وہ سمجھ بوجھ نہ رکھتے ہوں یعنی حق کے قبول کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے تو ان کا سننا ایسا ہی ہے جیسے کسی بہرے کو آپ سنا رہے ہیں مزید برآں یہ کہ بہرہ بھی بےعقل ہو اگر عقل ہوتی تو قرینے اور قیاس سے ہی کچھ سمجھ لیتا۔
Ayah 10:43

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْظُرُ اِلَیْكَ١ؕ اَفَاَنْتَ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 10:43 in the Quran reader

کچھ ان میں سے ایسے بھی ہیں جو آپ کو دیکھ رہے ہیں تو کیا بھلا آپ اندھوں کو راستہ دکھا سکتے ہیں گو وہ بصیرت بھی نہ رکھتے ہوں

43 اور کچھ ان میں سے ایسے بھی ہیں جو آپ کو بظاہر دیکھ رہے ہیں تو کیا بھلا آپ اندھوں کو راستہ دکھا سکتے ہیں گو وہ بصیرت بھی نہ رکھتے ہوں یعنی طلب حق کا ارادہ نہیں تو خالی دیکھنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی اندھا کسی طرف منہ کرکے بیٹھا ہو پھر مزید برآں یہ کہ بصیرت بھی نہ ہو اور ہئے کے بھی اندھے ہوں تو ایسے لوگوں راہ مستقیم آپ کیوں کر دکھا سکتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ بہروں کو بوجھ نہیں اور اندھوں کو سوجھ نہیں پھر کام چلے تو کیسے چلے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی کان رکھتے ہیں یا نگاہ رکھتے ہیں اس توقع پر کہ ہمارے دل میں تصرف کردیں جیسا کہ بعضوں پر ہوگیا سو یہ بات اللہ کے ہاتھ ہے 12 خلاصہ یہ کہ کسی زندگی کو بغور مطالعہ کرتے رہنا اور کسی کی باتیں اور کلام کو کان لگا کر سننا جب ہی مفید ہوسکتا ہے جب کہ طلب حق کا ارادہ بھی ہو۔
Ayah 10:44

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ النَّاسَ شَیْئًا وَّ لٰكِنَّ النَّاسَ اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 10:44 in the Quran reader

یقینا اللہ لوگوں پر ذرا بھی ظلم نہیں کرتا بلکہ لوگ خود ہی اپنے پر ظلم کرتے ہیں

44 یہ یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں پر ذرا بھی ظلم اور زیادتی نہیں کرتا لیکن خود ہی لوگ اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کسی میں قابلیت اور صلاحیت ہدایت قبول کرنے کی نہ رکھے پھر مواخذہ کرے یہ بات نہیں ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی بعضوں کے دل میں اثر نہیں دیتا سو ان کی تقصیر سے کہ دل صاف کرکے نہیں سنتے 12
Ayah 10:45

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ كَاَنْ لَّمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنَ النَّهَارِ یَتَعَارَفُوْنَ بَیْنَهُمْ١ؕ قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ Open ayah 10:45 in the Quran reader

اور وہ دن بھی قابل ذکر ہے دن دن خدا ان کو اس کیفیت سے جمع کرے گا کہ ان کو ایسا معلوم ہوگا گویا وہ پورے دن میں سے ایک گھڑی بھر ٹھہرے ہوں گے اور وہ آپس میں ایک دوسرے کو پہنچائیں گے بھی بلاشبہ جن لوگوں نے خدا کی پیشی میں حاضر ہو نیکی تکذیب کی وہ اس دن بڑے خسارہ میں رہے اور وہ راہ یافتہ نہ تھے

45 اور اے پیغمبر ﷺ ! ان کو وہ دن یا د دلائیے جس دن اللہ تعالیٰ ان کو اس کیفیت سے جمع کرے گا کہ وہ یہ سمجھتے ہوں گے کہ وہ دنیا میں برزخ میں گویا پورے دن میں سے ایک گھڑی بھر ٹھہرے ہوں گے اور وہ آپس میں ایک دوسرے کو پہنچانتے بھی ہوں گے بلاشبہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی پیشی میں حاضر ہونے کو جھٹلایا وہ اس دن بڑے خسارے اور نقصان میں رہیں گے اور وہ دنیا میں بھی راہ یافتہ نہ تھے قیامت کا دن چونکہ بہت بڑا اور سخت ہولناک ہوگا اس لئے دنیا میں رہنے یا قبر میں رہنے کی مدت کو کم سمھیں گے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی قبر میں رہنا اس دن ایک گھڑی بھر معلوم ہوگا۔
Ayah 10:46

وَ اِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ اللّٰهُ شَهِیْدٌ عَلٰى مَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 10:46 in the Quran reader

اور جو وعدے ہم ان سے کر رہے ہیں خواہ ان میں سے بعض کا وقوع ہم آپ کو دکھا دیں یا ان کے وقوع سے قبل آپکی پوری عمر پوری کردیں بہرحال ان کو ہماری طرف واپس آنا ہے اور اللہ کو ان سب افعال کی اطلاع ہے جو وہ کر رہے ہیں

46 اور جو وعدہ عذاب ہم ان سے کر رہے ہیں خواہ ان میں سے بعض کا وقوع آپ کو دکھا دیں اور آپ اپنی زندگی میں ابن کو مبتلائے عذاب دیکھ لیں یا اس عذاب کے وقوع سے قبل آپ کی عمر پوری کردیں بہر حال ان کو ہماری طرف واپس آنا ہے اور اللہ تعالیٰ کو ان سب اعمال کی اطلاع ہے جو وہ کر رہے ہیں یعنی ہم نے ان سے جو وعدے عذاب کے یا غلبہ اسلام کے کئے ہیں یہ ضروری نہیں کہ وہ سب آپ ﷺ کی زندگی ہی میں پورے ہوجائیں ہوسکتا ہے کہ بعض ان میں سے آپ کی زندگی میں پورے ہوجائیں کچھ آپ کی وفات کے بعد پورے ہوں اور قیامت میں تو ہمارے روبرو پیش ہونا ہی ہے وہاں تو وعدئہ عذاب پورا ہونا ہی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی غلبہ اسلام حضرت کے روبرو ہوا اور باقی ان کے خلفیوں سے 12 خلاصہ یہ کہ اسلام کا غلبہ آپ کی زندگی میں شروع ہوگیا اور اس کی تکمیل خلفائے راشدین کے عہد میں ہوئی اور پھر اس کا سلسلہ چلتا ہی رہا یہاں تک کہ ساتویں صدی ہجری میں ضعف شروع ہوگیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
Ayah 10:47

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلٌ١ۚ فَاِذَا جَآءَ رَسُوْلُهُمْ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 10:47 in the Quran reader

اور ہر قوم کے لئے ایک حکم پہونچا نیوالا ہوتا ہے پھر جب ان کا رسول ان کی طرف آچکتا ہے تو ان کا فیصلہ انصاف کے ساتھ دیا جاتا ہے اور ان پر ظلم نہیں کیا جاتا

47 اور ہر قوم کے لئے اور ہر امت کے لئے ایک حکم پہنچانے والا ہوتا ہے پھر جب ان کا رسول ان کی طرف آجاتا ہے اور وہ احکام پہنچا دیتا ہے تو ان کا فیصلہ انصاف کے ساتھ کردیاجاتا ہے اور ان پر ظلم نہیں کیا جاتا یعنی جب احکام کی اطلاع رسول کی معرفت دے دی جاتی ہے پھر جو نہیں مانتا وہ ابدی عذاب میں مبتلا ہوتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ عمل بد آگے سے ہوتے ہیں لیکن رسول کے پہنچنے سے سزا ملتی ہے 12
Ayah 10:48

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 10:48 in the Quran reader

اور کافر یوں کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو بتائو یہ عذاب کا وعدہ کب پورا ہوگا

48 اور دین حق کے منکر یوں کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو بتائو یہ وعدئہ عذاب کب پورا ہوگا۔
Ayah 10:49

قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ١ؕ اِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ فَلَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 10:49 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے کہ میں تو اپنے لئے بھی کسی نقصان اور نفع کا اختیار نہیں رکھتا مگر جو اللہ چاہے ہاں ہر قوم کے لئے ایک وقت مقرر ہے جب ان کا وہ مقررہ وقت آجاتا ہے تو اس وقت سے نہ گھڑی بھر پیچھے ہٹ سکتے ہیں اور نہ اس وقت سے آگے بڑھ سکتے ہیں

49 آپ فرما دیجئے ! کہ میں تو اپنے لئے بھی کسی نقصان اور نفع کا اختیار نہیں رکھتا مگر جو اللہ چاہے ہاں ! ہر قوم اور امت کے لئے ایک وقت مقرر ہے جب ان کا وہ وقت مقرر آجاتا ہے تو اس وقت سے نہ گھڑی بھر پیچھے ہٹ سکتے ہیں اور نہ اس وقت سے آگے بڑھ سکتے ہیں یعنی مجھ سے کیا پوچھتے ہو کہ عذاب کا وعدہ کب پورا ہوگا مجھے تو اپنے ہی امور میں اختیار حاصل نہیں مگر جو اللہ چاہے تو تمہارے عذاب کے وقت کا مجھے اختیار کب ہے جو میں بتائوں البتہ اتنا جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہر امت کا ایک وقت متعین ہے جب وہ وقت آجائے گا تو کسی کو اس سے آگے یا پیچھے ہٹنے کی مجال نہ ہوگی
Ayah 10:50

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُهٗ بَیَاتًا اَوْ نَهَارًا مَّا ذَا یَسْتَعْجِلُ مِنْهُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 10:50 in the Quran reader

آپ ان سے پوچھئے بھلا یہ تو بتائو کہ اگر خدا کا عذاب تم پر رات میں یا دن میں کسی وقت آ نازل ہو تو وہ عذاب آخر ایسی کیا چیز ہے جس کی گنہگار جلدی مچار ہے ہیں

50 آپ ان سے کہیے بھلا یہ تو بتلائو کہ اگر خدا کا عذاب تم پر رات میں یا دن میں کسی وقت آواقع ہو تو وہ عذاب آخر کیا چیز ہے جس کی یہ گنہگار جلدی مچا رہے ہیں یعنی عذاب تو آخر عذاب ہے وہ کوئی جلدی طلب کرنے کی چیز تو نہیں ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی بچائو نہ کرسکو گے پھر پوچھنے کا کیا فائدہ 12
Ayah 10:51

اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنْتُمْ بِهٖ١ؕ آٰلْئٰنَ وَ قَدْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 10:51 in the Quran reader

تو کیا پھر جس وقت وہ عذاب واقع ہوجائے گا تو اس وقت اس پر ایمان لائو گے اس وقت کہاجائے گا اب اس پر ایمان لاتے ہو حالانکہ تمہ ہی اس عذاب کی جلدی کیا کرتے تھے

51 تو کیا پھر اس وقت جس وقت وہ عذاب نازل ہوگا اور تم پر آپڑے گا تو کیا اس وقت اس پر ایمان لائو گے اس وقت کہاجائے گا اب اس کی تصدیق کرتے ہو اور اس عذاب پر ایمان لاتے ہو حالانکہ تم ہی اس عذاب کی جلدی کیا کرتے تھے یعنی جو وقت عذاب کی تصدیق کا ہے اور اس وقت تصدیق نافع بھی ہے تو ایمان نہیں لاتے جس وقت عذاب آجائے گا اس وقت ایمان لانا مفید اور نافع نہ ہوگا تو تم ایمان لائو گے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی عذاب آئے پر ایمان لانا کب قبول ہوگا اس واسطے پوچھو تو بھی عبث
Ayah 10:52

ثُمَّ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ١ۚ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ Open ayah 10:52 in the Quran reader

پھر ظالموں سے کہاجائے گا کہ اب عذاب دائمی کا مزہ چکھو تم کو بدلہ نہ دیاجائے گا مگر اس کمائی کا جو تم کمایا کرتے تھے

52 پھر ان لوگوں سے جو ظلم اور شرک کے مرتکب ہوئے ہیں کہاجائیگا کہ اب عذاب دائمی کا مزہ چکھو تم کو بدلا نہ دیاجائے گا مگر اس کمائی کا جو تم کمایا کرتے تھے یعنی دنیوی عذاب کی تباہی کے ساتھ آخروی عذاب کا سلسلہ شروع ہوجائے گا جو دائمی ہوگا۔
Ayah 10:53

وَ یَسْتَنْۢبِئُوْنَكَ اَحَقٌّ هُوَ١ؔؕ قُلْ اِیْ وَ رَبِّیْۤ اِنَّهٗ لَحَقٌّ١ؔؕۚ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ۠ Open ayah 10:53 in the Quran reader

اور یہ کافر آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ جو کچھ تو کہتا ہے کیا وہ واقعی حق بات ہے آپ کہہ دیجئے ہاں میرے رب کی قسم وہ ایک غیر مشتبہ حقیقت ہے اور تم کسی طرح خدا کو عاجز نہیں کرسکتے

53 اور بڑے تعجب کے ساتھ آپ سے دریافت کرتے ہیں کیا تو جو کچھ کہتا ہے وہ واقعی حق اور سچ کو تھکانے اور عاجز کرنے والے نہیں ہو یعنی عذاب یا قرآن کریم یا اسلام غرض جو باتیں آپ کہتے اور بتاتے ہیں وہ سب امور واقعیہ ہیں یا کسی اور مصلحت سے آپ کہتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی بھاگ کر عاجز نہ کرسکو گے۔
Ayah 10:54

وَ لَوْ اَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِی الْاَرْضِ لَافْتَدَتْ بِهٖ١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 10:54 in the Quran reader

اور اگر ہر ظلم کرنے والا انسان کے قبضے میں اس دن روئے زمین کا تمام مال بھی ہو تو وہ ضرور اس سبب مال کو اپنے فدیہ میں دے ڈالے اور جب یہ لوگ عذاب کو دیکھیں گے تو دل ہی دل میں اپنی ندامت و پشیمانی کو چھپائیں گے اور ان کے درمیان حق و انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا اور ان پر کسی طرح کا ظلم نہ کیا جائے گا

54 اور اگر ہر شخص کے پاس جو ظلم اور کفر و شرک کا مرتکب ہوا تھا روئے زمین کا تمام مال بھی ہوا ور ہر ظلم کرنے والے انسان کے قبضہ میں اتنا مال ہو کہ اس سے تمام زمین بھر جائے تو بھی وہ ضرور اس مال کو اپنے فدیہ میں دے ڈالے اور اپنی جان بچائے اور جب یہ لوگ عذاب کو دیکھیں گے تو دل ہی دل میں اپنی ندامت و پشیمانی کو چھپائیں گے اور ان کا فیصلہ حق و انصاف کے ساتھ کردیاجائے گا اور ان پر کسی طرح کا ظلم نہ ہوگا۔ یعنی جس عذاب کی جلدی کر رہے ہیں اس کی شدت کا یہ حال ہے کہ جب اس عذاب میں مبتلا ہوں گے تو اس وقت اس عذاب سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے کسی کافر کے پاس روئے زمین کی دولت بھی ہو تب بھی وہ اس کو فدیہ دے کر اپنی جان کو اس عذاب سے چھڑا لے اور جب یہ لوگ عذاب کا مشاہدہ کریں گے اور مزید فضیحت و رسوائی کے خوف سے اپنی شرمندگی کو چھپانے کی کوشش کریں گے جو بےسود ہوگی کیونکہ وہ شرمندگی اور پشیمانی ضبط نہ ہوسکے گی۔
Ayah 10:55

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:55 in the Quran reader

آگاہ رہو جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے وہ سب اللہ ہی کی ملک ہے اور سن رکھو کہ اللہ کا وعدہ برحق ہے لیکن اکثر لوگ یقین نہیں کرتے

55 یاد رکھو کہ جتنی چیزیں آسمانوں میں اور زمین میں ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ ہی کی ملک ہیں اور سن رکھو کہ ہر چیز کا وہی مالک اور اسی کا وعدہ برحق ہے اسی میں وعدئہ عذاب بھی ہے۔
Ayah 10:56

هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 10:56 in the Quran reader

وہی زندگی عطا کرتا ہے اور وہی موت دیتا ہے اور اسی کی طرف تم سب لوٹائے جائو گے

56 وہی زندگی بخشتا ہے وہی موت دیتا اور جان نکالتا ہے اور تم سب اسی کی طرف واپس کئے جائوگے۔
Ayah 10:57

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ١ۙ۬ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:57 in the Quran reader

اے لوگو ! تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس ایک ایسی چیز آئی ہے جو نصیحت اور قلبی امراض کیلئے شفا ہے اور ایمان والوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے

57 اے انسانو ! تمہارے رب کی جانب سے تمہارے پاس ایک ایسی چیز آئی ہے جو برے کاموں سے بچنے کے لئے نصیحت ہے اور قلبی بیماریوں کے لئے شفا ہے اور ایمان والوں کے لئے رہنمائی اور رحمت ہے یعنی نصیحت ہے کہ برے اعمال سے بچیں اور برے کاموں کی وجہ سے جو قلب میں بیماریاں پیدا ہوجاتی ہے اس کیلئے شفا اور نیک کاموں کی خواہش رکھنے والے اہل ایمان کے واسطے رہنمائی کرنے والی ہے اور جو لوگ نیک اعمال کرتے ہیں ان کے لئے موجب رحمت اور ذریعہ ثواب ہے مراد اس چیز سے قرآن کریم ہے۔
Ayah 10:58

قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْا١ؕ هُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 10:58 in the Quran reader

اے پیغمبر ﷺ ! آپ فرما دیجئے کہ لوگوں کو اللہ کے اس فضل اور مہربانی یعنی نزول قرآن پر خوش ہوناچاہئے یہ قرآن ان چیزوں سے بدرجہا بہتر ہے جو چیزیں یہ لوگ جمع کیا کرتے ہیں

58 اے پیغمبر ﷺ ! آپ فرما دیجئے کہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے اس فضل اور اس کی اس مہربانی پر خوش ہوناچاہئے یہ قرآن کریم دنیا کی ان چیزوں سے بدرجہا بہتر ہے جس کو یہ جمع کیا کرتے ہیں یعنی دنیا بھی فانی اور اس کا نفع بھی فانی اور قرآن کریم کی برکات اور اس کے منافع ہمیشہ باقی پھر ایسے انعام پر خوشی کا اظہار کرنا ہی چاہئے۔
Ayah 10:59

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ لَكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِّنْهُ حَرَامًا وَّ حَلٰلًا١ؕ قُلْ آٰللّٰهُ اَذِنَ لَكُمْ اَمْ عَلَى اللّٰهِ تَفْتَرُوْنَ Open ayah 10:59 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے بھلا دیکھو تو یہی سہی اللہ نے جو روزی تمہارے لئے نازل کی تھی تم اس میں سے بعض چیزوں کو حرام اور بعض کو حلال قرار دے لیا ہے آپ دریافت کیجئے کیا خدا نے تم کو ایسا کرنے کا حکم دیا ہے یا تم خدا پر صرف بہتان باندھتے ہو

59 اے پیغمبر ﷺ ! آپ ان سے فرما دیجئے بھلا دیکھو تو سہی اللہ تعالیٰ نے جو روزی تمہارے لئے نازل فرمائی اور جو رزق اس نے تمہارے فائدہ کے لئے اتارا تھا تم نے اس میں سے کچھ حصے کو حلال اور کچھ حصے کو حرام تجویز کرلیا ہے اور قرار دیدیا ہے آپ ان سے دریافت کیجئے کیا اللہ تعالیٰ نے تم کو ایسا کرنے کا حکم دیا ہے یا تم محض اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھتے ہو اور اس پر افتراء کرتے ہو یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتیں عطا فرمائی تھیں اشفاع کے لئے تم نے ان میں سے بعض کو حلال بعض کو حرام قرار دے لیا خدا کی پیدا کردہ چیزوں میں حلال و حرام کرنا خدا ہی کے حکم سے ہوسکتا ہے یا تو اللہ تعالیٰ کا حکم دکھلائو اور اگر نہیں ہے تو یہ کہو کہ اللہ پر افترا کیا ہے۔
Ayah 10:60

وَ مَا ظَنُّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 10:60 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا پر جھوٹ افترا باندھتے ہیں وہ قیامت کے دن کو کیا سمجھے ہوئے ہیں یقین جانو کہ لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا بڑا ہی فضل ہے لیکن اکثر لوگ فضل خداوندی کی قدر نہیں کرتے

60 اور جو لوگ اللہ تعالیٰ پر جھوٹا افترا باندھتے ہیں وہ قیامت کے دن کی نسبت کیا گمان رکھتے ہیں بلاشبہ اللہ تعالیٰ کا لوگوں پر بڑا ہی فضل و انعام ہے لیکن اکثر لوگ فضل خداوندی کے ناسپاس ہیں وہ یوم قیامت کو کیا سمجھ رہے ہیں یعنی یہ دن واقع نہیں ہوگا یا واقع ہوگا تو ہم سے اس دن کچھ پوچھ گچھ نہیں ہوگی اللہ تعالیٰ کا فضل یعنی اس کے اپنی مخلوق پر بیشمار احسان ہیں گنہگار کو فوری نہیں پکڑتا عام طور سے توبہ کا موقعہ دیتا ہے۔
Ayah 10:61

وَ مَا تَكُوْنُ فِیْ شَاْنٍ وَّ مَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّ لَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَیْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ وَ مَا یَعْزُبُ عَنْ رَّبِّكَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ وَ لَاۤ اَصْغَرَ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرَ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 10:61 in the Quran reader

اور اے پیغمبر ﷺ ! آپ کسی حال میں ہوں اور منجملہ ان احوال کے آپ کہیں سے قرآن پڑتے ہوں اور تم لوگ جو کام بھی کرتے ہو بہر حال ہم برابر تم پر مطلع اور نگہبان ہوتے ہیں جب تم اس کام کو کرنا شروع کرتے ہو اور آپ کے پروردگار کے علم سے ذ رہ برابر کوئی چیز نہ زمین میں پوشیدہ ہے اور نہ آسمان میں اور نہ ذرہ کی مقدار سے کوئی چیز چھوٹی ہے اور نہ اس سے بڑی ہے مگر یہ کہ وہ سب کتاب مبین یعنی لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہے

61 اور اے پیغمبر ﷺ ! آپ کسی حال میں ہوں اور منجملہ ان احوال کے خواہ آپ کہیں سے قرآن کریم پڑہتے ہوں اور تم لوگ جو بھی کام کرتے ہو ہم کو سب کی خبر رہتی ہے اور ہم بہرحال تم پر مطلع اور نگہبان ہوتے ہیں جب تم اس کام کو کرنا شروع کرتے ہو اور آپ کے پروردگار کے علم سے کوئی چیز ذرہ برابر بھی غائب نہیں نہ زمین میں اور نہ آسمان میں اور نہ کوئی چیز ذرے کی مقدار سے چھوٹی اور نہ کوئی چیز مقدار میں ذرہ سے بڑی ہے مگر یہ کہ وہ سب کھلی کتاب لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہے یعنی اے پیغمبر ﷺ ! آپ کوئی کام بھی کریں یا آپ کے حالات کچھ بھی ہوں خواہ آپ قرآن کریم پڑتے ہوں اور یہی حالت تم سب لوگوں کی ہے کہ تم جو کام کرتے ہو تو ہم اس پر حاضر اور نگراں ہوتے ہیں اور جب سے تم اس کام کو شروع کرتے ہو تو وہ کام شروع بھی ہماری نگرانی میں کرتے ہو غرض ! کوئی چیز بھی ان کے احاطہ علمی سے باہر نہیں ہے۔
Ayah 10:62

اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ Open ayah 10:62 in the Quran reader

سن رکھو جو لوگ خدا کے دوست ہیں ان پر نہ کسی قسم کا خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

62 یاد رکھو کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے دوست ہیں ان پر نہ کسی قسم کا خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے یعنی نہ کسی حادثہ کا خوف و اندیشہ اور نہ کسی مقصد کے فوت ہوجانے کا غم
Ayah 10:63

الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ Open ayah 10:63 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور پرہیز گار رہے

63 یہ خدا کے دوست وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور گناہوں سے پرہیز کرتے رہے یعنی اہل ایمان بھی اور اہل تقویٰ بھی ایسے ہی لوگ خدا کے دوست کہلاتے ہیں۔
Ayah 10:64

لَهُمُ الْبُشْرٰى فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُؕ Open ayah 10:64 in the Quran reader

ان کے لئے دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی بشارت و خوشخبری ہے اللہ کی باتیں بدلا نہیں کرتیں یہ بتارش ہی تو بہت بڑی کامیابی ہے

64 ان ہی لوگوں کے لئے دنیوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی بشارت و خوشخبری ہے اللہ کی باتیں بدلا نہیں کرتیں اور نہ اس کے وعدوں میں کوئی فرق ہوا کرتا ہے یہ بشارت ہی تو بہت بڑی کامیابی ہے بشارت یعنی ان کو کوئی اندیشہ و خوف اور نہ کسی چیز کے فوت ہونے کا غم اللہ کی باتیں یعنی اس کے وعدوں میں کوئی تبدیلی یا فرق نہیں ہوتا۔
Ayah 10:65

وَ لَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ١ۘ اِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًا١ؕ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 10:65 in the Quran reader

اور اے پیغمبر ﷺ ! ان کافروں کی باتیں آپکو آزردہ خاطر نہ کریں کیوں کہ ہر قسم کا غلبہ اللہ ہی کی حاصل ہے وہی سب سننے والا اور جاننے والا ہے

65 اور اے پیغمبر ﷺ ! ان منکرین دین حق کی باتیں آپ کو آزردہ خاطر نہ کریں اور آپ کو غم میں نہ ڈالیں کیونکہ ہر قسم کا غلبہ اللہ تعالیٰ ہی کو حاصل ہے وہی سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے یعنی اس کو علم بھی ہے سنتا بھی ہے اور قدرت بھی ہے اس لئے آپ کو ایسے زبردست حامی کی موجودگی میں فکر نہیں ہونا چاہئے۔
Ayah 10:66

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا یَتَّبِعُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ Open ayah 10:66 in the Quran reader

آگاہ رہو جو مخلوق آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے وہ سب اللہ کی ہے اور جو لوگ خدا کو چھوڑ کر دوسرے خانہ ساز شرکاء کی عبادت کرتے ہیں آخر یہ کس چیز کی پیروی کررہے ہیں کچھ نہیں یہ لوگ محض چند بےبنیاد خیالات کی پیروی کررہے ہیں اور یہ صرف اٹکل سے تخمینے لگایا کرتے ہیں

66 یاد رکھو جو کوئی آسمانوں میں ہے اور جو کوئی زمین میں ہے وہ سب اللہ کی مملوک ہے اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسرے خود ساختہ اور خانہ ساز شراء کی بندگی کر رہے ہیں آخر یہ کس کی اتباع اور پیروی کر رہے ہیں کچھ نہیں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں یہ لوگ محض چند بےبنیاد خیالات کی پیروی اور اتباع کر رہے ہیں اور یہ محض قیاسی اور اٹکل کی باتیں کیا کرتے ہیں یعنی جنات انسان اور فرشتے سب اس کی مملوک ہیں ہوسکتا ہے کہ من بمعنی ما ہو اور تمام مخلوق مراد ہو اور جب سب چیز اللہ کی مملوک ہے پھر مالک کی موجودگی میں مملوک کی بندگی پر کیا دلیل ہوسکتی ہے محض بےاصل اور بےسند باتوں کے اور قیاسی باتوں کی پیروی کے اور ان کے پاس کیا رکھا ہے۔
Ayah 10:67

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ Open ayah 10:67 in the Quran reader

وہ خدا ہی کی ذات تو ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی تاکہ تم اس میں آرام کرو اور تمہارے دن کو روشن اور دکھانے والا بنایا بیشک اس رات دن کے بنانے میں ان لوگوں کے لئے بڑے دلائل ہیں جو سننے کی صلاحیت رکھتے ہیں

67 وہ اللہ وہی ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی تاکہ تم اس میں آرام و چین حاصل کرو اور تمہارے لئے دن کو روشن اور دیکھنے بھالنے کا ذریعہ بنایا بیشک اس رات دن کے بنانے میں ان لوگوں کے لئے بڑے دلائل توحید ہیں جو ان مضامین کو سننے کی صلاحیت رکھتے اور پورے تدبیر کے ساتھ سنتے ہیں۔
Ayah 10:68

قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ١ؕ هُوَ الْغَنِیُّ١ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنْ عِنْدَكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍۭ بِهٰذَا١ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:68 in the Quran reader

مشرک کہتے ہیں کہ خدا اولاد رکھتا ہے وہ تمام عیوب سے پاک ہے وہ کسی کا محتاج نہیں ہے جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے سب اسی کی ملک ہے اس غلط دعوے پر تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے تم اللہ کے ذمہ ایسی بات کیوں لگاتے ہو جس کو تم نہیں جانتے

68 مشرک یوں کہتے ہیں اللہ تعالیٰ اولاد رکھتا ہے وہ تمام عیوب سے پاک ہے وہ کسی کا محتاج نہیں ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کی ملک ہے اور سب اس کے مملوک ہیں اس بےجا دعوے پر تمہارے پاس کوئی دلیل بھی نہیں ہے کیا تم اللہ تعالیٰ کے ذمہ ایسی بات لگاتے ہو جس کو تم نہیں جانتے اولاد احتیاج کی دلیل ہے اور اللہ تعالیٰ محتاج نہیں ہے اگر اولاد مجانس ہو تو مجانست کا باطل ہونا ظاہر ہوچکا ہے اور اگر اولاد غیر مجانس اور ناجنس ہو تو یہ عیب ہے اور اللہ تعالیٰ ہر عیب سے پاک ہے جو کچھ ہے وہ مملوک ہے اولاد برابر کی ہوتی ہے پھر اس لغو دعوے پر تمہارے پاس کوئی دلیل بھی نہیں تو پھر تم اللہ تعالیٰ پر ایسی افترا پردازی اور بہتان طرازی کیوں کرتے ہو جس کا تم کو علم بھی نہیں۔
Ayah 10:69

قُلْ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ Open ayah 10:69 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے جو لوگ اللہ پر جھوٹا بہتان لگاتے ہیں وہ فلاح نہیں پائیں گے

69 آپ ان سے کہہ دیجکئے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ افتراء کرتے ہیں اور بہتان باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پائیں گے اور کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔
Ayah 10:70

مَتَاعٌ فِی الدُّنْیَا ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِیْقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِیْدَ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 10:70 in the Quran reader

دنیا میں ان کے لئے تھوڑا سا عیشا ہے آخرکار ہمارے ہی پاس ان کو لوٹنا ہے پھر ہم اس کفر کی پاداش میں جو وہ کیا کرتے تھے ان کو سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے

70 دنیا میں ان کے لئے تھوڑا سا چند روزہ عیش ہے پھر ان کو ہمارے ہی پاس آنا اور ہماری ہی طرف لوٹنا ہے پھر ہم اس کفر کی پاداش میں جو وہ کیا کرتے تھے ان کو سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے یعنی دنیا میں چند روزہ فائدہ اور عیش اٹھالیں پھر مرنے کے بعد ان کا مرجع ہماری طرف ہے اور پھر ہم ان کو سخت سزا دیں گے۔
Ayah 10:71

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ نُوْحٍ١ۘ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكُمْ مَّقَامِیْ وَ تَذْكِیْرِیْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَعَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْتُ فَاَجْمِعُوْۤا اَمْرَكُمْ وَ شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ لَا یَكُنْ اَمْرُكُمْ عَلَیْكُمْ غُمَّةً ثُمَّ اقْضُوْۤا اِلَیَّ وَ لَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 10:71 in the Quran reader

اور آپ ان کو نوح کا واقعہ پڑھ کر سنائیے جب اس نے پانی قوم سے کہا اے میری قوم اگر میرا یہ ان رہنا اور احکام الٰہی سنا کر میرا نصیحت کرنا تم پر شاق اور ناگوار گزرتا ہے تو ہوا کرے میں نے خدا ہی پھر بھروسہ کر رکھا ہے سو اب تم اپنی کوئی تدبیر اپنے شرکاء سے مل کر پختہ طورپر طے کرلو پھر وہ تمہاری مقررہ تجویز تم پر محفی نہ رہے پھر جو کچھ میرے ساتھ کرنا ہو وہ کر گزرو اور مجھ کو ذرا بھی مہلت نہ دو

71 اور اے پیغمبر ﷺ ! آپ ان کو نوح (علیہ السلام) کا واقعہ پڑھ کر سنائیے جو اس وقت کا واقعہ ہے جب کہ اس نے پانی قوم سے کہا اے میری قوم اگر میرا یہاں رہنا اور احکام الٰہی سنا کر میرا نصیحت کرنا تم پر شاق اور گراں گزرتا ہے تو ہوا کرلے میں نے تو اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ اور توکل کر رکھا ہے سو اب تم مجھے نقصان پہنچانے کی اپنی کوئی تدبیر اپنے شرکاء سے مل کر پختہ طورپر طے کرلو پھر وہ تمہاری مقررہ تدبیر اور تجویز تم پر مخفی اور مشتبہ نہ رہے پھر جو کچھ میرے ساتھ کرنا ہے وہ کر گزرو اور مجھ کو ذرا بھی مہلت نہ دو یعنی میرا قیام اور میری تبلیغ تم کو گراں ہے تو ہو مجھے تو اپنا کام کرنا ہے اور کوئی بات تمہارے خوف سے یا ڈر سے ترک کرنے والا نہیں ہوں کیونکہ میں نے تو ہمیشہ سے خدا پر توکل کر رکھا ہے تم مجھے نقصان پہنونچانا چاہتے ہو تو اپنے رفقاء کار بلکہ بتوں وغیرہ کو جمع کرکے باہمی مشورے سے کوئی پختہ تدبیر کرلو اور وہ تدبیر جو کچھ ہو علانیہ ہو کوئی پوشیدہ بات نہ ہو پھر جو کچھ کرنا ہو وہ کرو اور مجھ کو ڈھیل اور مہلت نہ دو ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی سمجھانے سے برا مانتے ہو تو جو کرسکو میرا کرلو۔
Ayah 10:72

فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَمَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ١ۙ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 10:72 in the Quran reader

پھر اس پر بھی اگر تم اعراض ہی کرتے رہو تو تم جانتے ہو کہ میں نے تم سے کوئی معاوضہ تو طلب نہیں کیا میرا معاوضہ تو بس اللہ ہی کے ذمہ ہے اور مجھ کو تو یہ حکم کیا گیا ہے کہ میں فرمانبرداروں میں سے رہو

72 پھر اس پر بھی اگر تم روگرانی اور اعراض ہی کرتے رہوتو تم جانتے ہو کہ میں نے تم سے کوئی مزدوری اور معاوضہ تو طلب نہیں کیا میرا معاوضہ تو بس اللہ کے ذمہ ہے اور مجھ کو تو یہ حکم کیا گیا ہے کہ میں اطاعت کرنے والوں اور فرماں برداروں میں رہوں نہ مجھ کو خوف ہے نہ تم سے کوئی طمع اور لالچ ہے مجھ کو تبلیغ کا حکم ہے میں اس کی تعمیل کر رہا ہوں۔
Ayah 10:73

فَكَذَّبُوْهُ فَنَجَّیْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ جَعَلْنٰهُمْ خَلٰٓئِفَ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِیْنَ Open ayah 10:73 in the Quran reader

اس پر بھی ان کی قوم ان کی تکذیب کرتی رہی پھر ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اور جو اس کے ہمراہ کشتی میں سوار تھے ان کو طوفان سے نجات دی اور ان طوفان سے نجات پانیوالوں کو جانشین کیا اور جو ہماری آیتوں کی تکذیب کیا کرتے تھے ان سب کو غرق کردیا اے مخاطب عبرت کی نگاہ سے دیکھ جن کو ڈرایا جا چکا تھا ان کا انجام کیسا ہوا

73 اس معقول نصیحت کے باوجود ان کی قوم ان کو جھٹلاتی اور ان کی برابر تکذیب کرتی رہی اس پر طوفان کا عذاب آیا اور ہم نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور جو اس کے ہمراہ کشی میں تھے ان کو طوفان سے نجات دی اور ان طوفان سے نجات پانے والوں کو جانشین کیا اور ان کو آباد کیا اور وہ لوگ جو ہماری آیتوں کی تکذیب کیا کرتے تھے ان سب کو غرق کردیا لہٰذا اے مخاطب چشم عبرت سے دیکھ جن کو ڈرایا جا چکا تھا ان کا انجام کیسا ہوا یعنی کیسا برا انجام ہوا۔
Ayah 10:74

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ١ؕ كَذٰلِكَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِ الْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 10:74 in the Quran reader

پھر نوح (علیہ السلام) کے بعد ہم نے اور رسولوں کو ان کو اپنی اپنی قوموں کی طرف بھیجا سو یہ رسول ان قوموں کے پاس واضح دلائل لے کر آئے مگر باوجود اس کے ان لوگوں نے اس چیز کو جس کی وہ ابتداء تکذیب کرچکے تھے مان کر ہی نہ دیا ہم اسی طرح ان لوگوں کے دلوں پر مہر کردیا کرتے ہیں جو حد سے تجاوز کرنے والے ہیں

74 پھر نوح (علیہ السلام) کے بعد ہم نے اور رسولوں کو ان کی اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجا سو وہ رسول ان کے پاس معجزات اور واضح دلائل لے کر آئے مگر باوجود اس کے ان کی کیفیت یہ تھی کہ انہوں نے اس چیز کو جس کی وہ شروع میں تکذیب کرچکے تھے اور پہلے ہی جس کو جھوٹا بتا چکے تھے آخر تک مان کر ہی نہ دیا اور آخر وقت تک اس چیز کو مانا ہی نہیں جس طرح یہ لوگ سنگدل تھے اسی طر ح ہم ان لوگوں کے دلوں پر مہر کردیا کرتے ہیں جو حد سے گزر جانے والے ہیں یعنی بڑے ضدی اور مٹی تھے چونکہ پہلی مرتبہ پیغمبروں کی تعلیم کو جھوٹا کہہ چکے تھے اس لئے آخر وقت تک اسی پر اڑے رہے اور اپنی جگہ سے سرکے نہیں۔
Ayah 10:75

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى وَ هٰرُوْنَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ بِاٰیٰتِنَا فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 10:75 in the Quran reader

پھر ان پیغمبروں کے بعد ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو اپنے دلائل دے کر فرعون اور اس کے روساء کی طرف بھیجا مگر انہوں نے تکبر کیا اور وہ لوگ مجرم کرنے کے عادی ہوچکے ہیں

75 پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو اپنے معجزات اور دلائل دیکر فرعون اور اس کے روساء کی طرف بھیجا پس فرعون اور اس کے روساء نے تصدیق کرنے سے تکبر کیا اور وہ لوگ ارتکاب جرائم کے خوگر ہوچکے تھے اور عادی بن گئے تھے یعنی نوح (علیہ السلام) کے بعد بہت سے پیغمبرآتے رہے اور ان پیغمبروں کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو بھیجا گیا لیکن فرعونیوں نے بجائے قبول کرنے کے تکبر کا اظہار کیا اور دونوں بھائیوں کو اپنی رعایا سمجھ کر ان پر ایمان لانے سے انکار کردیا اور ان کے معجزات کو جادو بتایا۔
Ayah 10:76

فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْۤا اِنَّ هٰذَا لَسِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 10:76 in the Quran reader

پھر جب ان کے پاس ہماری طرف سے صحیح دلیل پہونچی تو وہ کہنے لگے یقینا یہ تو کھلا جادو ہے

76 پھر جب ان کے پاس ہماری طرف سے صحیح دلیل اور سچی پہونچی تو وہ کہنے لگے یہ تو یقینا صریح اور کھلا ہوا جادو ہے یعنی عصا اور ید بیضا کا معجزہ دیکھ کر جادو بتانے لگے۔
Ayah 10:77

قَالَ مُوْسٰۤى اَتَقُوْلُوْنَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمْ١ؕ اَسِحْرٌ هٰذَا١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السّٰحِرُوْنَ Open ayah 10:77 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کیا تم اس صحیح دلیل کے متعلق جب کہ وہ تمہارے پاس آئی ایسی بات کہتے ہو کیا یہ جادو ہے حالانکہ جادو گر کبھی فلاح نہیں پاتے

77 موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کیا تم اس صحیح دلیل اور سچی بات کے متعلق جب وہ تمہارے پاس آئی ایسی بات کہتے ہو کیا یہ جادو ہے حالانکہ جادوگر کبھی کامیاب نہیں ہوتے یعنی جادوگر اگر نبوت کا دعویٰ کرے تو خوارقات نہیں دکھا سکتا یہ پیغمبر ہی کا کام ہے کہ دعویٰ نبوت کے ساتھ اس کے ہاتھ خوارقات کا بھی صدور ہوتا ہے۔
Ayah 10:78

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا وَ تَكُوْنَ لَكُمَا الْكِبْرِیَآءُ فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا نَحْنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:78 in the Quran reader

انہوں نے جواب دیا کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ جس طریقہ پر ہم نے اپنے بڑوں کو پایا ہے تو اس طریقہ سے ہم کو ہٹا دے اور تم دونوں بھائیوں کو اس ملک میں سرداری مل جائے اور ہم تم دونوں پر ایمان لانے والے نہیں ہیں

78 انہوں نے جواب دیا کہ کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ جس طریقہ پر ہم نے اپنے بڑوں کو پایا ہے اور اپنے بزرگوں کو دیکھا ہے اس طریقہ سے ہم کو ہٹا دے اور تم دونوں بھائیوں کو اس ملک کی ریاست اور سرداری مل جائے اور ہم تم دونوں کو ماننے والے اور ایمان لانے والے نہیں ہیں یعنی جو ہمارے بڑے کرتے رہے ہیں اور جو ان کی دیکھا دیکھی ہم بھی کر رہے ہیں تو اس سے ہم کو برگشتہ کرنا چاہتا ہے اور اس ملک میں انقلاب پیدا کرکے چاہتا ہے کہ تم دونوں کو یہاں کی بڑائی اور سرداری مل جائے اور چونکہ تم ہمارا ملک چھیننا چاہتے ہو اس لئے ہم تم کو ماننے والے نہیں۔
Ayah 10:79

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُوْنِیْ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ Open ayah 10:79 in the Quran reader

اور فرعون نے کہا کہ ہر ماہر اور ہوشیار جادوگر کو میرے سامنے حاضر کرو

79 اور فرعون نے حکم دیا کہ ہر ماہر اور ہوشیار جادوگر کو میرے پاس حاضر کرو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کو جادو سمجھے اور جادوگروں کو مقابلے کے لئے طلب کیا۔
Ayah 10:80

فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ Open ayah 10:80 in the Quran reader

پھر جب وہ جادوگر آگئے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے کہا جو کچھ تمہیں ڈالنا ہے وہ ڈالو

80 پھر جب وہ جادوگر آگئے اور مقابلہ کی ٹھیر ہوگئی تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جادوگروں سے کہا جو کچھ تمہی ڈالنا ہے وہ ڈالو یعنی جو کچھ ڈالنے والے ہو وہ ڈالو اور جو کچھ اپنے کرتب دکھانے چاہتے ہو وہ دکھائو۔