Ayah 21:41-41 اور بیشک آپ سے پہلے رسولوں کا بھی مذاق اڑایا گیا ہے اور آپ سے پہلے رسولوں کے ساتھ ٹھٹا کیا گیا ہے پھر ان مذاق کرنے والوں کو اسی عذاب نے آگھیرا جس عذاب کا یہ لوگ مذاق اڑایا کرتے تھے۔ یعنی جس عذاب کے آنے کا مذاق اڑاتے تھے وہی عذاب گلے کا ہار بن گیا۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی جس چیز سے ٹھٹھا کرتے تھے اس چیز کی جزا نے انہیں گھیر لیا۔ 12
Ayah 21:42-42 اے پیغمبر ! آپ ان لوگوں سے فرمائیے وہ کون ہے جو رات کو اور دن کو رحمٰن کے عذاب سے تم ہاری حفاظت کرتا ہے بلکہ بات یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے پروردگار کی یاد سے ہی روگردانی کرتے ہیں اثبات نبوت کے بعد پھر توحید کے دلائل بیان فرماتا ہے۔ اے پیغمبر ! آپ ان سے یہ فرمائیے کہ رات اور دن میں رحمٰن کی گرفت اور اس کے عذاب سے تمہارا بچائو کون کرتا ہے اصل واقعہ یہ ہے کہ یہ تو اپنے پروردگار کے ذکر اور اس کی توحید سے روگردانی ہی کرتے رہتے ہیں۔
ظاہر ہے کہ رحمٰن کی گرفت سے سوائے رحمان کے کون بچا سکتا ہے اتنی صاف اور کھلی ہوئی بات کے بعد بھی یہ لوگ توحید کے قائل نہیں ہوتے اور توحید کے قائل کس طرح ہوں واقعہ یہ ہے کہ یہ تو اپنے پروردگار کا نام سننے کے لئے تیار ہی نہیں ہیں اور اس کی یاد سے منھ موڑتے اور روگردانی کرتے ہیں۔ 12
Ayah 21:43(43) کیا ان لوگوں کے ہمارے سوا کچھ اور ایسے معبود ہیں جو ان کی حفاظت اور ان کا بچائو کرتے ہیں جو خود اپنی مدد آپ نہیں کرسکتے اور اپنی مدد کی بھی طاقت نہیں رکھتے اور نہ ان کو ہماری جانب سے کوئی رفاقت میسر ہے۔ یعنی ان کے کچھ اور معبود ہیں جو ان کو آفات سماوی اور ارضی سے یا ہمارے عذاب سے بچاتے ہیں۔ حالانکہ وہ ان کی حفاظت تو کیا کریں گے ان میں خود اپنی حفاظت کی بھی سکت نہیں کوئی ان کو توڑنے پھوڑنے لگے یا کچھ ان سے چھین کرلے جائے تو ان میں اتنی طاقت نہیں کہ اس کا کچھ بگاڑ سکیں اور نہ ان کو ہماری جانب سے کوئی رفاقت میسر ہے یا یہ کہ نہ ہمارے مقابلہ میں ان کا کوئی ساتھ دے سکتا ہے یا یہ کہ نہ ہم سے پناہ دیئے جائیں گے۔ چند اقوال ہیں۔ (واللہ اعلم)
Ayah 21:44(44) نہ ان کا کوئی رحمن کے سوا معبود ہے نہ کوئی بچانے والا ہے بلکہ اصل واقعہ یہ ہے اور اصل وجہ یہ ہے کہ ہم نے ان کو اور ان کے باپ دادوں کو ہر قسم کے سامان عیش و تنعم سے بہرہ مند کیا اور ان کو ہر قسم کا سامان برتنے کو دیا یہاں تک کہ اسی حالت میں ان پر ایک طویل زمانہ گزر گیا تو کیا یہ لوگ اس بات کو نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو ان کے کناروں کی طرف سے کم کرتے اور گھٹاتے چلے آتے ہیں تو کیا وہ ان حالات میں غالب ہونے والے ہیں۔ یعنی ان کا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ہے جو ان کی رات اور دن میں حفاظت کرے بلکہ پشتہا پشت سے چین و آرام کی زندگی بسر کررہے ہیں اس لئے گمراہ ہوگئے انہوں نے کسی عذاب کی شکل نہیں دیکھی اس لئے عذاب کی جلدی کرتے ہیں ان کو یہ نہیں دکھائی دیتا کہ سرزمین عرب پر چاروں طرف سے آہستہ آہستہ اسلام کا غلبہ ہوتا جاتا ہے اور اسلام پھیلتا جاتا ہے تو ان حالات میں ان کے کفر کا غلبہ اور سرمایہ دارانہ تعیش کب تک چل سکے گا اور یہ کافرانہ اقتدار کیونکر قائم رکھ سکیں گے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ہم چلے آتے ہیں گھٹاتے یعنی عرب کے ملک میں مسلمانی پھیلنے لگی ہے۔ کفر گھٹنے لگا۔ 12
Ayah 21:45(45) اے پیغمبر ! آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میں تو صرف تم کو اللہ تعالیٰ کی وحی کے ذریعہ اور وحی الٰہی کے موافق اڑاتا ہوں اور جو لوگ بہرے ہیں ان کی حالت یہ ہے کہ یہ بہرے جب ڈرائے جائیں تو کسی کی پکار کو نہیں سنا کرتے۔ یعنی عذاب میں جلدی کرنا یا تاخیر کرنا میرے بس میں نہیں ہے میں تو صرف وحی الٰہی کے مطابق نافرمانوں کو ڈراتا ہوں مگر جو لوگ صحیح آواز کو سننے سے بہرے ہیں ان کی حالت یہ ہے کہ ان کو جب ڈرایا جائے اور ہوشیا کیا جائے تو وہ پکار کو سنتے ہی نہیں اس میں میرا کیا قصور ہے۔
Ayah 21:46(46) اور اگر آپ کے پروردگار کے عذاب کا ایک ہلکا سا جھونکا اور ایک ہلکی سی بھاپ ان کو لگ جائے تو یقیناً یوں کہنے لگیں گے کہ ہائے ہماری خرابی بیشک ہم ظالم تھے۔ یعنی یہ بہرا پن اسی وقت تک ہے جب تک ان کو عذاب کی خبر نہیں ہوتی۔ اگر ان کو کوئی ہلکی سی بھاپ اور ہلکا سا جھونکا بھی چھولے گا تو پھر چیختے پھریں گے اور کہتے پھریں گے ہائے ہماری بدبختی ہم ہی ظالم تھے اپنے جرم کا اقرار بھی کریں گے اور پناہ بھی تلاش کرتے پھریں گے اس کمزوری کے باوجود عذاب کا تقاضا کرتے ہیں حالانکہ عذاب کا ایک ہلکا سا جھٹکا بھی نہیں سہہ سکتے۔
Ayah 21:47(47) اور ہم قیامت کے دن انصاف کی ترازوئیں رکھیں گے اور قائم کریں گے سو کسی شخص پر ذرا سا بھی ظلم نہیں کیا جائے گا اور بالکل ناانصافی نہیں کی جائے گی اور اگر کوئی عمل رائی کے دانے کے برابر بھی ہوگا تو اس کو بھی ہم حاضر کردیں گے اور لاموجود کریں گے اور ہم حساب لینے والے کافی ہیں۔ شاید بہت سی ترازوئیں ہوں گی یا ایک ہی ترازو بہت بڑی ہوگی اس کو موازین فرمایا ہے اس ترازو میں اعمال تو لے جائیں گے یا صحائف اعمال یا دونوں باتیں ہوں گی یعنی صحائف بھی تلیں گے اور اعمال بھی تولے جائیں گے۔ جیسا کہ احادیث میں منقول ہے اگر کسی کا کوئی عمل رائی کے دانے کے برابر بھی ہوگا تو اس کو بھی لے آیا جائے گا کوئی عمل پوشیدہ نہ رہے گا ہم حساب لینے کو کافی ہیں یعنی ہمارے بعد کوئی حساب لینے والا نہیں ہم نہ تو حساب لینے میں کسی کے محتاج ہیں اور نہ کوئی غلطی کا امکان ہے کہ ہمارے حساب کو کوئی دوسرا جانچے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اگر عمل کسی کا اتنا تھوڑا ہو تو وہ بھی ہم تولیں گے۔ 12
Ayah 21:48(48) اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو حق و باطل کے مابین فرق کرنے والی اور ایک روشن اور ڈرنے والوں یعنی متقیوں کے لئے ایک نصیحت کی چیز عطا کی تھی۔ مراد توریت ہے یعنی اس پیغمبر کو جس طرح قرآن کریم عطا ہوا ہے اسی طرح اس سے پہلے پیغمبروں کو کتابیں اور صحائف دیئے گئے ہیں چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک کتاب توریت دی تھی جس کے مضامین حق و باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والے تھے اور اس کے مضامین ایک روشنی تھے جس سے گمراہوں کو روشنی ملتی تھی اور متقیوں اور پرہیزگاروں کے لئے وہ کتاب توریت ایک نصیحت تھی جس طرح وہ کتاب تھی اسی طرح قرآن کریم بھی ایک کتاب ہے جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پیغمبر تھے اسی طرح یہ بھی پیغمبر ہیں۔ انہوں نے کون سی نئی بات کہی ہے جو منکر ان کی مخالفت پر آمادہ ہوگئے ہیں۔
آگے ان متقیوں کی تعریف ہے جنہوں نے توریت کے مضامین پر عمل کیا اور ان سے روشنی حاصل کی۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 21:49(49) متقی وہ لوگ ہیں جو اپنے پروردگار سے بن دیکھے ڈرتے ہیں اور وہ قیامت کا خطرہ رکھتے ہیں اور قیامت سے خائف ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ سے چونکہ ڈرنے والے ہیں اس لئے قیامت سے بھی ڈرتے ہیں کہ دیکھئے اس دن کیا ہو اور اللہ تعالیٰ کیسا معاملہ فرمائے۔
Ayah 21:50(50) اور یہ قرآن کریم بھی ایک بڑی بابرکت اور کثیر الفائدہ نصیحت ہے جس کو ہم نے اتارا اور نازل کیا ہے سو کیا پھر تم اس نصیحت کو قبول کرنے اور ماننے سے انکار کرتے ہو۔
… یعنی اس نصیحت نامہ کے فوائد اور اس کی روشنی تو توریت سے بڑھی ہوئی ہے تو کیا تم اس قرآن کریم کو ماننے اور قبول کرنے سے انکار کرتے ہو۔
Ayah 21:51(51) اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو توریت عطا کرنے سے پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کی شان کے مناسب ان کی صحیح ہدایت اور نیک راہ عطا فرمائی تھی اور ہم ان کی اہلیت اور صلاحیت کو جاننے والے تھے۔
یعنی موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) کے زمانے سے پہلے ہم ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کی نیک راہ یعنی نبوت عطا کرچکے ہیں اور ہم ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے نبوت و رسالت کی صلاحیت اور اہلیت کو خوب جانتے تھے اور ہم اس کی صلاحیت سے خوب واقف تھے۔
Ayah 21:52(52) ابراہیم (علیہ السلام) کا وہ وقت قابل ذکر ہے جبکہ اس نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ یہ مورتیاں کیا ہیں جن کی عبادت پر تم جمے بیٹھے ہو یعنی یہ پتھر کی مورتیاں یا کواکب کی تصویریں کیا لغو چیزیں ہیں جن کی خدمت میں تم ہر وقت مشغول اور ان کی جانب ہر وقت متوجہ رہتے ہو اور ان کی تعظیم کو بجا لانے میں لگے رہتے ہو۔
مطلب یہ کہ ان کی عبادت کیا کرتے ہو اور ان کے سامنے دوزانو ہوکر بیٹ تھے ہو۔
Ayah 21:53(53) انہوں نے جواب دیا ہم نے اپنے بڑوں کو انہی مورتیوں اور تمثال کی عبادت کرتے ہوئے پایا ہے۔ یعنی اپنے بڑوں کو یہی کرتے دیکھا ہے۔
Ayah 21:54(54) ابراہیم (علیہ السلام) نے کہ بلاشبہ تم بھی صریح غلطی میں مبتلا ہو اور تمہارے بڑے یعنی تمہارے باپ دادا بھی کھلی غلطی میں مبتلا تھے۔ اس سے بڑھ کر اور صریح غلطی کیا ہوگی کہ غیرمستحق عبادت کی عبادت کرتے ہو اور حقیقی معبود کو چھوڑے بیٹھے ہو۔
Ayah 21:55(55) وہ کہنے لگے کیا تو ہمارے پاس کوئی حق اور واقعی بات لایا ہے تو محض خوش طبعی کرنے والوں میں سے ہے یعنی تو جو بات کہتا ہے یہ کوئی امر حق اور واقعی بات ہے یا محض کوئی ہنسی اور دل لگی کرنے والا ہے۔
Ayah 21:5656) ابراہیم (علیہ السلام) نے جواب دیا دل لگی اور خوش طبعی نہیں بلکہ تمہارا پروردگار وہ ہے جو تمام آسمانوں کا اور زمین کا پروردگار ہے جس نے ان سب کو پیدا کیا ہے اور میں اس بات پر پوری بصیرت کے ساتھ شہادت دیتا ہوں اور میں اس دعوے پر دلیل رکھتا ہوں۔ یعنی میرا یہ دعویٰ کہ سب کا پروردگار وہی ہے جو تمام آسمان و زمین کو ترتیب دینے والا اور پیدا کرنے والا ہے میں اس دعوے پر حجت وبراہین رکھتا ہوں میں اسی کا قائل ہوں اور میں پوری بصیرت کے ساتھ اس دعوے پر شہادت دیتا ہوں۔
Ayah 21:57(57) اور خدا کی قسم میں تمہارے ان مورتیوں کے پاس سے چلے جانے کے بعد ان کا علاج کروں گا اور ان کی گت بنائوں گا۔ یعنی جب تم ان کے پاس سے چلے جائو گے تو میں تمہارے بتوں کے ساتھ ایک چال چلوں گا اور ان سب کو ٹھیک کردوں گا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ علاج کرنا انہوں نے چپکے کہا پھر جب وے شہر سے بہر گئے ایک میلے میں تب بت خانہ میں جاکر سب کو توڑا۔ 12
Ayah 21:58(58) چنانچہ وہ تمام پجاری جب چلے گئے تو ان کے چلے جانے کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) نے ان بتوں میں سے سوائے ایک بڑے بت کے سب بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا کہ شاید وہ اس کی طرف رجوع کریں اور لوٹیں۔ یعنی وہ لوگ تو کسی میلے میں شریک ہونے کی غرض سے چلے گئے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ایک ہتھوڑا لے کر سب بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور جو بت سب سے بڑا تھا اس کے کندھے پر ہتھوڑا رکھ کر چلے آئے تاکہ یہ لوگ جب میلے سے واپس آئیں تو شاید اس بڑے بت کی طرف غورکریں کہ اس نے ان بتوں کو کیوں توڑ دیا یہ مطلب کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے رجوع کریں اورا ن سے پوچھ گچھ کریں۔
Ayah 21:59(59) وہ واپسی پر بتوں کی یہ حالت دیکھ کر کہنے لگے ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ حرکت کس نے کی ہے اور اس بےادبی کا کون مرتکب ہوا اس میں شک نہیں کہ وہ کوئی بڑا ہی ظالم ہے۔ یعنی جب وہ میلے سے واپس آئے تو بتوں کو ٹوٹا ہوا دیکھا تو آپس میں کہنے لگے یہ گستاخی کس نے کی ہے وہ کوئی بہت ہی گستاخ اور ظالم ہے جس نے یہ غضب کیا ہے۔
Ayah 21:60(60) انہی لوگوں میں سے کچھ لوگوں نے کہا ہم نے ایک نوجوان کوسنا ہے کہ وہ ان بتوں کا برائی کے ساتھ ذکر کرتا ہے اس نوجوان کو ابراہیم (علیہ السلام) کہا جاتا ہے۔ یعنی اس کا نام ابراہیم (علیہ السلام) ہے وہ نوجوان ان معبودوں کا تذکرہ برائی کے ساتھ کرتا ہے۔ شاید یہ نام بتانے والے وہ لوگ ہوں گے جن کے سامنے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا تھا کہ جب تم چلے جائوگے تو میں ان مورتیوں سے بھگتوں گا اور ان کی خبر لوں گا۔
Ayah 21:61(61) یہ بات سن کر وہ لوگ کہنے لگے اچھا اس ابراہیم (علیہ السلام) کو عام لوگوں کے سامنے لائو تاکہ اور لوگ بھی گواہ ہوجائیں۔ یعنی جن لوگوں کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے برا کہنے کا علم نہ تھا۔ انہوں نے کہا ہوگا یا سب نے کہا ہوگا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو لائو اس سے دریافت کیا جائے اور وہ اس حرکت کا اقرار کرے تو سب لوگ اس کے اقرار پر گواہ ہوجائیں اور جب لوگ گواہ ہوجائیں گے تو مقدمہ مضبوط ہوجائے گا اور حاکم اس کو سزا دے سکے گا۔ چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بلایا گیا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے دریافت کیا گیا۔
Ayah 21:62(62) ان لوگوں نے کہا کیا ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ توڑ پھوڑ کی حرکت اے ابراہیم (علیہ السلام) تو نے کی ہے۔ یعنی ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ توہین آمیز سلوک کیا تو نے کیا ہے۔ اے ابراہیم (علیہ السلام) !
Ayah 21:63(63) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا نہیں بلکہ یہ کام اس بڑے دیوتا اور بڑے بت نے کیا ہے اگر یہ پتھر کے معبود بول سکتے ہوں تو ان سے دریافت کرلو اور ان سے پوچھ لو۔ یعنی بظاہر یہ احتمال قوی معلوم ہوتا ہے کہ یہ حرکت اس بڑے بت نے کی ہے میرے متعلق یہ خیال کرنا کہ یہ میرا فعل ہے اس قسم کے احتمال کی گنجائش نہیں ہے۔
بہرحال ! جب یہ معبود ہیں اور تم ان میں قوۃ فاعلیت سمجھتے ہو تو اس احتمال پر کیوں بحث نہیں کرتے کہ اس بڑے معبود نے محض رقابت کی وجہ سے ان چھوٹے معبودوں کو توڑا ہے اور اس سے بھی آسان طریقہ تحقیق کا یہ ہے کہ اگر یہ بولتے ہوں تو خود انہی سے پوچھ لو کہ تم کو کس نے توڑا ہے۔
مفسرین نے اس موقع پر کئی طرح کلام کیا ہے لیکن ہم نے سہل تقریر کردی ہے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا انکار اور بڑے بت کی طرف اثبات یہ جھوٹ نہیں ہے البتہ اس کی شکل جھوٹ کی سی ہے یہ ایک مناظرے کا طریقہ ہے کہ مخاطب کی توجہ کو اپنی طرف سے ہٹاکر دوسری طرف پھیر دیا جائے۔ اس لئے ایک ایسی بات فرمائی کہ ان کی توجہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف سے ہٹ گئی اور ابراہیم (علیہ السلام) کا بتوں کو توڑنے کا احتمال کمزورہوگیا اور وہ آپس کی سوچ بچار میں پڑگئے اور چونکہ شکل جھوٹ کی سی تھی اس لئے حدیث میں کذب کا لفظ مذکور ہے۔ یہ تعریض اور توریہ تھا۔ ورنہ جس کو قرآن کریم نے صدیق نبی کہا ہو اس کے پاس جھوٹ کہاں اور یہ ایسا ہی ہے۔
جیسا حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ہجرت کے سفر میں ایک کافر سے فرمایا تھا۔ ھذا رجل یھدینی السبیل۔ یعنی اس نے راستے میں حضور ﷺ کے متعلق دریافت کیا تھا کہ یہ کون صاحب ہیں۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے محمد رسول اللہ کہنے کی بجائے یہ فرمادیا کہ یہ ایک شخص ہے جو مجھ کو راستہ بتاتا ہے وہ کافر سمجھا کہ کوئی دلیل ہوگا۔
Ayah 21:64(64) پھر وہ مشرک اپنے دلوں کی جانب متوجہ ہوئے اور سوچنے لگے اور آپس میں کہنے لگے اس میں شک نہیں کہ تم ہی ناحق پر ہو۔ یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس کہنے پر کہ اگر یہ بولتے ہیں تو ان ہی سے پوچھ لو وہ مشرک سوچ میں پڑگئے اور آپس میں یوں کہنے لگے کہ تم ہی ناحق پر ہو، یعنی بت پرستی کرنے کے لئے تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں سمجھے کہ پتھر پوجنا کیا حاصل۔ 12
بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے آپس میں کہا کہ تم ہی ناحق پر ہو یعنی جب تم نے یہ دیکھا تھا کہ ابراہیم (علیہ السلام) تمہارے معبودوں کا مخالف ہے تو تم بت خانے کو کھلا چھوڑ کر چلے گئے اور اپنے معبودوں کی حفاظت کا کوئی انتظام نہ کیا۔
Ayah 21:65(65) پھر انہوں نے شرمندہ ہوکر اپنے سروں کو جھکالیا اور ابراہیم (علیہ السلام) سے بولے بلاشبہ تو یہ بات جانتا ہی ہے کہ یہ بت بولتے نہیں۔ یعنی یہ بات تو تیرے علم میں ہے کہ یہ ہمارے معبود بولا نہیں کرتے ان کی اس بےبسی کو اور عاجزی کو دیکھ کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کو آڑے ہاتھوں لیا اور خوب کھری کھری سنائیں۔
Ayah 21:66(66) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہو جو نہ تم کو کوئی فائدہ اور نفع پہنچا سکیں اور نہ تم کو کوئی نقصان پہنچا سکیں۔
Ayah 21:67(67) تف ہے تم پر اور ان پر جن کو تم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر پوجتے ہو کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے۔ تف کا استعمال جھڑکی اور ناخوشی کے لئے ہوتا ہے یعنی تمہارے لئے ناخوشی اور بیزاری ہو اور ان معبودوں سے بھی ناخوشی ہو اور ان کے لئے برائی ہو جن کو تم اللہ تعالیٰ کے سوا پوجا کرتے ہو۔ اگر ان کو پوجنا چھوڑ دو تو تم کو کوئی ضرر نہیں پہنچا سکیں اور پوجتے رہو تو کوئی فائدہ اور نفع تم کو نہ پہنچا سکیں ایسے بےبسوں اور بےکسوں سے بھی اظہار بیزاری اور تم سے بھی اپنی بیزاری ظاہر کرتا ہوں۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس گفتگو سے کھسیانے ہوکر باہم انتقام کی گفتگو کرنے لگے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے بدلہ لینے کے لئے آمادہ ہوگئے۔
Ayah 21:68(68) وہ مشرک آپس میں کہنے لگے ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں جلا ڈالو اور اپنے معبودوں کا بدلہ لو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو اگر تم کو کچھ کرنا ہے تو یہ کرو۔ یعنی ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں جلا کر ختم کردو اور اپنے ٹھاکروں کی مدد کرو کیونکہ یہ تو کچھ کر ہی نہیں سکتے اور چونکہ ان کے ساتھ ابراہیم (علیہ السلام) نے بڑی گستاخی کی ہے اس لئے اس سے بدلہ لو اگر تم کو کچھ کرنا ہے تو بس یہ کام کرو۔ چناچہ یہی طے ہوا۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جلانے کے لئے ایندھن جمع کیا گی ایک احاطہ بنوایا گیا۔ آگ روشن کی گئی جب شعلے بھڑک گئے تو سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو منجنیق میں بٹھا کر اس آگ میں ڈالا گیا آگ کی تیزی اور لپٹ کی وجہ سے کوئی آگ کے قریب نہ جاسکتا تھا۔
Ayah 21:69(69) اس وقت ہم نے آگ کو حکم دیا اے آگ ٹھنڈی اور راحت و آرام ہوجا ابراہیم (علیہ السلام) پر یعنی ٹھنڈی ہوجا مگر نہ اتنی کہ یخ بن جائے جس سے ہمارے ابراہیم (علیہ السلام) کو تکلیف ہو بلکہ ایک معتدل کیفیت ہو جس سے ابراہیم (علیہ السلام) کو راحت اور آرام میسر ہو۔ علیٰ ابراہیم (علیہ السلام) فرمایا ورنہ حضرت حق تعالیٰ کے اس حکم کے بعد تمام عالم کی ہی آگ بےکار ہوجاتی۔
علیٰ ابراہیم (علیہ السلام) کہنے سے صرف اس آگ پر اثر ہوا جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے جلانے کو روشن کی گئی تھی۔ کہتے ہیں آگ میں احراق اور جلانا باقی نہ رہا البتہ روشنی باقی تھی۔ (واللہ اعلم)
Ayah 21:70(70) اور ان مشرکوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ فریب کا ارادہ کیا اور ابراہیم (علیہ السلام) کا برا چاہا اور ان کے ساتھ برائی کا ارادہ کیا مگر ہم نے انہی مشرکوں کو ناکام کردیا اور ان کو نقصان میں ڈال دیا۔
یعنی انہوں نے ہمارے خلیل کے ساتھ بری چال چلنی چاہی اور ابراہیم (علیہ السلام) کو ہلاک کرنے کا ارادہ کیا لیکن ان کا کید اور مکر خود ان پر الٹ گیا اور ان کو نقصان اٹھانے والے خسارہ پانے والے ہم نے بنادیا اور ان کو ہلاک ہونے والوں میں سے کردیا نمرود جیسے جابر کی حکومت ختم کردی گئی اور ان پر مچھروں کا عذاب مسلط کردیا گیا۔
Ayah 21:71(71) اور ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) اور اس کے ساتھ لوط (علیہ السلام) کو ایک ایسی سرزمین کی طرف بچا کرلے گئے جس میں ہم نے اقوام (علیہ السلام) عالم کیلئے ہر قسم کی برکتیں رکھی ہیں یعنی دشمنوں کی ایذا رسانی سے بچاکر اور لوط (علیہ السلام) جو ان کی تصدیق کرنے والے اور ان کے بھتیجے تھے ان کو بھی ان سے بچا کر ملک عراق سے ملک شام پہنچا دیا جہاں ظاہری اور باطنی برکتیں رکھی ہیں اور مختلف اقوام عالم ان برکتوں سے بہرہ مند ہیں یعنی پھلوں کی کثرت اور بےثمار انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کا مدفن اور ان کی شرائع کا فیض جس سے اقوامِ عالم کو روشنی اور روحانیت نصیب ہوتی ہے۔
Ayah 21:72(72) اور ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحٰق (علیہ السلام) عطا کیا اور مزید برآں یعقوب (علیہ السلام) نامی پوتا بھی دیا اور ہم نے ان سب کو نکوکار بنایا۔ یعنی ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحاق (علیہ السلام) نام بیٹا اور یعقوب (علیہ السلام) نامی نبی رہ یعنی پوتا عطا فرمایا اور ان کو نیک کیا یعنی سب کو پیغمبر بنایا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی زمین شام جس میں آسودگی خوب ہے۔
دعا تھی بیٹے ہی کی انعا میں دیا پوتا۔ 12۔ نافلہ کے معنی غنیمت عطیہ۔ جو چیز واجب نہ ہو اور لڑکے کا لڑکا۔
Ayah 21:73(73) اور ہم نے ان سب کو لوگوں کا پیشوا بنایا اور امام بنایا کہ یہ لوگ ہمارے حکم کے موافق لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے اور خلق خدا کو ہدایت کیا کرتے تھے اور ہم نے ان سب کے پاس بھلائی اور نیک کام کرنے اور نماز کی پابندی اور زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم بھیجا اور یہ سب ہماری عبادت میں لگے رہتے تھے۔
یعنی پیشوا تھے لوگ ان کی اقتداء کرتے تھے جو ہمارے حکم سے لوگوں کی ہدایت کرتے تھے یعنی نبی تھے ہمارے فرستادے تھے ان کو ہم نے ہی رہنمائی اور ہدایت کے لئے مقرر کیا تھا اور ان کے سب کے پاس ہم نے بھلے کام کرنے کا اور خاص طور پر نماز کی پابندی اور زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم بھیجا تھا یعنی ان کو وحی کی گئی تھی کہ بھلے اور نیک کام کرنا اور نماز کی پابندی کرنا اور زکوٰۃ ادا کرتے رہنا اور وہ سب بڑے عبادت گزار تھے جو ہر وقت ہماری عبادت میں لگے رہتے تھے۔
Ayah 21:74(74) اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کو حکمت یعنی نبوت اور علم عطا فرمایا اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کو اس شہر سے بچا نکالا جس شہر کے لوگ ناپاک اور گندے کام کیا کرتے تھے۔ بیشک وہ لوگ بہت برے اور بدکار تھے۔
یعنی سدوم کی بستیوں میں حضرت لوط (علیہ السلام) کو نبی بناکربھیجا تھا وہاں کے لوگ ہر قسم کی برائی اور بدکاریوں میں مبتلا تھے یہ سمجھاتے رہے مگر وہ باز نہ آئے ان کی بیوی بھی کافروں سے مل گئی۔ جب وہ ہر طرح ان کے درپے آزاد ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے بستی والوں پر عذاب بھیجا اور ان کو اور ان کے ساتھیوں کو عذاب سے قبل بچالیا۔ عام طور سے یہ لوگ اغلام بازی، ڈاکہ ڈالنا، لوگوں کو لوٹنا، مسافروں کو غلط راستہ بتانا وغیرہ۔ بہت سے افعال قبیحہ اور افعالِ شفیعہ کا ارتکاب کیا کرتے تھے۔ آخر یہ بستیاں الٹی گئیں اور آج تک الٹی ہوئی پڑی ہیں۔
Ayah 21:75(75) اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کو اپنی رحمت میں لے لیا کیونکہ وہ نکو کار لوگوں میں سے تھا۔
یعنی عذاب کے وقت لوط (علیہ السلام) کو اپنے دامانِ رحمت میں لے لیا اور عذاب سے بچالیا یا یہ کہ وہ نکوکار تھا اس لئے جن بندوں پر رحمت ہوتی ہے اس کو بھی انہی بندوں میں داخل کرلیا یا یہ کہ رحمت خاص میں لے لیا کیونکہ ایک عام رحمت ہے اور ایک خاص رحمت ہے۔
رحمت عام جو سب کے لئے ہے و رحمتی وسعت کل شئی اور خاص رحمت خواص کے لئے حضرت لوط (علیہ السلام) کی خصوصیت اور ان کے مراتب علیا اور مقام ِ وصول کا اظہار ہے۔
Ayah 21:76(76) اور اے پیغمبر ! آپ نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ بھی کیجئے جب کہ اس نے ان واقعات ابراہیمی سے بہت پہلے دعا کی پھر ہم نے اس کی دعا قبول کرلی اور ہم نے اس کی پکار سن لی اور ہم نے اس کو اور اس کے متعلقین اور متبعین کو بڑے بھاری غم سے نجات دی۔ یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کا بھی ذکر کیجئے اور ان کا تذکرہ بھی سنائیے خاص کر وہ وقت جب کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ شاید یہ دعا ہوگی۔ ربہ انی مغلوب فانتصر یعنی اے میرے پروردگار میں دب گیا۔ میرا بدلہ لیجئے چناچہ ان کی دعا کو قبول کیا اور ان کو ان کے تابعین کے ساتھ ان کے دشمنوں سے نجات عطا فرمائی۔
Ayah 21:77(77) اور ہم نے ان لوگوں سے اس کا بدلا لیا جو ہماری آیتوں اور ہمارے احکام کی تکذیب کرنے کے عادی اور خوگر ہوچکے تھے اور جنہوں نے ہمارے احکام کو جھٹلایا تھا بلاشبہ وہ بہت برے لوگ تھے۔ لہٰذا ہم نے ان سب کو غرق کردیا۔ یعنی جب نوح (علیہ السلام) کی قوم نے ان کی تکذیب کی اور ان کو ہر قسم کی تکلیف پہنچائی تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور ان کی قوم پر پانی کا طوفان بھیجا گیا چناچہ سب غرق ہوگئے۔ جزاء لمن کان کفر اور اس طرح ایک پیغمبر کی ناسپاسی کا انتقام لیا گیا۔
Ayah 21:78(78) اور حضرت دائود (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا وہ واقعہ بھی قابل ذکر ہے جبکہ وہ دونوں کسی کھیتی کے جھگڑے کا کہ اس کھیتی میں ایک قوم کی بکریاں رات میں گھس آئیں اور کھیتی کو خراب کرگئیں۔ یہ اس جھگڑے کا فیصلہ کرنے لگے اور ہم اس فیصلے کو جو ان لوگوں کے متعلق ہوا تھا دیکھ رہے تھے۔
یعنی فیصلے کے وقت ہم وہاں موجود تھے ایک باغبان تھا ایلیا اس کے باغ میں یوحنا چرواہے کی بکریاں یوحنا کی بیخبر ی سے گھس آئیں اور باغ کو خراب کرگئیں یہ مقدمہ پیش ہوا۔ حضرت دائود (علیہ السلام) نے باغ والے کے نقصان میں یوحنا کی بکریاں ایلیا کو دلوادیں۔ چونکہ نقصان کی قیمت بکریوں کی قیمت کے برابر تھی اس لئے بطور ضمان بکریاں ایلیا کو دلوادیں۔
یعنی مفسرین نے بجائے باغ کے کھیت کا ذکر کیا ہے۔ بہرحال ! جب فیصلہ کے بعد مدعی اور مدعا علیہ باہر نکلے تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) جو عدالت کے دروازے پر موجود رہا کرتے تھے انہوں نے دریافت کرکے فیصلہ معلوم کرلیا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا اگر یہ مقدمہ میرے سپرد کیا جاتا تو میں اس کا فیصلہ اور طرح کرتا یہ اطلاع حضرت دائود (علیہ السلام) کو ملی تو انہوں نے سلیمان (علیہ السلام) کو بلاکر پوچھا کہ اگر یہ معاملہ تمہارے سپرد کیا جائے تو تم اس میں کیا فیصلہ کرو۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے عرض کیا میں باغبان کو بکریاں دلائوں کہ وہ ان بکریوں کے دودھ سے فائدہ اٹھائے اور ان بکریوں سے بچے حاصل کرے اور یوحنا کو حکم دوں کہ وہ باغ کی آبیاری اور درستی کرے جب باغبان کا باغ اپنی اصلی حالت پر آجائے تو باغ یا کھیت اصل مالک کو لوٹا دے یعنی ایلیا کو دے دے اور ایلیا بکریاں اس کو واپس کردے۔ اس پر حضرت دائود (علیہ السلام) نے فرمایا فیصلہ یہی ہے۔
چنانچہ حضرت دائود (علیہ السلام) نے اسی طرح فیصلہ کردیا۔ حضرت دائود (علیہ السلام) نے ایک شرعی فیصلہ کیا تھا اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے صلح کا طریقہ اختیار کیا جیسا کہ حضرت مجاہد نے فرمایا ہے اس لئے دونوں فیصلوں میں کوئی تناقض یا منافات نہیں ہے اور نہ کسی کی اجتہاری غلطی ہے اور نہ ایک کی صحت دوسرے کی عدم صحت کو مستلزم ہے۔
Ayah 21:79(79) پھر ہم نے اس قضیے کے فیصلے کی آسان شکل سلیمان (علیہ السلام) کو سمجھا دی اور ہم نے دونوں ہی کو فیصلہ کرنے کی صلاحیت اور سمجھ عطا فرمائی تھی اور دونوں ہی کو حکمت اور علم عطا فرمایا تھا اور ہم نے پہاڑوں کو اور پرندوں کو دائود (علیہ السلام) کا تابع کردیا تھا کہ وہ حضرت دائود (علیہ السلام) کے ساتھ تسبیح کیا کرتے تھے اور یہ سب کچھ ہم ہی کرنے والے تھے۔ آسان شکل وہی جو مصالحت کی اوپر مذکور ہوئی دونوں کو حکمت و علم دیا گیا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔
پھر دونوں باپ بیٹوں کے فیصلوں میں بلاوجہ کی موشگافیاں کرنا کچھ مفید نہیں۔ پھر دونوں کو جن نعمتوں سے نوازا تھا ان کو علیحدہ علیحدہ بیان فرمایا۔
حضرت دائود (علیہ السلام) جب زبور پڑھتے تو پہاڑ بھی تسبیح کرتے اور پرندے بھی جمع ہوجاتے اور حضرت دائود (علیہ السلام) کے اس اعجاز پر تعجب نہ کیا جائے کیونکہ یہ سب کچھ ہماری قدرت سے ہوا تھا اور ہم ہی کرنے والے تھے اور ہماری ہی قدرت کی کارفرمائی تھی۔ دائود (علیہ السلام) بہت خوش آواز تھے جب وہ تسبیح وتحمید کرتے تو اڑتے جانور اور پہاڑ ان کے ہمراہ تسبیح کرتے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں دائود (علیہ السلام) نے بکریاں دلوائیں کھیتی والوں کو بدلا ان کے نقصان کا ان کے دین میں چور کو غلام کرلیتے تھے۔ اس موافق یہ حکم کیا اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) لڑکے تھے انہوں نے بھی یہ جھگڑا اپنے پاس منگوایا اور کہا کہ بکریاں رکھو ان کا دودھ پیو اور کھیتی کو پانی دیا کریں بکری والے جب کھیتی جیسی تھی ویسی ہوجائے تب بکریاں پھیردیں اور کھیتی لے لیں جس میں دونوں کو نقصان نہ ہو۔ 12
Ayah 21:80(80) اور ہم نے دائود (علیہ السلام) کو تمہارے لئے زرہ کا بنانا سکھایا تاکہ وہ زرہ تمہاری لڑائی میں تم کو محفوظ رکھے سو کیا تم اس نعمت کا شکر بجالائوگے حضرت دائود (علیہ السلام) کو زرہ بنانا سکھایا پرانے زمانے کی لڑائی میں یہ زرہ بڑے بچائو کا کام دیتی تھی یہ ایک قسم کا کرتہ ہوتا تھا جو لوہے تاروں سے بنا جاتا تھا۔ حضرت دائود (علیہ السلام) کے ہاتھ میں لوہا چونکہ نرم ہوجاتا تھا۔ اس لئے وہ بےتکلف بدون آگ کے یہ کام کیا کرتے تھے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت دائود (علیہ السلام) کے ساتھ زبور پڑھنے کے وقت پہاڑ اور جانور بھی انہیں کی سی آواز پڑھتے اور لوہے کی زرہ بناتے فقط ہاتھ سے موڑ کر اور لوگ بناتے ہیں آگ سے ۔ 12