20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 20:81

كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ لَا تَطْغَوْا فِیْهِ فَیَحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبِیْ١ۚ وَ مَنْ یَّحْلِلْ عَلَیْهِ غَضَبِیْ فَقَدْ هَوٰى Open ayah 20:81 in the Quran reader

اور تم سے کہا کہ جو ہم نے تم کو نفیس روزی دی ہے۔ آئے کھائو اور اس روزی میں حد شرعی سے تجاوز نہ کرو ورنہ میرا غضب تم پر نازل ہوجائے گا اور جس شخص پر میرا غضب واقع ہوا تو وہ ہلاک ہوگیا۔

-8 1 ہم نے تم کو نفیس اور مرغوب چیزیں اور لذیذ روزی عطا فرمائی ہے اس میں سے کھائو اور اس کھانے میں حد شرعی سے تجاوز نہ کرو اور حد سے آگے نہ بڑھو کہیں میرا غصہ اور غضب تم پر نازل ہوجائے اور جس شخص پر میرا غضب واقع ہوا تو وہ ٹپکا گیا اور ہلاک ہوگیا۔ یعنی بنی اسرائیل کو وہ نعمتیں یاد دلائیں جو وقتاً فوقتاً ان پر کی گئی ھیں دشمن کی غلامی سے آزادی توریت عطا کرنے کا وعدہ من اور سلویٰ عطا کرتے وقت تنبیہہ حد سے گزرنے کا مطلب یہ کہ نفیس روزی کھا کر مثلاً عصیاں کا ارتکاب کرنا۔ اگر ایسا کرو گے تو میرا غضب واقع ہوجائے گا اور جس پر میرا غضب واقع ہوتا ہے تو وہ برباد اور گیا گزرا ہوگیا۔ حضرت شاہ صاحب فرمایت ہیں زیادتی نہ کرو یعنی رکھ نہ چھوڑ۔ 12 حد سے تجاوز کا یہ مطلب کو بچا کر دوسرے روز کے لئے رکھ لو کہ یہ اللہ تعالیٰ کے وعدے سے انحراف ہے۔
Ayah 20:82

وَ اِنِّیْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى Open ayah 20:82 in the Quran reader

اور بلاشبہ میں اس شخص کے لئے بڑی بخشش کرنے والا ہوں جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک عمل کئے پھر راہ راست پر قائم بھی رہا

-82 اور بلاشبہ ایسے شخص اور ایسے لوگوں کے لئے بڑی بخشش اور مہربانی کرنے والا ہوں جس نے کفر و عصیان سے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک اعمال کرتا رہا پھر صحیح اور سیدھی راہ پر قائم بھی رہا۔ یعنی جو لوگ غل راہ روی سے توبہ کریں اور باز آجائیں اور ایمان کی راہ اختیار کریں۔ اعمال صالحہ کے پابند رہیں اور ایمان کی راہ پر قائم رہیں تو میں ایسے لوگوں کے ساتھ بڑی بخشش کا برتائو کرنے والا ہوں۔
Ayah 20:83

وَ مَاۤ اَعْجَلَكَ عَنْ قَوْمِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:83 in the Quran reader

اور اے موسیٰ تجھ کو اپنی قوم سے جلدی آجانے کا کیا سبب ہوا۔

-83 ارشاد ہوا اور اے موسیٰ (علیہ السلام) تجھ کو اپنی قوم سے جلدی اگٓے آنے کا کیا سبب ہوا ۔ یعنی جو قوم کے نمائنے اور نقبا تیرے ساتھ آ رہے تھے تو ان سے آگے کیسے چلا آیا اور اس کا سبب کیا ہے۔
Ayah 20:84

قَالَ هُمْ اُولَآءِ عَلٰۤى اَثَرِیْ وَ عَجِلْتُ اِلَیْكَ رَبِّ لِتَرْضٰى Open ayah 20:84 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا وہ لوگ یہ رہے میرے پیچھے آ رہے ہیں اے میرے پروردگار اور میں نے تیرے پاس آنے میں اس لئے جلدی کی کہ تو خوش ہوجائے

-84 موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا وہ لوگ یہ میرے پیچھے پیچھے آ رہے ہیں اور میں نے تیرے پاس اے میرے پروردگار آنے میں اس لئے جلدی کی تاکہ تو خوش ہوجائے اور راضی ہو۔ یعنی شاید یہ اس وقت کا ذکر ہے جب کہ موسیٰ (علیہ السلام) توریت لینے کی غضر سے طور پر تشریف لے گئے تھے اور ستر نمائندے قوم کے آپ کے ہمراہ تھے آپ حضرت حق سے کلام کرنے اور خطاب کرنے اور امتشال امر کی بجائے آوری کے لئے وعدے کی جگہ جلدی پہونچ گئے اس پر دریافت فرمایا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) توریت لینے گئے تو ہارون (علیہ السلام) کو قوم کا نگراں بنا گئے۔ پیچھے قوم سامری کے پیچھے لگ کر گمراہ ہوگئی قوم کی گمراہی اور سامری کے پیچھے ہوجانے کی اطلاع موسیٰ (علیہ السلام) کو طور پر دی گئی چناچہ ارشاد ہوا۔
Ayah 20:85

قَالَ فَاِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ مِنْۢ بَعْدِكَ وَ اَضَلَّهُمُ السَّامِرِیُّ Open ayah 20:85 in the Quran reader

خدا نے کہا ہم نے تیری قوم کو تیرے نکل آنے کے بعد ایک بلا میں مبتلا کردیا اور ان کو سامری نے گمراہ کردیا۔

-85 اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہم نے تیری قوم کو تیرے نکل آنے کے بعد ایک فتنے اور بلا میں مبتلا کر دیا اور ایک جانچ میں ڈال دیا اور ان کو سامری نے گمراہ کردیا۔ سامری نے ان کو گمراہ کیا اور ہم نے ان کو ایک امتحان میں مبتلا کردیا۔ یہ نسبت انا قد فتنا کی باعتبار تخلیق اپنی جانب فرمائی واقعہ کی تفصیل آگے مذکور ہے۔
Ayah 20:86

فَرَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا١ۚ۬ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَمْ یَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَنًا١ؕ۬ اَفَطَالَ عَلَیْكُمُ الْعَهْدُ اَمْ اَرَدْتُّمْ اَنْ یَّحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَخْلَفْتُمْ مَّوْعِدِیْ Open ayah 20:86 in the Quran reader

غرض موسیٰ (علیہ السلام) اپنی میعاد پوری کرنے کے بعد غصہ اور رنج میں بھرے ہوئے اپنی قوم کی طرف واپس آئے آ کر قوم سے کہا اے میری قوم کیا تم سے تمہارے رب نے ایک اچھا وعدہ نہیں کیا تھا کیا تم پر کوئی طویل مدت گزر گئی تھی یا تم نے یہ ارادہ کرلیا کہ تم پر تمہارے خدا کا غضب واقع ہو اس لئے تم نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا اس کا خلاف کیا۔

-86 غرض ! حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی میعاد پوری کرنے کے بغد غصے اور رنج میں بھرے ہوئے اپنی قوم کی طرف واپس آئے اور آ کر قوم سے فرمایا اے میری قوم ! کیا تم سے تمہارے پروردگار نے ایک اچھا اور خوش آئند وعدہ نہیں کیا تھا کیا تم پر مقررہ میعاد سے زیادہ زمانہ اور طویل مدت گزر گئی تھی یا تم نے یہ ارادہ کرلیا کہ تم پر تمہارے پروردگار کا غضب اور غصہ واقع ہو اس لئے تم نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا اس کے خلاف کیا۔ تفصیل تو نویں پارے میں گزر چکی ہے یہاں جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) افسوس کی حالت میں توریت لے کر واپس آئے تو قوم کو خطاب کر کے فرمایا مجھ سے کچھ ایسی تاخیر تو نہیں ہوگئی تھی کہ تم بالکل ناامید ہوگئے یا ناامید ہونے کی کوئی وجہ نہ پا کر تم نے یہ ارادہ کیا کہ تم پر تمہارے پروردگار کا غضب نازل ہوجائے اور تم نے جو مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ ہم آپ کی واپسی تک توحید خداوندی پر قائم رہیں گے اس وعدے کے خلاف کا ارتکاب کیا آخر بات کیا ہوئی۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں وعدہ تورات دینے کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) قوم سے تیس دن کا کر گئے تھے پہاڑ پر وہاں چالیس دن لگے پیچھے بچھڑا بنا کر پوجنے لگے۔ 12
Ayah 20:87

قَالُوْا مَاۤ اَخْلَفْنَا مَوْعِدَكَ بِمَلْكِنَا وَ لٰكِنَّا حُمِّلْنَاۤ اَوْزَارًا مِّنْ زِیْنَةِ الْقَوْمِ فَقَذَفْنٰهَا فَكَذٰلِكَ اَلْقَى السَّامِرِیُّۙ Open ayah 20:87 in the Quran reader

قوم کے لوگوں نے جواب دیا کہ ہم نے تجھ سے جو وعدہ کیا تھا اس کا خلاف اپنے اختیار سے نہیں کیا لیکن واقعہ یہ ہوا کہ قبطی قوم کے زیورات کا جو بوجھ ہم پر لدا ہوا تھا وہ زیورات ہم نے ڈال دیئے یعنی آگ میں پھر اسی طرح سامری نے بھی جو کچھ اس کے پاس تھا اسے آگ میں ڈال دیا ۔

-87 قوم کے لوگوں نے جواب دیا ہم نے جو تجھ سے وعدہ کیا تھا اس کا خلاف ہم نے اپنے اختیار سے نہیں کیا لیکن واقعہ یہ ہوا کہ فرعونی قوم کے زیورات کا جو بوجھ ہم پر لدا ہوا تھا اس کو ہم نے سامری کے کہنے سے آگ میں ڈال دیا پھر اسی طرح سامری نے بھی ڈال دیا۔ یعنی ہوا یہ کہ مصر سے چلتے وقت جو زیور ہم قبطیوں سے عاریتہ مانگ لائے تھے اس کا بوجھ ہم پر تھا اور اس زیور کا حکم ہم کو معلوم نہ تھا کہ اس زیور کا کیا کریں۔ کیونکہ اصلی مالک غرق ہوچکے تھے ان تمام زیورات کو ہم نے سامری کے کہنے سے آگ میں ڈال دیا۔ مقصد یہ تھا کہ گلا کر ایک جگہ کرلیا جائے۔ سامری نے بھی جو کچھ اس کے پاس تھا اسے گلانے کو ڈال دیا۔ مفسرین نے مختلف اقوال اس موقعہ پر ذکر کئے ہیں ہم نے ایک قول کو اختیار کرلیا ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں فرعون والوں سے عاریت مانگ کرلیا تھا گہنا کر دے یقین جانیں کہ ان کو شادی منظور ہے اس واسطے نکلتے ہیں شہر سے اس بغیر فرعون نکلنے نہ دیتا۔ 12 بہرحال ! اس زیور کے استعمال کو بنی اسرائیل پسندیدہ نہ سمجھتے تھے سامری جو ایک منافق تھا اس نے سب کا زیور لیکر گلا دیا اور ایک بچھڑا بنا لیا جیسا آگے آتا ہے۔
Ayah 20:88

فَاَخْرَجَ لَهُمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ فَقَالُوْا هٰذَاۤ اِلٰهُكُمْ وَ اِلٰهُ مُوْسٰى١۬ فَنَسِیَؕ Open ayah 20:88 in the Quran reader

پھر سامری نے لوگوں کے لئے ایک بچھڑا بنا نکلا جو محض ایک مجبور تھا اس میں آواز بچھڑے کی سی تھی اس شعبدہ کو دیکھ کر لوگ کہنے لگے کہ تمہارا اور موسیٰ کا معبود یہی تو ہے وہ موسیٰ تو بھول گیا

-88 پھر سامری نے لوگوں کے لئے ایک بچھڑے کا نقشہ بنا نکالا جو محض ایک مجسمہ تھا اور اس میں آواز بچھڑے کی سی تھی اس شعبدے کو دیکھ کر تو ہم پرست لوگ کہنے لگے کہ تمہارا اور موسیٰ (علیہ السلام) کا پروردگار یہی کی مٹی ڈال دی جس سے اس میں سے آواز بچھڑے کی نکلنے لگی لوگ اسی کو معبود کہنے لگے اور موسیٰ (علیہ السلام) کے طور پر جانے کو بھول سے تعبیر کرنے لگے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی موسیٰ (علیہ السلام) بھولا کہ اور جگہ چلا گیا 12 بہرحال ! حضرت حق جل مجدہ اس گوسالہ پرستی کا رد فرماتے ہیں۔
Ayah 20:89

اَفَلَا یَرَوْنَ اَلَّا یَرْجِعُ اِلَیْهِمْ قَوْلًا١ۙ۬ وَّ لَا یَمْلِكُ لَهُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا۠ Open ayah 20:89 in the Quran reader

بھلا کیا یہ گمراہ لوگ اتنی بات بھی نہیں دیکھتے تھے کہ وہ بچھڑا نہ تو ان کو کسی بات کا جواب دے سکتا ہے اور نہ ان کے کسی نفع یا ضرر پر وہ کوئی اختیار رکھتا ہے۔

-89 بھلا کیا یہ گمراہ لوگ اتنی بات بھی نہیں دیکھتے کہ وہ گوسالہ کا آواز دار مجسمہ نہ تو ان کی کسی بات کا جو با دے سکتا ہے اور نہ ان کے کسی نفع یا ضرر پر کوئی اختیار رکھتا ہے۔ یعنی نہ تو نفع اور نقصان کا مالک اور نہ اتنی سمجھ کہ بات کو سمجھ کر کسی بات کا جواب دے ایسے مجسمے کو معبود بنانا کیسی جاہلانہ حرکت ہے۔
Ayah 20:90

وَ لَقَدْ قَالَ لَهُمْ هٰرُوْنُ مِنْ قَبْلُ یٰقَوْمِ اِنَّمَا فُتِنْتُمْ بِهٖ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمٰنُ فَاتَّبِعُوْنِیْ وَ اَطِیْعُوْۤا اَمْرِیْ Open ayah 20:90 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہ اورن نے موسیٰ کی واپسی سے پہلے ہی بنی اسرائیل سے کہہ دیا تھا کہ اے میری قوم تم اس بچھڑے کی وجہ سے آزمائش میں مبتلا کئے گئے ہو اور یقینا تمہارا حقیقی رب تو رحمان ہی ہے سو تم میری راہ پر چلو اور میرا کہا مانو۔

-90 اور بلاشبہ حضرت ہارون نے حضرت موسیٰ کی تشریف آوری سے قبل ہی اپنی قوم سے کہہ دیا تھا کہ اے میری قوم تم اس بچھڑے کے سبب آزمائش اور جانچ میں مبتلا ہوگئے ہو اور اس بچھڑے کی وجہ سے گمراہی میں پھنس گئے ہو اور تمہارا حقیقی پروردگار تو رحمان ہی ہے پس تم میری پیروی کرو اور میرا کہنا مانو۔ یعنی حضرت ہارون جن کو حضرت موسیٰ اپنا نائب اور نگراں بنا گئے تھے انہوں بنی اسرائیل کی یہ گمراہی دیکھ کر ان کو بہت سمجھایا کہ دیکھو تم اس بچھڑے کی وجہ سے امتحان میں مبتلا ہوگئے ہو تمہارا حقیقی پروردگار رحمان ہے تم میرے قول و فعل کی اقتدار کرو تاکہ تم اللہ تعالیٰ کی گرفت سے محفوظ رہو۔
Ayah 20:91

قَالُوْا لَنْ نَّبْرَحَ عَلَیْهِ عٰكِفِیْنَ حَتّٰى یَرْجِعَ اِلَیْنَا مُوْسٰى Open ayah 20:91 in the Quran reader

قوم نے جواب دیا کہ ہم تو اس وقت تک جب تک موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے پاس لوٹ کر نہ آئے اسی بچھڑے کی پوجا میں لگے رہیں گے۔

-9 1 بنی اسرائیل کے لوگوں نے حضرت ہارون کو جواب دیا ہم تو جب تک موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے پاس لوٹ کر نہ آئے اس وقت تک اسی بچھڑے کی پوجا اور عبادت میں جمے بیٹھے رہیں گے۔ یعنی جب تک موسیٰ واپس نہ آئے ہم تو اپنے اس اعتقاد سے ہٹتے نہیں چناچہ حضرت موسیٰ تشریف لے آئے اور انہوں نے تمام حالات کو ملاحظہ کیا اور سب سے پہلے بھائی پر ناراض ہوئے۔
Ayah 20:92

قَالَ یٰهٰرُوْنُ مَا مَنَعَكَ اِذْ رَاَیْتَهُمْ ضَلُّوْۤاۙ Open ayah 20:92 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے ہارون (علیہ السلام) سے کہا اے ہارون جب تو نے ان کو دیکھا تھا کہ یہ گمراہ ہوگئے ہیں۔

-92 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اے ہارون جب تو نے یہ دیکھا تھا کہ یہ بالکل بھٹک گئے اور گمراہ ہوگئے ہیں۔
Ayah 20:93

اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَیْتَ اَمْرِیْ Open ayah 20:93 in the Quran reader

تو تجھ کو میرے حکم کی پیروی کرنے سے کیا چیز مانع ہوئی کیا تو نے میرے حکم کی خلاف ورزی کی۔

-93 تو تجھ کو میرے حکم کی پیروی کرنے سے کیا چیز مانع ہوئی کیا تو نے میرے حکم کی خلاف ورزی کی۔ یعنی جب تو نے ان کی یہ حالت دیکھی تھی کہ یہ شرک پر مائل ہوگئے ہیں اور کفر و شرک کے شوق میں بےقابو ہوچکے ہیں تو تو نے میرے حکم کی پیروی کیوں نہ کی یعنی ان کا مقابلہ کیوں نہیں کیا۔ بعض علماء نے الایتبعن کی تفسریوں کی ہے کہ میرے پاس کیوں نہ چلا آیا۔ بہرحال ! قوم کی اس ناشائستہ حرکت پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بہت غضب ناک اور برہم ہوئے اور ہارون پر بہت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ تو نے میرے حکم کی نافرمانی کی۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں چلتے وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) حضرت ہارون (علیہ السلام) کو نصیحت کر گئے تھے کہ سب کو متفق رکھیو اس واسطے انہوں نے بچھڑا پوجنے والوں کا مقابلہ کیا زبان سے سمجھایا وے نہ سمجھے۔ 12 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ہارون (علیہ السلام) کی داڑھی اور سر کے بال پکڑ لئے اس پر ہارون (علیہ السلام) نے عرض کیا۔
Ayah 20:94

قَالَ یَبْنَؤُمَّ لَا تَاْخُذْ بِلِحْیَتِیْ وَ لَا بِرَاْسِیْ١ۚ اِنِّیْ خَشِیْتُ اَنْ تَقُوْلَ فَرَّقْتَ بَیْنَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ لَمْ تَرْقُبْ قَوْلِیْ Open ayah 20:94 in the Quran reader

ہارون (علیہ السلام) نے کہا اے میری ماں کے جائے تو میری داڑھی نہ پکڑ اور نہ میرے سر کے بال پکڑ میں اس بات سے ڈرا کر کہیں تو یوں نہ کہے کہ ہارون تو نے بنی اسرائیل کے درمیان پھوٹ ڈال دی اور تو نے میری بات کا لحاظ نہ رکھا۔

-94 ہارون نے کہا اے میری ماں کے بیٹے یعنی اے بھائی میری داڑھی اور میرے سر کے بال نہ پکڑ میں تو اس بات سے ڈرا کر کہیں آپ یوں نہ فرمائیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفریق اور پھوٹ ڈلوا دی اور میری بات کا پاس نہ کیا اور لحاظ نہ رکھا۔ یعنی اگر میں مسلمانوں کو لے کر مقابلہ کرتا یا آپ کے پاس چلا آتا دونوں صورتوں میں اس کا اندیشہ تھا کہ آپ فرماتے تو نے بنی اسرائیل میں باہمی تفریق اور خانہ جنگی ڈلوا دی میں نے اس ڈر سے نہتو مقابلہ کیا اور نہ گوسالہ پرستوں کو چھوڑ کر آپ کے پاس آیا۔
Ayah 20:95

قَالَ فَمَا خَطْبُكَ یٰسَامِرِیُّ Open ayah 20:95 in the Quran reader

موسیٰ نے سامری سے کہا اے سامری تیرا کیا معاملہ ہے۔

-95 اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے سامری سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا اے سامری تیرا کیا معاملہ ہے یعنی تو نے ایسا کیوں کیا۔
Ayah 20:96

قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ یَبْصُرُوْا بِهٖ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوْلِ فَنَبَذْتُهَا وَ كَذٰلِكَ سَوَّلَتْ لِیْ نَفْسِیْ Open ayah 20:96 in the Quran reader

اس نے جواب دیا میں ین ایسی چیز دیکھی جو اوروں نے نہیں دیکھی تو میں نے اس فرشتے کے نشان قدم کی مٹی سے ایک مٹھی بھرلی پھر میں نے وہی مٹی کی مٹھی ڈال دی یعنی بچھڑے کے منہ میں اور اس وقت میرے جی نے مجھ کو ایسی ہی صلاح دی۔

-96 سامری نے جواب دیا میں نے ایک ایسی چیز دیکھی تھی جو اور سب نے نہیں دیکھی تو میں نے اس فرشتے کے نشان قدم کی مٹی سے ایک مٹھی بھر کے رکھ لی بس وہی مٹی کی مٹھی میں نے اس بچھڑے کے منہ میں ڈال دی اور اس وقت میرے جی نے مجھ کو ایسی ہی صلاح دی۔ یعنی میں نے جبرئیل کو دیکھا اور ان کے پائوں کے نیچے کی مٹی یا ان کے گھوڑے کے پائوں کے نیچے کی مٹی میں ایک خاص اثر محسوس کیا تو میں نے وہ مٹی ایک مٹھی بھر کر رکھ لی اور اس مٹی کو اس بچھڑے کے منہ میں ڈال دیا اس سے یہ آواز پیدا ہوگئی اور یہ بات میں نے اپنے جی سے کی اور میرے نفس نے یہی بات مجھ کو درست بتائی یہ جبرئیل (علیہ السلام) کا آنا یا تو فرعون کے غرق ہونے کے وقت کا ہوگا یا کوئی حکم لیکر آئے ہوں گے اس وقت کا ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں جس وقت بنی اسرائیل بہتے دریا میں بیٹھے فرعون ساتھ فوج کے بیٹھا جبرئیل (علیہ السلام) بیچ میں ہوگئے کہ ان کو ان کو ان تک نہ ملنے دیں سامرینے پہچانا کہ یہ جبرئیل ہیں ان کے پائوں کے نیچے سے مٹھی بھر مٹی اٹھا لی وہی اب اس سونے کے بچھڑے میں ڈال دی سونا تھا کافروں کا مال لیا ایسی چیزوں سے بہت بچنا چاہئے اس سے بت پرستی بڑھتی ہے۔ 12
Ayah 20:97

قَالَ فَاذْهَبْ فَاِنَّ لَكَ فِی الْحَیٰوةِ اَنْ تَقُوْلَ لَا مِسَاسَ١۪ وَ اِنَّ لَكَ مَوْعِدًا لَّنْ تُخْلَفَهٗ١ۚ وَ انْظُرْ اِلٰۤى اِلٰهِكَ الَّذِیْ ظَلْتَ عَلَیْهِ عَاكِفًا١ؕ لَنُحَرِّقَنَّهٗ ثُمَّ لَنَنْسِفَنَّهٗ فِی الْیَمِّ نَسْفًا Open ayah 20:97 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا چل دور ہو تیزی سزا اس زندگی میں یہ ہے کہ تو لوگوں سے کہتا پھرے کہ کوئی مجھ کو ہاتھ نہ لگانا اور تیرے لئے ایک اور وعدہ مقرر ہے جس کا تجھ سے خلاف نہ کیا جائے گا اور تو اپنے اس معبود کو دیکھ جس کی پوجا پر تو جما بیٹھا تھا یقینا ہم اس کو جلا ڈالیں گے پھر اس کی راکھ کو دریا میں بکھیر کر بہا دیں گے۔

-97 حضرت موسیٰ نے فرمایا چل جا دنیوی زندگی میں تیرا سزایہ ہے کہ تو لوگوں سے کہتا پھرے کہ کوئی مجھ کو ہاتھ نہ لگائے اور تیرے لئے ایک اور بھی وعدہ مقرر ہے جس کا تجھ سے ہرگز خلاف نہ کیا جائے گا اور تجھ سے وہ ٹلنے والا نہیں اور تو اپنے اس معبود کو دیکھ کر جس کی پرستش پر توجما بیٹھا تھا یقینا ہم اس کو جلا ڈالیں گے اور اس کے ذروں کو دریا میں بہا دیں گے۔ یعنی دنیا کی سزا یہ کہ کسی سے مس نہ ہو اور اچھوتوں کی طرح ہر ایک سے بچ کر چلے اور بھاگتا پھرے سوسائٹی میں کوئی درجہ نہ ہو اور آخرت میں عذاب کا وعدہ جس کا خلاف نہ ہوگا۔ رہا یہ معبود باطل تو اسکو ہم ابھی ختم کئے دیتے ہیں اس کو آگ میں جلا کر اس کی راکھ اور اس کے ذروں کو دریا میں بہا کر ختم کریں گے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں دنیا میں اس کو یہی سزا ملی کہ وہ بنی اسرائیل کے لشکر سے باہر الگ رہا تھا اگر وہ کسی سے ملتا یا کوئی اس سے دونوں کو تپ چڑھتی اس مارے وہ لوگوں کو دور کرتا اور ایک وعدہ ہے کہ خلاف نہ ہوگا شاید عذاب آخرت ہے اور شاید دجال کا نکلنا وہ بھی یہود میں اسی کا فساد پورا کرے گا۔ جیسے ہمارے پیغمبر مال بانٹتے تھے ایک شخص نے کہا انصاف سا بانٹو۔ فرمایا اس کی جنس کے لوگ نکلیں گے وے خارجی نکلے کہ لگے اپنے پیشوائوں پر اعتراض پکڑنے جو کوئی دین کے پیشوائوں پر طعن کرے وہ ایسا ہی ہے۔ 12 جو لوگ بچھڑے کو لحم شحم کا کہتے ہیں ان کے نزدیک مطلب یہ ہے کہ بچھڑے کو ذبح کر کے جلائیں گے اور اس کی راکھ کو دریا میں بہا دیں گے اور جو لوگ اس کو محض سونے کا مجسمہ کہتے ہیں ان کے نزدیک مطلب یہ ہے کہ اس کو آگ میں گلا کر ریتی سے اس کا برادہ کرنے کے بعد دریا میں بہا دیں گے ہم نے تیسیر میں دونوں خیالات کی ترجمانی کی ہے۔ (واللہ اعلم)
Ayah 20:98

اِنَّمَاۤ اِلٰهُكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَسِعَ كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا Open ayah 20:98 in the Quran reader

سوائے اس کے نہیں کہ تم لوگوں کا حقیقی معبود تو صرف اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے قابل نہیں وہ از روئے علم کے ہر شئے کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔

-98 بس تمہارا معبود حقیقی تو صرف اللہ تعالیٰ ہے اس کے سوا کوئی اور عبادت اور پرستش کے قابل نہیں وہ اللہ تعالیٰ ازروئے علم تمام چیزوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ یعنی اس کے احاطہ علمی سے کوئی چیز باہر نہیں۔
Ayah 20:99

كَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ مَا قَدْ سَبَقَ١ۚ وَ قَدْ اٰتَیْنٰكَ مِنْ لَّدُنَّا ذِكْرًاۖۚ Open ayah 20:99 in the Quran reader

جس طرح ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ سنایا اسی طرح ہم اے پیغمبر آپ کو واقعات گزشتہ کی خبریں بھی سناتے رہتے ہیں اور ہم نے اپنے پاس سے آپ کو نصیحت کی کتاب عطا فرمائی ہے

-99 جس طرح ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ سنایا اسی طرح ہم آپ کو واقعات گزشتہ کی خبریں بھی سناتے ہیں اور ہم نے اپنے پاس سے آپ کو ایک پڑھنے کی اور نصیحت کی کتاب دی ہے۔ یعنی آپ کو قرآن کریم عنایت کیا ہے جس میں واقعات گزشتہ کی خبریں بھی ہیں اور وہ قرآن کریم آپ کی نبوت پر دلیل بھی ہے۔
Ayah 20:100

مَنْ اَعْرَضَ عَنْهُ فَاِنَّهٗ یَحْمِلُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وِزْرًاۙ Open ayah 20:100 in the Quran reader

جو لوگ اس نصیحت کی کتاب سے روگردانی کریں گے تو وہ قیادت کے دن ایک بہت بھاری بوجھ اٹھائے ہوئے ہوں گے۔

- 100 جو لوگ اس نصیحت کی کتاب یعنی قرآن حمید سے روگردانی کریں گے وہ قیامت کے دن ایک بہت بھاری بوجھ اٹھائے ہوئے ہوں گے۔
Ayah 20:101

خٰلِدِیْنَ فِیْهِ١ؕ وَ سَآءَ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ حِمْلًاۙ Open ayah 20:101 in the Quran reader

وہ اس بوجھ میں ہمیشہ مبتلا رہیں گے اور یہ بوجھ قیامت میں ان کے لئے بہت ہی برا ہوگا۔

- 10 1 یہ لوگ ہمیشہ اس بوجھ کے تلے دبے رہیں گے اور یہ بوجھ ان کے لئے قیامت میں بہت ہی برا ہوگا۔
Ayah 20:102

یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ وَ نَحْشُرُ الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَئِذٍ زُرْقًاۚۖ Open ayah 20:102 in the Quran reader

قیامت کا دن وہ دن ہے جس دن صور میں پھونک ماری جائیگی اور ہم اس دن مجرموں کو اس حال میں جمع کریں گے کہ ان کی آنکھیں نیلی ہوں گی۔

- 102 قیامت کا دن وہ ہے جس دن صور میں پھونکا جائے گا اور ہم اس دن مجرموں کو اس حال میں جمع اور اکٹھا کریں گے کہ ان کی آنکھیں نیلی اور کرنجی ہوں گی۔ یہ منکرین قرآن کریم کی سزا کا ذکر ہے جو قرآن کریم سے منہ پھیرتے ہیں اور قرآن کریم کی تعلیم پر ایمان نہیں لاتے وہ قیامت کے دن عذاب الٰہی کے بوجھ میں دبے ہوئے ہوں گے اور وہ اس بوجھ میں ہمیشہ دبے رہیں گے اور قیامت کے دن ان کا حشر اس حال میں ہوگا کہ ان کی آنکھیں نیلی اور کرنجی ہوں گی یعنی بدصورت اور بدنما بعض نے کہا ہے کہ اندھے ہوں گے۔
Ayah 20:103

یَّتَخَافَتُوْنَ بَیْنَهُمْ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا عَشْرًا Open ayah 20:103 in the Quran reader

وہ چپکے چپکے آپ س میں کہتے ہوں گے کہ تم صرف کوئی دس دن ٹھہرے ہو گے یعنی دنیا میں یا قبر میں

- 103 وہ چپکے چپکے آپ س میں کہتے ہوں گے کہ تم دنیا میں یا قبر میں صرف دس روز ٹھہرے ہو۔ یعنی میدان حشر کے عذاب اور ہول سے متاثر ہو کر دنیا کے قیام یا قبر کے قیام کا اندازہ دس دن لگائیں گے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی اندھے یا یوں ہی نیلی ہوں گی بدنمائی کے واسطے 12
Ayah 20:104

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ اِذْ یَقُوْلُ اَمْثَلُهُمْ طَرِیْقَةً اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا یَوْمًا۠ Open ayah 20:104 in the Quran reader

جس مدت کے متعلق وہ باہمی گفتگو کرتے ہوں گے اس کی حقیقت کو ہم خوب جانتے ہیں جبکہ اس گفتگو میں ان میں بہترین رائے رکھنے والا یوں کہے گا کہ نہیں تم صرف ایک ہی دن ٹھہرے ہو۔

- 104 جو کچھ یہ کہتے ہیں ہم خوب جانتے ہیں جبکہ ان میں سے بہترین رائے اور اچھی راہ رکھنے والا یوں کہے گا کہ نہیں تم تو صرف ایک دن رہے گا۔ یعنی میدان حشر میں جو خفیہ سرگوشیاں کرتے ہیں وہ ہم کو سب معلوم ہے جبکہ ان میں سے ایک اچھی رائے کا سمجھدار اور ہوشیار یوں کہے گا کہ دس دن کس کے تم تو صرف ایک دن رہے ہو گے اس کو امثلھم طریقۃ اس لئے فرمایا کہ اس نے وہاں کے عذاب اور وہاں کی ہولناکی کا دوسروں سے بہتر اندازہ کیا یہ نہیں کہ تجدید میعاد کا اندازہ صحیح ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی دنیا میں رہنا اتنا نظر آوے گا یا قبر میں رہنا۔ 12 ہم کو خوب معلوم ہے یعنی چپکے کہنا ہم سے نہیں چھپتا۔ 12
Ayah 20:105

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنْسِفُهَا رَبِّیْ نَسْفًاۙ Open ayah 20:105 in the Quran reader

اور اے پیغمبر ! لوگ آپ سے پہاڑوں کی نسبت پوچھتے ہیں سو آپ فرما دیجئے کہ ان پہاڑوں کو تو میرا رب بالکل اڑا دے گا۔

- 105 اور اے پیغمبر وقوع قیامت کے سلسلے میں لوگ آپ سے پہاڑوں کے متعلق دریافت کرتے ہیں کہ ان کا کیا ہوگا آپ فرما دیجیے کہ ان پہاڑوں کو میرا پروردگار بالکل اڑا دے گا۔ یعنی ان کو ریزہ ریزہ کر کے ہوا میں اڑا دے گا۔
Ayah 20:106

فَیَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًاۙ Open ayah 20:106 in the Quran reader

پھر زمین کو ایک ایسا ہموار میدان کر دے گا۔

- 106 پھر زمین کو ایک ایسا ہموار اور صاف کر چھوڑے گا اور ایسا میدان کر دے گا۔
Ayah 20:107

لَّا تَرٰى فِیْهَا عِوَجًا وَّ لَاۤ اَمْتًاؕ Open ayah 20:107 in the Quran reader

کہ جس میں تو اے مخاطب نہ کہیں کوئی موڑ دیکھے گا اور نہ کہیں کوئی ٹیلا

- 107 کہ جس میں تو اے مخاطب نہ کوئی موڑ اور ناہمواری دیکھے گا اور نہ کوئی ٹیلا اور بلندی نظر آئیگی یعنی زمین ایکصاف اور چٹیل میدان ہوجائے گی۔
Ayah 20:108

یَوْمَئِذٍ یَّتَّبِعُوْنَ الدَّاعِیَ لَا عِوَجَ لَهٗ١ۚ وَ خَشَعَتِ الْاَصْوَاتُ لِلرَّحْمٰنِ فَلَا تَسْمَعُ اِلَّا هَمْسًا Open ayah 20:108 in the Quran reader

اس دن سب لوگ بغیر کسی انحراف کے ایک بلانے والے کے کہنے پر ہولیں گے اور تمام آوازیں رحمان کے سامنے پست ہوجائیں گی اور اے مخاطب تو پائوں کے چلنے کی آہٹ کے ہوا کوئی آواز نہ سنے گا

- 108 اس دن تمام لوگ بغیر کسی انحراف کے ایک بالنے اور پکارنے والے کی آواز اور کہنے پر چل پڑیں گے اور تمام آوازیں رحمان کے سامنے پست ہوجائیں گی اور اے مخاطب تو سوائے پائوں کے چلنے کی آہٹ اور کھس کھساہٹ کے کوئی آواز نہیں سنے گا۔ یعنی اس دن حضرت اسرافیل کے بلانے پر سب لوگ بغیر کسی انحراف اور بغیر کسی اکڑکے قبروں سے نکل کر چل پڑیں گے نہ بلانے والے کی بات میں کوئی ٹیڑھ نہ حاضر ہونے والوں کی چال میں کوئی اکڑ اور امینٹھ اور خوف وہیبت کے مارے تمام آوازیں پست ہوجائیں گی لوگوں کے چلنے کی کھس کھساہٹ اور کھس کھس کی آواز کے کوئی آواز تو اے مخاطب نہ سنے گا۔
Ayah 20:109

یَوْمَئِذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ رَضِیَ لَهٗ قَوْلًا Open ayah 20:109 in the Quran reader

اس دن کسی کے حق میں سفارش نفع نہ دیگی مگر اس شخص کے حق میں جس کے لئے رحمٰن نے شافع کو اجازت دی ہو اور اس کے لئے شافع کا بولنا پسند کرلیا ہو۔

- 109 اس دن کسی کے حق میں سفارش نفع نہیں دے گی اور شفاعت سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا مگر ہاں اس شخص کو شفاعت کا فائدہ حاصل ہوگا جس کے لئے رحمان نے شافع کو اجازت دی ہو اور اس کے لئے شافع کی بات کو پسند کرلیا ہو۔ یعنی سفارش اس کے حق میں مفید ہوگی جس کے لئے رحمان اجازت دے اور اس کا بولنا پسند کرے مراد یہ ہے کہ وہ جس کی سفارش کی جائے وہ مومن ہو کافر کے لئے نہ سفارش کی اجازت نہ سفارش مفید اور مقبول ۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی اس کی سفارش چلے گی۔ 12 خلاصہ ! یہ کہ شافع ماذون ہو اور مشفوع لہ مسلمان۔
Ayah 20:110

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا Open ayah 20:110 in the Quran reader

وہ سب لوگوں کے تمام اگلے پچھلے احوال کو جانتا ہے اور لوگ ازروئے علم معلومات باری تعالیٰ کا احاطہ نہیں کرسکتے ۔

- 1 10 وہ اللہ تعالیٰ سب لوگوں کے اگلے اور پچھلے احوال کو جانتا ہے اور مخلوق باعتبار اپنے علم کے معلومات باری تعالیٰ کا احاطہ نہیں کرسکتی۔ یعنی اللہ تعالیٰ تو مخلوقات کے تمام حالات و معلومات کو جانتا ہے لیکن سب لوگ حضرت حق تعالیٰ کی معلومات کا احاطہ نہیں کرسکتے۔
Ayah 20:111

وَ عَنَتِ الْوُجُوْهُ لِلْحَیِّ الْقَیُّوْمِ١ؕ وَ قَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا Open ayah 20:111 in the Quran reader

اور اس زندہ اور ہمیشہ رہنے والے کے روبرو سب کے چہرے جھکے ہوئے ہوں گے اور یقینا وہ شخص نامراد رہے گا جو ظلم کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہوگا۔

- 1 1 1 اور اس زندہ اور ہمیشہ رہنے والے کے آگ سب کے چہرے جھکے ہوئے ہوں گے اور بلاشبہ وہ شخص نامراد اور ناکم ہوگا جو ظلم لے کر آیا ہوگا اور اس پر ظلم لدا ہوا ہوگا۔ یعنی جس پر شرک کا بار عظیم ہوگا اور شرک امداد ہوا ہوگا وہ بالکل ہی ناکام اور نامراد رہے گا چہرے جھکے ہوئے ہوں گے۔ یعنی بڑے بڑے متکبر و سرکش حضرت حق کی جناب میں سرنگوں ہوں گے اور کوئی جاحد و منکر ایسا نہ ہوگا جو حی قیوم کے روبرو سجدہ کناں نہ ہو۔
Ayah 20:112

وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا یَخٰفُ ظُلْمًا وَّ لَا هَضْمًا Open ayah 20:112 in the Quran reader

اور جس نے نیک عمل کئے ہوں گے اور وہ مومن بھی ہوگا تو اس کو کسی نہ کسی بےانصافی کا خوف ہوگا اور نہ کسی نقصان اور دبائو کا

- 1 12 اور جو شخص نیک عمل کا پابند رہا ہوگا اور آنحالیکہ وہ مومن بھی ہو تو اس کو نہ کسی ناانصافی کا خوف ہوگا اور نہ کسی نقصان اور دبائو کا ۔ یعنی جو مسلمان نیک اعمال کا پابند ہوگا تو اس کو کامل ثواب ملے گا اور ثواب کے ملنے میں کسی بےانصافی اور دبائو کا اندیشہ نہ ہوگا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی اس پر زور نہ ہوگا اللہ کے ہاں انصاف ہے۔
Ayah 20:113

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا وَّ صَرَّفْنَا فِیْهِ مِنَ الْوَعِیْدِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ اَوْ یُحْدِثُ لَهُمْ ذِكْرًا Open ayah 20:113 in the Quran reader

اور اسی رطح ہم نے اس تمام قرآن کریم کو عربی زبان میں نازل کیا ہے اور ہم نے اس میں طرح طرح سے ڈرانے کی باتیں بیان کی ہیں تاکہ لوگ پرہیز گاری اختیار کریں یا یہ قرآن کریم ان میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت پیدا کر دے۔

- 1 13 اور ہم نے جس طرح یہ مذکورہ باتیں اور مضامین بیان کئے ہیں اسی رطح ہم نے اس پورے قرآن کریم کو عربی زبان کا نازل کیا ہے اور ہم نے اس میں طرح طرح سے ڈرانے کی باتیں سنائیں تاکہ لوگ ان کو سن کر پرہیز گاری اور تقویٰ اختیار کریں اور عذاب کی باتوں سے ڈریں یا یہ قرآن کریم ان میں سوجھ بوجھ پیدا کر دے۔ یعنی جس طرح اوپر کے مضامین صاف صاف مذکور ہیں اسی طرح ہم نے پورے قرآن کریم کو عربی زبان میں نازل کیا ہے اور اس وعید یعنی قیامت اور عذاب کے وعدوں کو مختلف طریقوں سے بار بار بیان کیا ہے تاکہ لوگ ڈریں اور تقویٰ کی راہ اختیار کریں اور اگر کامل خوف خشیت اور تقویٰ و پرہیز گاری نہ بھی حاصل ہو تو کم از کم سوچنے سمجھنے کی ان میں قرآن کریم صلاحیت ہی پیدا کر دے اور اس صلاحیت کے بعد ان کو اپنے انجام کی فکر ہوجائے اور یہ دین حق کو قبول کرلیں ۔
Ayah 20:114

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ وَ لَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّقْضٰۤى اِلَیْكَ وَحْیُهٗ١٘ وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا Open ayah 20:114 in the Quran reader

سو اللہ تعالیٰ جو حقیقی بادشاہ ہے بہت بلند مرتبہ ہے اور اے پیغمبر آپ قرآن کریم میں قبل اس کے کہ آپ پر اس کی وحی پوری نازل ہوچکے جلدی نہ کیا کیجیے اور یوں دعا کیجیے کہ اے میرے رب میرے علم میں ترقی اور اضافہ فرما۔

- 1 14 سو اللہ تعالیٰ جو حقیقی بادشاہ ہے وہ بہت بلند مرتبہ ہے اور اس کا درجہ بہت بلند ہے اور اے پیغمبر آپ قرآن کریم میں قبل اس کے کہ آپ پر اس کی وحی کا پورا نزول ہوچکے جلدی نہ کیا کیجیے اور آپ ہم سے یوں دعا کیا کیجیے کہ اے پروردگار میرا علم بڑھا دے اور میرا علم زیادہ کر دے۔ نبی کریم ﷺ کی عادت یہ تھی کہ جب قرآن کریم کا نزول ہوتا تو آپ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کے ساتھ اس خوف سے کہ کہیں بھول نہ جائوں جلدی جلدی پڑھتے جاتے تھے اس سے منع فرمایا اور ارشاد ہوا کہ آپ عجلت سے کام نہ لیجیے بلکہ ہم سے دعا کیجیے کہ میرے علم میں ترقی اور اضافہ فرما دیجیے اس دعا میں تمام باتیں شامل ہیں۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں جبرئیل (علیہ السلام) جب قرآن کریم لاتے حضرت ان کے پڑھنے کے ساتھ آپ بھی پڑھتے جاتے کہ بھول نہ جائوں اس کو پہلے منع فرمایا تھا۔ سورة قیامت میں اور تسلی کردی کہ اس کا یاد رکھوانا اور لوگوں تک پہنچوانا ذمہ ہمارا ہے لیکن بندہ بشر ہیں شاید بھول گئے ہوں پھرت قید کیا اور بھولنے پر مثل فرمائی آدم کی 12 حقیقی بادشاہ کی بلندی ک ذکر آیت کی ابتداء میں فرمایا کیونکہ اس شان کا قرآن کریم نازل فرمانا جو نجات کی راہیں بتاتا ہے اور دین دنیا کی فلاح تعلیم کرتا ہے یہ بادشاہ حقیقی ہی کام ہے۔
Ayah 20:115

وَ لَقَدْ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِیَ وَ لَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا۠ Open ayah 20:115 in the Quran reader

اور ہم نے اب سے بہت پہلے آدم (علیہ السلام) سے عہد لیا تھا مگر وہ بھول گیا اور ہم نے اس میں استقلال نہ پایا۔

- 1 15 اور بلاشبہ ہم نے اب سے بہت پہلے آدم کی تاکید کی تھی اور حکم دیا تھا مگر وہ بھول گیا اور بےاحتیاطی سے کام لیا اور یاد نہ رکھا اور ہم نے اس میں پختگی اور استقلال نہ پایا۔ یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) نے اس حکم اور تاکید کو یاد نہ رکھا جس چیز کے کھانے سے منع کیا تھا اس کے کھانے میں مبتلا ہوگئے ہم نے اس کے ارادے میں ہمت و استقلال اور پختگی اور ثابت قدمی نہ پائی۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں وہی جو دانا کھالیا بھول گئے یعنی قائم نہ رہے۔
Ayah 20:116

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰى Open ayah 20:116 in the Quran reader

اور وہ وقت یاد کیجیے جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم (علیہ السلام) کے سامنے سجدہ کرو تو ان سب نے سجدہ کیا ۔ مگر ابلیس نے اس نے تعمیل حکم سے انکار کیا۔

- 1 16 اور وہ وقت قابل ذکر ہے جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ آدم (علیہ السلام) کے سامنے سجدہ کرو اس پر سب فرشتوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے اس ابلیس نے تعمیل سے انکار کیا۔
Ayah 20:117

فَقُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اِنَّ هٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَ لِزَوْجِكَ فَلَا یُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقٰى Open ayah 20:117 in the Quran reader

پھر ہم نے کہا اے آدم (علیہ السلام) یہ ابلیس یقینا تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے سو کہیں ایسا نہ ہو کہ تم دونوں کو جنت سے باہر نکلوا دے پھر تو مصیبت میں پڑجائے

- 1 17 پھر ہم نے آدم (علیہ السلام) یہ ابلیس یقینا تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے سو کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ تم دونوں کو کسی غلطی کے ارتکاب کے باعث جنت سے نکلوا دے پھر تو تکلیف و مصیبت میں پڑجائے۔ یعنی ابلیس تجھ کو کسی غلطی پر بہکا کر آمادہ کر دے اور تم دونوں جنت سے نکال دیئے جائو اور معیشت کے چکر میں پھنس جائو چونکہ بیوی کی ذمہ داری بھی خاوند پر ہوتی ہے اس لئے آدم (علیہ السلام) کو مشقت میں مبتلا ہونے سے ہوشیار کیا اگرچہ پریشانی بیوی کو بھی ہوتی ہے۔
Ayah 20:118

اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْعَ فِیْهَا وَ لَا تَعْرٰىۙ Open ayah 20:118 in the Quran reader

جنت میں تیرے لئے یہ بات ہے کہ یہاں نہ تو بھوکا رہے گا اور نہ ننگا

118 جنت میں تیرے لئے یہ بات ہے کہ یہاں تو بھوکا رہے گا اور نہ ننگا۔
Ayah 20:119

وَ اَنَّكَ لَا تَظْمَؤُا فِیْهَا وَ لَا تَضْحٰى Open ayah 20:119 in the Quran reader

اور نہ یہاں تو پیاسا رہے گا اور نہ دھوپ کی تکلیف اٹھائے گا۔

119 اور نہ یہاں تو پیاسا رہے گا اور نہ دھوپ کی تکلیف اٹھائے گا۔ یعنی بھوک پیاس برہنگی اور دھوپ ان تمام تکالیف سے یہاں محفوظ ہو اور اگر شیطان کے بہکانے سے کوئی غلطی کر بیٹھے اور یہاں سے نکال دیئے گئے تو ہر قسم کی تکلیف اور مشقت میں مبتلا ہو جائو گے۔
Ayah 20:120

فَوَسْوَسَ اِلَیْهِ الشَّیْطٰنُ قَالَ یٰۤاٰدَمُ هَلْ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَ مُلْكٍ لَّا یَبْلٰى Open ayah 20:120 in the Quran reader

پھر شیطان نے آدم کے قلب میں وسوسہ ڈالا آدم (علیہ السلام) سے کہنے لگا اے آدم (علیہ السلام) کیا میں تجھ کو ہمیشہ زندہ رکھنے والا درخت بتادوں اور نیز ایسی بادشاہت بتادوں جو کبھی پرانی نہ ہو۔

- 120 پھر شیطان نے آدم (علیہ السلام) کے جی میں وسوسہ ڈالا ان سے کہنے لگا اے آدم (علیہ السلام) کیا میں تجھ کو ہمیشہ زندہ رکھنے والا درخت بتادوں نیز ایسی بادشاہت بتادوں جو کبھی پرانی نہ ہو۔ ممنوعہ درخت کے کھانے پر یہ کہہ کر ابھارا کہ تم کو ایسا درخت بتادوں جس کی خاصیت یہ ہو کہ اس کے کھانے سے ہمیشہ زندہ اور خوش و خرم رہو اور ایسی بادشاہی ملے جو لازوال نہ ہو نہ اس میں ضعف آئے نہ کبھی پرانی ہو۔ لازوال حکومت اور لازوال زندگی کا لالچ دیکر شجر ممنوعہ کے کھانے پر ممنوعہ کے کھانے پر آدم (علیہ السلام) و حوا کو آمادہ کردیا۔