24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 24:1

سُوْرَةٌ اَنْزَلْنٰهَا وَ فَرَضْنٰهَا وَ اَنْزَلْنَا فِیْهَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لَّعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 24:1 in the Quran reader

یہ سورت ہے جس کو ہم نے نازل کیا ہے اور ہم نے ہی اس کے احکام کی بجاآوری کو مقرر کیا ہے اور ہم نے اس میں صاف واضح آیتیں نازل کی ہیں شاید کہ تم نصیحت پکڑو۔

(1) یہ سورت ہے جس کو ہم نے نازل کیا ہے اور … ہم نے ہی اس کے احکام کی بجاآوری کو مقرر اور لازم کیا ہے اور ہم نے اس سورت میں صاف صاف آیتیں نازل کی ہیں تاکہ تم نصیحت پکڑو اور یاد رکھو یعنی سورة نور ایک سورت ہے اس کو بھی ہم نے نازل کیا ہے اور اس کے احکام کو بھی ہم ہی نے فرض کیا ہے اور مقرر فرمایا ہے اگرچہ بعض احکام اس میں مستحب اور مندوب بھی ہیں لیکن چونکہ احکام واجبہ اور فرض زیادہ ہیں۔ اس لئے فرضنناھا فرمایا اور ان احکام مقررہ پر دلالت کرنے کے لئے صاف صاف آیتیں نازل فرمائیں جو ان احکام پر دلالت کرتی ہیں یعنی سورت کا بیشتر حصہ احکام ہیں پھر ہم نے ان معانی پر دلالت کرنے والی واضح آیات نازل کیں تاکہ سمجھنے والے آسانی سے سمجھ کر اس پر عمل کریں آگے احکام کی تفصیل ہے۔
Ayah 24:2

اَلزَّانِیَةُ وَ الزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ١۪ وَّ لَا تَاْخُذْكُمْ بِهِمَا رَاْفَةٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ۚ وَ لْیَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَآئِفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:2 in the Quran reader

زنا کار عورت اور زناکار مرد سو ہر ایک کو ان دونوں میں سے سو سو درے مارو اور تم کو ان دونوں پر اللہ تعالیٰ کی حد جاری کرنے میں کسی قسم کا ترس اور رحم نہ آئے بشرطیکہ تم اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو اور نیز ان دونوں کو سزا دیتے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت کو موجود رہنا چاہئے

(2) زنا کی مرتکب عورت اور زنا کا مرتکب مرد سو ہر ایک کو ان دونوں میں سے سو سو کوڑے مارو اور تم لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی حد جاری کرنے میں ان دونوں زنا کار عورت اور زناکار مرد پر کسی قسم کا ترس اور رحم نہ آئے بشرطیکہ تم اللہ تعالیٰ پر اور یوم آخرت یعنی قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہو اور ان دونوں زانیہ اور زانی کو سزا دیتے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت کو موجود رہنا چاہئے۔ زنا کی سزا سو درے فرمائی اس سورت میں یہ پہلا حکم بیان فرمایا پھر ارشاد ہوا کہ کوڑے اور درے مارتے وقت یعنی اللہ کی حد جاری کرنے میں کسی قسم کی مہربانی اور رحم دلی نہ آنے پائے۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے اور قیامت کے دن کا یقین کرنے والوں کو اس پر سختی سے عمل کرنا چاہئے اگر رحم دلی سے کام لیا گیا تو اللہ تعالیٰ کی حدود جاری کرنے میں کوتاہی واقع ہوگی اور جماعت مومنین کی حاضری کو فقہا نے مندوب کہا ہے اس اجتماع کا مقصد تشہیر اور عبرت ہے۔ فائدہ ! (1) زنا۔ ایک ایسی عورت کے ساتھ وطی کرنے اور دخول کرنے کو کہتے ہیں جس عورت پر نہ نکاح سے ملکیت حاصل ہوئی ہو نہ ملک یمین سے ملکیت حاصل ہو بلکہ ان دونوں طریقوں سے ملکیت کا شبہ بھی نہ ہو۔ اگر ملکیت کا شبہ بھی ہوگا اور اس عورت سے وطی کی جائے گی تو اس کو زنا کا حکم نہ دیا جائے گا اور اس کے مرتکب پر زنا کی حد جاری نہ ہوگی خواہ اس وطی کو حرام کہا جائے۔ فائدہ ! (2) قرآن کریم نے جو حد بیان فرمائی ہے یہ غیر محصن کی ہے ورنہ محصن کی سزا درے نہیں بلکہ سنگسار کرنا ہے جیسا کہ مشہور احادیث سے ثابت ہے محصن اس کو کہتے ہیں جو بالغ ہو، عاقل ہو، مسلمان ہو، آزاد ہو اور صحیح نکاح کرچکا ہو اور نکاح صحیح کے ساتھ دخول بھی کرچا ہو ایس شخص محصن ہے اگر کوئی محصن زنا کا ارتکاب کرے گا تو وہ سنگساری کا مستوجب ہوگا اور اگر ان شرائط سبعہ میں سے کوئی ایک بھی شرط کم ہوگی تو وہ غیر محصن اور بجائے سنگسار ہونے کے صرف کوڑے مارا جائے گا۔ خوب یاد رکھنا چاہئے قرآن کریم نے جو حد مقرر کی ہے وہ غیر محصن کی ہے۔ فائدہ ! (3) جس کوڑے سے ضرب لگائی جائے اس میں گھنڈی گرہ۔ کاٹنے اور کو کے لگے ہوئے نہ ہوں کیونکہ مقصود زانی کو زجر ہے اس کا ہلاک کرنا مقصود نہیں ہے اسی لئے متوسط درجے کی چوٹ لگانے کا حکم ہے اور اگر بیمار ہے تو صحت کا انتظار کرنا چاہئے۔
Ayah 24:3

اَلزَّانِیْ لَا یَنْكِحُ اِلَّا زَانِیَةً اَوْ مُشْرِكَةً١٘ وَّ الزَّانِیَةُ لَا یَنْكِحُهَاۤ اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِكٌ١ۚ وَ حُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:3 in the Quran reader

زنا کار مرد نکاح نہیں کرتا مگر زن بدکار سے یا مشرک سے او زانیہ عورت سے نکاح کرنے کی رغبت نہیں کرتا مگر زناکار یا مشرک اور یہ بات مسلمانوں پر حرام کردی گئی ہے

(3) زنا کار مرد نکاح کی خواہش نہیں کرتا مگر بدکار عورت سے یا شرک کرنے والی عورت سے اور زناکار عورت سے نکاح کرنے کی رغبت نہیں کرتا مگر زناکار مرد یا شرک کرنے والا مرد۔ عام طور سے طبعاً بدکار آدمی بدکار عورت سے ہی نکاح کی رغبت کرتا ہے کسی عفیفہ اور پاک دامن عورت سے نکاح کرنے پر مائل نہیں ہوتا یا مشرکہ عورت سے نکاح کرنے کی خواہش کرتا ہے کہ وہ بھی ایک قسم کا زنا ہی ہے اسی طرح بدکار اور زانیہ عورت سے نکاح کی خواہش اور رغبت نہیں کرتا مگر زانی یا مشرک اور یہ بات مسلمانوں پر ممنوع کی گئی ہے۔ مراد یہ ہے کہ طبعاً برے بروں کو پسند کرتے ہیں اور صالح مردوں کو صالحہ عورتوں کو یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ کسی مشرک یا مشرکہ سے نکاح کریں یا کسی پیشہ ور بدکار عورت سے نکاح پر آمادہ ہوں۔ حضرات مفسرین کے اس آیت میں سات اقوال ہیں۔ ہم نے ایک آسان اور سہل شکل اختیار کرلی ہے اور پیشہ ور کی قید شان نزول کے اعتبار سے بڑھائی ہے کیونکہ زمانہ جاہلیت میں بعض غیرمسلم اپنی عورتوں کی حرام کمائی پر گزر کرتے تھے۔ بعض مفلوک الحال مسلمانوں نے بھی یہ خواہش کی کہ ہم بھی کسی پیشہ ور عورت سے نکاح کرلیں اور اس کی اس کمائی سے جو وہ زنا سے حاصل کرے اپنی بسر اوقات کریں چناچہ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اس لئے کسی پیشہ ور بدکار عورت کو کمائی کھانے کی غرض سے نکاح میں لانا ناجائز قرار دیا گیا اور کسی مسلمان مرد کا کسی مشرکہ سے نکاح کرنا یا کسی مسلمان عورت کا مشرک مرد سے نکاح تو باطل ہی ہے۔ جیسا کہ دوسرے پارے میں تفصیل کے ساتھ گزرچکا ہے۔ ہاں ! اگر مشرکہ اسلام لے آئے اور زانیہ توبہ کرلے تو اس سے نکاح جائز ہے۔ فقہ میں تفصیل ملاحظہ کرلی جائے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں مرد اگر بدکار ہو تو عورت پارسا نہ بیاہ لاوے اور اگر نیک ہو تو عورت بدکار نہ لاوے دو واسطے ایک یہ کہ اس کا کفو نہیں اس کو عار ہے دوسرے یہ کہ ایک سے دوسرے کو علت نہ لگ جائے لیکن اگر کرلے تو درست ہے مگر مرد کو عورت بدکار نہیں درست جب تک بدکاری کرتی رہے اور اگر توبہ کرلے تو درست ہے۔ 12۔ بات بھی یہ ہے کہ بدکار عورت کا نیک مرد سے نکاح کوئی جوڑ نہیں ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے۔ ؎ ہر کس مناسب برائے خود گرفت یار بلبل بباغ رفت و زغن سوئے خار زار وحرم ذلک میں اگر مشرکہ عورت اور مشرک مرد مراد لیں تو کسی توجیہ کی ضرورت نہیں اور اگر ذلک سے مشارالیہ عام مراد لیا جائے تو پھر پیشہ وزانیہ مراد ہوگی جس کی کمائی کھانی مقصود ہو۔ (واللہ اعلم)
Ayah 24:4

وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِیْنَ جَلْدَةً وَّ لَا تَقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَۙ Open ayah 24:4 in the Quran reader

اور جو لو لوگ پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگائیں پھر چار گواہ اپنے دعوے پر نہ لاسکیں تو ایسے لوگوں کی اسی 80 درے مارو اور آئندہ کبھی ان کی گواہی قبول نہ کرو۔ اور یہ لوگ فاسق ہیں

(4) اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگائیں اور عفیفہ عورتوں کو عیب لگائیں پھر چار گواہ عینی اپنے دعوے پر نہ لاسکیں تو ایسے لوگوں کو اسی 80 درے مارو اور آئندہ کبھی ان کی گواہی قبول نہ کرو۔ اور یہ لوگ ہیں بےحکم اور فاسق۔ پاک دامن اور عفیفہ عورتوں پر زنا کی تہمت لگانے والوں کو حکم فرمایا کہ ایسے لوگ چار گواہ عینی اپنے دعوے پر پیش کریں جو زنا کا واقعہ اپنی آنکھوں دیکھا بیان کریں چونکہ زنا کی سزا کوڑے یا رجم ہے۔ لہٰذا سزا کی شدت کے مقابلہ میں گواہی بھی سخت مقرر کی کہ ایسے دعوے پر چار گواہ پیش کرو جو یہ بیان کریں کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے اس عورت کو فلاں شخص کے ساتھ زنا کا مرتکب دیکھا۔ اگر اس قسم کے گواہ پیش نہ کرسکے تو اسی 80 درے لگائو اس سزا کو شریعت میں حد قذف کہتے ہیں۔ یہ حد قذف مقذوف کے مطالبے پر جاری کی جاتی ہے۔ مقذوف خواہ عورت ہو یا مرد دونوں کا یہی حکم ہے۔ یہ اسی 80 کوڑے کی سزا اس قاذف پر ہے جو حر اور آزاد ہے ورنہ اگر قاذف غلام ہو تو آدھی سزا یعنی چالیس 40 کوڑے۔ یہ قذف کی سزا اس وقت دی جائے گی جب کہ مقذوف محصن یا محصنہ ہو یہاں احصان کی پانچ شرطیں ہیں۔ (1) حر یعنی آزاد ہو۔ (2) بالغ ہو (3) عاقل ہو (4) مسلمان ہو (5) عفیف ہو زنا سے۔ یعنی اس نے اپنی عمر میں زنا کا ارتکاب نہ کیا ہو۔ نہ شبہ زنا کا مرتکب ہوا ہو اور نہ نکاح فاسد سے عورت کے ساتھ وطی کی ہو۔ اگر یہ پانچوں شرطیں کسی مرد یا عورت میں پائی جائیں اور کسی ایسے پاک دامن مرد یا عورت پر کوئی زنا کی تہمت لگائے اور چار گواہ پیش نہ کرسکے اور مقذوف مطالبہ کرے تو قاذف پر حد قذف یعنی اسی 80 دروں کی سزا جاری ہوگی یہ درے تمام بدن پر سوائے سر اور چہرے کے مارے جائیں گے اور گرم کپڑوں کے سوا باقی کپڑے نہیں اتروائے جائیں گے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی کبھی ان کو بری بات میں نہیں دیکھا اور یہی حکم ہے جو مرد کو عیب لگائے عیب کہا ہے بدکاری کو۔ 12
Ayah 24:5

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْا١ۚ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:5 in the Quran reader

مگر ہاں وہ لوگ جو اس تہمت کے بعد توبہ کرلیں اور اپنی اصلاح کرلیں تو بیشک اللہ بڑی مغفرت کرنے والا نہایت مہربان ہے

(5) مگر ہاں ! جو لوگ اس تہمت اور عیب لگانے کے بعد توبہ کرلیں اور اپنی اصلاح کرلیں اور سنوار پکڑیں تو بلاشبہ ! اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت کرنے والا نہایت مہربان ہے۔ قذف کے بارے میں ظاہر ہے کہ ایک گناہ حق اللہ اور ایک گناہ حق العباد ہے توبہ اور اصلاح کے بعد ظاہر ہے کہ فسق کا حکم مرتفع ہوجائے گا لیکن شہادت قبول نہ ہوگی۔ شہادت مقبول نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ معاملات میں اس کی شہادت قبول نہیں کی جائے گی۔ البتہ دیانت محضہ جیسے ہلال رمضان کی رویت تو اس میں قبول کرلی جائے گی۔ تفصیل کتب فقہ میں ملاحظہ کرلی جائے۔ یہ بحث زنا سے شروع ہوئی تھی اور اس میں چار شہادتوں کا ذکر تھا۔ اب اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو زنا کا مرتکب دیکھے تو اس کو چار گواہوں کا جمع کرنا مشکل چار گواہ نہ لائے تو زنا کا ثابت کرنا مشکل ثابت نہ کرسکے تو حد قذف کا مستحق اور اگر صبر کرے اور خاموش رہے تو گھر والی کی بدکاری پر خاموش رہنا مشکل۔ آگے اس مشکل کے حل کا بیان ہے اس کو شریعت میں لعان کہتے ہیں۔
Ayah 24:6

وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ اَزْوَاجَهُمْ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ شُهَدَآءُ اِلَّاۤ اَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ اَحَدِهِمْ اَرْبَعُ شَهٰدٰتٍۭ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 24:6 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنی بیویوں پر زنا کا عیب لگائیں اور ان کے پاس سوائے اپنی ذات کے اور کوئی گواہ نہ ہو تو ایسے شخص کی گواہی یہی ہے کہ وہ چار بار اللہ کی قسم کھا کر یہ کہہ دے کہ بیشک وہ اپنے دعویٰ میں سچا ہے

(6) اور جو لوگ اپنی بیویوں پر زنا کی تہمت لگائیں اور ان کے پاس سوائے اپنی ذات کے اور کوئی گواہ نہ ہو تو ایسے لوگوں کی گواہی یہی ہے کہ وہ چار بار اللہ کی قسم کھاکر یہ کہے کہ بیشک وہ اپنے دعوے میں سچا ہے۔
Ayah 24:7

وَ الْخَامِسَةُ اَنَّ لَعْنَتَ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ كَانَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 24:7 in the Quran reader

اور پانچویں مرتبہ یوں کہے کہ اگر وہ جھوٹ بولتا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت ہو

(7) اور پانچویں مرتبہ یوں کہے کہ اگر وہ جھوٹ بولتا ہو اور اپنے دعوے میں جھوٹا ہو تو اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت نازل ہو۔
Ayah 24:8

وَ یَدْرَؤُا عَنْهَا الْعَذَابَ اَنْ تَشْهَدَ اَرْبَعَ شَهٰدٰتٍۭ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الْكٰذِبِیْنَۙ Open ayah 24:8 in the Quran reader

اور مرد کی قسم کے بعد عورت پر سے سزا کیوں ٹل سکتی ہے کہ وہ عورت چار مرتبہ اللہ کی قسم کھاکر یہ کہے کہ بیشک یہ مرد یعنی میرا خاوند بالکل جھوٹا ہے

(8) اور مرد جب قسم کھالے تو عورت پر سے سزا اس طرح ٹل سکتی ہے کہ وہ عورت چار مرتبہ اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر یوں کہے کہ بیشک یہ مرد یعنی میرا خاوند بالکل جھوٹا ہے۔
Ayah 24:9

وَ الْخَامِسَةَ اَنَّ غَضَبَ اللّٰهِ عَلَیْهَاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 24:9 in the Quran reader

اور پانچویں مرتبہ یوں کہے کہ اگر یہ مرد سچا ہو تو اس عورت پر یعنی مجھ پر خدا کا غضب پڑے

(9) اور پانچویں مرتبہ یوں کہے کہ اگر یہ مرد سچا ہے اور اس نے سچی قسم کھائی ہے تو اس عورت پر یعنی مجھ پر اللہ تعالیٰ کا غضب واقع ہو زنا کی حد کے قانون میں جو مشکل درپیش تھی اس کا حل لعان کا حکم بیان کرکے ظاہر کردیا۔ یعنی مشکل یہ پیش آئی کہ کوئی غیر عورت بدکار ہو اور اس کی بدکاری کے ثبوت کے لئے چار گواہ میسر نہ آئیں تو نظر انداز کردیا جائے لیکن اپنی رفیقہ حیات کی بدکاری کس طرح برداشت کی جائے۔ صبر کرے تو سخت کوفت کا سامنا دعویٰ کرے اور چار گواہ نہ لائے تو اسی 80 کوڑے لگائے جائیں لیکن لعان نے اس مشکل کو حل کردیں۔ لعان کی قسمیں اس وقت ہوتی ہیں جب خاوند اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائے یا اس کی عورت کے ہاں جو بچہ پیدا ہو اس کو کہے کہ یہ بچہ میرے نطفے سے نہیں ہے عورت اس الزام پر مطالبہ کرے کہ میرے خاوند کو قذف کی حد لگائی جائے تو لعان کیا جائے۔ اگر کوئی خاوند اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائے تو اس سے چار گواہ طلب کئے جائیں اگر چار گواہ پیش کردے تو عورت پر زنا کی حد جاری کی جائے اور اگر گواہ نہ لاسکے تو اس سے کہا جائے کہ یہ الفاظ کہے اگر کہہ دے تو پھر عورت سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ مرد کی تصدیق کرے اگر تصدیق کردے تو اس پر زنا کی حد جاری کردی جائے اور اگر تصدیق نہ کرے تو اس کو یہ الفاظ کہنے پر مجبور کیا جائے گا اگر وہ بھی یہ الفاظ کہہ دے تو اس کے بعد اس عورت سے صحبت اور وداعئی صحبت سب حرام ہوجائیں گے۔ اگر خاوند طلاق دے دے گا تو نکاح ختم ہوجائے گا اور اگر طلاق نہ دے تو قاضی دونوں میں تفریق کردے گا۔ یہ تفریق طلاق بائن کے حکم میں ہوگی اور پھر اس شخص کا نکاح کبھی اس عورت سے نہ ہوسکے گا سوائے اس کے کہ اگر مرد اپنی تکذیب کردے اور اس کو حد قذف یعنی اسی 80 درے مارے جائیں تو پھر اس عورت سے نکاح جائز ہوگا۔ خلاصہ ! یہ ہے کہ اگر کوئی شخص جو اہل شہادت سے ہو اور اس کی زوجہ بھی ان عورتوں میں سے ہو جن کے قاذف پر حد قذف جاری کرنے کا حکم ہے تو اگر ایسے میاں بیوی میں یہ قصہ پیش آجائے اور خاوند زنا کی تہمت لگائے یا بچے کے نسب کی نفی کرے اور چار گواہ عینی نہ لاسکے تو اس سے وہ الفاظ کہلوائے جائیں اگر وہ پس و پیش کرے گا تو اس کو قید کیا جائے اور اس کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ اپنی تکذیب کرے اگر تکذیب کردے تو حد قذف جاری کردی جائے گی اور اگر اس نے قسم کھاکر وہ الفاظ کہہ دیئے تو پھر عورت سے کہا جائے گا کہ وہ اپنے خاوند کی تصدیق کرے اور اگر عورت دعویٰ کی تصدیق کردے تو اس پر زنا کی حد جاری کردی جائے گی۔ اور اگر تکذیب کرے تو اس سے ان الفاظ کا مطالبہ جائے گا اگر وہ عورت پس و پیش کرے گی تو اس کو قید کیا جائے گا اور مجبور کیا جائے گا کہ وہ خاوند کی تصدیق کرے اور یا قسم کھاکر تکذیب کرے۔ اس آیت کے شان نزول کے سلسلے میں ہلال ابن امیہ، عویمر بن عجلان اور عاصم بن عدی ؓ کا ذکر کیا جاتا ہے ان لوگوں کو اپنی بیویوں سے شکایت تھی اس لئے لعان کا حکم نازل ہوا۔ آگے کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے احسان کا اظہار فرمایا۔
Ayah 24:10

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ وَ اَنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 24:10 in the Quran reader

اور اگر یہ بات نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ کا تم پر فضل اور اس کی رحمت ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والا اور حکمت والا ہے تو تم بڑی خرابیوں میں پڑجاتے۔

(10) اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی اور اس کا تم پر فضل ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والا اور بڑی حکمت والا ہے تو تم بڑی مضرتوں اور دشواریوں میں مبتلا ہوجاتے یعنی ناقابل بیان دشواریوں میں پڑجاتے مگر یہ اس کا فضل اور مہربانی ہے اور یہ کہ وہ توبہ قبول کرنے والا اور بڑی حکمتوں والا ہے اس لئے اس نے لعان کا قانون نازل فرماکر تم پر احسان کیا اور تم کو حد قذف اور حد رجم سے بچالیا۔
Ayah 24:11

اِنَّ الَّذِیْنَ جَآءُوْ بِالْاِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنْكُمْ١ؕ لَا تَحْسَبُوْهُ شَرًّا لَّكُمْ١ؕ بَلْ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ مَّا اكْتَسَبَ مِنَ الْاِثْمِ١ۚ وَ الَّذِیْ تَوَلّٰى كِبْرَهٗ مِنْهُمْ لَهٗ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 24:11 in the Quran reader

یقینا ً وہ لوگ جنہوں نے یہ طوفان برپا کیا ہے یعنی حضرت عائشہ ؓ پر تہمت کا وہ تمہیں میں کا ایک گروہ ہے تم اس طوفان بندی کو اپنے لئے برا نہ سمجھو بلکہ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے اس گروہ میں سے جس شخص نے جتنا گواہ کمایا اس کو اسی قدر ملنا ہے اور ان میں سے جس نے اس طوفان میں سب سے بڑا حصہ لیا اس کو بہت بڑی سزا ملنی ہے

(11) بلاشبہ ! یہ طوفان جن لوگوں نے باندھا اور برپا کیا وہ تہمت کا طوفان برپا کرنے والا گروہ تم ہی میں سے ایک چھوٹی سی جماعت ہے تم اس طوفان تراشی کو اپنے حق میں برابر نہ سمجھو بلکہ وہ تمہارے حق میں بھلا اور بہتر ہے اس گروہ میں سے جس آدمی نے جتنا گناہ کمایا اس کے لئے اتنا گناہ ہے اور جس نے ان میں سے سب سے بڑا حصہ لیا اس کے لئے بڑا سخت عذاب ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) تواب حکیم پر فرماتے ہیں اس کے بعد ذکر ہے طوفان کا جو حضرت صلعم کے وقت میں اٹھا۔ حضرت عائشہ ؓ پر پیغمبر ایک جہاد سے پھرے آتے تھے رات سے کوچ ہوا نفیری نقارہ نہ تھا ام المومنین جنگل گئیں تھیں حاجت کو پیچھے رہ گئیں ایک مسلمان لشکر سے پیچھے چلتا تھا۔ حضرت ﷺ کے حکم سے گرا پڑا اٹھانے کو ان کو دیکھا تنہا رہ گئیں۔ اونٹ پر سوار کیا آپ مہار پکڑ کر لشکر میں لاہور پہنایا۔ کم بخت منافق لگے اپنا روسیاہ کرنے ایک مہینے تک یہ چرچا رہا۔ پیغمبر بھی سنتے اور بغیر تحقیق کچھ نہ کہتے لیکن دل میں خفا رہتے مہینے کے بعد جب ام المومنین نے سنا ان کو نہایت غم تھا تین دن روتے روتے دم نہ لیا تب اللہ نے یہ اگلی آیتیں بھیجیں۔ دو 2 رکوع تک۔ 12۔ واقعہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی عام عادت مبارک یہ تھی کہ جب آپ ﷺ سفر میں تشریف لے جاتے تھے تو ازواج مطہرات کے مابین قرعہ اندازی سے انتخاب فرماتے تھے اور جس کا نام قرعے میں نکل آتا تھا اس بیوی کو اس سفر میں ہمراہ لے جاتے تھے۔ غزوہ بنی المصطلق کے موقعہ پر جب قرعہ ڈالا گیا تو اتفاق سے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا نام نکل آیا۔ چناچہ اس سفر میں حضرت عائشہ ؓ آپ کے ہمراہ تشریف لے گئیں چونکہ عورتوں کے لئے پردے کا حکم نافذ ہوچکا تھا اس لئے ہو وج پر کپڑا باندھ دیا جاتا تھا اور منزل پر ہو وج کو اتار کر رکھ دیا جات تھا اور سوار ہوتے وقت ہو وج کو اٹھاکر اونٹ کی پیٹھ پر کس دیا جا تھا چناچہ جب غزوئہ بنی المصطلق کے مجاہدین کا قافلہ لوٹا تو مدینہ منورہ پہنچنے میں ایک منزل باقی تھی اس منزل پر قیام ہوا۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا ہو وج حسب عادت اتار کر زمین پر رکھ دیا گیا۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ رات کو کسی وقت قضائے حاجت کے لئے جنگل تشریف لے گئیں قضائے حاجت سے فارغ ہوکر واپس تشریف لاتی تھیں کہ یکایک ان کو محسوس ہوا کہ ان کے گلے میں جو منکوں کا ہار تھا وہ نہیں ہے وہ اپنا ہار تلاش کرنے لگیں اس ہار کی تلاش میں کچھ تاخیر ہوگئی یہاں رات ہی میں قافلہ کی روانگی کا حکم ہوگیا۔ حضرت عائشہ ؓ کے ہو وج کو حسب عادت اونٹ کی پیٹھ پر رکھ کر رسیوں سے کس دیا گیا اٹھانے والوں کو یہ محسوس نہیں ہوا کہ یہ ہو وج خالی ہے یا بھرا ہوا۔ بہرحال ! قافلہ روانہ ہوگیا۔ حضرت عائشہ ؓ واپس تشریف لائیں تو دیکھا قافلہ روانہ ہوچکا ہے حضرت عائشہ ؓ اپنی جگہ آکر بیٹھ گئیں اور تھوڑی دیر بعد لیٹ کر سوگئیں۔ اس زمانے میں دستور تھا کہ قافلے والے کسی معتمد کو مقرر کردیا کرتے تھے اور وہ قافلے والوں سے ایک منزل پیچھے رہا کرتا تھا اور قافلہ والوں کی روانگی کے چند گھنٹے بعد منزل پر پہنچتا تھا تاکہ کسی کا سامان منزل پر رہ گیا ہو تو وہ گرا پڑا سامان اٹھالائے۔ چناچہ اس سفر میں گرے پڑے سامان کے لئے صفوان بن معطل ؓ سلمیٰ زکوانی کو مقرر کیا گیا تھا۔ چنانچہ جب یہ صفوان ؓ منزل پر پہنچے تو انہوں نے ایک عورت کو سوتا پایا انہوں نے قریب پہنچ کر انا للہ وانا الیہ راجعون کہا۔ اس آواز سے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی آنکھ کھل گئی وہ اٹھ کر بیٹھ گئیں۔ صفوان ؓ نے ان کے قریب اونٹ کو بٹھا دیا اور اونٹ کے اگلے پائوں پر اپناپائوں رکھ کر کھڑا ہوگیا حضرت عائشہ ؓ اٹھیں اور اونٹ کی پیٹھ پر سوار ہوگئیں۔ صفوان ؓ نے نکیل پکڑی اور ام المومنین کو ظہر کی نماز کے وقت تک قافلے میں پہنچا دیا۔ یہ معمولی سا واقعہ تھا جس کو منافقین نے افسانہ بنادیا۔ خاص طور پر عبداللہ بن ابی منافق نے بڑا خطرناک حصہ لیا اور اس قدر پروپیگنڈا کیا کہ بعض مخلص مسلمانوں کو بھی متاثر کردیا اور اس تہمت کا جابجا چرچا ہونے لگا نبی کریم ﷺ سخت پریشان تھے اور تفتیش فرماتے تھے۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں مجھے اس شرارت اور فتنہ انگیزی کے مطلق خبر نہ تھی۔ البتہ نبی کریم ﷺ کی توجہ اور آپ ﷺ کے الطاف کریمانہ میں ضرور کمی محسوس کرتی تھی۔ گھر میں تشریف لاتے تو دوسروں سے دریافت فرماتے کہ یہ کیسی ہے مجھ سے خطاب نہ فرماتے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مدینے کے مکانوں میں بیت الخلا نہ ہوتے تھے اور لوگ قضائے حاجت کیلئے جنگل میں جایا کرتے تھے چناچہ ایک دن میں قضائے حاجت کے لئے گھر سے نکلی مسطح کی ماں میرے ہمراہ تھی جب ہم واپس ہوئے تو اتفاقاً مسطح کی ماں اپنی چادر سے الجھ کر گرپڑیں اور انہوں نے مسطح کو سنا شروع کردیا اور کہا مسطح ہلاک ہو میں نے کہا مسطح کی ماں مسطح کو کیوں کو ستی ہو وہ تو ان لوگوں میں سے ہے جو بدر کی جنگ میں شریک ہوا تھا اس وقت مسطح کی ماں نے مجھ سے کہا اے بھولی بھالی بیوی تجھے کیا خبر ہے آج کل جو طوفان برپا ہے اور تم پر جو تہمت لگائی گئی ہے اس میں بدنصیب مسطح بھی شریک ہوگیا ہے۔ میں نے پوچھا کیسا طوفان اور کیسی تہمت تب مسطح کی ماں نے تمام تفصیلات سے مجھے آگاہ کیا اور میں نے تفصیلات کو سن کر رونا شروع کردیا اور واپس گھر میں آکر نبی کریم ﷺ سے اجازت چاہی کہ آپ اجازت دیں تو میں اپنی ماں اور باپ کے پاس چلی جائو۔ حضور ﷺ نے اجازت دے دی اور یہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے ہاں چلی گئیں۔ حضرت عائشہ ؓ برابر روتی رہیں ان کی والدہ نے فرمایا سوکناپے میں یہی ہوا کرتا ہے جب کوئی عورت اپنے خاوند کو محبوب ہوتی ہے تو اس کی حرکتیں ایسی ہی بات کی فکر میں رہتی ہیں کہ کسی طرح ان کو خاوند کی نظروں س گرادیں یہ بات گھبرانے کی نہیں ہے۔ یہاں نبی کریم ﷺ مختلف صحابہ کرام سے دریافت فرماتے رہے اور مشورہ کرتے رہے۔ چناچہ حضرت اسامہ بن زید اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے بھی مشورہ لیا۔ حضرت اسامہ نے نہایت زور کے ساتھ حضرت عائشہ ؓ کو پاک دامن اور پارسا کہا۔ حضرت علی ؓ نے بڑی خوش اسلوبی سے جواب دیا۔ اول تو حضرت ﷺ کی توجہ اور معاملہ کی اہمیت کو یہ کہہ کر کم کیا کہ یا رسول اللہ آپ کے لئے عورتوں کی کچھ کمی نہیں۔ عائشہ کے سوا اور عورتیں بہت موجود ہیں معاملہ کی اہمیت کو گھٹاتے ہوئے بریرہ سے تحقیق حال کا مشورہ دیا کہ بریرہ گھر کی لونڈی ہے وہ عائشہ کا صحیح حال جانتی ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے بریرہ سے دریافت کیا بریرہ نے کہا یا رسول اللہ اس مقدس ذات کی قسم جس نے آپ کو رسول بنایا ہے عائشہ میں میں نے کوئی برائی نہیں دیکھی سوائے اس کے کہ وہ ایک نوعمر لڑکی ہے آٹا گوندھ کر کھلا چھوڑ دیتی ہے اور بکری آکر آٹا کھا جاتی ہے اور یہ پڑ کے سوجاتی ہے۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں نبی کریم ﷺ نے حضرت زینب بنت حجش سے بھی دریافت کیا۔ حضرت زینب نے باوجود اس کے کہ وہ ہمیشہ میری مخالفت کیا کرتی تھیں لیکن انہوں نے اس طوفان سے کوئی ناجائز فائدہ نہیں اٹھایا اور اپنے تقوے کی وجہ سے وہ محفوظ رہیں بلکہ انہوں نے صاف وصریح الفاظ میں میری برارت اور صفائی کی۔ غرض مجھے تین دن رات برابر روتے روتے گزرے اور میرے والدین یہ جانتے تھے کہ عائشہ کو یہ رونا پھونک ڈالے گا لیکن والدین میرے معذور تھے میرے والدین میرے پاس بیٹھے تھے اور میرے آنسو نہ تھمتے تھے اتنے میں ایک انصار کی عورت نے میرے پاس آنے کی اجازت مانگی میں نے اجازت دے دی وہ بھی میرے ساتھ روتی رہی۔ اتنے میں رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور میرے پاس بیٹھ گئے حالانکہ جب سے یہ طوفان شروع ہوا تھا میرے پاس کبھی آکر نہیں بیٹھے تھے میرے پاس بیٹھ کر آپ نے مختصر خطبہ پڑھا پھر فرمایا اے عائشہ ! مجھے تمہاری طرف سے فلاں فلاں بات پہنچی ہے اگر تم واقعی اس سے بری ہو تو اللہ تعالیٰ عنقریب تمہاری بریت نازل فرمادے گا اور اگر تم گناہ میں آلودہ ہوگئی ہو تو اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کرو اور توبہ کرو کیونکہ جب بندہ اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرلیتا ہے۔ حضور ﷺ نے جب یہ باتیں فرمائیں تو میرے آنسو تھم گئے میں نے اپنے باپ سے کہا آپ جواب دیں مگر انہوں نے کہا میں اس بات کا کوئی جواب نہیں دے سکتا پھر میں نے اپنی والدہ سے کہا تم میری طرف سے اس بات کا جواب دو انہوں نے کہا خدا کی قسم میں نہیں جانتی کہ حضور ﷺ کو اس کا کیا جواب دوں۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے جب یہ دیکھا کہ میرے والدین ہی حضور ﷺ کو جواب نہیں دے سکتے تو میں خود ہی اٹھ کر بیٹھی اور میں نے والدین کو مخاطب بناکر کہا مجھے یہ معلوم ہے کہ تم نے میرے متعلق جو باتیں سنیں وہ تمہارے دل میں ایسی اتر گئیں کہ اگر میں اس گناہ سے اپنی برأت کا اظہار کروں اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ میں بری ہوں تو تم میری تصدیق نہیں کروگے اور اگر میں اس گناہ کا اقرار کرلوں حالانکہ خدا خوب جانتا ہے کہ میں اس گناہ سے بری اور پاک ہوں تو تم میری تصدیق کرلوگے میں اس وقت اپنی اور تمہاری کوئی مثال نہیں پاتی۔ لیکن جیسے یوسف (علیہ السلام) کے باپ نے فرمایا تھا وہی میں کہتی ہوں۔ فصبر جمیل واللہ المستعان علیٰ ماتصفون۔ اس کے بعد میں اپنے بچھونے پر لیٹ گئی۔ میں یقین کرتی تھی کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس تہمت سے ضرور بری کردے گا لیکن یہ خیال نہ تھا کہ میے حق میں قرآن کریم نازل ہوگا۔ نبی کریم ﷺ اسی گھر میں تشریف رکھتے تھے کہ آپ پر وحی کے آثار ظاہر ہوئے اور جب آپ وحی سے فارغ ہوئے تو پہلا جملہ آپ کی زبان مبارک سے یہی نکلا کہ عائشہ ؓ تم کو خوش ہونا چاہئے اللہ تعالیٰ نے تمہاری برأت نازل فرمائی۔ یہ جملہ سن کر حضرت عائشہ ؓ کے والدین نے کہا بیٹی اٹھ۔ حضور ﷺ کی صفت وثناء بیان کر۔ حضرت عائشہ ؓ نے کہا خدا کی قسم میں حضور ﷺ کے لئے کلمات تعریف نہیں کروں گی۔ میں تو اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا بیان کروں گی یہ تو لوگوں کی ریشہ دوانیوں سے متاثر ہو ہی گئے تھے۔ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ اس طوفان کا اصل بانی عبداللہ بن ابی منافق تھا اور مسلمانوں میں سے جو لوگ اس کے پروپیگنڈے کی لپیٹ میں آگئے وہ حسان بن ثابت عرب کے مشہورشاعر اور حمنہ بنت حجش اور مسطح حضرت صدیق اکبر ؓ کے بھانجے اور زید بن رفاعہ کا نام بھی لیا جاتا ہے ان ہی کو حق تعالیٰ نے عصبہ فرمایا لاتحسبوہ شرالکم کا مطلب یہ ہے کہ اس تہمت کو برا نہ سمجھو بلکہ اس پر جو صبر کیا گیا اس صبر کے اجر پر غور کرو۔ کہ فائدہ ہی فائدہ ہے۔ اس بڑی بات کا متولی عبداللہ بن ابی کو فرمایا۔ ایک مرجوح قول یہ بھی ہے کہ حسان بن ثابت کو متولی کبر کہا لیکن یہ صحیح نہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں تم کو بہتر ہے اس واسطے کہ اللہ کے زمانے سے اور تم کو بزرگی ملی اور جتنا کمایا گناہ یعنی بعض خوشیاں کرکے کہتے بعضے افسوس کرکے بعضے چھیڑ کر مجلس میں چرچا اٹھاکر آپ چپکے سنا کرتے بعضے سن کر تامل میں چپ رہ جاتے بعضے صاف جھٹلا دیتے۔ ان پچھلوں کو پسند کیا اور سب کو تھوڑا بہت الزام دیا اور بڑا بوجھ اٹھانے والا عبداللہ بن ابی تھا۔ منافقوں کا سردار۔ 12
Ayah 24:12

لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِهِمْ خَیْرًا١ۙ وَّ قَالُوْا هٰذَاۤ اِفْكٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 24:12 in the Quran reader

جب تم لوگوں نے اس طوفان کی خبر کو سنا تھا تو مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں نے اپنوں کے ساتھ نیک گمان کیوں نہ کیا اور سنتے ہی یوں کیوں نہ کہا کہ یہ صریح کذب اور بہتان ہے

(12) جب تم لوگوں نے اس طوفان کی خبر کو سنا تھا تو مسلمان مردوں اور عورتوں نے اپنوں کے ساتھ نیک گمان کیوں نہیں کیا اور سنتے ہی یوں کیوں نہیں کہا کہ یہ صریح کذب و بہتان ہے۔ یعنی مسلمانوں کو تو یہ چاہئے تھا کہ جب کسی مسلمان اور پاک دامن کے متعلق زنا کی بات اور بدکاری کی افواہ کان میں پڑی تھی تو اسی وقت اس کو رد کرنا تھا اور مسلمان مردوں اور عورتوں کو اپنے مسلمان بھائی اور بہن کے ساتھ جو اعتقاداً اور عملاً اپنے ہی ہیں ان کے ساتھ نیک گمان کرنا چاہئے تھا اور صاف کہنا چاہئے تھا کہ یہ عائشہ اور صفوان پر صریح بہتان ہے جیسا کہ حضرت ابو ایوب اور ان کی زوجہ کا یہی قول بعض روایات میں منقول ہے۔ جو لوگ خاموش رہے یا شک میں پڑگئے ان کو بھی تنبیہہ ہے مومن مرد اور مومنہ عورتیں فرمایا جن میں حسان اور مسطح اور زید بن رفاعہ اور حمنہ بنت حجش سب داخل ہوگئے۔
Ayah 24:13

لَوْ لَا جَآءُوْ عَلَیْهِ بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ١ۚ فَاِذْ لَمْ یَاْتُوْا بِالشُّهَدَآءِ فَاُولٰٓئِكَ عِنْدَ اللّٰهِ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 24:13 in the Quran reader

جو لوگ اس طوفان بندی کے مرتکب ہوئے ہیں وہ اپنے دعویٰ پر چار گواہ نہیں لائے سو ایسی حالت میں کہ جب یہ لوگ گواہ نہیں پیش کرسکے تو بس خدا کے نزدیک یہی لوگ جھوٹے ہیں۔

(13) جو لوگ اس طوفان بندی اور قذف کے مرتکب ہوئے وہ اپنے دعویٰ پر چار گواہ کیوں نہ لائے پھر جب کہ وہ چار گواہ نہ لاسکے تو بس یہی لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک جھوٹے ہیں یعنی جب چار گواہوں کی شہادت قانون الٰہی میں نازل ہوچکی تو اب مدعی اگر خود بھی معائنہ کرے تب بھی اس کو چار عینی شاہدوں کی شہادت دلیل کے طور پر پیش کرنی ہوگی ورنہ حدقذف کا مستحق ہوگا۔ لہٰذا ان لوگوں کو قانون الٰہی کے مطابق شہادت پیش کرنی تھی اور جب یہ شاہد نہیں لاسکتے تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک یعنی اس کے قانون کے مطابق یہ لوگ جھوٹے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں چاہئے مسلمان کو کہ جب لوگ ایک نیک شخص کو بری تہمتیں لگادیں ان کو جھٹلا دے۔ پیغمبر نے فرمایا جو کوئی پیٹھ پیچھے بھائی مسلمان کی مدد کرے اللہ اس کی پیٹھ پیچھے مدد کرے اور بےتحقیق تہمتیں لگانی ایمان سے بعید ہے۔ 12
Ayah 24:14

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ لَمَسَّكُمْ فِیْ مَاۤ اَفَضْتُمْ فِیْهِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۚۖ Open ayah 24:14 in the Quran reader

اور اگر تم پر دنیا اور آخرت میں اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو جس بات کا چرچا تم نے شروع کررکھا تھا اس کی وجہ سے تم پر کوئی سخت عذاب واقع ہوجاتا اور تم اس عذاب کے اس وقت مستحق ہوجاتے

(14) اور اگر تم پر دنیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو جس بات کا تم چرچا کررہے تھے اور جس شغل میں تم پڑے تھے اس کی وجہ سے تم پر کوئی بڑا سخت عذاب نازل ہوجاتا اور کسی بڑی سخت سزا میں مبتلا ہوجاتے یعنی اس کی عام مہربانی اور اس کے عام فضل کا صدقہ ہے کہ تم اے مسلمانو ! محفوظ رہے۔ خطاب اگرچہ عام ہے لیکن مراد اس سے حمنہ حسان اور مسطح وغیرہ ہیں عبداللہ بن ابی منافق نہیں کیونکہ آخرت میں نہ وہ مستحق فضل ہے نہ وہ مستحق مہر حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اللہ نے اس امت کو پیغمبر کے طفیل دنیا کے عذابوں سے بچایا ہے نہیں تو یہ بات قابل تھی عذاب کے۔ 12
Ayah 24:15

اِذْ تَلَقَّوْنَهٗ بِاَلْسِنَتِكُمْ وَ تَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِكُمْ مَّا لَیْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ وَّ تَحْسَبُوْنَهٗ هَیِّنًا١ۖۗ وَّ هُوَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمٌ Open ayah 24:15 in the Quran reader

جب کہ تم اپنی زبانوں سے اس خبرکو ایک دوسرے سے نقل کررہے تھے اور اپنے منہ سے ایسی باتیں کہہ رہے تھے جن کی حقیقت کا تم کو مطلق علم نہ تھا اور تم اس طوفان کو ہلکی بات سمجھ رہے تھے حالانکہ وہ اللہ کے نزدیک بڑی سخت بات تھی

(15) اس عذاب عظیم کے تم اس وقت مستحق ہوجاتے اور وہ عذاب تم کو اس وقت مس کرلیتا اور تم عذاب عظیم کی زد میں آجاتے جب کہ تم اس بات کو اپنی زبانوں سے ایک دوسرے کو نقل کررہے تھے اور اپنے منوئوں سے ایسی باتیں کہہ رہے تھے جن کا تم کو مطلق علم نہ تھا اور کوئی دلیل نہ تھی اور تم اس تہمت اور بہتان کو ہلکی بات سمجھ رہے تھے حالانکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ بڑی سخت بات تھی۔ یعنی بلا تحقیق اور بلا دلیل ایسی باتیں منہ سے کہہ رہے تھے اور ایک دوسرے سے نقل در نقل کررہے تھے جو معصیت اور موجب عذاب ہیں تم اس کو ہلکا اور سہل سمجھتے ہو حالانکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ بڑی بھاری اور سخت چیز ہے اول تو حصنات پر رمی اور زنا کی تہمت۔ پھر محصنات بھی کون ازواجِ مطہرات میں سے۔ پھر ایذا رسانی پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام اور صدیق اکبر ؓ ان کے متعلقین کی۔ یہ سب باتیں معصیت ہیں اور عذاب الٰہی کا موجب ہیں۔
Ayah 24:16

وَ لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ قُلْتُمْ مَّا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّتَكَلَّمَ بِهٰذَا١ۖۗ سُبْحٰنَكَ هٰذَا بُهْتَانٌ عَظِیْمٌ Open ayah 24:16 in the Quran reader

اور جب تم نے اس بہتان کو سنا تھا تو تم نے سنتے ہی یوں کیوں نہ کہا کہ ہم کو یہ زیبا نہیں کہ ہم ایسی بات منہ سے نکالیں معاذ اللہ یہ تو بڑا بہتان ہے

(16) اور جب تم نے اس بہتان کو سنا تھا تو سنتے ہی یوں کیوں نہیں کہا کہ ہم کو یہ لائق اور ہم کو یہ زیبا نہیں کہ ہم منہ پر لادیں یہ بات اور ہم ایسی بات منہ سے نکالیں۔ اللہ تعالیٰ تو پاک ہے معاذ اللہ یہ تو بڑا بہتان ہے۔ جیسا کہ بعض صحابہ اور محتاط حضرا ت نے سنتے ہی کہہ دیا۔ حضرت ابو ایوب اور ان کی زوجہ کا قول مذکورہوا۔ رہا ! نبی کریم ﷺ کا تردد اور تامل تو اول تو یہ کوئی بےاطمینانی کی دلیل نہیں آپ خاموشی کے ساتھ صرف ایک معاملہ کو ملاحظہ کررہے تھے۔ نیز آپ کا یہ قول احادیث میں مروی ہے کہ ماعلمت علی اھل الاخیراً یہ قول نزاہت اور پاکی پر یقین کا اظہار ہے۔
Ayah 24:17

یَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنْ تَعُوْدُوْا لِمِثْلِهٖۤ اَبَدًا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 24:17 in the Quran reader

مسلمانو ! اللہ تعالیٰ تم کو نصیحت کرتا ہے کہ اگر تم ایمان والے ہو تو آئندہ پھر کبھی ایسی حرکت کا ارتکاب نہ کرنا

(17) آگے آئندہ کے لئے مسلمانوں کو نصیحت فرماتے ہیں چونکہ خطاب ان مسلمانوں ہی کو ہورہا ہے جو اس بےموقع طوفان میں بہہ گئے اور مقتضائے احتیاط کو ہاتھ سے کھو بیٹھے ورنہ منافقوں کا ذکر صیغہ غائب سے کیا گیا۔ جیسے والذی تولی کبرہ فرمایا تھا لہٰذا ارشاد فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ تم کو سمجھاتا اور نصیحت کرتا ہے اگر تم ایمان والے ہو تو پھر کبھی ایسا کام نہ کرنا اور آئندہ کبھی اس قسم کی حرکت کا ارتکاب تم سے سرزد نہ ہو یعنی اگر اہل ایمان ہو تو پھر کبھی اس قسم کی حرکت کا اعادہ نہ کرنا۔
Ayah 24:18

وَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:18 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ تم سے صاف صاف اپنے احکام بیان کرتا ہے اور اللہ کمال علم اور کمال حکمت کا مالک ہے۔

(18) اور اللہ تعالیٰ تمہارے لئے اپنے احکام صاف صاف بیان کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کمالِ علم اور کمال حکمت کا مالک ہے یعنی واضح احکام بیان فرماتا ہے کمال علم کا مالک ہے ہر شخص کے دل کی ندامت اور قلب کی حالت جانتا ہے اور کمال حکمت کا مالک ہے اپنے احکام کو مبنی پر حکمت مقرر کرتا ہے یا یہ کہ عائشہ ؓ کی پاک دامنی کو جانتا اور ہر قسم کے عیب اور عار س اس کو بری قرار دینے کا حکم کرتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی پتا اس کا کہ یہ طوفان اٹھایا کس نے معلوم ہوا کہ منافقوں نے جو ہمیشہ چھپے دشمن تھے اگلی آیت میں پتا بتادیا۔ 12
Ayah 24:19

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ١ۙ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 24:19 in the Quran reader

بلاشبہ جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں بےحیائی کی بات شہرت پذیر ہو تو ان کو دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہوگا۔ اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

(19) بلاشبہ ! جو لوگ یہ چاہتے اور اس بات کو درست رکھتے ہیں کہ مسلمانوں میں بےحیائی کی بات شہرت پذیر ہو اور بےحیائی کی بات کا مسلمانوں میں چرچا ہو تو ان لوگوں کو دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہوگا اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے یعنی جب برات کا اعلان کردیا گیا پھر بھی ان برات شدہ لوگوں کے متعلق مسلمانوں میں چرچا کرنا اور ان کی تشہیر کرنا یہ وہی لوگ کرسکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ رکھتے ہوں تو ایسے لوگ دردناک عذاب کے مستحق ہیں یہ سزا دنیا میں بھی ممکن الوقوع ہے اور آخرت میں بہرحال سزا ملنی ہی ہے۔ حدیث پاک میں آتا ہے جو کسی بےگناہ مومن کی آبرو ریزی کرے گا تو دنیا میں اس کی آبرو بھی محفوظ نہیں رہے گی اللہ تعالیٰ اس کو ذلیل و خوار کردے گا اور حدیث میں یہ بھی آیا کہ جو کسی گناہ گار کو بھی عار دلائے گا تو وہ مرنے سے پہلے اس گناہ میں خود بھی مبتلا ہوجائے گا۔ (اعاذنا للہ منہ) اس آیت میں منافقوں کے لئے تو وعید ہے ہی مگر مسلمانوں کو تنبیہ ہے کہ آئندہ اس بےحیائی کا کوئی چرچا اور تذکرہ باہم نہ آئے اور نہ مسلمانوں کی کسی مجلس میں اس بےحیائی کا ذکر کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ ایسے فتنہ پرداز منافقوں کو خوب جانتا ہے اگرچہ تم کو معلوم نہیں اور تم نہیں جانتے یا یہ کہ ہر معصیت اور گناہ کا درجہ ہم جانتے ہیں تم نہیں جانتے یعنی کون سا گناہ کیسا ہے اور اسکی سزا کیا ہونی چاہئے۔
Ayah 24:20

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ وَ اَنَّ اللّٰهَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 24:20 in the Quran reader

اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ہے اور اللہ بڑی شفقت کرنے والا نہایت مہربان ہے تو تم بھی خدا کی گرفت سے نہ بچتے

(20) اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ تم پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی مہربانی ہے اور اللہ تعالیٰ بڑی شفقت کرنے والا اور نہایت مہربان ہے تو تم بھی اس وعید سے نہ بچتے یعنی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی توبہ قبول کرلی اور ان کی توبہ کی توفیق عطا کردی اور ان پر حد قذف جاری کی گئی یہ سب اس کے فضل اور اس کے انعام کی وجہ سے ہوا اگر اس قسم کی مہربانی نہ ہوتی تو مسلمان بھی اس وعید میں شامل ہوتے جو منافقوں کے لئے اوپر فرمائی ہے۔ اب آگے عام طور پر مسلمانوں کو مخاطب فرماتے ہیں۔
Ayah 24:21

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّبِعْ خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ فَاِنَّهٗ یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ مَا زَكٰى مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَبَدًا١ۙ وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ یُزَكِّیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:21 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو اور جو شخص شیطان کے قدم بقدم چلے گا تو شیطان تو بےحیائی کا نامعقول ہی کام کرنے کو کہے گا۔ اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کبھی کوئی اس گناہ سے پاک نہ ہوتا لیکن اللہ جس کو چاہتا ہے پاک صاف کردیتا ہے اور اللہ سب سننے والا سب جاننے والا ہے

(21) اے ایمان والو ! اے دعوت ایمانی کو قبول کرنے والو ! تم شیطان کے قدم بہ قدم نہ چلو اور جو شخص شیطان کے نقش قدم پر چلتا ہے اور شیطان کے قدم بہ قدم چلے گا تو وہ شیطان تو بےحیائی اور نامعقول ہی کام کرنے کو کہے گا اور اگر تم پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں کبھی کوئی اس گناہ سے پاک اور صاف نہ ہوتا لیکن اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے پاک صاف کردیتا ہے اور سنوار دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ سب سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ شیطان کی پیروی کرنے اور شیطان کے قدم بہ قدم چلنے سے مسلمانوں کو منع فرمایا کیونکہ شیطان کا کام تو یہی ہے کہ وہ نامعقول اور بےحیائی کی باتوں پر ابھارتا ہے اور معصیت اور گناہ کرنے کو کہتا ہے۔ جیسا کہ تم اس موقعہ پر ایک پاک دامن عورت اور ایک پاک دامن مرد پر تہمت لگانے میں مبتلا ہوگئے اور شیطان نے تم کو ایک بےحیائی اور نامعقول بات پر آمادہ کردیا یہ تم سے ایک ایسی ناشائستہ حرکت کا ارتکاب ہوا کہ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی اور وہ تم کو توبہ کی توفیق نہ دیتا اور پھر تمہاری توبہ قبول نہ فرماتا تو تم میں سے کسی ایک کی بھی حالت نہ سنورتی اور خراب و خستہ ہی رہتے اور نہ معلوم کس عذاب میں گرفتار ہوجاتے لیکن یہ اللہ کا فضل اور اس کا انعام ہے کہ اس نے مخلص مسلمانوں کو اس بےحیائی کی بات میں مبتلا ہونے سے محفوظ رکھا اور جو سوئے اتفاق سے دو چار محض مسلمان منافقوں کے پروپیگنڈے اور تشہیر میں مبتلا ہوگئے تھے ان کو توبہ کی توفیق عطا فرماکر اور ان پر حد قذف جاری کر ا کے آئندہ کی ہلاکت سے بچالیا اور ان کی توبہ قبول فرماکر ان کو سنواردیا اور اللہ تعالیٰ سب کچھ سنتا اور سب کچھ جانتا ہے ہر ایک کی توبہ کو سنتا اور ہر ایک کی قلبی ندامت کو جانتا ہے وہ یہ بھی جانتا ہے کہ کون سنورنے کے قابل ہے اور کس کی طینت خراب اور کون بدباطن ہے چناچہ منافقوں کو نظر انداز کردیا گیا اور مخلص مسلمانوں کی رہنمائی فرمائی۔ اب آگے ان لوگوں کا ذکر ہے جنہوں نے ان مبتلائے بہتان ہونے والوں کی امداد بند کردی تھی۔ ان مالی امداد بند کردینے والوں میں حضرت صدیق اکبر ؓ کا نام خاص طور پر حدیثوں میں آتا ہے کہ مسطح جو ان کا قرابت دار تھا اور وہ اس کی مالی امداد کیا کرتے تھے چونکہ یہ مسطح حضرت عائشہ ؓ کے خلاف تہمت لگانے والوں میں شریک ہوگیا تھا اس لئے حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ان کی امداد بند کردی اور قسم کھالی کہ میں آئندہ اس کے ساتھ کوئی سلوک نہیں کروں گا اس پر آگے کی آیت نازل ہوئی تب سیدنا صدیق اکبر ؓ نے پھر امداد کا سلسلہ جاری کردیا بلکہ امداد دگنی کردی اور ایسا ہی بعض دوسرے صحابہ نے بھی کیا۔ رضوان اللہ علیہم اجمعین۔
Ayah 24:22

وَ لَا یَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَ السَّعَةِ اَنْ یُّؤْتُوْۤا اُولِی الْقُرْبٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١۪ۖ وَ لْیَعْفُوْا وَ لْیَصْفَحُوْا١ؕ اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:22 in the Quran reader

اور جو لوگ تم میں سے بڑے مرتبے والے اور صاحب وسعت ہیں وہ قرابت داروں اور محتاجوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کی آئندہ مالی خدمت کرنے سے قسم نہ کھابیٹھیں بلکہ ان کو چاہئے کہ ایسے لوگوں کا قصور معاف کردیں اور ان سے درگزر کریں کیا تم اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہای خطائوں کو معاف کرے اور یاد رکھو اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے

(22) چنانچہ ارشاد ہوتا ہے اور جو لوگ تم میں سے دینی بزرگی اور بڑے مرتبے والے ہیں اور دنیوی وسعت اور کشائش والے ہیں ان کو یہ نہیں چاہئے کہ وہ قرابت داروں اور محتاجوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کی آئندہ مالی خدمت کرنے سے قسم کھالیں اور قسم کھابیٹھیں کہ آئندہ کوئی امداد نہیں کریں گے بلکہ ان کو چاہئے کہ ایسے لوگوں کا قصورمعاف کردیں اور ان سے درگزر کریں کیا تم اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری خطائوں کو معاف فرمادے اور یاد رکھو اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔ یعنی دین کی بزرگی اور دنیا کی کشائش والوں کو یہ بات نہیں چاہئے کہ وہ مسطح کی مالی امداد سے ہاتھ روک لیں جو قرابت دار بھی ہے مسکین بھی ہے اور مہاجر۔ فی سبیل اللہ بھی ہے ایسے آدمی پر قسم کھا بیٹھیں کہ اس کی امداد نہ کروں گا اگر اس سے کوئی قصور ہوگیا ہے اور وہ باوجودمخلص ہونے کے عائشہ ؓ کے مخالفوں کے ساتھ ہوگیا تو تم کو چاہئے کہ اس سے درگزر کرو اور اس کے قصور معاف کرو کیا تم کو یہ بات پسند نہیں کہ اللہ تعالیٰ تمہارے قصوروں کو معاف فرمائے۔ چنانچہ یہ سن کر صحابہ ؓ نے کہا بلی یا ربنا انا نحب ہاں ہم اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری تقصیرات کو معاف فرمائے اور جب تم یہ بات پسند کرتے ہو تو تم اپنے عزیزوں کی خطا کیوں نہیں معاف کرتے تم کو چاہئے کہ تم بھی اللہ تعالیٰ کا طریقہ اور اس کی روش اختیار کرو اللہ تعالیٰ غفور بھی ہے اور رحیم بھی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جب طوفان اٹھانے والے جھوٹے پڑے اور ان کو حد ماری گئی اسی 80 کوڑے ان میں دو تین مسلمان تھے ایک شخص مسطح ابوبکر صدیق ؓ کا بھانجہ مفلس یہ اس کی خبر لیتے تھے اب سے قسم کھائی کہ اس کو میں کچھ نہ دوں گا اللہ تعالیٰ نے اس کی سفارش کردی وہ تھا مہاجرین سے اہل بدر کے بڑائی والے کہا صدیق اکبر ؓ کو جوان کی بڑائی نہ مانے اللہ سے جھگڑے پھر انہوں نے قسم کھائی کہ جو دیتا تھا کبھی نہ بند کروں گا۔ 12 خلاصہ ! یہ ہے کہ صدیق اکبر ؓ نے آیت کو سن کر پہلی قسم توڑی اس کا کفارہ دیا اور دوسری قسم کھائی امداد بند نہ کرنے کی۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ کمزوروں اور غریبوں کا قصور معاف کرنا اللہ تعالیٰ کی بخشش کا سبب ہے رسول اللہ ﷺ سے کسی نے دریافت کیا یا رسول اللہ اپنے غلام کا دن رات میں کتنی مرتبہ قصور معاف کردیا کروں۔ فرمایا ستر 70 بار۔ اور یہ بھی معلوم ہوا کہ قسم کھا کر توڑ دینا افضل معلوم ہو تو قسم توڑ کر کفاروہ دیدے۔ یہ کفارہ بھی موجب اجر ہے۔ حضرت صدیق ؓ کی فضیلت اور آپ کا افضل ہونا بھی ثابت ہوا۔ اسی لئے شاہ صاحب (رح) نے فرمایا کہ جو ان کی بزرگی کا انکار کرے وہ اللہ تعالیٰ سے جھگڑے۔ شاہ صاحب (رح) کا اشارہ ان لوگوں کی طرف ہے جو معاذ اللہ صدیق اکبر ؓ کی تنقیص کرتے ہیں عفو و درگزر کے بارے میں کسی نے کیا خوب کہا ہے۔ من کان یرجوا عفو من فوقہ فلیعف عن ذنب الذی دونہ اللہ تعالیٰ جن کو اولو الفضل فرمائے ان کے فضل کا کیا ٹھکانا ہے۔ لایعرف الفضل لاھل الفضل الا اولوا الفضل۔ صاحب فضل ہی اہل فضل کو جانتا ہے ایک فارسی کے شاعر نے کیا خوب فرمایا ہے یہ شاعر غالباً حکیم سنائی ہیں۔ بود چنداں کرامت و فضلش کہ اولو الفضل خواند ذوالفضلش صورت و سیرتش ہمہ جان بود زاں زچشم عوان پنہاں بود روز و شب سال و ماہ درہمہ کار ثانی اثنین اذہمانی الغار
Ayah 24:23

اِنَّ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ لُعِنُوْا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١۪ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ Open ayah 24:23 in the Quran reader

یقینا ً جو لوگ ایسی عورتوں پر چوپاک دامن برے کاموں سے بیخبر اور ایمان دار ہیں بدکاری کا عیب لگاتے ہیں تو ایسے لوگوں پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی جاتی ہے اور ان کو اس دن بڑا سخت عذاب ہوگا۔

(23) بلاشبہ ! جو لوگ ایسی عفیفہ اور پاک دامن عورتوں پر جو برے کاموں اور بےحیائی کی باتوں سے بالکل بیخبر اور ایمان والیاں ہی بدکاری کا عیب لگاتے اور زنا کی تہمت دھرتے ہیں تو ایسے لوگوں پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی جاتی ہے اور وہ دنیا اور آخرت میں ملعون قرار دیئے جاتے ہیں اور ایسے لوگوں کو اس دن بڑا سخت عذا ب ہوگا۔
Ayah 24:24

یَّوْمَ تَشْهَدُ عَلَیْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ وَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 24:24 in the Quran reader

جس دن ان لوگوں کے خلاف ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پائوں اور ان کے ان اعمال پر گواہی دیں گے جو وہ کیا کرتے تھے

(24) جس دن ان لوگوں کے خلاف ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور پائوں اور ان لوگوں کے ان اعمال پر گواہی دیں گے جو وہ کیا کرتے تھے۔
Ayah 24:25

یَوْمَئِذٍ یُّوَفِّیْهِمُ اللّٰهُ دِیْنَهُمُ الْحَقَّ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِیْنُ Open ayah 24:25 in the Quran reader

اس دن جس سزا کے وہ مستحق ہیں اللہ ان کی وہ سزا ان کو پوری پوری دے گا اور وہ یہ جان لیں گے کہ اللہ ہی کی ذات برحق ہے اور وہی ہر شئے کی حقیقت کو ظاہر کرنے والا ہے

(25) اس دن یہ لوگ جس سزا کے مستحق ہیں اللہ تعالیٰ وہ سزا ان کو پوری پوری دے گا اور اس دن ان کو معلوم ہوجائے گا اور وہ یہ بات جان لیں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی کی ذات برحق ہے اور وہی ہر بات کی حقیقت کو ظاہر کرنے والا ہے بعض مفسرین نے ان آیتوں کو عموم پر حمل کیا ہے کہ جو لگ عفائف اور پاک دامن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں ان کے لئے ان آیتوں میں وعید بیان کی گئی ہے اور بعض مفسرین نے بیوی عائشہ صدیقہ ؓ کے ساتھ آیتوں کا تعلق ظاہر کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ جو عائشہ صدیقہ ؓ کی برات نازل ہونے کے بعد بھی ان کے خلاف تہمت کا اظہار کریں گے او عیب لگائیں گے ان ک سزا یہ ہوگی کہ وہ دارین میں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور رہیں گے اور قیامت میں ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور پائوں سب ان کی بداعمالی پر شہادت دیں گے اور اس دن ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور اس دن ان کو معلوم ہوجائے گا کہ اللہ تعالیٰ ہی ٹھیک فیصلہ کرنے والا اور ہر بات کی حقیقت کو ظاہر کرنے والا ہے۔ اس تقدیر پر ان آیات سے وہ منافق مراد ہوں گے جو باوجود نزول برات کے پھر بھی حضرت عائشہ ؓ کی شان میں گستاخیوں سے باز نہیں آتے۔ جیسے عبداللہ بن ابی اور اس کے حمایتی بہرحال جو مخلص مسلمان اپنی نادانی سے اس بہتان میں شریک ہوگئے تھے ان کی توبہ قبول فرما کر ان کو بچالیا اور منافقوں کیلئے وعید فرمائی اور محصنات فرمایا اگرچہ صرف حضرت عائشہ ؓ پر تہمت لگائی تھی لیکن حضرت عائشہ ؓ کی تہمت کا اثر ازواج مطہرات پر بھی پڑا بلکہ انبیائے سابقین کی عورتوں پر بھی یہ شبہ کیا جانے لگا کہ کا نبی کی عورت بدکار ہوسکتی ہے حالانکہ بعض نبیوں کی بیویوں کا کافر ہونا تو ثابت ہے لیکن کسی پیغمبر کی بیوی کا بدکار ہونا ثابت نہیں ولاینبغی لا مراۃ تحت نبی ان تفجر۔ کوئی عورت جو کسی نبی کے نکاح میں ہو اس کا بدکار ہونا کسی طرح مناسب نہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول مشہور ہے کہ کسی نبی کی عورت نے بدکاری کا ارتکاب نہیں کیا حضرت عائشہ ؓ کے خلاف جو طوفان اٹھایا گیا اس سے چونکہ علاوہ دیگر خاندانوں کے حضرات انبیاء کی بیویوں کی پوزیشن مشتبہ ہوتی تھی اس لئے جمع سے تعبیر فرمایا۔
Ayah 24:26

اَلْخَبِیْثٰتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ وَ الْخَبِیْثُوْنَ لِلْخَبِیْثٰتِ١ۚ وَ الطَّیِّبٰتُ لِلطَّیِّبِیْنَ وَ الطَّیِّبُوْنَ لِلطَّیِّبٰتِ١ۚ اُولٰٓئِكَ مُبَرَّءُوْنَ مِمَّا یَقُوْلُوْنَ١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ۠ Open ayah 24:26 in the Quran reader

ناپاک باتیں ناپاک لوگوں کے لئے زیبا ہیں اور ناپاک لوگ ناپاک باتوں کے لئے موزوں ہیں اور پاکیزہ باتیں پاک لوگوں کے لئے مناسب ہیں اور پاک لوگ پاکیزہ باتوں کے لئے موزوں ہیں وہ لوگ اس بہتان سے بالکل پاک ہی جو یہ طوفان اٹھانے والے کہتے پھرتے ہیں ان بےگناہوں کیلئے بڑی بخشش اور باعزت روزی ہے

(26) ناپاک عورتیں گندے مردوں کے لائق ہیں اور ناپاک مرد گندی عورتوں کے لئے موزوں ہیں اور پاک عورتیں پاکیزہ اور ستھرے مردوں کے لائق ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ اور ستھری عورتوں کے لئے موزوں ہیں وہ لوگ اس بہتان اور طوفان سے بالکل بری اور پاک ہیں جو یہ منافق کہتے پھرتے ہیں۔ ان پاک اور بےگناہ لوگوں کے لئے بڑی بخشش اور باعزت روزی ہے۔ آیت کی دو طرح تفسیر کی گئی ہے ہم نے ترجمے اور تیسیر میں دونوں کی رعایت رکھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ پاکیزہ عورتیں ستھرے مردوں کے لائق ہیں اور ستھرے مرد پاکیزہ عورتوں کے لئے مناسب اور موزوں ہیں۔ اسی طرح گندی عورتیں ناپاک مردوں کے لئے اور گندے مرد ناپاک عورتو کے لئے۔ یا یہ مطلب ہے کہ ناپاک باتیں گندے لوگوں کو زیبا اور موزوں ہیں اور گندے لوگ گندی باتوں کے لئے مناسب ہیں۔ اسی طرح پاک باتیں ستھرے لوگوں کے لئے مناسب و لائق ہیں اور پاک لوگ ستھری باتوں کے لئے موزوں ہیں۔ غرض ! خاندان نبوت جو پاکیزہ حضرات کا خاندان ہے ان کے ہاں گندی باتوں اور فحش عورتوں کا کیا کام وہ لوگ اس قسم فحش باتوں سے بالکل بری اور پاک ہیں جو یہ منافق بکتے پھرتے ہیں ان کے لئے ان کی شان کے موافق مغفرت و بخشش کا برتائو ہونے والا ہے اور باعزت روزی ملنے والی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ابن عباس نے کہا کہ کسی پیغمبر کی عورت بدکار نہیں ہوئی۔ یعنی اللہ ان کیے ناموس کی نگہبانی کرتا ہے۔
Ayah 24:27

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ بُیُوْتِكُمْ حَتّٰى تَسْتَاْنِسُوْا وَ تُسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَهْلِهَا١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 24:27 in the Quran reader

اے ایمان والو تم اپنے گھروں کے سوا دوسروں کے گھروں میں اس وقت تک داخل نہ ہوا کرو جب تک کہ ان گھر والوں سے اجازت حاصل نہ کرلو اور اس مکان کے رہنے والوں کو سلام علیک نہ کرلو یہ سلام کرکے اجازت لینا تمہارے حق میں بہتر ہے یہ حکم تم کو اس لئے دیا گیا ہے تاکہ تم اس کو یاد رکھو۔

(27) اے ایمان والو ! تم اپنے رہنے اور سکونتی مکان کے علاوہ دوسروں کے گھروں میں اس وقت تک نہ داخل ہو جب تک اس گھر کے رہنے والوں سے اجازت نہ حاصل کرلو اور اس مکان کے رہنے والو کو السلام علیکم نہ کرلو۔ یہ السلام علیکم کہہ کر اجازت طلب کرنا تمہارے لئے بہتر ہے یہ حکم تم کو اس لئے دیا گیا تاکہ تم اس کا خیال رکھو اور تم یاد رکھو حضرت عدی بن ثابت ایک انصری سے روایت کرتے ہیں کہ ایک انصاری عورت نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض یا یا رسول اللہ میں اپنے گھر میں کبھی ایسی حالت میں ہوتی ہوں کہ میں اس بات کو پسند نہیں کرتی کہ کوئی شخص مجھ کو اس حالت میں دیکھے لیکن آنے والا آجاتے ہے تو میں ایسے موقعہ پر کیا کروں اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ پہلے اجازت لے کر مکان میں داخل ہونے کا حکم نہ تھا لوگ داخل ہوجاتے تھے اب ادب سکھایا اپنے مکان میں کوئی کھلا بیٹھا ہوتا ہے کوئی ڈھکا اس لئے جب کسی غیر کے مکان میں داخل ہونے لگو تو پہلے کہو۔ السلام علیکم ا ادخل یعنی کیا میں آسکتا ہوں اور مکان میں داخل ہوسکتا ہوں تین مرتبہ ایسا ہی کرے اگر مکان والے اجازت دے دیں تو داخل ہوجائے ورنہ واپس چلا آئے۔ فقہا فرماتے ہیں اپنے گھر میں بھی جائے تو کھنکا کر جائے یا آواز دے کر جائے تاکہ گھر والوں کو معلوم ہوجائے شاید کوئی پاس پڑوس کی عورت آئی ہوئی ہو حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی بیخبر کسی کے گھر میں نہ گھس جائے کیا جانے وہ کس حال میں ہے اول آواز دیوے اور سب سے بہتر آواز سلام کی۔
Ayah 24:28

فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فِیْهَاۤ اَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوْهَا حَتّٰى یُؤْذَنَ لَكُمْ١ۚ وَ اِنْ قِیْلَ لَكُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا هُوَ اَزْكٰى لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ Open ayah 24:28 in the Quran reader

پھر اگر ان گھروں میں تم کسی کو نہ پائو تو ان میں اس وقت تک داخل نہ ہو جب تک تم کو اجازت نہ دے دی جائے اور اگر تم کو صاحب خانہ کی طرف سے بجائے اجازت کے یہ کہاجائے کہ اس وقت تشریف لے جائیے تو تم لوٹ آئو یہ واپس آجانا تمہارے لئے زیادہ صفائی کی بات ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے بخوبی واقف ہے

(28) پھر اگر تم ان گھروں میں کسی کو نہ پائو تو ان میں اس وقت تک داخل نہ ہو جب تک تم کو اجازت نہ دے دی جائے اور اگر اجازت حاصل کرتے وقت تم کو کہا جائے کہ لوٹ جائو اور تشریف لے جائو تو تم لوٹ آئو یہ واپس لوٹ آنا تمہارے لئے زیادہ صفائی کی بات ہے اور تمہارے لئے بہتر ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس سب کو جانتا ہے یعنی جس مکان میں تم داخل ہونا چاہتے ہو اس میں کوئی نہ ہو یا ہو اور وہ جواب دینے کی اہلیت اور صلاحیت نہ رکھتا ہو تب بھی جب تک اجازت نہ مل جائے داخل نہ ہو تاکہ تصرف فی ملک الغیر لازم نہ آئے۔ پھر اگر اجازت حاصل کرتے وقت بجائے اجازت کے یہ کہا جائے کہ اس وقت موقعہ نہیں ہے واپس جائو تو واپس چلے آئو وہاں جم کر نہ بیٹھ جائو۔ بسا اوقات صاحب خانہ کسی ایسے کام میں مشغول ہوتا ہے کہ اس کو ملاقات کرنا گراں ہوتا ہے اور اس کے کام میں ہرج ہوتا ہے اس لئے اگر وہ واپس جانے کو کہے تو چلے آئو اصرار نہ کرنے لگو۔ یہ تمہارے لئے بہت صفائی اور پاکیزگی کی بات ہے اس میں نہ صاحب خانہ پر گرانی ہوگی اور نہ اس کو ایذا رسانی کے مرتکب ہوگے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے بخوبی واقف ہے اگر ہمارے حکم کی خلاف ورزی کروگے تو سزا اور باز پرس کے مستحق ہوگے۔
Ayah 24:29

لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ مَسْكُوْنَةٍ فِیْهَا مَتَاعٌ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 24:29 in the Quran reader

ہاں ایسے مکانات جن میں کوئی سکونت پذیر نہ ہو یعنی مسافر خانہ اور خانقاہ وغیرہ اور تمہاری ان میں کوئی چیز ہو تو ایسے مکانوں میں بلا اجازت داخل ہوجانے سے تم پر کوئی گناہ نہیں اور جو کچھ تم علانیہ کرتے ہو اور جو تم چھپا کر کرتے ہو خدا تعالیٰ اس سب کو خوب جانتا ہے

(29) تم لوگوں پر ایسے غیر مسکونہ مکانات میں بلااجازت داخل ہونے پر کوئی گناہ نہیں ہوگا جن میں گھر کی طرح کوئی نہ رہتا ہو اور ان میں تمہاری کوئی چیز ہو اور تمہارا کوئی نفع ان سے وابستہ ہو اور جو کچھ تم علانیہ کرتے ہو اور جو تم چھپا کر کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس کو خوب جانتا ہے یعنی ایسے مکانات جو مفادعامہ سے متعلق ہیں کہ ان میں جانے آنے کی عام اجازت ہوتی ہے مثلاً مسجد، خانقاہ، مسافر خانہ وغیرہ کہ ان مقامات پر عام لوگ آتے ہیں اور ٹھہرتے ہیں کبھی سامان بھی رکھ دیتے ہیں تم بھی ان سے نفع اٹھانا چاہو رہنا چاہو قیام کرنا چاہو سامان رکھنا چاہو تو چونکہ ایسے مکانات میں دلالۃً عام اجازت ہوتی ہے تو تم بھی بلاکسی خاص اجازت کے ان مکانات میں جاآسکتے ہو۔ ان مکانات میں بلا اجازت داخل ہونے سے کوئی گناہ نہ ہوگا۔ یہاں تک مکانات کی چار قسمیں ہوئیں۔ (1) اپنے رہنے کا خاص مکان کہ اس میں کسی دوسرے کے آنے کا احتمال ہی نہیں ایسے مکان میں اجازت کی ضرورت ہی نہیں احتیاطاً کسی ایسے اشارے کی حاجت ہے کہ گھر والوں کو معلوم ہوجائے کہ صاحب خانہ آرہے ہیں۔ (2) وہ جس می کوئی اور رہتا ہو خواہ اپنے قریبی رشتہ دار اور عزیز ہی کیوں نہ ہوں اس میں بغیر استیذان کے داخل ہونے کی ممانعت ہے۔ (3) جس میں کسی کے رہنے یا نہ رہے کا احتمال ہو ی بالفعل کوئی نہ رہتا ہو اس میں بھی بلااستیذان داخل نہ ہو کوئی آباد نہ ہو تو مالک مکان کی اجازت ضروری ہے (4) وہ مکانات جن میں کوئی گھر کی طرح آباد نہ ہو اور ان کا تعلق رفاہ عام سے ہو۔ جیسے مسجد، خانقاہ، سرائے، مسافر خانہ وغیرہ ان مکانات سے جبکہ تمہارا نفع وابستہ ہو قیام کا ارادہ ہو یا برتنے کا سامان رکھا ہو تو ان مکانات میں بلا اجازت داخل ہونے میں کوئی گناہ نہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں فائدہ ہو تمہارا یعنی مسافر خانہ۔ 12 حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کوئی گھر میں نہ ہو اور پر دانگی دے رکھی ہو تو خالی گھر میں جائو اور نہ دی ہو تو نہ جائو اور پھر جائو کہے سے برا نہ مانو اس میں آپس کی ملاقات صاف رہتی ہے ایک دوسرے پر بوجھ نہیں پڑتا۔ 12 حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں شاید سننے والوں کے دل میں آیا ہوگا کہ جس طرح میں کوئی نہیں تو کس سے پر دانگی لیویں یہ ہر وقت پوچھ کر جانا جدی گھر والوں کو ہے اور جو ایک گھر کے لوگ ہیں جیسے لونڈی اور غلام یا اولاد ان کو ہر وقت پوچھنا ضروری نہیں مگر تین وقت خلوت کے وہ اس سورت کے آخر میں ہے 12 یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اگر کسی گھر میں آگ لگ رہی ہو یا اس گھر کے آدمی ڈوب رہے ہوں یا ڈاکو لوٹ رہے ہوں تو ایسے مواقع میں اجازت کی ضرورت نہ ہوگی۔