Ayah 19:41-4 1 اور اے پیغمبر اس قرآن کریم میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا بھی ذکر کیجیے بلاشبہ وہ بڑا سچا اور نبی تھا۔ یعنی توحید و رسالت کے سلسلہ میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا بھی واقعہ بیان کیجیے چونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ذات گرامی تمام قوموں میں مسلم تھی۔ کفار مکہ تو آپ کی اولاد ہی میں تھے اہل کتاب بھی آپ کی عظمت اور بزرگی کے قائل تھے اس لئے توحید اور رسالت کے بارے میں ان کے واقعہ کو بڑا دخل ہے اور چونکہ صدیقیت کو نبوت مستلزم نہیں جیسے حضرت مریم کو فرمایا وامہ صدیقہ لیکن سب جانتے ہیں کہ حضرت مریم نبیہ نہیں تھیں اس لئے یہ ضروری نہیں کہ جو صدیق ہو وہ نبی بھی ہو۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) صدیق بھی تھے اور نبی بھی تھے اور حدیث ثلاث کذبات اس آیت کے منافی نہیں کیونکہ وہاں کذبات کے وہ معنی نیں ہیں جو بظاہر سمجھے جاتے ہیں۔
Ayah 19:42-42 واقعہ ابراہیمی میں وہ وقت قابل ذکر ہے جبکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ سے کہا اے میرے باپ تو ایسی چیز کی عبادت اور بندگی کیوں کرتا ہے جو سن سکتی ہے اور نہ دیکھ سکتی ہے اور نہ وہ تیرے کچھ کام آسکتی ہے۔ یعنی نہ سننے کی طاقت نہ دیکھنے کی طاقت اور نہ برے وقت کام آنے کی صلاحیت تو اللہ رب العزت کی موجودگی میں اگرچہ چیزیں کچھ نافع ہوتیں تب بھی قابل پرستش نہ تھیں چہ جائیکہ جب ان میں کسی کی صلاحیت اور اہلیت بھی نہ ہو تو ان مورتیوں کا پوجنا سوائے حماقت کے اور کیا ہے۔
Ayah 19:43-43 اے میرے باپ ! بلاشبہ میرے پاس وہ علم پہونچا ہے جو تیرے پاس نہیں آیا اور تجھ کو نہیں دیا گیا لہٰذا تو میری اتباع اور پیروی کر اور میرے کہنے پر چل میں سیدھی راہ کی طرف تیری رہنمائی کروں گا اور میں تجھ کو سیدھی راہ دکھائوں گا۔ یعنی میری معلومات کا ذریعہ وحی الٰہی ہے جس میں غلطی کا امکان نہیں اور تو اللہ تعالیٰ کی وحی سے محروم ہے لہٰذا تو میرا کہا مان تاکہ تو صحیح راہ پا سکے اور غلط اور گمراہی کی راہ سے بچ جائے۔
Ayah 19:44-44 اے میرے باپ ! تو شیطان کی عبادت اور پرستش نہ کر کیونکہ شیطان تو رحمٰن کا نافرمان ہے۔ بتوں کے پجاری شیطان کے پجاری ہیں جو شیطان کی بات اور اس کے کہنے کو مانتے ہیں اور خدا کے احکام کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔
Ayah 19:45-45 اے میرے باپ ! مجھے اس بات کا اندیشہ ہے اور میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ کہیں تجھ کو رحمان کی طرف سے کوئی عذاب آپکڑے اور تو شیطان کا ہمیشہ کے لئے ساتھی ہوجائے۔ یعنی کفر پر قائم رہے اور عذاب نازل ہونے کے وقت خواہ وہ عذاب دنیوی ہو یا آخرت کا عذاب ہو تو شیطان کا ہمیشہ کے لئے ساتھی بن جائے اور جو حشر اس کا ہو وہی تیرا ہو ۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی کفر کے وبال سے کچھ آفت آوے اور تو مدد مانگنے لگے ۔ شیطان سے یعنی بتوں سے اکثر لوگ ایسے ہی وقت شرک کرتے ہیں۔ 12
Ayah 19:46-46 یہ تمام باتیں سن کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ نے جواب دیا اے ابراہیم (علیہ السلام) کیا تو میرے معبودوں سے پھرا ہوا ہے اور کیا تو میرے معبودوں سے روگردانی کرنے والا ہے اگر تو اپنی اس حرکت اور اپنے ان خیالات فاسدہ سے باز نہ آیا تو یقینا میں تجھ کو سنگسار کر دوں گا اور پتھر مارتے مارتے تجھ کو مار ڈالوں گا پس تو باز آ جا اور مجھ کو ایک طویل مدت یعنی ہمیشہ کے لئے چھوڑ دے اور تو ہمیشہ کے لئے میرے سامنے سے دور ہوجا۔ یعنی ابراہیم (علیہ السلام) کا باپ جو اپنے شرک میں خالی اور سخت تھا بجائے ابراہیم (علیہ السلام) کی بات ماننے کے الٹا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ڈانٹنے لگا اور اس کو قتل کی دھمکی دینے لگا اور اس نے کہا مجھ کو کچھ کہنے سننے سے ہمیشہ کے لئے الگ ہو جائو حضرت ابراہیم علیہالسلام نے جب اس کی یہ حالت دیکھی تو کنارہ کشی کو اختیار کیا۔
Ayah 19:47-47 حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا اچھا تجھ پر میرا سلام ہو اور میرا سلام لو میں جاتا ہوں لیکن میں تیرے لئے بخشش کی دعا کرتا رہوں گا اور تیرے لئے اپنے پروردگار ہے بخشش طلب کرتا رہوں گا بلاشبہ وہ مجھ پر بڑا مہربان ہے۔ یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ متارکت کا سلام کیا جیسے عام محاورہ ہے کہ تم نہیں مانتے تو اچھا میرا سلام سورة قصص میں آئے گا۔ سلام علیکم ل انبتغی الجاھلین پس یہ سلام بھی اعتزال اور مفارقت کا سلام ہے۔ استغفار کا مطلب یہ ہے کہ جب تک مجھ کو حضرت حق کی جانب سے کوئی ممانعت نہ ہوگی میں تیرے لئے استغفار کرتا رہوں گا اور اگر ہدایت کی دعا مراد ہے جو بخشش کا سبب ہے تو پھر بات صاف ہے۔ مزید تفصیل کے لئے سورة توبہ کی تفسیر ملاحظہ کرنی چاہئے۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں تیری سلامتی رہے یہ رخصت کا سلام ہے معلوم ہوا اگر دین کی بات سے ماں باپ ناخوش ہوں اور گھر سے نکالنے لگیں اور بیٹا باپ کو میٹھی بات کہہ کر نکل جائے تو عاق نہیں اور گناہ بخشوانے کو انہوں ن ے وعدہ کیا تھا جب اللہ کی مرضی نہ دیکھی تب موقوف کیا۔ 12
Ayah 19:48-48 اور میں تم سے اور ان معبود ان باطلہ سے جن کو تم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر پکارتے ہو ان سب سے میں بالکل کنارہ کش ہوجاتا ہوں اور میں تم سے علیحدہ ہو کر اپنے رب کی عبادت کیا کروں گا اور اسی کو پکاروں گا اور مجھ کو پوری امید ہے کہ میں اپنے پروردگار کی عبادت کر کے محروم اور بدبخت نہیں رہوں گا۔ یعنی دل سے تو علیحدہ ہی ہوں اب اپنے جسم اور بدن کو بھی تم سے جدا کرلیتا ہوں اور ہجرت کر کے چلا جاتا ہوں کیونکہ اب تم خدا کی عبادت میں بھی مزاحمت کرو گے اور مجھ کو یقین ہے کہ میں اپنے پروردگار کی عبادت اور اس کو پکار کر کے محروم نہ رہوں گا اور میری عبادت بیکار نہ جائے گی۔ جیسا کہ معبود ان باطلہ کے پجاری اپنے معبودوں کی حمایت اور مدد سے محروم ہیں۔
Ayah 19:49-49 پھر جب ابراہیم علیہال سلام ان کافروں سے اور ان کے معبودان باطلہ سے علیحدہ ہوگیا جن کو وہ اللہ تعالیٰ کے سوا پکارتے تھے تو ہم نے اس کو اسحق اور یعقوب عطا فرمائے یعنی بیٹا بھی دیا اور پوتا بھی اور ان دونوں میں سے ہر ایک کو ہم نے نبی کیا اور دونوں کو نبوت عطا فرمائی۔ یعنی جن لوگوں سے اللہ تعالیٰ کے لئے ہجرت کر کے گئے تھے اللہ تعالیٰ نے ان سے بہتر رفیق اور خدمت گار عطا فرمائے۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی اللہ کی راہ میں ہجرت کی اپنوں سے دور پڑے اللہ نے ان سے بہتر اپنے دیئے انسیت کو یہاں اسماعیل کا ذکر نہ فرمایا کہ وہ ان کے پاس نہ رہے۔ 12
خلاصہ ! یہ کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر اہل عرب کو متاثر کرنے والا تھا اور اسحق و یعقوب کا ذکر اہل کتاب کے لئے کیا اور حضرت اسماعیل کا ذکر آگے آتا ہے۔
Ayah 19:50-50 اور ان سب کو ہم نے اپنی رحمت سے حصہ عطا فرمایا اور ہم نے ان کے ذکر جمیل کو بلند کیا اور ہم نے ان کے سچے بول کو بالا کیا۔ یعنی ہر ایک کو مختلف قسم کے کمالات سے نوازا۔ یہی اللہ تعالیٰ کی رحمت کا حصہ ہے پھر ا ن کے اخلاق اور ان کے کردار اور ان کی سچی باتوں کا بول بالا کیا کہ تمام امتیں ان پر رحمت بھیجتی ہیں اور ان کے ذکر خیر کا احترام کرتی ہیں۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی ہمیشہ لوگ ان کی تعریف کرتے رہے اور ان پر رحمت بھیجتے رہے۔ 12 جیسا کہ مسلمان درود پڑھنے میں ان کا نام لیتے ہیں اور ان پر رحمت بھیجتے ہیں۔ یہود و نصاریٰ بلکہ مشرک بھی ان کی تعریف و توصیف کرتے ہیں۔
Ayah 19:51-5 1 اور اے پیغمبر اس قرآن کریم میں موسیٰ (علیہ السلام) کا بھی ذکر کیجیے بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کا چیدہ اور خاص بندہ تھا اور وہ رسول تھا نبی تھا رسول اور نبی کے سلسلہ میں اہل علم کے مختلف اقوال ہیں۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ سے وحی آوے وہ نبی ہے اور ان میں جو خاص ہیں امت رکھتے ہیں یا کتاب و رسول ہیں۔ 12 بعض مقامات پر رسول کے فرستادوں کو بھی رسول فرمایا ہے جیسے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے خاص شاگرد جو انطاکیہ بھیجے گئے تھے اور بعض مقامات پر فرشتوں کو بھی رسول فرمایا ہے۔
Ayah 19:52-52 اور ہم نے موسیٰ کو طور کی داہنی جانب سے پکارا تھا اور سرگوشی کرنے اور بھید بتانے کو اسے اپنے سے قریب کیا۔ یعنی بھید بتانے کو اسے اپنا مقرب بنایا اور چونکہ موسیٰ (علیہ السلام) سے جہاں ہم کلامی ہوئی وہ مقام طور کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی داہنی جانب تھا سرگوشی اور بھید اس لئے فرمایا کہ سو اے موسیٰ (علیہ السلام) کے اس وقت اور کوئی شخص نہ تھا حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں ان سے کلام ہوا بیچ میں فرشتہ نہ تھا خلاصہ ! یہ ہے کہ طور ان کی داہنی جانب تھا جب ان کو پکارا گیا ان سے سرگوشی کی گئی اسرار اور راز بتائے گئے اور ان کو اپنے سے قریب کیا یعنی مقرب بنایا۔
Ayah 19:53-53 اور ہم نے اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا کر ان کو دیا اور عطا کیا یعنی انہوں نے درخواست کی کہ میری زبان میں لکنت ہے اس لئے ہارون کو میری امداد کے لئے بھیج دیجیے حضرت حق جل مجدہ نے حضرت موسیٰ کی دعا قبول کی اور ان کے بھائی ہارون کو نبوت عطا فرما کر ان کے ہمراہ کردیا۔ حضرت شاہ صاحب فرمایت ہیں یعنی ان کے ساتھ مدد گار ہوئے۔ 12
Ayah 19:54-54 اور اے پیغمبر اس قرآن کریم میں اسماعیل (علیہ السلام) کا ذکر کیجیے وہ وعدے کا بڑا سچا تھا اور رسول تھا نبی تھا۔ یعنی اسمعیل کا جو ذکر ہم کر رہے ہیں اے پیغمبروہ ان لوگوں کو پڑھ کر سنائیے وعدے کا سچا فرمایا حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو یعنی اور اوصاف حمیدہ اور اخلاق عالیہ کے یہ وصف بہت نمایاں تھا کہ جو وعدہ فرماتے اس کو پورا کرتے رسول تھا یعنی ملت ابراہیمی کی تبلیغ کرتا تھا نبی تھا کہ اللہ تعالیٰ کی وحی کا مہبط تھا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں ایک شخص سے وعدہ کیا تھا کہ جب تک تو آوے میں اسی جگہ رہوں گا وہ ایک برس نہ آیا یہ وہاں ہی رہے۔ 12
Ayah 19:55-55 اور وہ اپنے متعلقین کو خاص طور پر نماز پڑھنے اور زکوۃ ادا کرنے کا حکم دیا کرتا تھا اور اپنے رب کی بارگاہ میں بڑا پسندیدہ اور مقبول تھا۔ یعنی یوں تو عموماً تمام احکام کی بجا آوری کا حکم دیتے تھے اور خاص طور سے نماز و زکوۃ کی تاکید فرمایا کرتے تھے یہ تاکید محض نماز و زکوۃ کے اہتمام کی وجہ سے تھی بطور انحصار نہ تھی اور وہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں پسندیدہ اور مقبول تھا لفظ اہل کا ترجمہ ہم نے متعلقین کے ساتھ کیا ہے خواہ وہ ان کے گھر والے ہوں یا ان کی قوم ہو۔
Ayah 19:56-56 اور اے پیغمبر اس قرآن کریم میں اور ادریس (علیہ السلام) کا ذکر بھی کیجیے بلاشبہ وہ بڑا سچا تھا نبی تھا۔
حضرت ادریس علیہ السلام، حضرت نوح (علیہ السلام) کے جد میں اور حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے درمیانی پیغمبروں میں سے ہیں۔ حضرت ادریس (علیہ السلام) کے متعلق مشہور ہے کہ دنیا میں حساب کا طریقہ اور قلم سے لکھنا ستاروں کی گردش نجوم کا حساب درزی یعنی خیاطی کا کام ناپنے اور تولنے کے طریقے۔ آلات حرب اور اسلحہ سازی یہ کام سب ان سے چلے اور جاری ہوئے۔ نبی کریم ﷺ نے معراج کی شب چوتھے آسمان پر ان سے ملاقات کی وہ صدیق یعنی راست باز اور بڑا سچا تھا اور اس خوبی کے ساتھ نبی بھی تھا۔
Ayah 19:57-57 اور ہم نے اس کو بلند مقام پر پہنچایا اور اس کو مقام عالی پر اٹھا لیا۔ مکان اعلیٰ کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ اکثر ا ن میں سے اسرائیلی ہیں جن پر علما نے سخت تنقید کی ہے خصوصاً ابن کثیر سے صحیح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ ان کے درجات عالیہ اور مراتب علیا کا ذکر فرمایا ہے اور اس بلندی سے ان کی معنوی بلندی مراد ہے ۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں لکھا ہے کہ حضرت ادریس پہلے تھے حضرت نوح سے حساب ستاروں کی چال کا اور لکھنا اور سینا کہتے ہیں انہیں سے سکیھا خلق نے ملک الموت ان سے آشنا تھا ایک بار آزمانے کو اپنی جان بدن سے نکلوائی پھر ڈال دی اور بہشت کی سیر مانگی پھر وہاں رہ گئے اللہ کے حکم سے، حضرت سے ملنے تھے معراج کی رات آسمان پر اور بعضے کہتے ہیں حضرت الیاس کا لقب ہے ادریس اور وہ نبی اسرائیل میں پیغمبر ہوئے تھے خضر کی طرح وہ بھی زندہ رہ گئے۔
Ayah 19:58-58 یہ لوگ جن کا ذکر ہوا یعنی حضرت زکریا سے لیکر حضرت ادریس تک یہ وہ لوگ ہیں جن پر منجملہ دیگر انبیاء کے اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل و انعام فرمایا یہ سب مذکورین آدم (علیہ السلام) کی نسل سے تھے اور کچھ ان میں سے ان لوگوں کی نسل سے تھے جن کو ہم نے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی پر سوار کیا تھا اور کچھ ان میں سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسرائیل یعنی یعقوب (علیہ السلام) کی ذریت اور نسل سے تھے۔
یہ سب حضرات ان لوگوں میں سے تھے جن کی رہنمائیہم نیف رمائی تھی اور جن کو ہم نے منتخب فرمایا تھا اور جن کو مقبولیت کے لئے چن لیا تھا ان حضرات کا حال باوجود اس بزرگی اور مقبولیت کے یہ تھا کہ جب ان کے سامنے رحمان کی آیتیں تلاوت کی جاتی تھیں تو یہ حضرات روتے اور سجدہ کرتے ہوئے گرجاتے تھے۔ یعنی شروع سورت سے لیکر حضرت ادریس (علیہ السلام) تک جن پیغمبروں کا ذکر ہوا یہ منجملہ دیگر پیغمبروں کے وہ حضرات ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے اپنا انعام یعنی نبوت عطا فرمائی تھی۔ یہ آدم (علیہ السلام) کی ذریت تھے یعنی نسل آدم (علیہ السلام) میں سب کی شرکت ہے اور حضرت ادریس کے علاوہ بعض ان لوگوں کی اولاد سے ہیں جن کو ہم نے حضرت نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار کیا تھا اس میں حضرت ادریس کے علاوہ سب شریک ہیں اور بعضے ان میں سے حضرت یعقوب اور حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے ہیں۔ یہ سب ان لوگوں میں سے ہیں جن کو ہم نے ہدایت عطا فرمائی تھی اور جن کو نبوت اور قبولیت کے لئے منتخب فرمایا تھا اور ان تمام مراتب عالیہ کے باوجود ان کی حالت یہ تھی کہ جب ان کے روبرو رحمان کی آیتیں تلاوت کی جاتی تھیں تو یہ روتے ہوئے اور سجدہ کرتے ہوئے زمین پر گرپڑتے تھے یعنی انتہائی خشوع و خضوع کے ساتھ اپنی عاجزی اور بندگی کا اظہار کرتے تھے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سام بن نوح کی اولاد میں ہیں باقی حضرت موسیٰ اور ہارون زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ یہ سب حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد سے ہیں۔
Ayah 19:59-59 پھر ان حضرات مذکورین کے بعد کچھ ایسے ناخلف پیدا ہوئے کہ انہوں نے نماز کو ضائع کیا اور نفسانی اور ناجائز خواہشات کی پیروی کی اور نفسانی خواہشات کے پیچھے ہو لئے تو ایسے لوگ عنقریب اپنی گمراہی کو دیکھ لیں گے اور پانی گمراہی سے ملاقی ہوں گے۔ نماز کا ضائع کرنا یہ کہ نماز چھوڑ دی یا بےوقت پڑھی یا جماعت ترک کردی۔ یا نماز کے ضروری آداب اور خشوع و خضوع ترک کردیا۔ ناجائز خواہشات وہ خواہشیں جو اطاعت الٰہی سے روکنے والی ہوں۔ غتی ایک دوزخ کی وادی ہے یا تو وہ مراد ہے یا یہ کہ ان کی گمراہی اور بےراہ روی سامنے آئے گی اور دوزخ میں داخل ہوں گے خواہ دوزخ کا داخل ہنا ابدی نہ ہو اور اگر نماز کی فرضیت کا اعتقاد ہی نہ ہو تو ابدی ہو یہ ان ناخلف لوگوں کی سزا کا بیان تھا آگے ان کو مستثنیٰ فرمایا جنہوں نے اپنی اصلاح کرلی۔
Ayah 19:60-60 مگر ہاں جس نے معصیت سے توبہ کرلی اور ایمان لے آیا اور نیک عمل کرنے لگا تو ایسے لوگ جنت میں ہوں گے اور ان کو ذرا سا نقصان بھی نہ پہونچے گا۔
مطلب یہ ہے کہ اگر یہ ناخلف لوگ جنہوں نے نماز ک ضائع کیا اور ناجائز شہوات کی پیروی کی تائب ہوجائیں اور ایمان لے آئیں اور نیک اعمال کی پابندی کرنے لگیں تو یہ اپنی گمراہی کا پھل پانے والوں سے مستثنیٰ ہوں گے اور یہ لوگ جنتی ہوں گے اور جزا دیتے وقت ان کا نقصان اور کوئی حق تلفی نہ ہوگی۔
Ayah 19:61-6 1 وہ جس میں داخل ہوں گے وہ دائمی اور ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں جن کا رحمان نے اپنے بندوں سے بن دیکھے اور غائبانہ وعدہ فرمایا ہے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کوے وعدہ پر ہے پہنچنا۔ غیب پر ایمان لانے کا صلہ یہ ملا کر اللہ تعالیٰ نے ان دیکھی جنت کا وعدہ فرما لیا اور اللہ تعالیٰ نے جس جس چیز کا وعدہ فرمایا ہے بندے اس کو ضرور پہنچیں گے اور ضرور حاصل کر کے رہیں گے۔ ماتیا کا ترجمہ ہم نے دونوں طرح کردیا ہے۔
Ayah 19:62-62 یہ جنتی لوگ اس جنت میں کوئی لغو اور فضول بات نہیں سنیں گے مگر سلام کی آواز اور ان لوگوں کو ان کی روزی صبح اور شام ملا کرے گی۔ یعنی وہاں سوائے سلام کے اور کوئی لغو اور بیہودہ بات یا بک بک نہیں ہوگی۔ یہ سلام یا تو فرشتے کریں گے اور یا آپس میں ایک دوسرے کو السلام علیکم کہتے ہوں گے۔
صبح شام کا یہ مطلب ہے کہ مقدار صبح و شام یعنی اندازے سے ورنہ وہاں یہ دنیا کی صبح وشام کہاں اور جہاں نور ہی نور ہو وہاں تاریکی کہاں۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں بک بک نہ سنیں گے سلام علیک کی آواز بلند سنیں گے 12
Ayah 19:63-63 یہی وہ جنت ہے جس کا ہم اپنے بندوں میں سے اش صخ کو وارث اور مالک بنائیں گے جو بندہ خدا سے ڈرنے والا ہوگا۔ یعنی متقی اور پرہیز گار بندے اس جنت کے مالک ہوں گے جس کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ شرک سے بچتا ہو اور مشرک نہ ہو۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں میراث آدم (علیہ السلام) کی کہ اول ان کو بہشت ملی ہے۔ 12
خلاصہ ! یہ کہ آدم (علیہ السلام) کو جنت عطا ہوئی تھی لہٰذا آدم کی وہی اولاد ان کی میراث پائے گی جو ان کی ہم مشرب اور ہم عقیدہ ہوگی۔
Ayah 19:64-64 اور ہم آپ کے پروردگار کے حکم دیتے بدون نہیں اتر سکتے جو زماں و مکاں ہمارے آگے ہے اور جو زماں و مکاں ہمارے پیچھے ہے اور جو ان دونوں کے مابین ہے سب اسی کی ملک ہے یعنی جملہ مکان و زمان میں اسی کی فرمائی روائی ہے اور آپ کا پروردگار بھولنے والا نہیں ہے۔
نبی کریم ﷺ نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) سے بار بار آنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کی طرف سے اللہ تعالیٰ نے جواب فرمایا اور ایک ضابطہ فرما دیا کہ یہ فرشتے اپنے اختیار سے نہیں آتے جاتے بلکہ آپ کے پروردگار کے حکم سے اترتے چڑھتے ہیں اس لئے آپ کی اس خواہش کو بغیر ہمارے حکم کے نہیں پورا کرسکتے آگے کا مکان جو منہ کے سامنے ہو پیچھے کا مکان جو پس پشت ہو اور مابین سے وہ مقام جہاں وہ شخص موجود ہو آگے کا زمان مستقبل پیچھے کا ماضی اور مابین سے مراد حال۔
غرض ! ہر قسم کے مکان و زمان اور ہر ایک مکانی و زمانی اسی کے زیر تصرف اور اسی کی ملکت ہیں اور آپ کا پروردگار بھولنے والا نہیں۔
جیسا کہ اے پیغمبر ! آپ کو معلوم ہے کہ وہ نسیان سے پاک ہے۔ جبرئیل (علیہ السلام) اور ان کے ہمراہی فرشتوں کا تاخیر سے آنا ان کا سبب نسیان نہیں بلکہ اس کی مشیت اور اس کے حکم پر موقوف ہے۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں ایک بار جبرئیل گئے اور نہ آئے جب آئے حضرت نے کہا تم ہر روز کیوں نہیں آتے اللہ تعالیٰ نے یہ کلام سکھایا جبرئیل (علیہ السلام) کو جواب یوں کہو کلام ہے اللہ کا جبرئیل کی طرف سے جیسا ایاک نعبدو ایاک نستعین ہم کو سکھایا اور ہمارے آگے پیچھے کہا آسمان و زمین اترتے ہوئے زمین آگے آسمان پیچھے چڑھتے ہوئے وہ پیچھے یہ آگے 12
غرض ! یہ ہے کہ جس طرح فرشتے اپنے پروردگار کے مطیع و فرمانبردار ہیں اسی طرح انسان کو بھی فرمانبردار ہونا چاہئے تاکہ متقی بن کر جنت کا وارث ہو سکے۔
Ayah 19:65-65 وہ تمام آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے اور جو کچھ آسمان و زمین کے درمیان ہے اس کا پروردگار بھی وہی ہے پس تو اس کی عبادت اور اطاعت کیا کر اور اس کی عبادت پر قائم اور ثابت قدم رہ بھلا آپ کے علم میں اس کا ہم صفت اور ہم نام کوئی اور بھی ہے۔
یہ خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے اور ہوسکتا ہے کہ یہ خطاب عام ہو اور ہر مخاطب مراد ہو۔ بہرحال وہی ہر چیز کا مالک ہے صرف اسی کی عبادت کر اور اسی کی عبادت و بندگی پر قائم رہ کسی کے کہنے سننے او اعتراض کرنے کا خیال نہ کرو اور پرواہ مت کرو بھلا تم کسی اور کو بھی اس کا ہم صفات جانتے ہو جب ان صفات کا کوئی دوسرا مالک ہی نہیں تو عبادت کا بھی اس کے سوا کوئی مستحق نہیں۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں اللہ کے نام سب اس کی صفت ہیں یعنی کوئی ہے اس صفت کا 12
Ayah 19:66-66 اب منکرین قیامت اور منکرین بعث کے بعض شبہات کا جواب فرماتے ہیں اور انسان یوں کہتا ہے کہ جب میں مر جائوں گا تو کیا واقعی دوبارہ زندہ کر کے پھر زمین سے نکالا جائوں گا یہ شبہ وہ لوگ کرتے تھے جو دوبارہ زندہ ہونے کا منکر تھے آسمانی مذاہب میں یہ مسئلہ نہایت اہم ہے اور اسی عقیدے پر اسلام کا مدار ہے۔
Ayah 19:67-67 کیا انسان اتنی بات نہیں سمجھتا اور یہ بات اید نہیں کرتا کہ ہم اب سے پہلے اس کو عم سے موجود کرچکے ہیں حالانکہ یہ اس وقت کچھ بھی نہیں تھا۔ یعنی ایسے انسان کی سمجھ میں اتنی موٹی بات نہیں اتٓی کہ یہ پیدا ہونے سے پہلے کچھ بھی نہ تھا اس نے اس کو عم سے وجود بخشا۔ نیست سے ہست کیا اس سے پیشتر اس کا کوئی نام لینے والا نہ تھا اب اس کے مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کرلینا کیا مشکل ہے بلکہ ابتدائی ساخت کے مقابلہ میں دوبارہ بنانا کچھ سہل ہی ہوسکتا ہے۔
Ayah 19:68-68 سوائے پیغمبر ! قسم ہے آپ کے پروردگار کی ہم ان سب کو زندہ کر کے جمع کریں گے اور شیاطین کو بھی ان کے ساتھ جمع کریں گے پھر ہم ان سب کو جہنم کے گردا گرد اس حالت سے لاحاضر کریں گے کہ وہ مارے ہیبت کے گھٹنوں کے بل گرے ہوئے ہوں گے۔ یعنی حشر کے موقف میں سب کو دوبارہ زندہ کر کے جمع کریں گے اور ان شیاطین کو بھی جمع کریں گے جن کے بہکانے میں آ کر ان لوگوں نے گمراہی اختیار کی تھی پھر ان سب ملز مین کو دوزخ کے چاروں طرف اور جہنم کے آس پاس اس طرح حاضر کریں گے کہ وہ مارے ہیبت کے گھٹنوں کے بل گرپڑیں گے۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں مارے دہشت کے کھڑے کھڑے گرپڑیں گے اور چین سے بیٹھ نہ سکیں گے یہی ہوا گھٹنوں پر گرتنا۔ 13
Ayah 19:69-69 پھر ہم ہرگوہ میں ان لوگوں کو کھینچ کر جدا کرلیں گے جو ان میں سب سے زیادہ رحمان سے سرکشی کیا کرتے تھے اور جو رحمان کے مقابلہ میں اکڑ رکھنے میں سخت تھے۔ یعنی دین حق کے منکروں میں خواہ وہ یہود ہوں یا نصاریٰ یا مجوس اور بت پرست ان تمام گروہوں میں سے ان لوگوں کو علیحدہ کرلیا جائے گا جو دین حق کی مخالفت میں زیادہ سرگرم تھے اور رحمان سے اکڑ رکھنے میں زیادہ سخت تھے۔
Ayah 19:70-70 اور ہم ان لوگوں کو خوب جانتے ہیں اور ان سے اچھی طرح واقف ہیں جو دوزخ میں جانے کے زیادہ مستحق ہیں یعنی دوزخ میں جانے کو تو سب ہی جائیں گے یہ جدا کرنا کسی خاص تحقیق کے لئے نہیں ہوگا۔ کیونکہ ان اسقیا کو تو وہ خوب جانتا ہی ہے بلکہ یہ چھٹائی اس لئے کی جائے گی کہ پہلے جہنم میں ان سرکشوں کو اور اکڑنے والوں کو ڈالا جائے گا یعنی یہ چھٹائی پہلے ڈالنے کے لئے ہوگی نہ کسی مزید تحقیقات اور معلومات میں اضافہ کی غرض سے۔
Ayah 19:71-7 1 اور تم میں سے کوئی شخص بھی ایسا نہیں جس کا گذر جہنم پر نہ ہو یہ درد و مذکور اور یہ جہنم سے گذر آپ کے پر ورگدار پر حسب وعدہ لازم شدہ ہے جو ضور پورا ہو کر رہے گا۔ چونکہ اس نے وعدہ فرمایا ہے اس لئے اس پر یہ لازم ہے کہ وہ اس کو پورا کرے گا اور جب وہ پورا کرے گا تو یقین کرو کہ یہ بات پوری ہو کر رہے گی۔ کوئی دخول جہنم کے لیء گذرے گا اور کوئی محض عبور کے لئے گرنے والوں کی بھی دو قسمیں ہیں ۔ کوئی ہمیشہ کے لئے اور کوئی کچھ عرصہ کے لئے جیسے مومن گنہگار۔
Ayah 19:72-72 پھر ہم ان لوگوں کو خدا سے ڈرتے رہتے تھے نجات دے دیں گے اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل گرا ہوا وندھا پڑا ہوا چھوڑ دیں گے۔ یعنی مومنین کا ملین کو تو پہلے ہی نجات مل جائے گی اور وہ سلامتی کے ساتھ گذر جائیں گے اور مومن گنہگار کچھ عرصہ کے بعد نجات حاصل کرلیں گے اور دین حق کے منکرین اس میں ہمیشہ کے لئے رہ جائیں گے اور گھٹنوں کے بل اوندھے گرپڑیں گے۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں بہشت کو راہ نہیں مگر دوزخ کے منہ میں دوزخ تنور کی شکل ہے منہ اس کا دنیا سے بڑا کنارے سے کنارے تک راہ پڑی ہے بال برابر تیز جیسے تلوار کانپتی ایمان والے اس پر سلامت گذر جائیں گے اور گنہگار گرپڑیں گے پھر موافق عمل بعد کئی روز کے نکلیں گے شفاعت سے اور ارحم الراحمین کی مہر سے آخر جس نے کلمہ کہا ہے سچے دل سے سب نکلیں گے اور کافر رہ جائیں گے پھر اس کا منہ بند ہوگا۔ 12
خلاصہ ! یہ کہ کاملین مومنین تو گذر جائیں گے اور اعتصاۃ مومنین سزا بھگت کر یا شفاعت سے یا اللہ تعالیٰ کی رحمت سے غرض ! جو سچے دل سے کلمہ پڑھنے والا ہے وہ آگے پیچھے نکل ہی جائے گا خواہ کچھ دنوں سزا بھگتنی پڑے۔ آخر میں صرف دین حق کے منکر ہی رہ جائیں گے اور ان پر دوزخ کا منہ بند کردیا جائے گا۔ اعاذ نا اللہ منھا۔
Ayah 19:73-73 اور جب ان دین حق کے منکروں کے سامنے ہماری واضح اور کھلی کھلی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو جو لوگ منکر ہیں اور جن کی کافرانہ روش ہے وہ اہل ایمان اور حضرات مومنین سے یوں کہتے ہیں بتائو دونوں فریقوں میں سے کس کی حالت اچھی ہے یعنی ہم میں اور تم میں سے کون سا فریق خوشحال ہے اور باعتبار مکان و مسکن کے کون بہتر اور بلحاظ محفل و مجلس کے کون عمدہ اور اچھا ہے۔ یعنی جب قرآن کریم کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں اور ان آیتوں میں مومنین کی نجات اور کافروں کے عذاب کا حال سنتے ہیں تو منکرین مومنین سے کہت یہیں اور دنیوی عیش و تنعم پر آخرت کو قیاس کرتے ہیں اور بطور طعن کہتے ہیں ۔ مسلمانو ! بتائو دنیا میں ہم تم میں سے کون سا فریق زیادہ اچھا ہے کس فریق کے پاس رہنے کو اچھا مکان ہے کس کی سوسائٹی اچھی ہے کس کی حمایتی زیادہ ہیں۔
مدعا اط طعن کا یہ ہوتا تھا کہ ہم یہاں بھی اچھے ہیں اور اگر تمہارے اعتقاد میں وہ عالم ہوابھی تو ہم وہاں بھی اچھے ہوں گے اور تم ایسے ہی شکستہ حال ہو گے جیسے یہاں ہو یہ سب باتیں اپنے مال اور عز و جاہ کے گھمنڈ پر کہتے تھے حضرت حق تعالیٰ نے آگے جواب فرمایا۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی دنیا کی رونق میں مقابلہ دیتے ہیں۔ 12
Ayah 19:74-74 اور ہم ان سے پہلے بہت سی قوموں اور گروہوں کو ہلاک و برباد کرچکے ہیں۔ جو باعتبار ساز و سامان اور ظاہری ٹیپ ٹاپ اور نمود کے اعتبار سے ان سے کہیں اچھے تھے۔ یعنی دنیوی ساز و سامان اور سوسائٹی کی بلندی اور ظاہری نمود و نمائش عذاب الٰہی کو نہیں روک سکتی جس طرح پہلی جماعتیں برباد ہوگئی ہیں اسی طرح تم بھی برباد کردیئے جائو گے حالانکہ وہ جماعتیں ان سے کہیں اچھی اور بہتر تھیں۔
Ayah 19:75-75 اے پیغمبر ! آپ فرما دیجیے جو لوگ گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں رحمان ان کو ڈھیل اور طویل مہلت دیتا چلا جا رہا ہے ہیاں تک کہ جب وہ اس چیز کا معائنہ کرلیں گے جن کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے خواہ وہ دنیا کا عذاب ہو یا قیامت کا تو وہ معلوم کرلیں گے اور ان کو یہ بات معلوم ہوجائے گی کہ مکان و مسکن کے لحاظ سے کونسا فریق برا اور گروہ بندی اور حمایتیوں کے اعتبار سے کون سا فریق کمزور اور ضعیف ہے۔ یعنی کفار کے اعتراض اور طعن کا ایک جواب تو الزامی تھا جو پہلی آیت میں گزرا دوسرا تحقیقی تھا جو اس آیت میں فرمایا کہ مجرموں کو موقعہ دیا جاتا ہے۔ ڈھیل ملتی ہے سمجھ دار ڈھیل سے فائدہ اٹھا کر اپنی اصلاح کرلیتے ہیں جو نالائق اور کج فہم ہوتے ہیں وہ گمراہی میں ترقی کرتے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ ان پر عذاب آجائے وہ کوئی دنیوی عذاب ہو یا قیامت کا عذاب ہو۔
بہرحال ! جب عذاب کا مشاہدہ کریں گے تو ان کو یہ بات معلوم ہوجائے گی کہ رہین کی جگہ کے اعتبار سے کون برا ہے اور کس کے حمایتی کس کی فوج اور مددگار کمزور ہیں۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی بہکاوے میں جاتے ہوئے کیونکہ دنیا جانچنے کی جگہ ہے بھلا برا پاویں گے آخرت میں یہاں نیک و بد بھلائی برائی میں شامل ہیں 12 اور فرماتے ہیں فوج یعنی مددگار کافر اپنا مددگار سمجھتے ہیں بوتں کو اور ایمان والے کو 12
Ayah 19:76-76 اور جو لوگ ہدایت یافتہ اللہ تعالیٰ ان کو ازروئے ہدایت اور ترقی دیتا ہے اور جو نیک اعمال ہمیشہ کو باقی رہنے والے ہیں وہ آپ کے رب کے نزدیک با عتبار ثواب کے بھی بہتر ہیں اور انجام کے اعتبار سے بھی بہتر ہیں۔ ہدایت یافتہ یعنی مسلمان تو ان کی ہدایت میں ترقی ہوتی رہتی ہے دنیا کی دولت نہ ہو تو نہ ہو جو اصل دولت ہے وہ ان کے پاس ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ ترقی اور بڑھوتری کرتا رہتا ہے ہدایت کی ترقی یہی کہ دین کی راہیں کھیلتی رہتی ہیں۔ عبادت میں لطف آتا ہے اور مزید ریاضت کو جی چاہتا ہے۔ یہی ان کے پاس سرمایہ ہے اور آخرت میں ان کے نیک اعمال جو باقیات الصالحات ہیں ان کا ثواب ملنے والا ہے اور ان اعمال کا اچھا انجام ہونے والا ہے اور جو گھاٹیاں اور خطرات پیش آنے والے ہیں ان سب میں اعمال نیک سود مند ہوں گے۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی دنیا کی رونق رب کے ہاں کام کی نہیں نیکیاں سب رہیں گی۔ دنیا نہ رہے گی۔ 12
Ayah 19:77-77 اے پیغمبر ! بھلا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا جو ہماری آیات کے ساتھ کفر و انکار کی روش اختیار کرتا یعنی جن آیات الٰہی پر ایمان لانا چاہئے یہ ان کا انکار کرتا ہے اور باوجود کفر کے یوں کہتا ہے کہ مجھ کو یقینا مال اور اولاد مل کر رہے گا۔
یہ عاص بن وائل کا قول ہے جو اس نے ایک مسلمان جناب بن ارت کی مزدوری مانگنے پر بطور استہزاء کہا تھا یا مشروط طور پر کہا ہوگا کہ اگر دوبارہ زندگی ہوئی اور قیامت میں اٹھنا ہوا تو وہاں میرا سب کچھ مل جائے گا وہاں تجھ کو مزدوری دیدوں گا۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں ایک کافرمال دار ایک لوہار کو کہنے لگا تو مسلمانی سے منکر ہو تو میں تیری مزدوری دوں اس نے کہا کہ تو مرے پھر جیوے تو بھی منکر نہ ہوں۔ اس نے کہا اگر پھر جیوں گا تو بھی مال اور اولاد وہاں بھی ہوگا تجھ کو مزدوری وہاں دیدوں گا اسی پر یہ فرمایا یعنی وہاں دولت ملتی ہے ایمان سے کافر چاہے کہ یہاں کی دولت وہاں ملے سو نہیں۔ 12
Ayah 19:78-78 کیا اس نے غیب کی اطلاع پا لی ہے اور غیب پر مطلع ہوگیا ہے اس نے اللہ تعالیٰ سے کوئی عہد حاصل کرلیا ہے اور خدا سے کوئی وعدہ لے لیا ہے۔ یعنی اس نے کیا غیب کا حال معلوم کرلیا ہے کہ اس کو مال اور اولاد ملے گی یا اس نے خدا سے کوئی وعدہ اور قارار لے لیا ہے کہ قیامت میں تجھ کو مال اور اولاد عطا کروں گا دونوں باتیں عقلاً منتقی ہیں۔
Ayah 19:79-79 ہرگز نہیں جو کچھ یہ کہتا ہے ہم اس کو لکھ لیں گے اور ہم اس پر عذاب بڑھاتے چلے جائیں گے۔ یعنی جو کچھ اس نے کہا ہے یہ ہم اس کے اعمال بد کی فہرست میں لکھ دیں گے اور شامل کردیں گے اور سزا دینے میں اس کا عذاب بڑھاتے چلے جائیں گے۔
Ayah 19:80-80 اور یہ جس مال و اولاد کو کہتا ہے اس کے ہم وارث اور مالک ہوں گے اور وہ ہمارے حضور میں بغیر مال و اولاد کے تنہا اور اکیلا حاض رہو گا۔ یعنی جس مال و اولاد کے ملنے کا متوقع ہے اس مال و اولاد کے ہم مالک ہوں گے اور قیامت میں اس کے پاس نہ مال ہوگا اور نہ اولاد بلکہ یہ بدون مال و اولاد کے تنہا ہماری حضور میں حاضر ہوگا۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں جو بتاتا تھا یعنی مال اور اولاد اس کافر کے دونوں بیٹے مسلمان ہوئے۔ 12