23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 23:81

بَلْ قَالُوْا مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 23:81 in the Quran reader

اصل واقعہ یہ ہے کہ یہ لوگ بھی وہی بات کہہ رہے ہیں جو بات ان کے اگلے کہتے چلے آئے ہیں۔

(81) بلکہ اصل واقعہ یہ ہے کہ یہ لوگ کچھ سمجھتے نہیں بلکہ وہی بات کہتے ہیں جو بات ان کے اگلے کہہ چکے ہیں اور پہلے کافر کہتے چلے آئے ہیں یعنی بعث بعد الموت کے بارے میں پہلے اور پچھلے کافروں کی ایک سی ذہنیت ہے آگے اس بات کا اظہار ہے۔
Ayah 23:82

قَالُوْۤا ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ Open ayah 23:82 in the Quran reader

یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ کیا جب ہم مرجائیں گے اور مرکر مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا ہم دوبارہ زندہ کئے جائیں گے۔

(72) یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ کیا جب ہم مرگئے اور مرکر مٹی اور ہڈیاں ہوگئے تو کیا ہم دوبارہ زندہ کرکے اٹھائے جائیں گے یعنی جو پہلے منکر کہا کرتے تھے کہ جب ہم مرکر خاک ہوجائیں گے تو پھر ہم دوبارہ کیسے زندہ ہوجائیں گے یہی یہ سب بھی کہتے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ جس نے پہلی مرتبہ ان کو زندگی بخشی ہے اس کو دوبارہ زندہ کرلینا کیا مشکل ہے۔
Ayah 23:83

لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا هٰذَا مِنْ قَبْلُ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 23:83 in the Quran reader

بیشک ہم سے اور ہم سے پہلے ہمارے باپ دادوں سے اس دوبارہ زندہ ہونے کا وعدہ ہوتا چلا آیا ہے مگر یہ سوائے اس کے کچھ نہیں کہ محض پہلے لوگوں کی بےسروپا کہانیاں ہیں۔

(83) اور یہ بھی کہتے ہیں کہ بلاشبہ یہ وعدہ ہم سے اور ہم سے پہلے ہمارے باپ دادوں سے ہوتا چلا آیا ہے۔ مگر یہ وعدہ سوائے اس کے نہیں کہ محض پہلے لوگوں کی بےسروپاکہانیاں اور قصے ہیں یعنی یہ دوبارہ زندہ ہونے کا وعدہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ ہم سے پہلے ہمارے بزرگوں سے بھی اس قسم کا وعدہ ہوتا چلا آیا ہے جو آج تک تو شرمندئہ ایفاء ہوا نہیں اس سے کیا سمجھا جائے یہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا کچھ نہیں مگر پہلے لوگوں کی بےسروپا کہانیاں ہیں جو یہ شخص بھی کہتا ہے یعنی ان باتوں کا کوئی وجود نہیں کہنے کو تو پہلے پیغمبر بھی یہی کہتے چلے آئے ہیں اور ہمارے بزرگوں کو یہی وعدہ دیتے آئے ہیں لیکن اس وعدے کی اصلیت کا آج تک تو ظہور ہوا نہیں۔
Ayah 23:84

قُلْ لِّمَنِ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:84 in the Quran reader

اے پیغمبر ! آپ ان سے پوچھئے کہ اگر تم کو خبر ہے تو بتائو کہ یہ زمین اور جو کچھ اس زمین میں ہے یہ سب کس کا ہے

(84) آگے اور دلائل توحید و بعث ہیں چناچہ ارشاد ہوتا ہے اے پیغمبر آپ ان سے فرمائیے کہ اگر تم کو خبر ہے تو بتائو کہ یہ زمین اور جو مخلوقات اس میں ہے یہ سب کس کا ہے۔ یعنی زمین اور زمین پر بسنے والی مخلوقات خواہ وہ ذوی العقول ہو یا غیر ذوی العقول یہ سب کس کا ہے۔
Ayah 23:85

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 23:85 in the Quran reader

وہ ضرور یہی جواب دیں گے کہ یہ سب کچھ اللہ کا ہے آپ فرمائیے پھر تم کیوں نہیں غور کرتے

(85) وہ ضرور یہی جواب دیں گے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کا ہے آپ فرمائیے کہ پھر تم غور کیوں نہیں کرتے یعنی جب یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کا ہے پھر اس کے ساتھ اس کی مملوک کو شریک کیوں کرتے ہو اور جس نے ابتدائً زمین کو بنایا وہ اس پر آباد مخلوق کو دوبارہ کیوں نہیں پیدا کرسکتا ۔
Ayah 23:86

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ Open ayah 23:86 in the Quran reader

آپ ان سے یہ بھی پوچھئے کہ ساتوں آسمانوں کا مالک اور عالیشان عرش کا مالک کون ہے

(86) آپ اے پیغمبر ! ان سے یہ بھی دریافت کیجئے کہ ساتوں آسمانوں کا مالک کون ہے اور وہ کون ہے جو عالی شان تخت یعنی عرش عظیم کا مالک ہے۔
Ayah 23:87

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 23:87 in the Quran reader

وہ ضرور یہی جواب دیں گے کہ اس سب کا مالک بھی اللہ ہی ہے آپ فرمائیے پھر تم اس سے ڈرتے کیوں نہیں

(87) وہ ضرور یہی جواب دیں گے کہ اس سب کا مالک اللہ ہی ہے آپ فرمائیے پھر تم اس سے ڈرتے کیوں نہیں یعنی جواب میں حق تعالیٰ کے سوا کسی اور کا نام نہیں بتاسکتے تو اللہ ہی کا نام لیتے۔ ارشاد ہوا پھر اس سے ڈرتے کیوں نہیں اور اس کے فرمان بعث پر ایمان کیوں نہیں لاتے اور دوبارہ زندہ ہونے کا انکار کیوں کرتے ہو۔ پہلے تذکرون فرمایا پھر تتقون فرمایا معلوم ہوا تذکرہ موصل الی التقویٰ ہے۔
Ayah 23:88

قُلْ مَنْۢ بِیَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ یُجِیْرُ وَ لَا یُجَارُ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:88 in the Quran reader

آپ ان سے یہ بھی پوچھئے کہ اگر تم کو کچھ خبر ہے تو بھلا یہ تو بتائو کہ وہ کون ہے جس کے ہاتھ ہر چیز کی بادشاہی ہے اور وہ جس کو چاہے پناہ دے سکتا ہے اور اس کے مقابلہ میں کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا۔

(88) اے پیغمبر ! آپ ان سے یہ بھی پوچھئے کہ اگر تم کو کچھ خبر ہے اور تم جانتے ہو تو یہ بتائو کہ وہ کون ہے جس کے ہاتھ میں اور جس کے قبضہ میں ہر چیز کی بادشاہی ہے اور وہ ہر ایک کو پناہ دے سکتا ہے اور اس کے مقابلہ میں کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا۔ یعنی وہ کون ہے جس کے قبضہ میں ہر چیز کی بادشاہت ہے وہ ہر ایک کے مجرم کو پناہ دے سکتا ہے اور اس کی فریاد رسی کرسکتا ہے لیکن اس کے مجرم کو اس کے ہاتھ سے نہ کوئی بچا سکتا ہے نہ کوئی پناہ دے سکتا ہے نہ فریاد رس بن سکتا ہے اور نہ کوئی مدد کرسکتا ہے۔
Ayah 23:89

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ فَاَنّٰى تُسْحَرُوْنَ Open ayah 23:89 in the Quran reader

وہ ضرور یہی جواب دیں گے کہ یہ صفتیں بھی اللہ ہی کی ہیں آپ فرمائیے پھر تم کہاں سے فریب دیئے جاتے ہو

(89) وہ ضرور یہی جواب دیں گے کہ یہ سب صفتیں بھی اللہ تعالیٰ ہی کی ہیں آپ فرمائیے پھر تم کہاں سے فریب دیئے جاتے ہو اگر یہ بات ہے کہ یہ سب صفتیں اللہ تعالیٰ کی ہیں تو پھر تم کو جادو زدہ کی طرح کیوں خبط ہورہا ہے اور تم کو کہاں سے دھوکہ اور فریب دیا جاتا ہے یعنی تم کیوں توحید الٰہی اور بعث بعدالموت کے قائل نہیں ہوتے۔
Ayah 23:90

بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِالْحَقِّ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 23:90 in the Quran reader

بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ان کو ہم نے حق بات پہنچادی ہے اور وہ یقیناً جھوٹے ہیں۔

(90) بلکہ اصل یہ ہے کہ ہم نے ان کو حق بات پہنچا دی ہے اور وہ یقیناً جھوٹے ہیں۔ یعنی توحید اور مرنے کے بعد زندہ ہونے کی ٹھیک ٹھیک بات ان کو پہنچا دی ہے اور یہ اس حق کے خلاف جو کچھ کہہ رہے ہیں اس کہنے میں جھوٹے ہیں یعنی شرک اور بعث کے انکار میں جھوٹ بول رہے ہیں۔
Ayah 23:91

مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّ مَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَ لَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یَصِفُوْنَۙ Open ayah 23:91 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے نہ تو کسی کو اپنا بیٹا مقرر کیا ہے اور نہ اس کے ساتھ کوئی اور خدا ہے اگر ایسا ہوتا تو ہر خدا اپنی مخلوق کو لیکر جدا ہوجاتا اور ایک دوسرے پر غلبہ پانے کیلئے چڑھائی کردیتا جو باتیں یہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں بیان کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کی ذات ان سے پاک ہے

(91) چونکہ توحید کا مسئلہ اہم ہے اس کی مزید وضاحت فرماتے ہیں چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نہ تو کسی کو اپنی اولاد قرار دیا ہے اور نہ اس کے ساتھ کوئی اور معبود ہے اگر ایسا ہوتا تو ہر معبود اور ہر الٰہ اپنی اپنی مخلوق کو لے کر الگ ہوجاتا اور ایک دوسرے پر غلبہ پانے کے لئے چڑھائی کردیتا۔ جو باتیں یہ اللہ تعالیٰ کی نسبت بتاتے ہیں اللہ تعالیٰ کی ذات ان باتوں سے پاک اور بری ہے یعنی نہ تو اس کی کوئی اولاد ہے جیسا کہ نصاریٰ کہتے ہیں یا عرب کے جاہل کہتے ہیں نہ اس کے ساتھ کوئی دوسرا خدا ہے اگر کوئی اور خدا بھی ہوتا تو اس کا قوی امکان تھا کہ وہ اپنی اپنی بنائی ہوئی اور پیدا کی ہوئی مخلوق کو لیکر علیحدہ ہوجاتا اور اس کا بھی امکان تھا کہ ایک دوسرے پر غلبہ حاصل کرنے کی غرض سے چڑھائی کردیتا اور سارا عالم خدائوں کی لڑائی میں تباہ ہوجاتا۔ جیسا کہ دنیا کے بادشاہوں کی لڑائی میں ہوتا ہے اور جب آج تک ایسا نہیں ہوا تو معلوم ہوگیا کہ جو باتیں یہ مشرک اس کی شان میں کہتے ہیں وہ ان سب باتوں سے پاک اور منزہ ہے۔
Ayah 23:92

عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَتَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 23:92 in the Quran reader

وہ ہر چھپے اور کھلے کا جاننے والا ہے بہرحال ! وہ ان لوگوں کے شرک سے بالاتر ہے

(92) وہ ہر چھپی اور کھلی اور ہر پوشیدہ و آشکارا کا جاننے والا ہے۔ غرض وہ ان لوگوں کے شرک سے بہت بلند اور بالا تر ہے۔ یعنی جو لوگ شرک خفی کرتے ہیں جیسے ریا اس کو بھی جانتا ہے اور جو شرک جلی اور بت پرستی میں مبتلا ہیں اس کو بھی جانتا ہے بہرحال ! جس کو یہ لوگ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں خواہ وہ اصنام ہوں یا کوئی انسان ہو وہ ان سب سے بالاتر ہے۔
Ayah 23:93

قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَنِّیْ مَا یُوْعَدُوْنَۙ Open ayah 23:93 in the Quran reader

آپ دعا کیجئے کہ اے میرے رب جس عذاب کا ان کافروں سے وعدہ کیا جارہا ہے

(93) ان صاف صاف دلائل کو سن کر بھی جب یہ کفار عرب دین حق کی طرف مائل نہیں ہوتے تو یہ عذاب دنیوی یا اخروی میں ضرور مبتلا ہوں گے اس لئے اس عذاب سے محفوظ رہنے کے لئے اپنے پیغمبر کو دعا تعلیم فرمائی چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ اے پیغمبر آپ یوں دعا کیجئے اے میرے پروردگار جس عذاب کا ان کافروں سے وعدہ کیا جارہا ہے اگر تو وہ مجھ کو دکھائے یعنی میری زندگی میں اگر وہ عذاب ان پر آجائے۔
Ayah 23:94

رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِیْ فِی الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:94 in the Quran reader

اگر وہ تو مجھے دکھائے تو اے میرے رب مجھے ان ظالموں میں شامل نہ کیجئو

(94) تو اے میرے پروردگار ! مجھے ان مشرکوں اور ظالموں میں شامل نہ کیجئو یعنی مجھے اس عذاب سے محفوظ رکھیو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی دنیا کی آفت میں شامل نہ کریو۔
Ayah 23:95

وَ اِنَّا عَلٰۤى اَنْ نُّرِیَكَ مَا نَعِدُهُمْ لَقٰدِرُوْنَ Open ayah 23:95 in the Quran reader

اور ہم اس بات پر قادر ہیں کہ جس عذاب کا ان سے وعدہ کررہے ہیں وہ آپ کو دکھا دیں

(95) اور ہم اس بات پر پوری طرح قادر ہیں کہ جس عذاب کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے وہ آپ کو دکھادیں یعنی یہ ہوسکتا ہے کہ وہ عذاب جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے وہ آپ کی زندگی میں ان پر آجائے اور آپ بھی ان کو مبتلائے عذاب دیکھ لیں۔ آگے کفار سے برتائو کا ذکر فرمایا۔
Ayah 23:96

اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَةَ١ؕ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ Open ayah 23:96 in the Quran reader

اے پیغمبر آپ ان کی برائی کو ایسے برتائو سے دفع کیا کیجئے جو نہایت ہی اچھا ہو۔ ہم ان باتوں سے خوب واقف ہیں جو یہ آپ کی نسبت کہا کرتے ہیں

(96) اے پیغمبر ! آپ ان کفار کی برائی کو ایسے برتائو اور ایسے طریقے سے دفع کیا کیجئے جو نہایت ہی اچھا ہو ہم ان باتوں سے خوب واقف ہیں اور ان باتوں کو خوب جانتے ہیں جو یہ آپ کی نسبت بیان کرتے رہتے ہیں یعنی بدی کا دفعیہ اچھے اور نرم برتائو سے کیجئے اور انتقام اور بدلہ لینے کی کوشش نہ کیجئے کیونکہ ان سب باتوں کو ہم جانتے ہیں جو یہ لوگ آپ کے متعلق کہتے رہتے ہیں اور ہم خود بدلہ لینے کو کافی ہیں اور اگر کسی وقت شیطان آپ کو ابھارے تو آپ یوں دعا کیا کیجئے۔
Ayah 23:97

وَ قُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِۙ Open ayah 23:97 in the Quran reader

اور آپ یوں دعا کیجئے کہ اے میرے رب میں شیاطین کے اثرات یعنی وسوسوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔

(97) اور اے میرے پروردگار میں شیاطین کے اثرات اور ان کی چھیڑ سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
Ayah 23:98

وَ اَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ Open ayah 23:98 in the Quran reader

اور اے میرے رب اس بات سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ شیاطین میرے پاس آئیں۔

(98) اور میرے پروردگار اس بات سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ شیاطین میرے پاس آویں۔ یعنی کسی وقت کوئی ایسی بات ہو کہ آپ کو غصہ آجائے تو یہ بھی ایک شیطانی اثر ہے تو ایسے وقت پروردگار سے پناہ مانگ لیا کیجئے اور اس سے بھی پناہ مانگئے کہ شیطان آپ کے پاس آئیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں چھیڑ شیطان کی ہے کہ دین کے سوال و جواب میں غصہ چڑھے اور لڑائی ہو پڑے اسی پر فرمایا کہ برے کا جواب دے اس سے بہتر۔ 12۔ خلاصہ ! یہ کہ شیطان کا نبی کریم ﷺ پر کوئی ایسا دخل نہیں جو کسی خلاف شریعت کام پر ابھارسکے اندیشہ اس کا ہے کہ خلاف مصلحت کسی کام پر نہ آمادہ کرے یا یہ کہ خطاب آپ کو ہے اور مراد عام لوگ ہیں۔ بہرحال ! نبی کریم ﷺ کو شیطان سے محفوظ اور معصوم رکھا گیا ہے۔ پناہ مانگنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ ہر قسم کے اثر سے محفوظ رکھا جائے۔
Ayah 23:99

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِۙ Open ayah 23:99 in the Quran reader

یہاں تک کہ ان کافروں میں سے جب کسی کو موت آپہنچتی ہے تو اس وقت کہتا ہے اے میرے رب مجھ کو واپس لوٹا دے

(99) یہ معاندین و منکرین اپنے انکار سے باز نہیں آتے یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آپہنچتی ہے تو اس وقت کہتا ہے اے میرے پروردگار مجھ کو واپس لوٹادے۔
Ayah 23:100

لَعَلِّیْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِیْمَا تَرَكْتُ كَلَّا١ؕ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآئِلُهَا١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 23:100 in the Quran reader

تاکہ دنیا جسے میں چھوڑآیا ہوں اس میں نیک عمل کروں۔ کہا جاتا ہے ہرگز نہیں یہ محض ایک بات ہے جس کو وہ کہہ رہا ہے اور ان کے آگے ایک آڑ یعنی عالم برزخ ہے اس وقت تک کے لئے جس دن لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے

(100) تاکہ دنیا جس کو میں چھوڑ آیا ہوں اس میں واپس جاکر میں نیک عمل کروں۔ کہا جاتا ہے ہرگز نہیں یعنی ایسا نہیں ہوگا یہ محض اس کی ایک بات ہے جس کو وہ کہہ رہا ہے اور ان کے آگے ایک آڑ اور پردہ ہے یعنی عالم برزخ میں اس دن تک کے لئے جس دن لوگ دوبارہ زندہ کرکے اٹھائے جائیں گے۔ یعنی جب مرتے وقت ملک الموت اور اس کے اعوان و ہمراہی فرشتوں کو دیکھتا ہے تو اپنی غلطی کا احساس کرتا ہے اور ندامت سے کہتا ہے کہ اے پروردگار مجھ کو واپس لوٹا دیجئے یہ بات اصل میں تو ملک الموت اور اس کے اعوان سے کہتا ہے اور پروردگار کا نام بطور مدد کے لیتا ہے۔ یا خطاب پروردگار ہی کو کرتا ہے اور بطور ادب و احترام جمع کا لفظ استعمال کرتا ہے اور یہ لوٹانے کی درخواست اس لئے کرتا ہے تاکہ یمان لائوں اور ایمان پر جو نیک عمل مرتب ہوتے ہیں وہ بجالائوں اس وقت جواب ملتا ہے کہ واپس نہیں ہوسکتا یہ ایک بات ہے جس کو یہ کہہ رہا ہے یعنی موت کے آجانے کی وجہ سے لامحالہ یہ اس کو کہنا ہی ہے اور واپسی کی درخواست کرنی ہی ہے لیکن ایسا ہوگا نہیں اور ان کے آگے یا پیچھے ایک آڑ اور پردہ ہے جس کے باعث یہ واپس نہیں آسکتے جس دن تک لوگ دوباروہ اٹھائے جائیں یعنی قیامت تک۔ موت سے لے کر قیامت تک کے درمیانی حصہ کو عالم برزخ کہا جاتا ہے۔ مفسرین کے اس آیت کی تفسیر میں بھی چند اقوال ہیں مگر ہم نے راجح قول کو اختیار کرلیا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں معلوم ہوا یہ جو لوگ کہتے ہیں آدمی مرکر پھر آتا ہے سب غلط ہے قیامت کو اٹھیں گے اس سے پہلے ہرگز نہیں۔ 12۔ یہ تو مرتے وقت کا بیان تھا اب آگے قیامت کا مختصراً ذکر ہے۔
Ayah 23:101

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَلَاۤ اَنْسَابَ بَیْنَهُمْ یَوْمَئِذٍ وَّ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 23:101 in the Quran reader

پھر جس وقت صور پھونکا جائے گا تو اس دن لوگوں کے مابین نہ رشتے ناتے کا کوئی اثر باقی رہے گا اور نہ آپس میں کوئی کسی کو پوچھے گا

(101) پھر جس وقت صور پھونکا جائے گا اور صور میں پھونک ماری جائے گی تو اس دن لوگوں کے مابین نہ رشتے ناتے کا کوئی اثر باقی رہے گا اور نہ آپس میں کسی کو کوئی پوچھے گا یعنی ایسی افراتفری ہوگی کہ رشتے ناتے ایسے ہوجائیں گے جیسے کبھی تھے ہی نہیں وہاں مارے ہیبت کے ایک دوسرے سے بات ہی نہ کرسکے گا یہ شاید نفخہ ثانیہ کی طرف اشارہ ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) نے خوب فرمایا یعنی باپ بیٹا ایک دوسرے کے شامل نہیں ہر ایک سے اس کے عمل کا حساب ہے۔ 12۔ محمد بن علی (رح) نے فرمایا کہ تمام انساب منقطع ہوجائیں گے مگر ایک پروردگار کی عبودیت اور بندگی کی نسبت قائم رہے گی۔
Ayah 23:102

فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 23:102 in the Quran reader

پھر جن کا پلہ بھاری رہا تو وہی ہیں جو کامیاب ہوئے

(102) پھر جن کا پلہ بھاری رہا تو وہی لوگ ہیں جو کامیاب ہوئے یعنی ایمان اور اعمال نیک کا وزن بڑھ گیا تو یہ لوگ اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے۔
Ayah 23:103

وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فِیْ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 23:103 in the Quran reader

اور جن کا پلہ ہلکا پڑا تو وہی ہیں جنھوں نے اپنے کو خسارے میں ڈالا یہ لوگ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے

(103) اور جن کا پلہ ہلکا رہا تو وہی ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو خسارے اور نقصان میں ڈالا یہ لوگ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے یعنی ایمان اور نیک اعمال کا پلہ ہلکا ہوگیا اور سیات کا وزن بڑھ گیا تو ان لوگوں نے اپنے کو نقصان میں ڈال دیا یعنی منکرین۔
Ayah 23:104

تَلْفَحُ وُجُوْهَهُمُ النَّارُ وَ هُمْ فِیْهَا كٰلِحُوْنَ Open ayah 23:104 in the Quran reader

جہنم کی آگ ان کے چہروں کو جھلستی ہوگی اور اس میں ان کی شکلیں بگڑ جائیں گی

(104) جہنم کی آگ ان کے چہروں کو جھلستی ہوگی اور اس آگ میں ان کی شکلیں بگڑی ہوئی ہوں گی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جلتے جلتے بدن سوج جائیں گے نیچے کا ہونٹ ناف تک اور اوپر کا کھوپری تک اور زبان گھسٹتی زمین پر لوگ اس کو روندیں گے۔ 12
Ayah 23:105

اَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 23:105 in the Quran reader

ان سے پوچھا جائے گا کیوں کیا تم کو میری آیتیں پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں اور تم ان کی تکذیب نہیں کیا کرتے تھے

(105) کیا تم کو میری آیتیں پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں اور تم ان کی تکذیب نہیں کیا کرتے تھے۔ یعنی تم کو قرآن کریم سنایا جاتا تھا اور تم اس کی تکذیب کیا کرتے تھے اور جھوٹا بتاتے تھے۔
Ayah 23:106

قَالُوْا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا وَ كُنَّا قَوْمًا ضَآلِّیْنَ Open ayah 23:106 in the Quran reader

وہ کہیں گے اے ہمارے رب ہماری بدبختی ہم پر غالب آگئی تھی اور ہم گمراہ لوگ تھے

(106) وہ کہیں گے اے پروردگار ! ہماری بدبختی ہم پر غالب آگئی تھی اور ہم گمراہ لوگ تھے۔ یعنی عذاب کے بعد اعتراف کریں گے اور اپنی گمراہی اور بدبختی کا اقرار کریں گے۔
Ayah 23:107

رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْهَا فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوْنَ Open ayah 23:107 in the Quran reader

اے ہمارے رب ہم کو اس جہنم کی آگ سے نکال لے اگر آئندہ ہم پھر ایسا کریں تو بیشک ہم گنہگار ہیں

(107) اے ہمارے پروردگار ہم کو اس جہنم کی آگ سے نکال لے اگر آئندہ ہم پھر ایسا کریں تو بیشک ہم گنہگار ہوں گے یعنی اس آگ سے ہم کو نکال دے اگر آئندہ ہم پھر ایسا کریں تو بیشک ظالم اور ناانصاف ہوں گے اور سزا کے مستحق ہوں گے۔
Ayah 23:108

قَالَ اخْسَئُوْا فِیْهَا وَ لَا تُكَلِّمُوْنِ Open ayah 23:108 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ فرمائے گا اسی جہنم میں ذلیل اور پھٹکارے ہوئے پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو

(108) اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا اسی آگ میں ذلیل اور پھٹکارے ہوئے پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو یعنی ہزاروں برس کے بعد یہ جواب دیا جائے گا۔
Ayah 23:109

اِنَّهٗ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْ عِبَادِیْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ Open ayah 23:109 in the Quran reader

کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ میرے بندوں میں سے ایک فرقہ تھا جو مجھ سے یوں عرض کیا کرتا تھا کہ اے ہمارے پروردگار ہم ایمان لے آئے سو تو ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم کر اور تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے

(109) کیا یہ واقعہ نہیں کہ میرے بندوں میں سے ایک فریق اور ایک جماعت تھی جس کے لوگ مجھ سے یوں کہا کرتے تھے اے ہمارے پروردگار ہم ایمان لے آئے سو تو ہم کو بخش دے اور ہماری مغفرت فرمادے اور ہم پر رحم کر اور تو سب رحم کرنے والوں سے بہتر رحم کرنے والا ہے یعنی ایک فریق غریب مسلمانوں کا بھی تھا جو ایمان کا اعلان کرتا تھا اور ہم سے بخشش اور رحم کی درخواست کیا کرتا تھا تم ایسے نیک اور شریف لوگوں کے ساتھ کیا سلوک کیا کرتے تھے۔
Ayah 23:110

فَاتَّخَذْتُمُوْهُمْ سِخْرِیًّا حَتّٰۤى اَنْسَوْكُمْ ذِكْرِیْ وَ كُنْتُمْ مِّنْهُمْ تَضْحَكُوْنَ Open ayah 23:110 in the Quran reader

مگر تم نے ان بندوں کا مذاق بنایا یہاں تک کہ تمہارے اس مذاق کے مشغلہ نے تم کو میری یاد ہی بھلا دی اور تم ان کی ہنسی اڑاتے رہے

(110) سو تم ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے اور تم نے ان کا مذاق بنایا یہاں تک کہ اس مذاق کے مشغلے نے تم کو میری یاد ہی بھلا دی اور تم ان کی ہنسی اڑایا کرتے تھے۔ یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین یا خاص طور پر اصحاب صفہ مراد ہیں کہ یہ کافر ان کا مذاق بناتے اور ان کی ہنسی اڑایا کرتے تھے یہاں تک کہ اس شغل نے تم کو میری یاد بھلا دی اور آج تم اس عذاب میں مبتلا ہوئے۔
Ayah 23:111

اِنِّیْ جَزَیْتُهُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْۤا١ۙ اَنَّهُمْ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 23:111 in the Quran reader

آج ہم نے اپنے بندوں کو ان کے صبر کا یہ صلہ دیا کہ وہی اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے

(111) آج کے دن ہم نے اپنے ان بندوں کو اس صبر کا جو انہوں نے تمہاری یذا پر کیا تھا یہ صلا دیا کہ وہی ہیں اپنے مقصد میں کامیاب ہونے والے یعنی تم تو عذاب میں مبتلا ہو اور وہ اپنے صبر کا پھل بھی پاچکے جو تمہاری تکالیف پر وہ کیا کرتے تھے۔
Ayah 23:112

قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ Open ayah 23:112 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ فرمائے گا بھلا تم برسوں کی گنتی سے زمین پر کتنے عرصہ رہے ہوگے۔

(112) اللہ تعالیٰ فرمائے گا بھلا تو زمین پر برسوں کی گنتی سے کتنے عرصے رہے ہوگے یعنی زمین میں تمہارے رہنے کی مدت کیا ہوگی اس کا جواب بھلا گھبراہٹ اور پریشانی میں کیا بنتا گھبرا کر کہیں گے۔
Ayah 23:113

قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ فَسْئَلِ الْعَآدِّیْنَ Open ayah 23:113 in the Quran reader

وہ کہیں گے ہم بہت رہے ہوں گے تو ایک دن ایک دن سے بھی کم رہے ہوں گے آپ شمار کرنے والوں سے پوچھ لیجئے

(113) ہم بہت رہے ہوں گے تو ایک دن سے بھی کم رہے ہوں گے آپ شمار کرنے والوں سے دریافت کرلیجئے حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی فرشتوں سے جنہوں نے نیکی بدی گن رکھی ہے یہ بھی گنا ہوگا زمین میں رہنا یعنی قبر میں رہنا یا دنیا کی عمر یہ بھی وہاں تھوڑی نظر آوے گی۔ یہ پوچھنا اس واسطے کہ دنیا میں عذاب کی شتابی کرتے تھے اب جانا کہ شتاب ہی آیا۔ 12 یہ دریافت شاید فرشتوں کے واسطے سے ہو یا براہ راست حضرت حق سوال فرمائیں گے۔ دنیا کا رہنا پوچھا جائے یا قبر کا رہنا یا دونوں کی مدت دریافت کی جائے گی۔ (واللہ اعلم)
Ayah 23:114

قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا لَّوْ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:114 in the Quran reader

ارشاد ہوگا تم زمین پر تھوڑی ہی مدت رہے ہو کیا خوب ہوتا اگر تم اس کو جانتے

(114) ارشاد ہوگا تم زمین پر تھوڑی ہی مدت رہے ہو کیا خوب ہوتا اگر تم بھی اس کو جانتے۔ یعنی صحیح مدت معلوم ہو یا نہ ہو مگر اتنا تو جانتے ہو کہ بہت تھوڑے دن رہے ہو اگر اس کو زندگی میں سمجھ لیتے اور دنیا کی فنا اور آخرت کی بقا سمجھ کر ایمان لے آتے تو آج کو یہ دن دیکھنا نہ پڑتا اور عذاب میں مبتلا نہ ہوتے۔ آگے اور اسی کافرانہ روش پر تنبیہ ہے۔
Ayah 23:115

اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 23:115 in the Quran reader

کیا تم نے یہ خیال کرلیا ہے کہ ہم نے تم کو بےفائدہ پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف واپس نہیں لوٹائے جائوگے

(115) کیا تم لوگوں نے یہ خیال کرلیا ہے کہ ہم نے تم کو مہمل اور بےفائدہ اور کھیلنے کو پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف واپس نہیں لوٹائے جائوگے۔ اور واپس نہیں کئے جائوگے یعنی تمہارا پیدا کرنا حکمت سے خالی ہے۔ عبثا کے دو مطلب ہوسکتے ہیں یعنی تمہارا پیدا کرنا یہ ہم نے کوئی عبث اور محض بیکار کام کیا ہے۔ معاذ اللہ یا تم کو کھیل تماشے کے لئے پیدا کیا ہے ہم نے تو تم کو اس دارلتکلیف میں تکلیف کے لئے پیدا کیا ہے پھر دارالتکلیف سے دارالجزا کی طرف واپسی لازمی ہے جہاں محسن کو ثواب دیا جائے گا اور مجرم پر عتاب ہوگا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی دنیا میں تو نیکی اور بدی کا اثر نہیں ملتا اگر دوسرا دن نہ ہو بدلے کا تو یہ سب کھیل تھا۔ 12
Ayah 23:116

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِیْمِ Open ayah 23:116 in the Quran reader

سو اللہ تعالیٰ جو بادشاہ حقیقی ہے بہت بلندو بالاتر ہے اس کے سوا کوئی بھی عبادت کے لائق نہیں وہی عرش کریم کا مالک ہے

(116) سو اللہ تعالیٰ جو بادشاہ حقیقی ہے بہت بلند وبالا تر ہے اس کے سوا کوئی بھی عبادت کے لائق نہیں وہی عرش کریم یعنی بڑے تخت کا مالک ہے کریم فرمایا عرش کو یا تو اس لئے کہ وہاں سے مخلوق پر رحمت نازل ہوتی ہے یا اس لئے کہ اکرم الاکرمین کا تخت ہے۔ بعض نے کریم کو رفع کے ساتھ پڑھا ہے اس تقدیر پر کریم رب کی صفت ہوگی مگر یہ قرات شاذ ہے۔ (واللہ اعلم)
Ayah 23:117

وَ مَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۙ لَا بُرْهَانَ لَهٗ بِهٖ١ۙ فَاِنَّمَا حِسَابُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 23:117 in the Quran reader

اور جو شخص اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کی بھی عبادت کرے کہ جس کی عبادت پر اس کے پاس کوئی دلیل نہیں تو بس اس کا حساب اس کے رب کے ہاں ہی ہوگا۔ یقین جانو ! کافروں کو فلاح نصیب نہیں ہوگی

(117) اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور معبود کو پکارے اور اس کی عبادت کرے کہ جس کی عبادت کے لئے اس کے پاس کوئی دلیل اور سند نہیں تو بس اس کا حساب اس کے پروردگار ہی کے ہاں ہوگا بلاشبہ کافروں کو فلاح نصیب نہ ہوگی۔ یعنی باوجود دلیل نہ ہونے کے پھر بھی کسی کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ پکارے گا اور عبادت کرے گا تو ایسے نالائق کا حساب پروردگار کے پاس ہے جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ ایسے منکروں کو کامیابی اور فلاح میسر نہیں ہوگی۔
Ayah 23:118

وَ قُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَ ارْحَمْ وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ۠ Open ayah 23:118 in the Quran reader

اور اے پیغمبر آپ یوں کہا کیجئے اے میرے رب میری کوتاہیوں کو معاف کر اور میرے حال پر رحم کر اور تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے

(118) اور آپ یوں دعا کیجئے اے میرے پروردگار میری کوتاہیوں کو معاف فرما اور بخش دے اور میرے حال پر رحم فرما اور تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔ یہ دعا مسلمانوں کو تعلیم فرمائی اور نبی کریم ﷺ کو خطاب فرمایا یعنی آپ کے واسطہ سے امت کو تعلیم دی گئی۔ شروع سورت میں فرمایا تھا قد افلح المؤمنون آخر سورت میں فرمایا انہ لایفلح الکفرون۔ تم سورة المؤمنون