10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 10:81

فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا قَالَ مُوْسٰى مَا جِئْتُمْ بِهِ١ۙ السِّحْرُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَیُبْطِلُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 10:81 in the Quran reader

سو جب ان جادوگروں نے اس کو ڈال دیا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا جو کچھ تم لائے ہو یہی ہے جادو یقین جانو ! کہ خدا اس کو ابھی درہم برہم کردے گا بیشک اللہ تعالیٰ شریروں کے کام کو بننے نہیں دیتا

81 سو جب ان جادوگروں نے اس کو ڈال دیا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا جو کچھ تم بنا کر لائے ہو یہی ہے جادو یقین جانو ! کہ اللہ تعالیٰ اس کو ابھی درہم برہم کئے دیتا ہے اور اس کے بطلان کو ظاہر کئے دیتا ہے بلاشبہ اللہ تعالیٰ ایسے شریروں کے کام کو بننے نہیں دیتا یعنی یہ جادو ہے اور وہ جادو نہ تھا جس کو فرعونی جادو کہتے تھے۔
Ayah 10:82

وَ یُحِقُّ اللّٰهُ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ۠ Open ayah 10:82 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ اپنے حکم سے حق کو حق ہی کر دکھائے گا خواہ مجرم کتنا ہی برا مانا کریں

82 اور اللہ تعالیٰ اپنے حکم سے حق کو حق ہی کر دکھائے گا اور حق بات کو سچا کردے گا خواہ مجرم اور کافر کتنا ہی برا مانیں یعنی معجزے کو ثابات کردے گا اور جادو کو مٹادے گا۔
Ayah 10:83

فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوْسٰۤى اِلَّا ذُرِّیَّةٌ مِّنْ قَوْمِهٖ عَلٰى خَوْفٍ مِّنْ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهِمْ اَنْ یَّفْتِنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 10:83 in the Quran reader

بایں ہمہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر سوائے ان کی قوم کے چند نوجوانوں کے اور کوئی ایمان نہ لایا اور وہ بھی فرعون سے اپنے حکام سے ڈرتے ڈرتے کہ کہیں فرعون ان کو کسی بلا میں اور مصیبت میں مبتلا نہ کردے اور واقعہ یہ ہے کہ فرعون اس ملک میں غلبہ والا تھا اور یہ بھی واقعہ ہے کہ وہ حد سے آگے نکل جانے والوں میں سے تھا

83 بایں ہمہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ان کی قوم کے چند نوجوانوں کے سوا اور کوئی ایمان نہیں لایا وہ بھی فرعون سے اور اپنے احکام سے ڈرتے ڈرتے کہ کہیں فرعون ان کو کسی بلا اور مصیبت میں نہ ڈال دے اور کوئی تکلیف نہ پہنچا دے کیونکہ فرعون اس ملک میں زور والا اور غلبہ والا تھا اور یہ بات بھی تھی کہ وہ انصاف کی حد سے آگے نکل جانیوالوں میں سے تھا یعنی باوجود جادوگروں کی شکست کے پھر بھی بہت تھوڑے اور قدرے قلیل لوگ فرعون کے ڈر سے موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے ذریۃ کے معنی بعض نے نوجوان اور بعض نے تھوڑے سے لوگ کئے ہیں بہرحال ! فرعون ایک ظالم اور ناانصاف بادشاہ تھا اور اس کے حکام اس کو خوش کرنے کے لئے بےگناہوں کو گرفتار کرکے جھوٹے مقدموں میں اپنے مخالفوں کو پھنسایا کرتے تھے اس لئے لوگ حق بات کے اعلان اور اظہار سے ڈرتے تھے ۔
Ayah 10:84

وَ قَالَ مُوْسٰى یٰقَوْمِ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ فَعَلَیْهِ تَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَ Open ayah 10:84 in the Quran reader

اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم ! اگر تم اللہ پر ایمان لائے ہو تو اسی پر بھروسہ رکھو بشرطیکہ تم صحیح فرمانبردار ہو

84 اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم اگر تم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے ہو تو تم اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھو اور اسی پر توکل کرو بشرطیکہ تم صحیح مطیع اور فرمانبردار ہو یعنی فرعون اور اپنے حکام سے ڈرو نہیں غیر اللہ کا خوف سچے ایمان کے ساتھ جمع نہیں ہوتا۔
Ayah 10:85

فَقَالُوْا عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 10:85 in the Quran reader

اس پر انہوں نے کہا کہ ہم اللہ ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں اے ہمارے رب ہم کو اس ظالم قوم کا تختہ مشق نہ بنا

85 اس پر انہوں نے کہا ہم اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں اے ہمارے پروردگار ہم کو اس ظالم قوم کا تختہ مشق نہ بنا یعنی یہ ہم پر متواتر ظلم ڈھاتے رہیں اور ہم ان کا کچھ نہ بگاڑ سکیں اور ان کو یہ کہنے کا موقع مل جائے کہ اگر ہم حق پر نہ ہوتیت و ہم کو تم پر زورکیوں حاصل ہوتا اور اس سے ان کی گمراہی میں اور اضافہ ہوگا اور ہمارا وجود ان کے لئے موجب فتنہ ہوگا تو ان ظالموں کے لئے ہم کو فتنے اور ان کی گمراہی کا سبب نہ بنا ۔
Ayah 10:86

وَ نَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 10:86 in the Quran reader

اور اپنی رحمت سے ہم کو اس کافر قوم سے نجات دے

86 اور ہم کو اپنی رحمت اور مہربانی کے صدقے میں اس کا فرقوم سے نجات دے اور ان کافروں سے ہم کو چھڑا۔
Ayah 10:87

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰى وَ اَخِیْهِ اَنْ تَبَوَّاٰ لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُیُوْتًا وَّ اجْعَلُوْا بُیُوْتَكُمْ قِبْلَةً وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:87 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کے بھائی پر وحی بھیجی کہ تم دونوں اپنی قوم کے لئے مصر میں مکان بنائو اور تم اپنے گھروں ہی میں نماز کی جگہ بنالو اور نماز کی پابندی رکھو اور اے موسیٰ (علیہ السلام) تو ایمان والوں کو بشارت دے دے

87 اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کے بھائی ہارون (علیہ السلام) پر وحی بھیجی کہ تم دونوں قوم کے لئے مصر میں مکان تیار کر ائو اور تم اپنے انہی مکانوں اور گھروں میں نما ز کی جگہ مقرر کرلو اور نماز کی جگہ بنالو اور نماز کی پابندی رکھو اور اے موسیٰ (علیہ السلام) تم ایمان والوں کو خوشخبری سنادو یعنی جو دعا تم نے مانگی تھی اس کی قبولیت کے آثار نمایاں ہونے والے ہیں تم اپنا محلہ الگ بسا لو اور چونکہ مساجد کو فرعون نے تباہ کردیا ہے اس لئے اپنے گھروں ہی میں نماز کیلئے ایک جگہ مقرر کرلو اور وہیں نماز ادا کیا کرو اور مسلمانوں کو فرعون سے نجات کی بشارت دیدو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تمہارے جہاں گھر ہیں ان کو قائم اور برقرار رکھو اور گھروں ہی کو نماز کے اوقات میں اپنے نماز پڑھنے کی جگہ قرار دے لو نماز کیلئے مساجد میں جانا معاف کیا جاتا ہے ہوسکتا ہے کہ ان وجوہ کے علاوہ کسی اور سیاسی مصلحت سے مکانوں میں رہنے یا نئے مکان بنانے کا حکم ہوا ہو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ جب فرعون کا ہلاک ہونا نزدیک پہنچا تو حکم ہوا کہ اپنی قوم ان میں شامل نہ رکھو اپنا محلہ جدا بسائو کہ آگے ان پر آفتیں پڑتی ہیں یہ قوم آفت میں شریک نہ ہو۔
Ayah 10:88

وَ قَالَ مُوْسٰى رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَیْتَ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاَهٗ زِیْنَةً وَّ اَمْوَالًا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ رَبَّنَا لِیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِكَ١ۚ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰۤى اَمْوَالِهِمْ وَ اشْدُدْ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْا حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ Open ayah 10:88 in the Quran reader

اور موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اے میرے رب ! تو نے فرعون کو اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں بہت کچھ سامان آرائش اور طر ح طرح کے مال اس لئے دئیے ہیں کہ وہ لوگوں کو تیری راہ سے بےراہ کریں بس اب اے ہمارے پروردگار ان کے مالوں کو ملیا میٹ کر دے اور ان کے دلوں کو سخت کردے کہ یہ لوگ جب تک دردناک عذاب نہ دیکھ لیں اس وقت تک ایمان نہ لائیں

88 اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یوں دعا کی اے ہمارے پروردگار تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیوی زندگی میں بہت کچھ سامان آرائش وزینت اور طرح طرح کے اموال اس واسطے دئیے کہ وہ آپ کی راہ سے لوگوں کو بےراہ کریں۔ بس اب ہمارے پروردگار ان کے مالوں کو نیست و نابود اور ملیا میٹ کر دے اور ان کے دلوں کو سخت کردے یہ لوگ اس وقت تک ایمان نہ لائیں جب تک تیرا دردناک عذاب نہ دیکھ لیں یعنی اس زینت اور دولت کا انجام یہ ہوا کہ لوگوں کو تیری راہ سے گمراہ کردیا۔ بہر حال جو کچھ مصلحت تھی وہ پوری ہوگئی اب ان کے مالوں کو تو مٹا ڈال اور دلوں کو اور زیادہ سخت کردے تاکہ یہ ہلاکت کے زیادہ مستحق ہوجائیں اور ان کا کفر بڑھتا رہے یہاں تک کہ دردناک اور فیصلہ کن عذاب آجائے۔ حضرت شاہ صاب (رح) فرماتے ہیں ایمان کی ان سے امید نہ تھی مگر جب کچھ افٓت پڑتی تو جھوٹی زبان سے کہتے کہ اب ہم مانیں گے اس میں خدا کا عذاب تھم جاتا کام فیصل نہ ہوتا اس واسطے مانگا کہ یہ جھوٹا ایمان نہ لا دیں دل اس کا سخت رہے تاکہ عذاب پڑچکے اور کا فیصل ہو 12
Ayah 10:89

قَالَ قَدْ اُجِیْبَتْ دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِیْمَا وَ لَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِیْلَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:89 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم دونوں کی دعا قبول کرلی گئی سو تم دونوں اپنے حال پر ثابت رہو اور ا ن لوگوں کی راہ نہ چلنا جو علم سے محروم ہیں

89 اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم دونوں بھائیوں کی دعا قبول کرلی گئی سو تم دونوں اپنے حال پر ثابت رہو اور ان لوگوں کی راہ نہ چلنا جو حکمت خداوندی کا علم نہیں رکھتے یعنی ایسے جاہل ہیں کہ حضرت حق کی مصلحت اور اس کی حکمت کو جانتے ہی نہیں کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ کی دعا پر حضرت ہارون (علیہ السلام) آمین کہتے تھے اس لئے قبولیت دعا میں دونوں کو شریک کیا ثابت رہو یعنی تبلیغ کرتے رہو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی شتابی نہ کرو حکم کی راہ دیکھو 12
Ayah 10:90

وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَ جُنُوْدُهٗ بَغْیًا وَّ عَدْوًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَدْرَكَهُ الْغَرَقُ١ۙ قَالَ اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِیْۤ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْۤا اِسْرَآءِیْلَ وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 10:90 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار کردیا پھر فرعون اور اس کے لشکر نے سرکشی اور ظلم کی غرض سے ان کا تعاقب کیا یہاں تک کہ جب اس کو ڈوبنے نے آپکڑا یعنی فرعون ڈوبنے لگا تو اس نے کہا میں اس بات پر ایمان لایا کہ اس خدا کے سوا کوئی دوسرا معبود نہیں جس خدا پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں بھی فرمانبرداروں میں شامل ہوتا ہوں

90 اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے اتار دیا اور پار کردیا پھر فرعون اور اس کے لشکر نے سرکشی اور ظلم کی غرض سے گزر جانیوالوں کا تعاقب کیا یہاں تک کہ جب اس کو غرق نے اور ڈوبنے نے آلیا تو اس نے گھبرا کر کہا اس بات پر ایمان لایا کہ اس معبود کے سوا کوئی معبود نہیں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں بھی اطاعت گزاروں اور فرمانبرداروں میں شامل ہوں یعنی جب غرض کے عذاب نے آگھیرا اور عذاب کے فرشتے نظر آنے لگے تو پریشان و شراسیمہ ہوکر کہنے لگا کہ میں ایمان لایا لیکن عذاب کے فرشتے نظر آنے اور عذاب کے گھیر لینے کے بعد پھر ایمان لانا کیا اور ایمان کہاں ؟ وانی لھم التاوش من مکان بعید
Ayah 10:91

آٰلْئٰنَ وَ قَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ وَ كُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 10:91 in the Quran reader

اس کو جواب دیا گیا اب ایمان لاتا ہے حالانکہ اس سے پیشتر تو نافرمانی کرتا رہا تو بڑے مفسدوں میں سے تھا

91 اس کو جواب دیا گیا اب ایمان لاتا ہے حالانکہ اس سے پیشتر تو نافرمانی کرتا رہا اور تو بڑے مفسدوں اور شرارت کرنے والوں میں سے تھا یعنی عذاب کے معائنہ کے بعد ایمان مفید اور نافع نہیں ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یعنی سارف عمر مخالف رہا اب عذاب دیکھ کر ایمان لایا اس وقت کا یقین لانا کیا معتبر
Ayah 10:92

فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰیَةً١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ۠ Open ayah 10:92 in the Quran reader

پس آج ہم تیری لاش کو بچا لیں گے تاکہ تو اپنے سے پچھلوں کے لئے ایک عبرت آموز نشانی ہو اور واقعہ یہ ہے کہ اکثر لوگ ہماری عبرت انگیز نشانیوں سے غافل ہیں

92 لہٰذا آج ہم تیری لاش کو بچا لیں گے تاکہ اپنوں سے پچھوں کے لئے ایک عبر ت آموز نشانی ہو اور بلاشبہ اکثر لوگ ہماری عبرت انگیز نشانیوں سے غافل ہیں لوگوں کی عبرت کیلئے لاش کو بچا لیا گیا تاکہ پیچھے رہنے والوں کے لئے ایک نشانی ہو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں وہ جیسا بےوقت ایمان لایا بےفائدہ ایسا ہی اللہ نے مرگئے پیچھے اس کا بدن دریا میں سے نکال کر ٹیلے پر ڈال دیا کہ بنی اسرائیل دیکھ کر شکر کریں اور عبرت پکڑیں اس کو بدن بچنے سے کیا فائدہ 12 خلاصہ ! یہ کہ پانی میں گلنے سڑنے اور مچھلیوں کا کھا جابننے سے بچالیا لیکن جسم کے بچانے سے اس کو کوئی فائدہ نہیں کہتے ہیں کہ فرعون کی لاش اب تک مصر کے عجائب خانہ میں محفوظ ہے۔
Ayah 10:93

وَ لَقَدْ بَوَّاْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مُبَوَّاَ صِدْقٍ وَّ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْا حَتّٰى جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 10:93 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم نے بنی اسرائیل کو رہنے کے لئے ایک اچھا ٹھکانا دیا اور انہیں کھانے کو پاکیزہ چیزیں عطا کیں پھر انہوں نے اختلاف نہیں کیا یہاں تک کہ ان کے پاس صحیح علم پہونچ گیا بیشک آپ کا رب قیامت کے دن ان کے مابین ان امور کا فیصلہ کردے گا جن میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے

93 اور بلاشبہ ہم نے فرعون کو فرعون کے بعد بنی اسرائیل کو پسندیدہ اور اچھی جگہ رہنے کو ٹھکانہ دیا اور انہیں ہم نے نفیس اور عمدہ چیزیں کھانے کو عطا فرمائیں پھر انہوں نے دین میں اختلاف کرنا شروع کردیا اور یہ اختلاف بھی اس وقت شروع کیا جب ان کے پاس صحیح علم پہونچ گیا یقینا آپ کا پروردگار قیامت کے دن ان کے درمیان ان امور کا فیصلہ کردے گا جن میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے یعنی ٹھکانا دیا ملک مصر میں ملک شام میں یا دونوں میں ۔ اختلاف یا تو انبیاء کے احکام میں کیا یا خود انبیاء کے تسلیم کرنے میں کیا کہ بعض پر ایمان لائے اور بعض پر نہیں۔ جیسا کہ نبی آخر الزمان حضرت محمد ﷺ کی رسالت پر ایمان لانے سے انکار کردیا احکام کا صحیح علم آجانے کے بعد اختلاف کرنا بہت ہی قابل افسوس ہے۔ صحیح علم سے مراد توریت ہے بعض حضرات کے نزدیک اس سے مراد قرآن کریم ہے اور بعض نے اس علم سے نبی آخر الزمان حضرت محمد ﷺ کی ذات اقدس مراد لی ہے۔ واللہ اعلم حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ ملک شام دیا کہ کوئی مخالف ان کا نہ رہا 12
Ayah 10:94

فَاِنْ كُنْتَ فِیْ شَكٍّ مِّمَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ فَسْئَلِ الَّذِیْنَ یَقْرَءُوْنَ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ لَقَدْ جَآءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَۙ Open ayah 10:94 in the Quran reader

پھر اگر بالفرض آپ کو اس چیز میں جو آپ کی طرف ہم نے نازل کی ہے کچھ شبہ ہو تو آپ ان لوگوں سے پوچھ دیکھئے جو ان کتابوں کو پڑتے رہتے ہیں جو آپ سے پہلے نازل ہوئی ہیں بلاشبہ آپ کے رب کی جانب سے سچی کتاب آئی ہے تو آپ ہرگز شک کرنے والوں میں شامل نہ ہوں

94 پھر اگر بالفرض آپ کو اس چیز میں جو آپ کی طرف ہم نے نازل کی ہے کچھ شبہ ہو تو آپ ان لوگوں سے دریافت کر دیکھئے جو ان کتابوں کو پڑ تھے رہتے ہیں جو آپ سے پہلے نازل ہوئی ہیں بلاشبہ آپ کے پاس آپ کے رب کی جانب سے سچی کتاب آئی ہے لہٰذا آپ شک کرنیوالوں میں ہرگز شامل نہ ہوں یعنی اہل کتاب سے دریافت کیا جاسکتا ہے کہ اس قرآن کریم کی اور اس دین کی ان کی کتابوں میں پیشن گوئی ہے یا نہیں آپ کو شک نہیں پھر بھی شک فرمایا بطور مبالغہ اور ہوسکتا ہے کہ آپ کے واسطہ سے امت کو سنانا مقصود ہوا اور خطاب سے مقصود امت ہی ہو۔
Ayah 10:95

وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَتَكُوْنَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 10:95 in the Quran reader

اور نہ ان لوگوں میں شامل ہوں جنہوں نے خدا کی آیتوں کی تکذیب کی ورنہ آپ بھی نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوج ائیں گے

95 اور نہ آپ ان لوگوں میں شامل ہوں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیتوں کی تکذیب کی ورنہ آپ بھی نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے یعنی ایسے لوگوں سے کنارہ کش ہی رہنا بھلا ہے۔
Ayah 10:96

اِنَّ الَّذِیْنَ حَقَّتْ عَلَیْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 10:96 in the Quran reader

یقینا جن لوگوں پر آپ کے رب کا حکم ثابت ہوچکا ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے

96 یقینا جن لوگوں پر آپ کے پروردگار کا حکم عذاب ثابت ہوچکا ہے خواہ ان کے پاس تمام نشانیاں ہی کیوں نہ آجائیں وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے۔
Ayah 10:97

وَ لَوْ جَآءَتْهُمْ كُلُّ اٰیَةٍ حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ Open ayah 10:97 in the Quran reader

خواہ ان کے پاس تمام نشانیاں ہی کیوں نہ آجائیں جب تک درد ناک عذاب کو نہ دیکھ لیں گے

97 جب تک درد ناک عذاب کو نہ دیکھ لیں گے یعنی جن لوگوں کے متعلق یہ بات ازل میں طے ہوچکی کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے وہ تمام نشانیوں کا معائنہ کرنے کے باوجود بھی ایمان نہیں لائیں گے تاوقتیکہ درد ناک عذاب کو نہ دیکھ لیں۔ ظاہر ہے کہ معائنہ عذاب کے بعد ایمان مقبول نہیں یا علم ازلی کی یہ بات کہ شیطان اور اس کے متبعین سے دوزخ کو بھر دوں گا یہ کہ جن پر حکم عذاب ثابت ہوچکا ہے ان کا احوال مذکور ہو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ٹھیک آئی بات یعنی ابلیس کو جو فرمایا تھا کہ تجھ کو اور تیرے ساتھیوں کو دوزخ میں بھر دوں گا 12
Ayah 10:98

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَ١ؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 10:98 in the Quran reader

چناچہ کوئی بستی ایسی نہیں ہوئی کہ مشاہدہ عذاب کے وقت اس کے لوگ ایمان لاتے اور ایمان کو نفع دیتا مگر ہاں یونس (علیہ السلام) کی قوم کہ جب وہ لوگ ایمان لائے تو ہم نے دنیا کی زندگی میں ان پر سے رسوائی کے عذاب کو اٹھا لیا اور ایک مدت تک ان کو سود مند رکھا

98 چناچہ کوئی بستی ایسی نہیں ہوئی کہ معائنہ عذاب کے وقت اس کے لوگ ایمان لاتے اور ان کو ان کا ایمان لانا نفع دیتا اور نافع ہوتا مگر ہاں ! یونس (علیہ السلام) کی قوم کہ جب وہ لوگ ایمان لائے تو ہم نے دنیوی زندگی میں ان پر سے رسوائی کے عذاب کو ہٹا یا اور عذاب کو ٹال دیا اور ایک مدت تک ان کو عیش سے بہرہ ور رکھا۔ یعنی فائدہ یہی ہے کہ عذاب آنے کے بعد ٹلتا نہیں اور اس وقت ایمان لانا مفید نہیں ہوتا مگر یونس (علیہ السلام) کی قوم کے ساتھ یہ سلوک نہیں کیا گیا بلکہ عذاب ان پر سے کھول دیا گیا اور ان کو م رتے دم تک سود مند رکھا حضرت یونس (علیہ السلام) نے جوان کو وعدہ دیا تھا اس میں کچھ غلطی ہوگئی تھی اس قانونی سقم کی وجہ سے ان کا ایمان مقبول ہوگیا۔ کہتے ہیں آثار عذاب دیکھ کر یہ لوگ گھبرائے ہوئے ایک پرانے عالم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس عذاب سے بچنے کا علاج دریافت کیا اس عالم نے ان کو چند کلمات تعلیم کئے قوم نے ان کو پڑھا اور ان کلمات کی برکت سے محفوظ رہے وہ کلمات یہ ہیں یاحی حین لاحی ویا حی محی الموتی ویا حی لا الہ الا انت حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی دنیا میں عذاب دیکھ کر یقین لانا کسی کو کام نہیں آیا مگر قوم یونس (علیہ السلام) کو اس واسطے کہ ان پر حکم عذاب نہیں پہنچا تھا حضر ت یونس (علیہ السلام) کی شتابی سے صورت عذاب کی نمودار ہوئی تھی وے ایمان لائے پھر بچ گئے اسی طرح مکہ کے لوگ کہ فتح مکہ میں ان پر فوج اسلام پہنچی قتل و غارت کو لیکن ان کا ایمان قبول ہوگیا اور امان ملی 12
Ayah 10:99

وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِیْعًا١ؕ اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:99 in the Quran reader

اور اگر آپ کا رب چاہتا تو جتنے لوگ زمین میں ہیں سب کے سب ایمان لے آتے تو کیا آپ لوگوں کو اس با ت پر مجبور کریں گے کہ وہ مسلمان ہوجائیں

99 اور اگر آپ کا رب چاہتا اور اس کو منظور ہوتا تو جتنے لوگ زمین میں ہیں سب کے سب ایمان لے آتے تو کیا آپ لوگوں پر زبردستی کرکے ان کو مجبور کریں گے کہ وہ ایمان ہی لے آئیں اور وہ مسلمان ہوجائیں یعنی یہ بات مشیت کے تعلق سے ہوتی ہے اس میں زور زبردستی کا کام نہیں۔
Ayah 10:100

وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تُؤْمِنَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ یَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:100 in the Quran reader

حالانکہ کسی شخص کا ایمان لانا بغیر حکم خدا کے ممکن نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ ان ہی لوگوں کو کفر کی گندگی میں مبتلا رکھتا ہے جو عقل سے صحیح کام نہیں لیتے

100 حالانکہ کسی شخص کو بغیر حکم خداوندی اور اس کی مشیت کے ایمان لانا ممکن نہیں اور اللہ تعالیٰ ان ہی لوگوں پر کفر کی گندگی واقع کردیتا ہے اور ان ہی کو کفر کی گندگی میں مبتلا رکھتا ہے جو عقل سے سوچنے سمجھنے کا کام نہیں لیتے یعنی جب تک کسی کے ایمان سے مشیت متعلق نہ ہو ایمان نصیب نہیں ہوتا اور وہی لوگ محروم رہتے ہیں جو بےعقل ہیں اور عقل سے کام نہیں لیتے۔
Ayah 10:101

قُلِ انْظُرُوْا مَا ذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا تُغْنِی الْاٰیٰتُ وَ النُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 10:101 in the Quran reader

اے پیغمبر آپ فرمائیے ذرا اس پر تو غور کرو کہ کیا کیا چیزیں ہیں آسمانوں میں اور زمین میں اور جو لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں ان کو نہ دلائل کچھ سود مند ہوتے ہیں اور نہ ڈرانے والے۔

101 اے پیغمبر ! آپ ان سے فرما ئیے کہ تم ذرا غور کرو اور دیکھو کہ کیا چیزیں ہیں آسمانوں میں اور زمین میں اور جو لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں ان کو نہ دلائل کچھ فائدہ پہونچا تے ہیں اور نہ ڈرانے والے یعنی آسمان و زمین میں قدرت کی نشانیاں بھری ہوئی ہیں ذرا غور و فکر کی ضرورت ہے۔
Ayah 10:102

فَهَلْ یَنْتَظِرُوْنَ اِلَّا مِثْلَ اَیَّامِ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ قُلْ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ Open ayah 10:102 in the Quran reader

سو کیا اب یہ لوگ صرف اس قسم کے واقعات کا انتظار کر رہے ہیں جیسے واقعات ان سے پہلوں پر گزر چکے ہیں آپ کہہ دیجئے اچھا تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں

102 سو سو کیا یہ لوگ اس قسم کے واقعات کا انتظار کر رہے ہیں جس قسم کے واقعات ان سے پہلو پر گزر چکے ہیں آپ کہہ دیجئے اچھا تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں یعنی ان کی غفلت اور بےپروائی سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھی صرف ان ہی باتوں کا انتظار کر رہے ہیں جن سے پہلے لوگوں کو سابقہ پڑچکا ہے اچھا اگر یہ بات ہے تو وہ بھی انتظار کریں اور آپ بھی انتظار کرتے رہیں۔
Ayah 10:103

ثُمَّ نُنَجِّیْ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كَذٰلِكَ١ۚ حَقًّا عَلَیْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 10:103 in the Quran reader

پھر ہم اپنے رسولوں کو اور ایمان والوں کو بچا لیتے تھے اسی طرح ہم سب ایمان والوں کو بچا لیا کرتے ہیں یہ حسب وعدہ ہمارے ذمہ ہے

103 پھر ہم اس عذاب سے اپنے پیغمبروں کو اور ایمان والوں کو بچا لیتے تھے ہم اسی طرح سب ایمان والوں کو نجات دیدیا کرتے ہیں اور بچا لیا کرتے ہیں یہ باس حسب وعدہ ہمارے ذمہ پر ہے یعنی جس طرح پہلوں کے وقت میں رسول اور مسلمان بچ جایا کرتے تھے اسی طرح ہم مسلمانوں کو نجات دیدیا کرتے ہیں یہ ایمان والوں کو نجات دینا ہمارے ذمہ پر ہے۔
Ayah 10:104

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ دِیْنِیْ فَلَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ اَعْبُدُ اللّٰهَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ١ۖۚ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 10:104 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے اے لوگو ! اگر تم میرے دین کی طرف سے کچھ شبہ میں ہو تو میرا دین یہ ہے کہ میں ان معبودوں میں سے کسی کی بھی عبادت نہیں کرتا جن کی تم خدا کے سوا عبادت کیا کرتے ہو بلکہ میں تو اس خدا کی عبادت کرتا ہوں جو تمہاری جانوں کو قبض کرتا ہے اور مجھ کو تو یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں ایمان لانے والوں میں سے ہوں۔

104 آپ اے پیغمبر ان سے کہہ دیجئے کہ اگر تم میرے دین کی طرف سے کچھ شک و سبہ میں ہو تو سن لو ! میرا دین یہ ہے کہ میں ان معبودوں میں سے کسی کی بھی عبادت نہیں کرتا جن کی تم خدا کے سوا بندگی کرتے ہو اور خدا کو چھوڑ کر جن کی تم عبادت کرتے ہو بلکہ میں تو اس اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہوں جو تمہاری جانوں کو مرتے وقت کھینچ لیتا ہے اور قبض کرتا ہے اور مجھ کو منجانب اللہ پر حکم دیا گیا ہے کہ میں اس پر ایمان لانے والوں میں سے ہوں یعنی ان کے سامنے اپنے دین کی تفصیل بیان کردو تاکہ آپ کی طرف سے کوئی شبہ باقی نہ رہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کھینچ لیتا ہے یعنی موت دیتا ہے یہ صفت سب لوگ اللہ کی سمجھتے ہیں اس واسطے یہ بتادیا 12
Ayah 10:105

وَ اَنْ اَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا١ۚ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 10:105 in the Quran reader

اور نیز یہ حکم ہوا ہے کہ سب طریقوں سے یکسو ہوکر اپنے آپ کو اس دین یعنی اسلام پر مضبوطی سے قائم رکھو اور تم مشرکوں میں سے ہرگز نہ ہونا

105 اور نیز مجھ کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ سب طریقوں سے یکسو ہوکر اپنے آپ کو اس دین اسلام پر مضبوطی سے قائم رکھو اور اپنے آپ کو اس دین کی طرف اس طرح متوجہ رکھو کہ اور سب طریقوں سے علیحدہ ہوجائو اور مجھ کو یہ حکم ہوا ہے کہ تم مشرکوں میں سے ہرگز نہ ہونا یعنی شرک کبھی نہ کرنا حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حنیف نام ہے ابراہیم (علیہ السلام) کے دین والوں کا اور عرب شرک کرتے اور آپ کو حنیف کہتے جاتے 12
Ayah 10:106

وَ لَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكَ وَ لَا یَضُرُّكَ١ۚ فَاِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّكَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 10:106 in the Quran reader

اور نیز یہ کہ خدا کو چھوڑ کر کسی ایسی چیز کو نہ پکارنا جو تم کو نہ نفع پہونچا سکتی ہو اور نہ نقصان پہونچا سکتی ہو پھر اگر آپ نے بالفرض ایسا کیا تو اس وقت آپ بھی بےانصافوں میں سے شمار ہوں گے

106 اور نیز مجھ کو یہ حکم ہوا ہے کہ خدا کو چھوڑ کر کسی ایسی چیز کو نہ پکارنا جو تم کو نہ نفع پہونچا سکے اور نہ تم کو نقصان پہونچا سکے پھر اگر بالفرض تم نے ایسا کیا تو اس وقت تم بھی نا انصافوں میں شمار ہوجائو گے۔ اور تم اللہ تعالیٰ کا حق ضائع کرنے والوں میں سے ہوگے یعنی ان کی عبادت کرو تو نفع ان کے اختیار میں نہیں اور ان کی عبادت چھوڑدو تو نقصان ان کے بس میں نہیں پھر اگر اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ایسے اپاہج اور بےبسوں کو پوجو گے تو یقینا ظالم قرار پائو گے۔
Ayah 10:107

وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ١ۚ وَ اِنْ یُّرِدْكَ بِخَیْرٍ فَلَا رَآدَّ لِفَضْلِهٖ١ؕ یُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 10:107 in the Quran reader

اور اگر اللہ تجھ کو کوئی ضرر پہونچائے تو اس ضرر کو سوائے اس کے کوئی دور کرنے والا نہیں اور اگر وہ تجھ کو کسی نفع سے بہرہ مند کرنا چاہے تو اس کے فضل کو کوئی واپس کرنے والا نہیں وہ اپنا فضل اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے پہونچاتا ہے اور وہ بڑی مغفرت کرنے والا نہایت مہربان ہے

107 اور اگر اللہ تعالیٰ تم کو کوئی ضرر اور تکلیف پہونچائے تو اس تکلیف کو اس کے سوا کوئی دور کرنے والا اور ہٹانے والا نہیں ہے اور اگر وہ تم کو کوئی نفع اور راحت پہونچائے تو اس کے فضل کو کوئی لوٹانے والا اور واپس کرنے والا نہیں وہ اپنا فضل اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے پہونچاتا ہے اور وہ بڑی مغفرت اور بڑی مہربانی کرنے والا ہے یعنی نفع نقصان کا سوائے اس کے کوئی مالک نہیں پھر اس کو چھوڑ کر دوسروں کی بندگی کرنا جہالت نہیں تو اور کیا ہے وہ صاحب مغفرت و رحمت اور صاحب فضل ہے۔
Ayah 10:108

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ۚ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِوَكِیْلٍؕ Open ayah 10:108 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو بلاشبہ تمہارے رب کی جانب سے تم کو حق بات پہونچ چکی سو اب جو شخص صحیح راہ اختیار کرتا ہے تو وہ اپنے ہی بھلے کو اختیار کرتا ہے اور جو گمراہی اختیار کرتا ہے تو وہ گمراہ ہوتا ہے اپنے ہی بُرے کو اور میں تم پر مختار کار مقرر ن ہیں ہوا ہوں

108 اے پیغمبر آپ افراد انسانی سے کہہ دیجئے اے لوگو یقینا ًتمہارے پروردگار کی جانب سے تمہارے پاس دین حق پہونچ چکا اور سچی بات آ پہونچی سو اب جو شخص صحیح اور سیدھی راہ اختیار کرتا ہے تو وہ اپنے ہی بھلے اور اپنے ہی نفع کے واسطے اختیار کرتا ہے اور جو شخص اب بھی بےراہ رہتا ہے اور گمراہی اختیار کرتا ہے تو وہ اپنے ہی برے کو بھٹکا پھرے گا وہ اپنے ہی نقصان کو گمراہ اور بےراہ رہے گا اور میں تم پر کوئی مختار کار نہیں مقرر ہوا ہوں یعنی حق بات کو قبول کرنیوالا کا بھلا اور بےراہی میں گمراہوں پر ہی وبال پڑتا ہے مجھے کوئی ذمہ دارانہ تسلط تم پر حاصل نہیں ہے کہ میں تمہیں جبرو اکراہ کے ساتھ غلط راہ سے باز رکھ سکوں۔
Ayah 10:109

وَ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ اصْبِرْ حَتّٰى یَحْكُمَ اللّٰهُ١ۖۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ۠ Open ayah 10:109 in the Quran reader

اور اے پیغمبر آپ کی طرف جو حکم بھیجا جائے آپ اس کا اتباع کیجئے اور صبر کرتے رہیے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ فیصلہ کردے اور وہی سب فیصلہ کرنے والوں میں بہترین فیصلہ کرنیوالا ہے

109 اور اے پیغمبر آپ کی جانب جو حکم بھیجا جائے اور آپ کی طرف جو وحی بھیجی جائے آپ اس کا اتباع اور پیروی کیجئے اور صبرو برداشت کرتے رہیے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کا فیصلہ کردے اور وہ سب فیصلہ کرنے والوں میں بہتر اور اچھا فیصلہ کرنے والا ہے فیصلہ کردے یعنی دنیا میں تباہی یا آخرت میں عذاب