23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 23:1

قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 23:1 in the Quran reader

یقیناً وہ ایمان والے کامیاب ہوگئے

(1) بلاشبہ ! وہ ایمان والے اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے۔ یعنی جن کی صفات آگے بیان ہوتی ہیں۔
Ayah 23:2

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ Open ayah 23:2 in the Quran reader

جو اپنی نماز میں اظہار عجز و نیاز کرنے والے ہیں

(2) جو اپنی نماز میں اظہار عجز و نیاز کرنے والے ہیں۔ یعنی ہر نماز خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرتے ہوں خواہ فرائض ہوں یا نوافل۔
Ayah 23:3

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَۙ Open ayah 23:3 in the Quran reader

اور وہ جو بےکار اور لغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں۔

(3) اور جو بیکار اور لایعنی باتوں سے اعراض اور روگردانی کرتے ہیں یعنی لغو کام خواہ وہ قولی ہوں یا فعلی ان کی طرف دھیان ہی نہیں کرتے۔
Ayah 23:4

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوْنَۙ Open ayah 23:4 in the Quran reader

اور وہ جو زکوٰۃ ادا کرتے ہیں

(4) اور جو زکوٰۃ ادا کیا کرتے ہیں یعنی ہمیشہ زکوٰۃ دیتے ہیں بعض مفسرین نے تزکیہ نفس مراد لیا ہے کہ وہ اپنے اعمال اور اخلاق کو پاکیزہ رکھتے ہیں۔
Ayah 23:5

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ Open ayah 23:5 in the Quran reader

اور وہ جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں

(5) اور وہ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔
Ayah 23:6

اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ Open ayah 23:6 in the Quran reader

لیکن اپنی بیویوں سے یا اپنے ہاتھ کے مال یعنی باندیوں سے تو ان لوگوں پر کوئی الزام نہیں

(6) مگر ہاں ! اپنی بیویوں یا اپنے ہاتھ کے مال یعنی شرعی باندیوں سے نہیں کیونکہ ان لوگوں پر کوئی الزام اور الاہنا نہیں۔ یعنی حرام کے ذریعہ شہوت رانی سے حفاظت کرتے ہیں مگر ہاں ! اپنی بیویوں سے اور اپنی باندیوں سے شہوت رانی میں کچھ حرج نہیں تو ایسے لوگوں پر کوئی الزام اور ملامت نہیں۔
Ayah 23:7

فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ Open ayah 23:7 in the Quran reader

پھر جو کوئی ان بیویوں اور باندیوں کے علاوہ کوئی اور راہ تلاش کرے تو یہی لوگ ہیں حد سے تجاوز کرنے والے۔

(7) پھر جو کوئی ان بیویوں اور باندیوں کے خلاف شہوت رانی کی راہ تلاش کرے تو ایسے ہی لوگ حد شرعی سے آگے بڑھ جانے والے ہیں۔ یعنی بیویاں اور باندیاں شریعت نے حلال کی ہیں ان حلال طریقوں کے علاوہ جو بھی طریقہ خواہش پوری کرنے کا اختیار کرے گا خواہ وہ زنا ہو۔ اغلام ہو۔ مشت زنی ہو یا بہائم کے ساتھ منہ کالا کرنے والے ہوں یہ سب لوگ حدِ شرع سے باہر نکل جانے والے اور مستوجب سزا ہوں گے۔
Ayah 23:8

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ Open ayah 23:8 in the Quran reader

اور وہ جو اپنے پاس رکھی ہوئی امانتوں کی اور اپنے عہد کی نگہداشت کرنے والے ہیں

(8) اور وہ جو اپنے پاس رکھی ہوئی امانتوں کی اور اپنے عہد کی نگہداشت کرنے والے اور خبر رکھنے والے ہیں یعنی کسی کی کوئی امانت رکھی ہو یا کسی سے کوئی عہد کیا ہو تو اس کا دھیان رکھتے ہیں یعنی امانت ادا کرتے ہیں اور عہد کو پورا کرتے ہیں۔
Ayah 23:9

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَوٰتِهِمْ یُحَافِظُوْنَۘ Open ayah 23:9 in the Quran reader

اور وہ جو اپنی نمازوں کی پابندی کرنے والے ہیں

(9) جو اپنی نمازوں کی مداومت کے ساتھ پابندی کرنے والے ہیں یعنی نمازکو پابندی کے ساتھ ادا کرتے ہیں اوپر نماز کے ساتھ خشوع کی تاکید تھی یہاں مداومت کی تاکید فرمائی۔
Ayah 23:10

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَۙ Open ayah 23:10 in the Quran reader

یہی لوگ وارث ہونے والے ہیں

(10) یہی لوگ وارث ہونے والے ہیں۔
Ayah 23:11

الَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 23:11 in the Quran reader

جو فردوسِ بریں کی میراث پائیں گے۔ وہ اس فردوس میں ہمیشہ رہیں گے

(11) جو لوگ فردوس بریں کی میراث پائیں گے وہ اس فردوس بریں میں ہمیشہ رہیں گے۔ یعنی جو لوگ مذکورہ بالا صفات سے متصف ہوں گے وہ ہمیشہ فردوس بریں میں رہیں گے اور جس طرح ورثے میں پائی ہوئی چیز کو کوئی چھین نہیں سکتا اسی طرح جنت الفردوس سے بھی کوئی ان کو بےدخل کرنے والا نہ ہوگا یا یہ مطلب ہے کہ ہر شخص کے دو گھر ہوں گے ایک جنت میں ایک دوزخ میں جب دوزخی دوزخ میں چلے جائیں گے تو جہنم والوں کے گھر بھی اہل جنت کو مل جائیں گے جیسا کہ حدیث میں وارد ہے۔
Ayah 23:12

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ طِیْنٍۚ Open ayah 23:12 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصہ یعنی منتخب مٹی سے بنایا

(12) اور بلاشبہ ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصے اور نچوڑ سے بنایا یعنی آدم (علیہ السلام) کو منتخب مٹی سے بنایا جو مختلف زمین کے حصوں سے لی گئی تھی یا یہ کہ جنس انسان مراد ہو سب سے پہلا انسان خالص مٹی سے بلاواسطہ بنایا گیا پھر بہ واسطہ غذا جو مٹی سے پیدا ہوتی ہے اور اس غذا سے خون اور منی نکلتی ہے جیسا کہ آگے فرمایا۔ قرآن شریف کے بعض نسخوں میں حضرت شاہ صاحب (رح) کا منہیہ ملا وہ فرماتے ہیں خلاصہ سلالہ بمعنی نچڑا پانی یعنی منی اور جو چیز کہ باہر نکالی جائے کسی چیز سے اور منی آدمی کی۔ 12 خلاصہ ! یہ ہے کہ جو کسی چیز سے نکالا جائے جیسے جوہر یاست۔
Ayah 23:13

ثُمَّ جَعَلْنٰهُ نُطْفَةً فِیْ قَرَارٍ مَّكِیْنٍ۪ Open ayah 23:13 in the Quran reader

پھر ہم نے اس کو نطفہ سے بنایا جس کو ہم نے ایک محفوظ مقام میں رکھا

(13) پھر ہم نے اس کو یعنی آدم (علیہ السلام) کی نسل کو نطفے سے بنایا جس کو ہم نے ایک محفوظ مقام میں رکھا یعنی نسل انسانی کو نطفہ سے پیدا کیا جو مٹی ہی کا جوہر ہے پھر اس کو ایک مدت معینہ تک ایک محفوظ مقام یعنی ماں کے رحم میں رکھا۔ بعض حضرات نے مکین کا ترجمہ مضبوط کیا ہے۔
Ayah 23:14

ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظٰمًا فَكَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًا١ۗ ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ١ؕ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَؕ Open ayah 23:14 in the Quran reader

پھر ہم نے اس نطفہ کو جما ہوا خون بنایا پھر ہم نے اس جمے ہوئے خون سے گوشت کی بوٹی بنائی۔ پھر ہم نے اس بوٹی میں سے ہڈیاں بنائیں پھر ہم نے ان ہڈیوں پر گوشت چڑھایا پھر ان تمام تبدیلیوں کے بعد ہم نے اس کو ایک نئی صورت میں اٹھا کھڑا کیا سو کیسی بڑی شان ہے اللہ کی جو سب بنانے والوں سے بڑھ کر بنانے والا ہے

(14) پھر ہم نے اس نطفے کو جما ہوا خون بنایا پھر ہم نے اس جمے ہوئے خون کو گوشت کی ایک لگدی بنائی پھر ہم نے اس بوٹی میں سے ہڈیاں بنائیں پھر ہم نے ان ہڈیوں پر گوشت چڑھایا اور پہنایا پھر ان سب تبدیلیوں کے بعد ہم نے اس کو ایک نئی مخلوق بنادیا اور اس کو نئی صورت میں اٹھا کھڑا کیا سوکیسی بابرکت اور بڑی شان ہے اللہ تعالیٰ کی جو سب سے بہتر بنانے والا ہے یعنی ماں کے رحم میں درجہ بدرجہ تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں پھر آخر میں اس میں روح ڈال کر اور حیات بخش کر ایک نئی مخلوق بنادیتے ہیں اور جو محض جماد تھا وہ حیوان بن جاتا ہے سب سے بہتر بنانے والا یعنی مادے سے ترکیب تو ہر ایک بنانے والا دے لیتا ہے لیکن زندگی بخشنا اور روح ڈالنا اسی کا کام ہے تو وہ احسن الخالقین ہے جو محض ایک جماد اور گونگے بہرے اندھے کو زندگی عطا فرماکر سننے والا دیکھنے والا بنا دیتا ہے۔
Ayah 23:15

ثُمَّ اِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَیِّتُوْنَؕ Open ayah 23:15 in the Quran reader

پھر تم اس سب کے بعد یقیناً مرنے والے ہو۔

(15) پھر تم ان امور مذکورہ کے بعد یقیناً مرنے والے ہو یعنی ان سب درجات سے گزر کر اور زندگی حاصل ہونے کے بعد ایک دن مرنے والے ہو اس موت کا ہر کافر اور مومن اقرار کرتا ہے۔
Ayah 23:16

ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ Open ayah 23:16 in the Quran reader

پھر تم بلاشبہ قیامت کے دن دو بارا زندہ کئے جائوگے

(16) پھر تم بلاشبہ قیامت کے دن دوبارہ زندہ کرکے اٹھائے جائوگے اس عالم آخرت کی زندگی کا کفار انکار کرتے تھے لیکن قرآن کریم نے بتایا یہ چیز ضرور ہونے والی ہے اور سب مردوں کو جی اٹھنا ہے۔
Ayah 23:17

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَآئِقَ١ۖۗ وَ مَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غٰفِلِیْنَ Open ayah 23:17 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم نے تمہارے اوپر سات راہیں یعنی آسمان بنائے اور ہم مخلوق کی مصلحتوں سے بیخبر نہ تھے

(17) اور بلاشبہ ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان بنائے اور ہم مخلوق کی ضرورتوں اور مصلحتوں سے غافل اور بیخبر نہ تھے بعض مفسرین نے سبع طرائق سے اوپر تلے آسمان مراد لئے ہیں اور بعض نے راستے اور راہیں مراد لی ہیں شاید فرشتوں کے آنے جانے کے راستے مراد ہوں اور ہم مخلوق کی ضرورتوں سے غافل نہ تھے یعنی عالم علوی اور عالم سفلی خلق کی مصلحتوں کے لحاظ سے ترتیب دیئے گئے ہیں کوئی ایسی ضرورت جو انسان کو زندگی بسر کرنے کے لئے پیش آتی ہے ایسی نہیں ہے جس کی رعایت نہ رکھی گئی ہو۔ اسی کی آگے اور تفصیل فرمائی۔
Ayah 23:18

وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ فَاَسْكَنّٰهُ فِی الْاَرْضِ١ۖۗ وَ اِنَّا عَلٰى ذَهَابٍۭ بِهٖ لَقٰدِرُوْنَۚ Open ayah 23:18 in the Quran reader

اور ہم ہی نے ایک اندازے کے ساتھ آسمان سے پانی نازل کیا پھر ہم نے اس پانی کو زمین میں ٹھہرایا اور بلاشبہ ہم اس پانی کے لیجانے اور معدوم کردینے پر بھی قادر ہیں

(18) اور ہم ہی نے ایک خاص اندازے اور مناسب مقدار کے ساتھ آسمان کی جانب سے پانی اتارا پھر اس پانی کو زمین میں ٹھہرادیا اور بلاشبہ ہم اس پانی کے لے جانے اور معدوم کردینے پر بھی قادر ہیں۔ یعنی باوجود پانی کے خزانوں کے پھر بھی حسب ضرورت ایک اندازے سے برساتے ہیں پیچھے گزر چکا ہے۔ وان من شئی الاعندنا خزآئنہ وما ننزلہ الابقدر معلوم۔ یعنی ہر چیز کے ہمارے پاس خزانے کے خزانے بھرے پڑے ہیں لیکن ہم ہر چیز کو ایک خاص اندازے کے ساتھ اتارتے ہیں۔ زمین میں ٹھہرانے کا مطلب یہ ہے کہ کچھ زمین میں جذب ہوجاتا ہے کچھ دریا اور ندیاں بن کر بہتا رہتا ہے جو پورے سال انسانوں اور چوپایوں بلکہ تمام مخلوقات کو کام دیتا ہے۔ معدوم کردینے کا مطلب یہ ہے کہ خارجی پانی کو ہوابناکر اڑادیں اور زمین کے پانی کو اتنا گہرا کردیں کہ اس کو حاصل نہ کرسکو ضروریات سے ایسے باخبر کہ ریل کے لئے کوئلہ اور ہوائی سواریوں کیلئے پٹرول مہیا نہ کرتا تو یہ چیزیں حاصل ہی نہیں ہوسکتیں۔ نہ وہ مخلوق کی ضرورتوں سے غافل اور نہ اشیائے ضروریہ کی اس کے ہاں کمی اس عنایت و مہربانی کے باوجود انسان کی نافرمانی اور کافرانہ زندگی پر تعجب ہے۔
Ayah 23:19

فَاَنْشَاْنَا لَكُمْ بِهٖ جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ١ۘ لَكُمْ فِیْهَا فَوَاكِهُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ Open ayah 23:19 in the Quran reader

پھر اس پانی کے ذریعہ سے ہم نے تمہارے لئے کھجوروں اور انگور کے باغ پیدا کئے ان باغوں میں تمہارے لئے بکثرت تازہ میوے بھی ہیں اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے بھی ہو

(19) پھر اسی پانی سے تمہارے لئے کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کئے ان باغوں میں تمہارے لئے بکثرت تازہ میوے بھی ہیں اور ان میں سے بعض کو تم خشک کرکے کھاتے بھی ہو یعنی پانی برسانے اور اس کا ذخیرہ رکھنے کے بعد نباتات کو بہت فائدہ پہنچتا ہے۔ کھجوروں اور انگوروں کے باغ اس پانی سے لہلہاتے ہیں بکثرت پھل پیدا ہوتے ہیں جو کھانا کھانے کے بعد بطور تفکہ بھی استعمال ہوتے ہیں اور خشک کرکے رکھ لو تو کھانے کی بجائے بھی کھائے جاسکتے ہیں۔
Ayah 23:20

وَ شَجَرَةً تَخْرُجُ مِنْ طُوْرِ سَیْنَآءَ تَنْۢبُتُ بِالدُّهْنِ وَ صِبْغٍ لِّلْاٰكِلِیْنَ Open ayah 23:20 in the Quran reader

اور اسی پانی سے ہم نے زیتون کا درخت بھی پیدا کیا جو طور سینا میں بہ کثرت پیدا ہوتا ہے وہ تیل اور کھانے والوں کے لئے سالن لئے ہوئے اگتا ہے

(20) اور اسی پانی سے ہم نے زیتون کا درخت بھی پیدا کیا جو طور سینا میں بکثرت پیدا ہوتا ہے وہ تیل اور کھانے والوں کے لئے سالن لئے ہوئے اگتا ہے طور سینا اور طور سینین ایک ہی چیز ہے۔ زیتون کا درخت بہت مشہور درخت ہے جو عام طور سے شرق اردن اور بیت المقدس کی پہاڑوں پر بکثرت دستیاب ہوتا ہے اس کا تیل بہت سے امراض کے لئے نافع ہوتا ہے اور عوام اس کو سالن کی جگہ بھی استعمال کرتے ہیں یعنی روٹی زیتون کے تیل کے ساتھ نمک ڈال کر کھاتے ہیں۔
Ayah 23:21

وَ اِنَّ لَكُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً١ؕ نُسْقِیْكُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِهَا وَ لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ Open ayah 23:21 in the Quran reader

اور لوگو ! تمہارے لئے چوپایوں میں بھی غور کرنے کا موقعہ ہے ان چوپایوں کے پیٹوں میں جو کچھ بھرا ہوا ہے اسی میں سے ہم تم کو پلاتے ہیں اور تمہارے لئے ان چوپایوں میں اور بھی بہت سے فائدے ہیں اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے بھی ہو

(21) اور لوگو ! تمہارے لئے چوپائوں میں بھی غور کرنے کا موقعہ اور غور کرنے کا مقام ہے ان چوپایوں کے پیٹ کی چیز سے ہم تم کو پلاتے ہیں اور تمہارے لئے ان چوپایوں میں اور بھی بہت سے فائدے ہیں اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے بھی ہو۔ اوپر کی آیت میں نباتاتی احسانات کا ذکر تھا اب حیوانات پر توجہ دلائی کہ ان پر بھی ذرا غور کرو کہ ان چوپایوں سے تمہارے کتنے فوائد وابستہ ہیں ان کے جوف کی چیزوں میں سے تم کو دودھ پلاتے ہیں یعنی گوبر اور خون کے درمیان دودھ کی دھاریں جاری کرتے ہیں پھر ان چوپایوں سے جو بار برداری کا کام لیا جاتا ہے وہ ظاہری ہے ان فوائد کے علاوہ بعض حلال جانوروں کا تم گوشت بھی کھاتے ہو۔
Ayah 23:22

وَ عَلَیْهَا وَ عَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَ۠ Open ayah 23:22 in the Quran reader

اور ان چوپایوں پر اور کشتیوں پر تم سوار کئے جاتے ہو

(22) چوپایوں کے منجملہ فوائد کے یہ بھی فائدہ ہے کہ تم ان چوپایوں پر اور نیز کشتیوں پر لدے لدے پھرتے ہو۔ یعنی جو سواری کے قابل ہیں ان پر سوار بھی ہوتے ہو۔ اور اسی طرح کشتیوں کو بھی بطور سواری کے استعمال کرتے ہو۔ حضرت حق تعالیٰ کے یہ تمام احسانات ہیں کہ اس نے اپنی مخلوقات کو تمہارے بس میں دے رکھا ہے اور تمہارے کام میں لگا رکھا ہے لیکن انسان بایں ہمہ احسانات کے پھر حق تعالیٰ کا نافرمان اور شرک کرنے والا ہے۔
Ayah 23:23

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 23:23 in the Quran reader

اور ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اس کی قوم کے لوگوں کی طرف رسول بناکر بھیجا سو نوح (علیہ السلام) نے کہا اے میری قوم اللہ ہی کی عبادت کیا کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ سو کیا تم ڈرتے نہیں

(23) اوپر مومنین کا ملین کا ذکر تھا پھر بعض دلائل توحید بیان فرمائے اب اسی سلسلے میں بعض انبیاء سابقین کا ذکر فرماتا ہے ارشاد ہوتا ہے اور بلاشبہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اس کی قوم کی طرف رسول بناکر بھیجا سو اس نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کیا کرو اس کے سوا تمہارا کوئی حقیقی معبود نہیں ہے سو کیا تم ڈرتے نہیں ہو انبیائے سابقین میں سے حضرت نوح (علیہ السلام) بہت پرانے پیغمبر ہیں کیا تم ڈرتے نہیں یعنی معبود حقیقی کی نافرمانی سے اور اس کے ساتھ شریک ٹھہرانے سے ڈرتے نہیں۔
Ayah 23:24

فَقَالَ الْمَلَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۙ یُرِیْدُ اَنْ یَّتَفَضَّلَ عَلَیْكُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً١ۖۚ مَّا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَۚ Open ayah 23:24 in the Quran reader

اس پر اس کی قوم کے وہ رئوسا جو کافر تھے قوم کے عام آدمیوں سے کہنے لگے کہ یہ نوح (علیہ السلام) بھی محض تم ہی جیسا ایک آدمی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ تم پر بڑا بن کر رہے اور اگر اللہ رسول بھیجنا چاہتا تو فرشتوں کو نازل کرتا ہم نے تو یہ بات اپنے اگلے باپ دادوں میں کبھی ہوتی نہیں سنی

(24) اس پر اس کی قوم کے رئیس اور سردار جو منکر تھے عام آدمیوں سے کہنے لگے کہ یہ نوح (علیہ السلام) کچھ نہیں مگر تم ہی جیسا ایک آدمی ہے اس کا مطلب اور مقصد یہ ہے کہ تم پر بڑا بن کر رہے۔ اور اگر اللہ تعالیٰ کو رسول بھیجنا ہوتا اور وہ یہ چاہتا کہ کسی رسول کو بھیجے تو وہ فرشتے نازل کرتا اور فرشتوں کو بھیجتا ہم نے تو یہ بات اپنے پہلے باپ دادوں میں سنی نہیں۔ یعنی رئوسائے منکرین اور قوم کے سردار جو خود بھی کافر تھے اپنی قوم کو سمجھانے لگے کہ یہ نوح (علیہ السلام) تم ہی جیسا ایک آدمی ہے رسول نہیں ہے یہ دعویٰ اس نے اس لئے کیا ہے کہ تمہارا لیڈر بننا چاہتا ہے اور تم پر نفوق چاہتا ہے اگر اللہ تعالیٰ رسول بھیجنا چاہتا تو فرشتے بھیجتا اور وہ مہ کو ہدایت کرتے اور اس قسم کا ذکر تو باپ دادوں سے سنا بھی نہیں کہ بشر رسول بن کر سمجھانے کے لئے کبھی آیا ہو آج تک اس قسم کا چرچا بھی اپنے بڑوں سے نہیں سنا۔
Ayah 23:25

اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ فَتَرَبَّصُوْا بِهٖ حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 23:25 in the Quran reader

بس یہ نوح (علیہ السلام) ایک آدمی ہے جس کو جنون ہوگیا ہے سو ایک وقت خاص تک اس کے بارے میں اور انتظار کرلو

(25) بس یہ ایک آدمی ہے جس کو کچھ جنون ہوگیا اور دیوانگی ہوگئی ہے سو ایک وقت خاص تک اس کا اور انتظار کرلو یعنی اس پر ایمان لانے میں جلدی نہ کرو اس پر کوئی جنون اور دیوانگی کا دورا پڑگیا ہے ذرا صبر کرو اور انتظار کرلو یا جنون سے افاقہ ہوجائے یا جنون میں ہی مرجائے اور اگر افاقہ نہ ہو تو تم اس کو قتل کردو۔
Ayah 23:26

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ Open ayah 23:26 in the Quran reader

نوح (علیہ السلام) نے خدا کی جناب میں عرض کی اے میرے رب ! اس وجہ سے کہ انہوں نے میری تکذیب کی ہے تو میری مدد کر۔

(26) حضرت نوح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں عرض کی اے میرے پروردگار ! چونکہ یہ لوگ میری تکذیب کرتے ہیں اور انہوں نے مجھ کو جھٹلایا ہے اس لئے آپ میری مدد کیجئے۔ یعنی ان کے مقابلے میں طاقت مجھ میں نہیں ہے یہ سب ایک طرف اور میں تنہا انہوں نے میری تکذیب کی ہے لہٰذا تو میری مدد فرما۔
Ayah 23:27

فَاَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ اَنِ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا فَاِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ فَاسْلُكْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ مِنْهُمْ١ۚ وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 23:27 in the Quran reader

اس پر ہم نے نوح (علیہ السلام) کی طرف حکم بھیجا کہ تو ہماری نگرانی میں اور ہمارے حکم کے مطابق ایک کشتی بنا پھر جب ہمارا حکم آپہنچے اور تنور سے پانی ابلنے لگے تو ہر قسم کے جانوروں میں سے نرمادہ دونوں کا ایک ایک جوڑا کشتی میں داخل کرلیجئو اور اپنے گھر والوں کو بھی مگر ان میں سے جس کی نسبت پہلے سے بات طے ہوچکی ہے اس کو نہیں اور نافرمان لوگوں کے بارے میں مجھ سے کوئی گفتگو نہ کیجئو کیونکہ یہ سب غرق کئے جائیں گے

(27) اس دعا کے بعد ہم نے نوح کی جانب یہ حکم بھیجا کہ تو ہماری نگرانی میں ہمارے حکم کے مطابق ایک کشتی بنا پھر جب ہمارا حکم آپہنچے اور تنور سے پانی ابلنے لگے تو ہر قسم کے جانوروں میں سے نر مادہ دونوں کا ایک ایک جوڑا کشتی میں داخل کرلیجئو اور اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں سوار کر لیجئو مگر ان میں سے جس کی نسبت پہلے سے بات طے ہوچکی ہے یعنی جس کے غرق ہونے کا حکم نافذ ہوچکا ہو گھر والوں میں سے اس کو سوار نہ کیجئو اور مجھ سے ان لوگوں کے بارے میں جو کفر کے خوگر ہوچکے ہیں کوئی گفتگو نہ کیجئو کیونکہ یہ سب غرق کئے جائیں گے یعنی دعا کے بعد کشتی بنانے کا حکم دیا اور اور یہ بھی بتادیا کہ یہ لوگ غرق ہونے والے ہیں تم کشتی تیار کرو جب تنور میں کوئی خاص تنور ہوگا یا مطلقاً زمین مراد ہوگی جب پانی ابلنے لگے تو تم مومنین کو نر اور مادہ کے جوڑے لیکر کشتی میں سوار ہوجانا مگر اپنے گھر والوں میں سے ان لوگوں کو نہ لینا جن کے غرق ہونے کا حکم ہوچکا ہے مزید تفصیل بارھویں پارے میں گزرچکی ہے اور یہ جو فرمایا جب ہمارا حکم آپہنچے یعنی عذاب آجائے اور اس کے آثار و نشانات شروع ہوجائیں تو تم کشتی میں سوار ہوجانا۔
Ayah 23:28

فَاِذَا اسْتَوَیْتَ اَنْتَ وَ مَنْ مَّعَكَ عَلَى الْفُلْكِ فَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ نَجّٰىنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:28 in the Quran reader

پھر جب تو اور تیرے ساتھی کشتی پر چڑھ جائیں تو یہ الفاظ کہیو اس خدا کا شکر ہے جس نے ہم کو ظالم لوگوں سے نجات عطا فرمائی

(28) پھر جب تو اور تیرے ساتھی کشتی پر سوار ہوجائیں تو یہ الفاظ کہیو اس اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے ہم کو ظالم لوگوں سے نجات دی یعنی کافروں کے افعال و اعمال اور ان کی تکالیف سے نجات عطا فرمائی۔
Ayah 23:29

وَ قُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِیْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ Open ayah 23:29 in the Quran reader

اور خدا کی جناب میں یوں کہیو اے میرے رب مجھ کو کشتی سے برکت کا اتارنا اتاریو اور تو سب اتارنے والوں سے بہتر اتارنے والا ہے

(29) اور پروردگار کی جناب میں یوں کہیو اے میرے پروردگار مجھ کو کشتی سے برکت کا اتارنا اتاریو اور تو سب اتارنے والوں سے بہتر اتارنے والا ہے۔ یعنی جب کشتی میں سوار ہوجائے تو شکر کے ساتھ آئندہ کے لئے بھی بھلائی کی دعا کرنا یا اترتے وقت کے لئے دعا بتائی۔ بابرکت اتارنا یعنی ہر اعتبار سے اطمینان یا اترنے کی جگہ اور مکان آرام دہ ہو۔ مہمان کے اتارنے والوں میں آپ سب سے بہتر اتارنے والے ہیں کیونکہ آپ مہمان کے آرام و آسائش اور اس کے نفع اور نقصان پر قدرت رکھتے ہیں اور دوسرے قدرت نہیں رکھتے۔
Ayah 23:30

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ وَّ اِنْ كُنَّا لَمُبْتَلِیْنَ Open ayah 23:30 in the Quran reader

اس میں شک نہیں کہ ان واقعات مذکوروہ میں بڑے دلائل ہیں اور یقیناً ہم آزمائش کرنے والے ہیں

(30) بلاشبہ ان واقعات مذکورہ میں اہل عبرت کے لئے بڑی نشانیاں اور بڑے دلائل ہیں اور واقعہ یہ ہے کہ ہم آزمائش کرنے والے ہیں یعنی نوح (علیہ السلام) کا رسول بناکر بھیجنا اور قوم کا ایک صحیح بات کو نہ سجھنا۔ نوح (علیہ السلام) کو اور اس کے ساتھیوں کو قوم کا ستانا اور ایذا رسانی، پھر طوفان کا آنا، کشتی کے لئے ہماری قدرت کے بڑے بڑے دلائل موجود ہیں اور یہ نشانیاں ظاہر کرکے ہم آزماتے ہیں کہ کون صبر کرتا ہے اور برداشت سے کام لیتا ہے یا یہ کہ ان واقعات کا ذکر کرکے اور بندوں کو خبر دیکر آزماتے ہیں کہ کون ان واقعات سے نصیحت قبول کرتا ہے اور ان واقعات کو سن کر اثر لیتا ہے۔
Ayah 23:31

ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَۚ Open ayah 23:31 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کے بعد ایک اور قوم کو پیدا کردیا

(31) پھر ہم نے نوح (علیہ السلام) کی قوم کے بعد ایک اور قوم کو پیدا کیا یعنی ان کی تباہی اور ہلاکت کے بعد اور دوسری قوم پیدا کی گئی شاید یہ قوم عاد اور ثمود کی طرف اشارہ ہے۔
Ayah 23:32

فَاَرْسَلْنَا فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 23:32 in the Quran reader

پھر ہم نے ان میں ایک پیغمبر کو بھیجا جو انہی میں کا تھا کہ تم لوگ اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں سو کیا تم ڈرتے نہیں

(32) پھر ہم نے ان میں ایک رسول بھیجا جو انہی میں کا تھا اس پیغمبر نے ان سے کہا کہ تم لوگ اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمہارا کوئی حقیقی معبود نہیں سو کیا تم ڈرتے نہیں۔ یہ پیغمبر شاید ہود (علیہ السلام) ہوں گے انہوں نے بھی قوم عاد کو توحید کی دعوت دی اور فرمایا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کی پوجا کرو اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور نہ کوئی قابلِ پرستش ہے سو کیا تم اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے عذاب سے ڈرتے نہیں۔
Ayah 23:33

وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ الْاٰخِرَةِ وَ اَتْرَفْنٰهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۙ یَاْكُلُ مِمَّا تَاْكُلُوْنَ مِنْهُ وَ یَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُوْنَ۪ۙ Open ayah 23:33 in the Quran reader

اور اس پیغمبر کی قوم کے وہ رئوسا جنہوں نے کفر کیا تھا اور آخرت کے پیش آنے کی تکذیب کی تھی اور دنیا کی زندگی میں ہم نے ان کو آسودگی بھی دی تھی یوں کہنے لگے کہ یہ پیغمبر بھی تم ہی جیسا ایک آدمی ہے جو کچھ تم کھاتے ہو یہ بھی وہی کھاتا ہے اور جو کچھ تم پیتے ہو یہ بھی وہی پیتا ہے

(33) اور اس توحید کی دعوت کو سن کر اس پیغمبر کی قوم کے وہ رئوسا اور سردار جنہوں نے کفر کیا تھا اور آخرت کے پیش آنے اور آخرت سے ملاقات کرنے کی تکذیب کی تھی اور دنیا کی زندگی میں ہم نے ان کو خوش حال کیا تھا اور آسودگی دی تھی ان سرداروں نے عوام سے کہا یہ مدعی نبوت بھی بس تم جیسا آدمی ہے جو کچھ تم کھاتے ہو اسی قسم کی چیزیں یہ بھی کھاتا ہے اور یہ بھ وہی پیتا ہے جس قسم سے تم پیتے ہو یعنی تم میں اور اس میں کیا فرق ہے کھانا پینا اور معاشرتی زندگی سب کی یکساں ہیں یہ بھی تم ہی جیسا ایک آدمی ہے۔
Ayah 23:34

وَ لَئِنْ اَطَعْتُمْ بَشَرًا مِّثْلَكُمْ اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَۙ Open ayah 23:34 in the Quran reader

اور اگر تم نے اپنے ہی جیسے ایک آدمی کی اطاعت کی تو یقیناً تم اس وقت سخت خسارے میں ہوگے

(34) اور اگر تم نے اپنے ہی جیسے ایک آدمی کی اطاعت قبول کرلی اور کہنا مان لیا تو یقیناً تم اس وقت سخت نقصان میں پڑجائوگے انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام عام طور سے دو باتیں کہا کرتے فاتقوا اللہ واطیعون یعنی اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔ یہ اطاعت کافروں کو بہت ناگوار تھی اسی کو کافر سرداروں نے اپنی قوم کو سمجھایا کہ یہ بڑے نقصان کی بات ہے کہ تم اپنے ہی جیسے بشر کی اطاعت قبول کرلو۔
Ayah 23:35

اَیَعِدُكُمْ اَنَّكُمْ اِذَا مِتُّمْ وَ كُنْتُمْ تُرَابًا وَّ عِظَامًا اَنَّكُمْ مُّخْرَجُوْنَ۪ۙ Open ayah 23:35 in the Quran reader

کیا یہ پیغمبر تم سے یہ کہتا ہے کہ جب تم مرجائوگے اور تم مٹی اور ہڈیاں ہوجائو گے تو تم پھر نکالے جائوگے

(35) کیا یہ شخص تم کو یہ وعدہ دیتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ جب تم مرجائوگے اور جب مٹی اور ہڈیاں ہو جائوگے تو تم پھر نکالے جائوگے یعنی یہ شخص یہ کہہ کر بھی ڈراتا ہے کہ مرنے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجانے کے بعد تم دوبارہ زندہ کئے جائوگے۔
Ayah 23:36

هَیْهَاتَ هَیْهَاتَ لِمَا تُوْعَدُوْنَ۪ۙ Open ayah 23:36 in the Quran reader

جس بات سے تم کو ڈرایا جارہا ہے وہ بہت ہی بعید اور دور از قیاس ہے۔

(36) جس بات سے تم کو ڈرایا جارہا ہے وہ بہت ہی بعید اور بہت ہی بعید ہے یعنی مرجانے اور مٹی ہوجانے کے بعد دوبارہ زندگی کا وعدہ بت ہی بعید اور دور از قیاس چیز ہے۔ بھلا ایسی بعید از قیاس بات کہنے والا بھی اس قابل ہے کہ اس کو مطاع اور واجب الاطاعت بنایا جائے۔
Ayah 23:37

اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ۪ۙ Open ayah 23:37 in the Quran reader

بس زندگی تو یہی ہماری دنیا کی زندگی ہے کوئی ہم میں مرتا ہے اور کوئی ہم میں پیدا ہوتا ہے اور ہم کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا نہیں۔

(37) بس زندگی تو یہی ہماری دنیوی زندگی ہے کوئی ہم میں مرتا ہے اور کوئی ہم میں پیدا ہوتا ہے اور ہم کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوکر اٹھنا نہیں یعنی صرف یہی زندگی ہے یہیں مرنا ہے یہیں پیدا ہونا ہے اس زندگی کے بعد کوئی اور زندگی نہیں ہے۔
Ayah 23:38

اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلُ اِ۟فْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا وَّ مَا نَحْنُ لَهٗ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 23:38 in the Quran reader

اور کچھ نہیں یہ پیغمبر ایک ایسا شخص ہے جو اللہ پر جھوٹ افترا کرتا ہے اور ہم تو کسی طرح بھی اس کو مسیحا ماننے والے نہیں

(38) اور کچھ نہیں یہ پیغمبر ایک ایسا شخص ہے جو اللہ پر جھوٹی افترا پردازیاں کرتا ہے اور ہم تو کسی طرح بھی اس کو سچا ماننے والے نہیں یعنی ایک ایسا آدمی ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے کہ میں اس کا رسول ہوں یا اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی معبود نہیں، یا مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا یہ محض اللہ پر جھوٹ طوفان لگاتا ہے بھلا ہم ایسے افترا پرداز کو جو خدا پر جھوٹ بولے کس طرح مان سکتے ہی اور اس کی رسالت پر کس طرح ایمان لاکر اس کی اطاعت کا پٹہ گلے میں ڈال سکتے ہیں۔
Ayah 23:39

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ Open ayah 23:39 in the Quran reader

پیغمبر نے عرض کی اے میرے پروردگار اس وجہ سے کہ انہوں نے میری تکذیب کی ہے تو میری مدد کر۔

(39) پیغمبر نے جناب باری میں عرض کی اے میرے پروردگار چونکہ ان لوگوں نے میری تکذیب کی اس لئے میری مدد کیجئے یعنی انہوں نے میری تکذیب کی اور مجھے جھٹلایا اب آپ میری مدد فرمائیے۔
Ayah 23:40

قَالَ عَمَّا قَلِیْلٍ لَّیُصْبِحُنَّ نٰدِمِیْنَۚ Open ayah 23:40 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھوڑے ہی دن جاتے ہیں کہ یہ لوگ اپنے کئے پر پچھتاتے ہوں گے

(40) اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھوڑے ہی دن جاتے ہیں کہ یہ لوگ اپنے کئے پر پچھتاتے ہوں گے یعنی زیادہ دیر نہیں ہے کہ ان پر عذاب آئے گا اور یہ پچھتا رہے ہوں گے۔