20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 20:121

فَاَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ١٘ وَ عَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى۪ۖ Open ayah 20:121 in the Quran reader

چناچہ ان دونوں میاں بیوی نے اس ممنوعہ درخت میں سے کھالیا اس پر ان دونوں کی شرمگاہیں ان پر کھل گئیں اور دونوں اپنے اوپر جنت کے پتے بلا بلا کے رکھنے لگے اور آدم (علیہ السلام) نے اپنے رب کے حکم کی بجا آوری میں قوصر کیا اور وہ غلطی میں پڑگیا

121 اس وسوسے اور کہنے کا اثر یہ ہوا کہ دونوں میاں بیوی نے اس درخت میں سے کھالیا بس کھاتے ہی دونوں کی شرمگاہیں ان پر کھل گئیں اور وہ دونوں جنت کے پتے ملا ملا کر اپنے اوپر رکھنے لگے اور آدم (علیہ السلام) نے اپنے پروردگار کے حکم کی بجا آوری میں قصور کیا اور وہ غلطی میں پڑگیا۔ یعنی آدم (علیہ السلام) پر شیطان کا دائوں چل گیا اور اس سے کوتاہی سر زد ہوگئی اور ہمیشگی حاصل کرنے کے لئے غلطی میں پڑگئے، شرم گاہیں کھل گئیں اور برہنہ ہونے کی حالت میں اپنے اپنے بدن پر پتے چپکانے لگے اور معذرت کرنے لگے معذرت کے بعد ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 20:122

ثُمَّ اجْتَبٰهُ رَبُّهٗ فَتَابَ عَلَیْهِ وَ هَدٰى Open ayah 20:122 in the Quran reader

پھر توبہ کے بعد اس کے رب نے اس کو نوازا اور اس کی توبہ قبول فرمائی اور اس کو صحیح راہ پر قائم رکھا۔

- 122 پھر توبہ کے بعد اس کے پروردگار نے اس کو نوازا اور مقبول بنا لیا اور اس کی توبہ قبول فرمائی اور اس کو راہ راست پر قائم رکھا۔ یعنی اس پر مہربانی کے ساتھ توجہ فرمائی اس کو نواز دیا اور صحیح راہ پر قائم رکھا یعنی اس سے پھر غلطی کا ارتکاب نہیں ہوا۔
Ayah 20:123

قَالَ اهْبِطَا مِنْهَا جَمِیْعًۢا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى١ۙ۬ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَایَ فَلَا یَضِلُّ وَ لَا یَشْقٰى Open ayah 20:123 in the Quran reader

خدا نے کہا تم دونوں کے دونوں بہشت سے نیچے اترو درآنحالیکہ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو گے پھر اگر تمہارے پاس میری جانب سے کوئی ہدایت پہونچے تو جو شخص میری اس ہدایت کی پیروی کرے گا تو وہ نہ گمراہ ہوگا اور نہ تکلیف میں مبتلا ہوگا۔

- 123 شجر ممنوعہ میں سے کھانے کے بعد ارشاد ہوا تم دونوں جنت سے نیچے اتر جائو درآں حالیکہ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو گے یعنی تمہاری اولاد باہم ایک دوسرے کی دشمن ہوگی پھر اگر میری جانب سے تمہارے پاس کوئی ہدایت پہونچے تو اس ہدایت پہونچنے کے بعد جو شخص میری ہدایت کی پیروی کرے گا تو وہ نہ بےراہ ہوگا اور نہ وہ تکلیف میں مبتلا ہوگا اور شقاوت و بدبختی سے دور رہے گا۔ جنت سے نکالتے وقت تعلق کو منقطع نہیں فرمایا بلکہ یوں ارشاد ہوا کہ اولاد آدم (علیہ السلام) میں باہم دشمنی ہوگی اور آپس میں پھوٹ ہوگی میں تمہارے پاس بذریعہ کتاب اور پیغمبر اپنی ہدایت بھیجوں گا پھر اگر تمہارے پاس میری ہدایت پہونچے تو رسول کا کہنا ماننا اور کتاب پر عمل کرنا جو بذریعہ کتاب و رسول پہنچی ہوئی میری ہدایت کی اتباع اور پیروی کرے گا تو وہ دنیا میں گمراہی سے مامون اور قیامت میں شقاوت سے محفوظ رہے گا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں ایک دوسرے کی دشمن بنے ان کی اولاد جیسا آپس میں رفاقت کر کے گناہ کیا اس رفاقت کا بدلا یہ ملا کہ اولاد آپس میں دشمن ہوئی۔ 12
Ayah 20:124

وَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِیْ فَاِنَّ لَهٗ مَعِیْشَةً ضَنْكًا وَّ نَحْشُرُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَعْمٰى Open ayah 20:124 in the Quran reader

اور جو شخص میری اس نصیحت سے رو گردانی کرے گا تو اس کو ایسی زندگی نصیب ہوگی جو تنگ ہوگی اور ہم اس کو قیامت کے دن اندھا کر کے اٹھائیں گے۔

- 124 اور جو شخص میری اس نصیحت سے اعراض اور روگردانی کرے گا تو اس کے لئے تنگی کا جینا ہوگا اور ہم اس کو قیامت کے دن اندھا اور نابینا کر کے اٹھائیں گے۔ یعنی جو اس بھیجی ہوئی نصیحت سے روگردانی کا مرتکب ہوگا تو ہم قیامت سے پہلے اس پر دنیا اور قبر کی زندگی تنگ کردیں گے اور قبر سے اندھا اٹھائیں گے یعنی نہ دنیا میں چین نصیب ہوگا اور نہ قبر میں چین اور اطمینان تو موقوف ہے۔ ذکر الٰہی پر وہ نصیب نہیں تو ایسوں کو اطمینان کہاں اور جب محشر میں اندھا بن کر آئے گا تو گھبرا کر کہے گا۔
Ayah 20:125

قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِیْۤ اَعْمٰى وَ قَدْ كُنْتُ بَصِیْرًا Open ayah 20:125 in the Quran reader

وہ کہے گا اے میرے رب تو نے مجھے اندھا کر کے کیوں اٹھایا حالانکہ میں تو دیکھنے والا تھا۔

- 125 اے میرے پروردگار آپ نے مجھے اندھا کر کے کیوں اٹھایا حالانکہ میں تو دیکھنے والا تھا۔ یعنی میں تو خاصہ اچھا بچھا دیکھتا بھالتا تھا آج میدان حشر میں مجھے اندھا کیوں کردیا۔
Ayah 20:126

قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰیٰتُنَا فَنَسِیْتَهَا١ۚ وَ كَذٰلِكَ الْیَوْمَ تُنْسٰى Open ayah 20:126 in the Quran reader

خدا تعالیٰ فرمائیگا تو نے ایسا ہی عمل کیا تھا کہ ہماری آیتیں تیرے پاس پہنچی تھیں سو تو ان آیتوں کو بھول گیا اور جس طرح تو نے ان کو بھلا دیا اسی طرح آج تو بھی فراموش کردیا جائیگا

- 126 اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمائے گا جیسی تجھ کو سز ا دی گئی ایسا ہی تیرا عمل تھا ہماری آیات و احکام تیرے پاس پہونچے تھے سو تو نے ان کو بھلا دیا اور ان کا کچھ خیال نہ کیا۔ لہٰذا آج تجھ کو بھی اسی طرح فراموش کردیا جائے گا۔ یعنی ہمارے احکام تیرے پاس پہونچے تھے تو نے ان کی کچھ پروا نہ کی اور ان احکام کا کچھ خیال نہ کیا ان احکام سے غفلت برتی اور بالکل ہی بھلا دیا بس اس طرح آج تیرا بھی خیال نہ رکھا جائے گا اور تیرے ساتھ ایسا ہی معاملہ کیا جائے گا جیسے کسی بھلائے ہوئے شخص سے کیا جاتا ہے تجھ کو جو سزا دی گئی وہ تیرے عمل کے مناسب دی گئی ہے پھر تو تعجب کیوں کرتا ہے۔
Ayah 20:127

وَ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ مَنْ اَسْرَفَ وَ لَمْ یُؤْمِنْۢ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَدُّ وَ اَبْقٰى Open ayah 20:127 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم اس شخص کو بدلا دیں گے جو حد سے گزر جائے اور اپنے رب کی آیتوں پر ایمان نہ لائے اور یقینا آخرت کا عذاب بڑا ہی سخت اور بہت ہی دیرپا ہے۔

- 127 اور ہم اسی طرح ہر اس شخص کو بدلا دیں گے جو حد عبودیت سے بڑھ جائے اور حد سے تجاوز کرے اور اپنے پروردگار کی آیتوں پر ایمان نہ لائے اور یقینا آخرت کا عذاب بڑا سخت اور بڑا ہی دیرپا ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں آیتوں کو بھلا دیا یعنی عمل نہ کیا اور یقین نہ لایا اور پیغمبر نے فرمایا کہ میری امت کے سارے گناہ مجھ کو دکھائے اس سے بڑھ کر گناہ نہ دیکھا کہ قرآن کریم کی کوئی آیت کسی کو یاد ہوئی پھر اس نے بھلا دی یعنی یہ عذاب اندھے ہونے کا حشر میں ہے اور دوزخ میں اور زیادہ 12
Ayah 20:128

اَفَلَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠ Open ayah 20:128 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کو اس بات سے بھی ہدایت حاصل نہ ہوئی کہ ہم ان سے پہلے بہت سی ایسی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں کہ جن کے رہنے اور بسنے کے مکانوں میں یہ لوگ چلتے پھرتے ہیں شکی ان قوموں کی تباہی میں اہل عقل کے لئے بڑی نشانیاں ہیں ۔

- 128 کیا ان لوگوں کو اس بات سے بھی ہدایت نصیب نہ ہوئی اور ان کو ہدایت میسر نہ ہوئی کہ ہم ان سے پہلے بہت سی قوموں اور بہت سے ایسے گروہوں کو ہلاک کرچکے ہیں کہ جن کے رہنے اور بسنے کے مکانوں اور مقامات میں یہ کفار مکہ جاتے آتے اور چلتے پھرتے ہیں بلاشبہ ان قوموں کی تباہی میں اہل عقل و فہم کے لئے بڑی نشانیاں ہیں۔ یعنی جو بستیاں اپنی نافرمانی کے باعث ان سے پہلے ہلاک کی جا چکی ہیں اور یہ ان کے اجڑے ہوئے مکانوں اور کھنڈروں میں چلتے پھرتے ہیں اور سفر میں وہ مقامات ا ن کی گزر گاہ بھی ہیں انہیں دیکھ کر انہیں ہدایت و بصیرت اور عبرت نہیں ہوتی اگر ان کو عقل ہوتی اور یہ فہم سے کام لیتے تو سابقہ اقوام کی تباہی میں موعظت اور ہدایت کی بڑی بڑی نشانیاں مضمر ہیں۔
Ayah 20:129

وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَكَانَ لِزَامًا وَّ اَجَلٌ مُّسَمًّىؕ Open ayah 20:129 in the Quran reader

اور اگر آپ کے رب کی طرف سے ایک بات کی پہل اور ایک وقت کا تعین نہ ہوچکا ہوتاتو ان پر عذاب لازمی طور پر ہوجاتا۔

- 129 اور اگر آپ کے رب کی طرف سے ایک بات پہلے نہ ہوچکی ہوتی اور ایک وقت کا تقرر اور تعین نہ ہوچکا ہوتاتو ان پر یقینی طور پر عذاب لازم ہوجاتا ۔ یعنی حضرت حق تعالیٰ ان کی گرفت کے متعلق اگر ایک بات پہلے طے نہ کرچکا ہوتا اور ان کے عذاب کا وقت مقرر نہ فرماتا تو ان پر عذاب لازم ہوجاتا اور ان کا بھینٹا ہوچکا ہوتا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں آخر وعدے پر بھینٹا ہوا کافروں اور مسلمانوں میں۔ 12
Ayah 20:130

فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ غُرُوْبِهَا١ۚ وَ مِنْ اٰنَآئِ الَّیْلِ فَسَبِّحْ وَ اَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضٰى Open ayah 20:130 in the Quran reader

سو جو کچھ یہ کافر کہتے ہیں اے پیغمبر اس پر آپ صبر کرتے رہئیے اور آفتاب نکلنے سے پہلے اور آفتاب کے غروب ہونے سے پہلے اپنے رب کی حمد کے ساتھ پاکی بیان کیا کیجیے اور رات کی بعض گھڑیوں میں بھی اپنے رب کی پاکی بیان کیجیے اور دن کے کناروں پر بھی تاکہ آپ خوش ہوں۔

- 130 سو اے پیغمبر یہ کام جو کچھ کہتے ہیں اس پر آپ صبر کیجیے اور برداشت سے کام لیجیے اور آفتاب کے طلوع ہونے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے اپنے رب کی حمد کے ساتھ پاکی بیان کیجیے اور رات کی بعض گھڑیوں میں اپنے رب کی پاکی بیان کیا کیجیے اور دن کے کناروں اور حدوں پر بھی پاکی بیان کیا کیجیے شاید کہ آپ راضی اور خوش ہوں۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں دن کی حدوں پر یعنی پہر پہر پر وقت ہے نمازوں کے سوائے پہلے پہر کے تو رضای ہوگا یعنی امت کو مدد ہوگی دنیا میں اور بخشش گناہوں کی آخرت میں تیری سفارش سے 12 اپنے پیغمبر کو کفار کی جانب سے جو اذیتیں پہنچائی جاتی تھیں ان کا علاج بتایا کہ صبر کرتے رہو اور نماز پڑھو صبر کی تلقین اور نماز کی تاکید یہ علاج ہے کفار کے ستانے کا ۔ اس آیت میں تمام نمازوں کی طرف اشارہ ہے قبل طلوع و غروب میں فجر و عصر کی طرف اشارہ ہے رات کی گھڑیوں میں مغرب، عشاء اور تہجد آگئی اور اطراف النہار میں ظہر کی نماز کی طرف اشار ہے یعنی حضرات نے قبل غروبہا میں ظہر عصر کو شامل کیا ہے اگر صبر کیا اور نماز کی پابندی رکھی تو اس قدر اجر وثواب ملے گا کہ آپ خوش ہوجائیں گے یا یہ کہ آپ کی ایسی مدد ہوگی اور ستانے والے ایسے مغلوب ہونگے کہ آپ خوش ہوجائیں گے یا یہ کہ آپ کی امت کو آپ کی سفارش سے بخشا جائے گا۔
Ayah 20:131

وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ۬ لِنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ١ؕ وَ رِزْقُ رَبِّكَ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:131 in the Quran reader

اور ہم نے کافروں کے مختلف گروہوں کو دنیاوی زندگی کی رونق کا جو سامان برتنے کو دے رکھا ہے تاکہ ہم اس سے ان کو آزمائیں آپ اس ساز و سامان کی جانب آرزو بھری نگاہ نہ کیجیے اور آپ کے رب کا عطیہ اس ساز و سامان سے بدرجہا بہتر اور بہت زیادہ دیرپا ہے

131 اور ہم نے کافروں کے مختلف گروہوں کو دنیوی زندگی کی رونق کا جو سامان برتنے کو دے رکھا ہیتا کہ ہم ان کو اس سے آزمائیں آپ اس سامان کی طرف آرزو بھری نظر نہ دوڑائیے اور آپ کے پروردگار کا عطیہ اور اس کی دی ہوئی بدرجہا بہتر اور دیرپا اور باقی رہنے والی ہے۔ یعنی منکرین کے مختلف طبقات کو جو ہم نے آزمانے کے لئے رونق اور عیش کے سامان دے رکھے ہیں ان پر نظر نہ دوڑائیے اور استحسان و اعجاب اور تمنا کی نظر نہ ڈالئے یعنی اس سامان کو اچھا سمجھنا یا ا ن کے سامان کو تعجب یا ان کے سامان اور رونق کی تمنا کرنا اور للچائی ہوئی نظر نہ ڈالو اور جو کچھ پروردگار نے دے رکھا ہے یا جو آخرت میں عطا ہونے والا ہے وہ آپ کے پر ورگدار کا عطیہ بدرجہا بہتر اور باقی رہنے والا ہے یعنی دائمی رونق اور عیش کے مقابلہ میں یہ سب کچھ بےحیثیت ہے اور نگاہ اٹھا کر دیکھنے کے قابل نہیں ہے۔ یہ اپنے پیغمبر کو فرمایا۔ دوسروں کے سنانے کو ورنہظاہر ہے کہ نبی کریم ﷺ نے کبھی کفار کے سامان آرائش کو نگاہ بھر کے نہیں دیکھا۔
Ayah 20:132

وَ اْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَ اصْطَبِرْ عَلَیْهَا١ؕ لَا نَسْئَلُكَ رِزْقًا١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُكَ١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوٰى Open ayah 20:132 in the Quran reader

اور اپنے گھر والوں کو بھی نماز کا حکم کیجیے اور خود بھی نماز کے پابند رہئیے اور ہم آپ سے روزی طلب نہیں کرتے روزی تو آپ کو ہم دیا کرتے ہیں اور بہتر انجام تو پرہیز گاری ہی کا ہے

- 132 اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم کرتے رہئیے اور خود بھی نماز کے پابند رہئیے ہم آپ سے روزی نہیں مانگتے اور روزی نہیں طلب کرتے روزی تو ہم آپ کو دیا کرتے ہیں اور بہتر انجام تو پرہیز گاری ہی کا ہے۔ یعنی جو بات زیادہ اہم اور قابل توجہ ہے وہ تو نماز ہے اپنے متعلقین سے بھی پڑھوائیے اور خود بھی پابند رہئیے کیونکہ خود ایک کام کو کرنا اور زبان سے دوسروں کو سمجھا نا زیادہ مفید اور ابلغ ہے ہم آپ سے روزی نہیں طلبک رتے جس طرح دنیا کے آقا غلاموں کو روزی کمانے پر مجبوری کرتے ہیں وہ آقا اور مالک روزی خود ہر ایک کو دیتا ہے وہ تو عبادت چاہتا ہے اور تمام مخلوق کو وہ خود روزی دیتا ہے اور انجام کارتقویٰ اور پرہیز گاری ہی کا بھلا ہے اس لئے کافروں کی رونق پر توجہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں اور خاوند غلام سے روزی کمواتے ہیں وہ خاوند بندگی چاہتا ہے روزی آپ دیتا ہے۔ 12
Ayah 20:133

وَ قَالُوْا لَوْ لَا یَاْتِیْنَا بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اَوَ لَمْ تَاْتِهِمْ بَیِّنَةُ مَا فِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰى Open ayah 20:133 in the Quran reader

اور اور یہ مشرک یوں کہتے ہیں کہ یہ پیغمبر اپنے رب کی جانب سے ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں لے آتا کیا ان لوگوں کے پاس کتب سابقہ کے مضامین کا مصداق نہیں پہنچا یعنی قرآن یا رسول

- 133 اور یہ منکریوں کہتے ہیں کہ یہ پیغمبر اپنے پروردگار کی جانب سے ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں لے آتا کیا ان لوگوں کے پاس کتب سابقہ اور صحف سابقہ کے مضامین کا مصداق نہیں پہونچا۔ یعنی جہاں ان مخالفین کے اور اعتراض ہیں منجملہ ان کے یہ بھی اعتراض کرتے ہیں کہ یہ کوئی نشانی خدا تعالیٰ کی جانب سے ہمارے پاس کیوں نہیں لے آتا۔ حضرت حق جل مجدہ نے جواب میں فرمایا کہ کیا یہ بات کافی نہیں ہے کہ اس رسول کا اور اس قرآن کریم کا کتب سابقہ میں ذکر موجود ہے اور جو صحائف اور کتب پہلے پیغمبروں پر نازل ہوئی ہیں جو مضامین ان میں سے وہی اس قرآن کریم میں ہے اور جن نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کا تذکرہ ان میں آیا ہے اسی کے مصداق یہ پیغمبر تشریف لائے ہیں اتنی صاف اور واضح نشانی کی موجودگی میں اور کسی نشانی کا مطالبہ ایک لا یعنی مطالبہ ہے خود قرآن کریم میں اتنا بڑا نشان ہے اور کتب سابقہ کے تمام مضامین کا محافظ اور معاون ہے کہ اس کے بعد کسی نشانی کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی اگلی کتابوں میں خبر ہے آخر زمانے کے رسول کی یا یہ معنی کہ پہلے پیغمبروں کی نشانی کفایت ہے یہ پیغمبر بھی انہیں باتوں کا تقید کرتا ہے کوئی بات نئی نہیں کہتا یا یہ نشانی کہ اگلی کتابوں کے موافق قصے بیان کرتا ہے۔ 12
Ayah 20:134

وَ لَوْ اَنَّاۤ اَهْلَكْنٰهُمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِهٖ لَقَالُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ وَ نَخْزٰى Open ayah 20:134 in the Quran reader

اور اگر ہم ان کو اس مصداق کے پہنچنے سے قبل کسی عذاب سے ہلاک کردیتے تو اس وقت یہ لوگ یوں کہتے اے ہمارے رب تو نے ہمارے پاس کوئی رسول کیوں نہیں بھیجا کہ ہم قبل اس کے کہ عذاب سے خوارد رسوا ہوں تیرے احکام کی پیروی کرتے۔

- 134 اور اگر ہم ان کو اس مصداق کے پہونچنے سے قبل کسی عذاب سے ہلاک کردیتے تو اس وقت یہ لوگ یوں کہتے کہ اے ہمارے پروردگار تو نے ہمارے پاس کوئی پیغمبر کیوں نہیں بھیجا تاکہ ہم تیرے احکام اور تیری کتاب اور تیرے کلام کی پیروی کرتے ذلیل و رسوا ہونے سے پہلے۔ یعنی اب تو یہ کہتے ہیں کہ نشانی کیوں نہیں لاتا اور اگر فرض کرو نزول قرآن کریم اور پیغمبر کی تشریف آوری سے قبل ہم ان کے کفر و شرک کی وجہ سے ہلاک و برباد کردیتے تو یہ قیامت کے دن یوں کہتے کہ آپ نے اس ذلت و رسوائی سے پہلے ہمارے پاس کوئی رسول کیوں نہیں بھیجان کہ ہم تیرے احکام کی پیروی کرتے اور تیرے کلام کا اتباع کرتے یعنی قیامت میں جہنم کا عذاب دیکھ کر دنیوی ہلاکت اور وہاں کے عذاب کا گلا کرتے کہ بعثت رسول سے پہلے ہم کو دنیا میں ہلاک کیوں کیا اور یہاں کی ذلت و رسوائی کا مستحق کیوں بنایا ذلت عذاب کی اور رسوائی غیروں کے سامنے۔
Ayah 20:135

قُلْ كُلٌّ مُّتَرَبِّصٌ فَتَرَبَّصُوْا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ اَصْحٰبُ الصِّرَاطِ السَّوِیِّ وَ مَنِ اهْتَدٰى۠ Open ayah 20:135 in the Quran reader

آپ ان سے فرما دیجیے تم اور ہم سب مستقل کے منتظر ہیں سو تم اور انتظار کرو اب عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا کہ سیدھی راہ چلنے والے کون ہیں اور راہ یافتہ کون ہے یعنی ہم یا تم۔

- 135 اے پیغمبر ! آپ ان سے فرما دیجیے کہ تم اور ہم سب کے سب منتظر ہیں سو تم اور انتظار کرو اب عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا کہ سیدھے راستے والے کون ہیں اور راہ یافتہ کون ہے۔ یعنی تم ہمارے انجام کے منتظر ہو اور ہم تہارے انجام کے منتظر ہیں لہٰذا چندے اور ٹھیر جائو اور انتظار کرلو مرنے کے بعد معلوم ہوجائے گا کہ سیدھی راہ والے کون ہیں اور وہ کون ہے جو راہ یافتہ اور منزل مقصود تک پہنچنے والا ہے یعنی مرنے کے بعد ہی یہ سب معلوم ہوجائے گا اور قیامت میں تو سب کچھ آشکارا ہی ہوگا۔