25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 25:1

تَبٰرَكَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ لِیَكُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَاۙ Open ayah 25:1 in the Quran reader

بڑی عالیشان و بابرکت ذات ہے اسکی جس نے اپنے خاص بندے پر فیصلہ کرنیوالی کتاب یعنی قرآن کریم کو نازل کیا تاکہ وہ تمام اہل عالم کے لئے ڈرانے والا ہو

(1) بڑی عالیشان اور بابرکت ذات ہے اس کی جس نے اپنے خاص بندے پر فیصلہ کرنے والی کتاب کو نازل فرمایا تاکہ وہ تمام اقوام عالم اور اہل عالم کے لئے ڈرانے والا ہو یعنی محمد ﷺ جو اس کے خاص بندے ہیں ان پر قرآن کریم جو حق و باطل کو جدا کرنے والا ہے نازل فرمایا تاکہ وہ قرآن کریم یا وہ بندہ جہان والوں کو ڈرانے والا ہو یعنی جو اس قرآن کریم پر ایمان نہ لائے اس کو عذاب الٰہی سے ڈرائیے۔
Ayah 25:2

اِ۟لَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِیْرًا Open ayah 25:2 in the Quran reader

وہ ذات وہ ہے کہ آسمانوں کی اور زمین کی سلطنت اسی کی ہے اور نہ اس نے کسی کو اپنی اولاد قرار دیا ہے اور نہ حکومت میں کوئی اسکا شریک ہے اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر ہر چیز کا ایک مناسب و موزوں انداز رکھا

(2) وہ ذات ایسی ہے کہ آسمانوں کی اور زمین کی سلطنت اسی کی ہے اور نہ اس نے کسی کو اپنی اولاد بنایا اور قراردیا اور نہ اس کی حکومت میں کوئی اس کا شریک اور ساجھی ہے اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر ہر چیز کا ایک مناسب اور موزوں انداز رکھا یعنی حضرت حق تعالیٰ کی ذات اقدس ایسی ہے کہ خواہ آسمانوں کی سلطنت ہو یا زمین کی سب اسی کی ہے اس کی کوئی اولاد بھی نہیں نہ اس نے کسی کو اولاد مقرر کیا نہ اس کی حکومت اور اس کے راج میں کوئی اس کا شریک ہوا اسی نے ہر موجود ہر چیز کو بنایا اور پیدا کیا پھر ہر چیز کا الگ الگ انداز رکھا جو نہایت موزوں اور مناسب ہے کسی چیز کے خواص کچھ رکھے اور کسی کے کچھ رکھے۔
Ayah 25:3

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً لَّا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ وَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا وَّ لَا یَمْلِكُوْنَ مَوْتًا وَّ لَا حَیٰوةً وَّ لَا نُشُوْرًا Open ayah 25:3 in the Quran reader

اور کافروں نے خدا کے سوا ایسے معبود بنا رکھے ہیں جو کسی شی کو پیدا نہیں کرسکتے بلکہ ان کی حالت یہ ہے کہ وہ خود پیدا شدہ ہیں اور نہ وہ اپنے برے کا اور نہ اپنے بھلے کا کوئی اختیار رکھتے ہیں اور نہ وہ کسی کے مرنے کا اور نہ کسی کے زندہ کرنیکا اور نہ مرنے کے بعد دوبارہ جالا نیکا کوئی اختیار کھتے ہیں

(3) اور مشرکین نے اللہ تعالیٰ کی توحید کو چھوڑ کر اس کے سوا اور ایسے معبود بنا رکھے اور تجویز کر رکھے ہیں جو کسی چیز کو بھی پیدا نہیں کرسکتے وہ کسی کے خالق نہیں ہیں ان کی حالت یہ ہے کہ وہ خود ہی پیدا شدہ ہیں اور وہ خود مخلوق ہیں اور نہ وہ خود اپنے برے اور بھلے کا کوئی اختیار رکھتے نہ اپنے نقصان اور نفع کے مالک ہیں اور نہ وہ کسی کے مرنے اور نہ وہ کسی کے زندہ کرنیکا اور نہ مرنے کے بعد کسی کو دوبارہ جلا کر اٹھانے کا کوئی اختیار رکھتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ جو خالق اور مالک اور قادر مطلق ہے اس کو چھوڑ کر اور اس کی توحید کے منکر ہوکر اس کی مخلوق میں سے ایسے کمزوروں اور ناتواں کو معبود بناتے ہیں جو نہ کسی کو پیدا کرنے کی قدرت رکھتے ہیں اور قدرت کیا رکھیں گے وہ اپنی ذات میں اور اپنی پیدائش ہی میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں وہ اپنے ضرر اور نفع کا بھی کوئی اختیار نہیں رکھتے تو بھلا ان مشرکوں و کیا نفع اور نقصان پہنچا سکتے ہیں ؟ اور نہ ہی کسی کی جان نکال سکتے ہیں نہ کسی بےجان میں جان ڈال سکتے ہیں نہ مرے پیچھے کسی کو دوبارہ زندہ کرسکتے ہیں مطلب یہ کہ جو باتیں استحقاق معبودیت کے لئے ضروری اور لوازم میں سے ہیں ان میں سے کوئی بات بھی ان معبودان باطلہ میں نہیں پائی جاتی جب لازم نہیں تو ملزوم بھی نہیں۔ یہاں تک توحید الٰہی کا اثبات تھا اب آگے نبی کریم ﷺ کی نبوت پر جو شکوک و شبہات کئے جاتے ہیں ان کا جواب ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 25:4

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكُ اِ۟فْتَرٰىهُ وَ اَعَانَهٗ عَلَیْهِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ١ۛۚ فَقَدْ جَآءُوْ ظُلْمًا وَّ زُوْرًاۚۛ Open ayah 25:4 in the Quran reader

اور کافر یوں کہتے ہیں کہ یہ قرآن کریم تو کچھ بھی نہیں محض جھوٹ ہے جسکو اس شخص نے خودگھڑ لیا ہے اور دوسرے لوگوں نے اس گھڑنے میں اس کی مدد کی ہے سو اس کہنے میں یہ کافر بڑے ہی ظلم اور کذب کے مرتکب ہوئے

(4) اور دین حق کے منکروں نے یوں کہا کہ یہ قرآن کریم تو کچھ بھی نہیں محض جھوٹ ہی جھوٹ ہے جس کو اس شخص نے خود گھڑ لیا ہے اور دوسرے لوگوں نے اس افتراء میں اس کی مدد کی ہے پس اس کہنے میں یقینا یہ منکر بڑے ہی ظلم اور جھوٹ کے مرتکب ہوئے یعنی پیغمبر الصلوٰۃ والسلام پر جو کتاب معجز بیان اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے اس کے متعلق یہ منکر یوں کہتے ہیں کہ یہ نرا ہی جھوٹ ہے اللہ تعالیٰ نے کچھ نہیں نازل کیا بلکہ یہ نبی خود ہی گھڑتا ہے اور اہل کتاب میں سے کچھ لوگ اس کی مدد اور اعانت کرتے ہیں یہ ان سب کی بنائی ہوئی کتاب کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے حضرت حق جل مجدہ نے ان کا جواب فرمایا کہ ان لوگوں نے بڑی ناانصافی کی اور جھوٹ بات کہی جو کلام اپنے اعجاز کی وجہ سے طاقت بشری سے بالاتر ہے اس کو انسانوں کا بنایا ہوا کلام کہنا نہ صرف جھوٹ ہے بلکہ ظلم اور ناانصافی ہے۔
Ayah 25:5

وَ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِیَ تُمْلٰى عَلَیْهِ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 25:5 in the Quran reader

اور کافر قرآن کریم کے متعلق یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ محض اگلے لوگوں کی بےسرد پا کہانیاں ہیں جنکو اس نے کسی سے لکھوا لیا ہے پھر وہی کہانیاں اس کو صبح و شام پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی ہیں

(5) اور یہ دین حق کے منکر قرآن کریم کے متعلق یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ قرآن کریم محض اگلے لوگوں کی بےسرد پا کہانیاں ہیں جو بےسند پہلے لوگوں سے منقول ہوتی چلی آرہی ہیں ان کہانیوں کو اس نے کسی سے لکھوا لیا ہے پھر یہی منضبط اور لکھی ہوئی کہانیاں اس کو صبح اور شام پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی اور یاد کرادی جاتی ہیں یعنی اول تو یہ بےسند باتیں ہیں جن کو ایک پارٹی مرتب کرتی اور لکھتی ہے پھرص بح اور شام اس کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں اور یہ یاد کرکے لوگوں کے روبرو پڑھ کر خدا کا کلام بتاتا ہے اور عوام کو سنا کر منزل من اللہ بتاتا ہے آگے اس کا جواب ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 25:6

قُلْ اَنْزَلَهُ الَّذِیْ یَعْلَمُ السِّرَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 25:6 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے کہ یہ قرآن کریم تو اس خدا نے اتارا ہے جو آسمان و زمین کی تمام چھپی ہوئی باتوں کو جانتا ہے بلاشبہ خدا بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے

(6) اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجئے کہ یہ قرآن کریم تو اس نے نازل کیا ہے جو آسمان اور زمین کی تمام پوشیدہ اور چھپی ہوئی چیزوں کو جانتا ہے بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے ۔ یعنی آپ جو اب میں فرما دیجئے کہ یہ قرآن کریم تو اس اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے جو آسمان و زمین کے ہر پوشیدہ بھید کو جانتا ہے اور چونکہ اس کا علم سب کو محیط ہے اسی لئے یہ کلام معجز نظام ہے اور اعجاز سے لبریز ہے کسی انسان کا نہ اسقدر علم محیط ہے نہ وہ اعجاز کی اتنی رعایتیں ملحوظ رکھ سکتا ہے لہٰذا کوئی بشر ایسا کلام کر ہی نہیں سکتا ایسے کلام سے جو لوگ سرتابی کریں اور اس کو بشر کا کلام کہیں وہ مستحق سزا ہیں لیکن وہ غفور اور رحیم ہے اس لئے عذاب میں جلدی نہیں کرتا۔
Ayah 25:7

وَ قَالُوْا مَالِ هٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْكُلُ الطَّعَامَ وَ یَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَلَكٌ فَیَكُوْنَ مَعَهٗ نَذِیْرًاۙ Open ayah 25:7 in the Quran reader

اور یہ کافر یوں کہتے ہیں کہ اس رسول کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ کھانا بھی کھاتا ہے اور بازاروں میں بھی چلتا پھرتا ہے اس کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا گیا کہ وہ اس کیساتھ رہ کر لوگوں کو ڈراتا

(7) اور یہ دین حق کے منکر اس پیغمبر کی شان میں یہ بھی کہتے ہیں کہ اس رسول کو کیا ہوگیا کہک یہ کھانا بھی کھاتا ہے اور بازاروں میں بھی چلتا پھرتا ہے اس کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں جو اس کے ساتھ رہ کر لوگوں کو ڈراتا یعنی یہ جو اپنے کو رسول کہتا ہے یہ تو ہماری طرح کھانا بھی کھاتا ہے اور معاش کا انتظام کرنے کو بازاروں میں چلتا پھرتا بھی ہے مطلب یہ ہے کہ ہماری ہدایت کے لئے فرشتہ آتا اور اگر فرشتہ نہ آتا تو کم از کم اس کے ساتھ ہی کوئی فرشتہ رہتا جوا سکے ساتھ مل کر لوگوں کو ڈراتا۔
Ayah 25:8

اَوْ یُلْقٰۤى اِلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ تَكُوْنُ لَهٗ جَنَّةٌ یَّاْكُلُ مِنْهَا١ؕ وَ قَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا Open ayah 25:8 in the Quran reader

یا اس کی طرف کوئی خزانہ ہی آپڑتا یا اگر یہ بھی نہ ہوتا تو اس کے پاس کوئی باغ ہی ہوتا کہ اس باغ میں سے وہ کھایا کرتا اور یہ ظالم یوں کہتے ہیں کہ تم لوگ بس ایک ایسے شخص کے پیچھے چل رہے ہو جو سحر زدہ اور مسلو العقل ہے

(8) یا فرشتہ نہ اترتا تو اس کی طرف کوئی خزانہ ہی ڈال دیا جاتایا اگر یہ بھی نہ ہوتا تو اس کے پاس کوئی باغ ہی ہوتا کہ یہ اس باغ میں سے کھایا کرتا اور یہ ظالم اور حق نا شناس مسلمانوں سے یوں کہتے ہیں کہ تم لوگ بس ایک ایسے شخص کی پیروی کر رہے ہو اور ایسے آدمی کے پیچھے چل رہے ہو جو سحر زدہ ہے اور جس پر جادو کیا گیا ہے یعنی اگر رسول کو فرشتہ نہیں بنایا اور کوئی فرشتہ بھی اس کے ساتھ نازل نہیں کیا تو اس کو اگر وہ رسول ہوتا تو معاش سے بےفکر کرنے کے لئے غیب سے اس کے پاس خزانہ ہی ڈال دیاجاتا۔ اچھا اگر خزانہ بھی نہیں ڈالا گیا تو پھر کوئی باغ ہی اس کے پاس ہوتا کہ اس کے پھل کھا کر گزر کرتا اور اس سے بڑھ کر آپ کو مسحور اور مسلوب العقل بھی کہتے ہیں اور اہل ایمان سے کہتے ہیں کہ تم ایک جادو زدہ آدمی کے کہنے پر چلتے ہو جس کے ہوش و حواس صحیح نہیں ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) لفظ اصیل پر فرماتے ہیں اول نماز کا وقت مقرر تھا صبح اور شام مسلمان حضرت (علیہ السلام) کے پاس جمع ہوتے جو نیا قرآن اترتا ہوتا لکھ لیتے یاد کرنے کو اس کو کافر یوں کہنے لگے 12 پھر حضرت شاہ صاحب (رح) رحیما پر فرماتے ہیں یعنی اپنی بخشش اور مہر سے اتارا 12
Ayah 25:9

اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:9 in the Quran reader

اے پیغمبر ! ذرا دیکھئے تو یہ لوگ آپ کی نسبت کیسی کیسی باتیں بیان کر رہے ہیں سو یہ لوگ گمراہ ہوگئے اور اب یہ کوئی راہ نہیں پاسکتے۔

(9) اے پیغمبر ذرا دیکھئے تو یہ لوگ آپ کی نسبت کیسی کیسی عجیب باتیں بیان کر رہے ہیں سو یہ لوگ گمراہ ہوگئے اور اب یہ کوئی راہ نہیں پاسکتے یعنی طرح طرح کی باتیں چھانٹتے ہیں جس کا مال بجز بےدینی اور گستاخی کے اور کچھ نہیں پس یہ انتہائی گمراہی کی باتیں ہیں اور اب یہ راہ حق نہیں پاسکتے سیدھی راہ دیکھنے سے ان کی آنکھیں اندھی ہوچکی ہیں۔
Ayah 25:10

تَبٰرَكَ الَّذِیْۤ اِنْ شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَیْرًا مِّنْ ذٰلِكَ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ وَ یَجْعَلْ لَّكَ قُصُوْرًا Open ayah 25:10 in the Quran reader

وہ ذات بڑی عالی شان و بابرکت ہے وہ اگر چاہے تو ان کافروں کے اس کہنے سے بھی آپکو بہتر چیز دیدے وہ بہت سے باغ ہوں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں اور باغوں کے علاوہ وہ آپکو بہت سے محل بھی دیدے

(10) وہ ذات بڑی عالیشان ہے وہ اگر چاہے تو ان کافروں کے اس کہنے سے بھی آپ کو بہتر چیز دیدے وہ بہت سے باغ ہوں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں اور باغات کے علاوہ آپ کو بہت سے محل بھی عطا کردے یعنی اللہ تعالیٰ بہت بلند اور عالیشان ہے وہ اگر چاہے تو ایک باغ کیا بلکہ بہت سے باغات اپنے رسول کو عطا کردے اور جو چیز ان معاندین نے کہی بھی نہیں یعنی بہت سے محلات بھی دیدے لیکن ان شکوک و شبہات کا منشایہ نہیں کہ ان منکرین کو واقعی حق کی تحقیق منظور ہے بلکہ ان شبہات کا منشاء محض شرارت اور دین حق کی مخالفت ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 25:11

بَلْ كَذَّبُوْا بِالسَّاعَةِ١۫ وَ اَعْتَدْنَا لِمَنْ كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِیْرًاۚ Open ayah 25:11 in the Quran reader

اصل با ت یہ ہے کہ یہ لوگ قیامت کے منکر ہیں اور ہم نے ایسے لوگوں کے لئے جو قیامت کو جھوٹ سمجھیں بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے

(11) ان کا منشاء حق کی تحقیق نہیں ہے بلکہ یہ قیامت کے منکر ہیں اور وقوع قیامت کے جھوٹ سمجھتے ہیں اور جو لوگ قیامت کی تکذیب کرتے اور قیامت کو جھٹلاتے ہیں ہم نے ان کیلئے بھڑکتی ہوئی آگ یعنی دوزخ تیار کر رکھی ہے یعنی قیامت کو جھٹلانا اور قیامت کا انکار کرنا یا جہنمی ہونے کا موجب ہے ان کا منشاء صرف یہ ہے کہ وقوع قیامت کی تکذیب کی جائے آگے دوزخ اور اس کے عذاب کی مزید تفصیل ہے۔
Ayah 25:12

اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَیُّظًا وَّ زَفِیْرًا Open ayah 25:12 in the Quran reader

جب وہ دوزخ کی آگ ان کو دور سے دیکھے گی تو یہ کافر اس کی غضب آلود آواز اور اس کے چلانے کو سنیں گے

(12) جب وہ دوزخ کی آگ ان دین حق کے منکروں کو دیکھے گی تو یہ بد دین اس کی غضبت آلود آواز اور اس کے چلا نے اور اس کے جوش و خروش کو سنیں گے یعنی قیامت کے دن جب دوزخ ان کو دور سے دیکھے گی تو یہ دور ہی سے اس کے جھنجھلانے اور اس کے شوروغل کو سنیں گے تکاد تمیز من الغیظ
Ayah 25:13

وَ اِذَاۤ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَیِّقًا مُّقَرَّنِیْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًاؕ Open ayah 25:13 in the Quran reader

اور جب یہ کافر اس دوزخ کی کسی تنگ جگہ میں ہاتھ پائوں جکڑ کے ڈال دئیے جائیں گے تو وہاں موت ہی موت پکاریں گے

(13) اور جب یہ منکر اس دوزخ کی کسی تنگ جگہ میں ہاتھ پائوں جکڑ کے ڈال دئیے جائیں گے تو وہاں موت ہی موت کو پکاریں گے۔
Ayah 25:14

لَا تَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا وَّ ادْعُوْا ثُبُوْرًا كَثِیْرًا Open ayah 25:14 in the Quran reader

کہا جائیگا کہ تم آج ایک موت کو نہ پکارو بلکہ بہت سی موتوں کو پکارو

(14) موت کے پارنے پر کہاجائے گا کہ تم آج ایک موت کو نہ پکارو بلکہ بہت سی موتوں کو پکارتے اور بلاتے رہو یعنی جب ان کے ہاتھ پائوں زنجیروں سے باندھ کر ان کو کسی تنگ جگہ میں ڈال دیاجائے گا تو وہاں موت کو پکاریں گے جیسا کہ مصیبت کے وقت ہر انسان موت کو پکارتا ہے اور چونکہ وہاں کی مصیبت لا متناہی ہے اس لئے کہاجائیگا کہ آج ایک بار موت کو نہ پکارو بلکہ بار بار موت ہی کو پکارتے رہو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ایک بارمریں توچھوٹ جاویں دن میں ہزار بار مرنے سے بدتر حال ہوتا ہے 12 اب آگے اہل حق کے ساتھ جو سلوک ہوگا اس کا بیان ہے اور مقابلے میں ان سے دریافت کیا گیا ہے کہ حق کو قبول کرنے کی بات بہتر ہے یا حق کو جھٹلانے کا انجام بہتر ہے۔
Ayah 25:15

قُلْ اَذٰلِكَ خَیْرٌ اَمْ جَنَّةُ الْخُلْدِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ كَانَتْ لَهُمْ جَزَآءً وَّ مَصِیْرًا Open ayah 25:15 in the Quran reader

آپ ان سے کہئے کیا یہ دوزخ کا عذاب اچھا ہے یا وہ دائمی جنت اچھی ہے جسکا متقی اور پرہیز گار لوگوں سے وعدہ کیا گیا ہے کہ جنت ان کے تقوے کا صلہ اور ان کا آخری ٹھکانا ہوگا

(15) آپ ان سے فرمائیے اور آپ ان سے دریافت کیجئے بھلا یہ مصیبت کی حالت اور یہ دوزخ کا عذاب بہتر ہے یا وہ دائمی جنت اچھی ہے جس کا اہل تقویٰ اور پرہیز گاروں سے وعدہ کیا گیا ہے کہ وہ جنت ان کے تقویٰ اور پرہیز گاری کا صلہ اور ان کا آخری ٹھکانہ ہوگا اور ان کے بازگشت کی جگہ ہوگی۔
Ayah 25:16

لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ خٰلِدِیْنَ١ؕ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ وَعْدًا مَّسْئُوْلًا Open ayah 25:16 in the Quran reader

جس چیز کی و ہ خواہش کرینگے ان کیلئے وہ چیز اس جنت میں موجود ہوگی وہ اسی حالت میں ہمیشہ رہیں گے یہ مذکورہ جنت کا وعدہ آپ کے رب کے ذمہ ایک ایسا وعدہ ہے جسکے ایفاء کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے

(16) وہ متقی حضرات اس جنت میں جس چیز کی خواہش کریں گے وہ ان کے لئے وہاں موجود ہوگی وہ اس حالت میں ہمیشہ رہیں گے یہ مذکورہ جنت کا وعدہ آپ کے پروردگار کے ذمے ایک ایسا وعدہ ہے جس کے ایفا کرنے کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے یعنی اس جنت میں یہ متقی حضرات آرام و آسائش کے سلسلہ میں جو چاہیں گے وہ سب ان کو میسر ہوگا اور وہ اس جنت میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ وعدہ بھی ایسا حتمی ہے جس کے پورا ہونے کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے اور حضرت حق جل مجدہ سے یہ پوچھا جاسکتا ہے کہ یہ وعدہ جو آپ نے اہل جنت سے کیا تھا اس کو پورا کیجئے یہ مانگ کی جاسکتی ہے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کیوجہ سے یہ وعدہ اس نے اپنے ذمہ پر کیا ہے جس کا پورا ہونا حتمی اور لازمی ہے اور قابل درخواست ہے۔
Ayah 25:17

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَقُوْلُ ءَاَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِیْ هٰۤؤُلَآءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِیْلَؕ Open ayah 25:17 in the Quran reader

اور جس دن اللہ تعالیٰ ان کو اور ان کے ان باطل معبودوں کو جن کو یہ خدا کے سوا پوجتے ہیں یکجا جمع کرے گا پھر ان معبودوں سے پوچھے گا کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا یا یہ خود سیدھی راہ سے بھٹک گئے تھے

(17) اور وہ دن قابل ذکر ہے جس دن اللہ تعالیٰ ان مشرکوں کو اور جن معبودان باطلہ کو یہ اللہ تعالیٰ کے سوا پوجا کرتے ہیں سب کو یکجا جمع کرے گا پھر ان معبودوں سے دریافت کرے گا کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا یا یہ خود ہی سیدھی راہ سے بھٹک گئے تھے یعنی آخر ان کے کفرو شرک اختیار کرنے کی وجہ کیا ہے تم ان کو اپنی پرستش کے لئے ابھارا اور بہکایا تھا انہوں کے خود بخود سیدھی راہ اختیار نہ کی اور گمراہی اختیار کرلی۔
Ayah 25:18

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ مَا كَانَ یَنْۢبَغِیْ لَنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ مِنْ دُوْنِكَ مِنْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنْ مَّتَّعْتَهُمْ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى نَسُوا الذِّكْرَ١ۚ وَ كَانُوْا قَوْمًۢا بُوْرًا Open ayah 25:18 in the Quran reader

وہ عرض کریں گے تیری ذات پاک ہے ہماری یہ مجال نہ تھی کہ ہم تیرے سوا دوسروں کو کار ساز مقرر کریں لیکن بات یہ ہوئی کہ تو نے ان کو اور ان کے بڑوں کو ہر قسم کی آسودگی سے بہرہ مند کیا یہاں تک کہ یہ تیری یاد کو فراموش کر بیٹھے اور خود ہی ہلاک ہونیوالے لوگ تھے

(18) وہ متفقہ طورپر عرض کریں گے تیری ذات پاک ہے ہماری یہ مجال نہ تھی اور ہم کو کسی طرح بھی یہ مناسب اور لائق نہ تھا کہ ہم تیرے سوا دوسروں کو کارساز تجویز کریں لیکن بات یہ ہوئی کہ تو نے ان کو اور ان کے باپ دادوں کو ہر قسم کی آسودگی اور دینوی عیش و تنعم سے بہرہ مند کیا اور دینوی سازو سامان کے برتنے کا موقعہ دیا یہاں تک کہ یہ تیری یاد کو فراموش کر بیٹھے اور جون صیحت ان کو دی گئی تھی اس کو بھول گئے اور یہ تھے ہی ہلاک ہونے والے یعنی جب ہم خود ہی مجال نہ رکھتے تھے کہ تیرے سوا کسی دوسرے کو کارساز اور معبود ٹھہرائیں تو ان کو اس بات پر کس طرح آمادہ کرسکتے تھے کہ یہ ہماری پرستش کریں اور تیرے سوا ہم کو پوجنے لگیں بات تو یہ ہے کہ ان کو آپ نے نسلاً بعد نسل دنیوی آسودگی اور عیش سے بہرہ مند کیا یہ اس عیش و تنعم میں لگ کر تیری یاد اور تیری نصیحت کو بھلا بیٹھے ور یہ خود ہی ہلاک ہوئے یہ معبود خواہ اصنام اور بت ہوں خواہ ملاکئہ اور بزرگان دین ہوں سب یہی جواب دیں گے اور مشرک جو یہ خیال کرتے ہیں کہ ہماری پرستش سے یہ معبود خوش ہوتے ہیں اور یہ ہم کو ہر مصیبت سے نجات دیں گے جب ان کی تغلیط ہوجائے گی اور ان کے عقیدہ باطلہ کا اظہار ہوجائے گا تو اللہ تعالیٰ بطور تبکیت ان سے فرمائے گا کیونکہ اس سوال کا مقصد ہی یہ تھا چناچہ ارشاد ہوگا۔
Ayah 25:19

فَقَدْ كَذَّبُوْكُمْ بِمَا تَقُوْلُوْنَ١ۙ فَمَا تَسْتَطِیْعُوْنَ صَرْفًا وَّ لَا نَصْرًا١ۚ وَ مَنْ یَّظْلِمْ مِّنْكُمْ نُذِقْهُ عَذَابًا كَبِیْرًا Open ayah 25:19 in the Quran reader

، اس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا اب تو تمہارے ان معبودوں ہی نے تمہاری باتوں کو جھوٹا کردیا سو اب تم نہ تو عذاب کو اپنے پر سے ٹال سکتے ہو اور نہ تم کسی قسم کی مدد دئیے جاسکتے ہو اور جو تم میں سے ظالم یعنی مشرک ہوگا ہم اسکو بڑے سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے

(19) اب تو تمہارے ان معبودوں نے ہی تمہاری تکذیب کردی اور تمہاری باتوں کو جھوٹا بتادیا اور تم جو کچھ کہتے تھے اس کو جھوٹا کردیا لہٰذا اب تم نہ تو اپنے پر سے عذاب کو ٹال سکتے ہو اور نہ تم کسی طرف سے مدد ہی دئیے جاسکتے ہو اور جو تم میں سے گناہ گار ہے ہم اس کو بڑے سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔ یعنی جو توقعات معبودان باطلہ سے قائم کر رکھی تھیں وہ سب غلط ہوئیں معبود ان باطلہ نے تمہاری پرستش کی خود تمہارے سامنے تردید کردی اب نہ تو تم میں خود دم ہے کہ عذاب الٰہی کو ٹلا دو اور نہ تمہارے معبودوں میں اتنی جان ہے کہ تمہاری مدد کرسکیں کیونکہ وہ خود محتاج ہیں نیز یہ کہ وہ تمہارے شرک کی وجہ سے خود تم سے بیزار ہیں لہٰذا امداد کی بھی کوئی شکل باقی نہیں رہی۔ آگے فرمایا تم میں سے جو مشرک ہوگا اس کو ہم سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے بعض حضرات نے یظلم کا ترجمہ گناہ گار کیا ہے ہم نے تیسر میں اس کی طرف بھی اشارہ کردیا ہے ظلم سے مراد کسی نے شرک لیا ہے اور کسی نے گناہ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی عذاب پھیر دینا یا بات پلٹ ڈالتی 12 حضرت شاہ صاحب نے یہ تفسیر صرفاً کے لفظ سے کی ہے۔
Ayah 25:20

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّاۤ اِنَّهُمْ لَیَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ یَمْشُوْنَ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ وَ جَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً١ؕ اَتَصْبِرُوْنَ١ۚ وَ كَانَ رَبُّكَ بَصِیْرًا۠ Open ayah 25:20 in the Quran reader

اور اے پیغمبر ہم نے آپ سے پہلے جتنے رسول بھیجے وہ سب کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں بھی چلتے پھرتے تھے اور لوگو ! ہم نے تمہارے میں سے ہر ایک کو دوسرے کے لئے آزمائش بنایا ہے تو کیا تم صبر کا شیوہ اختیار کرو گے اور اے پیغمبر آپ کا رب سب کچھ دیکھ رہا ہے

(20) اور اے پیغمبر ہم نے آپ سے پہلے جتنے رسول بھی بھیجے ہیں وہ سب کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں بھی چلتے پھرتے تھے اور ہم نے تمہارے میں سے ہر ایک کو دوسرے کے لئے آزمائش بنایا ہے دیکھیں تم ثابت رہتے ہو اور کیا تم صبر کا شیوہ اختیار کرو گے اور اے پیغمبر آپ کا پروردگار سب کچھ دیکھ رہا ہے ۔ یعنی رسول آخر بشر ہے اگر وہ اپنی ضروریات کو کھانا کھا کر اور بازار میں کسی ضرورت کے لئے جاتا ہے تو اس میں اعتراض اور شک کی کیا گنجائش ہے ان سے پہلے جس قدر بھی رسول تشریف لائے سب اپنی بھوک کو کھانا کھا کر رفع کرتے اور اپنی خانگی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے بازار تشریف لے جاتے تھے۔ فرقان کے پہلے رکوع میں جو حضر کی پیغمبر ی پر شبہ تھا یہ اس کا جواب ہے پھر حضور کو تسلی دینے کی غرض سے فرمایا کہ تم اور تمہارے ساتھ مسلمان کفار کے ان طعن وتشنیع سے گھبرائیں نہیں اس عالم میں ہر شخص دوسرے کے لئے موجب آزمائش ہے مسلمان کافروں کے لئے اور کافر مسلمانوں کے لئے بیوی خاوند کے لئے اور خاوند بیوی کے لئے، ماں باپ اولاد کے لئے اولاد ماں باپ کے لئے، پیغمبر امت کے لئے، امت پیغمبر کے لئے ہر شخص اس دارالامتحان میں دوسرے کے لئے امتحان و آزمائش کا سبب بنا ہوا ہے اور مقصد یہ ہے کہ دیکھیں تم ثابت رہتے ہو یا نہیں اور صبر کرتے ہو یا نہیں زندگی کے اس امتحان و آزمائش میں پورے اترتے ہو یا نہیں اور آپ کا پروردگار خوب دیکھ رہا ہے وہ وقت مقرر ہ پر ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) وجعلنا بعضکم لبعض فتنۃ پر فرماتے ہیں پیغمبر ہیں کافروں کا ایمان جانچنے کو اور کافر ہیں پیغمبر کا صبر جانچنے کو 12 آیت میں صبر و ثبات کی تاکید ہے اور تمام حالات سے باخبر ہونے میں بڑی تسلی ہے آیت کا چھوٹا سا ٹکڑا اتنا وسیع ہے کہ بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے مگر ہمیں اختصار منظور ہے۔
Ayah 25:21

وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ نَرٰى رَبَّنَا١ؕ لَقَدِ اسْتَكْبَرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ وَ عَتَوْ عُتُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 25:21 in the Quran reader

اور وہ لوگ جن کو ہمارے روبرو پیش ہونے کی توقع نہیں ہے یوں کہتے ہیں کہ ہم پر فرشتے کیوں نہیں نازل کئے جاتے یا ہم اپنے پروردگار کو کیوں نہیں دیکھ لیتے یہ لوگ اپنے دلوں میں اپنے کو بہت بڑا سمجھ رہے ہیں اور یہ لوگ شرارت میں حد سے بہت ہی آگے نکل گئے ہیں

(21) اور وہ لوگ جن کو ہماری ملاقات کی اور ہمارے روبرو پیش ہونے کی توقع اور امید نہیں ہے اور جن کو قیامت کا خوف نہیں وہ یوں کہتے ہیں کہ ہم پر فرشتے کیوں نہیں نازل کئے جاتے یا ہم اپنے پروردگار کو کھلم کھلا کیوں نہیں دیکھ لیتے یہ لوگ اپنے جی میں اپنے کو بہت بڑا سمجھ رہے ہیں اور یہ لوگ شرارت میں انسانیت اور بندگی کی حد سے بہت آگے نکل گئے ہیں یعنی منکرین رسالت اور منکرین قیامت یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم سے ملائکہ آکر آپ کی رسالت کی تصدیق کریں یا ہمارا پروردگار ہمارے سامنے ہوکر یہ کہے کہ یہ ہمارا رسول ہے اس وقت تک ہم آپ کے رسول ہونے کا اقرار نہیں کریں گے حضرت حق تعالیٰ نے فرمایا فرشتوں کو ان کی اصلی حالت میں دیکھنا یا حضرت حق جل مجدہ کی زیارت سے اس دنیا میں مشرف ہونے کا مطالبہ کرنا یہ صلاحیت ان میں کہاں ہے اور باوجود عدم صلاحت کے خواہش مند ہیں رویت کے توبہ اپنے دلوں میں اپنے کو بہت بلند اور بہت بڑا سمجھتے ہیں کہ یہ فرشتوں کو بھی دیکھ لیں گے اور ان سے ہم کلام بھی ہوجائیں گے ایسی ان ہوئی باتوں کی خواہش کرکے یہ لوگ اپنی شرارت اور سرکشی میں حد سے تجاوز کر گئے ہیں نہ یہ انسانیت کا متقضا ہے اور نہ بندگی کا کہ دنیا میں ملائکہ کی روایت کا مطالبہ کیا جائے یا اللہ تعالیٰ کی رویت کا مطالبہ کیا جائے ۔
Ayah 25:22

یَوْمَ یَرَوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ لَا بُشْرٰى یَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِیْنَ وَ یَقُوْلُوْنَ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا Open ayah 25:22 in the Quran reader

جس دن یہ فرشتوں کو دیکھیں گے اس دن گنہگاروں کے لئے کوئی خوشی کی بات نہیں ہوگی اور یوں کہیں گے ہمارے اور ان کے درمیان کوئی اوٹ حائل کردی جائے

(22) جس دن یہ فرشتوں کو دیکھیں گے اس دن گناہ گاروں کے لئے کوئی خوشی کی بات نہیں ہوگی اور کوئی بشارت ان کو نصیب نہ ہوگی اور ان کو دیکھ کر یہ مجرم یوں کہیں گے کہ ہمارے اور ان کے درمیان کوئی اوٹ اور آڑ حائل کردی جائے غالباً یہ دیکھنا قیامت کے دن ہوگا اس دن فرشتے ان کو کوئی بشارت اور خوش خبری نہیں دیں گے بلکہ یہ آن کی ہیبت ناک شکلیں دیکھ کر کہیں گے کہ ہمارے ان فرشتوں کے درمیان کوئی اوٹ اور آڑ حائل ہوائے کہ ہم ان کی صورتیں دکھائی نہ دیں یعنی ان کو دیکھ کر پناہ پناہ پکاریں گے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ دیکھنا موت کے وقت کا دیکھنا ہو اور جس طر ح فرشتے مومنین کو جنت کی بشارت دیتے ہوئے آتے ہیں وہ بشارت ان کو میسر نہ ہوگی اور حجزاً محجورا کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ فرشتے یوں کہیں گے کہ آج تم پر فوزو فلاح کے دروازے بند کردئیے گئے ہیں اور تم خدا تعالیٰ کی رحمت و شفقت سے محروم کردئیے گئے ہو۔ (واللہ اعلم بالصواب)
Ayah 25:23

وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا Open ayah 25:23 in the Quran reader

اور ہم ان مجرموں کے ان اعمال کی جانب جو انہوں نے کئے تھے متوجہ ہوں گے اور ان اعمال کو ایسا کردیں گے جیسے اڑتا ہوا غبار،

(23) اور ہم ان مجرموں کے ان اعمال کی جانب جو انہوں نے اپنے زعم میں اچھے سمجھ کر کئے تھے توجہ فرمائیں گے اور ان کے اعمال کو ایسا کردیں گے جیسے اڑتا ہوا غبار یعنی کفر کی بنیاد پر جو اعمال ان کافروں نے کئے تھے وہ سب بیکار کردئیے جائیں گے اور ان پر کوئی ثواب مرتب نہ ہوگا اور جس طر ح غبار کے پراگندہ ذرات بیکار ہوتے ہیں اسی طرح ان کے اعمال بھی بیکار اور بےنتیجہ ہوں گے۔
Ayah 25:24

اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ یَوْمَئِذٍ خَیْرٌ مُّسْتَقَرًّا وَّ اَحْسَنُ مَقِیْلًا Open ayah 25:24 in the Quran reader

اہل جنت اس دن باعتبار قیام گاہ کے بھی بہتر ہوں گے اور باعتبار آرام گاہ کے بھی اچھے ہوں

(24) اہل جنت اس دن با اعتبار قیام گاہ کے بھی بہتر ہوں گے اور با اعتبار آرام استراحت کے بھی اچھے ہوں گے یعنی ان کے مقابلہ میں اصحاب بہشت اور اہل جنت ہر اعتبار سے اچھے ہی اچھے اور بہتر ہی بہتر ہوں گے قیام گاہ بھی جملہ آفات بےمامون اور آرام و آسائش کا سامان بھی بےانتہا
Ayah 25:25

وَ یَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالْغَمَامِ وَ نُزِّلَ الْمَلٰٓئِكَةُ تَنْزِیْلًا Open ayah 25:25 in the Quran reader

اور جس دن ایک مخصوص باد ل کے ظاہر ہونے کی غرض سے آسمان پھٹ جائیں گے اور فرشتے بکثرت لگا تار نازل کئے جائیں گے

(25) جن دن ایک خاص بادل کے سبب سے آسمان پھٹ جائیں گے اور فرشتے بکثرت اور لگا تار نازل کئے جائیں گے عالم بالا کے امور کا ذکر ایک بادل کے ساتھ کیا جاتا ہے جیسا کہ نبی کریم ﷺ کی شب میں سدرۃ المنتہیٰ سے ایک بادل میں اوپر تشریف لے گئے پارہ دوم میں بھی فی ظلل من الغمام گزر چکا ہے حدیث میں اس بادل کو عماء اور عنایہ سے تعبیر کیا ہے اس بادل میں چونکہ ملائکہ کے انبوہ ہوں گے اور یہ بادل حضرت حق جل مجدہ کی صفت جلال کا مظہرہ ہوگا اس لئے ہیبت الٰہی سے آسمان پھٹ جائیں گے یا اس بادل کا وزن اس قدر ہوگا کہ بوجھ سے آسمان پھٹ جائیں گے غرض ! فرشتے آئیں گے تو اس شان سے آئیں گے منکر مطالبہ کرتے ہیں دنیا میں فرشتوں کی ملاقات کا اس کا جواب دیا گیا کہ فرشتے جس دن آئیں گے وہ قیامت کا دن ہوگا اور فرشتوں کے نزول کے وقت آسمان پھٹ جائیں گے اور وہ وقت عجیب افراتفری کا ہوگا یہ شاید نفخہ ثانیہ کا ذکر ہے۔ پھٹ جانے کا مطلب یہ ہے کہ آسمانوں کے دروازے نزول ملائکہ کی وجہ سے کھل جائیں گے اس دن عجیب افراتفری ہوگی چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 25:26

اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذِ اِ۟لْحَقُّ لِلرَّحْمٰنِ١ؕ وَ كَانَ یَوْمًا عَلَى الْكٰفِرِیْنَ عَسِیْرًا Open ayah 25:26 in the Quran reader

اس دن حقیقی حکومت رحمان ہی کی ہوگی اور وہ دن ان کافروں پر بڑا سخت دن ہوگا

(26) اس دن حقیقی حکومت اور حقیقی راج رحمان ہی کا ہوگا اور وہ دن منکرین دین حق پر بڑا ہی سخت ہوگا یعنی اس دن مجازی ملکیت کی تمام نسبتیں ختم ہوجائیں گے اور رحمان ہی کی حکومت اور اس کی فرمانبرداری ہوگی اور وہ کافروں پر بڑا سخت اور دشوارتر ہوگا۔
Ayah 25:27

وَ یَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى یَدَیْهِ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلًا Open ayah 25:27 in the Quran reader

اور جس دن ظالم اپنے ہاتھوں کو کاٹ کاٹ کھائے گا اور کہے گا اے کاش ! میں نے بھی رسول کے ساتھ ہوکرصحیح راہ اختیار کی ہوتی

(27) اور جس دن ظالم حسرت کے مارے اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کھائے گا اور یوں کہتا ہوگا اے کاش ! میں بھی رسول کے ساتھ ہوکر صحیح راہ لگ لیتا اور میں نے بھی صحیح راہ اختیار کی ہوتی یعنی ندامت و حسرت کا یہ عالم ہوگا کہ ہاتھوں کو کاٹ کاٹ کھائے گا اور بچتا بچتا کر کہے گا کیا اچھا ہوتا کہ میں بھی رسول کے ساتھ ہوکر سیدھا راستہ اختیار کرلیتا اور یہ بھی کہے گا۔
Ayah 25:28

یٰوَیْلَتٰى لَیْتَنِیْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِیْلًا Open ayah 25:28 in the Quran reader

ہائے میری خرابی کیا اچھا ہوتا کہ میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا

(28) ہائے خرابی کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا یہ شاید عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں نازل ہوئی ہے ایک دفعہ عقبہ نے آپ کو دعوت پر بلایا آپ ﷺ نے فرمایا جب تک اسلام کا کلمہ نہ پڑھے گا میں اس کی دعوت نہیں قبول کروں گا اس نے کلمہ پڑھ لیا آپ ﷺ دعوت میں تشریف لے گئے۔ یہ خبر ابی بن خلف کو ہوئی اس نے عقبہ کو ملامت کی عقبہ نے جواب دیا میں نے تو مہمان کی دل جوئی کیلئے کلمہ پڑھ لیا تھا ابی بن خلف اور عقبہ کا بڑا دوستانہ تھا شاید آیت کا مفہوم عام ہو ہر وہ شخص جو ظالم اور گناہگاروں سے تعلق اور دوستانہ رکھتا ہو وہ اس دن پشیمان ہوکر یہ کہتا ہوگا۔
Ayah 25:29

لَقَدْ اَضَلَّنِیْ عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ اِذْ جَآءَنِیْ١ؕ وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلًا Open ayah 25:29 in the Quran reader

اس دوست نے اس وقت جبکہ نصیحت میرے پاس پہنچ چکی تھی مجھے اس نصیحت کے ماننے سے بھٹکا دیا اور شیطان کی تو عادت ہی ہے کہ وقت پڑے پر انسان کو تنہا چھوڑ کر الگ ہوجاتا ہے

(29) اس دوست نے اس وقت جبکہ نصیحت مجھ کو پہنچ چکی تھی مجھے اس نصیحت کو قبول کرنے سے بھٹکا دیا اور شیطان کی عادت ہی ہے کہ وقت پڑے پر انسان کو اکیلا چھوڑ کر الگ ہوجاتا ہے شیطان کہا ابی بن خلف کو یا اگر آیت سے عام منکر اور کافر مراد ہوں تو شیطان سے مراد ابلیس ہوگا کافر اس کو دوست سمجھتے ہیں حالانکہ وہ خطرے میں مبتلا کرکے الگ ہوجانے والا دوست ہے۔
Ayah 25:30

وَ قَالَ الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا هٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا Open ayah 25:30 in the Quran reader

اور رسول نے عرض کیا اے میرے رب میری قوم نے اس قرآن کریم کو بالکل ایک ناقابل توجہ اور متروک شی بنادیا ہے

(30) اور رسول فرمائیں گے اے میرے پروردگار میری قوم نے اس قرآن کریم کو بالکل ایک ناقابل توجہ اور متروک شی بنادیا تھا یعنی قیامت کے دن منکرین اسلام کی پیغمبر ﷺ بارگاہ خداوندی میں شکایت کریں گے یا یہ مطلب کہ کفار کی شکایت آپ نے دنیا میں کی اور ان کے کافرانہ طرز عمل کی بنا پر یہ فرمایا ہو کہ میری قوم نے اس قرآن کریم کو بالکل نظر انداز کردیا ہے۔ بعض حضرات نے مہجور کا ترجمہ جھک جھک کیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ جب قرآن کریم پڑھاجاتا ہے تو شور کرتے ہیں اور بےہودہ بکواس کرتے ہیں آگے نبی کریم ﷺ کو تسلی دیتے ہیں۔
Ayah 25:31

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِیْنَ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ هَادِیًا وَّ نَصِیْرًا Open ayah 25:31 in the Quran reader

اور اے پیغمبر جس طرح یہ کافر آپ کے دشمن ہیں اسی طرح ہم گناہگار لوگوں میں سے ہر ن بی کے دشمن بناتے رہے ہیں اور آپ کا پروردگار ہدایت دینے اور مدد کرنے کو کافی ہے

(31) اور جس طرح اے پیغمبریہ کافر اور منکر آپ کے دشمن ہیں اسی طرح ہم مجرموں اور گناہگاروں میں سے ہر نبی کے دشمن بناتے رہے ہیں یعنی دین حق کی مخالفت اور اہل حق سے عداوت کا یہ سلسلہ پرانا ہے آج کل کفار مکہ آپ سے اور آپ کی جماعت سے جو سلوک کر رہے ہیں اور جس عداوت کا اظہار ان کی طرف سے ہورہا ہے یہی سلوک ہر زمانے کے نبی کے ساتھ ہوتا رہا ہے اس قسم کی مخالفت سے اندیشہ نہیں کرنا چاہئے کیونکہ ہدایت دینے والا اور مدد کرنے والا آپ کا پروردگار ہے یعنی کافروں کے بہکانے کی پروا نہ کیجئے اللہ تعالیٰ جس کو چاہے گا ہدایت سے بہرہ مند کردے گا اور جن کو ہدایت نہ ہوگی ان کے مقابلہ میں آپ کی مدد کرے گا۔
Ayah 25:32

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةً١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَ رَتَّلْنٰهُ تَرْتِیْلًا Open ayah 25:32 in the Quran reader

اور کافر یوں کہتے ہیں کہ اس پیغمبر پر پورا قرآن کریم ایک ہی دفعہ کیوں نہ نازل کردیا گیا یہ اسطرح آہستہ آہستہ اس لئے نازل کیا گیا تتا کہ ہم اس قرآن کریم کے ذریعہ آپ کے دل کو قوی رکھیں اور اس لئے ہم نے اس قرآن کریم کو بہت ٹھہرا ٹھہرا کر اتارا ہے

(32) اور دین حق کے منکر کہتے ہیں کہ اس پیغمبر پر پورا قرآن کریم ایک ہی دفعہ کیوں نہ نازل کردیا گیا یہ اس طرح تھوڑا تھوڑا دقتاً فوقتاً اس لئے نازل کیا گیا کہ ہم اس قرآن کریم کے ذریعے آپ کے دل کو قوی اور مضبوط رکھیں اور ہم نے اس قرآن کریم ٹھہرا ٹھہرا کر اتارا اور سنایا ہے یعنی کافرانہ شبہات میں سے قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت پر یہ شبہ بھی پیش کیا جاتا ہے کہ کتب سابقہ کی طرح یہ قرآن کریم ایک ہی دفعہ لکھا لکھایا کیوں نہیں دے دیا گیا تھوڑا تھوڑا نازل ہونے سے یہ شبہ ہوتا ہے کہ یہ پیغمبر اس قرآن کریم کو سوچ سوچ کر خود ہی بناتا ہے۔ حضرت حق جل مجدہ نے جواب دیا کہ اس تدریجی نزول اور ترتیل کے ساتھ سنانے میں بہت فوائد اور حکمتیں ہیں مثلاً تھوڑے تھوڑے حصہ کو یاد کرنا اور لکھ لینا سہل ہے کفار نے جب کوئی اعتراض کیا اسی وقت اس کا جواب نازل فرمایا نبی کریم ﷺ کے قلب کی تقویت کا موجب ہوا اور اللہ تعالیٰ کی معیت کا ثبوت مہیا ہوگیا جبریل علیہ الصلوٰۃ والسلام کا بار بار تشریف لانا جو موجب خیرو برکت ہے ۔ آنحضرت ﷺ کے مرتبہ علیا کا اظہار آپ کے پاس بار بار خدا کا فرشتہ آتا ہے غرض اس طریقہ نزول و ترتیل میں بہت سے فوائد مضمر اور پوشید ہ ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ہر بات کے وقت پر اس کا جواب اتارا ہے تو پیغمبر کا دل ثابت رہے 12
Ayah 25:33

وَ لَا یَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اَحْسَنَ تَفْسِیْرًاؕ Open ayah 25:33 in the Quran reader

اور یہ لوگ کیسا ہی عجیب اور انوکھا سوال آپ کے سامنے پیش کریں مگر ہم اس کا ٹھیک اور خوب مشرح جواب آپ کو عنایت کردیتے ہیں

(33) اور یہ لوگ کیسا ہی عجیب اور انوکھا سوال آپ کے سامنے پیش کریں مگر ہم اس کا ٹھیک اور خوب مشرح جواب آپ کو عنایت کردیتے ہیں یعنی یہ دین حق کے منکر آپ پر کوئی مثال کیسی ہی چسپاں کریں اور کوئی اعتراض کیسا ہی باطل آمیز بنا کرل ائیں جس سے آپ پر اور قرآن کریم پر طعن مقصود ہو مگر یہ کہ ہم اس کے مقابلہ میں حق بات نہایت تفصیل اور مشرح طورپر لے آتے ہیں جس سے ان کا باطل اعتراض ختم ہوجاتا ہے اور اس کا کوئی وزن باقی نہیں رہتا اور وہ ہمارا جواب مشرح ہونے کے اعتبار سے قریب الفہم بھی ہوتا ہے مگر وہ لوگ عقل وفہم سے عاری ہوچکے ہیں اور عقل و فہم سے کام نہیں لیناچاہتے ان کی سزا آگے بیان فرماتے ہیں۔
Ayah 25:34

اَلَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ اِلٰى جَهَنَّمَ١ۙ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:34 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے منہوں کے بل دوزخ کی طرف گھیر کرلے جائے جائیں گے یعنی گھسیٹے جائیں گے یہ لوگ ازروئے مکان کے بھی بدتر ہیں اور با اعتبار راہ کے بھی بہت گمراہ ہیں۔

(34) یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے منھوں کے بل دوزخ کی طرف گھیر کرلے جائے جائیں گے یہ لوگ ازروئے مکان کے بھی بدتر ہیں اور با اعتبار راہ کے بھی بہت گمراہ ہیں منہ کے بل جانے کا مطلب یہ ہے کہ سر کے بل جائیں گے یا یہ کہ گھسیٹتے ہوئے لے جایاجائے گا ان کو جگہ بھی جہنم میں بہت بری ملے گی تو جگہ کے اعتبار سے بدتر اور چونکہ اپنی کج روی سے صحیح راستہ اختیار نہیں کیا اس لئے راہ کے اعتبار سے بھی گم کردہ راہیں اوندھی عقل تھی ویسا ہی سلوک ہوا۔
Ayah 25:35

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ جَعَلْنَا مَعَهٗۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ وَزِیْرًاۚۖ Open ayah 25:35 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی تھی اور ہم نے ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو ان کے ساتھ ان کا مدد گار بنایا تھا

(35) اب اس سلسلہ میں بعض انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے واقعات کا تذکرہ اشارہ ہوتا ہے اور بلاشبہ ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب یعنی توریت دی تھی اور ہم نے ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو ان کے ساتھ ان کا معین و مددگار بنایا تھا۔
Ayah 25:36

فَقُلْنَا اذْهَبَاۤ اِلَى الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ فَدَمَّرْنٰهُمْ تَدْمِیْرًاؕ Open ayah 25:36 in the Quran reader

پھر ہم نے ان سے کہا کہ تم دونوں ان لوگوں کے پاس جائو جنہوں نے ہمارے دلائل کی تکذیب کی ہے آخر کار ہم نے ان تکذیب کرنے والوں کو بالکل ہی ہلاک کردیا

(36) پھر ہم نے ان سے کہا کہ تم دونوں ان لوگوں کے پاس جائو جنہوں نے ہمارے دلائل توحید کی تکذیب کی ہے پھر ہم نے ان سب تکذیب کرنے والوں کو بالکل ہلاک کردیا یعنی موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) وہاں گئے اور فرعون کو سمجھایا مگر وہ اور اس کی قوم متاثر نہ ہوئی اور بالآخر وہ سب ہلاک و برباد کردئیے گئے آیات کی تکذیب جو فرمائی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے وہاں شاید حضرت یوسف (علیہ السلام) کا دین رائج تھا لوگ اس کی تکذیب کرتے ہوں گے یا عقلی دلائل مراد ہوں گے جسکی وجہ سے ہر شخص توحید الٰہی کا مکلف ہے۔
Ayah 25:37

وَ قَوْمَ نُوْحٍ لَّمَّا كَذَّبُوا الرُّسُلَ اَغْرَقْنٰهُمْ وَ جَعَلْنٰهُمْ لِلنَّاسِ اٰیَةً١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًاۚۖ Open ayah 25:37 in the Quran reader

اور ہم نوح (علیہ السلام) کی قوم کو بھی ہلاک کرچکے ہیں جب انہوں نے رسولوں کی تکذیب کی تو ہم نے ان کو غرق کردیا اور ہم نے نوح (علیہ السلام) کی قوم کو دوسرے لوگوں کیلئے ایک عبرت آموز نشان بنادیا اور ہم نے ان ظالموں کے لئے ایک دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے

(37) اور ہم نوح (علیہ السلام) کی قوم کو بھی ہلاک کرچکے ہیں جبکہ انہوں نے پیغمبروں کی تکذیب کی اور رسولوں کو جھٹلا یا تو ہم نے ان کو سمندر کے طوفان میں غرق کردیا اور ہم نے نوح (علیہ السلام) کی قوم کو دوسرے لوگوں اور آئندہ نسلوں کے لئے ایک عبرت آموز نشان بنادیا اور ہم نے ان ظالموں کے لئے ایک دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے ایک پیغمبر کو جھٹلانا ایسا ہے جیسے سب کو جھٹلانا کیوں کہ تمام انبیاء دین کے اصولوں میں ایک ہی ہیں۔
Ayah 25:38

وَّ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ اَصْحٰبَ الرَّسِّ وَ قُرُوْنًۢا بَیْنَ ذٰلِكَ كَثِیْرًا Open ayah 25:38 in the Quran reader

اور عابد اور ثمود کو اور کنویں والوں کو اور ان کے درمیان اور بہت سی قوموں کو ہم نے ہلاک کردیا

(38) اور عاد کو ثمود کو اور اہل رس یعنی کنویں والوں کو اور ان کے درمیان اور بہت سی قوموں کو ہم نے ہلاک اور برباد کردیا۔
Ayah 25:39

وَ كُلًّا ضَرَبْنَا لَهُ الْاَمْثَالَ١٘ وَ كُلًّا تَبَّرْنَا تَتْبِیْرًا Open ayah 25:39 in the Quran reader

اور ہم نے ان سب کو سمجھانے کے لئے عجیب عجیب مضامین و واقعات بیان کئے ہیں اور ان کے انکار پر آخر کار ان سب کو بالکل ہلاک کرڈالا

(39) اور ہم نے ان سب کے سمجھانے کے لئے عجیب عجیب واقعات اور عمدہ عمدہ مضامین بیان کئے تھے اور ان کے انکار پر انجام کار ان سب کو ہلاک کرڈالا یعنی عاد اور ثمود اور اصحاب رس اور ان کے درمیان اور بہت سی بستیوں کو اور قوموں کو تباہ و برباد کردیا حالانکہ ان کے سامنے ہر قسم کے دلائل و شواہد اور اچھے اچھے مضامین بیان کئے گئے لیکن انہوں نے مان کر نہ دیا اور بالآخر ان سب کو ہلاک کردیا گیا کنویں والے شاید یہ بھی کوئی قوم ہوگی جو اپنی نافرمانی کے باعث ہلاک ہوئی شاید ثمود کی بقیہ قوم کی طرف اشارہ ہو رس کچے کنویں کو کہتے ہیں جس میں اینٹ نہ لگائی جائے صرف پتھررکھ دئیے مفسرین کے بہت سے اقوال ہیں حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کنویں والے کہتے ہیں ای امت کو جس نے اپنے رسول کو کنویں میں موندا پھر ان پر عذاب آیا تب وہ رسول خلاص ہوا۔ (واللہ اعلم بالصواب)
Ayah 25:40

وَ لَقَدْ اَتَوْا عَلَى الْقَرْیَةِ الَّتِیْۤ اُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِ١ؕ اَفَلَمْ یَكُوْنُوْا یَرَوْنَهَا١ۚ بَلْ كَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ نُشُوْرًا Open ayah 25:40 in the Quran reader

اور یہ کفار مکہ یقینا اس بستی پر ہوکر گذرے ہیں جس پر بری طرح کی یعنی پتھروں کی بارش برسائی گئی تھی تو کیا انہوں نے اس بستی کو دیکھا نہیں مگر بات یہ ہے کہ یہ لوگ مر کر دوبارہ زندہ ہونے کا خوف ہی نہیں رکھتے

(40) اور یہ مشرکین مکہ اس بستی پر ہوکر گزرے ہیں جس پر بری طرح کی بارش برسائی گئی تھی اور بڑا برسائو برسایا گیا تھا تو کیا انہوں نے اس بستی کو دیکھا نہیں یہ بات نہیں ہے بلکہ ان کو مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کا خوف ہی نہیں ہے قوم لوط (علیہ السلام) کی بستیوں کی طرف اشارہ ہے یہ بستیاں شام کے راستے میں الٹی پڑی ہیں جن پر برے کاموں کی وجہ سے عذاب آیا تھا اور پھر کھنگر کے پتھر برسے تھے پھر بھی ان کو عبرت نہیں ہوئی کہ یہ کفر سے باز آجائیں چونکہ یہ آخرت کے منکر اس لئے کفر کو موجب سزا ہی نہیں سمجھتے بلکہ اس قسم کے عذاب کو اتفاقی بات سمجھتے ہیں ایک بستی جو بڑی تھی یعنی سدوم کا ذکر فرمایا اور بستیاں جو اس مرکزی مقام کے تابع تھیں وہ بھی اس عذاب میں شامل ہوگئیں اب آگے مشرکین مکہ کو مزید تنبیہ کا ذکر ہے۔