22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 22:40

اِ۟لَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَ بِیَعٌ وَّ صَلَوٰتٌ وَّ مَسٰجِدُ یُذْكَرُ فِیْهَا اسْمُ اللّٰهِ كَثِیْرًا١ؕ وَ لَیَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 22:40 in the Quran reader

یہ مظلوم لوگ وہ ہیں جو بلاوجہ محض اتنا کہنے پر کہ ہمارا رب اللہ ہے اپنے گھروں سے نکال دیئے گئے اور اگر اللہ بعض لوگوں کو بعض لوگوں کے ذریعے دفع نہ کرتا رہتا تو نصاریٰ کے راہب خانے اور عبادت خانے اور یہود کی عبادت گاہیں اور مسجدیں جن میں اللہ تعالیٰ کا بکثرت ذکر کیا جاتا ہے سب کے سب برباد و ویران کردیئے گئے ہوتے اور یقیناً اللہ اس کی مدد کرے گا جو اس کی یعنی خدا کے دین کی مدد کرے گا بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑی قوت والا غلبہ والا ہے

(40) یہ مظلوم وہ ہیں جو ناحق محض اتنا کہنے پر کہ ہمارا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے اپنے گھروں سے نکال دیئے گئے اور اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو آپس میں بعض کو بعض کے ذریعے دفع نہ کرتا رہتا اور بعض کا زور بعض سے نہ گھٹواتا اور نہ دور کرتا رہتا تو راہبوں کے صومعے اور نصاریٰ کی گرجائیں اور یہود کے عبادت خانے اور مسلمانوں کی مسجدیں جن میں اللہ تعالیٰ کا بکثرت ذکر کیا جاتا ہے تمام کے تمام برباد و ویران کردیئے گئے ہوتے۔ اور اللہ تعالیٰ یقیناً اس کی مدد کرے گا جو اس کی یعنی اس کے دین کی مدد کرے گا بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑی قوت والا اور بڑے غلبے والا ہے۔ مسلمانوں مظلومیت کا اظہار فرمای کہ یہ لوگ صرف اتنا کہنے پر کہ ہمارا رب اللہ ہے قتل کئے گئے اور جلا وطن کئے گئے پھر ان کی بےگناہی کے بعد جہاد کا فلسفہ بیان فرمایا کہ اگر حضرت حق جل مجدہ لوگوں میں یہ طریقہ رائج نہ کرتا کہ بعض شرارت پسندوں اور ظالموں کو بعض کے ہاتھوں تباہ نہ کراتا اور ایک کا زور دوسرے سے کم نہ کراتا تو دشمنان دین اور بدمعاش لوگ نہ کسی کا خلوت خانہ چھوڑتے نہ عیسائیوں کی گرجائیں اور نہ یہود کے صلوات اور نہ مسلمانوں کی مسجدیں کسی ایک کو بھی زمین پر باقی نہ رہنے دیتے اور سب دین کے نشانات مٹادیئے جاتے یہ تو جہاد کی برکت ہے کہ ایک کا سر دوسرے سے کچلواتے رہتے ہیں اور لوگ امن کے ساتھ اپنے اپنے طریقے پر خدا تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں اور ان کی عبادت گاہیں محفوظ ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کے دین کی حفاظت کرتا ہے اور اس کے دین کی مدد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی مدد کرتا ہے بلاشبہ اللہ تعالیٰ قوت والا اور غلبے والا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جو اس کی مدد کرے گا یعنی اس کے دین کی اور اس کے رسول کی اللہ قادر ہے جو چاہے ایک دم میں کرلے لیکن انسان سے یہی معاملہ ہے بھلے برے آپس میں سزا پائیں۔ 12
Ayah 22:41

اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَ اَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ Open ayah 22:41 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم ان کو ملک میں بااختیار کردیں تو یہ لوگ نماز کی پابندی کریں اور زکوٰۃ ادا کریں اور بھلے کام کرنے کا حکم دیں اور برے کام کرنے سے لوگوں کو روکیں اور ہر کام کا انجام اللہ ہی کے اختیار میں ہے

(41) یہ وہ مظلوم لوگ ہیں کہ اگر ہم ان کو ملک میں ذی اقتدار اور بااختیار کردیں تو یہ لوگ نماز کی پابندی کریں اور زکوٰۃ ادا کریں اور لوگوں کو نیک کام کرنے کا حکم دیں اور بری باتوں سے منع کریں اور تمام کاموں کا انجام اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے یعنی اگر مسلمان اور اہل حق کو غلبہ حاصل ہوجائے تو وہ خود بھی نمازوں کی پابندی کریں اور زکوٰۃ دیں اور دوسروں کو بھی نیکی کا حکم دیں اور بدی سے بچائیں۔ چنانچہ یہ بات پوری ہوئی۔ آیت سے صحابہ ؓ اور مہاجرین و انصار اور حضرات خلفاء راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین کی صداقت و حقانیت ثابت ہے۔ آیت کے آخری حصہ کے دو معنی بیان کئے گئے ہیں یا تو یہ مطلب ہے کہ اگرچہ مسلمان آج کمزور ہیں اور کافر غالب ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے قبضے میں ہے کہ مسلمانوں کو غالب اور منصور کردے اور کفار کمزور ہوجائیں۔ یا جو حضرت شاہ صاحب (رح) نے فرمایا مطلب یہ ہو یعنی یہ امت دین قائم کریں گے۔ ایک مدت آخر اللہ ہی جانے۔ 12 ۔ چونکہ کفار جو نبی کریم ﷺ سے جھگڑا کرتے تھے جیسا کہ سورت کی ابتداء میں ذکر ہوا اس جھگڑے سے محض آپ کی تکذیب تھی۔ اس لئے آگے پیغمبر اسلام ﷺ کی تسلی فرماتے ہیں۔
Ayah 22:42

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ ثَمُوْدُۙ Open ayah 22:42 in the Quran reader

اور اے پیغمبر اگر یہ کافر آپ کی تکذیب کرتے ہیں تو ان سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی قوم اور عاد اور ثمود نے۔

(42) اور اے پیغمبر اگر یہ منکر آپ کی تکذیب کرتے ہیں تو ان سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی قوم اور عاد وثمود۔
Ayah 22:43

وَ قَوْمُ اِبْرٰهِیْمَ وَ قَوْمُ لُوْطٍۙ Open ayah 22:43 in the Quran reader

اور ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم اور لوط کی قوم نے بھی

(43) اور ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم اور لوط (علیہ السلام) کی قوم بھی۔
Ayah 22:44

وَّ اَصْحٰبُ مَدْیَنَ١ۚ وَ كُذِّبَ مُوْسٰى فَاَمْلَیْتُ لِلْكٰفِرِیْنَ ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١ۚ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ Open ayah 22:44 in the Quran reader

اور مدین والوں نے بھی پیغمبروں کی تکذیب کی ہے اور موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی جھٹلایا جاچکا ہے سو میں نے کافروں کو چندے مہلت دی پھر میں نے ان کو پکڑ لیا سو دیکھو میرا عذاب کیسا ہوا

(44) اور مدین والے بھی اپنے اپنے پیغمبروں کی تکذیب کرچکے ہیں اور موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی جھٹلایا جاچکا ہے پس میں نے ان کافروں کو چندے مہلت دی پھر میں نے ان کی گرفت کی اور ان کو پکڑ لیا سو دیکھو میرا عذاب کیسا ہوا یعنی اگر یہ کفار عرب آپ کی تکذیب کرنے کے درپے ہیں تو اس پر غم نہ کیجئے یہ اہل باطل کا پرانا طریقہ ہے۔ یہ لوگ اپنے زمانے میں اپنے پیغمبروں کو جھوٹا کہتے رہے ہیں۔ چناچہ ان سے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم اور عاد اور ثمود یعنی حضرت ہود (علیہ السلام) اور حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم اور حضرت ابراہیم اور حضرت لوط (علیہما السلام) کی قومیں اور اہل مدین یعنی حضرت شعیب کی قوم۔ غرض ! ان سب نے پیغمبروں کی تکذیب کی ہے اسی طرح یہ اہل مکہ آپ کی تکذیب کررہے ہیں ان سب کا انجام یہ ہوا کہ میں ان کو مہلت دیتا رہا اور آخرکار ان کو پکڑا پھر دیکھ لو کہ میری گرفت کیسی ہوئی آگے اس کی مختصر تفصیل ہے۔
Ayah 22:45

فَكَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ فَهِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ بِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَّ قَصْرٍ مَّشِیْدٍ Open ayah 22:45 in the Quran reader

غرض کتنی ہی بستیاں ہیں۔ جن کو ہم نے برباد کرڈالا اور ان کی حالت یہ تھی کہ ان کے رہنے والے نافرمانی کیا کرتے تھے اور اب ان کا حال یہ ہے کہ وہ اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں اور بہت سے کنویں بیکار اور بہت سے چونے کے پختہ محل ویران پڑے ہیں۔

(45) غرض ! کتنی ہی بستیاں ہیں جن کو ہم نے ہلاک و برباد کرڈالا اور ان کی حالت یہ تھی کہ وہ بستیاں یعنی ان کے رہنے والے ظالم اور نافرمانی کے خوگر ہوچکے تھے اور اب ان کا حال یہ ہے کہ وہ اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں اور بہت سے کنویں بیکار اور بہت سے چونے اور گچ گیری کے پختہ محل ویران پڑے ہوئے ہیں یعنی نافرمان بستیوں کا تباہ کردینا مجھے مشکل نہیں ہم نے بہت سی ایسی بستیوں کو ویران کردیا۔ جن کے رہنے والے نافرمانی کرتے تھے آج ان کی حالت یہ ہے کہ ان کی چھتیں گری پڑی ہیں یعنی مکانات مع چھتوں کے بیٹھ گئے اور جب آبادی برباد ہوگئی تو کنویں سب بیکار ہوگئے اور بڑے بڑے چونے کے پختہ محل سب ویران ہوگئے۔
Ayah 22:46

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَتَكُوْنَ لَهُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِهَاۤ اَوْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ۚ فَاِنَّهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَ لٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ Open ayah 22:46 in the Quran reader

کیا یہ کافر ملک میں چلے پھرے ہیں جس سے ان کے دل ایسے ہوجاتے کہ ان سے سمجھنے لگتے یا ان کے کان ایسے ہوجاتے کہ ان سے سننے لگتے اصل بات یہ ہے کہ کچھ آنکھیں اندھی نہیں ہوجایا کرتیں بلکہ وہ دل جو سینوں میں ہیں وہ اندھے ہوجاتے ہیں

(46) سو کیا یہ منکر لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں جس سے ان کے دل ایسے ہوجاتے ہیں کہ ان سے سمجھنے لگتے اور کان ایسے ہوجاتے کہ ان سے سننے لگتے۔ اصل بات یہ ہے کہ کچھ آنکھیں اندھی نہیں ہوجایا کرتیں بلکہ وہ دل جو سینوں میں ہیں وہ اندھے ہوجاتے ہیں۔ یعنی سفر کرتے اور ان تباہ شدہ بستیوں کو دیکھتے تو ان کی کچھ عبرت ہوتی تب تو شاید ان کے دلوں سے گمراہی اور کانوں سے شقادت کا ثقل دور ہوجاتا ہے واقعہ یہ ہے کہ کچھ آنکھوں کا اندھا ہوجانا نقصان رساں نہیں ہے بلکہ دل کے اندھے ہوجاتے ہیں تو پھر ہدایت مستبعد ہوجاتی ہے ورنہ امم سابقہ کے حالات ہی سے اس بات کا پتہ چل جاتا ہے کہ نافرمانی حضرت حق تعالیٰ کو پسندیدہ نہیں ہے اگر انبیاء کی تکذیب اور نافرمانی حضرت حق کی ناراضگی کا سبب نہ ہوتی تو پہلی امتوں کو کیوں ہلاک کیا جاتا چونکہ کفر کی وجہ سے ان کے دل اندھے ہوچکے ہیں اس لئے اتنی سی بات بھی ان کے دل میں نہیں اترتی۔ جب دل میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت باقی نہ رہے تو آنکھوں سے دیکھنا اور کانوں سے سننا نہ سننے اور نہ دیکھنے کے برابر ہے۔
Ayah 22:47

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ وَ لَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ١ؕ وَ اِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ Open ayah 22:47 in the Quran reader

اور اے پیغمبر یہ لوگ آپ سے عذاب جلدی طلب کرتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ کبھی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرے گا اور بلاشبہ آپ کے رب کے ہاں کا ایک دن تمہاری موافق ایک ہزار برس کے برابر ہوتا ہے

(47) اور اے پیغمبر آپ سے یہ لوگ عذاب جلدی طلب کرتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ ہرگز اپنے وعدے کی خلاف ورزی اور اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرے گا اور بلاشبہ آپ کے پروردگار کے پاس کا ایک دن تمہارے شمار اور تمہاری گنتی کے موافق ایک ہزار سال کے برابر ہوتا ہے یعنی یہ ناسمجھ اور دل کے اندھے آپ سے عذاب کا تقاضا کرتے ہیں اور عذاب نہیں آتا تو آپ کی تکذیب کرتے ہیں آپ کے دعوے نبوت کو جھوٹا سمجھتے ہیں۔ حالانکہ عذاب اپنے وقت مقررہ پر آکر رہے گا اس میں جلدی کرنا فضول ہے پھر ان کے ہاں کا ایک دن تمہارے ہزار برس کے برابر ہے اگر اس حساب سے کسی عذاب کا وقت دو گھنٹے یا چار گھنٹے بھی ہو تب بھی کئی صدی سمجھنا چاہئے یا یہ مطلب ہے کہ وہ ہزار برس کا کام ایک دن میں کرسکتا ہے یا یہ کہ قیامت کے عذاب کی طرف اشارہ ہے کہ وہ ایک دن ہزار برس کے برابر معلوم ہوگا یہ ایک کھلی ہوئی بات ہے کہ وقت کی کمی بیشی اور دن کو کم ہونا یا بڑھ جانا تکلیف اور راحت پر موقوف ہے۔ دیوم لا اراک کالف شہر و شہر لااراک کا لف عام فارسی کے ایک مشہور شاعر نے کہا ہے۔ آں دم کہ تو باشم یک سالہ ہست روزے وآں دم کہ بےتو باشم یک لحظہ ہست سالے ہوسکتا ہے کہ ایک دن ایک ہزار برس بلکہ پچاس ہزار برس کے برابر ہو یا ایک دن عصر سے لے کر مغرب تک کا معلوم ہو۔
Ayah 22:48

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَمْلَیْتُ لَهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَا١ۚ وَ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 22:48 in the Quran reader

اور کتنی ہی بستیاں ہیں جن کو میں نے مہلت دی تھی حالانکہ ان کے رہنے والے گنہگار تھے پھر میں نے ان بستیوں کو پکڑ لیا اور ہر ایک کو میری ہی طرف واپس ہونا ہے

(48) اور کتنی ہی بستیاں ہیں جن کو میں نے مہلت دی تھی اور ان کی حالت یہ تھی کہ انہوں نے ظلم اور نافرمانی کا شیوہ اختیار کررکھا تھا پھر میں نے ان بستیوں کو پکڑ لیا اور ہر ایک کی بازگشت میری ہی طرف ہے اور ہر ایک کو میری طرف واپس ہونا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ہزار دن کا کام ایک دن میں کرسکتا ہے یہ مما تعدون پر شاہ صاحب (رح) نے لکھا ہے۔ 12 مطلب یہ ہے کہ جب میری طرف واپس ہونا ہے اس وقت کفر کی پوری طرح سزا دی جائے گی۔
Ayah 22:49

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَاۤ اَنَا لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 22:49 in the Quran reader

اے پیغمبر آپ کہہ دیجئے اے لوگو ! سوائے اس کے نہیں کہ میں تم کو صاف صاف ڈرانے والا ہوں

(49) اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجئے اے لوگو ! سوائے اس کے نہیں کہ میں تو تم کو صاف صاف ڈرانے والا ہوں یعنی عذاب کی تعمیل اور تاخیر سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے یہ تو صرف اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔
Ayah 22:50

فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 22:50 in the Quran reader

سو جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل بھی کئے تو ان کے لئے مغفرت ہے اور ان کے لئے باعزت روزی ہے

(50) پس جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال بھی کئے تو ان کے لئے مغفرت اور بخشش ہے اور ان کے لئے باعزت روزی ہے۔
Ayah 22:51

وَ الَّذِیْنَ سَعَوْا فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 22:51 in the Quran reader

اور جو لوگ ہماری آیتوں کو ہرانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں تو ایسے ہی لوگ جہنمی ہیں

(51) اور جو لوگ ہماری آیتوں کے ہرانے اور نیچا دکھانے کی سعی اور کوشش کرتے رہتے ہیں تو ایسے ہی لوگ اہل جہنم ہیں۔ ڈرانے والے کا کام یہی ہے کہ وہ ایمان کی دعوت دے اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے خطرات سے آگاہ کردے جو شخص اس کی دعوت کو قبول کرتا ہے وہ دوسرے عالم میں آرا کی بلکہ من مانی زندگی گزارتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی آیتوں اور اس کے احکام کو ہرانے کی کوشش کرتا ہے وہ جہنم اور دائمی عذاب کا مستحق ہوتا ہے۔
Ayah 22:52

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّ لَا نَبِیٍّ اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰۤى اَلْقَى الشَّیْطٰنُ فِیْۤ اُمْنِیَّتِهٖ١ۚ فَیَنْسَخُ اللّٰهُ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ ثُمَّ یُحْكِمُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌۙ Open ayah 22:52 in the Quran reader

اور ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول اور کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا کہ جس کو یہ قصہ پیش نہ آیا ہو کہ جب اس نے کچھ پڑھا تو شیطان نے اس کے پڑھنے میں شبہ ڈالا پھر اللہ تعالیٰ شیطان کے ان والے ہوئے شبہات کو زائل اور دور کردیتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنی آیتوں کو زیادہ محکم اور مضبوط کردیتا ہے اور اللہ تعالیٰ سب کے حال سے باخبر ہے اور حکمت والا

(52) اور اے پیغمبر ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول اور کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا جس کو یہ قصہ پیش نہ آیا ہو کہ جب اس نے کچھ پڑھا تو شیطان نے اس کے پڑھنے میں اور اس کے پڑھے ہوئے الفاظ میں شکوک و شبہات ڈالے۔ یعنی نبی نے تلاوت فرمائی اور شیطان نے لوگوں کے دلوں میں شبہات پیدا کئے۔ پھر اللہ تعالیٰ شیطان کے ڈالے ہوئے شکوک و شبہات کو مٹا دیتا ہے اور زائل کردیتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنی آیتوں کو اور زیادہ مستحکم اور مضبوط کردیتا ہے اور اللہ تعالیٰ سب کے حال سے باخبر اور حکمت والا ہے۔ مفسرین نے آیت کی تفسیر کئی طرح بیان کی ہے بعض کو اہل تحقیق نے جو مرجوع قرار دیا ہے اور بعض کو راجح کہا ہے۔ ایک طریقہ وہ ہے جس کو حضرت شاہ صاحب (رح) نے اختیار کیا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں نبی کو ایک حکم اللہ سے آتا ہے اس میں کچھ تفاوت نہیں اور ایک اپنے دل کے خیال اس میں جیسے اور آدمی۔ کبھی خیال ٹھیک پڑا کبھی نہ پڑا۔ جیسے حضرت نے خواب میں دیکھا کہ مدینہ سے مکہ میں گئے عمرہ کیا خیال کیا شاید اب کے برس وہ ٹھیک پڑا اگلے برس یا وعدہ ہوا کافروں پر غلبہ ہوگا۔ خیال آیا کہ اب کی لڑائی میں اس میں نہ ہوا پھر اللہ تعالیٰ جتا دیتا ہے کہ جتنا حکم تھا اس میں تفاوت نہیں۔ 12 جو طریقہ آیت کی تفسیر کا ہم نے اختیار کیا ہے وہ بعض محققین کا طریقہ ہے یعنی جب آپ کوئی آیت تلاوت کرتے ہیں تو شیطان موقعہ پاکر لوگوں کے قلوب میں شبہات پیدا کرتا ہے۔ شاید آیات متشا بہات کی طرف اشارہ ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ آیات محکمات سے ان شکوک و شبہات کا ازالہ فرمادیتا ہے۔ اس تفسیر سے قرآن کریم کی بعض آیات مطابقت کرتی ہیں اور اوپر کی آیت والذین سعوانی اٰیٰتنا کے بھی یہی مناسب ہے۔ رہی ! وہ تفسیر جو بعض حضرات نے کی ہے کہ آپ والنجم کی تلاوت کررہے تھے اور آپ کی زبان مبارک سے تلک العرانیق العلی وان شفاعتھن لترتجی جاری ہوا تو یہ واقعہ قابل اعتماد نہیں ہے۔ امام رازی نے اس قصہ کو باطل کہا۔ امام بیہقی نے فرمایا یہ قصہ غیر ثابت ہے۔ امام الائمہ ابن خزیمہ نے فرمایا یہ قصہ زنادقہ کی وضع ہے۔ آگے وجہ بیان فرماتے ہیں کہ شیطان اس قسم کے شبہات کیوں پیدا کرتا ہے۔
Ayah 22:53

لِّیَجْعَلَ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْقَاسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍۙ Open ayah 22:53 in the Quran reader

یہ اس لئے ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ شیطان کے ڈالے ہوئے شکوک و شبہات کو ان لوگوں کے لئے موجب آزمائش کردے جن کے دلوں میں شک و نفاق کی بیماری ہے اور جن کے دل سخت ہیں اور یہ واقعہ ہے کہ یہ ظالم ایک ایسی مخالفت میں پڑے ہوئے ہیں جو طریق حق سے بہت دور ہے

(53) یہ اس لئے ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان شکوک و شبہات کو جو شیطان ڈالتا ہے ان لوگوں کے لئے موجب امتحان و آزمائش کردے جن کے دلوں میں شک و نفاق کی بیماری ہے اور جن کے دل سخت ہیں اور یہ واقعہ ہے کہ یہ ظالم ایک ایسی مخالفت میں پڑے ہوئے ہیں جو طریق حق سے بہت دور ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کے متعلق آل عمران کی ابتدا میں فرمایا تھا کہ جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے تو وہ متشا بہات کے پیچھے ہولیا کرتے ہیں اور فتنے ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔ دل میں نفاق کی بیماری ، دل قرآن کریم کا استہزا کرنے سے سخت ہوچکے ہیں۔ ایسے دلوں میں حق بات کہاں اترتی ہے۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کے امتحان میں کہاں پاس ہوتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ یہ ظالم تو ایسی مخالفت میں مبتلا ہیں اور حق اور اہل حق کی مخالفت میں اتنی دورنکل چکے ہیں کہ ان کا واپس ہونا مشکل ہے۔ البتہ جو راسخین فی العلم ہیں وہ یقین کرتے ہیں اور ان کا ایمان مضبوط اور قوی ہوجاتا ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 22:54

وَّ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَیُؤْمِنُوْا بِهٖ فَتُخْبِتَ لَهٗ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 22:54 in the Quran reader

اور نیز یہ اس لئے ہوتا ہے کہ جو اہل علم ہیں و اس امر کا اور زیادہ یقین کرلیں کہ جو پیغمبر نے پڑھا کہے وہی آپ کے رب کی جانب سے حق ہے پھر اس پر ایمان لانے میں اہل علم اور پختہ ہوجائیں اور ان کے دل اس قرآن کریم کے سامنے اور جھک جائیں اور یہ واقعہ ہے جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کو اللہ ہی سیدھی راہ دکھاتا ہے

(54) اور نیز اس لئے ہوتا ہے تاکہ وہ لوگ جن کو صحیح فہم عطا ہوا ہے وہ اس امر کا اور زیادہ یقین کرلیں کہ جو کچھ پیغمبر نے تلاوت کیا ہے اور قرآن کریم کا جو حصہ آپ نے پڑھا ہے وہ آپ کے پروردگار کی جانب سے حق ہے۔ پھر یہ اہل علم اس پر ایمان لانے میں اور پختہ ہوجائیں اور ان کے دل اس قرآن کریم اور اس پر عمل کرنے کی طرف اور جھک جائیں اور بیشک جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کو اللہ تعالیٰ ہی سیدھی راہ دکھاتا ہے۔ یعنی جو الہ علم و فہم ہیں وہ اس آزمائش میں پورے اتریں اور وہ اس بات کا اعتراف کریں کہ جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے ہے وہ حق ہے خواہ وہ متشابہات ہوں یا محکمات ہوں وہ سب حق اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ یہ اہل علم و فہم اپنے ایمان پر اور زیادہ قائم اور پختہ ہوجائیں پھر قرآن کریم پر عمل کرنے کی طرف ان کے دل اور جھک جائیں اور یقین جانو ! کہ اللہ تعالیٰ ہی اہل ایمان کو سیدھی راہ بتانے والا اور سیدھی راہ تک پہنچانے والا ہے۔ خلاصہ ! یہ کہ متشابہات سے دو باتیں ہونی ہیں اہل زیغ کا زیغ نمایاں ہوجاتا ہے اور اہل فہم کا ایمان مضبوط اور پختہ ہوجاتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اس میں گمراہ اور بہکتے ہیں سو ان کا کام بہکنا ہے اور ایمان والے مضبوط ہوتے ہیں کہ اس کلام میں بندے کا دخل نہیں۔ اگر ہوتا تو یہ بھی بندے کے خیال کی طرح کبھی صحیح اور کبھی غلط ہوتا اور جس کی نیت اعتقاد پر ہو اس کو اللہ یہ بات سمجھاتا ہے۔ 12 بہرحال ! اہل علم و فہم کی فراست اور ان کے ایمان کی پختگی کا اظہار کرنے کے بعد شکوک و شبہات میں مبتلا ہونے والوں کا ذکر فرمایا۔
Ayah 22:55

وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ حَتّٰى تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً اَوْ یَاْتِیَهُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَقِیْمٍ Open ayah 22:55 in the Quran reader

اور کافر ہمیشہ اس آیت کے مضمون میں شک ہی کرتے رہیں گے یہاں تک کہ ان پر اچانک قیامت آجائے یا ان پر ایک ایسے دن کا عذاب آجائے جو خیر و برکت سے خالی ہو

(55) اور یہ لوگ جنہوں نے کفر کا شیوہ اختیار کررکھا ہے ہیمشہ اس آیت کے حکم اور مضمون میں شبہ ہی کرتے رہیں گے یہاں تک کہ ان پر اچانک قیامت آجائے یا ان پر ایک ایسے دن کا عذاب آجائے جو خیرو برکت سے خالی ہو یعنی اس وقت تک شک میں مبتلا رہیں گے اور شکوک و شبہات میں مبتلا رہیں گے جب تک ان پر قیامت یا قیامت کا عذاب نہ آجائے۔ عقیم جس کے ہاں اولاد نہ ہو اس سے عذاب کے دن کو تشبیہہ دی۔ بانجھ عورتوں سے تشبیہہ دینے کا سبب یہ ہے کہ اس دن کے بعد کوئی دن ایسا نہ ہوگا جس کو عظیم کہاجاسکے۔ حضرت ابن عباس ؓ ، ابی ابن کعب ؓ ، سعید بن جبیر ؓ اور عمرمہ ؓ نے کہا اس دن سے مراد یوم بدر ہے۔ حضرت مجاہد نے کہا قیامت ہے کیونکہ اس دن کوئی خیر نہیں نہ اس دن بارش ہے یہ دن سب دنوں سے جدا ہے۔ (واللہ اعلم بالصواب)
Ayah 22:56

اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذٍ لِّلّٰهِ١ؕ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 22:56 in the Quran reader

بادشاہت اس دن اللہ کی کی ہوگی وہی لوگوں کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ سو جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل بھی کرتے رہے تو وہ نعمت کے باغوں میں ہوں گے

(56) اس دن بادشاہت اللہ تعالیٰ ہی کی ہوگی وہی ان لوگوں کے درمیان حقیقی اور عملی فیصلہ فرمائے گا سو جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال بھی کرتے رہے وہ نعمت کے باغوں میں ہوں گے۔
Ayah 22:57

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠ Open ayah 22:57 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے رہے تو ان کو سخت رسوا کن عذاب ہوگا

(57) اور جن لوگوں نے کفر کا شیوہ اختیار کیا اور ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے رہے تو ان کے لئے سخت رسوا کن اور ذلت کا عذاب ہوگا۔ جنت کو نعمت فرمایا کیونکہ وہاں ہر قسم کا آرام و چین میسر ہوگا کافروں اور مکذبوں کو عذاب ہوگا جو رسوا کن اور کفار کی ذلت کا موجب ہوگا۔
Ayah 22:58

وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ قُتِلُوْۤا اَوْ مَاتُوْا لَیَرْزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 22:58 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی پھر وہ لگ قتل کردیئے گئے یا اپنی موت سے مرگئے یقیناً اللہ تعالیٰ ان کو عمدہ روزی عطا فرمائے گا اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ سب سے بہتر روزی دینے والا ہے۔

(58) اور جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں ترک وطن کیا پھر وہ قتل کردیئے گئے یا اپنی موت سے مرگئے تو یقیناً اللہ تعالیٰ ان کو عمدہ اور اچھی روزی عطا فرمائے گا اور یقیناً اللہ تعالیٰ سب دینے والوں سے بہتر دینے والا ہے اوپر فرمایا تھا۔ اخرجوا من دیارھم انہی کی تفصیل ہے کہ جن کو ترکف وطن کرنا پڑا پھر اگر وہ کبھی جنگ میں مار ڈالے گئے یا راستہ چلتے کسی نے ان کو مار ڈالا یا وہ اپنی طبعی موت سے مرگئے تو ان کو کوئی نقصان نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کو رزق حسن عطا فرمائے گا اور اللہ تعالیٰ سب دینے والوں سے بہتر ہے۔ والمحصنٰت میں گزرا ہے ومن یخرج من بیتہ مہاجراً الی اللہ ورسولہ ثم یدرکم الموت فقد وقع اجرہ علی اللہ۔
Ayah 22:59

لَیُدْخِلَنَّهُمْ مُّدْخَلًا یَّرْضَوْنَهٗ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَلِیْمٌ حَلِیْمٌ Open ayah 22:59 in the Quran reader

بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان مہاجرین مذکورہ کو ایک ایسی جگہ پہنچائے گا کہ وہ اس جگہ کو دیکھ کر پسند کریں گے اور یقیناً اللہ تعالیٰ سب جاننے والا بڑے تحمل والا ہے

(59) یقیناً اللہ تعالیٰ ان مہاجرین مذکورکو ایک ایسی جگہ پہنچائے گا کہ وہ اس جگہ کو دیکھ کر بہت ہی پسند کریں گے اور یقیناً اللہ تعالیٰ سب جاننے والا اور بڑے تحمل والا ہے۔ یعنی رزق حسن کے ساتھ مسکن بھی ایسا ہوگ جس کو یہ مہاجرین بہت پسند کریں گے۔ رہی یہ بات کہ مسلمان قتل کیوں کئے گئے اور کفار کو پکڑ ا کیوں نہیں تو اس کا جواب ہے کہ ہم اپنی مصالح کو خوب جانتے ہیں اور بڑے علیم ہیں۔ کفار سے جلدی بدلہ نہ لینے کی وجہ یہ ہے کہ ہم بڑے علم اور تحمل کے مالک ہیں۔
Ayah 22:60

ذٰلِكَ١ۚ وَ مَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَا عُوْقِبَ بِهٖ ثُمَّ بُغِیَ عَلَیْهِ لَیَنْصُرَنَّهُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 22:60 in the Quran reader

یہ مضمون تو ہوچکا اور جس نے دشمن کو صرف اتنی ہی تکلیف پہنچائی جتنی کہ اس کو پہنچائی گئی تھی پھر اس برابر برابر بدلہ لینے والے پر دوبارہ زیادتی کی جائے تو اللہ تعالیٰ اس شخص کی جس پر زیادتی کی جائے گی ضرور مدد کرے گا۔ بیشک اللہ تعالیٰ بڑا درگزر کرنے والا بڑا بخشنے والا ہے

(60) یہ مضمون تو ہوچکا اور جس نے اپنے تکلیف پہنچانے والے کو صرف اتنی تکلیف پہنچائی جتنی اس کو پہنچائی گئی تھی پھر اس برابر سرابر بدلا لینے والے پر دوبارہ زیادتی کی جائے گی تو اللہ تعالیٰ اس شخص کی جس پر زیادتی کی جائے گی ضرور مدد کرے گا۔ بیشک اللہ تعالیٰ بڑا درگزر کرنے والا بڑا بخشنے والا ہے یعنی کسی شخص نے دوسرے شخص یا جماعت پر زیادتی کی کوئی تکلیف پہنچائی یا گھر سے بےگھر کیا پھر اس جماعت یا شخص نے اپنا بدلہ لیا اور بدلا بھی برابر سرابر یعنی بدلا لینے میں کوئی زیادتی نہیں کی۔ لیکن برابر سرابر بدلہ لینے کے بعد پھر پہلے فریق یا شخص نے زیادتی کی تو یہ وعدہ ہے کہ اس مظلوم شخص یا فریق کی ضرور مدد کی جائے گی جس پر دوبارہ زیادتی کی جائے گی اور یہ جو فرمایا درگزر کرنے والا اور بخشنے والا ہے یہ شاید اس لئے فرمایا کہ بدلہ لینے میں کچھ تھوڑی سی بلاقصد زیادتی ہوجائے تو وہ قابل معافی اور لائق درگزر ہوگی۔ یا شاید اس لئے فرمایا کہ انتقام اور بدلہ لینے کے مقابلہ میں معاف کردینا اور صبر کرنا بہتر ہے۔ ولمن صبر وغفران ذالک لمن عزم الامور۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی بدلہ واجبی لینے والے کو عذاب نہیں کرتا اگرچہ بدلہ نہ لینا بہتر تھا۔ بدر کی لڑائی میں مسلمانوں نے بدلہ لیا کافروں کی ایذاء کا پھر کافر آئے زیادتی کرنے کو احد میں اور احزاب میں پھر اللہ نے پوری مدد کی۔ 12
Ayah 22:61

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 22:61 in the Quran reader

یہ امداد اس بنا پر ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ رات کو دن میں داخل کردیتا ہے اور دن کو رات میں داخل کردیا کرتا ہے اور اس لئے کہ اللہ تعالیٰ سب کی سنتا سب کو دیکھتا ہے

(61) یہ وعدئہ نصرت اور یہ وعدئہ غلبہ اس بنا پر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا یہ اثر ہے کہ اللہ تعالیٰ رات کو دن میں داخل کردیتا ہے اور دن کو رات میں داخل کردیا کرتا ہے اور اس لئے کہ اللہ تعالیٰ سب کی سنتا سب کو دیکھتا ہے یعنی جس اللہ تعالیٰ کی اتنی بڑی قدرت اور عالم علوی اور سفلی پر اتنی بڑی فرمانروائی ہے کہ رات کے اجزا کو دن میں اور دن کے اجزا کو رات میں داخل کردیتا ہے اور کبھی کا دن بڑا اور کبھی کی رات بڑی ہوجاتی ہے۔ وہی اللہ تعالیٰ اس کی بھی قدرت رکھتا ہے کہ مظلوم کی مدد فرما کر اس کو ظالم پر غالب کردے وہ مظلوم مسلمانوں کی دعا کو سننے والا اور کافروں کے مظالم اور ان کی زیادتیوں کو دیکھنے والا ہے کہ کس طرح مسلمانوں کو مجبور کیا اور مکہ کو چھوڑ کر گھر سے بےگھر ہوگئے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اسی طرح کفر میں اسلام غالب کردے گا۔ 12
Ayah 22:62

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ هُوَ الْبَاطِلُ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ Open ayah 22:62 in the Quran reader

نیز اس بنا پر ہوتی ہے کہ اللہ ہی کی ذات حق ہے اور اللہ کے سوا جن کی یہ مشرک عبادت کرتے ہیں وہ سراسر باطل ہیں اور اللہ ہی سب سے عالیشان اور بڑا ہے

(62) نیز یہ امداد اس بنا پر ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی کی ذات حق اور اپنی ہستی میں کامل اور واجب الوجود ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا جن کی یہ مشرک عبادت کرتے ہیں وہ سراسر باطل لچر اور پوچ اور غلط اور لغو ہیں اور نیز اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ ہی کی ذات سب سے عالی شان اور بڑی ہے یعنی ہماری نصرت اور ہماری مدد کی کامیابی اس بنا پر بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اپنی ہستی میں کامل ہے اور دوسرے جن کو یہ لوگ پکارتے اور ان کی عبادت کرتے ہیں باطل اور حادث ہیں وہ سب ضعیف وناتواں اور عاجز ہیں اور اللہ تعالیٰ سب سے بلند اور سب سے بڑا ہے اس لئے جس کو اس کی مدد حاصل ہے وہی غالب اور کامیاب ہے آگے اور اس کی قدرت کا بیان ہے۔ 12
Ayah 22:63

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١٘ فَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّةً١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌۚ Open ayah 22:63 in the Quran reader

اے مخاطب کیا تو نے یہ نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ آسمان کی جانب سے پانی نازل کرتا ہے پھر زمین سرسبز ہوجاتی ہے بیشک اللہ تعالیٰ بڑا مہربان سب کی خبر رکھنے والا ہے۔

(63) اے مخاطب ! کیا تو نے یہ نہیں دیکھا اور تجھ کو یہ معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ آسمان کی جانب سے پانی اتارتا ہے جس سے زمین سرسبز ہوجاتی ہے بیشک اللہ تعالیٰ بہت مہربان اور خبر رکھنے والا ہے۔ یعنی بندوں کی ضرورتوں سے مطلع اور خبردار ہے اسی لئے سب کی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔
Ayah 22:64

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ Open ayah 22:64 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کی ملک ہے اور کچھ شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی ایسا ہے جس کی ذات بےنیاز اور ستودہ صفات ہے

(64) جو کچھ آسمانوں میں ہے اور کچھ زمین ہے سب اسی کی مملوک ہے بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہی ایسا ہے جو بےنیاز اور کسی کا محتاج نہیں ہے اور ستودہ صفات ہے اور ہر قسم کی تعریف کے لائق ہے۔ یعنی آسمان اور زمین کی ہر چیز کا مالک ہر کسی سے بےنیاز اور غیر محتاج اور سب خوبیوں سراہا ہے۔ وہی اس کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے۔ اس کے مقابلے میں اس کی مخلوق اس بات کی اہل نہیں کہ اس کو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں شریک کیا جائے۔
Ayah 22:65

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ وَ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ یُمْسِكُ السَّمَآءَ اَنْ تَقَعَ عَلَى الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 22:65 in the Quran reader

اے مخاطب کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے ان چیزوں کو جو زمین میں ہیں تم لوگوں کے لئے مسخر کردیا ہے اور کشتی کو بھی جو خدا کے حکم سے دریا میں چلتی ہے اور اسی نے آسمان کو زمین پر گرنے سے روک رکھا ہے مگر ہاں اس کا حکم ہوجائے تو دوسری بات ہے یقیناً اللہ تعالیٰ لوگوں پر بڑی شفقت کرنے والا اور مہربانی فرمانے والا ہے

(65) اے مخاطب ! کیا تو نے نہیں دیکھا اور کیا تم کو معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کو زمین میں ہیں تمہارے کام میں لگا رکھا ہے اور تمہارے بس میں کردیا ہے اور کشتی کو بھی جو اس کے حکم سے دریا میں چلتی ہے اور اسی نے آسمان کو اس بات سے روک رکھا ہے کہ زمین پر گرپڑے مگر اس کا حکم ہوجائے تو اور بات ہے۔ بلاشبہ ! اللہ تعالیٰ لوگوں پر بڑی شفقت کرنے والا بڑی مہربانی کرنے والا ہے۔ یعنی یہ اس کی شفقت و مہربانی ہے کہ زمین کی ہر چیز کو خواہ وہ نباتات ہو یا حیوانات و جمادات ہو تمہارے قابو میں دے دیا ہے اور دریائوں میں کشتیاں دوڑاتے پھر وتے ہو اور آسمان کو زمین پر گرنے سے روک رکھا ہے آسمان میں کوئی ستون نہیں اور نہ یہ شامیانہ کہیں بندھا ہوا ہے پھر اس کو روک رکھا ہے۔ البتہ اگر اس کی اجازت اور حکم ہوجائے تو یہ امر دیگر ہے کہ آسمان زمین پر گرپڑے۔ یہ دلیل بھی منجملہ دلائل توحید کے ہے۔
Ayah 22:66

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَحْیَاكُمْ١٘ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ Open ayah 22:66 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے تم کو ابتدائً زندگی بخشی پھر وہ تم کو موت دے گا پھر موت کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا واقعی انسان بہت ہی ناسپاس ہے

(66) اور وہی ہے جس نے تم کو پہلی مرتبہ زندگی بخشی۔ پھر وہ تم کو موت دے گا۔ پھر موت کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا۔ واقعی انسان بڑا ناسپاس اور ناشکرا ہے۔ پہلی مرتبہ یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کرکے انسان کی پیدائش کا سلسلہ جاری کیا۔ پھر زندگی کے بعد موت دیتا ہے اور مرنے کے بعد عالم آخرت میں دوبارہ زندگی عطا فرمائے گا ان تمام انعامات الٰہیہ کے بعد بھی انسان اللہ تعالیٰ کی توحید کا قائل نہیں ہوتا اور شرک کرتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اس کا حق نہیں مانتا۔ 12
Ayah 22:67

لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا هُمْ نَاسِكُوْهُ فَلَا یُنَازِعُنَّكَ فِی الْاَمْرِ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ١ؕ اِنَّكَ لَعَلٰى هُدًى مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 22:67 in the Quran reader

ہم نے تشریعی امتوں میں سے ہر ایک امت کیلئے ایک طریقۂ عبادت مقرر کیا ہے کہ وہ اس طریقہ پر عبادت کرتے ہیں سو ان کو چاہئے کہ وہ آپ سے اس کام میں کسی طرح کا جھگڑا نہ کریں اور آپ ان کو اپنے رب کی طرف بلاتے رہئے آپ یقیناً سیدھی راہ پر ہیں

(67) ہم نے سب سابقہ امتوں میں سے ہر امت کے لئے ایک طریقہ عبدت اور بندگی کی راہ مقرر کی ہے کہ وہ اس طریقہ پر عبادت کرتے ہیں لہٰذا ان کو چاہئے کہ وہ آپ سے اس کام میں جھگڑا نہ کریں اور آپ ان کو اپنے پروردگار کی طرف بلاتے اور دعوت دیتے رہئے آپ یقیناً سیدھی راہ پر ہیں۔ سب انبیاء سابقین اصول میں متفق رہے ہیں البتہ فروع اور احکامِ شرعیہ میں ضرورت زمانہ کے اعتبار سے کچھ فرق ہوتا رہا ہے ورنہ توحید باری، قیامت اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا ان سب باتوں میں تمام پیغمبروں کی ایک سی تعلیم رہی ہے۔ اسی طرح آپ کی نبوت کے زمانے میں آپ کو بھی عبادت کے کچھ طریقے تعلیم کئے گئے ہیں اس پر جھگڑا کرنے کی کیا بات ہے۔ جب یہ طریقہ امم سابقہ سے چلا آتا ہے تو اس میں ان لوگوں کو آپ سے جھگڑا نہیں کرنا چاہئے اور اس دین کے بارے میں الجھنا نہیں چاہئے آپ ان کو اپنے پروردگار کی طرف بلاتے رہئے۔ کیونکہ آپ کی راہ سیدھی ہے اور آپ سیدھی راہ پر ہیں۔ بعض مفسرین نے آیت کی تفسیر قربانی کے ساتھ کی ہے۔ کہتے ہیں کہ بعض کفار نے اعتراض کیا تھا کہ مسلمان خود تو اپنے ہاتھ سے جانور کو ذبح کرکے کھاتے ہیں اور جس کو خدا مار دیتا ہے اور جو جانور اپنی موت سے مرجاتا ہے اس کو حرام کہتے ہیں اور اس کو نہیں کھاتے۔ یہ شاید بشیر بن حرث، زید بن خینس اور بدیل بن ورقاء نے مسلمانوں سے چھیڑ خانی کی تھی۔ یہ آیت ان کے جواب میں نازل ہوئی ہے۔ اور مطلب یہ ہے کہ قربانی کا طریقہ ہر امت میں رہا ہے اور وہ قربانی کرتے رہے ہیں تو اس میں ان کو جھگڑا نہیں کرنا چاہئے اور آپ ان کو دین حق کی دعوت دیتے رہئے کیونکہ آپ سیدھی راہ پر ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اصل دین ہمیشہ سے ایک ہے اور احکام ہر دین میں جدا آئے ہیں۔ ہر کام کا واسطہ کیوں پوچھتے ہیں۔ 12۔ جو لوگ باوجود اس کے بھی جھگڑا کریں ان کا جواب آگے فرمایا۔ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 22:68

وَ اِنْ جٰدَلُوْكَ فَقُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 22:68 in the Quran reader

اور اگر یہ آپ سے جھگڑا کریں تو آپ کہہ دیجئے کہ جو کچھ تم کررہے ہو اللہ اس کو خوب جانتا ہے۔

(68) اور اگر یہ لوگ آپ سے جھگڑا کریں تو آپ کہہ دیجئے کہ جو کچھ تم کررہے ہو اللہ تعایلٰ اس کو خوب جانتا ہے۔
Ayah 22:69

اَللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 22:69 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ تمہارے مابین قیامت کے دن ان باتوں کا فیصلہ کردے گا جن میں تم باہم اختلاف کرتے رہتے ہو

(69) اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمہارے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کردے گا جن میں تم اختلاف کرتے ہو اور اگر وہ باوجود سمجھانے کے بھی پھر جھگڑے کی باتیں نکالیں تو ان سے کہہ دیجئے کہ تمہاری ان حرکات کا اللہ تعالیٰ کو خوب علم ہے وہی تم سے سمجھے گا اور قیامت کے دن تمہارے باہمی اختلاف کا عملی فیصلہ کردے گا اور وہ یہی کہ جو حق پر ہے وہ نجات پائے گا اور جو کج بحثی اور بغیر دلیل کے جھگڑا کرنے والے ہیں ان کو سزا دے گا۔
Ayah 22:70

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ فِیْ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 22:70 in the Quran reader

کیا اے مخاطب تجھ کو یہ بات معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان سب چیزوں سے بخوبی واقف ہے جو آسمان اور زمین میں ہیں اس میں شک نہیں کہ یہ سب کچھ کتاب میں لکھا ہوا موجود ہے۔ یہ سب امور مذکورہ خدا پر آسان ہیں

(70) کیا اے مخاطب تجھ کو یہ بات معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان سب چیزوں سے واقف ہے اور ان سب چیزوں کو جانتا ہے جو آسمان اور زمین میں ہیں بلاشبہ یہ سب کچھ کتاب میں لکھا ہوا ہے یہ سب امور اللہ تعالیٰ پر بہت آسان ہیں۔ یعنی ہر چیز کو آسمان و زمین کی جانتا ہے لہٰذا تمہارے اقوال و افعال کو بھی جانتا ہے اور تمہارے تمام اقوال و افعال لوح محفوظ میں یا اعمال ناموں میں موجود بھی ہیں پھر فیصلہ کردینا کیا مشکل ہے جب مجرم کے جرم کا ثبوت بھی موجود ہو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی بندوں کے عمل بھی ایک کتاب میں لکھے ہیں۔ 12
Ayah 22:71

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ مَا لَیْسَ لَهُمْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ Open ayah 22:71 in the Quran reader

اور یہ لوگ خدا کے سوا ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جن کی عبادت پر نہ تو خدا نے کوئی سند نازل فرمائی ہے اور نہ ان کے پاس ان کے پوجنے کی کوئی عقلی دلیل ہے اور ایسے ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہوگا

(71) اور یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جن کی عبادت پر نہ تو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کوئی حجت اور سند نازل فرمائی اور نہ ان کے پاس ان چیزوں کی عبادت کے جواز پر کوئی عقلی دلیل موجود ہے اور نہ ایسے ظالموں کا کوئی مددگار ہوگا۔ یعنی جو لوگ بلا دلیل نقلی و عقلی کے شرک کا ارتکاب کریں ان کی کون مدد کرسکتا ہے۔
Ayah 22:72

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الْمُنْكَرَ١ؕ یَكَادُوْنَ یَسْطُوْنَ بِالَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ؕ قُلْ اَفَاُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكُمْ١ؕ اَلنَّارُ١ؕ وَعَدَهَا اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 22:72 in the Quran reader

اور جب ان لوگوں کو ہماری آیتیں جو خوب واضح ہیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو آپ کافروں کے چہروں پر انکار و کراہت کے آثار دیکھتے ہیں یہ قریب ہوتے ہیں۔ کہ ان لوگوں پر جھپٹ پڑیں جو ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنا رہے ہیں آپ ان کافروں سے کہہ دیجئے کہ میں تم کو اس سے بڑھ کر ناگوار چیز بتادوں وہ دوزخ کی آگ ہے اس آگ کا اللہ تعالیٰ نے کافروں سے وعدہ کیا ہے اور وہ بہت بری جگہ ہے

(72) اور جب ان لوگوں پر ہماری کھلی اور واضح آیات تلاوت کی جاتی ہیں اور ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو آپ کافروں کے چہروں پر برے آثار دیکھتے ہیں اور منکروں کی بری شکل دیکھتے ہیں اور ان برے آثار سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قریب ہے یہ ان لوگوں پر جھپٹ پڑیں جو ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں آپ ان کافروں سے کہہ دیجئے کہ میں تم کو اس سے بڑھ کر ناگوار اور بری چیز بتادوں وہ دوزخ کی آگ ہے اس آگ کا اللہ تعالیٰ نے کافروں سے وعدہ کیا ہے اور وہ واپس جانے کی بہت بری جگہ ہے۔ یعنی ان منکرین دین کی حق کی یہ حالت ہے کہ جب ان کے سامنے قرآن کریم کی وہ آیتیں پڑھی جاتی ہیں جو واضح اور کھلے دلائل پر مشتمل ہیں اور اہل حق ان پر ان آیات کی تلاوت کرتے ہیں تو ان کے چہروں کے بگاڑ سے ان کے دل کی خباثت پہچانی جاتی ہے اور ان کے چہرے پر غیظ و غضب کے آثار پائے جاتے ہیں اور ان کی پیشانی پر بل پڑجاتے ہیں اور غصے کے مارے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قریب ہے یہ ان قرآن کریم کی تلاوت کرنے والوں پر حملہ کردیں گے اور ان کو کھا جائیں گے۔ آپ ان سے کہہ دیجئے کہ کیا میں تم کو اس قرآن کریم سے بڑھ کر تمہاری ناگواری اور منہ بنانے کی چیز بتائوں وہ جہنم اور اس کی آگ ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے اس آگ کا ان لوگوں سے وعدہ ہے جو دین حق کے منکر ہیں۔ سورئہ ملک میں فرمایا فلما راوہ زلفۃً سیئت وجوہ الذین کفروا ! یعنی جب اس دوزخ کے عذاب کو دیکھیں گے تو ان منکرین کے چہرے بگڑ جائیں گے۔ آگے ایک توحید کی اور دلیل بیان ہوتی ہے۔
Ayah 22:73

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّ لَوِ اجْتَمَعُوْا لَهٗ١ؕ وَ اِنْ یَّسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَیْئًا لَّا یَسْتَنْقِذُوْهُ مِنْهُ١ؕ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَ الْمَطْلُوْبُ Open ayah 22:73 in the Quran reader

واپس جانے کی اے لوگو ! ایک عجیب بات بیان کی جاتی ہے تم اس کو کان لگا کر سنو اس میں کچھ شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر تم لوگ جن معبودوں کی پرستش کرتے ہو وہ ایک مکھی بھی ہرگز نہیں پیدا کرسکتے اگرچہ وہ سب کے سب مکھی پیدا کرنے کے لئے جمع بھی ہوجائیں اور اگر مکھی ان سے کچھ چھین لے تو اس مکھی سے اس کو چھڑا بھی نہیں سکتے طالب بھی کمزور اور مطلوب بھی کمزور

(73) اے انسانو ! ایک عجیب بات اور توحید کے مقابلے میں شرک کی برائی کی ایک مثال بیان کی جاتی ہے تم اس کو کان لگا کر توجہ سے سنو۔ بلاشبہ ! تم لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا جن معبودوں کی عبادت اور پرستش کرتے ہو وہ ایک مکھی بھی پیدا کرنے کے قابل نہیں ہیں اور وہ ہرگز ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے۔ اگرچہ وہ سب کے سب مکھی پیدا کرنے کے لئے جمع بھی ہوجائیں اور اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین کرلے جائے تو یہ اس مکھی سے اس چیز کو چھڑا بھی نہیں سکتے۔ طالب یعنی عابد بھی ضعیف و ناتواں اور مطلوب یعنی معبود بھی کمزور و ضعیف یعنی مکھی ایک بہت ہی ذلیل و حقیر جانور ہے یہ تمام معبودان باطلہ مل کر بھی اس کی تخلیق نہیں کرسکتے اور اس کو نہیں بناسکتے۔ پیدا تو کیا کریں گے۔ ان کی کمزوری کا یہ عالم ہے اگر مکھی ان کے چڑھاوے وغیرہ میں سے کچھ لے کے اڑ جائے تو یہ اس کو مکھی سے واپس بھی نہیں لے سکتے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ کفار مکہ ان بتوں کے سر پر زعفران ملتے تھے اور شہد ملتے تھے یا یہ کہ بت پرست کچھ کھانے پینے کو بتوں کے سامنے رکھ دیا کرتے ہی۔ طالب اور مطلوب میں مفسرین کے چند قول ہیں طالب سے مراد مکھی اور مطلوب سے مراد صنم یا طالب سے مراد صنم اور مطلوب سے مراد مکھی یا طالب سے مراد صنم کا پجاری اور مطلوب سے مراد صنم۔ (واللہ اعلم) حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں چاہنے والا اور جس کو چاہتا ہے ان کے بت مکھی چاٹتی ہے بت کو نہ وہ مورت اڑاتی ہے اس کو نہ اس مورت کا شیطان۔ 12 خلاصہ ! یہ کہ یہ مشرک کس قدر بیوقوف ہیں کہ اللہ تعالیٰ جو قادر و توانا ہے اس کو چھوڑ کر کمزور اور عاجز کی پوجا کرتے ہیں۔
Ayah 22:74

مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 22:74 in the Quran reader

ان مشرکوں نے اللہ کی وہ قدر نہ کی جو اس کی قدر کرنے کا حق تھا۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑی قوت والا سب پر غالب ہے

(74) ان مشرکوں نے اللہ تعالیٰ کی وہ قدر اور تعظیم نہ کی جو اس کی تعظیم کرنے کا حق تھا۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑی قوت والا اور سب پر غالب ہے۔ یعنی جیسی اس کی عزت و عظمت کا حق تھا وہ ان مشرکوں نے پورا نہیں کیا کہ کہاں وہ صاحب قوت اور کہاں یہ کمزور و ضعیف کہاں وہ سب پر غالب اور کہاں یہ عاجز و بےبس اس زبردست کو چھوڑ کر عاجزوں اور بےبسوں کی پوجا کرتے ہیں۔ نعوذ باللہ من ذالک۔
Ayah 22:75

اَللّٰهُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلًا وَّ مِنَ النَّاسِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌۚ Open ayah 22:75 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ فرشتوں میں سے پیغام پہنچانے والے منتخب کرلیتا ہے اور لوگوں میں سے بھی بیشک اللہ خوب سننے والا دیکھنے والا ہے

(75) اللہ تعالیٰ پیغام پہنچانے والوں کو منتخب کرلیتا ہے فرشتوں میں سے بھی اور انسانوں میں سے بھی بلاشبہ اللہ تعالیٰ خوب سنتا اور خوب دیکھتا ہے۔ یعنی فرشتوں میں سے رسولوں کے لئے پیغام پہنچانے والے منتخب فرماتا ہے اور انسانوں میں سے جس کو چاہتا ہے عام انسانوں کے لئے پیغمبر منتخب فرماتا ہے۔ رہی یہ بات ! کہ کون انتخاب کا مستحق ہے اور کون نہیں کس کو انتخاب کیا اور کس کو نہیں یہ اسی کی مرضی پر ہے کیونکہ وہ خوب سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔ وہی ہر فرشتے اور ہر بشر کی حالت کو جانتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ساری خلق میں بہتر وہ لوگ ہیں پیغام پہنچانے والے فرشتوں میں بھی وے فرشتے اعلیٰ ہیں ان کو چھوڑ کر بتوں کو مانتے ہوں گے۔ 12۔ خلاصہ ! یہ ہے کہ جو اعلیٰ ہیں ان کے طریقے کو چھوڑ کر بت پرستی کا طریقہ اختیار کرتے ہو۔
Ayah 22:76

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 22:76 in the Quran reader

وہ ان سب کے ائندہ اور گزشتہ حالات کو جانتا ہے اور سب کاموں کی بازگشت اللہ ہی کی طرف ہے

(76) وہ ان سب فرشتوں اور انسانوں کے اگلے پچھلے حالات کو جانتا ہے اور سب کاموں کی بازگشت اور جملہ امور کا مدار اسی پر ہے۔ یعنی اللہ ان کے گزشتہ اور آئندہ حالات کو جانتا ہے اس لئے اس کو معلوم ہے کہ کون خدمت رسالت کا اہل ہے اور کون نہیں ہے۔ پس جس کو مناسب سمجھتا ہے منتخب فرماتا ہے اس میں کسی دوسرے کو دخل نہیں۔ اس سے کسی کو اس انتخاب میں دریافت کرنے اور پوچھنے کا حق نہیں۔ اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی وے بھی اختیار نہیں رکھتے اختیار ہرچیز میں اللہ کا ہے۔ 12
Ayah 22:77

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ارْكَعُوْا وَ اسْجُدُوْا وَ اعْبُدُوْا رَبَّكُمْ وَ افْعَلُوا الْخَیْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ۩ Open ayah 22:77 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم رکوع کیا کرو اور سجدہ کیا کرو اور اپنے رب کی عبادت کیا کرو اور بھلے کام کرتے رہا کرو امید ہے کہ تم فلاح پائو

(77) اے دعوت ایمانی کو قبول کرنے والو ! رکوع کیا کرو اور سجدہ کیا کرو اور اپنے رب کی عبادت کیا کرو اور بھلے کام کرتے رہا کرو امید ہے کہ تم فلاح پائوگے یعنی عقائد اسلام کو تسلیم کرنے کے بعد اور اعمال بھی بجالائو نماز اداکرو رکوع اور سجدہ کرو جو ارکانِ نماز ہیں اور یہ عبادت صرف اپنے پروردگار کی کیا کرو یعنی نماز میں کسی دوسرے کی شرکت نہ ہو، ہر عبادت خالص اللہ تعالیٰ کی ہو اور فرائض و واجبات کے علاوہ اور بھی اعمال خیر اور بھلے کام کرتے رہو امید ہے کہ تم فلاح پائوگے اور اپنے مقاصد میں کامیاب ہوگے۔
Ayah 22:78

وَ جَاهِدُوْا فِی اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ١ؕ هُوَ اجْتَبٰىكُمْ وَ مَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ١ؕ مِلَّةَ اَبِیْكُمْ اِبْرٰهِیْمَ١ؕ هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِیْنَ١ۙ۬ مِنْ قَبْلُ وَ فِیْ هٰذَا لِیَكُوْنَ الرَّسُوْلُ شَهِیْدًا عَلَیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ١ۖۚ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اعْتَصِمُوْا بِاللّٰهِ١ؕ هُوَ مَوْلٰىكُمْ١ۚ فَنِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ۠ Open ayah 22:78 in the Quran reader

اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا جہاد کرنے کا حق ہے اس نے تم کو پسند فرمایا ہے اور دین کے بارے میں تم پر کسی قسم کی تنگی نہیں کی تم اپنے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت پر قائم رہو اس خدا نے تمہارا لقب قرآن کریم کے نازل ہونے سے پہلے بھی اور اس قرآن کریم میں بھی مسلمان رکھا ہے تاکہ رسول یعنی محمد ﷺ تمہارے بارے میں گواہ ہوں اور تم دوسرے لوگوں کے مقابلے میں گواہ ہو سو تم لوگ نماز کی پابندی رکھو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو اور اللہ ہی کو مضبوط پکڑے رہو وہی تمہارا کارساز ہے۔ سو کیا ہی اچھا کارساز ہے اور کیسا اچھا مددگار ہے

(78) اور اللہ کے دین کے لئے محنت اور کوشش کیا کرو جیسا محنت کرنے کا حق ہے اس نے تم کو دینی خدمت کے لئے منتخب اور پسند فرمایا کے دین کے بارے میں تم پر کسی قسم کی تنگی نہیں رکھی تم اپنے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت پر قائم رہو اور اس کے دین کی پیروی کرو اس اللہ تعالیٰ نے تمہارا لقب اور تمہارا نام اس قرآن کریم کے نازل ہونے سے پہلے بھی اور اس قرآن کریم میں بھی مسلمان رکھا ہے تاکہ رسول تمہارے بارے میں گواہ ہوں اور تم اے امت ِمحمدیہ دوسرے لوگوں کے مقابلے میں گواہ ہو تم لوگ نماز کی پابندی رکھو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو اور اللہ تعالیٰ ہی کو مضبوط پکڑے رہو۔ وہی تمہارا مالک اور تمہارا کارساز ہے سو کیا ہی اچھا مالک ہے اور کیسا اچھا مددگار ہے۔ اوپرکی آیت میں ملائکہ اور بشر کے رسول بنانے کا مسئلہ تھا پھر مسلمانوں کو عام خطاب تھا اس آیت میں بھی خطاب عام مؤمنین کو ہے۔ جہاد چونکہ کبھی اعدائے دین کے ساتھ ہوتا ہے کبھی اپنے نفس کے ساتھ ہوتا ہے اس لئے ہم نے جہاد کا ترجمہ محنت اور کوشش کیا ہے۔ محنت اور کوشش کا لفظ سب کو شامل ہے۔ جہاد اللہ ک لئے ہو اور پوری محنت کے ساتھ ہو۔ مجاہدہ خواہ نفس کے ساتھ ہو خواہ اعدائے دین کے ساتھ پھر یہ مجاہدہ خواہ زبان کے ساتھ ہو خواہ قلم کے ساتھ ہو خواہ مال کے ساتھ یہ سب باتیں مجاہدے میں شامل ہیں پھر فرمایا اس نے تمام امم میں سے تم کو منتخب فرمایا ہے تم آخری امت ہو تم و دین کے لئے چن لیا ہے اور دین کو تم پر آسان کیا ہے تمہارے دین میں کوئی تنگی نہیں کوئی باب ایسا نہیں جس میں عزیمت کے ساتھ رخصت کا بیان نہ ہو۔ یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت ہے جو تمہارے باپ تھے اس پر قائم رہو اور اس کی پیروی کرو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یا اللہ تعالیٰ نے تمہارا نام اور تمہارا لقب مسلمان رکھا ہے جب تمہارا نام انقیاد اطاعت ہے تو تم کو بہت زیادہ مطیع و فرمانبردار ہونا چاہئے۔ تم کو ہم نے اس لئے منتخب فرمایا ہے تاکہ تم پر قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ گواہی دیں اور تمہاری توثیق اور تمہاری صداقت پر گواہ ہوں اور تم دوسرے لوگوں پر گواہی دو جب قیامت میں دوسری امتیں اپنے پیغمبروں کی تکذیب کریں گی اور کہیں گی یہ پیغمبر ہمارے پاس نہیں آئے تو امت محمدیہ شہادت دے گی کہ ان رسولوں نے ان کو سمجھا یا مگر انہوں نے نہیں مانا۔ نبی کریم ﷺ اپنی امت کی شہادت کی صحت پر توثیق فرمائیں گے۔ تم لوگ خصوصیت کے ساتھ نماز کی پابندی کرو یہ بدنی عبادت میں اہم عبادت ہے اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو یہ مالی عبادت میں اہم عبادت ہے اور دیکھو اللہ تعالیٰ کا دامن ہر حالت میں پکڑے رہو، وہ تمہارا آقا اور مالک اور کارساز ہے اور کیا اچھا مالک ہے اور کیسا اچھا خوب مددگار ہے۔ بعض حضرات نے شہید کا ترجمہ بتانے والا کیا ہے یعنی رسول تم کو بتائے اور تم دوسرے لوگوں کو دین بتائو اور سکھائو۔ (واللہ اعلم) حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اس نے تمہارا نام لکھا مسلمان۔ یعنی اللہ نے یا ابراہیم (علیہ السلام) نے پہلے دعا میں کہا کہ امت مسلمان پیدا کر اور اس قرآن کریم میں شاید ان ہی کے مانگے سے یہ نام پڑا ہو اور تارسول بتانے والا ہو۔ یعنی پسند کیا تم کو اس واسطے کہ تم اور امتوں کو سکھائو اور رسول تم کو سکھادے اور یہ امت جو سب سے پیچھ آئی سب کی غلطی اس پر معلوم ہوئی سب کو صحیح راہ بتاتے ہیں۔ 12 الحمد للہ ! آج 13 صفر المظفر 1373 ھ؁ مطابق 22 اکتوبر 1953 ئ؁ جمعرات کے روز سورة حج کی تیسیر ختم ہوئی۔