Ayah 25:41(41) اور اے پیغمبر یہ دین حق کے منکر جب آپ کو کہیں دیکھتے ہیں تو ان کا سوائے اس کے اور کوئی کام اور مشغلہ نہیں ہوتا کہ آپ سے تمسخر کرنے لگتے ہیں اور آپ کا مذاق اڑانا شروع کردیتے ہیں اور کہتے ہیں کیا یہی وہ صاحب ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے رسول بنا کر بھیجا ہے یعنی استہزاء شروع کردیتے ہیں اور باتیں چھانٹنے لگتے ہیں منجملہ مذاق کے یوں کہتے ہیں کیا یہی وہ صاحب ہیں جن کو اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے اور اللہ نے ان کو اپنا پیغام دیکر بھیجا ہے یعنی یہ رسالت کا اہل نہیں کوئی رئیس اور ذی عزت شخص رسول ہوتا۔
Ayah 25:42(42) اگر ہم لوگ سختی اور مضبوطی کے ساتھ اپنے معبودوں کی عبادت پر جمے نہ رہتے تو اس شخص نے تو ہم کو ان معبودوں سے منحرف اور برگشتہ ہی کردیا ہوتا اور عنقریب ان کافروں کو جس وقت یہ عذاب کا معائنہ کریں گے تو ان کو یہ بات معلوم ہوجائے گی کہ سیدھی راہ سے منحرف اور بھٹکا ہوا کون تھا یعنی استہزاء کرتے ہوئے یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ شخص ایسا چرب زبان ہے اگر ہم مضبوط نہ ہوتے تو اس شخص نے تو ہم کو ہمارے معبودوں سے باتیں بنا کر بچلا ہی دیا ہوتا وہ تو یوں کہو ہم اپنے عقیدے پر جمے رہے اور ا س کی باتوں میں نہیں آئے ورنہ یہ تو ہم کو گمراہی کردیتا۔
حضرت حق تعالیٰ نے جواب دیا کہ یہ بہت جلد جب عذاب الٰہی دیکھیں گے خواہ یہ معائنہ عذاب دنیا میں ہو یا مرتے وقت یا قیامت میں اس وقت ان کو یہ بات معلوم ہوجائے گی اور یہ جان لیں گے کہ گم کردہ راہ کون تھا اور راستے سے بھٹکا ہوا کون تھا۔
Ayah 25:43(43) اے پیغمبر ! آپ نے اس شخص کی حالت کو بھی دیکھا جس نے اپنی نفسانی خواہش کو اپنا معبود بنا رکھا ہے اور اپنی نفسانی خواہش کا پوجنا اختیار کر رکھا ہے تو کیا آپ ایسے ہوا پرست کی نگرانی کرسکتے ہیں یا ایسے شخص کی کوئی ذمہ داری لے سکتے ہیں۔
Ayah 25:44(44) یا آپ خیال کرتے ہیں کہ ان کافروں میں سے اکثر سنتے اور سمجھتے ہیں یہ تو محض ایسے ہیں جیسے چوپائے بلکہ یہ ان چوپایوں سے بھی زیادہ گمر کردہ راہ اور بےراہ ہیں یعنی جس شخص نے اپنی نفسانی خواہش کو خدا بنا رکھا ہے تو آپ پر ایسے شخص کی کیا ذمہ داری ہے یہ شاید ان لوگوں کو فرمایا کہ جن کو جب کوئی اچھا پتھرنظر آیا تو اس کو لاکر معبود بنالیا پھر جب کوئی اس سے اچھا پتھر ملا اس کو معبود بنایا یا ان کو فرمایا کہ جو ہر بات اپنی نفسانی خواہش کے مطابق کرتے ہیں جو دل میں آیا وہ کرلیا قطع نظر اس کے کہ اس کام کا اخلاقی اثر کیا ہوگا اور آسمانی شریعت اس کام کو جائز سمجھتی ہے یا نہیں اس قسم کے بدذوق لوگوں کے نہ آپ نگراں ہیں نہ ان سے کوئی امید ہے کیونکہ یہ نہ سنتے ہیں نہ سمجھتے ہیں سننے کا یہ مطلب کہ توجہ کے ساتھ آپ کی باتوں کو اور قرآن کریم کی آیتوں کو سنیں اور سمجھیں یہ تو محض چوپائے ہیں کانوں میں ان کے بھی آواز پڑتی ہے لیکن سمجھتے نہیں بلکہ یہ تو ان سے بھی گئے گزرے ہیں وہ بھی اپنے مالک اور محسن کو پہچانتے اور اپنے گھر اور تھان کو جانتے ہیں یہ بدنصیب اس کی بھی صلاحیت نہیں رکھتے یہی وجہ ہے کہ قیامت میں کہیں گے لوکنا تسمح او نعقل ماکنا فی اصحب السحیر
اس آیت میں اکثر کی قید شاید اس لئے لگائی کہ انہی منکروں میں سے بعض سن کر اور سمجھ کر کفر سے تائب ہوئے اور اسلام لائے۔
Ayah 25:45(45) اثبات رسالت کے بعد پھر دلائل توحید کا بیان ہے اے پیغمبر ! کیا آپ نے اپنے پروردگار کی طرف نظر نہیں کی کہ اس نے سائے کو کس طرح پھیلایا اور دراز کیا اور اگر وہ چاہتا تو اس سائے کو ایک ہی حالت پر ٹھہرائے رکھتا پھر ہم نے اس سائے کے لئے آفتاب کو ایک علامت اور دلیل قرار دیا۔
Ayah 25:46(46) پھر اس سائے کو آہستہ آہستہ اور سہج سہج اپنی طرف کھینچ لیا ظل اس سائے کو کہتے ہیں جو طلوع شمس سے لیکر دوپہر تک ہوتا ہے اور دوپہر سے لیکر شام تک سائے کوفے کہتے ہیں سایہ شروع میں ہر چیز کا طویل ہوتا ہے پھر گھٹتے گھٹتے ہر چیز کا سایہ برابر ہوجاتا ہے اور زوال کے بعد پھر بڑھتا ہے اور آخر آفتاب کے ساتھ ختم ہوجاتا ہے اور چونکہ یہ حضرت حق کی قدرت کاملہ سے ہوتا ہے اس لئے فرمایا کہ ہم نے اس سائے کو سمیٹ لیا آفتاب کو دلیل بنانے کا مطلب یہ ہے کہ سائے کو شناخت کرنے کی دلیل آفتاب کو ٹھہرایا کیونکہ سایہ آفتاب سے ہی پہچانا جاتا ہے بعض حضرات جن میں حضرت ابن عباس ؓ حضرت ابن عمر ؓ ابو مالک، ابو العالیہ حضرت مسروق اور مجاہد سعید بن جبیر اور نحفی اور ضحاک اور قتادہ رضوان اللہ علیہم اجمعین شامل ہیں یہ فرماتے ہیں کہ اس سائے وہ سایہ مراد ہے جو پوٹھنے سے لیکر طلوع آفتاب تک ہوتا ہے اس وقت میں بیمار کے دل کو چین ہوتا ہے مسافر اور ہر بیمار کے سکون کا وقت بھی ہوتا ہے۔ (واللہ اعلم)
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اول ہر چیز کا سایہ لینا پڑتا ہے پھر جس طرف سورج چلتا ہے اس کے مقابل سایہ ہٹتا ہے جب تک جڑ میں آلگے اپنی طرف کھینچ لیا کہ اپنی اصل کو جالگتا ہے سب کی اصل اللہ ہے 12
بہرحال ! کوئی صورت مراد ہو صنعت قدرت سے خالی نہیں اور نہ اور کسی کے بس میں ہے یہی اس کی وحدانیت اور یکتائی کی دلیل ہے حضرت حق تعالیٰ نے اپنے موجد حقیقی اور قادر مختار ہونے کی تین باتیں فرمائیں سایہ کا پھیلانا، آفتاب کا سایہ کے لئے راہ نما ہونا تیسرے سہج سہج اس سائے کو سمیٹ لینا۔
Ayah 25:47(47) اور وہی ہے جس نے تمہارے لئے رات کو لباس اور پردے کی چیز بنایا اور نیند کو تمہارے لئے راحت و آرام کی چیز بنایا اور دن کو اٹھ کھڑے ہونا اور زندہ ہونے کا وقت بنایا رات کو لباس بنایا یعنی جس طرح لباس سے بدن ڈھک جاتا اور پردے میں ہوجاتا ہے اسی طرح رات بھی تستر کا کام دیتی ہے نیند کا آرام و راحت ہونا ظاہرہی ہے دن کو اٹھ کھڑے ہونا پھسل جانا معاش کو تلاش کرنے وغیرہ کا وقت اور مرکر زندہ ہوجانا ہے جیسا کہ سو کر اٹھنے کی دعا ہم نے مشکل کشا میں نقل کی ہے الحمد للہ الذی احیانا بعد ما اماتنا والیہ النشور
نیند چونکہ موت کے مشابہ ہے سویا مرا برابر ہے اس لئے نبی کریم ﷺ نے سو کر اٹھنے کی دعا میں ان الفاظ کی رعایت رکھی اور ایسے الفاظ فرمائے جو قیامت کی زندگی کو ظاہر کرتے ہیں ایک عارف نے کیا خوب فرمایا ہے ؎
توم ماچوں شد اخ الموت اے فلاں
زیں برادر آں برادر رابداں
اسی لئے نیند کو موت کا بھائی فرمایا نیند موت نہ سہی کالموت تو یقینی ہے سوتے وقت کی دعا میں فرمایا با سبک اللھم وصعت جنبی وبک احی ربک اموت
Ayah 25:48(48) اور وہی وحدہ لا شریک ہے جو اپنی رحمت یعنی بارش اور باران رحمت سے پہلے بشارت دینے والی ہوائوں کو بھیجتا ہے اور ہم آسمان سے ایسا پانی اتارتے اور برساتے ہیں جو پاک اور پاک کرنے والا ہے یعنی بارات رحمت سے پہلے بشارت اور خوشخبری دینے والی ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہیں پھر آسمان کی جانب سے پانی برساتے ہیں وہ پانی خود بھی پاک ہے اور دوسری چیزوں کو بھی پاک و صاف کرنے والا ہے یعنی طاہر بھی اور مطہر بھی۔
Ayah 25:49(49) تاکہ اس پانی کے ذریعہ سے مراد مواضعات کی زمین کو زندہ کردیں اور مری ہوئی زمین میں جان ڈال دیں اور اپنی مخلوقات میں سے بہت سے چوپایوں اور بہت سے آدمیوں کو اس پانی سے سیراب کریں بلدۃ میتا فرمایا یعنی دیہات میں عام طور سے بارانی زمینیں ہوتی ہیں ان بارانی زمینوں کی موت وحیات پر اس گائوں کی موت وحیات موقوف ہوتی ہے پانی سے چونکہ خشک زمین میں طاقت نمو پیدا ہوجاتی ہے اس لئے خشک زمین کو مردہ اور ہری بھری زمین کو زندہ فرمایا چوپایوں اور انسانوں کے ساتھ کثیر فرمایا شاید اس لئے کہ دریا اور ندیوں کے قریب رہنے والے چوپائے اور آدمی ندیوں کا پانی، پی کر زندگی گزارتے ہیں اور پانی پینے کے لئے بارش کے زیادہ محتاج نہیں ہوتے۔
Ayah 25:50(50) اور ہم نے ہی اس پانی کو لوگوں کے درمیان مختلف مقدار سے تقسیم کردیا تاکہ غور کریں اور سمجھیں مگر پھر بھی اکثر لوگوں نے سوائے کفران نعمت اور ناسپاسی کے اور کچھ نہیں کیا یعنی پانی کی تقسیم اس طرح کہ بارش کا حصہ ہر ایک کو پہنچانا تاکہ یہ غور کریں کہ وہ قادر و مختار کون ہے جس کے حکم سے آگے پیچھے بادل سب جگہ پہنچتے ہیں اور بارش ہوتی ہے لیکن اکثر انسانوں کی یہ حالت ہے کہ وہ ناشکری اور کفران نعمت کئے بغیر نہ رہے اور اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کی بجائے نافرمانی اور ناسپاسی پر اڑے رہے بعض حضرات نے صرفناہ کی ضمیر قرآن کریم کی طرف لوٹائی ہے اس تقدیر پر وہی معنی ہوں گے جو بنی اسرائیل میں ولقد صرفنا للناس فی ھذا القرآن کے تحت کئے گئے ہیں ہم نے یہاں راحج قول کو اختیار کرلیا ہے۔
Ayah 25:51(51) اور اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں ایک ایک پیغمبر بھیج دیتے یعنی آپکی امداد کے لئے آپ کے زمانے میں ہر بستی کے لئے ایک ایک ڈرانے والا بھیج دیتے لیکن ہم نے آپ کے اجر اور تبلیغ کا بلند مرتبہ عنایت کرنے کی غرض سے ایسا نہیں کیا تاکہ آپ کا اجر اور آپ کا مرتبہ بلند ہو۔
Ayah 25:52(52) لہٰذا اے پیغمبر آپ ان کافروں کی اطاعت نہ کیجئے اور ان کا کہنا نہ مانئے اور آپ ان کا قرآن کریم اور دلائل توحید کے ساتھ پوری قوت اور پورے زور کے ساتھ ان کا مقابلہ کیجئے اور برابر تبلیغ کرتے رہیے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی نبی کا آنا تعجب نہیں اللہ چاہے تو نبیوں کی بہتایت کردے ہر بستی میں ایک نبی سو تو شبہ نہ رکھا کافروں کے انکار سے 12
Ayah 25:53(53) اور وہ قادر مطلق ایسا ہے جس نے دو دریائوں کو ملا کر چلایا ان میں سے ایک کا پانی شیریں اور خوش ذائقہ اور تسکین بخش ہے اور دوسرے کا پانی ان میں سے کھاری ہے سخت کڑوا اور اسی اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے درمیان ایک پردہ اور ایک مضبوط آڑ کردی ہے یہ بات ہندوستان میں جہاں سمندر کا پانی کسی ندی سے ملتا ہے یا ندی سمندر میں ملتی ہے وہاں ایسا ہوتا ہے نہ صرف مزا بلکہ سفید و سیاہ رنگت بھی پانیوں کی ممتاز ہوتی ہے اور یہ کمال قدرت ہے کہ دریا اور سمندر کا پانی مل کر بہے اور ایک دوسرے سے مزے اور رنگ میں جدا رہے اور ایک دوسرے پر غالب نہ آئے دیکھنے والوں کو دونوں دریائوں کے بیچ میں ایک دھاری نظر آتی ہے پنجاب کے بعض کنوئوں میں ایک طرف کا پانی میٹھا اور دوسری طرف کا پانی کھاری دیکھنے میں آیا ہے ایک طرف کے پانی سے عمدہ چیز پکتی ہے اور دوسری طرف کے پانی سے دال بھی نہیں گلتی اور ایک کنویں میں ہونے کے باوجود ایک پانی دوسرے پانی سے ممتاز پایا جاتا ہے تاپتی ندی میں اور ارکان اور چاٹگام کے مابین جو دریا بہتا ہے اس میں یہ بات صاف پائی جاتی ہے۔
Ayah 25:54(54) وہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے جس نے بشر کو پانی یعنی نفطہ سے پیدا کیا اور اس کو نسب والا سسرال والا بنایا اور اے مخاطب تیرا پروردگار بڑی قدرت والا ہے یعنی پانی کے قطرے کو کیا سے کیا کردیا ددھیال اور ننہیال کے رشتے قائم کیے اور ن کا ح بیاہ سے داماد اور سسرال کے رشتے قائم کئے اس طرح خاندان اور نسلیں چلائیں اور یہ پروردگار کا بڑا احسان ہے خاندان اور نسلیں ایک دوسرے کے مددگار ہوتے ہیں اور آپس میں مل کر مضبوط ہوتے ہیں اس نعمت کا حق یہ ہے کہ بشر اسی وحدہ لا شریک کی عبادت کرے لیکن بشر نے اس نعمت کا جس طرح کفران کیا اس کا ذکر آگے فرمایا۔
Ayah 25:55(55) اور یہ مشرک اس اللہ تعالیٰ اور وحدہ لا شریک کو چھوڑ کر ان چیزوں کی پوجا کرتے ہیں جو نہ ان کو نفع پہونچا سکتی ہیں اور نہ ان کا کچھ بگاڑ سکتی ہیں اور منکر تو اللہ تعالیٰ کے بالمقابل شیطان کا مددگار ہے یعنی مشرکین بجائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے اس کی مخلوق میں سے ایسی چیزوں کی پوجا کرتے ہیں جو نہ نفع پہونچانے کی قدرت رکھتی ہیں اور نہ نقصان پہنچانے کی طاقت رکھتی ہیں اور دین حق کے منکر کا تو شیوہ ہی یہ ہے کہ وہ اپنے پروردگار کے خلاف طاغوتی طاقتوں کا معین و مددگار ہوتا ہے مدعا یہ ہے کہ کافر ہمیشہ حق کی مخالفت کرتا ہے اور حق کو پیٹھ دکھاتا ہے اور حق کا ساتھ چھو ڑ دیتا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) وکان ربک تدیرا پر فرماتے ہیں اپنی اولاد کا جدّ ہے اور جہان ان کا بیاہ ہو ان کی سسرال ہے اور رب کرسکتا ہے یعنی مارے پھر جلادے 12
Ayah 25:56(56) اور ہم نے آپ کو صرف خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بناکر بھیجا ہے یعنی آپ ان منکرین دین حق کی شرارتوں سے متاثر اور غمگین نہ ہوں آپ کا کام صرف اتنا ہے کہ نیکوں کو بشارت دیدیں اور بدکار لوگوں کو خدا تعالیٰ کے عذاب سے ڈرا دیں باقی ان کی مخالفت وغیرہ کی کوئی فکر آپ کو نہ ہونی چاہئے بلکہ ہر کام میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیجئے اور اپنا کام کرتے رہیے۔
Ayah 25:57(57) آپ ان سے کہہ دیجئے میں اس تبلیغ میں دین حق پر تم سے کوئی مزدوری طلب نہیں کرتا اور کوئی اجرت نہیں چاہتا مگر ہاں جو چاہے اپنے پروردگار تک پہونچنے کا راستہ اختیار کرلے
یعنی میں کوئی مزدوری اپنی تبلیغ پر نہیں مانگتا ہاں میری یہ خواہش ضرور ہے کہ تم میں سے جو اپنے پروردگار تک پہونچنے کی راہ اختیار کرنی چاہئے وہ اختیار کرلے اس کو تم میرا معاوضہ کہو یا میری اس خواہش اور خوشی کا کچھ اور نام رکھو گویا آپ کی شفقت کا یہ عالم ہے کہ جس طرح کوئی مزدور مزدوری لیکر راضی ہوتا ہے اسی طرح پروردگار کی راہ اختیار کرنے سے مجھے خوشی ہوتی ہے۔
Ayah 25:58(58) اور آپ اس پر بھروسہ رکھئے اور توکل کیجئے جو زندہ ہے اور جو مرے گا نہیں اور اس کی حمد کے ساتھ پاکی بیان کرتے رہئے اور وہ خود اپنے بندوں کے گناہوں کی خبر رکھنے کو کافی ہے۔
Ayah 25:59(59) وہ ایسا ہے جس نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو کچھ آسمانوں اور زمین کے درمیان ہے سب کو چھ دن کی مقدار میں پیدا کیا پھر اپنی شان کے موافق عرش پر قائم اور جلوہ گر ہوا وہ بڑا مہربان ہے
پس اے مخاطب تو اس کی شان اور اس کی صفات کو کسی باخبر اور واقف حال سے دریافت کر اور پوچھ یعنی اے پیغمبر ! خواہ عبادت تبلیغ ہو جس کا تعلق مخلوق کی خدمت سے ہے یا عبادت لازمہ ہو جیسے اس کی تسبیح اور تحمید سو آپ ان دونوں قسموں کی عبادت میں اس زندہ خدا پر بھروسہ رکھئے جو کبھی نہیں مرتا اور بندوں کے اعمال کی خبر گیری اور نگرانی اس پر چھوڑ دیجئے وہ ان کے گناہوں کی خبر رکھنے کو کافی اور کفایت کرنے والا ہے وہ پروردگار وہ ہے جس نے تمام آسمان و زمین کو اور آسمان و زمین کے درمیان جو کچھ ہے ان سب کو چھ دن کی مقدار میں بنایا اور پیدا کیا ہے پھر عرش پر اپنی شان کے لائق اس عرش پر جلو ہ گر ہوا وہ بےحد رحم کرنے والا ہے لہٰذا اے مخاطب اگر تجھ کو اس کی صفات کمالیہ کا حال معلوم کرنا ہے تو کسی باخبر اور واقف حال سے دریافت کر اور پوچھ دیکھ یہ منکر اور مشرک اس کو کیا جانیں کہ وہ کن صفات کمالیہ سے متصف ہے اگر یہ کچھ جانتے اور سمجھتے ہوتے تو اس کو چھوڑ کر اس کی مخلوق کو نہ پوجتے خبیر سے مراد حضرت حق تعالیٰ کی ذات ہے یا مخلوق میں سید المرسلین ﷺ ہیں۔
Ayah 25:60(60) اور جب ان مشرکوں سے کہا جاتا ہے کہ رحمن کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں رحمان کیا ہے کیا تو ہم سے جس کو سجدہ کرنے کا حکم کرے ہم اسی کو سجدہ کرنے لگیں اور اسی کے آگے ہم سجدہ ریز ہوجائیں اور یہ سجدہ کرنے کا حکم ان کی نفرت کو اور بڑھاتا ہے یعنی جب رحمان کا نام لیکر ان کو سجدے کی دعوت دی جائے تو انجان بن کر کہتے ہیں اور تجاہل عارفانہ کے طورپر دریافت کرتے ہیں رحمان کیا چیز ہے چونکہ عرب میں اللہ تعالیٰ کے لئے رحمان کا استعمال کم تھا اس لئے اجنبی اور انجان بن کر کہتے تھے یہ بات نہیں کہ رحمان کو جانتے ہی نہ تھے ۔ سلیمہ کذاب کو رحمان الیمامہ کہا کرتے تھے اور ماالرحمان کے ساتھ یہ بھی کہتے تھے کہ کیا جس کو آپ کہتے ہیں اور جس کے لئے حکم دیتے ہیں ہم اسی کے آگے سر بسجود ہوجائیں تو ہم اسی کام کے ہو لئے کہ آپ جس کو کہتے ہیں اور جس کے لئے حکم دیتے ہیں ہم اسی کے آگے سربسجود ہوجائیں تو ہم اسی کام کے ہولئے کہا کہ آپ جس کو کہتے جائیں ہم اس کو سجدہ کرتے جائیں بلکہ اس حکم سے ان کی نفرت اور وحشت اور بھی بڑھ جاتی ہے اور با اعتبار نفرت کے یہ حکم اور زیادتی کا موجب ہوتا ہے۔
Ayah 25:61(61) وہ بڑی با برکت اور بڑی عالیشان ذات ہے جس نے آسمان میں برج یعنی بڑے بڑے ستارے بنائے اور اسی نے آسمان میں ایک روشن چراغ اور نورانی چاند بنایا بڑے بڑے ستاروں کو برج فرمایا اور آسمان کے قلعوں کو بھی برج کہا جاسکتا ہے یا سورج کی بارہ منزلوں کو برج فرمایا اور آسمان کے قلعوں کو بھی برج چراغ اور نورانی چاند بنایا بڑے بڑے ستاروں کو برج فرمایا اور آسمانوں کے قلعوں کو بھی برج کہا جاسکتا ہے یا سورج کی بارہ منزلوں کو برج فرمایا جو اہل ہئیت کہتے ہیں یعنی حمل، ثور، جوزا، سرطان، اسد، میزان، عقرب، قوس، جدی ڈول اور مچھلی اہل عرب کو ستاروں کی گردش کا علم بڑا اہم تھا یہ تمام برج آفتاب کی گردش کے ہیں اور بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نظام شمسی کی طرف اشارہ ہے۔ (واللہ اعلم)
Ayah 25:62(62) اور وہ ایسا ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کا جانشین اور ایک دوسرے کے پیچھے آنے والا اور بدلنے والا بنایا یہ سب دلائل اس شخص کے لئے ہیں جو سوچنے سمجھنے کا ارادہ رکھتا ہو یا شکر بجالا نا چاہتا ہو اولنا بدلنا یا ایک کے پیچھے دوسرے کا آنا یا جانشین اس لئے فرمایا کہ رات کو کوئی کام رہ گیا تو دن کو کرلیا دن کا کوئی کام رہ گیا تو رات کو کرلیا بہرحال ! دونوں اس کی نشانیاں ہیں اور اس رحمان کی قدرت کو ظاہر کرتی ہیں لیکن ان سے نفع اٹھانا اس کی قدرت پر غور کرنا اور اس کی نعمتوں کا شکر بجا لانا یہ انہی کا کام ہے جو واقعی حضرت رحمان کی توحید کے دلائل پر غور کرنے کا ارادہ رکھتے یا ان کی فطرت سلیمہ ان کو شکر بجا لانے پر ابھارتی اور مجبور کرتی ہو آگے رحمان کے مخلص بندوں کا ذکر فرمایا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں بدلتے یا تو گھٹنا بڑھنا یا آنا جانا یہ کہ ایک دوسرے کا بدلا دن کا کا م رہ گیا رات کو کیا رات کا کام دن کو 12
Ayah 25:63(63) اور رحمان کے مخلص اور خاص بندے وہ ہیں جو زمین پر تواضع اور عاجزی کے ساتھ دبے پائوں چلتے ہیں اور جب جاہل اور نادان لوگ ان سے نادانی کی بات کرنے لگیں تو ان سے سلامتی اور رفع شر کی بات کہتے ہیں یعنی جب ناسمجھ لوگ ان سے بات کرنے اور اڑنے لگیں تو ان سے صاحب سلامت کہہ کر پیچھا چھڑا لیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ایسوں سے لگے نہیں نہ ان میں شامل ہوں نہ ان سے لڑیں 12
خلاصہ یہ ہے کہ ان سے کوئی قولی یا فعلی انتقام نہیں لیتے
Ayah 25:64(64) اور اپنے پروردگار کے آگے سجدے اور قیام میں رات کاٹتے ہیں رات اللہ تعالیٰ کے سامنے نماز میں گزارتے ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں رکوع کو نہیں گنا رکوع بہت لمبا نہیں ہوتا 12
Ayah 25:65(65) اور وہ جو یوں دعائیں کرتے ہیں اے ہمارے پروردگار ہم سے جہنم کے عذاب کو دور رکھیو کیونکہ دوزخ کا عذاب ہمیشہ کی تباہی اور چمٹ جانے والا ہے یعنی باوجود اس قدر احتیاط اور عبادت کے جہنم اور اس کے عذاب سے ڈرتے اور پناہ مانگتے ہیں۔
Ayah 25:66(66) کیونکہ وہ جہنم با اعتبار ٹھہرنے کے بھی بری ہے اور با اعتبار رہنے کے بھی بری ہے یعنی تھوڑی دیر کو ٹھہر کر دم لینا بھی برا اور زیادہ دیر ٹھہر کر آرام و آسائش کی توقع کرنا بھی برا
Ayah 25:67(67) عبادت بدنی کے ساتھ طاعت مالی کا ذکر فرماتے ہیں اور وہ جب خرچ کرنے لگتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ وہ خرچ کرنے میں تنگی اور بخل کرتے ہیں ان کا خرچ کرنا ان دونوں باتوں کے درمیان اعتدال پر ہوتا ہے یعنی نہ ممسک نہ مسرف بلکہ میانہ روی اختیار کرتے ہیں اور ایک سیدھی گذارن پسند کرتے ہیں نہ ایسا اسراف کہ معصیت میں خرچ کرنے لگیں نہ ایسا کہ امساک کہ طاعات میں تنگی دکھائیں نہ ایسا اڑائیں کہ تنگدست ہوکر بیٹھ جائیں نہ ایسا امساک اور بخل کہ مٹھی بالکل بند کرلیں بلکہ رحمان کے خاص بندے انفاق میانہ روی اختیار کرتے ہیں۔
Ayah 25:68(68) اور وہ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور باطل معبود کی پرستش اور پوجا کرتے اور جس شخص کے قتل کو اللہ تعالیٰ نے شرعی طریقہ پر حرام فرمایا ہے اس کو قتل نہیں کرتے مگر ہاں کسی حق شرعی کے ساتھ اور نہ وہ عباد الرحمن زنا کے مرتکب ہوتے ہیں اور جو شخص یہ برے کام کرے گا تو وہ شخص گناہوں کا وبال دیکھے گا اور اس کو سزا سے سابقہ پڑے گا۔
Ayah 25:69(69) کہ اس کو قیامت کے دن دو چند عذاب کیا جائے گا اور وہ اس عذاب میں ہمیشہ ہمیشہ ذلیل ہوکر رہے گا۔
Ayah 25:70(70) مگر ہاں ! جو کوئی توبہ کرلے اور ایمان لے آئے اور نیک عمل کرتا رہے تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے گناہوں کی جگہ نیکیاں عطا فرمائے گا اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے ۔
اول عباد الرحمن کے اعتقاد اور تقوے کا بیان ہے کہ وہ لوگ شرک نہیں کرتے ارتکاب قتل نہیں کرتے جن کے خون کا احترام قواعد شرعیہ کے موافق ہے ان کے خون کا احترام کرتے ہیں زنا کا ارتکاب نہیں کرتے مگر ہاں اگر کسی کا قتل شرعاً واجب یا مباح ہو تو وہ مستثنا ہے چونکہ معصیات کا ذکر فرمایا تھا اسی کی مناسبت سے ان گناہوں کے مرتکبین کا ذکر فرما دیا جو مشرک ہیں پھر ان کی سزا اور سزا میں پڑجانے کا ذکر فرمایا اور دو گنے عذاب کا ذکر فرمایا دگنا عذاب ہوگا یا یہ کہ عذاب بڑھتا چلا جائے گا پھر اسی کے ساتھ شرک سے اور معاصی سے توبہ کرنے والوں کا ذکر فرمایا کہ جو لوگ توبہ کرلیں گے اور سلام لا کر اچھے عمل بجا لائیں گے تو ان کے گناہ مٹا دئیے جائیں گے اور ان کے گناہوں کی بجائے ان کی نیکیاں ثبت کی جائیں گی حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں مگر جہاں چاہئے رسول نے فرمایا مسلمان کی جان نہیں مارنی سوائے تین گناہ پر خون کے بدلے میں یا بدکاری میں سنگسار یا راہ لوٹنے پر 12 اور فرماتے ہیں یعنی اور گناہوں سے یہ گناہ بڑے ہیں 12 اور فرماتے ہیں بدل دے گا یعنی گناہوں کی جگہ نیکیوں کی توفیق دے گا اور کفر کے گناہ معاف کردے گا 12 آگے مسلمان گناہ گار کا ذکر فرمایا۔
Ayah 25:71(71) اور جو شخص توبہ کرتا ہے اور توبہ کے نیک عمل کرنے لگتا ہے اور نیک اعمال کا پابند ہوجاتا ہے تو وہی حقیقت میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے یعنی اہل ایمان میں سے اگر کوئی شخص گناہ میں مبتلا ہوجاتا ہے اور وہ توبہ کرکے نیک اعمال کا پابند ہوجائے اور گناہوں سے بچتا رہے تو وہ خاص طورپر اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں پہلا ذکر تھا کفر کے گناہوں کا جو پیچھے ایمان لایا یہ ذکر ہے اسلام میں گناہ کرنے کا وہ بھی جب توبہ کرے یعنی پھرے اپنے کام سے تو اللہ کے یہاں جگہ پاوے 12
Ayah 25:72(72) رحمان کے بندے وہ لوگ ہیں جو جھوٹے کاموں اور بےہودہ باتوں میں شامل نہیں ہوتے اور جب وہ اتفاقاً کبھی بےہودہ اور لہو و لعب کی مجالس پر سے گزرتے ہیں تو سنجیدگی کے ساتھ بزرگانہ انداز سے گذر جاتے ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی گناہ میں شامل نہیں اور کھیل کی باتوں کی طرف دھیان نہیں کرتے نہ اس میں شامل نہ ان سے لڑیں 12
Ayah 25:73(73) اور نیز وہ ایسے ہیں کہ جب ان کو ان کے پروردگار کے کلام کی آیتیں سنا کر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ ا ن پر بہرے اور اندھے ہوکر نہیں گرتے یعنی جس طرح کافر اور دین حق کے منکر کلام الٰہی سن کر غل مچاتے اور ہجوم کرتے ہیں عباد الرحمان کا یہ طریقہ نہیں ہے بلکہ کلام الٰہی کو توجہ کے ساتھ سنتے اور قبول کرتے ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی دھیان سے سنیں 12
Ayah 25:74(74) اور نیز وہ ایسے ہیں جو اپنے اہل و عیال کے لئے بہتری اور بھلائی کی دعا کرتے ہوں یوں کہتے ہیں اے ہمارے پروردگار ہم کو ہماری بیویوں کی طرف سے اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما ار ہمیں پرہیز گاروں کا پیشوا بنا دے آنکھوں کی ٹھنڈک کا مطلب یہ ہے کہ ان کو بھی تقوے کی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرما اور طاعت وتقویٰ میں اتنا بڑھادے کہ لوگ ہماری اقتدار کرنے لگیں دوسروں کے لئے ہم کو ہادی بنادے تاکہ پرہیز گارہماری پرہیز گاری اور تقوے کو دیکھ کر ہماری پیروی کرنے لگیں اور ہمارا خاندان ہمارے نقش قدم پر چلے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی آنکھ کی ٹھنڈک یہ کہ وہ بھی اپنی راہ پر ہوں ہم پرہیز گاروں کے آگے وے پیچھے 12
Ayah 25:75(75) یہی عباد الرحمن وہ لوگ ہیں جن کو ان کے صبر و استقامت کے صلے اور بدلے میں بالاخانے دئیے جائیں گے اور وہ دعائے خیر اور سلام کے ساتھ اس جنت میں استقبال کئے جائیں گے یعنی طاعت و فرماں برداری میں ثابت قدم رہے اور غیروں کے طعن وتشنیع پر صبر کرتے رہے تو ان کو صلے میں بہشت اور بہشت میں بالاخانے دئیے جائیں گے اور ان بالاخانوں میں فرشتے دعائے خیر اور سلام سے ان کا استقبال کریں گے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں فرشتے آگے آکر لے جاویں گے 12
Ayah 25:76(76) وہ ان بہشت کے بالا خانوں میں ہمیشہ اور سدا رہیں گے وہ جنت کے ٹھہرنے کے اعتبار سے بھی اچھی اور رہنے کے اعتبار سے بھی خوب ہے حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ایسی جگہ تھوڑی دیر ٹھہرنے کو بھی ملے تو بھی غنمیت ہے ان کا تو وہی گھر ہے 12
Ayah 25:77(77) اے پیغمبر ! آپ ان سے کہہ دیجئے اگر تم میرے پروردگار کی عبادت نہ کرو گے تو اور اس کو نہ پکارو گے تو وہ بھی تمہاری کچھ پروا نہیں کرے گا اور تمہارا کوئی وزن اور کوئی قدر نہ ہوگی۔ پس اے منکرو ! تم نے تو احکام الٰہی کی تکذیب کی ہے اور تم تو اللہ تعالیٰ کے دین کو جھٹلا ہی چکے اب عنقریب یہ تکذیب تم کو چمٹ کر رہے گی اور اس تکذیب کا وبال تم پر پڑ کر رہے گا یعنی دنیا میں جیسا کہ بدر میں ہوا یا آخرت میں بہرحال ! بندے کی آبرو اور ا س کی قدر و قیمت اپنے پروردگار کی عبادت میں ہے جو شخص اپنے پروردگار کی عبادت نہیں کرتا وہ اپنے پیدا ہونے کی غرض وغایت کو پورا نہیں کرتا تو ایسے نالائق کی خدا کو بھی کوئی پرواہ نہیں خواہ وہ کہیں ہلاک ہوجائے اور اے دین حق کے منکرو تم نے تو احکام الٰہی کی تکذیب کا شیوہ ہی اختیار کر رکھا ہے اور تم تو اس کے دین کو جھٹلا ہی چکے ہو اب اس تکذیب کی سزا کا انتظار کرو اور اس تکذیب کا وبال اب تمہارے گلے کا ہار بن جائے گا۔
آیت کی تفسیر مفسرین نے بہت طرح کی ہے مگر ہم نے راحج قول کو اختیار کرلیا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی بندہ مغرور نہ ہو خداوند کو اس کی کیا پروا مگر اس کی التجا پر رحم کرتا ہے اب ہوتا ہے بھنٹیا یعنی لڑائی جہاد 12
تم تفسیر سورة الفرقان