Ayah 21:1- 1 ان منکرین کے حساب کا وقت قریب آ لگا ہے اور ان کی حالت یہ ہے کہ یہ ابھی غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور اعراض و بےاعتنائی کا برتائو کر رہے ہیں۔ یعنی قیامت صغریٰ اور قیامت کبریٰ ہر روز قریب ہو رہی ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ یہ غفلت و جہالت میں پڑے ہوئے ہیں اور اگر کوئی نصیحت کی بات سنائوتو اس کو ٹلا جاتے ہیں اور اس سے منہ پھیر لیتے ہیں اور بےپروائی کا برتائو کرتے ہیں۔
Ayah 21:2-2 ان کے پاس ان کے رب کی جانب سے کوئی نئی نصیحت اور تازہ نصیحت نہیں آتی مگر یہ اس کو کھیلتے ہوئے سنتے ہیں یعنی جب کوئی نئی نصیحت آتی ہے اور ان کو خدا کا کلام سنایا جاتا ہے تو یہ کھیلتے اور استہزا کرتے رہتے ہیں یعنی اس کو کھیل اور استہزا کی حالت میں سنتے ہیں جو نہ سننے کے برابر ہے۔
Ayah 21:3-3 ان کے دل اور جانب مشغول ہوتے ہیں اور یہ ظالم لوگ چپکے چپکے سر گوشیاں کرتے ہیں کہ یہ محمد ﷺ کچھ نہیں مگر تم ہی جیسا ایک آدمی ہے تم تو آنکھوں دیکھتے کیوں جادو میں پھنسنے کو آتے ہو یعنی سنتے وقت ان کے دل اور جانب متوجہ و مشغول ہوتے ہیں اور چپکے چپکے سازشیں کرتے ہیں اور لوگوں سے کہتے ہیں کہ یہ محمد ﷺ بھی تم ہی جیسا ایک آدمی ہے یہ کسی خاص شخصیت کا مالک نہیں ہے اور نہ یہ پیغمبر ہے اور یہ جو کلام سناتے ہیں اس میں ایک قسم کی دلکشی ضرور ہے مگر وہ دل کشی جادو کی ہے اور یہ جادو آمیز کلام ہے لہٰذا تم دیکھتے بھالتے اور جانتے بوجھتے کیوں جادو میں مبتلا ہونے کو آتے ہو۔
مکہ میں کافروں کی قوت اگرچہ کمزور تھی لیکن پھر بھی پروپیگنڈہ کرنے والوں کی عام عادت یہی ہے کہ وہ چپکے چپکے لوگوں کو اپنا ہم خیال بناتے ہیں اس لئے فرمایا واسروالنجوی یعنی چپکے چپکے سرگوشیاں کرتے ہیں۔
Ayah 21:4-4 پیغمبر نے فرمایا میرا پروردگار ہر باتک و خواہ وہ آسمان میں ہو یا زمین میں ہو خوب جانتا ہے اور وہ بڑا سننے والا اور بڑا جاننے والا ہے یعنی کوئی بات اس سے پوشیدہ نہیں ہے وہ ان کے اقوال کو سنتا اور ان کے افعال کو جانتا ہے۔
Ayah 21:5-5 ان لوگوں نے صرف جادو ہی نہیں کہا بلکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ قرآن کریم پریشان خواب و خیالات ہیں اور پر یاشن خواب و خیالات کا مجموعہ ہے بلکہ محمد ﷺ نے خود اس کو اپنے قصد و اختیار سے گھڑ لیا اور بنا لیا ہے نہیں بلکہ یہ محمد ﷺ ایک شاعر ہیں اور شعر کہتے ہیں اگر یہ واقعی پیغمبر ہیں تو کوئی نشانی ایسی لائیں جیسے پہلے لوگ رسول بنائے گئے اور جیسی نشانیوں کے ساتھ وہ رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں کفار مکہ قرآن کریم کے باری میں مختلف خیال رکھتے تھے کوئی جادو کہتا اور حضور ﷺ کو جادوگر یا جادو زدہ کہتا کوئی اس سے بڑھ کر پریشانی خوابی اور پریشان خیالی کا مجموعہ بتاتا کوئی اس سے بڑھ کر یہ کہتا کہ انہوں نے خود اپنے اختیار اور ارادے سے گھڑ لیا ہے کوئی یہ کہتا کہ یہ ایک شاعر ہے اور یہ سجع بندی اور شعر گوئی ہے اور یہ مطالبہ کرتے کہ اچھا یہ رسول ہیں تو جس طرح ان سے پہلے رسول نشانیاں لے کر آتے تھے ویسے ہی یہ بھی کوئی بڑی نشانی لے کر آتے۔ حالانکہ یہ بدنصیب نہ پہلے رسولوں کو جانتے تھے نہ ان کے معجزات کی خبر تھی نہ ان کو یہ معلوم تھا کہ منہ مانگی نشانی کے بعد ایمان نہ لانے کا انجام کیا ہوتا ہے یہ باتیں محض مسلمانوں کو تنگ اور پریشانی کنے کے لئے کرتے تھے چناچہ حضرت حق تعالیٰ جواب فرماتے ہیں۔
Ayah 21:6-6 ہم نے جس بستی کو ان سے پہلے ہلاک کیا وہ تو باوجود نشان دیکھنے یک ایمان نہیں لائیتو کیا یہ لوگ نشان دیکھ کر ایمان لے آئیں گے۔ یعنی پہلے لوگ فرمائشی نشان دیکھ کر بھی ایمان نہ لائے آخر ہم نے ان کو ہلاک و برباد کر دیاتو کیا یہ لوگ جو روز روز نئی نئی فرمائشیں کرتے ہیں اگر ا ن کے فرمائشی نشانات دکھائے گئے کیا یہ لوگ ایمان لے آئیں گے اور ظاہر ہے کہ یہ بھی پہلوں کی طرح ایمان نہیں لائیں گے اور پہلوں کی طرح ان پر بھی عذاب استیصال کا قاعدہ جاری ہوگا اور اللہ تعالیٰ کی مشیت ان کی تباہی و ہلاکت کی مقتضی نہیں ہے اسلئے منہ مانگی نشانی اور فرمائشی معجزہ نہیں دکھایا جاسکتا۔ باقی نبی کریم ﷺ سے صد ہا نشانات و معجزاتکا صدور ہوا جو پوشیدہ نہیں ہے۔
Ayah 21:7-7 اور اے پیغمبر ! ہم نے آپ سے پہلے بھی صرف آدمیوں کو ہی رسول بنا کر بھیجا ہے جن کی طرف ہم وحی بھیجا کرتے تھے ۔ مگر تم کو معلوم نہیں ہے تو اہل ذکر یعنی اہل کتاب سے پوچھو لو۔
یہ شاید اس بات کا جواب ہے کہ رسول بشر نہیں ہونا چاہئے بلکہ فرشتہ ہونا چاہئے ارشاد فرمایا کہ آج تک جتنے رسول آئے سب مرد ہی آئے اور مردوں ہی پر ہم وحی نازل کرتے رہے یہ ایک ایسی کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ سب جانتے ہیں اگر تم کو اتنی بات بھی نہیں معلوم تو تم اتنا بھی نہیں جانتیت و یہود و نصاریٰ جو تمہارے نزدیک بھی مسلم ہیں ان اہل کتاب سے دریافت کرلو کہ پہلے رسول بھی آدمی ہوا کرتے تھے یا فرشتے ہوتے تھے۔
Ayah 21:8-8 اور ہم نے ان انبیاء سابقین کے ایسے جسد اور ایسے جسم نہیں بنائے تھے کہ وہ کھانا نہیں کھاتے ہوں اور نہ وہ دنیا میں ہمیشہ رہنے والے تھے۔ یہ شاید اس بات کا جواب ہے کہ یہ پیغمبر کھانا کیوں کھاتا ہے اور یہ وفات کیوں پائے گا سو بتایا کہ آج تک کوئی رسول ایسا نہیں آیا کہ فرشتوں کی طرح کھانا نہ کھاتا ہو اور نہ ہم نے اس کے جسم کی ساخت ایسی رکھی کہ وہ کھانے سے بےنیاز ہو پس جس طرح اور پہلے رسول آدمی تھے اور کھانا کھانے کی احتیاج رکھتے تھے اسی طرح یہ پیغمبر بھی فرشتہ نہیں ہے یہ آدمیوں کی طرح کھانا بھی کھاتا ہے اور اس کی وفات بھی ہوگی کیونکہ کوئی رسول دنیا میں ہمیشہ رہین کو نہیں آیا۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی موت بھی آئی ان کو 12
Ayah 21:9-9 پھر ہم نے جو وعدہ ان رسولوں سے کیا تھا اس کو سچا کردیا سو ان رسولوں کو اور جن جن کو ہم نے چاہا عذاب موعود سے بچا لیا اور حد اطاعت و عبودیت سے گزر جانے والوں کو ہم نے ہالک کردیا۔ یعنی جو وعدے ان پیغمبروں سے کئے تھے وہ یہی کہ تمہاری تکذیب کرنے والوں اور معاندوں کو ہلاک کر دوں گا اور تم کو اور تمہارے ساتھ جس کو چاہوں گا بچا لوں گا۔ چناچہ ایسا ہی ہوا کہ میں نے معاندین اور سرکشوں کو حد سے گزر گئے تھے ہلاک کردیا اور انبیاء (علیہم السلام) کو اور ان کے ہمراہ جن جن کو چاہا بچا لیا ایسا ہی ایک دن اس پیغمبر یعنی محمد ﷺ کے مخالفوں اور معاندوں کے ساتھ بھی ہوگا کہ حد سے نکلنے والے ہلاک ہوں گے اور پیغمبر اور اس کے متبعین کو بچا لیا جائے گا۔
Ayah 21:10- 10 بلاشبہ ہم نے تمہارے لئے ایک ایسی کتاب اتاری ہے جس میں تمہاری نصیحت اور خیر خواہی کا کافی سامان موجود ہے کیا پھر بھی تم نہیں سمجھتے۔ یعنی ہم نے تمہارے لئے ایک ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمہارے لئے کافی نصیحت ہے اور جس میں تمہارا ذکر بھی ہے اور اس میں تمہاری عزت اور شرف بھی ہے اور تمہارے لئے موجب فخر بھی ہے اور تمہارے دین اور دنیا کی حفاظت کا سامان بھی ہے اگر تم اس پر ایمان لے آئو تو یہ سب باتیں تم کو میسر ہوجائیں کیا اب بھی تم سمجھ سے کام نہیں لو گے۔ ذکرکم کی تفسیر کئی طرح بیان کی گئی ہے ہم نے تیسیر میں تمام اقوال کو جمع کردیا ہے۔
Ayah 21:11- 1 1 اور ہم نے کتنی ہی بستیوں کو جو ظالم تھیں یعنی جن کے رہنے والے ظالم تھے ہلاک کر ڈالا اور چورا چورا کردیا اور ان بستیوں کو ہلاکت کے بعد ہم نے دوسرے لوگوں کو پیدا کردیا۔ یعنی ظالموں اور کافروں کو مٹا کر ان کی جگہ دوسروں کو پیدا کردیا۔
Ayah 21:12- 12 سو جب ان ظالموں کو ہمارے عذاب کا احساس ہوا اور انہوں نے ہمارے عذاب کی آہٹ پائی تب ہی اس بستی سے بھاگنے لگے۔ یعنی عذاب کے خوف سے ایڑ لگا کر بھاگے۔ ایڑ لگانا شاید سواریوں پر سوار ہو کر بھاگے ہوں گے اس بھاگنے پر ارشاد ہوا۔
Ayah 21:13- 13 ایڑ لگا کر بھاگو نہیں اور اسی سامان عیش کی طرف جو تم کو دیا گیا تھا واپس چلو اور نیز اپنے رہنے کے گھروں کی طرف واپس ہو جائو اور پھر چلو شاید تم سے کچھ پوچھ گچھ کی جائے۔ یہ محض تعریض اور تحکم کے طور پر فرمایا اور نہ سامان عیش اور مکان وغیرہ کہاں رہا۔ یعنی بھاگ کر کہاں چلے واپس ہی اس عیش میں اور پانے گھروں میں آ جائو جہاں تم مزے اڑایا کرتے تھے اور خدا کے پیغمبروں کی تکذیب کے مرتکب ہوتے تھے شاید تم سے پوچھا جائے کہ کہو کیا گزری اور وہ س امانت عیش کہاں گیا یا شاید یہ مطلب ہو کہ تم قوم کے بڑے تھے ہر مشورے میں بلائے جاتے تھے اور ہر مجلس میں یاد کئے جاتے تھے واپس جائو شاید تمہارے مشورے اور تمہاری رائے کی کسی کو ضرورت ہو۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی یہ بات ہوئی تو تھی۔ خلاصہ ! یہ ہے یہ ارشاد تہکما ہے۔
Ayah 21:14- 14 وہ لوگ کہنے لگے ہائے ہماری خرابی اور ہماری کم بختی بیشک ہم ہی ظالم تھے یعنی عذاب خداوندی کو دیکھ کر کہنے لگے اور اپنی زیادتی اور ظلم کا اعتراف کرنے لگے۔
Ayah 21:15- 15 ان کی چیخ و پکار یہی رہی یہاں تک کہ ہم نے ان کو کٹی ہوئی کھیتی اور بجھی ہوئی آگ کی طرح ڈھیر کردیا۔ یعنی عذاب آجانے کے بعد ندامت کچھ مفید نہ ہوئی اور ظلم کا اعتراف کچھ کام نہ آیا اور ہم نے ایسا کردیا جیسے کٹی ہوئی کھیتی یا بجھی ہوئی آگ کہ سوائے کوڑے اور راکھ کے ڈھیر کے اور کچھ نہیں۔
Ayah 21:16- 16 اور ہم نے آسمان و زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے ان کو اس طور پر نہیں بنایا کہ ہم کوئی بےکار اور عبث فعل کرنیوالے تھے۔ یعنی اوپر کی آیتوں میں رسالت کا اثبات تھا اب توحید کے دلائل کا ذکر ہے مطلب یہ ہے کہ آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے مابین ہم نے بنایا اور پیدا کیا ہے وہ کوئی بیکاری کا مشغلہ یا فعل عبث نہیں ہے بلکہ یہ تمام مصنوعات ہماری توحید اور وحدانیت پر دلالت کرنے والی ہیں یہ ہم نے کوئی کھیل کے طور پر نہیں بنائی ہیں۔
Ayah 21:17- 17 اور اگر ہم کو کوئی کھیل یا مشغلہ کرنا ہی ہوتا اور ہم کھیل کا ارادہ کرتے تو اپنے پاس ہی کی چیزوں کو مشغلہ کرتے بشرطیکہ ہم ایسا کرنیوالے ہوتے۔ یعنی ہماری شان کے لائق نہیں کہ عالم کو عبث بنائیں اور اگر مقصد کھیل ہوتا تو عالم روحانیت اور عالم مغیبات کی چیزوں سے کھیلتے یا یہ مطلب ہے کہ اگر بیٹا اور بیوی کا مشغلہ منظور ہوتا تو عالم روحانیت کی مخلوق کو بیٹا اور بیوی بنا کر ان سے اپنا دل بہلاتے آخری تفسیر حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے منقول ہے آیت کی تفسیر کئی طرح کی گیء ہے ہم نے تیسیر میں بعض اقوال کو اختیار کرلیا ہے۔ (واللہ اعلم بالصواب)
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کھلونا یعنی بیٹا 12
Ayah 21:18- 18 زمین و آسمان اور ان کی درمیانی چیزوں کو عبث اور کھیل نہیں بنایا بلکہ حق کو باطل کی آویزش میں حق کو ثابت کرنا مقصود ہے لہٰذا اثبات حق کے لئے ہم حق کو باطل پر کھینچ مارتے ہیں اور وہ حق اس باطل کا سر کچل دیتا ہے اور اس کا بھیجا نکال دیتا ہے اور وہ باطل اچانک نابود ہوجاتا ہے اور جو بےبنیاد باتیں تم گھڑتے ہو ان کی وجہ سے تمہارے لئے بڑی خرابی ہوگی۔ یعنی یہ مصنوعات اثبات توحید اور اثبات حق کے لئے بڑی طاقت ہیں جو شرک اور باطل کو کچل کر رکھ دیتی ہیں اور باطل بھاگتا نظر آتا ہے یعنی یہ چیزیں غلبہ حق کے لئے بنائی گئی ہیں تاکہ حق غالب اور باطل مغلوب ہو اور باطل کی بالکلیہ نفی ہوجائے اور جو باتیں تم لوگ دین حق کے خلاف گھڑتے رہتے ہو ان کی وجہ سے تمہارے لئے بڑی خرابی ہوگی دنیا میں بھی عذاب کے مستحق ہو گے اور آخرت میں تو بھی عذاب اور ہلاکت ہے ہی۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ غیب سے قدرت کا ایک نمونہ بھیجتا ہے جھوٹ کے مٹانے کو ان کاملوں کو تم کہتے ہو خدا کا بیٹا۔ 12
Ayah 21:19- 19 اور جو کوئی بھی آسمان و زمین میں ہے سب اللہ تعالیٰ کے مملوک ہیں اور جو اس کے پاس رہتے اور اس کے مقرب ہیں ان کی حالت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت سے نہ تو سرکشی کرتے ہیں اور نہ اس کی عبادت سے تھکتے ہیں۔ یعنی جب تمام مخلوق اس کی مملوک ہے تو اللہ تعالیٰ کی شریک کس طرح ہوسکتی ہے اور جو مخلوق اس کے نزدیک اور اس کی مقرب ہے یعنی فرشتے ان کی حالت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت سے سرتابی اور تکبر نہیں کرتے بلکہ ہر وقت اس کی عبادت اور اطاعت و فرماں برداری میں لگے رہتے ہیں اور اس کی عبادت کرتے کرتے تھکتے بھی نہیں جب مقربین اور ساکنان عالم بالا کی یہ حالت ہے تو خاکی مخلوق کو کس قدر عبادت کی ضرورت ہے ؟
Ayah 21:20-20 وہ فرشتے رات اور دن اس کی تسبیح اور تقدیس کرتے رہتے ہیں اور اس کی پاکی بیان کرتے رہتے ہیں اور وہ تسبیح و تقدیس اور اللہ تعالیٰ کی عبادت سے ٹھہرتے اور رکتے نہیں اور تسبیح کو موقوف نہیں کرتے۔ یعنی جس طرح انسان سانس لیتے ہیں اور سانس لینے میں کوئی کشقت نہیں ہوتی اور ہر وقت سانس لیتے رہتے ہیں اسی طرح فرشتے کسی وقت عبادت میں کاہلی نہیں اور ٹھہرتے نہیں یہی حالت جنت میں اہل جنت کی ہوگی کہ ذکر الٰہی ان کے سانس میں الہام کردیا جائے گا اور جنت میں بےتکلف اور بلامشقت ذکر کرتے رہیں گے آگے معبود ان باطلہ کا دور سے دلائل سے رد فرماتے ہیں۔
Ayah 21:21-2 1 کیا ان لوگوں نے زمین کی مخلوق میں سے کچھ ایسے معبود بنا رکھے ہیں اور تجویز کر رکھے ہیں کہ وہ مردوں کو زندہ کر کے اٹھا کھڑا کریں۔ یعنی یہ بڑے نادان اور جاہل ہیں کہ زمین کی پیدا شدہ مخلوق کو معبود بناتے ہیں اور ان میں اتنی صلاحیت بھی نہیں کہ وہ کسی مردے کو زندہ کرسکیں۔ زمین کا ذکر شاید اس لیء فرمایا کہ زمین آسمان سے پست ہے ان کی پست خیالی ملاحظہ ہو کہ پتھروں اور درختوں کو معبود بناتے ہیں جو اپنی زندگی اور بقا کے خود کفیل نہیں وہ کسی مردے کو بھلا کب زندہ کرسکتے ہیں اس سوال سے مقصود مشرکوں پر تعریض اور ان کی تحمیق ہے ورنہ ان کا معبود بناناتو واقع اور ظاہر ہے۔
Ayah 21:22-22 اگر زمین و آسمان میں سوائے اللہ تعالیٰ کے دوسرے معبود تھے اور دوسرے معبودوں کی فرماں روائی ہوتی تو یقینا دونوں زمین و آسمان کبھی کے درہم برہم ہوچکے ہوتے پس اللہ تعالیٰ جو عرش بریں کا مالک ہے وہ ان تمام باتوں سے پاک ہے جو یہ لوگ بیان کرتے ہیں۔ یعنی اگر فرض کرو کہ زمین و آسمان کی تخلیق اور تدبیر و امور میں چند معبود شریک ہوتے تو ان میں باہمی مخالفت کی حالت میں زمین و آسمان کا قائم رہنا ناممکن تھا اور اگر اتفاق بھی رہتا تب بھی ایک دوسرے کا محتاج ہوتا اور اگر ایک ہی تدابیر امور کا مالک ہوتا تو دوسرا بیکار رہتا اور یہ سب باتیں حضرت حق تعالیٰ کی شان کے منافی ہیں اور جب زمین و آسمان میں کوئی خرابی واقع نہیں ہوتی تو تعداد آلہ کا قول باطل ہوگیا۔ لہٰذا عرش بریں کے مالک کی شان میں جو باتیں یہ کہتے ہیں وہ ان سے پاک اور منزہ ہے۔
Ayah 21:23-23 اس کی عظمت و شان ایسیے کہ وہ جو کچھ کرتا ہے اس سے اس کے کئے کی کوئی باز پرس نہیں کرسکتا اور ان سے باز پرس کی جاسکتی ہے۔ یعنی وہ ایسا مالک و مختار اور قادر مطلق ہے کہ وہ جو کچھ کرے اس پر اس سے کوئی باز پرس کرنے والا نہیں اور باقی تمام مخلوقات سے یہ پوچھا جاسکتا ہے کہ تم نے ایسا کیوں کیا اور ایسا کیوں نہیں کیا۔
خلاصہ ! یہ کہ اللہ تعالیٰ تمام مخلوق سے باز پرس کرسکتا ہے اور اس سے کوئی دوسرا باز پرس نہیں کرسکتا جس کی یہ عظمت و شان ہے کہ اس کی معبودیت میں کوئی دوسرا کس طرح شریک ہوسکتا ہے۔
Ayah 21:24-24 کیا ان مشرکوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں آپ ان سے کہئے کہ اچھا تم اپنے دعوے پر دلیل لائو اور ان معبود ان باطلہ کی عبادت پر کوئی سند پیش کرو یہ میرے ساتھ والوں کا قرآن کریم اور مجھ سے پہلے لوگوں کی کتابیں موجود ہیں یعنی ان کو دیکھ لو ان میں کہیں شرک کی کوئی دلیل نہیں بلکہ اصل واقعہ یہ ہے کہ ان میں کے اکثر لوگ حق بات کا یقین نہیں رکھتے اور اس حق بات سے روگردانی اور اعراض کرتے ہیں۔ یعنی دلیل کی دو ہی صورتیں ہیں یا تو کوئی عقلی دلیل ہو تو ان کے پاس کوئی عقلی دلیل تو ہے نہیں اور جو دلائل اوپر اثبات توحید کے سلسًلے میں برہان تمانع وغیرہ پیش ہوئے ان کے بعد ان کی ہمت ہی کیا ہوسکتی ہے کہ کوئی عقلی دلیل پیش کرسکیں۔
اب رہی نقلی دلیل تو اس کی حالت یہ یہ کہ میری امت کا یہ قرآن کریم موجود ہے اور پہلے لوگوں کی توریت و انجیل وغیرہ موجود ہیں ان میں کہیں کوئی شرک کے جواز کی دلیل ہو تو وہ لے آئو حالانکہ کسی سماوی مذہب میں اور کسی سماوی کتاب میں کہیں شرک کا ذکر نہیں۔
دلیل کے فقدان کے باوجود ان کی حالت یہ ہے کہ ان میں اکثر دین حق کو نہ سمجھتے ہیں اور نہ یقین کرتے ہیں بلکہ امر حق سے روگردانی اور اعراض کا برتائو کرتے ہیں۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں پہلے ان معبودوں کا ذکر فرمایا جن کو برابر خدا کے کوئی سمجھے اگر دو حاکم ہوتیت و جہان خراب ہوتا۔ اب ان کا ذکر فرمایا جو خدا کے نائب ٹھیراتے ہیں اس کو مالک و سند چاہئے اس کے بغیر نائب کیونکہ ہوئے۔ 12 خلاصہ ! یہ کہ اللہ تعالیٰ کے برابر سمجھنے والوں کا بھی رد فرمایا او جو نائب سمجھ کر عبادت کرتے ہیں ان کا بھی رد فرمایا۔
Ayah 21:25-25 اور اے پیغمبر ہم نے آپ سے پہلے کوئی ایسا رسول نہیں بھیجا جس پر یہ وحی نہ بھیجی ہو کہ میرے سوا کوئی قابل پرستش معبود نہیں ہے پس میری ہی بعبادت کیا کر۔ یعنی آپ سے پہلے جتنے رسول بھی ہم نے بھیجے ان کو ہم نے یہی حکم بھیجا کہ میں ہی حقیقی معبود ہوں میرے سوا کوئی اور معبود برحق نہیں ہے پس میں ہی عبادت کے لائق ہوں اور میری ہی عبادت کیا کرو۔
Ayah 21:26-26 اور یہ منکر یوں کہتے ہیں کہ رحمان اولاد رکھتا ہے وہ جملہ عیوب سے پاک ہے فرشتے د خدا کی بیٹیاں نہیں بلکہ اس کے معزز بندے ہیں بعض کفار مکہ فرشتوں کے متعلق یہ کہتے تھے کہ وہ خدا کی بیٹیاں ہیں حق تعالیٰ نے رد فرمایا کہ وہ اولاد سے پاک ہے خواہ بیٹا ہو یا بیٹی وہ فرشتے تو اللہ کے ذی عزت اور معزز بندے ہیں۔
Ayah 21:27-27 باوجود مقرب اور محترم ہنے کے حضرت حق تعالیٰ سے بات کرنے میں پیش قدمی نہیں کرسکتے اور اس سے بڑھ کر نہیں بول سکتے اور وہ سب فرشتے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق عمل کرتے ہیں۔ یعنی باوجود ذی مرتبت ہونے کے ان کی یہ مجال نہیں کہ حضرت حق کی مرضی کے خلاف زبان کھول سکیں یا اس کے آگے بڑھ کر بول سکیں اور اس کے ہر حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔
Ayah 21:28-28 اللہ تعالیٰ ان کے اگلے اور پچھلے حالات کو خوب جانتا ہے اور وہ فرشتے بجز اس شخص کے کسی دوسرے کی سفارش نہیں کرسکتے جس کے حق میں اللہ تعالیٰ کی مرضی ہو اور وہ اس کی ہیبت سے ڈرتے رہتے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے تمام اگلے پچھلے حالات کو جانتا ہے اور ان کی یہ طاقت بھی نہیں کہ کسی کی سفارش کریں البتہ جس کے اللہ تعالیٰ کی مرضی پاتے ہیں اور جس کے حق میں اس کی مرضی ہوتی ہے اس کے علاوہ کسی دوسرے لئے سفارش بھی نہیں کرسکتے ان کے خوف و خشیت کی یہ حالت ہے کہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی ہیبت و جلال سے ڈرتے رہتے ہیں۔
Ayah 21:29-29 اور باوجود اس مغلوبیت اور محکومیت کے ان میں سے جو شخص یوں کہے کہ خدا کے سوا میں معبود ہوں تو ہم اس کو جہنم کی سزا دیں گے ہم ظالموں اور نا انصافوں کو ایسی ہی سزا اور ایسا ہی بدلہ دیا کرتے۔ یعنی جن کے متعلق تم اولاد کی نسبت کرتے ہو اگر ان میں سے کبھی کوئی الوہیت کا مدعی ہو جائیتو ہم اس کو بھی جہنم کا عذاب دیں گے اور وہی سزا تجویز کریں گے جو ہر ظالم اور دعوئے خدائی کرنے والے کو دی جانے والی ہے وہ سب ہمارے زیر اقتدار اور ہمارے پوری طرح بس میں ہیں۔
Ayah 21:30-30 کیا ان لوگوں کو جو کفر و انکار کے مرتکب ہیں یہ بات معلوم نہیں کہ آسمان و زمین دونوں بند تھے یعنی نہ آسمان سے بارش ہوتی تھی اور نہ زمین سے روئیدگی ، پھر ہم نے ان دونوں کو کھول دیا اور ہم نے ہر جاندار کو پانی سے بنایا ہے کیا اس پر بھی یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔ یعنی جب زمین پر کوئی مخلوق نہ تھی تو آسمان و زمین بھی بند تھے نہ آسمان سے بارش ہوتی تھی اور نہ زمین سے کچھ اگتا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا ملہ سے دونوں کو کھول دیا اور آسمان سے بارش شروع ہوئی اور زمین کے مسامات کھل گئے اور نباتات اگنی شروع ہوئی اور ہم نے ہر چیز کو بالواسطہ یا بلاواسطہ پانی سے بنایا ہے کیا پھر یہ لوگ ان باتوں کو سن کر بھی ایمان نہیں لاتے اور ایمان لانے پر آمادہ نہیں ہوتے پہلے جب زمین پر مخلوق نہ تھی تو نہ پانی تھا اور نہ نباتات تھی۔
جیسا کہ اب بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ برسات کے مہینوں میں بارش ہوتی ہے اور برسات کا موسم نہ ہو تو بارش بالکل نہیں ہوتی یہی حال پہلے تھا۔
پانی سے پیدا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ پانی سے زندگی ہے پانی اور خوراک نہ ہو تو تولید بھی بند ہوجائے اور مخلوق کی زندگیاں ختم ہوجائیں یعنی ان چیزوں کا علم ہونے کے بعد اور اللہ تعالیٰ کی کھلی ہوئی نشانیوں کے دیکھنے کے بعد بھی کیا یہ لوگ ایمان لانے پر تیار نہیں یہ تفسیر عبداللہ بن عباس ؓ سے منقول ہے۔ رتق اور فتق کے سلسلہ میں بعض اور اقوال بھی ہیں مثلاً زمین آسمان ملے ہوئے تھے ان کو اللہ تعالیٰ نے جدا کیا یا عالم عدم میں دونوں یکجا تھے ۔ پھر اللہ تعالیٰ کی قدرت بالغہ نے ان کو وجود بخشا اور دونوں کو اپنی اپنی جگہ قائم کیا اور دونوں کو کام میں لگا دیا۔ (واللہ اعلم)
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں منھ بند تھے یعنی ایک چیز تھے زمین میں سے نہریں اور کانیں اور سبزے بھانت بھانت نکالے آسمان میں سے کئے ستارے ہر ایک کا گھر جدا اور چال جدی اور جان دار بنائے یعنی جانور پانی سے یعنی نطفے سے۔ 12
Ayah 21:31.31 اور ہم نے زمین میں اس لئے بھاری بھاری پہاڑ بنائے کہ وہ زمین ان لوگوں کو لے کر نہ ہلنے لگے اور ہم نے ان پہاڑوں میں کشادہ کشادہ گھاٹیاں اور گھاٹے بنائے تاکہ وہ لوگ منزل مقصود تک پہنچ سکیں۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی ایک ملک کے لوگ دوسرے ملک والوں سے مل سکیں اگر پہاڑ ایسے ڈھب پر پڑتے کہ راہیں بند ہوتیں تو یہ بات کہاں تھی۔ 12
Ayah 21:32-32 اور ہم نے اپنی قدرت کاملہ سے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنایا اور ان لوگوں کی حالت یہ ہے کہ یہ اس کی نشانیوں سے اعراض اور روگردانی کرتے ہیں۔ یعنی آسمان ایک چھت کی طرح معلوم ہوتا ہے نہ ٹوٹتا ہے نہ پرانا ہوتا ہے نہ اس میں کوئی شگاف اور ڈراڑ ہے یغیر کسی ستون کے قائم ہے ہر طرح سے محفوظ ہے کسی شیطان رجیم کو اس میں جانے کی ہمت نہیں اس کی نشانیاں یہ کہ اندھیرا اجالا رات اور دن کا تغیر و تبدل ان باتوں پر دھیان نہیں دیتے۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں بچائو کی چھت یعنی کوئی اس کو توڑ نہیں سکتا اور اس کے نمونے تارے اور چاند اور رات اور دن 11
Ayah 21:33-33 اور وہ قادر مطلق ایسا ہے جس نے رات اور دن کو اور سورج و چاند کو بنایا یہ سب آسمان یعنی اپنے اپنے مدار پر تیرتے رہتے ہیں۔ مدار کو خاص مناسبت سے فلک فرمایا مدار پر اس طرح گھومتے اور چکر لگاتے ہیں جس طرح کوئی پانی میں تیرتا ہے۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی اپنی راہ پر ہیں اس سے نہیں ہٹتے 12 یعنی اجرام علویہ بھی اس کے اسی طرح زیر نگیں ہیں جس طرح عالم سفلی پر اس کا تصرف ہے جس کے لئے جو جگہ مقرر کردی ہے اسی پر وہ حرکت کرتا رہتا ہے۔
Ayah 21:34-34 اور اے پیغمبر ! ہم نے آپ سے پہلے بھی کسی بشر کے لئے ہمیشہ زندہ رہنا تجویز نہیں کیا پھر اگر آپ کا انتقال ہوجائے اور آپ کی وفات ہوجائے تو کیا یہ آپ کے مخالف ہمیشہ جیتے رہیں گے۔ پیغمبر (علیہ الصلوۃ والسلام) کی بعثت اور آپ کی نبوت پر کفار مکہ کے دو اعتراض تھے ایک تو یہ کہ اگر یہ نبی ہوتا تو اس پر حوادثات بشریٰ کیوں نازل ہوتے ہیں۔ مثلاً ضعیف ہونا کمزور ہونا، بوڑھا ہونا مرنا دوسرے یہ کہ اگر اس نبی کو مرنا ہے تو چند دن اور انتظار کرلو اس کے مرنے کے بعد یہ ساری چہل پہل ختم ہوجائے گی۔ اس کی آنکھیں بند ہوئیں او یہ تمام کارخانہ اور ڈھونگ جو اس نے بنا رکھا ہے سب درہم برہم ہوا حضرت حق نے پہلی بات کا جواب آیت کے پہلے حصہ میں دیا کہ موت اور نبوت میں کوئی منافات نہیں۔ موت سب پیغمبروں کے لئے ہے کسی کو ہمیشہ زندہ رہنا نہیں ہے۔
رہا پیغمبر کو موت کا اس توقع پر انتظام کرنا کہ یہ مرجائے گا تو ہم مزے کریں گے اور رسوم شرکیہ کے اجراء میں آزاد ہوں گے اس کا جواب آیت کے دور سے حصے میں ہے کہ اگر یہ مرجائے گا تو تم کیا زندہ بیٹھے رہو گے۔
یہ مرگ عدد جائے شادمانی نیست
کہ زندگی مانیز جائو دانی نیست
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کافر کہتے تھے اس شخص تک ہے یہ دھوم جہاں یہ مرا پھر کچھ نہیں۔ 2 ؎
Ayah 21:35-35 موت کا کوئی خاص تعلق پیغمبر ہی سے نہیں بلکہ ہر جاندار موت کا مزہ چکھنے والا ہے اور ہم تمہارے آزمانے اور تمہارے آزمائش کو تمہیں بھلائیا ور برائی کے ساتھ جا نچا کرتے ہیں اور تم سب کی بازگشت ہماری ہی طرف ہے اور تم سب ہماری لرف لوٹائے جائو گے۔ یعنی موت کا معاملہصرف پیغمبر ہی کے ساتھ نہیں بلکہ ہر جاندار کو مرنا اور موت کا مزہ چکھنا ہے اس زندگی میں جو اچھے اور برے حالات پیش آتی ہیں اس سے تم کو خوب آزمانا مقصود ہے کیوں کہ ہر شخص کی زندگی دو حال سے خالی نہیں یا پریشانی اور رنج و مصیبت یا راحت و آرام اور خوشی و مسرت پس یہ دونوں حالتیں آزمائش اور امتحان کے لئے ہیں تاکہ دیکھیں کہ نعمت پر شکر گزار کون ہے اور تکالیف پر صبر کرنے والا کون ہے۔ یہ دنیا دار الامتحان اور ایک کسوٹی اور محنت آباد ہے پھر تم سب کو ہماری طرف واپس آنا ہے تاکہ ہر شخص کو اس کے امحتان کے نتیجے سے باخبر کیا جائے اور ہر ایک کو اس کے اعمال کا صلہ عطا کیا جائے اور ہر ایک کو پاداش دی جائے۔
خوش بود گر محک تجربہ آید بمیاں
تاسیہ رد شود ہر کہ دروغش باشد
Ayah 21:36-36 اور یہ منکر جب کہیں آپ کو دیکھتے ہیں تو ان کا کام سوائے اس کے اور کچھ نہیں ہوتا کہ آپ کا مذاق بنائیں او آپ سے ٹھٹا کرنا شرع کردیں اور آپس میں ایک دوسرے سے کہتے ہیں کیا یہی وہ شخص ہے جو تمہارے معبودوں کو برائی کے ساتھ یاد کرتا ہے اور تمہارے ٹھاکروں کا نام لیتا ہے حالانکہ ان کافروں کا حال یہ ہے کہ یہ رحمان کے نام سے انکار کرتے ہیں اور رحمان کے منکر ہیں۔
یعنی ان بدنصیبوں کی حالت یہ ہے کہ خود تو رحمٰن جل مجدہ کے منکر ہیں اور پیغمبر ﷺ کا محض اس بنا پر مذاق اڑاتے ہیں کہ وہ ہمارے ٹھاکروں اور معبودوں کا تحقیر کے ساتھ کیوں نام لیتے ہیں اور ان کی برائی کیوں کرتے ہیں۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں نام لیتا ہے ٹھاکروں کا یعنی برا کہتا ہے۔ 12
Ayah 21:37-37 فطرت انسانی کی وضع جلدی پر کی گئی ہے میں تم کو عنقریب اپنی نشانیاں دکھائے دیتا ہوں پس تم ان نشانیوں کے طلب کرنے میں جلدی نہ کرو۔ ایک طرف کافر عذاب کی وعید سن کر عذاب میں عجلت کرتے تھے اور دوسری طرف شاید مسلمان بھی ان کے توہین آمیز سلوک سے پریشان ہو کر ان کے لئے عذاب نازل ہونے میں جلدی کرتے ہوں گے۔
اس لئے فرمایا کہ انسان کے خمیر میں جلدی رکھی گئی ہے اس لئے دونوں گروہ جلدی کرتے ہیں عذاب کی سو میں اپنی نشانیاں اور سزائیں عنقریب ظاہر کروں گاجی سے دنیا میں بد کی سزا اور آخرت کا عذاب تو اپنی جگہ مقرر ہی ہے آگے جلدی کا وہ قول ہے جو کفار عام طریق پر کہا کرتے تھے۔
Ayah 21:38-38 اور یہ کافر مسلمانوں سے کہتے ہیں اگر تم سچے ہو تو بتائو یہ وعدہ کا ب پورا ہوگا۔ یعنی عذاب الٰہی کی دھمکیاں دیتے ہو آخر یہ عذاب کی وعید کب پوری ہوگی اور عذاب کس تاریخ کو آئے گا۔
Ayah 21:39-39 کاش ان کافروں کو اگر اس وقت کی خبر ہوتی اور یہ اس وقت کی خرابیوں کو جانتے کہ جب ان کو آگ سب طرف سے گھیر لے گی اور یہ لوگ دوزخ کی آگ نہ اپنے سامنے سے روک سکیں گے اور نہ اپنے پیچھے سے اس آگ کو روک سکیں گے اور نہ ان کی کہیں سے کوئی مدد کی جائے گی تو یہ کبھی عذاب کی جلدی نہ کرتے۔ یعنی ان کو عذاب کی حقیقت معلوم نہیں اگر ان کو معلوم ہوتی تو یہ کبھی جلدی نہ کرتے اور مسلمانوں سے متیٰ ہذا الوعد نہ کہتے۔
Ayah 21:40-40 بلکہ وہ آگ تو ان کو اچانک اور یکایک آ لے گی اور ان کو مبہوت و بد حواس کر دے گی پھر یہ اس عذاب کی آگ کو نہ ہٹا سکیں گے اور نہ ان کو اس کی مہلت ہی دی جائے گی۔ یعنی چونکہ قیامت اور اس کا عذاب دفعتہً نازل ہوگا اس لئے ہوش و حواس سب باختہ ہوجائیں گے اس آگ کو نہ دفع کرنے کی قدرت ہوگی اور نہ ایسا کرنے کی مہلت عطا ہوگی۔