24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 24:30

قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ١ؕ ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 24:30 in the Quran reader

اے پیغمبر آپ مسلمان مردوں سے کہ دیجئے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کیا کریں یہ نگاہ کا نیچا رکھنا اور شرمگاہوں کی حفاظت ان کے لئے بڑی پاکیزگی کی بات ہے بیشک جو کچھ لوگ کیا کرتے ہیں اللہ اس سب سے باخبر ہے

(30) اے پیغمبر ! آپ مسلمان مردوں سے فرما دیجئے کہ وہ اپنی نگاہوں کو پست اور نیچا رکھا کریں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کیا کریں یہ نگاہوں کا نیچا رکھنا اور شرمگاہوں کی حفاظت کرنا ان کے لئے بڑی پاکیزگی کی بات ہے۔ بلاشبہ جو کچھ لوگ کیا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اس سب سے باخبر ہے۔ اوپر کی آیتوں میں زنا کی برائی بیان فرمائی تھی پھر زنا کی تہمت لگانے کی برائی مذکور ہوئی اب دواعی زنا کی برائی اور مقتضائے احتیاط کا بیان ہے تاکہ زنا کی نوبت نہ آئے اسی احتیاط کی بنا پر گھروں میں بےروک ٹوک جانے کی ممانعت فرمائی اب نگاہ نیچی رکھنے کی تعلیم دی یعنی جس عضو کو دیکھنے کی اجازت نہیں اس کو نہ دیکھیں اور جس عضو کو دیکھنے کی اجازت ہے اس کو شہوت اور بدنگاہی کے ساتھ نہ دیکھیں اور شرمگاہوں کی حفاظت کا مطلب یہ ہے کہ ناجائز محل میں شہوت رانی نہ کریں اس سلسلہ میں جو لوگ نفسانی خواہش کو پورا کرنے کے لئے جو کارروائیاں کرتے رہتے ہیں اللہ تعالیٰ ان سب سے باخبر ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں تھامتے رہیں ستر یعنی نہ کسی کا ستر دیکھیں اور نہ اپنا دکھائیں اور خبر ہے جو کرتے ہیں کفر کی رسم میں اس بات کی قید نہ تھی۔ 12۔ یعنی زمانہ جاہلیت میں ستر دیکھنے دکھانے پر کوئی پابندی نہ تھی وہ دور بےحیائی اور فحش کا دور تھا۔ حدیث شریف میں ہے کہ پہلی نظر جو بلاقصد کسی اجنبی عورت پر پڑجائے وہ قابل عفو ہے اور دوبارہ جو قصداً نظر ڈالی جائے وہ قابل مواخذہ ہے۔
Ayah 24:31

وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُیُوْبِهِنَّ١۪ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآئِهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآئِهِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اَخَوٰتِهِنَّ اَوْ نِسَآئِهِنَّ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ اَوِ التّٰبِعِیْنَ غَیْرِ اُولِی الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْهَرُوْا عَلٰى عَوْرٰتِ النِّسَآءِ١۪ وَ لَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِهِنَّ١ؕ وَ تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ جَمِیْعًا اَیُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 24:31 in the Quran reader

اور آپ مسلمان عورتوں سے بھی کہہ دیجئے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زیبائش کو ظاہر نہ کریں مگر ہاں جو اس میں سے مجبورًا کھلا رہتا ہے اور اپنے دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈال لیا کریں یعنی سینوں کو ڈھانک کر اوڑھا کریں اور اپنی زیبائش کو کسی پر ظاہر نہ کریں مگر ہاں اپنے خاوندوں پر یا اپنے باپ یا اپنے شوہر کے باپ پر یا اپنے بیٹوں پر یا اپنے شوہر کے بیٹوں پر یا اپنے بھائیوں پر یا اپنے بھائیوں کے بیٹوں پر یا اپنی بہنوں کے بیٹوں پر یا اپنی ہم مذہب عورتوں پر یا اپنی لونڈیوں پر یا ان خدمت گزار مردوں پر جو خواہشات سے خالی اور بےغرض ہوں یا ایسے نادان بچوں پر جو عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے ابھی واقف نہیں ہوئے اور مسلمان عورتوں سے یہ بھی فرما دیجئے کہ وہ چلنے میں اپنے پائوں زور سے نہ رکھیں کہ ان کا وہ زیور پہچانا جائے جس کو وہ چھپاتی ہیں اور اے ایمان والو ! تم سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ تم فلاح پائو۔

(31) اور اے پیغمبر ! آپ مسلمان عورتوں سے بھی کہہ دیجئے کہ وہ اپنی نگاہوں کو پست اور نیچا رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنے سنگار اور اپنی زیبائش کو ظاہر نہ کیا کریں مگر ہاں اس میں سے جو مجبوراً کھلا رہتا ہے اور اپنے دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈال لیا کریں اور اپنے سنگار اور اپنی زیبائش کو کسی پر ظاہر نہ کریں مگر ہاں اپنے خاوندوں پر یا اپنے شوہر کے باپوں پر یعنی خسر یا دو یا خسر یا اپنے بیٹوں یا اپنے شوہر کے بیٹوں۔ یا اپنے بھائیوں پر خواہ وہ حقیقی ہوں یا علاتی ہوں یا اخیانی یا مذکورہ بھائیوں کے بیٹوں پر یا اپنی بہنوں کے بیٹوں پر یہ بہنیں خواہ حقیقی ہوں یا علاتی یا اخیانی ہوں یا اپنی ہم مذہب عورتوں پر یعنی مسلمان عورتوں پر یا اپنی لونڈیوں پر گھر کا کاروبار کرنے اور خدمت میں مشغول رہنے والے ان مردوں پر جو بےغرض ہوں خواہ بوڑھے اور ضعیف ہونے کی وجہ سے یا مسلوب العقل اور ہوش و حواس گم ہونے کی وجہ سے ان کو نہ عورتوں کی خواہش ہے نہ وہ عورتوں سے رغبت کرتے ہیں اور نہ ان لڑکوں پر جو عورتوں کی پوشیدہ اور پردے کی باتوں سے ابھی باخبر اور ناواقف ہیں اور مسلمان عورتوں سے یہ بھی فرمادیجئے کہ اپنے پائوں زور سے نہ ماریں اور چلنے میں زور سے پائوں نہ رکھیں کہ ان کا وہ مخفی سنگار اور زیور جانا پہچانا جائے جس کہ وہ پوشیدہ رکھتی ہیں اور اے ایمان والو ! تم سب اللہ تعالیٰ کی جناب میں رجوع کرو اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرو تاکہ فلاح پائو اور اپنے مقصد میں کامیاب ہو مطلب یہ ہے کہ سنگار اور زینت کے مواقع ظاہر نہ کریں بلکہ پردے میں رکھیں اور جب مواقع زینت کو پوشیدہ رکھا جائے گا تو زینت اور زیبائش بھی پوشیدہ رہے گی۔ ہاں ! جس کا کھولنا کاروبار کی وجہ سے مجبوراً ہو وہ عورت کا چہرہ اور کفین ہے۔ جیسا کہ ابودائود ابن مردویہ اور بیہقی اور ابن ابی شیبہ کی روایات سے ثابت ہے اور فقہائے حنفیہ نے ضرورت کا لحاظ رکھتے ہوئے قدمین یعنی دونوں پائوں کو اس پر قیاس کرلیا ہے تو یہ تین چیزیں یعنی عورت کا چہرہ اور کفین اور قدمین مستثنا ہونگے اور ستر میں داخل نہ ہوں گے اور جب یہ اعضاء کھولنے کی اجازت ہوئی تو ان کی زینت مثلاً سرمہ، کا جل، مستی، انگوٹھیاں اور ہتھیلیوں کی مہندی اور پائوں کے انگوٹھی چھلے اور پائوں کی مہندی بھی مستثنیٰ ہوگئی۔ بہرحال ! یہ چیزیں ضرورت کے لئے مستثنیٰ کی گئی ہیں اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مرد بھی ان چیزوں کو عورت کی گھورتے پھریں۔ پھر ارشاد فرمایا عورتوں کو چاہیے کہ اپنے سینے دوپٹوں سے ڈھانکے رہیں یعنی اوڑھنی یا دوپٹہ سر ڈھانکنے کے لئے ہے لیکن سر پر سے اس طرح اوڑھیں کہ سینہ بھی ڈھک جائے۔ یعنی کل سینے کو ڈھانک کر ماریں یہ مطلب نہیں کہ سر کھول دیں اور دوپٹہ اتنا بڑا ہو کہ سر کے ساتھ سینہ بھی ڈھانک لیں۔ اس کے بعد حضرت حق تعالیٰ نے اس زینت اور مواقع زینت کا ذکر فرمایا جن کا اجانب کے روبرو تو ظاہر کرنا حرام ہے لیکن محارم کے روبرو مثلاً سر، سینہ بازو، کو ہنیاں، پنڈلیاں خواہ گلے کا ہار ہو یا بازو بند ہوں۔ پہنچیاں اور چوڑیاں ہوں یا جھانجھن اور پائوں کے توڑے ہوں یہ سب چیزیں وہ ہیں جو صرف محارم کے آگے جیسے خاوند یا وہ آدمی جن سے ابدی طور پر نکاح حرام ہے ان کے روبرو کشف جائز ہے۔ جیسے خاوند یا اپنے باپ دادا۔ یا خاوند کے باپ دادا یا اپنے بیٹے پوتے یا اپنے خاوند کے بیٹوں پر یا اپنے بھائیوں پر۔ یا اپنے بھائیوں کے بیٹوں پر یا اپنی بہنوں کے بیٹوں پر (یہ بہن بھائی خواہ حقیقی ہوں یا علاتی اور اخیانی ہوں) یا اپنی ہم مذہب یعنی مسلمان عورتوں پر کیونکہ غیر مسلمہ عورتیں اجانب مردوں کے حکم میں ہیں۔ تحقیق یہی ہے اور اپنی لونڈیوں پر زینت اور مواقع زینت کا کشف جائز ہے خواہ دہ باندی مومنہ ہو یا کافرہ۔ البتہ غلام کے روبرو نہیں۔ حنفیہ کے نزدیک غلام اجنبی مرد کے حکم میں ہے یا ان خدمت گاروں کے رو برو بھی زینت کے مقامات کا کشف جائز ہے جن کو عرب میں طفیلی کہا کرتے تھے یہ لوگ گھروں کا کام کاج کیا کرتے تھے اور گھروں میں پڑے رہتے تھے اور ان کو تابع کہتے تھے یعنی عمر سے اترے ہوئے لوگ جن کو عورت کی خواہش ہی باقی نہ رہے ہوش و حواس بھی صحیح نہ ہو۔ اور یہ حالت خواہ ضعیفی اور پیرانہ سالگی کی وجہ سے ہوگئی ہو یا عقلی ہی مسلوب عنہ ہو۔ یا کم سن بچوں کے روبرو جوا بھی عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے واقف نہ ہوں۔ یعنی غیر مراہق۔ مراہق یعنی قریب البلوغ یا بالغ لڑکوں کے روبرو نہیں۔ آگے حضرت حق جل مجدہ نے عورتوں کو چلنے پھرنے کا ادب سکھایا کہ چلنے میں پائوں زور سے نہ ماریں کہ مخفی زیور کا اظہار ہو اور آواز سننے والے پازیب یا جھانجن چوڑیوں کی آواز سن کر معلوم کرلیں کہ اس کی پنڈلی میں فلاں زیور ہے یعنی غیر مردوں کو زیور کی جھنکار بھی نہ سنائیں۔ ان تمام امور کے بعد توبہ کرنے اور خدا کی جناب میں رجوع ہونے کا حکم دیا تاکہ فلاح کامل کے حق دار قرار پائیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں سنگار میں سے کھلی چیز ایسی چیز کو کہا جیسے چٹے کپڑے اور نئی پاپوش یا یہ کہ عورت کو تھوڑا سا منہ اور ہاتھ کی انگلیاں اور پائوں کا پنجہ کھولنا ناچاری کو پھر ہاتھ کی میندھی کھلے یا آنکھوں کا کا جل یا انگلی کا چھلا اور باقی دن اور گہنا ڈھانکناضروری ہے غیر سے مگر اپنے محرموں سے چھاتی سے زانو تک اور اپنی عورتیں جو نیک چال کی ہوں ان سے بھی اتنا ضرور ہے اور بد راہ عورتوں سے کنارہ پکڑنا اور کمیرے جن کو غرض نہیں یعنی کھانے اور سونے میں غرق ہیں شوخی نہیں رکھتے اور لڑکا دس برس تک اور اپنا غلام بھی محرم ہے۔ بہت علماء کے نزدیک اور پائوں کی دھمک سے معلوم ہوتے ہیں گھونگرو یا گجری اور باریک کپڑا جس سے بدن نظر آوے ننگی اور وہ برابر ہے اور اتنا بھی نہ کھولے تو بہتر ہے۔ 12 طفیلی کے سلسلے میں جو کچھ عرض کیا گیا اس سے حواس باختہ لوگ مراد ہیں ورنہ جن کو عقل ہے خواہ وخصی ہوں یا مقطوع الذکر ہوں ان سب سے کشف ممنوع ہے۔ اسی حکم میں ہیجڑے، زنانے، نامرد سب داخل ہیں آیت مذکورہ بالا میں چچا اور ماموں کا ذکر نہیں فرمایا حالانکہ وہ بھی محرم ہیں یہ شاید اس لئے ہو کہ چچا اور ماموں مواقع زینت کو دیکھ کر اپنی اولاد سے ذکر کریں اور کسی فتنہ کا موجب ہو اسی لئے بعض علماء نے فرمایا ہے کہ جن مجرموں کا قرآن کریم نے ذکر نہیں کیا ان کے سامنے مواقع زینت کے کشف میں احتیاط سے کام لیں۔
Ayah 24:32

وَ اَنْكِحُوا الْاَیَامٰى مِنْكُمْ وَ الصّٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَ اِمَآئِكُمْ١ؕ اِنْ یَّكُوْنُوْا فُقَرَآءَ یُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:32 in the Quran reader

اور تم میں جو مرد و عورت بےنکاح کے ہوں ان کا نکاح کردیا کرو اور تمہارے غلام اور لونڈیوں میں سے جو نکاح کی صلاحیت رکھتے ہوں ان کا بھی نکاح کردیا کرو اگر وہ لوگ مفلس ہوں گے تو اللہ ان کو اپنے فضل سے غنی کردے گا اور اللہ تعالیٰ بڑا فیاض اور سب کی حالت کو جاننے والا ہے۔

(32) اور تم میں سے جو مرد وعورت بےنکاح کے ہوں ان کے نکاح کردیا کرو اور تمہارے غلام اور باندیوں میں سے جو نکاح کی صلاحیت اور اہلیت رکھتے ہوں اور نکاح کے لائق ہوں ان کا بھی نکاح کردیا کرو اگر وہ لوگ مفلس ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو اپنے فضل سے غنی کردے گا اور اللہ تعالیٰ بڑی کشائش والا بڑا فیاض اور سب کی حالت جاننے والا ہے۔ آیت کے پہلے حصہ میں آزاد مرد و عورت کے لئے حکم دیا کہ ان کے نکاح کردو۔ نکاح کے مختلف احوال ہیں بعض حالات میں مستحب یا سنت اور بعض حالات میں واجب ہے پھر اپنے غلام اور باندیوں کے متعلق ارشاد فرمایا کہ وہ حقوق زوجیت ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں اور نکاح کے بعد ان کے مغرور ہوجانے اور تمہاری خدمت میں کوتاہی کرنے کا اندیشہ نہ ہو تو ان کو نکاح کی اجازت دو اور ان کا نکاح کردو اور آزاد لوگوں کو اگر یہ اندیشہ ہو کہ ہمارا کام کیوں کر چلے گا بیوی آجائے گی تو ہم مفلسی میں اس کی خدمت کیونکر کریں گے تو وہ اگر مفلس ہوں گے تو اللہ تعالیٰ نکاح کے بعد ایسے اسباب پید کردے گا جن سے یہ لوگ غنی ہوجائیں گے اور اللہ تعالیٰ اگر چاہے گا تو ان کو اپنے فضل اور مہربانی سے غنی کردے گا کیونکہ اللہ تعلالیٰ معاش کی کشائش کرنے والا اور غریب و امیر سب کی حالت جاننے والا ہے۔ حدیث شریف میں ہے تین شخص ایسے ہیں جن کی مدد کرنا اللہ تعالیٰ پر ایک حق ہے پہلا وہ نکاح کرنے والا جو زنا سے بچنے کے لئے نکاح کرنے کا ارادہ کرتا ہے دوسرے وہ مکاتب غلام جو زر کتابت ادا کرنا چاہتا ہے تیسرے اللہ کی راہ میں جہاد اور غزوہ کرنے والا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں رسول ﷺ نے فرمایا اے علی ؓ ! تین کام میں دیر نہ کر۔ (1) نماز فرض کا جب وقت آئے۔ (2) جنازہ جب موجود ہو۔ (3) رانڈ عورت کو جب مرد ملے اس کی ذات کا جو کوئی دوسرا خاوند کرنے کو عیب دے اس کا ایمان سلامت نہیں اور جو نیک ہوں لونڈی غلام یعنی بیاہ دینے سے مغرور نہ ہوجاویں تمہارا کام نہ چھوڑیں۔ 12
Ayah 24:33

وَ لْیَسْتَعْفِفِ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ نِكَاحًا حَتّٰى یُغْنِیَهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَبْتَغُوْنَ الْكِتٰبَ مِمَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوْهُمْ اِنْ عَلِمْتُمْ فِیْهِمْ خَیْرًا١ۖۗ وَّ اٰتُوْهُمْ مِّنْ مَّالِ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ لَا تُكْرِهُوْا فَتَیٰتِكُمْ عَلَى الْبِغَآءِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَنْ یُّكْرِهْهُّنَّ فَاِنَّ اللّٰهَ مِنْۢ بَعْدِ اِكْرَاهِهِنَّ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:33 in the Quran reader

اور وہ لوگ جن کو نکاح کا مقدور نہ ہو تو ان کو چاہئے کہ وہ پاک دامن رہیں یہاں تک کہ اللہ ان کو اپنے فضل سے مالدار کرے اور تمہاری لونڈی اور غلاموں میں سے جو مکاتب ہونے کی خواہش کریں تو تم ان کو مکاتب بنادیا کرو بشرطیکہ تم ان میں بہتر پائو اور اللہ کے اس مال میں سے جو اس نے تم کو دے رکھا ہے ان مکاتبوں کو بھی دو اور اپنی باندیوں کو محض اس غرض سے کہ تم دنیاوی زندگی کا کچھ فائدہ حاصل کرلو بدکاری کرانے پر مجبور نہ کرو جبکہ وہ پاکدامن رہنا چاہیں اور جو شخص ان باندیوں کو زناکاری پر مجبور کرے گا تو بیشک اللہ ان باندیوں کو ان کی اس بےبسی کے بعد بخشنے والا ہے

(33) اور وہ لوگ جو نکاح کا سامان نہ پائیں اور ان کو نکاح کا مقدورنہ ہو ان کو چاہئے کہ وہ بچتے رہیں اور ضبط کرتے رہیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کو غنی اور صاحب مقدور کردے اور اپنے فضل اور مہربانی سے ان کو مالدار بنادے اور تمہارے مملوک خواہ وہ غلام ہوں یا لونڈیاں ان میں سے جو مملوک لکھا دینے کی خواہش کریں اور مکاتب بننا چاہیں تو تم ان کو مکاتب بنادیا کرو۔ اگر تم ان میں بہتری اور بھلائی پائو اور جانو اور اس مال میں سے جو اللہ تعالیٰ نے تم کو دیا ہے ان کو بھی کچھ دو یعنی اپنے مکاتبوں کو اور اپنی باندیوں کو محض اس غرض سے کہ دنیوی زندگی کا کچھ فائدہ حاصل کرو اور دنیوی زندگی کا سامان ان سے حاصل کرو ان لونڈیوں کو بدکاری کرنے اور ہمیشہ کمانے پر مجبور نہ کرو جبکہ وہ پاک دامن رہنا چاہیں اور اپنے کو م محفوظ رکھنا چاہیں اور جو شخص ان لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور کرے گا تو اللہ تعالیٰ ان باندیوں کو ان کی مجبوری اور بےبسی کے بعد بخشنے والا مہربان ہے۔ ایسے لوگ جن کے پاس بیوی کے نان نفقہ اور مہر معجل کے ادا کرنے کو کچھ نہ ہو اور اس غربت و فقر میں کوئی عورت نکاح کرنے پر آمادہ نہ ہو تو ایسے لوگوں کو ضبط نفس سے کام لینا چاہئے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اگر چاہے تو صاحب مقدور کردے۔ اوپر کی آیت میں نکاح کی رغبت تھی اور وعدہ غنا بھی تھا لیکن یہ ضروری نہیں کہ کوئی عورت نکاح کے لئے آمادہ بھی ہوجائے اگر کوئی عورت شادی کے لئے تیار ہو تو کرلو لیکن جن کو نکاح میسر نہ ہو تو پھر ضبط نفس سے کام لو۔ حدیث شریف میں آتا ہے اے نوجوانوں کی جماعت جو تم میں سے نکاح کی استطاعت رکھتا ہے اس کو چاہئے کہ نکاح کرلے یہ نکاح کرلینا نگاہ کو پست کرنے والا اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا ہے اور جس کو نکاح کی استطاعت اور مقدور نہ ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ روزے رکھے یہ روزے رکھنا اس کے بچائو کا بڑا سبب ہے آگے اسی مناسبت سے جو لونڈی اور غلاموں کے ساتھ رعایت کا حکم ہے مکاتب کی شکل فرمائی۔ مکاتبت ایک معاہدہ ہے جو آقا اور غلام کے درمیان اس شرط پر ہوتا ہے کہ اگ غلام اتنا اتنا مال کما کر مجھے یعنی آقا کو دیدے تو آق اس کو آزاد کردے گا اگر غلام اس شرط کو منظور کرلے تو معاہدہ ہوجاتا ہے اور معاہدہ کی لکھت پڑھت ہوجاتی ہے۔ ایسے غلام کو مکاتب کہا جاتا ہے اگر یہ کما کر موعودہ رقم دے دے تو آزاد ہوجائے گا اور اگر عاجز ہوگیا اور کما کر نہ دے سکا تو اگر اس نے خود معاہدے کو فسخ کردیا تو فسخ ہوجائے گا ورنہ حاکم کو درخواست دیکر فسخ کرالیا جائے گا اور مکاتبت ٹوٹ جائے گی۔ ان میں کوئی بھلائی پائو یعنی وہ لونڈی یا غلام کوئی ہنر جانتے ہوں جس سے یہ اندازہ ہو کہ کما کر ادا کریں گے۔ کمانے اور خرچ کرنے کا سلیقہ رکھتے ہوں۔ تو ایسے غلام کو اگر چاہو تو مکاتب بنائو۔ مکاتب کی امداد کیلئے قرآن کریم میں کئی جگہ تاکید فرمائی ہے۔ یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ تم کو جو مال اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اس میں سے ان کو بھی دو تاکہ وہ جلد ادا کرکے آزاد ہو سکے۔ زمانہ جاہلیت میں لونڈیوں سے پیشہ کراتے تھے اور زنا کی کمائی ان سے حاصل کیا کرتے تھے اس کی حرمت بیان فرمائی کہ معصیت پر اکراہ مت کیا کرو اور خاص کر جبکہ وہ عورتیں اور تمہاری باندیاں اس فعل خبیث سے محفوظ رہنا اور بچنا چاہتی ہوں اور اگر ان کو زنا پر مجبور کیا گیا تو اللہ تعالیٰ ان کی مجبوری اور بےبسی کے پیش نظر بخشنے والا مہربان ہے۔ اس آیت میں جو قیود بیان فرمائی ہیں وہ واقعی قیود ہیں یہ مطلب نہیں کہ اگر یہ باتیں نہ ہوں تو ان کا اکراہ جائزہوجائے زنا کے لئے اکراہ کرنا یا ترغیب دینا بہرحال حرام ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں لکھا چاہیں یعنی کسی کا غلام لونڈی کہے کہ میں اتنی مدت میں اتنا تجھ کو کما دوں تو مجھ کو آزاد کر یہ اقرار لکھوا لیں اس کو کتابت کہتے ہیں جو اس میں نیکی دیکھے تو لکھ دے نیکی یہ کہ آزاد ہو کر قید سے چھوٹ کر چوری بدکاری نہ کرے گا اور دولت مندوں کو فرمایا کہ ایسے غلام لونڈی کو مال سے مدد کرو تاکہ آزاد ہو ویں خواہ زکوٰۃ سے خواہ اور خیرات سے اور لونڈیوں سے بدکاری کروانی مال کمانے کو بڑا وبال ہے۔ خواہ وے خوش ہوں خواہ ناخوش، ناخوشی پر اور زیادہ وہ مال سب ناپاک اور ناخوشی میں لونڈی بےگناہ ہے۔ 12
Ayah 24:34

وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ وَّ مَثَلًا مِّنَ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 24:34 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے تمہارے لئے کھلے کھلے احکام نازل کئے ہیں اور نیز جو لوگ تم سے پہلے ہو گزرے ہیں ان کے بعض حالات و واقعات اور ڈرنے والوں کے لئے نصیحت کی باتیں نازل کی ہیں

(34) اور بلاشبہ ! ہم نے تمہارے لئے کھلے اور واضح احکام اور جو لوگ تم سے پہلے ہوگزرے ہیں ان کے کچھ واقعات و حالات اور ڈرنے والوں کے لئے موعظت و نصیحت کی باتیں نازل فرمائی ہیں یعنی اس قرآن کریم میں علمی اور عملی احکام بھی نازل فرمائے گزشتہ اقوام کے عبرت ناک حالات بھی مذکور فرمائے اور خدا سے ڈرنے والوں کے لئے موعظت و نصیحت اور عبرت بھی نازل فرمائی اور ہوسکتا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ پر تہمت اور ان کی برات کی جانب اشارہ ہو کہ پہلی امتوں میں بھی اچھے لوگوں کو مطعون کیا گیا ہے جیسے حضرت یوسف (علیہ السلام) ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت مریم ؓ وغیرہ پر جھوٹے الزام لگائے گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگو کی برات کی گویا اس قسم کے واقعات پچھلی امتوں میں بھی پیش آتے رہے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی پہلی امتوں پر بھی ایسے ہی حکم تھے۔ 12
Ayah 24:35

اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ فِیْهَا مِصْبَاحٌ١ؕ اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَةٍ١ؕ اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّیٌّ یُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبٰرَكَةٍ زَیْتُوْنَةٍ لَّا شَرْقِیَّةٍ وَّ لَا غَرْبِیَّةٍ١ۙ یَّكَادُ زَیْتُهَا یُضِیْٓءُ وَ لَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ١ؕ نُوْرٌ عَلٰى نُوْرٍ١ؕ یَهْدِی اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌۙ Open ayah 24:35 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ آسمانوں کا اور زمین کا نور ہے حق تعالیٰ کے نور کی صفت عجیبہ ایسی ہے جیسے فرض کرو ایک طاق ہے اس طاق میں ایک چراغ ہے وہ چراغ ایک شیشے کی قندیل میں ہے وہ شیشے کی قندیل ایسی ہے جیسے ای چمکتا ہوا تارا وہ چراغ ایک بابرکت درخت کے تیل سے کہ وہ زیتون سے روشن کیا جاتا ہے وہ درخت نہ پورب رخ واقع ہے اور نہ پچھم رخ یعنی اس پر دھوپ کی روک ہیں اس کا تیل قریب ہے کہ خودبخود بھڑک اٹھے خواہ اس کو آگ نہ بھی چھوئے یہ نور بالائے نور ہے اللہ اپنے نور تک جس کو چاہتا ہے راہ دکھاتا ہے اور اللہ تعالیٰ لوگوں کے سمجھانے کو مثالیں بیان کرتا ہے۔ اور اللہ ہر شے کو جاننے والا ہے

(35) اب آگے ہدایت و ضلالت کی ایک اور مثال مذکور ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے اللہ تعالیٰ آسمانوں کی اور زمین کی روشنی ہے اور اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کو روشن کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نور کی صفت عجیبہ ایسی ہے جیسے فرض کرو ایک طاق ہے اس طاق میں ایک چراغ ہے وہ چراغ ایک شیشے کی قندیل میں ہے وہ شیشے کی قندیل ایسی ہے جیسے ایک چمکتا ہوا تارا وہ چراغ ایک بابرکت درخت کے تیل سے کہ وہ زیتون ہے روشن کیا جاتا ہے وہ درخت نہ شرتی ہے اور نہ غربی ہے یعنی نہ تو بالکل پورب کی طرف ہے اور نہ بالکل پچھم رخ ہے بلکہ بیچ میں واقع ہے جس پر پورے دن کی دھوپ پڑتی ہے۔ اس درخت کا تیل ایسا صاف اور شفاف ہے کہ قریب ہے وہ خود بخود بھڑک اٹھے خواہ اس کو آگ بھی نہ چھوئے یہ نور بالائے نور ہے اللہ تعالیٰ اپنے نور تک جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا اور اس کی رہنمائی فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ لوگوں کے سمجھانے کو مثالیں بیان فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر شئے کو جاننے والا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ہی کی ذات اقدس کے ساتھ تمام کائنات کی رونق وابستہ ہے اسی نے آسمانوں اور زمین کو عدم کی تاریکیوں سے نکال کر وجود کا نور بخشا ہے اور اسی کی صفات جلیلہ سے تمام عالم منور اور روشن ہے خواہ چاند سورج اور کواکب کا نور ہو خواہ حضرات انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام اور اولیائے کرام کا باطنی اور روحانی نور ہو سب اسی کے نور کا پر تو اور اسی کی نورانی ذات انور سے مستفاد ہے۔ عالم علوی اور سفلی میں اس کی تمام آیات خواہ تکوینی ہوں یا تنزیلی سب اسی کے نور سے منور ہیں۔ نبی کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے انت نور السموت والارض سورة زمر میں ہے واشرقت الارض بنور ربھا اللہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے نور بھی ایک صفت ہے اگرچہ ہم اس کی کیفیت بیان کرنے سے قاصر ہیں۔ بہرحال جب ہر چیز اس کی صفت نور سے منور ہے اور ہر جگہ اس کے ہی نور کی جلوہ گری ہے تو قلب مومن میں جو ایمان کی روشنی ہے اس کے متعلق ایک مثال بیان فرماتا ہے کہ مومنین کو اللہ تعالیٰ کے نور سے جو ہدایت کا نور عطا ہوتا ہے اس کو یوں سمجھو جیسے ایک طاق ہے اس میں ایک چراغ ہے اور وہ چراغ ایک شیشے کی قندیل میں ہے وہ شیشے کی قندیل ایسی ہے جیسے ایک چمکتا ہوا تارہ۔ وہ چراغ ایک مبارک درخت کے تیل سے جو زیتون ہے روشن کیا جاتا ہے وہ زیتون کا درخت نہ جانب شرق میں واقع ہے نہ غربی جانب میں واقع ہے بلکہ بیچ میں ایسی جگہ واقع ہے جہاں اس کو پورے دن خوب دھوپ لگتی ہے اس کی وجہ سے اس کا تیل اتنا صاف اور شفاف ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آگ کے بغیر مس کئے ہوئے بھڑک اٹھے گا اور روشن ہوجائے گا۔ تجربہ شاہد ہے کہ زیتون کے درخت کو جتنی دھوپ لگے اس کا تیل صاف اور خوش رنگ ہوتا ہے اور آگ مس کرنے اور دیا سلائی دکھا دی جائے تو پھر نور علی نور ہوجائے اور پورا طاق بقعہ نور بن جائے۔ طاق میں چونکہ روزن نہیں ہوتا اس لئے بند روشنی بہت زیادہ چمکدار ہوتی ہے۔ مفسرین کے اس تشبینہ میں کئی قول ہیں بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ طاق سے مومن قانت کا سینہ مراد ہے چراغ سے معرفت و ہدایت کا نور مراد ہے شیشے کی قندیل ایک مومن خالص اور کامل کا قلب ہے جس میں وہ نور توفیق اور نور استعداد و دیعت کیا گیا ہے اور وہ نور چونکہ ربانی ہے اس لئے نہ شرتی ہے اور نہ غربی ہے اس نور کو کسی خاص جہت سے منسوب نہیں کیا جاسکتا اس کی استعداد فکری ہدایت کی جانب خود بخود بڑھتی ہے اور جب قرآن کریم اور وحی الٰہی کا اس کو علم حاصل ہوا تو وہ نور بالائے نور ہوگیا اور اس کی نور کی چمک سے نہ صرف اس کا سینہ معمور ہوگیا بلکہ دوسروں کے لئے بھی ہدایت کا سبب ہوگیا۔ وجعلنا لہ نورا یمشی بہ فی الناس آگے ارشاد فرمایا کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے وہ جس کو چاہے اپنی ہدایت کے نور سے فیضیاب فرمائے اور اس قسم کی مثالیں اللہ تعالیٰ لوگوں کے بیان فرماتا ہے تاکہ لوگوں کے لئے موجب بصیرت ہوں اور ذی استعداد لوگ ان سے نصیحت حاصل کرلیں اور وہی اپنی مثالوں کی موزونیت اور مناسبت کو جانتا ہے کسی دوسرے کی کیا مجال ہے کہ ایسی جامع مثال بیان کرسکے یا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ کون نور توفیق اور نور استعداد کا مستحق ہے اور کون اس قابل ہے کہ اس کو توفیق و استعداد فطری سے نوازا جائے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اللہ سے رونق اور بستی ہے آسمان و زمین کی اس کی مدد نہ تو سب ویران ہوجاویں اور اللہ کی روشنی کی کہاوت ابن عباس نے کہا یہ مومن کے دل میں روشنی ہے کتنے پردوں میں ایک سے ایک تیز روشنی رکھتا ہے سب سے اندر تارا سا ہے اور زیتون شرق کانہ غرب کا یعنی باغ کے بیچ کا نہ صبح کی دھوپ کھاوے نہ شام کی خوب ہرا اور چنگار ہے یا پیغمبر کو فرمایا کہ دل کا نور ملتا ہے۔ ان سے دیئے ملک عرب میں پیدا ہوئے نہ مشرق میں نہ مغرب میں اس کا تیل بن آگ سلگنے کو تیار ہے یعنی مومن کے دل میں بن ریاضت ان کی صحبت سے روشی پیدا ہوتی ہے آگے فرمایا وہ روشنی ملتی ہے اس سے کہ جن مسجدوں میں کامل لوگ بندگی کرتے ہیں صبح شام وہاں لگا رہے۔ 12۔ یہ واقعہ ہے کہ اہل اللہ کی صحبت بڑی نافع ہے اور گر صحبت کے ساتھ ریاضت بھی ہو تو نور علیٰ نور ہے۔
Ayah 24:36

فِیْ بُیُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ وَ یُذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ١ۙ یُسَبِّحُ لَهٗ فِیْهَا بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِۙ Open ayah 24:36 in the Quran reader

وہ چراغ ان گھروں میں روشن کیا جاتا ہے جن کے متعلق اللہ نے یہ حکم دیا ہے کہ ان کی قدرومنزلت کی جائے اور ان مکانو میں اللہ کا نام لیا جائے ان مکانوں میں صبح اور شام

(36) وہ اہل ہدایت جن کو اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہدایت کانو ملا ہے وہ ایسے گھروں میں عبادت کرتے ہیں جن کی قدرو منزلت اور رفعت شان کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور نیز اس کا کہ ان میں اللہ تعالیٰ کا نام لیا جائے اور اس کے نام کا ذکر کیا جائے ان مکانوں میں صبح و شام ایسے لوگ اللہ تعالیٰ پاکی بیان کرتے ہیں۔
Ayah 24:37

رِجَالٌ١ۙ لَّا تُلْهِیْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَیْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءِ الزَّكٰوةِ١۪ۙ یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْهِ الْقُلُوْبُ وَ الْاَبْصَارُۗۙ Open ayah 24:37 in the Quran reader

ایسے لوگ خدا کی پاکی بیان کرتے ہیں جن لوگوں کو اللہ کی یاد سے اور نماز پڑھنے سے اور زکوٰۃ دینے سے نہ کسی قسم کی خرید غافل کرسکتی ہے نہ کسی قسم کی فروخت وہ لوگ ایک ایسے دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس دن بہت سے دل پلٹ جائیں گے اور بہت سی آنکھیں الٹ جائیں گی

(37) جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی یاد اور اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اور نماز پڑھنے سے اور زکوٰۃ ادا کرنے سے نہ کسی قسم کی خرید غافل کرسکتی ہے اور نہ کسی قسم کی فروخت غفلت میں ڈال سکتی ہے وہ لوگ ایک ایسے دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس دن بہت سے دل پلٹ جائیں گے اور بہت سی آنکھیں الٹ جائیں گی۔
Ayah 24:38

لِیَجْزِیَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 24:38 in the Quran reader

ان لوگوں کے ان نیک کاموں کا انجام یہ ہوگا کہ خدا ان کو ان کے اعمال کا اچھے سے اچھا صلہ دے گا اور اپنے فضل سے ان کو اور زیادہ بھی دے گا اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے بےحساب روزی دیتا ہے

(38) ان لوگوں کا مال اور انجام یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اعمال کا بہت اچھا صلہ اور بدلہ دے گا اور علاوہ بدلے کے ان کو اپنے فضل سے اور زیادہ بھی دے گا اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے بیشمار اور بےحساب روزی دیتا ہے۔ بیوت سے مراد مساجد ہیں یعنی یہ چراغ یا جن کے سینوں میں یہ نور ہدایت روشن ہے اقوال مختلفہ کی بنا پر ہم نے ترجمے اور تیسیر میں فرق کردیا ہے ان گھروں کے متلعق اللہ نے حکم دیا ہے کہ ان کو بنایا جائے اور ان کو بلند کیا جائے یا یہ کہ ان کا ادب و احترام اور توقیر و تعظیم کی جائے ان میں کوئی نکمی اور فضول باتیں نہ کی جائیں۔ حائضہ اور نفسا عورتیں اور جنبی لوگ اس میں داخل نہ ہوں دنیا کے کام اور باتیں وہاں نہ کی جائیں۔ ہرچند کہ مساجد کے سلسلے میں مفسرین کے بہت سے اقوال ہیں جن میں سے حضرت مجاہد اور حضرت حسن کا قول بوجہ اظہر ہونے کے اختیار کرلیا ہے اللہ تعالیٰ کا نام ان مساجد میں لیا جاتا ہے اس لئے ان کے احترام کا حکم دیا گیا۔ صبح اور شام سے بعض حضرات نے صبح اور عصر کی نماز مرادلی ہے اور اکثر حضرات نے غدو سے صبح کی اور آصال سے باقی چار نمازیں مراد لی ہی آگے ایک سوال کا جواب فرمایا کہ یہ نمازیں وہ لوگ پڑھتے ہیں کہ وہ لوگ ایسے اہل عزیمت ہیں جن کو خریدوفروخت جو بڑے شغل اور غفلت کا کام ہے اللہ تعالیٰ کی یاد سے نہیں روکتا اور خاص کر نماز پڑھنے اور زکوٰۃ ادا کرنے سے دنیوی کام ان کو مانع نہیں ہوتے وہ اس دن سے ہمیشہ ڈرتے رہتے ہیں جس دن کی ہیبت سے نہ دل قبضے میں رہیں گے نہ آنکھیں۔ آنکھیں اوپر لگ جائیں گی اور دل الٹ پلٹ ہوجائیں گ آگے انجام فرمایا کہ اس قسم ک لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ بہت دیا جائے گا یعنی جو وعدہ کیا گیا ہے وہ پورا ہوگا اور اس کے علاوہ بھی اپنے فضل سے اور زیادہ بھی دے گا۔ جیسا کہ سورة یونس میں للذین احسنوا الحسنیٰ وزیادۃ۔ چونکہ زیادتی میں اجمال ہے اس لئے اللہ تعالیٰ ہی اس زیادتی کو جانتا ہے۔ مفسرین کے مختلف اقوال ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے ان گنت اور بیشمار روزی سے سرفراز فرماتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ایمان کی برکت سے مومن کو نیک عمل کا بدلہ ہے اور بدعمل معاف اور کفر کی شامت سے کافر کو بدعمل کی سزا ہے اور نیک عمل خراب یہی فرمایا کہ بہتر سے بہتر کام کا۔ 12
Ayah 24:39

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍۭ بِقِیْعَةٍ یَّحْسَبُهُ الظَّمْاٰنُ مَآءً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَهٗ لَمْ یَجِدْهُ شَیْئًا وَّ وَجَدَ اللّٰهَ عِنْدَهٗ فَوَفّٰىهُ حِسَابَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِۙ Open ayah 24:39 in the Quran reader

اور جو لوگ کافر ہیں ان کے اعمال ایسے ہیں جیسے چٹیل میدان میں چمکتا ہواریت کہ پیاس اس کو دور سے پانی سمجھتا ہے یہاں تک کہ جب وہ اس پانی کے پاس آیا تو اس کو کچھ بھی نہ پایا اور وہاں پہنچ کر اپنے پاس خدا کو حساب لینے کے لئے موجود پایا سو اللہ نے اس کا پورا پورا حساب اس کو چکا دیا اور اللہ بہت جلد حساب کردینے والا ہے

(39) اور جو لوگ منکر ہیں اور کفر کے خوگر ہیں ان کے اعمال ایسے ہیں جیسے چٹیل میدان میں چمکتا ہوا ریت کہ پیاسا اس کو دور سے پانی سمجھتا ہے یہاں تک کہ جب وہ پانی سمجھ کر اس پانی کے قریب آیا تو اس پانی کو کچھ بھی نہ پایا اور وہاں پہنچ کر اپنے پاس اللہ تعالیٰ کو حساب لینے کے لئے موجود پایا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کا پورا پورا حساب اس کو چکا دیا اور اللہ تعالیٰ بہت جلد حساب کردینے والا ہے۔ کافر دو قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ جو دوسرے عالم اور دوسری زندگی پر اعتقاد رکھتے ہیں اور اس اعتقاد کی بنا پر کچھ اچھے اعمال بھی کرتے رہتے ہیں۔ مثلاً کچھ لوگوں کی خدمت کرنا ، خیرات کرنا وغیرہ وغیرہ۔ یہ ان کی مثال بیان فرمائی کہ وہ اعمال جن کو وہ اچھا سمجھ کر کرتے رہتے ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسے گرمی کے موسم میں چمکتا ہوا ریت پانی کا دریامعلوم ہوتا ہے مگر جب پیاسا وہاں پہنچتا ہے تو سوائے چمکتے ہوئے ریت کے اور کچھ نہیں ہوتا اور جن اعمال کو اس نے توقع پر کیا تھا کہ وہ مرنے کے بعد کام آئیں گے وہ سب بیکار ثابت ہوئے اور عقائد لغویہ کی وجہ سے وہ تمام اعمال خبط و برباد ہوگئے اور وہاں اللہ تعالیٰ یعنی قضائے الٰہی کو موجود پایا چناچہ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ نے عمر بھر کی شرارتوں کا اسی وقت حساب چکادیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کو حساب کرنے میں کچھ دیر نہیں لگتی۔ مطلب یہ ہے کہ قضائے الٰہی نے ہلاک کردیا تمام عمل اس کے اکارت ہوگئے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کافر دو طرح کے ہیں ایک عیب کی طرف تاکتے ہیں پھر بہک کر اللہ کا دین چھوڑتے ہیں غلط راہیں پکڑتے ہیں یہ ان کی کہاوت ہے۔ ریت کو پانی سمجھ کو دوڑے وہاں پانی نہ ملا آخرت میں اپنے گناہوں کی سزا ملی۔ دوسرے وے ہیں جو دنیا میں غرق ہیں یا پتھر پوجتے ہیں ان کی کہاوت آگے فرمائی۔ ان کے پاس ریت بھی نہیں اندھیرے میں بند ہورہے ہیں۔ 12
Ayah 24:40

اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَّغْشٰىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌ١ؕ ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ١ؕ اِذَاۤ اَخْرَجَ یَدَهٗ لَمْ یَكَدْ یَرٰىهَا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ۠ Open ayah 24:40 in the Quran reader

یا کافروں کے اعمال ایسے ہیں جیسے بڑے عمیق سمندر کے اندرونی اندھیرے اس سمندر کو موج بالائے موج نے ڈھانک رکھا ہو اس موج پر بادل چھایا ہوا ہو۔ غرض بہت سے اندھیرے ہیں جو اوپر تلے چھائے ہوئے ہیں ان حالات میں اگر کوئی شخص سمندر کی تہ میں اپنا ہاتھ نکالے تو اس کا احتمال ہی نہیں کہ وہ اس ہاتھ کو دیکھ سکے اور بات یہ ہے کہ جس کو اللہ روشنی نہ دے اس کو کہیں روشنی نہیں مل سکتی

(40) یا دین حق کا انکار کرنے والوں کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے بڑے گہرے اور عمیق سمندر کے اندرونی اندھیرے اس سمندر کو موج بالائے موج نے ڈھانک رکھا ہو اس موج پر بادل چھایا ہوا ہو۔ غرض بہت سے اندھیرے ہیں جو اوپر تلے چھائے ہوئے ہیں ان حالات میں اگر کوئی شخص سمندر کی تہ میں اپنا ہاتھ نکال کر دیکھنا چاہے تو اس کا احتمال ہی نہیں کہ وہ اس ہاتھ کو دیکھ سکے اور جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے روشنی نہیں دی اس کو کہیں نہیں روشنی۔ یہ دوسری قسم کے بداعتقاد لوگوں کی مثال ہے یعنی ان کے لئے سراب جیسی چمک بھی نہیں بلکہ کفر و جہل ظلم و عصیاں کی تاریکیوں میں پڑے ہاتھ مار رہے ہیں۔ اور گھٹا ٹوپ اندھیروں میں پڑے ہوئے ہیں۔ سمندر کی تہ کا اندھیرا۔ موجوں کے طوفان کا اندھیرا، پھر موجوں پر گہرا بادل نہ معاد پر اعتقاد نہ اعمال پر اطمینان تو یہ شخص واقعی سخت ظلمات میں مبتلا ہے اندھیرے بھی ایسے کہ ہاتھ کو ہاتھ دکھائی نہ پڑے اگر ان اندھیروں میں ہاتھ کو آنکھ کے قریب لاکر بھی دیکھے تو دیکھنا تو درکنار اس کا احتمال بھی نہیں کہ ہاتھ کو دیکھ سکے۔ اور یہ واقعہ ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے نور توفیق عطا نہ ہو اس کو کہیں سے بھی روشنی میسر نہیں آسکتی استعداد کی خرابی کے باعث توفیق نصیب نہ ہوئی کفر وعناد کے سمندر میں پڑے ہیں ان پر روشنی کے سب دروازے بند ہیں۔
Ayah 24:41

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُسَبِّحُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الطَّیْرُ صٰٓفّٰتٍ١ؕ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَ تَسْبِیْحَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 24:41 in the Quran reader

کیا اے مخاطب تجھ کو یہ بات معلوم نہیں کہ جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے اور وہ پرندے جو پر پھیلائے ہوئے اڑتے پھرتے ہیں یہ سب خدا کی پاکی بیان کرتے ہیں ان سب نے اپنی اپنی عبادت کا طریقہ اور اپنی تسبیح کو جان رکھا ہے اور جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کو سب معلوم ہے

(41) کیا اے مخاطب ! تجھ کو یہ معلوم نہیں کہ جو مخلوقات آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور وہ پرندے جو پر پھیلائے اڑتے پھرتے ہیں۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتے ہیں ان سب نے اپنی اپنی عبادت و دعا کا طریقہ اور اپنی تسبیح و تقدیس کو جان رکھا ہے اور جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کو سب معلوم ہے یعنی تمام اہل سموات والارض اللہ تعالیٰ کی پاکی اور اس کی خالقیت و صانعیت کا کمال ظاہر کرتے ہیں اور پرندے خاص طور پر وجود صانع پر دلالت کرتے ہیں یہ تسبیح قال سے ہو یا حال سے جیسا کہ ہم بنی اسرئیل میں قدرے تفصیل کے ساتھ عرض کرچکے ہیں ہر ایک اپنی دعا اور تسبیح سے جو اس کو الہام کے ذریعہ بتائی گئی ہے جانتا ہے اور جب یہ چیز مشاہد بھی ہے تو ہر مخاطب کو یہ بات سمجھنی چاہئے کہ تمام مخلوقات اللہ تعالیٰ کی مطیع و منقاد ہے اور ہر چیز کی بناوٹ اور ساخت وجود صانع پر دال ہے لیکن باوجود اس کے بعد لوگ توحید الٰہی اور وجود باری کے منکر ہیں اور یہ لوگ جو کچھ کرتے ہیں اللہ اس کو جانتا ہے یا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کے افعال اور دعا اور تنزیہ سے واقف ہے خواہ تم نہ سمجھو۔
Ayah 24:42

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 24:42 in the Quran reader

اور اللہ ہی کی حکومت ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور اللہ ہی کی طرف سب کی بازگشت ہے

(42) اور اللہ تعالیٰ ہی کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں اور اللہ ہی کی طرف سب کی بازگشت ہے یعنی جس طرح اس کا علم سب کو محیط ہے اسی طرح اس کی حکومت بھی سب پر قائم ہے یہ حکومت اب بھی قائم ہے اور آخرت میں بھی حاکمانہ تصرف اسی کا ہوگا آگے اس حاکمانہ تصرف کا بیان ہے۔
Ayah 24:43

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُزْجِیْ سَحَابًا ثُمَّ یُؤَلِّفُ بَیْنَهٗ ثُمَّ یَجْعَلُهٗ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ وَ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ جِبَالٍ فِیْهَا مِنْۢ بَرَدٍ فَیُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَصْرِفُهٗ عَنْ مَّنْ یَّشَآءُ١ؕ یَكَادُ سَنَا بَرْقِهٖ یَذْهَبُ بِالْاَبْصَارِؕ Open ayah 24:43 in the Quran reader

کیا اے مخاطب تجھ کو یہ بات معلوم نہیں ہوئی کہ اللہ ہی بادل کو چلاتا ہے پھر ان کو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ملا دیتا ہے پھر ان کو تہ پر تہ رکھتا ہے پھر اے مخاطب تو بارش کو ان بادلوں کے درمیان سے برستا ہوا دیکھتا ہے اور آسمان میں جو اولوں کے پہاڑ ہیں یعنی غلیظ اور وسیع بادل ان سے اولے برساتا ہے پھر جس پر چاہتا ہے ان کو گراتا ہے اور جس سے چاہتا ہے ان کو پھیر دیتا ہے بادل کی بجلی کی چمک کا یہ عالم ہے کہ گویا اس نے آنکھوں کی بینائی اب لی

(43) کیا اے مخاطب تو نے نہیں دیکھا اور کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی بادل کے ٹکڑوں کو چلاتا ہے پھر ان کو آپس میں ایک دوسرے سے ملا دیتا ہے پھر ان کو تہ بہ تہ رکھتا ہے پھر اے مخاطب تو بارش کو دیکھتا ہے کہ اس بادل کے درمیان سے نکلتی ہے اور تو اس بادل کے درمیان سے مینہ برستا ہوا دیکھتا ہے اور آسمانوں میں جو اولوں کے پہاڑ ہیں ان سے اولے برساتا اور اتارتا ہے پھر جس پر چاہتا ہے ان اصولوں کو گراتا ہے اور جس سے چاہتا ہے ان اولوں کو پھیر دیتا ہے اور ہٹا دیتا ہے بادل کی بجلی کی چمک اور اس کی کوند قریب ہے کہ ابھی آنکھوں کی بینائی لے جائے۔ یعنی یہ اس کی قدرت ہے کہ بادل کے ٹکڑوں کو ہنکا لانا پھر ٹکڑوں کو ملانا اور اوپر تلے رکھ کر ایک وسیع اور موٹا بادل ترتیب دینا پھر بارش کو اس کے درمیان سے نکالنا اور برسانا اولوں کے پہاڑ آسمان کی جانب سے اتارتا اور نازل کرتا ہے یہ فرمایا غلیظ بادل کو کہ اس میں سے اولے گرتے ہیں پھر جس جگہ چاہتے ہیں اس کی چھال ڈال دیتے ہیں اور جس سمت کو چاہتا ہے اولوں سے بچالیتا ہے جیسا کہ بعض کھیت محفوظ رہتے ہیں اور بعض کھیت بعض جانور بعض آدمی اولوں کی زد میں آجاتے ہیں ۔ بڑے شہر میں بھی اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بعض علاقہ محفوظ رہتا ہے اور بعض علاقے میں اولے پڑجاتے ہیں اور اولوں کا بادل چونکہ غلیظ ہوتا ہے اس لئے بجلی بھی خوب چمکتی ہے اس کو فرمایا کہ اس کی چمک کا یہ عالم ہے قریب ہے کہ وہ آنکھوں کی بینائی اچک لے اور آنکھوں کو خیرہ کردے۔ ہم نے عام علماء کے قول کے مطابق ترجمہ کیا ہے اگرچہ بعض علماء نے اور طرح بھی تفسیر کی ہے بہرحال یہ اس کی قدرت کاملہ ہے کہ پانی میں سے آگ پیدا کرتا ہے بادلوں پر کنٹرول اور قابو رکھتا ہے جس کھیت یا باغ کو اولوں سے تباہ کرنا چاہتا ہے تباہ کردیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بچالیتا ہے یا جس کو چاہتا ہے بارش سے سیراب کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے خشک پڑا رہنے دیتا ہے۔ فسبحان من یخرج الماء والنار والنور والظلمۃ من شئی واحد۔
Ayah 24:44

یُقَلِّبُ اللّٰهُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 24:44 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ رات اور دن کو بدلتا رہتا ہے یقیناً اس ردوبدل میں ان لوگوں کے لئے بڑا استدلال ہے جو اہل دانش ہیں

(44) اور نیز اللہ تعالیٰ رات اور دن کو بدلتا رہتا ہے یقیناً رات اور دن کے اس ردوبدل میں ان لوگوں کے لئے بڑا استدلال ہے جو اہل دانش ہیں اور ان کو جو آنکھوں والے ہیں دھیان کرنے کا بڑاموقع ہے۔ یعنی یہ اسی کی قدرت کاملہ اور اسی قادرمطلق کا کام ہے کہ کبھی کے دن بڑے اور کبھی کی رات یہ تبدیلی سوائے اس کے کوئی دوسرا نہیں کرسکتا۔ کبھی کفر کی برتری اور کبھی ہدایت اور روشنی کا عروج یہ سب اس کی قدرت کا اظہار ہے اور اس میں صاحبان دانش اور آنکھوں والوں کے لئے بڑے استدلال اور بڑی عبرت کے مواقع ہیں۔
Ayah 24:45

وَ اللّٰهُ خَلَقَ كُلَّ دَآبَّةٍ مِّنْ مَّآءٍ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى بَطْنِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى رِجْلَیْنِ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰۤى اَرْبَعٍ١ؕ یَخْلُقُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 24:45 in the Quran reader

اور اللہ نے ہر چلنے پھرنے والے جاندار کو پانی سے پیدا کیا ہے پھر ان میں سے بعض تو وہ ہیں جو اپنے پیٹ کے بل چلتے ہیں۔ اور ان میں سے بعض وہ ہیں جو دو پیروں پر چلتے ہیں اور ان میں سے بعض وہ ہیں جو چار پائوں پر چلتے ہیں اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے بناتا ہے بیشک اللہ تعالیٰ ہر شئے پر پوری طرح قادر ہے

(45) اور اللہ تعالیٰ نے ہر چلنے پھرنے والے جاندار کو پانی سے پیدا کیا ہے پھر ان میں سے بعض تو وہ ہیں جو اپنے پیٹ کے بل رینگتے اور چلتے ہیں اور بعض ان میں سے وہ ہیں جو دو 2 پائوں پر چلتے ہیں اور بعض ان میں سے وہ ہیں جو چار پیروں پر چلتے ہیں اللہ جو چاہتا ہے بناتا ہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔ ہر جاندار کی ابتداء اور اس کی پیدائش پانی سے ہوتی ہے یعنی ہر جاندار کا حدوث یا اس کی بقا پانی ہی سے ہے۔ رینگنے والے جیسے سانپ، مچھلی، دو ٹانگوں والے جیسا انسان اور پرندے چار ٹانگوں والے جیسے چوپائے اور کسی مخلوق کے چارپایوں سے بھی زیادہ ہوں۔ یخلق اللہ مایشائ اس کی غیر محدود قدرت محصور نہیں۔
Ayah 24:46

لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 24:46 in the Quran reader

بلاشبہ ہم نے واضح اور روشن دلائل نازل کئے ہیں۔ اور اللہ جس کو چاہتا ہے راہ راست کی طرف اس کی رہنمائی کرتا ہے

(46) بلاشبہ ہم نے واضح اور روشن دلائل نازل فرمائے ہیں اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے راہ راست کی طرف اس کی رہنمائی فرماتا ہے یعنی عام طور پر دلائل واضحہ بیان کردیئے گئے ہیں مگر خاص طورپرمشیت اور ارادے کا تعلق جس سے ہوتا ہے اسی کو سیدھی راہ چلنے کی توفیق ہوتی ہے۔
Ayah 24:47

وَ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالرَّسُوْلِ وَ اَطَعْنَا ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:47 in the Quran reader

اور یہ منافق دعویٰ تو یہ کرتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور رسول پر ایمان لائے اور ہم نے دونوں کی فرمانبرداری قبول کی اور پھر اس کہنے کے بعد انہی میں سے ایک فریق سرتابی کرتا ہے اور حقیقت حال یہ ہے کہ یہ لوگ ایمان نہیں رکھتے

(47) اور منافق لوگ کہتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ پر اور رسول ﷺ پر ایمان لائے اور ہم نے اللہ اور رسول کا حکم مانا پھر ان میں سے ایک فریق اس کہنے کے بعد سرتابی کرتا اور پھرجاتا ہے اور حقیقت حال یہ ہے کہ یہ لوگ ایمان نہیں رکھتے۔ یعنی منافقوں کا دعویٰ تو یہ ہوتا ہے کہ ہم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئے اور ہم نے ان دونوں کا کہا مانا اور فرمانبرداری کی لیکن عمل کے وقت انہی میں سے ایک فریق پھرجاتا ہے ان کی حالت یہ ہے کہ یہ ایمان نہیں رکھتے۔ شاید ایسامعلوم ہوتا ہے کہ جب کسی مقدمے کے فیصلے کے لئے طلب کیا جاتا ہوگا تو کچھ زیادہ شریر یہ سمجھ کر فیصہ ہمارے خلاف ہوگا پھرجاتے ہوں گے کیونکہ ان میں ایمان تو ہے ہی نہیں جیسا کہ آگے کی آیت سے معلوم ہوتا ہے۔
Ayah 24:48

وَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 24:48 in the Quran reader

اور یہ لوگ جب اللہ اور اس کے رسول کی طرف اس غرض سے بلائے جاتے ہیں کہ رسول ان کے مابین فیصلہ کردے تب ہی ایک فریق ان میں سے اعرض اور پہلو تہی کرتا ہے

(48) اور یہ لوگ جب اللہ اور اس کے رسول کی طرف اس غر ض سے بلائے جائیں اور طلب کئے جائیں کہ رسول ان کے مابین فیصلہ کردے تب ہی ایک فرقے کے لوگ پہلو تہی کرتے اور منہ موڑ لیتے ہیں۔
Ayah 24:49

وَ اِنْ یَّكُنْ لَّهُمُ الْحَقُّ یَاْتُوْۤا اِلَیْهِ مُذْعِنِیْنَؕ Open ayah 24:49 in the Quran reader

اور اگر ان کا کوئی حق ثابت ہوتا ہو تو رسول کے پاس فرمانبردار بنے ہوئے چلے آتے ہیں

(49) اور اگر ان کا کچھ نکلتا ہو اور ان کا کوئی حق ثابت ہوتا ہو تو رسول کے پاس فرمانبردار بن کر سرتسلیم خم کئے ہوئے چلے آتے ہیں یعنی یہ سمجھ کر کہ مقدمے میں رسول اللہ ﷺ کسی کی رو رعایت یا کسی کا بےجا لحاظ تو کریں گے اس لئے ٹل جاتے اور حاضری سے انکار کرتے ہیں اور فصلہ کرانے سے بچتے ہیں اور اگر ان کا کچھ نکلتا ہے اور کوئی حق ان کو پہنچتا ہے تو نہ صرف حاضر ہوتے ہیں بلکہ یہ کہتے ہوئے آتے ہیں کہ ہم تو حضور ﷺ کے فرمانبردار ہیں اور حضور جو حکم فرمائیں گے اور آپ ﷺ جو فیصلہ دیں گے اس کو ہم دل و جان سے قبول کریں گے۔ اب آگے ان کی اس بیماری کو بطور تردید فرماتے ہیں کہ آخر اس کی وجہ کیا ہے۔
Ayah 24:50

اَفِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَمِ ارْتَابُوْۤا اَمْ یَخَافُوْنَ اَنْ یَّحِیْفَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ بَلْ اُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 24:50 in the Quran reader

کیا ان کے دلوں میں کوئی مرض ہے یا وہ لوگ شک میں پڑے ہوئے ہیں یا وہ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ اللہ اور اس کا رسول کہیں ان کے حق میں بےانصافی نہ کرنے لگے یہ بات نہیں ہے بلکہ واقعہ یہ ہے کہ وہ لوگ خود ہی ناانصاف ہیں

(50) کیا ان لوگوں کے دلوں میں کوئی مرض اور بیماری ہے یا یہ لوگ دھوکے اور شک میں پڑے ہوئے ہیں یا یہ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ان پر کوئی بےانصافی اور ظلم نہ کرنے لگے ان اسباب میں سے کوئی سبب نہیں ہے بلکہ وہی لوگ ناانصاف اور ظالم ہوتے ہیں۔ یعنی سبب کیا ہے معاملات میں فیصلے پر کیوں راضی نہیں ہوتے کیا یہ خوف ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول کسی کے حق سے زیادہ دلوائے گا اور ان پر ظلم کرے گا اور ان کے خلاف مدعی کے حق سے زیادہ ڈگری کردے گا۔ اب بطور استدراک فرمایا یہ بات نہیں ہے بلکہ ان کے کترانے کی وجہ یہ ہے کہ ان مقدمات میں خود ہی ظالم ہوتے ہیں اپنا پورا حق وصول کرنا چاہتے ہیں اور دوسروں کا حق دینا نہیں چاہتے چونکہ خود ظالم ہیں اور یہ جانتے ہیں کہ دربار رسالت میں کوئی ناانصافی ہوگی نہیں اور پورا پورا انصاف ہوگا جو ان کی طبیعت ذوق کے خلاف ہے اس لئے رسول کی خدمت میں حاضر ہونے سے گھبراتے اور کتراتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں دل میں روگ یہ کہ خدا رسول کو سچ مانا لیکن حرص نہیں چھوڑتی کہ کہے پر چلیں بیمار چاہتا ہے چلے اور پائوں نہیں اٹھتے۔ 12۔ یہ منافقین کا ذکر تھا۔ اب آگے مومنین کا ذکر فرماتے ہیں۔
Ayah 24:51

اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 24:51 in the Quran reader

مخلص مسلمانوں کی بات تو بس یہ ہے کہ جب ان کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف اس غرض سے بلایا جاتا ہے کہ رسول ان کے مابین فیصلہ کردے تو وہ یوں کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور قبول کیا اور یہی لوگ ہی حقیقی فلاح پانے والے

(51) مخلص مسلمانوں کی بات تو بس یہ ہے کہ جب ان کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف اس غرض سے بلایاجاتا ہے کہ رسول ان کے درمیان فیصلہ کردے تو وہ انبساط قلب کے ساتھ یہ کہتے ہیں ہم نے سنا اور قبول کیا اور یہی لوگ حقیقی فلاح پانے والے ہیں۔ یعنی منافقین کی حالت تو معلوم ہوچکی اس کے مقابلے میں ایمان والوں کی یہ حالت ہے کہ جب ان کو فصل خصومات کے سلسلے میں طلب کیا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا رسول تمہارے مقدمہ کا فیصلہ کرے گا تو یہ اہل ایمان سمعنا واطعنا کہتے ہوئے دوڑتے چلے آتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ دین و دنیا میں فلاح پانے والے ہیں۔
Ayah 24:52

وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَخْشَ اللّٰهَ وَ یَتَّقْهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 24:52 in the Quran reader

اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانے اور اللہ سے ڈرے اور اس کی نافرمانی اور ناراضگی سے بچتا رہے تو ایسے ہی لوگ ہیں مراد کو پہنچنے والے

(52) اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا حکم مانے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور اس کی مخالفت اور ناراضگی سے بچتا رہے پس ایسے ہی لوگ مراد کو پہنچنے والے ہی۔ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری اللہ تعالیٰ سے ڈرنا اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور برے راستے سے بچتے رہنا یہی باتیں دین و دنیا میں کامیابی اور حصول مراد کی ضامن ہیں۔
Ayah 24:53

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ اَمَرْتَهُمْ لَیَخْرُجُنَّ١ؕ قُلْ لَّا تُقْسِمُوْا١ۚ طَاعَةٌ مَّعْرُوْفَةٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 24:53 in the Quran reader

اور وہ لوگ بڑی تاکید سے اس بات پر اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر آپ ان کو حکم دیں یعنی جہاد یا ہجرت کا تو وہ ابھی نکل کھڑے ہوں آپ ان سے کہہ دیجئے بس قسمیں نہ کھائو تمہاری فرمانبرداری کی حقیقت معلوم ہے جو کچھ تم کرتے ہو یقیناً اللہ اس سے باخبر ہے

(53) اور وہ منافق بڑی تاکید سے اس بات پر اللہ تعالیٰ کے نام کی قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر آپ ان کو حکم دیں کہ سب کچھ چوڑ چھاڑ کر جہاد یا ہجرت کے لئے گھروں سے نکل آئو تو فوراً نکل آئیں گے۔ اے پیغمبر ! آپ ان سے کہہ دیجئے کہ قسمیں نہ کھائو تمہاری فرمانبرداری کی حقیقت معلوم ہے فرمانبرداری تو دستور کے موافق ہونی چاہئے بلاشبہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس کی پوری خبر رکھتا ہے یعنی بیکار قسمیں کھا کر جھوٹے وعدوں سے کیا فائدہ کہ ہم سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر نکل آئیں گے تمہاری فرمانبرداری کی سب حقیقت معلوم ہے سچے مسلمانوں کی طرح فرمانبرداری کا جو دستور ہے وہ فرماں برداری کرکے دکھائو تم اگر زوردار قسمیں کھاکر اپنی بات کا یقین دلا بھی دو تب بھی اللہ تعالیٰ تمہارے فریب اور تمہاری سب چالاکیوں سے واقف اور خبردار ہے جو کام کی بات ہے وہ کرکے دکھائو آگے اس کام کا ذکر فرمایا۔
Ayah 24:54

قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْهِ مَا حُمِّلَ وَ عَلَیْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ١ؕ وَ اِنْ تُطِیْعُوْهُ تَهْتَدُوْا١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 24:54 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے کہ تم لوگ اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو پھر اگر تم روگردانی کروگے تو سمجھ لو کہ رسول پر جو بار ڈالا گیا ہے وہ صرف اسی کا ذمہ دار ہے اور تم پر جو بوجھ رکھا گیا ہے تم اس کے ذمہ دار ہو اور اگر تم نے رسول کی فرمانبرداری کی تو تم سیدھی راہ پالوگے اور بہرحال ! پیغامبر کی ذمہ داری تو بس پیغام کو صاف طور پر پہنچا دینا ہے

(54) اے پیغمبر آپ ان سے فرما دیجئے کہ تم اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی فرمانبرداری کرو پھر اگر تم لوگ روگردانی کروگے تو سمجھ لو کہ رسول پر جو بار رکھا گیا ہے وہ صرف اس کا ذمہ دار ہے اور تم پر جو بوجھ رکھا گیا ہے تم اس کے ذمہ دار ہو اور اگر تم نے رسول ﷺ کی فرمانبرداری کی اور آپ کی اطاعت قبول کرلی تو تم سیدھی راہ پالوگے اور ہدایت یافتہ ہوجائوگے اور بہرحال پیغامبر کی ذمہ داری تو پیغام کو صاف طورپر پہنچا دینا ہے یعنی کام کی بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری کا عہد کرو۔ اور اگر تمہاری یہی کافرانہ اور منافقانہ روش رہی تو رسول کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا کیونکہ ہر ایک اپنے اپنے بار کا ذمہ دار ہے اور اس کا کام احکام خداوندی کا تم تک پہنچانا ہے اور تمہاراکام رسول کی اطاعت و فرمانبرداری ہے جو درحقیقت اللہ تعالیٰ ہی کی اطاعت و فرماں برداری ہے ہر شخص اپنے اپنے کام کا ذمہ دار ہے پھر اگر تم اطاعت و فرمانبرداری کروگے تو تم سیدھی راہ سے لگ جائو گے ورنہ رسول کا کام تو احکام الٰہی کو صاف واضح اور کھلے طورپر پہنچادینا ہے جس کو وہ صحیح طورپر انجام دے رہا ہے اب صرف تم پر تمہاری ذمہ داری باقی ہے۔
Ayah 24:55

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١۪ وَ لَیُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِیْنَهُمُ الَّذِی ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا١ؕ یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِكُوْنَ بِیْ شَیْئًا١ؕ وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 24:55 in the Quran reader

تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان سے خدا کا وعدہ ہے کہ وہ ان کو زمین میں اسی طرح حکمران بنائے گا جس طرح ان لوگوں کو حکمران بنایا تھا جو ان سے پہلے تھے اور جس دین کو خدا نے ان کے لئے پسند فرمایا ہے اس دین کو ان کے لئے مستحکم کردے گا اور اس وقت دشمنوں کا جو خوف ان کو لاحق ہے ان کے اس خوف کو مبدل بہ امن کردے گا تاکہ وہ میری ہی عبادت کرتے رہیں اور میرے ساتھ کسی قسم کا شرک نہ کریں اور جو شخص اس وعدے کے پورا ہوجانے کے بعد ناشکری کی روش اختیار کرے گا تو ایسے ہی لوگ فاسق اور نافرمان ہیں

(55) اے امت محمدیہ ﷺ تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کے پوری طرح پابند رہے ان سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ ان کو زمین میں اسی طرح حکمران بنائے گا جس طرح ان لوگوں کو حکمران بنایا تھا اور ان کو حکومت دی تھی جو ان سے پہلے تھے اور جس دین کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے پسند فرمایا ہے اس دین کو ان کے لئے محکم کردے گا اور جما دے گا اور قوت دے گا اور اس وقت ان کو دشمنوں کا جو خوف طبعاً لاحق ہے ان کو اس خوف کے بعد ان کے خوف کو مبدل بہ امن کردے گا درآنحالیکہ وہ میری عبادت کرتے رہیں اور میرے ساتھ کسی قسم کا شرک نہ کریں اور جو شخص اس وعدے کو پورا ہونے کے بعد ناشکری اور ناسپاسی کی روش اختیارو کرے گا تو ایسے ہی لوگ فاسق اور بےحکم ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے مجموعہ امت سے حکومت اور دین اسلام کے استحکام اور جمائو اور خوف کو امن سے بدل دینے کا وعدہ فرمایا اور چونکہ دشمنان دین کی متواتر اذیتوں سے پریشان ہوکر بعض صحابہ ؓ نے عرض کیا تھا یا رسول اللہ کیا ہم ہمیشہ اسی طرح خوف زدہ اور پریشان رہیں گے یا کوئی زمانہ ہم پر ایسا بھی آئے گا کہ ہم امن سے بہرور ہوں گے اور ماموں رہ کر زندگی گزاریں گے اور ہتھیار رکھ دیں گے اس پر شاید یہ آیت نازل ہوئی۔ بہرحال ! اللہ تعالیٰ نے یہ پیشین گوئی پوری فرمائی اور نبی کریم ﷺ کے زمانے سے فتوحات کا دور شروع ہوا اور خلفائے راشدین کے دور میں مسلمانوں کی حکومت کہیں سے کہیں پہنچ گئی یہاں تک کہ یورپ اور ایشیا بلکہ افریقہ کا بھی کافی حصہ ان کے زیر نگیں ہوگیا اور دین اسلام جو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے پسند فرمایا تھا وہ بھی بہت پھلا پھولا اور ہر چہار طرف امن وامان کا دورہ آگیا۔ بےخوف و خطر مسلمان ہر جگہ جانے لگے خلفائے راشدین کے بعد بھی حکومت کا سلسلہ جاری رہا۔ لیکن بغداد کی تباہی اور بربادی کے بعد یہ سلسلہ سست پڑگیا۔ عیش و تنعم اور باہمی خانہ جنگیوں نے حکومت اسلامی کو خطرے میں ڈال دیا اور حکومتیں روبہ زوال ہونی شروع ہوگئیں۔ اسی کی طرف شاید اشارہ فرمایا۔ ومن کفر بعد ذلک فاولئک ھم الفاسقون۔ آیت سے خلفائے راشدین کی عظمت اور ان کی بڑی بھارت فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں خطاب فرمایا حضرت کے وقت کے لوگوں کو جوان میں نیک ہیں پیچھے ان کو حکومت دے گا اور جو دین پسند ہے ان کے ہاتھ سے قائم کرے گا اور وے بندگی کریں گے بغیر شرک یہ چاروں خلیفوں سے ہوا پہلے خلیفوں سے اور زیادہ پھر جو کوئی اس نعمت کی ناشکری کرے ان کو بےحکم فرمایا جو کوئی ان کی خلافت سے منکر ہوا ان کا حال سمجھا گیا۔ 12۔ ہرچند کہ ہمارا دور اقتدار اسلامی کے لئے کچھ زیادہ امید افزا نہیں ہے لیکن مایوسی کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ لعل اللہ بحدث بعد ذٰلک امراً
Ayah 24:56

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 24:56 in the Quran reader

اور نماز کی پابندی رکھو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو اور پیغمبر کی فرمانبرداری کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے

(56) آگے اعمالِ صالحہ کی مزید ترغیب فرمائی اور نماز کی پابندی رکھو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہا کرو اور دیگر امور میں بھی رسول اللہ ﷺ کی فرماں برداری اور اطاعت کیا کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے یعنی اگر اعمال صالحہ میں نبی کریم ﷺ کی فرمانبرداری کرتے رہا کرو اور خاص طور پر نماز و زکوٰۃ کی پابندی کا التزام رکھو تو تم پر رحم کیا جائے اور تم حضرت حق کے رحم و کرم کے مستحق قرار پائوگے۔ اللھم ارزقنا اتباع نبیہ ﷺ۔
Ayah 24:57

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَ لَبِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 24:57 in the Quran reader

اے مخاطب یہ خیال نہ کر کہ کافر زمین میں کہیں بھاگ کر ہم کو تھکا دیں گے اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور یقیناً وہ بازگشت کی بہت ہی بری جگہ ہے

(57) اے مخاطب یہ خیال نہ کر کہ یہ جو منکر ہیں اور جنہوں نے کفر و انکار کاشیوہ اختیار کررکھا ہے یہ کہیں زمین میں بھاگ کر ہم کو تھکادیں گے اور آخرت میں ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور یقیناً وہ دوزخ بہت بری باز گشت ہے اور واپس جانے کی بہت بری جگہ ہے۔ یعنی یہ خیال نہ کر کہ منکر کسی حصہ زمین میں بھاگ کر ہم کو تھکا دیں گے یا ہرادیں گے بلکہ دنیا میں مقہور و ذلیل ہوں گے اور آخرت میں ان کا مرجع اور ٹھکانا دوزخ کی آگ ہے اور وہ آگ بازگشت کی بہت ہی بری جگہ ہے۔
Ayah 24:58

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِیَسْتَاْذِنْكُمُ الَّذِیْنَ مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ ثَلٰثَ مَرّٰتٍ١ؕ مِنْ قَبْلِ صَلٰوةِ الْفَجْرِ وَ حِیْنَ تَضَعُوْنَ ثِیَابَكُمْ مِّنَ الظَّهِیْرَةِ وَ مِنْۢ بَعْدِ صَلٰوةِ الْعِشَآءِ١ؕ۫ ثَلٰثُ عَوْرٰتٍ لَّكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ وَ لَا عَلَیْهِمْ جُنَاحٌۢ بَعْدَهُنَّ١ؕ طَوّٰفُوْنَ عَلَیْكُمْ بَعْضُكُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:58 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تمہاری لونڈی اور غلام اور تم میں کے وہ ہوشیار لڑکے جو ابھی بالغ نہیں ہوئے ان سب کو چاہئے کہ تین اوقات میں تمہارے پاس تم سے اجازت لیکر آئیں ایک تو صبح کی نماز سے پہلے اور ایک جب تم دوپہر کے وقت اپنے کپڑے اتار کر رکھ دیا کرتے ہو اور ایک عشاء کی نماز کے بعد یہ مذکورہ تین وقت تمہارے پردے کے ہیں ان اوقات کے علاوہ نہ تم پر کوئی الزام ہے اور نہ ان لونڈی غلاموں اور لڑکوں پر کوئی الزام ہے کیونکہ یہ لوگ خدمت کی غرض سے بکثرت تمہارے پاس آتے جاتے رہتے ہیں کوئی کسی کے پاس اور کوئی کسی کے پاس اسی طرح اللہ اپنے احکام تمہارے لئے صاف صاف بیان کرتا ہے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے

(58) اے دعوت ایمانی کو قبول کرنے والو تمہارے لونڈی اور غلام تم میں کے وہ ہوشیار لڑکے جو ابھی حد بلوغ کو نہیں پہنچے اور بالغ نہیں ہوئے ان کو چاہئے کہ وہ تین اوقات میں تمہارے پاس تم سے اجازت لیکر آئیں ایک تو صبح کی نماز سے پہلے اور ایک جب تم دوپہر کے وقت اپنے کپڑے اتار کر رکھ دیا کرتے ہو اور ایک عشاء کی نماز کے بعد یہ مذکورہ تین وقت تمہارے پردے کے اوقات ہیں ان اوقات کے علاوہ بلااجازت آنے جانے میں نہ تم پر کوئی الزام ہے اور نہ ان لونڈی غلاموں اور نابالغ لڑکوں پر کوئی الزام ہے کیونکہ یہ لوگ بکثرت خدمت کی غرض سے تمہارے پاس آتے جاتے رہتے ہیں کوئی کسی کے پاس کوئی کسی کے پاس۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لئے اپنے احکام صاف صاف بیان کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑے علم والا بڑی حکمت والا ہے۔ پہلے بیان فرمایا تھا کہ کوئی شخص صاحب خانہ کی بلا اجازت کے مکان میں داخل نہ ہوا کرے اسی حکم سے یہاں بعض سورتوں کا استثنیٰ فرمای کیونکہ بعض مواقع ایسے ہوتے ہیں جن کا اظہار ناگواری خاطر کا سبب ہوتا ہے اس لئے مملوک خواہ وہ لونڈی ہو یا غلام اور نابالغ لڑکے جو خدمت کی غرض سے بےروک ٹوک مکان میں آتے جاتے ہیں ان کیلئے بھی بعض اوقات تستر میں اجازت ضروری قرار دی اور دوسرے اوقات میں ان کو اجازت کی ضرورت سے مستثنیٰ رکھا تاکہ بلاوجہ تکلیف اور کلفت پیش نہ آئے۔ چوتھے رکوع میں جو استیذان کا حکم گزرا ہے اس رکوع میں اسی کا تتمہ ہے درمیان میں اور مضامین زیر بحث آگئے جو تین اوقات قرآن کریم میں بیان کئے ہیں وہ استراحت آرام اور خلوت کے مواقع ہیں جن میں لوگ عادتاً زائد کپڑے اتار دیتے ہیں اور سونے جاگنے کا لباس تبدیل کیا کرتے ہیں اور اپنی گھروالیوں کے ساتھ اختلاط اور مباشرت وغیرہ کے بھی عمومًا یہی اوقات ہیں اور اس وقت کسی لونڈی غلام یا لڑکے بالے کا اگرچہ وہ خدمتی کیوں نہ ہو بلا اجازت آجانا تستر اور پردہ پوشی کے خلاف ہے اس لئے اجانب کی طرح ان کو بھی اجازت حاصل کرنے کا حکم دے دیا گیا باقی اوقات کھلے رکھے گئے۔ مگر یہ کہ کوئی شخص اپنی مصلحت کی بنا پر کسی دوسرے وقت کے لئے بھی ان لوگوں کو اجازت حاصل کرنے کا پابند کردے۔ اوقات مذکورہ کے علاوہ ان لونڈی غلاموں وغیرہ پر اجازت کی پابندی نہیں رکھی کیونکہ اس سے کاروبار میں دشواریاں پیش آتیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ان تین وقت میں لڑکوں کو اور غلام لونڈی کو بھی پروانگی لینی چاہئے اور سارے وقتوں میں حاجت نہیں۔ 12