Ayah 22:1(1) اے انسانو ! اپنے پروردگار سے ڈرو بلاشبہ قیامت کے دن کا بھونچال ایک بڑی سخت چیز ہے یا تو یہ زلزلہ اور بھونچال وہ ہے جس کو سورة حاقہ اور سورة واقعہ میں فرمایا یعنی زمین میں قیامت قائم ہوتے وقت ایک عام زلزلہ سے زمین ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گی اور پہاڑ اڑ جائیں گے اور ظاہر یہی ہے یا قیامت میں کوئی زلزلہ ہوگا۔ جیسا کہ بعض علماء نے کہا ہیح (واللہ اعلم)
بہرحال ! وہ بھونچال اور امن چین ایسا ہولناک ہوگا کہ اس وقت کسی کو کسی کی خبر نہ ہوگی اس حالت کا ذکر آگے فرماتا ہے۔
Ayah 22:2(2) جس روز تم اس زلزلے کو دیکھو گے تو اس دن یہ حالت ہوگی کہ ہر ایک دودھ پلانے والی عورت اپنے دودھ پیتے شیر خوار بچے سے غافل ہوجائے گی اور شیر خوار بچے کو بھول جائے گی اور ہر حمل والی اپنے حمل کو ڈال دے گی اور اے مخاطب تو لوگوں کو نشے کی حالت میں دیکھے گا حالانکہ حقیقتاً وہ نشے کی حالت میں نہ ہوں گے بلکہ اللہ تعالیٰ کا عذاب ہی بڑا سخت ہے۔
یعنی اس زلزلے کی ہیبت کا یہ عالم ہوگا کہ دودھ پلانے والیاں اپنے شیر خوار اور دودھ پینے والے بچوں کو بھول جائیں گی اور پیٹ والیوں کے پیٹ گرجائیں گے اور اے دیھکنے والے تو عام لوگوں کو دیکھے گا کہ وہ مدہوش ہیں ان کی یہ مدہوشی کسی نشے کی چیز استعمال کرنے کی وجہ سے نہ ہوگی بلکہ عذاب الٰہی کی سختی اور زلزلے کی ہیبت کے باعث ہوش و حواس گم ہوجائیں گے یہ حالت غالباً نفخہ اول کے وقت ہوگی جو قیامت کی علامت ہے۔ بعض حضرات اہل علم نے نفخہ ثانیہ اور قیام قیامت مراد لیا ہے اور دودھ پلانے والیوں اور پیٹ والیوں میں توجیہہ کی ہے ۔ ( واللہ اعلم بالصواب) بہرحال ! حضرات مفسرین کے دو قول ہیں۔
Ayah 22:3(3) اور انسانوں میں سے بعض وہ بھی ہیں جو بےجان بوجھے اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کے بارے میں جھگڑتے ہیں اور ہر ایسے سرکش شیطان کے پیچھے ہولیتے ہیں اور اس کی پیروی کرنے لگتے ہیں۔
Ayah 22:4(4) جس کے متعلق یہ لکھا جاچکا ہے اور طے ہوچکا ہے کہ جو کوئی شخص اس سے دوستانہ تعلقات رکھے گا اور اس کا اتباع کرے گا تو وہ سرکش شیطان اس کو گمراہ کردے گا اور دوزخ کے عذاب کی طرف اس کی رہنمائی کرے گا۔
یہ آیت نضر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو باوجود جاہل ہونے کے اللہ تعالیٰ کے بارے میں بہت جھگڑالو تھا ملائکہ کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں بتاتا اور قرآن کریم کو اساطیر الاولین اور کہانیاں کہتا اور یہ کہتا کہ جب ہم مرگئے اور گل گئے تو پھر خدا ہم کو دوبارہ زندہ نہیں کرسکتا اس کو فرمایا کہ وہ ہر سرکش شیطان کی پیروی کرتا ہے حالانکہ شیطان سرکش کے متعلق یہ امر طے شدہ ہے کہ جو کوئی اس سے دوستی کرتا اور اس کا پیرو ہوتا ہے تو وہ شیطان اس کو گمراہ کردیتا ہے اور اس کو جہنم کے عذاب کا رستہ بتاتا ہے یعنی اس کا کہنا ماننے سے سوائے گمراہی اور عذاب دوزخ کے کچھ پلے نہیں پڑتا۔
Ayah 22:5(5) اے لوگو ! اگر تم قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہونے کے متعلق شک میں مبتلا ہو تو دیکھو اور غورکرو کہ ہم نے تم کو ابتداء مٹی سے بنایا پھر تم کو نطفہ سے پھر تم کو بستہ اور جمے ہوئے خون سے پھر تم کو گوشت کے لوتھڑے اور بوٹی سے جو پوری بھی ہوتی ہے اور بعضی ادھوری ہوتی ہے بنایا اور پیدا کیا اور تدریجاً تم کو اس لئے پیدا کیا تاکہ ہم تم پر اپنی قدرت کا کمال ظاہرکریں اور ہم جس کو چاہتے ہیں ایک مدت مقررہ تک رحم میں ٹھہرائے رکھتے ہیں پھر ہم تم کو طفولیت اور بچہ ہونے کی حالت میں نکالتے ہیں پھر تمہاری پرورش کرتے ہیں اور تم کو مہلت دیتے ہیں تاکہ تم اپنی جوانی کے کمال اور پوری جوانی کو پہنچ جائو اور تم میں سے بعض وہ بھی ہے جو مرجاتا ہے اور بعض تم میں سے وہ بھی ہے جو نکمی اور ناکارہ عمر کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے جس کا انجام اور اثر یہ ہوتا ہے کہ سمجھنے اور جاننے کے بعد کسی شئے کو نہ سمجھتا ہے اور نہ جانتا ہے اور اے مخاطب تو زمین کو دیکھتا ہے کہ خشک اور دبی پڑی ہے پھر جہاں ہم نے اس پر پانی برسایا تو اس میں ایک خاص قسم کی حرکت پیدا ہوجاتی ہے اور وہ ابھرنے لگتی ہے اور قسم قسم کی پر رونق نباتات اگاتی ہے یعنی جو لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کے قائل نہیں ہیں وہ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ دوسری مرتبہ ہم کو زندہ کرنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ اس پر حق تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ کو ظاہر کرتے ہوئے یہاں دو باتیں فرمائیں ایک ابتدائی پیدائش اور پھر تدریجی طورپر انسانی پیدائش کا سلسلہ اور دوسری بات مری ہوئی زمین کا دوبارہ زندہ کردینا۔
چنانچہ ارشاد فرمایا کہ اپنی پیدائش میں غورکرو کہ ہم نے تمہارے باپ آدم کو مٹی سے پیدا کیا پھر ان کی غذا سے نطفہ بنایا اور اس نطفہ سے پیدائش کا سلسلہ جاری کردیا اور چونکہ انسان کی غذا بھی مٹی ہی سے حاصل ہوتی ہے اور نطفہ اسی غذا کا سلالہ اور جوہر ہوتا ہے اس لئے بنی نوع انسان مٹی ہی سے پیدا کی جاتی ہے اور مٹی باعتبار دوسرے عناصر کے زیادہ ہوتی ہے پھر یہی نطفہ کچھ دنوں کے بعد ایک جمے ہوئے خون کی صورت اختیار کرلیتا ہے پھر کچھ دنوں کے بعد ایک گوشت کا لوتھڑا اور لگدی کی شکل اختیار کرلیتا ہے وہ گوشت کی لگدی کبھی پوری ہوتی ہے اور کبھی ناقص ہوتی ہے جو ضائع ہوجاتی ہے اور جس کو حمل کا نکل جانا بولتے ہی اور کچا حمل ضائع ہونا کہتے ہیں وہی گوشت کا لوتھڑا اور لگدی ہوتی ہے جس میں سے انسانی اعضاء پھوٹتے ہیں۔
اسی لئے فرمایا کہ لنبین لکم یعنی تم کو اپنی قدرت کا کمال دکھائیں کہ ہم کس طرح تدریجی طور پر ایک بیجان نطفہ کو جان عطا کرتے ہیں اور ایک مدت مقررہ تک اس کو رحم مادر میں ٹھہرا کر اور بچہ بناکر نکالتے ہیں پھر اس کی پرورش دودھ اور غذا سے کرتے ہیں اور مہلت دیتے ہیں تاکہ تم اپنی بھرپور جوانی تک پہنچ جائو۔ پھر تم میں سے کوئی جوانی کو پہنچ کر مرجاتا ہے یا جوانی سے پہلے یا جوانی سے کچھ بعد مرجاتا ہے اور کوئی تم میں سے بوڑھا ہوکر بڑھاپے کی اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ بچوں کی طرح انجان اور بھولا ہوجاتا ہے۔ ابھی ایک بات اس کو بتائی اور پھر وہ بیخبر ہوگیا جن باتوں کا علم اس کو حاصل تھا ان سب سے بےعلم ہوجاتا ہے اور باخبر ہونے کے باوجود بیخبر بن جاتا ہے اسی لئے اس عمر کو عمر ارذل فرمایا یعنی نکمی اور ناکارہ عمر۔
سورئہ یٰسین میں فرمایا ومن نعمرہ ننکسہ فی الخلق۔ منکرین بعث کے لئے دوسرا استدلال خشک زمین سے کیا کہ زمین خشک ہوجاتی ہے اور اس میں روئیدگی اور سبزہ اگانے کی طاقت نہیں رہتی لیکن ادھر بارش ہوئی اور ادھر مری ہوئی زمین میں آثار حیات اور آثار نمو پیدا ہوئے۔ چناچہ اسی کو آگے بیان فرمایا۔
Ayah 22:6(6) یہ سب کچھ اس سبب سے ہوا تاکہ تم جان لو کہ اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ثابت و برحق ہے اور وہی ہستی میں کامل ہے اور یہ کہ وہی بےجانوں میں جان ڈالتا اور مردوں کو زندہ کرتا ہے اور یہ کہ وہ ہر شئے پر قادر ہے یعنی جو باتیں اوپر مذکور ہوئیں وہ سب اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ پر دلالت کرتی ہیں اور جان کو جاندار کرتا ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
Ayah 22:7(7) اور یہ بات بھی تم جان لو اور تم کو معلوم ہوجائے کہ قیامت ضرور آنے والی ہے اس کے آنے اور واقع ہونے میں کچھ شک نہیں اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان سب لوگوں کو جو قبروں میں پڑے ہیں زندہ کر اٹھائے گا۔ یعنی جو کامل قدرت رکھتا ہے وہ قیامت کے لانے اور مردوں کے جلا اٹھانے پر قادر ہے۔
Ayah 22:8(8) اور لوگوں میں بعض شخص وہ بھی ہے جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں بغیر کسی علم و واقفیت اور بدون کسی دلیل اور بدون کسی روشن کتاب کے۔
Ayah 22:9(9) تکبر سے اپنا پہلو موڑ کر جھگڑا کرتا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کے … صحیح راستے سے لوگوں کو بےراہ کرے ایسے شخص کے لئے دنیا میں بھی رسوائی ہے اور ہم اس کو قیامت کے دن بھی عذاب سوزاں کا مزا چکھائیں گے اور جلانے والے عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔
Ayah 22:10(10) اس سے کہا جائے گا یہ اس کئے کا بدلہ ہے جس کو تیرے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے اور یہ واقعہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔
صاحبِ مدارک نے فرمایا کہ یہ آیت ابو جہل کی حرکات قبیحہ کے سلسلے میں نازل ہوئی ہے۔ تین باتیں اس کی جہالت کے متعلق فرمائیں۔ علم نہی۔ یعنی علم ضروری اور بدیہی بھی نہیں۔ دلیل عقلی سے بھی یکسر خالی اور کوئی روشن کتاب یعنی دلیل نقلی بھی نہیں اور باوجود اس کم مایگی اور حماقت و جہل کے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی قدرت کے بارے میں جھگڑا اور موشگافی کرتا ہے اور ہر قسم کے دلائل سے عاری اور خالی ہوتے ہوئے بھی تکبر کا یہ عالم کہ سیدھے منہ بات نہیں کرتا۔ پہلو پھیر کر اور منہ موڑ کر بات کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھگڑا اس لئے کرتا ہے تاکہ لوگوں کو شبہات اور شکوک میں مبتلا کرکے صحیح راہ سے روک دے۔
دنیا کی رسوائی کا مطلب یہ ہے کہ اہل دانش کی نگاہ میں بےعزتی اور جنگ میں شکست اور آخرت میں آگ کا عذاب، جہنم کے عذاب میں داخل کرتے وقت فرشتے کہیں گے یہ سزا تجھ کو ان کاموں کے بدلے دی جارہی ہے جو تونے اور تیرے دونوں ہاتھوں نے آگے بھیجے۔
Ayah 22:11(11) اور لوگوں میں سے کوئی شخص ایسا بھی ہے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت اسی طرح کرتا ہے جیسے کوئی کسی چیز کے کنارے پر کھڑا ہوا ہو پھر اس کو دنیوی نفع پہنچ گیا تو اس نفع کی وجہ سے ظاہری طور پر ٹھہرا رہا اور دین پر قائم رہا اور اگر اس پر کوئی امتحان و آزمائش آگئی تو اپنے منہ کے بل الٹا پھر گیا۔ ایسے شخص کی حالت یہ ہے کہ وہ دنیا اور آخرت دونوں کھو بیٹھا۔ یہ دونوں جہان کا نقصان یہی تو کھلا ہوا خسارہ اور گھاٹا ہے۔
اس آیت میں منافقوں اور اصحاب اغراض کی حالت بیان فرمائی۔ جیسا کہ بعض دیہاتی لوگ آکر ایمان لاتے تھے اگر ایمان کے بعد اولاد اور مال میں کچھ ترقی ہوجاتی تو دین پر ظاہری طور سے قائم رہتے اور اگر کچھ نقصان پہنچ جاتا۔ بیمار ہوجاتے یا مال میں کچھ گھاٹا ہوجاتا تو پھر کفر پر لوٹ جاتے۔ حضرت حق تعالیٰ نے استعارہ تمثیلیہ کے طور پر ان کی حالت بتائی۔
عرب میں قاعدہ تھا کہ بزدل لوگ فوج کے کنارے پر رہتے تھے اگر فتح کی توقع ہوئی تو آگے بڑھ گئے اور شکست کے آثار نظر آئے تو بھاگ گئے، یہی حالت ان کی فرمائی دنیوی منفعت کی امیدلے کر مسلمان ہوئے کچھ منفعت ہوگئی۔ فارغ البالی حاصل ہوئی مویشی اور اولاد میں کثرت دیکھی تو ظاہری طور پر دین کا نام لیتے رہے۔ اطمان بہ کا یہ مطلب نہیں کہ جس طرح ایک مخلص مسلمان کو اطمینان اور قرار ہوتا ہے وہ حاصل ہوگیا اسی لئے ہم نے ظاہری طور پر دین کا نام لینا اور قائم رہنا اور قرار پکڑنا کہا اور اگر کوئی آزمائش پیش آگئی جس طرح اہل ایمان کو پیش آتی رہتی ہے تو آزمائش کو دیکھتے ہی کفر میں لوٹ گیا۔
ظاہ رہے کہ ان لوگوں کا نہ تو وہ اسلام معتبر ہے جو دنیوی اغراض اور حصول منافع کی غرض سے قبول کیا تھا اور آزمائش میں لوٹ جائے تو نہ دین رہا اور نہ دنیا۔ دین و دنیا کے گھاٹے سے بڑھ کر اور کون سا گھاٹا ہوسکتا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی دنیا کی نیکی پاوے تو دین پر قائم رہے اور تکلیف پاوے تو چھوڑ دے ادھر دنیا گئی ادھر دین گیا۔ کنارے پر کھڑا ہے یعنی دل ابھی نہ اس طرف ہے نہ اس طرف ہے جیسا کوئی مکان کے کنارے پر کھڑا ہے جب چاہے نکل جائے۔ 12
Ayah 22:12(12) دنیوی نفع سے ناامید ہوکر پلٹا تو وہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اس چیز کو پکارتا ہے اور اس کی عبادت کرتا ہے جو نہ اس کو کچھ نقصان پہنچا سکتی ہے نہ کچھ بگاڑ سکتی ہے اور نہ اس کو کچھ فائدہ پہنچا سکتی ہے اور نہ اس کا کچھ بھلا کرسکتی ہے یہ خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسروں کو پکارنا یہی تو پرلے درجے کی گمراہی ہے۔ یعنی ان چیزوں کی عبادت نہ کرے تو وہ نقصان نہیں پہنچا سکتیں اور عبادت کرے تو کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتیں۔ بھلا جو چیز اللہ تعالیٰ سے نہ حاصل ہو وہ جمادات اور پتھروں سے حاصل کرنا چاہتا ہے اس سے بڑھ کر حماقت اور پرلے درجے کی گمراہی اور کیا ہوسکتی ہے۔
Ayah 22:13(13) وہ ایسے کی عبادت کررہا ہے جس کی عبادت کا ضرر جو کہ واقعی ہے اس کی عبادت کے موہوم اور غیر واقع نفع سے قریب تر ہے کچھ شک نہیں ایسا مددگار اور کارساز بھی برا اور ایسا رفیق اور دوست بھی برا۔ یعنی ان کی عبادت عذاب الٰہی کا سبب ہوتی ہے اور وہ عذاب واقعی ہے اور یہ عذاب الٰہی تو قریب ہے اور نفع مفقود ہے۔
قیامت میں جب بت پرستی کے نتائج روبرو آئیں گے تو اس وقت منکر بھی کہیں گے برا مولا اور برا دوست یعنی بالا دست ہوکر بھی برا اور دوست ہوکر بھی برا۔ نہ بڑا ہوکر کام آئے نہ دوست بن کر کام آئے۔
نعوذ باللہ من ذلک۔ پہلی آیات میں نفع اور ضرر کی نفی فرمائی تھی اس آیت سے نفع و ضرر کا اثبات معلوم ہوتا ہے ہم نے ترجمے اور تیسیر میں اس کو صاف کردیا ہے۔ سہل امر یہ ہے جیسا کہ بعض اہل علم نے کہا ہے کہ پہلی آیت میں دنیوی حالت کا ذکر ہے اور دوسری آیت میں اخروی حالت کی جانب اشارہ ہے اس لئے دونوں آیتوں کے مضمون میں کوئی تضاد نہیں ہے۔
Ayah 22:14(14) بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک اعمال کے پابند رہے ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے پائیں نہریں بہ رہی ہوں گی بیشک اللہ تعالیٰ جو ارادہ کرتا ہے وہ کر گزرتا ہے اور جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے یعنی وہ اپنی بات پوری کرتا ہے کوئی اس کی مزاحمت کرنے والا نہیں ہے وہ جزا اور سزا کا ارادہ کرچکا ہے لہٰذا ! جو وہ ارادہ کرچکا ہے وہ پورا ہو کر رہے گا۔ فلا الٰہ الاھو۔
Ayah 22:15(15) جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کی دنیا اور آخرت میں کوئی مدد نہیں کرے گا تو اس کو چاہئے کہ وہ ایک رسی اوپر کی طرف یعنی اپنے مکان کی چھت میں تانے پھر گلے میں پھندا لگاکر اپنا گلا گھونٹ لے اور اپنی زندگی ختم کردے پھر دیکھے کہ کیا اس کی یہ تدبیر اس چیزکو روک سکتی ہے جو اس کو غصے میں ڈالتی ہے۔ یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ کے متعلق ایسا گمان کرتا ہے کہ وہ اپنے پیغمبر محمد ﷺ کی دنہ دنیا میں کوئی مدد کرے گا۔
دنیا میں مدد یہی کہ آپ کے دین کو غالب و منصور نہیں فرمائے گا اور نہ آخرت میں کوئی مدد فرمائے گا۔ آخرت میں مدد یہی کہ آپ کے مراتب بلند نہیں کرے گا تو ایسے شخص کو چاہئے کہ وہ اپنے گھر کی چھت میں رسی باندھ کر پھانسی لگالے پھر دیکھے کہ اس کی یہ تدبیر اور اس کا یہ دائوں اس چیز کو روکتا ہے یا نہیں جو اس کو غصہ اور حسد میں ڈالتی ہے یعنی اپنے غصہ اور حسد میں مرجائے پھر دیکھے کہ اس کی موت سے محمد ﷺ کی مدد پر دنیا اور آخرت میں کوئی اثر پڑتا ہے یا نہیں ؟ اس آیت کی یہ تفسیر حضرت عبداللہ بن عباس ؓ حضرت قتادہ ؓ ، حضرت عکرمہ ؓ اور ابو الجوزا سے منقول ہے ابن زید ؓ نے آیت کی تفسیر اس طرح کی ہے جو شخص رسول اللہ ﷺ کے متعلق یہ خیال رکھتا ہو کہ اللہ تعالیٰ ان کی دنیا اور آخرت میں کوئی مدد نہیں کرے گا تو وہ آسمان سے ایک رسی تان لے اور اس کے ذریعہ سے آسمان پر چڑھ کر وحی الٰہی کو منقطع کردے اور اسباب وحی کو ختم کرا دے یا یہ کہ اللہ تعالیٰ کی مدد کو بند کردے اور ظاہر ہے کہ ایسا ہو نہیں سکتا کہ کوئی آسمان پر چڑھ کر وحی الٰہی یا اس کی مدد کو منقطع کردے تو پھر غورکرے کہ کیا اس کی یہ تدبیر اس کے لئے مفید ہوسکتی ہے اور اس کے غیظ و غضب کو دور کرسکتی ہے اور جب نہیں کرسکتی تو اللہ تعالیٰ کی وحی اور اس کی مدد نہیں روکی جاسکتی۔
حضرت شاہ صاحب (رح) نے اس آیت کا تعلق ومن الناس من یعبد اللہ علیٰ حرف سے ظاہر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے دنیا کی تکلیف میں جو کوئی خدا سے ناامید ہو کر اس کی بندگی چھوڑ دے اور جھوٹی چیزیں پوجے جن کے ہاتھ نہ برا نہ بھلا وہ اپنے دل کے ٹھہرانے کو یہ صورت قیاس کرے جیسے ایک شخص اونچی لٹکتی رستی سے لٹک رہا ہے اگر چڑھ نہیں سکتا توقع تو ہے کہ رسی اوپر کھینچے تو چڑھ جاوے جب رسی توڑ دی پھر کیا توقع رہی کہا اللہ کی امید کو اور آسمان کو تانے یعنی اونچان کو۔ 12
شاہ صاحب (رح) نے خوب معنی فرمائے۔ مطلب یہ ہے کہ کنارے پر کھڑے ہوکر عبادت کرنے والا نہ بنے اور دنیوی تنگی اور آزمائش اور گھبرا کر اللہ تعالیٰ سیح امید منقطع نہ کردے اور غیر اللہ کی پوجا نہ کرنے لگے۔ اگر کوئی شخص رسی پکڑے رہے تو کبھی نہ کبھی کامیابی کی توقع ہے جس نے رسی چھوڑ دی وہ گیا گزرا ہوا اور دستگیری کی امید منقطع کر بیٹھا۔
Ayah 22:16(16) اور ہم نے اسی طرح اس قرآن کریم کو نازل کیا ہے کہ اس میں کھلی کھلی اور واضح دلیلیں ہیں اور امر واقعہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ یعنی جس طرح ہم نے یہ احکام مذکورہ نازل فرمائے اسی طرح تمام قرآن کریم نازل کیا۔ درآنحالیکہ وہ دلائل واضحہ پر مشتمل ہے اور سب کو غور و فکر کا موقعہ دیا گیا ہے۔ مگر بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے اور جس کے لئے ارادہ کرتا ہے اسی کو ہدایت سے سرفراز فرماتا ہے اور دستو یہ ہے کہ تلاش حق کی نیت سے جو شخص کوشش کرتا ہے اس کی ہدایت کے ساتھ ارادئہ باری تعالیٰ کا تعلق ہو ہی جاتا ہے۔ اللہ یجتبی الیہ من یشاء ویھدی الیہ من ینیب۔
Ayah 22:17(17) بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور جو لوگ یہودی ہیں اور صائبین اور نصاریٰ اور مجوس اور وہ لوگ جو مشرک ہیں اللہ تعالیٰ ان سب لوگوں کے مابین قیامت کے دن فیصلہ کردے گا۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہر چیز سے آگاہ اور ہر چیز پر مطلع ہے۔ یعنی دنیا کے مختلف فرقے مثلاً مسلمان یہودی، صائبین یعنی کواکب پرست اور نصرانی اور آتش پرست اور بت پرست ان سب کے درمیان کھلا اور عملی فیصلہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمادے گا بیشک اللہ تعالیٰ کے سامنے ہر چیز ہے یعنی سب کے اعمال اور عقائد سے وہ اچھی طرح واقف ہے ان سب کا فیصلہ قیامت کے دن ہوجائے گا۔ فیصلہ یہی کہ جو راہ راست پر ہوگا وہ بہشت میں بھیج دیا جائے گا اور جو گمراہ ہوں گے وہ جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے۔ صائبین کی تحقیق پہلے پارے میں گزر چکی ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں مجوس آگ کو پوجتے ہیں اور ایک نبی کا بھی نام لیتے ہیں۔ معلوم نہیں یہ پیچھے پکڑا ہے انہوں نے یا سرے سے غلط ہیں۔ 12
کہتے ہیں مجوس دو خد ا کے قائل ہیں ایک کو خالق شر کہتے ہیں اور ایک کو خالق خیر مانتے ہیں۔
Ayah 22:18(18) اے مخاطب کیا تو نے نہیں دیکھا کہ جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور سورج اور چاند اور تارے اور پہاڑ اور درخت اور چوپائے اور اکثر انسان یہ سب اللہ تعالیٰ کو اپنی اپنی حالت کے مناسب سجدہ کرتے ہیں اور اکثر انسان ایسے ہیں جن پر ان کی نافرمانی کے باعث عذاب ثابت ہوچکا ہے اور جس کو اللہ تعالیٰ ذلیل و خوار کرے اس کو کوئی عزت دینے والا نہیں اور یقیناً اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ سجدہ ہر ایک کا اس کے حال کے مناسب ہے انسان چونکہ مکلف ہے اس کا سجدہ تشریعی ہے باقی چیزوں کا سجدہ اطاعت وانقیاد ہے اور وہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ کی مطیع و منقاد ہیں خواہ وہ آسمان میں ہوں یا زمین میں البتہ انسانوں کی حالت یہ ہے کہ کچھ تو ان میں سے فرماں بردار اور سجدہ ریز اور احکام شرع کے پابند ہیں اور کچھ اپنی نافرمانی کے ہاتھوں مستحق عذاب ہیں اور بات بھی یہ ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ ذلیل کردے اور اس کا اکرام کرنے والا اور اس کو عزت دینے والا کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا۔
اللہ تعالیٰ کو اختیار ہے وہ اپنی مصلحت و حکمت کے موافق جو چاہے کرے۔
من فی السمٰوٰت ومن فی الارض کہنے کے بعد پھر چند چیزوں کا ذکر فرمایا شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ یہ عالم علوی اور عالم سفلی کی اہم چیزیں ہیں اور اکثر گمراہ اور مشرک ان چیزوں کو پوجا کرتے ہیں۔ اس لئے ان کا ذکر فرمایا کہ یہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ کی مطیع اور فرماں بردار اور اس کے روبرو عاجز ہیں اور بیوقوف انسان ان کی پوجا کرتے ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ایک سجدہ ہے کہ سب اس میں شامل ہیں آسمان زمین میں جو کوئی ہے وہ یہ کہ اللہ کی قدرت میں بےبس ہیں اور ایک سجدہ ہے ہر ایک کا جدا وہ یہ کہ اس کو جس کام کا بنایا اس کام میں لگے۔ یہ بہت آدمی کرتے ہیں بہت نہیں کرتے مگر اور سب خلق کرتی ہے۔ 12
اوپر کی آیتوں میں دو قسم کے لوگوں کا ذکر فرمایا تھا ایک فرمانبردار دوسرے نافرمان۔ اب آگے ان دونوں کے انجام کا ذکر فرماتا ہے۔
Ayah 22:19(19) یہ دو فریق ہیں یعنی مومن اور کافرو منکر جنہوں نے اپنے رب کے بارے میں جھگڑا کیا ہے اور اختلاف کیا پس جو لوگ منکر ہیں ان کے لئے آگ کے کپڑے اور آگ کا لباس قطع کیا جائے گا ان کے سروں پر سخت کھولتا ہوا گرم پانی ڈالا جائے گا۔
Ayah 22:20(20) اس گرم پانی سے جو چیزیں ان کے پیٹ میں ہوں گی اور نیز ان کی کھالیں سب پگھل جائیں گی۔
Ayah 22:21(21) اور ان منکروں کو مارنے کے لئے لوہے کے گرز ہوں گے۔
Ayah 22:22(22) جب بھی یہ معذبین آگ دوزخ سے اس کی تکلیف اور اس کی گھٹن سے گھبرا کر نکلنے کا ارادہ کریں گے تو اسی پر دھیل دیئے جائیں گے اور اسی میں پھر لوٹا دیئے جائیں گے… اور کہاجائے گا کہ عذاب سوزاں اور جلنے کے عذاب کا ہمیشہ کے لئے مزا چکھتے رہو۔ دونوں فریق نے اپنے رب کے بارے میں اختلاف اور جھگڑا کیا۔ یہ جھگڑا اعتقاد میں بھی ہے اور عمل میں بھی پھر جو لوگ دین حق کے منکر ہیں ان کی سزا یہ ہوگی کہ ان کو چاروں طرف سے آگ کے عذاب نے اس طرح گھیر رکھا ہوگا جس طرح لباس اور کپڑے بدن سے لپٹے رہتے ہیں نیز گرم اور کھولتا ہوا پانی سروں پر ڈالا جائے گا جس سے تمام جسم گل جائے گا۔ پیٹوں میں جو کچھ ہے یعنی آنتیں وغیرہ پگھل جائیں گی اور کھالیں گل جائیں گی باہر نکلنے کو بھاگیں گے تو عذاب کے فرشتے لوہے کے گرز مارکر الٹا دھکیل دیں گے اور ان کو کہا جائے گا اس عذاب سوزاں اور عذاب سوختنی کا ہمیشہ مزہ چکھتے رہو۔
محرق کی بجائے حریق فرمایا۔ بطور مبالغہ یعنی یہ عذاب دائمی ہوگا اب آگے اس فریق کا ذکر ہے جو اہل ایمان ہے۔
Ayah 22:23(23) بلا شبہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کے پابند رہے ان کو اللہ تعالیٰ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے پائیں نہریں بہتی ہوں گی ان باغوں میں ان کو سونے کے کنگن اور موتی پہائے جائیں گے اور وہاں ان کا لباس عام طور سے ریشمی ہوگا۔ فریق منکر کے سلسلے میں آگ کے کپڑوں کا ذکر آیا تھا۔ اب اس کے مقابلے میں اہل ایمان اور مومنین صالحین کا ذکر فرمایا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ جو فرمایا کہ وہاں گہنا اور پوشاک معلوم ہوا یہ دونوں یہاں نہیں اور گہنوں میں سے کنگن اس واسطے کہ غلام کی خدمت پسند آتی ہے تو کڑے ڈال دیتے ہیں ہاتھ میں۔ 12
بعض احادیث میں ہے کہ جو شخص دنیا میں رشیمین کپڑے پہنے گا وہ آخرت میں ریشمین لباس سے محروم رہے گا اگر یہ شخص کافر ہوگا تب تو جنت میں نہیں جائے گا اور اگر مومن ہوگا تو شاید ابتداء میں محروم رہے اور پھر ریشمین لباس کی اجازت ہوجائے۔ (واللہ اعلم)
اوپر ہر دو فریق میں سے منکرین کا ذکر تھا اس آیت میں متبعین کا تذکرہ فرمایا آگے ان نعمتوں کا سبب فرمایا۔
Ayah 22:24(24) یہ لوگ وہ ہیں جن کی پاکیزہ اور ستھری بات یعنی کلمہ طیب کی جانب رہنمائی کی گئی تھی اور اللہ تعالیٰ جو ستودہ صفات اور سب خوبیوں سے سراہا گیا ہے اس کے راستے کی ان کو ہدایت ہوگئی تھی۔
پاکیزہ قول یعنی کلمۂ لآ الٰہ الا اللہ کی ہدایت نصیب ہوئی۔ صراط الحمید یعنی اللہ تعالیٰ کا راستہ جو اسلام ہے اس کی ہدایت بھی ان کو نصیب ہوئی تھی۔ اللہ تعالیٰ بھی حمید ہے اور جو راستہ اس تک پہنچتا ہے وہ بھی حمید ہے اور خوبیوں والا ہے۔
Ayah 22:25(25) بلاشبہ جو لوگ منکر ہوئے اور وہ اللہ تعالیٰ کے راستے سے اور اس مسجد حرام سے روکتے ہیں جس کو ہم نے سب لوگوں کے لئے خواہ وہاں کا رہنے والا ہو یا باہر سے آنے والا ہو یکساں طور پر معبد مقرر کیا ہے اور جو شخص ظلم اور شرارت سے اس مسجد حرام یعنی مقام حرم میں کوئی بےدینی اور ٹیڑھی راہ کا قصد اور ارادہ کرے گا تو ہم اس کو دردناک عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔ اور اس کو دردناک عذاب کریں گے۔ کفار میں سے بعض لوگ اشد کفر کے خوگر تھے جس کی حالت یہ تھی کہ دوسرے لوگوں کو اسلام قبول کرنے سے منع کرتے اور روکتے تھے اور نہ صرف اسلام سے روکتے تھے بلکہ مسلمانوں کو حرم میں آنے اور عمرہ کرنے سے بھی روکتے تھے حالانکہ حرم محترم سب مسلمانوں کے لئے عبادت گاہ ہے۔ خواہ کوئی مقامی ہو یا آفاقی ہو۔ یعنی حرم کا رہنے والا ہو یا باہر سے عمرہ کرنے آئے سب کے لئے اس کے دروازے کھلے رہنے چاہئیں۔
پھر فرمایا ! کہ حرم ایک مقدس جگہ ہے یہاں کوئی جان بوجھ کر قصداً الحاد اور بےدینی اور کجروی پھیلائے گا اور اسی کے ساتھ وہ مشرک بھی ہوگا تو ضرور وہ دردناک عذاب اور سزا کا مستحق ہوگا۔ اگرچہ بددینی اور الحاد ہر جگہ برا ہے لیکن حرم میں اور زیادہ موجب عقوبت ہے جن مقامات پر ارکان عمرہ ادا کئے جاتے ہیں یعنی طواف اور سعی بین الصفا و المروہ یہ مقامات کسی کے مملوک بھی نہیں ہیں اس لئے یہاں ملک اور عدم ملک کی بحث کو ہم نے نظر انداز کردیا ہے اور مسجد حرام سے مفسرین نے حرم مراد لیا ہے اور حرم میں مسجد حرام بھی داخل ہے۔
ظلم کا ترجمہ بعض حضرات نے شرارت کیا تھا ہم نے شرک اور شرارت دونوں لفظ تیسیر میں رکھے ہیں اور ترجمہ میں ظلم کا ترجمہ ظلم ہی کردیا ہے یعنی شرک بھی کرتے ہیں اسلام سے بھی روکتے ہیں اور مسجد حرام یعنی حرم میں بھی آنے سے منع کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ حرم میں الحاد اور بےدینی کی ترویج ہو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ستھری بات یعنی بہش میں جھگڑنا اور بکنا نہیں سوائے خوشی کی بات اور شکر اللہ کا یا دنیا میں توحید کی بات پائی اور مسلمانوں کی راہ۔ 12۔ اور فرماتے ہیں یعنی جنہوں نے لوگوں کا وہاں جانا بند کیا وے سزا پائیں گے۔ 12
Ayah 22:26(26) اور وہ واقعہ قابل ذکر ہے جبکہ ہم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو کعبہ کی جگہ بتائی اور حکم دیا کہ میرے ساتھ کسی کو شریک اور ساجھی نہ کیجیو اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام کرنے والوں اور رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لئے پاک رکھیو۔ مسجد حرام اور اس کی عظمت و احترام کے سلسلے میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تعمیر و تطہیر کا واقعہ بیان کیا۔ یعنی حرت ابراہیم (علیہ السلام) جب حضرت اسماعیل اور ان کی والدہ کو حرم میں بسا آئے اور وہاں آتے جاتے رہے تب ہم نے ان کو شہر بسانے کا حکم دیا اور کعبہ کی بنیادوں کو انہیں بتایا اور کعبہ بنانے کا حکم دیا اور دونوں باپ بیٹوں نے کعبہ کی تعمیر کی اس وقت ابراہیم کو یہ حکم دیا کہ اس گھر کو ہر قسم کی نجاست اور گندگی سے پاک رکھیو یعنی ظاہری گندگی سے بھی اور کفر و شرک کی نجاست سے بھی یہ گھر پاک و صاف رہے اور تو میرا کسی کو شریک نہ کیجیو۔ اس گھر میں چونکہ طواف کرنے والے اور قیام کرنے والے رکوع و سجدہ کرنے والے آئیں گے اس لئے اس کا پاک و صاف رہنا ضروری ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہتے ہیں کہ کعبہ شریف کی جگہ آگے سے بزرگ تھی پھر بعد مدتوں کے نشان نہ رہا تھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو حکم ہوا۔ پھر عمارت بنائی اور تازہ کیا ایک بادل غیب سے آکھڑا ہوا اس کی چھائوں پر لکیر ڈالی اور بنیاد رکھی اور امتوں میں رکوع نہ تھا یہ خاص اسی امت میں ہے تو خبر دے کہ آگے لوگ ہوں گے اس کو آباد کرنے والے۔ 12
یہ جو شاہ صاحب (رح) نے فرمایا کہ پہلی امتوں میں رکوع نہ تھا شاید اس کا مطلب یہ ہوگا کہ پہلی امتوں میں نماز کی یہ شکل نہ ہوگی یعنی یہ ہیئت مجموعی مع تعداد رکعات وغیرہ جو اس امت میں ہے وہ شاید نہ ہو۔ (واللہ اعلم)
Ayah 22:27(27) اور لوگوں میں حج کے فرض ہونے کا اعلان کردے اس کا اعلان سے لوگ تیرے پاس پاپیادہ یعنی پائوں چلتے آویں گے اور ان دبلی دبلی اونٹنیوں پر سوار ہوکر بھی جو دور دراز کی راہ طے کرکے آئی ہونگی۔
یعنی حج کی فرضیت کا اعلان کرایا ابراہیم (علیہ السلام) سے آنے والوں کی دو ہی صورتیں ہوسکتی تھیں۔ قریب کے رہنے والے پیدل آکر حج کریں گے اور دور کے رہنے والے سواریوں پر آکر فریضہ ٔ حج ادا کریں گے۔
تیرے پاس آنے والے سے مطلب یہ ہے کہ تیرے تعمیر کردہ کعبہ کے پاس آئیں گے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ایک پہاڑ پر کھڑے ہوکر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پکارا کہ لوگو ! اللہ نے تم پر حج فرض کیا ہے حج کو آئو۔ باپ کی پشت میں لبیک کہا۔ جن کی قسمت میں حج ہے ایک بار یا دو بار یا زیادہ اپنے شوق سے ہزاروں خلق پیادہ آتے ہیں۔ لیکن فرض تب ہی ہے کہ سواری پیدا ہو اور اگر مکہ نزدیک ہے یا شخص کو چلنے کی عادت ہے تو امام مالک کے ہاں فرض ہے۔ 12
بہرحال ! حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حکم کی تعمیل کی اور حج کے فرض ہونے کا اعلان ہوگیا۔ مسلمان جہاں جہاں آباد ہیں ان کے اہل مقدرت پر حج فرض ہے ۔ صنامر اصل میں دبلی اور چھریری اونٹنی کو کہتے ہیں یہ اونٹنی تیز رفتار ہوتی ہے اور یہ مطلب نہیں کہ اونٹ پر ہی آئیں چونکہ پہلے ان ممالک میں عام طور سے سفر اونٹ پر ہوا کرتا تھا سا لئے صنامر فرمایا اگر کوئی سواری میسر ہو تو اس پر سفر کریں۔ یہاں ضامر کا یہ مطلب بھی لوگوں نے بیان کیا ہے کہ دوردراز کے سفر کی وجہ سے وہ اونٹ دبلے ہوں گے آگے حج کا سبب بیان کرتے ہیں۔
Ayah 22:28(28) تاکہ یہ سب آنے والے اپنے اپنے فائدے اور منافع کی غرض سے پہنچ جائیں اور تاکہ قربانی کے مقررہ ایام میں ان چوپایوں کی قسم کے مخصوص جانوروں پر ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کئے اور روئے ہیں پس اے امت محمدیہ تم ان قربانیوں میں سے خود کھانا چاہو تو کھائو اور مصیبت زدہ محتاج کو کھلائو۔ منافع سے مراد دینی فائدے اور دنیوی فوائد دونوں ہیں۔ دین کا فائدہ تو ظاہر ہی ہے کہ انسان کے تمام گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں اور روحانیت میں بڑی ترقی ہوتی ہے ہر تکلیف حج کی موجب کفارہ ہوتی ہے اور دنیوی فوائد جو عام اجتماع سے ہوتے ہیں ان کا تو شمار ہی ہونا مشکل ہے خواہ وہ تجارت ہو یا سیاسی اور اقتصادی منافع یا سیاحت کے جو فوائد ہوتے ہیں وہ ہوں۔
ایام معلومات سے مراد دسویں گیارھویں اور بارھویں ذی الحجہ ہے۔ بھیمۃ الانعام سے مراد اونٹ گائے اور بکری بھیڑ وغیرہ ہیں اپنی قربانیوں میں سے استحباباً خود بھی کھائیں اور مصیبت زدہ اور برے حال فقراء کو بھی کھلائیں بلکہ اغنیا کو بھی کھلا سکتے ہیں اور چاہیں تو قربانی کا گوشت غیر مسلم کو بھی دے سکتے ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جو شکرانے کا ذبح ہو یا نفل کا اس کو آپ کھاوے اور جو بدلا قصور کا ہو اس میں آپ نہ کھاوے اور کئی دن فرمایا تین دن کو ذی الحجہ کی دسویں تاریخ اور گیارھویں اور بارھویں ان دنوں میں بڑی قبولیت کا کام یہی اللہ کے نام پر ذبح کرنا۔ 12
Ayah 22:29(29) پھر قربانی کے بعد لوگوں کو چاہئے کہ اپنا میل کچیل اتار دیں اور اپنی نذریں اور منتیں پوری کریں اور اس قدیم گھر کا طواف کریں یعنی جمرئہ عقبہ کی رمی اور قربانی سے فارغ ہونے کے بعد پھر احرام کھول دیں اور سر منڈائی یا بال کتروائیں جسم پر احرام کے زمانے کا جو گردوغبار اور میل ہو اس کو صاف کریں اور نہا دھوکر سلے ہوئے کپڑے پہن لیں۔
نذور سے مراد یہ ہے کہ کوئی قربانی واجب کرلی ہو یا واجبات حج مراد ہوں یا کوئی اور منت وغیرہ جو اللہ کے لئے مانی ہو۔ قدیم گھر سے مراد کعبۃ اللہ ہے یعنی وہ طواف جس کو طوافِ زیارت کہتے ہیں اور اس کے بعد سب چیزیں حلال ہوجاتی ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جہاں سے لبیک شروع کرتے ہیں اور حجامت اور ناخن نہیں لیتے بالوں میں تیل نہیں ڈالتے بدن سے ننگے رہتے ہیں اب دسویں تاریخ سب تمام کرتے ہیں حجامت کر کر غسل کر کر کپڑے پہن کر طواف کو جاتے ہیں جس کو ذبح کرنا ہے پہلے ذبح کرلیتا ہے اور منتیں اپنی مرادوں کے واسطے جو مانا ہو وہ ادا کریں اصل منت اللہ کی ہے اور کسی کی نہیں۔ 12
Ayah 22:30(30) یہ بات تو سن چکے اور جو کوئی بڑائی رکھے اللہ تعالیٰ کے ادب اور اس کی حرمتوں کی اور اس کے محترم احکام کی عزت و وقعات کرے گا تو یہ اس کے پروردگار کے ہاں اس کے لئے بہتر ہوگا اور ان چوپایوں کے سوا جن کی حرمت تم کو سنا دی گئی ہے دوسرے چوپائے تمہارے لئے حلال کردیئے گئے ہیں سو تم بتوں کی ناپاکی اور گندگی سے بچتے رہو اور جھوٹی بتا سے بچو۔
Ayah 22:31(31) تمہاری حالت یہ ہو کہ سب سے کنارہ کش ہوکر صرف اللہ تعالیٰ کے ہو رہو اس کے ساتھ شریک ٹھہرانے والے نہ ہو اور جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا تو اس کی حالت ایسی ہے جیسے وہ آسمان سے گرپڑا پھر اس کو راستے میں گوشت خور پرندوں نے اچک لیا یا اس کو ہوا نے کسی دوردراز مقام پر لے جا پھینکا۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کو لائق ادب اور احترام قرار دیا ہے ان کی تعظیم اور ان کی بڑائی ملحوظ رکھنا یا جن چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے ان کو بڑا اور بھاری سمجھ کر چھوڑ دینا لائق ادب چیزیں جیسے بیت اللہ شریف میدان سعی، میدان عرفات، منیٰ ، قربانی کا جانور وغیرہ بلکہ اللہ تعالیٰ کے تمام احکام خواہ وہ اوامر وہں یا نواہی سب ہی مراد ہوسکتے ہیں۔
آگے چوپایوں کی حلت کا بیان فرمایا کہ ان چوپایوں کو چھوڑ کر حرمت سورة مائدہ اور سورة انعام میں گزر چکی ہے اور چوپائے تمہارے لئے حلال و مباح ہیں۔ سورة مائدہ، بقرہ اور انعام میں ہم مفصل بحث کرچکے ہیں۔ قرآن کریم میں جن کی حرمت مذکور ہے اور نبی کریم ﷺ کی احادیث سے جن کی حرمت ثابت ہے وہ سب چیزیں حرام ہیں۔ بتوں کی گندگی یہ کہ بت پرستی کرنا یا کسی جانور کو غیر اللہ کے نام پر ذبح کرنا یا تلبیہ پڑھتے وقت شرکیہ کلمات کہنا ان تمام مشرکانہ حرکات سے اجتناب کرو اور جھوٹ بولنے اور جھوٹی گواہی دینے سے اجتناب کرو اور بچو اور صرف اللہ کے ہو کر رہو۔ آگے شرک کی مثال ہے۔
مشرک کا حال یہ ہے جیسے وہ آسمان سے گرا اور راستے میں جانوروں نے اچک لیا اور اتفاقاً جانوروں سے بچ گیا تو ہوا نے اڑا کر کہیں سے کہیں پھینک دیا۔ یعی توحید کی بلندی سے گر کر پھر سوائے جہنم کے اور کہیں ٹھکانہ نہیں خواہ اس کو کوئی قتل کردے یا طبعی موت سے مرجائے۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں بڑائی رکھے اللہ کے ادب کی یعنی قربانی کے آئے ہوئے جانور نہ لوٹے اور قیمتی جانور لائے اور اس پر جھول اچھی ڈال کر پھر وہ بھی خیرات کرے اور چوپائے تم کو حلال ہیں یعنی جو کھانے میں رواج ہے اور بہتیرے چوپائے حرام بھی ہیں اور بچو بتوں کی گندگی سے یعنی جو کسی تھان پر ذبح ہو اور مردار ہوا اور جھوٹی بات سے بچو یعنی جو کسی کے نام کا کر کر ذبح کیا وہ بھی حرام ہوا اور جو کوئی شریک کرے اس کی مثال بیان فرمائی اس واسطے کہ جس کی نیت ایک اللہ پر ہے وہ قائم ہے اور جہاں نیت بہت طرف گئی وے سب اس کو راہ سے اچک لے گئے یا سب سے منکر ہوکر وہ دہری ہوگیا۔ 12
Ayah 22:32(32) یہ بات ہوچکی اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی نشانیوں اور یادگاروں کو پورا احترام قائم رکھے تو ان شعائر کا احترام دلوں کی پرہیزگاری سے حاصل ہوتا ہے۔ یعنی شعائر اللہ اللہ کے نام لگی ہوئی چیزیں خواہ ان کا تعلق زمان سے ہو یا مکان سے ان کا پورا پورا ادب و احترام کرنا تو یہ علامت ہے اس خوف کی جو ایک مسلمان کے دل میں اللہ کا ڈر ہوتا ہے جس کے دل میں ڈر ہوتا ہے وہ تمام احکام کی رعایت کرتا ہے خواہ وہ قربانی کرنے سے پہلے کے احکام ہوں یا قربانی کے بعد کے یا حج کے دوسرے احکام ہوں یا قربانی کے گوشت کے متعلق ہوں۔ شعائر کی تفصیل پارہ سیقول میں گزر چکی ہے۔
Ayah 22:33(33) تمہارے لئے ان چوپایوں سے ایک مقررہ وقت تک فائدہ حاصل کرنے کی اجازت ہے پھر جب تم نے ان کو قربانی کے لئے نام زد کردیا تو ان کو قدیم گھر کے پاس پہنچ کر حلال ہونا ہے۔ یعنی ان چوپایوں سے تمہارے مختلف منافع ہیں۔ دودھ پینا، بار برداری کا کام لینا وغیرہ۔ لیکن جب ان کو ہدی بنالو ہدی ہونے کے بعد پھر ان کو حرم لے جاکر اللہ کے نام پر ذبح کردینا ہے۔
بیت عتیق خانہ کعبہ کو کہتے ہیں یہ نام یا تو قدامت کی وجہ سے ہے یا ظالم اور جابر حکمرانوں سے اس کو بچانے اور آزاد رکھنے کی وجہ سے ہے یہاں مراد پورا حرم ہے ہدی بنانے سے پہلے ہر قسم کے فوائد حاصل کرنے جانور سے جائز ہیں لیکن ہدی مقرر کرنے کے بعد سوائے کسی اشد ضرورت کے اس کی کوئی چیز حاصل نہیں کرسکتے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی مواشی میں ان کا حق ہے کہ کام لے لیجئے۔ پھر کعبہ کے پاس لے جاکر چڑھا دیجئے مگر یہ بات دشوار ہے تو جہاں بسم اللہ الہ اکبر کہا اور ذبح کیا یہ نشان ہے کہ اللہ کی نیاز کعبہ کو چڑھایا دور ہو یا نزدیک۔ 12
Ayah 22:34(34) اور امم سابقہ میں سے ہر امت کے لئے ہم نے قربانی کرنا اس لئے مقرر کیا تھا کہ وہ ان چوپایوں کی قسم کے مخصوص جانوروں اور چوپایوں کو ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیا کریں جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کئے تھے سو لوگو ! تم سب کا معبودِ برحق تو ایک ہی معبود ہے تم سب اسی کے مطیع و فرماں بردار ہو۔ اور اے پیغمبر آپ ان عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجئے۔
Ayah 22:35(35) جو ایسے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جو مصائب ان پر پڑتے ہیں ان کو سہارتے اور برداشت کرتے ہیں اور جو نماز کی پابندی کرتے ہیں اور جو ایسے ہیں کہ جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ خیرات بھی کیا کرتے ہیں یعنی صرف امت محمدیہ کو قربانی کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ تمام شرائع ماسبق میں جہاں اور عبادات کا حکم ہے وہاں قربانی کا بھی ان کو حکم تھا اور اس عبدت میں بھی یہی حکم تھا کہ قربانی پر اللہ کا نام لیا جائے اگر غیر اللہ کے نام پ قربانی کی گئی تو یہ شرک ہوگا۔
قربانی کے لئے چوپایوں میں سے وہی مخصوص چوپائے جن کا ذکر اوپر ہوچکا ہے اور چونکہ معبود برحق ایک ہی ہے اس لئے قربانی صرف اسی کے نام پر ہونی چاہئے اور ایک قربانی کیا بلکہ اس کے ہر فرمان کو بجالائو اور ہمہ تن اسی کے ہوکر رہو۔ آگے بشاری دی۔ مخبتین کو مخبتین وہ جو کسی پر ظلم نہیں کرتے اور جب کوئی ان پر ظلم کرے تو وہ بدلا بھی نہیں لیتے۔
بعض مفسرین نے فرمایا مخبتین وہ لوگ ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں مصائب و آلام کا خندہ پیشانی سے مقابلہ کرتے ہیں اور خدا کی راہ میں جو تکالیف پہنچتی ہیں ان کو سہتے اور ان پر صبر کرتے ہیں نماز کے پابند ہیں اور جو ہمارے دیئے میں سے ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہی یعنی مواشی ذبح کرنی نیاز اللہ کی ہر دین میں عبادت رکھا ہے اس کے سوائے اور کی نیاز ذبح کرنا اس کی عبادت ہوگئی تو مشرک ہوا۔
Ayah 22:36(36) اور ہم نے تمہارے لئے قربانی کے اونٹوں کو عبادت الٰہی کی نشانی اور یادگار مقرر کیا ہے ان جانوروں میں تمہارے لئے اور بھی فائدے ہیں پس تم ان کو نحر کرتے وقت قطار میں کھڑا کرکے ان پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا کرو۔ یعنی تکبیر کہا کرو پھر جب وہ نحر کے بعد اپنے کسی پہلو پر گرپڑیں یعنی بالکل ٹھنڈے والا ہو یا سوالی ہو۔
جس طرح ہم نے ان جانوروں کی قربانی کا ذکر کیا اسی طرح ہم نے ان کو تمہارا فرمانبردار بنایا اور تمہارے بس میں ان کو دے دیا تاکہ تم شکر بجالائو۔
بدن جمع بدنۃ کی یہ اونٹ اور گائے دونوں پر بولا جاتا ہے لیکن نحر صرف اونٹ کو کیا جاتا ہے اس لئے ہم نے اونٹ ترجمہ کیا ہے۔ قربانی کے جانوروں کا شعائر اللہ ہونا تو ظاہر ہے ان جانوروں کے فوائد اوپر مذکور ہوچکے ہیں۔ مثلاً دودھ اون اور نسل وغیرہ۔ اونٹ کو چونکہ نحر کرتے ہیں اس لئے فرمایا اس کا ذبح یہی ہے کہ آگے کی دونوں ٹانگوں کے بیچ اونٹ کی گردن کی جڑ میں بھالا مارو اور تکبیر ذبح پڑھو۔ یعنی بسم اللہ اللہ اکبر کہو۔ اور جب اس کا خون نکل جائے گا تو وہ اپنے پہلو کے بل گرپڑے گا اور جب بالکل ٹھنڈا ہوجائے تب کھال اتار کر اس کا گوشت حاصل کرو اور گوشت خود بھی کھائو اور فقراء کو بھی کھلائو خواہ وہ سوالی ہوں یا بےسوالی یعنی بعض فقیر تو مانگتے پھرتے ہیں اور بعض صبر سے بیٹھے رہتے ہیں ان کے گھر جاکر اور ان کو تلاش کرکے دو ۔ جانوروں کا مسخر ہونا بھی ظاہر ہے بڑے سے بڑے جانوروں کو انسان کا تابع فرمان بنارکھا ہے اگر وہ تابع نہ بناتے تو انسان کی طاقت سے باہر ہے کہ ان پر قابو پاسکے انسان کو اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں پر اس کا شکرگزار ہونا چاہئے کہ اس نے اپنی ایک بہت بڑی مخلوق کو تمہارے بس میں دے دیا اور ہاتھی سے لے کر بکری تک کو تمہارا تابع بنادیا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اونٹ کو ذبح کے بدلے نحر ہے کھڑا کرے قبلہ کے سامنے پھر چھاتی میں زخم دیجئے جب سارا لہو نکل چکا وہ گرپڑا کاٹنے لگے محتاج و و بتائے پہلا وہ ہے جو مانگتا نہیں اور دوسرا وہ جو مانگتا ہے۔ 12
Ayah 22:37(37) اللہ تعالیٰ کے پاس ان قربانیوں کا گوشت اور ان کا خون نہیں پہنچتا بلکہ اس کے پاس تو تمہارا تقویٰ اور تمہارے دلوں کی پرہیزگاری پہنچتی ہے اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کو اسی طرح تمہارے لئے مسخر کردیا ہے اور ان کو تمہارے بس میں دے دیا ہے تاکہ تم اس احسان پر اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرو کہ اس نے تم کو قربانی کی صحیح راہ بتائی اور تم کو توفیق دی اور تمہاری صحیح رہنمائی فرمائی۔
اور اے پیغمبر مخلصین اور نیکی کرنے والوں کو خوش خبری سنا دیجئے۔ یعنی قربانی کا مقصد یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو گوشت اور خون پہنچایا جائے بلکہ جو چیز ان کو مطلوب ہے وہ تو تقویٰ اور اخلاص ہے اور یہی چیز ان کی بارگاہ میں مقبول ہے اس لئے ہر قربانی کرنے والے کو لازم ہے کہ اس کی قبانی میں غیر اللہ کا شائبہ بھی نہ ہو۔ نہ تو غیر اللہ کا تقرب مقصود ہو اور نہ ریائو نمود ہو بلکہ جو فعل ہو وہ خالص اللہ تعالیٰ کے لئے ہو۔
اوپر ان جانوروں کی تسخیر میں عام اشارہ تھا اور یہاں تسخیر کا ذکر اس لئے فرمایا کہ ان کی قربانی کو تقرب خداوندی کا ذریعہ اور سبب بنایا اگر وہ مسخر نہ ہوتے تو ان کو ذبح کرنا اور ان کو قربان کرنا تمہارے بس میں نہ ہوتا۔ بڑائی بیان کرو کا مطلب یہ ہے کہ اس کی کبریائی کا اظہار کرو اور اس کے اقتدار کی عظمت کو تسلیم کرو اور اس کی قدرت کاملہ کا اعتراف کرو۔ علی ماھداکم یعنی جانوروں کی تسخیر اور تقرب کی کیفیت اور اس کا طریقہ سکھایا اگر وہ نہ بتاتا تو گھوڑے کے لئے لگام اور اونٹ کے لئے نکیل کون بناتا۔ یا یہ کہ بڑائی بیان کرنے میں شکر کی طرف اشارہ ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ شکر بجالانے میں تمہاری رہنمائی کی اور شکر کا طریقہ سکھایا۔
آخر میں فرمایا مخلصین کو بشارت دیدیجئے کہ جو عمل خلوص کے ساتھ ہوتا ہے وہ خدا کے فضل سے ضرور مقبول ہوتا ہے۔
Ayah 22:38(38) بلاشبہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں سے مشرکین کے ضرر کو ہٹادے گا اور دورکردے گا۔ بیشک اللہ تعالیٰ کسی خیانت کرنے والے ناسپاس اور کفر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ چونکہ یہ بحث اس قصے سے شروع ہوئی تھی جو کفار مکہ نے مسلمانوں کو عمرہ کرنے سے روکا تھا اسی پر یہ احکام نازل ہوئے تھے اس لئے اس تمام واقعہ کا ذکر کرنے کے بعد مسلمانوں کو اطمینان دلایا کہ ہم کفار کی اس ایذا رسانی کو تم سے دفع کردیں گے اور ان کو آئندہ یہ ہمت نہیں ہوگی کہ وہ تم کو حج اور عمرہ کرنے سے روک سکیں اور تمہارے اعمال مذہبی میں مداخلت کرسکیں۔ اس کا یقین کرو کہ اللہ تعالیٰ کسی خیانت کرنے والے دغا باز کو اور کسی ناسپاس کفر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جب تک حضرت مکہ میں رہے حکم تھا کہ مسلمان صبر کریں کافروں کی بدی پر صبر کیا پھر جب مدینہ میں آئے حکم ہوا کہ جو تم سے بدی کرتے ہیں تم بھی بدلہ تو تب جہاد شروع ہوا آگے حکم ہے۔ 12
Ayah 22:39(39) جن لوگوں سے بلاوجہ لڑائی کی جاتی ہے ان کو حکم دیا جاتا ہے کہ اب وہ بھی لڑیں اس اجازت اور حکم کی وجہ یہ ہے کہ ان پر ظلم کیا گیا اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان مظلوموں کی مدد کرنے پر پوری طرح قادر ہے۔ یعنی مکہ کے منکر مسلمانوں پر برابر ظلم کرتے رہے اور ان کو ہر قسم کی اذیت پہنچاتے رہے اور ان کو مکہ چھوڑنے پر کفار مکہ نے مجبور کردیا اور ان کی مظلومیت اور بےچارگی کی انتہا ہوگئی اور وہ اپنے وطن کو چھوڑ کر مدینے میں جاب سے۔ تب حکم دیا مظلوموں کو کہ اب تم سے جو لڑے تم بھی اس کا مقابلہ کرو۔