19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 19:81

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لِّیَكُوْنُوْا لَهُمْ عِزًّاۙ Open ayah 19:81 in the Quran reader

اور ان مشرکوں نے خدا کو چھوڑ کر اور معبود بنا رکھے ہیں تاکہ وہ معبود ان کے لئے موجب عزت و مدد ہوں۔

-8 1 اور ان دین حق کے منکروں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اور معبود بنا رکھے ہیں تاکہ وہ باطل معبود ان کے لئے باعث عزت اور موجب مدد ہوں۔
Ayah 19:82

كَلَّا١ؕ سَیَكْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِهِمْ وَ یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِمْ ضِدًّا۠ Open ayah 19:82 in the Quran reader

ہرگز ایسا نہیں ہوگا بلکہ وہ معبود تو ان مشرکوں کی عبادت ہی سے انکار کردیں گے اور وہ ان کے دشمن ہوجائیں گے۔

-82 ایسا ہرگز نہیں ہوگا بلکہ وہ معبود تو قیامت میں ان مشرکوں کی عبادت ہی سے انکار کردیں گے۔ اور وہ معبودان باطلہ ان مشرکوں کے مخالف اور دشمن ہوجائیں گے۔ یعنی جن کی پرستش کیا کرتے تھے وہ مدد تو کیا خاک کرتے اور عزت تو کیا نصیب ہوتی ان کے طرز عمل سے اور ذلت و روسائی ہو گیوہ ان کی پرستش کا ہی انکار کریں گے کہ ہم تو ان کو جانتے بھی نہیں کیسی عبادت ان کنا عن عبادتکم لغافلین اور مزید برآں وہ ان مشرکوں سے لڑنے کو تیار ہوجائیں گے اور ان کے دشمن اور سخت مخالف ہوجائیں گے۔ واذا حشر الناس کانوا لھم اعداء وکانوا بعبادتھم کافرین غیروں کی عبادت کا ان مشرکوں کو یہ صلہ ملے گا کہ جن سے عزت و نصرت کی امید باندھی تھی وہی موجب ذلت اور موجب شکست ہوں گے۔
Ayah 19:83

اَلَمْ تَرَ اَنَّاۤ اَرْسَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ تَؤُزُّهُمْ اَزًّاۙ Open ayah 19:83 in the Quran reader

اے پیغمبر کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ہم نے کافروں پر شیطان کو چھوڑ رکھا ہے جو ان کافروں کو خوب ابھارتے رہتے ہیں۔

-83 اے پیغمبر کیا آپ کو م علوم نہیں کہ ہم نے شیاطین کو ان کافروں پر چھوڑ رکھا ہے جو ان کو خوب اکساتے رہتے ہیں۔ یعنی اے پیغمبر آپ ان منکروں کی حرکات ناشائستہ سے متاثر نہ ہوں کیونکہ یہ مخالف قوتوں کے ہاتھ میں کھیل رہے ہیں شیاطین جو ان کے صریح دشمن ہیں اور ان کو اچھالتے اور اکساتے رہتے ہیں اور یہ ان کے کہنے میں آ کر دین حق کی مخالفت کیا کرتے ہیں تو جن کی یہ حالت ہو کہ وہ اپنے اختیار سے دشمنوں کے آلہ کار بن رہے ہوں ان کی حرکتا شنیعہ سے آپ کیوں متاثر ہوں۔
Ayah 19:84

فَلَا تَعْجَلْ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّمَا نَعُدُّ لَهُمْ عَدًّاۚ Open ayah 19:84 in the Quran reader

سو آپ کافروں کے لئے عذاب میں جلدی نہ کیجیے ہم ان کی باتوں کو خوب شمار کر رہے ہیں۔

-84 سو آپ ان کافروں کے لئے عذاب میں جلدی نہ کیجیے اور تعجیل سے کام نہ لیجیے ہم ان کے اعمال بد کو خوب شمار کرتے رہتے ہیں۔ یعنی ہم نے اپنی حکمت بالغہ سے ان کو ڈھیل دے رکھی ہے اور ا ن کی زندگی کے دن پورے کئے جا رہے ہیں اور ان کا ایک عمل ہمارے ہاں گنا جا رہا ہے ان گناہوں کی تعداد جن سے یہ سزا کے مستحق ہوتے ہیں وہ پوری ہوجائے گی تو خود ہی عذاب آجائے گا۔
Ayah 19:85

یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیْنَ اِلَى الرَّحْمٰنِ وَفْدًاۙ Open ayah 19:85 in the Quran reader

وہ دن قابل ذکر ہے جس دن ہم پرہیز گاروں کو رحمان کی حضور میں بحیثیت مہمان کے جمع کریں گے۔

-85 یہ عذاب اس دن ہوگا جس دن ہم متقیوں اور پرہیز گاروں کو رحمان کے حضور میں بحیثیت مہمان کے جمع کریں گے۔
Ayah 19:86

وَّ نَسُوْقُ الْمُجْرِمِیْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ وِرْدًاۘ Open ayah 19:86 in the Quran reader

اور مجرموں کو سخت پیاس کی حلات میں جہنم کی طرف ہانک لے جائیں گے۔

-86 اور مجرموں کو جہنم کی طرف پیاسا اور پیاس کی حالت میں ہنکاتے ہوئے لے جائیں گے۔
Ayah 19:87

لَا یَمْلِكُوْنَ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًاۘ Open ayah 19:87 in the Quran reader

اس دن سوائے اس شخص کے کہ جس نے رحمان کے پاس سے کوئی اجازت حاصل کرلی ہو کسی کو سفارش کرنے کا اختیار نہ ہوگا۔

-87 اس دن کسی کو سفارش کا اختیار نہ ہوگا مگر ہاں جس نے رحمان سے کوئی وعدہ اور اجازت حاصل کرلی ہو۔ یعنی جس گرفت اور عذاب کے جلدی کرنے سے پیغمب رکو منع کیا گیا ہے اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ گنتی پوری ہونے کے بعد جس دن وہ عذاب آئے گا تو اس دن حالت یہ ہوگی کہ تقوے کے پابند لوگوں کو جنت جو رحمان کی طرف سے اہل تقویٰ کے لئے مقرر کی گئی ہے اس کی طرف باعزت طریقہ سے بطور مہمان اکٹھا کر کے ہم لے جائیں گے اور جرائم پیشہ دین حق کے مجرموں کو ہانکتے ہوئے پیاسا جہنم کے گھاٹ جا اتاریں گے یعنی جس طرح ڈھور ڈنگروں کو ہنکاتے ہوئے لے جاتے ہیں اسی طرح ان منکروں کو ہانکتے ہوئے لے جائیں گے اسی دن کسی کو کسی کی سفارش کا اختیار بھی نہ ہوگا بجز ان حضرات کے جن کو رحمان کی جانب سے اجازت ہو اور انہوں نے رحمان سے وعدہ حاصل کرلیا ہوگا۔ جیسے ملائکہ ابنیاء صلحاء اور علماء یہ لوگ حسب اجازت صرف مومنین کے شفیع ہوں گے اہل انکار اور اہل کفر کا کوئی شفیع نہ ہوگا اور دین حق کے منکر شفاعت سے محروم ہوں گے ۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی اللہ نے جس کو وعدہ دیا ہے وہی سفارش کرے گا۔ 12
Ayah 19:88

وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًاؕ Open ayah 19:88 in the Quran reader

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ رحمان اولاد رکھتا ہے

-88 اور یہ منکر کہتے ہیں کہ رحمان اولاد رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اولاد اختیار کر رکھی ہے۔ یعنی حضرت حق تعالیٰ سے بیٹا اور بیٹیوں کی نسبت کرتے ہیں جیسے نصاریٰ اور یہود کے بعض فرقے اور کفار عرب کے بعض لوگ۔
Ayah 19:89

لَقَدْ جِئْتُمْ شَیْئًا اِدًّاۙ Open ayah 19:89 in the Quran reader

بلاشبہ تم نے یہ ایک ایسی سخت نامعقول بات گھڑی ہے

-89 بلاشبہ تم نے یہ ایک سخت نامعقول اور بھاری بات گھڑی ہے اور تم ایک ایسی بھاری چیز میں آگئے ہو۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی بھاری گناہ 12 مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف اولاد کی نسبت ایک ایسا بھاری گناہ ہے جس کے نیچے تم اد بےہو اور آپھنسے ہو کہ ایعاذ باللہ۔
Ayah 19:90

تَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَ تَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَ تَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّاۙ Open ayah 19:90 in the Quran reader

قریب ہے کہ اس بات سے آسمان پھٹ پڑیں ار زمین شق ہو کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے اور پہاڑ پارہ پارہ ہو کر گرپڑیں

-90 قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑیں اور زمین شق ہوجائے اور زمین کے ٹکڑے اڑ جائیں اور پہاڑ پارہ پارہ ہو کر گرپڑیں۔ یعنی اس بات سے غضب الٰہی حرکت میں آجائے اور تمام کائنات کے ٹکڑے ٹکڑے اڑا کر رکھ دے یا عذاب اکبر یعنی قیامت آجائے اور سارا عالم درہم برہم ہوجائے۔
Ayah 19:91

اَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمٰنِ وَلَدًاۚ Open ayah 19:91 in the Quran reader

اس بنا پر کہ یہ لوگ رحمان کی طرف اولاد کی نسبت کرتے ہیں

-9 1 اس بات سے کہ یہ منکر رحمان کی جانب اولاد کی نسبت کرتے ہیں۔ یعنی اللہ کے لئے احتیاج ثابت کرنے سے بڑھ کر اور کیا گناہ ہوسکتا ہے۔
Ayah 19:92

وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لِلرَّحْمٰنِ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًاؕ Open ayah 19:92 in the Quran reader

حالانکہ رحمان کی یہ شان نہیں کہ وہ اولاد اختیار کرے

-92 حالانکہ رحمان کو یہ لائق نہیں اور اس کی یہ شان نہیں کہ وہ اولاد اختیار کرے اور وہ اولاد رکھے۔
Ayah 19:93

اِنْ كُلُّ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اِلَّاۤ اٰتِی الرَّحْمٰنِ عَبْدًاؕ Open ayah 19:93 in the Quran reader

کوئی شخص بھی آسمانوں میں اور زمین میں نہیں ہے مگر یہ کہ وہ رحمان کے حضور میں بطور ایک بندے کے حاضر ہوگا۔

-93 کوئی نہیں آسمانوں میں اور زمین میں مگر یہ کہ رحمان کے حضور حاضر ہوں گے بندہ بن کر ۔ یعنی تمام مخلوقات اس کے پاس بندہ اور غلام بن کر حاضر ہوگی اور جب تمام مخلوقات غلام اور بندہ ہوئی تو بندہ بیٹا بیٹی کس طرح ہوسکتا ہے۔
Ayah 19:94

لَقَدْ اَحْصٰىهُمْ وَ عَدَّهُمْ عَدًّاؕ Open ayah 19:94 in the Quran reader

بیشک خدا نے ان سب لوگوں کا احاطہ کر رکھا ہے اور ان سب کی پوری پوری گنتی گن رکھی ہے

-94 بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے علم وقدرت نے ان سب کا احاطہ کر رکھا ہے اور ان سب کی پوری پوری گنتی کر رکھی ہے یعنی کوئی اس کی معلومات اور اس کے شمارے خارج نہیں ہے۔
Ayah 19:95

وَ كُلُّهُمْ اٰتِیْهِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فَرْدًا Open ayah 19:95 in the Quran reader

اور ہر ایک ان میں سے قیاتم کے دن خدا کے حضور میں فرداً فرداً حاضر ہوگا۔

-95 اور قیامت کے دن ان میں سے ہر ایک اللہ تعالیٰ کے پاس فرداً فرداً اور تنہا تنہا حاضر ہوگا۔ یعنی جب سب کے سب اس کے محتاج ہیں تو اس کی اولاد ہو اور پھر محتاج ہو کہاں قدرت و علم کی وسعت اور کہاں افتقار وانقیاد جو خود غلام اور مطیع و منقاد ہو بھلا وہ خدا تعالیٰ کا بیٹا ہوسکتا ہے۔
Ayah 19:96

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا Open ayah 19:96 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے تو رحمان ان کے لئے محبت پیدا کرے گا۔

-96 بلاشبہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے اور نیک عمل کے پابند رہے تو رحمان ان کے لئے محبت پیدا کر دے گا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی ان سے محبت کرے گا یا ان کے دل میں اپنی محبت پیدا کرے گا یا خلق کے دل میں ان کی محبت ڈالے گا۔ 12 خلاصہ ! یہ کہ جو لوگ ایمان کے ساتھ اعمال صالحہ کی پابندی کرتے ہیں ان کو علاوہ بیشمار نعمتوں کے یہ بہت بڑی نعمت عطا کی جاتی ہے کہ ان کے ساتھ محبوبیت کا سلوک اور برتائوہوتا ہے یہ مرتبہ بہت بلند ہے۔
Ayah 19:97

فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِیْنَ وَ تُنْذِرَ بِهٖ قَوْمًا لُّدًّا Open ayah 19:97 in the Quran reader

سو اے پیغمبر ہم نے اس قرآن کریم کو آپ کی زبان میں اس لئے اسٓان کیا ہے تاکہ آپ اس کی وجہ سے پرہیز گاروں کو خوشی سنائیں اور اس کے ذریعہ ان لوگوں کو ڈرائیں جو جھگڑالو اور معاند ہیں۔

-97 سو اے پیغمبر ! ہم نے اس قرآن کریم کو آپ کی زبان میں اس لئے آسان کیا ہے تاکہ آپ اس کی وجہ سے متقیوں کو اور خدا سے ڈرنے والوں کو خوشخبری دے دیں اور خوشی سنا دیں اور اس قرآن کریم کے ذریعہ جھگڑالو اور جھگڑا کرنے والوں کو ڈرا دیں۔ یعنی قرآن کریم کو آپ کی زبان عربی میں اس لئے آسان کیا ہے تاکہ جو نیک لوگ بشارت کے مستحق ہیں ان کو بشارت سنا دیجیے اور جو جھگڑالو اور معاند ہیں ان کو عذاب الٰہی سے ڈرا دیجیے۔
Ayah 19:98

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ١ؕ هَلْ تُحِسُّ مِنْهُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزًا۠ Open ayah 19:98 in the Quran reader

اور ہم ان معاندین سے قبل بہت سی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں بھلا کیا آپ ان ہلاک شدگان میں سی کسی کو دیکھتے ہیں یا آپ ان میں سے کسی کی ہلکی سی آواز بھی سنتے ہیں۔

-98 اور ہم ان سے پہلے بہت سی قوموں اور گروہوں کو تباہ ہلاک کرچکے ہیں سو کیا اے پیغمبر آپ ان ہلاک شدگان میں سے کسی کو دیکھتے اور کسی کی آہٹ پاتے ہیں یا آپ ان میں سے کسی کی ہلکی سی آواز اور بھننگ بھی سنتے ہیں۔ یعنی ایک ڈرانے کا طریقہ یہ بھی ہے کہ سرکش اور معاند قوموں کا انجام ان کو بتائو تاکہ یہ ان تباہ شدہ قوموں کے حالات سن کر عبرت پکڑیں جن کی نہ آج کوئی آواز ہے نہ کوئی آہٹ نہ وہ دیکھنے میں آتے ہیں اور نہ ان کی کوئی آواز سنائی دیتی ہو خواہ وہ آواز کتنی ہی ہلکی اور پست ہو۔ تم تفسیر سورة مریم