21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 21:81

وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ عَاصِفَةً تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖۤ اِلَى الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا١ؕ وَ كُنَّا بِكُلِّ شَیْءٍ عٰلِمِیْنَ Open ayah 21:81 in the Quran reader

اور ہم نے تیز ہوا کو سلیمان (علیہ السلام) کا تابع کیا تھا کہ وہ اس کے حکم سے اس سرزمین کی طرف چلتی تھی کہ جس میں ہم نے ہر قسم کی برکتیں رکھی تھیں اور ہم ہر چیز سے باخبر ہیں

(81) اور سیلمان (علیہ السلام) کے لئے ہم نے زور سے چلنے والی ہوا کو تابع کردیا تھا کہ وہ ہوا ان کے حکم سے اس سرزمین کی طرف چلتی تھی جس میں ہم نے ہر قسم کی برکتیں رکھی ہیں اور ہم ہر چیز سے باخبر ہیں۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے زیر فرمان ہوا کو کردیا تھا اور وہ ان کے تخت کو اڑا کرلے جاتی تھی اور ایک مہینہ کی مسافت دوپہر دن میں طے ہوجاتی تھی۔ برکت والی زمین سے مراد ملک شام ہے جہاں کی سرزمین ظاہر و باطن کی برکتوں سے لبریز ہے ہم ہر چیز سے باخبر ہیں یعنی ہوا کو تابع کردینا بھی ہماری مصلحت کا تقاضہ تھا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ایک تخت بنایا تھا بہت بڑا اپنے سارے کارخانوں سے اور لوگوں سے اس پر بیٹھتے پھر بائو آتی زور سے اس کو زمین سے اٹھاتی اوپر نرم بائو چلتی۔ یمن سے شام کو اور شام سے یمن کو مہینے کی راہ دوپہر میں پہنچاتی۔ 12۔ سورة سبا میں انشاء اللہ تفصیل آئے گی۔
Ayah 21:82

وَ مِنَ الشَّیٰطِیْنِ مَنْ یَّغُوْصُوْنَ لَهٗ وَ یَعْمَلُوْنَ عَمَلًا دُوْنَ ذٰلِكَ١ۚ وَ كُنَّا لَهُمْ حٰفِظِیْنَۙ Open ayah 21:82 in the Quran reader

اور جنات میں سے بعض جن بھی سلیمان (علیہ السلام) کے تابع کئے جو سلیمان (علیہ السلام) کے لئے سمندر میں غوطہ لگاتے تھے اور اس غوطہ خوری کے علاوہ اور دوسرے کام بھی کیا کرتے تھے اور ہم ہی ان جنات کی دیکھ بھال اور نگہبانی کرنے والے تھے

(82) اور شیاطین یعنی جنات میں سے بعضے شیاطین بھی سلیمان (علیہ السلام) کے تابع کئے جو سلیمان (علیہ السلام) کے لئے سمندر میں غوطہ لگاتے تھے اور اس غوطہ خوری کے علاوہ دوسرے کام بھی کیا کرتے تھے اور ہم ان جنات کی حفاظت اور نگہبانی کرنے والے تھے بعض جنات بھی تابع تھے چونکہ یہ جنات بڑے شریر تھے اس لئے فرمایا کہ ہم ان کی نگہبانی کرتے تھے کہ وہ شرارت نہ کرنے پائیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں شیطانوں سے غوطہ لگواتے جواہر دریا سے نکلواتے جہاں آدمی کا مقدور نہیں اور عمارت میں بھاری کام ان سے کرواتے اور سفر میں حوض برابر لگن تانبے کے اور کنویں برابر دیگیں اٹھالے چلتے اور ان میں کھانا پکاتے اور سخت سخت کام ان سے لیتے۔ 12
Ayah 21:83

وَ اَیُّوْبَ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ Open ayah 21:83 in the Quran reader

اور اے پیغمبر ایوب (علیہ السلام) کا بھی تذکرہ کیجئے جبکہ اس نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھ کو سخت تکلیف پہنچ رہی ہے اور تو سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے

(83) اور اے پیغمبر ! ایوب (علیہ السلام) کا تذکرہ بھی کیجئے جبکہ اس نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ مجھ کو سخت تکلیف پہنچ رہی ہے اور تو سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیماری کا واقعہ فرمایا جب بیماری کو عرصہ ہوگیا تب انہوں نے ایک دن دعا کی حق تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی۔
Ayah 21:84

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَكَشَفْنَا مَا بِهٖ مِنْ ضُرٍّ وَّ اٰتَیْنٰهُ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَ ذِكْرٰى لِلْعٰبِدِیْنَ Open ayah 21:84 in the Quran reader

سو ہم نے اس کی دعا قبول کرلی اور اس کو جو تکلیف تھی اسے دور کردیا اور ہم نے ایوب (علیہ السلام) کو اس کے ہاں بچے دیدیئے اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور بھی عطا کئے یہ سب کچھ ہم نے اپنی مہربانی سے عطا کیا اور اس لئے تاکہ عبادت کرنے والوں کیلئے یہ ایک یادگار ہو

(84) لہٰذا ! ہم نے ان کی دعا قبول فرمائی اور اس کو جو تکلیف اور دکھ تھا اس کو دور کردیا اور ہم نے ایوب (علیہ السلام) کو اس کے بال بچے دیدیئے اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور بھی عطا فرمائے یہ سب اپنی رحمت خاص اور مہربانی کے سبب سے عطا فرمایا اور اس لئے کہ عبادت کرنے والوں کے لئے ایک یادگار ہو۔ حضرت ایوب علیہ السلا اچھے خوشحال پیغمبروں میں سے تھے کسی سخت بیماری میں مبتلا ہوئے اولاد مرگئی یا کہیں گم ہوگئی۔ بہرحال ! ان تمام مصائب پر صبر کیا۔ اللہ تعالیٰ نے شفا بخشی دعائے صحت قبول فرمائی جو اولاد گم ہوگئی تھی وہ واپس ملی یا مرگئی تھی وہ زندہ کرکے عطا ہوئی اتنی ہی اولاد اور دی گئی یا اولاد کے ہاں اولاد دی گئی۔ مفسرین کے مختلف اقوال ہیں مزید انشاء اللہ سورة ص میں آجائے گی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت ایوب (علیہ السلام) کو حق تعالیٰ نے سب طرف سے آسودہ رکھا تھا۔ کھیت اور مویشی اور لونڈی غلام کماتے اور اولاد صالح اور عورت موافق مرضی اور بڑے شکر گزار تھے۔ پھر آزمانے کے لئے ان پر شیطان کو ہاتھ دیا۔ کھیت جل گئے مویشی مرگئے اور اولاد اکٹھی دب مری اور دوست دار الگ ہوگئے۔ بدن میں آبلے پڑکر کیڑے پڑگئے ایک عورت رفیق رہی۔ جیسے نعمت میں شکر گزار تھے ویسے ہی بلا میں صابر رہے۔ ایک قرن کے بعد یہ دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے مری ہوئی اولاد جلائی اور بھی ننھی اولاد دی اور زمین سے چشمہ نکالا اسی سے پی کر اور نہا کر چنگے ہوئے اور سونے کی ٹڈیاں برسائیں اور سب طرح درست کردیا۔ 12 خلاصہ ! یہ کہ مفسرین کے حضرت ایوب (علیہ السلام) کے بارے میں مختلف اقوال ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) نے بعض قول کو اختیار کرلیا ہے عبادت گزاروں کے لئے یادگار کا مطلب یہ ہے کہ نیک لوگ یہ معلوم کرکے کہ صبر کرنے والوں کو اس طرح اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے نوازا کرتا ہے، برداشت اور صبر کا طریقہ اختیارکریں۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کا واقعہ بہت طویل ہے انشاء اللہ سورة صٓ میں تفصیل آجائے گی۔
Ayah 21:85

وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِدْرِیْسَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ كُلٌّ مِّنَ الصّٰبِرِیْنَۚۖ Open ayah 21:85 in the Quran reader

اور اسماعیل (علیہ السلام) اور ادریس (علیہ السلام) اور ذوالکفل کا تذکرہ کیجئے یہ سب صبر کرنے والوں میں سے تھے

(85) اور اے پیغمبر اسماعیل (علیہ السلام) اور ادریس (علیہ السلام) اور ذوالکفل کا تذکرہ بھی کیجئے یہ سب ثابت قدم رہنے والے اور صبر کرنے والے تھے۔
Ayah 21:86

وَ اَدْخَلْنٰهُمْ فِیْ رَحْمَتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 21:86 in the Quran reader

اور ہم نے ان سب کو اپنی رحمت میں لے لیا بیشک یہ نیک لوگوں میں سے تھے

(86) اور ہم نے ان سب کو اپنی رحمت کاملہ میں لے لیا۔ بلاشبہ یہ نیک لوگوں میں سے تھے۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) سید نا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے صاحبزادے ہیں جو احکامِ الٰہی کی بجا آوری میں نہایت ثابت قدم تھے۔ حضرت ادریس (علیہ السلام) کا ذکر سورة مریم میں گزرا ہے یہ بہت متقدمین میں سے ہیں۔ کہتے ہیں کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی وفات کے سو برس بعد حضرت ادریس (علیہ السلام) پیدا ہوئے تھے ان کا نام اخنوخ ہے درس و تدریس کے باعث ان کا نام ادریس (علیہ السلام) ہوگیا۔ ذوالکفل کے متعلق مفسرین کے مختلف اقوال ہیں بعض ان کی نبوت کے قائل ہیں بعض کہتے ہیں ایک صالح اور بزرگ آدمی تھے۔ کسی نے کہا یوشع (علیہ السلام) کا نام ذوالکفل ہے بعض نے کہا یہ الیاس ہیں۔ بہرحال ! یہ سب لوگ احکامِ شرعیہ کے بجالانے میں بڑے صابر اور ثابت قدم تھے۔ رحمت میں لے لینے کا مطلب وہی ہے کہ خواص میں سے تھے اس لئے خاص رحمت میں داخل کرلیا یا یہ کہ صالحین اور برگزیدہ لوگوں کی جماعت میں ان کو داخل کردیا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہتے ہیں ذوالکفل تھے حضرت ایوب (علیہ السلام) کے بیٹے ایک شخص کے ضامن ہوکر کئی برس قید رہے اور للہ یہ محنت سہی۔ 12۔ حضرت مجاہد نے ان کا واقعہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے لیکن انہوں نے ذوالکفل کی نبوت سے انکار کیا البتہ ایک نبی کے ضامن ہوگئے تھے کہ ان کی قوم ان کو تکلیف نہ پہنچائے گی۔ ان پیغمبر نے اپنی آخری عمر میں ان کو اپنا وصی مقرر کردیا تھا اور تین باتوں کا ان سے عہد لیا ایک یہ کہ رات کو ہمیشہ نماز پڑھا کریں گے دوسرے یہ کہ دن کو روزہ رکھا کریں گے کبھی افطار نہیں کریں گے۔ تیسرے یہ کہ جب کبھی قضیے کے چکانے کے لئے حکم بنیں گے تو غضب اور غصہ نہ کریں گے۔ چنانچہ انہوں نے یہ شرطیں منظور کرلیں اور اس پیغمبر نے ان کو اپنا خلیفہ بناکر ان کو خلافت دے دی ان کو ان تینوں شرطوں کے پورا کرنے میں بڑی بڑی مشکلات پیش آئیں لیکن یہ ثابت قدم رہے اور ان شرطوں کو پورا کیا جن پر خلافت حاصل کی تھی۔ بعض حضرات نے کہ ہے ذوالکفل حضرت زکریا (علیہ السلام) ہیں۔ (واللہ اعلم بالصواب)
Ayah 21:87

وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ١ۖۗ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ Open ayah 21:87 in the Quran reader

اور مچھلی والے یونس (علیہ السلام) کا تذکرہ کیجئے جب وہ اپنی قوم سے خفا ہوکر غصہ کی حالت میں چلا گیا اور اس نے یہ سمجھا کہ ہم اس پر کوئی دارو گیر نہیں کریں گے پھر اس نے سخت تاریکیوں میں پکارا کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے تو جملہ عیوب سے منزہ ہے۔ بیشک میں ہی قصور وار ہوں

(87) اور مچھلی والے یعنی حضرت یونس (علیہ السلام) بن متیٰ کا تذکرہ کیجئے جب وہ قوم سے خفا ہوکر غصہ کی حالت میں چلا گیا اور اس نے یہ سمجھا کہ ہم اس کو نہ پکڑ سکیں گے اور اس پر کوئی دارو گیر نہ کریں گے۔ پھر اس نے سخت اندھیریوں میں پکارا کہ تیرے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ہے اور تو ہر قسم کے عیوب سے پاک ہے بلاشبہ میں ہی قصوروار میں سے تھا۔ یعنی یونس (علیہ السلام) نینوا میں نبی بناکر بھیجے گئے تھے ان کی قوم نے ان کی بات نہیں مانی اور ان کی مخالفت کی وہ ناراض ہوکر اور اپنی قوم کو عذاب کا وعدہ دے کر بستی سے تشریف لے گئے اور یہ سجھ کر گئے کہ اس نکل جانے پر مجھ سے کوئی باز پرس اور گرفت نہ ہوگی اور چونکہ ان کا جانا بلا امر خداوندی تھا اس لئے راستے میں جبکہ یہ کشتی میں سوار ہوئے ان کی گرفت ہوگئی کشتی بھنور میں آگئی۔ کشتی والوں نے کہا ہماری کشتی میں کوئی ایسا غلام ہے جو اپنے آقا سے بھاگ کر یہاں آ بیٹھا ہے چناچہ کشتی والوں نے قرعہ ڈالا۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کا نام نکلا کشتی والوں نے حضرت یونس (علیہ السلام) کی شکل و صورت دیکھ کر یقین نہ کیا دوسری تیسری مرتبہ پھر قرعہ ڈالا۔ تب بھی حضرت یونس (علیہ السلام) ہی کا نام نکلا۔ آخر حضرت یونس (علیہ السلام) کھڑے ہوئے اور فرمایا میں ہی وہ غلام ہوں جو اپنے مولا سے بھاگا ہوا ہوں یہ کہہ کر دریا میں کود پڑے۔ فوراً ایک مچھلی نے نگل لیا۔ مچھلی کو حکم ہوا کہ یونس (علیہ السلام) تیری غذا نہیں ہے بلکہ تیرا پیٹ اس کے لئے قید خانہ مقرر کیا گیا ہے۔ حضرت یونس (علیہ السلام) نے مچھلی کے پیٹ میں اپنے قصور کا اعتراف کیا آخر مچھلی نے اگل دیا۔ دوسری طرف حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم پر عذاب کے نشانات نمودار ہوئے۔ یہ لوگ جنگل میں نکل کر روئے۔ گڑگڑائے توبہ کی بتوں کو توڑ ڈالا ان پر سے عذاب اٹھا لیا گیا۔ جیسا کہ ہم سورة یونس میں عرض کرچکے ہیں قوم حضرت یونس (علیہ السلام) کو تلاش کرتی پھرتی تھی آخر حضرت یونس (علیہ السلام) کو ایک بیل کے نیچے پالیا اور اور ان کو عزت و احترام کے ساتھ بستی میں لے آئے فظن ان لن نقدر علیہ کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ یونس (علیہ السلام) اس طرح بستی سے نکل کر گیا جیسے کوئی یوں سمجھے کہ وہ ہماری گرفت سے نکل گیا اور ہم اس پر قابو نہیں پاسکیں گے ورنہ ایک پیغمبر یہ کہاں خیال کرسکتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی گرفت سے نکل گیا۔ حضرت یونس (علیہ السلام) سے محض اتنی بات نامناسب ہوئی کہ وہ اللہ تعالیٰ کا حکم آنے سے پہلے نکل گئے اسی پر گرفت ہوگئی۔ بڑے لوگوں کی یہی شان ہوتی ہے کہ معمولی سی نامناسب بات پر بھی ان سے بازپرس ہوجاتی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یونس (علیہ السلام) حزقیل پیغمبر (علیہ السلام) کے یاروں میں سے تھے۔ بڑے شوقین عبادت کے اور دنیا سے الگ حکم ہوا ان کو بھیجو شہر نینوا میں مشرکوں کو منع کریں بت پوجنے سے یہ خفا ہوکر گئے راہ میں ندی آئی ایک بیٹا کنارے چھوڑا ایک کو کندھے پر لیا۔ عورت کا ہاتھ پکڑا ندی میں جب پانی نے زور کیا عورت کا ہاتھ چھٹ گیا اس کے تھامنے میں کندھے سے لڑکا پھسل گیا گھبراہٹ میں دونوں بہہ گئے کنارے آئے دوسرے لڑکے کو بھیڑیا لے گیا جب اس شہر میں پہنچے سرداروں سے ملے اللہ کا پیغام دیا۔ وے ٹھٹھا کرنے لگے ایک مدت رہے آخر خفا ہوکر عذاب کی بددعا کی اور آپ نکل گئے۔ تین دن کا وعدہ کرکے۔ تیسرے دن عذاب آیا شہر کے سب لوگ جنگل میں نکلے اللہ کے آگے توبہ کی اور روئے سارے بت توڑ ڈالے۔ عذاب ٹل گیا۔ شیطان نے یونس (علیہ السلام) کو خبر دی کہ وہ قوم اچھی بھلی ہے اس پر عذاب نہ آیا یہ خفا ہوئے کہ اللہ نے مجھ کو جھوٹا کیا حکم کی راہ نہ دیکھی کسی طرف چل کھڑے ہوئے ایک کشتی پر سوار ہوئے وہ بھنور میں چکر کھانے لگی۔ لوگوں نے کہا کشتی میں کسی کا غلام ہے اپنے آقا سے بھاگا ہوا۔ قرعہ ڈالا تو ان کے نام پر آیا۔ دریا میں ان کو ڈال دیا ایک مچھلی نگل گئی۔ اس اندھیرے میں رب کو پکارا تب توبہ قبول ہوئی مچھلی نے کنارے پر اگل دیا وہاں ایک بیل نے چھاکر چھائوں کی اور ہرنی نے دودھ پلایا جب قوت پائی حکم ہوا اسی قوم میں پھرجانے کا وے آرزو مند تھے۔ راہ دیکھتے۔ ان کی عورت اور لڑکے پھر ملے بھیڑیئے سے لوگوں نے چھڑایا تھا اور بہتوں کو نکال لیا تھا اسی شہر میں اب ان کی قبر ہے۔ اور جو فرمایا کہ سمجھا کہ ہم نہ پکڑ سکیں گے یعنی مہربانی کے معاملے میں اس کو راضی نہ کرسکیں گے وہ ایسا خفا ہوا ہے اور حکومت کے معاملے میں ہر چیزآسان ہے۔ 12۔ مزید تفصیل انشاء اللہ والصافات میں آجائے گی۔ اور یہ جو فرمایا اندھیروں میں تو ایک مچھلی کا پیٹ دوسرے قعر دریا تیسرے رات کی تاریکی۔
Ayah 21:88

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ١ۙ وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 21:88 in the Quran reader

سو ہم نے اس کی دعا قبول کرلی اور اس کو مصائب سے نجات عطا کی۔ اور ہم ایمان والوں کو اسی طرح نجات دیا کرتے ہیں

(88) پھر ہم نے اس کی دعا قبول کرلی اور اس کو غم اور الم سے نجات دی اور ہم ایمان والوں کو اسی طرح نجات دیا کرتے ہیں۔ یعنی جب بطن ماہی میں یونس (علیہ السلام) نے پکارا تو ہم نے اس کو اس غم اور گھٹن سے نجات دے دی اور ہم اسی طرح دوسرے اہل ایمان کو بھی کرب و غم سے نجات دیا کرتے ہیں کسی مصیبت اور کرب و شدت کے موقع پر لآ الٰہ الا انت سبحانک انی کنت من الظٰلمین کا پڑھنا موثر ثابت ہوا ہے اپنے اکابر کا سوا لاکھ بار پڑھنا معمول ہے۔ دیگرمشائخ سے مختلف طریقے منقول ہیں۔
Ayah 21:89

وَ زَكَرِیَّاۤ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ رَبِّ لَا تَذَرْنِیْ فَرْدًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْوٰرِثِیْنَۚۖ Open ayah 21:89 in the Quran reader

اور زکریا (علیہ السلام) کا تذکرہ کیجئے جبکہ اس نے اپنے رب کو پکارا کہ اے میرے پروردگار ! مجھ کو اکیلا نہ چھوڑ اور تو سب وارثوں سے بہتر وارث ہے

(89) اور اے پیغمبر ! زکریا (علیہ السلام) کا بھی تذکرہ کیجئے جب کہ اس نے اپنے رب کو پکارا کہ اے میرے پروردگار مجھ کو اکیلا اور تنہا نہ چھوڑ اور تو ہی سب وارثوں سے بہتر وارث ہے۔ یعنی بےاولاد نہ رکھ اور حقیقی اور بہتر وارث تو ہی ہے ان کی دعا اور تفصیل سورة مریم میں گزر چکی ہے۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) اذن کے بیٹے اور مانان کے پوتے اور بنی اسرائیل کے نبیوں میں سے ایک نبی ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اولاد دے۔ 12
Ayah 21:90

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ١٘ وَ وَهَبْنَا لَهٗ یَحْیٰى وَ اَصْلَحْنَا لَهٗ زَوْجَهٗ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ یَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّ رَهَبًا١ؕ وَ كَانُوْا لَنَا خٰشِعِیْنَ Open ayah 21:90 in the Quran reader

سو ہم نے اس کی پکار سن لی اور ہم نے اس کو یحییٰ عطا کیا اور اس کے لئے اس کی بیوی کو ولادت کے قابل کردیا۔ یہ سب مذکورئہ بالا حضرات بھلے کاموں کے کرنے میں دوڑتے تھے اور امید و خوف کے ساتھ ہم کو پکارا کرتے تھے اور یہ لوگ ہمارے سامنے عاجزی و نیاز مندی کرنے والے تھے

(90) ہم نے اولاد کے بارے میں زکریا (علیہ السلام) کی دعا قبول کرلی اور ہم نے ان کو یحییٰ نامی لڑکا عطا کیا اور اس کی بیوی کو درست اور ولادت کے قابل کردیا۔ بلاشبہ یہ سب مذکورہ بالا حضرات نیک کاموں اور بھلی باتوں کے کرنے میں دوڑتے اور جلدی کرتے تھے اور امید و بیم اور خوف درجا کے ساتھ ہم کو پکارا کرتے تھے اور ہمارے سامنے عاجزی اور نیاز مندی کرنے والے تھے۔ یعنی اولاد کے حدق میں ان کی دعا قبول ہوئی یحییٰ پیدا ہوئے بیوی جو بانجھ تھیں ان میں صلاحیت پیدا کردی بچہ جننے کی یہ سب لوگ یعنی زکریا (علیہ السلام) اور یحییٰ (علیہ السلام) اور زکریا (علیہ السلام) کی بیوی ایشاع سب نیک اور بھلے کام کرنے میں دوڑتے اور جلدی کرتے تھے یا تمام انبیاء (علیہم السلام) جن کا ذکر اوپر ہوچکا ہے۔ بہرحال ! یہ سب لوگ امید اور خوف کے ساتھ ہماری عبادت کیا کرتے تھے اور ہمارے روبرو عاجزی اور نیاز مندی کا برتائو کرتے تھے یعنی ان ہر بات سے کمال عبودیت کا اظہار ہوتا تھا امید و بیم اور خوف و طمع کا یہ مطلب کہ ہماری رحمت اور لطف کے امیدوار اور ہمارے جلال اور ہمارے عذاب سے خائف رہا کرتے تھے اور اس حال میں عبادت کیا کرتے تھے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں لوگ کہتے ہیں جو کوئی اللہ کو پکارے توقع سے یا ڈرے وہ سچا دوست نہیں یہاں سے ان کی غلطی نکلی۔ 12 بعض لوگ کہا کرتے کہ خوف و طمع کے خیال سے عبادت کرنے والے مخلص نہیں یعنی جنت دوزخ یا مہر و قہر سے بےنیاز ہوکر جو شخص عبادت کرے وہ مخلص ہے۔ لوگ بعض اہل اللہ اور اولیاء اللہ کے کلام سے جو سکر اور صحو کی حالت میں صادر ہوا ہے اس سے استدلال کرتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) نے ان کی غلطی نکالی۔ اگر کسی بزرگ سے ایسی کوئی بات ثابت بھی ہوجائے تو وہ حجت نہیں ہوا کرتی۔
Ayah 21:91

وَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِیْهَا مِنْ رُّوْحِنَا وَ جَعَلْنٰهَا وَ ابْنَهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:91 in the Quran reader

اور اس پاک دامن عورت کا ذکر کیجئے جس نے اپنی ناموس کی حفاظت کی پھر ہم نے اس میں پنی روح پھونک دی اور ہم نے اس کو اور اس کے بیٹے کو اقوام عالم کے لئے ایک بہت بڑی نشانی بنایا

(91) اور اس پاک دامن عورت کا بھی ذکر کیجئے جس نے اپنے ناموس کی حفاظت کی پھر ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی اور ہم نے اس کو اور اس کے بیٹے کو اقوام عالم کے لئے بہت بڑا نشان بنایا۔ یعنی حضرت مریم (علیہ السلام) جو ایک پاک دامن عورت تھیں ان کا بھی ذکر کیجئے انہوں نے اپنے ناموس کی حفاظت کی پھر ہم نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کی وساطت سے ان میں اپنی روح پھونک دی اور وہ بغیر کسی بشر کے حاملہ ہوگئیں اور ان کے ہاں حضرت عیسیٰ روح اللہ پیدا ہوئے اور ہم نے حضرت مریم اور ان کے صاحبزادے روح اللہ کو اقوام عالم کے لئے ایک زبردست اور بہت بڑانشان مقرر کیا تاکہ دنیا جہان والے یہ سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
Ayah 21:92

اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً١ۖ٘ وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 21:92 in the Quran reader

لوگو ! یہ طریقہ تمہارا طریقہ ہے کہ وہ ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ کہ میں تمہارا رب ہوں سو میری ہی عبادت کیا کرو

(92) لوگو ! یہ ان حضرات مذکورہ کا طریقہ اور دین تمہارا طریقہ اور دین ہے دراسخالی کہ وہ ایک ہی طریقہ اور ایک ہی دین ہے اور وہ یہ کہ میں تمہارا پروردگار ہوں پس میری ہی عبادت کیا کرو۔ یعنی حق تعالیٰ عام خطاب فرماتا ہے کہ انبیائے مذکورہ کا توحید الٰہی کے بارے میں جو طریقہ تھا وہی تمہاری ملت اور طریقہ ہے جو حقیقت میں اصولی اعتبار سے ایک ہی ہے اور تم کو بھی وہی دین اور طریقہ اختیارکرنا چاہئے اور اس دین اور ملت کا ماحصل یہ ہے کہ تمہارا پروردگار میں ہی ہوں۔ لہٰذا عبادت بھی صرف میری ہی کرو۔ ظاہر ہے کہ توحید میں تمام انبیاء (علیہم السلام) کا ایک ہی طریقہ ہے۔ البتہ فروغ میں زمانے کی ضروریات کے لحاظ سے کچھ فرق ہے لیکن اتنی بات میں کہ پروردگار یکتا ہے اور صرف اسی کی عبادت کرنی چاہئے۔ سب پیغمبروں کا مسلک ایک ہی ہے۔
Ayah 21:93

وَ تَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ١ؕ كُلٌّ اِلَیْنَا رٰجِعُوْنَ۠ Open ayah 21:93 in the Quran reader

اور لوگوں نے آپس میں اختلاف ڈال کر اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا یہ سب ہمارے پاس واپس آنے والے ہیں

(93) اور لوگوں نے آپس میں اختلاف ڈال کر اپنے کام کو اور دین کو ٹکڑے ٹکڑے کرلیا اور ٹکڑے ٹکڑے بانٹ لیا لوگوں نے آپس میں۔ یہ سب ہماری طرف واپس ہونے والے ہیں۔ یعنی لوگوں نے دین کی وحدت کو پارا پارا کرکے آپس میں تقسیم کرلیا اور باہم بانٹ لیا ان سب کو ہماری طرف واپس آنا ہے واپسی پر ہم ان کو بتائیں گے اور جن باتوں میں یہ اختلاف کرتے تھے ان کی حقیقت ان پر واضح کردی جائے گی۔
Ayah 21:94

فَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا كُفْرَانَ لِسَعْیِهٖ١ۚ وَ اِنَّا لَهٗ كٰتِبُوْنَ Open ayah 21:94 in the Quran reader

سو جو شخص نیک عمل کرتا رہے بشرطیکہ وہ مومن بھی ہو تو ایسے شخص کی محنت نظر انداز نہیں کی جائے گی اور ہم اس کی کوشش کو لکھتے رہتے ہیں

(94) پس جو شخص نیک عمل کا پابند رہتا ہے اور نیک کام کرتا رہتا ہے بشرطیکہ وہ مومن اور صحیح ایمان رکھنے والا ہو تو ایسے شخص کی محنت ضائع نہ ہوگی اور اس کی سعی کو نظر انداز نہیں کی جائے گی اور ہم اس کی محنت اور سعی کو لکھ لیا کرتے ہیں اور اس کے اعمال لکھتے رہتے ہیں۔ یعنی جو سعی اور دوڑ دھوپ اور اعمالِ صالح کے بجالانے میں کوشش کرتا ہے وہ سب نامہ اعمال میں لکھا جاتا ہے وہی نامۂ اعمال قیامت میں ظاہر ہوجائے گا اور اس کے موافق اجر ملے گا اس میں کوئی کمی نہ ہوگی۔
Ayah 21:95

وَ حَرٰمٌ عَلٰى قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَاۤ اَنَّهُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ Open ayah 21:95 in the Quran reader

اور ہم جن بستیوں کے رہنے والوں کو فنا کرچکے ہیں ان کے لئے یہ ناممکن ہے کہ وہ پھر لوٹ کر آئیں

(95) اور ہم جن بستیوں کے باشندوں کو فناکر چکے ہیں ان کے لئے یہ بات مقرر ہوچکی ہے اور طے شدہ ہے کہ وہ لوٹ کر نہیں آئیں گے۔ یعنی جزا و سزا کے لئے جو دوبارہ زندگی ہوگی وہ اس عالم کے لئے نہیں بلکہ دوسرے عالم کے لئے ہے۔ جس کے واقع ہونے کی بعض علامات کا آگے ذکر ہے۔ خلاصہ یہ کہ دوبارہ زندگی یقینی ہے یہ نہیں جیسا کہ منکرین سمجھتے ہیں کہ دوبارہ زندہ ہونا ہی نہیں اور یہ بات بھی نہیں جیسا کہ منکرین مطالبہ کرتے ہیں کہ قیامت کیوں نہیں آجاتی بلکہ اس کا ایک وقت موعود ہے جب وہ وقت موعود آجائے گا تو ابتداء میں اس کی علامات ظاہر ہونگی۔ ان علامات میں سے یا جوج ماجوج کا خروج بھی ہے ہم نے فنا ترجمہ کیا ہے تاکہ عذاب سے ہلاک ہونے والوں اور اپنی موت سے مرنے والوں کو سب کو شامل ہوجائے اور یہ معلوم ہوسکے کہ سزا وجزا کا عالم دوسرا ہے۔ کسی مرنے والے کو دوبارہ اس عالم میں آنا نہیں ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی کفر نہیں چھوڑتے تب ہی کہتے ہیں۔ 12
Ayah 21:96

حَتّٰۤى اِذَا فُتِحَتْ یَاْجُوْجُ وَ مَاْجُوْجُ وَ هُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ Open ayah 21:96 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب یاجوج وماجوج کھول دیئے جائیں اور وہ ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے چلے آئیں

(96) یہاں تک کہ جب یاجوج اور ماجوج کھول دیئے جائیں اور ہر بلندی سے پھیلتے اور دوڑتے چلے آئیں یعنی یاجوج و ماجوج جو اس وقت سد سکندری سے بند ہیں ان کو کھول دیا جائے اور وہ ہر بلندی یعنی پہاڑوں پر سے اترتے اور نکلتے چلے آئیں یعنی ان کی کثرت اتنی ہوگی کہ ہر طرف وہی چلتے پھرتے معلوم ہوں گے بالائی مقامات سے اترتے اور میدانی مقامات سے نکلتے چلے آئیں اور ہر طرف وہی دکھائی دیں گے۔ ینسلون فرمایا تاکہ سرعت سیر معلوم ہو۔
Ayah 21:97

وَ اقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ فَاِذَا هِیَ شَاخِصَةٌ اَبْصَارُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ یٰوَیْلَنَا قَدْ كُنَّا فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا بَلْ كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:97 in the Quran reader

اور سچے وعدہ کا وقت نزدیک آپہنچے تو یکایک اس وقت یہ قصہ ہوگا کہ دین حق کے منکروں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔ ہائے ہماری خرابی ہم اس دن کے واقعات سے بڑی غفلت میں تھے نہیں بلکہ ہم ہی گنہگار تھے

(97) اور سچا وعدہ قریب آپہنچا تو یکایک اس وقت یہ قصہ ہوگا کہ کافروں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی اور وہ کہتے ہوں گے ہائے ہماری خرابی ہم اس دن کے واقعات سے بڑی غفلت میں تھے نہیں بلکہ مہ ہی گنہگار اور قصوروار تھے۔ یعنی یاجوج اور ماجوج کے خروج کے ایک عرصہ بعد صور پہلی مرتبہ پھونکا جائے گا اور اس کے کچھ عرصہ کے بعد جب دوسرا نفخہ صور ہوگا تو لوگوں کی حیرت اور خوف کی وجہ سے آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی اور وہ حسرت و ندامت سے کہتے ہوں گے ہائے ہماری کم بختی ہم اس دن سے بڑی غفلت میں تھے بلکہ ہم ہی ظالم تھے یعنی اس دن کا انکار کیا کرتے تھے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی خبر پہنچی تھی جان کرٹلادی۔ 12
Ayah 21:98

اِنَّكُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ Open ayah 21:98 in the Quran reader

بلاشبہ تم اور تمہارے وہ معبود جن کی تم اللہ تعالیٰ کے سوا پرستش کررہے ہو سب جہنم کا ایندھن ہوں گے اور تم سب اس جہنم میں داخل ہونے والے ہو

(98) بلاشبہ تم اور تمہارے معبود جن کی تم اللہ تعالیٰ کے سوا پوجا اور پرستش کررہے ہو سب جہنم کا ایندھن ہوں گے۔ اور تم سب اس جہنم میں جھونکے جائوگے اور تم سب اس میں داخل ہوگے۔ یعنی جن چیزوں کو تم پوجتے ہو اس میں ہر قسم کے اصنام اور شیاطین داخل ہوگئے یہ سب مع اپنے بچاریوں کے دوزخ میں جھونکے جائیں گے اور داخل کردیئے جائیں گے یا صرف غیر ذی روح اشیاء اس میں داخل ہیں۔ بہرحال ! انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام اور ملائکہ اس میں داخل نہیں جیسا کہ ان الذین سبقت لھم منا الحسنیٰ سے ظاہر ہے۔
Ayah 21:99

لَوْ كَانَ هٰۤؤُلَآءِ اٰلِهَةً مَّا وَرَدُوْهَا١ؕ وَ كُلٌّ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 21:99 in the Quran reader

اگر تمہارے یہ معبود واقعی معبود ہوتے تو جہنم میں نہ جاتے حالانکہ یہ جھوٹے معبود اور ان کے پجاری یہ سب اس جہنم میں ہمیشہ رہنے والے ہیں

(99) اگر یہ معبود واقعی اور حقیقی معبود ہوتے تو جہنم میں نہ جاتے حالانکہ یہ سب عابد و معبود اس جہنم میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ یعنی یہ معبود ان باطلہ اگر واقعی معبود ہوتے تو جہنم میں کیوں جاتے حالانکہ یہ خود بھی دوزخ میں ہمیشہ پڑے رہیں گے اور ان کی پوجا کرنے والے بھی دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے اور جب یہ معبود دوزخ سے نہ بچ سکے تو معلوم ہوا معبود نہ تھے بلکہ جھوٹے تھے کہ نہ خود کو عذاب سے بچا سکے نہ اپنے پرستش کرنے والوں کو بچاسکے۔
Ayah 21:100

لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ هُمْ فِیْهَا لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 21:100 in the Quran reader

دوزخ میں ان سب کو چیخنے سے کام ہوگا اور وہ اس چیخ و پکار میں کسی کی کوئی بات نہ سن سکیں گے

(100) دوزخ میں ان سب کو رونے او چیخنے سے کام ہوگا اور وہاں اس چیخ و پکار میں کسی کی کوئی بات نہ سن سکیں گے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اپنے چلانے کے شور سے۔ 12 خلاصہ ! یہ کہ وہاں اس قدر غل و شور ہوگا کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دے گی۔
Ayah 21:101

اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰۤى١ۙ اُولٰٓئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَۙ Open ayah 21:101 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں کے لئے ہماری جانب سے پہلے ہی بھلائی مقدر ہوچکی ہے وہ لوگ اس دوزخ سے دور رکھے جائیں گے۔

(101) بلاشبہ ! جن لوگوں کے لئے ہماری جانب سے پہلے ہی بھلائی مقرر ہوچکی ہے وہ لوگ اس جہنم سے دور رہیں گے۔ یعنی حضرت حق تعالیٰ کی جانب سے جن لوگوں کے لئے بھلائی اور جنت مقدر ہوچکی ہے وہ دوزخ سے دور رکھے جائیں گے۔ مطلب یہ کہ دوزخ سے گزرنے کے بعد دوزخ سے اتنی دور کردیئے جائیں گے کہ ان کو اس کی آہٹ بھی نہیں پہنچے گی۔ کیونکہ وہ جنت میں ہوں گے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ایک بار گزر کر پھر ہمیشہ دور رہیں گے۔ 12۔ آگے دور رہنے کی مقدار کی طرف اشارہ ہے۔
Ayah 21:102

لَا یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَهَا١ۚ وَ هُمْ فِیْ مَا اشْتَهَتْ اَنْفُسُهُمْ خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 21:102 in the Quran reader

اس دوری کی وجہ سے ان کا یہ حال ہوگا کہ وہ دوزخ کی ہلکی سی آواز بھی نہ سنیں گے اور وہ اپنی من مانی اور جی چاہی لذتوں میں ہمیشہ رہیں گے

(102) اس دوری کی وجہ سے ان کا یہ حال ہوگا کہ وہ اس دوزخ کی ہلکی سی آواز اور آہٹ بھی نہیں سنیں گے اور وہ اپنی من مانی اور جی چاہی لذتوں میں ہمیشہ رہیں گے یعنی وہ جنت میں ہوں گے اور جنت و جہنم میں بہت فاصلہ ہے۔
Ayah 21:103

لَا یَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ وَ تَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ١ؕ هٰذَا یَوْمُكُمُ الَّذِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 21:103 in the Quran reader

ان کو قیامت کی بڑی گھبراہٹ غمگین نہ کرسکے گی اور رحمت کے فرشتے ان کا استقبال کریں گے یہی وہ تمہارا د ہے جس دن کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا

(103) ان کو قیامت کی بڑی گھبراہٹ غمگین نہ کرے گی اور غم میں نہیں ڈالے گی اور رحمت کے فرشتے ان کو لائیں گے اور ان کا استقبال کریں گے اور کہیں گے یہی دن تو تمہارا وہ دن ہے جس دن کا تم کو وعدہ دیا جاتا تھا یعنی جن کے لئے ازل میں بھلائی مقدر ہوچکی ہے ان کی یہ حالت ہوگی کہ نضخہ ثانیہ کے بعد جب قبروں سے اٹھیں گے تو ان پر کوئی پریشانی نہ ہوگی اور نہ کسی غم اور فکر میں مبتلا ہو گے بلکہ ملائکہ مقربین ان کا استقبال کتے ہوں گے اور ان سے کہا جائے گا یہ تو وہ دن ہے جس کا تم سے دنیا میں وعدہ کیا جاتا رہا ہے کہ ایک دن آنے والا ہے جس دن تم کو تمہارے اعمال کا صلہ ملنے والا ہے۔
Ayah 21:104

یَوْمَ نَطْوِی السَّمَآءَ كَطَیِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ١ؕ كَمَا بَدَاْنَاۤ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُهٗ١ؕ وَعْدًا عَلَیْنَا١ؕ اِنَّا كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:104 in the Quran reader

وہ دن قابل ذکر ہے جس دن ہم آسمانوں کو اسی طرح لپیٹ دیں گے جس طرح لکھے ہوئے مضمونوں کا کاغذ لپیٹ لیا جاتا ہے ہم نے جس طرح پہلی بار مخلوقات کو پیدا کرنے کی ابتداء کی تھی اسی طرح ہم اس کا دوبارا اعادہ کریں گے یہ دوبارہ پیدا کرنا ہمارے ذمہ ایک وعدہ ہے ہم اس کو ضرور پورا کرنے والے ہیں

(104) اور وہ دن قابل ذکر ہے جس دن ہم آسمانوں کو اس طرح لپیٹ لیں گے جس طرح لکھے ہوئے مضمون کا کاغذ لپیٹ لیا جاتا ہے جس طرح ہم نے اول مرتبہ مخلوقات کو پیدا کرنے کی ابتداء کی تھی اسی طرح ہم اس کا دوبارہ اعادہ کریں گے یہ ہمارے ذمہ وعدہ ہے ہم اس کور ضرور کرنے والے ہیں۔ یعنی جس طرح کسی لمبے اور طویل کاغذ کی بتی بنالیتے ہیں جیسا کہ قبالہ نویس کیا کرتے تھے اسی طرح حضرت حق جل مجدہ آسمانوں کو لپیٹ لیں گے اور یہ نضخہ اولیٰ کے وقت ہوگا آگے مخلوق کے دوبارہ پیدا کرنے کا ذکر ہے کہ نفخہ ثانیہ کے وقت سب کو دوبارہ زندہ کرلیا جائے گا جس طرح پہلی مرتبہ آفرینش کی ابتداء ہوئی تھی اسی طرح پھر اعادہ کیا جائے گا۔ آگے تاکیداً فرمایا یہ دوبارہ پیدا کرنا ہمارے ذمہ وعدہ ہے جس کو ہم ضرور پورا کرنے والے ہیں۔
Ayah 21:105

وَ لَقَدْ كَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْۢ بَعْدِ الذِّكْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُهَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَ Open ayah 21:105 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم لوح محفوظ میں لکھنے کے بعد یہ مضمون تمام کتب سماوی میں لکھ چکے ہیں کہ جنت کے حقیقی مالک میرے نیک بندے ہی ہوں گے

(105) اور ہم لوح ِ محفوظ میں درج کرنے کے بعد تمام کتب سماویہ میں یہ بات لکھ چکے ہیں کہ جنت کی زمین کے حقیقی مالک میرے نیک بندے ہی ہوں گے۔ اس آیت کے متعلق مفسرین کے مختلف اقوال ہیں بعض حضرات نے زبور سے عام کتب سماویہ مرادلی ہے اور ذکر سے لوح محفوظ مراد ہے۔ یعنی لوح محفوظ میں لکھنے کے بعد تمام کتب ِ سماویہ میں یہ بات کہی اور بتلائی گئی ہے کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے۔ بعض نے کہا زبور سے مراد حضرت دائود (علیہ السلام) کی کتاب ہے اور ذکر سے مراد اسی کے ایک حصہ کا نام ہے اس ذکر کے بعد فرمایا ہے کہ زمین کے مالک میرے نیک بندے ہوں گے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا ہے ذکر سے مراد تورات ہے۔ تورات کے بعد جس قدر آسمانی صحائف نازل ہوئے ہیں اس میں یہ بات کہی گئی ہے کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے زمین سے بھی بعض نے دنیوی زمین مراد لی ہے۔ اس تقدیر پر یہ پیشین گوئی تھی جو پوری ہوچکی خواہ عام کفار کی مقبوضہ زمین ہو یا بیت المقدس ہو نیک بندے مالک ہوچکے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا ارض سے مراد جنت کی زمین ہے بعض لوگوں نے فرمایا کہ دنیا کے آخری دور میں نزول مسیح (علیہ السلام) کے وقت اس پیشین گوئی کا مکمل ظہور ہوگا۔ (واللہ اعلم) یہ چند اقوال تھے جن کا خلاصہ عرض کردیا گیا۔ راجح قول کو ہم نے ترجمہ میں اور تیسیر میں اختیار کرلیا ہے۔
Ayah 21:106

اِنَّ فِیْ هٰذَا لَبَلٰغًا لِّقَوْمٍ عٰبِدِیْنَؕ Open ayah 21:106 in the Quran reader

بیشک اس قرآن کریم میں حصول مقصد کے لئے کافی مضامین ہیں ان لوگوں کے واسطے جو عبادت گزار ہیں

(106) بلاشبہ اس قرآن کریم میں حصول مقصد اور مطلب کو پہنچنے کے لئے ان لوگوں کے واسطے کافی مضامین ہیں جو عبادت گزار ہیں۔ ھذا سے مراد یا تو قرآن کریم ہے اور یا سورة انبیاء ہے۔ اگرچہ مضامین عابدین اور غیر عابدین سب کے لئے ہیں لیکن عابدین یعنی موحدین اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں اس لئے ان کا خاص طور پر ذکر فرمایا۔ مراد مومنین ہیں یا امت محمدیہ ﷺ مراد ہے۔ عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا عابدین سے باعمل علماء مراد ہیں۔
Ayah 21:107

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:107 in the Quran reader

اور اے پیغمبر ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر جملہ اہل عالم کے لئے رحمت بناکر بھیجا ہے۔

(107) اور اے پیغمبر ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر جملہ اقوام عالم کے لئے رحمت بناکر بھیجا ہے۔ یعنی نبی کریم ﷺ تمام اقوام عالم کے لئے موجب رحمت بن کر تشریف لائے ہیں کیونکہ آپ جو شریعت اور تہذیب لے کر آئے ہیں اس نے تمام دنیا کو ایک صحیح راستہ دکھادیا ہے جو آپ پر ایمان لے آئے وہ تو اس رحمت ِ خداوندی سے مستفید ہو ہی گئے لیکن جو ایمان نہیں لائے ان کو بھی کچھ نہ کچھ نفع ضرور پہنچا وہ بھی اس دنیا میں خسف اور مسخ اور عذاب استیصال سے محفوظ ہوگئے اور بہت سے لوگوں نے قانون شریعت سے اپنی اصلاح کرلی اگرچہ شریعت محمدیہ علی صاحبہا التحی پر ایمان نہیں لائے۔ محض تعصب و ہٹ دھرمی کی وجہ سے انکار کرتے رہے لیکن باوجود اس انکار کے بھی رحمۃ اللعالمین کی رحمت عامہ سے کم و بیش مستفید سب ہی ہوئے۔
Ayah 21:108

قُلْ اِنَّمَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 21:108 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے کہ میری طرف تو صرف یہی وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے سو کیا تم بھی اس حکم کے فرماں بردار ہوتے ہو

(108) اے پیغمبر آپ فرما دیجئے کہ میری جانب تو صرف یہی وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود حقیقی صرف ایک ہی معبود ہے سو کیا تم بھی اس حکم کو مانتے ہو اور اس حکم کے فرمانبردار بنتے ہو ؟ یعنی جب اللہ تعالیٰ کی جانب سے حکم یہی آتا ہے اور اسلام کا منشاء اور دعویٰ یہی ہے کہ صرف ایک معبود حقیقی ہی کی پرستش کی جائے تو بتائو اب تم بھی توحید الٰہی کے قائل ہوکر اسلام کے پابند ہوتے ہو یا نہیں ؟ مطلب استفہام کا یہ ہے کہ اسلام لے آئو۔
Ayah 21:109

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ اٰذَنْتُكُمْ عَلٰى سَوَآءٍ١ؕ وَ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ اَمْ بَعِیْدٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ Open ayah 21:109 in the Quran reader

پھر اگر یہ لوگ روگردانی کریں تو آپ فرما دیجئے میں نے تم سب کو یکساں طور پر آگاہ کردیا ہے اور مجھ کو نہیں معلوم کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے وہ نزدیک ہے یا دور ہے

(109) پھر اگر یہ لوگ روگردانی کریں اور اسلام قبول کرنے سے انکار کریں تو آپ کہہ دیجئے کہ میں نے تم کو آگاہ اور یکساں طور پر خبردار کردیا۔ میں نے تم کو اطلاع کردی دونوں طرف برابر جس چیز کا تم کو وعدہ دیا گیا ہے اور جس عذاب اور سزا کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے وہ نزدیک ہے یا دور ہے یعنی میں نے صاف صاف تم کو اطلاع دے دی کہ اب نہ مجھ پر کوئی بار ہے اور نہ تمہارے لئے کوئی حجت اور عذر ہے۔ تمہارا راستہ الگ اور میرا راستہ جدا۔ رہی یہ بات کہ جس عذاب کا تم کو خوف دلایا جاتا ہے اور نافرمانی کی صورت می جس سزا سے ڈرایا جاتا ہے وہ عذاب یا سزا کیوں نہیں واقع ہوتی تو اس کے متعلق مجھے وقت نہیں معلوم کہ وہ دور ہے یا نزدیک ہے۔ صرف اتنا جانتا ہوں کہ حق کو نہ ماننے اور حق بات جو دلائل سے ثابت ہوچکی ہو اس کا انکار کرنے کی سزا ضرور ملے گی چاہے جب ملے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں دونوں طرف برابر یعنی ابھی تم دونوں بات کرسکتے ہو ایک طرف کا زور نہیں آیا۔ 12۔ یعنی دونوں باتیں برابر ہیں چاہے قبول کرو یا رد کردو اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا علم ہے۔
Ayah 21:110

اِنَّهٗ یَعْلَمُ الْجَهْرَ مِنَ الْقَوْلِ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 21:110 in the Quran reader

بیشک خدا اس بات کو بھی جانتا ہے جو پکار کر کہی جائے اور اس کو بھی جانتا ہے جو تم دل میں چھپاتے ہو۔

(110) بلاشبہ اللہ تعالیٰ اس بات کو بھی جانتا ہے جو پکار کر کہی جائے اور اس کو بھی جانتا ہے جو بات تم دل میں چھپاتے ہو یعنی کوئی بات حضرت حق تعالیٰ سے مخفی نہیں ہے۔
Ayah 21:111

وَ اِنْ اَدْرِیْ لَعَلَّهٗ فِتْنَةٌ لَّكُمْ وَ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 21:111 in the Quran reader

اور میں نہیں جانتا کہ عذاب کی تاخیر میں تمہارے لئے کوئی امتحان ہو اور ایک وقت مقررہ تک تم کو بہرہ مند کرنا مقصود ہو۔

(111) اور میں نہیں جانتا کہ تاخیر عذاب میں تمہارے لئے کوئی امتحان اور آزمائش ہے اور ایک وقت معین تک تم کو فائدہ پہنچانا اور بہرہ مند کرنا مقصود ہو۔ یعنی جب اس کو سب باتیں معلوم ہیں تو تمہاری بدکرداری کی سزا ضرور ملے گی اور عذاب میں جو تاخیر ہورہی ہے اس کی وجہ مجھ کو معلوم نہیں۔ البتہ اتنا کہہ سکتا ہوں کہ شاید تاخیر عذاب کی وجہ یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہاری آزمائش کررہا ہے اور تم کو مہلت دے رہا ہے کہ تم ایمان لے آئو اور تم کو موت کے معین وقت تک کے لئے زندگی کے سازو سامان سے بہرہ مند کرنا مقصود ہے۔ عذاب کی مہلت میں دو ہی احتمال ہوسکتے ہیں یا ایمان لے آئیں یا کفر میں مبتلا رہ کر زیادہ سزا کے مستحق ہوجائیں۔ بہرحال ! احتمال کا اظہار فرمایا اور حقیقت سے لاعلمی ظاہر کی کہ میں نہیں جانتا کہ حقیقی مصلحت کیا ہے۔
Ayah 21:112

قٰلَ رَبِّ احْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ وَ رَبُّنَا الرَّحْمٰنُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ۠ Open ayah 21:112 in the Quran reader

پیغمبر نے یوں دعا کی اے میرے پروردگار انصاف کے ساتھ فیصلہ کردے اور ہمارا رب رحمن ہے اور ان باتوں کے مقابلہ میں جو تم بناتے ہو اسی سے مدد طلب کی جاتی ہے

(112) پیغمبر (علیہ السلام) نے یوں دعا کی اے میرے پروردگار میرے اور میری قوم کے مابین انصاف کے ساتھ فیصلہ فرمادے اور ہمارا پروردگار بےحد مہربان ہے اور ان باتوں کے مقابلے میں جو تم بناتے رہتے ہو اسی سے مدد چاہی اور طلب کی جاتی ہے انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کا یہ طریقہ رہا ہے کہ جب ان کی قوم نے ان کو تنگ کیا اور لغو باتوں سے ان کو پریشان کیا تو جناب باری عزاسمہ کی بارگاہِ عالی میں دعا کرتے تھے۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ نے یہ دعا فرمائی کہ پروردگار یہ لوگ تو کسی طرح میری دعوت و تبلیغ کو قبول نہیں کرتے۔ بلکہ ہر بات کا مذاق اڑاتے اور استہزا کرتے ہیں اب تو ہی میرے اور ان کے درمیان فیصلہ فرمادے۔ اور چونکہ تیرا ہر فیصلہ مبنی برانصاف ہوتا ہے۔ اس لئے فرمایا رب احکم رحکمک الحق یعنی آپ فیصلہ فرما دیجئے اور آپ کا فیصلہ ہمیشہ حق اور انصاف ہی ہوتا ہے۔ ہمارا پروردگار رحمان ہے اور اسی سے ہر معاملہ میں مدد طلب کی جاتی ہے جس قسم کی تم باتیں بناتے رہتے ہو ان کے مقابلہ میں اسی سے مدد مانگتا ہوں۔ (112) الحمد للہ والمنتہ آج سورة انبیآء کی تیسیر ختم ہوئی 29 ذی الحجہ 1372؁ھ مطابق یکم ستمبر 1953 ئ؁