Ayah 23:41(41) لہٰذا ہمارے وعدئہ برحق کے مطابق ان کو ایک سخت ہولناک آواز نے آپکڑا پھر ہم نے ان کو خشک اور سوکھا ہوا کوڑا بنادیا پس ظالم لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ سے دوری ہو اور کافروں پر خدا کی مار ہو یعنی پیغمبر سے جو وعدہ ہم نے کیا تھا اس کے مطابق ان پر چیخ کا عذاب آیا ی صیحہ مطلقاً کوئی عذاب ہوکر کہیں ہوا ہو کہیں چیخ ہو کہیں زلزلہ ہو۔ بعض حضرات مفسرین نے قوم عاد مراد لیا ہے۔ اور بعض نے اس قصہ سے ثمود مراد لیا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے یہ قصہ ہے ثمود کا کہ چنگھاڑ سے وہی مرے ہیں۔ 12
Ayah 23:42(42) پھر ان کے بعد ہم نے اور بہت سی قومیں اور جماعتیں پیدا کیں یعنی عاد وثمود کی ہلاکت کے بعد اور قومیں پیدا ہوتی رہیں۔
Ayah 23:43(43) کوئی گروہ اور کوئی جماعت اپنے وقت مقررہ سے نہ آگے بڑھ سکی اور نہ وہ لوگ اس سے پیچھے رہ سکے یعنی جس نافرمان قوم کی ہلاکت کا جو وقت اور میعاد مقرر تھی اس میعاد سے نہ کوئی قوم پیش قدمی کرسکی اور نہ اس میعاد سے پیچھے رہ سکی۔
Ayah 23:44(44) پھر ہم پے در پے آگے پیچھے اپنے رسول بھیجتے رہے جب کسی قوم اور امت کے پاس اس کا رسول آیا تو وہ امت اس رسول کی تکذیب کرتی رہی اور اس کو جھٹلاتی رہی پھر ہم بھی ایک قوم کے بعد دوسری قوم کو ہلاک کرتے رہے اور ہم نے ان ہلاک شدگان کو گزرے ہوئے افسانے کردیا اور قصہ ان نئی قوموں کے پاس اپنے رسول بھیجتے رہے اور ہر امت نے یہ شیوہ اختیار کیا کہ جب کوئی رسول ان کے پاس آیا تو عام لوگوں نے اس کو جھوٹا بتایا تو ہم بھی ایک امت کے بعد دوسری اس کی پیش رو امت کے ساتھ لگاتے رہے یعنی یکے بعد دیگرے ہلاک کرتے رے اور ان کو ماضی کی کہانیاں اور قصہ ہائے پارینہ بناتے رہے کہ آنے والوں کی زبان پر ان کی کہانیا رہ گئیں اور ان کا نام و نشان نہ رہا۔ پس ایسے لوگ جنہوں نے پیغمبروں کے سمجھانے اور بتانے کے باوجود نہ مانا اور ایمان نہ لائے وہ خدا کی رحمت سے دور ہوں اور ایسے بےایمانوں پر خدا کی مار ہو۔
Ayah 23:45(45) پھر ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں اور احکام اور کھلی دلیل اور واضح سند دیکر۔
Ayah 23:46(46) فرعون اور اس کے درباری اور مشیران خاص کی طرف بھیجا سو انہوں نے متکبرانہ برتائو کا اظہار کیا اور تکبر کرنے لگے اور وہ لوگ تھے ہی بڑے متکبر اور سرکش یعنی لگاتار انبیاء کے آنے کے بعد پھر ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی ہارون (علیہما السلام) کو فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس اپنے احکام یا نونشانیاں اور حجت واضحہ اور براہین قاطعہ دیکر بھیجا لیکن ان بدبختوں نے متکبرانہ برتائو کیا اور ان دونوں کو تحقیر آمیز جواب دیا اور یہ لوگ بڑے زور پر چڑھ رہے تھے اور یہ لوگ تھے ہی سرکش و متکبر۔
Ayah 23:47(47) لہٰذا ! وہ آپس میں کہنے لگے کیا ہم ایسے دو 2 شخصوں پر ایمان لے آئیں جو ہم ہی جیسے آدمی ہیں حالانکہ ان کی قوم کے لوگ ہمارے ماتحت اور خدمت گزارو تابعدار ہیں یعنی آپس میں بطور مشورہ یہ گفتگو کرنے لگے کہ کیا ہم ایسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں اور ان کی بات ماننے لگیں جو ہم ہی جیسے آدمی ہیں اور ان دونوں کی قوم یعنی بنی اسرائیل تو ہماری رعایا اور ہمارے غلام اور خدمت گزار ہیں۔
Ayah 23:48(48) غرض ! وہ فرعون اور فرعونی ان دونوں موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کی تکذیب کرتے رہے اور آخرکار ہلاک شدگان میں داخل کردیئے گئے یعنی انہوں نے تکذیب کا شیوہ اختیار کیا اور بالآخر دریائے شور میں غرق کئے گئے اور ہلاک شدگان میں سے ہوگئے۔
Ayah 23:49(49) اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب یعنی تورات عطا فرمائی تاکہ وہ لوگ راہ پائیں یعنی فرعونیوں کے ہلاک ہونے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بنی اسرائیل کی ہدایت اور تربیت کیلئے تورات بھی عطا فرمائی تاکہ وہ صحیح راہ پاکر منزل مقصود تک پہنچ جائیں۔
Ayah 23:50(50) اور ہم نے ابن مریم یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اور ان کی ماں کو ایک بڑی نشانی بنایا اور ہم نے ان دونوں ماں بیٹوں کو ایک ایسی اونچی زمین اور ٹیلے پر جگہ دی جو قیام کے اور ٹھہرنے کے قابل تھی اور اس پر پانی جاری تھا بڑی نشانی یہ کہ بن باپ کے بچہ پیدا ہونا اور عالم طفولیت میں اس کا کلام کرنا ماں بھی ایک علامت قدرت الٰہی کی اور بچہ اس کی قدرت کی ایک نشانی اور اونچی جگہ فرمایا۔ شاید اس ٹیلے کو جہاں کھجور کا درخت ہرا ہوا تھا اور ٹیلے کے نیچے نہر یا چشمہ جاری تھا جیسا کہ سورة مریم میں گزر چکا ہے۔
کہتے ہیں یہود اور ان کا بادشاہ ہیر دوس ان ماں بیٹوں کے سخت دشمن تھے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو لیکر ان کی ماں دشمنوں کے خوف سے ایلیا یا مصر چلی گئی تھیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے وہیں پرورش پائی جب ہیر دوس مرگیا تو بچے کے ہمراہ وطن میں واپس آگئیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جب سے پیدا ہوئے اس وقت کے بادشاہ نے نجومیوں سے سنا کہ بنی اسرائیل کا بادشاہ پیدا ہوا وہ دشمن ہو ان کی تلاش میں پڑا ان (علیہ السلام) کو بشارت ہوئی کہ اس کے ملک سے نکل جائو نکل کر مصر کے ملک میں گئے ایک گائوں کے زمیندار نے حضرت مریم کو اپنی بیٹی کر رکھا۔ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جوان ہوئے تو اس وطن کا بادشاہ مرچکا تب پھر آئے اپنے وطن کو وہ گائوں تھا ٹیلے پر اور پانی وہاں کا خوب تھا۔ 12
آج کل کے بعض مدعیان نبوت نے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی قیام گاہ کو کشمیر میں بتایا ہے اور ربوہ کی تفسیر سری نگر سے کی ہے اور یوز آسف کی ایک مصنوعی قبر کو حضرت مسیح (علیہ السلام) کی قبر بتایا ہے یہ سب باتیں لایعنی اور بےثبوت ہیں۔ اور ان کے محققین نے بیشمار جواب دیئے ہیں۔
Ayah 23:51(51) اے پیغمبرو ! تم پاکیزہ اور نفیس چیزیں کھائو اور نیک اور بھلے کام کرو بلاشبہ تم جو کچھ کرتے ہو میں اس کو خوب جانتا ہوں یہ خطاب تمام رسولوں سے ہے۔ ہر رسول کے زمانے میں اس رسول کو ایسا فرمایا ہوگا یہ خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے چونکہ آپ تمام رسولوں کی صفات کا مجموعہ اور خلاصہ ہیں اس لئے آپ کو خطاب فرمانا ایسا ہی ہے جیسے تمام نبیوں کو خطاب کیا اس خطاب میں رسولوں کی امتیں بھی شامل ہیں اور عمدہ نفیس جو مرغوب الطبع ہوں اور حلال ہوں وہ سب کو کھانی مباح ہیں ان نعمتوں کو کھائو اور عبادت کرو یعنی میری نعمتوں کا شکر بجالائو تم جو کام کرتے ہو میں اس کو خوب جانتا ہوں یعنی تمہارے نیک کام مجھ سے پوشیدہ نہیں ہیں اور میں ہی ان کا صلہ تم کو دوں گا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی سب رسولوں کے دین میں یہی حکم آیا ہے کہ حلال کھانا حلال راہ سے کماکر اور نیک کام کرنا نیک کام سب لوگ جانتے ہیں۔
Ayah 23:52(52) اور یقیناً یہ ہے تمہارا طریقہ کہ وہ ایک ہی دین اور ایک ہی طریقہ ہے اور میں تمہارا پروردگار و ہوں پس تم مجھ سے ڈرتے رہو یعنی رسولوں سے یہ بھی فرمایا کہ باعتبار اصول دین کے تم سب کا دین اور ملت اور طریقہ ایک ہی ہے تم سب کا مالک اور منعم حقیقی ایک میں ہی ہوں سو مجھ سے ڈرتے رہا کرو اور میرے احکام کی مخالفت اور میرے احکام کی تعمیل میں سستی نہ کرو۔
Ayah 23:53(53) دین کی وحدت اور اپنی ربوبیت اور تقوے کا اظہار کرنے کے بعد اشاد ہوتا ہے پھر لوگوں نے پھوٹ ڈال کر اپنا دین آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کرلیا اب ہر فرقہ کے لوگوں کے پاس جو دین ہے وہ اسی پر خوش اور مگن ہورہے ہیں یعنی چاہئے تو یہ تھا کہ سب لوگ ایک ہی دین پر قائم رہتے اور پیغمبروں کے زمانے میں جو وقتی طور پر فروعی مسائل میں کچھ اختلافات ضرورت کے اعتبار سے ہوتے ہیں ان سے متاثر نہ ہوتے اور اصول میں سب ایک رہتے لیکن ہوا یہ کہ لوگوں نے دین کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے آپس میں بانٹ لئے اور اب ہر فرقہ اپنی شریعت الگ بنائے بیٹھا ہے اور اسی پر مگن ہورہا ہے اور سمجھ رہا ہے کہ بس حق میرے ہی پاس ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ہر پیغمبر کے ہاتھ اللہ نے جو اس وقت کے لوگوں میں بگاڑ تھا سنوار فرمایا ہے پیچھے لوگوں نے جانا ان کا حکم جدا جدا ہے آخر پیغمبر کے ہاتھ سب بگاڑ کا سنوارا کھٹا بتادیا اب سبمل کر ایک دین ہوگیا۔ 12
یعنی لوگوں کی خرابی کو دور کرنے کی غرض سے جو ہر پیغمبر کو اصلاحی باتیں بتائی گئی تھیں وہ محض وقتی تھیں اور ان لوگوں کے لئے خاص تھیں جن کی برائی اور خرابی کو دور کرنے کی غرض سے اس پیغمبر کو بھیجا گیا تھا وہ کوئی مستقل دین نہ تھا۔ لوگ اپنی نادانی اور خوش فہمی سے یہ سمجھ گئے کہ ہو پیغمبر کا دین جدا جدا ہے پھر انہوں نے باہم ٹکڑے ٹکڑے کرکے پیغمبروں کی تعلیم کو باہم تقسیم کرلیا۔ اللہ تعالیٰ نے نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کو ایک مستقل قانون دے کر بھیجا تاکہ قیامت تک وہ قانون کام دے۔ دین کی اصل تو ایک ہی تھی فروعی مسائل کے لئے بھی دین کی تکمیل کردی گئی اور اب سب کا ایک ہی دین ہوگیا لیکن لوگ اتنی صاف بات کو بھی نہیں سجھتے اور ہر فرقہ اپنے حصہ پر ریجھ رہا ہے اور اپنی جہالت اور حماقت سے اسی کو دین سمجھ رہا ہے جو اس کے پاس ہے تو آگے اس کا مداوا فرمایا۔
Ayah 23:54(54) پس اے پیغمبر آپ ان لوگوں کو ان کی غفلت میں ایک وقت خاص تک چھوڑ دیجئے اور پڑا رہنے دیجئے غمرہ اصل میں اس ڈبائو پانی کو کہتے ہیں جو گلے گلے تک آجائے اور انسان کو بچنے کی توقع نہ رہے یہاں ان کی جہالت اور غفلت کو اس ڈبائو پانی سے تشبیہ دی گئی ہے گویا غفلت و جہالت نے ان کے ہوش ہو حواس ڈوبتے ہوئے آدمی کی طرح کھو رکھے ہیں لہٰذا آپ ان کو نظرانداز کیجئے اور اپنے قلب کو بلاوجہ ان کی فکر میں مبتلا نہ کیجئے۔ ایک وقت خاص فرمایا موت کے وقت کو یا قتل کے وقت کو یا عذاب آنے تک۔
اس آیت میں کفار کو تنبیہہ اور نبی کریم ﷺ کو تسلی ظاہر کی گئی ہے چونکہ کفار اپنے عیش و تنعم اور کثرت اموال و اولاد اور عذاب کی تاخیر کو اپنی حقانیت کی دلیل سمجھتے تھے آگے اس کا جواب فرمایا۔
Ayah 23:55(55) کیا یہ لوگ یہ خیال کرتے اور یوں سمجھتے ہیں کہ ہم جو ان کو مال اور اولاد دیئے چلے جاتے ہیں۔
Ayah 23:56(56) تو اس کا یہ مطلب ہے کہ ہم ان کو بھلائیاں اور فائدے پہنچانے میں جلدی کررہے ہیں اور ان کو دوڑ دوڑ کر بھلائیاں پہنچا رہے ہیں نہیں یہ بات نہیں ہے بلکہ یہ لوگ اس استدراج کی مصلحت کو نہیں سمجھتے یعنی مال کی بہتات اور بیٹوں کی کثرت جوان کو حاصل ہے اور ہم جو ان کی امداد کررہے ہیں کیا یہ لوگ اس امداد کو یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم جلدی جلدی ان کو فائدہ پہنچا رہے ہیں اور ان کے نیک اعمال کا بدلہ دے رہے ہیں حالانکہ یہ امداد نہیں بلکہ استدراج ہے لیکن ان کو شعور نہیں اور یہ سمجھتے نہیں کہ یہ ہماری طرف سے اچانک پکڑے جانے کا موقعہ دیا جارہا ہے۔ آگے حقیقی بھلائیاں اور فائدے حاصل کرنے والوں کا ذکر فرمایا۔
Ayah 23:57(57) بلاشبہ ! جو لوگ اپنے مالک اور پروردگار کی ہیبت سے ڈرتے رہتے ہیں۔
Ayah 23:58(58) اور جو لوگ اپنے پروردگار کی آیتو پر ایمان رکھتے ہیں۔
Ayah 23:59(59) جو لوگ اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے۔
Ayah 23:60(60) اور جو اللہ کی راہ میں دیتے ہیں جو کچھ بھی دیتے ہیں اور باوجود اس کے ان کے دل اس بات سے ڈرتے رہتے ہیں اور وہ اپنے رب کی طرف واپس جانے والے ہیں۔
Ayah 23:61(61) یہی وہ لوگ ہیں جو دوڑ دوڑ کر بھلائیاں اور فائدے حاصل کررہے ہیں اور یہی لوگ ان بھلائیوں کی طرف بڑھ جانے والے ہیں۔ یعنی حقیقی فائدے تو وہ لوگ حاصل کررہے ہیں جو دین حق کے پیرو ہیں اپنے پروردگار کی ہیبت و جلالت سے ڈرتے ہیں۔ قرآن کریم کی صداقت پر ایمان رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناتے اور خیرات و صدقات بھی اپنی توفیق کے موافق کرتے ہیں اور باوجود صدقات و خیرات کے ان کے دل اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں یہی لوگ جلدی جلدی منافع حاصل کررہے ہیں اور یہی لوگ بھلائیوں کی طرف بڑھ جانے والے ہیں یعنی بھلائیوں کے یہ اہل حق ہی مالک ہیں نہ یہ کہ یہ کافر جن کے سامنے دنیا ہی دنیا ہے۔ یعلمون ظاھراً من الحیٰوۃ الدنیا۔ خیرات کے موقعہ پر دل کا خوف شاید اس وجہ سے ہو کہ نامعلوم صدقہ قبول ہوتا ہے یا نہیں۔ اچھے بندوں کا یہی شیوہ ہے کہ وہ نیکی کے بعد بھی ڈرتے ہیں۔ کانوا قلیلا من اللیل مایھجعون وبالا سحارھم یستغفرون۔ یعنی رات کو بہت کم سوتے ہیں اور کہ کم سونے پر بھی صبح سویرے استغفار کرتے ہیں یا یہ کہ رات کی عبادت کے قبول ہونے یا نہ ہونے پر صبح سویرے استغفار کرتے ہیں۔
بہرحال ! حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی کیا جانیں وہاں قبول ہوا یا نہ ہوا آگے کام آوے نہ آوے دیتے ہیں یعنی اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ 12
خلاصہ ! یہ کہ کفار مال اولاد کی زیادتی کو بھلائی سمجھتے ہیں اور اہل حق دین کے کاموں کو نفع اور فائدہ سمجھتے ہیں ان کو فقط دنیا میں عارضی فائدہ اور ان کو دنیا میں بھی بھلائی اور آخرت میں بھی مستقل بھلائی لہٰذا اصلی بھلائی کے اہل حق مستحق ہیں نہ دین حق کے منکر۔
Ayah 23:62(62) اور ہم کسی شخص کو اس کی وسعت اور قوت برداشت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے اور ہمارے پاس اعمالوں کی ایک ایسی کتاب ہے جو ٹھیک ٹھیک اور سچ سچ سب کے اعمال بتادیتی ہے اور وہ لوگ ذرا بھی ظلم نہیں کئے جائیں گے یعنی شرعی احکام اور شریعت کے کام ایسے مشکل نہیں جو کسی شخص کی طاقت سے باہرہوں بلکہ یہ دین تو بڑا آسان اور سہل ہے الدین یسر ہر عزیمت کے ساتھ رخصت اور آسانی موجود ہے۔
کتاب سے مراد لوح محفوظ ہے یا ہر شخص کانامۂ عمل مراد ہے جب نامہ عمل پڑھا جائے گا تو وہ بالکل درست ہوگا اور جو کچھ کسی نے کیا ہے وہ سب صحیح صحیح سامنے آئے گا۔ جب ہر چیز کتاب میں ٹھیک ٹھیک ہے تو کسی کے ساتھ ناانصافی کا شبہ نہیں ہوسکتا نہ کسی کے ثواب میں کمی ہوگی اور نہ کسی کے جرم میں اضافہ ہوگا۔
Ayah 23:63(63) بلکہ واقعہ یہ ہے کہ ان کفار کے قلوب اس دین سے غفلت اور جہالت اور بیہوشی میں مبتلا ہیں اور اس جہالت اور انکار کے علاوہ اور بھی ان کے اعمال بد اور برے برے اعمال ہیں جن کو یہ کرتے رہتے ہیں یعنی دین حق کی جانب سے بالکل غفلت اور جہالت کا برتائو کررہے ہیں اور غفلت میں ڈوب رہے ہیں اور فساد عقیدہ کے ساتھ ساتھ اور بہت سے برے اعمال ہیں جن کا یہ ارتکاب کرتے رہتے ہیں اور جس طرح مسلمان ایمان صحیحہ کے ساتھ نیک اعمال بھی بجا لاتے ہیں اسی طرح یہ شرک کے ساتھ اور اعمال سیئہ کے بھی مرتکب ہوتے ہیں۔
Ayah 23:64(64) یہاں تک کہ جب ہم ان کے خوش عیش لوگوں کو عذاب میں پکڑ لیں گے اور گرفتار کردیں گے تو تب ہی چلا اٹھیں گے یعنی قحط میں یا بدر کی جنگ میں مرنے کے بعد برزخ میں۔
ان کے خوش حال لوگ اس قسم کے عذابوں میں سے کسی عذاب کی لپیٹ میں آجائیں گے تو چلانے لگیں گے اور جب عذاب کے وقت بڑے بڑے لوگوں کا یہ حال ہوجائے گا تو چھوٹے لوگوں کا تو کہنا ہی کیا ہے۔
Ayah 23:65(65) اس وقت کہا جائے گا اب مت چلائو ہماری طرف سے تمہاری کوئی مدد نہیں کی جائے گی یعنی اب مدد کا وقت نہیں ہے تم اپنی باتوں پر غور کرو کہ تم کیا کرتے رہے ہو۔
Ayah 23:66(66) بلاشبہ میری آیتیں تم کو پڑھ کر سنائی جاتی تھیں اور میری آیتیں تم پر تلاوت کی جاتی تھیں تو تم اپنی ایڑیوں کے بل اس طرح لوٹ جاتے تھے۔
Ayah 23:67(67) کہ اس قرآن کریم سے تکبر کرتے ہوئے اور اس کو افسانہ گوئی کا مشغلہ بناتے ہوئے اور بیہودہ بکواس کرتے ہوئے یعنی قرآن کریم کی آیتیں سن کر الٹے پائوں لوٹ جاتے تھے اور حالت یہ ہوتی تھی کہ تکبر کا اظہار کرتے تھے قرآن کریم کے ساتھ اور اس کو افسانہ گوئی اور قہق ہے کہانیاں کہتے ہوئے اور فحش گوئی کرتے ہوئے لوٹا کرتے تھے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ رات کو مسجد حرام میں بیٹھ کر قصے اور کہانیاں بیان کیا کرتے تھے اور اس میں قرآن کریم اور پیغمبر اسلام کی ہجو کرتے تھے اور آپ کو کاہن اور شاعر اور قرآن کریم کو پچھلوں کی کہانیاں کہتے تھے ۔ اب آگے پھر قرآن کریم اور رسول کے متعلق غور و فکر کا حکم ہے۔
Ayah 23:68(68) کیا ان لوگوں نے اس کلام میں غور نہیں کیا اور عقل و تدبر سے کام نہیں لیا یا ان کے پاس کوئی ایسی چیز آگئی ہے جو ان کے پہلے باپ دادوں کے پاس نہ آئی تھی یعنی یہ لوگ جو قرآن کریم کی اور صاحب قرآن کریم کی تکذیب کررہے ہیں کیا انہوں نے کلام الٰہی میں غور نہیں کیا جو ان پر اس کلام کا اعجاز ہونا ظاہر ہوتا اور اس کو کلام الٰہی سمجھ کر اس پر ایمان لاتے یا اس قرآن کریم کا اس رسول پر نازل ہونا کوئی ایسی انوکھی اور نئی چیز ہے کہ اس رسول سے پہلے نہ کوئی سول آیا اور نہ لوگوں کی ہدایت کے لئے کوئی صحیفہ نازل ہوا اور جب رسولوں کا آنا اور رسول کے قاصدوں کا پہنچنا ہمیشہ سے چلا آیا ہے اور نصیحت کرنے والے اور صحائف آسمانی اور احکامِ آسمانی کا نزول ہر دور میں ہوا ہے تو پھر یہ کوئی نئی بات تو نہیں ہے جس کا انکار کرتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ محض ضد اور تعصب سے کام لیتے ہیں یہی جہالت اور غفلت ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں بات دھیان نہیں کی یعنی قرآن کریم میں فکر نہیں کرتے اور نصیحت کرنے والے ہمیشہ ہوتے رہے ہیں پیغمبر ہوتے یا پیغمبر کے تابع ہوتے۔ 12
Ayah 23:69(69) کیا یہ لوگ اپنے پیغمبر کو جانتے پہچانتے نہیں اور اس وجہ سے اس کو نہیں مانتے یعنی یہ رسول مکہ میں پیدا ہوا یہیں بڑھا پلا چھوٹے سے بڑا ہوا بچپن سے اس کی عادت اور خصلت سے واقف ہو اس کی امانت اور دیانت کے معترف ہو یہ عجیب بات ہے کہ محمد بن عبداللہ کی تو تعریف کرتے ہو اور اس کی خوبیاں مانتے ہو اور جب محمد بن عبداللہ محمد رسول اللہ ہوجاتا ہے تو اس کی تکذیب کرتے ہو اور اس کی ایذا رسانی کے درپے ہوجاتے ہو۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ہمیشہ اس رسول کی خو اور خصلت سے واقف ہیں اور اس کی سچائی اور نیکی جان رہے ہیں۔ 12
Ayah 23:70(70) کیا یہ لوگ اس رسول کی شان میں یوں کہتے ہیں کہ اس کو جنون ہے اور یہ اس رسول کی طرف جنون اور دیوانگی کو منسوب کرتے ہیں یوں نہیں بلکہ رسول ان کے پاس ایک حق بات لیکر آیا ہے اور ان منکرین کا حال یہ ہے کہ ان میں کے اکثر حق بات سے نفرت کرتے ہیں یعنی پیغمبر کو نہ جنون ہے نہ دیوانگی وہ تو دین حق لے کر آیا اور اسی دین حق کا پرچار کرتا ہے ان دین حق کے منکروں کی حالت یہ ہے کہ ان میں ایسے لوگوں کی اکثریت ہے جو دین حق سے نفرت کرتے ہیں اور ان کو حق کی اشاعت ناگوار معلوم ہوتی ہے یعنی اکثریت ایسے نفرت کرنے والوں کی ہے اور جو کم ہیں وہ تکبر کی وجہ سے اور برادری کے پاس کی وجہ سے ایمان نہیں لاتے اور دین حق کے منکروں کی خواہش یہ ہے کہ حق بھی ایسا ہو جو ان کی خواہشات کا پیرو اور متبع ہو جو یہ چاہیں ویسا ہی دین حق بھی ہو آگے اس کا جواب ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 23:71(71) اور اگر کہیں خدانخواستہ دین حق ان کی خواہشات باطلہ کا تابع ہوجاتا تو یقیناً آسمان و زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب خراب اور درہم برہم ہوجاتے بلکہ اصل واقعہ یہ ہے کہ ہم نے ان کے پاس ان کی نصیحت پہنچادی مگر وہ اپنی نصیحت سے روگردانی کررہے ہیں اور منہ پھیر رہے ہیں یعنی ان کی خواہشات باطلہ کا اگر خدانخواستہ حق کو تابع کردیا تو پھر حق ہی کہاں ہوا حق بات کا تو مقتضا یہ ہے کہ حق کی پیروی کی جائے نہ کہ حق کو باطل کا تابع کردیا جائے پھر تو سب کفر اور باطل ہی ہوجائے گا اور کفر غضب الٰہی کا موجب ہے اور غضب الٰہی ہلاکت کا سبب ہے لہٰذا زمین و آسمان اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور جو کچھ ان میں ہے سب ہلاک و برباد ہوجائے بھلا حق جس کے سہارے تمام کائنات قائم ہے اہل باطل کے اختیار میں دے دیا جائے تو اس کا انجام ظاہر ہے بھلا حق جس کے سہارے تمام کائنات قائم ہے اہل باطل کے اختیار میں دے دیا جائے تو اس کا انجام ظاہر ہے بلکہ بات یہ ہے کہ یہ حق کو تو کیا تابع بنائیں گے ان کی حالت تو یہ ہے کہ ہم نے ان کو ان کی نصیحت بھیجی ہے جو ان کے نفع کی چیز ہے مگر یہ اس نصیحت سے بھی روگردانی کررہے ہیں حالانکہ نصیحت اگر نافع بھی نہ ہو تب بھی اس کو قبول کرنا ضروری ہے چہ جائے کہ وہ نصیحت نفع بخش بھی ہو۔ بعض نے ذکر کا ترجمہ یہاں شرف کیا ہے۔
اس قرآن کریم کا عربی لغت میں ہونا اور عرب میں تمام دنیا کے لئے رسول کا آنا یہ اہل عرب کی بہت بڑی شرافت کا سبب ہے لیکن یہ اتنی بڑی شرافت کی چیز سے جو ان کے لئے دنیا و آخرت میں عزت کا سبب ہے روگردانی اور اعراض کررہے ہیں پھر ان کی خواہش یہ ہے کہ دین حق کو ان کا تابع بناکر باطل بنادیا جائے۔
Ayah 23:72(72) کیا آپ اس نصیحت پر ان سے کوئی معاوضہ آمدنی اور محصول طلب کرتے ہیں تو آپ کے پروردگار کا معاوضہ اور انعام بدرجہا بہتر ہے اور وہ سب دینے والوں سے بہتر دینے والا ہے۔ یعنی یہ بھی نہیں ہوسکتا کیونکہ ان کے انعام اور اجرت اور معاوضہ سے آپ کے پروردگار کا انعام بہتر اور بدرجہا بہتر ہے اور وہ سب انعام دینے والوں سے بہتر دینے والا ہے اور یہ بات آپ کو بخوبی معلوم ہے پھر آپ ان سے کیوں انعام اور معاوضہ طلب کرتے۔
ہم نے مفسرین کے تما اقوال کی تیسیر میں رعایت رکھی ہے اور قرأت مختلفہ خوجا اور خراجاً کو بھی ملحوظ رکھا ہے۔ (واللہ اعلم)
Ayah 23:73(73) اور بلاشبہ اے پیغمبر ! آپ تو ان لوگوں کو سیدھی راہ کی طرف بلاتے اور سیدھے راستہ کی دعوت دیتے ہیں یعنی آپ کی دعوت تو دین حق کے لئے ہے اور وہی سیدھی راہ ہے۔
Ayah 23:74(74) اور جو لوگ آخرت کا یقین نہیں رکھتے ان کی حالت یہ ہے کہ وہ سیدھی راہ سے عدول کررہے ہیں اور ہٹے جارہے ہیں یعنی جس راہ کی طرف آپ بلا رہے ہیں یہ اس راہ سے ہٹ رہے ہیں اور ٹیڑھے ہورہے ہیں۔
Ayah 23:75(75) آگے ان کی جہالت اور احسان فراموشی کی حالت اور متکبرانہ عادت کو اور واضح فرماتا ہے اور اگر ہم ان پر رحم اور مہربانی فرمائیں اور ان پر جو تکلیف ہے اس کو دور بھی کردیں تو یہ لوگ بحالت تحیر و تردد اپنی سرکشی میں اور اصرار کرنے لگیں کفار کی یہ عام عادت ہے کہ مصیبت ک وقت مخلص بن کر خدا کو پکارتے ہیں اور جب وہ تکلیف اور مصیبت دور ہوجاتی ہے تو پھر شرک کرنے لگتے ہیں۔ آیت میں شاید اس قحط کی طرف اشارہ ہو جو حضور ﷺ کی دعا سے مکہ والوں پر مسلط ہوا تھا یا عام اشارہ ہو۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت ﷺ کی دعا سے ایک بار مکہ کے لوگوں پر قحط پڑا تھا پھر حضرت ﷺ ہی کی دعا سے کھلا شاید اسی کو فرمایا۔ 12
غرض ! ان کی ناسپاسی اور احسان فراموشی ظاہر ہے آگے ان کے عام طرز عمل کا ذکر فرمایا۔
Ayah 23:76(76) اور یقیناً ہم نے ان کو عذاب میں پکڑا اور عذاب میں گرفتار کیا مگر اس پر بھی نہ تو انہوں نے اپنے پروردگار کے روبرو فروتنی اختیار کی اور نہ اس کے سامنے گڑ گڑائے اور عاجزی کا اظہار کیا یعنی ان کی حالت اور ان کے واقعات شاہد ہیں کہ ہم نے ان اہل مکہ پر مختلف مصائب نازل فرمائے مگر انہوں نے اپنی حالت نہیں بدلی شاید جنگ بدر کی طرف اشارہ ہو یا عام تکالیف قحط اور بیماری وغیرہ کو فرمایا۔ بہرحال ! یہ ٹس سے مس نہ ہوئے اور اپنی ڈھٹائی پر قائم رہے نہ خدا کے سامنے عاجزی اور فروتنی اختیار کی نہ اس کے سامنے گڑگڑائے جب مصائب کے وقت ان کا یہ حال ہے تو مہربانی کی حالت میں ان کا خود اندازہ کرلو۔
ببیں زبہار من گلستاں مرا۔ حالانکہ بدر میں ان کے بڑے بڑے آدمی قتل کردیئے گئے لیکن جو بچے وہ اپنے حال پر قائم رہے۔
Ayah 23:77(77) یہاں تک کہ جب ہم ان پر کسی سخت عذاب کا دروازہ کھول دیں گے تو یہ اس عذاب میں مبتلا ہوکر دفعۃً ناامید و حیرت زدہ رہ جائیں گے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں شاید وہ دروازہ لڑائیوں کا کھلا جس میں تھک کر عاجز ہوئے۔ 12
شاید عذاب دنیوی اور عذاب اخروی دونوں مراد ہوں۔ ویوم تقوم الساعۃ یومئذیلبس المجرمون۔
Ayah 23:78(78) اب آگے پھر اللہ تعالیٰ کے تصرفاتِ قدرت اور اس سے حشر اور دوبارہ زندہ ہونے کا اثبات اور اسی ضمن میں توحید کا اثبات بیان ہوتا ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے جس نے تمہارے نفع کے لئے کان اور آنکھیں اور دل بنائے لیکن تم لوگ بہت کم شکر ادا کرتے ہو یعنی اللہ تعالیٰ نے زندگی کے ساتھ دوسری چیزیں بھی عطا فرمائیں اگر کان سننے کو اور آنکھیں دیکھنے کو اور دل سمجھنے کو نہ دیتے تو زندگی بیکار ہوتی ان احسانات کا شکر بجا لاتے اور اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے موافق دین حق کو قبول کرتے لیکن تم بہت کم شکر بجالاتے ہو۔ یعنی شکر کا حق ادا نہیں کرتے یا بہت کم لوگ شکر گزار ہیں۔ وقلیلا من عبادی الشکور۔ بہرحال ! آیت میں تین باتیں ہیں ایک حضرت حق تعالیٰ کے انعامات کا اظہار ، دوسرے شکر بجالانے کا مطالبہ، تیسرے شکر بجالانے والوں کی کمی پر شکایت۔
Ayah 23:79(79) اور اللہ تعالیٰ وہی ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلا رکھا ہے اور تم سب اسی کی طرف جمع کئے جائوگے اور اسی کے پاس لائے جائوگے یعنی تم کو پیدا کیا اور تم کو رہنے اور بسنے کو زمین دی اور پھر اسی کے پاس جانا بھی ہے پھر تمہیں کیا ہوگیا کہ تم قیامت پر ایمان نہیں لاتے اور اس کی نعمتوں پر شکر ادا نہیں کرتے۔
Ayah 23:80(80) اور وہی ہے جو جلاتا اور مارتا ہے زندگی عطا کرتا ہے اور موت دیتا ہے اور رات دن کا بدلتے رہنا اسی کے اختیار میں ہے پھر کیا تم لوگ اتنی بات بھی نہیں سمجھتے یعنی بےجان کو جان دیتا ہے اور جان دار کو بےجان کردیتا ہے اور رات دن کا باہم یکے بعد دیگرے آنا رات کے پیچھے دن اور دن کے پیچھے رات اور کبھی کے دن بڑے کبھی کی رات یہ سب اس کی بےغایت قدرت کے کرشمے ہیں تو کیا اس کے بعد بھی تم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر ایمان نہیں لاتے اور اس کی قدرت اور اس کے قابو سے اپنے کو باہر سمجھتے ہو۔