24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 24:59

وَ اِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْیَسْتَاْذِنُوْا كَمَا اسْتَاْذَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:59 in the Quran reader

اور جب تم میں کے لڑکے حد بلوغ کو پہنچ جائیں تو جس طرح ان سے پہلے کے بالغ مرد اجازت لیتے آئے ہیں اسی طرح یہ بھی اجازت حاصل کیا کریں اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے اپنے احکام صاف صاف بیان کرتا ہے اور اللہ سب جاننے والا حکمت والا ہے

(59) اور جب تم میں کے لڑکے حد بلوغ کو پہنچ جائیں تو جس طرح ان سے پہلے کے بالغ مرد اجازت لیتے آئے ہیں اسی طرح یہ بھی اجازت حاصل کیا کریں اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لئے صاف صاف اپنے احکام بیان کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ سب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے۔ یعنی جب نابالغ لڑکے بالغ ہوجائیں یا قریب البلوغ یعنی مراہق ہوجائیں تو ان کا حکم بھی بالغ مردوں کا سا ہوگا کہ وہ کسی وقت بھی بلاا جازت لئے مکان میں داخل ہوسکیں گے۔ جیسا کہ چوتھے رکوع میں مذکور ہوا یہ آزاد اور احرار لڑکوں کا حکم ہے جب بالغ ہوگئے تو بلوغ کے احکام جاری ہوں گے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ایسی پروانگی یعنی جیسے جدی گھر والے ہر وقت خبر کر کر آویں۔ 12
Ayah 24:60

وَ الْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِیْ لَا یَرْجُوْنَ نِكَاحًا فَلَیْسَ عَلَیْهِنَّ جُنَاحٌ اَنْ یَّضَعْنَ ثِیَابَهُنَّ غَیْرَ مُتَبَرِّجٰتٍۭ بِزِیْنَةٍ١ؕ وَ اَنْ یَّسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌ لَّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:60 in the Quran reader

اور وہ بڑی بوڑھی عورتیں جن کو نکاح کی کوئی امید باقی نہیں رہی وہ اپنے غیر ضروری اور زائد کپڑے اتار دیا کریں تو اس میں ان پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ وہ اپنی زینت کے مقامات کو ظاہر نہ کریں اور اس سے بھی احتیاط رکھیں تو ان کے لئے بہتر ہے تو اللہ سب سننے والا جاننے والا ہے۔

(60) اور وہ بڑی بوڑھی عورتیں جن کو نکاح کی کوئی امید باقی نہیں تو وہ اگر اپنے غیر ضروری اور زائد کپڑے اتار کر رکھ دیا کریں تو اس میں ان پر کوئی گناہ نہیں بشرطیکہ وہ اپنی زینت کے مقامات کو ظاہر نہ کریں لیکن اس سے بھی بچیں تو ان کے لئے بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔ یعنی بڑی بوڑھیاں جن کی عمریں ڈھل چکی ہیں چونکہ ان کا کام گھر میں بیٹھا رہنا ہوتا ہے اس لئے ان کو قواعد فرمایا نہ ان کو نکاح کی کوئی امید نہ ان سے کوئی نکاح کرنے والا تو یہ اگر گھروں میں زائد کپڑے یعنی برقعہ یا اوپر کی چادر اتار کر رکھ دیں یا باہر جاتے وقت بھی برقعہ چھوڑ دیں تو مضائقہ نہیں۔ ہاں ! زینت کے مقامات نہ کھولیں جن کا ذکر چوتھے رکوع میں گزر چکا ہے۔ یعنی وہ مقامات جو صرف مجرموں پر ظاہر کئے جاسکتے وں یعنی منہ اور ہتھیلیاں اور بازو کھولے جاسکتے ہیں۔ باقی اعضاء جیسے پیٹ، پیٹھ، سینہ، پنڈلیاں یہ سب پردے میں رہیں تو بھی مضائقہ نہیں اور اگر اس سے بھی بچیں تو ان کے لئے بہتر ہے۔ یہ بڑھیا عورتوں کو فرمایا اس سے جو ان عورتوں کے پردے کا اندازہ کرنے میں بہت آسانی ہوگئی اللہ تعالیٰ سننے والا جاننے والا ہے۔ یعنی بےپردگی میں جو باتیں ہوتی ہیں ان کو سنتا بھی ہے اور جانتا ہے آج کل ہمارے ملک میں بےپردگی کا جو مظاہرہ ہورہا ہے اس سے ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی بوڑھی عورتیں گھروں میں تھوڑے کپڑوں میں رہیں تو درست ہے اور پورا پردہ رکھیں تو اور بہتر ہے۔ 12
Ayah 24:61

لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَنْ تَاْكُلُوْا مِنْۢ بُیُوْتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اٰبَآئِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اُمَّهٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اِخْوَانِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخَوٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَعْمَامِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ عَمّٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخْوَالِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ خٰلٰتِكُمْ اَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَّفَاتِحَهٗۤ اَوْ صَدِیْقِكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْكُلُوْا جَمِیْعًا اَوْ اَشْتَاتًا١ؕ فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوْتًا فَسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ تَحِیَّةً مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُبٰرَكَةً طَیِّبَةً١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 24:61 in the Quran reader

اس بات میں نہ اندھے پر کوئی مضائقہ ہے اور نہ لنگڑے پر کوئی تنگی ہے اور نہ بیمار پر کوئی مضائقہ ہے اور نہ خود تم پر کوئی حرج ہے کہ تم اپنے گھروں سے کھانا کھائو یا اپنے باپ کے گھروں سے یا اپنی ماں کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچائوں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموئوں کے گھروں سے یا اپنی خالائوں کے گھروں سے یا ان گھروں سے جن کی کنجیاں تمہارے اختیار میں ہیں یا اپنے دوستوں کے گھروں سے کھانا کھالیا کرو اور تم پر اس بات میں بھی کوئی گناہ نہیں کہ سب مل کر کھائو یا الگ الگ کھائو۔ پھر جب تم گھروں میں داخل ہونے لگو تو اپنے لوگوں کو سلام کرلیا کرو یہ سلام ایک بابرکت اور پاکیزہ تحفہ اور دعا کے طور پر ہے جو اللہ کی طرف سے مقرر ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لئے اپنے احکام صاف صاف بیان کرتا ہے تاکہ تم سمجھ لو

(61) اس بارے میں نہ اندھے آدمی پر کوئی مضائقہ ہے اور نہ لنگڑے پر کوئی تنگی ہے اور نہ بیمار پر کوئی مضائقہ ہے اور نہ خود تم پر اس بارے میں کوئی تنگی ہے کہ تم لوگ خود یا تم اور یہ سب معذورین اپنے گھروں میں سے کچھ کھانا کھائیں یا اپنے باپ کے گھروں سے یا اپنی مائوں کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچائوں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموں کے گھروں سے یا اپنی خالائوں کے گھروں سے یا ان گھروں سے جن کی کنجیاں تمہارے اختیار میں ہیں یا اپنے دوستوں کے گھروں سے کھانا کھالیا کرو اور تم پر اس بارے میں بھی کوئی گناہ نہیں کہ سب مل کر کھائو یا الگ الگ کھائو۔ پھر جب تم گھروں میں داخل ہونے لگو تو اپنے لوگوں کو سلام کرلیا کرو یہ سلام علیک ایک بابرکت اور پاکیزہ تحفہ اور دعا کے طور پر ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لئے اپنے احکام صاف صاف بیان کرتا ہے تاکہ تم سمجھ لو۔ اس آیت کے شان نزول میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں بعض حضرات نے تو اپاہج یعنی اندھے لنگڑے اور مریض کے لئے جہاد اور جمعہ وغیرہ کی شرکت سے مستثنیٰ قرار دیا ہے اور بعض حضرات نے سب کا تعلق کھانے پینے سے قائم کیا ہے اور وجہ یہ بیان کی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں اپاہج لوگوں کے ساتھ کھانا کھانے سے گھبراتے اور پرہیز کرتے تھے کہ مبادا ہم زیادہ کھالیں اور اچھا کھالیں اور اس طرح اپاہج لوگوں کی حق تلفی ہو اندھے کو تو اچھے برے کی تمیز نہیں لنگڑے کو بیٹھنے میں دشواری ہوتی ہے بیمار کی بھی یہی حالت ہوتی ہے کہ وہ تندرستوں کی طرح نہی کھاسکتا۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کوئی شخص اپاہج لوگوں کو اپنے بھائیوں کے گھر کھانا کھلانے لے جاتا لیکن یہ لوگ تقوے کی وجہ سے کھانا نہ کھاتے اور یہ خیال کرتے کہ یہ شخص کسی اجنبی کے ہاں ہم کو کھانا کھلانے لے آیا اور اہل خانہ کی بلا اجازت ہم کو کھانا کھلانا چاہتا ہے اس لئے وہ لوگ کھانا نہ کھاتے اس آیت میں ان کے لئے رخصت فرمائی۔ سدی کا بیان ہے کہ کوئی شخص اپنے باپ یا بیٹے کے گھر جاتا یا بھائی بہن کے گھر جاتا اور گھروالے اس کے آگے کچھ کھانے کو رکھتے تو یہ شخص اس کے کھانے میں اس لئے تامل کرتا کہ صاحب خانہ تو ہے نہیں مبادا وہ ناراض ہو ان سب حالتوں میں مسلمانوں پر سے تنگی اور تکلیف کو ہٹادیا گیا اور رخصت فرمادی۔ کنجیوں کے مالک ہونے کا مطلب یہ ہے کہ کوئی اپنے گھر کا وکیل یا مختار بنادے جیسے لوگ مدینہ منورہ سے جاتے وقت جہاد وغیرہ میں ایسا کرتے تھے کہ اپنے مکانات سپرد کردیا کرتے تھے اور اپنے پیچھے کچھ کھانے پینے کی اجازت بھی دے دیا کرتے تھے لیکن وہ شخص ہچکچاتا تھا کہ صاحب خانہ تو سفر میں ہے میں کیسے کھائوں پیوں اسی طرح بعض مہمان نواز لوگ اس کو برا سمجھتے تھے کہ اکیلے کھانا کیسے کھائیں جب تک کوئی ساتھ کھانے والا نہ ہو۔ مہمان کے انتظار میں دن دن بھر کھانا نہ کھاتے تھے ان سب باتوں میں آسانی کا حکم دیا گیا اپاہج لوگوں کے ساتھ بھی حکم دیا گیا یہ کم کھانے اور زیادہ کھانے کا معمولی وسوسہ ہے اس کا اعتبار نہ کرنا چاہئے گو پیٹ کے رشتوں میں بھی ایسی غیریت نہ ہونی چاہئے اگر رضامندی کا حال معلوم ہو خوہ یہ رضامندی صراحۃً ہو دلالتہً کچھ کھانے پینے میں مضائقہ نہیں۔ بہرحال ! اپاہجوں کے ساتھ کھانے کی رخصت۔ اپنوں کے گھروں میں کھانے کی رخصت، اپنے گھروں میں سے کھانے کی رخصت جہاں بیوی اور اولاد رہتی ہو۔ اسی طرح کوئی مکان سپرد کرجائے اور اجازت دے جائے اس مکان سے کھانے پینے کی اجازت ، ساتھ لیکر کھانے یا الگ بیٹھ کر کھانے کی رخصت، دوستوں کے گھر سے کھانے کی رخصت، کسی گھر میں جاتے وقت سلام کرنے کا حکم، بیوی بچوں پر سلام کرنے کا حکم، غرض ! یہ سب باتیں اس آیت سے ثابت ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جو کام تکلیف کے ہیں وے ان کو معاف ہیں۔ جہاد اور حج اور جمعہ اور جماعت اور ایسی چیزیں۔ 12 مطلب یہ ہے کہ اپاہجوں پر یہ چیزیں لازم نہیں اور فرماتے ہیں یعنی اپنایت کے علاقوں میں کھانے کی چیز کو ہر وقت پوچھنا ضرور نہیں کھانے والا حجاب کرے نہ گھر والا دریغ کرے مگر عورت کا گھر اگر اس کا خاوند ہو تو اس کی مرضی چاہئے اور مل کر کھائے یا جدا یعنی اس کا تکرا دل میں نہ رکھے کہ کس نے کم کھایا یا کس نے زیادہ سب نے مل کر پکایا سب نے مل کر کھایا اور اگر ایک شخص کی مرضی نہ ہو تو درست نہیں کس کی چیز کھانی اور تقلید فرمایا سلام کا آپس کی ملاقات میں اس سے بہتر دعا نہیں جو لوگ اس کو چھوڑ کر اور لفظ ٹھہراتے ہیں اللہ کی تجویز سے ان کی تجویز بہتر نہیں۔ 12
Ayah 24:62

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اِذَا كَانُوْا مَعَهٗ عَلٰۤى اَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ یَذْهَبُوْا حَتّٰى یَسْتَاْذِنُوْهُ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْكَ لِبَعْضِ شَاْنِهِمْ فَاْذَنْ لِّمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:62 in the Quran reader

کامل مومن تو بس وہ لوگ ہیں جو اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں اور جب کبھی رسول کے پاس کسی ایسے اہم کام کیلئے جمع ہوتے ہیں جس کے لئے اجتماع کیا گیا ہے تو جب تک رسول سے اجازت نہ لے لیں وہاں سے نہیں جاتے بیشک جو لوگ آپ سے اجازت طلب کرتے ہیں تو وہی ہیں جو اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں سو اے پیغمبر جب یہ لوگ آپ سے اپن کسی کام کیلئے جانے کی اجازت طلب کیا کریں تو آپ ان میں جس کو چاہیں جانے کی اجازت دے دیا کیجئے اور ان کے لئے خدا سے بخشش کی دعا کردیا کیجئے بیشک اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے

(62) سورت کے چوتھے رکوع میں اجازت لیکر کسی کے مکان میں داخل ہونے کا حکم تھا اب بعض حالات میں جاتے وقت اجازت حاصل کرنے کا حکم بیان فرمایا چناچہ ارشاد ہوتا ہے کہ کامل اور مخلص مومن تو بس وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں اور جب کبھی رسول کے پاس کسی ایسے اہم کام کے لئے جمع ہوتے ہیں جس کے لئے اجتاع کیا گیا ہے تو جب تک رسول سے اجازت حاصل نہ کرلیں وہاں سے اٹھ کر نہیں جاتے۔ بلاشبہ ! جو لوگ ایسے اجتماع میں آپ سے اجازت طلب کرتے ہیں تو وہی لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر ایمان رکھت ہیں پس اے پیغمبر جب یہ لوگ اپنے کسی کام کے لئے آپ سے جانے کی اجازت طلب کیا کریں تو آپ ان میں سے جس کو چاہیں جانے کی اجازت دے دیا کیجئے اور ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے مغفرت اور بخشش کی دعا کردیا کیجئے، بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے چونکہ اوپر کی آیات میں اکثر احکام کا ذکر تھا اس آیت میں احکام کی تعمیل کرنے پر تاکید فرمائی کہ جب پیغمبر کسی موقعہ پر مسلمانوں کو جمع کرے تو رسول کی اجازت کے بددن کوئی شخص مجمع سے اٹھ کر نہ چلا جائے البتہ اجازت لیکر جائے کیونکہ منافقوں کی عام عادت یہ تھی کہ اول تو وہ آتے نہ تھے اور آتے تو چپکے سے کھسک جاتے تھے یہ بات مخلصین اور منافقین کے فرق کے لئے فرمائی جس کام کے لئے جمع ہونا ہے وہ کوئی مشورہ ہو یا جہاد کے لئے اجتماع ہو یا جمعہ اور عیدین وغیرہ ہو ان اجتماعات میں سے بدون استیذان کے کسی مخلص مومن کو جانا نہیں چاہئے آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان اور استیذان میں تلازم ہے جو مومن ہے وہ اجازت حاصل کرتا ہے اور جو اجازت حاصل کرتا ہے وہ مومن ہے پھر اجازت دینے نہ دینے کہ پیغمبر ﷺ کی رائے پر مفوض فرمایا کہ جس کو آپ چاہیں اجازت دے دیا کریں اور اس کے لئے استغفار کردیا کریں کیونکہ خواہ کسی عذر سے جاتا ہو اس اجازت سے دنیا کی دین پر تقدیم لازم آتی ہے اس لئے استغفار اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا کہ رسول ﷺ سے اجازت لیکر جانے والے کے لئے بخشش کی دعا کردیا کریں اس حکم کے بعد صحابہ کی یہ حالت تھی کہ جمعہ کے دن اگر کسی کو خطبے میں کوئی ضرورت پیش آجاتی تو وہ حضور ﷺ کے سامنے کھڑا ہوجاتا حضور ﷺ سمجھ لیا کرتے تھے اور اشارے سے جانے یا نہ جانے کا حکم دے دیا کرتے تھے۔ غزوہ تبوک کے موقع پر حضر ت عمر ؓ کے ساتھ نکلے تو کوئی کام یاد آگیا تو حضر ت عمر ؓ نے مکان تک جانے کی اجازت طلب کی تو آپ ﷺ نے فرمایا ارجع فلست بمنافق یعنی عمر تو شوق سے گھر آئو تم منافق نہ ہو آگے پیغمبر کے بلانے کی اہمیت کا ذکر ہے۔
Ayah 24:63

لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا١ؕ قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ یَتَسَلَّلُوْنَ مِنْكُمْ لِوَاذًا١ۚ فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ یُصِیْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 24:63 in the Quran reader

تم لوگ رسول کے بلانے کو ایسا معمولی بلانا نہ سمجھو جیسا کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو بلالیا کرتے ہو۔ بیشک اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جانتا ہے جو تم میں سے کسی کی آڑ میں ہوکر چپکے سے بلااجازت کھسک جایا کرتے ہیں لہٰذا وہ لوگ جو اس کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں ان کو اس بات سے ڈرنا چاہئے کہ ان پر کوئی آفت آپڑے یا ان پر کوئی دردناک عذاب نازل ہوجائے

(63) تم لوگ رسول (علیہ السلام) کے بلانے کو ایسا معمولی بلانا نہ سمجھو جیسا تم آپس میں ایک دوسرے کو بلا لیا کرتے ہو بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو تم میں سے کسی کی آڑ میں ہوکر چپکے سے کھسک جاتے ہیں لہٰذا وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں ان کو اس بات سے ڈرناچاہئے کہ ان پر کوئی آفت و مصیبت آپڑے یا ان پر دردناک عذاب نازل ہوجائے۔ اس آیت میں مجاہد اور سعید بن جبیر کا قول یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کو تعظیم و توقیر کے ساتھ پکارا کرو یہ نہیں جس طرح آپس میں ایک دوسرے کا نام لیکریا کنیت یا عرف سے پکارتے ہو اسی طرح پیغمبر ﷺ کو بھی یا محمد ابو القاسم کہہ کر پکارنے لگو بلکہ اگر حضور ﷺ کو متوجہ کرنے کی ضرورت ہو تو ان کو ادب و احترام کے ساتھ خطاب کرو دوسرا قول ابی ابن حاتم، ابن عباس، حسن بصری اور عطیۃ العوفی کا ہے یعنی پیغمبر کی بد دعا کو معمولی نہ سمجھو اگر آپ کسی کے حق میں بددعا فرماتے ہیں تو آپ کی دعا ضرور قبول ہوجاتی ہے تیسرا قول وہ ہے جو ہم نے ترجمے اور تیسیر میں اختیار کیا ہے منافقوں کو تنبیہ فرمائی کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے خوف واقف ہے جو آڑ میں ہوکر بلا اجازت چپکے سے کھسک جاتے ہیں چونکہ منافق کو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں اس لئے وہ اسلامی اجتماعات سے گھبراتا اور نکل بھاگنے کی کوشش کرتا ہے اور بلا اجازت کسی کی آڑ میں ہوکرنکل جاتا ہے حالاں کہ اللہ تعالیٰ ان کو جانتا ہے اور نکل بھاگنے والوں سے واقف ہے آگے تنبیہ کی تاکید ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی یا اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں ان کو اس بات سے ڈرتے رہناچاہئے کہ وہ دنیا ہی میں کسی آفت اور ناگہانی مصیبت میں مبتلا ہوجائیں اور ان پر کوئی بلا آجائے یا قیامت کے دن ان کو دردناک سزا دی جائے اس تردید کا یہ مطلب نہیں کہ دونوں عالم میں سے کسی ایک عالم میں ہو بلکہ یہاں آفت بھی آئے اور وہاں عذاب بھی ہو یعنی یہ نہیں ہوسکتا کہ دونوں جگہ کچھ نہ ہو البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ دونوں جگہ ہوجائے یہاں آفت و بلا اور وہاں دردناک عذاب۔ یہ سز ا ان کی فرمائی ہو جو اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کے حکم کی مخالفت کیا کرتے ہیں العیاذ باللہ
Ayah 24:64

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قَدْ یَعْلَمُ مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ١ؕ وَ یَوْمَ یُرْجَعُوْنَ اِلَیْهِ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 24:64 in the Quran reader

آگاہ ہو جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے تم جس روش پر ہو اللہ تعالیٰ اس روش کو خوب جانتا ہے اور وہ اس دن کو بھی جانتا ہے جس دن یہ سب لوگ اس کی طرف لوٹائے جائیں گے اور وہ ان کو ان تمام کارروائیوں سے آگاہ کردے گا جو انہوں نے کی تھیں اور اللہ ہر شئے کو جانتا ہے

(64) خبردار ہو آگاہ رہو یا درکھو جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے سب اللہ تعالیٰ ہی کی مملوک ہے اللہ تعالیٰ اس حالت کو بھی خوب جانتا ہے جس پر تم ہو اور اس دن کو بھی خوب جانتا ہے جس دن پر سب لوگ اس کی طرف لوٹائے جائیں گے اور ان سب کی بازگشت اس دن اسی کی طرف ہوگی پھر اللہ تعالیٰ ان کی ان تمام کارروائیوں سے جو وہ کرتے رہتے ہیں ان سب کو آگاہ کردے گا اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والا ہے یعنی اوپر کی آیت میں دنیا اور آخرت کی سزا اور تعذیب کی طرف اشارہ تھا اس آخری آیت میں اپنے مالک ہونے اور تمام اشیاء کو خواہ وہ اس عالم سے تعلق رکھتی ہوں خواہ عالم اخروی سے تعلق رکھتی ہوں اس سب کے جاننے کا اظہار فرمایا یعنی دونوں عالم مملوک بھی اور معلوم بھی پھر گناہ گار کا بچکر کہاں جاسکتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت ؐ کے بلانے سے فرض ہوتا تھا حاضر ہونا جس کام کو بلاویں پھر یہ بھی تھا کہ وہاں سے بےحکم چلے نہ جاویں اب بھی یہی چاہئے اپنے سرداروں سے سب کو کرنا 12 تم سورة نور